Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری . تحریر: سردار امیر حمزہ

    کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری . تحریر: سردار امیر حمزہ

    کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری ،تحریر:سردار امیر حمزہ (ترجمان جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ)
    پانچ اگست انتفاضہ کشمیر کے بعد اِس پار کشمیر کی صورتحال بھی بدل چکی تھی۔سب جماعتیں اپنے اپنے منشور کو لے کر مفادات کی سیاست کررہی تھیں۔ایسے میں بے چین تھا اور کشمیر کا ہر نوجوان کسی خبر کے انتظار میں تھا۔میں نے عزم کیا کہ ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھیں جو حقیقی طور پر کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں کی عکاسی کرے۔سردار بابر حسین ہمارے دوست تھے۔پاکستان تحریک انصاف سے منسلک تھے۔میں ان سے ملاقات کی ان کے سامنے ساری صورتحال کو رکھا۔انہوں نے حامی بھری اور چند دوستوں کے ساتھ مل کر طے پایا کہ نئی جماعت کا نام جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ ہوگا۔دوسری طرف سردار بابر حسین نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔یہ اسی سال پانچ فروری کا دن تھا۔ہمارے لیے یہ نہایت تاریخ ساز دن تھا۔ایوان صحافت مظفرآباد میں ہم نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا باقاعدہ اعلان کردیا اور سردار بابر حسین کو صدر منتخب کردیا۔ساتھ ہی تنظیم کی تنظیم سازی کا بھی اعلان کردیا۔ہم نے جو اغراض ومقاصد طے کیے ان میں سب سے اہم یہ تھا کہ ہم حقیقی طور پر کشمیر کی تحریک کی پشتیبانی کریں گے اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آواز بلند کریں گے تاکہ نوجوان قیادت اوپر آئے اور کشمیر میں انقلاب کی ایک نئی روح بیدار ہو۔حالیہ تحریک آزادی کشمیر میں ہونے والے زخمی اور شہدا کے گھروں کی دیکھ بھال،دل جوئی اور عزت افزائی کرنا،نوجوانوں کو اپنے کشمیری ہیروز اور تاریخ کشمیر سے آشنا کرنا،تحریک آزادی کے لیے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال۔کرپشن کیخلاف جہاد،قانون کی حکمرانی،میرٹ کی پامالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے جدوجہد کرنا،آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو سامنے لانا۔ فائرسیفٹی، سول ڈیفنس کی تربیت دینا، اپنے علاقے کی بہتری کے لیے اتفاقِ رائے سے کام اورفیصلہ جات کرنا۔لوکل کونسل اوریونین کونسل کی تعمیر و ترقی کے لیے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پلان بنانا۔طلباء کے لیے تعلیمی وظائف اورکیریئر کونسلنگ کے لیے ورکشاپس کا انعقاد۔جوانوں کے لیے ٹیکنیکل تعلیم کے ساتھ ساتھ سمال بزنس کی انٹرنشپ کا انعقاد کرنا۔کھیلوں کے فروغ اورمنشیات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا۔ ماحولیات کی بہتری کے لیے جنگلات کا تحفظ و آگاہی۔لیڈرشپ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے تربیتی ورکشاپس اور یوتھ پارلیمنٹ کا قیام۔ختمِ نبوت اور حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسبانی۔خوشحالیِ کشمیر کے لیے نوجوان اور ایماندار قیادت کو آگے لا کر آزاد کشمیر کو قابض، کرپٹ سیاسی مافیا سے آزاد کروانا۔خواتین کے تحفظ کے لیے مکمل قانون سازی کرنا۔

    اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی مکمل قانون سازی کرنا۔عوام کے فری علاج معالجے کو یقینی بنانا۔یہ ہمارے اغراض ومقاصد تھے۔نوجوان ہم سے متفق ہوئے۔جس کے پاس بھی جاتے وہ ہمارے مشن کو سراہتا اور ساتھ چلنے کی یقین دہانی کرواتا۔لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا۔وہ دن بھی آیا جب پورے کشمیر میں ہم نے اپنا بہت کم وقت میں منظم نیٹ ورک قائم کرلیا۔ہم نے بہت سے خدمت کے کام کیے۔بالخصوص کورونا کی حالیہ لہر میں ہم نے عوام کی خدمت میں اپنا کردار نبھایا۔ہم نے جہاں موقع ملا بلدیاتی انتخابات کے لیے آواز اٹھائی۔سردار بابر حسین نے پورے کشمیر کے دورے کیے۔ہم نے عملی سیاست میں بھی اترنے کا فیصلہ کیا اور الیکشن کمیشنکیطرف سے اعلان ہوتے ہی ہم نے تقریبا ہر حلقے میں اپنے امیدوار نامزد کیے۔یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے اس کو قبول کیا اور ہمیں کامیابی ملی۔ہم نے دین دار و دیانتدار اور کشمیر کاز سے مخلص امیدواروں کا چناؤ کیا۔الیکشن کمیشن کی طرف سے ہمیں کرسی کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا۔ہم نے آزاد کشمیر الیکشن میں بھر پور مہم چلائی۔بڑی بڑی جماعتیں ہماری مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوئیں۔ہم پرامید ہیں کہ مجموعی اعتبار سے انتخابات میں اچھا ووٹ بنک حاصل کرکے کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں ایک الگ مقام بنالیں گے۔گذشتہ روز قبل ضلع باغ،نارووال،سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں بڑے ہمارے پاور شو ہوئے عوام نے ہمیں اپنی حمایت کا بھر پور یقین دلایا۔ہم حکومت میں آئیں یا نہ آئیں اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کرائیں گے۔رو ز گارکے مواقع فراہم کرینگے۔اوورسیز کشمیری اس میں ہمارے ساتھ تعاون کرینگے۔ ہم مہاجرین مقیم پاکستان‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور بیرو ن ممالک مقیم کشمیریوں کیساتھ مل کر سب کو متحد کرینگے۔ خواتین کی اسمبلی میں نمائندگی کو بڑھایا جائیگا۔ہم ایم ایل ایز کو نہیں یونین کونسل سطح سے نوجوان کونسلر ز کو آگے لائیں گے۔ تمام مسائل کا حل بلدیاتی انتخابات میں ہے۔ جب یہ نظام بحال ہو گا تو فنڈز براہ راست عوام تک جائیں گے۔ غریب آدمی آگے آئے گا۔ انصاف ملے گا۔ گزشتہ 30سا ل سے ایوانوں میں ایک مافیا مسلط ہے۔ یہ سب اپنے فائدے کیلئے الیکشن لڑتے ہیں کامیاب ہو کر لوٹ مار کرتے ہیں۔ یہ سب لوٹ مار روکنے کیلئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروانا چاہتے ہیں۔نوجوان ہمارے ساتھ ہیں بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لوکل لیڈرشپ کو اوپر لائینگے۔ موجود ہ سیاسی نظام میں ہر جماعت میں باپ کے بعد بیٹا اور اسکے بعد پوتا آگے لایاجارہاہے۔یہ لوگ خاندانوں کی سیاست کرتے ہیں۔اس نظام کو ختم کرینگے۔کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ان شاء اللہ امید کے ساتھ کہتا ہوں پچیس جولائی کا دن ہمارے لیے نوید کا باعث بنے گا آپ بھی آج باہر نکلیں اور کرسی پر مہر لگا کر ہمارے کارواں کو آگے بڑھانے میں ہمارا ساتھ دیں۔

    @SpokesmanJKUM

  • سوشل میڈیا اور ہماری زمہ داریاں   تحریر: سید لعل بُخاری

    سوشل میڈیا اور ہماری زمہ داریاں تحریر: سید لعل بُخاری

    اس بات میں کوئ شک نہیں کہ ڈیجیٹل سوشل میڈیا ،بطور ایک موثر قوت اور معاشرے کی آواز کے،اپنے آپ کو منوا چُکا ہے۔
    اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اب سوشل میڈیا کی پیروی کرنے پر مجبور ہے
    آپ شام کو ٹی وی پرکسی بھی ٹاک شو کو دیکھ لیں۔وہاں سوشل میڈیا کے ٹرینڈز پر پروگرام کیے جا رہے ہوں گے۔سوشل میڈیا پر چھاۓ رہے دن بھر کے موضوعات پر بات ہو رہی ہو گی۔
    سوشل میڈیا کے اس طرح اہمیت اختیار کر جانے سے بطور ایکٹوسٹ ہم سب کی زمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ہمیں اس فورم کا مثبت استعمال کرنا چاہیے۔تنقید کسی پر بھی کی جا سکتی،چاہے وہ حکومت ہو یا اپوزیشن،تنقید ضرور کریں،اسی تنقید سے معاشروں اور ملکوں کی اصلاح ہوتی ہے۔
    لیکن تنقید میں شائستگی کا پہلو نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔گالی گلوچ کو تنقید نہیں کہا جاسکتا۔آپ کسی کے لیڈر کو گالی دیں گے تو وہ آپ کے لیڈر کو مغلفات سے مخاطب کرے گا۔اس سے جہاں معاشرے میں منافرت اور کدورت بڑھے گی،وہیں آپ زاتی دشمنیاں بھی پال لیں گے۔جس سے کسی کا بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اپوزیشن اور حکومت کے غلط کاموں پر تنقید ضرورکریں۔مثبت تنقید زندہ معاشروں کی نشانی ہوتی ہے۔آپکی تحریرکے کمنٹس میں جو لوگ سُلجھے ہوۓ طریقے سے تنقید کرتے ہیں۔اُن کا مناسب جواب دیں۔جو لوگ حد کراس کرتے ہیں یا اپنی تربیت کا اظہار کرتے ہیں۔اُن کی بے ہودگی پر یا تو خاموشی اختیار کر لیں یا پھر FIAسائبر ونگ جیسے اداروں کو رپورٹ کریں۔
    گالی گلوچ زیادہ تر فیک اکاونٹس سے کی جاتی ہے،فیک اکاونٹس والے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ انکو کوئ دیکھ نہیں سکتا۔
    حالانکہ ایسی بات قطعا” نہیں ہے،موجودہ دور میں یہ بدمعاشی نہیں چل سکتی۔اداروں کے لیے ایسے فسادیوں کو پکڑنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔یہ لوگ جب پکڑے جاتے ہیں تو رو رو کر پاوں پکڑ رہے ہوتے ہیں کہ معاف کر دیا جاۓ۔تو اس سے بہتر نہیں ہے کہ بندہ گاجریں ہی نہ کھاۓ تاکہ پیٹ درد سے بچا جا سکے۔
    اللہ تعالی نے اگر آپ کو قلم کی طاقت دی ہے تو اسکا اسعمال اپنے ملک کی بہتری اور معاشرے کی بہتری کے لیے کریں۔
    ریاستی مفادات کو اپنے زاتی یا سیاسی نظریات کی بھینٹ مت چڑھائیں۔اس ارض پاک کا ہم سب پہ قرض ہے،اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر کے اپنا یہ قرض اتارنے کی کوشش کیا کریں تا کہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر،مضبوط اور خوشحال پاکستان مل سکے #
    @lalbukhari

  • انسانی جسم کی پہچان . تحریر : عبید الله

    انسانی جسم کی پہچان . تحریر : عبید الله

    انسانی پہچان میں فنگر پرنٹ کا بہت بڑا کردار ہے، کسی فرد کی الگ سے پہچان اٹھارہ سو اسی میں ڈاکٹر ہنری فالڈز جنکا تعلق فرانس سے تھا، انہو نے کی تھی. تب سے انسانی پہچان کا سلسلہ شروع ہوا جو آجکل کے جدید دور میں بھی سرِ نمایاں ہے جسکا متبادل کوئی اور زریعہ نہیں ہے. دنیا میں کم و بیش سات ارب نوے کروڑ سے زیادہ انسان رہتے ہیں اور کئ ارب سے زیادہ انسان اس دنیا فانی سے جا چکے ہیں اور نہ جانے قیامت تک کتنے انسان اس فانی دنیا میں جنم لیں گے لیکن تمام انسانوں کی فنگر پرنٹس ایک دوسرے سے جدا ہونگی حتیٰ کہ جُڑوا بھائیوں کے فنگر پرنٹس بھی جدا تھے اور ہوں گے. اس سب کے باوجود کئی لوگ جو اللہ تعالی کو نہ ماننے والوں میں سے ہیں وہ شکوہ کرتے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی میں مِل جاتا ہے اور اسکے جسم کی ہڈیاں خاک میں مِل جاتی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہیکہ انسان کے جسم کا ایک ایک ٹکڑا اکٹھا کرکے انسان کو پہلی والی شکل میں اتارا جائے گا، یہ ناممکن ہے لیکن اگر اسطرح ہو بھی جائے تو روزِ محشر کیسے اس انسان کی پہچان واضح ہوگی.

    اس کا جواب اللہ تعالی نےقرآن مجید کی سورۃ قیامت کی آیت نمبر 3 اور 4 میں دیا ہے.
    "أَيَحۡسَبُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجۡمَعَ عِظَامَهُۥ”
    ترجمہ
    "کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں”

    یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالٰی یقیناٙٙ انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں

    دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    "بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُۥ”
    ترجمہ
    "ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں”

    بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا. جن میں اللہ تعالیٰ کو نہ فقط بوسیدہ ہڈیوں کے جمع کرنے بلکہ انسان کے انگلیوں کے سروں کو بھی دوبارہ بنانے پر قادر قرار دی گئی ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آج سے چودہ صدیوں پہلے کسی کو علم تھا کہ ہر انسان کی انگلیوں کے نشانات ایک دوسرے سے جدا ہیں ؟
    بالکل یہ علم رکھنے والی زات الله تعالیٰ کی ہے اور کوئی زات نہیں.

    @ObaidVirk_717

  • اسپن بولدک کی بدلتی ہوئی صورتحال   تحریر: محمد اسعد لعل

    اسپن بولدک کی بدلتی ہوئی صورتحال تحریر: محمد اسعد لعل

    آج سے تقریباً بیس سال قبل افعانستان پر طالبان کی حکومت تھی۔11 ستمبر 2001 میں امریکہ میں ہونے والے حملہ کے بعد امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج افغانستان پر حملہ آور ہوتی ہیں اور طالبان کی حکومت کے خاتمے کا علان کیا جاتا ہے۔بیس سال تک افواج اور طالبان کے درمیان جنگ جاری رہتی ہے۔طالبان کی طاقت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا گیا۔اب غیر ملکی افواج کے انخلا کے موقع پر طالبان نے پھر سے افغانستان کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر نا شروع کر دیا ہے۔ اب تک طالبان افغان فوج کی چوکیوں، قصبوں اوربڑے شہروں سے متصل دیہاتوں کو قبضے میں لے چکے ہیں۔
    چمن بارڈر کے پاس کے علاقوں میں پہلے افغان فوج تھی جبکہ حال ہی میں طالبان نے وہاں کا کنٹرول سمبھال لیا ہے۔ یہ علاقے افغان فوج کے لیے ایک مصیبت بن گےہیں۔ افغان حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ یہ علاقےہمارے کنٹرول میں ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے ثابت کیا کہ یہ وہ جگہ ہے جو بادستور طالبان کے کنٹرول میں ہے ۔
    یہ تو ہے دونوں طرف کے بیانات لیکن وہاں کے لوکل میڈیا کے مطابق سپن بولدک( جو کہ پاکستان کی سرحد سے متصل علاقہ ہے) کے مین بازار میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے،گزشتہ دو دنوں سے وہاں جنگ کی سی کیفیت ہے۔ بہت بڑی تعداد میں دونوں طرف کے لوگ جان سے گئے اور بہت بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوے ہیں ۔
    ایک اور بڑی دلچسپ صورت حال تب پیدا ہوئی جب افغان حکومت نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے ہم سے کہا ہے کہ سپن بولدک کے وہ علاقے جو طالبان نے آپ سے چھینے ہیں اگر آپ نے ان علاقوں کو واپس طالبان سے چھین لینے کی کوشش کی تو پاکستان کی فضائیہ آپ پر حملہ کر دے گی۔جب کہ دوسری طرف افغانستان کی حکومت کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ یہ علاقہ جس پر طالبان نہ قبضہ کر لیا تھا افغان فوج نے طالبان سے آزاد کروا لیا ہے اور اب وہاں افغان حکومت کا کنٹرول ہے۔
    اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ افغان حکومت نے وہ علاقہ طالبان سے واپس لے لیا ہے تواب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی آئیر فورس نے حملہ کیوں نہیں کیا اگر کیا ہے تو کہا کیا؟
    افغان حکومت کی دونوں باتوں میں سے کوئی ایک بات جھوٹ ہو سکتی ہے یا تو انہوں نے طالباں سے سپن بولدک کا علاقہ واپس لے لیا ہے یا پھر پاکستان نے حملہ کرنے کی دہمکی دی۔
    پاکستان نے تردید کرتے ہوئے واقعے کے بارے میں بتایا کہ افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کیا اور یہ رابطہ فوج کی سطح پر ہوا کہ ہم طالبان پر ایک بڑا حملہ کریں گے اور یہ حملہ سپن بولدک میں کریں گے جو کہ پاکستان کی سرحدی علاقے کے بلکل قریب ہے۔پاکستان نے کہا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن افغان حکومت نے کہا کہ وہ اس علاقے میں فضائی حملہ کریں گے اور پاکستان کو اس لیے پہلے بتا رہے ہیں کہ ممکنہ نقصان کا پاکستان کو پہلے سے علم ہو۔
    اس بات کے جواب میں پاکستان نے تحفظات کا اظہار کیا کہ یہ چمن بارڈر کا ایریا ہے یہاں ہماری املاک اور شہری بھی ہیں۔ اور اس ایریا میں ہمارے فوجی بھی ہیں ، ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ سرحد کی اس جانب کو مالی و جانی نقصان نہ ہو۔ آپ اپنی سرحد کے اندر جو بھی کریں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر سرحد کی اس طرف کوئی نقصان ہوا تو ہم اس کا جواب ضرور دیں گے۔
    یہ بات بلکل ٹھیک ہے کہ ان کی آپس کی لڑائی میں اگر ہمارے فوجی شہید ہو جائیں تو ہم ضرور جواب دیں گے اور جواب بھی کیوں نہ دیں اگر ہمارے شہری شہید ہو جائیں تواس کا مطلب کہ ہماری ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ میں نا کام رہی۔ پاکستان کے تحفظات بلکل درست ہیں کیوں کہ افغان فوج پروفیشنل نہیں ہے۔کچھ دن پہلے افغان فوج طالبان کو مارنے اپنا ایک ہوائی مشن لے گئی اور اس گروپ کو مار دیا جو کہ افغان حکومت کی طرف سے شمالی اتحاد کے علاقے ہیں طالبان سے لڑ رہا تھا۔افغانستان کی ائیر فورس کو پتا ہی نہیں چلا کہ وہ کس کو مار رہے ہیں
    پاکستان نے دو ٹوک بات کی کہ ہم ایسی کوئی بھی چیز برداشت نہیں کریں گے کہ جس میں پاکستان کو زرہ بھر بھی نقصان پہنچے، یہ تھا پاکستان کا جواب ایک ذمہ دار ریاست کا جواب۔
    افغانستان نے اس بات کا پتنگر بنایا کہ پاکستان طالبان کے حق میں ہے،پاکستان طالبان کو بچا رہا ہے ۔ افغان حکومت کا جھوٹ اپنے ہی بیان سے ثابت ہو گیا،اگر تو آپ نے طالبان سے علاقہ واپس چھین لیا ہے تو آپ پاکستان سے فضائی حملے کی اجازات کیوں مانگ رہے ہیں اور اب افغان حکومت یہ کیوں کہ رہی ہے کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ طالبان سے علاقے واپس لیے جائیں۔
    برحال موجودہ صورتحال کے مطابق اس وقت ایران ، تاجکستان،ترکمانستان،چین اور پاکستان کے بارڈر پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ ازباکستان کے بارڈر کےکچھ علاقوں پر ابھی بھی افغان فوج کا کنٹرول ہے۔
    دوسری جانب چائینہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔اور اب اس صورتحال کو سمبھلنے کی ذمہ داری پاکستان،چائینہ،تاجکستان،ازبکستان،ایران اور ترکی پر ہے۔ خطے کے یہ ممالک مل کر اب افغانستان کی صورتحال کو بہتر کریں گے۔لیکن اس کے لیے سارے سٹیک ہولڈرز کو بیٹھنا ہو گا اور میرے مطابق اگلے تین دنوں میں یہ پاکستان میں بیٹھنے والے ہیں۔
    آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ آمین
    پاکستان زندہ آباد
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • واپڈا، کرپشن اورعوام . تحریر :‌ منیب خان

    ھمارے علاقے مطلب کے پی بنوں میں زیادہ تر بجلی نہیں ہوتی جتنی ہوتی ہے ان سے گھر کے ضروریات بامشکل پوری ہوتی ہے جیسے پانی وغیرہ جس وقت بجلی ہوتی تو ولٹیج اتنا کم ہوتا ہے کہ کوئی بھی کام نارمل بجلی سے نہیں ہوتا مجبور بڑا والا سٹیبلیزر لگانا پڑتا ہے۔

    کنڈہ سسٹم اور زیادہ جرمانے کی وجہ سے واپڈہ والوں نے لوگوں کے میٹر تو ضبط کرلئے لیکن دوبارہ لگائے نہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے چوری کی بجلی استمعال شروع کردی ہے۔جسکا نقصان خکومت کو ہورہا ہے. 100 میں 10 لوگ بجلی کا بل ادا کرتے ہیں۔
    باقیوں سے یہاں کے واپڈا والے 500 روپے نقد گھر کا لیتے ہیں جہاں تک میں نے سننا ہے بل یا رسید کے بغیر پیسوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ یہ پیسے کہا جاتے اللہ بہتر جانتا ہے۔ اوپر سے امیر، غریب کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتے ہیں۔ جہاں پر غریب کے گھر میں بمشکل ایک پنکھا اور بالب ہوتا ہے تو دوسری طرف امیر کے گھر میں اےسی ،فریج اور ہائی ولٹیج بالب لاگے ہوئے ہوتے ہیں۔

    ٹرانسفارمر ٹھیک کرنا واپڈا والوں کا کام ہے لیکن یہ کام بھی ھمارے ہاں علاقے والے خود کرتے ہیں اپس میں پیسے جمع کرکے۔
    اسکا خال ہوسکتا ہے اگر واپڈا والے اخساس سروے کا ڈیٹا لیکر اسی کے مطابق لوگوں پہ بوجھ ڈالے۔ میں نے بہت عرصے اپنے علاقے میں میٹر ریڈر نہیں دیکھا۔ مسجد کے بل میں بھی پی ٹی وی کا بل اتا ہے۔ یہی سے ھماری زوال شروع ہوتا ہے۔
    اگرخکومت وقت نے اس طرف توجہ دی اور اسکو ٹھیک کرے تو خکومت اور عوام کے بہت سے مسلے ٹھیک ہوجایئنگے ایک تو پیسہ خکومت کو ملنا شروع ہونگے اور دوسری طرف عوام کو کچھ خد تک ریلیف بھی مل جائے گا۔ پاکستان کے ہر مخکمہ میں اصلاحات ضروری ہے لیکن شروعات وپڈا سے کرے ۔

    @Moneebk6759367

  • عزت اور زلت  تحریر : اسامہ ذوالفقار

    عزت اور زلت تحریر : اسامہ ذوالفقار

    ‏وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ ٱلْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

    اس کا یہ ترجمہ کیا جاتا ہے وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    ‏عزت اور زلت کی باتیں ہر گلی محلے میں ہو رہی ہوتی ہیں مثلا ایک شخص ابھی کل جاتیاں چٹخاتا پھر رہا تھا اور آج لاکھوں کا مالک ہو گیا خواہ وہ دولت سٹے بازی چور بازاری سمگلنگ رشوت وغیرہ کے زریعےہی کیوں نہ حاصل ہوئی ہو اور دوسری طرف کوئی نوابوں کےخاندان کا لڑکا جو کل تک مرسیڈیز ہر ‏ہوا خوری کرتا تھا آج بھیک مانگتا دکھائی دےرہا خواہ اس نےاپنی جائیداد شراب خوری میں ہی کیوں نہ آڑا دی ہو۔۔۔ اور لوگ پتہ ہے کیا کہتے ۔۔۔۔ ہاں بھائی اللہ کی شان وہ جسے چاہے شاہ بنا دے جسے چاہے گدا اسکے ہاں کسی کو دم مارنے کی اجازت نہیں یہ ہے باطل مفہوم جو ہم لیتے ہیں.
    ‏پہلی بات قرآن میں جسے عزت اور زلت کہا گیاہے ہمارے معاشرے میں اس عزت اور زلت کا مفہوم بلکل الٹا ہے ہمارے ہاں عزت کا معیار کیا ہے؟ دولت ہے نا؟ خواہ اس کا کیریکٹر جو بھی ہو معاشرہ تو اسے ہی بڑا آدمی سمجھتا ہے اور غریب کا بچہ جتنا ہی شریف کیوں نہ معاشرہ اسے کبھی عزت کی نگاہ ‏سے نہیں دیکھتا ابھی تجربہ کریں آپکے گھر میں ایک کروڑ پتی شخص نے آنا ہو تو آپکا اہتمام قابل دید ہو گا ۔۔۔
    نہ صرف یہ کہ ہمارا عزت اور زلت کا معیار قرآن کے بالکل الٹ ہے اورتو اور ایک ظلم اور کرتے کہ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے بس یونہی اور وہ جسے چاہتا زلت دیتا ہے.
    ‏بس یونہی؟ یعنی اللہ کے ہاں کوئی قانون اور ضابطہ سرے سے ہے ہی نہیں؟؟ نعوذ باللہ؟ یعنی یونہی کسی کو عزت دے اور دل کرے تو زلیل کر دے؟؟ نعوز باللہ؟ یہ ہے ہماری قرآن فہمی؟ یہ تصور ہے اللہ رحمان کا کہ جیسے ہمارے معاشرے میں کوئی قانون قاعدہ نہیں ایسے خدا کےہاں بھی نعوز باللہ ‏کوئی اصول نہیں؟؟؟ کیا اللہ رحمان ایسا ہو سکتا؟؟؟
    اللہ تعالی کے ہاں کوئی بے اصولی نہیں ہوتی اور کائنات کے جملہ امور مشیعت الہی کے کے تحت میرٹ پر انجام پاتے ہیں پہلے اسے تو اپنے پلے سو فیصدی یقین سے باندھ لیں. اللہ کے ہاں کوئی شارٹ کٹ نہیں ایک منظم اور مہذب نظام ہے جس کے تحت ‏عزت اور زلت ملتی ہے اور ہاں ہمارے معاشرے کی جھوٹی عزت اور زلت مراد نہیں قرآن کے اندر عزت اور زلت کے معانی اور ہیں.

    Twitter id : RaisaniUZ_

  • کشمیر الیکشن اور ہمارے ساستدانوں کی بڑی بڑی باتیں . تحریر :‌ محمد وسیم

    کشمیر الیکشن اور ہمارے ساستدانوں کی بڑی بڑی باتیں . تحریر :‌ محمد وسیم

    2013 کا الیکشن جب ہو رہا تھا تب سے مجھے سیاست کا شوق چڑھ گیا تھا اس وقت جب میں اپنے سیاستدانوں کے تقریریں اور وعدے سنتا تھا تو مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ واقعی میں ہمارے سیاستدان بہت مخلص ہے اپنے قوم کے ساتھ کچھ وقت جب گزرا نئ پارٹی کو حکمرانی کرنے میں۔ تو تب مجھے پتہ چلا کہ جو باتیں اور نعرے جلسوں میں لگائ گئ تھی وہ سب تو ایک دھوکہ تھا وہ باتیں وہ نعرے سب کچھ بھول گۓ تھے ہمارے حکمران اسکی کچھ مثالیں یہ ہے کہ ہمارے تھر چھوٹے چھوٹے اور پیارے بچے بھوک سے مر رہے تھے جب کہ ہمارے سیاستدانوں کو کھانے سرکاری ہیلی کاپٹر میں جاتے تھے ہرطرف مہنگائ، بجلی کی لوڈشیڈنگ، اور یہاں تک کے میرے پاکستانیوں کو پانی بھی صاف نہیں ملتی تھی۔ پاکستان میں غربت تیزی سے بڑھنے لگی ہر دوسرا بندہ بے گھر ہے ہر دوسرا بندہ قرضہ دار اور بےروزگار ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو اپنے ملک کی کوئ فکر نہیں ہے ان کے دور کے رشتہ دار بھی سرکاری املاک کا استعمال کلھم کھلا کررہے ہے۔ ہمارے سیاست دان الیکشن ہوتے ہی اپنے وعدے بھول جاتے ہے اور پانچ سالوں کیلۓ بادشاہ بن کر محل میں بیٹھ جاتے ہے عوام کے مسائل کے حل کیلۓ اسمبلیاں موجود ہے لیکن ہمارے سیاست دان وہاں بھی جاکر لڑائیاں کرکے آتے ہے اور وہاں پر عوام کے مسائل بتانے کے بجاۓ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہے اور ایک دوسرے پر حملے کرتے رہتے ہے۔ قائدءاعظم جب پہلے کابینہ کی اجلاس کی صدارت کر رہا تھا تو ان سے ای ڈی سی نے پوچھا کہ سر اجلاس میں قافی پیش کی جاۓ یا چاۓ؟ قائداعظم نے چونک کر سر اٹھایا اور فرمایا یہ لوگ گھروں سے چاۓ قافی پی کر نہیں آۓ؟ پھر قائداعظم نے فرمایا کے جس کو چاۓ یا قافی پینی ہے وہ اپنے گھروں سے پی کر آۓ اور کہا کہ یہ قوم کا پیسہ ہے قوم کیلۓ ہے وزیروں کیلۓ نہیں۔ ایسے بھی ہمارے لیڈرز ہوا کرتے تھے۔

    ہمارے ملک کو اس وقت باتوں والے لیڈرز کی نہیں بلکہ کام والے لیڈرز کی ضرورت ہے۔ اگر ایک حکمران پارٹی کام نہیں کریگی تو وہ خود کو بدنام کریگی۔ قائدءاعظم نےکوئٹہ میں 15جون،1948 ء کو میونسپلٹی سے خطاب کرتے ہوۓ کہا تھا کہ بلاشبہ نمائندہ حکومت اور نمائندہ ادارں کا ہونا بہت خوب اور بہت ضروری ہے ۔ لیکن اگر چند اشخاص انہیں محض ذاتی اقتدار اور املاک میں اضافے کا ذریعہ بنالیں اور انہیں ایسی پست سطح تک گسھیٹ لائیں تو ایسی حکومت اور ادارے نہ صرف اپنی قدر اور منزلت سے محروم ہوجاتے ہے بلکہ بدنامی بھی کمالیتے ہےاصل میں میرے ا س کالم لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں اب باشعور عوام بننا چاہیئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے ملک میں جتنے مسلۓ مسائل اسے کونسا وہ بندہ یا وہ پارٹی اچھی طریقے سے حل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے لوگ بھی اپنا شعور الیکشن کے وقت بھول جاتے ہے اور اپنا ووٹ بیجھ دیتے ہے جس سے ہمارا ملک تباہی کی طرف جاتا ہے۔
    اب چونکہ کشمیر کا الیکشن نزدیک ہے تو میں اپنے کشمیریوں سے کہونگہ کہ آپ بہت ہی سمجھدار لوگ ہو۔اپنے ووٹ کو بیچنے کے بجاۓ اسے ایسے بندے کو دے جو آپ لوگوں کیلۓ سوچتا ہو نا کے وہ کل منتخب ہو کر آپ لوگوں کو بھول جاۓ اور آپ لوگوں کے پیسوں پر اپنے اور اپنی فیملی کے ساتھ عیاشیاں کرتے رہے. یہ وطن ہمارا ہے اور ہمیں خوو اس کا خیال رکھنا ہوگا نا کہ ہم اسے کسی کرپٹ کے حوالے کرکے اپنے ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹا دے.

    Twitter id : Waseemk370

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میلا  تحریر: آفاق حسین خان

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میلا تحریر: آفاق حسین خان

    ٹی ٹوئنٹی کرکٹ آج کے دور کا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا طرز ہے- ٹی ٹونٹی کرکٹ کی شروعات سال دوہزارتین میں انگلش کاؤنٹی سے ہوئی اورآہستہ آہستہ پوری دنیا میں اس نئے طرز پرکرکٹ کھیلی جانے لگی- مختلف ممالک میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ دیکھنے کا رجحان بڑھنے لگا- اوراگرپاکستان کی بات کی جائے تو یہاں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا آغاز سال دو هزار پانچ میں اے-بی-این امرو ٹی ٹوئنٹی کپ کے نام سے ہوا اور اس باہمی کھیل کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقد کیا گیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے گیارہ ٹیموں نے حصہ لیا – شائقین کرکٹ نے بھرپور شرکت کرکے اس ٹورنامنٹ کو کامیاب کیا اور پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مقبولیت روز بروز بڑھنے لگی جس کے بعد یہ سالانہ ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ بن گیا- پاکستان کے پہلے ٹی ٹوئنٹی کھیل کی فتح حاصل کرنے کا اعزاز فیصل آباد ٹیم کے حصے میں آیا جبکہ سیالکوٹ چھ ,لاہور تین , پشاور دو اور کراچی ایک بار چیمپیئن بنے-
    دنیا میں پہلا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ستمبرسال دو ہزار سات میں کھیلا گیا جس کی میزبانی ساؤتھ افریقہ نے کی, محض تیرہ دن کے اس ورلڈ کپ میں مختلف ممالک کی بارہ ٹیموں نے حصہ لیا – اب تک چھ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلے جا چکے ہیں جبکہ سال دو ہزارنو کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی عمدہ کارکردگی کے باعث چیمپین شپ کا تاج پاکستان کے سر پر سجا جو ایک اعزاز کی بات ہے- حال ہی میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سال دوہزاربیس آسٹریلیا میں منعقد ہونا تھا اور بہت سے شائقین کرکٹ کوبڑی بے تابی سے اس کا انتظار تھا لیکن کرونا وائرس کے پیش نظراس ورلڈ کپ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا- کرونا وائرس جیسی جان لیوا وبائی بیماری کے باعث تقریبا پوری دنیا لاک ڈاؤن کی طرف چلی گئی جس سے کرکٹ کے میدان بھی ویرانے کا منظرپیش کرنے لگے اوردوسرے کھیل بھی اس سے شدید متاثر ہوئے البتہ چند روز پہلے آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس کے ٹیم گروپس کا اعلان کیا ورلڈ کپ کی میزبانی بی سی سی آئی کرے گی جس کے میچز یو اے ای اور عمان میں کھیلے جائیں گے- سترہ اکتوبر سے اس باہمی کھیل کا آغاز ہوگا اگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ گروپ کی بات کی جائے تو اس کو دومختلف زُمرہ میں تقسیم کیا گیا ہے سپر بارہ میں آٹھ بڑی ٹیمیں رکھی گئی ہیں جس میں افغانستان کی ٹیم کا نام بھی شامل ہے جو ایک حیران کن اور قابل تعریف بات ہے "انتھک محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے” جبکہ راونڈ ایک میں بھی آٹھ چھوٹی ٹیمیں ہیں جس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کا نام سر فہرست ہے- نوے کی دہائی میں دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیموں میں سری لنکن ٹیم کا شمار ہوتا تھا لیکن افسوس کے ساتھ آج کل خراب کارکردگی کے باعث مشکلات سے دوچارہے اورامید کی جاتی ہے کہ ورلڈ کپ سال دوهزارو کیس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سپر بارہ میں بڑی ٹیموں کےمدمقابل ہوگی – راؤنڈ نمبرایک کودو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے, گروپ اے اور گروپ بی- گروپ اے میں چارچھوٹی ٹیمیں ہیں جس میں سے دو بہتر کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کا سپربارہ کے لیے انتخاب کیا جائے گا جبکہ گروپ بی میں بھی جو دوٹیمیں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کریگی وہ سوپر بارہ کے لیے کوالیفائی کر جائیں گی- پاکستان کو سپر بارہ کے گروپ نمبر دو میں رکھا گیا ہے اوراس کے ساتھ بھارت نیوزی لینڈ اور افغانستان کی ٹیمیں بھی شامل ہیں جبکہ سپر بارہ کے گروپ نمبرایک میں انگلینڈ, آسٹریلیا , ساؤتھ افریقہ اورویسٹ انڈیز شامل ہیں-
    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس شائقین کرکٹ کے لیے انبساط کی بات ہے اور امید کی جاتی ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دوہزاراکیس سے کرکٹ میدانوں کی رونقیں دوباره بحال ہوں گی اورایک اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی- اور اس کے ساتھ یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس میں عمده کارکردگی دکھائے گی اور ایک با پھر فتح یاب هوکر پاکستان کا پرچم بلند کرے گی-

    Twitter: @AfaqHussainKhan

  • اورسيز پاکستانی اور  وزيراعظم عمران خان     تحرير : عٽمان چوہدری

    اورسيز پاکستانی اور وزيراعظم عمران خان تحرير : عٽمان چوہدری

    بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمیشہ سے اربوں ڈالر کی ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعہ ملکی معاشی ترقی کی سمت ایک اہم ستون رہے ہیں۔

    اگرچہ سابقہ ​​تمام حکومتوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کی شراکت کے لئے مختلف مراعات سے نوازنے کا وعدہ کیا تھا ..
    لیکن کسی نے بھی ان کے وعدوں کوتکميل تک نہیں پہنچایا جتنا وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکومت کر رئ ہے۔

    کورونا وائرس وبائی بیماری کے پھیلاؤ کے بعد 500 سے زائد ملکی اور بین الاقوامی پروازوں پر متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے 304،000 پاکستانیوں کی کامیاب وطن واپسی اس کے غیر ملکی شہریوں کے لئے حکومت کی سنجیدگی ، عزم اور ترجیح کی عکاسی کرتی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید ذوالفقار بخاری پورے منصوبے کو کامیابی کے ساتھ منصوبہ بنانے اور اس پر عمل کرنے میں معاون تھے۔ یہ اس وقت کی سب سے بڑی وطن واپسی کا پروگرام تھا جو جنوبی ایشین ملک نے اپنی تاریخ میں چلایا تھا۔
    حال ہی میں شروع کیے گئے نئے وزیر خارجہ کے پورٹل کی بدولت ، متحدہ عرب امارات میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے مسائل کو جلد حل کر سکتے ہیں۔

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شکایات ، مشورے اور آراء درج کرنے میں مدد کے لئے دبئی ، جدہ ، لندن ، نیویارک اور بارسلونا سمیت بیرون ملک مقیم پاکستان کے پانچ مشنوں میں پاکستان کا ’وزیر خارجہ کا پورٹل‘ ابتدائی طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نئے اقدام کی خاص بات یہ ہے کہ ان ممالک میں غیر ملکی شہری بھی پورٹل ڈاؤن لوڈ اور اندراج کرسکتے ہیں اگر ان ممالک میں غیر ملکی مشنوں سے نمٹنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو وہ اپنے خدشات اور تجاویز کا اظہار کرسکتے ہیں۔ یہ پورٹل آہستہ آہستہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی مشنوں میں متعارف کرایا جائے گا۔

    وزیر اعظم خان نے حکم ديا کہ کم مزدوری حاصل کرنے والے مزدوروں پر پہلے ہی بیرون ملک سخت کاروباری حالات کا بوجھ پڑا ھوتا ھے ، اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو آسان بنائے اور انہیں اور ملک میں ان کے اہل خانہ کے لئے ضروری سہولیات اور مراعات فراہم کرے۔

    وزیر اعظم نے متنبہ کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ملکیت پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متعلقہ ہدایات جاری کی جائیں گی۔

    اميد کرتے ہيں عمران خان صاحب ايسے ہی اورسيز پاکستانيو ں کے مسا ئل ترجيی بنيادوں پر حل کرتے رہے گے ۰

  • عورت اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امیرحمزہ کمبوہ

    عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر : امیرحمزہ کمبوہ

    ‏ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب بہو بیاہ کر گھر میں آتی ہے تو اس سے بیٹا پیدا ہونے کی امیدیں لگا لی جاتی ہیں ، اگر بیٹا پیدا نہ ہو اور بیٹی کے بعد پھر بیٹی پیدا ہو جائے تو جب تک بیٹا پیدا نہ ہو تب تک خاندان میں اضافہ جاری رکھنے کا سوچا جاتا ہے چاہے اس کوشش میں پہلے سے موجود بیٹیوں کی صحیح تربیت ، صحت اور خوراک کو نظر انداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے

    اور اس بات کا الزام بھی ہمیشہ عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے کہ تیسری بیٹی کے بعد چوتھی بیٹی پیدا کیوں ہوئی ہے ، لیکن شاید کبھی کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہو کے تیسرے بیٹے کے بعد چلو چوتھی بیٹی ہی پیدا ہو جاتی

    ہمارے معاشرے میں آنے والے بچے کی جنس چاہے مرد ہو یا عورت لیکن اس عمل میں ہمیشہ عورت کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے جس عورت کے ہاں خدانخواستہ زیادہ بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو اس کے سسرال والے بھی اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے اور یہ سب کرنے والی بھی ایک عورت یعنی کے اس کی ساس ہی ہوتی ہے

    لیکن اگر عورت کے بھائی اور ماں باپ کا سایہ سر پر ہوگا اور وہ خیال کرنے والے ہوئے تو عورت کا قادر سسرال میں قدرے مضبوط ہوگا ، لیکن اگر اسی عورت کے ہاں بیٹے پیدا ہوجائیں تو اس کی بطور بیوی اور بہو کی حثیت مضبوط ہوگی اور اس سے گھر میں بطور خوشیاں لانے والی عورت کا تصور کیا جائے گا

    اللہ پاک سورہ شوری میں ارشاد فرماتے ہیں
    ترجمہ: اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے۔

    اگر اس ارشاد باری کو مدنظر رکھا جائے تو آج کی عورت سمجھنے سے قاصر ہے کہ اولاد کی جنس کا ذمہ دار ہمیشہ عورت کو ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے !

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد باری کا مفہوم ہے کہ
    جس نے اپنی دو بیٹیوں کو پالا پرورش کی اور ان کا نکاح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے یہ دو انگلیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیں

    اس لیے ہمیشہ بیٹی کی پیدائش پر مجرم عورت کو ٹھہرانا بالکل بھی درست نہیں ہے

    Twitter handle @AHK_313