Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان کرکٹ کو متاثر کرنے والے دشمن عناصر۔۔۔ تحریر۔ نعیم الزمان

    پاکستان کرکٹ کو متاثر کرنے والے دشمن عناصر۔۔۔ تحریر۔ نعیم الزمان

    دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان کی عوام بھی کرکٹ کے کھیل کو بہت پسند کرتے ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا شمار دنیا کی ان چند ٹیموں میں ہوتا  ہے جو آئی سی سی کے تینوں مین ٹیٹل جیت چکی ہیں۔ جس میں 1992 کا ورلڈ کپ ، 2009 کا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اور 2017 کی چمپیئن ٹرافی  شامل ہیں۔ 3 مارچ 2009  پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ثابت ہوا۔ جب لاہور گلبرگ کے علاقے میں  سری لنکن ٹیم پر حملہ کیا گیا۔ دہشت گردوں نے ٹیم کو قذافی اسٹیڈیم کی طرف جاتے ہوا نشانہ بنایا۔ اس حملے میں سری لنکن ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس کے ڈرائیور نے بہادری کا مظاہرہ  کیا۔ ڈرائیور مہر خلیل  نے  فائرنگ کے باوجود بس کو نہ روکا  اور تیزی  سے سٹیڈیم کے اندر داخل کیا ۔ جس کے باعث ٹیم شدید نقصان سے محفوظ رہی۔ اس حملے میں  سری لنکن ٹیم کے چھ ارکان ایک امپائر احسن رضا اور ایک میچ آفیشلز زخمی  ہوئے۔  اور سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکار شہید  ہوے۔ سری لنکن ٹیم کے کھلاڑیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔اور ان کو سیریز ادھوری چھوڑ کر اپنے ملک واپس جانا پڑا۔ڈراہیور مہر خلیل کو ان کی بہادری پر  گورنمنٹ  آف پاکستان نے ایوارڈ سے نوازا ۔ بعد ازاں ان کو سری لنکا میں ایک میچ میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ اور ان کے اعزاز میں عشائیہ رکھا گیا ان کی بہادری پر اعزازات سے نوازا گیا۔  اس سارے واقعے کے بعد پاکستان میں شیڈول سیریز کھیلنے کوئی بھی ٹیم پاکستان آنے کو تیار نہیں تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو مجبوراً اپنی ہوم سیریز کو دوبئی منتقل کرنا پڑا۔ یہ واقعہ پاکستانی کرکٹ کے شائقین کے لئے کافی مایوس کن تھا۔اسی کے ساتھ ہی ملک میں مثبت تفریح کا سنہرا باب بند ہوا۔ جس نے پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک غیر محفوظ ملک قرار دیا۔ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو  شدید مالی نقصان پہنچایا ۔ 2011 کے ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت سری لنکا بنگلہ دیش کے ساتھ شریک میزبان تھا۔ مگر اپریل 2009 کو آئی سی سی نے پاکستان کو سکیورٹی کی بنا پر میزبانی سے دستبردار کر دیا۔  جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ یقیناً ہر پاکستانی اس بات کو باخوبی جانتا ہے اس سارے معاملے میں کس کا ہاتھ تھا۔کون سے ملک کو پاکستان کا امن ہضم نہیں ہو رہاتھا۔ لیکن پاکستانی سکیورٹی فورسز اور اینٹلیجنس  اداروں نے سیکڑوں قربانیاں دے کر اس ملک کا امن بحال کیا۔چھ سال کے طویل انتظار کے بعد2015 میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا درہ کیا۔ زمبابوے کی ٹیم کو صدارتی لیول کی سکیورٹی فراہم کی گئی۔ 2017 میں ورلڈ الیون  اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کا درہ کیا پی ایس ا یل کے کہیں میچز  پاکستان میں کروائے گئے۔  پھر ویسٹ انڈیز بنگلہ دیش زمبابوے اور ساؤتھ افریقہ کی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کا درہ کیا۔ ان تمام ٹیموں کو صدارتی لیول کی سکیورٹی فراہم کی گئی۔ پی ایس ایل کا ایڈیشن پاکستان میں کروایا گیا جس میں دنیا کے  بہترین کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ اور  سکیورٹی انتظامات سے مطمئن رہے۔ اور پاکستان کو کرکٹ کے لیے پر امن ملک قرار دیا۔

     حال ہی میں 19 سال کے بعد نیوزی لینڈ نے پاکستان کا درہ کیا ۔کرکٹ کے شائقین نے مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں کا  استقبال کیا عزت دی۔ اچھے طریقے سے ویلکم کیا۔ٹیم نے پانچ دن اسلام آباد میں قیام کیا۔ سکیورٹی انتظامات کو سراہا۔ فل پروف سیکورٹی میں پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پریکٹس سیشن کا حصہ بنے۔ 17 ستمبر کو دن 2:30 پہلا ایک روزہ میچ کھیلا جانا تھا۔ میچ شروع ہونے سے قبل ہی نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے آفیشلز نے سکیورٹی تھریٹ کی بنا پر یکطرفہ طور پر فوری دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان  گورنمنٹ اور کرکٹ بورڈ کے آفیشلز نے نیوزی لینڈ گورنمنٹ اور کرکٹ بورڈ کو سکیورٹی کی مکمل یقین دہانیاں کرائی ۔ مگر انہوں نے سیریز ادھوری چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کیا۔ جو شائقین کرکٹ کے لیے ایک دم سے لمحہ فکریہ سے کم نہیں تھا۔ اس فیصلے کے ٹھیک 24 گھنٹے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی دورہ پاکستان سے معذرت کر لی۔ جس نےکرکٹ کے متوالوں کو بے حد مایوسں کیا۔ 2022 میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کرنا ہے اب نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے اس فیصلے کے بعد دورہ آسٹریلیا بھی شک  میں پڑ گیا ہے۔ دراصل پاکستان کے خلاف ایک منظم طریقے سے سازش رچائی گی۔دنیا کا کون سا ملک دہشت گردی کا شکار نہیں؟  نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کا بدترین واقعہ جس میں دن دہاڑے مسجد میں نماز پر فائرنگ کی گئی۔ لندن اور پیرس میں دھماکے پڑوسی ملک بھارت میں آئے دن انسانی حقوق کی پامالیاں ہر وقت حالات انتہائی کشیدہ رہتے ہیں۔ اور وہاں کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ مگر وہاں تو کوئی سکیورٹی کے خطرات نہیں ہوتے۔ البتہ پاکستان کو معمولی سے ٹھریٹ کی وجہ سے  دنیا کا غیر محفوظ ملک ثابت کرنے میں بھارت اور پاکستان دشمن عناصر نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔  ایک منظم طریقے سے پاکستان دشمن عناصر نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو دھمکایا۔ان کو پاکستان سے جانے پر مجبور کیا۔حکومت اور سکیورٹی اداروں نے برقت اس سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے چند حقائق عوام کے سامنے پیش کیے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو دھمکی آمیز پیغام موصول  ہوے۔دھمکی آمیز پیغام والی ای میل کیلئے  جو ڈیوائسز استعمال کی گی وہ پڑوسی ملک بھارت سے آپریٹ کی گی تھی۔ اس سارے معاملے کو ساری دنیا افسوس ناک قرار دے رہی تھی ادھر پڑوسی ملک میں شوشل میڈیا پر بڑا جشن منایا جا رہا تھا۔ اب حکومت وقت اور کرکٹ بورڈ کی ذمّہ داری بنتی ہے کہ اس گھناونی سازش کو عالمی  فورم پر اٹھائیں انہیں دنیا کے سامنے بے نقاب کریں۔ تا کہ آئندہ یہ عناصر کسی بھی ملک کے امن میں خلل نہ ڈال سکیں۔ انشاء اللہ پاکستان  بہترین سکیورٹی فورسز  اور انٹیلیجنس اداروں کی بدولت بہت جلد اس بحران سے نکل آئےگا۔اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو چند سخت فیصلے لینا ہوں گے جو پاکستان کرکٹ کی بہتری کیلئے اور ٹیم کی پرفارمینس کے لیے مفید ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی کوئی بھی ہوم سیریز کسی دوسرے ملک میں نہ کھیلیں ۔پاکستان آنے والی ٹیموں کو بہتر سے بہتر سکیورٹی فراہم کریں۔ ٹیم کو اچھا کھیل پیش کرتے ہوئے دنیا کی نمبر ون ٹیم بنانا ہوگا۔ تب ہر ٹیم آپ سے کھیلنے پاکستان  آئے گی ۔ اس تمام تر فیصلوں کا نہ صرف شائقین پر اثر پڑا ہے بلکہ پاکستانی پلیئرز کو بھی کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔اور پلئیر پر کافی پریشر تھا کیونکہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ بھی سر پہ ہے۔ پی سی بی نے شائقین کی مایوسی کو دور کرنے اور بھرپور انداز میں لطف اندوز رکھنے کیلئے نیشنل ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کو  ری شیڈول کیا اورملتان سے پنڈی اور لاہور منتقل کیا۔ جو میرے خیال سے موجودہ حالات کے پیش نظر اچھا فیصلہ ہے۔ جس سے نہ صرف شائقین لطف اندوز ہوں گے بلکہ ٹیم کو ورلڈ کپ کی تیاری کا بھی موقع ملے گا۔ نیشنل ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ پاکستان کا پہلا ڈومیسٹک ٹورنامنٹ ہے جس میں ٹاپ کوالٹی کے پروڈکشن کے انتظامات کیے گئے ہیں۔اس  کی نشریات پوری دنیا میں دی جا رہی ہے۔جس سے دنیا بھر میں یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان واقعی  ایک پرامن ملک ہے اس کے شہری کھیلوں سے محبت کرنے والے ہیں ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو دوبارہ سے انٹرنیشنل کرکٹ کو واپس لانے کی کوشش کرنا ہو گی۔ موجودہ وزیراعظم بھی ایک کرکٹر رہ چکے ہیں ان کو بھی بورڈ  کی مدد کرنا ہو گی کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ایک پریس کانفرنس میں بتا چکے ہیں کے کرکٹ بورڈ پہلے سے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے۔ کرکٹ بورڈ صرف آئی سی سی کی فنڈنگ پر چل رہا ہے۔ کرکٹ بورڈ کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا۔ یہ سب تب ممکن ہو گا جب پاکستان کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنے گی۔ امید ہے ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں اچھا پرفارم کرے گی اور پاکستانی شائقین کرکٹ کو بھرپور لطف اندوز کرےگی۔

    آخر میں اتنا ہی کہوں گا۔پاکستان دشمنوں امن کے دشمنوں بھارتیوں کان کھول کر سن تمہارے گھناؤنے ہتھکنڈے تمہاری سازشیں ہمارے دلوں سے  کرکٹ کو نہیں نکال سکتی۔ انشاء اللہ ملک پاکستان قیامت تک قائم ودائم رہے گا۔اس کے گروانڈ بھی آباد رہیں گے۔اور پاکستان امن و سلامتی کا گہوارہ بنے گا انشاء اللہ۔

    @786Rajanaeem

  • ناشکری کرنے سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں تحریر احمد محمود

    ناشکری کرنے سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں تحریر احمد محمود

    ‏ہمارے معاشرے کا ایک تلخ ترین پہلو ناشکری کا ہے کہ ہر چیز موجود ہے اور کہہ رہے ہیں کہ ہم تنگی میں ہیں،

    کیا ہمارے رب نے کبھی ہمیں بھوکا سلایا ہے؟

    کیا کبھی ایسا ہوا کہ پہننے کو کپڑے نہیں ہیں؟

    کیا گھر کا ہر کونا اللہ پاک کے فضل سے بھرا نہیں ہے؟

    تو کیوں ناشکری

    ‏یاد رکھیں!

    اللہ پاک ناشکروں سے نعمتیں چھین لیتا ہے،

    شکر گزار بنیں اور اللہ پاک کے محبوب بن جائیں،

    آج انسان اپنے رب سے شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ فلاں چیز ہمارے پاس نہیں ہے فلاں چیز ہماری ضروریات ہیں ہم لوگ ہمیشہ اپنی ذاتی حیثیت سے بڑھ کر جو ہم سے زیادہ مالدار ہو اس سے اپنا موازنہ کرتے ہیں کہ اسکے پاس فلاں چیز ہے اور ہمارے پاس نہیں اسکے پاس وہ چیزیں بھی موجود ہیں جو اسکے کسی کام کی نہیں اور ہمارے پاس وہ چیزیں بھی نہیں جو ہماری ضروریات زندگی ہیں،

    ایک شخص جس کے پاس دنیا کا سب کچھ موجود ہے دولت عزت شہرت بنگلہ گاڑی بینک بیلنس اس کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں پڑھائی کرنے ملک سے باہر رہتے ہیں اور خاندان کے فرد سیر و تفریح کیلئے دنیا گھومنے جاتے ہیں اور وہ بیچارہ جس نے کتنی محنت لگائی ہوتی ہے کہ کس طرح سے یہ سب کچھ حاصل کیا وہ گھر میں اکیلا قیدی بن کر رہتا ہے اور ایک دن مر جاتا ہے تو جس اولاد کے لیے بندہ سب کچھ کرتا ہے وہ اولاد جب انسان کی آخری رسومات ادا ہو رہی ہوتی ہیں تو وہ شرکت بھی نہیں کرتے کہ پڑھائی نہیں ہو سکے گی بزنس میں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا گا،

    اور ایک شخص ایسا بھی ہے کے جس کے پاس نہ تو دولت ہوتی ہے اور نہ ہی شہرت اس کے پاس صرف عزت ہوتی ہے جو اسکا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے حلال رزق اور ہر ہال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہے اور جب وہ اس دنیا سے جاتا ہے تو صرف اس کا خاندان نہیں بلکہ اہل علاقہ افسوس میں ہوتا ہے اور لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں،

    کیا آپ لوگوں نے کبھی ان لوگوں سے اپنا موازنہ کیا ہے جو آپ سے کم حیثیت رکھتا ہے ہر جگہ ہر بار خود سے بڑے لوگوں کے ساتھ برابری نہ کیا کریں صرف ایک بار ان لوگوں سے اپنا موازنہ کریں جو آپ سے کم حیثیت رکھتے ہیں،

    تو آپ لوگوں کو سمجھ آجاۓ گی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے، اپنے رب کی ناشکری کرنے والوں سے مشورہ ہے کہ وہ ایک ورق لیں اور ایک مہینے تک روز مرہ کی زندگی لکھیں اور جو جو اللہ پاک کی طرف سے ان کو نعمتیں عطا کی گئی ہیں، اور جو چیز نہیں ملی اسکو بھی لکھیں اور ایک مہینے تک مسلسل لکھتے رہیں اور تیس دنوں کے بعد آپ خود دیکھیں گے کہ جو چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں وہ زیادہ ہیں یا جو چیزیں جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہوئی ہیں وہ زیادہ ہیں،

    یقیناً اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا جتنی شکر ادا کریں وہ کم ہے،

    شکر گزار بنیں اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے رہیں،

    اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین پاکستان ذندہ باد!!!

    @ahmad_mahmood3

  • جلد کی حفاظت کے لیے صحیح کاسمیٹکس کا انتخاب تحریر محمّد اسحاق بیگ

    جلد کی حفاظت کے لیے صحیح کاسمیٹکس کا انتخاب تحریر محمّد اسحاق بیگ

    کسی بھی قسم کی جلد کے لیے صحیح کاسمیٹکس ضروری ہے کہ ایک تازہ قدرتی ظاہری
    شکل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کاسمیٹکس کے رد عمل کو روکنے کے لیے الرجی جیسے
    نتیجے میں خارش ، خارش یا وائٹ ہیڈز یا بلیک ہیڈز کے ساتھ بریک آؤٹ اور دردناک
    جلد کے پھٹنے سے۔
    ہر شخص کی جلد منفرد ہوتی ہے اور ایک شخص کے چہرے کے مختلف حصے مختلف خصوصیات
    کے حامل ہو سکتے ہیں جنہیں مناسب کاسمیٹکس کا انتخاب کرتے وقت دھیان میں رکھنا
    چاہیے۔

     اگر آپ مایوس ہوچکے ہیں جب آپ کا پاؤڈر آئی شیڈو دوپہر کے کھانے سے پہلے
    سلائیڈ کر جاتا ہے یا آپ کی فاؤنڈیشن ایک لائن کی شکل جیسی  دکھائی دیتی ہے ،
    آپ کی جلد کی خصوصیات کو سمجھنا اور اپنی جلد کی قسم کے لیے مناسب کاسمیٹکس
    خریدنا ایک مشکل کام  ہے۔  آپ کو بہترین نظر آنے میں مدد کرنے کے لیے یہاں کچھ
    تجاویز ہیں۔

     ایسے کاسمیٹکس سے پرہیز کریں جو آپ کی جلد کو خشک یا خارش  میں ڈالتے ہیں۔

     ہر مختلف جلد کی قسم مختلف قسم کے کاسمیٹکس پر مختلف رد عمل ظاہر کرتی ہے ۔
    یہاں تک کہ اگر کوئی خاص برانڈ آپ کے آئی شیڈو کے لیے کام کرتا ہے ، وہی برانڈ
    لپ اسٹک کے لیے کام نہیں کر سکتا۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی پلکوں پر جلد کی
    قسم آپ کے ہونٹوں کی جلد کی قسم سے بہت مختلف ہو سکتی ہے۔  جب آپ کاسمیٹکس
    جیسے فاؤنڈیشن کا انتخاب کر رہے ہوں ، مثال کے طور پر ، کاسمیٹکس یا کاسمیٹکس
    کو خشک کرنے سے پرہیز کریں جس سے آپ کی جلد پھٹ جائے۔  بدقسمتی سے ، آپ کو ان
    برانڈ کا تعین کرنے کے لیے کئی برانڈ  آزمانا  پڑ سکتے  ہیں جو آپ کی جلد پر
    مستقل طور پر کام کرتے ہیں۔  ایک اور مسئلہ جس پر غور کرنا  چاہیے وہ یہ ہے کہ
    آپ کی جلد کسی خاص کاسمیٹک کا رد عمل پیدا کر سکتی ہے جس سے پہلے جلد میں جلن
    تو  نہیں ہوتی تھی ، لہذا آپ ایک آزمودہ اور حقیقی برانڈ کا متبادل ڈھونڈنے پر
    مجبور ہو جاتے ہیں ، جو ماضی میں اچھا کام کرتا تھا۔  جلد کی خصوصیات زندگی
    بھر میں نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتی ہیں ، جو آپ کو منتخب کردہ کاسمیٹکس کی
    قسم میں تبدیلی پر مجبور کرتی ہیں۔

     کاسمیٹکس کا انتخاب کرتے وقت اپنی جلد کے رنگ پر غور کریں۔

     یہاں تک کہ اگر خاص قسم کا کاسمیٹک آپ کی جلد کی قسم کے لیے صحیح ہے ، غلط
    رنگ کا انتخاب – جو کہ بہت ہلکا یا بہت گہرا ہے وہ کاسمیٹکس کو پرکشش سے کم
    بنا دے ۔  ایسے کاسمیٹکس کو منتخب کریں جو آپ کی جلد کی خوبصورتی کی تکمیل اور
    مماثلت کریں اور جلد کی رنگت اور ساخت میں چھوٹی چھوٹی خامیاں ختم ہو جائیں ۔
    گہری بنیادیں ، آنکھوں کے سائے کے لیے گہرے رنگ اور آئلینر چاکلیٹ یا زیتون کی
    جلد کے رنگ رکھنے والوں کے لیے بہترین موزوں ہوں گے۔  سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر
    ، اگر آپ کی جلد پیلی  ہے تو آپ کو فاؤنڈیشن اور آنکھوں کے میک اپ کے ہلکے
    رنگوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔  کاسمیٹکس کو بڑھانا چاہیے ، کبھی بھی جلد کے
    ٹنوں پر غالب نہیں آنا چاہیے۔

     معیاری میک اپ کے لیے پیسوں کی پرواہ نہ کریں ۔

     معیاری میک اپ اکثر آپ کے خرچے کو تکلیف دیتا ہے ، لیکن یہ آپ کی جلد پر ظاہر
    ہوتا ہے۔  سستا میک اپ آپ کی جلد پر  سلائیڈ  پیدا کر سکتا ہے اور اس میں
    ملاوٹ کا امکان نہیں ہے۔  یہ  سکن پر بیٹھنے کا زیادہ امکان رکھتا ہے ، جو
    پلاسٹک کی شکل دیتا ہے۔  اچھے معیار کے کاسمیٹکس تلاش کریں جو ضروری نہیں کہ
    مہنگے ہوں۔  بہتر ہے کہ اپنے آپ میں معیاری میک اپ خرید کر  اپنے پیسوں کی بچت
    بھی کریں جو آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی جلد کی قسم کے ساتھ اچھا لگتا ہے۔

     خشک جلد

     اگر آپ خشک جلد کا شکار ہیں تو مایوس نہ ہوں۔  آپ کو ایک اچھی کریم  کی بنیاد
    کی تلاش کرنی چاہئے۔  اگر آپ کنسیلر استعمال کرتے ہیں تو ، یقینی بنائیں کہ یہ
    کریم پر مبنی ہو  اور آپ کے کمپیکٹ پاؤڈر کو کمپیکٹ پاؤڈر ہی رہنا چاہئے۔  آپ
    کو سستے یا تیل سے پاک فارمولوں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ وہ آپ کے چہرے پر
    باریک لکیروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔  آنکھوں کا میک اپ ریشم کی بناوٹ والے پاؤڈر
    یا کریم آئ شیڈو سے کیا جاتا ہے اور آئلینر یا تو چمکدار پنسل یا دھندلا ہونا
    چاہیے۔  لپ اسٹکس اور ہونٹ کی چمک کے ساتھ نمی لازمی  ہے۔  ایک موئسچرائزنگ لپ
    اسٹک تلاش کریں اور ہونٹ کی چمک استعمال کریں جس میں الوویرا ، وٹامن ای جیسے
    اجزاء ہوں ، یہ دونوں ہونٹوں کی اضافی نمی فراہم کرتے ہیں۔

     نازک جلد

     ایسی کاسمیٹک تلاش کریں جن پر خاص طور پر حساس جلد کے استعمال کے لیبل لگے
    ہوں اور اپنی کاسمیٹک مصنوعات میں خوشبو سے بچیں۔  غیر الرجینک ایک اور جملہ
    ہے جو لیبلوں پر تلاش کرنا ہے۔  اہم بات یہ ہے کہ ہائی ڈائی لیولز یا پرزرویٹو
    کے ساتھ کسی بھی چیز سے پرہیز کریں۔

     مجموعہ جلد۔

     آپ یا تو اپنے چہرے پر مختلف جلد کے حالات کے لیے مختلف مصنوعات منتخب کر
    سکتے ہیں یا آپ ایسی مصنوعات منتخب کر سکتے ہیں جو خاص طور پر  جلد کے لیے
    بنائی گئی ہوں۔  یہاں تک کہ نام نہاد عام جلد میں اکثر ایسے حصے  ہوتے ہیں جو
    دوسرے  حصوں کے مقابلے میں کم یا زیادہ تیل  والے ہوتے ہیں۔  ماہانہ سائیکل کے
    دوران عام جلد میں اوقات ہو سکتے ہیں جب یہ معمول سے زیادہ تیل دار ہو۔

     چکنی جلد

     چکنی جلد کے لیے ، دھندلا ٹائپ فاؤنڈیشن لگانے سے پہلے آئل فری پرائمر
    استعمال کرنے کی کوشش کریں جو آپ کی جلد کے مسام کو بند نہ کرے۔  آئی شیڈو یا
    کاجل اور کریمی سٹائل ہونٹ پنسل کے لیے کریم سے پرہیز کریں۔

     سخت یا خشک کرنے والی صفائی کے ساتھ ساتھ چکنائی صاف کرنے والوں سے پرہیز
    کریں کیونکہ یا تو انتہائی آپ کی جلد کی قسم کے ساتھ ناگوار رد عمل ظاہر کرے
    گا۔

     یاد رکھیں حسین چہرہ ہی سب کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے ۔

     

    @Ishaqbaig___

  • بیوروکریسی بمقابلہ اللہ کریسی تحریر : حضور بخش کنول اعوان

    بیوروکریسی بمقابلہ اللہ کریسی تحریر : حضور بخش کنول اعوان

    پاکستان میں اس وقت جس تیزی کے ساتھ مہنگاٸ کا جن تھیلے سے باہر آیا ہے کہ خدا پناہ ۔

    ہر طرف ذخیرہ اندوزی ہر طرف لوٹ کھسوٹ ، چیک اینڈ بیلنس سسٹم کے مٶثر نہ ہونے کی وجہ سے عوام اشیا مہنگے داموں خریدے پہ مجبور ہے ۔

    سچ تو یہ ہے کہ اس حکومت کو اگر اندرونی و بیرونی طور پہ چیلنجز کا سامنا ہے تو اس وقت بیوروکریسی حکومت کے سنگ ہوتی کہ حکومت اپنے ریاستی معاملات دیکھے جبکہ بیوروکریسی عوام کو سستی سہولیات فراہم کرنے کو ممکن بنانے کی جدوجہد میں مصروف عمل دکھاٸ دیتی ۔
    مہنگاٸ کا آفریت اس وقت کنٹرول سے باہر ہے عوام ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس گٸ ہے ۔
    اے سی حضرات ڈی سی صاحبان اگر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاٶن کر کے مال مسروقہ ضبط بحق سرکار کر کے عوام کو سستے داموں دے کے ریلیف دیں تو کیا ہی بات ہوگی کہ عوام کسی بھی چیز کی وہی قیمت دے جو بنتی ہو ایسا نہیں کہ مفاد پرست اور یہ ڈیلر حضرات ذخیرہ اندازی کر کے اس چیز کی شارٹیج کر کے من پسند قیمت وصول کریں یہ بات خلاف ریاست ہے ۔

    اس وقت اگر ملک کی عوام کے حالات کا موازنہ کیا جاۓ تو وہ ایک وقت کی روٹی بھی بمشکل کھا پا رہے ہیں ۔
    حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت بیوروکریسی سے دوبارہ حلف لے تاکہ وہ حلف کی پاسداری کرتے ہوۓ عوام کو سستی سہولیات کی فراہمی کو تو ممکن بناٸیں ۔
    نواب آف کالاباغ نواب ملک امیر محمد خان اعوان اکثر کہا کرتے تھے کہ
    ” بیوروکریٹس پاکستان کا وہ طبقہ ہے جو اس وقت تک عام آدمی کے مساٸل سے واقف نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خود ان حالات سے نہ گزرے “
    جبکہ بیوروکریٹ بنتے ہی 90 فیصد امیروں جاگیرداروں یا سیاستدانوں کے بچے ہیں ۔
    تو جنہوں نے غربت دیکھی ہی نہ ہو جن کو علم ہی نہ ہو کہ چینی ، آٹا ، دال ، چاول ، گھی یا دیگر اشیاۓ خوردونوش کی کیا قیمت ہے ۔؟
    کیا ان قیمتوں پہ ایک دیہاڑی دار طبقہ جو پاکستان کے ساٹھ فیصد پہ مشتمل ہے وہ ایک وقت کی بھی روٹی بچوں کو کھلا سکتا ہے ۔؟
    جس شخص کی دیہاڑی دو سو سے پانچ چھ سو تک ہو کیا وہ ایک وقت میں چینی ، گھی ، دال ، چاول ، آٹا نمک مرچیں لے یا وہ سبزی یا گوشت لے ۔
    اس وقت مہنگاٸ کا مسلہ ریاستی مسلہ ہے اگر بیوروکریٹ اس وقت ریاست و ریاستی عوام کے ساتھ مخلص رہیں چیک اینڈ بیلنس سسٹم کو ٹھیک کریں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاٶن کریں تو یقین مانیں پاکستان میں مہنگاٸ کا بے قابو ہوتا جن قابو ہو جاۓ گا ۔
    بیوروکریسی کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے جب تک بیوروکریسی ٹھیک ہے تب تک حالات بہتر ہیں ۔
    اس کی ایک واضع مثال یہ ہے کہ جہاں بیوروکریسی اپنے کام سے مخلص ہے اور دیانت دار ہے وہاں کےحالات بہترین ہونگے نہ کوٸ رشوت کا چکر نہ کوٸ کام نہ ہونے کا ڈر نہ لاقانیونیت ۔
    اب یہ بھی نہیں ان کے ماتحت سب ٹھیک ہونگے ہر جگہ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں ۔
    جہاں بیوروکریسی کرپٹ ہوگی ان کے ماتحت ان کو رول ماڈل بنا لیں گے کہ یہ تو خود کرپٹ ہے ہمیں کیا روکے گا ۔
    جب ان کو ان کی کارستانیوں کے بارے آگاہی دی جاۓ تو اکثر یہ جواب ہوتا ہے کہ
    ” جا صاحب نال گل کر “
    مطلب فری ہینڈ نہ کوٸ ڈر نہ کوٸ خوف ۔
    ایسے میں حالات کو کنٹرول کرنا رشوت کے بازار کو روکنا اور جراٸم کی شرح پہ قابو پانا مشکل ترین ہوتا ہے ۔
    وہاں کے سب کام پیسے سے ہوتے ہیں اور یہی کسی معاشرے کی تنزلی کا باعث ہوتی ہے کسی شہر یا علاقے کی تباہی کا موجب ۔
    کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک وقت ایسا بھی آجاۓ کہ عوام ایک وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو جاۓ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک میں افراتفری پھیل سکتی ہے بھوک سے خودکشیوں کیتعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جراٸم کنٹرول سے باہر ہو جاٸیں گے جو ریاستی ناکامی ہوگی ۔
    نواب آف کالاباغ نواب امیر محمد خان آج کے بنگلہ دیش اور پورے پاکستان کے گورنر ہوا کرتے تھے ان کے زمانے میں اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ کہا کرتے تھے کہ
    ” اللہ کریسی “ اور یوں وہ اللہ کا نام لے کر عوامی مساٸل کے حل کیلۓ ہر ممکن کوشش کرتے اور عوام کو ریلیف دینے کیلۓ کالاباغ سے آسام تک عوام میں موجود رہتے ۔
    اس وقت ہمارے بیروکریٹس کو بھی اللہ کریسی کہہ کے مہنگاٸ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیۓ تاکہ عوام دووقت کی روٹی سکون سے کھا سکے ۔
    اللہ پاکستان کو ہر مصیبت اور دشمن کے شر سے محفوظ رکھے آمین

    ‎@Gumnam_HBK

  • ایک انسان دنیا کے لیے مثالی کیسے بن سکتا ہے ؟  تحریر : نواب فیصل اعوان

    ایک انسان دنیا کے لیے مثالی کیسے بن سکتا ہے ؟ تحریر : نواب فیصل اعوان

    جب ہم اپنے نظریہِ حیات میں ایک مقصد متعین کرلیتے ہیں اور اس مقصد کو چیلینج کے طور لیتے ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرتے ہوئے کامیابی کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھتے ہیں ہم اسی وقت دنیا کے لیے مثالی بن جاتے ہیں ۔
    اگر ہم کچھ عرصہ پہلے کی بات کریں اور تاریخ پر روشنی ڈالیں تو ہمیں ایک عظیم مثال ” ہیلن کیلر ” کی ملتی ہے جو دنیا کی پہلی لڑکی تھی جو نابینا ، بہری اور گونگی ہونے کے باوجود 12 کتابوں کی مصنفہ بن گئ ۔
    ہیلن کیلر اپنی ہمت اور ولولہ سے دنیا کے ہر اس انسان کے لیے مثال بنی جو کسی بھی چیز کو اپنی زندگی کی رکاوٹ سمجھتا ہے ۔
    بلند حوصلوں کی مالک اس بے مثال لڑکی نے ہر اندھیرے اور بے بسی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس کا روشن چہرہ دنیا کے لیے فقط خوشی کے آنسو دکھاتا رہا ۔

    ہیلن کیلر نے ایسی زندگی گزار کر یہ پیغام دیا کہ اپنے مقصد کو حاصل کرکے اس طرح بھی لوگوں کے دلوں پر راج اور ان کے لیے مثال بنا جاسکتا ہے ۔

    اگر ہم ایک اور مثال وطن پاکستان میں ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو ہمارے سامنے صائمہ سلیم کا نام آتا ہے جو پاکستان کی پہلی نابینا سی ایس ایس آفیسر بن گئ ۔ صائمہ سلیم نے اپنی محنت ، لگن اور جستجو سے حکومت کو اپنے قوانین بدلنے پر مجبور کر دیا ۔ پاکستان میں اس سے پہلے کوئ بابینا افراد سی ایس ایس کا امتحان نہیں دے سکتا تھا ۔ بلآخر صائمہ سلیم کے عزم صمیم اور بلند حوصلوں کی وجہ سے صدر پاکستان نے پبلک سروس کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ نابینا افراد کا امتحان بذریعہ کمپیوٹر لیں ۔ جب رزلٹ آیا تو تمام لوگوں کو حیران کیا کہ صائمہ سلیم کی خواتین میں پہلی جبکہ بطور مجموعی چھٹی پوزیشن آئ ۔ صائمہ سلیم نے اپنا مقصد حاصل کر کے پیغام دیا کہ میں نابینا ہوں تو کیا ہوا ۔؟

    جستجو ، عزم اور حوصلہ بلند ہے ۔
    آنکھوں کی روشنی نہیں تو کوئ بات نہیں ، میں اپنے اندر کی روشنی سے دنیا کے لیے مثال بنوں گی ۔
    ہمارے اردگرد ایسی کٸ مثالیں موجود ہیں جو شاید آپ میں سے اکثر لوگ جانتے ہونگے ۔
    اگر کوٸ انسان اپنی زندگی کا ایک مقصد بنا لے تو اس مقصد کے حصول کیلۓ ہر وہ جاٸز کام کرے جس سے مقصد میں کامیابی ہو تو ایسا شخص اپنی ذات کو اوروں کیلۓ ایک تاریخ بنا جاۓ گا کہ واقعی اس شخص نے اپنے مقصد کے حصول کیلۓ بہت محنت کی ہے بہت پریشانیوں کا سامنا کیا ہے کٸ مصاٸب و آلام سے گزرا ہے کٸ بار گرا ہے گر کے سنبھلا ہے سنبھل کے گرا ہے اور گرتے گرتے ایک روز اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہے ۔
    زندگی تجربوں کا نام ہے اور تجربہ کار وہی ہے جو اپنے آپ کو لوگوں کیلۓ مشعل راہ یا مثالی بنا گیا ہے ۔
    معاشرے میں مثالی بننے کیلۓ ہر اس چیز سے چھٹکارا لازم ہے جو ہمیں ایک معاشرے کا مثالی کردار بننے کی راہ میں رکاوٹ بنے ۔
    خود کی ذات کو اس قدر مثالی بناٶ کہ تاریخ جب لکھی جاۓ تو وہ آپ کے نام کے بغیر مکمل ہی نہ ہو ۔
    شیخ عاطف موٹیویشنل سپیکر ہیں میں نے اکثر انہیں کہتے سنا ہے کہ
    ” زندگی تجربوں اور تجزیوں کا نام ہے بیٹا زندگی ایک کٹھن سفر کا نام ہے تو دو روپے کے مسلوں پہ رک گیا تو اس معاشرے میں کیسے سرواٸیو کریگا کیسے رہے سکے گا اس معاشرے میں کیسے منہ دیگا بلاٶں کے آگے تو ہار گیا تو پیچھے ہٹ گیا ان دو روپے کے مسلوں کے پیچھے “
    اسی لیۓ انسان پہ جتنی بھی مشکلات آٸیں انسان کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیۓ ۔
    اپنے آپ کو ہر مشکلات، مصیب و الم کے بعد بھی مستقل مزاجی سے محنت کر کے مثالی بناٶ تاکہ آپ کا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جا سکے

    @NawabFebi

  • ایرک ہابز بام تحریر : اقصٰی صدیق

    ایرک ہابز بام تحریر : اقصٰی صدیق

    اکتوبر 2012 ء میں تاریخ نویسی کا ایک بہت بڑا نام ایرک ہابز بام اس دنیا سے گزر گئے۔ہابز بام 1917ء میں مصر میں پیدا ہوئے، ان کا بچپن آسٹریا اور جرمنی میں گزرا۔ ان کے والدین یہودی تھے اور بچپن ہی میں فوت ہوگئے تھے۔ایرک ہابز بام نے پچانوے برس عمر پائی۔
    یہ برطانوی مؤرخ بیسویں صدی کی تاریخ نویسی پر چھائے ہوئے ہیں۔ اور دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات میں ابھی بھی تاریخ کا کوئی نصاب ان کی کتابوں اور مضامین کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جاتا۔
    1930 ء میں جب جرمنی میں ہٹلر کی آمریت کا آغاز ہوا تو ہابز بام اپنے چچا کے ساتھ لندن منتقل ہوگئے۔ جہاں انہوں نے تعلیم میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمرج یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے وظیفہ حاصل کیا اور وہی ان کے علمی سفر کا شاندار آغاز ثابت ہوا۔
    ہابز بام نے تقریباً ایک صدی پر محیط اپنی زندگی میں میں ہونے والے واقعات پر نہ صرف بہت گہری نظر رکھی، بلکہ بہت کچھ لکھا۔ اور ان کی موت کے وقت ان کے بستر پر موجود واحد چیز اخبارات تھے جن سے وہ حالات سے آگاہ رہتے تھے۔

    ایرک ہابز بام کی تاریخ نویسی کی خاص بات یہ ہے، کہ وہ حال کی سیاست اور معیشت کو ماضی کے اسباق کی روشنی میں بڑے دلچسپ انداز سے بیان کرتے تھے آخری دنوں میں دیے جانے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مغربی بنگال میں سی پی ایم حکومت کی فتح پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تاریخی سوالات پر سیدھا جواب دینا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ بہت سارے پہلوؤں کا احاطہ کرنے پر زور دیتے۔

    انہوں نے تاریخ نویسی کو ایک نئی جہت سے روشناس کروایا۔جس کی خاص بات سماجی اور ثقافتی تاریخ پر بہت زیادہ زور دیا جانا تھا۔
    ایرک ہابز بام نے اپنی تاریخ نویسی کا آغاز اس بات پر غور و خوض سے کیا کہ تاریخ میں سماجی احتجاج کی کونسی پرتیں رہی ہیں وہ صرف اس بات سے قائل نہیں ہوتے تھے کہ کوئی ایک محرّک مثلاً مذہب، معیشت یا روایات لوگوں کو احتجاج پر مجبور کرتی ہیں۔ سماجی احتجاج کی تاریخ میں مختلف مثالوں کو کریدنے کے بعد انہوں نے اس موضوع پر بھی بہت کچھ لکھا۔ کہ کس طرح سماج میں مختلف طبقات کس طرح روایات گھڑتے ہیں اور کیسے ان” گھڑی ہوئی روایات” کو اجتماعی یادداشت کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

    ان کے مطابق روایات گھڑنے میں عوام سے زیادہ ریاست یا قوم پرست اور فرقہ پرست عناصر اپنا کردار ادا کرتے ہیں ان کی مشہور ترین کتاب” یورپ کا عہدِ انقلاب” تھی
    ۔جس میں انہوں نے 1789ء کے انقلاب فرانس سے 1848ء کے یورپی انقلابات کا احاطہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے انیسویں اور بیسویں صدی کی تعریف پر بیش بہا کتابیں لکھیں۔ ہابز بام کا کہنا تھا کہ قوموں کے ارتقاء اور قوم پرستی کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے خود کو لگی بندھی تعریفوں سے دور رکھنا ضروری ہے، کیونکہ” قوم” بذات خود ایک گمراہ کن تصور ہے جسے ریاست اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔
    اور قوم پرست اپنے مقاصد کے لیے اور دونوں صورتوں میں یہ تنگ نظری کا باعث بنتا ہے، لوگوں کا کوئی بھی گروہ جمع ہوکر خود کو” قوم” کہلوانا شروع کر دیتا ہے یا ریاست۔

    ایرک ہابز بام کا کہنا تھا کہ قوم کا تصور اور قوم پرستی کے مبلغ ہی پروان چڑھاتے ہیں اور قوموں کی تشکیل میں سوشل انجینئرنگ یا سماجی کارگری کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ قوم کوئی فطری یا خداداد اکائی نہیں۔ جس طرح اچھی یا بری اکائیاں تشکیل دی جاتی ہیں اسی طرح قوموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ جسے ریاستیں اپنے طریقے سے اور قوم پرست عناصر اپنے انداز سے پختہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے مختلف سچی جھوٹی روایات کااستعمال کیا جاتا ہے۔

    ایرک ہابز بام کہتے ہیں کہ قوموں کو سمجھنے کے لئے صرف سیاسی تاریخ نہیں، بلکہ سماج، معیشت، نفسیات اور ثقافت وغیرہ کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہابز بام کے تجزیے میں قوموں کی تشکیل کے تین مرحلے ہیں۔
    پہلے مرحلے میں جو ہزاروں سال پر محیط ہو سکتا ہے صرف ایک لوک صحافت ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ ادبی شکل اختیار کر لیتی ہے مگر اس کی کوئی سیاسی یا کوئی قومی شکل نہیں ہوتی، بس لوگ ساتھ رہے ہوتے ہیں اور مشترکہ ناچ گانے اور کہانیاں پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں۔

    جبکہ دوسرے مرحلے میں چند قوم پرست نمودار ہونے لگتے ہیں، جو دیگر اقوام کی بالادستی کی نشاندہی کرتے ہیں جو بڑی حد تک درست بھی ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ بالادست قوم کے حکمرانوں کے بجائے اس کی قوم کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
    تیسرے مرحلے میں اس "قومی تصور”کو عوامی حمایت حاصل ہو جاتی ہے۔
    اور چند جنگجو قوم کے ترجمان بن بیٹھے ہیں، ہابز بام کا کہنا تھا کہ سنجیدہ مورخ خود کبھی بھی قوم پرست نہیں ہو سکتا، کیوں کہ کسی بھی فرقہ پرست کی طرح کوئی قوم پرست صحیح تاریخ نہیں لکھ سکتا۔کوئی قوم اس وقت تک قوم نہیں بن سکتی جب تک کہ وہ تاریخ کو توڑ مروڑ کر مسخ نہ کر دے۔
    جبکہ کہ اچھے مورخ کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ تاریخ کو مسخ ہونے سے بچائے۔ ہابز بام ایک عظیم مورخ اور سماجی تجزیہ نگار تھے۔جن کی تحریروں سے نہ صرف یورپ بلکہ دیگر علاقوں کے سماجی ارتقاء کو بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کاش! ہمارے سیاستدان فوجی اور افسر شاہی سے تعلق رکھنے والے مجھے خود ساختہ تجزیہ نگار بھی ایرک ہابز بام کی کتابیں پڑھ کر کچھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

    @_aqsasiddique

  • پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان  تحریر چوہدری عطا محمد

    پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان تحریر چوہدری عطا محمد

    جیسے ہی پینڈورا پیپرز کے شائع ہونے کی خبر منظر عام پر آئی تو پاکستان میں تحریک انصاف کے مخالفین خصوصا ن لیگ اور اس کے حامی صحافیوں نے بغلیں بجانا شروع کر دی یہاں تک کے ن لیگ کے سنئیر رئینماء احسن اقبال نے تو باقاعدہ پیپرز کی اشاعت سے پہلے کہنا شروع کر دیا کہہ کپتان استعفی دیں احسن اقبال نے تو پہلے ہی کہہ دیا کہہ کپتان وزیز اعظم پاکستان کا نام آگیا ہے لہٰذا وہ استعفی دے دیں اصل میں یہ سب کیسے ہوا اس کیوجہ ہے عمر چیمہ اس کے اندر تحقیقات کا حصہ تھے اور لگ ایسے رہا ہے کہہ کپتان کو پینڈورا پیپرز میں فکس کرنے کی بڑی کوشش کی گئ۔ کپتان کو زمان پارک میں ایک دوسرے ایڈریس میں رئینے والے فرید الدین صاحب سے بھی منسلک کرنے کی ناکام کوشش کی گئ اگر پیپرز پڑھیں تو اس میں کپتان کا نام اس امر میں ہے ہے یہ پیپرز بہت واضح تصدیق کرتے ہیں کہہ کپتان کی کوئی بھی آفشور کمپنی نہیں ہے کئ ن لیگ کے حمایت یافتہ اور سرکردہ لوگوں کے خواب ایک بار پھر ٹوٹ گے مٹھائیاں پھر ہضم نہ ہوئیں غور طلب بات یہ ہے کہہ پینڈورا پیپرز سے دو تین دن پہلے نواز شریف نے لندن میں اور احسن اقبال نے پاکستان میں یہ کیسے کہا کہہ احتساب تو اب عمران خان کا ہوگا۔ اصل میں اسکی بڑی وجہ ان کے کچھ قریبی صحافی اور میڈیا کا ایک ادراہ تھا جس نے ان کو کہا تھا کہہ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کا نام ہے ان پیپرز میں۔ بات تو صیح ہے عمران خان کا نام تو ہے لیکن وہ نام اس لئے ہے کہہ تصدیق کی گئ ہے کہہ کپتان کے نام پر کوئی آفشور کمپنی نہیں ہے
    اصل میں ن لیگ نے حسب روایت جلدی مٹھائی کھا لی ان کو جب کہا گیا کہہ کپتان کانام ہے تو ن لیگ نے سمجھا ایسے ہی نام ہوگا جیسے ہمارا نام آیا تھا
    سچ بات تو یہ ہے کہہ پاکستان میں کوئی بھی سیکنڈل آۓ تو ممکن ہی نہیں اس میں ن لیگ کانام نہ ہو اس بار بھی ان کی اپنی فیملی کے نام موجود ہیں اسحاق ڈار کا بیٹا اور مبینہ طور پر مریم نواز کے داماد کا نام ان پینڈورا پیپر میں موجود ہے شاید

    لیکن کپتان جناب وزیز اعظم عمران خان نے اسپر بھی ہتھوڑا مارا اور پینڈورا پیپیرز کو اپنی ٹوئیٹ کے زریعے ویلکم کیا اس سے اب زیادہ پریشانی ہو گی ن لیگ اور تمام ناجائز آفشور کمپنیاں رکھنے والوں کو۔
    آپ کو یاد ہوگا کہہ جب پانامہ پیپرز آۓ تھے تو اس وقت کی ن لیگ کی حکومت نے اس کو سازش قرار دیا۔ اور کسی نے کہا کہہ یہ غیر ملکی سازش ہے کسی نے کہا کہہ عوام بھول جاۓ گی مولانا فضل رحمان نے کہا کہہ نواز شریف ڈٹ جاؤ

    لیکن اب پاکستان بدل چکا ہے۔ آج کے انٹرنیشل صادق و امین وزیز اعظم نے پیپرز کو سازش نہیں کہہ رہے بلکہ خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اور ان پیپرز کے اندر آنے والے لوگوں سے ان کی آفشور کمپنیوں کی تحقیق کے لئے اپنی سربراہی میں پیپرز آنے کے چوبیس گنٹھے کے اندر ایک سیل قائم کر دیا یہ ہی تو ہے نیا پاکستان
    الحمدللّٰہ کپتان لو اللہ نے ایک بار پھر سرخرو کیا اور کپتان نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہہ پاکستان اب بدل چکا ہے پاکستان کے وزیز اعظم کانام اب کسی انٹرنیشنل کرپشن کیسز میں نہیں آتا بلکہ تمام دنیا میں وزیز اعظم پاکستان کے کاموں کو سراہا جاتا الحمدللّٰہ نیا پاکستان۔

    ‏@ChAttaMuhNatt

  • گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    میری لاہوری قیام گاہ سے خاصی دور جلسہ گاہ ہے جہاں اس وقت ایک بڑے یا بہت بڑے جلسے کی تیاریاں جاری ہیں ۔ جب آپ یہ سطریں  زہر مار کر رہے ہوں گے تو یہ چھوٹابڑا یا بہت بڑا جلسہ ہو چکا ہو گا، اس کے بارے میں کسی پیش گوئی کی ضرورت نہیں ۔ شاہی قلعے اور شاہی مسجد کے نزدیک ترین پڑوس میں مینار پاکستان اور اس کا سبزہ زار واقع ہے ۔ یہ جگہ اس شہر کی سیاسی جلسہ گاہ نہیں ۔ اس شہر کی تاریخی جلسہ گاہ اور سیاسی علامت باغ بیرون موچی دروازہ ہے۔  لیکن پرانی سیاست والا موچی دروازہ اب عہد حاضر کی حاضری کی وسعت کو سمیٹ نہیں سکتا۔ آج کے سامعین جلسہ کو نظریات اور سیاسی مقام و مرتبہ سے کہیں زیادہ مال و دولت کی فراوانی دکھائی جاتی ہے۔ جس کی بہتر نمائش مینار پاکستان میں ہوتی ہے۔ جلسہ عام جدید سیاستدانوں کا ہو یا جبہ ود ستار والوں کا، سب کے انداز خسروانہ ہی ہوتے ہیں ۔ موچی دروازے کا ڈیڑھ دو سو روپے خرچ والا پبلک جلسہ آج کروڑوں بلکہ ان سے بھی زیادہ کے خرچ سے منعقد ہو تا ہے ۔اس سیاسی انقلاب کا ایک خوفناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایسے بڑے بڑے جلسے کر نے والے ان کا خرچہ سیاست سے وصول کرتے ہیں۔ اور ہم سب کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن پھر کیا کر تے ہیں، اسے مت پوچھئے۔ ہماری حالت دیکھئے کہ اب کوئی ایسا گہر اکنواں بھی باقی نہیں رہا جس میں ہمارے زوال کا گوشوارہ گرتے گرتے گم ہو جاۓ ۔ ہمارے اس ملک کی سرحد میں ابھی تک کیوں باقی ہیں اور ہمارے مٹانے والے کن سوچوں میں پڑے ہیں معلوم نہیں۔ لیکن عمرانی حکیموں اور قوموں کے حالات سے تعارف رکھنے والوں نے ایک خیال یہ ظاہر کیا ہے کہ فی الحال ہمارے آقا ہمیں زندہ تو رکھنا چاہتے ہیں مگر بہت کمزور ،کسی ایٹمی قسم کے نخرے اور نخوت کے بغیر ۔ معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی اور جناب آصف زرداری کی پانچ برس کی حکومت نے ان کا بہت سارا کام نپٹا دیا ہے اور اس ملک کے معاشرے میں کر پشن کا زہر گھول کر اسے بے جان کر دیا ہے ۔اب میں دفاع کے قابل نہیں رہا۔ ادھر بھارت نے عام لام بندی کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔ جس میں ہر بھارتی کو فوجی تربیت دی جائے گی اور اس کی فوج میں بھرتی بھی ہو گی، اسرائیل کی طرح۔ 

     میں نے اپنی ذاتی اور قوم کی حالت دیکھ کر دل کو جو پریشانی لگا لی  تھی۔  اس سے گھبرا کر میں ایک روحانی رہنما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کا خیال تھا کہ ”ایک وہ زمانہ تھا جب قومیں بنے اور بگڑنے میں برسوں لگادیتی تھیں یعنی وہ بننے اور پھر مٹنے میں بھی کئی برس اور نسلیں لگا دیتی تھیں۔ لیکن اب زمانہ بہت تیز ہو چکا ہے۔ برسوں کے کام مہینوں میں ہو رہے ہیں۔ ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لئے جو ہو سکتا ہے وہ کرتے رہیں۔ قلبی اطمینان کی حالت میں ان حالات سے گزر جائیں۔ ہم نے خود یہ ثابت کیا ہے کہ ہم ایک جدید ریاست چلانے کے اہل نہیں ہیں۔ نہ ہمارے اندر اس کاجذ بہ ہے نہ ہماری نیت درست ہے اور نہ ہی سمجھ بوجھ۔ ہمارے بانی اور قائد کی جیب میں کھوٹے سکے تھے اور ہمارے سابقہ حکمرانوں کے ایک مستند دانشور نے فیصلہ دیا تھا کہ ہم ابھی آزادی کے اہل نہیں ہیں ۔ ہندو ہم سے کچھ بہتر ثابت ہوۓ جو زوال

    نہیں استقلال کی طرف بڑھ رہے ہیں”۔ ہماری ایک مذہبی جماعت کے سربراہ سید منور حسن نے حالات سے گھبرا کر قوم سے استغفار کی اپیل کی ۔ گزشتہ جمعہ کو قوم نے اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ یہ ایک بڑا ہی مشکل کام ہے ، پہلے گناہ کا اعتراف کر نا پڑ تا ہے اور پھر اس کی معافی اور یہ سارا عمل خاموشی کے ساتھ بندے اور اس کے آقا کے درمیان رہتا ہے ۔ استغفار کا مطلب ہے پہلے کسی کو اپنا آقا تسلیم کر نا پھر اس سے معافی مانگنا۔ یہ ایک بڑاہی نیک انسانی عمل ہے جو کسی کسی کے

    نصیب میں ہو تا ہے۔ ایک برقی پیغام ملا جس نے استغفار کا ایک انتہائی مؤثر واقعہ بیان کیا ہے۔ میں آپ کو اس میں شریک کر تاہوں۔ حضرت امام احمد بن حنبل کو سفر میں رات آگئی تو وہ قریبی گاؤں کی مسجد میں رات بسر کرنے چلے گئے اور صحن میں لیٹ گئے۔ چوکیدار آیا اور اس نے انہیں مسجد سے باہر نکال دیا۔ وہ مسجد سے باہر ایک جگہ پر لیٹ گئے تو وہی چوکیدار پھر آیا اور ان کو پاؤں اور ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا دور لے جاکر پھینک دیا۔ اس وقت ایک صاحب آئے اور انہیں گھر لے گئے ۔ وہ کچھ پڑھتے رہے ۔ امام نے پوچھا کیا پڑھ رہے ہیں ؟ اس نے جواب میں کہا استغفار کرتا رہتا ہوں۔ اس کا فائدہ کیا ہو تا ہے ، امام کے اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میری ہر دعا قبول ہوتی ہے البتہ میری ایک دعا ابھی تک قبول نہیں ہوئی اور وہ ہے امام احمد بن حنبل سے ملاقات، جس کی مجھے شدید خواہش ہے۔اس کے جواب میں امام نے کہا کہ قدرت اسے تو زمین پر گھسیٹ کر تمہارے پاس لے آئی ہے۔ 

    @candiusman

  • زندگی کیا ھے   تحریر :سریر عباس 

    زندگی کیا ھے  تحریر :سریر عباس 

    زندگی ایک کتاب ھے جسکے پہلے صفحے پر پیدائش اور آخری صفحے پر موت لکھا ھوتا ھے. بیچ کے سارے صفحات خالی ھوتے ھیں آپ جو چاہیں لکھیں. لیکن لکھتے وقت یہ ضرور سوچیں کہ احکام الحاکمین جب دیکھیں تو دیکھتے وقت شرمندگی نہ ھو. 

    مولانا روم علیہ السلام نے ایک بڑا خوبصرت واقعہ لکھا آپ لکتھے ھیں کہ ایک شخص کو قیمتی ھیرا ملا انمول ھیرا وہ اسے لے کر جوھری کے پاس گیا. اور اسکی قیمت وچھی تو جوہری نے ہیرا دیکھا اور کہا کہ میں اپنی پوری دکان بیچ دوں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گی اس پورے بازار میں اسکی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا. تم ایسا کرو یہ ھیرا بادشاہ وقت کے پاس لے جاؤ کیا پتا انکے پاس اسکی قیمت ھو وہ شخص ھیرا لے کر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا. بادشاہ نے جب وہ ھیرا دیکھا تو وزیر سے کہا اسکی قیمت کیا ھو گی. تو بادشاہ کو بتایا گیا کہ اگر ھم اپنا تخت و تاج بھی بیچ دیں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گیبادشاہ نے مجھےکسی صورت میں یہ ھیرا چاہیے تو وزیر نے کہا. آپ یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں اس نے اسے کہا آپ یہ ہیرا مجھے دے دیں. اور صبح سورج طلوع سے غروب آفتاب تک آپ محل سے جو چاھو لے کر جا سکتے ھو وہ شخص چلا گیا. ساری رات اسکو نیند نہیں آئی صبح صبح طلوع آفتاب سے پہلے وہ محل داخل ھو گیا. اسکو کسی نے بھی نہیں روکا وہ جب پہلے کمرے میں داخل ھوا تو ادھر شاھی لباس ٹانگے ھوئے تھے اس نے پہلے کبھی شاھی لباس نہیں پہنا تھا. اس نے سوچا ابھی صبح کا وقت ھے اس نے ایک لباس پہنا شیشے میں دیکھا پھر دوسرا پہنا بڑی دیر کے بعد اسکو ایک لباس پسند آیا اس نے کہا واہ بھائی میں تو شہزادہ لگ رھا ھوں پھر وہ دوسرے کمرے میں داخل ھوا وہاں طرح طرح کے کھانے بنے ھوئے تھے وہ بیچارہ رات کا بھوکا تھا اس نے کھانہ شروع کر دیا کبھی یہ کھا رھا ھے. کبھی وہ کہا رہا ھے پھر اس نے اسیر بھر کر کھانا کھایا پھر وہ تیسرے کمرے میں داخل ھوا ادھر شاھی بستر لگا ھوا تھا. کنیزیں پنکھے ہاتھ میں لیےکھڑی تھیں اس نے ابھی بہت وقت ھے تھوڑا آرام کر لوں وہ رات کا سویا ھوا نہیں تھا جیسے ھی لیٹا سو گیا. پھر وقت ختم ھو گیا دربان نے آکر اسے اٹھایا جیسے ھی اسکی آنکھ کھلی انہوں نے کہا اٹھو بھائی ٹائم ختم ھو گیا. وہ اٹھتے ھے چیزیں اٹھانے لگا دربان نے بولا ابھی تم ایک سوئی بھی نہیں لے کر جا سکتے اس نے کہا میں نے تو کچھ بھی نہیں اٹھایا انہوں نے اسے محل کے باھر پھینک دیا. 

    مولانا روم علیہ السلام فرماتے اس نے قیمتی ھیرے کو ضائع کر دیا وہ اگر معقول لباس پہنتا مختصر کھانا کھاتا بجائے اچھا کھانا کھانے کے اور وہ نہ سوتا دن بھر سمان نکال کے محل سے باھر رکھتا شام تک اسکا اپنا محل تیار ھو چکا ھوتا. 

    ھم اپنی زندگی بھی یونہی اچھے اچھے لباس پہننے اور اچھے اچھےکھانہ کھانے میں اور سونے میں گزار دیتے جب موت کا فرشتہ آتا ھے تو ھم کہتے ھیں کہ تھوڑی سی مولت دے دو میں دو رکعت نفل ادا کر لوں موت کا فرشتہ کہتا ھے اب نہیں وہ بولتا ھے ایک بار الحمد للہ سبحان اللہ کہ لینے دے لیکن موت کا فرشتہ کہتا ھے اب تمہارا ٹائم ختم ھو گیا علمند  انسان وہ ھے.  وہ دنیاکی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے دنیا میں رہنا ھے اور آخرت کی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے آخرت میں رہناھے

    @1sareer

  • لہجوں میں بڑھتی تلخیاں تحریر: اویس کورائی

     آج ہم لفظ کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے– کیا ہوتے ہیں؟ کب،کہاں اور کیسے ادا کیے جائیں–؟ شاید بہت کم،نایاب لوگ الفاظ، پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ لفظوں کے سہارے سے ہم روز مرہ زندگی میں اپنی بات مکمل کرتے ہیں۔ معاشرے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے،جیسے الفاظ کی ردوبدل میں کافی حد تک اختلاف پایا جاتا ہے۔

    دراصل لفظ ہی وہ واحد ذریعہ ہے ہیں جو ہمیں جوڑتے—- سنوراتے—بکھیرتے—-گھائل کرتے ہیں۔رشتوں کی طرح الفاظ کی نزاکت کو سمجھنا اور پرکھنا بھی انتہائی مشکل کام ہے۔دیکھا جائے تو کچھ لوگ کہتے ہیں الفاظ سے کیا ہوتا ہے۔ وہ اچھے ہوں یا برے شاید وہ حقیقت سے آشنا نہیں ہوتے—کبھی کبھی اپنے ہی کہے بے جا لفظ ہمیں خود انتہا اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ہم دنیا کے دستور کے مطابق لوگوں کی بے تکی اور فضول باتوں کی طرف توجہ تو مرکوز کرتے ہیں۔۔۔۔لیکن کبھی اپنے سے ہونے والی غلط فہمیوں اور تلخ لہجوں پر غور وفکر کیوں نہیں کرتے۔؟

                        الفاظ کے غلط استعمال سے ہی لحجوں میں تلخیاں بڑھتی ہیں۔ روزمرہ کے لین دین ،گفتگو کے دوران ہم کبھی کبھی ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جن کا ہمیں اندازہ اور پچھتاوا کچھ عرصے بعد ہوتا ہے۔—- ۔ اور ہمیں چیخ چیخ کر اپنے اختیار کیے گئے غلط رویوں اور الفاظ پر دل ہی دل میں شرمندگی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔

                لیکن یہاں ایک بہت ہی اہم نقطہ نظر آتا ہے غصہ تو سب کو آتا ہے لیکن کیا نظر انداز کوئی کرتا ہے—؟؟؟ کیا ہم میں سے کوئی انسان اس بات کا فیصلہ کرسکتا ہے غصے میں ساری حدود پار کر کے کسی بھی انسان کی دل آزاری کی جاۓ۔ہم میں سے بہت کم لوگ ہوں گے جو دوسروں کے تلخ رویوں کو جانتے بوجھتے بھی ہنس کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید انھیں غصہ نہیں آتا یا دوسری صورت میں وہ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ ان کے پاس ہمارے کیے گے بے جا سوالات کے جوابات نہیں ہیں۔ میری نقطہ نظر کے مطابق خود سے کسی طرح کی قائم کردہ راۓ بالکل ہی غلط ثابت ہوتی ہے بعض اوقات۔ زندگی تو نام ہی مشکلات کا ہے پر ہم بہادر اور نڈر بننے کی جاۓ کیوں اپنے رویوں میں بدالو نہیں لاتے۔ط

              ہم میں سے کوئی انسان اس بات کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ ہماری گلی سڑی کھوپڑیوں— لاشوں کا منظر بھی دہشت ناک ہے، ہمارے مرجھائے ہوئے دلوں—- لفظوں– تلخ لہجوں اور رویوں سے زیادہ وحشت ناک ہے——–!! سوچیں اس بات کو —–مکمل ہوش و ہواس—– اطمینان کے ساتھ۔

     اخر کار ہم خود کو سدھارتے کیوں نہیں— دوسروں کا غصہ ان کے بولے گئے بے معنی الفاظ کسی کو بھی جانے انجانے میں بول دیتے ہیں۔ بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ چیزوں کی توڑ پھوڑ سے ہماری بے چینی — ہمارا غصہ سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ کیا آپ میں سے کوئی ہے جو اس حقیقت پر اتفاق کرے۔ ہر گز نہیں—– ایک بات تو طے ہے کہ راویوں اور لہجوں میں تلخیاں—- لفظوں کا بولنا—- غصہ کرنا یہ سب تو ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔

                                اپنے اور دوسروں کے درمیان ہونے والی غلط فہمیاں—بدگمانیاں دور کرنے کی بجائے کیوں اتنی زیادہ حد تک بڑھاتے جا رہے ہیں۔

    ہمارے لہجوں میں تلخیاں کم ہونے کے بجائے آۓ روز بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ کچھ ایسے الفاظ جن کا وجود کبھی ہماری زندگی میں ہی نہیں ہوتا ہم ان کو سننے کے بعد وقتی طور پر نظر انداز تو کرتے ہیں لیکن—– یوں اچانک پلٹ کر ایک دن واپس کیسے آ جاتا ہے۔وہی چند الفاظ اچانک یاد آجائیں تو چبھنے لگتے ہیں کوئی بھی انسان کتنی بے باکی سے آپ کو چند الفاظ سنا کر چلا جاتا ہے — بولنے سے پہلے ایک دفعہ سوچتا شاید مجھے بھی تکلیف ہو گی۔

                                  لفظوں کے ساتھ بھی ہمارا تعلق انتہائی گہرا ہوتا ہے۔جیسے ماں باپ ک ساتھ ہمارا رشتہ بہت ہی پختہ ہوتا ہے۔ اسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ہم نے کبھی اپنے سخت الفاظوں—- تلخ رویوں پر غور وفکر کیا ہے—؟؟؟؟؟نہیں —- آخر —- ایسا کیوں–!!!

    تو آئیں ایک بہت ہی سادہ سی مثال سے اسے سمجھتے ہیں :::

                    "”””آۓ روز ہم بے شمار الفاظ استعمال کرتے ہیں جن میں thanks ,sorry, welcome, I love u سے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جب کوئی اجنبی آپ کو یہ الفاظ آ کر بولے تو کیا آپ فوراً اس کے قائل ہو جاتے ہیں۔نہیں——- ہرگز نہیں—–کچھ لوگ انھیں محض دکھاوے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ان کے پیچھے چھپی حقیقت کچھ اور ہی رنگ دکھاتی ہے۔

    ہمارے لیے ان سب الفاظ پر زندگی میں بھروسہ کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا کہ کوئی انھیں محض دکھاوے کے لیے استعمال کر رہا ہے یا سچ دل سے۔ کسی بھی انسان کے دماغ میں کیا چل رہے ہمیں بھلا کیا معلوم۔

            ہم جیسے لوگ الفاظ بولنا تو جانتے ہیں شاید ان کی قدر کرنا نہیں جانتے—– وہ بھی ہمارے لئے کتنے نایاب ہیں۔تو آئیں سماجی رویوں میں بڑھتی تلخیاں 

    کم کریں اور آپس میں ہونے والی دوریوں کا فرق مٹائیں— ایک دوسرے کی قدر کرنا سکھیں—- اوروں کو اذیت سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں——-!!!

    مناسب رویے اور الفاظ زیر استعمال لائیں۔

    اچھا رویہ اور خلوص تو ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ پھر ہم کیوں دوسروں کو مایوس کرتے ہیں اپنا تلخ رویہ اختیار کر کے۔

    @korai92