Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سوشل میڈیا کا کردار  تحریر: سلمان الیاس

    سوشل میڈیا کا کردار تحریر: سلمان الیاس

    سعودی عرب میں آج کل ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے ۔

    کچھ دن پہلے ایک بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہوا تھا ۔

    سعودی کے شھر ریاض میں کچھ شر پسند افغانیوں نے ایک نہتے پاکستانی اخونذادہ محمود پر انتہائی تشدد کے بعد انکی بے عزتی بھی کی تھی اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی ۔
    جو کہ انتہائی قابلِ مذمت حرکت تھی ۔
    اور اس معاملے کو سوشل میڈیا پر اتنی غلط طرف پر موڑ دیا گیا ۔اور لوگوں کو اتنا غصہ دلایا گیا

    جو اُس کے جواب میں اس واقعے کے کچھ دن بعد ایک پبلک مقام وادی حنیفہ ریاض میں کچھ پاکستانیوں نے افغانیوں کو پکڑ کر مارنا شروع کردیا اور ویڈیو بھی بنائی جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔

    وہ کہتے ہیں ایک گندھا مچلی پورے تالاب کو گندھا کر دیتی ہے ۔

    وہاں کام کیا کسی نے اور یہاں شامت آئی کسی کی کیونکہ جن افغانیوں کو پاکستانیوں نے مارا – انکا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
    انہوں نے اپنا غصہ نکالنا تھا تو انہوں نے نکال دیا۔

    کل کو پھر پاکستانی اور پھر افغانی اس طرح اگر یہ رواج چل پڑا تو یہ بہت خطرناک ہوگا ۔

    اور سب سے دکھ کی بات یہ ہے ہمارے کچھ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ اس معاملہ میں بہت ہی بھیانک کردار ادا کر رہی ہے ۔ جن میں افغانی اور پاکستانی دونوں شامل ہے۔
    جو لوگوں کو غصہ دلا رہے ہے ۔

    اور باقی جو سوشل میڈیا پر بڑے بڑے گروپس ہے ۔
    جو اچھا کردار ادا کرسکتے ہے

    اس معاملہ میں بلکل خاموش ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔

    سوشل میڈیا ایک بہت بڑی طاقت ہے ۔ خدا کے لئے اس معاملےمیں اپنا کردار ادا کرکے پاکستانی سفارت خانے کو جگانے کی کوشش کرے ۔

    تاکہ یہ معاملہ یہی پر رک جائے اور کسی اور کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہوں۔

    میں سمجھتا ہوں ایمبیسی کو سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرنا چاہئے ۔تاکہ لوگوں کو پتہ ہو ایمبیسی اس معاملہ میں سنجیدہ ہے ۔

    کیونکہ محمود والے واقعے کے بعد لوگ بہت غصے میں ہے –

    سعودی عرب کے قوانین بہت سخت ہے ۔اللہ نہ کرے کل کو باقی غریب لوگ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائے ۔

    میں زاتی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہو
    جو بیوی کا زیور یا اپنا زمین بیچ کر یہاں مزدوری کے لئے آئے ہے
    ایسا نہ ہو ان لوگوں پر بھی اثر پڑ جائے

    جو پاکستان ایمبیسی کے لئے پھر سنبھالنا بہت مشکل ہو جائیگا۔

    تو مہربانی کرکے ہوش کے ناخن لے اور اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے اور سنجیدگی سے حل کرنے کی –
    ‏ @Salmanjani12

  • اگلے الیکشنز کون فاتح  تحریر: انوارالحق

    اگلے الیکشنز کون فاتح تحریر: انوارالحق

    دیکھنا یہ ہے کہ پی۔ٹی۔آئی حکومت سوشل میڈیا کی طاقت کے بل پر کب تک پذیرائی برقرار رکھتی ہے۔ پی۔ڈی۔ایم چاروں خانے چت ہو کر عملی طور پر دوبارہ حصے بخروں میں بٹ کر اپنی اپنی بقاء کی جنگ کے روائتی مورچوں میں جاچکی ہے۔ پی پی پی اور ن لیگ اپنے سیا سی محرکات کی نمائش کیلیے ایکدوسرے کیخلاف چھوٹے پیمانے پر شرلیاں پٹاخے چھوڑتے رہتے ہیں اس سلسلے میں بلاول کے بیانات تو واضح ہیں لیکن ن لیگ محتاط بیان بازی پر کاربند نظر آتی ہے وہ سمجھتے ہیں اور شائید ٹھیک سمجھتے ہیں کہ اس طرح حکومت کی مخالفت بھی ہوتی رہے گی اور اپنا اپنا ووٹ بینک بھی مستحکم رہے گا وہ الگ بات ہے کہ مریم اور بلاول عمران مخالفت میں جتنا قریب آگئے تھے ان کے سپورٹرز شائید اتنا قریب کبھی نہ آسکیں۔ن لیگ، پی پی پی اور اب پی ٹی آئی ورکرز کے درمیان جو نظریاتی تکون بن گئی ہے اس کا پاٹنا اتنا آسان نہیں ہے۔ پرمشکل اور مزیدار کام یہ ہے کہ اس سیاسی تکون کے دو کونوں نے عمران کی مخالفت کیساتھ ساتھ ایک دوسرے سے مفاہمت کرتے ہوئے مخالفت کا تاثر بھی برقرار رکھنا ہے۔ عمران تو واضح طور پر دونوں کیخلاف ہے لیکن مصیبت ن لیگ اور پی پی پی کے ووٹرز کیلئے ہے کہ انہیں کبھی پتہ نیں چلتا کہ کب پی پی پی کی مخالفت کرنی ہے اور کب حمائیت۔ انکی جماعتوں کا چھوٹا ورکر یا بڑا لیڈر ان سے نہیں پوچھتا کہ کوئی ایک لائن کیوں نہیں اختیار کرتے اگر پی پی پی سے دوستی ہے تو دوستی کرنے دیں اور اگر مفاہمت ہی کرنی تھی تو ہماری ایک ایک دو دو نسلوں کو سیاسی مخالفت سے لیکر ذاتی دشمنیوں کی بھینٹ کیو ں چڑھایا گیا۔ پھر بھی اب کھل کر بتا دیں کہ بیانیہ کیاہے پی پی پی سے دوستی ہے کہ دشمنی۔سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن لگتاہے کہ دنیا کے بعض خطوں میں دل کیساتھ ساتھ دماغ بھی نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی درست معلوم ہوتی ہے کہ پھر سیا سی لیڈر کو سیاسی لیڈر کون کہے اگر اس کی لفظی یا عملی شعبدہ بازی عام جنتا جناردن کی سمجھ میں وقت پر آجائے، جب تک لیڈر کو ئی ایک داؤ سمجھ میں آتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ن لیگ والوں کو اب سمجھ میں آیا کہ بے نظیر بھٹو کی بطور خاتون تضحیک نہیں کرنی چاہئے تھی، صدر ضیا ء الحق کے مارشل لاء کو سپورٹ نہیں کرنا چاہئے تھا، جونیجو کی منتخب حکومت کیخلاف سازشیں نہیں کرنی چاہئیں تھی۔ اسی طرح آصف زرداری ایک طرف ببانگ دہل ٹی۔وی پر بیٹھ کر نواز شریف کو گریٹر پنجاب کو سہولت کار کہتا ہے غدار کہتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ وہ لیڈر ہی کیا جس کو مجمع باندھ کر رکھنا نہ آتا ہو، جنتا جناردن ایک بات سمجھنے کی کوشش کرہی رہی ہوتی ہے کہ لفاظی کا اگلا بم گرادیا جاتا ہے جس میں پچھلی سمجھ بو جھ بھی غائب ہو جاتی ہے۔
    شائید اقبال نے ایسے ذہنی محکوموں کے لئے بھی کہا تھا کہ؛
    خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
    پھر سلا دیتی ہے اسکو حکمراں کی ساحری
    وہ کون سا ایسا بڑے سے بڑا یا گھٹیا سے گھٹیا الزام ہے جو سیاسی لیڈران نے ایک دوسرے پر نہ لگایا ہو؟ بھینسوں کی چوری چکاری سے لیکر ملک سے غداری تک، قادیانیت تک، یہودیت تک، بدفعلیوں سے بدکرداری تک سب عوام کو مشتعل کرنے والے الزامات لگائے گئے اور لگائے جا رہے ہیں اور عوام اس بڑھی ہوئی شرح تعلیم کے باوجود بڑھکتی جارہی ہے۔ آج بھی سیاسی مخالفت کب ذاتی مخالفت میں بدل جائے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ایک پارٹی کا سپورٹر دوسری پارٹی سے محض سیاسی سوچ کے اختلاف کی بنیاد پر دوستیاں، یارانے حتٰی کہ رشتے داریاں تک ختم کردیتا ہے۔ الیکشنز کی چہل پہل میں گالم گلوچ، ہاتھا پائی، ماردھاڑ، ہوائی فائرنگ بلکہ سیدھی فائرنگ قتل وغارت عام بات بن گئی ہے جس سے نہ جانے کتنی معصوم جانیں چلی جاتی ہیں، گھر وں کے واحد کفیل مارے جاتے ہیں،مرنے اور مارنے والے اصل میں دونوں مر جاتے ہیں، حالیہ ضمنی انتخابات میں سیالکوٹ، دینہ اور گجرات کے علاقوں میں ہونے والی قتل وغارت اس سیاسی وحشت کی تازہ مثالیں ہیں۔ سیاسی لیڈران کی زبان سے بھڑکائی آگ میں نہ جانے کتنے جیالے، متوالے، بے نام نشان مارے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتاکہ آکے پوچھے سناؤ جذباتی ورکر صاحب کیابنا، تمھارے ماں باپ، بھائی بہن یا بیوی بچوں کی کیا خیرخبر ہے۔ بڑے ٹی وی چینلز اس ساری آگ کو برابر ہوا دیتے ہیں بڑا اینکر وہی ہے جس کے شو میں شرکاء دست و گریبان ہوں یا کم از کم گالم گلوچ کر یں جو لفظوں سے دوسرے کو گھائیل کردے اسے ہی بڑا تجزیہ کار اور ماہر مانا جاتا ہے۔عوام جانے کب سیکھے گی کہ کس لیڈر کی کون سی بات صحیح ہے اور اسکو سپورٹ کرنا ہے اور کس لیڈر کی کون سی بات غلط ہے اسکی مخالفت کرنی ہے۔
    اپوزیشن عملی طور پر ہے ہی نہیں اب حکومت ہی حکومت ہے، ہر بل پاس ہورہا ہے، ہر طرح کی قانون سازی میں کو ئی رکاوٹ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی جس طرح چاہے قانون سازی کر سکتی ہے اور انتظامی طور پر بھی پرانے عدالتی نظام کے باوجود انصاف کی فراہمی اور شہری سہولیا ت کے حوالے سے بہت کچھ کرسکتی ہے۔ دیکھتے ہیں اس ڈیڑہ دو سالوں میں کیا ایساکرتی ہے کہ عوام الناس اگلے الیکشنز میں بھی دوبارہ ووٹ دیتی ہے۔ بال اب پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے۔

    رابطہ: +923238869398 لاہور، پاکستان

  • سالگرہ کی خوشیاں     تحریر: عمیر وحید

    سالگرہ کی خوشیاں تحریر: عمیر وحید

    سالگرہ کا دن بھی خوب ہوتا ہے کیونکہ یہ سال میں ایک ہی دفعہ آتا اور زندگی کا ایک سال کم کر کے چلا جاتاہے۔ امیر لوگ اسے بہت خوشی سے مناتے ہیں۔ امیر لوگ بہت خوب کھانے مثلاً فروٹ چاٹ، ریشین اور پیزا وغیرہ کا اہتمام کرتے اور گھریلو کھانوں کا الگ سے انتظام ہوتا۔ جب سالگرہ کا فنکشن شروع ہوتا ہے تو سب مہمان اکھٹے ہوتےاور کیک کاٹتے ہیں۔ اور خوب انجوائے کرتے ہیں۔
    یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں انھیں مل کر خوب سے خوب تر بنانا چاہیے۔
    لیکن ان خوشیوں کے وقت لوگ بہت زیادہ فضول خرچی اور کھانوں کو ضائع کرتے ہیں۔ کیک برتھڈے بوائے کے منہ پر لگا رہے ہوتے، کوک سے اسے نہلا رہے ہوتے ہیں۔ رزق کو ضائع کر رہے ہوتےہیں۔
    اس کے ساتھ ساتھ اسے کیمرے کی آنکھ میں بند بھی کر رھے ہوتے ہیں تا کہ بعد میں اسے لوگوں کو دیکھا سکے کہ ہم نے خدا کے دیئے ہوئے رزق کو کیسے ضائع کرتے رہیں ہیں اور رزق کی بے خرمتی کرتے رہے ہیں۔
    نا جانے ہمارا معاشرہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ ناجانے کتنے غریب لوگ سڑکوں پر سو رہیں ہیں۔ نا ان کے پاس کھانے کو کچھ ہے اور نا ہی پہننے کو۔ وہ بیچارے ناجانے کیسے اپنی سادہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    ان امیر لوگوں کو چاہیے کہ اگر خدا نے انہیں اپنی دولت سے نوازا ہے تو اسے فضول خرچی اور دوسرے برے کاموں میں خرچ نا کریں بلکہ اس سے ان غریب مسکینوں کی مدد کریں تاکہ انھیں بھی دو وقت کا کھانا نصیب ہو سکے۔

    Twitter I’d: UmmisSays

  • گناہ سے توبہ تحریر:  ذیشان علی

    گناہ سے توبہ تحریر: ذیشان علی

    اللہ تعالی کے تمام انبیاء معصوم ہیں، باقی ہر انسان میں عیب ہیں وہ خطا کار بھی ہیں وہ گناہ گار بھی،
    لیکن جو اللہ تعالی کے دوست بن کر رہتے ہیں، اور جو اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہوئے گناہوں سے بچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں،
    اللہ ان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اللہ تعالی بڑا غفور الرحیم ہے ،
    اور ہمیں ہر وقت گناہوں سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے،
    لیکن انسان تو انسان ہے خطا کا پتلا ہے اور اس کے اندر ایک نفس ہے اور پھر اس کے ساتھ ایک شیطان ہے جو اسے دنیاوی لذتوں کا جھانسہ دے کر اسے سے خطائیں اور گناہ سرزد کرواتا ہے،
    ایسے میں اللہ تعالی نے انسان کے سامنے دو راستے رکھ دیئے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جس راستے پر تم چلنا چاہتے ہو چلو لیکن دونوں راستوں کے انجام سے باخبر بھی کر دیا،
    شیطان کے راستے پر چلو گے تو وہ تمہیں ہر وقت گناہوں اور سرکشی میں مبتلا کرتا رہے گا،
    لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے ہوئے گناہوں سے بچتے رہو گے سیدھے راستے پر رہوگے اللہ تم پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل فرمائے گا،
    لیکن اگر گناہ ہو جائے تمہارا ضمیر تمہیں ملامت کرے اور تم اپنی اصل کی طرف پلٹنا چاہو تو اللہ نے ایسے میں پچھلے تمام گناہ معاف کرنے اور اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے بشرطیکہ گناہوں سے سچی توبہ کی جائے،
    اگر گناہ ہو جائے تو پھر بندہ/ بندی کیا کہے اور اسے کیا کرنا چائیے،
    وہ اچھی طرح وضو کرے پھر وہ دو رکعت نماز ادا کرے اور نماز کے بعد وہ اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی بخشش مانگے۔ شک وہ بخشنے والا بڑا مہربان ہے،
    اور شیطان سے اللہ کی پناہ کیسے حاصل کی جائے ؟
    جب کوئی کام شروع کرو تو اس سے پہلے اعوذ باللہ پڑھ لیا کرو اور پھر بسم اللہ،
    جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے اللّٰہ شیطان سے تمہاری پناہ میں آتے ہیں اور تمہارے نام سے شروع کرتے ہیں بے شک تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے،
    ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ پہلے تو کسی گناہ کے نزدیک بھی نہ جائے لیکن کسی غفلت اور نفس کی خواہش میں آکر گناہ کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ گناہ سے توبہ کرے اور توبہ کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ گناہ پھر کوئی دعا قبول نہیں ہونے دیتے اور گناہگار کے مقدر میں رسوائی ہے،
    دعا ہے رب ذوالجلال سے کہ وہ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق دے،
    آمین

    @zsh_ali

  • ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے  ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    پاکستان میں ٹک ٹاک پر ایک بار پھر پابندی ۔

    ذرائع کے مطابق :
    ٹک ٹاک پر پابندی غلط مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہے ۔
    پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ پر پابندی لگا دی ہے۔
    جس پر پی ٹی اے نے بیان دیا کے نا مناسب مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی۔

    اس سے پہلے رواں برس مارچ میں بھی پی ٹی اے نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر پابندی عائد کی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ٹک ٹاک کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر ڈالی جانے والی ویڈیوز ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔‘ ہاں ایسا ہے بھی بہت ساری ویڈیوز ایسی ہوتی ہیں جو بالکل نا مناسب ہوتی ہیں

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں بے راہ روی پھیل رہی ہے، اسے فوری طورپر بند کیا جائے۔

    رواں برس جون میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کیے جانے کے حوالے سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ایپ پر پاکستان بھر میں پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بہت بار اس کی شکایت پی ٹی اے کو کی ہے لیکن انہوں نے اس پر ایکشن نہیں لیا ہے ۔
    درخواست گزار کی بات مانتے ہوئے ۔
    پھر سندھ ہائیکورٹ نے اس ایپ پر پابندی لگوا دی۔
    اب بات یہ ہے کیا ٹک ٹاک پر پابندی لگانا مسئلے کا حل ہے؟
    جب ٹک ٹاک پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے والی ویب سائٹس ہیں۔ لوگ ان پر منتقل ہوجاتے ہیں۔
    اس طرح جتنے بھی لوگ ٹک ٹاک پر موجود ہیں وہ سارے اب ایپس کو استعمال کرتے ہیں۔
    اور ان کی ریٹنگ بڑھتی ہے ۔
    ٹک ٹاک پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
    مسئلہ حل ہوگا جو مواد اپلوڈ کیا جاتا ہے ۔
    بے ہودہ اور غیر اخلاقی مواد اس کی روک تھام کی جائے ٹک ٹاک پر بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو پاکستان کے کلچر کو پروموٹ کر رہے ہیں۔
    جن میں سر فہرست ‘زنیر کمبوہ ‘ کبیر آفریدی ‘ اور بھی بہت سارے بھائی ہیں۔
    اس کے علاوہ بہت ساری معلوماتی ویڈیوز بھی لوگ بناتے ہیں۔
    میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو خالص اسلامی ویڈیوز بناتے ہیں اور لوگ کو شعور دلاتے ہیں۔
    بہت سارے دوست شاعری کی ویڈیوز بناتے ہیں اور اپنے ادبی ورثہ کو پروموٹ کرتے ہیں جن میں میں بھی سر فہرست ہوں۔
    میں یہ بات نہیں کرتا کہ پابندی لگی ہے تو کیوں۔ اس پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن کی کمپنی کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔
    کہ فلاں فلاں مواد کو اپنے ایلگورتھم میں ڈالے اور اگر ایسا مواد اپلوڈ ہو تو اس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بلاک کیا جائے ۔
    اور ان کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا میسج بیجھا کیا جائے ۔
    اگر ہم کوئی اسلامی بات کرتے ہیں تو ہم کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا پیغام آ جاتا ہے۔
    اس کے علاوہ جیسے اگر کوئی بندہ اسلحہ اور کوئی لڑائی کی ویڈیوز ڈالتا ہے تو اس کی ویڈیو بلاک کر دی جاتی ہے۔
    ایسے ہی اگر کوئی غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرتا ہے۔تو اس کی ویڈیو فوری طور پر بلاک کرنی چاہیے۔
    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    کیوں اس ایپلیکیشن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
    اسلامک کلپس ، پاکستان کے سیاحتی مقامات، کھانے پکانے کی ٹپس، ادبی ورثہ شاعری، ایجوکیشنل اقوال ، اب ہم ٹیکنالوجی کی دنیا میں جی رہے ہیں۔
    تو ہم اس حالات کے مطابق چلنا ہوگا۔
    اگر لوگ اس کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ تو تم اس کو اچھائی کے لئے استعمال کرو ۔
    پابندی مسئلے کا حل نہیں ہوتی یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ تم اس سے ہار گئے۔

  • حب الوطنی تحریر: بنت زینب

    حب الوطنی تحریر: بنت زینب

    حب الوطنی کا مطلب ہے ایک فرد کا اپنے ملک اور وطن کے لئے بے لوث محبت. یہ ایک فطری جذبہ ہے. ہم اپنے ملک سے صرف اس لئے محبت نہیں کرتے ہیں کہ یہ خوبصورت ہے. در حقیقت، ہم اس سے محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ ہماری آبائی سرزمین ہے. ہمیں اس سے محبت ہے کیونکہ ہم اس میں رہتے ہیں، ہم اسکی پرسکون ہوا میں سانس لیتے ہیں، ہم اسکا میٹھا پانی پیتے ہیں، ہم اسکا کھانا کھاتے ہیں، ہم اسکے خوبصورت قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں. درندے بھی اپنے گھروں سے پیار کرتے ہیں۔ اگر انسان کو اپنے ملک سے محبت نہیں ہے تو وہ حیوان سے بھی بدتر ہے.
    ‏وطنِ عزیز کی مٹی جیسی کوئی چیز نہیں، نہ وینس کی گلیاں، نہ روم کی ہزاروں برس کی تاریخ، نہ نیلے پانیوں کی سرزمین یونان، نہ سفید جزیرہ سینٹورینی. جو سکون ہمیں اپنے آزاد وطن میں ملتا ہے شاید ہی وہ ہمیں دنیا کے کسی اور کونے میں ملے.
    الحمدللہ ہم نے اپنے ملک سے پیار کرنے کا یہ جذبہ سید اقرار الحسن صاحب سے سیکھا ہے. جہاں حب الوطنی نہیں ہو گی، وہاں عوامی خدمت نہیں ہو گی. تاریخ گواہ رہے گی کہ ٹیم سرعام نے کرونا جیسے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور اپنے محاذوں پر ڈٹے رہ کر اس ملک کی بے لوث خدمت کرتے رہے. چاہے مستحق لوگوں تک مفت راشن پہچانا ہو، بارش کی تباہی میں لوگوں کی مدد کرنا ہو، خون کے عطیات ہوں، نیز اقرار بھائی نے ہر لحاظ سے اپنے ہم وطنوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتے رہے ہیں. اقرار بھائی نے ہمیں سکھایا کہ حب الوطنی ہمیں نہ صرف اپنے ملک اور وطن سے محبت کرنا سکھاتی ہے بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کی بہتری کے بارے میں سوچنے اور اس کے لئے کام کرنے کا بھی درس دیتی ہے.
    ایک سچے محب وطن ہونے کی وجہ سے ، مجھے اپنے ملک (پاکستان) سے بے انتہا پیار ہے. میں اپنے ملک کے دفاع میں اپنی جان و مال کی قربانی دینے کے لئے ہمیشہ تیار ہوں، مجھے امید ہے کہ اس پاک وطن کی مٹی میں اِک روز ہمارا خون بھی شامل ہو گا….! انشاء اللہ
    اپنی تحریر کا اختتام میں اس شعر پر کرنا چاہوں گی:
    "‏میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار
    میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایۂ تن”

    @BinteZainab33

  • ماں ایک انمول رشتہ اور ہم بے قدرے  تحریر :- فرمان اللہ

    ماں ایک انمول رشتہ اور ہم بے قدرے تحریر :- فرمان اللہ

    ماں ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس دنیا میں نہیں بلکہ پورے کائنات میں کوئی نعمل بدل نہیں لیکن اس کا احساس ہر کسی کی پاس نہیں اور نہ ہی ہر کسی کو یہ نعمت راس آتی ہے اکثر ہماری معاشرے میں ایسے بارہا واقعات رونما ہوتے ہے جو دل دہلا دینے والے ہوتے ہے جس کو دیکھ کر ایک عام انسان دور کی بات ہے بلکہ ایک پتر دل انساں بھی پوٹ پوٹ کر رونے پہ اتر آئیگا
    واقعات میں بشتر ماں پر کوئی ظلم جبر کرتا نظر آئیگا کوئی گھر سے نکال باہر کرتا ہے تو کوئی گھر پر ہی زاندان کی ماند ایک کوٹری میں بند کرکے بھوک و افلاص میں چھوڑ دیتے ہے۔۔
    اخیر کیسے کرلیتے ہے یہ بدبخت اپنے جننت کی ساتھ؟ جس ماں پہ ظلم کرتے ہے وہ بچپن میں اگر اسی بیٹے کو چھوٹی سے خروچ بھی آتی تو ایسی تڑپتی جسا کہ خنجر گھونپ گیا ہو سینے میں۔ جب ہلکا سا بخار ہوجاتا تو تو ساری رات نہ سونے والے ماں ایسی جاگتے جیسا کہ دل ڈھوب سا گیا ہو ایسا درد محسوص کرتے جسی بچے کو نہیں بلکہ ان کی سانسیں روکھ دے گئی ہو۔
    یہ تکالیف تو کچھ بھی نہیں میں نے کچھ محتصر سے ذکر کئی کچھ محبتیں لکھنا بھی تھے۔
    آج وہی بچہ اپنی ماں پہ ظلم جبر کرہا ہے جب وہ کسی چیز کا ضد کرتا تو اپنی اپ کو گیروی رھتے لیکن اپنے بچوں کو وہ سب میصر کرتے اس ماں پہ ظلم کرتے جب سکول جاتے تو سکول تک خود چھوڑنے جاتی بیگ سر پر رکھ لیتے اور اپ کو گود میں اٹھا کر چھوڑ آتی۔۔
    اپنی ہر خواہش ہر خوشی اپ پر قربان کرنے والے ماں کو آج یہ صلہ مل رہا ہے اے بد نصیب بیٹھے تجھے نہ دنیا راس آئیگے نہ آخرت اب بھی وقت ہے سدھر جائیں اب بھی وقت ہے ان کی خدمت کریں نہیں کرسکتے تو کم از کم ان کو ذلیل و رسوا نہ کریں ان کو گھروں سے نہ نکالیں ان کو گھروں سے باہر نہ پھینکے یاد رہے اگر ایسا ہی کتے رپی تو وہ دل دور نہیں جب اس کا بدلہ جلد اپ کی دھانے پہ ہوگا۔۔
    اللہ تعالی سے بس یہی ایک خواہش کہ مجھے کبھی ماں باپ کی دکھ نہ دیکھائیں ان کی جدائی نہ دیکھائیں اللہ میرے ماں باپ بلکہ ہر ماں ، باپ کو لمبی ، تندرست اور خوشیوں بری زندگی عطاء کریں آمین۔۔
    (Femikhan_01@

  • پردیسی اور انکی عید . تحریر : حسن ریاض آہیر

    پردیسی اور انکی عید . تحریر : حسن ریاض آہیر

    وہ عید بے دید ہی ہوتی ہے جو اپنے دیس اپنے پیاروں کے درمیان نہیں بلکہ پردیس میں ہو۔ روشن مستقبل کی تلاش میں بہت سے پاکستانی اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں جو محنت و مزدوری کر کے پاکستان میں موجود اپنوں اور انکی خوشیوں کے لیے قربانیاں دیں رہے ہیں۔
    پردیس کی ڈیوٹی بہت سخت ہے اکثر تو بیچارے کچھ لوگ عید کی نماز پڑھ کر اپنے کام پر پہنچ جاتے ہیں اور جنکو کو چھٹی ہو وہ موقعے کو غنیمت جان کر اپنی نیند پوری کرتے ہیں۔

    حالات کیسے بھی ہوں، کوئی تہوار ہو، خوشی ہو یا غمی، موسم کیسا بھی ہو پردیسیوں کے لیے راحت کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ یہ خود کو مشکل و مصیبت میں ڈال کر تکلیفیں سہہ کر اپنوں کی خوشیوں کا سبب بنتے ہیں۔

    میرے ایک دوست کی مجھے عید کے دن کال آئی اور وہ مجھے پریشانی میں مبتلا محسوس ہوا، جب میں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ جن کی خاطر اتنے سالوں سے پردیس میں دھکے کھا رہا ہوں، تکلیفیں جھیل رہا ہوں آج عید کا سارا دن گزر گیا اسی انتظار میں کہ ابھی کوئی عید مبارک کہنے کے لیے کال کریں گا لیکن شاید کسی کو یاد ہی نہیں، ہاں لیکن ٹھیک ایک دن پہلے کال آئی تھی اور مجھے کہا گیا تھا کہ عید آ رہی پیسے بھیج دینا اور میں اسی دن کا بھیج چکا ہوں۔ یہ اس کے الفاظ بہت تکلیف دہ تھے۔ انسان کی قدر کم اور پیسے کی قدر زیادہ ہو چکی ہے۔

    تو جن کے گھر کے فرد خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا پردیس میں ہو تو اس کو بھولا نا کریں کیونکہ عید کے دن جو آپ خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں وہ اسی کے خون اور پسینے کی محنت کے بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔

    @HRA_07

  • پیش خیمہ قیامت . تحریر : کامران واحد

    پیش خیمہ قیامت . تحریر : کامران واحد

    ماحولیاتی تبدیلی زمین پر رونما ہونے والی سب سے ہولناک اور تباہ کن تبدیلی ہے اس مسئلےاور اس کی سنگینی کو پچھلی چند دہائیوں میں بالکل نظر انداز کیا گیا اس وقت زمین کی سطح کا درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے قبل کے درجہ حرارت سے ۱یک اعشاریہ دو ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے.

    ۲۰۱۹ میں زمین پر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے جنم لینے والے چند مسائل درج ذیل ہیں
    ۱- گرین لینڈ ، جو کہ ایک جحیم برفانی جزیرہ ہے، اس وقت تیزی سے پگھل رہا ہے جس کی وجہ سے سمندروں کے پانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے-
    ۲- برازیل، کولمبیا اور جنوبی امریکا کے دیگر ممالک میں پھیلا ہوا ایمازون جنگل ،جسے دنیائے ارض کا نظام تنفس سمجھا جاتا ہے ، بہت بڑی آگ کی زد میں آیا جس سے جنگلی حیات کو خطرات کے ساتھ ساتھ موسمی تغیرات میں اضافہ ہورہا ہے-
    ۳- اسی طرز کی ایک آگ انڈونیشیا کے جنگلات میں بھی بھڑک اٹھی ہے
    ۴- مختلف خطوں میں موسم کاشتکاری کیلئے غیر موزوں ہو رہا ہے جس سے دنیا میں غذائی اجناس کی قلت کا خوف ہے-
    ۵- موسمی آفات میں غیر معمولی شدت اور اضافہ ہے جن میں امریکی ریاست باہاماس میں آنے والا “ہری کین” سرِفہرست ہے-
    ۶- فضائی آلودگی کے سبب اس برس دنیا میں ناقابلِ رہائش شہروں کی فہرست مزید طویل ہوئی اور پاکستان کے تین شہر اس میں شامل ہوئے-
    ۷- دنیا میں اس وقت صاف اور تازہ پانی کی شدید قلت کا خطرہ ہے جس میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ممالک شامل ہیں.

    اب جہاں عمران خان صاحب کا بلین ٹری سونامی پاکستان میں پنپ رھا ھے ، اسی طرح ساؤتھ اور سینٹرل ایشیاء کے ممالک کو بھی انیشیٹو لینا ھو گا۔ امید ھے اس بارے میں تمام ممالک سر جوڑ کر بیٹھیں اور مناسب حکمت عملی اپنائیں اور آنے والی نسلوں کا سوچیں۔

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان پائندہ باد

    Twitter : @KhanKamoo

  • گفتگو . تحریر : صابرحسین چانڈیو

    گفتگو . تحریر : صابرحسین چانڈیو

    آپ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ کی بات جب تک ان تین پہلوؤں سے گزر نہ جائے اس وقت تک آپ اپنی بات نہ ہی کہیں تو بہتر ہے اگر آپ اپنی بات کہنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی گفتگو کو سب سے پہلے سچ کے ترازو میں تولیں پھر اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ جو بولنے والے ہیں کیا وہ سچ ہے؟

    اگرآپ کو جواب درست میں آئے تو پھر آپ اس کے بعد اپنی بات کو اہمیت کے پہلوؤں سے گزاریں کیونکہ اہمیت اس چیز کی ہوتی ہے جو فائدہ مند ہو اگر آپ کی بات فایدہ مند ہے تو اس کی اہمیت بھی ہو گی پھر آپ اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ جو بات کرنے والے ہیں کیا وہ بات اہم ہے اگر جواب اہم کیلئے آئے تو آپ اس کے بعد اپنی بات کو مہربانی کے پہلوؤں سے گزاریں پھر آپ اپنے آپ سے سوال کریں کیا آپ کے الفاظ نرم اور لہجہ مہربان ہے؟

    اگر آپ کے الفاظ نرم نہیں ہیں اور لہجہ بھی مہربان نہیں تو آپ خاموش رہنے کو ترجیح دیں خواہ آپ کے سینے میں کتنا ہی بڑا سچ کیوں نہ ہو اور آپ کی بات کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہو کیونکہ سخت بات کا اثر خود پر زیادہ پڑتا ہے
    کبھی کبھی جو کام تلوار نہیں کر سکتی وہ کام زبان کر گزرتی ہے تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان کا کاٹا عمر بھر نہیں بھرتا جو آگے کئی نسلوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے.

    @SabirHussain43