Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بریسٹ کیسنر کے متعلق آگاہی تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں ہر سال اکتوبر کے مہینے میں بریسٹ کے کینسر کے حوالے سے خصوصی مہم اور پروگرام ہوتے ہیں اور لوگوں کے اندر اس کے بارے میں  آگاہی پھیلاٸیں جاتی ہے تاکہ اس مہلک مرض سے اپنی ماں ، بہن ، بیٹیوں کو بچایا جاسکے  اس لیے ملک بھر کی تمام اہم عمارتیں اور مختلف جگہوں کو باری باری گلابی رنگ سے مزین کیا جاتا ہے  تاکہ عوام میں بریسٹ  کینسر کے حوالے سے حساسیت پیدا کی جا سکے۔

    دنیا بھر خواتین کو ہونے والے بیماریوں  میں اب بریسٹ کینسر سرِفہرست ہے۔ یہ مہلک مرض عام طور پر چالیس سے ساٹھ سال کی عمر کی خواتین میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ بریسٹ کینسر کی مریض خواتین نہ صرف پسماندہ و ترقی پذیر ممالک میں پائی جاتی ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی خواتین بھی اس مہلک مرض  کا شکار ہو رہی ہیں۔

    افسوس کے ساتھ پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ ساتھ ہی یہ پاکستانی خواتین میں اموات کی دوسری بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں ممنوع موضوع ہونے کی وجہ سے  پاکستانی خواتین مرض کی جلد تشخیص نہیں کروا پاتی ہیں، جلد تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے چھاتی کے کینسر میں مبتلا پچاس فیصد خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہے ملک بھر  میں خواتین میں کینسر کے چوالیس  فیصد  کیسز چھاتی کے کینسر کے ہیں، جلد تشخیص ہونے سے مرض سے نجات پانے کا امکان اٹھانوے فیصد ہے۔ ایک سروے کے مطابق  زندگی کے کسی مرحلے پر ، نو میں سے ایک پاکستانی خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہے

    ایک اور سروے کے مطابق  ملک بھر  میں ہر سال تراسی ہزار سے زاٸد  خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جس میں سےتقریباً چالیس ہزار خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ بریسٹ کیسنر ایک جان لیوا مرض ہے جس کے بارے میں آگاہی پھیلا کر اس سے نجات پاسکتے ہیں 

    بریسٹ کینسر کیا ہے؟

    بریسٹ کے ٹشوز دودھ کی پیداوار کے غدود سے بنے ہوتے ہیں ، جنہیں لوبولس اور نالیاں کہتے ہیں ، جو لوبولز کو نپل سے جوڑتے ہیں۔ چھاتی کا باقی حصہ لیمفاٹک ، کنیکٹیو اور فیٹی ٹشوز پر مشتمل ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر ایک ایسی رسولی ہے جوکہ چھاتی کے خلیات میں غیر ضروری ٹشوز کے گچھے کی شکل میں جمع ہونے سے بنتی ہے۔انٹر ڈکٹل کینسر، بریسٹ کینسر کی عام قسم ہے۔ جس کی شروعات زیادہ تر دودھ کی نالیوں کے اندر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض خواتین لوبولر کینسر کا بھی شکار ہو سکتی ہیں۔ جودودھ کی تھیلیوں میں پیدا ہوتا ہے۔

    بریسٹ  کے کینسر کی علامات 

    بریسٹ میں گانٹھ یا ٹشوز کا گاڑھا پن جو دیگر ٹشوز سے مختلف محسوس ہو، بریسٹ میں درد بریسٹ کی جلد کا سرخ اور کھردرا ہونا، بریسٹ کے مختلف حصوں پر سوجن آنا، پستان سے دودھ کے علاوہ خون یا کسی اور مادے کا اخراج
    ،نیپل کا اندر دھنس جانا ، بریسٹ کے سائز میں اچانک رونما ہونے والی تبدیلیاں یا ورٹڈ نپلچھاتی کی جلد پر رونما ہونے والی تبدیلیاں یا بازو کے نیچے سوجن یا گانٹھ کا بننا یا بعض اوقات چھاتی میں ایسے انفیکشن جو عام طریق علاج سے نہ ٹھیک ہو قابل ذکر ہیں

    بریسٹ  کیسنر  کے چار مختلف  مراحل

    بریسٹ کے کینسر کو چار مختلف اسٹیجز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،اگر کینسر صرف بریسٹ تک محدود ہو تو اس کو اسٹیج۔1 کہا جاتا ہے،اگر کینسر متعلقہ طرف کی بغل تک پہنچ جائے تو اس کو اسٹیج- 2 کہا جاتا ہے ،اگر کیسنر مریضہ کی گردن تک پہنچ جائے تو اس کو  اسٹیج ۔3  کہا جاتا ہے،کینسر اگر مریضہ کے پھیپھڑوں، جگر،ہڈیوں اور جسم کے دوسرے دور دراز حصوں تک پہنچ جائے تو اس کو اسٹیج-4 ہا جاتا ہے۔

    یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اگر مریضہ اسٹیج۔ 1  اور اسٹیج – 2
    میں ڈاکٹرکے پاس آٸی ہے تو اس کو  ابتدائی بریسٹ کینسر   کہا جاتا ہے،ان حالات میں بیماری قابل علاج ہوتی ہے اور اگر مریضہ ڈاکٹر کی ہدایات پر پورا طرح عمل کرے تو نہ صرف مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتی ہے بلکہ وہ ایسی زندگی گزار سکتا ہے کہ گویا اس کو کبھی یہ کینسر تھا ہی نہیں،دوسری طرف اگر مریضہ کو اسٹیچ ۔ 3 یا اسٹیچ ۔ 4 میں آئے تو اس کو   ایڈوانسڈ بریسٹ کیسنر کہتے ہیں،اگر مریضہ اس حالت میں آئے تو اس مریضہ کا مکمل علاج نہایت مشکل ہو جاتا ہے اور جتنا مرضی اچھا علاج کیا جائے ،مریض کو مصائب  کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریضہ کو کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے اس کا انحصار کینسر کی سٹیج اور اس کی قسم پر ہوتا ہے، کیونکہ بعض اوقات گلٹی  کا سائز تو چھوٹا ہوتا ہے لیکن وہ مہلک اور جان لیوا زیادہ ہوتی ہے، اگر خواتين  کو جب بھی چھاتی میں کوئی تکلیف ہو تو فوراً بریسٹ سرجن سے رجوع کرنا چاہیے، وہ معائنہ کرکے اس کے ضروری ٹیسٹ کروائے گا اور یہ فیصلہ  گا کہ اس کو بریسٹ کینسر ہے یا نہیں،اگر کینسر ہے تو وہ کینسر کی قسم اور اور اسیٹچز کے مطابق فیصلہ کرے گا کہ اس کی کا علاج کیسے کیا جائے۔

    بریسٹ کیسنر کی تشخيص اور علاج

    بریسٹ کے کینسر کی جلد تشخیص اتنی اہم ہے کہ یہ مریضوں کو پیچیدہ سرجری اور ادویات سے علاج سے بچا سکتی ہے۔
    آج کے دور  میں بریسٹ  کے کینسر کے بہت سے علاج دستیاب ہیں جن سرجری ، کیموتھراپیری ، ڈی تھراپیپی، ہرمون تھراپی ہدف شدہ  تھراپی  وغیرہ شامل  ہیں  ایک سروے کے مطابق  نوے فیصد خواتین ، جن میں جلد تشخیص ہو جاتی ہے، وہ تشخیص کے پانچ سال بعد تک زندہ اور صحت مند رہتی ہیں۔ تاہم اگر تشخیص دیر سے ہو تو یہ شرح گھٹ کر پندرہ فیصد رہ جاتی ہے۔

    پاکستان میں متعدد طبی مراکز میں اس مرض کی مفت تشخیص کی جاتی ہے۔خواتین کیلیے بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت سے بچنے کے لیے مؤثر ترین طریقہ باقاعدہ سکریننگ ہے۔ یہ مفت سکریننگ اور میموگرافی 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ ان مراکز میں بائیوپسی کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔نوجوان خواتين  میں ابتدائی ٹیسٹ الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔  اس کے علاوہ خواتین کو اپنا خیال خود رکھنا ہوگا۔ انہیں  مہینے میں کم سے کم ایک مرتبہ اپنے بریسٹ کا خود سے جائزہ لیں اگر انہیں اپنے بریسٹ میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی رونما ہوتی نظر آئے جیسے سائز میں تبدیلی، سوجھن، کھال پر کوئی نشان یا بغل میں غدود کا بننا، کسی قسم کا ابھار، خون یا پیپ کا رساؤ تو اسے سنجیدگی سے لیں۔اور جھجھک کی بجائے اس کی تشخیص اور علاج پر توجہ دیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ کے ہر فرد اور شعبہ کو اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے،تاکہ بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج کیلئے مربوط کوششیں کی جائیں، جتنی جلد تشخیص ہو گی اتنے ہی علاج اور صحت یابی کے امکانات زیادہ ہونگے۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • ربیع الاول برکتوں والا مہینہ تحریر۔ نعیم الزمان

    ربیع الاول برکتوں والا مہینہ تحریر۔ نعیم الزمان

    لاکھوں کروڑوں درود وسلام اس ذات پر جیسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا۔جو وجہ تخلیق کائنات ہے۔

    جن کو بہترین معلم بنا کر بھیجا گیا۔

     اسلامی سال کا تیسرا مہینے کا نام ربیع الاوّل ہے۔ ربیع الاول کے معنی  ہیں پہلی بہار۔ یہ مہینہ خیرات وبرکات اور سعادتوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا۔  اس وجہ سے بھی ربیع الاوّل کے مہینے کو اہمیت حاصل ہے۔ ۱۲ ربیع الاوّل کے دن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی نسبت سے مسلمان مناسب انداز میں خوشی منا کر اپنے ربّ کی رحمت کا شُکر ادا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ نوافل، شب بیداری،  اور درود وسلام کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔اور کچھ لوگ اپنے گلی محلوں کو سجاتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔اس دن کی نسبت سے بہت سارے لوگ اپنے گھروں کے باہر  مشروبات اور کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں اور لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں ربیع الاوّل کی ۱۲ تاریخ کو مسلمان عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طور پر مناتے ہیں۔پاکستان میں اس دن کی مناسبت سے سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے۔ اس دن کو میلاد النبی کے جلوس بھی نکالے جاتے ہیں۔ مساجد میں محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔ 

    اور بہت سارے لوگ اس دن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کا دن قرار دے رہے ہیں۔ 

    اور اس دن کو جشن منانے والوں کو شیطان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان میرا عقیدہ ہے کوئی بھی مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر خوشی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یقیناً  ولادتِ باسعادت پر ہی چشن منایا جاتا ہے۔ رسول اللہ کا ارشادِ مبارک ہے: ”قبولیت اعمال کا دارومدار نیت پر ہے”(بخاری )۔ یہ ایک مختصر مگر جامع فلسفۂ زندگی ہے جس پر کسی بھی عمل کرنے والے کے فلاح کا دارومدار ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن صرف اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے”

     اللہ تعالیٰ نے ظاہری نیکی کو قبول نہیں فرمایا بلکہ وہ ارادہ، نیت، شعوری کوشش،قلب و ذہن کی آمادگی کو مدنظر رکھ کر اجر و ثواب کا مستحق سمجھے گا۔ دلوں کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ وہ علم ہے جو صرف اسی خالق کو ہی زیبا ہے جس نے ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا. اس لیے یہ عمل بھی انسان کی نیت پر منحصر ہے۔ یقیناً کوئی بھی مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر خوشی منانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہر مسلمان ان کی ولادت پر جشن مناتاہے۔ دنیا اپنے رہنماؤں اور لیڈروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی  پیدائش کو بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں۔ اپنے بچوں اور پیاروں کی پیدائش پر برتھ ڈے مناتے ہیں۔ اس موقع پر دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔

     تو پھر کیوں نہ ہم اس شخصیت کی پیدائش پر جشن منائیں جو نہ کسی ایک قوم اور ملک کے رہنما ہیں مگر تمام جہانوں کے رہنما ہیں۔ کیوں نہ ان کی پیدائش پر فی سبیل اللہ طعام اور مشروبات تقسیم کریں۔

     اللہ تعالی ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ ان کی سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ان کی ناموس کا تحفظ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی  زندگی ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔جس کسی نے آپ کی سنتوں پر عمل کیا گویا اس نے آخرت میں اپنا ٹھکانہ جنت بنایا۔ اللہ پاک ہیمں اپنے پیارے حبیب کی زندگی کو سمجھنے اور ان کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ 

    Follow on 

    Twitter @786Rajanaeem

  • کورونا وائرس ہے اور ہم ہیں یارو تحریر: حافظ طلحہ ابو بکر

    کورونا وائرس ہے اور ہم ہیں یارو تحریر: حافظ طلحہ ابو بکر

    بیٹی سنو کیوں پریشاں ہورہی ہو ؟ ہر سال اس موسم میں ایسا ہی ہوتا ہے سارے کا سارا گھر بیمار پڑ جاتا ہے اور کوئی پانی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتا۔ دادی کی بات سن کر بیٹی خاموش ہوگئی۔ پہلے تو وہ کورونا کو ہنسی مذاق ہی سمجھتی رہی تھی کہ کورونا کی چھٹیاں ہیں اور مزے کرو اور کچھ نہیں۔ مگر روز روز کی بڑھتی چھٹیوں اور ہر قسم کی بندش نے اس کے ہوش ٹھکانے لگا دیے تھے۔ اس طرح کے حالات میں نا تو وہ باہر جاسکتی تھی اور اگر کچھ باہر سے کھانے کو دل للچاۓ تو بس سوچ ہی سکتی تھی کیونکہ ہر چیز کورونا کی نظر ہوگئی تھی اور سب کچھ بند تھا

    زندگی ایک نا ختم ہونے والے سخت مرحلے سے گزر رہی تھی گلیاں بازار شہروں کی رونق جیسے کسی طلسماتی جادو کے زیر اثر ہو گئی تھیں ہر طرف سکوت طاری تھا زندگی کی رمق جیسے کہیں کھو گئی ایسے تو کبھی نہ کسی کتاب میں لکھا گیا نہ کسی کہانی میں سنایا گیا خبروں میں ہر ٹی وی چینل پر  شرح اموات کی تعداد بتائی جاتی دنیا کا کوئی ملک اس خدائی آفت سے محفوظ نہیں رہا کورونا کا خوف حواسوں پر مسلط ہی تھا کہ اچانک اسکے والد کی طبیعت غیر ہونے لگی بھاگم بھاگ اسپتال لے کر گئی ڈاکٹرز نے فوری ٹیسٹ کیے رپورٹس آنے پر معلوم ہوا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا اسے

     کورونا کی سمجھ تب آئی جب اپنے والد صاحب کو اس نے حالت تکلیف میں اور تنہا بند کمرے میں قرنطينہ جیسے کرب سے گزرتے دیکھا گھر کی خوشی میں درد کا احساس شدت سے بڑھ گیا تھا  اور دو دن میں ہی اسکی حالت غیر ہوگئی تھی ہزاروں روپے کی ادویات ٹیسٹ اور زہنی طور پر تھکا دینے وآلہ اذیت ناک مرحلہ اسکے اعصاب جواب دینے لگے

    بارہا احتیاط کے باوجود گھر میں کورونا وائرس پھیلا تو چند ہی روز میں اس کی ساری جمع پونجی ڈاکٹروں کی فیس اور دواؤں میں لگ گئی۔ ایک گھر میں صرف وہی تھی جو ابھی تک اس وائرس سے محفوظ تھی۔ اب صرف تسلیاں اور دلاسے ہی بچے تھےان تکلیف دہ مناظر کو دیکھ کر اسکا دل بے ساختہ کیا کہ زور سے چلا اٹھے

    اور اس کی آواز میں درد عرش پر بیٹھے رب کریم کی بہت قریب سے سنائی دے

    عجب دور سے گزر رہے تھے

     کھانے کا مزا ختم ، گھومنے کا مزا ختم ، پڑھائی کی سختیاں ختم اور جمع پونجی کا تو پوچھو ہی مت اب اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں بچی تھی

    حالات کی زد میں آنے والا اسکا خاندان واحد نہیں تھا سینکڑوں گھرانوں کی یہی آپ بیتی تھی 

     اور اب خدائی آفت اور اس ستم ظریفی کے مارے ہوئے لوگ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ "کورونا وائرس ہے اور ہم ہیں یارو” ۔

    کپڑے شپڑے ہوئے ہیں مہنگے

    مہنگائی کی پڑ رہی ہیں جوتیاں

    ہوٹل شوٹل ہوئے ہیں بند

    زبان کی چھن گئی ہیں لذتیں

    اپنا اب کیا حال وال سنائیں تم کو

    کرونا ہے اور ہم کرونا کے مارے ہیں یارو

    دشمن جاں کو مات کر لیجے 

     چار دن احتیاط کر لیجے 

    اپنے گھر کے حسیں مکینوں کو 

     اپنی کل کائنات کر لیجے

    رحم خود پر اگر نہیں آتا 

    اپنے بچوں کے ساتھ کر لیجے

    کہ گھر بیٹھے یہ کوئی قید ہے 

    جس سے جی چاہے بات کر لیجے

    دل ملا لیجئے اجازت ہے

     دور لیکن یہ ہاتھ کر لیجے

    فکر اپنی ہر ایک سے پہلے 

     کام ہے واہیات کر لیجے

    آج موقع ہے مال و دولت کو 

     اپنی راہ نجات کر لیجے 

    شاعر اس وبا کے بارے میں یہی کہنا چاہ رہا ہے 

    خود سے پہلے اپنے پیاروں کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے ہاتھ ملانے سے گریز کرنا چاہیے اور فاصلے پر رہ کر گفتگو کریں 

    کورونا نے ایک بات سب کو بہت اچھے سے یاد دلا دی ہاتھوں کو بار بار دھونا 

    گھر کو کپڑوں اور خود کی صفائی لازمی رکھنی ہے جانے انجانے ہم اپنی روایات سے بہت دور چلے گئے تھے تو آئیں اس مشکل اور تکلیف دہ کورونا کے دنوں میں اپنے گھر ،اور ملک کی حفاظت کو یقینی بنائیں ہماری چھوٹی سی کوشش بہت بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکتی ہے   

    اپنے اِرد گرد دیکھیں اور اپنی بہت کم آمدنی اور اخراجات میں سے مستحکین کو شامل کریں کیوں جو آج ہم خرچ کریں گے روز آخرت ہمارا ذریعہ نجات بنے گا

     

     کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

    خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر

    ‎@talha_abubakar4

  • شادی اور فضول رسم و رواج  تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    شادی اور فضول رسم و رواج تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    Twitter Handle: @IamYasif

    پاکستان میں اکتوبر سے مارچ شادیوں کا موسم ہوتا ہے، ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی شادی طے ہوتی ہے۔ اکتوبر کا مہینہ آتے ہی ہر طرف سے شادی کارڈ آنے شروع ہوجاتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے "جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں” لیکن یہ لکھتے وقت ہمارا معاشرہ بھول جاتا ہے کہ جوڑے بے شک آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن مشکلات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ تقسیم ہند سے پہلے کئی صدیاں مسلمان، سکھ اور ہندو ایک ساتھ رہے، یوں ایک دوسرے کے رسم و رواج بھی اپنا لئے گئے۔ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا لیکن بدقسمتی سے ہندووانہ رسم و رواج آج بھی ہماری شادی بیاہ میں قائم و دائم ہیں۔

    شادیوں پر لاکھوں اڑانے کے بجائے سادگی سے نکاح کرکے بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے لیکن ایک جملہ آڑے آجاتا ہے اور وہ ہے "لوگ کیا کہیں گے”۔ آج اسی جملے پر بات کرتے ہیں اور غور کرتے ہیں کہ یہ جملہ کہاں کہاں ہمیں فضول رسم و رواج کی طرف دھکیل رہا ہے

    پہلی رسم کا نام ہے منگنی جس پر ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق ہزاروں سے لے کر کروڑوں روپے لگاکر جھوٹی شان و شوکت قائم کرتا ہے، اگر یہ رسم نہ کریں اور سادگی سے رشتہ طے کریں تو "لوگ کیا کہیں گے” جیسے جملے سنائی دینے لگتے ہیں۔ منگنی کے بعد اکثر اوقات معمولی اختلاف پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور پھر خاندان کئی کئی سال ایک دوسرے سے ناراض رہتے ہیں۔

    منگنی کے بعد الگ سے شادی کی تاریخ رکھنے کے لئے ایک فنکشن ہوتا ہے جس میں خاندان بھر کے لوگ اکٹھے کرکے دوبارہ سے کھانا پینا کیا جاتا ہے، عام طور پر یہ رسم لڑکی کے گھر کی جاتی ہے، جس سے لڑکی کے خاندان پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، حالانکہ شادی کی تاریخ دونوں کے والدین سادگی سے طے کرسکتے ہیں لیکن یہاں بھی لوگ کیا کہیں گے؟ کی وجہ سے سب خاموش ہوجاتے ہیں۔

    شادی کی شروعات ڈھولکی سے ہوتی ہے، جہاں کئی دن ڈھول اور اونچی موسیقی لگاکر ہمسایوں کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے، مہندی سے قبل سنگیت اور اُبٹن جیسی ہندووانہ رسمیں بھی شادی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں، مہندی کی رسم عموماً دو دن ہوتی ہے پہلے لڑکی کی مہندی اور پھر لڑکے کی مہندی۔ آج کل کئی شادیوں پر مشترکہ شادیوں کا رجحان بھی آچکا ہے۔

    ایک اور رسم جس کا نام گھڑولی ہے جو بارات والے دن کی جاتی ہے، سر پر پانی کا گھڑا رکھ کر خواتین کسی رشتہ دار کے گھر سے پانی بھر کر لاتی ہیں، یقینا یہ رسم بھی ہمیں بھارت سے ہی ملی ہے۔ بارات کی رسم سے شروعات سے قبل جہیز کے معاملات طے ہوجاتے ہیں، لڑکی کو فرنیچر، برتن اور الیکٹرانک مصنوعات سمیت بعض لوگ گاڑی اور گھر تک دیتے ہیں۔ جہیز سے متعلق واقعات تو ہم اکثر پڑھتے اور دیکھتے ہیں کہ کیسے لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ساری عمر کنواری بیٹھی رہتی ہیں لیکن لڑکوں کے ساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ حق مہر کے علاوہ دلہن کے سونے کے زیورات اور رشتے داروں کے مہنگے لباس کی رسم بھی موجود ہے۔ بارات کے آتے ہی دولہا کو صوفے پر جگہ دینے کے نام پر رقم بٹوری جاتی ہے، اسکے بعد جوتا چھپائی اور دودھ پلائی جیسی متعدد رسومات کے نام پر دولہے کی جیب خالی کی جاتی ہے۔ ولیمہ کی رسم میں کو بھی شاہانہ طرز دینے کی وجہ سے نوبیاہتا جوڑے پر مالی دباو آتا ہے، مہنگے شادی ہال اور لذیز پکوان ضروری تصور کئے جاتے ہیں

    نیچے دی گئی چند احادیث کی روشنی میں نکاح کی اہمیت کا اندازہ کریں

    حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی سنت میں سے ہیں:حیاء ،خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور نکاح‘
    (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ابن ابی نجیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ: مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ وہ بہت مال والا ہو، پھر فرمایا: مسکین ہے، مسکین ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو، لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ بہت مالدار ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ مال والی ہو‘‘۔
    (مجمع الزوائد ،ج:۴،ص:۳۲۸،بحوالہ معجم طبرانی اوسط )

    حضور اکرم ا کا ارشاد ہے:
    ’’اے جوانو!تمہیں نکاح کرلیناچاہیے، کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والا اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے،اور جو اس کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے‘‘۔ (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ’’جو شخص نکاح کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود نکاح نہ کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے(یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)‘‘۔ (مجمع الزوائد،ج:۴،ص:۳۲۷)

    ہمیں سوچنا چاہیئے کہ نکاح کو ہم نے آخر کیوں مشکل بنادیا ہے، اگر ہم اسلامی احکامات پر عمل کریں تو ان فضول رسومات سے بچ سکتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نکاح میں تاخیر سے معاشرے میں بےراہ روی بڑھی ہے۔ اللہ پاک ہمیں سادگی اور میانہ روی احتیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

    Chaudhry Yasif Nazir is a freelance journalist, Columnist, Writer and social media activist who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter

    account @IamYasif

    https://twitter.com/IamYasif

  • بلوچستان زلزلہ تحریر   ار کے

    بلوچستان زلزلہ تحریر ار کے

    ترجمہ ۔
    "”ہم تولوگوں کوڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں "” الاسراء ( 59 ) ۔
    چھ اکتوبر کو ایک دوست کی دعوت پر کراچی سے شام چھ بجے کوئٹہ بلوچستان پہنچا۔ پرتکلف عشائیے کے بعد دن بھر کے سفر سے نڈھال میزبان کے کثیر منزلہ بیٹھک ( مہمان خانہ ) کے اوپری منزل میں تقریبا رات گیارہ بجے لیٹا ہی تھا ،کب کیسےانکھ لگی پتہ ہی نا چلا۔
    ادھی رات کو مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی میرے بیڈ کو جھولا دے رہا ہو بِلبِلا کر اٹھا ۔
    بیڈ مسلسل ہچکولے کھارہا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آ ریا تھا اٹھتے ہی موبائل ٹارچ ان کیا تو  ٹائم تین بج کر دو منٹ تھا بیڈ ہی نہیں پورا بنگلہ جھول رہا تھا ۔
    کھڑکیوں اور دروازوں کے کھڑکھڑانے کی خوفناک اوازوں سے اور بھی سہم گیا تھا۔
    مجھے سمجھنے میں زیادہ دیر نا لگی۔ خوف اور زلزلے کی تباہ کاریاں جاننے کے باوجود پژمردگی سےاپنے حواس پر قابو رکھا اور مسلسل ایات الکرسی کاورد کرنے لگ گیا تھا۔
    اتنی دیر میں چند اور مہمان جو نچلی منزل میں ٹھہرے تھے اور میزبان ساتھیوں کا شور سنائی دیا وہ چیخ رہے تھے باہر نکلو زلزلہ ہے۔
    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکلے ہوئے تھے  جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی شروع ہو چکی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جاگ کر باہر نکل سکے۔
    مسجدوں میں اعلانات اور اذانیں بھی شروع ہو گئیں۔
    کوئٹہ واسی کافی چوکس تھے یاد رہے مئی 1935 کا تباہ کن زلزلہ بھی رات تین بج کر تین منٹ پر ایا تھا ، جس سے چند ہی سیکنڈ میں کوئٹہ ملیا میٹ ہوا تھا اور 70 ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے تھے ،اس کے مقابلے میں موجودہ کوئٹہ کافی گنجان اباد اور خطرناک ہے ۔ کیونکہ کوئٹہ خطرناک فالٹ لائن پر واقع ہے۔
    میں کچھ دیر بیڈ پر ساکت بیٹھا رہا جھٹکے تقریبا رک چکے تھے میں اٹھا وضو کر کے تہجد کی نماز پڑھنے بیٹھ گیا۔ ربّ سے اپنے کردہ ناکردہ ،جانے انجانے گناہوں کی معافیاں مانگتا رہا اور امت رسول ﷺ کی حفاظت و خیریت کی دعائیں مانگتا رہا۔
    اتنی دیر میں دوست اوپر میرے پاس پہنچا اور باہر روڈ پہ نکلنے کی ضد شروع کر دی، میں نے  باہر نکلنے کی حامی بھری اور دوست کے ہمراہ باہر مین روڈ پہ نکل ایا۔
    باہر ا کر انگشت بدنداں رہ گیا۔ روڈوں پہ جمِ غفیر امڈ ایا تھاہر طرف لوگ ہی لوگ۔خواتین بوڑھے اور بچوں سے روڈ بھرے تھے۔ہر چہرہ خوفزدہ تھا  نفسا نفسی کا عالم تھا سب نوح کناں تھے۔
    ہر ایک کی لبوں پہ ذکر قرانی تھا کچھ با اواز بلند ذکری کلمات پڑھ رہے تھے اور کچھ گڑ گڑا کر اپنی گناہوں کی معافیاں مانگ رہے تھے۔
    ہلکی سردی محسوس ہو رہی تھی لیکن اللہ تبارک تعالی کا کرم خاص تھا کہ موسم زیادہ سرد نا تھا اگر کچھ دن کے فرق سے یہ زلزلہ اتا تو زلزلے کے ساتھ ساتھ سردی کی تباہ کاریاں بھی مشکلات میں اضافہ کر سکتی تھیں۔
    مں نے رب کا شکر ادا کیا کہ اس پاس پڑوس سے ابھی تک  کسی جانی یا  مالی  نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔
    ایک اور بات جو میں نے مشاہدہ کی تھی کہ فرقہ پرستی کو فروغ دینے والےبدعتی لوگ ،  دولت ،شہرت و بلند مرتبوں کے زعم میں مبتلا  گمراہ لوگ ،  سب کچھ بھول کر اپنے عہدوں پیسوں اور فرقوں سے بالاتر ہو کر، بے سر و عالم ایک اللہ کی طرف متوجہ تھے ۔
    فجر کے اذانوں تک اکثر لوگ باہر تھے اذانوں کے بعد بغرض باجماعت  نماز دوست کے ہمرا مسجد کا رخ کیا تو خلاف توقع مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ۔
    بے شک ، میرے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
    "زُلْزِلَتْ” زلزال سے ہے یعنی ہلادیا جانا۔ اَلاَرْضُ کے معنی زمین کے ہیں
    ایک پارسا مسلمان  کا پختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ زلزلے بلاسبب نہیں اتے اور  ان کیلیےزلزلوں کے دنیاوی اسباب سے انکار ناممکن  ہے بلکہ اس کے پیچھے اللہ سبحان تعالی کا حکم کار فرما ہونا ہی سمجھتا ہے۔
    قران و حدیث کی رو شنی میں ،لوگوں کے برے اعمال زنا، سُود اور شراب نوشی کا عام ہونا۔ لوگوں کا گانے بجانے کو اپنا مشغلہ بنانا۔ اچھائیوں کا حکم اور برائیوں سے لوگوں کو روکنے کا عمل بند کردینا۔ لوگوں کا ان بُرے اعمال کو نا صرف کرنا ہی نہیں بلکہ انہیں جائز اور وقت کی ضرورت سمجھنے لگنا، رشوت خوری ،حلال حرام کی تمیز  سے مبرا ہوکر صرف دولت جمع کرنا ،زکواۃ نا دینا ،غریبوں یتیموں کے حق پہ ڈاکہ مارنا ہی دراصل زلزلوں  کے اسباب ہیں۔
    اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں
    کیا پھربھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہيں کہ ان پرہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے اور وہ سو رہے ہوں ، اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہیں کہ ان پرہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے اوروہ کھیل کود میں مصروف ہوں ، کیا وہ اللہ تعالی کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگۓ ہیں تواللہ تعالی کی پکڑ سے نقصان اٹھانے والوں کے علاوہ اورکوئی بے فکر نہیں ہوتا ۔ 
    الاعراف ( 97 – 99 ) ۔
    زلزلے آنے پر ہمیں اپنی سر کشی سے گریز کرنا چاہیے اور اس عہد کے ساتھ کہ آئندہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہو ئے زندگی گزاریں گے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے کردہ گناہوں کی معافی بھی مانگنی جائے۔تو اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہمارا رب غفور و رحیم ہے اور اپنے بندوں کیلیے توبہ کے دروازے  ہمیشہ کُھلے رکھتا ہے اور افتیں بھی ٹال دیتا ہے۔تحریر : اے ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan 

  • ڈاکٹر عبدالقدیر قومی ہیرو؟ تحریر۔ ثناالله

    ڈاکٹر عبدالقدیر قومی ہیرو؟ تحریر۔ ثناالله


    کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو تھے؟
    جی نہیں معذرت کے ساتھ مجھے جمھور سے اختلاف ہے میری رائے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو نہیں تھے  اُن کے کچھ ایسے راز جو ہم نہ جان سکے اُن کی کچھ باتیں جو ان کے حیات ہونے کے دوران پسِ پردہ رہیں !
    حدیث نبوی ہے "تیر بنانے والا” تیر پہنچانے والا اور تیر چلانے والا تینوں جنتی ہیں
    قارئین تیر اندازی والوں کے لئیے یہ بشارت کس لئیے ، یہ بشارت اس لئیے نہیں کہ انہوں نے تیر ایجاد کیا بلکہ یہ بشارت اس لئیے ہے کہ انہوں نے اس ایک تیر سے غلبہ اسلام کی کوششیں کی تھیں ۔دین حق کی سر بلندی کے لئیے نعرہ لگانے کا ثمر یہ ملا کہ اس تیر کی تیاری سے لے کر اس کے آخری استعمال تک اس کار خیر میں حصہ لینے والوں کو جنت کی بشارت دے دی گئی
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نہ صرف ایٹم بم نہیں بنایا بلکہ عالم اسلام کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرکے دنیائے کفر میں ایک امر حقیقت کے طور پر ثابت کیا
    قارئین یہ وہ وقت تھا کہ جب دنیائے گفر کی طاقتیں "ایٹم بم "کے زور پر ایک دوسرے زیرو زبر کررہی تھیں اس وقت اسی کا ڈنکہ ہوتا تھا جس کے پاس جس ایٹمی ہتھیار ہوتے تھے
    تاریخ کائنات میں وہ موڑ تھا جب عالم اسلام عالمِ کفر کے زیرنگیں تھااور انہی کے رحم وکرم پر اپنی بقا چھوڑے ہوئے تھے
    تبھی رب کائنات نے پاکستان کی سرزمین کا ایک سپوت چُنا اس وقت اس کے پاس دُنیا کمانے کے لئیے بہت کچھ تھا وہ چاہتا تو اس کی نسلیں عیش کرتی وہ ایک عام انسان نہ تھا بلکہ اعلٰی تعلیم یافتہ سائنسدان اس کو دنیائے کفر کی خدمات کے لئیے بڑا معاوضہ ملتا تھا لیکن اسے جانے کیا سوجھی دنیا کی عیش و عشرت،مال و متاع چھوڑ پاکستان کی جانب چل دیا اور دنیا سے تعلق توڑ عالم اسلام کو ایک عالمی طاقت بنانے کی خواہش لئیے پاکستان میں ڈیرے ڈال دئیے
    قارئین پاکستان کے بارے میں یہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کوئی ملک نہیں یہ رب کریم کا معجزہ ہے اور اس پاک ذات کے رازوں میں ایک راز ہے 27 رمضان کو پاکستان کا قیام بذات خود ایک معجزہ ہے اور سرزمین پاکستان اسی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد عالمِ اسلام کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنے کھڑی ہے اور جب جب اسلام پرطکچھ مشکل وقت آیا تو پاکستان یا اس کے سپوتوں نے خدمت اسلام کو جہاد سمجھ کر سر پر کفن باندھ کر اسلام کا نام سر بلند کیا
    اسلام کو ناقابلِ فراموش عالمی حقیقت بنانے کے لئیے بھی رب جلال نے سرزمینِ پاکستان اور اس کے مجاہد سپوتوں کا انتخاب کیا اور 6 مئی 1998 کو اقوام عالم نے وہ منظر دیکھا جس کے بعد وہ جان گئے کہ اب اسلام کو تا قیامت کوئی دبا نہ پائے گا
    قارئین یہاں یہ بات قابل فکر و تدبر ہے کہ جب پاکستان نے ایٹم بم بنایا تب سے اب تک دُنیائے کفر اسے "اسلامی بم” کے نام سے جانتی ہے گویا یہ ایٹم بم بنانے کا جو معرکہ تھا وہ کوئی ملکی یا قومی معرکہ نہ تھا بلکہ یہ کفر اور اسلام کا معرکہ تھا یہ حق اور باطل کی تفریق کا معرکہ تھا
    یہ تاریخ اسلام میں مسلمانوں کی دنیوی زبوں حالئ کے باوجود دنیا میں اپنے نام کو قائم و دائم اور سربلند رکھنے کا معرکہ تھا تو یہ معرکہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان ” نے سر کیا اور حق و باطل میں پھر سے حدِ فاصل قائم کردی !
    قارئین اب چلتے ہیں میرے آرٹیکل کے شروع میں دئیے گئے جواب کی جانب اس دلیل پر میں حق پر ثابت ہوا کہ "ڈاکٹرعبدلقدیر خان” قومی ہیرو نہیں بلکہ اسلام کے ہیرو ہیں
    اب یہ امر افسوس ناک ہے کہ ہم نے رب کے دئیے ہوئے اس معجزے کو پہچان نہ دی ہم نصابی  اور تاریخی کتب میں اسلامی ہیروز کے نام تو پڑھتے رہ گئے لیکن اس مرد مجاہد کی اس کی اصل پہچان نہ دی
    اسلام پہ کئے  گئے اس احسان کو احسان نہ مانا اور اللہ کے اس ولی کے فیض سے محروم رہ گئے
    ہم طارق بن زیاد کوتو یاد کرتے ہیں ہم سلطان صلاح الدیین ایوبی کی بہادری کے ڈنکے توبجاتے ہیں ہم سلطان محمودغزنوی کو امت کا لیڈر تو مانتے ہیں لیکن امت مسلمہ کے اس جانباز اور درخشندہ ستارے کو کبھی پہچان نہ پائے اب اسے کامیابی کہیے یا ناکامی قومی خوشنصیبی کہیے یا بدنصیبی ۔اخلاقی انحطاط کانام دیں یا اخلاقی عروج کا اسے سزا سمجھیں یا جزا حقیقت یہی ہے کہ رب کریم نے ہم میں ایک اپنا چُنا ہوا بندہ بھیجا اس سے عالم اسلام کی خدمت کاکام لیا ولیوں جیسی گمنام زندگی دی اور اسی خاموشی سےاسے اپنی طرف بلالیا
    ہم نہ تو اس کی خدمات سے فیض لے پائے نا اس ولی اللہ کی پہچان کر اسکی خدمت کا موقع بھی فراہم ہوا
    اللہ پاک مرحوم کوکروٹ کروٹ سکون و بخشش نصیب فرمائے اور ہم جیسے بندہ ناچیز سے بھی عالم اسلام کی سربلندی کے لئیے چھوٹاموٹا کام لےلے تاکہ ہمیں بھی شفاعت کا کوئی ذریعہ نصیب ہو
    آمین
    ستارے تو روز ہی ٹوٹ کر گرتے ہیں
    غضب ہوا آج تو آفتاب ٹوٹا ہے 💔

    ‎@sanaullahakhtar

  • ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    وزیراعظم عمران خان جب سے حکومت میں آئے ہیں ربیع الاول اور رسول ﷲ ﷺ سے متعلق بہترین کام کئے ہیں وزیراعظم پر مختلف قسم کے فتوے لگے کہ یہ فلاں ایجنٹ ہے تو یہ ہے تو وہ ہے مگر آج اگر وزیراعظم کے کیے گئے اقدامات پر نظر دوڑائیں تو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کچھ نہیں کیا گیا.

    وزیراعظم نے قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح پر رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اجاگر کیا اور خاص کر آپ رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے عناصر جن میں خاص کر یورپی ممالک کو یہ احساس دلایا کہ یہ جو آپ کام کرتے ہیں اس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوتے ہیں آپ کو اندازہ نہیں کہ مسلمان کس تکلیف سے گزرتا ہے.

    اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے جو تقریر کی اس میں انھوں نے رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں اور غیر مسلم کو یہ باور کرایا کہ آپ رسول ﷲ ﷺ مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ او آئی سی اور مسلمان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم سے ملاقات کر کے اس حساس معاملے کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمان ممالک ایسی کوئی قرار داد پاس کریں کہ آئندہ کسی کی بھی  ہمت  نہ ہو یہ حرکت کرنے کی.

    پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے ہی دور میں قومی اسمبلی کی کارروائیوں میں ایک تبدیلی کروائی گئی کہ جب بھی رسول ﷲ ﷺ کا نام لکھا جائے تو نام سے پہلے آخری نبی لکھا جائے. اس کے علاوہ ملک بھر میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے کانفرینسز منعقد کروانے کا سلسلہ بھی شروع کروایا. مجھے آپ یہ بتائیں کہ جو شخص (وزیراعظم عمران خان) پاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانا چاہے تو وہ بھلا کسی بھی حساس معاملے کے خلاف کیسے جا سکتا ہے کیا اس سے پہلے اس معاملے پر کوئی ٹھوس کا ہؤا جیسے کہ او آئی سی یا اقوام متحدہ میں رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اٹھایا گیا ؟

    اس بار بھی ہمیشہ کی طرح وزیراعظم عمران خان نے بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے بہترین اقدامات کروائے ہیں عشرہ رحمت العالمین کے ﷺ پر تمام اسکول کالجز جامعات درسگاہوں میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے تقاریر سیمینار وغیرہ منعقد کروائے جائیں گے اور علماء کرام طلباء کو اس کی اہمیت پر لیکچر دیں گے. حکومتی چینلز اور میڈیا پر سیرت النبی صلعم سے متعلق پروگرامز بھی دکھائے جائیں گے اور وزیراعظم کی ہدایات پر ٣ ربیع الاول سے ١٣ ربیع الاول تک عشرة ربیع الاول منایا جائے گا.

    وزیراعظم نے رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات اور ان کی سنت پر عمل کرنے کا زور دیا مزید کہ ہم جمعة کی نماز پڑھنے جاتے تو ہیں مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رسول ﷲ ﷺ نے کیا فرمایا کن باتوں پر عمل کرنے سے منع فرمایا اور کن باتوں پر عمل کرنے کو کہا انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان رسول ﷲ ﷺ پر جان بھی قربان کر سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل بھی تو کریں ناں اور یہ بھی تو دیکھیں کہ آیا ہم ان کے کردار سے کچھ سیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں عشرہ ربیع الاول ﷺ کی مناسبت سے ایک بہت عمدہ جملہ وزیراعظم نے کہا کہ

    میرا یہ ایمان ہے اگر ایک انسان نے عظیم انسان بننا ہے تو نبی ﷺ کو رول ماڈل بنالے اور اگر ایک قوم نے عظیم بننا ہے تو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے. 

    وزیراعظم کے خلاف جتنی نامناسب باتیں میڈیا اور صحافت میں ہوئی ہیں وہ انتہا کو پہنچیں صرف اس لئے کہ وزیراعظم ﷲ اور اس کے رسول ﷲ ﷺ کے باتیں کیوں بتا رہا ہے. ہم اگر ﷲ کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے تو ہی ہماری آخرت میں کامیابی ہوگی اور یہی چیز وزیراعظم بار بار کہتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات کو اپناؤ. 

    غرض یہ کہ بے فکر رہیں وزیراعظم ہر ممکن اقدامات کریں گے اس معاملے اسی کے ساتھ میری تحریر کا اختتام ہوتا ہے.

    Twitter Id ‎@M1Pak

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری پٹیشن اور پی ایم سی تحریر: ناصر بٹ

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری پٹیشن اور پی ایم سی تحریر: ناصر بٹ


    ‎@mnasirbuttt

    یوں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پوری زندگی سائنسی تجربات، قوم کے درد اور کمزوروں کا سہارا بنتے گزری لیکن زندگی کے آخری ایام میں بھی قوم کے مستقبل یعنی سٹوڈنٹس کا درد ان کے دن میں موجود تھا، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر پاکستان میڈیکل کمیشن، میڈیکل سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کو آمنے سامنے دیکھا، متاثرہ سٹوڈنٹس کا دکھ برداشت نہ ہوا اور کمزوری کی حالت میں بھی طلبا کے شانہ بشانہ چلنے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل وقاص ملک ایڈووکیٹ کو بلاتے ہی کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان میڈیکل کمیشن کو لیکر چلیں، میں بھی دیکھتا ہوں اس قوم کے سٹوڈنٹس کے ساتھ میرے ہوتے ہوئے کون زیادتی کرتا ہے، دکھ اس بات کا ہے اور شائد اب ساری زندگی ساتھ چلے کہ قوم کے اس محسن کو بس پاکستان میڈیکل کمیشن کے خلاف دائر کی جانے والے پٹیشن پر دستخط کرنے کا ہی موقع مل سکا اور کیس سماعت کے لیے مقرر ہونے سے پہلے ہی ان کا مقررہ وقت آن پہنچا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے، آج جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تو اس میں انہوں نے پی ایم سی کے کنڈکٹ آف ایگزامنیشن ریگولیشن 2021 کو کاالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹوڈنٹس پر پولیس کے لاٹھی چارج سے دنیا بھر میں ایٹمی پاکستان کا امیج خراب ہوا اور طلبا کو مناسب وقت دیے بغیر امتحان کا نیا سسٹم متعارف کرانا درست نہیں، ایڈووکیٹ وقاص ملک سے بات ہوئی تو انہوں نے واضع کہہ دیا کہ مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ینگ ڈاکٹرز کے لیے پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کی اور یوں محسن پاکستان کی آخری دستخط شدہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہے، اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وفد کی وقاص ملک ایڈوکیٹ سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد میں شامل صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر فیض اچکزئی اور چیرمین ڈاکٹر حیدر عباسی نے وقاص ملک ایڈووکیٹ کو مکمل سپورٹ فراہم کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایم ڈی کیٹ، این ایل ای سمیت پی ایم سی کے کسی بھی غیر قانونی اقدام کی بھرپور مخالفت کریں گے، دوسری جانب آگ میں تیل کا کام پی ایم سی صدر و نائب صدر کی جانب سے پریس کانفرنس میں تب ہوا جب حکام کی جانب سے یہ کہہ کر پریس کانفرنس چھوڑنے کر جانے کی راہ لی گئی کہ صحافیوں کے تمام سوالات پلانٹڈ ہیں جس پر صحافیوں کی جانب سے بھی خوب اظہار ناراضگی اور شدید احتجاج کیا گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس معاملے پر کس حد تک نظر ڈالتی ہے

  • عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز    تحریر  غلام مرتضیٰ

    عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز تحریر غلام مرتضیٰ

    ، وہ ہیرا 💎جس کی چمک سب کو میسر نہیں ہوتی ،جس کی چمک سب کو خیرہ نہیں کرتی،.                                               جس کا وجود سب کے لیے تسکین نہیں ہوتا ،ہاں اپنے محرم رشتوں کی ابیاری کرنے والا یہ نازک وجود السلام کی نظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے،                                                                          باحثیت بیٹی یہ عورت اپنے باپ کے انگن کی بلبل ہے جس کی چہک سے باپ کے ہونٹوں کی مسکراہٹ قائم ہے ،باعث رحمت ہے وجود اس کا،                                                                                اپنے والدین اور بھائیوں کا درد دل سے محسوس کرنے والی یہ ہی صنف نازک ہے ، اس کی  بےلوث دعائیں ہمیشہ اپنے باپ اور بھائیوں کے گرد حصار رکھتی ہیں،                                        اور تو اور دین اسلام نے عورت کو  وہ مقام دیا جو کسی  مزہب میں نہیں دیا گیا باحثیت ماں پاوں میں جنت ہی رکھ دی گئی سبحان اللہ،                                                                            یہ ہی عورت بیوی ہونے کی حثیت سے اپنے شوہر کے دل کا سکون بھی ہے اور اس کا ایمان قائم رکھنے کی علامت بھی اپنے گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنا نے کی کاریگر بھی ،           اللہ اکبر کبیرا ،.                                                                 کتنا بلند مقام ہے عورت کا تو پھر کون سی ایسی چیز ہے جو عورت کو لبرل ازم کے طریقوں پر چلا رہی ،کیوں مرد حضرات اپنی خواتین کو جدت پسندی ،مغربی تہزیب سے بچا نہیں رہے؟؟   

    بیوی کی صورت میں تمام تر ذمہ داری مرد پے دے کر عورت کو شان سے بیٹھنے کا حکم دیا مرد ہی کمائے گا اور پوری کرے گا یہ ذمہ داری اسی چار دیواری میں ایک بیوی ایک ماں بنتی ہے جنت پاؤں میں آ جاتی ہے اسلام نے عورت کو جو عزت مقام دیا  روئے زمین پر آج تک کسی مذہب میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں ہے  بلکہ عورت اگر غیر مسلم بھی ہے اس کو بھی حقوق دیے دوران جنگ جہاں مرد کو لڑنے کا حکم دیا وہی پر عورت کو ہاتھ تک لگانے کی اجازت بھی نہیں دی  بلکہ ایک لونڈی کی بھی حد رکھ دی حقوق دیے  اور بے شک یہی سچا دین ہے جو ہم سب کی کامیابی کا راستہ ہے

    لیکن اگر کچھ مرد جواتین کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہے اسے قطعاً مذہب کے ساتھ مت جوڑا جائے
    دین اسلام نے سارا سال بلکہ ساری زندگی کے حقوق طے کر دیے تو عورتوں کا ایک دن عورتوں کے حقوق پے قدغن لگانے کے مترادف ہے

    اور یہود و نصاریٌ  ، یورپ اور  ایلومینٹی

    عورت کو کال گرل فاحشہ وحشیہ طوائف بائی اور بھی عجیب گھٹیہ نام دے کر عورت جیسے عظیم نام کی  توہین کی جاتی ہے  ایک لڑکی کو جسم فروشی سے پیسا کمایا جاتا ہے اور بچے پیدا کراوئے جاتے ہے پھر شادی کی جاتی ہے اور وہی بچہ بڑا ہو کر ان کو اولڈ ہاؤس داخل کروا دیتا ہے
    ہالی وڈ سے لیکر بالی وڈ صرف جسم کی نمائش کی جاتی ہے کپڑے اتارے جاتے ہے پھر جا کے کچھ پیسے ملتے ہے اور تو اور پھر اسی عورت کو پورن گرافی بھی کروائی جاتی ہے اور اس پے ایوارڈ دیے جاتے ہے فگر سٹائل کو مدنظر رکھ کے کیا اسلامی معاشرے کی عورتیں اسی قسم کی آزادی چاہتی ہے
    اللہ کی قسم یہ آزادی ہے بلکہ شیطان کی غلامی ہے پتا نہیں کتنی ہی بہنیں اس دھوکے میں آ کے زلیل و رسوا ہوگئی خدارا میں اپنی بہنوں سے درخواست کروں گا کیا اتنے خوبصورت جسم اللہ نے آگ میں جلنے کے لیے پیدا کیے ہیں  آج تم فطری طور پر چھپکلی کاکروچ کو دیکھ کر ڈر جاتی ہو تو قبر میں سانپ بچو کاٹے گے تو سوچو کیا ہو گا جس حسن کو آج لوگوں کو دکھا دکھا کر فخر محسوس کرتی ہو  کل کو آگ کی نظر ہو جائے گا خدارا لوٹ آؤ سچے دین کی طرف اپنی جانوں پے ظلم مت کرو

    معزرت کے ساتھ اب وقت ہے کہ مرد حضرات کو  لا دینیت، اور دیوثیت کی زنجیریں توڑ کر اپنی بچیوں،اور خواتین کی تربیت السلام کے اصولوں پر کریں تاکہ کفار جو بے حیائی کا بیج ہمارے معاشرہ میں بو رہے ہیں وہ تناور درخت بنے اس سے پہلے ہم مسلمانوں کو اس کی جڑیں کاٹ دینی چاہیے،                                                                                                  تاکہ۔اللہ کے سامنے ہم منہ دکھا نے کے قابل رہیں ،عورت ہیرا ہے اس کی تراش محرم مرد کرتے ہیں ،اٹھیں ہمت کریں اج اور ابھی سے باریک بینی سے مشاہدہ کریں کہ گھر کے ماحول کو با پردہ کیسے بنانا ہے اللہ مدد کرے گا

    ‎@__GHulamMurtaza 

  • مردہ پرست قوم تحریر: حمزہ طاہر

    مردہ پرست قوم تحریر: حمزہ طاہر

    ہم مردہ پرست لوگ ہیں۔ کسی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کی موت کا انتظار کرتے ہیں۔
    وقت بدلا سال بدلے حالات بدلے لیکن اس قوم کی ناقدری کی عادت نہیں بدلی۔
    شاید یہ اس قوم یا پھر بنی نوع انسان کی فطرت ہے کہ وہ وقت پر کسی کی قدر نہیں کرتا۔ ناقدری ہماری فطرت میں حلول کر گئی ہے۔ اسی لئے ہم ہر روز کسی نہ کسی نئے سانحہ سے دو چار ہو رہے ہیں اور رحمت نما انسان ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔
    ہماری بہت سی بدنصیبیوں اور کج فہمیوں کے ساتھ ہمیں ناقدری کی فطرت بھی ورثہ میں ملی ہے کہ ہم اپنے ادیبوں، شاعروں، فلاسفروں، دانشوروں اور عظیم شخصیات کی وقت پر قدر نہیں کی اور ان کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے۔
    ہمیشہ خدا کی عطا کردہ ان نعمتوں کے چھن جانے کے بعد یاد آیا کہ ہم سے ایک عظیم ہستی بچھڑ گئی اور ہم نے وقت پر اس کی قدر نہ کی۔ یہ ہماری قوم کا بدترین المیہ ہے کہ زندہ لوگوں کو مارتے رُلاتے اور تڑپاتے ہیں اور مرنے والوں کیلئے روتے تڑپتے اور پچھتاتے ہیں۔
    مردہ پرست قوم ایسی ہی ہوتی ہیں زندہ محسنوں کی بے قدری کرتی ہے اور مرنے کے بعد ان کی قبروں پر خوبصورت مزارات تعمیر کر کے، ان پر رنگ برنگی چادریں چڑھاتی ہے اور ان کے قیصدے پڑتی ہیں ،کارنامے بیان کرتی ہے۔
    یہی ہمارا المیہ ہے زندوں کی بے قدری اور مردوں کی عزت و توقیر!!!!
    ہماری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے یہی ہمارا کام ہے اور یہی ہم اپنے عظیم محسن قوم ، محسن پاکستان کے ساتھ کیا ہے۔
    محسن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ہم شرمندہ ہیں! ہم نے اپ کی قدر نہ کر سکے۔
    آپ کی خدمات اور احسانات کا بدلہ ہم کیا چکا سکیں گے کہ ہمارے جیتے جی ملک کے اس عظیم سپُوت کی ایسی ناقدری ہوئی کہ شرافت کا یہ پیکر، کردار کا یہ غازی اور عظم کی مثال یہ عظیم ترین انسان اپنی آدھی سے زیادہ زندگی پریشانیوں اور بیماریوں کی نذر رہا۔
    مجھے آنسوءوں میں ڈوبی وہ منحوس شام کبھی نہیں بھولتی جب ڈاکٹر صاحب سے ’ پاکستان سے محبت کا اقبالِ جرم ‘ کرایا جارہا تھا اور وہ اپنا کلیجہ چبا چبا کر ناکردہ گناہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا گلہ پھانسی کے پھندے میں ڈال رہے تھے ۔ دھتکار ہے ان لوگوں پہ جو اس گھنائونی سازش میں شریک تھے ۔ تُف ہے ایسے منافقوں پر جنھوں نے آپ کو اس پہ آمادہ کیا اور جو بعد میں کفِ افسوس بھی مل رہے تھے اور ساتھ ہی یہ اقرار بھی کہ ” آج ڈاکٹر قدیر نے دوسری دفعہ پاکستان کو بچایا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان
    غیر اعلانیہ حراست میں ہی رب کے حضور حاضر ہوگے
    اے محسن پاکستان اے محسن اسلام میں ایک پاکستانی ہونیکی حثیت سے شرمندہ ہوں۔ آپکی ذات تو سر آنکھوں پہ بٹھانے کے قابل تھی۔
    دنیا تو محسنوں کے لئے زندگیاں وقف کر دیتی ایک ہم ہیں کہ اس عظیم انسان کی زندگی ہی دکھ و درد کا شاخسانہ بنا دی
    ہم بطور قوم کس منہ سے اظہار افسوس کر رہے ہیں کیونکہ اس انسان کی ازیت زدہ زندگی میں ہم سب بھی برابر کے شریک ہیں۔
    آج میں بطور پاکستانی انتہائی شرمندہ ہوں یہ لکھتے ہوئے کہ
    یہ قوم آپ جیسے عظیم انسان کے قابل نہیں تھی!
    گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات بھی قدیر
    ستم ظریف مگر کُوفیوں میں گزری ہے (ڈاکٹر عبدالقدیر خان)

    Acemaker007
    Twitter Handle: @