Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم    تحریر. عامر خان

    جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم تحریر. عامر خان

    آئیے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں! حافظ صاحب کا کہنا یہ بهی تها کہ سراج الحق صاحب سے جب سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہاتھ ملا رہے ہیں تب اناڑی یعنی کپتان ان سے موجود بہتر تعلقات خراب کر رہا ہے کوئی جائے اور ان کو سمجهائے کہ یہی تو وہ پوائنٹ جس پر تحریک انصاف ہی نہیں پاکستانی عوام بهی حیران ہے بندگان خدا وہی لوگ جو عوام کو مسلسل لوٹ رہے ہیں یہی اگر منجهے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہی اسلوب سیاست ہے پهر بهلا جماعت یا تحریک انصاف یا تبدیلی کی کیا ضرورت ہے؟منجھے ہوئے کھلاڑی جو موجود ہیں
    یا للعجب کیسی سوچ ہے اور کیسی مرعوبیت ہے خدا جانے جماعت کے پیٹ میں ن لیگی محبت کا مروڑ کیوں اٹھتا رہتا ہے؟مسئلہ یہ ہے کہ جماعت کے لاہوری ” دهڑے "”کے دل میں لیگ کےلئے اتنی ہمدردی ضرور ہے کہ انہوں نے 2013 کے الیکشن میں اپنے امیر محترم کو ہی فٹ بال بنا ڈالا تها جب خیبر کےپی والے تحریک انصاف اور لاہور والے ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر زور دے رہے تهے آخر آخر جماعت ادھر کی رہی نہ ہی ادھر کی.جماعت کے ارکان+کارکنان برا نہ مانیں تو چند گزارشات پہ غور فرمائیں اولا یہ کہ جماعت کی اساس سیاسی ہے ہی نہیں دارالسلام میں جب اس کی تشکیل ہوئی تو یہ خالصتا ایک اصلاحی، فکری، علمی، جماعت تهی جس کا مقصد محض اسلام کی جدید فکر احیاء اسلام سماج کی اسلامی تشکیل تها نتیجتا البتہ یہ ممکن ہو پاتا کہ ایک سیاسی انقلاب آتا یا سیاسی سسٹم میں بہتر لوگ آ پاتے بعد ازاں جماعت سیاست میں اتری تو بهلا اپنی اساس کے خلاف کیونکر کامیاب ہو پاتی ماضی میں جب وہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر تهی تو اسے محدود سا حصہ اقتدار یا اسمبلی میں دے دیا جاتا جسے جماعت والے اپنی کامیابی سمجھتے مثلا ضیاء صاحب کا دور مثلا ایم ایم اے کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ مشرف کو ایوان سے ایل ایف او جیسے کالے قانون کی منظوری جماعت اور اس کے اتحادیوں کے طفیل ملی! اخبارات نے تب خبر لگائی تهی ملا حلوے کی چند پلیٹوں پہ مان گئے! لال مسجد آپریشن کے ہنگام یہ لوگ زبانی بیان بازی تک محدود رہے بلکہ اسمبلیوں میں براجمان بهی حافظ صاحب نے کپتان پہ جی ایچ کیو کی پهبتی کسی ہنسی کے مارے میرا برا حال ہو گیا کہ کیسے وہ جماعت کے قبلہ اول پہ تنقید فرمارہے ہیں جب تلک جماعت کا امیر کسی بڑے جلسہ ء عام میں اس سابقہ روایت پہ معافی نہ مانگیں گے قوم ان کے رجوع کو تسلیم نہ کرے گی ثانیا جماعت کو امیر جماعت کو ویٹو پاور دینا ہو گی مجلس شوری ، مجلس شوری ہی رہے مجلس تحکیم نہ بنے انہیں امیر کو آزادی دینا ہو گی ثالثا جماعت کی تشکیل سیاسی بنیادوں پہ کی جائے اصلاحی تحریک کو انکی ذمہ داری دے کر الگ کر دیا جائے اور وہ فقط اصلاح سماج کا کام کرے جمعیت طلباء پہ انحصار کی بجائے لیڈر شپ پیدا کی جائے کامیابی اپنی خوبیوں کے طفیل ملتی ہے ناکہ مخالف کی خرابیوں کے طفیل! بیس ہزار سے کچھ زائد کارکنان کے ساتھ کیا بیس کروڑ کے معاشرے کو اپنی جانب متوجہ کرنا ممکن ہوگا؟؟؟ یہ سیاست ہے مہربان سیاست جس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہمارے پاس ترازو کے دو باٹ ہرگز نہیں محترم جس ترازو میں تحریک انصاف کو ن لیگ یا دیگر کو ہم تولیں گے جماعت کو بهی اسی میں اپنی حکومتی حلیف جماعت کو چهوڑ کر آپ اپوزیشن اتحاد میں کھڑے ہوں گےتو نہ صرف کپتان بلکہ ہر صاحب انصاف آپ پہ انگلی اٹھائے گا جو کہ جائز ہو گی کمال کرتے ہیں آپ دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت! کپتان پہ ان کے اخلاقی اعترضات کا جواب مناسب عمل نہیں ہو گا کیونکہ یہ پروردگار اور اس کے بندے کا معاملہ ہے شریعت لوگوں کی نجی زندگی میں جهانکنے کی اجازت نہیں دیتی جماعت کا کردار بلدیاتی انتخابات میں ایک حلیف جماعت کے طور پہ مناسب ہرگز نہیں تها بلکہ بےوفائی کی گرد سے اٹا ہوا تها جماعت کو سوچنا ہو گا ورنہ وہ آسمان دیکهتی رہ جائے گی

    @Aamir_k2

  • علم  تحریر : عائشہ رسول

    علم تحریر : عائشہ رسول


    علم زندگی کا بہترین زاویہ ہے. جس سے انسان بنتا ہے اور انسانیت کی طرف سفر شروع کرتا ہے. علم ہو اور انسان تبدیل نہ ہو تو یہ علم نہیں علم کے ساتھ ظلم ہے.
    علم کی روشنی سے زہن اور فکر منور ہوتی ہے. جو علم زہن کو تاریک کرے وہ علم نہیں… وہ کسی کا یاد کروایا ہوا سبق ہوتا ہے.. . علم انسانی احساسات کو زندگی بخشتا اور شعور کی آبیاری کرتا ہے.جو علم انسان کو اندھے راستوں پہ لے جائے وہ خدا کا عطا کردہ علم نہیں. جو رزق حلال کھاتے ہیں وہ جانتے ہیں علم کیا ہے, عالم کیسا ہوتا ہے اور عالمیت کیا ہے جو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں وہ ان نعمتوں سے واقف ہیں.
    وہ علم سب سے بڑی نعمت ہے جس سے انسانیت کی تعمیرِنو ہوتی ہے.
    علم انسان کو زھنی بلندیوں تک لے جاتاہے مگر سن لو… وہ علم”علم” نھیں’جو زھنی پستیوں سے نکلنے نہ دے, جو خیالوں سے باندھ دے, جو بے غرض سوچ میں جکڑ دے… بلکہ علم تو وہ ہے…. جو فکرکو ھر لمحہ ایک نئی حیات بخش دے, جو روح کو سیراب کردے, جو زہن کو ضیابخش دے.
    علم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک علم والے اور علم کے مطابق عمل کرنے والے زندہ ہیں
    سب سے بڑا علم یہی ہے کہ موت یقینی ہے اور ایک دن ہمارے اعمال کا حساب ہوگا اور نامہ اعمال ہمارے
    ہاتھوں میں تھما دیے جائیں گے اور وہ "یوم حساب”ہوگا
    اور جو لوگ ہر یوم کو "یوم حساب” سمجھ کر گزارتے ہیں میں انکے علم کی قدر کرتی ہوں

    آؤ سب مل کراس علم سے دوستی, آشنائی اور شناسائی کر لیں
    ہماری دین, دنیا اور آخرت سب کے لیے یہ کامیاب ترین نسخہ ہے اور یہ وہ علم ہے جس علم سے نجات ہو گی
    اللہ ہمیں علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی توفیق عطا کرے… آمین…
    "وما علینا الا البلاغ المبین ”

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ بہاول پور سے 48 کلو میٹر دور پاکستان کے قدیم اور بڑے قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس قلعہ کی بدقسمتی کہیں کے جب بھی آثار قدیمہ اور لوک ورثہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو موھنجودوڑواور ھڑپہ کی تعمیرات کے علاوہ لوگوں کے ذہن میں قلع روہتاس کی بات ہوتی لیکن بھولے بسرے ہی کسی کو قلعہ دراوڑ کی یاد آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کے محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ والوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سابقہ ریاست بہاول پور کا عظیم الشان قلعہ جو کے سرائیکی علاقوں کی پہچان ہے رفتہ رفتہ بد حالی کا شکار ہو کے لوگوں کی یادوں سے محو ہوتا جا رہا ہے۔

    جب کہ قلعہ دراوڑ ایک بہت ہی اہمیت کا حامل سیاحتی مقام ہے جسے حکومت پنجاب اور اس کے متعلقہ محکموں کی دلچسپی سے بہت ہی اعلی سیاحتی مقام بنا کے بہاول پور جنوبی پنجاب اور پاکستان کی خوبصورتی کو دنیا میں دیکھا کے قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
    بہاول پور کے نوابوں اور ان کے خاندان کی قبریں اس قلعہ میں واقع ہیں اور ایک عرصے تک بہاول پور کا نواب خاندان اس قلعہ میں رہائش پذیر رہا۔

    قلعہ دراوڑ جس لاپرواہی اور عدم دلچسپی کا شکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے اس قلعہ میں سیاحوں کے لئے نہ تو کوئی پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی قلعہ کی خبر گیری رکھنے والا ہے نہ ہی کوئی محافظ۔
    نواب مبارک خان اور نواب صادق کے دور تک قلعہ کی صفائی اور دیکھ بھال ہوتی رہی لیکن ان کے بعد آنے والوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور یہ عالیشان اور عظیم قلعہ لاپرواہی کا شکار ہو کر اپنی اہمیت کھو دیا۔
    اگر ماضی کے اس شاندار اور تاریخی قلعہ کے تحفظ اور مرمت کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے جلد ہی یہ عظیم قلعہ کھنڈر میں تبدیل ہو جائے گا۔

    اب جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پنجاب حکومت بہت سے تاریخی مقامات کی بحالی میں دلچسپی لے رہی ہے تو جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب کے لوگ حکومت پاکستان اور پنجاب حکومت سے یہ امید کرتے ہیں کے اس عظیم اور تاریخی قلعہ دراوڑ کی بحالی اور خوبصورتی کے لئے ہر ممکن ضروری اقدامات اٹھائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو ریاست بہاول پور کی پاکستان کے لئے خدمات اور قلعہ دراوڑ کی تاریخ کا علم ہو۔

    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد.
    کالم نگار سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں.

    @Majidjampti

  • غربت کیا ہے؟؟ نصیب یا عادت . تحریر : احمد فراض

    غربت کیا ہے؟؟ نصیب یا عادت . تحریر : احمد فراض

    90 فیصد لوگ اپنے انتخاب اور اپنی عادات کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں، اب آپ کہیں گے کہ کون ہے جو اپنی مرضی سے غریب ہونے کا انتخاب کرے گا
    تو جناب فرض کریں آپ کے سامنے پانی کا جگ بھرا پڑا ہو اور آپ بجائے آگے بڑھ کر پانی گلاس میں ڈال کر اپنی پیاس بجانے کے یہ راگ الاپتے رہیں کہ میں پیاسا ہوں میں پیاسا ہو تو یہ پیاسا رہنا آپ کا انتخاب ہی ہوا ناں اسی طرح ہمارے یہاں بالخصوص مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس خاندانوں میں پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں یہ وہ پہلا انتخاب ہوتا ہے جب آپ اپنے لئے غربت چنتے ہیں پھر ایسے افراد کوئی ایسا کام اور ہنر نہیں سیکھتے جس سے زیادہ آمدن ہو یا معیار زندگی بہتر ہو اور مجبورا کوئی ہنر سیکھتے بھی ہیں تو وہ جس میں آمدن کم ہو مثلاً ڈرائیور، مکینک، مستری یا کوئی چھوٹی موٹی دکان… یہاں بھی انتخاب کیا جا رہا ہے کہ ہم نے اس معیار کی زندگی گزارنی ہے
    پھر کام چوری کر کے، دھیان نا دیکر، پورا وقت نا دیکر ہم اس انتخاب ہر مہر لگا دیتے ہیں کہ بھئی ہم نے تو غریب ہی رہنا ہے
    یوں ہم خود غریب رہنے کا انتخاب کرتے ہیں لیکن ملبہ ہم ڈال دیں گے نصیب پر اور ساری عمر مقدروں کو کوستے رہیں گے جب تک ہم کام کرنے کی اور محنت کرنے کی عادت نہیں ڈالیں گے ہم غربت سے نکل ہی نہیں سکتے چاہے کوئی آپکو سونے کی کان پر بٹھا دے آپ اسکا بھی بیڑہ غرق کر دیں گے.

    ‏خدا اس قوم کی تقدیر نہیں بدلتا جو اپنی تقدیر خود نہ بدلے…
    تو بجائے غربت کا رونا رونے کے اپنی عادت بدلیں محنت کرنے کی عادت ڈالیں کام کرنے کی عادت ڈالیں اگر کوئی کام نہیں چل رہا تو کچھ دوسرا کام سیکھیں اور اپنی تقدیر خود لکھیں پر پہلے صرف عادت بدلیں.

    @AhmdTeam

  • جب چشمِ فلک اشکبار ہوئی . تحریر ‌:  ایم ایم صدیقی صاحب

    جب چشمِ فلک اشکبار ہوئی . تحریر ‌: ایم ایم صدیقی صاحب

    ہ فاراں کی نورانی چوٹی پر کھڑے ہوئے ، قل ھواللہ احد کا سب سے پہلا باطل شکن نقارہ ، بجا کر نوع انسانی خواب کفر و ضلالت سے بیدار کیا ، اور سلسلۂ دعوت و تبلیغ میں مہر و الفت محبت ولطافت، کی گل افشانیاں کرتے ھوئے ، صرف 23 سالہ عرصۂ مختصر میں باطل خداؤں کے چراغوں کو بجھا کر توحید کا جہاں تاب دیا جلا یا، سابقہ ملل و شرائع کو منسوخ کر کے ،،،، الیوم اکملت لکم دینکم ———- کا سرمدی دستور حیات پیش کیا ،،، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کے ہاتھوں قصرِ دین کی تکمیل ہو چکی، اور بالآخر، —— کل نفسٍ ذائقۃ الموت——— کے سرمدی اصول کےطابق ؛ محبوب یزداں ، فخرِ رسولاں ، پیغمبرِ آخر الزماں ، ملک الموت کے ذریعہ دارِ فانی سے عالم جاودانی کا سفر طے فرماکر واصلِ بحق ہوئے،،،

    تو اس وقت کے تصور سے روح کانپ جاتی ھے رگ و پے کی حرکت سلب ہوجاتی ھے، پلکوں پر آنسوں کے موتی بکھر جاتے ھیں ، عقل و خرد کے لطیف محل پر اداسیوں کے گھنے بادل سایہ فگن ہوجاتے ھیں ، غم فراق کے فرشِ حزیں پر تصورات کے تلوے زخمی ہونے لگتے ھیں ،، آرزووں کے شاداب پودوں کو سمومِ فراق کی تیزابیاں جھلسا دیتی ہیں ، ذہنی عشرت کدے کی بنیادیں متزلزل ہونے لگتی ہیں ،،،، زبانِ کائنات واحسرتا واحسرتا کا ورد کرنے لگتی ھے ،
    الحاصل،،، مرگ رسول کی منظر کشی سے زبان تھر تھراتی ہے ، قلم لڑ کھڑاتا ھے ، دامنِ صفحات سمٹتا نظر آتا ھے ،جملے مہمل ہو جانا چاہتےھے ، حروف تہجی خبر غم کی ہئیتِ ترکیبی اختیار کرنے سے گریز کرتے ھیں ، ذخیرۂ الفاظ داستان رحلت کی تعبیر سے قاصر ھے،

    الغرض ،،، نوشتۂ ازلی کے مطابق حادثۂ جانکاہ وجود پذیر ہو ہی چکا ،،،، تو بتکلف تمام دلِ احساس پر صبر و تحمل کا پتھر ور کی کشید کی ہوئی لکیر پر دست نگارش ، جبراً و کراہاً، بایں طور خامہ فرسائی ہوا،،،،،،،،،، کہ ماہ ربیع الاول ، کی بارہویں شب بدرِ منیر کی خنک شعاوں سے آنکھ مچولیاں کرتی ھوئی گیسوئے سیاہ فام کی گرہوں میں ستاروں کی ضوفگن کرنوں کو باندھتی ھوئی ، گلشنِ وجود کے پودوں کی آبیاری اور نازک گلوں کی لطیف پنکھڑیوں میں موسم بہار کی مٹھاس گھولتی ہوئی ،، صبح نو کے ساحل کی طرف آہستہ آہستہ چل رہی تھی ، چاند —— قدّرنٰاہٗ منازلَ —— کے محور پر تیز گام تھا ، تاروں کی شب تاب شمعیں مندمل ہونے لگی تھیں ، گلشنِ دنیا میں چہل پہل شروع ہوچکی تھی ، رات کی مسافت تمام ہورہی تھی ، غرض یہ کہ،،،،،،، قیامتِ کبریٰ کا منظر لئے ہوئے لرزتی کانپتی سحر طلوع ہوئی ، گھنے بادلوں کے اوٹ سے سورج رونما ہوا ، اور آناً فاناً صفحۂ دہر پر روشنی پھیل گئی ،، سورج کی جبینِ جہاں تاب پر رنج و غم کی تصویر کشید کی ہوئی تھی ، اس کی خو بار شعاؤں سے کسی سب سے بڑے المیہ کا سراغ مل رہا تھا ، اور جب وہ اپنے مقررہ مدار پر رقص کرتا ھوا وقت موعود پر ڈیرا ڈال چکا ، تو نوشتۂ ازلی کی فائل کھولی گئی ،،،،،، قضا و قدر کے قلم نے عالمِ برزخ میں داخلے کا اجازت نامہ لکھا ،——— کل من علیھا فان———– کی عدالت نے آخری فیصلہ سنایا ، اور یک لخت گردش دوراں نے انگڑائیاں لیں نظمِ کونین میں انتشار بپا ہوا، چمن مسرت پر اداسی کا بادل منڈلایا ، —–احسن تقویم —- کے نوری قالب میں دست اجل نے ڈاکہ زنی کی،،، روح پر فتوح کو قفس عنسری سے نکال کر نہایت اعزازو احترام کے ساتھ جنتی ملبوسات میں لپیٹا، اور —— الموت جسرٌ ——– کے حدِ فاصل کو پار کرکے ، —– یوصل الحبیب الی الحبیب———- کی منصبی خدمت بجا لانے کے بعد ،—— ثم دنیٰ فتدلّیٰ ——— کا قابلِ دید منظر پیش کر کے اشتیاقِ مشیت کا دیرینہ تقاضہ پورا کیا ، !!

    پھر کیا تھا افرا تفری کا عالم بپا ہوا، چشم فلک اشک بار ہوگئی ، سینۂ گیتی کا دل دہل گیا ، عرش اعظم کے ستون ہل گئے، قصر نیلگوں کی جبینِ پُر شکوہ پَر شکن ابھر آئی، انسانیت یتیم ہوگئی،، روحیں غمگساری کے لئے زمین پر اتر نے لگیں ، روئے ایام نے تابِ ضبط نہ لاکر شب تاریک کا لبادہ اوڑھ لیا،،،،،،،،
    اور ادھر رفیق اعلی کاشوق —- اُدُنُ مِنیّ —— لبریز ہورہا تھا ، بامِ عرش سے ——– اِ ئتُونی بہ استخلصہُ لنفسی——— کی صدائیں باز گشت گونج رہی تھی،، خالق سلسبیل ، —- شراباً طہورا——– کا دور چلانے والا تھا ، ، روح الامین کو ثرو تسنیم کے ساغر ومینا لئے کھڑے تھے،، حوریں جنتی بالاخانوں میں ——- الانتظار اشد من الموت ——— کا وظیفہ دہرا رہی تھی ،،،، رضوانِ جنت نوری تنوں کے ہمراہ نوشہِ جنت کے استقبال کے لئے فرش راہ بنے ہوئے تھے ، فردوس اعلی کی ثمر افشاں ڈالیاں شیریں مزاج و خوشگوار تحفے لئے بوجھل ہورھی تھیں،،،، عروس جنت شبِ کن فکاں کے دولھا کو اپنی باہوں میں لے کر خفیف لوریاں دینا چاہتی تھیں ،،،،
    حجرۂ عائشہ تماشہ گہِ عالم بنا ہو اتھا،، در یثرب پر فرشتوں کا ازدحام تھا،، خاکِ لحد کے زرات جلوۂ کہکشاں کا منظر پیش کررھے تھے ، جسد رسول کے انعکاسی شرارے سورج کی شعاعوں کو شرمارہے تھے،، کفن کے زر نگار ٹکڑے ردائے کبریائی سے اقتباسِ فیض کررھے تھے ،،،، مہاجرین و انصار نے —– رحماء بینھم ——– کا عملی نمونہ پیش کردکھا یا تھا ، تاآنکہ،،،،،، الائمۃ من القریش—— کے بمصداق؛؛؛؛ ثانی اثنین اذھما فی الغار ——– خلیفہ اول منتخب ہوچکے تھے ،،،

    آخراً،،، جب جاں نثار صحابہ لرزتے کانپتے ہونٹوں سے نعشِ مبارک کو غسل دے کر ، زر نگارملبوسات میں بصد اعزاز و احترام مستور کرکے اشکبار آنکھوں سے جمال انوری کا آخری دیدار کرچکے،، تو یکا یک ، مشیت کانپی،، بجلی کڑکی، دھرتی کا

    اپنے پرائے کے لئے یکساں تھا مہرباں
    افسوس ایسا رہبرِ فرزانہ کھو گیا

    @soxcn

  • ‏توبہ ہی بقاء آخرت اور رضا الہی ہے  تحریر : مدثر حسین

    ‏توبہ ہی بقاء آخرت اور رضا الہی ہے تحریر : مدثر حسین

    آج کا موضوع انسان کے نفس اسکی خواہشات اور اللہ رب العزت کی بندگی سے متعلق ہے. یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کیوں انسان شیطان کے بہکاوے میں آتا ہے آخر کیوں رب کی بارگاہ سے دور ہو جاتا ہے.
    اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انسان کو بہت عمدہ شکل و صورت سے نوازا ہے جیسا کی قرآن کریم میں ارشاد فرمایا

    لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘(۴)

    ترجمۂ کنز العرفان

    بیشک یقیناہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ۔

    تفسیر صراط الجنان

    { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ: بیشک یقینا ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا۔ } اللّٰہ تعالیٰ نے انجیر،زیتون،طور سینا اور شہر مکہ کی قسم ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو سب سے اچھی شکل وصورت میں پیدا کیا ،اس کے اَعضاء میں مناسبت رکھی،اسے جانوروں کی طرح جھکا ہوا نہیں بلکہ سیدھی قامت والا بنایا، ،اسے جانوروں کی طرح منہ سے پکڑ کر نہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھانے والا بنایا اوراسے علم، فہم، عقل، تمیز اور باتیں کرنے کی صلاحیت سے مُزَیّن کیا۔( خازن، والتین، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۳۹۱، مدارک، التین، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۳۶۰، ملتقطاً)

    انسان کو اتنا خوش شکل ہونے کے بعد اتنی عظمتوں عزتوں. عمتوں کے بعد تو تابعدار ہونا چاہیئے تھا پھر بھی نافرمانی کیوں؟

    اگر انسان اللّٰہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی تخلیق میں غور کرے تو اس پر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے حسن ِصوری اور حسن ِمعنوی کی کیسی کیسی عظیم نعمتیں عطا کی ہیں اور اس چیز میں جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنا ہی زیادہ اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کی معرفت حاصل ہوتی جائے گی اور اس عظیم نعمت کو بہت اچھی طرح سمجھ جائے گا۔

    شیطان انسان کے نفس کو کسی نا کسی ہوس میں الجاھے رکھتا ہے جس سے وہ رحمان کے راستے سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر خسارے میں ہو جاتا ہے جیسا کی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا.
    وَ الْعَصْرِۙ(۱)اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲)اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)

    ترجمۂ کنز العرفان

    زمانے کی قسم۔ بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔ مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔

    تفسیر صراط الجنان
    {وَالْعَصْرِ: زمانے کی قسم۔}
    {اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ: بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قسم ذکر کرکے فرمایا کہ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے کہ اس کی عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ میں انہیں پیش آئیں تو یہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے خسارے میں نہیں بلکہ نفع پانے والے ہیں کیونکہ ان کی جتنی عمر گزری وہ نیکی اور طاعت میں گزری ہے۔( روح البیان، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۱۰ / ۵۰۵-۵۰۶، خازن، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۴ / ۴۰۵، ملتقطاً)

    اسی طرح ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ(۲۹) لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ‘‘(فاطر:۲۹،۳۰)

    ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اللّٰہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیےہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی ۔تاکہ اللّٰہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا، قدرفرمانے والا ہے۔

    سورہِ عصر کی آیت نمبر2اور 3سے حاصل ہونے والے نتائج
    (1)…انسان کی زندگی اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اس سرمائے سے وہ اُسی صورت میں نفع اٹھا سکتا ہے جب وہ اِسے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں خرچ کرے اوراگر وہ یہ سرمایہ اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے، اس کی نافرمانی کرنے اور گناہوں میں خرچ کرتا رہا تو اسے کوئی نفع نہ ہو گا بلکہ بہت بڑا نقصان اٹھا ئے گا ،لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت میں مصروف ہوجائے ۔

    (2)…انسان کی زندگی کا جو حصہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرے وہ سب سے بہتر ہے۔

    (3)…دنیا سے اِعراض کرنا اور آخرت کی طلب میں اور ا س سے محبت کرنے میں مشغول ہونا انسان کے لئے سعادت کا باعث ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا‘‘(بنی اسرائیل:۱۹)

    ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئےایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہوتو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
    اگر نفس شیطانیت میں مائل ہو جاے تو رب العالمین سے اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کی دعا کرنی چاہیئے اور اسکو شیطان کا کھلونا بننے سے بچانا چاہیے
    اللہ سے توبہ کرنی چاہیے جیسا کی قرآن میں ارشاد ہوتا ہے.
    وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵)اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ(۱۳۶)

    ترجمۂ کنز العرفان

    اور وہ لوگ کہ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تواللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ کے علاوہ کون گناہوں کو معاف کر سکتا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے برے اعمال پر اصرار نہ کریں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے بخشش ہے اور وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ (یہ لوگ) ہمیشہ ان (جنتوں ) میں رہیں گے اورنیک اعمال کرنے والوں کا کتنا اچھا بدلہ ہے۔

    تفسیر صراط الجنان

    {ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ: اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔} پرہیزگاروں کے اوصاف کا بیان جاری ہے اوریہاں ان کا مزید ایک وصف بیان فرمایا، وہ یہ کہ اگر اُن سے کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ سرزد ہوجائے تو وہ فوراً اللہ عَزَّوَجَلَّ کو یاد کرکے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ، اپنے گناہ پر شرمندہ ہوتے ہیں اور اسے چھوڑ دیتے ہیں اور آئندہ کیلئے اس سے باز رہنے کا پختہ عزم کرلیتے ہیں اور اپنے گناہ پر اِصرار نہیں کرتے اور یہی مقبول توبہ کی شرائط ہیں۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ’’ تیہان نامی ایک کھجور فروش کے پاس ایک حسین عورت کھجوریں خریدنے آئی۔ دکاندار نے کہا کہ یہ کھجوریں اچھی نہیں ہیں ، بہترین کھجوریں گھر میں ہیں ، یہ کہہ کراس عورت کو گھر لے گیا اور وہاں جا کر اس کا بوسہ لے لیااور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ اس عورت نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر۔ یہ سنتے ہی تیہان نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہو کر حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں سارا ماجرا عرض کیا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ ایک روایت یہ ہے کہ’’ دو شخصوں میں بڑا پیار تھا، ان میں سے ایک جہاد کے لئے گیااور اپنا گھر بار دوسرے کے سپرد کر گیا۔ ایک روز اُس مجاہد کی بیوی نے اُس انصاری سے گوشت منگایا ، وہ آدمی گوشت لے آیا،جب اُس مجاہد کی بیوی نے گوشت لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تواس نے ہاتھ چوم لیالیکن چومتے ہی اسے سخت شرمندگی ہوئی اور وہ جنگل میں نکل گیا اور منہ پر طمانچے مارنا اور سرپر خاک ڈالنا شروع کردی۔ جب وہ مجاہد اپنے گھر واپس آیا تو اپنی بیوی سے اپنے اُس دوست کا حال پوچھا۔ عورت بولی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے دوست سے بچائے۔ وہ مجاہد اُس کو تلاش کرکے حضور سید المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں لایا۔ اس کے حق میں یہ آیات اتریں۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۳۵، ۱ / ۳۰۲)ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں واقعے اس آیت کا شانِ نزول ہوں۔ بہر حال خلاصہ تو واضح ہے گناہ کا ہو جانا نفس کا بھٹک جانا اتنی بڑی غلطی نہیں جتنی علم ہونے کے باوجود غلطی پر نا صرف قائم رہنا بلکہ اس پر اکڑ جانا اور توبہ نہ کرنا یہ سب سے بڑی غلطی ہے

    ‎@EngrMuddsairH

  • دین اسلام ، پاکستان اور ہم لوگ تحریر : سیف اللہ عمران

    دین اسلام ، پاکستان اور ہم لوگ تحریر : سیف اللہ عمران

    پاکستان بننے کا مقصد مسلمانوں کے لئے الگ ریاست قائم کرنا تھا جہاں مسلمان اپنے رب سے رشتہ قائم کرسکتے ہیں اور ملک میں اسلامی قوانین نافذ کرسکتے ہیں اور ہم ایک ایسا اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جو دنیا کے لئے ایک مثال ہو۔

    بانی پاکستان کو آزادی کے بعد اس ضمن میں کچھ قانون سازی کرنے کے لئے اتنا وقت نہیں ملا۔ ابتدائی طور پر ، اس ملک کا قانون انگریزوں سے لیا گیا ایک قانون تھا۔ انگریزوں نے اس میں بہت سی تبدیلیاں کیں ، لیکن ہمارے پاس یہ اثاثہ ویسے ہی اب بھی موجود ہے مجھے اب بھی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ہمیں انگریزوں سے آزادی ملی ہے یا انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔

    تاہم، فرض کریں کہ ابتدائی چند برسوں میں ، ملک کی سالمیت کے ساتھ بہت سے دوسرے معاملات تھے جن پر توجہ نہیں دی گئی ہو گی ۔ لیکن پھر سال گزر گئے اور ہم اس ملک میں اسلامی قانون یا شریعت نافذ نہیں کرسکے۔ لیکن ہم نے اسلام کو تنہا نہیں چھوڑا ، بلکہ اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے کا فن سیکھا.
    جی ہاں! آج ، لوگوں کو ہمارے ساتھ کھڑا کرنے اور ہماری مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ، اسلام ہمارے لئے سب سے بڑا ہتھیار ہے۔اس ملک کے فراموش لوگوں کے لئے اسلام کی محبت اس قدر شدید ہے کہ اسلامی نعرہ انہیں سڑکوں پر لے جاسکتا ہے اور آواز بلند کرسکتا ہے۔
    لیکن عملی طور پر ہم سب انگریزوں کے بنائے ہوئے قواعد کو دھیان میں رکھتے ہیں ، چاہے ہم ان کو دس لاکھ برے الفاظ بھی کہتے رہیں , اس کا مطلب یہ ہے کہ انگریزوں کی مکمل پیروی کرنے کے بعد بھی ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں۔

    ہماری قومی زبان اردو ہے لیکن سرکاری زبان انگریزی ہے۔ ہم مسلمان ہیں لیکن ہم انگریزوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ ہمارا قومی ترانہ فارسی میں ہے اور مذہب عربی میں ہے ، لیکن ہم دونوں زبانوں سے لاعلم ہیں اور ان کو سیکھنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رہے ہیں، ہاں، انگریزی سیکھتے ہیں کہ دنیا جو کمانی ہے۔ اس کے لیے انگریزی زبان بہت ضروری ہے.

    عالمی سطح پر، کسی بھی ملک کی ترقی و خوش حالی کا انحصار اس ملک کی اسٹیبلشمن- پر ہوتا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے چار جزو سیاست، فوج، بیورو کریسی اورعدلیہ ہیں ۔ جو صرف اس صورت میں ترقی کر سکتے ہیں جب وہ مل کر کام کریں۔ اور اگر ان میں سے ہر ایک صرف اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ملک کا نظام انتشار کا شکار ہوجائے گا / جاتا ہے اور یہ ہمارے ملک پاکستان کی صورتحال ہے۔ ہمارے سیاستدان چاہتے ہیں کہ وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنیں اور ان کے پاس جوابدہ رہنے کے لئے کوئی نہ ہو۔ اسی طرح باقی ادارے بھی اپنی خودمختاری اور آزادی کے نعرے کے ساتھ منظرعام پر آتے ہیں اور پھر معاملہ اور بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ مالک اور خود مختار وہی ہے جس نے اس مقدس سرزمین کی برکتوں کو ہم جیسے بیکار کے حوالے کردیا۔ تو پھر کیوں اس کے قانون کو نافذ نہیں کیا جا رہا ہے؟

    ایسی بات کہنے یا نعرہ لگانے کی حد تک تو ٹھیک ہے ، لیکن عملی طور پر یہ بہت مشکل ہے۔
    کیونکہ اگر اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو بدعنوانی ختم ہوجائے گی۔ پھر ہم کیسے اپنے پیٹ کو جہنم کی آگ سے بھر سکیں گے ؟
    اگر اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو سودی نظام کو روکنا پڑے گا۔ پھر ہمارے بینک کیسے چلیں گے؟ اور ہم ان کے ذریعہ کس طرح قرض لیں گے؟
    اگر اسلامی نظام نافذ کیا جاتا ہے تو ، ہماری سیاست کیسے چلے گی ، جو جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے۔ ہم نے اسے ایک نیا نام دیا ہوا کیونکہ یہ ایک "سیاسی بیان” تھا
    اگر اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو مولوی مسجد سے باہر آجائیں گے ، پھر اس پر قابو کیسے رکھیں گے؟ مساجد پر پابندی عائد ، وہ خود اپنے فتوے کیسے حاصل کریں گے؟
    اگر اسلامی قانون نافذ کیا جاتا ہے تو پھر عورت کو عزت اور وقار کا اعلٰی مقام ملے گا ، پھر ہم ان آدھ خواتین کی لاش کو کیسے دیکھ سکتے ہیں جو ہر سال سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔

    ان جیسے اور بھی بہت سارے سوالات ہیں اور جب تک ان کا جواب نہیں مل جاتا ہم مسلمان ہی رہیں گے لیکن ہم اسلام کو ہماری زندگیوں میں مداخلت نہیں کرنے دیں گے۔ بلکہ ہم خود اسلام میں مداخلت کریں گے اور اسے اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارا بھلا ہے اور ہمیں ملک کی بھلائی یا اسلام کی بھلائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

    ہم دوسروں کو کافر ثابت کرنے کے لئے اسلام کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہے ، جس پر ہم غداری کا فتویٰ جاری کرتے ہے اور خود کو اسلام کا ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ہم مسلمان بننا پسند نہیں کرتے ، ہمیں مسلمان دیکھنا پسند ہے اور وہ بھی عملی طور پر نہیں بلکہ زبانی

    Twitter @Patriot_Mani

  • سفر فنا کا کون کرتا ہے   تحریر: حسنِ قدرت

    سفر فنا کا کون کرتا ہے تحریر: حسنِ قدرت

    محبت فنا ہو جانا ہے کسی کی خاطر اور پھر وہی فنا بقا کی طرف لے جاتی ہے آپ کو یہ بات تھوڑی سی عجیب لگے گی ایک بہت ہی مشہور کہانی ہے بادلوں کا جھنڈ ایک صحرا سے گزر رہا تھا وہاں ایک ننھے بادل کے ٹکڑے کو ریت کے ایک چھوٹے سے زرے سے محبت ہوگئی بادل ہواؤں کے رخ پہ جارہے تھے لیکن وہ وہاں نہ برسے کیونکہ اس بنجر زمین پہ برسنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا لیکن بادل کا وہ ٹکڑا جسے اس ریت کے ذرے سے محبت ہوئی تھیں وہ وہاں سے نہیں جا سکتا تھا اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ برسے گا تو یہیں بالآخر جب اسکے دوست جارہے تھے اس نے پیار سے اُس ریت کے ذرے کو دیکھا اور پانی کی چند بوندیں جو اسکے پاس تھیں اس نے اُس ریت کے ذرے پہ ڈال دیں اس مٹی میں شاید کوئی بیج پڑا تھا وہ پھوٹ پڑا اور بہت جلد وہاں ایک تن آور درخت بن گیا جو ریت کے ذرے اور بادل کے ٹکڑے کی محبت سے وجود میں آیا اب مسافر وہاں آرام کرتے تھے ،پرندے اُس درخت کی چھاؤں میں آتے چہچہاتے تھے اس طرح وہ بادل کے اس ٹکڑے اور ریت کے ذرے کی محبت کے گیت گاتے تھے
    محبت تو ہی ہے کسی کے لیے اپنا سب کچھ دے دینا بے غرض ہوجانا اور یہاں فنا میں بھی بقا ہے اگر آپ سچے ہیں تو چاہے وہ اللّٰہ کی محبت ہے یا بندوں کی کیونکہ جو شخص اپنے خدا سے محبت کرتا ہے وہ کسی طرح کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتا اس طرح اگر ساری انسانیت سے محبت کرتا ہے تو بے لوث خدمت کرتا ہے
    اگر کسی انسان تک اسکی محبت محدود ہے تو وہ اس سے صلے کی توقع نہیں کرتا چاہے اس سارے سفر میں وہ فنا ہی کیوں نہ ہو جائے
    جب وہ ان اصولوں کو اپناتا ہے تو وہ فنا اسکی بقا بن جاتی ہے اور وہ کہانی امر ہو جاتی ہے

    اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا منصور کے نام سے مشہور ہوتا ہے
    انسانیت سے محبت کرنے والا عبد الستار ایدھی کے نام سے مشہور ہوتا ہے
    اور
    کسی انسان سے محبت کرنے والا کبھی رانجھا کے نام سے مشہور ہوتا ہے تو کبھی مجنوں و فرہاد کے نام سے
    لیکن سوال پھر وہی ہے کہ سفر فنا کا کون کرتا ہے؟

    Twitter:@HusnHere

  • اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے تحریر : راجہ ارشد

    اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے تحریر : راجہ ارشد

    ہم ہر روز سینکڑوں ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو کسی شاہراہ پر کھڑے پانی کی بوتلیں اٹھائے رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں کئی کسی پارک میں غبارے بیچتے نظر آئیں گے یا کسی ہوٹل پر برتن دھوتے دکھائی دیتے ہیں یہ میرے بچے اس قوم کا اس وطن کا مستقبل ہیں۔

    یہ اس مٹی کے محافظ آزادی کے امین ہیں ہم ایسے کرداروں کو دیکھ کر اپنی زندگی کی مصروفیات میں مگن ہو جاتے ہیں احساس کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے عملی طور پر تو کچھ کرنا شاید ہم اپنی توہین سمجھتے ہیں یا پھر اپنی ذمہ داری ہی نہیں سمجھتے یہ غربت میں پلنے والے میرے بچے محنت کش اللہ کے بہترین دوست ہیں۔

    جو روز قیامت صرف حکمرانوں کی ہی نہیں ہر صاحب استطاعت کی شکایت کریں گے بڑے محلات میں رہنے والے آرام دہ گاڑیوں میں سفر کرنے والے میدان حشر میں ان بچوں کے مجرم ہوں گے وطن عزیز کی آزادی کے وقت جسم پر جو دو کپڑے تھے سات دہائیوں کے بعد اپنے تن کو ڈھانپنے کے لئے ایک چادر بھی مشکل سے ملتی ہے سندھ کے تھر میں چلیں جائیں یا بلوچستان کے ریگستانوں میں پنجاب کے دیہاتوں کی بات ہو یا پھر پختونخواہ کے دور دراز پہاڑی علاقوں کی جہاں غربت نے اس قدر ڈیرے ڈالے ہیں کہ بچوں کی تعلیم تو درکنار لباس اور خوراک بھی پوری طرح نہیں ملتی ہے۔

    جہاں پینے کا صاف پانی نہیں ہے بھوک سے بچے مر رہے ہیں میرے بچوں نے یہ سوال ہم سب سے کرنا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے سوال تو ہو گا نماز روزوں کا لیکن بات جب بھوک کی ہو گی تو شاید وہ شکایت ہمارے لیے سزا کا باعث بن جائے یہ میرے بچے رزق حلال کماتے ہیں ان کو تعلیم کی ضرورت ہے ان کے بھی خواب ہیں وہ بھی شہر میں جانا چاہتے ہیں ایئر کنڈیشن روم میں بیٹھ کر نوکری کرنا چاہتے ہیں کاروبار کرنا چاہتے ہیں ان کے بھی ارمان ہیں اچھے کپڑے پہننا چاہتے ہیں زندگی کو جینا چاہتے ہیں۔

    چھوٹی چھوٹی خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں یہ اس قوم کا مستقبل ہیں ان کی تربیت ان کی تعلیم اچھا لباس اچھا گھر ہم سب کی ذمہ داری ہے حکمرانوں سے امید رکھنا اور صرف حاکم وقت کی ذمہ داری سمجھ کر آنکھیں بند کر لینے سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

    ہر انسان کو انفرادی طور پر اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے ایک ایسے بچے کی اچھی تربیت کرنا اسے تعلیم دلانا اچھا اور قابل شہری بنانا نا صرف دلی سکون دے گا بلکہ صدقہ جاریہ ہو گا ہمیں عہد کرنا ہے اپنی حیثیت کے مطابق اس کام کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرنا ہے کسی کے دکھاوے یا شاباش لینے کے لئے نہیں۔

    بلکہ اللہ کی رضا کے لیے کرنا ہے انشاءاللہ جس دن ہم اپنی انفرادی ذمہ داریوں کو پورا کرنے لگے تو میری قوم کے بچے نہ بھوکے سوئیں گے نا ہی سڑکوں پر ننگے پائوں پھرتے نظر آئیں گے بلکہ اس قوم کا ہر فرد پڑھا لکھا باشعور معزز شہری ہو گا یہی ترقی کی طرف جاتا راستہ ہے جس سے ہم عظیم قوم بن سکتے ہیں۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • قومی مفاد اورھم . تحریر :  کیکاؤس کیانی

    قومی مفاد اورھم . تحریر : کیکاؤس کیانی

    جس كا ميں بهى طالب علم تها- جناب تاكا هاشى صاحب نے اپنى دهواں دار تقرير ميں عالمى جنگ كى تباه كارى، هيروشيما اور ناگاساكى پر ايٹمى حملے، اس كے اثرات اور مستقبل كے لائحه عمل كے بارے ‏جاپان كى حكمت عملى كى تصوير كشى كى- جنگ ميں تباه حال ملك كس طرح ترقى كى منازل طے كرتا گيا- قوم نے زبوں حالى سے كس طرح ترقى كى منازل طے كيں- كيسے جنگ سے تباه حال قوم نے معيشيت كى دنيا ميں اپنا لوها منوايا- آخر ميں سوال و جواب كى ايك نشست هوئى- جہاں اور بہت سے سوال پوچهے گئے و‏ہاں ايك احمقانه سوال بهى پوچها گيا‘ سوال تها كه جاپان اور پاكستان نے تقريباً ايك ساتهہ سفر شروع كيا- جاپان نے 1945 ميں عالمى جنگ كے بعد تعميرنو شروع كى اور پاكستان نے 1947 ميں معرض وجود ميں آنے كے بعد- تو ايسا كيا هوا كه جاپان تو ترقى كى اوج ثريا كو چهونے لگا اور پاكستان وه كچهہ حاصل نه كر سكا جو اٌسكى نظرياتى اساس تهى- پروفيسر صاحب هلكا سا مسكرائے اور حاضرين كے خفت زده چہروں پر ايك طائرانه نظر ڈالتے هوئے يوں گويا هوئے: ميں ايك جاپانى كى حثيت سے سوال كے اس حصے كا جواب دينے سے قاصر هوں كه پاكستان ترقى كيوں نه كرپايا كه ميں پاكستانيات پر اتهارٹى نهيں ركهتا ليكن جاپان كى ترقى كى كہانى بيان كر ديتا هوں اورآپ خود موازنه كر ليجيے گا كه هم بحثيت قوم كيسے ترقى كرگئے اور آپ نه كر سكے-

    پروفيسر صاحب نے بتايا كه كس طرح جنگ كے فوراً بعد جاپانى قوم نے عزم اور تندهى سے تعمير نو كا كام شروع كيا- جنگ اور ايٹمى تابكارى كے سامنے سينه سپر هو كر اك نئى تاريخ لكهنے كى ابتدا كى- اس هولناك سانحے نے بهى قوم كو منتشر نه هونے ديا اور قوم نے متحد هو كر وه كر دكهايا جسكى مثال رهتى دنيا تك دى جا سكتى هے- مختلف زاويوں سے قومى ترقى كے لمحه به لمحه سفر كى روداد بيان كى- اور آخر ميں اس سوال كا جواب ديا جس ميں جاپانى ترقى كا راز پنہاں تها- بقول پروفيسر قوم افراد كے مجموع سے بنتى هے نه كه هجوم سے- جاپانى قوم نے ترقى كي سيڑهى پر يقين محكم سے قدم ركها اور ان كے عزم و حوصلے كى داستان كو صرف ايك چيز نے تقويت دى اور وه تهى "خوددارى”- اور اس خودى كو بلند كرنے كيليے صرف ايك چيز كى ضرورت تهى اور وه تهى "مفاد پرستى”- مفاد, غرض, وفا اور خلوص كو اگر انسان كے اندر ايك پيمانے سے ماپا جائے تو جاپانى قوم نے اس كى تقسيم يوں كى: هر جاپانى كے نزديك سب سے اولين مفاد كا حق شاه يا ملك تها اور اسكے ليے 100% وفادارى و جان نثارى اور خلوص نيت مشروط تهى- اس كے بعد اگر مفاد اور وفا كا حقدار تها تو وه اسكا صوبه تها- پهر اسكا شهر, پهر تحصيل, پهر محله, پهر اوس پڑوس اور اسكے بعد گر كوئى رتى باقى بچتى تو وه خود اسكا حقدار تها-  پروفيسر صاحب يہاں پہنچ كر تهوڑا سا مسكرائے اور حاضرين پر نظر ڈالتے هوئے بولے, اب آپ اپنا موازنه خود كريں كه آپ كہاں كهڑے هيں اور اسں غرض, مفاد اور ايثار كى تقسيم كيسے كرتے رهے-  حاضرين كو سانپ سونگهہ گيا كه اپنے كهلے گريبان سب كو نظر آ گئے-

    همارى تقسيم هي الٹى هے- اپنى زات مقدم اور ستم ظريفى يه كه ايك ايسے حصار ميں خود كو بند كر ليا كه اسكے باهر مفاد كى رتى بهى نهيں جاتى- آج اگر هم اپنا مواخذه كريں اور موجوده افراتفرى و انتشار كو ديكهيں تو دو جمع دو كى طرح حقيقت عياں هو جاتى هے كه اس ابترى ميں حصه بقدر جثه هم سب برابر كے شريك هيں- هم اقدار كى تنزلى كے اس مقام پر كهڑے هيں جہاں قوميں بنتى نهيں بلكه صفحه هستى سے مٹ جاتى هيں-  مفاد پرستى كى اس دنيا ميں همارى حثيت اس موٹرسائكل سوار جيسى هے جو موت كے كنويں ميں چكر لگا رها هوتا هے- جسكى دنيا اس كنويں كے اندر هے-

    ايسا كيوں هے؟ ايسا كيا هوا كه هم اتنے بيحس هو گئے؟ سانحات هميں جهنجوڑتے ضرور هيں ليكن كيا وجه هے كه:

    مرا دل جو کبھی رنگیں تمنّاؤں کا مسکن تھا
    ہوا جاتا ہے اب خانہ خراب آہستہ آہستہ

    انسانى نفسيات كا مطالعه كيا جائے تو پته چلتا هے كه فطرت انسانى كا تغير چشم زدن ميں نهيں هوتا اور بات اگر ضمير كو سلانے كى هو تو سلوپائزنگ سے بہتر نسخه كوئى نهيں- اور اس زهر كو نسلوں كى رگوں ميں اتارنے كے طريقے بہت سے هيں, جيسے فن و ادب كے نام  پر ثقافتى يلغار, بهلے وه پڑوس كى هو يا آزادى فن و تقرير كے نام  پر همارى اپنى تخليق هو, مذهبى انتہا پسندى هو يا آزادى مذهب كے نام پر لبرل ازم- نوع انسانى مختلف طبقات  ميں منقسم هے ليكن شعوروآگہى اسكو تمدنى, معاشرتى اور معاشىی زندگى ميں آگے بڑهاتا هے- شعورى نمو تعليم كى مرهون منت هے- همارا شعورى قتل تعليم كے دوهرے معيار سے كيا گيا تاكه ايك مخصوص طبقه تقسيم حقوق ومعاش كى بندر بانٹ سے لطف اندوز هوتا رهے- هم نے تعليمى تقسيم ميڈئيم كے نام پركى- مذهب كو مساجد تك اس طرح محدود كيا عام آدمى كيليے مذهبى رائے شجر ممنوع قرار دے دى گئى- محرومى كو اسقدر هوا دى كه زنده رهنے كيليے دو هى راستے بچے,  پس جاؤ يا چهين لو- غير محسوس انداز ميں يه ايك تطہيرى عمل تها- پہلے پہل تو يہى لگا كه اچه

    هم نے آزادی کا اک خواب سا دیکھا تھا کبھی 
    واۓ افسوس یہ اس خواب کی تعبیر نہیں 

    ٹویٹر : @kaikauskiani