Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بیوروکریسی بمقابلہ اللہ کریسی تحریر : حضور بخش کنول اعوان

    بیوروکریسی بمقابلہ اللہ کریسی تحریر : حضور بخش کنول اعوان

    پاکستان میں اس وقت جس تیزی کے ساتھ مہنگاٸ کا جن تھیلے سے باہر آیا ہے کہ خدا پناہ ۔

    ہر طرف ذخیرہ اندوزی ہر طرف لوٹ کھسوٹ ، چیک اینڈ بیلنس سسٹم کے مٶثر نہ ہونے کی وجہ سے عوام اشیا مہنگے داموں خریدے پہ مجبور ہے ۔

    سچ تو یہ ہے کہ اس حکومت کو اگر اندرونی و بیرونی طور پہ چیلنجز کا سامنا ہے تو اس وقت بیوروکریسی حکومت کے سنگ ہوتی کہ حکومت اپنے ریاستی معاملات دیکھے جبکہ بیوروکریسی عوام کو سستی سہولیات فراہم کرنے کو ممکن بنانے کی جدوجہد میں مصروف عمل دکھاٸ دیتی ۔
    مہنگاٸ کا آفریت اس وقت کنٹرول سے باہر ہے عوام ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس گٸ ہے ۔
    اے سی حضرات ڈی سی صاحبان اگر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاٶن کر کے مال مسروقہ ضبط بحق سرکار کر کے عوام کو سستے داموں دے کے ریلیف دیں تو کیا ہی بات ہوگی کہ عوام کسی بھی چیز کی وہی قیمت دے جو بنتی ہو ایسا نہیں کہ مفاد پرست اور یہ ڈیلر حضرات ذخیرہ اندازی کر کے اس چیز کی شارٹیج کر کے من پسند قیمت وصول کریں یہ بات خلاف ریاست ہے ۔

    اس وقت اگر ملک کی عوام کے حالات کا موازنہ کیا جاۓ تو وہ ایک وقت کی روٹی بھی بمشکل کھا پا رہے ہیں ۔
    حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت بیوروکریسی سے دوبارہ حلف لے تاکہ وہ حلف کی پاسداری کرتے ہوۓ عوام کو سستی سہولیات کی فراہمی کو تو ممکن بناٸیں ۔
    نواب آف کالاباغ نواب ملک امیر محمد خان اعوان اکثر کہا کرتے تھے کہ
    ” بیوروکریٹس پاکستان کا وہ طبقہ ہے جو اس وقت تک عام آدمی کے مساٸل سے واقف نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خود ان حالات سے نہ گزرے “
    جبکہ بیوروکریٹ بنتے ہی 90 فیصد امیروں جاگیرداروں یا سیاستدانوں کے بچے ہیں ۔
    تو جنہوں نے غربت دیکھی ہی نہ ہو جن کو علم ہی نہ ہو کہ چینی ، آٹا ، دال ، چاول ، گھی یا دیگر اشیاۓ خوردونوش کی کیا قیمت ہے ۔؟
    کیا ان قیمتوں پہ ایک دیہاڑی دار طبقہ جو پاکستان کے ساٹھ فیصد پہ مشتمل ہے وہ ایک وقت کی بھی روٹی بچوں کو کھلا سکتا ہے ۔؟
    جس شخص کی دیہاڑی دو سو سے پانچ چھ سو تک ہو کیا وہ ایک وقت میں چینی ، گھی ، دال ، چاول ، آٹا نمک مرچیں لے یا وہ سبزی یا گوشت لے ۔
    اس وقت مہنگاٸ کا مسلہ ریاستی مسلہ ہے اگر بیوروکریٹ اس وقت ریاست و ریاستی عوام کے ساتھ مخلص رہیں چیک اینڈ بیلنس سسٹم کو ٹھیک کریں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاٶن کریں تو یقین مانیں پاکستان میں مہنگاٸ کا بے قابو ہوتا جن قابو ہو جاۓ گا ۔
    بیوروکریسی کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے جب تک بیوروکریسی ٹھیک ہے تب تک حالات بہتر ہیں ۔
    اس کی ایک واضع مثال یہ ہے کہ جہاں بیوروکریسی اپنے کام سے مخلص ہے اور دیانت دار ہے وہاں کےحالات بہترین ہونگے نہ کوٸ رشوت کا چکر نہ کوٸ کام نہ ہونے کا ڈر نہ لاقانیونیت ۔
    اب یہ بھی نہیں ان کے ماتحت سب ٹھیک ہونگے ہر جگہ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں ۔
    جہاں بیوروکریسی کرپٹ ہوگی ان کے ماتحت ان کو رول ماڈل بنا لیں گے کہ یہ تو خود کرپٹ ہے ہمیں کیا روکے گا ۔
    جب ان کو ان کی کارستانیوں کے بارے آگاہی دی جاۓ تو اکثر یہ جواب ہوتا ہے کہ
    ” جا صاحب نال گل کر “
    مطلب فری ہینڈ نہ کوٸ ڈر نہ کوٸ خوف ۔
    ایسے میں حالات کو کنٹرول کرنا رشوت کے بازار کو روکنا اور جراٸم کی شرح پہ قابو پانا مشکل ترین ہوتا ہے ۔
    وہاں کے سب کام پیسے سے ہوتے ہیں اور یہی کسی معاشرے کی تنزلی کا باعث ہوتی ہے کسی شہر یا علاقے کی تباہی کا موجب ۔
    کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک وقت ایسا بھی آجاۓ کہ عوام ایک وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو جاۓ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک میں افراتفری پھیل سکتی ہے بھوک سے خودکشیوں کیتعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جراٸم کنٹرول سے باہر ہو جاٸیں گے جو ریاستی ناکامی ہوگی ۔
    نواب آف کالاباغ نواب امیر محمد خان آج کے بنگلہ دیش اور پورے پاکستان کے گورنر ہوا کرتے تھے ان کے زمانے میں اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ کہا کرتے تھے کہ
    ” اللہ کریسی “ اور یوں وہ اللہ کا نام لے کر عوامی مساٸل کے حل کیلۓ ہر ممکن کوشش کرتے اور عوام کو ریلیف دینے کیلۓ کالاباغ سے آسام تک عوام میں موجود رہتے ۔
    اس وقت ہمارے بیروکریٹس کو بھی اللہ کریسی کہہ کے مہنگاٸ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیۓ تاکہ عوام دووقت کی روٹی سکون سے کھا سکے ۔
    اللہ پاکستان کو ہر مصیبت اور دشمن کے شر سے محفوظ رکھے آمین

    ‎@Gumnam_HBK

  • ایک انسان دنیا کے لیے مثالی کیسے بن سکتا ہے ؟  تحریر : نواب فیصل اعوان

    ایک انسان دنیا کے لیے مثالی کیسے بن سکتا ہے ؟ تحریر : نواب فیصل اعوان

    جب ہم اپنے نظریہِ حیات میں ایک مقصد متعین کرلیتے ہیں اور اس مقصد کو چیلینج کے طور لیتے ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرتے ہوئے کامیابی کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھتے ہیں ہم اسی وقت دنیا کے لیے مثالی بن جاتے ہیں ۔
    اگر ہم کچھ عرصہ پہلے کی بات کریں اور تاریخ پر روشنی ڈالیں تو ہمیں ایک عظیم مثال ” ہیلن کیلر ” کی ملتی ہے جو دنیا کی پہلی لڑکی تھی جو نابینا ، بہری اور گونگی ہونے کے باوجود 12 کتابوں کی مصنفہ بن گئ ۔
    ہیلن کیلر اپنی ہمت اور ولولہ سے دنیا کے ہر اس انسان کے لیے مثال بنی جو کسی بھی چیز کو اپنی زندگی کی رکاوٹ سمجھتا ہے ۔
    بلند حوصلوں کی مالک اس بے مثال لڑکی نے ہر اندھیرے اور بے بسی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس کا روشن چہرہ دنیا کے لیے فقط خوشی کے آنسو دکھاتا رہا ۔

    ہیلن کیلر نے ایسی زندگی گزار کر یہ پیغام دیا کہ اپنے مقصد کو حاصل کرکے اس طرح بھی لوگوں کے دلوں پر راج اور ان کے لیے مثال بنا جاسکتا ہے ۔

    اگر ہم ایک اور مثال وطن پاکستان میں ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو ہمارے سامنے صائمہ سلیم کا نام آتا ہے جو پاکستان کی پہلی نابینا سی ایس ایس آفیسر بن گئ ۔ صائمہ سلیم نے اپنی محنت ، لگن اور جستجو سے حکومت کو اپنے قوانین بدلنے پر مجبور کر دیا ۔ پاکستان میں اس سے پہلے کوئ بابینا افراد سی ایس ایس کا امتحان نہیں دے سکتا تھا ۔ بلآخر صائمہ سلیم کے عزم صمیم اور بلند حوصلوں کی وجہ سے صدر پاکستان نے پبلک سروس کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ نابینا افراد کا امتحان بذریعہ کمپیوٹر لیں ۔ جب رزلٹ آیا تو تمام لوگوں کو حیران کیا کہ صائمہ سلیم کی خواتین میں پہلی جبکہ بطور مجموعی چھٹی پوزیشن آئ ۔ صائمہ سلیم نے اپنا مقصد حاصل کر کے پیغام دیا کہ میں نابینا ہوں تو کیا ہوا ۔؟

    جستجو ، عزم اور حوصلہ بلند ہے ۔
    آنکھوں کی روشنی نہیں تو کوئ بات نہیں ، میں اپنے اندر کی روشنی سے دنیا کے لیے مثال بنوں گی ۔
    ہمارے اردگرد ایسی کٸ مثالیں موجود ہیں جو شاید آپ میں سے اکثر لوگ جانتے ہونگے ۔
    اگر کوٸ انسان اپنی زندگی کا ایک مقصد بنا لے تو اس مقصد کے حصول کیلۓ ہر وہ جاٸز کام کرے جس سے مقصد میں کامیابی ہو تو ایسا شخص اپنی ذات کو اوروں کیلۓ ایک تاریخ بنا جاۓ گا کہ واقعی اس شخص نے اپنے مقصد کے حصول کیلۓ بہت محنت کی ہے بہت پریشانیوں کا سامنا کیا ہے کٸ مصاٸب و آلام سے گزرا ہے کٸ بار گرا ہے گر کے سنبھلا ہے سنبھل کے گرا ہے اور گرتے گرتے ایک روز اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہے ۔
    زندگی تجربوں کا نام ہے اور تجربہ کار وہی ہے جو اپنے آپ کو لوگوں کیلۓ مشعل راہ یا مثالی بنا گیا ہے ۔
    معاشرے میں مثالی بننے کیلۓ ہر اس چیز سے چھٹکارا لازم ہے جو ہمیں ایک معاشرے کا مثالی کردار بننے کی راہ میں رکاوٹ بنے ۔
    خود کی ذات کو اس قدر مثالی بناٶ کہ تاریخ جب لکھی جاۓ تو وہ آپ کے نام کے بغیر مکمل ہی نہ ہو ۔
    شیخ عاطف موٹیویشنل سپیکر ہیں میں نے اکثر انہیں کہتے سنا ہے کہ
    ” زندگی تجربوں اور تجزیوں کا نام ہے بیٹا زندگی ایک کٹھن سفر کا نام ہے تو دو روپے کے مسلوں پہ رک گیا تو اس معاشرے میں کیسے سرواٸیو کریگا کیسے رہے سکے گا اس معاشرے میں کیسے منہ دیگا بلاٶں کے آگے تو ہار گیا تو پیچھے ہٹ گیا ان دو روپے کے مسلوں کے پیچھے “
    اسی لیۓ انسان پہ جتنی بھی مشکلات آٸیں انسان کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیۓ ۔
    اپنے آپ کو ہر مشکلات، مصیب و الم کے بعد بھی مستقل مزاجی سے محنت کر کے مثالی بناٶ تاکہ آپ کا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جا سکے

    @NawabFebi

  • ایرک ہابز بام تحریر : اقصٰی صدیق

    ایرک ہابز بام تحریر : اقصٰی صدیق

    اکتوبر 2012 ء میں تاریخ نویسی کا ایک بہت بڑا نام ایرک ہابز بام اس دنیا سے گزر گئے۔ہابز بام 1917ء میں مصر میں پیدا ہوئے، ان کا بچپن آسٹریا اور جرمنی میں گزرا۔ ان کے والدین یہودی تھے اور بچپن ہی میں فوت ہوگئے تھے۔ایرک ہابز بام نے پچانوے برس عمر پائی۔
    یہ برطانوی مؤرخ بیسویں صدی کی تاریخ نویسی پر چھائے ہوئے ہیں۔ اور دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات میں ابھی بھی تاریخ کا کوئی نصاب ان کی کتابوں اور مضامین کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جاتا۔
    1930 ء میں جب جرمنی میں ہٹلر کی آمریت کا آغاز ہوا تو ہابز بام اپنے چچا کے ساتھ لندن منتقل ہوگئے۔ جہاں انہوں نے تعلیم میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمرج یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے وظیفہ حاصل کیا اور وہی ان کے علمی سفر کا شاندار آغاز ثابت ہوا۔
    ہابز بام نے تقریباً ایک صدی پر محیط اپنی زندگی میں میں ہونے والے واقعات پر نہ صرف بہت گہری نظر رکھی، بلکہ بہت کچھ لکھا۔ اور ان کی موت کے وقت ان کے بستر پر موجود واحد چیز اخبارات تھے جن سے وہ حالات سے آگاہ رہتے تھے۔

    ایرک ہابز بام کی تاریخ نویسی کی خاص بات یہ ہے، کہ وہ حال کی سیاست اور معیشت کو ماضی کے اسباق کی روشنی میں بڑے دلچسپ انداز سے بیان کرتے تھے آخری دنوں میں دیے جانے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مغربی بنگال میں سی پی ایم حکومت کی فتح پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تاریخی سوالات پر سیدھا جواب دینا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ بہت سارے پہلوؤں کا احاطہ کرنے پر زور دیتے۔

    انہوں نے تاریخ نویسی کو ایک نئی جہت سے روشناس کروایا۔جس کی خاص بات سماجی اور ثقافتی تاریخ پر بہت زیادہ زور دیا جانا تھا۔
    ایرک ہابز بام نے اپنی تاریخ نویسی کا آغاز اس بات پر غور و خوض سے کیا کہ تاریخ میں سماجی احتجاج کی کونسی پرتیں رہی ہیں وہ صرف اس بات سے قائل نہیں ہوتے تھے کہ کوئی ایک محرّک مثلاً مذہب، معیشت یا روایات لوگوں کو احتجاج پر مجبور کرتی ہیں۔ سماجی احتجاج کی تاریخ میں مختلف مثالوں کو کریدنے کے بعد انہوں نے اس موضوع پر بھی بہت کچھ لکھا۔ کہ کس طرح سماج میں مختلف طبقات کس طرح روایات گھڑتے ہیں اور کیسے ان” گھڑی ہوئی روایات” کو اجتماعی یادداشت کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

    ان کے مطابق روایات گھڑنے میں عوام سے زیادہ ریاست یا قوم پرست اور فرقہ پرست عناصر اپنا کردار ادا کرتے ہیں ان کی مشہور ترین کتاب” یورپ کا عہدِ انقلاب” تھی
    ۔جس میں انہوں نے 1789ء کے انقلاب فرانس سے 1848ء کے یورپی انقلابات کا احاطہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے انیسویں اور بیسویں صدی کی تعریف پر بیش بہا کتابیں لکھیں۔ ہابز بام کا کہنا تھا کہ قوموں کے ارتقاء اور قوم پرستی کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے خود کو لگی بندھی تعریفوں سے دور رکھنا ضروری ہے، کیونکہ” قوم” بذات خود ایک گمراہ کن تصور ہے جسے ریاست اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔
    اور قوم پرست اپنے مقاصد کے لیے اور دونوں صورتوں میں یہ تنگ نظری کا باعث بنتا ہے، لوگوں کا کوئی بھی گروہ جمع ہوکر خود کو” قوم” کہلوانا شروع کر دیتا ہے یا ریاست۔

    ایرک ہابز بام کا کہنا تھا کہ قوم کا تصور اور قوم پرستی کے مبلغ ہی پروان چڑھاتے ہیں اور قوموں کی تشکیل میں سوشل انجینئرنگ یا سماجی کارگری کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ قوم کوئی فطری یا خداداد اکائی نہیں۔ جس طرح اچھی یا بری اکائیاں تشکیل دی جاتی ہیں اسی طرح قوموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ جسے ریاستیں اپنے طریقے سے اور قوم پرست عناصر اپنے انداز سے پختہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے مختلف سچی جھوٹی روایات کااستعمال کیا جاتا ہے۔

    ایرک ہابز بام کہتے ہیں کہ قوموں کو سمجھنے کے لئے صرف سیاسی تاریخ نہیں، بلکہ سماج، معیشت، نفسیات اور ثقافت وغیرہ کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہابز بام کے تجزیے میں قوموں کی تشکیل کے تین مرحلے ہیں۔
    پہلے مرحلے میں جو ہزاروں سال پر محیط ہو سکتا ہے صرف ایک لوک صحافت ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ ادبی شکل اختیار کر لیتی ہے مگر اس کی کوئی سیاسی یا کوئی قومی شکل نہیں ہوتی، بس لوگ ساتھ رہے ہوتے ہیں اور مشترکہ ناچ گانے اور کہانیاں پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں۔

    جبکہ دوسرے مرحلے میں چند قوم پرست نمودار ہونے لگتے ہیں، جو دیگر اقوام کی بالادستی کی نشاندہی کرتے ہیں جو بڑی حد تک درست بھی ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ بالادست قوم کے حکمرانوں کے بجائے اس کی قوم کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
    تیسرے مرحلے میں اس "قومی تصور”کو عوامی حمایت حاصل ہو جاتی ہے۔
    اور چند جنگجو قوم کے ترجمان بن بیٹھے ہیں، ہابز بام کا کہنا تھا کہ سنجیدہ مورخ خود کبھی بھی قوم پرست نہیں ہو سکتا، کیوں کہ کسی بھی فرقہ پرست کی طرح کوئی قوم پرست صحیح تاریخ نہیں لکھ سکتا۔کوئی قوم اس وقت تک قوم نہیں بن سکتی جب تک کہ وہ تاریخ کو توڑ مروڑ کر مسخ نہ کر دے۔
    جبکہ کہ اچھے مورخ کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ تاریخ کو مسخ ہونے سے بچائے۔ ہابز بام ایک عظیم مورخ اور سماجی تجزیہ نگار تھے۔جن کی تحریروں سے نہ صرف یورپ بلکہ دیگر علاقوں کے سماجی ارتقاء کو بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کاش! ہمارے سیاستدان فوجی اور افسر شاہی سے تعلق رکھنے والے مجھے خود ساختہ تجزیہ نگار بھی ایرک ہابز بام کی کتابیں پڑھ کر کچھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

    @_aqsasiddique

  • پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان  تحریر چوہدری عطا محمد

    پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان تحریر چوہدری عطا محمد

    جیسے ہی پینڈورا پیپرز کے شائع ہونے کی خبر منظر عام پر آئی تو پاکستان میں تحریک انصاف کے مخالفین خصوصا ن لیگ اور اس کے حامی صحافیوں نے بغلیں بجانا شروع کر دی یہاں تک کے ن لیگ کے سنئیر رئینماء احسن اقبال نے تو باقاعدہ پیپرز کی اشاعت سے پہلے کہنا شروع کر دیا کہہ کپتان استعفی دیں احسن اقبال نے تو پہلے ہی کہہ دیا کہہ کپتان وزیز اعظم پاکستان کا نام آگیا ہے لہٰذا وہ استعفی دے دیں اصل میں یہ سب کیسے ہوا اس کیوجہ ہے عمر چیمہ اس کے اندر تحقیقات کا حصہ تھے اور لگ ایسے رہا ہے کہہ کپتان کو پینڈورا پیپرز میں فکس کرنے کی بڑی کوشش کی گئ۔ کپتان کو زمان پارک میں ایک دوسرے ایڈریس میں رئینے والے فرید الدین صاحب سے بھی منسلک کرنے کی ناکام کوشش کی گئ اگر پیپرز پڑھیں تو اس میں کپتان کا نام اس امر میں ہے ہے یہ پیپرز بہت واضح تصدیق کرتے ہیں کہہ کپتان کی کوئی بھی آفشور کمپنی نہیں ہے کئ ن لیگ کے حمایت یافتہ اور سرکردہ لوگوں کے خواب ایک بار پھر ٹوٹ گے مٹھائیاں پھر ہضم نہ ہوئیں غور طلب بات یہ ہے کہہ پینڈورا پیپرز سے دو تین دن پہلے نواز شریف نے لندن میں اور احسن اقبال نے پاکستان میں یہ کیسے کہا کہہ احتساب تو اب عمران خان کا ہوگا۔ اصل میں اسکی بڑی وجہ ان کے کچھ قریبی صحافی اور میڈیا کا ایک ادراہ تھا جس نے ان کو کہا تھا کہہ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کا نام ہے ان پیپرز میں۔ بات تو صیح ہے عمران خان کا نام تو ہے لیکن وہ نام اس لئے ہے کہہ تصدیق کی گئ ہے کہہ کپتان کے نام پر کوئی آفشور کمپنی نہیں ہے
    اصل میں ن لیگ نے حسب روایت جلدی مٹھائی کھا لی ان کو جب کہا گیا کہہ کپتان کانام ہے تو ن لیگ نے سمجھا ایسے ہی نام ہوگا جیسے ہمارا نام آیا تھا
    سچ بات تو یہ ہے کہہ پاکستان میں کوئی بھی سیکنڈل آۓ تو ممکن ہی نہیں اس میں ن لیگ کانام نہ ہو اس بار بھی ان کی اپنی فیملی کے نام موجود ہیں اسحاق ڈار کا بیٹا اور مبینہ طور پر مریم نواز کے داماد کا نام ان پینڈورا پیپر میں موجود ہے شاید

    لیکن کپتان جناب وزیز اعظم عمران خان نے اسپر بھی ہتھوڑا مارا اور پینڈورا پیپیرز کو اپنی ٹوئیٹ کے زریعے ویلکم کیا اس سے اب زیادہ پریشانی ہو گی ن لیگ اور تمام ناجائز آفشور کمپنیاں رکھنے والوں کو۔
    آپ کو یاد ہوگا کہہ جب پانامہ پیپرز آۓ تھے تو اس وقت کی ن لیگ کی حکومت نے اس کو سازش قرار دیا۔ اور کسی نے کہا کہہ یہ غیر ملکی سازش ہے کسی نے کہا کہہ عوام بھول جاۓ گی مولانا فضل رحمان نے کہا کہہ نواز شریف ڈٹ جاؤ

    لیکن اب پاکستان بدل چکا ہے۔ آج کے انٹرنیشل صادق و امین وزیز اعظم نے پیپرز کو سازش نہیں کہہ رہے بلکہ خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اور ان پیپرز کے اندر آنے والے لوگوں سے ان کی آفشور کمپنیوں کی تحقیق کے لئے اپنی سربراہی میں پیپرز آنے کے چوبیس گنٹھے کے اندر ایک سیل قائم کر دیا یہ ہی تو ہے نیا پاکستان
    الحمدللّٰہ کپتان لو اللہ نے ایک بار پھر سرخرو کیا اور کپتان نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہہ پاکستان اب بدل چکا ہے پاکستان کے وزیز اعظم کانام اب کسی انٹرنیشنل کرپشن کیسز میں نہیں آتا بلکہ تمام دنیا میں وزیز اعظم پاکستان کے کاموں کو سراہا جاتا الحمدللّٰہ نیا پاکستان۔

    ‏@ChAttaMuhNatt

  • گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    میری لاہوری قیام گاہ سے خاصی دور جلسہ گاہ ہے جہاں اس وقت ایک بڑے یا بہت بڑے جلسے کی تیاریاں جاری ہیں ۔ جب آپ یہ سطریں  زہر مار کر رہے ہوں گے تو یہ چھوٹابڑا یا بہت بڑا جلسہ ہو چکا ہو گا، اس کے بارے میں کسی پیش گوئی کی ضرورت نہیں ۔ شاہی قلعے اور شاہی مسجد کے نزدیک ترین پڑوس میں مینار پاکستان اور اس کا سبزہ زار واقع ہے ۔ یہ جگہ اس شہر کی سیاسی جلسہ گاہ نہیں ۔ اس شہر کی تاریخی جلسہ گاہ اور سیاسی علامت باغ بیرون موچی دروازہ ہے۔  لیکن پرانی سیاست والا موچی دروازہ اب عہد حاضر کی حاضری کی وسعت کو سمیٹ نہیں سکتا۔ آج کے سامعین جلسہ کو نظریات اور سیاسی مقام و مرتبہ سے کہیں زیادہ مال و دولت کی فراوانی دکھائی جاتی ہے۔ جس کی بہتر نمائش مینار پاکستان میں ہوتی ہے۔ جلسہ عام جدید سیاستدانوں کا ہو یا جبہ ود ستار والوں کا، سب کے انداز خسروانہ ہی ہوتے ہیں ۔ موچی دروازے کا ڈیڑھ دو سو روپے خرچ والا پبلک جلسہ آج کروڑوں بلکہ ان سے بھی زیادہ کے خرچ سے منعقد ہو تا ہے ۔اس سیاسی انقلاب کا ایک خوفناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایسے بڑے بڑے جلسے کر نے والے ان کا خرچہ سیاست سے وصول کرتے ہیں۔ اور ہم سب کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن پھر کیا کر تے ہیں، اسے مت پوچھئے۔ ہماری حالت دیکھئے کہ اب کوئی ایسا گہر اکنواں بھی باقی نہیں رہا جس میں ہمارے زوال کا گوشوارہ گرتے گرتے گم ہو جاۓ ۔ ہمارے اس ملک کی سرحد میں ابھی تک کیوں باقی ہیں اور ہمارے مٹانے والے کن سوچوں میں پڑے ہیں معلوم نہیں۔ لیکن عمرانی حکیموں اور قوموں کے حالات سے تعارف رکھنے والوں نے ایک خیال یہ ظاہر کیا ہے کہ فی الحال ہمارے آقا ہمیں زندہ تو رکھنا چاہتے ہیں مگر بہت کمزور ،کسی ایٹمی قسم کے نخرے اور نخوت کے بغیر ۔ معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی اور جناب آصف زرداری کی پانچ برس کی حکومت نے ان کا بہت سارا کام نپٹا دیا ہے اور اس ملک کے معاشرے میں کر پشن کا زہر گھول کر اسے بے جان کر دیا ہے ۔اب میں دفاع کے قابل نہیں رہا۔ ادھر بھارت نے عام لام بندی کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔ جس میں ہر بھارتی کو فوجی تربیت دی جائے گی اور اس کی فوج میں بھرتی بھی ہو گی، اسرائیل کی طرح۔ 

     میں نے اپنی ذاتی اور قوم کی حالت دیکھ کر دل کو جو پریشانی لگا لی  تھی۔  اس سے گھبرا کر میں ایک روحانی رہنما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کا خیال تھا کہ ”ایک وہ زمانہ تھا جب قومیں بنے اور بگڑنے میں برسوں لگادیتی تھیں یعنی وہ بننے اور پھر مٹنے میں بھی کئی برس اور نسلیں لگا دیتی تھیں۔ لیکن اب زمانہ بہت تیز ہو چکا ہے۔ برسوں کے کام مہینوں میں ہو رہے ہیں۔ ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لئے جو ہو سکتا ہے وہ کرتے رہیں۔ قلبی اطمینان کی حالت میں ان حالات سے گزر جائیں۔ ہم نے خود یہ ثابت کیا ہے کہ ہم ایک جدید ریاست چلانے کے اہل نہیں ہیں۔ نہ ہمارے اندر اس کاجذ بہ ہے نہ ہماری نیت درست ہے اور نہ ہی سمجھ بوجھ۔ ہمارے بانی اور قائد کی جیب میں کھوٹے سکے تھے اور ہمارے سابقہ حکمرانوں کے ایک مستند دانشور نے فیصلہ دیا تھا کہ ہم ابھی آزادی کے اہل نہیں ہیں ۔ ہندو ہم سے کچھ بہتر ثابت ہوۓ جو زوال

    نہیں استقلال کی طرف بڑھ رہے ہیں”۔ ہماری ایک مذہبی جماعت کے سربراہ سید منور حسن نے حالات سے گھبرا کر قوم سے استغفار کی اپیل کی ۔ گزشتہ جمعہ کو قوم نے اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ یہ ایک بڑا ہی مشکل کام ہے ، پہلے گناہ کا اعتراف کر نا پڑ تا ہے اور پھر اس کی معافی اور یہ سارا عمل خاموشی کے ساتھ بندے اور اس کے آقا کے درمیان رہتا ہے ۔ استغفار کا مطلب ہے پہلے کسی کو اپنا آقا تسلیم کر نا پھر اس سے معافی مانگنا۔ یہ ایک بڑاہی نیک انسانی عمل ہے جو کسی کسی کے

    نصیب میں ہو تا ہے۔ ایک برقی پیغام ملا جس نے استغفار کا ایک انتہائی مؤثر واقعہ بیان کیا ہے۔ میں آپ کو اس میں شریک کر تاہوں۔ حضرت امام احمد بن حنبل کو سفر میں رات آگئی تو وہ قریبی گاؤں کی مسجد میں رات بسر کرنے چلے گئے اور صحن میں لیٹ گئے۔ چوکیدار آیا اور اس نے انہیں مسجد سے باہر نکال دیا۔ وہ مسجد سے باہر ایک جگہ پر لیٹ گئے تو وہی چوکیدار پھر آیا اور ان کو پاؤں اور ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا دور لے جاکر پھینک دیا۔ اس وقت ایک صاحب آئے اور انہیں گھر لے گئے ۔ وہ کچھ پڑھتے رہے ۔ امام نے پوچھا کیا پڑھ رہے ہیں ؟ اس نے جواب میں کہا استغفار کرتا رہتا ہوں۔ اس کا فائدہ کیا ہو تا ہے ، امام کے اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میری ہر دعا قبول ہوتی ہے البتہ میری ایک دعا ابھی تک قبول نہیں ہوئی اور وہ ہے امام احمد بن حنبل سے ملاقات، جس کی مجھے شدید خواہش ہے۔اس کے جواب میں امام نے کہا کہ قدرت اسے تو زمین پر گھسیٹ کر تمہارے پاس لے آئی ہے۔ 

    @candiusman

  • زندگی کیا ھے   تحریر :سریر عباس 

    زندگی کیا ھے  تحریر :سریر عباس 

    زندگی ایک کتاب ھے جسکے پہلے صفحے پر پیدائش اور آخری صفحے پر موت لکھا ھوتا ھے. بیچ کے سارے صفحات خالی ھوتے ھیں آپ جو چاہیں لکھیں. لیکن لکھتے وقت یہ ضرور سوچیں کہ احکام الحاکمین جب دیکھیں تو دیکھتے وقت شرمندگی نہ ھو. 

    مولانا روم علیہ السلام نے ایک بڑا خوبصرت واقعہ لکھا آپ لکتھے ھیں کہ ایک شخص کو قیمتی ھیرا ملا انمول ھیرا وہ اسے لے کر جوھری کے پاس گیا. اور اسکی قیمت وچھی تو جوہری نے ہیرا دیکھا اور کہا کہ میں اپنی پوری دکان بیچ دوں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گی اس پورے بازار میں اسکی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا. تم ایسا کرو یہ ھیرا بادشاہ وقت کے پاس لے جاؤ کیا پتا انکے پاس اسکی قیمت ھو وہ شخص ھیرا لے کر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا. بادشاہ نے جب وہ ھیرا دیکھا تو وزیر سے کہا اسکی قیمت کیا ھو گی. تو بادشاہ کو بتایا گیا کہ اگر ھم اپنا تخت و تاج بھی بیچ دیں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گیبادشاہ نے مجھےکسی صورت میں یہ ھیرا چاہیے تو وزیر نے کہا. آپ یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں اس نے اسے کہا آپ یہ ہیرا مجھے دے دیں. اور صبح سورج طلوع سے غروب آفتاب تک آپ محل سے جو چاھو لے کر جا سکتے ھو وہ شخص چلا گیا. ساری رات اسکو نیند نہیں آئی صبح صبح طلوع آفتاب سے پہلے وہ محل داخل ھو گیا. اسکو کسی نے بھی نہیں روکا وہ جب پہلے کمرے میں داخل ھوا تو ادھر شاھی لباس ٹانگے ھوئے تھے اس نے پہلے کبھی شاھی لباس نہیں پہنا تھا. اس نے سوچا ابھی صبح کا وقت ھے اس نے ایک لباس پہنا شیشے میں دیکھا پھر دوسرا پہنا بڑی دیر کے بعد اسکو ایک لباس پسند آیا اس نے کہا واہ بھائی میں تو شہزادہ لگ رھا ھوں پھر وہ دوسرے کمرے میں داخل ھوا وہاں طرح طرح کے کھانے بنے ھوئے تھے وہ بیچارہ رات کا بھوکا تھا اس نے کھانہ شروع کر دیا کبھی یہ کھا رھا ھے. کبھی وہ کہا رہا ھے پھر اس نے اسیر بھر کر کھانا کھایا پھر وہ تیسرے کمرے میں داخل ھوا ادھر شاھی بستر لگا ھوا تھا. کنیزیں پنکھے ہاتھ میں لیےکھڑی تھیں اس نے ابھی بہت وقت ھے تھوڑا آرام کر لوں وہ رات کا سویا ھوا نہیں تھا جیسے ھی لیٹا سو گیا. پھر وقت ختم ھو گیا دربان نے آکر اسے اٹھایا جیسے ھی اسکی آنکھ کھلی انہوں نے کہا اٹھو بھائی ٹائم ختم ھو گیا. وہ اٹھتے ھے چیزیں اٹھانے لگا دربان نے بولا ابھی تم ایک سوئی بھی نہیں لے کر جا سکتے اس نے کہا میں نے تو کچھ بھی نہیں اٹھایا انہوں نے اسے محل کے باھر پھینک دیا. 

    مولانا روم علیہ السلام فرماتے اس نے قیمتی ھیرے کو ضائع کر دیا وہ اگر معقول لباس پہنتا مختصر کھانا کھاتا بجائے اچھا کھانا کھانے کے اور وہ نہ سوتا دن بھر سمان نکال کے محل سے باھر رکھتا شام تک اسکا اپنا محل تیار ھو چکا ھوتا. 

    ھم اپنی زندگی بھی یونہی اچھے اچھے لباس پہننے اور اچھے اچھےکھانہ کھانے میں اور سونے میں گزار دیتے جب موت کا فرشتہ آتا ھے تو ھم کہتے ھیں کہ تھوڑی سی مولت دے دو میں دو رکعت نفل ادا کر لوں موت کا فرشتہ کہتا ھے اب نہیں وہ بولتا ھے ایک بار الحمد للہ سبحان اللہ کہ لینے دے لیکن موت کا فرشتہ کہتا ھے اب تمہارا ٹائم ختم ھو گیا علمند  انسان وہ ھے.  وہ دنیاکی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے دنیا میں رہنا ھے اور آخرت کی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے آخرت میں رہناھے

    @1sareer

  • لہجوں میں بڑھتی تلخیاں تحریر: اویس کورائی

     آج ہم لفظ کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے– کیا ہوتے ہیں؟ کب،کہاں اور کیسے ادا کیے جائیں–؟ شاید بہت کم،نایاب لوگ الفاظ، پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ لفظوں کے سہارے سے ہم روز مرہ زندگی میں اپنی بات مکمل کرتے ہیں۔ معاشرے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے،جیسے الفاظ کی ردوبدل میں کافی حد تک اختلاف پایا جاتا ہے۔

    دراصل لفظ ہی وہ واحد ذریعہ ہے ہیں جو ہمیں جوڑتے—- سنوراتے—بکھیرتے—-گھائل کرتے ہیں۔رشتوں کی طرح الفاظ کی نزاکت کو سمجھنا اور پرکھنا بھی انتہائی مشکل کام ہے۔دیکھا جائے تو کچھ لوگ کہتے ہیں الفاظ سے کیا ہوتا ہے۔ وہ اچھے ہوں یا برے شاید وہ حقیقت سے آشنا نہیں ہوتے—کبھی کبھی اپنے ہی کہے بے جا لفظ ہمیں خود انتہا اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ہم دنیا کے دستور کے مطابق لوگوں کی بے تکی اور فضول باتوں کی طرف توجہ تو مرکوز کرتے ہیں۔۔۔۔لیکن کبھی اپنے سے ہونے والی غلط فہمیوں اور تلخ لہجوں پر غور وفکر کیوں نہیں کرتے۔؟

                        الفاظ کے غلط استعمال سے ہی لحجوں میں تلخیاں بڑھتی ہیں۔ روزمرہ کے لین دین ،گفتگو کے دوران ہم کبھی کبھی ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جن کا ہمیں اندازہ اور پچھتاوا کچھ عرصے بعد ہوتا ہے۔—- ۔ اور ہمیں چیخ چیخ کر اپنے اختیار کیے گئے غلط رویوں اور الفاظ پر دل ہی دل میں شرمندگی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔

                لیکن یہاں ایک بہت ہی اہم نقطہ نظر آتا ہے غصہ تو سب کو آتا ہے لیکن کیا نظر انداز کوئی کرتا ہے—؟؟؟ کیا ہم میں سے کوئی انسان اس بات کا فیصلہ کرسکتا ہے غصے میں ساری حدود پار کر کے کسی بھی انسان کی دل آزاری کی جاۓ۔ہم میں سے بہت کم لوگ ہوں گے جو دوسروں کے تلخ رویوں کو جانتے بوجھتے بھی ہنس کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید انھیں غصہ نہیں آتا یا دوسری صورت میں وہ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ ان کے پاس ہمارے کیے گے بے جا سوالات کے جوابات نہیں ہیں۔ میری نقطہ نظر کے مطابق خود سے کسی طرح کی قائم کردہ راۓ بالکل ہی غلط ثابت ہوتی ہے بعض اوقات۔ زندگی تو نام ہی مشکلات کا ہے پر ہم بہادر اور نڈر بننے کی جاۓ کیوں اپنے رویوں میں بدالو نہیں لاتے۔ط

              ہم میں سے کوئی انسان اس بات کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ ہماری گلی سڑی کھوپڑیوں— لاشوں کا منظر بھی دہشت ناک ہے، ہمارے مرجھائے ہوئے دلوں—- لفظوں– تلخ لہجوں اور رویوں سے زیادہ وحشت ناک ہے——–!! سوچیں اس بات کو —–مکمل ہوش و ہواس—– اطمینان کے ساتھ۔

     اخر کار ہم خود کو سدھارتے کیوں نہیں— دوسروں کا غصہ ان کے بولے گئے بے معنی الفاظ کسی کو بھی جانے انجانے میں بول دیتے ہیں۔ بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ چیزوں کی توڑ پھوڑ سے ہماری بے چینی — ہمارا غصہ سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ کیا آپ میں سے کوئی ہے جو اس حقیقت پر اتفاق کرے۔ ہر گز نہیں—– ایک بات تو طے ہے کہ راویوں اور لہجوں میں تلخیاں—- لفظوں کا بولنا—- غصہ کرنا یہ سب تو ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔

                                اپنے اور دوسروں کے درمیان ہونے والی غلط فہمیاں—بدگمانیاں دور کرنے کی بجائے کیوں اتنی زیادہ حد تک بڑھاتے جا رہے ہیں۔

    ہمارے لہجوں میں تلخیاں کم ہونے کے بجائے آۓ روز بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ کچھ ایسے الفاظ جن کا وجود کبھی ہماری زندگی میں ہی نہیں ہوتا ہم ان کو سننے کے بعد وقتی طور پر نظر انداز تو کرتے ہیں لیکن—– یوں اچانک پلٹ کر ایک دن واپس کیسے آ جاتا ہے۔وہی چند الفاظ اچانک یاد آجائیں تو چبھنے لگتے ہیں کوئی بھی انسان کتنی بے باکی سے آپ کو چند الفاظ سنا کر چلا جاتا ہے — بولنے سے پہلے ایک دفعہ سوچتا شاید مجھے بھی تکلیف ہو گی۔

                                  لفظوں کے ساتھ بھی ہمارا تعلق انتہائی گہرا ہوتا ہے۔جیسے ماں باپ ک ساتھ ہمارا رشتہ بہت ہی پختہ ہوتا ہے۔ اسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ہم نے کبھی اپنے سخت الفاظوں—- تلخ رویوں پر غور وفکر کیا ہے—؟؟؟؟؟نہیں —- آخر —- ایسا کیوں–!!!

    تو آئیں ایک بہت ہی سادہ سی مثال سے اسے سمجھتے ہیں :::

                    "”””آۓ روز ہم بے شمار الفاظ استعمال کرتے ہیں جن میں thanks ,sorry, welcome, I love u سے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جب کوئی اجنبی آپ کو یہ الفاظ آ کر بولے تو کیا آپ فوراً اس کے قائل ہو جاتے ہیں۔نہیں——- ہرگز نہیں—–کچھ لوگ انھیں محض دکھاوے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ان کے پیچھے چھپی حقیقت کچھ اور ہی رنگ دکھاتی ہے۔

    ہمارے لیے ان سب الفاظ پر زندگی میں بھروسہ کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا کہ کوئی انھیں محض دکھاوے کے لیے استعمال کر رہا ہے یا سچ دل سے۔ کسی بھی انسان کے دماغ میں کیا چل رہے ہمیں بھلا کیا معلوم۔

            ہم جیسے لوگ الفاظ بولنا تو جانتے ہیں شاید ان کی قدر کرنا نہیں جانتے—– وہ بھی ہمارے لئے کتنے نایاب ہیں۔تو آئیں سماجی رویوں میں بڑھتی تلخیاں 

    کم کریں اور آپس میں ہونے والی دوریوں کا فرق مٹائیں— ایک دوسرے کی قدر کرنا سکھیں—- اوروں کو اذیت سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں——-!!!

    مناسب رویے اور الفاظ زیر استعمال لائیں۔

    اچھا رویہ اور خلوص تو ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ پھر ہم کیوں دوسروں کو مایوس کرتے ہیں اپنا تلخ رویہ اختیار کر کے۔

    @korai92

  • ورزش کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات :تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ورزش کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات :تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہماری مصروفیات کافی زیادہ ہوتی ہیں اور اُن مصروفیات کی وجہ سے ہم لوگ ذہنی طور پر بہت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور ہمارا ذہن بھی صحیح سے کام نہیں کر پاتا ، ہم لوگ اپنے روز مرہ کے کام اچھے سے نہیں کر پاتے۔ ایسے میں ہمیں ایک ایسی دوا کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں ذہنی سکون دے اور ورزش ہی وہ واحد چیز ہے جو ہمیں یہ سکون مہیا کر سکتی ہے۔ ورزش کے ہماری زندگی پر بہت مثبت اثرات ہیں اور روزآنہ کی بنیاد پر اگر ہم ورزش کریں گے تو ہم خود کو بہت چست اور توانا محسوس کریں گے۔ ورزش کی وجہ سے ہم جسم میں ایک عجیب سی طاقت کو محسوس کرتے ہیں اور کوئی بھی کام ہو ہم میں اسکو کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ورزش کے انسان کی صحت پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اُن پر بات کرتے ہیں۔
    اگر ہم ہر روز ایک مخصوص وقت پر ورزش کریں گے تو ہمارا وزن متوازن رہے گا اور موٹاپے جیسی بیماری سے نجات حاصل ہو جائے گی۔
    ورزش کی وجہ سے ہم بہت سی سنگین نوعیت کی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں جیسا کہ دل کی بیماریاں جو کہ آجکل بہت عام ہوتی جا رہی ہیں اُنکا خطرہ کم ہوتا جاتا ہے اور ہماری صحت پر بہت ہی اچھا اثر پڑتا ہے۔
    اسّی طرح شوگر کی بیماری بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگر ہم اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہ ورزش کو اپنا روز کا معمول بنانا ہوگا۔
    اگر کوئی کسی نشے میں مبتلا ہے جیسا کہ سیگریٹ وغیرہ تو ورزش کے ذریعے ان چیزوں سے بچا جا سکتا ہے۔
    اگر ہم ورزش کرتے ہیں تو ہماری ذہنی صحت اور رویہ بہت بہت اچھا ہو جاتا ہے کیوں کہ ورزش کے دوران ہمارا جسم کیمیکل کا اخراج کرتا ہے اور یوں ہم سکون محسوس کرتے ہیں۔
    اسکے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورزش سے ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں بڑا اضافہ ہوتا ہے ہم میں عمر کے ساتھ ساتھ مشکلات کو حل کرنے کے بہتر سے بہتر طریقے مل جاتے ہیں کیوں کہ ورزش سے ہمارا جسم پروٹینز اور دوسرے کیمیکلز کا خراج کرتا ہے جس سے ہمارا دماغ بہتر کام کرتا ہے۔
    آخر میں اہم چیز یہ ہے کہ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ کیسے بنایا جائے ؟
    اسکا سب بہتر حل یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے آگے بڑھا جائے اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارا جائے۔ ورزش کو فن کی طرح لیا جائے اور زیادہ پرجوش طریقے سے کیا جائے اس سے ہم آسانی سے ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
    TA: @AhtzazGillani

  • اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اللّه کریم رحمن و رحیم جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے جس نے ساری کائنات بنائی اور اس میں سے انسان کو اعلی مقام دے کر اشرف المخلوقات بنا کر پوری کائنات میں دیگر تمام مخلوقات میں فضیلت عطا فرمائی حضرت آدم علہیہ السلام کو تخلیق فرما کر ابو البشر بنایا اور اللّه پاک نے تمام فرشتوں کو انھیں سجدہ کرنے کو کہا تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی سواے ابلیس نے پس وہ مردود ہوا اور حکم ماننے سے انکار کیا تو ذلیل و خوار اور رسوا ہوا اور اسی طرح سے اس دن سے لے کر بہکانا شروع کیا اور آج تک بہکاتا آیا ہے تو اللّه تعالیٰ نے انسانوں کو راہ راست پے لانے کے لئے انبیا کرام کو کو نازل کیا جنہوں نے بھٹکے ہووں کو راہ راست پے لیا اور اللّه کی وحدانیت اور اللّه کے دین کی تعلیم دی اسی طرح سے یہ سلسلہ چلتہا یہاں تک کے ہمارے پیارے نبی پاک نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللّه علیہ وسلم تشریف لاے جو کے اللّه کے آخری رسول اور نبی ہیں آپ صلی اللّه علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلم ہو گیا ہے آپ صلی اللّه علیہ وسلم کی تعلیمات کو رہتی دنیا تک انسانیت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ قرار دیا گیا حضور پاک صلی اللّه علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضی اللّه عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین حق کی تبلیغ کی اور اسلام کو پھیلایا ان کے بعد دین اسلام کی تبلیغ کو اللّه کے نیک کامل بندوں نے سنبھالا اور لوگوں کو اللّه تعالیٰ اور حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین کی پہچان کرائی جس سے یہ نیک لوگ اولیا اللّه کے منصب پر فیض ہوے اور انہیں نیک بندوں کے بارے میں اللّه تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا کے انھیں نہ کسی بات کا خوف ہو گا نہ ہی کسی چیز کا ڈر ہو گا
    اللّه کریم کے یہ نیک صالح بندے اپنی عادت و اطوار میں حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور سنتوں پر سختی سے کاربند ہوتے ہیں برصغیر پاک و ہند میں انہی نیک صالح اولیا اللّه کی وجہ سے اللّه پاک نے اسلام کو طاقت بخشی جس کی وجہ سے یہاں اسلام غالب آیا کیوں کے اولیا اللّه کی آمد فتح سندھ کے ساتھ ہی شورع ہو گئی تھی اور نیک لوگوں کی محبت سے لوگ جوق در جوق دین اسلام کی طرف کھنچے چلے آے کیوں کے اس سے پہلے برصغیر اندھیروں بتوں کی پوجا اور کفر سے ڈوبا ہوا تھا بعد میں اسلام کی روشنی سے مالامال ہو گیا اور یہ سب اللّه کے نیک بندوں کی محبت سے پھیلای گئی تبلیغ کا نتیجہ ہے اور اس طرح اللّه کے کامل اور صالح لوگوں کے فیض سے ہر سو روشنی پھیل گئی اور برصغیر پاک و ہند اسلام کا مرکز بن گیا .
    اللّه پاک ہمیں سہی معنوں میں اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے اور پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام و امن کا گہوارہ بناے آمین…
    پاکستان زندہ باد

    ٹویٹر ہینڈل @Majidjampti

  • فاطمید فاؤنڈیشن؛ امید کی روشن کرن  تحریر: محمد بلال

     پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں خدمت ِ خلق کے جزبےسے سرشار ایک زندہ قوم بستی ہے۔ اسی جزبہ سے سرشارایک ادارہ فاطمید فاؤنڈیشن ہے جو تھلیسیمیا کے مریضوں کےلیے ایک امید کی روشن کرن ہے۔

    ٓآج میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد اس ادارہ کے متنظمین کی حوصلہ افزای کرنا ہے۔

     آئیے، جانتے میں کہ یہ ادارہ کیسے شروع ہوا ہے۔برٹو روڈ، کراچی، پاکستان کے ایک چھوٹے سےکمرے سے شروع ہونے والا یہ سفر آہستہ آہستہ سب سےبڑی رضاکارانہ صحت کی دیکھ بھال اور خون کی منتقلی کی خدمت میں داخل ہو گیا ہے جو ہر مہینے اپنے ہزاروں مریضوں کو ہزاروں بیگ صحت مند مکمل طور پر جانچنے والے خون اورخون کی مصنوعات فراہم کرتا ہے۔ (جن میں اکثریت بچےہیں) خون کے خوفناک امراض یعنی تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا اورخون کے دیگر امراض میں مبتلا ہیں۔آج فاطمید مراکز کراچی،لاہور، پشاور، ملتان، کوئٹہ، حیدرآباد، رشید آباد (ٹنڈو الہ یار)،خیرپور اور لاڑکانہ میں ہیں۔ قارئین، سب سے اہم موضوع یہ ہے کہ یہ وجود میں کیوں آیا؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز کی مناسب، موثر، محفوظ فری چارجز کی عدم موجودگی صحت کے نظام کا ایک اہم مسئلہ ہے جس کاآج پاکستان کو سامنا ہے۔پاکستان میں ممکنہ طور پر روکنے کےقابل زچگی کی بیماری اور اموات کے لیے خون کی منتقلی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ کینسر سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، رینل ڈائلیسس، رینل ٹرانسپلانٹیشن، کارڈیو ویسکولر بائیپاس سرجری، تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا، لیوکیمیا وغیرہ کے لیے خون کے انتہائی ماہر مراکز کی تشکیل، خون اور خون کی مصنوعات کی اس سے بھی زیادہ ضرورت کا باعث بنی ہے۔ایک اندازےکے مطابق، پاکستان کو روزانہ تقریبا، 8000 یونٹ خون کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ خون کی موجودہ دستیابی سے باہر نکلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیپاٹائٹس بی کے کافی زیادہ پھیلاؤ کی شرح کے ساتھ محفوظ خون کی جمع اور فراہمی مزید کم ہو گئی ہے۔اگرچہ ملک کے تمام علاقوں میں منظم سروے نہیں کیے گئےہیں، لیکن اندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریبا دس ملین لوگ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے وائرس سے متاثر ہیں، یہاں تک کہ پاکستان جیسے کم واقعات والے ملک میں بھی ایچ آئی وی انفیکشن پھیلنے کا خطرہ مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ خون اور خون کی مصنوعات کے ذریعے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس انفیکشن کی منتقلی، لہٰذا منتقلی کے لیے غیر متاثرہ ‘محفوظ خون’ کی مناسب فراہمی کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستان میں معاشی مسائل کےباوجود فاطمیدفاؤنڈیشن وہ ادارہ ہے جس کے تمام مراکز جدیدترین بلڈ اسکریننگ سسٹم سے لیس ہیں جو اعلیٰ معیار کی بلڈاسکریننگ کٹس کے ساتھ چل رہے ہیں۔فاطمید کے مریض(ان کی بڑی اکثریت بچے ہیں) غریب اور ضرورت مند ہوسکتے ہیں لیکن ان کے لیے خون کا محفوظ ترین معیار حاصل کرناانسانیت کا تقاضا ہے اور بلا شبہ ہونا بھی چاہیے۔ یقینا یہی طریقہ ہے، جس کے ذریعہ بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتاہے۔ واضح رہے،

    فاطمید فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو پاکستان میں رضاکارانہ طور پر خون کی منتقلی کی خدمات کا علمبردار ہے۔ یہاں تک کہ خون اور خون کی مصنوعات کی مقداری پیداوار کے لحاظ سے بھی، فاطمید فاؤنڈیشن پاکستان میں خون کی منتقلی کی خدمات کی برادری کی رہنما ہے۔بلڈٹرانسفیوژن سروس سینٹر میں خون کی خرابی کے مریضوں کےلیے خصوصی خدمات کی فراہمی پاکستان میں ایک نایاب واقعہ ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن آج کراچی، لاہور، پشاور، ملتان،لاڑکانہ، خیرپور اور رشید آباد (ٹنڈو الہ یار) میں اپنے مراکز کےذریعے ہر مہینے 8000 سے زائد تھیلوں سے صحت یاب خون اور خون کی مصنوعات اپنے رجسٹرڈ مریضوں کو منتقل کرتا ہےاور اللہ کے کرم سے یہ سلسلہ کرونا جیسے وبائی مرض کےباوجود جاری ہے۔ اللہ رب العزت انہیں اس کام کا اجروثواب دیں۔آمین یارب العالمین 

    @Bilal_1947