Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے تحریر : راجہ ارشد

    اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے تحریر : راجہ ارشد

    ہم ہر روز سینکڑوں ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو کسی شاہراہ پر کھڑے پانی کی بوتلیں اٹھائے رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں کئی کسی پارک میں غبارے بیچتے نظر آئیں گے یا کسی ہوٹل پر برتن دھوتے دکھائی دیتے ہیں یہ میرے بچے اس قوم کا اس وطن کا مستقبل ہیں۔

    یہ اس مٹی کے محافظ آزادی کے امین ہیں ہم ایسے کرداروں کو دیکھ کر اپنی زندگی کی مصروفیات میں مگن ہو جاتے ہیں احساس کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے عملی طور پر تو کچھ کرنا شاید ہم اپنی توہین سمجھتے ہیں یا پھر اپنی ذمہ داری ہی نہیں سمجھتے یہ غربت میں پلنے والے میرے بچے محنت کش اللہ کے بہترین دوست ہیں۔

    جو روز قیامت صرف حکمرانوں کی ہی نہیں ہر صاحب استطاعت کی شکایت کریں گے بڑے محلات میں رہنے والے آرام دہ گاڑیوں میں سفر کرنے والے میدان حشر میں ان بچوں کے مجرم ہوں گے وطن عزیز کی آزادی کے وقت جسم پر جو دو کپڑے تھے سات دہائیوں کے بعد اپنے تن کو ڈھانپنے کے لئے ایک چادر بھی مشکل سے ملتی ہے سندھ کے تھر میں چلیں جائیں یا بلوچستان کے ریگستانوں میں پنجاب کے دیہاتوں کی بات ہو یا پھر پختونخواہ کے دور دراز پہاڑی علاقوں کی جہاں غربت نے اس قدر ڈیرے ڈالے ہیں کہ بچوں کی تعلیم تو درکنار لباس اور خوراک بھی پوری طرح نہیں ملتی ہے۔

    جہاں پینے کا صاف پانی نہیں ہے بھوک سے بچے مر رہے ہیں میرے بچوں نے یہ سوال ہم سب سے کرنا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے سوال تو ہو گا نماز روزوں کا لیکن بات جب بھوک کی ہو گی تو شاید وہ شکایت ہمارے لیے سزا کا باعث بن جائے یہ میرے بچے رزق حلال کماتے ہیں ان کو تعلیم کی ضرورت ہے ان کے بھی خواب ہیں وہ بھی شہر میں جانا چاہتے ہیں ایئر کنڈیشن روم میں بیٹھ کر نوکری کرنا چاہتے ہیں کاروبار کرنا چاہتے ہیں ان کے بھی ارمان ہیں اچھے کپڑے پہننا چاہتے ہیں زندگی کو جینا چاہتے ہیں۔

    چھوٹی چھوٹی خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں یہ اس قوم کا مستقبل ہیں ان کی تربیت ان کی تعلیم اچھا لباس اچھا گھر ہم سب کی ذمہ داری ہے حکمرانوں سے امید رکھنا اور صرف حاکم وقت کی ذمہ داری سمجھ کر آنکھیں بند کر لینے سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

    ہر انسان کو انفرادی طور پر اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے ایک ایسے بچے کی اچھی تربیت کرنا اسے تعلیم دلانا اچھا اور قابل شہری بنانا نا صرف دلی سکون دے گا بلکہ صدقہ جاریہ ہو گا ہمیں عہد کرنا ہے اپنی حیثیت کے مطابق اس کام کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرنا ہے کسی کے دکھاوے یا شاباش لینے کے لئے نہیں۔

    بلکہ اللہ کی رضا کے لیے کرنا ہے انشاءاللہ جس دن ہم اپنی انفرادی ذمہ داریوں کو پورا کرنے لگے تو میری قوم کے بچے نہ بھوکے سوئیں گے نا ہی سڑکوں پر ننگے پائوں پھرتے نظر آئیں گے بلکہ اس قوم کا ہر فرد پڑھا لکھا باشعور معزز شہری ہو گا یہی ترقی کی طرف جاتا راستہ ہے جس سے ہم عظیم قوم بن سکتے ہیں۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • قومی مفاد اورھم . تحریر :  کیکاؤس کیانی

    قومی مفاد اورھم . تحریر : کیکاؤس کیانی

    جس كا ميں بهى طالب علم تها- جناب تاكا هاشى صاحب نے اپنى دهواں دار تقرير ميں عالمى جنگ كى تباه كارى، هيروشيما اور ناگاساكى پر ايٹمى حملے، اس كے اثرات اور مستقبل كے لائحه عمل كے بارے ‏جاپان كى حكمت عملى كى تصوير كشى كى- جنگ ميں تباه حال ملك كس طرح ترقى كى منازل طے كرتا گيا- قوم نے زبوں حالى سے كس طرح ترقى كى منازل طے كيں- كيسے جنگ سے تباه حال قوم نے معيشيت كى دنيا ميں اپنا لوها منوايا- آخر ميں سوال و جواب كى ايك نشست هوئى- جہاں اور بہت سے سوال پوچهے گئے و‏ہاں ايك احمقانه سوال بهى پوچها گيا‘ سوال تها كه جاپان اور پاكستان نے تقريباً ايك ساتهہ سفر شروع كيا- جاپان نے 1945 ميں عالمى جنگ كے بعد تعميرنو شروع كى اور پاكستان نے 1947 ميں معرض وجود ميں آنے كے بعد- تو ايسا كيا هوا كه جاپان تو ترقى كى اوج ثريا كو چهونے لگا اور پاكستان وه كچهہ حاصل نه كر سكا جو اٌسكى نظرياتى اساس تهى- پروفيسر صاحب هلكا سا مسكرائے اور حاضرين كے خفت زده چہروں پر ايك طائرانه نظر ڈالتے هوئے يوں گويا هوئے: ميں ايك جاپانى كى حثيت سے سوال كے اس حصے كا جواب دينے سے قاصر هوں كه پاكستان ترقى كيوں نه كرپايا كه ميں پاكستانيات پر اتهارٹى نهيں ركهتا ليكن جاپان كى ترقى كى كہانى بيان كر ديتا هوں اورآپ خود موازنه كر ليجيے گا كه هم بحثيت قوم كيسے ترقى كرگئے اور آپ نه كر سكے-

    پروفيسر صاحب نے بتايا كه كس طرح جنگ كے فوراً بعد جاپانى قوم نے عزم اور تندهى سے تعمير نو كا كام شروع كيا- جنگ اور ايٹمى تابكارى كے سامنے سينه سپر هو كر اك نئى تاريخ لكهنے كى ابتدا كى- اس هولناك سانحے نے بهى قوم كو منتشر نه هونے ديا اور قوم نے متحد هو كر وه كر دكهايا جسكى مثال رهتى دنيا تك دى جا سكتى هے- مختلف زاويوں سے قومى ترقى كے لمحه به لمحه سفر كى روداد بيان كى- اور آخر ميں اس سوال كا جواب ديا جس ميں جاپانى ترقى كا راز پنہاں تها- بقول پروفيسر قوم افراد كے مجموع سے بنتى هے نه كه هجوم سے- جاپانى قوم نے ترقى كي سيڑهى پر يقين محكم سے قدم ركها اور ان كے عزم و حوصلے كى داستان كو صرف ايك چيز نے تقويت دى اور وه تهى "خوددارى”- اور اس خودى كو بلند كرنے كيليے صرف ايك چيز كى ضرورت تهى اور وه تهى "مفاد پرستى”- مفاد, غرض, وفا اور خلوص كو اگر انسان كے اندر ايك پيمانے سے ماپا جائے تو جاپانى قوم نے اس كى تقسيم يوں كى: هر جاپانى كے نزديك سب سے اولين مفاد كا حق شاه يا ملك تها اور اسكے ليے 100% وفادارى و جان نثارى اور خلوص نيت مشروط تهى- اس كے بعد اگر مفاد اور وفا كا حقدار تها تو وه اسكا صوبه تها- پهر اسكا شهر, پهر تحصيل, پهر محله, پهر اوس پڑوس اور اسكے بعد گر كوئى رتى باقى بچتى تو وه خود اسكا حقدار تها-  پروفيسر صاحب يہاں پہنچ كر تهوڑا سا مسكرائے اور حاضرين پر نظر ڈالتے هوئے بولے, اب آپ اپنا موازنه خود كريں كه آپ كہاں كهڑے هيں اور اسں غرض, مفاد اور ايثار كى تقسيم كيسے كرتے رهے-  حاضرين كو سانپ سونگهہ گيا كه اپنے كهلے گريبان سب كو نظر آ گئے-

    همارى تقسيم هي الٹى هے- اپنى زات مقدم اور ستم ظريفى يه كه ايك ايسے حصار ميں خود كو بند كر ليا كه اسكے باهر مفاد كى رتى بهى نهيں جاتى- آج اگر هم اپنا مواخذه كريں اور موجوده افراتفرى و انتشار كو ديكهيں تو دو جمع دو كى طرح حقيقت عياں هو جاتى هے كه اس ابترى ميں حصه بقدر جثه هم سب برابر كے شريك هيں- هم اقدار كى تنزلى كے اس مقام پر كهڑے هيں جہاں قوميں بنتى نهيں بلكه صفحه هستى سے مٹ جاتى هيں-  مفاد پرستى كى اس دنيا ميں همارى حثيت اس موٹرسائكل سوار جيسى هے جو موت كے كنويں ميں چكر لگا رها هوتا هے- جسكى دنيا اس كنويں كے اندر هے-

    ايسا كيوں هے؟ ايسا كيا هوا كه هم اتنے بيحس هو گئے؟ سانحات هميں جهنجوڑتے ضرور هيں ليكن كيا وجه هے كه:

    مرا دل جو کبھی رنگیں تمنّاؤں کا مسکن تھا
    ہوا جاتا ہے اب خانہ خراب آہستہ آہستہ

    انسانى نفسيات كا مطالعه كيا جائے تو پته چلتا هے كه فطرت انسانى كا تغير چشم زدن ميں نهيں هوتا اور بات اگر ضمير كو سلانے كى هو تو سلوپائزنگ سے بہتر نسخه كوئى نهيں- اور اس زهر كو نسلوں كى رگوں ميں اتارنے كے طريقے بہت سے هيں, جيسے فن و ادب كے نام  پر ثقافتى يلغار, بهلے وه پڑوس كى هو يا آزادى فن و تقرير كے نام  پر همارى اپنى تخليق هو, مذهبى انتہا پسندى هو يا آزادى مذهب كے نام پر لبرل ازم- نوع انسانى مختلف طبقات  ميں منقسم هے ليكن شعوروآگہى اسكو تمدنى, معاشرتى اور معاشىی زندگى ميں آگے بڑهاتا هے- شعورى نمو تعليم كى مرهون منت هے- همارا شعورى قتل تعليم كے دوهرے معيار سے كيا گيا تاكه ايك مخصوص طبقه تقسيم حقوق ومعاش كى بندر بانٹ سے لطف اندوز هوتا رهے- هم نے تعليمى تقسيم ميڈئيم كے نام پركى- مذهب كو مساجد تك اس طرح محدود كيا عام آدمى كيليے مذهبى رائے شجر ممنوع قرار دے دى گئى- محرومى كو اسقدر هوا دى كه زنده رهنے كيليے دو هى راستے بچے,  پس جاؤ يا چهين لو- غير محسوس انداز ميں يه ايك تطہيرى عمل تها- پہلے پہل تو يہى لگا كه اچه

    هم نے آزادی کا اک خواب سا دیکھا تھا کبھی 
    واۓ افسوس یہ اس خواب کی تعبیر نہیں 

    ٹویٹر : @kaikauskiani

  • حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر :‌ روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر :‌ روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی ولی رح (1703 میں پیدا ہوے اور 1763 میں وفات پاگے ہیں ۔اج ہم شاہ صاحب کے ایک مختصر سا تعارف اپ کو کرواتے ہیں جو شاہ صاحب کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے۔ شاہ صاحب نے اپنا فلسفہ تب دیا جب یورپ اپنے جدید دور سے ابھی کئی دہائیاں دور تھا اور مارکس کے فلسفے سے تقریبا ایک صدی پہلے۔ ، شاہ ولی اللہ ہندوستانی معاشرے ، اس کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے پیشن گوئی کے نظریات پیش کررہے تھے۔ اس کے خیالات بڑے پیمانے پر انسانیت کے لئے امید کی کرن ہیں۔

    دورحاضر کے ذہنوں کو اسلام کے بنیادی خطوط بیان کرنے کے لئے شاہ ولی اللہ نے اپنی شاہکار کتاب حجت اللہ البلغا لکھا جس میں شاہ صاحب نے اسلامی نظام کے حوالے سے ایک بہترین نظریہ دیا۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت کو مذہبی ، سیاسی اور معاشی امور کے بارے میں لکھنے کے لئے استعمال کیا۔ ایک طرف انہوں نے نظام حکومت کو صیح طور پہ نہ چلانے پر ہندوستانی حکمران کو تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری طرف انہوں نے تعلیم یافتہ طبقہ کو سیاسی اور معاشی میدان میں اصلاح کے مطالبے پر دھیان دینے پر راضی کیا۔ انہوں نے بادشاہت کے خاتمے کی حمایت کی اور اس کی جگہ ایک نئے سیاسی نظام لانے کی بات کی۔ جس کو ٹیکنوکریسی یا اداراجاتی نظام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مطلب اب جو دور دور اے گا اس میں شخصی ویلو نہی بلکہ ادارے فیصلہ کرینگے۔ ہر فیلڈ کا ماہرین کا ایک گروپ ہوگا کو مشاورت سے کام کرینگے۔

    شاہ ولی اللہ کے معاشی خیالات انسانیت پسند تھے۔ اپ نے کام کاج کے اوقات کار چھے گھنٹے مختص کے تھے تاکہ انسان اپنے اولاد کو تربیت بھی دے سکے۔
    فلسفیانہ دائرے میں شاہ ولی اللہ نے ایک ایسا نظریہ پیش کیے جو دنیا کے تمام مذاہب کو قریب لاسکتے ہیں۔ انہوں نے چار بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی جو تمام مذاہب میں موجود تھیں: آخبات طہارت ، ، سماحت اور عدالت۔ مختلف مذاہب کی پیروی کرنے والے معاشروں کو شاہ ولی اللہ کے افکار پر مبنی نظام کے ضریعے آج بھی قریب لایا جاسکتا ہے۔شاہ صاحب اسلام معاشی سیاسی اور عدلتی نظام پہ مکل بحث کرتے ہیں ۔معاشی نظام کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں ۔کسی معاشرے میں دولت چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں نہی بلکہ معاشرے میں سرکولیٹ ہونا چاے۔ تاکہ ہر انسان کے مسلہ حل ہوجاے۔ دولت کی تقسیم جو محاذ محنت کے بنیار پر یا پیسوں کے بنیاد پہ تقسیم نا کی جاے بلکہ ضرورت کو مد نظر رکھا جاے۔ انشااللہ ہم شاہ صاحب کو جو معاشی فلسفہ ہے اس پے اگے لکھتا رہونگا۔

    @rohshan_din

  • انسانی فطرت اور خُود کُشی . تحریر: عتیق الرحمن

    انسانی فطرت اور خُود کُشی . تحریر: عتیق الرحمن

    انسانی فطرت ہے اور یہ کسی حد تک معاشرے کی سوچ ہے کہ اولاد اپنے ماں باپ کو دفناتی ہے ۔ اللّہ سب کے ماں باپ کا سایہ ان پر سلامت رکھے لیکن یہ فطرت شروع دن سے قائم ہے اور قیامت تک رہے گی لیکن جب بھی کوئی کام انسانی فطرت سے ہٹ کر یا اُلٹ ہوتا ہے تو اسے برداشت کرنا تقریبا ناممکن ہے اور اسکے بہت خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ ہے جب ماں باپ اپنی اولاد کو دفناتے ہیں
    یہ دُنیا فانی ہے اور ہر انسان کا وقت مقرر ہے لیکن جب کسی کی جوان اولاد خود کشی کرتی ہے یا کسی ایسے حادثے میں زندگی کی بازی ہار جاتی ہے جو کہ اچانک ہو تو ماں باپ اس صدمے کو برداشت نہیں کرپاتے لیکن بدقسمتی ہے یہ ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے ہورہا ہے.

    محبت میں ناکامی ہو یا کسی تعلیمی شعبے میں فیل یا پھر اپنے کسی ایسے نقصان پر دلبرداشتہ ہو کر نوجوان کچھ بھی سوچے بغیر اپنی زندگی کو ختم کرتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے کہ ہمارا جنازہ پڑھنے والے ماں باپ کے دل پر کیا بیتے گی جنہوں نے پرورش کی محبت دی اور اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی لُٹا دی صرف ہمیں زندہ اور ترقئ کرتا دیکھنے کے لئے
    ہماری یونیورسٹی میں قانون کی ڈگری کے طالب علم نے فائنل سمیسٹر میں سر میں گولی مار کر خود کُشی کرلی کہ اسے ایک لڑکی نے شادی سے انکار کردیا، وہ لڑکا ہمارے ہوسٹل بھی رہتا تھا تو اسکے جنازے پر گئے، بیان نہیں کرسکتا کہ اسکی ماں کس کرب میں مبتلا تھی، بار بار اسکے چہرے کو دیکھی جائے روتی جائے، بھلا اس محبت سے زیادہ کوئی اور محبت ہوسکتی ہے اس دُنیا میں؟ کیا گزرتی ہوگی اس ماں پر جب سے اپنا جوان بیٹا خون میں لت پت یاد آتا ہوگا، باپ نے کس جگر سے اسے قبر میں اُتارا ہوگا جس نے اسکا سہارا بننا تھا اسکا نام روشن کرنا تھا.

    نوجوان لڑکیاں بھی اس سب میں کم نہیں، وہ بھی گلے میں پھندہ ڈال کر پنکھے سے جھول جانا بہت آسانی سے کرتی ہیں اور ذرا بھی نہیں سوچتی کہ ماں باپ پر کیا گزرے گی ہمیں اپنے بچوں کو ذہنی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ زندگی میں بیشتر اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اور موت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے بچوں کو مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور انہیں حل کرنا سکھانا ہوگا ۔ والدین اور اساتذہ کو بچوں کے مسائل اور ذہنی حالت کو سمجھنا ہوگا، بچوں پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں امید پسند بنانا ہوگا ۔ انہیں یہ سمجھانا پڑے گا کہ محنت اور اور مسلسل کوشش سے انسان کسی بھی کامیابی کو پاسکتا ہے
    خود نوجوانوں کو بھی یہ سوچنا پڑے گا کہ اس کے خودکشی کرنے سے اُن کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہوگی، ان کے اس اقدام سے ان کا خاندان معاشرے میں کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرتا ہوگا۔ زندگی ایک خوبصورت نعمت ہے اسے اللہ کے حکم کے مطابق گزارنا چاہیئے ۔ مشکلات کی مدّت ہی کم ہوتی ہے ۔ ہر مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں، یقیناًوہ مشکلات کو ختم کرنے والا ہے
    اللّہ سبکی اولاد کو قوت برداشت عطا فرمائے.

    @AtiqPTI_1

  • موقع تلاش کرو کامیاب ہوجاو . تحریر : شعیب علی

    موقع تلاش کرو کامیاب ہوجاو . تحریر : شعیب علی

    کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ دنیا میں بے شمار موقع ہے جن کو استعمال کرکے انسان کچھ بڑا کر سکتا ہے کامیاب ہونا یا نہ ہونا تو انسان کی اپنی سوچ پر ڈیپینڈ کرتا ہے زندگی تو سمندر کی طرح موقع لے کر تمہارے آگے کھڑی ہے مگر یہ تم پر منحصر ہے کہ تم بالٹی بھرتے ہو یا صرف چمچ.

    زندگی انسان کو دینا تو بہت کچھ چاہتی ہے مگر انسان لینا کچھ نہیں چاہتا زندگی کہتی ہے محنت کرو جو لینا چاہتا ہے لے جا مگر انسان ہے کہ محنت ہی نہیں کرتا اسے موبائل سے ہی فرصت نہیں واٹس اپ پر بڑا اسٹیٹس لگا کر سمجھتا ہے کہ اس کا سٹیٹس بھی بڑا ہو گیا مگر ہوتا کچھ نہیں اور کسی نے کیا خوب کہا تھا کے یہ زندگی ہے دوست کبھی ہنسائے گی کبھی رُلائے گی لیکن جو خاموشی سے لگا رہا وہ نکھڑ جائے گا اور جو بیچ میں ہی چھوڑ گیا ایک دن وہ بہت پچھتائے گا کہ اس لیے زندگی میں کبھی بھی آگے بڑھنے سے ڈرو مت کیونکہ یہاں تو پھر جیت جاؤ گے یا اگر ہار گے تو ایک نئی سیکھ ہو گی اور کہتے ہیں انسان کو کبھی بھی اپنے وقت پر غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وقت تو کبھی ان نوٹوں کا بھی نہیں ہوا جو کبھی پورا بازار خریدنے کی طاقت رکھتے تھے.

    @Shabi_223

  • "لڑکیوں کو محبت سے پرہیز کرنا چاہیے  تحریر : نــــازش احمــــد

    "لڑکیوں کو محبت سے پرہیز کرنا چاہیے تحریر : نــــازش احمــــد

    اب بات کو آگے بڑھاتے ہیں اور بتاتی ہوں کے محبت سے پرہیز کیوں کرنا چاہیے ؟؟ بات کرتے ہیں سوشل میڈیا کی محبت کی وہ محبت جو صرف چار دن کی ہوتی ہے؟ جو صرف جسم دیکھنے کی حد تک ہوتی ہے ؟ وہ محبت جو صرف مزا چکھنے کی ہوتی ہے لڑکیوں کو محبت سے پرہیز اس لیے کرنا چاہیئے کے آپ جس کو اپنا محبوب اور ایک سچے پیار کرنے والے سمجھتی ہیں نا وہ اور بھی کسی کا محبوب ہوتا ہے آپ کیا سمجھتی ہیں وہ صرف آپ کا ہے نہیں ایسا بلکل بھی نہیں ہوتا اگر آپ سے وہ محبت کرتا ہی ہے تو نکاح کے لیے راضی کیوں نہیں ہوتا پھر اس کے گھر والے نہیں مانتے کیا محبت کرتے وقت وہ گھر والوں سے پوچھ کر محبت کرتے ہے کے میں اس لڑکی سے محبت کرلوں ؟؟ جو آپ سے محبت کرے گا تو آپ سے ہی نکاح کریگا کیا اپنے یہ نہیں سنا ؟ "جس سے محبت کرو تو نکاح بھی اس سے کرو”پھر یہ کیسی محبت ہے اور ہر دوسری لڑکی سے ہو جاتی ہے اور ہر لڑکی سے محبت کا جھوٹا دعویٰ ہوتا ہے” لڑکیوں کو محبت سے پرہیز اس لیے بھی کرنا چاہیے ” جس کو آپ محبت کا نام دے رہی ہوتی ہیں نا وہ محبت نہیں ہے محبت کے نام پر ٹائم پاس ہوتا ہے ۔ آپ محبت کرو گھر والوں کی نظروں میں گر جاؤ آپ شادی کے لیے گھر والوں کو راضی بھی کرلو لیکن اگر لڑکے کے گھر والے راضی نہیں ہوے تو کیا ہوگا ؟؟ آپکی اپنی value اور ختم ہو جائیگی آپ کی جو گھر میں عزت ہوتی ہیں نا وہ نہیں ہوگی بات بات پر طعنے ملتے ہیں خاندان ِ میں لوگ ماں باپ کو ہی کہتے ہیں جس میں ماں باپ کا کوئ قصور بھی نہیں ہوتا وہ تو بیٹی پر بہت بھروس کرتے ہیں لڑکیوں کو محبت سے پرہیز اس لیے کرنا چاہیے کہ اس میں صرف لڑکیوں کی زندگی برباد ہوتی ہیں اس میں ماں اور باپ کی بھی زندگی خراب ہوتی ہیں لڑکوں کا کیا وہ تو پھر کسی اور سے محبت کر کے بیٹھ جاتے ہیں انکو ٹائم پاس کے لئے اور مزا چکھنے لئے اور ملتی ہیں اور ہم لڑکیوں اتنی پاگل ہوتی ہیں وہ اسکو ہی اپنا سب کچھ مان کر بیٹھ جاتی ہیں ۔ یاد رکھئے جو آپ سے محبت کریگا اس کو کسی کا بھی ڈر نہیں ہوگا وہ گھر والوں کو بھی راضی کر سکتا ہے بس شرت یہی ہے کی محبت سچی ہونا چاہیے بس آخری میں اتنا کہنا چاہتی ہوں کے خدا را یہ جھوٹی اور دھوکے باز ڈیجیٹل محبت سے باز آجائیں یہ کوئی محبت نہیں ہوتی محبت صرف نکاح کے بعد ہوتی ہے صرف اپنے شوہر سے ہوتی ہے اور کوئی محبت نہیں ہوتی ہے

    "محبت کرو تو نکاح کرو
    بے نام رشتہ خُدا کو پسند نہیں”
    @itx_Nazish

  • عمران خان محفوظ پاکستان کی ضمانت . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    عمران خان محفوظ پاکستان کی ضمانت . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    اس ملک خدادا کو اللہ پاک نے بڑی نعمتوں سے نوازا یہاں کے موسم ،آبی و قدرتی ذخائر،معدنی وسائل ،میدانی علائقے ،پہاڑی سلسلے ، ریگستان ، دریاوں کا پانی ،سمندر ،زرخیز زمینیں ،ہر موسم کی میوہ جات ،محنتی،خوش اخلاق اور پیارے لوگ ،مختلف زبانیں ،الگ الگ کلچر لیکن سب ایک پھولوں کے گلدستے کی طرح ہیں ،دنیا کے سب سے بہترین مذھب دین اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ہمارے اس عظیم ملک جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے ،اتنی نعمتوں کے باوجود ہمارا یہ پیارا وطن جسے دنیا کے مسلمانوں کی امامت کا فرض نبھانا تھا ،اس عظیم ملک کو دنیا کی سپر پاور بننا تھا لیکن ہم بجائے ترقی اور خوشحالی کے تنزلی اور تباہی کی طرف جانے لگے ،ہمارے لوگ بیروزگاری،بھوک ،افلاس میں پھنستے چلے گئے ،سرکار کے نام پر بننے والے ہر ادارے میں بربادی ہی نظر آتی تھی ،اس تباہی و بربادی کے پیچھے ہمارے نااہل حکمران تھے ،کروڑوں کی آبادی پر چند خاندانوں کی حکومت رہی ،جمہوریت کی بجائے بادشاہی نظام کو فروغ دیا جاتا رہا ،دو جماعتوں مسلم لیگ ن اور پپلزپارٹی نے اس ملک پر باری باری کا کھیل کھیلا پارٹی کے سربراہان کا خاندان خود کو بادشاہ اور اپنے چند قریبی دوستوں یاروں میں وزارتیں اور ملک کی اہم ذمہ داریا دیتے رہے ،ان دونوں جماعتوں نے اس ملک کی عوام اور اس پاک دھرتی کے ساتھ بڑی ناانصافی کی ،ہمیشہ عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنے کا ڈرامہ کرکے حکومت میں آتے اور پھر دونوں جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ میں ایک ہوجاتی ،پھر اسی طرح یہ لوگ اپنی اپنی باری پر ملک کو لوٹنا شروع ہوتے ،پاکستان کا پیسہ لوٹ کر باہر ممالک میں لے جاکر اپنی جائیدادیں اور کاروبار بڑھاتے رہتے ،دونوں ایک دوسرے کو کرپٹ اور چور کہتے آئے لیکن کیونکہ دونوں اندر سے ایک تھے تو کسی نے ہمت نہیں کی ان کا احتساب کرنے کی ان کے ساتھ چند چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی اپنا اپنا حصہ لے کر مزے لیتے رہے لیکن کرپشن لوٹ مار کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے آن پہنچا ،لوگ بیروزگاری،غربت ،مہنگائ،نا انصافی سے تنگ آچکے ،ملک کا ہر ادارہ تباہ کردیا ،صحت ،تعلیم ،پولیس سسٹم ،ٹرانسپورٹ سسٹم سب برباد کردیئے گئے ،صحت کے نظام کی تباہی کے اس سے بڑا کیا ثبوت پیش کیا جائے کہ جہاں تین بار وفاق اور ۵ بار پنجاب میں حکومت کرنے والی ن لیگ کی قیادت اپنا علاج کروانے باہر جائیں ،سوچیں اس ملک میں کون کاروبار کرے گا جس ملک کے حکمران اپنا کاروبار باہر ممالک میں کریں ،اس ملک کی کیا عزت ہونی جس ملک کا وزیراعظم عرب ملک کی کسی کمپنی میں چپڑاسی بھرتی ہو اقتدار کے نشے میں مست یہ دونوں جماعتیں عوام کو جمہوریت کے نام پر بے وقوف بناتی رہی اور خود اس ملک کے بادشاہ بنے بیٹھے رہے ،عوام کی یہ حالت اور ملک کی تباہی دیکھ کر پاکستان کو دنیا میں عزت دلوانے والے ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کے کپتان پاکستان کی شان ہر دلعزیز جناب عمران خان صاحب نے سیاسی سفر کا آغاز کیا پہلے دن تقریر کی جس میں اپنا ایک نکاتی ایجنڈہ پیش کیا کہ اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے اس ایجنڈے نے پپلزپارٹی اور ن لیگ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائ تو ان لوگوں نے عمران خان صاحب کو وزارتوں کی لالچ دی ،رشوت کی آفرز کی لیکن کپتان ان کے خلاف ڈٹا رہا پھر ان لوگوں نے خان صاحب کے خلاف ذاتی حملے کئے ،کردار کشی کی ،ہر طرح سے خان صاحب کو جھکانا چاہا لیکن خان صاحب نہیں جھکے اور پھر ان دو جماعتی سیاست کے نام پر بادشاہت سے پاکستانی عوام بلکل تنگ آچکی اور قوم کی امیدیں عمران خان صاحب سے وابستہ ہونا شروع ہوئ عوام جوق درجوق پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنتے گئے اور ایک قافلہ بنتا گیا الحمدللہ قوم کے اعتماد اور مسلسل ٢٠ سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد عمران خان صاحب نے ان دو جماعتی اتحاد کو پاش پاش کیا اور عوامی ووٹ کی طاقت سے اس ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے ،اپنی سیاسی جدوجہد میں عمران خان صاحب نے کرپشن کی بنیاد پر نواز شریف کو ملک کی اعلی عدالت سے نااہل کروایا اور جب مخالفین نے عمران خان صاحب پر کرپشن کے کیسز کئے تو اسی اعلی عدالت سے عمران خان صاحب صادق و امین ثابت ہوئے جس نے خان صاحب کی حب الوطنی،سچائ ،دیانتداری پر مہر لگادی اور عوام نے اپنے لئے صادق و امین لیڈر کو منتخب کیا جس نے اقتدار میں آتے ہی تمام چور،لٹیروں اور کئ سالوں سے ملک پر حکمرانی کرکے ملکی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب شروع کیا،ادارے سیاست سے پاک کئے ،چوروں کو پکڑ کے جیلوں میں ڈالا تو کئ بڑے چور کسی نا کسی طرح بیماری کا بہانہ کرکے ملک سے بھاگ گئے ،ان چوروں کی سیاست بلکل اسی طرح تباہ ہوئ جیسے ان لوگوں نے کرپشن کے زریعے اس ملک کو تباہ کیا اب وہ دنیا بھر میں رسوا ہوئے بیٹھے ہیں اور عمران خان صاحب دنیا میں پاکستان کا کھویا ہوا مقام دلانے کی کوششوں میں مگن ہیں آج وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوششوں سے پاکستان کی کھوئ ہوئ ساکھ بحال ہورہی ہے ،چوروں سے نجات کے بعد قوم نے سکون کا سانس لیا تو وہیں وزیراعظم عمران خان صاحب اس قوم کو عظیم قوم بنانے میں مصروف ہیں ،ہمارے انصاف کا نظام ،تعلیم ،صحت سمیت تمام سرکاری اداروں میں واضع بہتری آرہی ہے ملک خوشحالی طرف چل پڑا اب اس ملک میں کسی چور ،کرپٹ انسان کی کوئ گنجائش نہیں انشااللہ اگلے چند سالوں میں وزیراعظم عمران خان صاحب کی قیادت میں پاکستانی ایک عظیم قوم بن کر دنیا میں ابھریں گے ہمارے تمام مسائل حل ہوں گے ،عوام خوشحال ہوگی اور دنیا اس عظیم انقلاب اور اس کے ہیرو وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کو ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھے گی.

    عمران خان زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    @MajeedMahar4

  • اسلامی جمہوریہ پاکستان . تحریر: فہیم حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان . تحریر: فہیم حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں مختلف عقیدے کے لوگ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ رہتے ہیں
    وطن عزیز پاکستان سے محبت ہمیں وراثت میں ملی ہے وطن سے محبت ہر ایک پاکستانی پر فرض ہے اس مٹی پر ہر پاکستانی مر مٹنے کو تیار رہتا ہے اور اس فرض کو پورا کرنے کے لیے ہمارے فوجی جوان سب سے آگے ہیں جو کہ اپنی جان کی پروا کئے بغیر دن رات ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں ہمیں اپنے فوجی جوانوں کی قدر کرنی چاہیے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو سر سبز و شاداب ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے اونچے اونچے پہاڑ اور خوبصورت چشمہ جات پر بنا ہے موسم کے لحاظ سے اگر بات کی جائے تو پاکستان کو اللہ نے چار موسموں سے نوازا ہے.

    موسم گرما، موسم سرما،موسم بہار اور موسم خزاں.
    گرمی کی بات اگر کی جائے تو کئی شہریوں میں ایسا موقع بھی آیا ہے کہ جہاں درجہ حرارت 53 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے مگر پاکستان ایسا ملک ہے جہاں کبھی پورے ملک میں یکساں درجہ حرارت نھی رہا ملک کا جنوبی حصہ جو خشک اور ریگستانی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے جبکہ دوسری جانب شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت کم ہوتی ہے شمالی علاقہ جات میں بارشیں اور کئی مقامات پر برف باری بھی ہوتی ہے پاکستان میں کئی وادیاں ایسی ہیں جہاں دنیا بھر سے سیاح پاکستان کے خوبصورتی کا لطف اٹھانے آتے ہیں ان میں وادی نیلم کی اگر بات کی جائے تو میرے زہن میں اس وادی کے خوبصورتی بیان کرنے کے لیے الفاظ کم ہیں وادی نیلم کا شمار ان خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس وادی کے خوبصورتی سے لطف اٹھانے آتے ہیں اس وادی میں سرسبز پہاڑ اور ٹھنڈے پانی کے خوبصورت چشمہ جات پائے جاتے ہیں.

    @faheempti0118

  • کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی  تحریر: محمد عدیل علی خان

    کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی تحریر: محمد عدیل علی خان

    اقوام متحدہ کو چائنہ میں مسلمانوں پر ظلم نظر آتا ہے جو صرف پروپیگنڈا ہے اصل ظلم اقوام متحدہ کو نظر نہیں آتا کشمیر 700 دنوں سے کرفیو میں پڑا ہوا ہے اقوام متحدہ یہاں پر جائزہ لینے کے لئے کیوں نہیں آتا کشمیری ماؤں کی عزتیں لیلام ہو رہی ہے …وہ نظر نہیں آتا کشمیر میں بھارتی فوج نے ماؤں بیٹیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کر رہی ہے وہ دنیا کو نظر کیوں نہیں آتا جب ان کے بیٹوں کو انکے سامنے زبح کیا جاتا ہے جب انکی بیٹیوں کی انکے سامنے عصمت دری کی جاتی ہے انکا بہت ہی گندے طریقے سے ریپ کیا جاتا ہے کہاں مر گئی اقوام متحدہ‏کشمیر میں انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزی کی جا رہی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہم پاکستانی کیا کرتے سوتے سوتے ہیش ٹیگ چلا دیتے ہیں ان کی اہمیت ہماری نظر میں اتنی ہے لیکن کشمیری پاکستان کو کس نگاح سے دیکھتے ہیں وہ میں آپ کو بتاتا ہوں…..!‏میری ملاقات اسلام آباد میں ایک کشمیری بھائی سے ہوئی میں جب ان سے ملا تو ان کے چہرے پے وہ خوشی نہیں تھی جو ایک پاکستانی کو دیکھ کر ہونی چاہئیں جب میں نے ان سے اس اداسی کا سبب پوچھا کہ بھائی آپ پاکستان میں ہے آپ کو خوش ہونا چاہیے لیکن آپ اداس ہے تو اس کشمیری بھائی نے کہا کہ‏عدیل بھائی جب پاکستان کی طرف ہجرت کا سوچتے ہیں تو ہماری مائیں ہمیں ایک ہی نصیحت کرتی ہیں بیٹا جب تم پاکستان کی سرزمین پر پہنچا پہلے سیدھا پاؤں اور پھر الٹا پاؤں رکھنا اور وہ دعا پڑھنا جو مسجد میں داخل ہوتے وقت پڑھتے ہیں اور پھر شکرانے کے نوافل ادا کرنا پاکستان کی مٹی پر‏اس نے کہا عدیل بھائی جب پاکستان میں گوما تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی بھی ہندوستان میں ہو ہر طرف ہندوستان گانے ہندوستانی سقافت ہی نظر آئی پاکستان اور ہندوستان میں مجھےکوئی فرق محسوس ہی نہیں ہوا عدیل بھائی ہم وہاں پر ہندوستان سے آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور یہاں پر‏ہندوستانی کلچر ہندوستان لوگوں سے محبت..عدیل بھائی اس سے ہمیں یہ چیز سمجھ آتی کہ ہماری قربانیاں رائیگاں جائی گی پاکستان سے ہم کشمیری اتنی محبت کرتے ہیں لیکن پاکستانی اب بھی ہندوستانی کلچر کو اپنانے میں لگے ہوئے ہیں اس سے بہتر ہے کہ ہم بھی آزادی کی لڑائی لڑنا چھوڑ دیں‏یہ باتیں کر کے وہ کشمیری بھائی تو چلا گیا لیکن مجھے سوچ میں ڈال کر چلا گیا جب تک وہ کشمیری بھائی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا تب تک میں نے شرم سے سر نہیں اٹھایا یہ ملاقات یہی ختم ہوئی ہمیں کشمیری بھائیوں کا مسئلہ اب عالمی عدالت میں پورے پاکستان کی عوام نے اٹھانا ہے کب تک‏وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ میں صرف تقریریں کرتا رہے گا اب بھی وقت ہے پاکستانیوں سنبھلنے کا…….

    Twitter.https://twitter.com/iAdeelalikhan?s=09

  • انصاف کا کٹہرا . تحریر : انجینئرعنصراعوان

    انصاف کا کٹہرا . تحریر : انجینئرعنصراعوان

    گزشتہ کئی دنوں سے ہمیں سوشل میڈیا پر ایک جیسے ہیش ٹیگز گردش کرتے دکھائی دے رہے ہیں. جن میں ہوا کی بیٹیوں کے لیے انصاف کی اپیل کی جا رہی ہے. تین دن ایک جیسے ہیش ٹیگز (جسٹس فار…… ) پر جن کے لیے انصاف مانگا جا رہا ہے انکے نام تبدیل ہیں. یعنی پچھلے دنوں میں مختلف قتل کی  وارداتیں سامنے آئیں جن میں ہوا کی بیٹیوں کو بیہیمانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا.
    یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیں آئے روز ایک نیا واقعہ سننے کو ملتا ہے. کبھی کسی کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے اور کبھی کسی بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیے جانے کے واقعات رونما ہوتے ہیں. کبھی کسی کو قتل کر کے غیرت کے نام پر قتل کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے.

    یہاں تک کے ہمارے مدرسے سکولز اور یونیورسٹیز جن کا کام معاشرے کو سدھارنا اور معاشرے کو ان معاشرتی برائیوں سے پاک کرنا ہے وہ خود بھی ان معاشرتی برائیوں سے محفوظ نہیں ہیں. آئے روز رونما ہونے والے اسطرح کے واقعات میں کبھی کسی مدرسے یا سکول کے اساتذہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں ملوث پائے جاتے ہیں تو کبھی  یونیورسٹیز کے پروفیسرز اپنی سٹوڈنٹس کو جنسی ہراساں کرتے نظر آتے ہیں.

    مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں مختلف فنکشنز کے نام پر ہونے والی بےحیائی اور فحاشی آپ کے سامنے ہے.
    جب بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو سوشل میڈیا پر ایسے ہی ہیش ٹیگز دکھائی دیتے ہیں جن میں عوام کافی غم و غصے میں انصاف کی اپیل کرتی اور مجرموں کو سخت سزائیں دینے اور کیفرکردار تک پہنچانے کی اپیل کرتی نظر آتی ہے. کیسز بھی درج کیے جاتے ہیں اور مقتدر اداروں کی جانب سے ممکنہ انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی جاتی ہے. لیکن ہمیشہ ملزمان بااثر ہونے کی وجہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں.

    یہاں پرغریبوں کے لیے انصاف ناپید ہو چکا ہے. انسانی زندگی کی کوئی وقعت نظر نہیں آتی یعنی جس کا دل کرے جب چاہے انسانی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرے اور اسے ضائع کر دے کوئی پوچھنے والا نہیں. گزشتہ کئی سالوں سے یہ اسی طرح چلتا آ رہا ہے اور چلتا رہے گا جب تک بر وقت انصاف کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاتی اور ان ملزمان کو قرار واقع سزائیں نہیں دی جاتیں.
    یہ برائیاں ہمارے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل چکی ہیں انکے خاتمے کے لئے بہت ضروری ہے کہ مقتدر ادارے حرکت میں آئیں قانون کا نفاذ کریں اور ایسے تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر  سخت سے سخت سزائیں دے کر کیفرکردار تک پہنچائیں.

    @A_Awan11