Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ٹیچراور سزا . تحریر :  محمد وقاص شریف

    ٹیچراور سزا . تحریر : محمد وقاص شریف

    نبی آ خر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا فخر آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر نہیں کیا۔ جتنا اپنے آپ کو معلم کہنے پر کیا۔ زبان زد عام میں دیکھا جائے تو نبی کا درجہ ایک معلم سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ معلم ہونے اور کہلانے پر متفخر ہیں۔ ایک استاد اپنے طالب علم کو سزا دے سکتا ہے یا نہیں اس بات کا اندازہ لگانے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ اسلام میں سزا کا تصور ہے یا نہیں۔ انسانی زندگی میں جس طرح جزا کا تصور ہے۔ اسی طرح سزا کا بھی تصور ہے۔ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا اور فرمایا کہ نیکی اور بدی کا اختیار تیرے ہاتھ میں دیتا ہوں مگر یاد رکھ نیکی کی صورت میں جنت اور بدی کی صورت میں دوزخ تیرا مقدر ہو گی۔ یہ تو آخرت کی بات تھی۔ دنیا بھر میں عدالتی نظام موجود ہیں۔ پولیس اور ایجنسیز متحرک ہیں.

    وہ مختلف جرائم کرنے والوں پر ہاتھ ڈالتی ہیں۔ ان کو گرفتار کرتی ہیں۔ اور ایک منظم عدالتی نظام کے ذریعے ان کو اپنے کیے کی سزا ملتی ہے۔ اسی دوران بے گناہ افراد کو باعزت رہائی بھی ملتی ہے۔ نماز کے بارے میں حکم ہے۔ کہ بچہ 7سال کا ہو جائے تو اسے پیار سے نماز پڑھنے کا کہیں نہ پڑھے تو ڈانٹے اور اگر ڈانٹ بھی کم پڑ جائے تو آ سے سزا دیں۔ یاد رہے کہ سزا سے مراد تشدد ہرگز نہیں۔ کیونکہ مقصدیت بچے کی اصلاح ہے۔ کھال اتارنا ہرگز نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ بچوں پر درندگی کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر استاد بندہ بشر ہونے کی بنیاد پر کسی بچے کو معمول سے زیادہ سزا دے بیٹھتا ہے تو آس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے کہا جاتا ہے کہ” غلطی فطرت آ دم ہے کیا کیا جائے۔ اس کا ایک اعلی ترین اخلاقی اور مذہبی حل یہ ہے کہ اس کو ایک موقع دیا جائے کیونکہ اس نے یہ فعل ذاتی دشمنی یا رنجش کی بنیاد پر نہیں کیا ہوتا بلکہ اس کو اس بات کا صدمہ دکھ اور رنج ہوتا ہے کہ آس کی اتنی زیادہ توجہ اور محنت کے باوجود بچہ اس کے کیے کرائے پر پانی پھینک دیتا ہے اس کی توقعات کا جنازہ نکالتا ہے تو وہ مایوسی اور ذہنی تناؤ کی بنیاد پر بچے پر ہاتھ اٹھا دیتا ہے۔ جس سے بعض اوقات بچے زخمی ہو جاتے ہیں اور والدین اپنے بچوں کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتے اور یوں ایک جھگڑے کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ پچھلے دنوں سند یلیا نوالی کے ایک نجی سکول میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا۔ بچے پر تشدد کا معاملہ سامنے آیا جس پر ورثاء نے ٹیچر کو کوئی موقع دئیے بغیر اس پر چڑھائی کر دی۔ اور بھرے شہر میں اس کی عزت مٹی میں ملا دی۔

    بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی دوران تشدد ٹیچر کی نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ اسے وائرل بھی کیا گیا۔ پیغمبرانہ پیشے کے حامل استاد پر جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ باعث شرم ہے۔ اگر استاد کو ایک موقع دیا جاتا تو یقیناً اس طرح کا واقعہ کبھی بھی پیش نہ آتا لیکن ایک عالم کو جہالت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جس سے انسانی سر شرم سے جھک گئے اس تشدد سے بچے کے زخم تو نہیں بھرے لیکن استاد کے زخم ہمیشہ کے لئے ہرے ہو گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد ہے جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا آ قا اور مولا ہو گیا۔مہذب معاشرے میں انجانے میں کسی شخص کو عدالت میں بلایا جاتا ہے جب جج صاحب کو پتا چلتا ہے کہ یہ شخص جو اس وقت عدالت میں موجود ہے وہ ایک ٹیچر ہے تو وہ کرسی چھوڑ کر احتراماً کھڑا ہو جاتا ہے۔غور طلب بات یہ ہے جس بچے کو ٹیچر چھ سال سے پڑھا رہا تھا اور اس کی تعلیم و تربیت کر رہا تھا اس کے مرتبے کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔
    تھوڑا کہئیے کو بہت جانئے گا۔

    @joinwsharif7

  • حجاب پر پابندی . تحریر : محمد ذیشان

    حجاب پر پابندی . تحریر : محمد ذیشان

    یوروپی عدالت انصاف نے اس ہفتے فیصلہ دیا تھا کہ مسلمان خواتین کو حجاب پہننے کی وجہ سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ اس جارحانہ فیصلے سے اسلامو فوبیا کو مزید تقویت ملے گی ، مسلم خواتین کو مزید پسماندہ اور الگ تھلگ کیا جائے گا ، اور اس خلاء کو اور گہرا کیا جائے گا، یہ فیصلہ بدلا جانا چاہئے۔ ایک مسلمان عورت کا حجاب عیسائی راہبہ کے حجاب سے کس طرح مختلف ہے سوائے اس کے کہ یہ الگ عقیدے کے لئے ہے؟ خواتین کو یہ بتانا مضحکہ خیز ہے کہ وہ اس طرح پہن سکتی ہیں نہ کہ اس طرح۔

    یوروپی یونین اور نام نہاد عدالتی نظام دوسرے مذاہب کے احترام اور فرائض کی خلاف ورزی کرکے مذہب کی جنگ لڑ رہے ہیں ، جس سے تشدد میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگا۔ یہ فیصلہ بین المذاہب ہم آہنگی کی تمام کوششوں کو الٹ دے گا۔ مجھے٪ 99 فیصد یقین ہے کہ وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ دوسرے مذہبی گروہوں نے بھی ایسے ہی احکامات لگانا قبول کرلیا ہے جنہوں نے اپنے بالوں کو ڈھانپنے کا انتخاب کیا ہے (آرتھوڈوکس یہودی خواتین ، راہبہ وغیرہ) اگر آپ مختصر یا مکمل طور پر لباس پہننا چاہتے ہیں اور آپ مسلمان نہیں ہیں تو کیا اس کی اجازت ہوگی؟

    میرا جسم میری مرضی کا کیا ہوا؟ یوروپی یونین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر مسلمان خواتین گاہکوں کے ساتھ آمنے سامنے کام کریں یا ملازمت کی جگہ پر مذہبی لباس پہنیں تو حجاب یا ہیڈ سکارف پہننے والی خواتین کو برطرف کردیا جائے۔ یوروپی یونین کی عدالتوں نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر ان کا مذہبی لباس کام کی جگہ پر تنازعہ پیدا کرتا ہے تو کمپنیاں حجاب کرنے والی خواتین کو برطرف کرسکتی ہیں۔
    کاش وہ متعصب افراد اور نسل پرستوں کے معاملے میں اتنے سخت ہوتے جن کا کام ہی اسلامو فوبیا کی اصل وجہ ہے۔ ہزاروں مسلم خواتین اور مذہبی گروہوں نے یورپی یونین کی عدالت کے کام کے مقام پر ہیڈ سکارف پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے "امتیازی سلوک” اور "مسلم خواتین کی پولیسنگ” قرار دیا ہے۔

    تو مغربی ممالک کی بڑی بڑی باتیں کہاں ہیں جو کہتے ہیں کہ ‘عورتیں جو چاہیں پہن سکتی ہیں’۔ اس غیرجانبداری سے اندازہ لگائیں، اس معاملے میں پگڑی یا صلیب پہننا شامل نہیں ہے۔ یورپ کی اعلیٰ عدالت نے صنفی اسلامو فوبیا کو بڑھانے اور مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والی نفرت سے نمٹنے کے بجائے ، نفرت کا اظہار کیا اور نفرت کو فروغ دیا۔

    اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات خاص طور پر مغرب میں تشویش کا باعث ہیں، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کو ان کے حجاب پر پابندی پر شرم آنی چاہئے! کسی کے مذہب کا اظہار کرنا گاہکوں کے ساتھ کسی کے معاملات کو محدود یا تبدیل نہیں کرتا ہے یا کسی کے ساتھ سلوک کرنے کے اس طریقے کو متاثر نہیں کرتا ہے، یہ غنڈہ گردی اور اسلامو فوبیا ہے۔
    نفرت انگیز جرائم ، امتیازی سلوک، اسلامو فوبیا اور باقی سبھی چیزوں پر پردہ پوشی اوران کی رپورٹنگ کرنے کے لئے تمام مسلم صحافیوں کا بہت بہت شکریہ اور ہم سب کو اس معاملے میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے.

    @Zeeshanvfp

  • افغانستان میں امن ۔ تحریر :‌ سید احد علی

    افغانستان میں امن ۔ تحریر :‌ سید احد علی

    افغانستان اک عرصہ سے جنگ کا شکار ہے اور یہی وجہ ہےکہ افغانستان کی معاشی حالت انتہائی تشویشناک ہے جس کی وجہ سے روپیہ پیسہ اور کاروبار کی اتنی قلت ہے کہ چالیس سے پینتالیس ہزارلوگوں نے غیرملکوں میں پناہ لی ہوئی ہے. افغانستان میں زندگی اتنی غیرمحفوظ ہے کہ ہر آۓ دن دھماکے اور بہت سے دیگر حادثات پیش آرہے ہوتے ہیں. اس پر سب سے بڑا ہاتھ انڈیا کا جو اپنی خفیاں ایجنسی کے زریعے ٹرینینگ دے رہی ہے جو وہاں پر دھماکے کرتے ہیں اور بعد میں اس کا سارا الزام طالبان پر لگا دیتے ہیں۔ انڈیا اس خطے میں بد امنی پھیلا رہا ہے انڈیا اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئے گا عالمی برادری کو چاہیے کے اس مسئلے کو در گزر نہ کریں بلکہ سنجیدہ لیں کیا وہاں انسان نہیں رہتے جو اتنی تکلیف دی جا رہی ہے.

    ان میں بہت سے معصوم بچے ہوتے ہیں جو ان بم دھماکو ں میں مارے جاتے ہیں ان بچوں کا کیا قصور اور ان معصوم لوگوں کا کیا قصور جو وہاں زندگی گزارنے کے لیے اپنی جان قربان کر رہے ہیں اور ہم انکے لئے افسوس کہ علاوہ کچھ اور نہیں کر پا تے انڈیا جو اوقات میں رہنا چاہیے اسکے لئیے کچھ ایسا کریں کہ وہاں کے لوگوں کے لیے بھی زندگی آسان ہو ، اور وہ سکون کی سانس لے سکیں، جتنی بھی عالمی برادری ہے اسکو انڈیا کے اس غیرسنجیدہ رویے پرغوروخوض کرنا چاہیے تاکہ جو بھی مسا ئل ہیں اس سے خطہ بچ سکے، اگر اس مسئلے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو ورلڈ وارتھری ہوسکتی ہے۔

    @S_Ali_9

  • دنیا کی عظیم فوج-پاک فوج کی قربانیاں تحریر: حسیب احمد

    دنیا کی عظیم فوج-پاک فوج کی قربانیاں تحریر: حسیب احمد

    دنیا کی عظیم فوج-پاک فوج کی قربانیاں
    دنیا میں ہر ملک کی اپنی فوج ہوتی ہے اور لوگ اپنے اپنے ملکوں کی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں. ایسے ہی پاکستانی فوج دنیا کی وہ عظیم فوج ہے جو اپنے ملک کے شہریوں کی حفاظت اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن سے اپنے ہر شہریوں کو محفوظ بناتی ہیں۔ یقین جانیں ہر پاکستانی شہری اس لیے اتنا بہادر ہے کیوں کہ افواج پاکستان جیسی بہادر فوج اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستانی شہری ہر چیز برداشت کرسکتے ہیں لیکن اپنی افواج کے خلاف نہیں سن
    سکتے اس سے عوام اور فوج کی محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ افواج پاکستان نے 1965 میں بھارت جیسے ملک کی فوج کے پسینے چھڑوادیئے تھے۔ 1965 ہو یا کرگل دونوں میں بھارت سے اپنے بے گناہ شہریوں کی شہادت کا حساب لیا تھا۔ پاکستانی اپنے شہریوں سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور ہر وقت اپنے ملک کے شہریوں کے لیے پیش پیش ہوتی ہے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑوں فوجی اپنی جانوں کا تحفہ دے چکے ہیں اس وطن کو۔
    عوام بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اپنی فوج کی قربانیوں کو۔ شاید ہی دنیا میں کسی فوج نے اپنے شہریوں کے لیے اتنی قربانیاں دی ہوں۔
    پاکستانی عوام تاقیامت پاکستانی افواج کی قربانیوں کی قرضدار رہے گی۔

    کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں پہلے عوام کی جان و مال محفوظ نہیں تھا وہاں پاکستانی فوج نے اپنی قربانیوں سے امن قائم کروایا اور کراچی محفوظ ہے۔
    امن و امان کی بات آئے اور پاک فوج کی قربانیوں کا ذکر نا ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا، جس دن سے پاکستان وجود میں آیا اس دن سے آج تک پاکستان محفوظ ہے کیوں کہ عوام جانتے ہیں پاکستانی افواج 24 گھنٹے ان کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔

    پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے، تب سے لے کر اب تک قربانیوں اور عظمتوں کی مثال باندھے ہوئے ہے۔ چاہے وہ قربانیاں پاکستان بننے سے قبل کی ہوں، یا اُس کے بعد کی۔ دفاع پاکستان میں پاک فوج نے ہر لحاظ سے پاکستانی عوام کی ڈھارس بندھائی ہے۔ یہ بات تو پاکستان کا ہر فرد جانتا ہے کہ پاکستان جان و مال کی ہر قربانی دے کر حاصل کیا گیا، لیکن بقائے پاکستان کےلیے ہماری فوج بے مثال اور مثبت کردار نبھا رہی ہے۔ پاک فوج کی مثال ایسے گھنے درخت کی سی ہے جس کے سائے تلے پاکستانی قوم آزادی کی سانس لے رہی ہے۔ پاک فوج کے حفاظتی دستے ہماری سرحدوں پر دن اور رات چوکس رہتے ہیں، عوام کو چین کی نیند فراہم کرنے کےلیے اپنی نیندیں قربان کیے رہتے ہیں۔

    اللہ پاکستان اور اس کی افواج کو تاقیامت محفوظ رکھے کیوں افواج پاکستان اس ملک سرمایہ ہے اور اثاثہ ہے اس ملک کے ہر شہری کے لیے۔

    دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جو اپنی افواج پر سالانہ کھربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں اور ایسے بھی جن کی عسکری تاریخ صدیوں پر محیط ہے، مگر جب بات معیار کی ہو تو سرفہرست اس ملک کی فوج کا نام آتا ہے جسے قائم ہوئے ابھی صرف ستر سال ہوئے ہیں اور جس کے وسائل بھی بہت محدود ہیں۔ یوں تو ہماری فوج ہر لحاظ سے صف اوّل میں شمار ہوتی ہے، مگر بعض ایسے اعزازات بھی ہیں جو دنیا کی تاریخ میں صرف پاکستانی فوج کے پاس ہیں۔ اور اسی وجہ سے پاک فوج پوری دنیا میں عظمت اور شجاعت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہے، جو کہ پوری قوم کےلیے باعث فخر ہے۔۔

    ان سب باتوں سے آپ سب اندازہ لگاسکتے ہیں وسائل کم ہونے کے باوجود بھی ہر لحاظ سے شاندار اور عظیم فوج ہے پاکستان کی۔۔!! یہی کہلاتا ہے پاکستان افواج کی اس ملک کے قربانیاں۔

    جب تک پاکستانی افواج "پاکستان اور پاکستانی شہریوں” کے ساتھ کھڑی ہیں تب تک یقین جانیں کوئی اس ملک پر بری نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر رہے۔
    دل سے ایک نعرہ لگانے کو دل کرتا ہے
    "پاکستان زندہ باد”
    "پاک فوج زندہ باد”

    @JaanbazHaseeb

  • عورت کی میں کیا ہوتی  تحریر : کاوش لطیف

    عورت کی میں کیا ہوتی تحریر : کاوش لطیف

    آج ایک دوست سے بات ہو رہی تھی۔ طنزو مزاح سے بھرپور گفتگو تھی بڑا مزا آرہا تھا ۔ یوں ہی باتوں باتوں میں اس نے کہا کہ عورت کو اپنی "میں ” ختم کرنی چاہئے ۔ بلکہ ہمارے معاشرے میں عورت کی میں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ تب سے میں بیچارا اس سوچ میں پڑ گیا کہ عورت کی میں کیا ہوتی ہے ۔۔۔شروعات کی ایک ماں سے ۔سوچا وہ عورت جو گھر سنبھالتی ہے اس میں بھی ہو گی یہ "میں ” کی بیماری ۔ ارے بھائی ہونی بھی چاہئے آخر وہ اس گھر کی باورچی ہوتی ہے اسی گھر کی دھوبن ہوتی ہے ۔اسی گھر کی خاکروب ہوتی ہے ۔اور اسی گھر میں وہ ایک چوکیدار بھی ہوتی ہے ۔۔۔اتنا سب کے باوجود بھی اس میں ” میں ” نظر نہیں آئی ۔۔پھر تھک ہار کے اپنے دوست کی بات سچ ثابت کرنے کیلئے ایک بہن کا رخ کیا وہ جو بلاغت میں قدم رکھنے سے پہلے گھر کی زمہ داری سنبھال لیتی ہے ۔۔پھر بھی یہ سنتی ہوئی جوان ہوتی ہے اور ایک دن یہ سنتے ہوئے بیاہ دی جاتی ہے کہ یہ پرائی امانت ہے ۔۔پھر نظر پڑی ایک بیٹی پہ کہ کہیں اس میں بھی ہو گی "میں ” وہ بھی بیچاری ہی نظر آئی مجھے معاشرہ جو کہ مرد کے بنائے ہوئے اصولوں پہ چلتا ہے کتنا آسانی سے عورتوں کی ” میں ” کو کچل رہا تھا ۔غرض یہ کہ مجھے ہر طرف ظلم و ستم نظر آنے لگے ۔۔
    عورت چاہئے ماں ہو بہن ہو یا بیٹی ہو دراصل اس میں ” میں ” نہیں ہوتی بلکہ وہ انہیں مردوں کو عزت دار بنانے کامیاب بنانے کیلئے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو پاؤں کے نیچے روندتی آتی ہے ۔۔۔الغرض وہ ایک مرد کو کامیاب کرنے کیلئے سب کچھ داؤ پہ لگا دیتی ہے ۔
    اور پھر یہی مرد ہوتے ہیں جو ایک عورت کو ہر جگہ گرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔۔۔۔میں اسے یہی سمجھانا چاہتا تھا کہ واقع ایک عورت کی ” میں ” کی کوئی اہمیت نہیں ۔۔۔۔۔
    مگر جب ایک عورت اپنی "میں ” میں جیتی ہے نا تو وہ فاطمہ جناح ہوتی ہیں وہ عرفہ کریم بنتی ہے ۔۔پہاڑوں کو پیروں کے نیچے روندتی ہوئی ثمینہ بیگ بنتی ہے ۔۔ایشاء کی تیز رفتار نسیم حمید بنتی ہے ۔۔۔۔اور فضاؤں کا سینہ چیرتی مریم مختیار بنتی ہے۔۔ ۔اور دنیا کو پیچھے چھوڑتی زرا نعیم بنتی ہے ۔ اپنی ” میں ” میں جیتی عورت ” اماں جی برگر پوائنٹ ” تو چلا لیتی ہے۔یہی عورت ہوتی ہے جو اپنی خودی میں رہ کر تندور پہ روٹیاں پکا کر فروٹ فروش بن کر وین ڈرائیور بن کر بچوں کا پیٹ پال لیتی ہے لیکن خودی نہیں بیچتی ۔۔یہ عورت کی ” میں ” ہوتی ہے اور مرد کو بھی اسی ” میں ” سے نفرت ہوتی ہے ۔۔۔
    میں دوست کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ عورتیں جن کی ” میں ” نہیں ہوتی وہ صرف عورت مارچ ہی کرتی ہیں ۔نا تو وہ باورچی ہوتی ہیں ںا تو وہ دھوبن ہوتی ہیں نا تو فضاؤں میں منڈلاتی ہیں نا تو وہ پہاڑوں کو روندتی ہیں ۔وہ صرف بیستر کی زینت ہوتی ہیں وہ بھی رات کی تاریکی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    @k__Latif

  • آزاد کشمیر انتخابات تحریر :  محمد حماد

    آزاد کشمیر انتخابات تحریر : محمد حماد


    آزاد کشمیر کی عوام ۲۵ جولائی بروز اتوار آزاد کشمیر کی گیارہویں قانون ساز اسمبلی کے ممبران کا انتخاب کرے گی۔ ان انتخابات میں ۳.۲ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں ۱.۷۵ ملین مرد ووٹرز جبکہ ۱.۴۶ ملین خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ۳۲ سے زائد سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں جن کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

    وزیراعظم عمران خان، بلاول بھٹو، مریم نواز سمیت تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین نے انتخابات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے خود انتخابی مہم چلائی اور جلسوں سے دھواں دار خطابات کئے۔ ان جوشیلی تقریروں نے نہ صرف انتخابی ماحول کو مزید گرمایا بلکہ انتخابی وعدوں نے عوام میں ایک نئی امید کو بھی جنم دیا کہ شاید توقعات کے برعکس اس بار یہ وعدے عملی شکل بھی اختیار کریں۔

    انتخابی وعدوں کے ساتھ ساتھ تقاریر میں ایک افسوسناک چیز بھی دیکھنے میں آئی۔ ایک بار پھر مودی کے یار اور غداری کے نعرے انتخابی جلسوں کی زینت بنے۔ سرحد پار کشمیریوں کی آواز بننے اور انھیں اتحاد و اتفاق کا پیغام دینے کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے کشمیر کا سودا کرنے اور کشمیر بیچنے کے الزامات لگائے گئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ زاتی و سیاسی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دے کیونکہ خدانخواستہ ملک کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ سیاست بھی نہیں رہے گی۔

    بہرحال اب فیصلہ عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ کن امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہمیں دعاگو رہنا چاہئے کہ آزاد کشمیر کے لوگ بہترین نمائندوں کا انتخاب کریں اور انتخابی جلسوں میں کئے گئے وعصے حقیقت کا روپ دھاڑیں۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer ,Find out more about his work on  Twitter  account 

     


  • ‏مرد کو بھی درد ہوتا ہے!  تحریر: ماہ رخ اعظم

    ‏مرد کو بھی درد ہوتا ہے! تحریر: ماہ رخ اعظم

    بچپن سے والدین اپنے بیٹے کے ذہن پر یہ بات نقش کردیتےہیں کہ مرد روتا نہیں ، انہیں درد نہیں ہوتا ہے جو انہیں نفسياتی مریض بنا دیتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ مرد کو بھی درد ہوتا ہے اسے بھی تکلیف ہوتی ہے اسکے بھی جذبات ہوتے ہیں انہیں بھی ایسے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں راحت فراہم کریں مرد کا بھی دل کرتا ہے کہ کوٸی اس بھی ویسا خیال رکھے جیسا وہ سب کا رکھتا ہے مرد بھی چاہتا ہے کہ وہ کھل زندگی جی سکے مگر ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے

    اگر بات کریں اپنے والد کی تو والد کی قربانیاں کا تذکرہ کرتے کرتے زندگی کی شام ہوجاٸے کیونکہ باپ جو اپنی اولاد کے لیے قربان کرتا ہے ناں وہ اولاد کبھی اس کی قیمت ادا نہیں کرسکتی ہے والد بھی توایک مرد ہوتا ہے جو اولاد کے لیے زمانے کی سختیاں تک برداشت کرلیتا ہے والد بےشک سخت مزاج کے ہو مگر ان کا دل بھی بہت نازک ہوتا ہے جب اولاد اپنے باپ یہ کہتی تو میرے کیا ہے تب بھی مرد کو درد ہوتا ہے کیوں ناں جس اولاد کے لیے وہ خواب مار دیتے ہے اس اولاد کے آرام و سکون کے لیے اپنا آرام سکون برباد کرتا ہے اپنی اولاد کے اپنے بوس سے گالیاں تک کھا لیتا ہے انکی خواہشات کو پورا کرتے کرتے ان کی کمر تر جھک جاتی ہے اور اولاد کہہ دیتی ہے تو نے میرے لیے کیا کیا ہے

    یہ الفاظ باپ کے دل کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں اور زمانے کے ڈر سے باپ کھل کر رو بھی نہیں پتا ہے ہر درد چپ چاپ سہتا ہے اندر اندر مرتا رہتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرے کا یہ تصور بنا ہوا ہے کہ مرد کو درد نہیں ہوتا ہے یہاں تو مرد کے ایک روپ کی بات کی ہے باقی کے روپ کا درد جان کر آپ کلیجہ منہ کوآجاٸے گا

    آخر میں بس اتنی گزارش ہے کہ معاشرے اس تصور کو مٹا دیا جاٸے کہ مرد کو درد نہیں ہوتاہے انہیں اپنے درد بانٹنے دیں اور اس جہالہانہ سوچ کو ختم کردے کیونکہ درد تو سب کو ہوتا ہے۔۔

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو آمین

     blockquote>

  • تبدیلی کا سفر تحریر : تہران الحسن خان

    تبدیلی کا سفر تحریر : تہران الحسن خان

    90 کی دہائی سے شروع ہونے والا کامیابیوں کا سفر تبدیلی کا سفر کب بنا۔ آج میں آپ کی اجازت سے اس موضوع پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔

    1985 کی بات ہے جب سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور موجودہ وزیراعظم جناب عمران احمد خان نیازی کی والدہ محترمہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر خالق حقیقی سے جا ملیں تو اس دوران مشہور زمانہ کرکٹر عمران خان نے والدہ کی تکلیف کے ساتھ ساتھ اور بھی کافی ایسے لوگوں کی تکلیف دیکھی جو اس موذی مرض میں مبتلا تھے اور وطن عزیز پاکستان میں کوئی بھی ایسا ہاسپٹل موجود نہیں تھا جس میں کینسر کے مریضوں کے علاج کی سہولت موجود ہو۔
    ماں کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے سابق چانسلر عمران خان نے ایک ایسا ادارہ بنانے کا خواب دیکھا جس میں کینسر کے مریضوں کے علاج کی سہولت موجود ہو اور بہت زیادہ محنت اور کوشش کے بعد اس ہسپتال نے دسمبر 1994ء میں اپنے دروازے مریضوں کیلئے کھولے۔ جو کہ آج تک %70 مریضوں کا علاج مفت کر رہا ہے۔
    اس خواب کی تکمیل میں بہت سے مخیر حضرات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس نے عمران خان کے دل میں ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ مزید دوگنا ہوگیا۔
    1996 میں تبدیلی نظام کے نام پر ایک سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے نام سے وجود میں لائی گئی جس کے بانی عمران خان تھے اور اس جماعت کا نعرہ اور منشور جماعت کے نام سے ہی بہت واضح تھا۔ معززین اس جماعت کی بنیاد کا ساتھ ہی تبدیلی کے سفر کا آغاز ہوا۔

    سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ موجودہ وزیراعظم نے ایک ایسے منصب کا خواب دیکھا جس پر فائز ہونے کے بعد ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ ایک ایسا نظام بھی رائج کرنا تھا جس میں امیر اور غریب کیلئے ایک قانون ہو۔
    2002ء میں میانوالی اپنے آبائی حلقے سے پہلی دفعہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ مشرف دور کے بعد 2008 کے جنرل الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ 30 اکتوبر 2011 کے لاہور جلسہ نے عمران خان کے خواب اور نظریہ میں جان ڈال دی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان تحریک انصاف کا شمار پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ہونے لگا۔
    الیکشن 2013ء میں تحریک انصاف کو ایک صوبے میں حکومت ملی جو ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کی پہلی سیڑھی تھی۔ سیاسی بصیرت نہ رکھنے والے شخص نے پہلی دفعہ جب حکومت سنبھالی تو ایسی مثال قائم کی کہ ملک پاکستان کی عوام نے 2018ء کے الیکشن میں اس منصب کیلئے چن لیا جس منصب کا خواب عمران خان نے 1996 میں دیکھا تھا۔
    اور اس تبدیلی کی سفر میں بہت مشکلات اور تکالیف راستے میں رکاوٹ بنیں لیکن جذبہ خدمت اور تبدیلی نظام کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹک سکی۔ اور یوں کامیابیوں سے شروع ہونے والا سفر ایک لمبی جستجو اور محنت کے بعد زور و شور سے جاری ہے۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور وزیراعظم عمران احمد خان نیازی کو وطن عزیز کی بہتری کیلئے مزید کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • لبرلزم  تحریر : عثمان غنی

    لبرلزم تحریر : عثمان غنی

    عزتوں کے کچرا دان میں ایک اور بھرے ہوئے شاپر کا اضافہ۔ڈالنے والے صاحب نے بڑی شان سے زلت کے بازار سےبےغیرتی کی چادر لی اور تمکنت بھری چال چلتا ہوابے حیائی کے دفتر پہنچا۔وہاں ایک لمبا عرصہ غلیض زہنیت کی کلاس لی۔اب تربیت مکمل ،جزبے بلند ،سوچ پختہ،اور دماغ اپنی حفظ کی گئی چیزوں کو عمل میں لانے کے لئے بےتاب ہے۔۔۔غالبا تھیوری کو جتنا بھی کلاس میں رٹا جائے مگر جب تک اسے پریکٹکلی پرفارم نہ کیا جائے وہ کسی کام کی نہیں ہوتی۔اب وہ صاحب بھی عملی زندگی میں ہیں۔اور وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس بات کا انحصار اس سے بلواسطہ یا بلاواسطہ منسلک لوگوں کی بزدلی اور کم فہمی پر ہے۔ایسے لوگ اس کا زبردست ترین شکار ہیں جو لبرل ازم (اندر ہی اندر اسی سے دوستی کے خواہاں)کے خواہاں ہیں۔وہ صاحب آہستہ آہستہ اپنا حلقہ احباب بڑھاتے جاتے ہیں۔اور حلقہ احباب میں ہے کون۔۔۔۔۔یا تو کچے زہن کا کم عمر طبقہ یا پھر انہیں صاحب جیسے آزادی (بےراہ روی)طلب گار۔۔یہ صاحب اپنی تبلیغ کا آغاز اخلاق سے عاری گفتگو کر کے کرتے ہیں۔اور اس گفتگو کے بعد ان کو تین طرگ کے لوگ ملتے ہیں ۔ایک وہ جو ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔دوسرے وہ جو چپ رہتے ہیں ۔تیسرے وہ جو ان کو برا خیال کرتے ہین اور ممکن حد تک ٹوکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔اب جو پہلے گرہ کے لوگ ہوتے ہیں بغیر کسی محنت کے ان صاحب کی باتوں میں آجاتے ہیں۔بلکہ وہ ہوتے ہی انکے چیلے ہیں۔دوسرے لوگ ان کا مشکل ہدف ہیں مگر یہ بھی نا ممکن ثابت نہیں ہوتے۔اور آخری گرہ کو فرسودہ کہے کر ان پر خاص محنت نہین کی جاتی۔
    زرا سوچئے۔۔۔ایسے لوگ ہمارے درمیان بیٹھ کر ایسی گندی گفتگو کرتے ہیں ۔اور ہم سنتے رہتے ہین کہ صرف زبان خراب ہے دل کے صاف ہیں ۔ہماری زبان ہماری پہچان ہوتی ہے۔اس سے ہمارے خاندان ہماری روایات ہمارے مزہب کا پتہ چلتا ہے۔یہ لوگ کہیں باہر سے نہیں ہماری فیملیز سے ہوتے ہیں ۔ہمارے دوستوں میں سے ہوتے ہیں۔مگر ہم ان کو مارجن دیتے ہیں۔ایک ہدیث کے مطابق اگر کسی ن شخص نےجو چیز دو ٹانگوں کے درمیان ہے اور جو اور دو جبڑوں کے درمیان ہے اس کی حفاظت کر لی اس پر جنت واجب ہے گئی۔
    اور آج حالت ایسی ہے کہ گالی فیشن ہے گندی اور غلیظ گفتگو خوش اخلاقی ہے۔کیا آج جو گفتگو عام گھروں میں ہورہی ہوتی ہے وہ درست ہوتی ہے ؟؟؟؟کیا اس کو کچے زہن کے کم عمر بچوں کے سامنے کرنا درست ہے؟؟؟
    وہ لباس جو آپ روزانہ کی بنیاد پر زیب تن کر کے جاتے ہیں کیا درست ہے ۔چھوٹی بچیوں کے کپڑوں سے بازو غائب اور عورتوں کے کپڑوں سے دوپٹہ اور گفتگو کو تو رہنے ہی دیجئے
    آہستہ آہستہ عزتیں کچرا دانون کی زینت بنتی جارہی ہیں ۔اور جن لوگ ان کو اب سر کا تاج بنا رکھا ہے ان بیک ورڈ کہا جاتا ہے ہے۔
    کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ایک شخص نے اپنی کزن کے نام پرلکھ کر غیر اخلاقی شاعری خانہ کعبہ میں لگا رکھی تھی۔واضح رہے کہ ان لوگوں کے لئے ایک مخصوص لفظ جاہل اور اس زمانے کے لئے جاہلیت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔اور آج کے ماڈرن زمانے میں ہر شخص "کزن”کے عنوان سے آنے والی پوسٹس کو لائک کرتا ہے کمنٹ کرتا ہے وغیرو وغیرہ۔آج کل فیس بک کی مشہور پرسنیلٹی پھپھو کی بیٹی ہے۔زمانہ "جاہلیت”اور جدید دور میں بس اتنا فرق رہے گیا ہے کہ اس قت خالا کی بیٹی "تھی "اب پھپھو کی بیٹی "ہے”۔اور ہاں خصوصا سرائیکی و کو چاچے کی چھوکری نے بھی تنگ کر رکھا ہے۔بلکہ اب یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پہلے ایک تھی اب تو ساری ہی آگئیں۔
    زرا سوچئے ۔۔۔کیا ہوا کی بیٹیاں اتنی ارزان ہیں کہ ان کے کردار کو فیس بک کی زینت بنا دیا جائے؟؟؟اگر کوئی مرد کہے دے کے فلاں لڑکی مجھ پر مرتی ہے تو ہم بغیر کسی تحقیق کے مان لیتے ہیں۔اور آگے بھی اس کو خوب مرچ مسالے لگا کر پیش بھی کرتے ہیں۔اس سے ہم خود کو کیا ثابت کر نا چاہ رہے ہیں؟؟؟؟جبکہ ہم جاہل بھی نہیں ہیں ۔۔۔
    میں نے اکثر باپردہ لڑکیوں یونیورسٹیوں میں آتے ہی پردہ اتارتے دیکھا ہے۔غالبا پردہ ان کے لئے ایک تنگ زہنیت ہے ۔جب لوگ کہتے ہیں کہ اب جدید دور ہے اور ہر چیز میں تیزی آگئی ہے تو میں مان لیتی ہوں۔روز ہی ہزاروں لڑکیاں تنگ زہنوں(گھروںمیں پردہ) سےکھلے زہنوں (یونیورسٹیوں میں پردہ اتار دینے)میں سفر کرتی ہیں۔
    ہمیں ان فتنوں سے نکلنا ہے ۔ورنہ آج ہم میں اور زمانہ جاہلیت میں کوئی فرق نہیں رہے گیا۔جدید دور نے ہمیں اپنے پیچھے اسقدر ہلکان کر رکھا ہے ۔کہ ہم اپنا سب کچھ بھول چکے ہیں۔ہم آئڈیلزم کا شکار قوم ہیں ۔ہم میں اگر ایک شخص کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے تو اس کے بھی فالورز نکل آتے ہیں۔ہمیں اپنے زہنوں کو اسلام کے نور سے منور کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے اندر سے چھوٹی چھوٹی برائیاں ختم کرنی ہوں گی۔ہمیں دوبارہ انہیں "فرسودہ”روایات کو اپنانا ہوگا۔تب کہیں جاکر ہم اپنا آپ پہچانے گے۔۔


    Usman Ghani is a Freelancer, Blogger He is associated with many leading digital media sites in Pakistan. To find out more about him visit her        Twitter Account(@UsmanSay_)  

    Other Article Usman Ghani

     

     

  • ھمارے آباؤ اجداد اور ہم تحریر: محمد عاصم صدیق

    ھمارے آباؤ اجداد اور ہم تحریر: محمد عاصم صدیق

    ھمارے آباؤ اجداد نے ہمیں نہ صرف آزاد ریاست دی بلکہ ہمیں زندگی کے کئی اصول بھی بتائے ۔
    آج اگر ہم سکون سے بغیر کسی خوف ،بغیر کسی در کے جہاں چاہئے اپنے ملک پاکستان میں ره رہے ہیں ۔ہر طرح کی آزادی ہمیں حاصل ہے ۔تو وہ صرف ھمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔لاکھوں لوگوں نے بےانتہا قربانیاں دی ھمارے لیے تا کہ ہمارا مستقبل خوبصورت بو ۔ہم عیش و عشرت سے رہ سکے ۔
    ہماری ماؤں نے اپنی بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتے دیکھا اپنی آنکھوں سے ۔بیٹوں کو قربان ہوتے دیکھا ۔یہ سب کس لیے تھا تا کہ میں آپ اور ہم سب غلامی سے نجات حاصل کر سکے ۔سکون کی سانس لے سکے ۔
    لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم آج اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد بھی کرتے ہیں ؟
    کیا ہم نے کبھی سوچا کے جن قربانیوں کے بعد یہ ملک ملا اِس کے پیچھے کوئی وجہ بھی تھی ؟
    آج ہم سب کچھ بُھول چکے ہیں اور اِس ملک کو بے دردی کے ساتھ ہر طرح سے نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
    کاش کے ہم اُن لوگوں سے سیکھ لیتے جو ابھی تک آزادی سے سانس بھی نہیں لے سکتے
    اج ہم ایک آزاد قوم تو ہیں لیکن ھماری سوچ آج بھی غلامانہ ہے ۔ہم آج بھی انگریز اور ہندو کو اپنے سے بہتر سمجھتے ھیں اور ہر لحاظ سے انہی کے نقشے قدم پر چلنا پسند کرتے ہیں ۔
    ھمارے آباؤ اجداد ہمیں آزاد ملک دے کر گئے تا کہ ہم اپنی پہچان بنا سکے ۔اپنے ملک کا نام روشن کر سکے ۔لیکن شائد ہم اپنے اسلاف کو بُھول گئے ۔
    آج ہم کرپشن ،چوری ، نا انصافی ،جھوٹ ہر طرح کے گناہ روز مرہ زندگی میں کر رھے ہیں اور اپنے آباؤ اجداد کی روحوں کو دکھ پہنچا رھے ہیں ۔
    ھمارے آباؤ اجداد نے اپنا سب کُچھ قربان کیا ،گھر باہر سب چھوڑ دیا یہاں تک کہ کچھ لوگ اپنے بچوں تک وہی چھوڑ آئے کیوں کہ اُنکا خواب تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کا اور اس کے لیے وہ ہر حد تک گئے ۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے رستے پر چلائے اور اُنکی زندگی سے کُچھ سیکھنے کی توفیق عطا کرے
    امین!

    Written By : Muhammad Asim Siddiq
    Username : @Asimsiddiq_
    Email : asimsak47@gmail.com