Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پچاس سال قبل جب پاکستان دو لخت ہوا اوربنگلہ دیش  معرض وجود میں آیا تو اس کا
    شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتاتھا۔  قدرتی آفات اور آبادی کے بوجھ
    تلے دبے، کم شرحِ خواندگی، غربت، محدود قدرتی وسائل اور گنتی کی چند صنعتوں
    والے اسخطہ کے بارے میں اقوام عالم کو یہ یقین تھا کہ پاکستان سے الگ ہوکر یہ
    اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ پچھلے ۵۰؍ برسوں میںاس  نے بہت سے نشیب و
    فراز دیکھے اور بے شمار مصائب کا سامنا کیا۔ 1974ء کی قحط سالی، 1991ء کا
    سمندری طوفان، عوامیبغاوت اور فوجی کارروائی نے اس کے مسائل میں بے پناہ اضافہ
    کیا۔ لیکن  نہ صرف اس نے اپنا وجود اور پہچان برقرار رکھی بلکہتیزی سے ترقی کی
    راہ پر گامزن ہوا۔ عالمی ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ جلد ہی یہ ملک دنیا کی
     تیز رفتار ترین معیشت بن جائیگا۔بنگلہ دیش اور بنگلہ دیشی کرنسی ٹکے کی حیثیت
    نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن آج 50 سال بعد نہ صرف بنگلہ دیش ترقی کی راہ میں
    پاکستان اور  بھارت دونوں سے آگے ہے بلکہ اب ایک بنگالی ٹکہ پاکستانی 1.66روپے
    کے برابر ہے۔ ڈالر کی قیمت پاکستانی 170 روپے جبکہ بنگلہ دیش میں 84 ٹکہ ہے۔

    وہ بنگلہ دیش جس کا  نام ذہن میں آتے ہی  قحط سالی، غربت، بیماری اور بدحالی
    ذہن میں آتی تھی آج ترقی پزیر ممالک کیلئے رولماڈل بن چکا ہے۔ غربت کا خاتمہ
    کرنے، صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے، شرح خواندگی بڑھانے اور عورتوں کو
    خودمختار بنانے میںبنگلہ دیش نے جو کارنامہ انجام دیا ہے تمام دنیا اس کی معترف
     ہے۔

    شیخ حسینہ واجد کے ۱۱؍ سالہ دور اقتدار میں بنگلہ دیش نے حیرت انگیز ترقی کی۔
    مفلسی اور قحط سالی کا شکار ملک غذائی اجناس کیپیداوار میں کافی حد تک خود کفیل
     ہوگیا۔

    بنگلہ دیش اپنی برآمدات سے اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ کورونا وائرس کے دوران جہاں
    بہت سے ممالک شدید معاشی بحران کا شکار ہورہے تھے، بنگلہ دیش میں جی ڈی پی کی
    شرح میں اضافہ ہو رہا تھا۔

    فی کس آمدنی 2017 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ غربت کی شرح 20 اعشاریہ پانچ تک ہو کر
    رہ گئی ہے۔اس وقت کے اعداد و شمار کےمطابق سنہ 2035 تک بنگلہ دیش دنیا کی 25ویں
     بڑی معیشت بن جائے گا۔

    اگر بنگلہ دیش کا مقابلہ پاکستان سے کیا جائے تو بنگلہ دیش پر آبادی کا دباؤ
    ہم سے چار گنا زیادہ ہے۔ اور اسی طرح رقبے اور وسائلکے لحاظ سے وہ ہم سے چار
    گنا کم ہے ۔

    فی کس آمدنی اور سالانہ شرح ترقی میں وہ ہمیں پہلے ہی بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
    بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات41 ارب ڈالر جبکہپاکستان کی 25 ارب ڈالر سے کم ہیں،
     اور بنگلہ دیش کی درامدات 43 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی درامدات 56 ارب ڈالر ہو
     چکی ہیں۔بنگلہ دیش پر کل غیر ملکی قرضہ اس وقت 35 ارب ڈالر کے قریب جبکہ
    پاکستان میں 87 ارب ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش میں بے روزگاریکی شرح %4 جبکہ پاکستان
    میں بے روزگاری %6 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش کی %33 آبادی صنعتوں سے منسلک ہو چکی
    ہے اور  پاکستان کی صرف %20 صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اعتبار سے بھی
     ہم بنگلہ دیش سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ عالمیبینک کے مطابق ان کی شرح خواندگی
     74 فیصد جبکہ ہماری 59 فیصد ہے۔

    کپاس درآمد کرنے کے باوجود بنگلہ دیش چین کے بعد جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے
    بڑا گارمنٹس کا برآمد کار بن چکا ہے، جبکہ کپاسکے معاملے میں خود کفیل ہونے کے
     باوجود ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    بنگلہ دیش میں  گارمنٹس کی تقریباً 5 ہزار صنعتیں ہیں۔ یہ شعبہ لاکھوں کی تعداد
     میں عوام کو روزگار مہیا کرتا ہے، جن میں سے 80 فیصدخواتین ہوتی ہیں۔

    معاشی اعتبار سے بنگلہ دیش بہت جلد ایشین ٹائیگر بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے
    چھوٹے قرضوں پر مبنی منصوبوں کے ذریعے اپنیخواتین کو خودمختار بنانے پر دھیان
    دیا اور تعلیم پر توجہ مرکوز رکھی۔

    بنگلہ دیش میں صحت اور خوراک کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے شعبہ صحت اور
    غیر سرکاری تنظیموں نے پسماندہ علاقوں کومالی امداد پہنچانے کی کوششیں بھی کیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja

  • ایک عہد ساز شخصیت (مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ) : تحریر احسان اللہ خان

    ایک عہد ساز شخصیت (مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ) : تحریر احسان اللہ خان

    مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا وجود ملت اسلامیہ کے لیے قدرت کا عطیہ تھا۔ آپ کو قدرت نے بے شمار خوبیوں سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ کی تمام تر خوبیاں و صلاحیتیں خدمتِ اسلام کے لیے وقف تھیں۔

    آپ 1919 میں ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں پنیالہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے ہی گاؤں سے کیا۔ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول پنیالہ سے امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کیلئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ ایک سال تک دارالعلوم دیوبند میں رہے اور بعد میں تعلیم مکمل کرنے کیلئے آپ جامعہ قاسمیہ مراد آباد تشریف لے گئے۔ 

    حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ نے سیاسی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی سے کیا۔ دوران تعلیم ہی میں آپ نے جمعیت علماء ہند میں شمولیت اختیار کیا۔ 1943 میں آپ تعلیم سے فارغ ہوگئے تو "ہندوستان چھوڑدو” کی تحریک جاری تھی۔ یہ تحریک انگریزوں کے دور کی بہت ہی اہم اور دور غلامی کی آخری متحدہ تحریک تھی۔ آپ ہی نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔

    آپ 1944 کو ہندوستان سے واپس وطن آگئے۔ اور سرحد جمعیت پلیٹ فارم پر جدوجہد آزادی کی مہم میں مصروف ہوگئے۔ بے پناہ قربانیوں، صلاحیتوں اور بھرپور سیاسی سرگرمیوں کیوجہ سے جلد ہی حضرت مفتی صاحب جمعیت علماء سرحد کی مجلس عاملہ کے رکن اور آل انڈیا جمعیت علماء کے کونسلر منتخب ہوگئے۔

    قیام پاکستان کے بعد آپ نے ملتان کے سب سے بڑے دینی اور تعلیمی ادارے جامعہ قاسم العلوم میں مدرس کی حیثیت سے علمی زندگی کا آغاز کیا۔ یہاں پر حضرت مفتی صاحب شیخ الحدیث اور مفتی کے منصب پر فائز ہوگئے۔ افتاء کے سلسلے میں آپ کی شہرت اور عظمت ملک و بیرون میں تسلیم کی گئی۔ فقہی مسائل میں آپ کی باریک بینی، نکتہ آفرینی وسعت علمی اور بلند نظری آپ نے مخالفین بھی مان گئے۔ آپ نے چالیس ہزار سے زائد شرعی فتوے جاری کئے۔ جنہیں علمی اور فنی اعتبار سے آج تک کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ حضرت مفتی صاحب کا شمار اسی صدی کے ممتاز ترین علماء کرام میں ہوتا تھا۔ آپ ایک بلند پایہ مفکر، نکتہ سنج فقہیہ، عمدہ مفسر، بہترین ادیب، محقق اور مورخ ہی نہیں تھے بلکہ قانوں و سیاست اور سائنس و فلسفہ پر عبور رکھتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب کئی زبانوں کے ماہر تھے بالخصوص عربی، فارسی اور اردو ادب پر گہری دسترس حاصل تھی۔ حضرت مفتی صاحب کی شخصیت کا سیاسی پہلو بڑا تابناک اور شاندار تاریخی روایات کو اپنے اندر لئے ہوئے تھے۔ حضرت مفتی صاحب نے برصغیر کے تقسیم سے پہلے سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھا اور برطانیہ کے استعمار کے خلاف قومی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ بھی لے لیا۔

     قیام پاکستان کے بعد جب سیاست اور معیشت پر مخصوص مفادات کے حامل برطانوی اقتدار کا پیدا کردہ طبقہ مسلط ہوگیا اور اسلام جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی آزادی کے داعی افراد اور جماعتوں پر قدغن لگادی گئی اور علماء کرام (وہ علماء کرام جو برصغیر کی سیاست کا اہم عنصر تھے) کا ملک کی سیاست سے اثر ختم کردیا گیا اور انہیں صرف اور صرف مساجدوں، مدرسوں اور خانقاہوں تک محدود کردیا گیا تو اس وقت حضرت مفتی صاحب پہلے ہی شخص تھے جو نہایت ناخوشگوار حالات، مالی وسائل اور پروپیگنڈوں سے تہی دست ہوتے ہوئے ملک میں علماء کی سیاست کو تسلیم کروانے سیاسی میدانوں میں علماء حق کا سکہ پھر سے رائج کیا اور پھر سے ملک میں اسلام کی بقاء قائم رکھنے کیلئے 1956ء میں سکندر مرزا کی صدارت میں دوران سیاسی سٹیج پر نہایت آہستگی اور توازن سے نمودار ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک کی سیاسی عدم و استحکام اور افراتفری کا شکار تھا۔ سکندر مرزا نے وزارتوں کو اکھاڑ پچھاڑ کاسلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ امریکہ سے چند معاہدوں کی وجہ سے ملکی سیاست، معیشت، ثقافت اور معاشرت پر امریکی اثر و رسوخ بڑھتا جارہا تھا۔ نظام حکومت مکمل طور پر نوکر شاہی کے ہاتھوں جاچکا تھا۔ 

    1956ء ہی میں پاکستان کا پہلا آئین دستور ساز اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ جس میں اسلام کا صرف اور صرف نام ہی استعمال کیا گیا تھا۔ حقیقی اسلام کی عکاسی اس سے نہیں ہوتی تھی۔ حضرت مفتی صاحب نے 1956ء کے درمیان میں علماء کا ملگ گیر کنونشن بلایا۔ جس مقصد یہ تھی کہ حقیقی اسلام کے حمایتی افراد جو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور پوری خلوص اور سرگرمی سے ملکی سیاست میں حصہ لیا جائے۔ اگرچہ یہ مفتی صاحب کا پہلا سیاسی اقدام تھا مگر اس کے نتائج بہت حوصلہ افزاء رہے اور اس کنونشن میں باقاعدہ جمعیت علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وقت شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کو جمعیتہ علماء اسلام کا پہلا امیر منتخب کیا گیا جو ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے تھے۔ جمعیتہ علماء اسلام کی تاریخ چلتی رہی، ملک میں آئین بنتے رہے۔ ان کے بنوانے میں جمعیتہ اور حضرت مفتی صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اور ایک وقت آیا کہ حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ مئ 1962ء میں صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 

    حضرت مفتی سرحد (خیبرپختونخوا) کا زیراعلیٰ بننے کے بعد اسلامی روایات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ حضرت مفتی صاحب نے امتناع شراب کے قوانین جاری کئے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں شراب مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ حضرت مفتی صاحب نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے قرون اولیٰ کے درویش حکمرانوں کی یاد تازہ کی اور ان کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں ایک دن بھی دفعہ 144 نہ لگا، جہیز پر پابندی، سرکاری اداروں میں قومی لباس کی تاکید سادگی کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔ جمعہ کی تعطیل کی سفارش، اردو کو سرکاری زبان قرار دینا ان کی حکومت کے ایسے کارنامے ہیں فراموش نہیں کئے جاسکتے۔ پاکستانی سیاست پہلی مرتبہ یہ روایات بھی حضرت مفتی صاحب نے قائم کی کہ جسکی اکثریت کی نمائندہ حکومت کو بلاوجہ برخواست کیا گیا تو انہوں نے بھی احتجاجاً اپنی حکومت کا استعفیٰ پیش کردیا۔ جب 1973ء میں بھٹو مرحوم نے مسلمہ جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے صوبہ سرحد اور بلوچستان کے گورنر برطرف کردئے اور بلوچستان کی کابینہ کو بھی سبکدوش کردیا تو حضرت مفتی صاحب نے بھٹو نے اس اقدام پر جرتمندی اور بے باکی سے صدائے احتجاج بلند کی اور وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ذولفقار علی بھٹو کو یہ خیال نہ تھا کہ مفتی محمود رحمہ اللہ استعفیٰ دینگے۔ تو انہوں نے مفتی صاحب کو کہا کہ حضرت آپ تو ہمارے امام ہیں، آپ کو کسی نے نہیں چھیڑا، آپ نے استعفیٰ کیوں دیا ؟ آپ استعفیٰ واپس لیں، حضرت مفتی صاحب نے جواب دیا کہ پہلے ہمارے اس شکایات کا تدارک کریں جو استعفیٰ کا باعث بنی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو نے کئ دن تک اس کا استعفیٰ منظور نہ کیا اور حضرت مفتی صاحب کو استعفیٰ واپس لینے پر مجبور کرتے رہے۔ مگر انہوں اصولی سیاست پر اپنے منصب کو قربان کردیا اور پاکستان کی سیاست میں روشن و تابندہ مثال قائم کی۔ ذولفقار علی بھٹو نے حضرت مفتی صاحب کو پیغام بھیجا اور ملاقات جی خواہش کا اظہار کیا لیکن مفتی صاحب نے یہ تجویز بھی مسترد کردی اور کہا کہ : ” ہم آئین کے پابند ہیں اور اسکی بالادستی کا حلف لیا ہے اسلئے غیر آئینی اقدامات کی حمایت یا است درست قرار دینا حلف کی خلاف ورزی ہے۔ وہ کوئی اور ہونگے جن کو اقتدار سے پیار ہے، میں ایسا نہیں کرسکتا "۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ وزارت اعلیٰ کو ٹھوکر ماردی اور یوں ممکن ہوا کہ انہوں نے وزارت اعلی سے کوئی سیای اور مادی فائدہ نہیں اٹھایا۔ سرکاری کار دفتر کیلئے ضرور استعمال کی جو اس کی ضرورت تھی، مگر کوئی تنخواہ اور مراعات حاصل نہیں کیں۔ یقیناً وزیراعلیٰ کے منصب کو عوام کی امانت کو جانا اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کردیا اور یہ ایسا واقعہ ہے جس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اقتدار چھوڑنا مشکل کام ہے۔ 1973ء کے آئین کو اسلامی بنانے میں حضرت مفتی صاحب کا بہت اہم کردار ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے سیاسی حقوق کی بازیابی کے علاوہ آئینی سطح پر ہر کسی سے ٹکر لی۔ قومی اسمبلی سے7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں حضرت مفتی صاحب کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر پر جو علمی جرح کی، وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ 

    1977ء کی تحریک میں قبائلی عوام نے تحریک میں شامل ہونے کی پیش کش کی تو مفتی صاحب نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ اگر قبائلی تحریک میں آگئے تو وہ بندوقیں اٹھائیں گے بندوق سے شدت آئے گی اور میں شدت پسندی کا قائل نہیں۔ حضرت مفتی صاحب نے قبائلی رہنماؤں اور عمائدین کا رخ مسلح جدوجہد سے سیسی جدوجہد کی طرف موڑا، اس وجہ سے آج تک قبائلی عام نے علماء کرام اور جمعیتہ علماء اسلام پر اعتماد کرنے ہیں۔ جس کے جمعیتہ علماء اسلام کے تحت قبائلی عمائدین پر مشتمل "قبائلی جرگہ” ہی پر اثر پلیٹ فارم ہے۔ وزارتِ اعلیٰ کے منصب تک پہنچے اور بڑے بڑے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی موجودگی میں بھی نو سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاز نے قیادت کی ذمہ داری بھی ان کو سونپ دی اور وہ پاکستان کے قومی اتحاد کے سربراہ منتخب ہوئے۔

    حضرت مفتی صاحب حج کے لئے روانہ ہوئے کراچی پہنچ کرایک علمی موضوع پرحضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی،حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید،حضرت مولانا مفتی احمدالرحمنؒ،مفتی محمد جمیل خان شہید،حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق سکندرکی موجودگی میں ایک خالص فقہی مسئلے پر گفتگو کر تے ہوئے 14اکتوبر1980کواچانک سفرآخرت پرروانہ ہوئے۔

    Twitter / ‎@IhsanMarwat_786

    https://t.co/vCKLp37n27‎

  • عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    وراثت ایک شرعی حق ہے اس میں کوتاہیاں عام ہیں۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم جن علاقوں اور معاشروں میں رہتے ہیں ۔وہاں نہ جانے کتنی ایسی غلط رسمیں ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں، لیکن جب ہم ان معاشروں میں پہنچتے ہیں تو ان کی روک تھام کے لئے کوشش کرنے کی بجائے خود ان کا حصہ بن جاتے ہیں ۔

    ہمیں دن رات یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ ہمارے معاشرہ میں بھی عورتوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔مثلاً باپ نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر بیٹی سے اجازت لئے بغیر اس کی شادی کردی ۔بیٹی کو یہ بات کہنے کی اجازت نہیں کہ فلاں رشتہ مجھے پسند نہیں، یہ بات باپ کی غیرت کے خلاف ہے وہ قتل کرنے کیلئے آمادہ ہوجاتا ہے کہ تجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ تو میرے فیصلے کے خلاف زبان کھولے، نتیجہ یہ کہ اس بیچاری کی ساری زندگی جہنم بن جاتی ہے۔

    اسی طرح یہ بھی عام رواج ہے کہ بیٹی کو ترکے میں سے کوئی حق نہیں دیا جاتا ۔اسی طرح عورت اگر بیوہ ہوجائے تو اس کے لیے دوسرے نکاح کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے بلکل ایسا جیسے کفر، حالانکہ ہمارے بزرگوں نے نکاح بیوگان کے حق میں عملی جہاد کیا ۔لیکن ہم اپنے معاشرے میں ان رسموں کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے ان کے اندر بہہ جاتے ہیں ۔

    وراثت میں زبانی معافی کا اعتبار نہیں! کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے طورخم تک جہاں کسی کا انتقال ہوتا ہے اس کا سارا ترکہ اس کے بیٹے لے جاتے ہیں ۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا لیکن ہم نے کتنی مرتبہ اس کے خلاف آواز اٹھائی؟

    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری بہنوں نے ہمارا حصہ بخش دیا اول تو بخشا نہیں ہوتا، بلکہ بہن کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر میں نے ذرا سی زبان کھولی تو میرا بھائی میری زندگی عذاب کردے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ ترکے کےبارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کوئی وارث زبان سے بھی کہہ دے کہ میں نے بخش دیا تو وہ بخشنا معتبر نہیں معتبر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کا حصہ اس کے قبضہ میں دو ۔اس پر قبضہ کرنے کے بعد اگر وہ اپنی خوشدلی سے تمہیں کچھ دینا چاہے تو دیدے ۔اس لئے لوگوں کا یہ حیلہ سراسر غلط اور خلافِ شریعت ہے ۔

    یہی حال مہر کا ہے کہ نکاح کے وقت تو بھاری مہر مقرر کرلیتے ہیں اور دینے کی نیت ہوتی نہیں ۔جب بیچاری کے مرنے کا وقت اپہنچا تو اس وقت اسے کہتے ہیں کہ اللہ کے لئے مجھے مہر معاف کردو ۔اب بیچاری کیا کہے کہ میں معاف نہیں کرتی، ظاہر ہے کہ اس موقع پر وہ زبان سے معاف کردیتی ہے، لیکن یہ معافی شرعاً معتبر نہیں ۔

    مغرب نے عورتوں کو جو اذادی دی ہے ہم بعض اوقات اسکے خلاف تو بولتے ہیں اور بولنا بھی چاہئے لیکن اس اذادی کا ایک سبب وہ ظلم بھی ہے جو ہمارے یہاں عورتوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے ۔اس لئے اس اذادی کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان مظالم کے بارے میں گفتگو کرنا بھی ضروری ہے ۔جن کی چکی میں ہماری مشرقی عورت پس رہی ہے ۔

    آج ہمارا سارا معاشرہ اس بات سے بھرا ہوا ہے کہ کوئی بات صاف ہی نہیں ۔اگر باپ بیٹوں کے درمیان کاروبار ہے تو وہ کاروبار ویسے ہی چل رہا ہے ۔اس کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی کہ بیٹے باپ کے ساتھ جو کام کررہے ہیں وہ آیا شریک کی حیثیت میں کررہے ہیں، یا ملازم کی حیثیت میں کررہے ہیں یا ویسے ہی باپ کی مفت مدد کررہے ہیں اس کا کچھ پتہ نہیں مگر تجارت ہورہی ہے ۔ملیں قائم ہورہی ہیں دکانیں بڑھتی جارہی ہیں ۔مال اور جائیداد بڑھتا جارہا ہے لیکن یہ پتہ نہیں ہے کہ کس کا کتنا حصہ ہے ۔اگر ان سے کہا بھی جائے کہ اپنے معاملات کو صاف کرو، تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ تو غیرت کی بات ہے ۔بھائیوں بھائیوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    یا باپ بیٹوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب شادیاں ہوجاتی ہیں اور بچے ہوجاتے ہیں اور شادی میں کسی نے زیادہ خرچ کرلیا اور کسی نے کم خرچ کیا، یا ایک بھائی نے مکان بنا لیا اور دوسرے نے ابھی تک مکان نہیں بنایا ۔بس اب دل میں شکایتیں اور ایک دوسرے کی طرف سے کینہ پیدا ہونا شروع ہوگیا اور اب آپس میں جھگڑے شروع ہو گئے کہ فلاں زیادہ کھا گیا اور مجھے کم ملا اس دوران باپ کا انتقال ہوجائے تو اس کے بعد بھائیوں کے درمیان جو لڑائی اور جھگڑے ہوتے ہیں. وہ لا متناہی ہوتے ہیں ۔پھر ان کے حل کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai 

  • ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین   تحریر: سعادت حسین عباسی

    ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین  تحریر: سعادت حسین عباسی

    ٹویٹر: IamSaadatAbbasi@ 

    چند روز قبل کی بات ہے کہ ٹویٹر پر میری نظروں سے ایک ٹویٹ گزری جو ایک معروف پاکستانی سلیبرٹی کی طرف سے کی گئی تھی جس میں انہوں نے یہ لکھا کہ میں نے تین شادیاں کی اور تینوں میں سے کوئی شوہر بھی مجھے خوش نہ رکھ سکا۔ اب یہ اس سلیبرٹی کی طرف سے ایک نارمل ٹویٹ تھا جو انہوں نے اپنی لائف کے حوالے سے کیا جو کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی تہذیب وتمدن سے پاک تھا لیکن ہمارے سوشل میڈیا صارفین پر صد ہا افسوس کہ اس ٹویٹ کو ایسا رنگ دیا کہ اس معروف سیلبرٹی کو اپنا وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ٹویٹ کو لیکر ایسی نازیبہ گفتگو کی جو کہ لکھنے کے قابل نہیں ہے۔ اب اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اگرایسے حالات کسی مرد کی زندگی میں آتے اور وہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر کرتا کہ میں نے تین شادیاں کی لیکن تینوں بیویاں مجھے خوش نہ رکھ سکی تو اس پر بھی تنقید مرد پر نہیں کی جاتی بلکہ اس میں بھی تنقید کا نشانہ سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے خواتین کو بنایا جاتا۔ اور ان خواتین کے بارے میں ایسی ایسی گفتگو کی جاتی جو قابل ذکر بھی نہیں ہوتی۔ 

    جب کہ ہمارا تعلق ایک اسلامی ملک سے ہیں ہم ایک اسلامی ملک میں پیداہوئے ہیں اور ہمارا مذہب اسلام خواتین کی عزت واحترام کا درس دیتا ہے لیکن بطور ایک سوشل میڈیا صارف ہم کیوں نہیں اس بات کو سمجھ پاتے ہیں کہ ہمارے گھر میں بھی ماں،بہن، بیٹی موجود ہیں کل کو ان پر بھی ایسے وار ہوسکتے ہیں جس سے ان کی دل آزاری ہوسکتی ہے۔ لیکن پھر بھی ہم کیوں ہر چیز میں نشانہ خواتین کو ہی بناتے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم میں کمی رہ جاتی ہے یا ہماری تربیت اچھی نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے ہم اس ٹریک پر چل پڑتے ہیں جس سے کسی کی بھی دل آزاری ہوتی ہو۔ دو ماہ قبل اسلام آباد میں قتل ہونے والی سابق سفیر کی بیٹی نورمقدم کو بھی سوشل میدیا صارفین تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس سے بہت سارے ان کے فیملی کے لوگ دوست احباب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی چھوڑ کے چلے گئے ہیں۔

    حال ہی میں سوشل میڈیا پرایک اور معروف پاکستانی سرجن نے ایک تصویر جس میں انہوں نے اپنی چند جونیئر سرجنز کے ساتھ اس عنوان کے ساتھ اپلوڈ کی کہ خواتین بھی سرجن بن سکتی ہیں اور ہمارے معاشرے میں ہمارا بازو بن کر کام کر سکتی ہیں اس تصویر کے نیچے  جہاں بہت سارے صارفین اس بات کو سراہا رہے تھے وہی پر ہمارے تنگ نظر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ایسے کمنٹس بھی تھے جن میں انہوں نے یہ لکھا تھا کہ ان سب کو سرجن بنانے کی بجائے کھانا بنانا سکھا دیتے تاکہ وہ اپنے سسرال میں جا کر خوش رہ سکتی یہاں تک کہ کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وجہ سے طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے کیونکہ خواتین تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہر فیلڈ میں مردوں کے مد مقابل آرہی ہیں لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں، پہلی یہ کہ ایک پڑھی لکھی خاتون اپنا گھر اچھے طریقے سے چلا سکتی ہے اور ہر قدم پر شوہر کے ساتھ ملکر آگے بڑھ سکتی ہے اور دوسری بات جب ان صارفین حضرات کو کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے گھر میں کوئی بیمار ہوجاتا ہے یا گھر میں کسی کا ڈلیوری کیس ہو تو یہی صارفین ہسپتالوں میں جا کر لیڈی ڈاکٹر ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں یہ دوہرا معیار آخر کیوں رکھتے ہیں تب ہسپتالوں میں مرد ڈاکٹر حضرات کے پاس کیوں نہیں جاتے تب تو ہر حال میں ان کو لیڈی ڈاکٹر کو ہی دکھانا ہوتا ہے۔ سوشل  میڈیا پر ایسے صارفین ہر طرح کی خواتین کو ہراساں کرتے نظر آتے ہیں کبھی مثبت رویہ نہیں اختیار کرتے ہمیشہ ہر چیز کو منفی رنگ دیتے ہیں۔ ایسے ٹرولر صارفین کے لیے حکومت کو چاہیے کہ کوئی ضابطہ اخلاق کا قانون بنایا جائے اور اس پر عملدرآمد بھی کروایا جائے نا کہ صرف قانون کی حد تک محفوظ رکھا جائے ۔ یہی پر ذکر کرتا چلوں کہ ۲۰۱۸ میں گورنمنٹ کی طرف سے سائبر کرائم قانون پاس ہوا تھا جس پر ایسے صارفین کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے لیکن جس ادارے کو یہ کام سونپا گیا ہے ان کی قابلیت پر صدہا افسوس کیونکہ اس ادارے میں سائبر کرائم سیل میں ایسے افراد بیٹھے ہوئے ہیں جن کو انٹرنیٹ سرچنگ تک نہیں آتی اور کچھ تو ایسے ہیں جن کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا بھی نہیں آتا۔ کچھ دن قبل ایک ایسے ہی کیس کے سلسلے میں اس ادارے میں جانا پڑا وہاں پر جا کر جب اپنی درخواست دی تو اس کے بعد اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا لنک بھی دیا لیکن پہلے تو وہاں پر انٹرنیٹ ہی ٹھیک سے کام نہین کر رہا تھا تین چار بار اس ادارے کے ایک ملازم نے انٹرنیٹ ڈیوائس کو ری سٹارٹ کر کے آخر کار انٹرنیٹ تو چلا ہی لیا اب جب اس لنک کو یوارایل میں پیسٹ کر کے سرچنگ کرنے کا میں نے کہا تو ان صاحب سے نہ ہوسکا آخر کار میں نے خود ہی ان کو سارا کام کر کے دیا، میری حکومت سے یہ اپیل بھی ہے کہ سائبر کرائم سیل میں کم از کم ان لوگوں کو بٹھایا جائے جو سائبر کرائم کو سمجھتے ہوں جس کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا نا آتا ہو وہ کیا سائبر کرائم کو سمجھے گا۔  خیر یہ تو ایک الگ مسئلہ ہے جسکو حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنا چاہیے۔ 

    ایسے اور بھی  بے شمار واقعات ملتے ہیں جن میں خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ۔خدارا سنبھل جائیں ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہین مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں ہمیں اپنی خواتین کو عزت واحترام دینا ہوگا اور یہی ہمارا فریضہ بنتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں حوس اس قدر بھر چکی ہے کہ ہر چیز میں اپنی حوس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ۔ہماری مائیں ہماری بیٹیاں ہماری بہنیں اس ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں اس لیے ہر چیز سے بالاتر ہوکر ان کو عزت واحترام دیں اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کریں۔  

    ٹویٹرپروفائل لنک: 

    @IamSaadatAbbasi

  • خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور

    خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور


    اسٹریس ہائپر ٹینشن ڈپریشن ٹینشن آجکل اس طرح کے مسائل ہر انسان کو درپیش
    ہیں بڑے دکھ کی بات ہے ہمارے معاشرے میں نفسیات اور احساسات کو زیادہ
    اہمیت نہیں دی جاتی جب کہ ہر دوسرا انسان اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہے
    بعض اوقات کچھ یادیں تکلیفیں الجھنیں انسان کو اندر ہی اندر توڑ کر رکھ
    دیتی ہیں اور انسان پر مایوسی اور دل شکستگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے
    انسان اپنی توجہ دنیا کی ہر چیز سے ہٹا کر ایک نقطے پر مرکوز کر دیتا وہ
    ہے  بے سکونی ,مایوسی ,نا امیدی ,چڑچڑا پن۔

    ڈپریشن کا زیادہ شکار حساس لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو خوش کرتے کرتے اپنی
    زات کو فراموش کر دیتے ہیں روزمرہ کی زندگی میں دیکھیں تو ایک طالب علم
    سے لے کر نوکری کرنے والا انسان کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار ہے کچھ تو
    کام کا تحاشہ لوڈ طویل دورانیے کی نوکری بھی اچھے خاصے انسان کو چڑ چیڑا
    بنا دیتی ہے۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا کہ انسان ذہنی مریض کیوں بنتا ہے کیا وجہ ہے دن بدن
    انسان اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے کبھی سوچا اذیت کی وہ کیا انتہا ہو
    گی کہ انسان اس حد تک بے بس ہو جاتا کہ وہ خودکشی تک کرنے پر موجود ہوتا
    ہے ہمارے معاشرے کی یہ بد قسمتی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس کو بیماری
    ہی نہیں سمجھتے ہمارے نزدیک بیماری وہی ہے جو نظر آجائے اور جب تک ہمیں
    یہ بات سمجھ آتی ہے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

    عموماً دیکھا گیا ہے ڈپریشن عام انسان سے زیادہ پڑھے لکھے، مایوس، نوکری
    پیشہ، بیمار ،تنہائی میں مبتلا لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو
    محبتوں سے محروم ہوتے ہیں احساس محرومی ان کی رگوں میں سرائیت کر جاتی ہے
    جو تکلیف اور ناامیدی کا باعث بنتی ہے یا یہ کہہ لیں کبھی کبھی انسانی
    رویے، ان کے کہے کچھ الفاظ درد کا باعث بنتے ہیں غیروں کے الفاظ انکے
    رویے بھی انسان کسی حد تک سہہ لیتا ہے مگر جب بات دل سے جڑے رشتوں کی
    ہوتی ہے تو وہ کٹ کر رہ جاتا ہے  یا جب اپنے چاہنے والوں سے رخصت ہونا
    پڑتا ہے تو انسان کے پاس بس ان کی یادیں ہوتی ہیں جو اس کا جینا محال کر
    دیتی ہیں کبھی کوئی حالات کا مارا ہوتا نفرت کا ڈسا ہوتا یا محبت کا لوگ
    کس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں کسی کو احساس نہیں ہوتا کیوں کہ ہمارے
    معاشرے میں درد پر مرہم رکھنے کی ریت نہیں بلکہ دوسرے کے دکھوں کو لوگ
    ہرا کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں  ایسا نفسا نفسی کا دور ہے کسی کی نیند
    ٹوٹے یا خواب دل ٹوٹے یا ہمت کسی کو کوئی پرواہ نہیں لوگ اپنی دنیا میں
    ہی مست رہتے۔

     ایسا بھی دیکھا گیا ہے کبھی کبھی انسان ڈپریشن خود پر بھی مسلط کر لیتا
    ہے وجہ ہوتی ہماری لاشعور میں پلنے والی تکلیفیں, یادیں,تلخیاں اور یہ
    پھر ہماری زندگی کے ہر حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں  انسان نہ ٹھیک سے کوئی
    کام کر سکتا ہے نہ کوئی فیصلہ لے پاتا ہے بس مایوسی کے دلدل میں دھنستا
    چلا جاتا ہے۔

    بہت سی نامور شخصیات کے بارے میں سنا ہو گا دولت عزت شہرت  دنیا کی ہر
    آسائش ہونے کے باوجود اپنی زندگی سے مایوس ہو کر سکوں کی تلاش میں نشے کی
    لت میں پڑ جاتے یا اتنے بیزار ہو جاتے خودکشی پر مجبور ہو جاتے اس طرح کی
    تمام برائیوں کی جڑ  ایمان کی کمی ہے انسان در بدر سکون کی تلاش میں رہتا
    ہے مگر انسان یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ سکون کا تعلق دل سے ہوتا ہے
    دل اس کا مطمین ہو گا تو سکون خود بخود اس کے اندر سرایت کر جائے گا مگر
    سوال یہ ہے کہ دل مطمئن کیسے کریں تو اس کا آسان جواب بیشک اللّٰہ کے ذکر
    میں ہی سکون ہے یعنی اللّٰہ پاک کو یاد کرنا اسکی عبادت کرنا اس کے ذکر
    کو اسکے احکامات کو اپنی روح میں ڈھالنا ہے۔ جس سکون کو ہم دنیا بھر میں
    ڈھونڈنے پھرتے ہیں  وہ تو ہماری شہہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔

     اگر آپ اپنی زندگی میں ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻓﮑﺮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﺩﯼ بن جائیں ﺗﻮ کسی
    قسم کا ﺩﺑﺎﻭٔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑتا منفی سوچوں خیالات سے دور رہیں
    ہر حال میں اللّٰہ پاک کا شکر ادا کریں اپنے لیے جینا سیکھیں یہ آپ خود
    پر منحصر ہے کہ آپ  اپنی ذہنی پریشانی سے خود کو اس سے کیسے باہر نکالتے
    ہیں یہ آپ نے طے کرنا کہ آپ کے اندر کون سے صلاحیت ہے جسے بروئے کار لا
    کر خودکو ہلکا پھلکا محسوس کر سکتے ہیں جیسے کہ اچھی کتابیں پڑھیں
    باغبانی کریں وغیرہ وغیرہ یا اپنے والدین سے بات کریں نہیں ہیں تو کسی
    قریبی دوست سے اپنے دل کی بات کریں یقین کریں آپ واقعی خود کو ہلکا پھلکا
    محسوس کریں گے اپنے اندر خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔

      کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے میں خود بہت مایوس ہو جاتا ہوں شدید ڈپریشن
    ہوتا ایسا لگتا جیسے سر درد سے پھٹ جاۓ گا ایسے میں  سورہ رحمن کی تلاوت
    سنتا ہوں سکون جیسے نس نس میں اتر جاتا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا میں  اپنے
    خیالات کو اپنی پریشانیوں کو کاغذ پر اتار کر دل ہلکا کر لیتا ہوں دنیا
    میں شاید میرے جیسے بے شمار لوگ ہوں کہ جن کو سنے والا سمجھنے والا کوئی
    نہیں ہوتا تو انکے پاس بس کاغد اور قلم کا سہارا ہوتا۔ یہ میرا ذاتی
    تجربہ ہے اور میں نے بہت حد تک فضول سوچنا اور ٹینشنز پالنا ختم کر دی
    ہیں بجائے ہم منفی ردعمل اپنائیں مثبت چیزیں کر کے دیکھیں بہت حد تک بہتر
    محسوس کریں گے۔۔!!

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    ‎@Nomysahir

  • سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
    سماتی کہاں اس فقیری میں میری
    سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
    چلی کچھ نہ پیرِ کلیسا کی پیری
    ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
    ہوس کی امیری ہوس کی وزیری
    سیاست کی دوڑ میں ہانپے ہوئے سیاستدان، ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے انفرادی مفاد کی خاطر ہر چیز کا سودا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہر ایک اپنی جماعت کے دفاع میں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہے۔ جس کی مد میں کبھی پانامہ کیس سامنے آتا ہے تو کبھی پینڈورا لیکس، ان سب میں نظام تعلیم کے مسائل اور مشکلات حکومتی ترجیحات سے کوسوں دور ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کسی بھی ملک کی بنیادیں تعلیم پہ استوار ہوتی ہیں اور ہر وہ ملک اور معاشرہ جو تعلیم سے منہ موڑ لیتا ہے وہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دینے کے بجائے ان کے سامنے نت نئے سیاسی ہتھکنڈے رکھ دیے جاتے ہیں کہیں کرپشن اور کہیں بے حیائی، کہیں مہنگائی کے مسائل تو کہیں سکرین پہ بیٹھے سیاستدانوں کے جھگڑے اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو! یہ تربیت ہے ہمارے ان معززین کی جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی بھاگ دوڑ ہے۔ جنہوں نے ملک کے ساتھ وفا کے عہد کر رکھے ہیں۔
    حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
    جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا
    اس تحریر کی بساط سے میرا مقصد ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے جس کی وجہ سے طالبعلم نہایت مایوسی کا شکار ہیں۔ میٹرک اور انٹر کے نتائج تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں نجانے کتنی تواریخ دی گئیں اور انٹر کے نتیجے سے ایک دن قبل اس کو منسوخ کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا اور ابھی تک نئی تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث طالبعلم تذبذب کا شکار ہیں انہیں اپنا سال برباد ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کورس کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ملکی ترقی کی ضامن افرادی قوت ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ یونیورسٹیوں کے داخلے رکے ہوئے ہیں ان کے سمسٹر سسٹمز تباہی کے دہانے پہ کھڑے ہیں لیکن ہماری حکومت کو سیاست سے فرست ہی نہیں۔ پروموشن پالیسی منظور ہونے کا بہانہ بنا کر عوام کو لالی پاپ دیا گیا لیکن تاحال اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل پایا۔ جن بورڈز کا رزلٹ آیا ہے ان میں بھی مردان بورڈ میں 1100 میں سے 1100 نمبر دیے گئے جو کہ ناممکنات میں سے ایک بات تھی۔ ہماری تعلیم کا معیار کس قدر گر گیا اس کا اندازہ اس بات سے ہم بآسانی لگا سکتے ہیں۔ بچوں کا رٹالائزیش کی مشین میں گھمایا جاتا ہے اور پھر سوچی سمجھی سکیم کے مطابق پرچہ آتا ہے جس کا طلبعلم کو پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ کونسی سبق میں سے معروضی اور انشائیہ کے کتنے کتنے سوال آنے ہیں اور سوالوں کا بھی تقریبا سب کو اندازہ ہوتا ہے۔ اس نظام تعلیم نے تباہی یہ برپا کی کہ ہمارے ہاں کوئی سائنسدان، فلسفی اور کوئی اہل علم نہیں پید ہوتا۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے ہی بزرگوں نے سائنس کی بنیاد رکھی تھی جابر بن حیان جسے کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے، ابوالقاسم زھراوی جس نے قانون فی الطب لکھ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا، محمد بن موسی الخوارزمی جس نے الجبرا کی شناخت کروائی، ابن الہیشم جس نے کیمرے کی ایجاد کی اور روشنی کے آنکھ میں داخل ہونے کی قیاس آرائی کی، عمر خیام نے شمسی کیلنڈر بنایا، عباس بن فرانس جس نے پہلا ہوائی جہاز بنایا ، محمد بن زکریا رازی نے تپ دق کا علاج اور چیچک کا ٹیکہ بنایا۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی ایک لمبی فہرست ہے جس کا احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔
    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
    نہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا
    مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
    اور دوسری طرف کویڈ کے کیسس کم سے کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور تا حال تعلیمی نظام کو اس طرح بحال نہیں کیا گیا ، جامعات بند ہیں۔ جب کے ملک میں مارکیٹس سے لے کر پارکوں تک، شادی حال اور سینما گھر سب کھلا ہے بند ہیں تو صرف جامعات۔ جہاں نہ صرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ نوجوان نسل سکرین ٹائمنگ بڑھنے سے مختلف مسائل کا بھی شکار ہو رہی ہے ۔ آنکھوں کے مسائل، اعصابی نظام کے مسائل اور ڈپریشن سر فہرست ہیں۔ یہ سب صرف اور صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم لوگوں کے لیے تفریح تعلیم سے بڑھ کے ہے، ہمارے لیے سیاست اور کاروبار سب اولین ترجیح ہیں تعلیم تو کہیں ہے ہی نہیں۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو تعلیمی نظام متاثر کرنے سے روکا جائے اور جہاں ہر اخبار سیاسی خبروں کی سرخیوں سے مزین ہوتا ہے وہاں تعلیمی مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ کیونکہ یہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے برباد کرنا کسی سمجھدار قوم کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں تو ملکی سرمائے کو نہایت حفاظت کے ساتھ سنبھالنے سے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور ترقی پذیر ملکوں کی فہرستوں سے نکل کہ ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں سر فہرست آ سکتے ہیں۔ خدارا ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔
    زمانے کے انداز بدلے گئے ۔
    نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔
    ہوا اس طرح فاش راز فرنگ ,
    کہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ ۔
    پرانی سیاست گری خوار ہے ,
    زمیں میر و وسلطاں سے بے زار ہے ۔
    گیا دور سرمایہ داری گیا ۔
    تماشا دکھا کر مداری گیا

    :
    Twitter: @iamhumera_

  • الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف

    الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف


    سن 1936ء کو بھارت کے شہر بھوپال میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبدالقدیر خان رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہوکر سانئس دان بنے گا۔ ایک ایسا سانئس دان جو پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے آباؤ اجداد کا تعلق بھوپال سے تھا۔ مگر سن 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد جب پاکستان وجود میں آیا تو ان کا پورا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان میں آکر آباد ہوگیا۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کی اور سن 1960ء میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری لینے کے بعد وہ مزید علم کے حصول کی خاطر جرمن کے دارالحکومت برلن چکے گئے۔ کافی عرصہ وہاں قیام پذیر رہے اور پھر اسی عرصے کے دوران انھوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

    پھر 1971ء کی جنگ میں پاکستان کو جن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو ان درپیش مسائل سے نکالنے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی تھان لی۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے 1974 میں ذولفقار علی بھٹو کو ایک پیغام بھجوایا کہ وہ جوہری قوت کے حصول اور پاکستان کو ایک مضبوط ایٹمی قوت بنانے کے لیے بھرپور مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

    پھر اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976 کو مستقل طور پر اپنی اہلیہ ہنی خان اور دو بیٹیوں کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوگئے۔ کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کے لیے ان کے وطن کو ان کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ یہ کام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا۔ یہ وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہی تو تھا کہ جس کی بدولت آپ ہالینڈ میں اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر پاکستان واپس چلے آئے۔

    اس اہم فیصلے میں ان کی اہلیہ ہنی خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اندر پاکستان کے لیے عشق کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے ساتھ ہی پاکستان آگئیں۔ وطن واپس آتے ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 1976 کے وسط میں ای آر ایل یعنی کہ "انجنیرنگ ریسرچ لیبارٹری” کی بنیاد رکھی۔ بعد میں 1981 کو اس لیبارٹری کا نام "خان ریسرچ لیبارٹری” رکھ دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو جوہری طاقت بنانے کے لیے انتھک محنت کرتے ہوئے اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔

    اور پھر 28 مئ 1998 کا وہ تاریخی دن تو سب کو یاد ہی ہوگا جب بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب کے طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں چاغی کے مقام پر کامیاب ترین ایٹمی تجربہ کرتے ہوئے بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی تو وہ ہستی ہیں جن کی بدولت آج ہم اپنے ملک میں بغیر کسی خوف و خطر کے کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

    آج اگر بھارت ہمیں جنگ کی دھمکی دیتا ہے تو ہمارے چہروں پر خوف کا سایہ نہیں لہراتا بلکہ ہم پر سکون ہوکر انھیں جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص وہ "محسن پاکستان” جس کی بدولت آج پاکستان بھارت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے اب سے کچھ گھنٹے قبل شدید علالت کے بعد رحلت فرما گیا ہے۔ یاں یوں کہوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ اب سے کچھ گھنٹے قبل پاکستان نے اپنا سب سے قیمتی اثاثہ کھو دیا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر جہاں پوری قوم اشکبار ہے وہیں آج پاکستان کے اتنے بڑے نقصان پر قومی پرچم کو بھی سرنگوں کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود تو اس دنیا سے چلے گئے پر ان کا نام اور ان کا کام رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ الوداع "محسن پاکستان” الوداع

    مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
    جب بھی اس شہر کی تاریخ وفا لکھے گی
    میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
    میرا نوحہ انھیں گلیوں کی ہوا لکھے گی !!!

    ‎@SeharSulehri

  • مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر عابد آفریدی


    حدیث نبویﷺ ۔

    مفہوم۔  ”ماں کا حق ادا کرتے رہو، قسم ہے اللہ کی اگر تم اپنا گوشت کاٹ کربھی اسے دے ڈالو تب بھی اس کا چوتھائی حق ادا نہ ہوگا”

    عمران خان کی والدہ کا انتقال کینسر کی وجہ سے ہوا تو عمران خان نے اپنی ماں کی یاد اور محبت میں دِن رات ایک کرکے اپنی والدہ کے نام سے شوکت خانم کینسر ہسپتال قائم کیاکیونکہ جس مرض سے اُن کی والدہ کی وفات ہوئی عمران خان یہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی اور کی ماں اس تکلیف سے وفات پا جائے۔ یہ اُن کا اپنی والدہ کے ساتھ محبت کا اظہار تھا

    والدین کی فرمانبرداری اور خدمت کے بارے میں ایک حدیث مبارکہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اسکے ساتھ خیر خواہی کروں؟ حضور ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ پھر عرض کیا اس کے بعد؟ حضور ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ پھرعرض کیا اس کے بعد ؟ حضور ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ پھر عرض کیا اس کے بعد ؟ حضور ﷺ نے فرمایا تیرا باپ۔ امام بخاری اور مسلم شریف نے روایت کیا ہے

    ماں باپ سے محبت اور اُن کی خدمت کے متعلق اللہ سبحانہ وتعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے

    اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اِن سے اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اِن سے بات ادب کے ساتھ کرنا

    ماں سے محبت کے متعلق مجھے ایک سچی کہانی یاد آگئی جس کو میں آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں

    بابرزمان گاؤں میں بائیک ریپئرنگ کا کام کرتا ہے، پڑھا لکھا نہیں لیکن محنتی لڑکا ہے اور اپنے ضروریات سے زیادہ پیسہ کماتا ہے، باپ کا انتقال ہو گیا ہے، ماں کے ساتھ رہتا ہے اور دو بہنوں کی شادی کروا چکا ہے

    عمران خان کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتا ایموشںل ہو جاتا ہے اور کئی بار لوگوں سے تلخ کلامی یا ہاتاپائی کر چکا ہے پچھلے الیکشن میں پارٹی کے لیے فائنانشل سپورٹ کے علاوہ اتنا دوڑ دھوپ کیا تھا کہ بیمار ہو گیا تھا

    کسی دوست نے عمران خان سے بے پناہ محبت کی وجہ پوچھی تو بابر نے کہا کہ میری ماں کو کینسر ہوا تھا لوگوں نے مشورہ دیا کہ لاہور میں کینسر ہسپتال ہے جو عمران خان نے بنایا ہے اور آپ اپنی ماں کو وہاں لے جاو علاج مفت ہے اور تمہاری ماں انشاللہ ٹھیک ہو جائے گی

    وہ اپنی ماں کو لاہور لے گیا اور کینسر ہسپتال میں ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ اپ ماں جی کو گھر لے جاو اور کچھ ہفتے یا مہینوں کا وقت دیا کہ اس کے بعد آجاو کیونکہ ہمارے پاس الریڈی مریض زیادہ ہیں اور لیمٹڈ کیپیسٹی کی وجہ سے ہم اور مریضوں کو داخل نہیں کر سکتے

    بابر اپنی ماں کو گھر واپس لے آیا اور اسی دن اسلام آباد چلا گیا ٹیکسی ڈرائیور سے کہا کہ مجھے عمران خان کے گھر لے جاؤ بابر بنی گالا پہنچ گیا اور گیٹ پر بتایا کہ خان صاحب سے کہہ دو کے پی سے بابر نام کا ایک لڑکاآیا ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے نوکر نے خان صاحب کو بتایا تو خان صاحب نے کہا کہ اس کو اندر لے او اور بٹھاؤ تب تک میں شاور لیتا ہوں

    خان صاحب فریش ہوکر آیا تو بابر سے پوچھا کہو کون ہو کہاں سے اور کیسے انا ہوا، بابر نے ماں کے بیماری کی پوری کہانی خان صاحب کو سنا دی اور خان صاحب نے کہا کہ فکر مت کرو میں کچھ کرتا ہوں اپنا فون نمبر چھوڑ دو میں کل پرسوں اپ کو اطلاع کر دونگا

    خان صاحب نے بابر کو چائے پلائی اور پوچھا کہ اب کہاں جانا ہے تمہیں تو بابر نے کہا کہ میں بس سٹیشن جاونگا اور وہاں سے اپنے گھر تو خان صاحب نے کہا کہ میں اسی طرف جا رہا ہوں تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں بس سٹیشن ڈراپ کر دوں گا اور وہ خان صاحب کے ساتھ گاڑی میں بس سٹیشن پہنچ کر بس میں بیٹھ کر گاوں پہنچ گیا چار دن بعد خان صاحب نے بابر کو کال کیا اور کہا کہ ماں جی کو ہسپتال لے کر جاو اس کا ایڈمشن ہو گیا ہے اور علاج شروع ہو جائے گا بابر ماں جی کو ہسپتال لے گیا اور اس کا علاج شروع ہو گیا اب الحمداللہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئی ہے بابر کے ماں کی بیماری اور علاج کو کئی سال گزر گئے لیکن اج بھی بابر کی ماں اپنے بچے سے پہلے عمران خان کے لیے دعا کرتی ہے اور بابر کہتا ہے کہ میری زندگی اللّٰہ صبحانہ و تعالیٰ کی امانت ہے لیکن میری دعا ہے کہ میری عمر عمران خان کو لگ جائے تاکہ غریب لوگوں کی مائیں سلامت رہے

     

    ‎@soon_abid 

  • تدفین پر بھی یو ٹرن تحریر: ذکیہ نّیر

    فیصل مسجد کے احاطے میں قبر کھودنے کے مناظر سبھی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دیکھے وہ آخری آرام گاہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تیار کی جارہی تھی قبر کھود دی گئی اینٹیں بھی رکھ لی گئیں مگر نمازِ جنازہ کے فوراً بعد انہیں اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں دفنا دیا گیا ایسی کیا جلدی تھی یا پھر کون سا ایسا خوف تھا کہ تدفین قومی ہیرو کی وصیت کے مطابق نہ کی جاسکی جو کارنامہ ڈاکٹر صاحب نے اس مملکت کے لیے سر انجام دیا انکا تو جنازہ بھی اس شایان شان نہ تھا۔وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے رسماً ڈاکٹر صاحب کی وفات پر "صرف”افسوس کا اظہار ہی کیا جبکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تدفین مرحوم کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد میں ہوگی مگر اس معاملے پر وزیراعظم کا یو ٹرن تب قوم نے دیکھا جب نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو ایمبولینس کے ذریعے ایچ ایٹ پہنچا دفنا دیاگیا۔ زندہ دل اور احسان مند قوم کی ایک بڑی تعداد نے جنازے کو کندھا دیا نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی ک فیصل مسجد کو جانے والی سڑک بلاک ہوگئی شہریوں نے "ڈاکٹر قدیر زندہ باد”کے نعرے لگائے سرخ گلاب بھی نچھاور کیے کچھ لوگ بین کرتے بھی دکھائی دئیے ہر آنکھ اشکبار تھی ہر سر جھکا ہوا تھا ہر نظر چھپتی پھر رہی تھی کہ جو سلوک انکی زندگی میں روا رکھا گیا اس پر شرم ہی محسوس کی جاسکتی تھی خیر پاکستانیوں کی محبت نے ثابت کیا کہ وہ عام آدمی کے ہیرو تھے اور رہیں گے ۔
    امید تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے کی پہلی صف میں وزیراعظم،صدر پاکستان ،چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ ، گورنر اور قومی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے جنکی وہاں موجودگی پوری دنیا کو بتائے گی کہ قومی ہیرو کو خراجِ عقیدت اور احترام کیسے دیا جاتا ہے مگر دکھ ہوا یہ دیکھ کر کہ ایک ہی شہر میں ہوتے ہوئے وزیراعظم صاحب تک نہ پہنچ سکے جبکہ اسی وقت وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے، برائے نام گارڈ آف آنرز کے بعد پاکستانی پرچم ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کو تھما کر ساری رسمیں ادا کر دی گئیں۔۔۔ یہ سب مناظر اتنے حیرت انگیز تھے کہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ہم واقعی بدلے ہوئے پاکستان میں  ہیں نہیں ہم تو آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں مشرف دور میں تھے جب اپنے ہی سائنسدان پر الزامات لگا کر انہیں نظر بند کر دیا گیا آذادی سلب کر لی گئی مرتبہ مقام سب چھین لیا گیا گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا جسکے کہنے پر کیا گیا ہم نے تو نمازِ جنازہ میں ہی ثابت کر دیا کہ آج بھی ہم انہی کے غلام ہیں خود مختاری کے دعوے تو رائیگاں ٹھہرے جن میں اتنا بھی دم نہیں کہ جیتے جی نہ سہی مرنے کے بعد وفادار پر سے غدار کا لیبل اتارنے کی جرات کر سکیں۔۔۔پھر مشرف کیوں گناہ گار انکے بعد کتنی حکومتیں آئیں گئیں جس نے ڈاکٹر صاحب کی عزت و رتبہ بحال کیا؟؟؟کس نے انہیں وہ مقام دیا جس کے وہ حقدار تھے ہم تو اس قدر "باندی” کردار کے عادی ہوچکے کہ ہم نے مرے ہوئے قدیر خان کو بھی مار دیا ۔۔ 

    مجھے یاد ہے جب ان پر ایٹمی راز ادھر ادھر کرنے کے سنگین الزامات لگا کر انہیں پانچ سال پابند سلاسل کیا گیا تھا بعد میں عدالتی احکامات جاری ہوئے کہ انکی قید ختم کی جائے مگر انہیں نظر بند ہی رکھا گیا جب جوہری ٹیکنالوجی کو لیبیا شمالی کوریا اور ایران منتقل کرنے جیسے الزامات لگائے گئے تو ان سے زبردستی سرکاری چینلز پر اعتراف بھی کرایا گیا تو وہ ایک ہی بات کہتے تھے کہ سچ بہت جلد سامنے لاؤں گا کس کے کہنے پر ان کے سر سارے الزام دھرے گئے اور اسکے پیچھے وجوہات اور مفادات کیا ہیں مگر پھر وہ خاموش ہوگئے بعد میں ایک ہی بات کہا کرتے تھے "وطن اگر ایک آدمی کے بیان سے بچ جائے تو یہ بہتر ہے” لفظ لفظ میں ریاست سے وفاداری کی خوشبو مہکتی ہے مِٹی کے لیے ایسی قربانیاں عام لوگ نہیں دیا کرتے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وقار اپنی آزادی اپنے نام کو ریاست ہر قربان تو کر دیتے ہیں مگر اسکی سالمیت کو کسی طور خطرے میں نہیں دھکیلتے تبھی28 مئی کو پوری دنیا نے ایک ایسے ملک کو ایٹمی قوت بنتے دیکھا جو آزادی کو چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں گنوایا جاتا تھا جسکی معیشیت کا دارومدار بیرونی قرضوں اور امداد پر تھا مگر عبدالقدیر نے پاکستان کو قوت دی آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی جرات دی ڈاکٹر صاحب سے جب بھی بات ہوتی ہے پاکستان سے شروع ہوتی اور پاکستان ہر ہی ختم ہوتی جبکہ اس محب الوطن پاکستانی کے ساتھ ڈگڈگی پہ ناچنے والوں نے جو سلوک کیا شاید وہ تاریخ میں کالے حروف سے لکھا جائے گا۔
    وہ حقدار تھے کہ وفات پر قومی سطح پر سوگ کا اعلان کیا جاتا تعطیل دی جاتی تین دن پرچم سرنگوں رہتا انکی وصیت پر لفظ بہ لفظ عمل ہوتا انکے جسد خاکی کو ریاست کے اعلیٰ عہدیدار خود لحد میں اتارتے،قبر پر پاکستانی پرچم لہرایا جاتا اعلان کیا جاتا کہ بچوں کی نصابی کتابوں میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خدمات کو بطور مضمون شامل کیا جائے گا موجودہ حکومت جو کہتی پھرتی ہے کہ وہ کسی "اور” کے حکم کے تابع نہیں یہ وقت تھا ثابت کرنے کا کہ یہ بات لفاظی تک محدود نہیں واقعی اب پاکستان خودمختاری کی جانب قدم رکھ چکا ہے جہاں ترجیحات وہی ہونگی جو ملک کی آبرو کو دوام بخشیں جو ہمارا ہیرو ہے وہ ہیرو ہی ہے چاہے لاکھ دنیا اسے وِلن گردانتی پھرے۔۔۔اے کاش ہم حقیقتاً آذاد ہوسکیں۔۔ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں ہوسکے تو ہم احسان فراموشوں کو معاف فرمائیے گا۔

    NayyarZakia@

  • لاہور کا اعزاز۔۔۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان تحریر  وقاص امجد

    لاہور کا اعزاز۔۔۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان تحریر وقاص امجد

    قیام پاکستان سے اب تک لاہور کی تاریخ میں بہت سے افسران آئے جنھوں نےباغات کے شہر کی خوبصورتی میں اضافے اور سہولت کیلئے اپنے سے پہلے والے افسر سےبھی زیادہ اور بہتر اقدامات کیے لیکن اس شہر کی ترقی اور خوبصورتی کا جو سہرا کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کے سر سجا ہے ، اسکی نظیر نہیں ملتی۔بطور کمشنر لاہور تعیناتی کے دوران انکے شروع کیے گئے پروجیکٹس کی بدولت آج لاہور کو عالمی سطح پرنئی پہچان مل رہی ہے۔
    ماضی میں اسی شہر کے ڈپٹی کمشنر رہنے والےکیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان جب لاہور ڈویژن کے 59 ویں کمشنر بنے تو جہاں اپنے پرانے تجربے کی بنیاد پر کام کا آغاز کیا وہیں کورونا وباء کے دوران بطور سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کی حیثیت سے کیے گئے اقدامات کو بھی مدنظر رکھا۔ صحت کے شعبے سے ایک خاص عرصے تک جڑے رہنے کا ہی نتیجہ تھا کہ لاہوریوں کو اس وباء سے بچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آگاہی مہم کا آغاز کرتے ہوئے انھیں ایک شفیق باپ کی طرح ماسک پہننے کی تلقین کی اور بعدازاں” لاہور وئیرز ماسک” مہم پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا۔
    اسی طرح” لاہور گیٹس ویکسی نیٹڈ ” مہم کے تحت شہریوں کو ویکسین لگوانے کی طرف راغب کیا اورساتھ ساتھ افواہوں کی شکار پڑھی لکھی عوام کو ویکسینیشن کی اہمیت سے بھی روشناس کروایا۔ اس کام کیلئے جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز بھی کیا گیاہے۔اس پروگرام کے تحت طلباء کی مدد سے عوام الناس کو معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ویکسینیشن کا کورس مکمل کرنے کی ہدایات دی جائیں گی۔
    کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ کے مترادف کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی کی حیثیت سے بھی ماضی میں خاصہ کام کیا اورجس تندہی کیساتھ کیا، اسکی مثال ملنا بھی مشکل ہے۔ انھوں نےعوام کی صحت پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے بغیر انھیں صاف ستھری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
    اسی طرح لاہور کی ادبی پہچان اور اسے ملنے والےسٹی آف لٹریچر کے اعزاز میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے کمشنر لاہور نے ادبی سرگرمیوں کے کیلنڈر کی تیاری کی بھی ہدایات کررکھی ہیں جو انکے ادب دوست ہونے کی واضح نشانی ہے۔ ٹریفک کے اژدھام کے باعث لاہور شہر کی خوبصورتی پر پڑنے والےمنفی اثرات کو بھانپتے ہوئے کمشنر لاہور نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مدد سے شہر کو مزید خوبصورت بنانے کا بھی پلان بنایا اور اس پلان کووزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ لاہور میں بڑی تفصیل سےبیان بھی کیاگیا۔ کمشنر لاہور کی انتھک محنت اور مسلسل کام کرنے کی لگن کی بدولت کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کو وزیراعظم سے تعریفی کلمات بھی سننے کو ملے۔

    Twitter Id
    @waqas_amjaad