Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہمارا دین اسلام . تحریر: عامر سہیل

    ہمارا دین اسلام . تحریر: عامر سہیل

    ہمارے دین اسلام نے ہمیں بہت کچھ سکھایا اور اس کے ساتھ اسلام نے کچھ حدود لگائی ہیں جن کو ہم بالکل بھی عبور نہیں کر سکتے۔ اسلام ہمیں صحیح اور غلط کی تمیز سکھاتا ہے دورِ جاہلیت میں انسان کی اہمیت جانوروں سے بھی بدتر تھی۔ اس کے ساتھ ہم پر بہت سے فرض ہیں جو ہم نے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ سنتیں بھی ہوتی ہیں ان سنتوں میں سے ایک سنت یے سنتِ ابراہیمی جس میں جانور ذبح کرتے ہیں جو کہ حکم ہے کہ جو صاحبِ حیثیت ہو وہ لازمی قربانی کرے۔

    اس کے مطلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے
    آپ نے فرمایا :
    (جس کے پاس استطاعت بھی ہو اور پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے)
    ابن ماجہ (3123)
    عید الاضحٰی پر لوگ قربانی کرتے ہیں اور گوشت کو غریب غربا، عزیزو اقارب میں تقسیم کرتے ہیں

    میں آج دیکھ رہا تھا سوشل میڈیا پر  کچھ لوگ جو اپنے آپ کو سول سوسائٹی یا لبرلز کا نام دیتے ہیں اس طرح کی مہم چلا رہے ہیں کہ جانوروں کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا  اور جانوروں کو ضرورت سے زیادہ ذبح کیا جاتا ہے یہی لبرلز میکڈونلڈ، کے-ایف-سی میں جا کر برگر، پیزا وغیرہ کھا رہے ہوتے ہیں تو تب بھی تو جانور ذبح کئیے جاتے ہیں۔ غرباءمسکین کی مالی امداد کے لئے اسلام میں تو معاشرتی توازن کے لیے زکوۃ ایک بنیادی جزو کے طور پر شامل ہے۔  اور قربانی وہی لوگ دیتے ہیں جو استطاعت رکھتے ہیں۔ لبرل کو جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں یہ سارا سال کہاں ہوتے ہیں؟ دنیا میں بہت سی جگہ پر انسانوں کو ضروریات زندگی میسر نہیں تب یہ کہاں ہوتے؟
      جموں کشمیر میں مہینوں کے حساب سے لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تب ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ اسرائیل میں نہتے فلسطینیوں پر ظلم ڈھایا جاتا تب کہاں ہوتے؟
    قربانی کا حکم اللہ پاک اور اُسے کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جو ہم ادا کرتے رہے گے اگر کسی کو زیادہ تکلیف ہے چلا جائے اپنے آقاؤں کے پاس۔پاکستان ایک اسلامی ریاست رہے اور یہاں پر مسلمان آزادی سے اپنی عبادت کرنے کے لئے بنایا گیا ہے
    @iAmir29

  • عِشق . تحریر : محمد طلحہ

    عِشق . تحریر : محمد طلحہ

    عشق کے عام طور معنی پھٹ جانے کے ہیں لیکن میں اس قدر گھٹیہ اور غیر مناسب الفاظ ( پھٹ جانے) کو عشق کا معنی نہیں سمجھتا میں اپنی اصطلاح میں عشق کے معنی کو ” سب کچھ لٹا دینا” کے سمجھتا ہوں

    عشق کی ع سے ناواقف لوگ بیواقوفیت کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں کسی بھی ذات کا طالب بن جانا یا پھر کسی بھی ذات کو ہر حال میں حاصل کرنا عشق کہلاتا ہے
    یہ عشق ہی تھآ جو وجہہ تخلیقِ کائنات بنا یہ عشق ہی تھا جس نے محبت کی شیرینی کو الفاظوں میں بیان کیا

    عشق أس گرم آگ کا نام ہے جو عاشق کے اندر کو سوائے خدا کے سب کچھ جلا دیتی ہے عشق مجنوں بنا دیتا ہے
    عشق قلندر مزاجوں کا وطیرہ، اور سکندر مزاجوں کا نام نہاد جزیرہ سمجھا جاتا ہے عشق نے اس دنیا کو چمکایا عشق ہی اس دنیا کو رلا رہا ہے کوئی عشق سے تیر گیا کوئی بہہ گیا یہ قدرت کا اصول ہے جس کو عشق کا مزہ دستیاب ہوگیا اسکو عشق سے چھٹکارا مشکل ہے جس کو عشق کا مزہ دستیاب نہیں وہ دربدر اپنی زندگی میں لاپتہ ہے
    عشق کرنا آسان ہے اسکو نبھانا مشکل ہے سسی پنوں سے لے کر بغدادیّ "ص” تک سبھی نے عشق کیا لیکن کامیابی کسی کو نہ مل سکی، آئیے میں اپنی نظر میں آپ کو عشق کی اقسام سے آگاہ کرتا ہوں عشق کی تین اقسام ہیں

    پہلی عشقِ مجازی
    دوسری عشقِ حقیقی
    تیسری عشقِ ادھوری

    عشقِ مجازی کو عام فہم زبان میں دنیا کا عشق کہتے ہیں جو کہ عمومی طور پر اکثریت کو نصیب ہو جاتا ہے عمومی طور پر کچھ لوگ عشق کر تو لیتے ہیں لیکن اپنے مقصد کا حصول کر کے عشق کو شک میں ڈال دیتے ہیں،
    اسکے بعد آتا ہے عشقِ حقیقی جسکو عام طور پر اصل عشق کہا جاتا ہے یعنی اپنے اللہ سے جس نے اسے پیدا کیا، جس نے اسے رزق اور عشق دیا اس سے جب عشق کیا جاتا ہے تو دنیا کے دوسرے عشق بھی مل جاتے ہیں اس عشق کو کرنے سے آپ ہر مقام پر کامیاب ہوجاتے ہیں اس عشق کی راہ میں چلنے والوں نے ہمیشہ کامیابی حاصل کی ہے،

    اِنسان سچے دِل سے عشق صرف اللہ سے ہی کرتا بے اور کرنا بھی اصولاً یہی عشق چاہیے بے شک اللہ پاک کی ذات ہی اتنی بے نیاز ہے محبت بھری ہے محبت کرنے والی ہے کل کائنات کے خالق و مالک اور رازق ہیں یقیناً اور بے شک ایک بشر کی ذات کے لیے اُن سے بڑھ کر تو کُچھ بھی نہیں اللہ پاک سے عشقِ حقیقی کی دعا مانگنی چاہیے

    تیسرے نمبر پر آتا ہے
    عشقِ ادھوری یعنی نہ ملنے والا عشق انسان کسی بھی عورت کو دیکھ کر اس پر فدا ہو جائے گویہ اسکے عشق میں پاگل مجنوں، بن جائے کوئی بھی ایکٹریس اسکو اچھی لگے اور وہ اس کو خام خیالی میں ہوائی پلاؤ بناتے ہوئے سوچتا رہے اسے میری نظر میں عشقِ ادھوری کہتے ہیں

    آپ کو اصل عشق کی طرف جانے سے پہلے عشقِ مجازی کرنا پڑتا ہے انسان کو جب عشقِ مجازی سے ٹھوکر لگتی ہے تبھی جاکر عشقِ حقیقی نصیب ہوتا ہے
    یہ فطری اور انسان کا صوابدیدی اختیار ہے انسان جس عشق کو چاہے اپنی زندگی میں لاگو کرسکتا ہے آپ کس عشق کے قائل ہیں وہ آپ نے خد چننا ہے صحیح اور غلط عشق کا انتخاب آپ نے خد کرنا ہے اگر آپ اپنے عشق کے ساتھ مخلص ہیں تو عشق مل سکتا ہے اگر نہیں تو یہ بدنصیبی ہے کہ آپ اپنے عشق کے ساتھ مخلص نہیں ہیں آپ کے سامنے 3 منازل ہیں آپ اسے اپنی عقل اور معیار کے مطابق چن سکتے ہیں باقی نصیب میں جو ملے وہ آپکا مقدر

    عشق وہ واحد چیز ہے جو کسی بھی رنگ و نسل، زبان ملک و تہذیب کے اعتبار سے ہر انسان کو نصیب ہوتا ہے یہ ایک علمیہ اور تلخ حقیقت ہے کہ جو جو دنیا بدلتی جارہی ہے جو جو نِت نئے لوگ دنیا میں آتے جارہے ہیں عشق کا معیار بدل چکا ہے عشق کی ترجیحات بدل چکی ہے اب وہ عشق میں پختگی اور استواری نہیں رہی وہ جذبہ نہیں رہا اسی ادھوری اور لاپرواہ دنیا کی وجہ سے عشق کرنے والے کا جذبہ مانند پڑتا جارہا ہے

    انسان کو ایک مثبت اور محبت بھرے معاشرے کو تہذیب و تمدن میں مددگار ثابت کرنے کے لیے عشقِ حقیقی کی طرف راغب ہونا چاہیے

    @Talha0fficial1

  • مومن کی سزا . تحریر : محمد خبیب حسن

    مومن کی سزا . تحریر : محمد خبیب حسن

    اللّٰه نے فرمایا ، "اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں زیادہ دوں گا ، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا”
    عذاب سخت ہے۔”

    اللہ نے جزا اور سزا کی حدود طے کردی ہیں اور اللہ اپنے بندوں کو بلاوجہ کبھی سزا نہیں دیتا ہے

    فرعون اللہ کا دشمن تھا اور بنی اسرائیل مومن تھا لیکن اللہ نے فرعون کو طاقت دی اور بنی اسرائیل کو مغلوب کردیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی نافرمانی شروع کردی تھی اور پھر اللہ نے انہیں فرعون سے سزا دی۔ اور جب انہوں نے حضرت موسیؑ کی پیروی کرنا شروع کی تو اللہ ان پر رحم فرمایا

    اللہ اپنے دشمن کو بااختیار بناتا ہے جب اس کے ماننے والے اس کی نافرمانی کرنا شروع کرتے ہیں اور اپنے مومنین کو اس کے دشمنوں سے سزا دیتا ہے

    اب ہم کیوں رو رہے ہیں؟ جب ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ اللہ نے امت کی قرآن ، حدیث اور تاریخ میں مثالوں کا ذکر کیا ہے تو ہمیں لازمی طور پر رونا چھوڑنا چاہئے ،اور ہمیں اپنے آپ کو درست کرنا ہوگا ، ورنہ اللہ کفر کو زیادہ سے زیادہ طاقت بخشے گا اور پھر کفار ہم پر (مسلم) مزید ظلم کریں گے اور یہ ہماری نافرمانی کی سزا ہے

    اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

    آئیے توحید کے ساتھ آغاز کریں ، ختم نبوت پر پختہ یقین کریں ، قرآن ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سنت خلفائے راشدین ، ​​صحابہ کے اعمال و اجماع امت اور ریاست میں خلفائے راشدین کا نظام قائم کریں

    اللّٰه اپنے بندوں کو اسی وقت سزا سے دوچار کرتا ہے جب وہ راہ سے بھٹک جائیں اس لیے اج بلکہ ابھی خود کو بدلیں آپ پر آئی ہر مصیبت ٹل جائے گی

    @undefined0d0

  • مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دو . تحریر: اویس کورائی

    مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دو . تحریر: اویس کورائی

    مظفرگڑھ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ہے۔ مظفرگڑھ کو انگریز دور میں ہی ضلع کا درجہ دے دیا گیا تھا اس کی بنیاد نواب مظفر خاں نے 1794 میں رکھی تھی اس کی پانچ تحصیلیں ہوا کرتی تھیں جن میں (جتوئی،علی پور،کوٹ ادو،لیہ اور مظفرگڑھ) لیکن 1988 میں لیہ کو ایک علیحدہ ضلع بنا دیا گیا یہاں کی مقامی زبان سرائیکی ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی ابادی تقریباً 45 لاکھ سے زیادہ ہے اور یہاں پر 90 فیصد سے زیادہ لوگ کسان ہیں ۔ ضلع مظفرگڑھ میں کپاس،گندم،چاول اور گنے کی کاشت زیادہ ہوتی ہے.

    ضلع مظفرگڑھ میں بہت سے مشہور پرائیویٹ کالج ہیں جن سے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں چند ایک درج ذیل ہیں ( آصف سلیم کالج،پنجاب گروپ آف کالجز،راشد منہاس کالج،مثالی پنجاب کالج جتوئی،سر سید احمدکالج )ان کالج میں بچے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر گھر رہ کر مزدوری وغیرہ کرتے ہیں کیوں کہ ضلع مظفرگڑھ میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے اور یہاں کی غریب عوام اپنے بچوں کو مزید پڑھانے کیلئے بڑے شہروں میں نہیں بھیج سکتی حالانکہ ہر سال بورڈ کے امتحانات میں ضلع مظفرگڑھ سب سے آگے ہوتا ہے پوزیشن ہولڈر طلبا مظفرگڑھ سے ہی ہوتے ہیں ۔ مظفرگڑھ کی سیاسی شخصیات نے بھی اپنی غریب عوام کے لیے کبھی نہیں سوچا اس 74 سالہ پاکستان کی تاریخ میں ضلع مظفرگڑھ کو یونیورسٹی تو دور کسی بھی یونیورسٹی کا کیمپس تک نہیں ملے ۔ مظفرگڑھ کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگایا جا رہا ہے آئے روز طلبا احتجاج کرتے ہیں یونیورسٹی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن بے سود۔
    اس کے برعکس مظفرگڑھ سے علیحدہ شدہ ضلع لیہ اُس میں کم وبیش چار یونیورسٹیوں کے کیمپس ہیں اور کچھ دن پہلے لیہ میں ایک بڑی یونیورسٹی (یونیورسٹی آف لیہ) بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے لیکن مظفرگڑھ میں نوجوان ایف ایس سی کرنے کے بعد بھی مزدوری کرتا نظر ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

    اکثر والدین بچوں کو اس لیے بھی سکول نہیں بھیجتے کہ ہم تو آگے آپ کی پڑھائی کا خرچہ نہیں اٹھا سکیں گے تو کیوں نا ابھی سے مزدوری شروع کر دو اور اپنے ماں باپ کا سہارا بنو۔
    ہماری نوجوان نسل کا حق کھایا جا رہا ہے ہماری حکومت وقت سے درخواست ہے کہ ہمیں ایک یونیورسٹی دی جائے تاکہ ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کر کے پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں اور اپنے ماں باپ کا سہارا بن سکیں ۔

    @Korai92

  • عید قرباں کی تکلیف . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    عید قرباں کی تکلیف . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    قربانی وہ فریضہ ہے جس کو امت مسلمہ ہر سال انجام دیتی ھے۔ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ قربانی کا جانور خریدے۔حتی کہ اسلام پسند گھرانوں کے اطفال کا بھی جوش قابل دید ہوتا ھے۔بچے والدین کے ساتھ جاتے ہیں قربانی کا جانور خریدتے ہیں اس کو شوق سے کھلاتے پلاتے ہیں کیونکہ والدین نے بچوں کی تربیت کی ہوتی ھے کہ قربانی سنت عمل ھے اور رب تعالی کو پسند ھے۔
    قربانی سنت ابراھیمی علیہ السلام ھے۔اللہ کے نبی خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ برگزیدہ نبی ہیں کہ جن کو رب تعالی نے بار بار آزمایا اور وہ ہر آزمائش پر پورا اترے اسی لیے اس ثمر کا رب تعالی نے اعلان فرما دیا:-

    وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی  اِبۡرٰہٖمَ  رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ  اِمَامًا”
    ترجمہ
    اورجب ابراہیم کواُس کے رب نے چند باتوں میں آزمایاتواُس نے اُن سب کو پوراکردیا،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  یقیناًمیں تمہیں سب لوگوں کے لیے امام بنانے والاہوں”
    اس سے واضح کیا ہوتا ھے یہ ہی چمکتے ہوئے سورج کی طرح عیاں ہے کہ رب تعالی جب آزماتا ھے تو اس آزمائش کے بعد آزماتا ھے۔جیسا کہ جب حضرت خلیل اللہ آزمایا۔فرمایا کہ اپنے بیٹے کو قربان کر دو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو قربان کرنے لیے چھڑی کو چلایا تو اللہ کو یہ عمل اتنا پسند آیا کہ آج تک کے تمام صاحب حیثیت مسلمانوں کے لیے رب تعالی نے اس عمل کو لازم فرما دیا۔
    فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ  السَّعۡیَ قَالَ یٰبُنَیَّ  اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ  اَذۡبَحُکَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ  اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
    "پھرجب وہ اُس کے ساتھ بھاگ دوڑ کی عمرکو پہنچا،تواُس نے کہا:  اے میرے پیارے بیٹے!میں خواب میں دیکھتاہوں کہ یقیناًمیں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تو دیکھوتمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا:  اے میرے اباجان!جوآپ کو حکم دیاجارہا ہے آپ وہ کریں،ان شاء اللہ آپ ضرورمجھے صبرکرنے والوں میں سے پائیں گے۔ ”

    اس آیت مبارکہ سے واضح ہو جاتا ھے کہ جب قربانی کے لیے جانور کو لٹانا ھے اس کو ذبح کرنا ھے اس کے ساتھ ہی عہد کر لینا چاہیے کہ میری جو خواہشات ہیں اس فانی دنیا میں رب تعالی کی منشا و مرضی کے خلاف جو میرا زندگی گزارنے کا طریقہ ھے اس کو بھی ساتھ ہی ذبح کر دینا ھے۔کیونکہ رب تعالی نے حضرت خلیل اللہ کو آزمایا ان کی پسندیدہ چیز بیٹے کی قربانی کے ذریعے آزمایا۔آج کے مسلمان کے لیے بھی لازم ھے کہ وہ اپنے ہر اس فعل کو ترک کر دے جو اسلام۔کے منافی ھے۔اس کے علاوہ سنت ابراھیمی ہمیں والدین کا احترام بھی سکھاتی ھے۔ہمیں قرآن سے اس بات کا ثبوت ملتا ھے کہ حضرت خلیل اللہ کے والد آزر جب ان کو بت فروشی کا کہتے تو وہ عزت و احترام کے ساتھ یا آبا یا آبا اے میرے والد اے میرے والد کے القابات سے ہی پکارتے تھے۔اس کے بعد جب خواب دیکھا تو بیٹے سے منشا پوچھی تو بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب کی تکمیل کے لیے آزمائش میں کامیابی کے لئے فرمایا کہ جیسے آپ کو اچھا لگے کر گزرے۔پھر اسماعیل علیہ السلام کے لیے اقبال رحمہ اللہ کا قلم۔چلا اور کیا لکھا
    "یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
    سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی”

    دنیاوی زندگی کے بہت سے ایسے معاملات ہوتے ہیں کہ ہمارے والدین کی منشا و مرضی اور ہوتی ہے لیکن ہم ان کی مرضی کے برعکس چل پڑتے ہیں لیکن رب تعالی نے والد کی مرضی میں ہی اپنی مرضی کو قرار دیا۔
    قارئین کرام ان سب فوائد کے باوجود ہمارے معاشرے میں چند ایک لوگ وہ بھی ہیں جن کا مقصد شعار اللہ سے عداوت ہی ھے۔یہ وہ لوگ ہے جو ویسے تو اپنے آپ کو لبرل اور سیکولر کہتے ہیں لیکن جب دین اسلام کی بات آئے جب رب تعالی کے فرمان کی بات آئے تو یہ خلاف سنت اور خلاف شریعت چلتے بھی ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں۔یہ لوگ پروپگینڈہ کرتے ہیں۔جب عید قربان کا تہوار آتا ھے تو یہ لوگ قربانی کے خلاف ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان جانوروں کی زندگی اہم ہیں ان کو ذبح نہ کیا جائے لیکن رب تعالی کا حکم ہے ہر اس چیز کو کھاو پیو جو تمھارے لیے حلال کر دی گئی ہے اور حرام سے باز رہو۔

    فرمایا
    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ ۖوَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۶۸﴾
    "اے لوگو!اس میں سے کھاؤجوزمین میں ہے حلال اور پاکیزہ اورتم شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو،یقیناًوہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔”
    اسی طرح قربانی کا بھی رب تعالی نے حکم دیا ھے اس میں حکمت اور فلسفہ یہ ہے کہ رب تعالی چاہتا ھے کہ وہ غریب غربا جو پورا سال گوشت نہیں کھا سکتے وہ بھی سال میں ایک دن گوشت سے لطف اٹھائیں۔پاکستان کی ہی مثال لے لو یہ وہ ملک ہے جس میں 60 فیصد سے زائد آبادی کو گوشت کیا 2 وقت کی روٹی میسر نہیں ھے۔ان عوام کے لیے اللہ تبارک و تعالی نے قربانی کو فرض کیا ھے۔یہ لبرل عوام یہ بھی دعوی کرتی ہے کہ اس رقم کو کسی غریب کو دے دیا جائے یا واٹر پلانٹ لگا دیا جائے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو اقوام عالم مانتی ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑا کاروبار عید قربان پر ہوتا ھے پوری دنیا میں اربوں لوگوں کو کاروبار ملتا ھے۔اسی حوالے سے میں بذات خود منڈی میں گیا مبالغہ آرائی سے کام نہیں لے رہا۔میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کتنے افراد کو روزگار ملا ھے۔سب سے پہلے ٹرانسپورٹ جس میں رکشے،ٹرک وغیرہ شامل ہیں ٹرک کے ذریعے دور دراز سے مال آتا ھے جس کی بدولت ہزاروں ٹرک والوں کو کمائی ہوتی ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کا گزر بسر کرتے ہیں اور فخر سے محنت کی کمائی سے گھر کو چلاتے ہیں۔اس کے بعد مقامی رکشے والے ان کو بھی روزگار ملتا ھے اگر وہ پہلے دیہاڑی کا 1000 روپے کماتے ہیں تو عید کے سیزن میں ان کی کمائی دگنی یا تین گنا ہو جاتی ہے جس کی بدولت ان کا گھر چلتا ھے۔اور وہ کسی چوہدری کے محتاج نہیں ہوتے۔اس کے بعد وہ شخص جس نے جانور خریدے یا پالے ہیں اس کو فائدہ ہوتا ھے بچت ہوتی ہے۔اس کے بعد ٹینٹ سروس والوں کو روزگار ملتا۔الغرض آپ یہ کہہ لے کہ ایک ایک منڈی میں 7 سے 8 شعبه زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ محنت مزدوری کر رہے ہوتے ہیں۔یہ لبرل لوگ ان افراد کا روزگار ختم کر کے ان کو دوسروں کا محتاج کرنا چاہتے ہیں۔مجھے ان لوگوں کی سمجھ نہیں آتی جو کہتے قربانی نہ کرو غریب کو پیسے دے دو ان ہی لبرل لوگوں کو زکوۃ سے مسلہ،ان کو پردہ سے مسئلہ ھے۔

    پنجابی کی مثال ھے
    "درانتی نو تے ایک پاسیوں ڈنڈے ہونڈے انہاں نوں دوناں پاسیوں ڈنڈے ہن”
    میں خود ایسی فاؤنڈیشن اور فلاح و بہبود والے اداروں کو جانتا ہوں جو عید سے پہلے مخیر حضرات سے پیسے لے کر متوسط طبقے کی خدمت کرتے ہیں ان کو عید کے کپڑے لے کر دیتے پھر عید پر اسلام پسندوں سے گوشت لے کر ان کے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔ان لوگوں کی بےوقوفی کا تو یہ عالم ہے کہ جب کشمیر و فلسطین میں بچے کٹ رہے ہوتے یہ بلکل بھی نہیں بولتے نہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلایا جاتا بلکہ ان کے دشمنوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن وہ جانور جس کو ذبح کرنے کا حکم رب تعالی نے خود دیا ھے۔اللہ فرماتا ہے کہ بہیمۃ الانعام کو ذبح کرو تو ٹویٹر پر ٹرینڈ چلایا جاتا کہ بکرا کی زندگی ہمارے لیے اہم ہیں۔
    ان کے متعلق ہی ایک شاعر کا مصرعہ ذہن میں آ رہا
    "یہ مسلماں ہیں کہ جن کو دیکھ کے شرمائے یہود”
    اسی لیے میری اداروں سے درخواست ہے کہ شعار اللہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

    @ABGILL_1

  • ‏ہو دین جدا سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‏ . .تحریر: محمّد وقاص

    ‏ہو دین جدا سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‏ . .تحریر: محمّد وقاص

    غریدہ فاروقی کو عیدِ قربان پہ جانوروں سے پیار جاگا ہے اور جانوروں کی قربانی سے انہیں تکلیف ہو رہی یے حالانکہ مرغی کا کاروبار انکے خاصم خاص شہباز شریف کے بیٹے حمزہ کا تھا اس وقت مرغی پہ ظلم نظر نہیں تھا آتا آپکو؟ تب تو چکن بریانی کے اسٹیٹس لگائے جاتے تھے۔

    خیر غریدہ صاحبہ آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات اور بھی آپکو بتاتا چلوں کہ جانوروں سے محبت اور انکا احساس قابلِ تعریف عمل ہے لیکن جو آپ نے اپنی ایک مظلوم اور معصوم ملازمہ بچی کے ساتھ کیا تھا وہ ظلم نہیں تھا؟ خیر بات کرتے جانوروں کی میں آج آپکو کچھ حیرت انگیز حقائق بتاوں گا، مجھے یقین ہے کہ قربانی کے علاوہ آپ نے کبھی کسی لبرل کو ان جانوروں کی محبت میں ہلکان ہوتے نہیں دیکھا ہوگا، نہ ہی کبھی انہوں نے جانوروں کے حوالے سے کبھی بات کی ہوگی۔

    گوشت کے حصول کے لیے پوری دنیا میں کل ملا کر ہر روز 200 ملین سے ذیادہ جانور ذبح کیے جاتے ہیں جن میں گائے، چکن، بطخ، بیل، بھیڑ، غیرمسلم ممالک میں خنزیر وغیرہ شامل ہیں، اگر ان میں جنگلی جانوروں، پرندوں اور سمندری مخلوق جیسا کہ مچھلی، جھینگے وغیرہ بھی شامل کر لیے جائیں تو انکی تعداد قریباً 3 ارب ایک دن کی بنتی ہے سالانہ کا حساب خود کر لیں۔

    میں باقی دنیا کی بات نہیں کرتا، صرف لبرل بریگیڈ،امریکہ کی بات کرتا ہوں کہ امریکہ میں ہر دو منٹ میں قریب ایک لاکھ جانور ذبح ہوتے ہیں،اس وقت جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اس وقت یکم جنوری 2021 سے 21 جولائی 2021 شام 6:30 تک صرف امریکہ میں ہر قسم کے 30,647,010,072 جاندار ذبح ہوچکے ہیں اور یہ تعداد ہر دو منٹ میں ایک لاکھ کے حساب سے بڑھ رہی ہے جبکہ یہاں لبرل ٹولے کو بقرہ عید پہ قربانی پہ اعتراض ہے، وہ قربانی جس کا بہت بڑا حصہ غرباء و فقراء کو جاتا ہے۔
    گزشتہ سال 2020 امریکہ میں ہر قسم کے تقریباً 55 ارب سے زائد جاندار خوراک کی نذر ہو گئے تھے، ان جانوروں کے گوشت کو خود امریکیوں نے مختلف مصنوعات اور خوراکوں کا حصہ بنا کر کھایا جبکہ بڑی مقدار میں دوسرے ممالک کو ایکسپورٹ کیا گیا اور بھاری زرِمبادلہ کمایا گیا اور یہی گوشت لبرل بریگیڈ مہنگے داموں میں کے ایف سی جیسے مقامات پر جا کر کھاتے ہیں۔

    سال 2020 میں امریکہ میں خوراک کی نذر ہونے والے کل جاندار:

    پورا سال: 55,429,141,000
    ہر روز: 151,888,000
    ہر گھنٹہ: 6,328,000
    ہر منٹ: 105,480
    ہر سکینڈ: 1,758

    چلیں اب بات کرتے ہیں گائے، بیل کی قربانی کی میں نے بہت کوشش کی موجودہ کوئی روپوٹ ملے لیکن سال 2020 میں شائع ہونے والی 2018 کی ایک رپورٹ ہے کہ دنیا بھر میں ایک سال میں سب سے ذیادہ گائے یا بیل ذبح کرنے والے پہلے پانچ ممالک میں باوجود عیدِ قربان پہ لاکھوں جانور ذبح کرنے کے ایک بھی مسلمان ملک شامل نہیں ہے۔
    سرفہرست ممالک میں:

    برازیل میں: 39,602,000
    چین میں: 39,577,320
    امریکہ: 33,703,400
    ارجنٹائن: 13,452,831
    انڈیا: 9,202,631

    برازیل پہلے، چین دوسرے، امریکہ تیسرے، ارجنٹائن چوتھے اور بھارت پانچویں نمبر پہ براجمان ہے یعنی 2018 میں ان 5 ممالک میں مذکورہ تعداد میں گائے اور بیل ذبح ہوئے اور اب 2021 میں یہ تعداد اس سے کہیں ذیادہ ہوچکی ہے۔اس گوشت کو نہ صرف یہ ممالک خود کھاتے ہیں بلکہ دوسرے ملکوں کو بیچ کر کثیر زرمبادلہ بھی کماتے ہیں، اگر ان میں دیگر جانوروں اور سمندری مخلوق کی تعداد بھی شامل کر لی جائے تو پوری دنیا میں خوراک کے لیے مارے جانے والے جانداروں کی تعداد کھربوں تک جا پہنچتی ہے.

    دل تو میرا بڑا چاہ رہا ہے کہ انہیں ساری دنیا کا حساب نکال کے دوں لیکن تحریر سے کتاب بن جائے گی۔ بھارت اور امریکہ میں سب سے ذیادہ جانور ذبح ہونے کے باوجود بھی لبرلز کو اس بات کی تکلیف ہے کہ عید قربان پہ جانوروں کی ذبح کیوں کیا جاتا ہے، اسکے علاوہ کبھی پڑھا کسی لبرل کا ٹویٹ؟

    ان لبرلز کو لگتا ہے کہ شاید اس طرح یہ خود کو ذیادہ مغرب زدہ ظاہر کر پائیں گے لیکن درحقیقت اللّه انکی بدنیتی پر مبنی قربانی چاہتا ہی نہیں، سنتِ ابراہیمی سے انکار کے سبب اللّه پاک نے ان مردودوں سے قربانی کی توفیق ہی چھین لی ہے اور اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ اللہ پاک ایک اہم فریضے کو سرانجام دینے کی توفیق ہی چھین لے.
    اللّه پاک انکو ہدایت دے اور مسلمانوں کو سنت ابراہیمی پر عمل کرنے پر دین اور دنیا میں آسانیاں پیدا فرمائے آمین.

    @M_Waqas_786

  • "لمحہ فکریہ”  تحریر : فرزانہ شریف

    "لمحہ فکریہ” تحریر : فرزانہ شریف

    *چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔*
    میں ایک جنرل بات کررہی ہوں کہ ہم کیا کرتے ہیں ۔۔!!
    کسی کے بارے میں یاد دلانا ہو تو ہماری گفتگو کچھ اس قسم کی ہوتی ہے.

    . کونسی ؟
    اچھا وہ جو گنجی ہے اب اس نے سر پر نقلی وگ لگائی ہوئی ہے؟ ہاں اچھا وہ جو چھوٹے سے قد کی ہے چلتی ہوئی ایسے لگتی ہے جیسے کوئی گینڈی جارہی ہے ؟؟
    اچھا وہ بڑے سے منہ والی ؟
    جو یوں چلتی تھی ؟
    نقل اتار کر دکھائی جاتی ہے
    اچھا وہ جو دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہے ؟؟

    کونسا ؟

    اچھا وہ موٹی گردن والا ؟
    وہ جس کی طوطے کی چونچ جیسی ناک ہے۔؟
    اچھا وہ جو لنگڑا کر چلتا ہے ؟
    اچھا وہ جو بیٹھا مٹھ کھڑا گٹھ ۔؟
    وہ جو خود اتنا "کوجا” ہے اور بیوی اسے اتنی پیاری مل گئی ہے ؟ پہلوئے حور میں لنگور۔۔؟

    ہم سورہ تین کی ابتدائی آیات پڑھیں تو واضح ہوتا ہے کہ چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔

    *قسم ہے انجیر*
    *اور زیتون کی*
    *اور طورِ سینا کی*
    *اور امن والے اس شہر کی*
    *بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔*

    کتنے آرام سے ہم اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑا دیتے ہیں اور محسوس بھی نہیں کرتے کہ دراصل ہم انجانے میں اپنےنامہ اعمال میں مسلسل گناہ لکھوا رہے ہیں ۔
    کسی کو لمبا ہونے پر باتیں سننی پڑتی ہیں،

    کسی کو چھوٹا ہونے پر،
    کسی کا رنگ کالا،
    کسی کی ناک موٹی،
    کسی کو چہرے پر دانے نکل آئیں تو پوچھ پوچھ کر اسکی مت مار دیتے ہیں،
    کسی کے چہرے پر بال ہوں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں
    کسی کی آنکھیں چھوٹی ہیں تو اس کو بھی معاف نہیں کرتے ۔۔!!!

    حالانکہ انسان کا ان میں سے کسی پر بھی اختیار نہیں۔

    یقیناً حسین چہرا سبھی کو اچھا لگتا ہے لیکن وہ حسن بھی رب نے ہی دیا ہےتو تعریف اسی کی، اور اگر کسی کے چہرے کا مذاق آپ اڑا رہے ہیں تو ہم دراصل اس بندے کا مذاق نہیں اڑا رہے ہوتے بلکہ خالق کی تخلیق کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں ۔ہم خود جو مکھی کا ایک پر بنانے کی سکت نہیں رکھتے اس خالق کی بنائی چیزوں میں نقص نکال رہے ہوتے ہیں استغفراللہ ۔۔!!
    وہ رب جو ایک کے بعد دوسری، تسیری اور پھر چوتھی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا ہے۔۔

    *اللَّهُمَّ أَنْتَ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي*

    اے اللہ ! جس طرح تو نے ہمیں باہرخوبصورت بنایا ہے، ہمارا اندرکردار بھی خوبصورت بنا دے۔

    روزویلٹ کا ایک بڑا مشہور قول یاد آ رہا ہے :

    *” Great Minds Discuss ideas;*
    *Average Minds Discuss Events;*
    *Small Minds Discuss People.”*
    .

  • مہاجر . تحریر : ثاقب شیخ

    مہاجر . تحریر : ثاقب شیخ

    کیا ایم کیو ایم ہی مہاجر ہے؟
    کیا مہاجر ہی ایم کیو ایم ہے؟

    کیا تحریک انصاف میں مہاجر ہیں؟
    جی ہاں ہیں

    کیا مسلم لیگ ن میں مہاجر ہیں
    جی ہاں ہیں

    کیا پیپلز پارٹی میں بھی مہاجر ہیں
    جی ہاں ہیں

    کیا پاک سرزمین پارٹی میں مہاجر ہیں
    جی ہاں بلکل ہیں اور بڑی تعداد میں موجود ہیں

    جب مہاجر ہر جماعت میں اکثریت کے ساتھ موجود ہے تو ایم کیو ایم کیوں زبردستی مہاجر نام کو استعمال کیے جارہی ہے آخر کیوں ایم کیو ایم دنیا کو یہ تصور دےرہی ہے کہ مہاجر ہونے کر لیے ضروری ہے کے آپ کا تعلق ایم کیو ایم سے ہو؟

    کیا مہاجروں کے نام پر سیاست کرنے والوں نے ایم کیو ایم اور حقیقی کے نام پر مہاجروں کو شہداء قبرستان آباد نہیں کیے کیا ؟

    ایم کیو ایم تو 32 سال سے مہاجر نعرہ لگارہی ہے اب تک مہاجروں کے مسائل حال کیوں نہیں ہوے اس کا مطلب تو یہی ہے کہ ایم کیو ایم ایک فلپ نظریہ پر کام کررہی ہے یہ بات صاف ہے کہ ایم کیو ایم کے نظریے سے مہاجر قوم کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہے انکا مقصد MPA MNA بنکر رہنماؤں کی عیاشی کیلئے اے سی والی مہنگی مہنگی لگژری گاڑیاں اور خوبصورت محلات حاصل کرنے کیلئے جۓ مہاجر کا نعرہ لگا کر اپنی قوم کا استعمال کرتے ہیں

    الیکشن کے وقت ‎مہاجر کارڈ اور ‎سندھی کارڈ کھیل کر کراچی کی عوام کو بےوقوف بنانے والے ہی کراچی کی بربادی کے اصل ذمہ دار ہیں.
    ان لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر کبھی عوام میں فرقہ پرستی اور لسانی فساد پھیلایا تو کبھی ‎سندھو دیش اور ‎مہاجر صوبہ کے نام پر عوام کے جذبات کو بھڑکایا.

    ‏32 سالوں میں تعلیم کو تباہ کر دیا ہے، شہدا کا قبرستان آباد کر دیا، سوریج نظام تباہ، انڈسٹریز یہاں سے چلی گئی، ذاتی مفادات کے خاطر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم عوام کو بے قوف بنا رہے ہیں۔ لیکن اب ‏ کراچی والوں کو سوچنا ہوگا کہ انکا اپنا کون ہے انشاء اللّه انے والے وقت میں تمام کراچی والوں کو چاہیے کہ اپنا ووٹ ( ڈولفن🐬 ) کو دیکر سید مصطفی کمال کا ہاتھ مضبوط کریں تاکہ کراچی اور کراچی کے لوگ ایک بار پھر تعمیر و ترقی کا سفر کامیابی حاصل کر سکیں.
    ثاقب شیخ
    @Saqib194

  • شوہر کے گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی آئے تحریر : قراۃالعین

    شوہر کے گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی آئے تحریر : قراۃالعین

    شادی کے وقت یہ درد ناک جملہ ” شوہر کے گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی آئے” کتنی بیٹیوں کی ڈولی اٹھتے ساتھ ہی ان کے سر سے شفقت کا ہاتھ اٹھا کر انہیں یتیم ہونے کا احساس دلا دیتا ہے
    جیسے اس کو نئے رشتے میں نہیں باندھا جارہا بیچا جارہا ہے جس کے جینے مرنے رونے سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں جو ہے سسرال شوہر کے رحم و کرم پر ہے جب ہی 10 سالوں شوہر سسرال کے ظلم برداشت کرکے4 بچوں کی ماں عینی بالآخر زندگی سے آزاد کردی گئی

    اس بدبخت کے 4 بچوں کی ماں اس قابل تھی کہ اسے بے گناہ قتل کردیا جاتا اس کے والدین بہن بھائیوں نے اسے سپورٹ کیا ہوتا تو آج اس کا جنازہ اٹھنے کے بجائے آج اس کے بچے ممتا سے محروم نہ ہوتے کیوں ہم اپنی بچیوں کو شادی کے بعد ایسے چھوڑ دیتے جیسے ان کو نئے رشتے میں نہیں بیچا جارہا ہے جس میں اس کے ساتھ کچھ برا ہو وہ برداشت کرے اسکو سپورٹ نہیں کیا جائے گا کیا اسلام نے عورت کو خلع کا حق نہیں دیا ہم نے کیوں خلع کو اس قدر مشکل بنا دیا کیوں کہ ہماری بچیاں ہم پر بوجھ بن جائیں گی خدارا ان کی شادی کروائیں نہ کراوئیں پر انہیں اچھی تعلیم ضرور دلوائے معاشرے میں رہنا اسکا مقابلہ کرنا ضرور سیکھائیں پھر نہ تو اسکی شادی آپ پر بوجھ ہوگی نہ اس کی مظلوم زندگی ۔

    @qurat_Writters

  • ایبٹ آباد تحریر : محمد علی

    ایبٹ آباد تحریر : محمد علی

    ایبٹ آباد صوبہ کے پی کے کے شمال میں واقع صوبے کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ ایبٹ آباد ہزارہ ڈویژن کا صدر مقام بھی ہے۔ یہ شہر 1853 میں معرض وجود میں آیا اسکے وقت کے انگریز ڈپٹی کمشنر میجر جیمز ایبٹ کے نام پر۔ ایبٹ آباد اوراش ویلی میں 4121 فٹ صطح سمندر سے بلندی پر واقع ہے۔ یہ شہر تعلیم سیر و سیاحت کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔ شہر کو چاروں جانب سے ساربن ہلز نے گھیر رکھا ہے جسکی وجہ سے اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے۔
    ایبٹ آباد میں پاکستان کے بہترین سیاحتی مقامات موجود ہیں جیسا کہ نتھیاگلی ،مشک پوری، میرا جانی ، ایوبیہ، ٹھنڈیانی، سجیکوٹ واٹر فالز، ہرنو اور شملہ ہل نمایاں ہیں۔ ایبٹ متعدل موسم کا حامل شہر ہے زیادہ سے زیادہ درجہ 38 ڈگری تک جاتا اور سردیوں میں منفی 05 تک گر جاتا۔ یہاں اکثر برفباری بھی ہوتی ہے۔
    تعلیم کے لحاظ سے ایبٹ آباد بہترین شہر ہے یہاں خواندگی کا تناسب 56 فیصد ہے ۔
    پاکستان کے بہترین اسکول اور کالجز یعنی پیپس، برن ہال، کومسٹس ایوب میڈیکل ایبٹ میں واقع ہیں۔
    یہاں کا پہلا اسکول ایبٹ آباد پبلک اسکول ہے۔
    دنیا کی پرانی اور مشہور شاہراہ شاہراہ ریشم ایبٹ آباد سے ہی گزرتی ہے۔
    ایبٹ آباد کو ایک اور امتیاز اس لیے بھی حاصل کیوں کہ پاکستان فوجیوں کی تربیت گاہ پاکستان ملٹری اکیڈمی بھی یہہیں واقع ہے
    ایبٹ آباد اسامہ بالادن واقع کے واقع کی وجہ سے عالمی منظر نامہ پر بھی چھایا رہا۔

    کھانے میں قلندر آباد کے کباب بہت مشہور ہیں
    سیاسی لحاظ سے بھی ایبٹ آباد اہم رہا ہے۔
    مشتاق غنی موجود اسپیکر کے پی اسمبلی کا تعلق ایبٹ اباد سے ہے۔
    سابق وزیر اعلیٰ و وفاقی وزیر سردار مہتاب کا تعلق بھی ایبٹ آباد سے ہے۔
    الغرض ایبٹ آباد پاکستان کے اہم ترین شہروں میں ہے۔
    میں تمام پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں وہ ایک دفعہ ضرور آ کر ایبٹ آباد کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔

    @jaanbazAli