Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    حصہ اول۔

    وہ کون سے عوامل ہیں جو قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں؟ یہ جاننے کے
    لیے ہمیں ویت نام کی تاریخ میں جھانکنا ہو گا۔ویت نام کے دارالحکومت ہا نوئی
    میں گھومتے ہوئے ، آپ  ترقی کی جانب بڑھتے قدموں کی چاپ واضح طور پر سن سکتے
    ہیں ۔ لوگگاڑیوں میں گھومتے ہیں ، ان گنت چھوٹی دکانوں میں فون سے لے کر کھانے
    تک سب کچھ خرید و فروخت کرتے ہیں ، اور اسکول یاکام پر جانے کے لیے ادھر ادھر
    بھاگتے ہیں۔ ویت نام تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے آگے
    بڑھ رہا ہے۔  یہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ محض 30 برس پہلے ، یہ ملک دنیا کے
    غریب ترین ممالک میں سے ایک تھا۔ جہاں مہنگائی کی شرح 700 فیصد تھی، کسان بھوک
    سے مر رہے تھے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے سوویت یونین سے یومیہ 4 ملین
    ڈالر کی امداد لی جا رہیتھی۔

    45 برس قبل جب جنگ ختم ہوئی اور غیر ملکی افواج کا ویتنام سے انخلا شروع ہوا تو
     ہر طرف تباہی اور بربادی کی داستان رقم تھی۔تقریبا 20 سال طویل جاری رہنے والی
     جنگ جب ختم ہوئی توہر کوئی بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھا۔ طویل جنگوں کے بعد
    ملکیمعیشت اور انفراسٹرکچر تو تباہ ہوتا ہی ہے، لیکن افرادی قوت بھی بری طرح
    متاثر ہوتی ہے۔ جنگ بھی اتنی طویل جس میں ایکنسل جوان ہو جائے۔ کوئی نہیں جانتا
     کہ اتنی طویل جنگ دیکھنے کے بعد وہاں کے عوام کی نفسیاتی کیفیت کیا ہو گی۔ وہ
    دوبارہ سےاپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں گے کہ نہیں۔ تقریبا 20 لاکھ شہری اس جنگ
    کے دوران مارے گئے،  دو لاکھ فوجی اس کے علاوہتھے۔ تقریبا ڈھائی ملین افراد نے
    فلپائن، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں پناہ لی۔

    ویت نام میں تاریخ کی سب سے زیادہ بمباری ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم میں 2.1 ملین ٹن
     کے مقابلے میں 6.1 ملین ٹن سے زیادہ بمگرائے گئے۔ 3 امریکی طیاروں نے 20 ملین
    گیلن جڑی بوٹی مار دواؤں کو ویت کانگ کے چھپے ہوئے مقامات کو ناکارہ بنانے کے
    لیےاستعمال کیا۔ جس نے 5 ملین ایکڑ جنگل اور 500،000 ایکڑ زرعی زمین کو ختم کر
    دیا۔

    یہ جنوب مشرقی ایشیائی قوم ایک درمیانی آمدنی والا ملک کیسے بنی؟ جب 20 سالہ
    ویت نام جنگ 1975 میں ختم ہوئی تو ویت نام کیمعیشت دنیا کی غریب ترین معیشتوں
    میں سے ایک تھی۔  1980 کی دہائی کے وسط تک ، فی کس جی ڈی پی $ 200 اور $ 300 کے
    درمیان پھنس گیا تھا۔ لیکن پھر سب کچھ بدل گیا۔

    ویت نام کی کامیابی کی کہانی 1986 کی Doi Moi ("rejuvenation”) اصلاحات سے شروع
     ہوتی ہے۔ اس ماڈل کے تحت ابتدائیطور پر زیادہ توجہ تعلیم کے شعبہ کو دی گئی.
    ویتنام کی حکومت نے ابتداء ہی میں یہ حقیقت جان لی کہ کوئی بھی ملک صحیح معنوں
    میںمستقل ترقی کا خواہش مند ہے تو اس کو سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام میں
    اصلاحات کرنا ہونگی۔ یہی وجہ ہے کہ طویل جنگ سےنبردآزما ہونے والا ملک ویتنام
    بھی ہم سے ترقی کی راہ میں بہت آگے نکل گیا کیونکہ انھوں نے جنگ کے بعد معاشی
    اور تعلیمیاصلاحات پر زور دیا۔

    یہاں کی آبادی  آج 95 ملین ہے ، جن میں سے نصف 35 سال سے کم ہیں۔ بڑھتی ہوئی
    آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئےیہاں کی حکومت نے پرائمری تعلیم میں بڑے
    پیمانے پر عوامی سرمایہ کاری کی۔ کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب ملازمتوں کی
    بڑھتیہوئی ضرورت بھی ہے۔ ویت نام نے بنیادی ڈھانچے میں بھی بہت زیادہ سرمایہ
    کاری کی ، جس سے انٹرنیٹ تک سستے پیمانے پررسائی کو یقینی بنایا گیا۔ ویتنام
    میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں تعلیم کا بجٹ
     20 فیصد ہے۔

    معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے ویت نام کی حکمت عملیوں میں سے ایک اس کے تعلیمی
    نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا
    ذریعہ نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جس کو صنعتی نظام کے ساتھ
    منسلک کیا جا سکے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہو۔

    ویت نام کی حکومت انگریزی زبان کی تعلیم، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے
    اور آسٹریلیا ، فرانس ، امریکہ ، جاپان اور جرمنیجیسے ممالک کے ساتھ تبادلے کے
    لیے کوشاں ہے۔ حکومت بیک وقت ویت نام میں غیر ملکی طلباء اور محققین کی تعداد
    بڑھانے کیکوشش میں مصروف عمل ہے۔

    مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ، جس کا
    بنیادی مقصد جدید صنعت اور سرمایہ کاری کیصلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس منصوبے
    کو DRV ماڈل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس نے صنعتوں کو پیداوار کے حجم کوبڑھانے
    کی ترغیب دی۔ ریاست نے سبسڈی کے ذریعے کسی بھی نقصان کو پورا کیا۔ انڈسٹری نرم
    بجٹ کی پابندی کے تحت چلائیگئیں ۔ ریاست نے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا۔
    کمپنیوں کو پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف قسم کی مفت گرانٹ دی گئی،
    جنہیں کیپٹل اسٹاک میں اضافے کے طور پر محسوس کیا گیا۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور یوں دنیا بھر کی بڑی بڑی معاشی قوتوں کو تگنی کا ناچ نچانے والی مہلک بیماری کورونا وائرس میں کمی ہونے لگ گئی، حالات معمول پر آنے لگے، کاروباری سیکٹرز میں لگی پابندیاں ختم تو مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معاملات کو بھی کورونا سے پہلے کی زندگی پر بحال کرنے کی کوشش شروع ہوچکی، ساری صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تعلیمی سیکٹر کو بھی مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا گیا وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں این سی او سی اجلاس کے بعد فیصلوں میں سب سے اہم فیصلہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے ہوا اور ہفتے میں تین روز کلاسز کی چھوٹ کو ختم کرتے ہوئے پرانی روٹین کو بحال کر دیا گیا وجہ پوچھی گئی تو کہا گیا کہ کورونا کی صورتحال اب قدرے بہتر ہوچکی، کل سے اب تک کا بھی جائزہ لے لیں تو محض 26 افراد ہی موت کے منہ میں گئے حالانکہ ایک وقت بھی ایسا بھی پاکستان نے دیکھا کہ جب ایک ہی دن میں 300 افراد بھی جان سے گئے اس کے علاوہ نئے کیسز کو بھی دیکھا جائے تو کل سے اب تک 912 شہری کورونا کی گرفت میں آئے جبکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملک میں 6 ہزار سے بھی زائد یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے، مجموعی طور پر صورتحال کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں ٹوٹل ایکٹو کیسز کی تعداد 43 ہزار 658 ہوچکی تاہم ٹیسٹوں کہ صلاحیت میں روز بروز اضافہ کرنے کی کوشش جاری ہے جو کہ کامیاب بھی ہوچکی ملک میں گزشتہ ماہ ایک ہی روز میں 70 ہزار سے زائد ٹیسٹ بھی کیے گئے لیکن چونکہ بیماری کی شدت میں کمی آگئی اور پریشر بھی کم ہوتا نظر آرہا تو شہریوں کی جانب سے ٹیسٹ کروانے کا رجحان بھی قدرے کم نظر آرہا کل سے اب تک 45 ہزار 610 افراد نے ہی کورونا ٹیسٹ کروائے، وفاقی وزیر سمیت پورے این سی او سی کو کم ہوتا کورونا کیوں نظر آیا اس کا سارا کریڈٹ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ویکیسن کی تعداد پر ہے، ویکسینٹڈ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو بھی کیوں نہ حکومت نے ٹرانسپورٹ سے لیکر سرکاری دفاتر اور بڑے شاپنگ مالز تک بغیر ویکسین داخلے پر جو پابندی عائد کر دی، اب حالات یہ ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر 1 ملین سے زائد شہریوں کو کورونا ویکسین لگائی جارہی ہے این سی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ایک روز میں11 لاکھ 90 ہزار 424 افراد ویکسین کی سہولت سے مستفید ہوسکے جبکہ اب تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 77 لاکھ 41 ہزار 79 شہری کورونا ویکسینیشن کروانے کے بعد خود کو جان لیوا وبا سے محفوظ بنا چکے، حکومت 80 سال سے شروع ہوکر اب 12 سال تک کے ننھے شہریوں کو بھی کورونا ویکسینیشن سہولت فراہم کرتی نظر آتی ہے جس کے لیے سکولز کی سطح پر خصوصی ٹیمز پولیو کی مانند بچوں کو ٹارگٹ کرتی نظر آرہی ہیں بظاہر لگ رہا کہ حکومت کورونا سے کامیابی سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئی اور زندگی دوبارہ سے اپنے خوبصورت رنگوں کو سمیٹنے کی راہ پر چل نکلی ہے لیکن رکیے!!! ابھی خطرہ ٹلا نہیں بس نام بدل گیا، ایک اور پرانی جان لیوا بیماری موسم کی کروٹ بدلتے ہی لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے آچکی، ڈینگی وائرس سے کئی افراد جاں کی بازی بھی ہار چکے اور متاثرین کی تعداد اتنی ہے کہ سرکاری ہسپتال میں مزید داخلوں کو بند کر دیا گیا ہے لیکن امید ہے اس پر حکومت قابو پاسکے گی جیسے عالمی وبا کورونا وائرس پر گرفت مضبوط کی جاچکی ہے

  • وکیل اور خدمت تحریر:عابد حسین رانا

    @AbidRana876
    آج ہم ذکر کریں گے ممتاز قانون دان عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا آپ کا شمار وزیرآباد اور گردونواح کے اعلیٰ ترین وکلاء میں ہوتا ہے
    عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا تعلق وزیرآباد محلہ کانواں والا کے متوسط کاروباری شخصیت حاجی فیروز دین مرحوم کے گھرانے سے ہیں جو ان کے دادا تھے
    آپ کی پیدائش 14 مارچ 1974 کو میں ہوئی آپ کا تعلق آرائیں برادری سے ہے
    میٹرک تک تعلیم پبلک ہائی اسکول وزیرآباد سے حاصل کی ایف ایس سی FSC مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج وزیرآباد سے کیا بعد ازاں بی کام b.com اور ڈی سی ایم اے DCMA ایم اے MA پنجاب یونیورسٹی لاہور اور بی بی اے BBA علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کرنے کے بعد ایل ایل بی LLB کی ڈگری لاء کالج پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی آپ تعلیم کے ساتھ سپورٹس مین بھی تھے اچھے فٹبالر ہونے کی وجہ سے دورانِ تعلیم وزیرآباد کی تھری سٹار فٹبال کلب اور لاء کالج پنجاب یونیورسٹی کے کپتان بھی رہے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد فوجداری وکالت کا آغاز آفتاب احمد باجوہ سابقہ سیکرٹری سپریم کورٹ آف پاکستان کے آفس میں ہی سال 2000 سے کیا ایک سال تک ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد لاہور ہی میں اپنا ذاتی آفس بنا کر وکالت شروع کی تقریباً 7 سال لاہور میں وکالت کے بعد نومبر 2006 میں واپس وزیرآباد آ کر مدینہ مارکیٹ میں آفس بنا کر وزیرآباد میں باقائدہ وکالت شروع کی اور دو تین سال کے اندر ہی تحصیل وزیرآباد کے فوجداری وکلاء میں ایک الگ مقام حاصل کیا سال 2010/2011 میں بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے سیاست میں قدم رکھا تو ابتدائی دنوں میں تحریک انصاف کے سیکرٹری اور بعد میں تحصیل صدر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے مگر وکالت میں مصروفیت کی وجہ سے لوکل سیاست کو خیر باد کہہ دیا آپ نے مشہور مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے لاہور راولپنڈی گوجرانولہ گجرات نوشہرہ ورکاں میں فرائض سر انجام دیئے حال ہی میں گوجرانولہ بار کونسل کا الیکشن لڑا اور اب تک وزیرآباد میں الیکشن لڑنے والوں میں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیئے اس وقت وزیرآباد گوجرانولہ اور لاہور ہائی کورٹ میں یکساں مصروف ہیں آپ نے 300 سے زائد 302 کے مقدمات کی پیروی کی اور ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا وزیرآباد اور گردونواح کی اعلیٰ شخصیات کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے ان کے کیسسز کی پیروی عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ ہی کریں

  • اگر کوئی پوچھے کہ میلاد منانا کہاں لکھا ہے تُو اس سے کہو ہماری قسمت میں  تحریر محمد کاشف وارثی

    اگر کوئی پوچھے کہ میلاد منانا کہاں لکھا ہے تُو اس سے کہو ہماری قسمت میں تحریر محمد کاشف وارثی

    ہماری استاد فرماتے ہیں 

    کے اگر ساری ذندگی اس بات پر شکر ادا کرتے رہیں کے اپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم   دنیا میں تشریف لائے اور ہماری نجات بنے تو بھی کم ہے میں دیکھتا ہوں جدید انسان نے اس میں بھی کمی کر دی نہ درود نہ دعا میں سمجھتا ہوں اس وقت بہت عقیدت سے منانا چاہیے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد مبارک تاکہ جو ناپاک لوگ اپ کے خاکے بنانے کا سوچتے ہیں ان کو لگ پتہ جائے کے مسلم اج بھی سب سے ذیادہ محبت اپنے اخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں اور ہر وقت مر مٹنے کے لیے تیار ہیں 

    جو بھی مانگا وہ ملا ان کے کرم کے صدقے 

    ذندگی جتنی بھی باقی ہے ان کے قدموں میں گزر جائے دعا کرتے ہیں 

    ایک نعت کا شعر 

    ملتی نہ اگر بھیک خضور اپ کے در سے 

    اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نیں ہوتے 

    یہ ناز یہ انداز ہمارے نیں ہوتے 

    جھولی میں اگر ٹکرے تمارے نیں ہوتے 

    اپ سب کو یاد ہوگا کے جب میلاد کا مہنہ اتا تو ہر طرف روشنیاں ہوتی 

    بارہ ربیع اول کی تیاریاں ہوتی تھیں اب دیکھنے میں اتا ہے کے لوگ ازادی کا مہنہ اور باقی ایونٹ تو بڑے جوش سے مناتے ہیں مگر اس طرف بس محفل میں چلا گیا اور نعتن سن لیں بس فرض ادا ہوگیا 

    مجھے لگتا ہے نوجوانوں میں اس بات کو دوبارہ ذندہ کرنا ہوگا 

    مجھے یاد ہے جب ہم جھوٹے تھے تو ہمارے بڑے ہمیں ساتھ لے کے جاتے میلاد شریف کے جلوس میں مگر اب وہ چیزیں کم دیکھائی دیتی ہیں 

    جہاں تک بات مجھے سمجھ لگتی ہے کے اب لوگ اپنے بچوں کی دنیاوی تعلم کے لیے تو ٹیوشن اور اچھے سکول دیکھتے اور ساتھ ساتھ چیک بھی کرتے ہیں کے بچہ سہی جا رہا کے نیں مگر دینی تعلم کی طرف توجہ کم ہے میں پڑی لکھی ماوں سے کہنا چاہتا ہوں پلز خدا رہ اس طرف بھی تھوڑی توجہ کریں  خدا کی قسم ہماری مائیں اتنی پڑی نیں تھیں مگر سپارہ پڑنے لازمی بھجتی تھیں نعتیں سنتی تھی خاص کر کے جمعہ والے دن ہم مسجد جاتے اور اماں گھر میں نعت سنتی جب جمعہ پڑ کے اتے تو گھر سے انعام ملتا اور وہ شوق اج بھی سلامت ہے کریم اللہ یہ شوق سلامت رکھے 

    اپنے گھروں کو سجائیں بچوں کو سمجھائیں کے اگر ہم اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اتنی اچھی منائیں تو اس بڑی اور پاک خوشی کو بھی اعلی انداز میں منائیں 

    میں کسی مذہبی بعث میں نیں پڑنا چاہتا بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کے سب مل کے سرکار کی امد پر درود شریف کی محفلیں سجائیں نعتیں پڑیں جس طرح اج کل کے فتنے نکل رہے ہیں ہم کو ہر طرح سے اپنی نسلوں کو یہ عشق کی روشنی دے کر جانی چاہیے ورنہ خدا نہ کرے جس طرح اجکل نوجوان دین سے دوری رکھے ہوئے ہے یہ لوگ نعت گوئی اور درود شریف کی محفل سے دور نہ ہو جاہیں 

    ایک نعت میں ہے

    بے دام ہی بیک جاوں میں بازار نبی میں 

    اس شان کے سودے میں خسارے نیں ہوتے 

    اے رب ذولجال ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا عشق عطا فرمائے کریم اللہ ہماری انے والی نسلوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی لذت عطا فرمائے 

    وسلام

  • اللہ خالق و مالک کی پہچان تحریر : ذیشان رشید راشدی

    اللہ خالق و مالک کی پہچان تحریر : ذیشان رشید راشدی

    اللہ تعالیٰ واحدہ لا شریک ذات ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔ اللہ تعالٰی ازل سے ہے  ابد تک رہے گا۔ اس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔ اس میں زمین کا فرش بچھایا ، پہاڑوں کی میخیں لگائیں اور آسمان کی نیلی چھت بنائی ۔ چرند پرند ، مویشی ، انسان ، جنات اور ایسی مخلوقات کی خلقت فرمائی جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے ۔ کائنات کی تمام مخلوقات اس کی عبادت کرتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات  کو پیدا کیا تو ان کی پیدائش کا مقصد اپنی عبادت کو ٹھہرایا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے آخری نبی خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے سینہ اطہر پر نازل ہونے والی آخری اور حتمی  کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں  

    وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

    اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔

    الذاريات : 56

    اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اور بھی بہت سے مقامات پر اپنی عبادت کا حکم دیا ہے جن میں سے چند ایک آیات یہاں درج کی جاتی ہیں 

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

    اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔

    البقرة : 21

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمھیں عطا فرمائی ہیں اور اللہ کا شکر کرو، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔

    البقرة : 172

    وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا

    اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔

    النساء : 36

    قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ قُلْ لَا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ

    کہہ دے بے شک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کہہ دے میں تمھاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا، یقینا میں اس وقت گمراہ ہوگیا اور میں ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں۔

    الأنعام : 56

    إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ

    بے شک جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔

    الأعراف : 206

    زمین اور آسمان کی تخلیق کے بارے میں خالق کائنات نے فرمایا 

    إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

    بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی سفارش کرنے والا نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد، وہی اللہ تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو۔ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

    يونس : 3

    اللہ خالق و مالک نے انسان کو دو راستے دکھائے اور ان کا انجام بھی بتایا ۔ اللہ نے بتایا کہ اگر نیکی کے راستے پر چلو گے تو تمہارے لیے اللہ کے ہاں جنتیں ہیں جہاں لازوال نعمتیں ہوں گی۔ اور اگر برائی کے راستے پر گامزن ہو جاؤ گے تو تمہارے لیے دوزخ کا دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے ۔ 

    ارشاد باری تعالیٰ ہے 

    وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

    اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

    البقرة : 82

    جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی کامیابی قرار دیا ہے 

    اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا 

    كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ

    ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور تمھیں تمھارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے، پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔

    آل عمران : 185

    وہ لوگ جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کو نہیں مانتے اس سے اعراض کرتے ہیں ان کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہنم کا درناک عذاب تیار کیا ہوا ہے 

    اللہ مالک کائنات نے قرآنِ حکیم فرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا 

    قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ

    ان لوگوں سے کہہ دے جنھوں نے کفر کیا کہ تم جلد ہی مغلوب کیے جاؤ گے اور جہنم کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

    آل عمران : 12

    اللہ تعالٰی کی معرفت کا حاصل کرنا ایک انسان خصوصاً مسلمان کے لیے لازم ہے ۔ اگر کائنات اور اس کی وسعتوں ، چرند پرند ، جانوروں اور انسانوں کو تفکر اور تدبر سے دیکھا جائے تو خالق اور مالک کی پہچان ہوجاتی ہے کہ کوئی تو ذات ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور وہ ذات اللہ وحدہ لا شریک ذات ہے‍ ۔ اللہ کی حمد و ثناء لکھنے کے لیے اگر سارے سمندروں کو سیاہی بنادیا جائے اور تمام درختوں کی قلمیں بنادی جائیں تو پھر بھی اس پروردگار کی تعریفیں اور حمد و ثناء ختم نہیں ہوتی ۔ 

    اس بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمایا ہے 

    قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا

    کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔

    الكهف : 109

    وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

    اور اگر ایسا ہو کہ زمین میں جو بھی درخت ہیں قلمیں ہوں اور سمندر اس کی سیاہی ہو، جس کے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی، یقینا اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔

    لقمان : 27

    ( ترجمہ از تفسیر القرآن الکریم حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ )

  • لاک ڈاؤن اور  طلباء پر اس کے اثرات تحریر: تیمور خان

    لاک ڈاؤن اور طلباء پر اس کے اثرات تحریر: تیمور خان

    @ImTaimurKhan

    لاک ڈاؤن ، ایک بار پھر! یہ سب 2019 میں شروع ہوا جب ہمارا طرز زندگی ایک وسیع وائرس کی وجہ سے بیرون سے مکمل طور پر انڈور میں بدل گئی اور اس وائرس کو آج COVID-19 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہماری زندگیاں بورنگ اور اندرونی سرگرمیوں کا شکار ہوئیں کیونکہ حکومتوں نے لاک ڈاؤن اور ایس او پیز کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت یہ سب کچھ ضروری معلوم ہوتا تھا لیکن اب تک 2021 تک ویکسینیشن جاری ہے اور لوگوں کو وائرس کے بارے میں مکمل آگاہی ہے اب یہ مکمل طور پر بیکار لگتا ہے اور سب سے بڑی ، سب سے بڑی بے معنی بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن صرف تعلیمی اداروں تک محدود ہے کھلا ہے. لوگ سڑکوں پر آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایس او پیز پر کوئی مناسب عمل درآمد نہیں کیا جا رہا لیکن تعلیم کا شعبہ بند ہے۔

    کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے تعلیمی ادارے حکومت کے حکم پر 4 ستمبر سے 13 ستمبر تک بند رہنے والے ہیں لیکن جب میں اپنے گھر سے باہر نکلتا ہوں تو مجھے کوئی لاک ڈاؤن اور بیماری کی شدت نظر نہیں آتی ابھی تک تعلیمی ادارے بند ہیں۔ تعلیم کیوں قابل خرچ ہے؟ طلباء آن لائن تعلیمی نظام سے تباہ ہو چکے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے کمیوں اور وقت کے ضائع ہونے سے بھرا ہوا ہے۔ بڑی تعداد میں طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں جو مسلسل اپنی کلاسوں سے محروم رہتے ہیں جو ان کی 4 یا 5 سال کی پیشہ ورانہ تعلیم میں بہت بڑا خلا پیدا کرتے ہیں۔ اساتذہ اور طلباء کے مابین ایک بہت بڑا تکنیکی خلا موجود ہے۔ اساتذہ ان ٹیکنالوجیز سے واقف نہیں ہیں جو ذہنوں میں مناسب علم کی فراہمی میں ناکامی کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے وقت ، وسائل اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔

    حال ہی میں ، امتحانات ہوئے اور طلباء سب اپنے نئے سالوں اور سمسٹروں کے لیے پرجوش ہیں لیکن آن لائن تعلیم کے اسی تباہ کن طریقے سے ان کا آغاز کرنا ہمارے تعلیمی سالوں کو شروع کرنے کا بہترین طریقہ نہیں ہے۔ طلباء اپنے مستقبل اور اپنی تعلیم کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہو رہے ہیں کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں پہلے ہی کم عملیت تھی اور آن لائن نظام نے بھی اسے دور کر دیا۔

    لہذا ، طلباء تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں گویا صورت حال اتنی ہی خراب تھی جتنا کہ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیگر تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سنجیدہ اقدامات کیے جاتے۔ اور اگر یہ اتنا ہی برا ہے جتنا کہ وہ کہتے ہیں تو اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلباء کے لیے بھی ورکشاپس ہونی چاہئیں تاکہ اس تکنیکی خلا سے نمٹا جاسکے اور آن لائن تعلیم کو بہتر بنایا جاسکے اور اس کے لیے قابل وقت نظام خرچ کیا جائے۔ سکولوں اور کالجوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ عام طور پر کام کرنے کے لیے تاکہ طلباء معمول کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں۔

  • سب زبانیں محبت کی ہیں تحریر: محمد تنویر

    سب زبانیں محبت کی ہیں تحریر: محمد تنویر

    یہاں بات ہورہی تھی کہ دراصل عاصمہ جہانگیر پر بولنے کے لیے آئی اے رحمان صاحب کو آنا تھا۔ تو شاید وہ عاصمہ کے حوالے سے اور انسانی حقوق کے حوالے سے اور زبانوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار جس پیمانے پر بھی کرتے وہ تو ناممکن ہے لیکن ظاہر ہے کہ میں بھی چاہوں گی کہ اس سوچ کے گرد بات کر سکوں۔ مجھے خیال آیا کہ واقعی آئی اے رحمان صاحب کو اس جگہ بلانایوں بھی ضروری ہے خاص طور پر اس ملک میں جہاں انسانی حقوق کاز بانوں کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن اس وقت ہم پاکستانی معاشرے کو جس طرح دیکھ رہے ہیں جو شہبیہ ہمارے سامنے ابھر کر آرہی ہے اس میں ہم لوگوں کو مختلف حصوں میں بٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں اگر ہم کاٹنا شروع کر دیں میں لفظ کاٹنا جان بوجھ کر استعمال کر رہا ہوں۔

    لیکن اگر آپ اس کو باند ھنا شروع کر دیں تو وہ باقی کتنا بچتا ہے۔ کسی کو زبان کی بنیاد پر کاٹا جاتا ہے پھر مذہب کی بنیاد پر کاٹا جاتا ہے، پھر فرقوں کے حصے سے کوئی کٹتا ہے ۔ پھر سیاسی سوچ اور اختلاف کی وجہ سے وہ کٹتا ہے تو انسان باقی اتنا زراسا بچ جاتا ہے۔ اس معاشرے میں جو اتناسا انسان بچ جاتا ہے اگر اس کے حقوق کی ہم بات کر رہے ہیں آج اس کو جس طرح سے دیکھ رہے ہیں انسان کو پیروں تلے کچلنا بھی بہت آسان ہے انسان کو زندہ جلا دینا بھی بہت آسان ہے سب کچھ بہت آسان ہے۔ گولی و غیر ہ تو کوئی چیز ہی نہیں ہے پھر یہی انسان اس کو اور بھی باٹنا شروع کریں تو یہ عورت اور مرد میں بھی بٹ جاتا ہے، یہ بٹا کٹا، باقی بچا ہوا تھوڑا سابچ گیا انسان ہے ۔

    اس تھوڑے سے بچ گئے انسان کو اگر دوبارہ سے تخلیق کرنا ہے تو ہمیشہ سے میری سوچ یہ رہی ہے، میرا یقین یہ رہا ہے کہ انسان دو بار تخلیق ہوتا ہے ایک بار جب وہ پیدا ہوتا ہے اور تخلیق ہو کر دنیا میں آتا ہے اور دوسری بار جب وو خود کو دوبارہ تخلیق کرتا ہے۔ اور جب وہ دوبارہ خود کو تخلیق کرتا ہے تو وہ تنہا خود کو تخلیق نہیں کرتا ہے، اپنے ساتھ کئی انسانوں کو اپنے ارد گرد کے کئی انسانوں کو وہ ری کریٹ از سر نو تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

    سچی بات تو یہ ہے کہ ان ساری چیزوں میں زبان ایک ہے۔ وہ ہے محبت کی زبان۔ انسان کی انسان سے محبت کی زبان۔ ڈیپنڈ کرتا ہے کہ اظہار کرنے والا جس کے سامنے محبت کا اظہار کر رہا ہے اس کی زبان کیا ہے میں اگر سامنے والے انسان سے بلا تفریق محبت کا اظہار کرتا ہوں تو مجھے اس سے غرض نہیں ہونی چاہیے کہ وہ میرا ہم زبان ہے کہ نہیں۔ ڈپینڈ کرتا ہے کہ ہم دے کسے رہے ہیں سو بنیادی طور پر ہماری زبان محبت کی ہے مگر اس محبت کی زبان کو زندہ رکھنے کے لیے جو زبان کا معاملہ آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کی زبان کا احترام کیا جاۓ ،ایک دوسرے کی زبان کو تسلیم کرنا۔

    پاکستان میں زبانوں کی بنیاد پر بڑے مسائل کھڑے ہوئے۔ اور ہم نے تو سندھ میں بیٹھ کر دیکھا ہے بڑے جھگڑے ہوئے ہیں، بڑی کشمکش ہوئی ہے بڑا اضطراب رہا ہے۔ بڑی ان سیکورٹی رہی ہے بڑے سوالات اٹھے ہیں۔ ۷۰ سال اس ساری کشمکش سے گزر کر آج جب ہم دیکھتے ہیں تو بات وہیں آکر رک گئی ہے کہ محبت کی کمی ہے۔ ورنہ اردو ایک عالی شان زبان ہے

    سندھی ایک کمال کی زبان ہے اور اسی طرح باقی تمام زبانیں جو ہیں وہ اپنے اپنے اندر اپنے اپنے اظہار کا کمال رکھتی ہیں لیکن ۷۰ سال کے بعد پتہ چلا کھویا کیا کھوئی محبت کھویا کیا انسان کی انسان سے محبت انسان کا انسان کے لیے احترام انسانی حقوق کا احترام، زبانوں کا احترام کھودیا۔ آج ہم وہاں سندھ میں بیٹھ کر بھی کم سے کم میرے جیسے کچھ لوگ اور، ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم اس محبت کو جو زبان کی بنیاد پر اس کشمکش میں کھو گئی دوبارہ زبانوں کے احترام کے ساتھ حاصل کر سکیں۔ اور ہم دوبارہ آپس میں اسی طرح جڑ سکیں۔

    اسی طرح پورے پاکستانی معاشرے کو صوبائی سطح پر شہر شہر ہر سطح پر اس سماج کی جو کشمکش ہے جو اضطراب ہے، جو زہر ہے جو نفرت ہے اس وقت ہم جو ابال دیکھ رہے ہیں اس کے لیے ہمیں محبت کی زبان سیکھنا پڑے گی اور زبانوں کا احترام کر نا پڑے گا۔ وہ زبان جس میں اظہار راۓ ہو رہی ہے۔ وہ زبان جس میں سوال اٹھایا جارہا ہے۔ وہ زبان جس میں جواب دینا ہے ان ساری زبانوں کے امتزاج کے ساتھ اس سوسائٹی کا بد نما چہرہ شاید آپ سب ہم سب اپنی اپنی سوچ رکھنے والے، اپنی اپنی سوچ کے مطابق کام کرنے والے شاید اس کو دوبارہ خوبصورت کر سکیں

    بہت حساس موضوع ہے مادری زبان میں ابھی یہ اعداد وشمار دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ یہ دھرتی جہاں پاکستان ہے یہ پوری دھرتی مادری زبانوں سے بھر پور اور آباد دھرتی۔ جہاں کی مائیں اپنے بچوں کے ساتھ اپنی اپنی زبانیں بولتی رہی ہیں۔ اس دھرتی کی اچانک ایک باہر کے شخص کے ساتھ شادی کر دی گئی اور کہا گیا کہ اب یہ زبان بولو حاکموں کی زبان بولو، اور یہاں کی مادری زبانوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا اور ایک بہت ہی خوبصورت زبان اردو زبان۔ اس کو حکمرانوں کا لبادہ اوڑھا کر کھڑا کر دیا گیا کہ صاحب کو سلام کرو۔ اور اس کے بعد اختلافات، تضادات، تلخیوں اور یہ ساری کشمکش شروع ہو گئی۔ حالانکہ ہم دنیامیں دیکھتے ہیں، ہندوستان کو اپنے قریب دیکھتے ہیں کہ اپنی علاقائی زبانوں مادری زبانوں ، قومی زبانوں ان سب پر بڑا فخر کیا جاتا ہے، بڑی ترویج کی جاتی ہے

    لیکن جیسے کہ ڈاکٹر طارق رحمان صاحب کہہ رہے تھے کہ اگر یہ اجلاس کسی اور علاقے میں ہورہا ہوتا بد نصیبی سے حاکم کو سلام کرنے کی خاطر جس طرح زبانوں کو یہاں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ اس میں اب جو صور تحال سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جیسے بہت سی زبانیں وجود ہی نہیں رکھتی ہیں۔ اس دھرتی کے اوپر ان کا ذکر ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ان زبانوں میں لکھے جانے والے ادب کا نہ ترجمہ ہوتا ہے نہ اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ 

    بڑے بڑے لٹریری فیسٹول ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت کی وہاں موجود گی ہوتی ہے، وہ انوائٹیڈ نہیں ہوتے ہیں یہ وہ سب چیزیں ہیں جو اردو زبان اور باقی لوگوں کی قومی زبان کی درمیان فاصلے کے طور پر بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ یہ بہت اچھی کوشش ہے۔ ایسا پلیٹ فارم ضروری ہے اور اچھا ہے کہ یہ حکمرانوں کے بیچ ان کے صحن میں اس طرح کا میلہ منعقد کیا جاۓ، جس میں مادری زبانوں سے محبت کرنے ان کی اہمیت کو سمجھنے والے وہ تمام لوگ موجود ہوں جو ان پر کام کرتے ہوں انہیں بولتے بھی ہیں اور ان میں لکھتے بھی ہیں

    ٹوئٹر اکاؤنٹ @GoBalochistan

  • بلاتصوّف تحریر: ثناءاللہ محسود.

    خود ہی کی میں نے لگا کے بولی،

    خود ہی کی میں نے لگا کے قیمت،

    ہر ایک کو میں یہ کہہ رہا ہوں،

    ہائے رے دنیا بڑی بری ہے۔۔

    پچھلے دنوں اچانک میری نظروں کے سامنے پاکستان ٹیلی ویژن کے کسی پرانے ڈرامے یا کسی پروگرام کی تصویری جھلکیاں گذریں،جھلکیاں اتنی مختصر تھیں کہ پتہ نا  لگا سکا کہ کونسا ڈرامہ ہے اور اگرچہ کوئی پروگرام ہے تو نام کیا ہے اس کا،مگر ان مختصر سی جھلکیوں نے میری سوچ و فکر کے زاویے بدل ڈالے ،جیسے مجھے اپنا آپ پہچاننے کا یا اپنا احتساب کرنے کا سبق مل گیا اس مختصر سی جھلکیوں میں چند طالب علم اپنے اک عمر رسیدہ استاد سے سوال کر رہے تھے، وہ صرف سوال نہیں تھے زندگی کا مطلب تھا ان سوالوں میں جن کے جوابات وہ عمر رسیدہ استاد دے رہے تھے ایک طالب علم نے سوال کرتے ہوئے اک کہا کہ ماسٹر صاحب یہ تصوّف ہے کیا چیز؟؟

    ماسٹر صاحب نے اپنی عمر کے حساب سے بہت ہی بختہ انداز میں جواب دیتے کہا، اپنے اخلاق سنوارنے اور بہتر انسان بننے کا نام تصوف ہے ورد وضیفہ تو اس کا سہارا ہے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ذکر و وضائف کرنے سے سارے معاملات طے ہو جاتے ہیں ان بیچاروں کو کوئی سمجھاتا ہی نہیں کہ معاملات اور اخلاق کی درستگی کے بغیر وضیفے کاٹ نہیں کرتے یعنی اثر نہیں کرتے۔بس اسی ناسمجھی کی وجہ سے لوگ محروم رہتے ہیں”۔

    ماسٹر صاحب کے اک سوال کے جواب نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتا رہا ساتھ پڑی تسبیح کو غور کرتا رہا مجھے میری عبادت اور جگ میں نیک پرستی پہ ترس آنے لگا جی میں وہ ہی انسان ہوں جو ہر گھر ہر جگہ ہر اٹھتی نگاہ میں ملے گا۔بلکل میں ہی ہوں وہ آج کا انسان جو تصوّف سے کوہ سو دور ہے،میں زمانۂ موجود کا ایسا انسان ہوں جس میں اخلاق کے نام پر چاپلوسی عبادت کے نام پر دکھاوہ ،محبت کے نام پہ نفس کی غلامی اور خدمتِ خلق کے نام پہ احسان جتانا کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے۔میں نے تصوّف کی معنی ہی بدل ڈالی ہے،میں وہ انسان ہوں میں خود سے پہلے دوسروں کو درس دیتا ہوں میرے دل کا آئینہ اپنی ہی خواہشات کی زد میں دھندلا سا گیا ہے مگر میں دوسروں کو اپنے ساتھ چشمے سے بہتے صاف و شفاف پانی جیسا دیکھنا چاہتا ہوں۔

    میں ایک استاد ہوں تو میں طالب علموں سے پہلے خود کی سوچتا ہوں بیشک معاملات چلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر میں ایک استاد کی حیثیت سے اپنی پہلی اینٹری دیتا ہوں تو یہ نہیں پوچھتا ہوں بچے کتنے ہیں جن کو میں پڑھاؤں گا بلکہ یہ پوچھتا ہوں میری تنخواہ کتنی ہوگی۔۔

    اگر میں اک ڈاکٹر ہوں تومیری اوّلین ترجیح مریض ہونے چاہئیں مگر یہاں بھی میری پہلی توجہ اس پہ ہوتی ہے کہ میری فیس کاؤنٹر پر جمع ہوئی کہ نہیں چاہے مریض آپریشن نا ہونے کی باعث اپنی جان کی بازی ہر جائے۔یہاں پہ اک بات میرے ذہن میں آتی ہے چند دنوں پہلے ہسپتال میں بہت ہی لاچار و مجبور غریب عورت اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لائی تھی اس بچے کو چمڑی کی بہت ہی تکلیف دہ بیماری تھی جوکہ اس بچے کے سر کے زخموں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ بچہ کتنی تکلیف میں تھا،چونکہ ڈاکٹر چمڑی کے امراض کے علاج کا ماہر ڈاکٹر تھا تو وہ بہت دور کسی گاؤں سے اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لائی تھی،شاید اس سے پہلے بھی اک بار آ چکی تھی،کچھ ہی دیر میں اس عورت کا نمبر آتا ہے اور وہ اپنے بچے کو اٹھائے ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں چلی گئیں ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کے کمرے سے ڈاکٹر صاحب کی شدید غصہ و برہمی کے انداز میں زور زور سے ڈانٹے کی آواز آنے لگی چونکہ کلینک چھوٹا سا تھا تو ساری آواز باہر سنائی دے رہی تھی،مگر ایسا بلکل بھی نہیں تھا کہ ڈاکٹر صاحب کسی ایمرجنسی کی صورت میں یہ انداز اپنائے ہوئے تھے بلکہ اس لیے چلا رہے تھے کہ اس مجبور و لاچار ماں نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحِب یہ جو ٹیوب آپ نے لکھا ہے وں میں کل لے لوں گی کیونکہ جتنے پیسوں میں یہ آئے گا تو میرے پاس گھر واپسی کا کرایہ نہیں رہے گا میں بہت دور سے آئی ہوں اکیلی بھی ہوں ابھی اس کا عورت کا یہی کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب آگ بگولا ہو گئے اور بہت بری طرح اس غریب سفید پوش عورت کی بیعزتی کی کہ وہ باہر آکر کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھ سکی شرمندگی کے مارے جلد ہی کلینک میں ہی موجود اسٹور سے ٹیوب لیا اور چلی گئیں کیا ہوتا اگر ڈاکٹر اس کی مجبوری سمجھ لیتا،بھلا کوئی ماں چاہے گی کہ اس کا بچہ تکلیف میں رہے اس نے مجبوری کے تحت ہی محلت مانگی جس پہ اس کو شرمندہ کیا گیا یہاں تو سب سے پہلے ڈاکٹر کو چاہیے تھا کہ اس عورت کی مدد کرتا شاید وہ ایسا تب کرتا جب اس کے دماغ میں خدمت کا جذبہ ہوتا لیکن اس نے اپنے اسٹور کی کمائی کو اوّل رکھا،یہ سارہ منظر تو سب ہی نے دیکھا مگر کسی کو خیال نا آیا کہ وہ عورت کیسے گھر گئی ہوگی پتہ نہیں کسی نے مدد کی ہوگی کہ نہیں ارے جسے پہلی فرست میں مدد کرنی تھی اس نے تو اپنی ذات کی نیلامی میں قیمتوں کا بلند آسمان قائم کیا ہوا تھا تو کیسے کوئی مفلس پہنچے گا۔

    ابھی اسی کشمکش میں دماغ الجھا ہو تھا رات بھر ننید نا آئی صبح آفس میں خود کو کام میں مصروف کر دیا،پیاس محسوس ہونے کی صورت میں آفس میں کام کرنے والی ماسی کو پانی پلانے کا کہا اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے محسوس کیا کے وہ کچھ تھکی تھکی سی لگ رہی ہیں،میں نے جان بوبھ کر پانی تاخیر سے پیتے ہوئے کہا بیٹھ جائیں باجی تو وہ سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گئیں،میں نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہوا باجی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں کیا؟تو انہوں نے بڑے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج تو ٹانگیں دکھ رہی ہیں اور ہلکی سی تھکی سی مسکراہٹ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دل کرتا ہے کاٹ کے رکھ دوں آج ٹاگیں سکون آجائے جب تک میں نے حیرت زدہ ہنسا سوال کرتے ہوئے کہا اللّٰہ خیر کرے باجی کیا ہوگیا،ایسا کیوں کہ رہی ہیں؟بولیں نا پوچھیں بیٹا ،سچ کہتے ہیں تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیتے تو آج آسانیاں ہوتیں،آگے بتاتے کوئے کہا کہ کل میری بیٹی کا شناختی کارڈ بننا تھا،لمبی قطار لگی ہوئی تھی صبح سے تقریباً شام ہوگئی اور جب ہماری باری آئی تو پانچ منٹ بھی بڑے ہیں وہاں بیٹھے شخص نے ہمارے کاغذات دیکھ کر کہا اماں فلاں کاغذ نہیں ہے کل وہ لے کر آنا بعد میں کام ہوگا،تو بیٹا کام بھی نہیں ہوا اور درد ساتھ لے کر آئی ایسے میں چھٹی کا وقت ہوگیا اور وہ چلی گئی مگر میرے دماغ میں یہ بات بھی گھر کر گئی کہ کیا ہمارے معزز ادارے میں اتنا نہیں ہوسکتا ہے کہ قطار میں موجود لوگوں کو دیکھا جائے کہ آنے والوں کے کاغذات مکمل ہیں کہ نہیں اگرچہ نہیں ہیں تو ان کو بتایا جائے کہ وہ اتنی دیر نا کھڑے ہوں گھر جا کر اپنے کاغذات مکمل کر کہ آئیں مگر افسوس ایسا نہیں ہوتا ایسا ہوگا تو آرام و راحت میں خلل آئے گا۔اگر ڈیوٹی ہی دینے کے لیے آئے ہیں تو تھوڑا جذبۂ انسانی بھی ساتھ شمار کیا جائے تو کام اور عبادت کا مزہ بھی دہرہ ہوجائے،مگروہ ہی بات کہ بات صرف سمجھنے کی ہے اور ہمیں کسی نے سمجھایا ہی نہیں کہ دنیا میں قدر و قیمت سے مراد تنخواہ یا دولت حاصل کرنا نہیں ہے

    کیا ہمیں نہیں آتا ذکرِ الٰہی سے پہلے اللّٰہ کی مخلوق کی خدمت کرنا،،بلکل آتا ہے مگر ہم کہیں کہو گئے ہیں ہم تو اس خدائی عظیم و عالیشان کی مخلوق ہیں جس نے خود اپنے حقوق یعنی حقوقِ اللّٰہ سے پہلے حقوق العباد کو ترجیح دی ہے تو ہم کیسے اس کے حکم کے بر عکس چل سکتے ہیں۔

    اس تمام تر سوچ و کشمکش میں اپنے الفاظ کے ذریعے اظہار کے بعد میں نے اس پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے کی جھلکیوں کی مدد سے اس ڈرامے کا نام تلاش کرنا شروع کر دیا کافی دیر کی محنت کے بعد پتہ چلا کہ اس ڈرامے کا نام "من چلے کا سودہ” ہے جس کی جھلکیوں نے مجھے خود کو اپنے اندر بسے انسان کو جگانے پر مجبور کیا اور آج میری ساری سوچیں اک جگہ بیٹھ گئیں اور پشیمانی سی ہوئی، آج وہ دن تھا کہ مجھے معلوم ہوا واقعی ہم اس دور کے انسان ہیں جو انسانیت کم اور سودہ گری زیادہ کرتے ہیں۔ 

    "اسلحے کی غداری نے نہیں بجھائی اتنی آنکھیں،

    فقط اک ذات کی سودہ گری نے دھندلا دیا ہے عالم۔

            اللّٰہ جل جلالہ ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

    @SanaullahMahsod

  • کرپشن ایک دیمک ہے ملکی بنیادوں کو کھوکلا اور کمزور بنا دیتی ہے تحریر:شمسہ بتول۔

    کرپشن ایک دیمک ہے ملکی بنیادوں کو کھوکلا اور کمزور بنا دیتی ہے تحریر:شمسہ بتول۔

    کرپشن ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج جہاں ہمیں غربت، بے روزگاری جیسے مساٸل کا سامنا ہے وہاں کرپشن بھی ایک خطرناک مسٸلہ ہے ۔کرپشن اور بدعنوانی میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے جو صرف ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ کو تباہ کرتا ہے۔ کرپشن کی ایک وجہ یہ ہے کہ کرپٹ لوگوں کے لیے کوئی مضبوط قانون سازی اور سزا نہیں ہے۔ کلرک سے لے کر افسر تک ہر کوئی اس میں شامل ہے۔ بدقسمتی سے آج کل کرپشن ہمارے ملک کا فیشن اور کلچر بن چکی ہے۔ یہ ہمارے ملک کے روشن مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کرپشن کیوں بڑھ رہی ہے؟ حکام اور اداروں کے سربراہ اس پر قابو پانے میں کیوں ناکام رہے؟ حکام کی جانب سے کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ یہ سوالات جواب کے منتظر ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان سوالوں کا کوئی جواب موجود نہیں۔

    1947 سے 2021 تک ، جب ہم اپنے ملک کی ترقی کی رپورٹ پڑھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کو صرف کرپشن کی وجہ سے کتنا نقصان پہنچا ہے۔ ہمارے سیاستدان بھی اس میں ملوث ہیں انہوں نے جس حد تک ممکن تھا کرپشن کی وہ پاکستان کے اثاثے چوری کیے اور عوام کے ٹیکس کے پیسے سے بیرون ملک جائیدادیں بناٸیں اور دیگر اداروں کے افسران بھی اس میں شامل ہیں لیکن پھر بھی ، انہیں اس پر کوئی شرم نہیں۔ ان کے لیے کوئی سزا نہیں ہے اور وہ آزاد ہیں اسی وجہ سے انہیں مذید شے ملی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ کسی کو یہ سوال کرنے کا حق نہیں ہے کہ آپ نے ہمارے اثاثے کیوں چوری کیے؟ آپ نے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ کیا؟ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ 2012 کے مطابق ، پاکستان کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران کرپشن اور ٹیکس چوری کی وجہ سے پاکستان کو 94 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ 2013 سے 2017 تک ، نواز شریف حکومت کے تحت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان نے بدعنوانی میں اپنا سکور 28 سے بڑھا کر 32 کر دیا ہے۔  کرپٹ سیاستدان ضمانت پر باہر نکلتے ہیں اور پھر بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور پھر وہ واپس نہیں آتے اور اس لیے کرپشن کے بہت سے مقدمات زیر التوا ہیں۔ اگر بروقت فیصلے سنائے جائیں اور بدعنوانی کے خلاف سخت سزا دی جائے تو کرپشن جیسی لعنت کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے ورنہ کرپشن ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھا جائے گی۔

    یہاں تک کہ اکثر لوگوں کو میرٹ کی بنیاد پر نوکری نہیں ملی اور وہ صرف اس کرپٹ نظام کی وجہ سے بے روزگار ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی سفارش اور پیسہ نہیں ہے۔ سیاستدان اور دیگر افسران اپنے دوستوں ، رشتہ داروں وغیرہ کا حوالہ دیتے ہیں یا ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ جب انتخاب میرٹ کی بنیاد پر ریفرنس سسٹم پر کیا جاتا ہے تو پھرکچھ ناخواندہ ، ان پڑھ اور غیر ہنر مند لوگ رکھے جاتے ہیں جو کسی بھی ادارے کو بہتر طور پہ نہیں چلا سکتے اور اداروں کی تباہی کا باعث بنتے۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس نظام کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ماضی میں کرپشن کے بہت سارے کیسیز سامنے آۓ  جیسے رینٹل پاور پراجیکٹ ، حج کرپشن کیس ، پاکستان سٹیل مل کیس ، اوگرا کیس ، منی لانڈرنگ ، اور شوگر مل گھوٹالہ وغیرہ۔ 1999 میں ایک آرڈیننس پاس کیا گیا کہ قومی احتساب بیورو ہونا چاہیے۔ لہذا ، ایک قومی احتساب بیورو جو کہ ایک وفاقی ادارہ ہے ، ادارے کی کارکردگی کو جانچنے اور اس میں توازن پیدا کرنے اور اداروں کو بدعنوانی سے جتنا ممکن ہو چھٹکارا دلانے کے لیے قائم کیا گیا ، اور اس ادارے کی طرف سے معاشی بےضابطگیوں کے خلاف تنقیدی معاشی رپورٹ بھی جاری کی گٸی۔

    لیکن اس ادارے کے قیام کے باوجود ملک میں بدعنوانی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لہذا ، ہمیں فوری طور پر موثر اصلاحات کو اپنانا چاہئیے اور قوانین کے فوری نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ اس خطرے سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے جس نے ہمارے ملک کی ساکھ کو سماجی اور معاشی طور پر کمزور کردیا ہے۔

    @sbwords7

  • جنگلات کی بےدریغ کٹائی کی وجہ اور اسے کسیے کم کیا جاسکتا ہے۔ تحریر  روشن دین

    جنگلات کی بےدریغ کٹائی کی وجہ اور اسے کسیے کم کیا جاسکتا ہے۔ تحریر روشن دین

    @rohshan_Din 

    جنگلات کو کاٹنے کے بہت سارے وجوہات ہیں ان میں سے ایندھن کے طور پہ استمال کرنا تعمیرات کے لے استعمال کرنا اور مختلف چیزیں بنانے کے لے استعمال کیے جاتے ہیں۔ 

    ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق ، جنگلات زمین کی سطح کا 30 فیصد سے زیادہ کا علاقے میں ہونے چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات چار سے پانچ فیصد علاقے میں ہے وہ بھی گلگت بلتستان کے کچھ علاقے کے پی کے چند علاقوں میں جنگلات پاے جاتے ہیں ۔عمران خان بھی بلن ٹری پروگرام کا مقصد بھی یہی ہے کے پاکستان میں جنگلات کو کیسے بڑھایا جاسکتاہے۔ جنگلات ایک ارب سے زائد لوگوں کو خوراک ، ادویات اور ایندھن مہیا کر تے ہیں۔ دنیا بھر میں ، جنگلات 13.4 ملین لوگوں کو جنگلات کے شعبے میں ملازمتیں فراہم کرتے ہیں ، اور مزید 41 ملین افراد کے پاس جنگلات سے متعلقہ ملازمتیں ہیں۔

    جنگلات ایک وسیلہ ہیں ، لیکن وہ زمین کے بڑے ، غیر ترقی یافتہ حصے بھی ہیں جنہیں زراعت اور چرنے جیسے مقاصد کے لیے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق ، شمالی امریکہ میں ، 1600 اور 1800 کی دہائی کے درمیان لکڑی اور کاشتکاری کے لیے براعظم کے مشرقی حصے میں تقریبا half آدھے جنگلات کاٹ دیے گئے۔

    آج ، سب سے زیادہ جنگلات کی کٹائی اشنکٹبندیی علاقوں میں ہو رہی ہے۔ وہ علاقے جو ماضی میں ناقابل رسائی تھے اب رسائی میں ہیں کیونکہ گھنے جنگلات کے ذریعے نئی سڑکیں بنائی جاتی ہیں۔ میری لینڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی 2017 کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اشنکٹبندیی نے 2017 میں تقریبا 61،000 مربع میل (158،000 مربع کلومیٹر) جنگل کھو دیا – یہ علاقہ بنگلہ دیش کا رقبہ ہے۔جبکے پاکستان میں ایک طرف جنگلات لاگئے جارہے ہیں ہیں جبکہ دوسرے طرف جنگلات کی کٹائی عروج پہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر اس کی واضع مثال ہے ۔

    جنگلات کے تباہ ہونے کی وجوہات۔

    ورلڈ بینک کا اندازہ ہے کہ 20 ویں صدی کے آغاز سے تقریبا . 3.9 ملین مربع میل جنگلات ختم ہو چکے ہیں۔ پچھلے 25 سالوں میں ، جنگلات 502،000 مربع میل (1.3 ملین مربع کلومیٹر) کم ہو گئے ۔ یہ علاقہ جنوبی افریقہ کے سائز سے بڑا ہے۔ پاکستان کے پی کے کے ضلع بٹگرام مانسہرہ کوہستان اور گلگت بلتستان کے ضلع دیامیرمیں گزشتہ بیس سالوں میں ساٹھ فیصد جنگلات کاٹ دیے گےہیں۔ 

     ۔ 2018 میں ، دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ ہر سیکنڈ میں ، جنگل کا ایک حصہ فٹ بال کے میدان کے سائز کے برابر کھو جاتا ہے۔

    اکثر ، جنگلات کی کٹائی اس وقت ہوتی ہے جب جنگلات کے علاقے کو کاٹ کر صاف کیا جاتا ہے تاکہ زراعت یا چرنے کا راستہ بنایا جا سکے یا سمگلنگ کی جاتی ہے۔ متعلقہ سائنسدانوں کی یونین (UCS) نے رپورٹ کیا ہے کہ اشنک ٹبندیی جنگلات کی کٹائی کے لیے صرف چار اشیاء ذمہ دار ہیں: گائے کا گوشت ، سویا ، پام آئل اور لکڑی کی مصنوعات۔ یو سی ایس کا اندازہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ کا رقبہ (14،800 مربع میل ، یا 38،300 مربع کلومیٹر) ہر سال جنگلات کی کٹائی سے ضائع ہو جاتا ہے۔

    اشنکٹبندیی جنگلات میں قدرتی آگ نایاب لیکن شدید ہوتی ہے۔ زرعی استعمال کے لیے زمین کو صاف کرنے کے لیے عام طور پر انسانوں کی روشنی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ، قیمتی لکڑیوں کی کٹائی کی جاتی ہے ، پھر باقی پودوں کو جلا دیا جاتا ہے تاکہ سویا یا مویشیوں کے چرنے جیسی فصلوں کا راستہ بنایا جا سکے۔ 2019 میں ، برازیل میں انسانوں سے جلنے والی آگ کی تعداد آسمان کو چھو گئی۔ اگست 2019 تک ، ایمیزون میں 80،000 سے زیادہ آگ جل گئی ، جو 2018 کے مقابلے میں تقریبا 80 فیصد زیادہ ہے۔

    پام آئل کے پودے لگانے کے لیے کئی جنگلات کو صاف کیا گیا ہے۔ پام آئل سب سے زیادہ پیدا ہونے والا سبزیوں کا تیل ہے اور تمام سپر مارکیٹ مصنوعات میں سے نصف میں پایا جاتا ہے۔ یہ سستا ، ورسٹائل ہے اور اسے کھانے اور ذاتی مصنوعات جیسے لپ اسٹکس اور شیمپو دونوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مقبولیت نے لوگوں کو کھجور کے درخت اگانے کے لیے اشنکٹبندیی جنگلات صاف کرنے پر اکسایا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے درختوں کو اگانے کے لیے مقامی جنگلات کی سطح اور مقامی پیٹ لینڈ کی تباہی درکار ہوتی ہے – جو ماحولیاتی نظام پر مضر اثرات کو دوگنا کردیتی ہے۔ زیون مارکیٹ ریسرچ کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ، عالمی پام آئل مارکیٹ کی قیمت 2015 میں 65.73 بلین ڈالر تھی اور توقع ہے کہ 2021 میں 92.84 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

    جنگلات کی کٹائی کے اثرات

    جنگلات زندہ چیزوں کے متنوع ذخیرے کے لیے گھر سے زیادہ مہیا کرتے ہیں۔ وہ دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے لیے بھی ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یوگنڈا جیسے ممالک میں لوگ ، لکڑی اور چارکول کے لیے درختوں پر انحصار کرتے ہیں۔ گزشتہ 25 سالوں کے دوران یوگنڈا نے اپنے 63 فیصد جنگلات کو کھو دیا ہے۔ خاندان بچوں کو بھیجتے ہیں – بنیادی طور پر لڑکیاں – لکڑی جمع کرنے کے لیے ، اور بچوں کو درختوں تک پہنچنے کے لیے دور دور جانا پڑتا ہے۔ کافی لکڑی جمع کرنے میں اکثر سارا دن لگتا ہے ، اس لیے بچے سکول جانے سے محروم رہتے ہیں۔

    ایف اے او کی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق ، زمین کا تازہ پانی کا تین چوتھائی حصہ جنگلات کے آبی ذخائر سے آتا ہے ، اور درختوں کے ضائع ہونے سے پانی کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2018 کی دنیا کے جنگلات کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی اپنے پینے کے پانی کے ساتھ ساتھ زراعت اور صنعت کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے لیے جنگلاتی آبی ذخائر پر انحصار کرتی ہے۔

    جنگلات کی کٹائی کے حل۔

    جنگلات کی کٹائی کے متبادل تیار کرنے سے درختوں کی صفائی کی ضرورت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ، زراعت کے لیے استعمال ہونے والی زمین کی مقدار کو بڑھانے کی خواہش کسی علاقے کو جنگلات کی ایک پرکشش وجہ ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار جنگلات کے انتظام کے ٹول باکس کے مطابق ، اگر لوگ پائیدار کاشتکاری کے طریقوں کو اپناتے ہیں یا کاشتکاری کی نئی ٹیکنالوجیز اور فصلیں استعمال کرتے ہیں تو زیادہ زمین کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

    صاف شدہ علاقوں میں درختوں کو دوبارہ لگانے یا جنگل کے ماحولیاتی نظام کو وقت کے ساتھ دوبارہ تخلیق کرنے کی اجازت دے کر بھی جنگلات کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ یو ایس فاریسٹ سروس کے مطابق ، بحالی کا ہدف جنگل کو اس کی اصل حالت میں واپس لانا ہے۔ جتنی جلدی ایک صاف شدہ علاقہ دوبارہ لگایا جائے گا ، اتنا ہی تیزی سے ماحولیاتی نظام اپنی مرمت شروع کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ، جنگلی حیات واپس آئے گی ، پانی کے نظام دوبارہ بحال ہوں گے ، کاربن کو الگ کر دیا جائے گا اور مٹی کو دوبارہ بھر دیا جائے گا۔

    جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لیے ہر کوئی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم لکڑی کی مصدقہ مصنوعات خرید سکتے ہیں ، جب بھی ممکن ہو پیپر لیس ہو سکتے ہیں ، اپنی مصنوعات کی کھپت کو محدود کر سکتے ہیں جو پام آئل کا استعمال کرتے ہیں اور جب ممکن ہو درخت لگائیں۔

    گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان جنگلات کو بڑھانے میں مصروف ہیں اور انکی اس کاوش کو دنیا بھر میں پزیرائی ملی ہے۔ حکومت کو چاہیے اس پراجیکٹ پہ مزید کام کریں اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لے مختلف سیمنار کریں مقامی لوگوں کی مدد سے ہم جنگلات کی کٹائی کو روک سکتے ہیں