Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بولی لگائیں اور نمبر حاصل کریں تحریر ذیشان احمد

    جس قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس قوم کا تعلیمی معیار گرا دو تو اس قوم کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا.

    آج کل خیبر پختون خواہ کے مختلف تعلیمی بورڈز کے نتائج آرہے ہیں جس میں زیادہ پیسہ کمانے کی ریس لگی ہوئی ہیں. بورڈز میں چیئرمین سے لیکر کلاس فور تک سب کے انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہیں.

    امتحانات پر ان استادوں کی ڈیوٹی لگتی ہے جو چیئرمین بورڈ کے انگلیوں پر ناچتا ہوں اور سکول انتظامیہ کی مرضی سے ان کے سکول پر امتحانی عملہ تعینات ہوتا ہے.
    بورڈ کے اعلی آفسران کیساتھ ساتھ انکے کلرکس اور ڈرائیوروں کی بھی آؤبھگت کی جاتی ہیں۔
    جو استاد کسی نجی سکولز اینڈ کالجز کے امتحانی ہالز پر ڈیوٹی سرانجام دیتا ھے۔
    تو وہ چیئرمین  کنٹرولر امتحانات اور نجی سکولز اینڈ کالجز کے مالکان کے پہلے سے مرتب طریقہ کار کے مطابق ڈیوٹی کرنے  کا پابند ہوتا ہے۔
    ان استادوں میں تین خصوصیات کا ہونا لازمی ہونا چاہیئے
    نمبر 1۔ آندھا
    نمبر 2۔ بہرا
    نمبر 3. گونگھا
    لازمی بننا چاہیئے ورنہ اس پر کئی قسم کے دباؤ کا آندیشہ ہوتا ھے
    بعض اوقات اس پر لڑکوں اور لڑکیوں سے چھیڑ خانی کے الزامات لگ سکتے ہیں
    جس پر چیئرمین بورڈ اس استاد پر پورے پانچ سالہ پابندی بھی عائد کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کوئی ایماندار استاد اس سسٹم میں نہیں آسکتا.

    نجی سکولزاور کالجز آپنی پسند کا عملہ تعینات کرنے کی پوری قیمت ادا کرتے ہیں۔
      امتحانات شروع ہونے سے کچھ ہفتے قبل فری امتحانی ہالوں کے عوض طلبہ سے بھاری رقوم کے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔ جس کے بدلے طلباء امتحانی عملے کے سامنے نقل کرتے ہیں.

    امتحانات شروع ہوتے ہی تعلیمی بورڈز کے ملازمین کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں. چیئرمین بورڈ، سیکرٹری، کنٹرولر اور دیگر بڑے عہدوں والے کو گفٹ مطلب رشوت میں گاڑیاں، سونا اور نقد رقم ملتی ہیں.
    امتحانی عملہ برانڈڈ کپڑوں اور مرغ پر اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں.

    ہمارے تعلیمی نظام کا ایسا برا حال ہوا جو سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کیونکہ مردان بورڈ کو ایک لڑکی نے 1100 کے ساتھ ٹاپ کیا تو کیا یہ تو نیوٹن سے بھی زیادہ تیز ذہن کی مالک تھی جس سے دوران امتحان ایک غلطی بھی نہ ہوسکی. اس میں لڑکی کی غلطی نہیں ہے بلکہ سسٹم کی غلطی ہے کیونکہ ہمارا سسٹم اتنا تباہ ہوگیا ہے کہ ہر سال 95 فیصد سے زائد نمبروں والے طلبہ کثیر تعداد میں فارغ ہورہے ہیں مگر ہمارا ملک تباہی کی طرف جارہا ہے تو سوال بنتا ہے کہ یہ آخر ذہین طلباء جاتے کہاں ہے اور ہمارے ملک میں سائنسدان کیوں نہیں بنتے؟

    ہرسال رزلٹ سرکاری سکولز اینڈ کالجز کی بجائے نجی سکولز اور کالجز کے پوزیشن ھولڈر کے نام کیاجاتاہے۔
    تعلیمی بورڈ سرکاری سکولز اینڈ کالجز طلبہ کو آٹا میں نمک کے برابر بھی پوزیش نہیں دیتے
    اور انکو کم ظرفی کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ کچھ ذہین طلباء اسی وجہ سے تباہ ہوجاتے ہیں کہ وہ غربت کی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ نہیں لے سکتے اور مجبوراً سرکاری سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں اور سرکاری سکولوں کے حالات تو سب کے سامنے ہے اور یوں ایک ذہین ستارہ اجھل ہوجاتا ہے.

    صرف ڈگری حصول روزگار کا زریعہ نہیں ھوتا بلکہ بہترین معاشرے کی تشکیل کا آئینہ دار بھی ہوتی ھے۔
    جس قوم کا تعلیمی معیار گر جاتا ھے اس قوم کو دوبارہ کھڑا ھونے کیلئے ایک صدی درکار ہوتی ھے۔
    حکومت کو چاہیے کہ وہ ان نمبروں کی ریس کو ختم کریں اور ہر قسم کے داخلوں اور نوکریوں کیلئے اپنا ٹیسٹ لے.

  • شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ (1937ء تا 2021ء) تحریر: احسان الحق

    27 ستمبر کو استاد العلماء، محدث العصر، شیخ الحدیث، حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے انتقال کی دلخراش اور افسوسناک خبر سنی. آپ کی وفات کا سن کر گہرا دلی صدمہ پہنچا. آپ ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جن سے مجھے ملنے کی دلی حسرت تھی اور آپ کے انتقال کے ساتھ یہ حسرت، حسرت ہی رہ گئی. آپ سے ملنے سے پہلے آپ خالق حقیقی سے جا ملے.

    انا للہ واناالیہ راجعون.

    شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ 1937ء میں رشیداں والی میں پیدا ہوئے. تقریباً 1850ء میں مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کو 1763 سے 1947 تک قائم رہنے والی ریاست پٹیالہ کی طرف سے کچھ رقبہ ملا. آپ عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اس رقبے پر مسجد اور اپنا گھر بنایا، جہاں آپ کے سارے لڑکے آباد ہوئے. اس علاقے میں یہ اولین آبادکاری میں سے ایک تھی. مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اپنے نام کی مناسبت سے اس جگہ کا نام "عزیز آباد” رکھا. بعد میں کسی وجہ سے اس جگہ کا نام رشیداں والی پڑ گیا اور آج بھی سرکاری کوائف میں اس جگہ نام رشیداں والی ہے. بھارتی پنجاب میں پٹیالہ کے اسی عزیز آباد یا رشیداں والی میں آپ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ پیدا ہوئے. مولانا اثری رحمہ اللہ کی پیدائش سے 87 برس قبل یہ گاؤں آباد ہوا، 1937 میں عزیزآباد کی آبادی دو سو گھرانوں تک پہنچ چکی تھی.

    مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے خاندان میں اسلام قبول کرنے والے پہلے آدمی کا نام طیب تھا. مولانا کا شجرہ نسب کچھ اس طرح سے ہے.

    محمد رفیق بن قائم دین بن علی شیر بن فریدو بن طیب.

    آپ کے والد صاحب نے آپکا نام محمد رفیق رکھا. زمانہ طالب علمی میں آپ نے محمد رفیق کے ساتھ اثری کا اضافہ خود کیا. مولانا رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے دادا مرحوم اسی گاؤں "رشیداں والی” میں ہجرت کرکے آئے اور یہیں آباد ہو گئے. 

    شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے والد محترم پرچون کی دوکان چلاتے تھے. آپ تین بھائی تھے اور آپ سب سے چھوٹے تھے. سب سے بڑے بھائی رحمت اللہ تھے جو ساتویں جماعت تک پڑھے پھر گھریلوں مسائل کی وجہ سے آگے نہ پڑھ سکے اور ان کی شادی بھی کر دی گئی، یہی بڑے بھائی والد صاحب کے ساتھ دوکان پر بھی بیٹھا کرتے تھے. درمیانے بھائی کا نام سلیم تھا.

    برصغیر کی تقسیم کے وقت عزیز آباد میں محض ایک گھر کے علاوہ باقی ساری آبادی مسلمان تھی. تقسیم کے وقت عزیز آباد بھارت کے حصے میں آ گیا اور بھارتی فوج نے زبردستی مسلمانوں سے یہ علاقہ خالی کرواتے ہوئے ساری مسلمان آبادی کو پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا. تقسیم برصغیر اور ہجرت کے وقت مولانا رحمہ اللہ علیہ کی عمر محض دس سال سے گیارہ سال کے درمیان تھی. آپ اپنے والد محترم اور بھائیوں سمیت خاندان کے ساتھ گنڈا سنگھ بارڈر سے پاکستان میں داخل ہو گئے اور بذریعہ ریل گاڑی لودھراں پہنچے. آپ کے خاندان کو ڈیرہ غازی خان جانے کو کہا گیا. آپ کا خاندان لودھراں سے ملتان آیا اور یہیں رک گیا، کیوں کہ کسی نے بتایا تھا کہ ڈیرہ غازی خان پہاڑی اور بنجر علاقہ ہے. اسی لئے آپ کے والد صاحب نے ڈیرہ غازی خان نہ جانے کا فیصلہ فرمایا. ملتان میں ایک ماہ قیام کے بعد آپ کے والد صاحب کو پتہ چلا کہ جلال پور میں رشیداں والی کے کچھ خاندان آباد ہو چکے ہیں. آپ کے والد صاحب نے جلال پور جانے کا پروگرام بنایا، محض یہ دیکھنے کے لئے کہ جلال پور میں رشیداں والی کے لوگ آباد ہیں یا نہیں. جلال پور جا کر معلوم ہوا کہ واقعی رشیداں والی کے کافی لوگ رہائش پذیر ہیں. آپ کے والد صاحب قائم دین نے جلال پور میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ فرمایا.

    مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کی تبلیغ اور تعلیم سے پورا رشیداں والی اہل حدیث تھا. دارالحدیث رحمانیہ رشیداں والی سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا اور جب آپ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو 29واں اور 30واں پاراں پڑھ رہے تھے یا پڑھ چکے تھے. ابتدائی ایک ماہ آپ دیوبندی مدرسہ میں مولانا نور محمد صاحب سے پڑھتے رہے. بعد میں معلوم کرنے پر آپ کو اہل حدیث مدرسے کا پتہ چلا تو آپ وہاں چلے گئے. آپ نے مولانا حافظ خوشی محمد صاحب سے قرآن مجید مکمل کیا.

    لودھراں کے قریب براتی والا کے نام سے ایک جگہ ہے۔ وہاں جلالپور مدرسہ کے فارغ التحصیل مولانا عبدالرحمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے. انہوں نے پرائیویٹ سکول بنایا تھا. انکی ترغیب سے محلے اور خاندان کے تقریباً پندرہ لڑکے ان کے پاس چلے گئے. ان لڑکوں میں مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ بھی تھے. یہ ان دنوں کی بات ہے جب کشمیر محاذ کھل چکا تھا اور طلبا کو جہاد کی تربیت دی جاتی تھی. آپ نے مولانا عبدالرحمن سے پرائمری تک سکول کی تعلیم، خوشخطی، فارسی کی ابتدائی تعلیم اور جہاد کی تربیت لی. یاد رہے کہ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ خوش خط تھے. اس لیے شیخ محترم محدث جلال پوری سلطان محمود رحمہ اللہ علیہ اثری صاحب سے فتاویٰ جات لکھوایا کرتے تھے. مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ علیہ بھی اثری صاحب سے وقتاً فوقتاً مضامین لکھواتے رہتے تھے.

    ایک بار مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ علیہ کے سامنے اثری صاحب کا ذکر ہوا تو بھٹی رحمہ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ "وہی محمد رفیق جس کی لکھائی بہت اچھی ہے؟”

    مولانا عبیداللہ صاحب رحمہ اللہ علیہ اور مولانا ادریس صاحب رحمہ اللہ علیہ دار الحدیث رحمانیہ رشیداں والی کے فضلاء تھے جن کی محنت سے رشیداں والی گاؤں کے لوگوں نے مسلک اہل حدیث قبول کیا. مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے والد صاحب ان دونوں سے بہت متاثر تھے. اسی وجہ سے آپ کے والد محترم نے خواہش کا اظہار کیا کہ کیوں نہ میری اولاد میں سے بھی کوئی عالم اسلام پیدا ہو چنانچہ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کو اپنے بھائی کے ساتھ جلال پور مدرسہ میں داخل کروا دیا گیا.

    1956 میں آپ فارغ التحصیل ہوئے اور 1954 سے 1956 کی چھٹیوں میں لاہور جا کر جامعہ تقویتہ الاسلام میں مولانا محمد شریف رحمہ اللہ علیہ سے منطق اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کرتے رہے. مولانا محمد عبداللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ علیہ آپ کے کلاس فیلو ہیں.

    مولانا شریف سے مراد مولانا شریف اللہ خان سواتی ہیں. شریف اللہ خان سواتی رحمہ اللہ علیہ جامعہ سلفیہ میں پڑھاتے تھے اور چھٹی کے دنوں میں مولانا داؤد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر تقویۃ الاسلام میں شمس بازغۃ، سلم العلوم، ھدایۃ الحکمۃ اور منطق و فلسفہ کی دیگر کتب پڑھاتے تھے. مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ نے مذکورہ بالا کتب کی تعلیم مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری رحمۃ اللہ علیہ سے مکمل کی تھی مگر مولانا شریف اللہ خان صاحب سے دوبارہ پڑھیں.

    ایک بار لیبیا سے شیخ عمر صاحب ملتان میں حافظ عبدالمنعم صاحب کے پاس آئے. شیخ صاحب نے کہا کہ مجھے ان پندرہ روایات کی تخریج مطلوب ہے، مجھے کسی عالم کے بارے میں بتاؤ جو یہ کام کرسکے. حافظ عبدالمنعم نے شیخ عمر کو شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیا. اثری رحمہ اللہ علیہ نے ان کا کام کردیا اور باتوں باتوں میں کہا کہ مؤطا پر زیادہ کام مغربی علماء نے کیا ہے جو لیبیا اور مراکش وغیرہ میں آباد ہیں. اثری رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ "میں نے بھی مؤطا پر کام کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ مجھے کسی مغربی عالم سے سند حاصل ہو.” شیخ نے اثری رحمہ اللہ علیہ کی بات ذہن میں رکھی اور تیونس کے شیخ محمد شاذلی صاحب سے بات کی. شیخ شاذلی نے اثری صاحب کو خط لکھا کہ آپ نے مغربی عالم سے سند کی خواہش کی ہے، میں آپ کو سند دیتا ہوں اور السبت الصغیر کے نام سے آٹھ صفحات میں اپنی سند بھیج دی جو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ تک المسلسل بالاولویۃ ہے. یہ سند پاکستان میں صرف مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے پاس ہی ہے.

    ایک بار آپ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ اپنے اساتذہ کا ذکر فرما رہے تھے اور بتایا کہ حافظ غلام نبی صاحب، حافظ نور محمد صاحب، حافظ خوشی محمد صاحب، مولانا عبدالرحمان صاحب، مولانا شریف اللہ سواتی صاحب اور مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہم. مولانا عبدالحمید صاحب، مولانا عبدالقادر بہاولپوری صاحب، مولانا عبدالرحیم عارف صاحب، مولانا محمد قاسم شاہ صاحب، مولانا عبدالقادر مہند صاحب، مولانا عبداللہ مظفر گڑھی صاحب اور  مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمۃ اللہ علیھم میرے اساتذہ میں شامل ہیں.

    اولاد میں مولانا رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے سات بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں. آپ کے پوتے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن مجید اور حدیث کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں. مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے نصف درجن نواسے اور پوتے حافظ ہیں. آپ کی باوفا اور باشعار بیوی کا انتقال آپکی حیاتی میں ہو گیا تھا. مولانا محمد رفیق اثری صاحب کی تصانیف کی تعداد 2 درجن سے بھی زیادہ ہے، اس کے علاوہ آپ کافی عربی کتب کا اردو میں ترجمہ بھی کر چکے ہیں. موطا اور مشکوٰۃ کے حواشی لکھے، اسی طرح الفیۃ الحدیث کے حواشی ہیں. مولانا رحمہ اللہ علیہ نے کئی تراجم بھی کیے ہیں. ایک عرب عالِم الشيخ عبدالله بن عبيد کی کتاب هداية الناسك کا مناسک الحج کے نام سے ترجمہ کیا. رؤیت ھلال کے بارے ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے. اسی طرح شرح خطبہ حجۃ الوداع اور بھی کئی چھوٹے بڑے رسالوں کا اردو ترجمہ کر چکے ہیں. مختلف رسائل کی تعدا بہت زیادہ ہے جن آپکا اردو ترجمہ کر چکے ہیں. قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ علیہ کی شیعہ کے بارے ایک  السیف المسلول نامی کتاب ہے، یہ کتاب صرف ایک بار ہی دہلی سے چھپی تھی. اس کتاب کی اصل مطبوع نہیں ملی جس کی وجہ سے کافی غلطیاں تھیں، مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ نے ان تمام غلطیوں کو درست کرتے ہوئے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا.

    غالباً 1947 کے اواخر یا 1948 کی شروعات میں مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ نے دارالحدیث محمدیہ جلال پور میں داخلہ لیا. 1956 میں فارغ التحصیل ہوئے اور محدث جلالپوری سلطان محمود رحمہ اللہ علیہ کے حکم پر 1956 سے ہی ادارے میں تدریسی فرائض سرانجام دینا شروع کیے. 2021 میں آخری سانس لینے تک آپ اسی ادارے کے ساتھ منسلک رہے. 1948 سے 1956 تک شعبہ تعلیم کے 8 سے 9 سال اور 1956 سے 2021 تک شعبہ تدریس کے تقریباً 65 سال، علالت اور آخری سانس لینے تک 84 سالہ زندگی کے مجموعی طور پر تقریباً 73 سال دارالحدیث محمدیہ جلال پور کو دئیے.

    آپ طویل عرصے سے علیل تھے. آخری چند روز آپ کی علالت میں شدت آ گئی اور آپ سول ہسپتال میں ڈاکٹروں کی زیرنگرانی انتہائی نگہداشت میں تھے. جہاں آپ نے 27 ستمبر کو اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور خالق حقیقی سے جا ملے.

    اللہ سبحانہ وتعالیٰ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائیں، اگلے تمام معاملات اور مراحل آسان ترین فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائیں.

    آمین، ثم آمین.

     سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا اله الا انت استغفرک و اتوب الیک.

    @mian_ihsaan

  • پردے کا طریقہ  تحریر:صابر حسین۔

    پردے کا طریقہ  تحریر:صابر حسین۔

    گھر کے اندر والے نا محرم مردوں سے پردے کا طریقہ بیان فرمایا ہے 

    ہاں اتنی گنجائش ہے کہ جو نا محرم گھر کے اندر رہتے ہیں جن سے ہر وقت پردہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ہر وقت ان کی آمدورفت رہتی ہے اور وہ اکثر گھر میں کام کاج بھی کرتے رہتے ہیں ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ بھابھی کو چاہیئے کہ وہ کوئی بڑا اور موٹا دوپٹہ اس طرح اوڑھے کہ اس میں پیشانی سے اوپر کے اور سر کے سارے بال چھپ جائیں اور دوپٹہ اس طرح باندھے جس طرح نماز میں باندھا جاتا ہے اور اس میں دونوں بازوں بھی چھپ جائیں اور وہ اپنی پنڈلیوں کو بھی شلوار وغیرہ میں چھپائے پنڈلیوں کا ذکر اس لیئے کیا کہ آج کل انہیں کھلا رکھنے کا رواج چل رہا ہے جو سراسر نا جائز ہے صرف چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں اور دونوں پیر کھلے رہیں اس حالت میں ان کے سامنے آنا جانا رکھے اور گھر کے کاموں کو انجام دے تو اس حالت میں گنجائش ہے اور اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ چہرے پر گھونگھٹ میں اس سے بات چیت کر سکتی ہے اور اسے کسی بات کا جواب بھی دے سکتی ہے شریف اور حیادار عورت کیلئے چہرے پر گھونگھٹ ڈال کر کام کاج کرنا کوئی مشکل نہیں ہے بشرطیکہ آخرت کی فکر ضرور ہو خوفِ خدا ہو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر لگتا ہو لیکن سر کھلا رکھنا یا سر کے اوپر اتنا باریک دوپٹہ اوڑھنا کہ اس میں سے سر کے بال نظر آ رہے ہیں یا برائے نام دوپٹہ استعمال کرنا یا دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا ہے سر پر نہیں رکھا ، بازو بھی کھلے ہوئے ہیں کہنیاں بھی کھلی ہوئی ہیں ، کلائیاں بھی کھلی ہوئی ہیں اور ان کلائیوں میں زیورات بھی پہنے ہوئے ہیں اور آج کل تو پنڈلیاں کھولنے کا منحوس رواج بھی چل پڑا ہے لہذا گھر کے جو نا محرم مرد ہیں ان کے سامنے اعضاء کو کھولنا جائز نہیں اور گھر کے باہر کھولنا تو کسی صورت جائز نہیں ہے لیکن آج مسلمان خواتین کا جو حال گھر کے اندر ہے اس سے زیادہ برا حال گھر کے باہر ہے باہر نکلتے وقت برقعے اور پردے کا کوئی نام ہی نہیں ہے اور جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ بھی اتنے باریک ہیں یا اتنے چُست ہیں کہ جسم کا ہر حصہ نمایاں ہو رہا ہے 

    لہذا خواتین یہ بات سن لیں کہ نامحرم مردوں کے سامنے ننگے سر آنے والوں کا عذاب سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بیان فرما رہے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کو جہنم کے اندر سر کے بل لٹکتے ہوئے دیکھا ہے اور ان کا دماغ ہانڈی کی طرح پک رہا تھا ۔ اللہ کی پناہ

     عورت گھر سے سخت مجبوری میں نکلے اور جب گھر سے باہر نکلے تو سادہ اور باپردہ لباس میں نکلے ، جب گھر سے باہر نکلے تو خاوند کی اجازت سے نکلے ، آج کے زمانے میں بازار میں آپ کو صرف دس پندرہ فیصد مرد نظر آئیں گے باقی نوے فیصد عورتیں نظر آئیں گی ۔ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان زور سے آواز دیتا ہے وہ دیکھو عورت جا رہی ہے سب مرد حضرات اس کی متوجہ ہوتے ہوئے عورت کی طرف دیکھتے ہیں دوستو عورت کہتے ہی با پردہ چیز کو ہیں لہذا گھروں میں اسلامی نظام لائیں اور اپنا اہل و عیال محفوظ رکھیں ۔

    مرد حضرات کو بھی چاہیے کہ اپنے نگاہیں نیچی رکھیں اور کبھی بھی شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں توبہ استغفار کا کثرت سے ورد زباں پر جاری رکھیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے آمین

    Sabir Hussain

    @SabirHussain43

  • سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم تحریر ثمینہ اخلاق

    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ 

    ‏حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تمام کمالات کا مجموعہ ہے۔انسانوں میں سے کوئی بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو، اُس کی زندگی کے لیے نمونہ اور اس کے کردار واعمال کی درستی واصلاح کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں مکمل رہنمائی موجود ہے

    آپ ﷺ ۱۲ ربیع الاول کو دنیا میں تشریف لائے۔ اللّٰہ کے فضل سے ربیع الاول کا مہینہ پھر سے ہمیں نصیب ہوا ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جانے اور اس مہینے کی مناسبت سے میلاد النبی کا اہتمام کرے اور درودپاک کا ورد کریں۔ 

    ایک مسلمان کی حیثیت سے سیرتُ النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مطالعہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرتِ مبارکہ ہی ایک ایسی سیرت ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کے متعلق رہنمائی ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرت میں آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں بہت کچھ ملتا ہے جیسے خُلقِ عظیم، صبر وتحمل،اخلاص وتقویٰ،عدل واحسان،حُسنِ معاشرت،اندازِگفتگو اور گھریلو زندگی۔ 

    ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا کوئی پہلو بھی ہماری پہنچ سے دور نہیں ہے۔ ہمیں حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق حسنہ کی روشنی میں زندگی گزارنی چاہیئے۔ہم رسول ﷺ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں صبر کی خوبیاں اپنائیں اور ہر قسم کی جسمانی ومالی آزمائشوں پر صبر کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور زندگی کے ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ ہم مکمل اخلاص وتقویٰ کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کریں اور نبی ﷺ کے بتائے ہوئے راستے کو اپنائیں۔یہی راہِ نجات ہے۔ 

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عدل و احسان کی بڑی فضیلت بیان کئ ہے۔ آپﷺ سب سے زیادہ عدل اور احسان فرمانے والے تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ عدل اور احسان کرنے والے سے محبت کرتا ہے۔

      ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں عدل و احسان سے کام لینا چاہیے، تا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہم سے خوش ہو جائیں اور ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔

        غرض یہ کہ رسول ﷺ نے تمام زندگی اپنے ہاتھ اور زبان مبارک سے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ آپ ﷺ نے معاشرے کے تمام افراد کو حسن معاشرت کی ترغیب دلائی اور اس کا طریقہ بھی سکھایا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ترجمہ (جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔)

           ہمیں چاہیے کہ اسوہ رسول اپنا کر ہم اپنے معاشرے میں اخوت،محبت اور رواداری کو پروان چڑھائیں۔

              رسول ﷺ کے خلق عظیم کا ایک نہایت اہم پہلو آپ ﷺ کا شیریں بیان اور حکیمانہ اندازِ گفتگو ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قیامت تک آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کو اسوہ حسنہ بنایا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی گفتگو سے منع فرمایا جس سے لوگوں کی دل آزاری ہو اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے شخص کو آپ ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اسوہ رسول ﷺ کی روشنی میں ہمیشہ اچھی بات کریں۔ بامقصد اور مفید گفتگو کریں۔فصول اور برے کلمات سے بچیں تا کہ ہماری گفتگو کے ذریعے آپس میں میل جول بڑھے اور معاشرے میں خوشگوار تعلقات فروغ پائیں۔

              رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی ساری اُمت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ غمی، خوشی،تنگدستی،خوشحالی،غرض تمام حالتوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے زندگی کے ہر میدانوں میں قابلِ عمل ہے۔آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو اللہ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ اقرار دیا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی سیرتِ طیبہ پر عمل کریں تا کہ دنیا و آخرت میں فلاح پا سکیں

     تحریر: ثمینہ اخلاق

     @SmPTI31

     

  • استاد قوم کا محسن تحریر ۔ غلام مرتضی

    استاد قوم کا محسن تحریر ۔ غلام مرتضی

    5اکتوبر کو دنیا بھر میں اساتذہ   کو خراج تحسین  پیش کرنے   کےلئے منایا  جاتا ہے

    آج بھی یاد ہے مجھے وہ سکول کا پہلا دن
    نیا بستہ نئے جوتے اور نئے کپڑے اور ایک نئی جگہ جانے کی خوشی تو تھی لیکن جب اُس جگہ پہنچ کر ابو کا ہاتھ چھوڑنا پڑا تو بہت مشکل لگا رونے لگا ہر بچہ کہ طرح ابو سے لپٹ گیا۔
    لیکن ایک نہایت شفیق انسان نے میری انگلی پکڑی ابو کہ ہاتھ سے میرا ہاتھ چھڑوایا اور مجھے گود میں اُٹھا کہ اندر لے گیا۔ سارا دن میرے آنسو صاف کئیے مجھے بھلایا اور رخصت کرتے وقت ٹافی دی اور کہا اگر روز آؤں گا تو روز ٹافی ملے گی۔
    اب جب میں یہ سب سوچتا ہوں تو خود پہ بہت ہنسی آتی ہے لیکن دوسری طرف آنکھ آبدیدہ بھی ہوتی ہے۔
    پھر جب ماضی کے خدوخال کا نقشہ دماغ میں کھینچتا ہوں تو بہت دل کرتا ہے میں لوٹ جاؤں وہیں جہاں سے میں سب سبق سیکھیں۔جہاں میں نے دنیا کے ساتھ قدم ملا کہ چلنا سیکھا۔
    جہاں میں نے پنسل پکڑنا اور پھر لکھنا سیکھا۔میں نے الف سے انار سیکھا۔
    تختی پہ لکھا۔
    بہت سی نظمیں پڑھیں۔
    سب سے بڑی بات مجھے میرے اُساتذہ کی شفقت رُلا دیتی ہے۔
    بابا کا ہاتھ جب چھوڑا تو محسوس نہ ہوا کہ میں نے بابا کا ہاتھ چھوڑا ۔محسوس ہوتا بھی کیسے ایک باپ کا ہاتھ چھوڑ کہ دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔
    وہ خوبصورت وقت بہت یاد آتا ہے کیونکہ وہ بیت گیا ہے۔کیونکہ اب اُس کے لوٹنے کا کوئی جواز نہیں ۔
    اُستاد کا رتبہ بعد میں جانا میں نے ۔
    اُستاد صاحب کہا کرتے تھے
    وکیل چاہتا ہے اسکا موکل جیت جائے
    ڈاکٹر چاہتا ہے مریض ٹھیک ہو جائے
    انجینئر چاہتا ہے اُسکی مشینری کامیاب ہو
    افواج چاہتی ہے ملک محفوظ ہو
    لیکن واحد اُستاد ہے جو یہ چاہتا کہ یہ سب کہ سب عروج کی بلندیوں کو چھو جائیں
    اُن کی یہ بات اب سمجھ میں آتی ہے کہ روحانی والدین کی خوشی صرف اور صرف اپنے بچوں کی کامیابی میں ہے
    یہ وہ خوبصورتی ہے جس کے بغیر چمن کا رنگ پھیکا ہے
    یہ پھول کی خوشبو ہیں
    اگر اقوام میں اُستاد قابل نہ ہوں تو قومیں پستی کا شکار ہوتی ہیں اور اگر قومیں استاد کی قدر نہ کریں تو بھی زوال اُن کا مقدر ٹھہرتا ہے ۔
    میں نے دیکھا ہے وقت ہو بدلتے میرے اساتذہ کی دعاؤؤں سے
    یقین جانے ایک سچا روحانی باپ یا روحانی ماں آپ کے حقیقی ماں باپ سے زیادہ آپکی قدر کرتے ہیں-آپکو زندگی کی ہر راہ میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ۔
    آج بھی جب کبھی میں اپنے روحانی ماں باپ کو دیکھو یا وہ مجھے پہچان جائیں یقین جانے اک عجب خوشی ہوتی ہے ایک عجب ہی احساس ہوتے وہ تمام تر ماضی روح پزیر ہو جاتا ہے بس پھر دل کرتا ہے لوٹ جائیں وہیں جہاں زندگی بہت خوشگوار تھی جہاں محبت کرنے والے بے وجہ بے شمار تھے

    استاد معاشرے میں مستریوں کا سا کردار ادا کرتے ہیں۔۔
    جو انسانوں میں شخصیات، اقدار اور اخلاق کے محلات کی تعمیر کرتے ہیں۔۔
    یہ لوگ علم و ہنر کی اینٹیں آپ کی شخصیت میں اس ترتیب سے لگاتے ہیں کہ ان کی آرائش و زیبائش سے معاشرہ ایک خوبصورت شہر میں اونچی نیچی شیش

    محلوں جیسی عمارات اور چمکتے دمکتے برقی قمقموں کی مانند

    میرے کردار کو سنوارنے اور معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل بنانے والے میری زندگی کی پہلی استاد میری ماں سے لے کر میرے قاعدے کے الف سے قرآن کے والناس تک درس و تدریس کے اسباق پرھانے والے، اور الف انار سے تعلیمی ڈگریوں تک زینہ بہ زینہ پہنچانے والے، مجھے لکھنے کا ہنر سکھانے والے سوشل میڈیا کے اساتذہ اور میرے وہ فالوور جنہیں خود تو شاید لکھنا لکھانا نہیں اتا مگر ان کے ٹوٹے پھوٹے کمینٹس سے مجھے پورا ایک موضوع ضرور مل جاتا ہے۔۔ زندگی کے تاریکیوں میں علم کی یہ شمع جلانے والے ان تمام اساتذہ کو آج کا دن بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ا

    اللہ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مزید کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔

    ‎@__GHulamMurtaza

  • محمد بن قاسم کے سپاہیوں کو سلام تحریر : احسن ننکانوی 

    محمد بن قاسم کے سپاہیوں کو سلام تحریر : احسن ننکانوی 

     
     

      بلوچستان کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے 

    خاص کر بلوچستان میں مہر گڑھ کی تہذیب جو کہ 10 ہزارسال سے 20 ہزار سال تک پرانی ہے تہذیب ہے

     بعض تاریخ دانوں کے مطابق لاکھوں سال قبل افریقہ کے لوگ ہجرت کر کے بلوچستان میں آکر آباد ہوئے۔مہر گڑھ کی تہذیب جو کہ دریا بولان کے کنارے بلوچستان اور سندھ کے علاقوں پر مشتمل تھی ۔

    جب سے بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھایا جارہا رہا ہے ہمیں اپنی قدیم تاریخ کا پتہ چل رہا ہے۔

    خاص کر جب سے سی پیک پروجیکٹ اور مکران کوسٹل ہائی ویز بنی ہے اس سے ہمیں اپنی پرانی تاریخ میں کچھ نئی چیزیں دیکھنے کو ملی ہیں۔

    جس میں چند ایک درجہ ذیل ہیں۔

    چندر گپ کے مڈ وال کینو:

    یہ مڈ وال کینو کوسٹل ہائی وے پر اگور اور پھور پوسٹوں کے درمیان واقع ہیں ہندو کمیونٹی انکو بڑی عزت کی نگا سے دیکھتے ہیں 

    اور ہر سال اپریل کے مہینے میں ہندو کمیونٹی کے لوگ پاکستان سمیت پوری دنیا سے یہاں آتے ہیں (تیرٹھ یا چندر گپ کی رسومات ) ادا کرے ہیں۔  

    ان رسومات میں ہندو مڈوال کینو کا کیچڑ اپنے جسم پر لگاتے ہیں اور انکے بقول ان کی تمام بیماریاں اور گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔

    اور مڈ وال کینو کے کیچڑ میں ناریل پھینک کر مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

    ہنگلاج ماتا مندر نانی ماتا مندر:

    یہ مندر کوسٹل ہائی وے اگور سے دریائے ہنگول پر پندرہ کلومیٹر شمال کی طرف ہنگول پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔اور یہ پاکستان میں ہندوؤں کی دوسری بڑی اہم عبادت گاہ ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق یہ ہندوؤں کی پچاس ہزار سے لیکر ایک لاکھ سال تک پرانا مندر ہے۔

    یہاں بھی پاکستان سمیت پوری دنیا سے ہندو کمیونٹی کے لوگ آتے ہیں اور بوجا پاٹ کرتےہیں

    اور اپریل کے مہینے میں ایک بڑے میلے کا اہتمام ہوتا جس میں پاکستان سمیت پوری دنیا کے ہزاروں ہندو اگور آتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

    اور ساتھ ناریل لیکر آتے ہیں اور پانی کے تالاب میں اپنا اپنا ناریل پھینکنے ہیں ہندوؤں کے بقول جس کا ناریل پانی میں ڈوپ جائے اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔

    اور جس کا ناریل نہیں ڈوبتا اسکی مراد پوری نہیں ہوتی ہے۔

    حکومت پاکستان نے یہاں کافی اچھی سڑک اور یاتریوں کیلئے کافی کمرے بھی بنائے ہیں۔

    ہندووں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی یہاں آتے ہیں۔

    پرنس آف ہوپ کا مجسمہ:

    یہ ہنگول پہاڑوں کے درمیان ایک قدرتی مجسمہ ہے جس کو دیکھنے کیلئے پاکستان سمیت پوری دنیا سے لوگ یہاں آتے ہیں

    2005 میں سابقہ صدر جنرل پرویزمشرف کے دور میں ہالی وڈ کی ایکٹرس سٹار انجیلینا جولی بھی آئی بھی اور اس قدرتی مجسمے کو *پرنس آف ہوپ* کا نام دیا تھا۔

    اس کے علاوہ اور بھی بڑے بڑے قدرتی مجسمے اور ایسے ایسے زمین اور پہاڑوں کے خدوخال ہیں کہ یہ علاقہ ایک پرستان اور عجیب غریب دنیا کا منظر پیش کرتا ہے۔

    کنڈ ملیر بیچ:

    کنڈ ملیر بیچ بھی کوسٹل ہائی وے پر ساحل سمندر پر ایک اہم بیچ ہے جس کی ریت اور نیلا پانی ہر سیاح کو اپنی طرف کھینچتا ہے پورے پاکستان سے سیاح ہر موسم میں یہاں آتے ہیں۔ اور سمندر کی بڑی بڑی موجوں اور نیل گوں پانی کا لطف اٹھاتے ہیں۔

    گولڈن بیچ:

    کنڈملیر سے بوذی ٹاپ کی طرف جاتے ہوئے رسملان گاؤن تک گولڈن بیچ کا علاقہ ہے اس سیاحل کی ریت سونے کی طرح ہے اسکو اسی لیے گولڈن بیچ کہتے ہیں اور شام کو جب سورچ غروب ہوتا ہے تو ایک عجیب سا نظارہ ہوتا ہے

    ہنگول نیشنل پارک:

    ہنگول نیشنل پارک جو کہ سینکڑوں کلومیٹر رقبے پر پھیلا پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو کہ بلوچستان کے تین اضلاع لسبیلہ،گوادر اور آواران پرمشتمل ہے۔

    اس میں مختلف قسم کے مارخور، مختلف قسم ہرن،مختلف اقسام کے دوسرے جانور، پرندوں میں شاہین، تیتر، چکور، بٹیر، تلور اور دوسرے مختلف پرندے پائے جاتے ہیں۔

    محمد بن قاسم کے سپاہی:

    اگور میں کوسٹل ہائے وے سے صرف 15 میٹر فاصلے پر محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی قبریں ہیں جنکو ہم بلکل فراموش کر چکے ہیں

     یہ وہ سپاہی تھے جو کہ ایک مسلمان لڑکی کی فریاد پر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے یہاں آئے تھے اور راجہ داہر کو شکست دی تھی اور اسی دن پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی۔

    ہمارےلیڈر اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا فرمان ہے کہ پاکستان کی بنیاد اسی دن رکھ دی گئی تھی جس دن ہندوستان کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔

    ہمیں ہر جگہ محمد بن قاسم کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے 

    محمد بن قاسم کے ساتھ انکے جانباز سپاہیوں نے بھی اپنی جان کی قربانیاں دی تھی۔

    لیکن ہم انکے جانباز سپاہیوں کو بھول گئے۔

    آج کوسٹل ہائی وے پر سب کو ان جگہوں کا معلوم ہے۔

    چندر گپت کے مڈ وال کینو:

    نانی ماتا مندر:

    پرنس آف ہوپ:

    ہنگول نیشنل پارک:

    کنڈ ملیر بیچ:

     گولڈن بیچ ان کا سب کو معلوم ہیں۔

    لیکن ہماری بدقسمتی ہے محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی یاد گار کو سب بھول گئے ہیں

    جو کہ بطور پاکستانی اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے میرے لئے افسوس کا مقام ہے۔ وہ قومیں ہمیشہ سرخرو رہتی ہیں۔جو اپنے اجداد اپنے ہیروز کو نہیں بولتی ہیں۔

    میری احکام بالا سے گزارش ہے کہ : 

    محمد بن قاسم کے شہید سپاہیوں کی یاد گار کی مرمت کی جائے۔اور اس کے ساتھ ایک اچھی سی کار پارک بنائی جائے اور درخت اور سبزہ ساتھ لگایا جائے اور افواج پاکستان کو اسکی ذمہ داری دی جائے۔ پاکستان بھر سے تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اسکو دیکھنے کیلئے آئیں گے۔

     اگور پوسٹ کانام تبدل کر کے محمد بن قاسم پوسٹ رکھا جائے۔آخر میں پھر محمد بن قاسم کے سپاہیوں کو ایک پاکستانی کا سلام ۔

    آخری میں اس رپورٹ سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معافی چاہتا ہوں۔

    @AhsanNankanvi

  • چلو تم ہی بتاو پاکستان کس نے بچایا؟ تحریر : عظیم بٹ

     

    پاکستان کرہ ارض پر وہ واحد ملک ہے جہاں پر اکثر و بیشتر بیرونی تنقید اور طنز کے تیروں کے ساتھ اسے اندرونی سطح پر بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج سے قریبا 75 برس قبل آزاد ہوئے اس ملک میں جہاں بہت سے سامنے نظر آتے مسائل ہیں وہیں بہت سے ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انسانی آنکھ سے اوجھل اور انسانی دماغ سے پڑے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں برسراقتدار یا پاکستان کے نظریے اور اساس کے محافظ سمجھے جانے والے آخر یہ کیوں کہتے ہیں کہ پاکستان خدائی طاقت اور خدا کی رحمت سے آج تک چل رہا ہے۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں پڑھے لکھوں کی تعداد دنیا میں اکثریت ملکوں سے کم ہے۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان پر 70 سالوں سے اشرافیہ برسراقتدار ہے اور ہم آزاد ہو کہ بھی آزاد نہیں۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی معیشت تو ان ممالک سے بھی گئی گزری ہو گئی ہے جو ممالک کسی دور میں پاکستان سے ملک چلانے کا گڑ سیکھنے آتے تھے۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی فوج اتنی بہادر نہیں جتنا ہمیں بتایا جاتا ہے۔ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں انگریز کی غلامانہ ذہنیت پروان چڑھائی جا رہی ہے۔

    ان سوالوں کے جواب میں مجھے اپنے ایک استاد محترم کا جملہ یاد آ جاتا ہے وہ کہا کرتے تھے بیٹا بعض سوالوں کا جواب بھی سوال ہوتا ہے۔

    اب اوپر کئے گئے سوالات جو ہمارے ہاں اکثر افراد آجکل کرتے ہیں میں تو صحیح اور غلط کی بحث سے نکل کر ان سوالوں کے جواب میں کچھ ترمیم شدہ سوالات ہی کرنا چاہتا ہوں اور چاہوں گا کہ اہل علم اس کے جواب میں جو چاہیں کہیں مگر قائل کریں۔ اگر قائل نا کر سکیں تو ضمیر کی آواز سے لڑیں مت بلکہ انا کو پس پشت ڈال کر حقیقت کو تسلیم ضرور کریں۔

    آپ کہتے ہیں کہ لوگ اس بات پر کیوں قائل ہیں کہ پاکستان کو کوئی خدائی طاقت چلا رہی ہم کہتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم یہ نا مانیں کہ ہم سے 4 گناہ بڑا ملک اور ازل سے ہمارا دشمن ہمارا حریف 75 سالوں میں سوائے گیڑر بھبکیوں کے آج تک ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکا اور سفارتی سطح پر کئی بار ہماری جانب سے اسے منہ کی کھانا پڑی۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ ہمارے ہاں پڑھے لکھے باشعور لوگ موجود ہیں جو دنیا کی ہر فیلڈ میں کہیں کہیں اپنا نام قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا نام روشن کرتے رہے ہیں۔ ارفع کریم، عبدالسلام، ڈاکٹر عبدالقدیر، ڈاکٹر ثمر مبارک، عبدالستار ایدھی سمیت اس طرح کے افراد کی جنہوں نے سائنسی اور اخلاقی میدان میں جھنڈے لگائے لسٹ انتہائی طویل ہے۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ 70 سالوں سے اس ملک میں اگر اشرافیہ قابض بھی ہے تو ملک صحیح سلامت بلکہ 1947 کے مقابلے جب نا وسائل کی تقسیم ہمارے لئے غیر جانبدار کی گئی نا ہی ہمیں آج کے دن تک پاکستان کے پیسوں پر پلنے والے ہندوستان نے 1947 کی تقسیم میں ہمارے حصے آنے والے روپیوں کی ادئیگی کی اس کے باوجود دنیا کے ہر شعبے میں پاکستان کہیں نا کہیں قائم ہے اپنا سٹیک رکھتا ہے۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں نے جن ممالک کو ہڑپ لیا ان کی کمزور معیشت کی باعث وہ ہمارا بال بھی نا اکھاڑ سکیں جب کے لبیا، عراق جیسے ممالک کو تباہ و برباد کر دیا مگر ہم آج بھی قائم ہیں دفاع کر رہے دنیا میں اپنی الگ آزاد شناخت رکھتے ہیں۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ ہماری فوج مضبوط اور طاقتور ہے کہ ہندوستان جیسے 4 گناہ بڑا ملک اور اس کی 4 گنا بڑی فوج 75 سالوں سے بارڈر پر بھی ہم سے مار کھاتی ابھینندن کو بھیج کر بھی رسوائی اٹھاتی اور کلبھوشن یادو جیسے نان پروفیشنل کو بھی نا بچا سکی۔ آخر ہم کیوں نا کہیں کہ ہم آزاد سوچ کے مالک ہیں نا کہ انگریز کہ، ہم آج بھی پاکستان کی بنیاد اور اساس اسلام کے محافظ کے طور پر دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ اسلام پر دنیا بھر میں ہونے والے ناکام حملوں کا دفاع سب سے مضبوطی اور سخت سطح پر پاکستان کرتا ہے جو ہمارا آج بھی ہماری اساس پاکستان سے محبت کو ظاہر کرتا ہے۔

    ان سوال نما جوابات کے جواب دینے کے لئے یا تو انسان کو اوپر دی گئی حقیقتوں کو بدلنا ہو گا جو پاکستان میں ممکن نہیں کہ کسی کو پاکستان کی اساس سے کھلواڑ کرنے دیا جائے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے ضمیر کو مار کر صرف ذہنی تعصب اور نفرت سے بھرا ہو وگرنہ پاکستان کی اچھائیاں نظر آنا کوئی حیرت کی بات نہیں ہونی چائیے۔

    Azeem Butt  is a Journalist, Author and Analyst. His reports and Analysis is based on Urdu Linguistics, Social &  Current political issues.

    Find out more about his work on his Twitter @_azeembutt

  • کرونا وبا کے مثبت اثرات کیا تھے؟ تحریر: کائنات فاروق

    دنیاوی تاریخ میں دیکھا جائے تو وبا کے بڑے طویل مدتی اثرات مرتب ہوئے ہیں، خاندانوں کے زوال سے لے کر نوآبادیاتی نظام میں اضافہ اور یہاں تک کہ آب و ہوا میں تبدلیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔

    ١٣۵٠ء میں یورپ میں پھیلنے والے طاعون کا پیمانہ خوفناک تھا جس نے یورپی کے تقریبا ایک حصے کو ختم کردیا تھا۔ اس ہی طرح ١۵ ویں صدی کے اختتام پر امریکہ میں چیچک اور نوآبادیات نے اتنے لوگوں کو ہلاک کیا کہ جو شاید دنیا کی آب و ہوا کو تبدیل کرنے کا باعث بنا ہو۔ ١٨٠١ء میں زرد بخار اور غلاموں کی بغاوتوں کے نتیجے میں ہیٹی میں فرانسیسی حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ اس ہی طرح رینڈپسٹ نامی جانوروں کو متاثر کرنے والی ایک مہلک بیماری نے افریقہ میں یورپ کے نوآبادیات کو تیز کرنے میں مدد فراہم کی۔ اس بیماری نے افریقہ کے مویشیوں کا ایک بڑا حصہ ہلاک کیا۔ ١٨٧٠ء کی دہائی میں افریقہ کا صرف دس فیصد حصہ یورپی کنٹرول میں تھا لیکن ١٩٠٠ء تک یہ بڑھ کر نوے فیصد ہوچکا تھا۔ اور اس اراضی پر قبضہ رینڈپسٹ پھیلنے کی وجہ سے افراتفری کی مدد سے ہوا۔ ١٦۴١ء میں چین میں طاعون منگولوں کے زوال کا سبب بنا۔

    وبا کی دنیاوی تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں خوفناک اور منفرد تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس ہی طرح آج کی دنیا میں بھی کرونا وائرس کے پھیلاو کے بعد ہم نے دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو اپنی زندگی بسر کرنے کے انداز کو ڈرامائی انداز میں بدلتے ہوئے دیکھا۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق ٣١ دسمبر ٢٠١٩ کو چین میں ایسے نمونیا کے کیسز

    کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ووہان میں کسی نامعلوم وجہ کے باعث سامنے آئے۔ تقریبا ایک سال کے بعد اسے نوول کرونا وائرس یا کووڈ – ١٩ کا نام دیا گیا۔ اس وبا کو اس سال دسمبر میں دو سال مکمل ہونے کو ہیں اور سائنسدان تاحال اس وبا کو نہ ہی مکمل طور پر سمجھ سکے ہیں نہ اس کا علاج دریافت کرسکے ہیں۔

    اس وائرس کے سبب دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے

    معمولات زندگی تھم چکی تھیں۔ عالمی معیشت کرونا وائرس کی پہلی لہر کے باعث ہونے والے لاک

    ڈاؤن کے سبب پڑنے والے جٹھکے سے خود کو سنبھالنے کی جدوجھد میں لگی رہی اور تاحال عالمی معیشت خود کو مضبوط کرنے کی ان تھک کوششوں میں لگی ہے۔ 

    دیکھا جائے تو اس وبا کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں اور زیادہ تر منفی پہلوؤں کو زیر غور لایا گیا ہے جیسے اس عالمی وبا کی وجہ سے بے وقت اموات کا سلسلہ اور صنعتوں کی بندش کے باعث لاکھوں لوگوں کی بےروزگاری وغیرہ۔

    کرونا وبا کے جہاں منفی اثرات نے خاص کر ہر سطح اور ہر طبقے کو متاثر کیا تھا اس کا ازالہ کرنے کی کوشش میں کئی لوگ آج تک لگے ہیں۔ لیکن جہاں اس وبا کے نقصانات دیکھے گئے وہیں یہ وبا سماجی سطح پر بھی ہمارے معموالات زندگی اور ماحولیات پر چند مثبت تبدیلیوں کا سبب بھی بنی ہے۔

    ان چند مثبت پہلوؤں کو زیر غور لاتے ہوئے ان کا ذکر کرتے ہیں، کرونا وائرس کے باعث سب سے مثبت اثر ماحولیات پر پڑا۔ صنعتوں کی بندش کے باعث کاربن کے اخراج میں کمی آئی جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں پچاس 

    فیصد کمی دیکھی گئی۔

    کرونا وبا کی شدت پکڑتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو کرونا وائرس کے باعث صنعتوں کا بند ہونا اور کئی ملکوں اور شہروں میں نافذ لاک ڈاؤن تھا جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں واضح فرق پڑا تھا۔ 

    مسلمانوں پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے جس کے لیے پانچ وقت وضو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور سائنسی اعتبار سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دن میں کم از کم ۵ سے

    ۶ مرتبہ ہاتھوں کو صفائی سے دھونا ضروری ہے،

    ماہرین کی جانب سے مسلسل تلقین کی جاتی رہی کہ اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔ 

    اس طرح لوگوں نے خوشی سے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس عادت کو اپنا لیا ہے۔

    گلیوں اور سڑکوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جارہا تھا، لوگ خود کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو خودساختہ طور پر صاف رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔

    لوگوں کو ٹیلی ورکنگ سیکھنے کا موقع ملا۔ لوگوں نے وقت کو بچا کر گھر بیٹھے

    کام کو کس طرح مکمل کیا جاسکتا ہے یہ سیکھا، جس کے باعث دنیا اب ڈیجیٹل ورلڈ بننے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 

    لاک ڈاون کے باعث بازاروں کا جلدی بند ہونا اور شادی بیاہ میں غیر ضروری رسومات میں کمی اور سادگی کے رجحان کا بڑھنا بھی دیکھا گیا۔ کرونا وائرس کے باعث دنیا جہاں ورک فرام ہوم اور آئن کالسز پر آگئی تھی، اس وجہ اہل خانہ کے ساتھ گزارنے اور عبادتوں کی لیے لوگوں کو ایک اچھا وقت ملا، اس وبا کی وجہ سے ملنے والے وقت نے لوگوں کو عبادات میں باقاعدگی کا موقع بھی فراہم کیا۔

    کرونا وائرس نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ انسان کس قدر بے اور بس ہے اور بڑی سے بڑی دنیاوی طاقتیں بھی قدرتی آفات کے سامنے ڈھیر ہیں، سپر پاور ہونے کا دعوی کرنے والے بھی خدا کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، یہ بات سمجھنے والوں پر واضح ہوگئی کہ زندگی بہت مختصر ہے اور دنیا فانی ہے، ایک وبا پوری دنیا کی معیشت و کاروبار پر تالے لگوا سکتی ہے۔

    یہ کچھ مثبت پہلو وہ ہیں جو کرونا وبا کے باعث ہماری زندگی پر پڑے یا شاید اب تک پڑ رہے ہیں، 

    لیکن ہم نے دیکھا کہ لاک ڈاؤن میں جہاں کچھ رعایت ملی وہاں لوگ اپنے معموالات زندگی میں واپس لوٹتے ہوئے ان مثبت اثرات اور عادتوں سے بھی دور ہونے لگے، 

    کرونا وبا نے ہمیں زندگی کے کئی مثبت پہلووں سے آشنا کرایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ وبا

    ختم ہونے کے بعد بھی وبا کے دوران ہماری زندگی پر اثرانداز ہونے والے مثبت پہلوؤں اور تبدیلیوں سے دور نہ ہوں۔ بلکہ صفائی اور عبادت جیسی چند مثبت عادتوں، سادگی سے شادیاں اور سادہ معمولیات زندگی جیسے رجحانات کو اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لیے شامل کرلیں۔

    @KainatFarooq_

  • پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو”  تحریر: حسیب احمد

    پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو” تحریر: حسیب احمد

     

    آئے روز ہمیں ہر کسی چیز میں مہنگائی کا سامنا کرنے کو مل رہا ہے۔ پیٹرول اس میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے عوام کی جیبوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ پیٹرولیم کمپنیاں ریٹ بڑھا دیتی ہیں پھر بیچاری عوام مہنگے داموں خرید کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

    علمی منڈی میں ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے روپے کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے ہمیں مہنگے داموں میں خریدنا اور پھر عام کو بیچنا پڑتا ہے۔

    ہمارے ہاں لوگ باہر کی کرنسی خرید کر رکھ لیتے ہیں اور جیسے ہی وہ مہنگی ہوتی تو بیچ کر اپنے ہی پاکستانی روپے کو گراتے ہیں۔ پھر لوگ اپنی غلطی کا ملبہ حکومت پاکستان پر ڈال دیتے ہیں۔ کیا حکومت نے کہا تھا اپنے روپے کو استعمال نا کرو باہر کی کرنسی کو اہمیت دو؟

    لیکن ہاں کہیں نا کہیں حکومت پاکستان کی بھی تھوڑی سی خامیاں ہیں وہ اپنے ان تین سالوں میں 3 وزیر خزانہ تبدیل کرچکے ہیں اور یہ وہی ہیں جنہوں نے پیچھلی حکومت میں بھی مہنگائی کا جن بےقابو کر رکھا تھا۔ ایسے لوگ ہیں معیشت کی ترقی کے بجائے آئے روز مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی ستائی عوام کو روز روز نئے داموں کے تجربات سے جھٹکے دیتے ہیں۔

    ہمیں اپنے لوگوں کو جوکہ قابل ہیں اور ماہرین معاشیات ہیں ان کو آگے بڑھاتے ہوئے ان سے مہنگائی کے خاتمے کا حل تلاش کروانا چاہیے۔ ہمیں اپنے روپے کو قدر اور اپنی پالیسیوں کو دوبارہ صحیح سے ترتیب دینا چاہیے۔

    2020 میں پاکستان کی افراط زر کی شرح 9.74٪ تھی ، جو 2019 سے 0.84 فیصد کمی تھی۔ 2017 کی شرح 4.09 فیصد تھی جو کہ 2016 سے 0.32 فیصد زیادہ ہے۔

    مہنگائی سے مراد قیمتوں میں اضافہ ہے جو کسی قوم کی قوت خرید میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ افراط زر ایک عام معاشی ترقی ہے جب تک سالانہ فیصد کم رہے۔ ایک بار جب پہلے سے طے شدہ سطح پر فیصد بڑھ جاتا ہے ، اسے افراط زر کا بحران سمجھا جاتا ہے۔ اصطلاح "افراط زر” ایک بار رقم کی فراہمی میں اضافے کا حوالہ دیتا ہے (مالیاتی افراط زر) تاہم ، پیسے کی فراہمی اور قیمت کی سطح کے درمیان تعلقات کے بارے میں معاشی مباحثوں نے قیمتوں کی افراط زر کو بیان کرنے میں آج اس کا بنیادی استعمال کیا ہے۔ افراط زر کو پیسے کی حقیقی قدر میں کمی کے طور پر بھی بیان کیا جا سکتا ہے-زر مبادلہ کے ذریعے قوت خرید میں کمی جو کہ اکاؤنٹ کی مالیاتی اکائی بھی ہے۔ جب قیمت کی عمومی سطح بڑھ جاتی ہے ، کرنسی کا ہر یونٹ کم سامان اور خدمات خریدتا ہے۔ عام قیمت کی سطح کی افراط زر کا ایک اہم پیمانہ عام افراط زر کی شرح ہے ، جو کہ ایک عام قیمت کے انڈیکس ، عام طور پر کنزیومر پرائس انڈیکس میں وقت کے ساتھ فیصد میں تبدیلی ہے۔ مہنگائی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ، مستقبل کی افراط زر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری اور بچت کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ زیادہ افراط زر اشیا کی قلت کا باعث بن سکتا ہے اگر صارفین اس خدشے کے باعث ذخیرہ اندوزی شروع کردیں کہ مستقبل میں قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ 

    اللہ پاک سرزمین کے ہر مسائل کو حل کرنے میں ہمارے مددگار ثابت ہوں۔ اور پاکستان کو لوگوں کو ان تکالیف سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھے۔ اور پاکستان کو دنیا میں عظیم و ترقی والا ملک بنائے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی پذیرائی ہو اور نیک نامی میں اضافہ ہو۔

    من

    مہنگائی آتی رہتی ہے بس اپنے گھبرانا نہیں اللہ پر بھروسہ رکھنا۔۔۔

    تحریر: حسیب احمد

    @JaanbazHaseeb 

  • سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک  تحریر ؛ علی خان

    سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک تحریر ؛ علی خان

     

    @hidesidewithak 

    سیاست کریں بدتمیزی نہیں اس کے ساتھ یہ بھی نہ بھولیں کہ آج آپ جس بھی جگہ ہیں وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں 

    کی وجہ سے ہیں 

    سیاست کو عموماً مصلحت پسند یا اگر صاف الفاظ میں کہیں تو منافقوں کا پیشہ کہا جاتا ہے لیکن وطن عزیر میں الٹی گنگا بہتی ہے،،، سیاست میں نامناسب الفاظ کے استعمال کا سلسلہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں شروع ہوا،،، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے پر کردار کشی کی گئی،،، پھر "قائد عوام "ذوالفتار علی بھٹو  کا دور آیا اور سیاست میں مخالفوں کے لیے عوامی کی بجائے بازاری زبان استعمال ہونے لگی۔۔۔  قائد عوام کی سرکردگی میں ہی شروع کردہ تحریک کے دوران فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف کتا کتا کے نعرے لگائے گئے۔۔۔  اپنے حریف ائیر مارشل ایوب خان کو آلو جیسے القابات دینا بھی انہی کا خاصہ رہا

    اس زبان درازی کے سلسلے سے  ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو بھی محفوظ نہ رہ سکیں اور انہیں مختلف مخالفین کی جانب سے بدتہذیبی اور ناشائستہ زبان کے اس سلسلے کا سامنا کرنا پڑا ۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس ناشائستگی کو محترمہ نے ہمیشہ  یاد رکھا۔ انکی جماعت کے رہنما رانا ثنااللہ نے مخالف جماعت نواز  لیگ کی رہنما مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ اور مریم نواز پر رکیک حملہ کیا تو محترمہ نے  راناثنااللہ کو فوراً پارٹی سے  نکال دیا۔  ستم ضریفی  دیکھئے کہ  انہی رانا ثنااللہ کو نواز لیگ نے ہی اپنی پارٹی میں شامل کرلیا اور پھر وہ پیپلزپارٹی کے مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے اہل خانہ پر ذاتی حملوں میں ملوث رہے

    سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان بار بار ذاتی حملوں کے سبب عمران خان سے علیحدگی اختیار کرنے اور واپس برطانیہ جانے پر مجبور ہوگئیں۔  دوسری جانب تحریک انصاف کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے  مریم نواز  کو بار بارگھر سے بھاگنے کا طعنہ دیا جاتا رہا۔ جمیعت علمائے اسلام کے حافظ حمداللہ کی جانب سے سماجی کارکن کو آن ائیر  غلیظ جملوں کا نشانہ بنائے جانے اور موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے بلاول بھٹو بارے معنی خیز گفتگو  بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے

    ہمارے یہ رہنما عوام کو بھی اس بدزبانی کی دلدل میں گھسیٹنے سے باز نہیں آتے ۔  سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بیان  دیا ” نئے پاکستان کیلئے ووٹ دیا ہے تو عوام بھگتیں”۔  موجوہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے انتخابی مہم جلسے میں  اپنے ہی ووٹرز کو شدید نازیبا الفاظ سے پکارا جانابھی کوئی زیادہ دور کی بات نہیں۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین کی بدزبانی اور لغو زبان کا استعمال بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں ۔  ایک مرتبہ چودھری نثار کے بیان پر ایم کیو ایم رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر بھی آپے سے باہر ہوگئے اور کہا پنجاب میں ہر گھر میں مجرے ہو رہے ہیں،،، ن لیگ کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے تو گالم گلوچ کو پنجابی کلچر کا حصہ ہی قرار دے  ڈالا ۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ کے علی گوہر بلوچ اور تحریک انصاف کے علی نواز اعوان  کی اخلاق باختہ زبان درازی شاید سب کو ہی یاد ہوگی

    عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید نے مہاجرین کے منہ پہ چماٹ مارنے یا انہیں پاگل خانے بھیجنے کا بیان دیا۔  سابق پی پی اور اب جی ڈی اے رہنما ذوالفقار مرزا نے مہاجر صوبے کی بات کرنے والوں کو بھوکا ننگا  قرار دیا۔  عبدالقادر بلوچ نے ایم کیو ایم کے ورکرز کو جانور قرار دیا۔  پختونخواہ میپ کے محمود اچکزئی نے لاہوریوں کو افغان پشتون وطن پر قبضے کی کوششوں میں انگریزوں کا معاون ہونے کا طعنہ دے ڈالا۔ سابق  صدر پرویز مشرف کا ریپ کا شکار خواتین بارے قابل مذمت بیان اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا تقریر کو عورت کی اسکرٹ سے تشبیہ دینا بھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا،،، یہ عوامی نمائندے ہمارے ہاں اخلاقی  معیار کی پستی کے  بڑے ذمہ داروں میں سے ایک ہیں۔ خود کو اقتدار میں لانے والے ووٹرز کو گالی دینا اسی وڈیرہ اور جاگیر دار کلچر کا عکاس ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں غریبوں پر ظلم کا باعث ہیں۔ ان سیاستدانوں کوروش بدلنا ہوگی اور تاریخ سے یہ سبق سیکھنا ہوگا کہ دوسروں کے لیے لگائی آگ ضرور اپنے گھر تک پہنچتی ہے