میرا نام وسیم ریاض ہے میرا تعلق جھنگ شہر سے ہے میں جھنگ میں اپنا ایک کلینک چلاتا ہوں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ میں اس مقام تک کیسے پہنچا اس مقام تک پہنچنے کے لیے استاذہ کرام اور میرے والدین کا کیا کردار تھا میں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے قریبی سکول تور ہائی سکول سے حاصل کی چوتھی کلاس تک تو بہت مزے سے زندگی گزر رہی تھی لیکن جیسے ہی پانچویں کلاس میں آئے تو سب بچوں کے منہ پر تھا کہ ہمارے نئے انچارج آئے ہیں جو کہ بہت ظالم ہے اور بہت مارتے ہیں لیکن میں اس بات کو مذاق سمجھتا رہا چند دن کلاس میں گزرے تو ایک روز میں سکول میں کام کرکے نہ گیا تو سر نے میرے ہاتھ پر دو ڈنڈے مارے زور سے جس کی مجھے بہت تکلیف ہوئی اس کے بعد میں سر کے ڈر سے ہمیشہ کام کرکے جاتا تھا ایک مرتبہ سر میں میتھ کا ٹیسٹ دیا وہ ہم سب تیار کرکے آئے اس ٹیسٹ میں میرے 40 میں سے 35 نمبر آئے لیکن اس کے باوجود بھی سر نے مجھے پانچ ڈنڈے مارے تاکہ مجھے یہ یاد رہے تمہیں پانچ نمبر کیوں کاٹے اور میں آگے اس کی پانچ نمبروں کی بھی تیاری کرو تاکہ آنے والے امتحانوں میں میں پورے نمبر لے سکوں اس وقت بے شک یہ ایک ظلم لگتا تھا اردو ایسے لگتا تھا کہ میں کسی قید خانے میں آگیا ہوں صبح اسکول جانے کا دل نہیں کرتا تھا اور رات کو کام یاد کیے بغیر نیند نہیں آتی تھی یہ خوف اور یہ پڑھائی اس کا یہ صلاح ملا کے پانچویں میں میرے 85% نمبر آئے جب میں نے اپنے نمبر دیکھیں تو مجھے وہ سب مارے ہیں وہ سب ظلم بھول گئے اور مجھے ایسے لگ نے اور مجھے ایسے لگ گیا کہ یہ سر نہیں یہ ایک فرشتہ ہے کہ انہوں نے مجھ جیسے ایک نالائق بچے کو بھی اس قابل بنا دیا کہ وہ اچھے نمبر حاصل کرسکتا ہے تھوڑی سی محنت اور توجہ سے لگن کے ساتھ ایسے ہی سلسلہ چلتا رہا اور میں اپنی تعلیم جاری رکھتا رہا اور بہت سے استادوں کی شفقت حاصل کرتا رہا آج اگر میں ڈاکٹر ہوں تو صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی محنت کی وجہ سے اگر وہ محنت نہ کرتے تو شاید میں آج اس مقام پر نہ ہوتا۔ آج اس بات کا فرق پتہ چلتا ہے کہ جن استادوں نے ہم پر محنت نہیں کی انہوں نے ہم پر کتنا ظلم کیا حقیقت میں۔ آج میں ڈاکٹر ہوں اپنے شہر میں ایک نام ہے ایک مقام ہے یہ صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہے جنہوں نے مجھ پر اتنی محنت کی مجھے پڑھایا تاکہ میں قابل انسان بن سکوں اور معاشرے کے لئے بہتری کا سبب بن سکوں کیونکہ بہترین انسان وہی ہے جس سے دوسرے انسان کو فائدہ پہنچے۔ بچپن میں ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے جو مارتے بھی نہیں تھے اور پڑھاتے بھی نہیں تھے گھر کے کام کرواتے تھے تو ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے دل کرتا تھا کے ساری زندگی ان استادوں کے پاس پڑھیں۔ لیکن حقیقت میں وہ ہماری زندگی تباہ کر رہے ہوتے تھے یہ بات اب سمجھ آتی ہے جب ہم کسی مقام پر پہنچے ہیں کا میری آپ سب لوگوں سے اپیل ہے اپنے بچوں کے لئے اچھا سوچیں اور اچھے سکول کا انتخاب کریں تاکہ وہ استاد کی شفقت سے محروم نہ رہے اور ان کو اصل معنی میں محنتی استاد ملے تاکہ وہ آپ کے بچوں پر محنت کرے اس تاکہ آپ کے بچے کا کوئی قابل انسان بن سکیں میرے آپ سب والدین سے درخواست ہے کہ جب بچہ آپ کو آکر کہے کہ آج مجھے استاذہ کرام نے مارا ہے تو ان کو آگے سے جھڑکے اور کہیں کہ آپ سکول کا کام کر کے جاتے تو استاذہ کرام آپ کو نہ مارتے کیونکہ جب تک آپ بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے اس معاملے میں کہ آپ کو استاذہ کرام نے کیوں مارا تب تک آپ کا بچہ نہیں پڑھے گا اور استاد بھی اصل معنی میں آپ کے بچے پر محنت نہیں کر سکیں گے اور جب کل کو آپ کا بچہ اچھے مقام پر نہیں پہنچ سکے گا تو آپ کو اس بات کا پچھتاوا ہو گا
Twitter: @WaseemjuttMalik
Author: Baaghi TV
استاد اور اس کی شفقت تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک
بچوں کے نکاح میں جلدی کریں اور اپنے بچوں کو گناہ سے بچائیں تحریر۔ ہارون خان جدون
اللہ کے دین میں نکاح بہت ہی آسان عمل ہے اور اتنا مشکل عمل نہیں جتنا کے آج کل ہم لوگوں نے بنا دیا ہے
آج ہماری خواہشات اور مطالبات اس قدر بڑھ گے ہیں کے ہم کسی بھی معاملے میں سمجھوتہ کرنا ہی نہیں چاہتے وہ خواہ لڑکا ہو ، لڑکی ہو، قابلیت ہو، آمدنی والا ہو یا اسکا نسب خاندان بہت اعلی ذات کا ہو، ہمیں لڑکا چاہیے تو اچھا کمانے والا ہو ، ہیرو type کا ہو، ماں باپ کا اكلوتا ہو ہینڈسم سمارٹ ہو اسیطرح اگر لڑکی چاہیے تو وہ بھی اچھی شکل صورت والی حور پری ہو، پڑھی لکھی ہو، اچھی کماتی ہو ڈاکٹر، اینجنیر یا ٹیچر ہو اور گھر کے کاموں کے معاملے میں سگھڑ ہو دادیوں نانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے
دوسری طرف دنیا کے حالات یہاں تک پنچ چکے ہیں کے آج کل بےحیائی اس قدر پھیل چکی ہے اور دن بدن مزید پھیلتی جا رہی ہے کے ہر طرف برے حالات ہیں اور زنا عام ہو چکا ہے
اور اسکے زمدار ہم خود ہیں اور اس کی زیادہ تر زمداری والدین پر ہے جنہوں نے خوب سے خوب تر کی طلب میں اپنے نوجوان بچوں/ بچیوں کو اس نج تک پنچایا ہے کے وہ حلال کے رشتے نا ہونے کی وجہ سے انکو girlfriend اور boyfriend بنانے پڑتے ہیں حالانکہ اس کا نہ تو ہمارا دین اس بات جی اجازت دیتا ہے اور نا ہی ہمارا اسلامی معاشرہ اس بات کی اجازت دیتا ہے
آج ہمارے بچے بچیاں مخلوط تعلیم حاصل کر رے ہیں اور والدین نے بچوں کو بچپن سے ہی دین کیطرف اس طرح نہیں لگایا جس طرح سے انکو لگانا چاہیے تھا اور جوان ہوتے ہی انکو حلال رشتے میں باندھ دیا جاۓ اور انکی شادی ہو جاۓ تو وہ ناجائز رشتے کی طرف نہیں جاتے
لیکن والدین اپنے بچوں کی کبھی مستقبل کی فکر، کبھی اچھی job کی فکر اور کبھی اچھی لڑکی کی تلاش میں انکی late شادياں کرواتے ہیں جس سے وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور بچوں کی عمریں نکل جاتی ہیں
حالانکہ بالغ ہوتے ہی لڑکا/ لڑکی کو جسمانی ضرورت کے لئے فوری حلال رشتے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ جب نہیں مل پاتی تو پھر لڑکی/ لڑکا غلط حرام طریقے سے اپنے جسم کی تسکین پورے کرتے ہیں اور پھر اس سے زنا بڑھتا ہے
حالانکہ بحثیت مسلمان ہمارا ماننا یہ ہے کے ہمیں وہی کچھ ملتا ہے جو اللہ پاک نے ہمارے نصیب میں لکھ دیا ہے اور ویسے بھی رزق عورت کے نصیب میں ہوتا ہے پھر بھی ہم بچوں کی شادی میں دیر کرتے ہیں
دوسرا سب سے اہم مسلہ ہمارا معاشرے کا یہ بھی ہے کے ہم ان بچیوں کو قبول ہی نہیں کرتے جنکی زندگی میں پہلے کوئی تھا جیسے کسی لڑکی کا شوھر فوت ہو گیا ہو، کسی کو طلاق ہو گئی ہو یا کسی کی کسی بھی وجہ سے منگنی ٹوٹ چکی ہو
اس کے ساتھ ساتھ ہم لوگ اپنے مرد جنکے قد چھوٹے، تعلیمی ڈگری نا ہونے، خوش شکل نا ہونے اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری اور تیسری شادی کروانے کے حق میں نہیں ہوتے خوا اس مرد کی پہلی بیوی سے اولاد نہ ہو اور اسے اولاد کی ضرورت ہو، خدا راہ اس معاشرے میں ٹوٹی منگنی، طلاق یافتہ ، بیوہ، رنڈوے، کالی رنگت والے، کم امدنی والے، دوسری یا تیسری شادی والے کو بھی اتنا ہی جینے کا حق حاصل ہے جتنا کسی کنوارے امیر لڑکے یا لڑکی کو ہے
خدارا سبکو جینے دیں اور اس مسلے سے سبکدوش ہونے کے لئے اپنے بچے اور بچیوں کی شادی جلدی کرواہیں اور شریعت کے عین اصولوں کے مطابق رشتہ پکا کرنے سے چھان بین کر لیں اور پہلے استخارہ کر لیں اور پھر بات پکی کریں اور ساتھ ہی شادی نکاح کر لیں
یوں سالوں سال منگنیاں کر کے بچوں کو آس امید پر رکھنا اور لٹکاے رکھنا بھی اچھا نہیں ہے اور آپ اس بات کی فکر نا کریں کے اپکا بچا شادی جیسی زمداری نہیں نبھا سکے گا میرا ماننا یہ ہے کے جو لڑکا اپنی girlfriend کے ناز نخرے اٹھا سکتا ہے اسکے خرچے اٹھا سکتا ہے وہ اپنی بیوی کے بھی اٹھا سکتا ہے اسلئے آپ اس بات کی tension نا لیں وہ کیسے مینج کرے گا
پلیز نکاح کو عام کریں اور زنا کو روکیں ادھر بچے شادی کے قابل ہوے تو آپکو انکا نکاح کرکے شادی کے بندھن میں باندھ دینا چاہیے
مغرب میں اگر لڑکا/ لڑکی 12 سال سے 15 سال کی عمر میں live together کر سکتے ہیں تو ہم اپنے بچوں کو حلال رشتے میں کیوں نہیں اکٹھا کر سکتے پلیز اس بارے میں سوچیں اور غور سے سوچیں اور اس پر عمل کریں
اور اس لفظ سے خود کو باہر نکالیں کے لوگ کیا کہیں گے لوگوں کی باتوں میں نا آئیں اپنے بچوں کی جلدی شادیاں کروائیں اور اس کام کے لئے دوسرے لوگوں کو بھی motivate کریں تاکہ ہماری society گناہ اور زنا سے بچ سکے
آپ ہمت کریں خود سے start کریں اپنے گھر سے start کریں رفتہ رفتہ باقی لوگ بھی آپ کے ساتھ اس نیک کام میں مل جاہیں گے بس آپ کو ہمت کرنا ہو گی
نکاح کو عام کریں اور زنا کو روکیں یہ آپ کی میری اور سبکی زمداری ہے اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں اور اپنے اپنے حصے کا کام کریں.
اللہ پاک ہم سبکے بچوں کی قسمت اچھی کرے..آمین
@ItzJadoon

ماہ ربیع الاوّل اور ہمارا طرزِ عمل تحریر: قاری محمد صدیق الازھری
” ربیع ” عربی میں موسمِ بہار کو کہا جاتا ہے، اور اوّل کے معنی ہیں: پہلا، تو ربیع الاول کے معنی ہوئے: پہلا موسمِ بہار۔ اس مہینے میں سرورِ دو عالم حضور اقدس جناب محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور یہ مقام کسی اور مہینے کو حاصل نہیں، اسی لیے جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کےدن روزے کےبارے میں پوچھاگیا ،تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس دن میں پیدا ہوا، جب پیر کے دن روزہ کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے، تو ماہِ ربیع الاوّل کوبھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا مہینہ ہونے کی خاص حیثیت کے اعتبارسے سال بھر کے تمام مہینوں پر فضیلت وفوقیت حاصل ہے۔
محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد الله بن عبد المطلب بن ہاشم بن مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن ادو بن ہمیسع بن سلامان بن عوض بن بوض بن قموال بن ابی بن عوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیفی بن عبقر بن عبید بن الدعا بن ہمدان بن سمب بن یژبی بن یحزن بن یلجن بن ارعوا بن عیضی بن ذیشان بن عیصر بن اقناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن ضارح بن سمی بن مزی بن عوض بن عرام قیدار بن اسماعیل بن ابراہیم بن آذر بن ناحور بن سروج بن رعو بن فائج بن عابر بن ارفکشاد بن سام بن نوح بن لامک بن متوشائح بن اخنون بن یارو بن ملہل ایل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم علیہ السلام کی ساری زندگی ہم سب کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں حضور اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی اور اسی مہینے میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ الله تعالٰی نے قرآن مجید کی سورۃ الانبیاء میں ارشاد فرمایا کہ؛ "اے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”
حضوراکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک ایک اعلی ترین عبادت ہے، بلکہ روحِ ایمان ہے۔
آپ کی ولادت، آپ کا بچپن، آپ کا شباب، آپ کی بعثت، آپ کی دعوت ، آپ کا جہاد ،آپ کی عبادت ونماز، آپ کے اخلاق، آپ کی صورت وسیرت، آپ کازہدو تقوی، آپ کی صلح وجنگ ، خفگی و غصہ، رحمت و شفقت، تبسم و مسکراہٹ، آپ کا اٹھنابیٹھنا ، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، الغرض آپ کی ایک ایک ادا اور ایک ایک حرکت و سکون امت کے لیے اسؤہ حسنہ اور اکسیر ہدایت ہے اور اس کا سیکھنا سکھانا، اس کا مذاکرہ کرنا اور دعوت دینا امت کا فرض ہے۔
نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک انسان کی عظیم ترین سعادت ہے اور اس روئے زمین پر کسی بھی ہستی کا تذکرہ اتنا باعث اجر و ثواب اتنا باعث خیر و برکت نہیں ہوسکتا جتنا سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ ہوسکتا ہے۔ لیکن تذکرہ کے ساتھ ساتھ ان سیرتِ طیبہ کی محفلوں میں ہم نے بہت سی ایسی غلط باتیں شروع کردی ہیں جن کی وجہ سے ذکر مبارک کا صحیح فائدہ اور صحیح ثمر ہمیں حاصل نہیں ہورہا ہے۔ ان غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ ہے کہ ہم نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک صرف ایک مہینے یعنی ربیع الاوّل کے ساتھ خاص کردیا ہے اور ربیع الاوّل کے بھی صرف ایک دن اور ایک دن میں بھی صرف چند گھنٹے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرکے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کاحق ادا کردیا ہے، یہ حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہے کہ اس سے بڑا ظلم سیرتِ طیبہ کے ساتھ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
اصل ربیع الاوّل اس کا ہے، جو رات دن ہر وقت حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد رکھتا ہے، سال میں ایک مہینے کے لیے نہیں، ایک دن کے لیے نہیں، بارہ ربیع الاوّل کے لیے نہیں، جو اللہ کے نبی کی سنت پر زندہ رہتا ہے، ہر سانس میں سوچتاہے اور اہلِ علم سے پوچھتا ہے کہ یہ خوشی کیسے مناؤں؟ غمی کیسے ہو؟ اپنی زندگی اسلامی طرز عمل پر کیسے گزاروں؟ ساری سنتیں پوچھتاہے اور سنت پوچھ کر سنت کے مطابق خوشی اور غمی کی تقریبات کرتاہے،تو جس کی ہر سانس سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر فد ا ہو، اس کی ہر سانس حضور اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی دین کی اشاعت کے لیے ہے۔ جو شخص آپ کی سنت پرعمل کررہاہے اس کا ہر دن خوشی کا دن ہے، کیونکہ آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہی ہے کہ امت آپ کے نقشِ قدم کی اتباع کرے، کیونکہ؎
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
ﷲ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
Bio: The contributer Qari Muhammad Siddique Al- Azhari is a columnist and blogger. I have written many columns in newspapers and websites.
Twitter ID:
https://twitter.com/iamqarisiddique?s=09

رزق حلال عین عبادت ہے تحریر: محمد جاوید
پاکستانی کرنسی نوٹ پہ لکھا ہوا جملہ "رزق حلال عین عبادت ہے”
یہ جملہ صرف ایک جملہ ہی نہیں بلکہ مسلمان کیلئے ایک پورا فلسفہ زندگی ہے.
اللہ پاک نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایمان والوں کو رزق حلال کی تلقین فرمائی
اسی طرح متعدد احادیث اور روایات میں سرکار دوعالمﷺ نے بھی اپنی امت کو حلال اور پاکیزہ رزق تلاش کرنے کمانے کھانے اور کھلانے کی تلقین فرمائی ہے.
حلال رزق کا انسان کی نشو نماء پہ گھرا بلکہ بہت گھرا اثر ڈالتا ہے
آج ایک دوست نے اسی حوالے سے ایک واقع سنایا تو پتہ چلا کہ ابھی بھی کس قدر ایماندار لوگ اس جہاں میں موجود ہیں
واقع کچھ اسطرح ہے.
کچھ دیر پہلے والد صاحب کو ایک کال آئی۔ میں بھی ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا اور یہ کال کسی کسٹمر کی تھی جو کہہ رہا تھا کہ” قریشی صاحب میں صبح آپ کے پاس دکان پر آیا تھا ، میرا ٹوٹل بل آٹھ ہزار روپے کا بنا تھا لیکن میں غلطی سے نو ہزار روپے دے گیا ہوں۔ ہم جب گھر واپس پہنچے تو میری بیگم نے یاد دلایا کہ گھر سے پورے نو ہزار روپے گن کر لے گئے تھے۔ مہربانی کر کے میرا ایک ہزار واپس کر دیجیے” ۔
والد صاحب نے کہا ” پیسے تو میں نے بھی گن کر ہی دراز میں ڈالے تھے لیکن پھر بھی بھول ہو سکتی ہے۔ میں کنفرم کر کے آپ کو کچھ دیر بعد کال کرتا ہوں” ۔ کال ختم ہوتے ہی والد صاحب نے فوراً بھائی کو کال کی جو اس وقت دکان پر موجود تھے اور کہا کہ دراز میں موجود ٹوٹل رقم گنتی کرو اور کیلکولیٹر اپنے ساتھ رکھ لو۔ رات والے اتنے پیسے دراز میں موجود تھے اور میرے ہوتے ہوئے اتنے کسٹمرز آئے تھے جن کا بل اتنا اتنا بنا تھا۔ اس رقم کا ٹوٹل کرو اور اب دیکھو کہ میرے جانے کے بعد کتنے کسٹمرز آئے ہیں؟ ان کا بل کتنا بنا اسے ٹوٹل کرو۔ اب بتاؤ کہ دراز میں موجود رقم برابر ہے یا کوئی فرق ہے؟ معلوم ہوا کہ اس حساب سے تقریباً نو سو روپے زیادہ ہیں
یعنی یہ اس بات کی گواہی تھی کہ گاہک ایک ہزار روپے زیادہ دے گیا تھا
ایک سو روپے کا فرق تو بل میں بھی لگا سکتا ہے یا ممکن ہے کسی کو بل میں ایک سو زیادہ لکھ کے دیا ہو لیکن رعایت میں کسی نے ایک سو نہ دیا ہو ۔۔
اس کے بعد والد صاحب نے کسٹمر کو کال کی اور کہا آپ کا ایک ہزار امانت ہے کسی بھی وقت آ کر لے جائیں۔ کسٹمر نے شکریہ ادا کیا۔ والد صاحب نے یاد دلایا کہ پہلے آپ کا بل نو ہزار روپے کا بنا تھا لیکن پھر آپ نے کہا کہ آٹھ ہزار تک کا کر دیں جس کے بعد آپ کا کچھ سامان کم کیا تھا۔ جب آپ نے رقم دی تو شاید میرے خیال میں نو ہزار ہی چل رہے تھے ورنہ ایسا نہ ہوتا۔۔
مجھے اس معاملے میں انتہا کا سکون مل رہا تھا۔ کچھ وقت اور محنت سے والد صاحب نے کسی کا بھلا کر دیا اور خود بھی محفوظ رہے کہ کسی کا حق غلطی سے بھی ہمارے پاس نہ آ جائے۔
حلال کی رقم شاید کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
یہ جملہ ہم نے اپنے بزرگوں سے بھی سن رکھا ہے کہ حلال کی کمائی کبھی حرام میں نہیں جاتی
حرام کی کمائی ہی حرام کام کی طرف لے جاتی ہے.
حلال کمائی تھوڑی بھی ہو تو برکت ساتھ لاتی ہے
اور اگر حرام بہت سارا بھی جمع ہوجائے تو برکت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی
ہم نے ایسے کئی واقعات پڑھے ہیں کہ زیادہ دولت و حرص کی لالچ نے
بہت بڑے بڑے پارسا اور نیک لوگوں کے ایمان بھی بگاڑ دئے
اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس کا اثر براہ راست اپنے خاندان میں اپنے بیوی بچوں پر پڑتا ہے
آجکل جو ماں باپ کی نافرمانی عام ہے اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے انہیں رزق حلال نہیں کھلایا جاتا.
صوفیاء فرماتے ہیں کہ حلال کھانے والے کی اولاد کبھی نافرمان نہیں ہوتی.
@M_Javed_

بلوچستان کے صحرا میں کھڑی "امید کی شہزادی” کی کہانی۔ تحریر: حمیداللہ شاہین
جیسے ہی "امید کی شہزادی” نام سنا جاتا ہے ذہن میں آتا ہے کہ یہ ایک مصری شہزادی کا نام ہے جس کے وجود نے اس وقت کے لوگوں میں امید کی شمع روشن کی ہے۔ اس طرح وہ اس نام سے پکارے جانے لگے۔
تاہم اس خیال کے علاوہ جو ذہن میں آتا ہے اس شہزادی کی ایک الگ کہانی ہے۔
آئیے معلوم کریں۔
بلوچستان کے ریگستانوں میں کھڑی یہ شہزادی کون ہے؟
صوبہ بلوچستان میں کئی ساحلی مقامات اور خوبصورت وادیاں ہیں جو کہ بے مثال ہیں۔ لیکن لوگ کئی جگہوں کی خوبصورتی سے بھی واقف نہیں ہیں یہاں تک کہ کوئی شہزادی بھی نہیں جو چند سال پہلے تک برسوں خاموش کھڑی رہی۔ تاہم مکران کوسٹل کے پہاڑی سلسلے میں کھدی ہوئی یہ پتھر کی مجسمہ اب "امید کی شہزادی” کے نام سے مشہور ہے۔
کراچی سے 190 کلومیٹر دور واقع اس مجسمے کی شہزادی شاہی انداز میں ملبوس ہے۔ لمبی شہزادی خوبصورت دکھائی دیتی ہے لیکن اسے ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی چیز کی امید کر رہی ہو۔ اس مجسمے کو 2002 میں مشہور ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے شہزادی کا نام دیا تھا۔ انجلینا جولی نے اس وقت اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے اس علاقے کا دورہ کیا اور جب انہوں نے ہنگول نیشنل پارک کا دورہ کیا تو انہوں نے شہزادی کو برسوں تک پہاڑی سلسلے میں کھڑے دیکھا۔ اس شہزادی کو دیکھتے ہی یہ نام اس کے ذہن میں آیا اور اس نے اس مجسمے کی شہزادی کا نام تجویز کیا جو اس جگہ پر برسوں سے "امید کی شہزادی” کے طور پر موجود ہے۔ امید کی اس شہزادی کا نام ایک بار پھر مقبول ہوا اور یہ مجسمہ جو برسوں سے موجود ہے کو پہچان ملی۔
اس سے پہلے یہ مجسمہ بحیرہ عرب کے ساحلوں کے قریب خاموشی سے کھڑا تھا ، تیز ہواؤں اور دھول کے طوفانوں کی زد میں آ جاتا لیکن یہ اپنی شناخت کے بغیر ویسا ہی رہتا۔ اس جگہ پر اسفنکس کا ایک اور مجسمہ بھی موجود ہے۔ یہ مصر کے مشہور مجسمہ اسفنکس سے مشابہت رکھتا ہے ، جو اس ویران صحرا میں کھڑی شہزادی کی اکلوتی دوست ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مجسمے 750 سال پرانے اور تاریخی ورثہ ہیں۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
کراچی سے سفر کرنے والے لوگوں کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے 4 گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ ہفتے کے آخر میں یہاں آنے کی کوشش کریں۔
ہنگول نیشنل پارک تک پہنچنے کے دو طریقے ہیں۔
1: ٹور آپریٹر سے بکنگ کروائیں اور پھر آسانی سے یہاں پہنچیں۔
2: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس جگہ کا نقشہ گوگل کی مدد سے محفوظ کریں اور پھر یہاں پہنچنے کے لیے گاڑی چلائیں۔
یہاں پہنچنے کے لیے پہلے حب آئیں پھر زیرو پوائنٹ کا سفر کریں۔ مکران کوسٹل ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے ، آپ کو کچھ انتہائی خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو اس سفر کو یادگار بناتے ہیں اور آپ کو کبھی تھکا نہیں دیتے۔ جب آپ یہ سفر جاری رکھیں گے تو آپ ہنگول نیشنل پارک پہنچ جائیں گے۔
یاد رکھیں کہ یہ روڈ ٹرپ کچھ جگہوں پر بہت مشکل ہے کیونکہ ہائی وے پر سہولیات کی کمی اس سفر کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اپنے ساتھ اضافی ایندھن ضرور لیں تاکہ پٹرول ختم نہ ہو۔ یہاں کوئی میکانکس یا آٹو شاپس نہیں ہیں ، لہذا کچھ کاروں کی مرمت کے اوزار اپنے پاس رکھیں تاکہ انہیں ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاسکے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی گاڑی اچھی حالت میں ہے اور اسے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اگر گاڑی میں کوئی مسئلہ ہو تو یہاں سفر نہ کریں۔
اخراجات اور سامان:
اگر آپ ٹور آپریٹر بک کروانا چاہتے ہیں تو آپ کو کراچی سے ہنگول نیشنل پارک تک کے سفر کے لیے فی شخص 3500 سے 5000 روپے ادا کرنا ہوں گے۔ ٹور آپریٹرز دو طرفہ ائر کنڈیشنڈ بسیں استعمال کرتے ہیں۔ ٹور آپریٹرز ناشتہ ، دوپہر کا کھانا ، پانی کی بوتلیں ، سافٹ ڈرنکس ، نمکین اور دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ فوٹو گرافر بھی فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ خود جانا چاہتے ہیں وہ اپنے ساتھ کھانا ، سنیکس ، کیمرہ وغیرہ بھی لے جائیں تاکہ وہ شہزادی ہوپ کے ساتھ کھڑے ہو کر یادگار تصاویر کھینچ سکیں۔
پرنسس آف ہوپ اور ہنگول نیشنل پارک میں آنے والوں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے ، لیکن اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ اپنے اور اپنے پیاروں کے نام مجسمے کے قریب دیواروں پر تیز اشیاء یا مارکروں سے لکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی جگہوں پر جہاں آپ لوگوں کے نام لکھے ہوئے دیکھیں گے جو اس جگہ کی خوبصورتی اور اس کے تاریخی ورثے کو متاثر کرتے ہیں۔
بلوچستان کی یہ پٹی کئی اہم سیاحتی مقامات اور تاریخی اعتبار سے اہم ہے۔ کنڈ ملیر ، ہنگول نیشنل پارک ، ہنگلاج ماتا مندر اور شہزادی ہوپ ، اورماڑہ اور گوادر میں کئی سیاحتی مقامات ہیں جنہیں سجایا خوبصورتی اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت بلوچستان کو یہاں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریسٹ ہاؤس ، ہوٹل ، کھانے کی دکانیں ، پٹرول پمپ اور زائرین کے لیے دیگر ضروریات کی فراہمی کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ یہاں سیاحت کو مزید ترقی دی جا سکے۔
@iHUSB
مچھلی کے ٹینک کو کیسے صاف کریں تحریر: محمّد اسحاق بیگ
میٹھے پانی کے مچھلی کے ٹینک میں ٹینک کے سائز کے لحاظ سے ہفتے میں تقریبا 30 منٹ سے ایک گھنٹہ کام کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپ کو کیا ضرورت ہو گی :
1) آپ کو ایک صاف 5 گیلن بالٹی کی ضرورت ہوگی جس کے اندر کبھی کیمیکل یا صابن نہ ہو۔
2) ایک نلی یا بجری صاف کرنے والی چھاننی ۔
3) قدرتی یا مصنوعی سمندری نمک کا ایک بیگ۔
میں نے کام کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جس میں ٹینک کو ہر ہفتے اسی دن صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور فلٹرز جو ہر 2 یا 3 ہفتوں میں صاف کیے جا سکتے ہیں۔
اپنے مچھلی کے ٹینک کی صفائی شروع کرنے سے پہلے آپ کو سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی ٹینک ہے تو اسے ہٹا دیں۔ ہیٹر کو پانی سے ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ یہ گرم ہے لہذا اسے ہٹانے کی کوشش کرنے سے پہلے کم از کم 20 منٹ تک اسے پلگ ان چھوڑنا یقینی بنائیں۔ پانی ہیٹر پر شیشے کو ٹھنڈا کرنے میں مدد کرتا ہے اگر اسے ہٹا دیا جائے تو یہ ٹوٹ سکتا ہے ، یا گلاس مکمل طور پر ٹوٹ سکتا ہے۔ آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی مچھلی کے ٹینک کے اندر کبھی بھی ہاتھ نہ لگائیں اس بات کو یقینی بنانے سے پہلے کہ ہیٹر نہ صرف بند ہے بلکہ سوئچ بورڈ سے نکلا ہوا ہے۔ ذرا سی کوتاہی آپ کے لیے ایک جھٹکا لگانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے جو کہ مہلک ہو سکتا ہے۔
ہیٹر کے پاس ٹھنڈا ہونے کا وقت ہونے کے بعد آپ ٹینک سے ہیٹر کو محفوظ طریقے سے ہٹا سکتے ہیں یا یہ ہیٹر زیر آب ہے آپ اسے نیچے ٹینک کے نیچے دھکیل سکتے ہیں۔
اب جو بھی سجاوٹ آپ نے ٹینک میں رکھی ہے اسے لے لو ، لہذا آپ کے پاس نیچے کی چھوٹی بجری ہے ، اس سے آپ کو کوئی بھی گندگی مل جائے گی جو کہ ان سجاوٹوں نے چھپا رکھی ہے۔ اب اگر آپ کے پاس بجری صاف کرنے والا نہیں ہے تو آپ کو اپنی آستینیں اٹھانا پڑیں گی اور اپنے ہاتھوں کو گیلا کرنا پڑے گا۔ آپ کو بجری کو ہلانے کی ضرورت ہوگی تاکہ گندگی کے درمیان پانی میں داخل ہو جائے ، اور پانی کو چھاننی سے بالٹی میں نکالنا شروع کردے۔ پانی کو باہر نہ پھینکیں آپ کو فلٹر صاف کرنے کے لیے اس کی ضرورت پڑے گی۔
اگر آپ کے پاس بجری صاف کرنے والی چھاننی ہے تو ، پلاسٹک کی ٹیوب کو بجری میں دھکیلیں یہاں تک کہ یہ ٹینک کے نیچے سے ٹکرا جائے ، پھر بالٹی میں ایک سائفون شروع کریں ، ہر سیکنڈ یا 2 بجری کلینر کو ایک انچ یا 2 پر منتقل کریں اور اس عمل کو دہرائیں آپ نے 15 فیصد ٹینکوں کو ہٹا دیا ہے پانی نے تمام بجری صاف کر دی ہے۔
اب اس مقام پر آپ ایکویریم فلٹرز صاف کر سکتے ہیں۔ فلٹرز کے اندرونی حصے بیکٹیریا کو بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ، جو مچھلی کے فضلے اور ناپاک کھانے سے پانی میں موجود نائٹریٹس اور نائٹریٹس کو توڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم ان تمام ایکویریم دوستانہ بیکٹیریا کو نہیں مارتے ، ہم فلٹر میٹریل اور سپنج کو گندے پانی میں صاف کرتے ہیں جو آپ کے ہاتھ بھی بیکٹیریا سے بھرا ہوئے ہیں ۔ ہر چیز کو فلٹرز سے نکالیں اور انہیں گندے ایکویریم پانی کی بالٹی میں کللا کریں ، پھر سپنج کو بالٹی میں ایک دو نچوڑ دیں اور فلٹرز کو دوبارہ جوڑیں ، اور انہیں واپس ٹینک پر رکھیں۔
اب پانی میں سمندری نمک ڈالنے سے پہلے ٹینک میں شامل کرنا ضروری ہے۔ تمام پانی میں کچھ مقدار میں نمک ہوتا ہے اور مچھلی کے قدرتی افزائش کو نقل کرنے کے لیے آپ کے ٹینک میں بھی نمک ہونا ضروری ہے۔ ہر 50 گیلن پانی میں تقریبا 1 کپ سمندری نمک شامل کریں۔
اب آپ ٹینک میں پانی ڈال سکتے ہیں ، لیکن آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پانی ٹینک میں پانی کے درجہ حرارت کے ایک یا دو ڈگری کے اندر ہے۔ ٹینکوں کے درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی اچانک مچھلی کو صدمے میں ڈال سکتی ہے اور انہیں مار سکتی ہے یا ان کی قوت مدافعت کو کمزور کر سکتی ہے اور انہیں مچھلی کی بیماری میں مدد دے سکتی ہے۔ میں بالٹی کو گرم پانی سے بھرنے اور اسے باقاعدگی سے چیک کرنے کی تجویز دیتا ہوں جب تک کہ یہ ٹینکوں کا درجہ حرارت جیسا نہ ہو ، پھر آہستہ آہستہ ٹینک میں پانی ڈالیں ، فلٹر اور ہیٹر سیٹ کریں۔
فلٹر کی صفائی صرف مہینے میں ایک یا دو بار کرنے کی ضرورت ہے ، لیکن ٹینک میں پانی ہر ہفتے اسی دن صاف کرنا ضروری ہے
امید ہے کے میں اپنی بات آپ کو سمجھانے میں کامیاب ہوا ہوں اگر پھر بھی سمجھ نا اے تو آپ رابطہ کر سکتے ہیں ویسے بھی یہ کام الفاظوں میں لکھنا نہایت ہی مشکل ترین ہے ۔
میں نے کوشش تو کی ہے اب یہ آپ نے بتانا ہے کے میں آپ کو ٹھیک سے سمجھا پایا بھی ہوں کے نہیں
دعاؤں کا طلب گار
@Ishaqbaig___

غربت اور اس سے جڑے نفسیاتی مسائل تحریر: نعمان سرور
چند دن قبل ایک خبر میڈیا کی زینت بنی کے ایک شخص نے اپنے تین بچوں کو کنویں کے اندر پھینک کر قتل کر دیا اور پھر خود بھی خودکشی کر لی جب اس بات کی حقیقت سامنے آئی تو وجہ غربت نکلی، آجکل ایسے واقعات بہت زیادہ سنائی دیتے ہیں
سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تھرپارکر میں خودکشی اور ذہنی امراض کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے تھرپارکر کا شمار پاکستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں غربت بہت زیادہ ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ چونکا دینے والی ہے اس میں انکشاف کیا گیا ہے کے اس علاقے میں خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی اوسط عمر 10-20 سال ہے جبکہ ملک کے دوسرے حصوں میں یہی شرح 20-35 ہے اب سوچنے کی بات یہ ہے کے غریب طبقہ کے نوجوان اپنی جان کیوں لے رہے ہیں اور ہم اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟
ایشیائی ترقیاتی بینک کا اندازہ ہے کہ تقریبا ایک چوتھائی پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
یہ لوگ اپنے حالات سے تنگ آ کر ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ تعلیم کا نہ ہونا اور ان کو معاشرتی اور معاشی انصاف نہ ملنا ہے جب معاشرے میں ایسی تقسیم ہوتی ہے جو کے انصافی پر مبنی ہو تو اس کے اثرات بچوں کی نفسیات پر پڑتے ہیں جس پر آج تک توجہ نہیں دی گئی، وزیراعظم پاکستان نے بچوں کو خوراک کی فراہمی پر توجہ دینے کے لئے اقدامات کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر اب وقت ہے عملی اقدامات کرنے کا۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ غربت سے وابستہ افراد جب معاشرے میں ناانصافی دیکھتے ہیں تو اس کا بڑا اثر ان کی ذات پر پڑتا ہے سوشل میڈیا تک رسائی نے اس فرق کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے سوشل میڈیا کے زریعے ایکٹر،مشہور لوگ،سیاستدان اپنی نجی زندگی کی آسائشوں سے بھری تصاویر جب اپلوڈ کرتے ہیں تو یہ انٹرنیٹ کے ذریعے غریب لوگوں تک جاتی ہے جس سے ان میں احساس کمتری ، ناراضگی ، مایوسی کو جنم دیتی ہیں۔ اور وہ نوجوان اس کا موازنہ اپنی زندگی سے کرنے لگتے ہیں اگر ان کو اچھی تعلیم دی جائے تو ان کو سوچ ان چیزوں پر مثبت طریقے سے غوروفکر کرے۔
نفسیاتی مسائل کے نتیجے میں غربت میں رہنے والے نوجوانوں کے لیے بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
جب غربت میں ڈوبا شخص یہ تمام عیش و عشرت دیکھتا ہے جو اسے میسر نہیں ہوتی لیکن دوسروں کو میسر ہوتی ہے تو اس کی سوچ کا دائرہ محدود ہوجاتا ہےجس کے نتیجے میں ناقص تعلیمی کارکردگی ، ابتدائی اسکول چھوڑنے اور مثبت سرگرمیوں کی دوری جنم لیتی ہے۔
جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کی سوچ منفی ہو جاتی ہے اور وہ روزگار اور آسائش حاصل کرنے کے ہر اچھے برے طریقے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں خراب معاشی حالات اور روزگار کے مواقع کی کمی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
انہیں وجوہات کی بنا پر نوجوان اکثر غیر صحت مندانہ رویوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے نشہ آور چیزیں ، جو کہ وقت کے ساتھ مسلسل بڑھ رہی ہیں مبینہ طور پر پاکستان میں منشیات روزانہ 700 جانیں لیتی ہیں ، اور خودکشی اس کے علاوہ ہے۔
جو نوجوان ان مسائل کا شکار ہو جاتا ہے اس میں غصہ بڑھ جاتا ہے جس سے گھریلو تشدد اور طلاق کے مسائل دن بدن دیکھنے میں آ رہے ہیں یہ سب نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جیلوں میں 85 فیصد مرد قیدی ڈپریشن کا پائے گئے ۔
ان کا حل کیسے ممکن ہے ؟؟
حکومت وقت کی زمہ داری ہے کے وہ ان غریب نوجوانوں کو مالی بااختیار بنانے میں اپنا کردار ادا کرے، غربت کے خاتمے کے پروگراموں کو شروع کیا جائے، زہنی صحت کے حوالے سے تعلیم دی جائے اور بچوں کو سکول لیول پر ہی ان کی دماغی جانچ کی جائے کے وہ کیا سوچ رہے ہیں کیسے حالات سے گزر رہے ہیں۔
نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کا بہترین وقت جلد از جلد ہے۔ ابتدائی سراغ لگانا اور جلد حل کرنا ہی اس کا علاج ہے ، پاکستان میں پہلے سے ہی بنیادی ہیلتھ یونٹس کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو دیہی علاقوں میں بنیادی دیکھ بھال فراہم کرتا ہے۔ اگر ذہنی صحت کی خدمات کو اس نظام میں شامل کیا جاتا ہے تو بہت سے نوجوان ان ہیلتھ یونٹس کے زریعے اپنے مسائل کا حل پا سکتے ہیں اور سکولوں کی سطح پر بھی بچوں کی دماغی نشونما کی جانچ کی اشد ضرورت ہے۔
مزید برآں ، تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو ملک اپنے نوجوانوں کی نفسیات پر ایک 1000 روپے خرچ کرتا ہے یہی نوجوان بعد میں ملک کی پیداواری صلاحیت میں 5000 روپے کا اضافہ کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خرچہ کسی قوم پر بوجھ نہیں بلکے آمدن ہے اور نیکی بھی ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو ہامی و ناصر ہو آمین۔
ٹویٹر اکاؤنٹ
@Nomysahir
بریسٹ کیسنر کے متعلق آگاہی تحریر: حمزہ احمد صدیقی
پاکستان میں ہر سال اکتوبر کے مہینے میں بریسٹ کے کینسر کے حوالے سے خصوصی مہم اور پروگرام ہوتے ہیں اور لوگوں کے اندر اس کے بارے میں آگاہی پھیلاٸیں جاتی ہے تاکہ اس مہلک مرض سے اپنی ماں ، بہن ، بیٹیوں کو بچایا جاسکے اس لیے ملک بھر کی تمام اہم عمارتیں اور مختلف جگہوں کو باری باری گلابی رنگ سے مزین کیا جاتا ہے تاکہ عوام میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے حساسیت پیدا کی جا سکے۔
دنیا بھر خواتین کو ہونے والے بیماریوں میں اب بریسٹ کینسر سرِفہرست ہے۔ یہ مہلک مرض عام طور پر چالیس سے ساٹھ سال کی عمر کی خواتین میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ بریسٹ کینسر کی مریض خواتین نہ صرف پسماندہ و ترقی پذیر ممالک میں پائی جاتی ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی خواتین بھی اس مہلک مرض کا شکار ہو رہی ہیں۔
افسوس کے ساتھ پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ ساتھ ہی یہ پاکستانی خواتین میں اموات کی دوسری بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں ممنوع موضوع ہونے کی وجہ سے پاکستانی خواتین مرض کی جلد تشخیص نہیں کروا پاتی ہیں، جلد تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے چھاتی کے کینسر میں مبتلا پچاس فیصد خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہے ملک بھر میں خواتین میں کینسر کے چوالیس فیصد کیسز چھاتی کے کینسر کے ہیں، جلد تشخیص ہونے سے مرض سے نجات پانے کا امکان اٹھانوے فیصد ہے۔ ایک سروے کے مطابق زندگی کے کسی مرحلے پر ، نو میں سے ایک پاکستانی خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہے
ایک اور سروے کے مطابق ملک بھر میں ہر سال تراسی ہزار سے زاٸد خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جس میں سےتقریباً چالیس ہزار خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ بریسٹ کیسنر ایک جان لیوا مرض ہے جس کے بارے میں آگاہی پھیلا کر اس سے نجات پاسکتے ہیں
بریسٹ کینسر کیا ہے؟
بریسٹ کے ٹشوز دودھ کی پیداوار کے غدود سے بنے ہوتے ہیں ، جنہیں لوبولس اور نالیاں کہتے ہیں ، جو لوبولز کو نپل سے جوڑتے ہیں۔ چھاتی کا باقی حصہ لیمفاٹک ، کنیکٹیو اور فیٹی ٹشوز پر مشتمل ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر ایک ایسی رسولی ہے جوکہ چھاتی کے خلیات میں غیر ضروری ٹشوز کے گچھے کی شکل میں جمع ہونے سے بنتی ہے۔انٹر ڈکٹل کینسر، بریسٹ کینسر کی عام قسم ہے۔ جس کی شروعات زیادہ تر دودھ کی نالیوں کے اندر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض خواتین لوبولر کینسر کا بھی شکار ہو سکتی ہیں۔ جودودھ کی تھیلیوں میں پیدا ہوتا ہے۔
بریسٹ کے کینسر کی علامات
بریسٹ میں گانٹھ یا ٹشوز کا گاڑھا پن جو دیگر ٹشوز سے مختلف محسوس ہو، بریسٹ میں درد بریسٹ کی جلد کا سرخ اور کھردرا ہونا، بریسٹ کے مختلف حصوں پر سوجن آنا، پستان سے دودھ کے علاوہ خون یا کسی اور مادے کا اخراج
،نیپل کا اندر دھنس جانا ، بریسٹ کے سائز میں اچانک رونما ہونے والی تبدیلیاں یا ورٹڈ نپلچھاتی کی جلد پر رونما ہونے والی تبدیلیاں یا بازو کے نیچے سوجن یا گانٹھ کا بننا یا بعض اوقات چھاتی میں ایسے انفیکشن جو عام طریق علاج سے نہ ٹھیک ہو قابل ذکر ہیںبریسٹ کیسنر کے چار مختلف مراحل
بریسٹ کے کینسر کو چار مختلف اسٹیجز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،اگر کینسر صرف بریسٹ تک محدود ہو تو اس کو اسٹیج۔1 کہا جاتا ہے،اگر کینسر متعلقہ طرف کی بغل تک پہنچ جائے تو اس کو اسٹیج- 2 کہا جاتا ہے ،اگر کیسنر مریضہ کی گردن تک پہنچ جائے تو اس کو اسٹیج ۔3 کہا جاتا ہے،کینسر اگر مریضہ کے پھیپھڑوں، جگر،ہڈیوں اور جسم کے دوسرے دور دراز حصوں تک پہنچ جائے تو اس کو اسٹیج-4 ہا جاتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اگر مریضہ اسٹیج۔ 1 اور اسٹیج – 2
میں ڈاکٹرکے پاس آٸی ہے تو اس کو ابتدائی بریسٹ کینسر کہا جاتا ہے،ان حالات میں بیماری قابل علاج ہوتی ہے اور اگر مریضہ ڈاکٹر کی ہدایات پر پورا طرح عمل کرے تو نہ صرف مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتی ہے بلکہ وہ ایسی زندگی گزار سکتا ہے کہ گویا اس کو کبھی یہ کینسر تھا ہی نہیں،دوسری طرف اگر مریضہ کو اسٹیچ ۔ 3 یا اسٹیچ ۔ 4 میں آئے تو اس کو ایڈوانسڈ بریسٹ کیسنر کہتے ہیں،اگر مریضہ اس حالت میں آئے تو اس مریضہ کا مکمل علاج نہایت مشکل ہو جاتا ہے اور جتنا مرضی اچھا علاج کیا جائے ،مریض کو مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریضہ کو کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے اس کا انحصار کینسر کی سٹیج اور اس کی قسم پر ہوتا ہے، کیونکہ بعض اوقات گلٹی کا سائز تو چھوٹا ہوتا ہے لیکن وہ مہلک اور جان لیوا زیادہ ہوتی ہے، اگر خواتين کو جب بھی چھاتی میں کوئی تکلیف ہو تو فوراً بریسٹ سرجن سے رجوع کرنا چاہیے، وہ معائنہ کرکے اس کے ضروری ٹیسٹ کروائے گا اور یہ فیصلہ گا کہ اس کو بریسٹ کینسر ہے یا نہیں،اگر کینسر ہے تو وہ کینسر کی قسم اور اور اسیٹچز کے مطابق فیصلہ کرے گا کہ اس کی کا علاج کیسے کیا جائے۔بریسٹ کیسنر کی تشخيص اور علاج
بریسٹ کے کینسر کی جلد تشخیص اتنی اہم ہے کہ یہ مریضوں کو پیچیدہ سرجری اور ادویات سے علاج سے بچا سکتی ہے۔
آج کے دور میں بریسٹ کے کینسر کے بہت سے علاج دستیاب ہیں جن سرجری ، کیموتھراپیری ، ڈی تھراپیپی، ہرمون تھراپی ہدف شدہ تھراپی وغیرہ شامل ہیں ایک سروے کے مطابق نوے فیصد خواتین ، جن میں جلد تشخیص ہو جاتی ہے، وہ تشخیص کے پانچ سال بعد تک زندہ اور صحت مند رہتی ہیں۔ تاہم اگر تشخیص دیر سے ہو تو یہ شرح گھٹ کر پندرہ فیصد رہ جاتی ہے۔پاکستان میں متعدد طبی مراکز میں اس مرض کی مفت تشخیص کی جاتی ہے۔خواتین کیلیے بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت سے بچنے کے لیے مؤثر ترین طریقہ باقاعدہ سکریننگ ہے۔ یہ مفت سکریننگ اور میموگرافی 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ ان مراکز میں بائیوپسی کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔نوجوان خواتين میں ابتدائی ٹیسٹ الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کو اپنا خیال خود رکھنا ہوگا۔ انہیں مہینے میں کم سے کم ایک مرتبہ اپنے بریسٹ کا خود سے جائزہ لیں اگر انہیں اپنے بریسٹ میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی رونما ہوتی نظر آئے جیسے سائز میں تبدیلی، سوجھن، کھال پر کوئی نشان یا بغل میں غدود کا بننا، کسی قسم کا ابھار، خون یا پیپ کا رساؤ تو اسے سنجیدگی سے لیں۔اور جھجھک کی بجائے اس کی تشخیص اور علاج پر توجہ دیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ کے ہر فرد اور شعبہ کو اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے،تاکہ بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج کیلئے مربوط کوششیں کی جائیں، جتنی جلد تشخیص ہو گی اتنے ہی علاج اور صحت یابی کے امکانات زیادہ ہونگے۔
@HamxaSiddiqi

ربیع الاول برکتوں والا مہینہ تحریر۔ نعیم الزمان
لاکھوں کروڑوں درود وسلام اس ذات پر جیسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا۔جو وجہ تخلیق کائنات ہے۔
جن کو بہترین معلم بنا کر بھیجا گیا۔
اسلامی سال کا تیسرا مہینے کا نام ربیع الاوّل ہے۔ ربیع الاول کے معنی ہیں پہلی بہار۔ یہ مہینہ خیرات وبرکات اور سعادتوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا۔ اس وجہ سے بھی ربیع الاوّل کے مہینے کو اہمیت حاصل ہے۔ ۱۲ ربیع الاوّل کے دن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی نسبت سے مسلمان مناسب انداز میں خوشی منا کر اپنے ربّ کی رحمت کا شُکر ادا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ نوافل، شب بیداری، اور درود وسلام کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔اور کچھ لوگ اپنے گلی محلوں کو سجاتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔اس دن کی نسبت سے بہت سارے لوگ اپنے گھروں کے باہر مشروبات اور کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں اور لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں ربیع الاوّل کی ۱۲ تاریخ کو مسلمان عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طور پر مناتے ہیں۔پاکستان میں اس دن کی مناسبت سے سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے۔ اس دن کو میلاد النبی کے جلوس بھی نکالے جاتے ہیں۔ مساجد میں محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔
اور بہت سارے لوگ اس دن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کا دن قرار دے رہے ہیں۔
اور اس دن کو جشن منانے والوں کو شیطان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان میرا عقیدہ ہے کوئی بھی مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر خوشی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یقیناً ولادتِ باسعادت پر ہی چشن منایا جاتا ہے۔ رسول اللہ کا ارشادِ مبارک ہے: ”قبولیت اعمال کا دارومدار نیت پر ہے”(بخاری )۔ یہ ایک مختصر مگر جامع فلسفۂ زندگی ہے جس پر کسی بھی عمل کرنے والے کے فلاح کا دارومدار ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن صرف اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے”
اللہ تعالیٰ نے ظاہری نیکی کو قبول نہیں فرمایا بلکہ وہ ارادہ، نیت، شعوری کوشش،قلب و ذہن کی آمادگی کو مدنظر رکھ کر اجر و ثواب کا مستحق سمجھے گا۔ دلوں کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ وہ علم ہے جو صرف اسی خالق کو ہی زیبا ہے جس نے ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا. اس لیے یہ عمل بھی انسان کی نیت پر منحصر ہے۔ یقیناً کوئی بھی مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر خوشی منانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہر مسلمان ان کی ولادت پر جشن مناتاہے۔ دنیا اپنے رہنماؤں اور لیڈروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی پیدائش کو بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں۔ اپنے بچوں اور پیاروں کی پیدائش پر برتھ ڈے مناتے ہیں۔ اس موقع پر دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔
تو پھر کیوں نہ ہم اس شخصیت کی پیدائش پر جشن منائیں جو نہ کسی ایک قوم اور ملک کے رہنما ہیں مگر تمام جہانوں کے رہنما ہیں۔ کیوں نہ ان کی پیدائش پر فی سبیل اللہ طعام اور مشروبات تقسیم کریں۔
اللہ تعالی ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ ان کی سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ان کی ناموس کا تحفظ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔جس کسی نے آپ کی سنتوں پر عمل کیا گویا اس نے آخرت میں اپنا ٹھکانہ جنت بنایا۔ اللہ پاک ہیمں اپنے پیارے حبیب کی زندگی کو سمجھنے اور ان کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔
Follow on
Twitter @786Rajanaeem

کورونا وائرس ہے اور ہم ہیں یارو تحریر: حافظ طلحہ ابو بکر
بیٹی سنو کیوں پریشاں ہورہی ہو ؟ ہر سال اس موسم میں ایسا ہی ہوتا ہے سارے کا سارا گھر بیمار پڑ جاتا ہے اور کوئی پانی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتا۔ دادی کی بات سن کر بیٹی خاموش ہوگئی۔ پہلے تو وہ کورونا کو ہنسی مذاق ہی سمجھتی رہی تھی کہ کورونا کی چھٹیاں ہیں اور مزے کرو اور کچھ نہیں۔ مگر روز روز کی بڑھتی چھٹیوں اور ہر قسم کی بندش نے اس کے ہوش ٹھکانے لگا دیے تھے۔ اس طرح کے حالات میں نا تو وہ باہر جاسکتی تھی اور اگر کچھ باہر سے کھانے کو دل للچاۓ تو بس سوچ ہی سکتی تھی کیونکہ ہر چیز کورونا کی نظر ہوگئی تھی اور سب کچھ بند تھا
زندگی ایک نا ختم ہونے والے سخت مرحلے سے گزر رہی تھی گلیاں بازار شہروں کی رونق جیسے کسی طلسماتی جادو کے زیر اثر ہو گئی تھیں ہر طرف سکوت طاری تھا زندگی کی رمق جیسے کہیں کھو گئی ایسے تو کبھی نہ کسی کتاب میں لکھا گیا نہ کسی کہانی میں سنایا گیا خبروں میں ہر ٹی وی چینل پر شرح اموات کی تعداد بتائی جاتی دنیا کا کوئی ملک اس خدائی آفت سے محفوظ نہیں رہا کورونا کا خوف حواسوں پر مسلط ہی تھا کہ اچانک اسکے والد کی طبیعت غیر ہونے لگی بھاگم بھاگ اسپتال لے کر گئی ڈاکٹرز نے فوری ٹیسٹ کیے رپورٹس آنے پر معلوم ہوا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا اسے
کورونا کی سمجھ تب آئی جب اپنے والد صاحب کو اس نے حالت تکلیف میں اور تنہا بند کمرے میں قرنطينہ جیسے کرب سے گزرتے دیکھا گھر کی خوشی میں درد کا احساس شدت سے بڑھ گیا تھا اور دو دن میں ہی اسکی حالت غیر ہوگئی تھی ہزاروں روپے کی ادویات ٹیسٹ اور زہنی طور پر تھکا دینے وآلہ اذیت ناک مرحلہ اسکے اعصاب جواب دینے لگے
بارہا احتیاط کے باوجود گھر میں کورونا وائرس پھیلا تو چند ہی روز میں اس کی ساری جمع پونجی ڈاکٹروں کی فیس اور دواؤں میں لگ گئی۔ ایک گھر میں صرف وہی تھی جو ابھی تک اس وائرس سے محفوظ تھی۔ اب صرف تسلیاں اور دلاسے ہی بچے تھےان تکلیف دہ مناظر کو دیکھ کر اسکا دل بے ساختہ کیا کہ زور سے چلا اٹھے
اور اس کی آواز میں درد عرش پر بیٹھے رب کریم کی بہت قریب سے سنائی دے
عجب دور سے گزر رہے تھے
کھانے کا مزا ختم ، گھومنے کا مزا ختم ، پڑھائی کی سختیاں ختم اور جمع پونجی کا تو پوچھو ہی مت اب اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں بچی تھی
حالات کی زد میں آنے والا اسکا خاندان واحد نہیں تھا سینکڑوں گھرانوں کی یہی آپ بیتی تھی
اور اب خدائی آفت اور اس ستم ظریفی کے مارے ہوئے لوگ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ "کورونا وائرس ہے اور ہم ہیں یارو” ۔
کپڑے شپڑے ہوئے ہیں مہنگے
مہنگائی کی پڑ رہی ہیں جوتیاں
ہوٹل شوٹل ہوئے ہیں بند
زبان کی چھن گئی ہیں لذتیں
اپنا اب کیا حال وال سنائیں تم کو
کرونا ہے اور ہم کرونا کے مارے ہیں یارو
دشمن جاں کو مات کر لیجے
چار دن احتیاط کر لیجے
اپنے گھر کے حسیں مکینوں کو
اپنی کل کائنات کر لیجے
رحم خود پر اگر نہیں آتا
اپنے بچوں کے ساتھ کر لیجے
کہ گھر بیٹھے یہ کوئی قید ہے
جس سے جی چاہے بات کر لیجے
دل ملا لیجئے اجازت ہے
دور لیکن یہ ہاتھ کر لیجے
فکر اپنی ہر ایک سے پہلے
کام ہے واہیات کر لیجے
آج موقع ہے مال و دولت کو
اپنی راہ نجات کر لیجے
شاعر اس وبا کے بارے میں یہی کہنا چاہ رہا ہے
خود سے پہلے اپنے پیاروں کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے ہاتھ ملانے سے گریز کرنا چاہیے اور فاصلے پر رہ کر گفتگو کریں
کورونا نے ایک بات سب کو بہت اچھے سے یاد دلا دی ہاتھوں کو بار بار دھونا
گھر کو کپڑوں اور خود کی صفائی لازمی رکھنی ہے جانے انجانے ہم اپنی روایات سے بہت دور چلے گئے تھے تو آئیں اس مشکل اور تکلیف دہ کورونا کے دنوں میں اپنے گھر ،اور ملک کی حفاظت کو یقینی بنائیں ہماری چھوٹی سی کوشش بہت بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکتی ہے
اپنے اِرد گرد دیکھیں اور اپنی بہت کم آمدنی اور اخراجات میں سے مستحکین کو شامل کریں کیوں جو آج ہم خرچ کریں گے روز آخرت ہمارا ذریعہ نجات بنے گا
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر
@talha_abubakar4





