Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ملک میں نفاذ اسلام کا موضوع  تحریر :جواد خان یوسفزئی

     ایک زمانے میں بہت زیر بحث رہتا تھا۔ آج کل اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسلام پسند جماعتیں ایک تو کافی غیر فعال ہیں دوسرے ان کی توجہ امور خارجہ پر زیادہ رہتی ہے۔ دیگر جماعتیں اسلام کی بات کرتی ہیں لیکن بغیر سوچے سمجھے۔ عام آدمی کے ذہن میں مملکتی سطح پر اسلام کا مطلب غیر مسلموں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے آگے کچھ نہیں۔
    اسلام کا مقصد انسانی معاشرے کی ایک خاص نہج پر تعمیر ہے۔ معاشرے کی تعمیر کے لیے اخلاقی تعلیمات کے علاوہ قوانین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام کا بھی اپنا ایک مفصل قانونی نظام ہے جسے ملک کا نظام بنانا ہی نفاذ اسلام کی بنیاد ہے۔
    1977 اور 1985 کے دوران اسلامی قوانین کے نفاذ کی کچھ کوششیں ہوئیں۔ ان میں زکواۃ و عشر آرڈنینس کو چھوڑ کر باقی کچھ مخصوص جرائم کی سزاؤں کے بارے میں ہیں جنہیں حدود کہا جاتا ہے۔ قتل، زنا، بہتان تراشی اور چوری۔
    ظاہر ہے ان چار جرائم کے علاوہ بھی بے شمار جرائم معاشرے میں ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا قانونی نظام انگریزی قانون پر عمل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مندرجہ بالا نافذ شدہ قوانین سزائیں بھی بہت مخصوص حالات میں قابل نفاذ ہیں اور باقی حالات میں ان جرائم پر قانون تقریباً خاموش ہے۔
    یہ درست ہے کہ فقہ میں حدود کے علاوہ دیگر جرائم پر سزاؤں کی بھی گنجائش ہے اور انہیں اصطلاحی طور پر "تعزیرسیاسیہ” کہا جاتا ہے یعنی ایسی سزائیں جن کا تعین حکومت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان کا تعین قاضی (عدالت) کی صوابدید ہے۔ لیکن پورے قانونی نظام کی تفصیلات کو عدالت کی صوبدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ تحریری قانون بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو قانون کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا کیونکہ قانون میں یکسانیت بنیادی چیز ہوتی ہے۔
    ایسا بھی نہیں کہ تعزیرات کو مکمل طور پر عدالت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ فقہاء نے بہت سے جرائم کے لیے سزائیں تجویز کی ہیں، جن سے مدد لی جاسکتی ہے۔ ان کے علاوہ ایک مثال ترکی کی عثمانی سلطنت کی ہے جہاں "مجلۃ الاحکام العدلیہ” کے نام سے کچھ اسلامی قوانین کو مدون شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ ہمارے ہندوستان میں عالمگیر بادشاہ کے زمانے میں فتاوےٰ کا ایک مجموعہ مدون ہوا تھا۔
    پاکستان میں اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کے لیے سب سے پہلے ایک واحد قابل عمل مجموعہ ترتیب دینا ضروری ہے۔ ظاہر ہے پاکستان میں حنفیوں کی اکثریت ہے تو یہ کام حنفی فقہ کے اندر رہتے ہوئے کرنا پڑے گا۔ اس مجوعے میں ہر معاملے کے لیے ایک واحد قانون بتانا ہوگا جس کے مطابق عدالت نے فیصلہ دینا ہے۔ قران و حدیث نیز قیاس و اجماع کے دلائل اور ائمہ کے اختلاف نیز فتاویٰ کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ اکیڈیمک باتیں ہیں جن سے عدالت کو کوئی سروکار نہیں ہوچاہیے۔ اسے ایک حتمی قانونی دفعہ چاہیے ہوتا ہے جس پر وہ فیصلہ دے سکے۔
    تعزیرات کے علاوہ دیوانی قوانین کو بھی اسی طریقے سے مدون کیا جائے۔
    شخصی قوانین (personal laws) کے مجموعے ہر فقہی مکتب کے لیے الگ الگ مرتب کیے جاسکتے ہیں۔
    یہاں یہ مت کہیں کہ ہمارے پاس پہلے سے ہی قوانین موجود ہیں۔ قوانین کا موجود ہونا اور انہیں زمانے کی ضروریات کے مطابق ترتیب دے کر نافذ کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو لوگ بہت پہلے آرام سے بیٹھ جاتے۔ ہر دور میں کتابیں لکھنے اور فتاوےٰ تحریر کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔
    آخری بات یہ کہ اس وقت کسی اجتہاد وغیرہ کی نہیں بلکہ پہلے سے موجود فقہی قوانین کو مدون کرنے کی ضرورت ہے۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • موجودہ تعلیمی نظام اور مستقبل تحریر: عثمان

    موجودہ تعلیمی نظام اور مستقبل تحریر: عثمان

    میرے چھوٹے بھائی عرفان اور رضوان اللّه کے فضل و کرم سے آٹھویں جماعت پاس کر چکے تھے اور 

    نویں جماعت میں داخلہ کروانے میں گھر والے تاخیر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ابّا جان کی طرف سے دونوں بھائیوں کو کسی اعلیٰ سکول میں تعلیم دلانے کی زمیداری مجھے دی گئی تھی۔ تو میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ شہر کے سکولوں کا دورہ کرنے نکل پڑا

    شہر بھر کے سکول پھرنے کے باد چند ہی ایسے سکول تھے جن کا ماحول مناسب تھا ورنہ تو سکولوں میں نا تو صفائی تھی نا ہی پینے کا صاف پانی اور نا ہی تربیت یافتہ اساتذہ ۔بہت سے سکولوں کے اساتذہ اور طلبہ سے بات کرنے کا بھی اتفاق ہوا لیکن میرا دل و دماغ مطمئن نہیں ہوئے-

    پھر جب شام کے وقت ابّا  کو تمام دن کا احوال بتایا جس پر ابّا کہنے لگے بیٹا کل آپ میرے دوست اور آپ کے استاد محترم محمّد اکبر کے پاس چلے جانا ان سے مشورہ کر لینا وہ بہتر مشورہ دیں گے ۔

    محمّد اکبر استاد ہیں (اسلامک سائنس کالج شہدادپور ) کے 

    اتوار کے دن ابّا ہی کے ساتھ استاد محترم  کے پاس پہنچے  چائے پی ابّا نے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی مشورہ دیں ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کیاجائے۔

    استاد محترم نے کہا آپ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں یا صرف نام کی سند دلوانی ہے۔

    ابّا نے کہا بھئی پڑھانا چاہتے ہیں, استاد نے کہا کے شہر کے نامی گرامی اسکولوں کے بجائے اسلامک سائنس کالج  میں داخلے کا مشورہ دیا ۔اگلے ہی دن بھائیوں  کو لے کر اسلامک سائنس کالج پہنچا تو وہاں بچوں کا سکول یونیفارم دیکھ کر حیران ہوگیا وہ پینٹ شرٹ نہیں بلکے قومی لباس شلوار قمیض میں تھے۔ ہم جیسے ہی کلاس میں داخل ہوئے بچوں نے اسلام و علیکم کہاں 

    ہم نے جواب میں وعلیکم اسلام کہا ۔کچھ ہی دیر تک اندازہ ہوگیا تھا کہ یہاں صرف دنیاوی تعلیم ہی نہیں بلکہ دین ِاسلام کی تربیت بھی دی جاتی ہے تہذیب یافتہ طلباء و استاد تھے اور ساتھ ہی مسجد تھی پینے کے صاف پانی کی سہولت تھی پارک، کھیل کا میدان تھا ۔

    دونوں بھائیوں کا ٹیسٹ ہوا  تو وہاں موجو استاد نے کہا کے آپکے بھائی کو ہم نویں جماعت سے ارو دوسرے کو آٹھویں جماعت سے داخلہ دیں گے کیونکہ اس کی بنیادی تعلیم کمزور ہے ۔

    ہم نے وہاں کے استاد کا شکریہ ادا کیا اور چل دیے۔

    ابّا جان کو سارا احوال بتایا اور استاد محمّد اکبر کو بھی تمام صورت حال سےآگاہ کیا ۔پھر 

    میں نے استاد محترم سے پوچھا کہ میرے بھائیوں کی بنیادی تعلیم کمزور کیسے ہو سکتی ہے جبکہ ایک  جماعت سے آٹھ  جماعت تک اچھی گریڈنگ لیتے آئے ہیں ۔

    استاد نے کہا کہ صرف آپکے بھائی کو نہیں بلکہ ہمارے تمام تعلیمی اداروں میں سب کی بنیادی تعلیم کمزور ہے ۔وجہ اچھے اور قابل اساتذہ کا نہ ہونا ہے ۔ ہمارے ضلع سانگھڑ  تحصیل شہداپور میں 250 ایسے اسکول ہیں جن میں دس جماعت پاس طلبہ و طلبات کو ایک استاد کا درجہ دے دیا جاتا ہے جو میری نظر میں غلط ہے ۔

    ایک دس پاس جماعت کی طلبہ جس کی بنیادی تعلیم کمزور ہو وہ کیسے بچوں کو ادب پڑھائے گی جو ایک  قابل استاد میں ہوتی ہے ؟

    اور کمزوری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل ایک بچے کو پانچ سبجیکٹ پڑھاتے ہے جوکہ بچہ ایک بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ پاتا 

    ہمارے دور میں بچے کو پہلے ایک سبجیکٹ پر محنت کروائی جاتی تھی اور بچہ لگن کے ساتھ پڑھتا تھا۔مگر آج ٹیوشن الگ اسکول الگ بچہ ٹھیک سے نہیں پڑھ پاتا ۔

    ہونا یہ چاہے تھا کہ بچے کو اسلامیات اردو اور آسان انگلش اچھے سے پڑھائی جائے جو کہ یہ سب ماحول آج بھی اسلامک اسکول میں ہے وہاں کے بچوں میں ادب اخلاص صاف لباس پانچ وقت نماز کی پابندی بہترین مستقبل کی شروعات ملتی ہے یہاں کے بچے امتحانات میں نقل نہیں کرتے بچے اس قابل ہیں کے خود سے پڑھ لیتے ہیں ۔

    میرے ذہن میں ایک بات آئی استاد محترم یہ دس ، بارہ پاس والے لڑکے لڑکیوں کو آخر کیا ضرورت پڑتی ہے جو وہ لوگ آگے پڑھنے کے بجائے یہاں کے اسکول میں بچوں کو پڑھانے لگ جاتے ہیں ؟

    استاد نے بتایا کہ  ہمارے سندھ کا  تعلیمی نظام و دیگر وسائل کی وجہ سے

     12 جماعت پاس طلبہ و طالبات آگے پڑھ نہیں پاتے آپ کے سروے کے مطابق 20 ایسے کالج جس میں طلبہ کو بورڈ کے امتحانات میں نکل کی تمام تر سہولیات دی جاتی ہے اور طلبہ آسانی سے پاس ہو جاتے ہے ۔

    کالج میں طلبہ کا مائنڈ سیٹ پہلے سے ہی بنا دیا جاتا ہے کہ آپ کو نقل مل جائے گی آپ  پاس ہیں 

    اسی طرح طلبہ و طالبات کو پتا ہے کہ ہم پاس ہیں 

    تعلیمی ادارے اب پہلے جیسے نہیں رہے تمام اسکول و کالجوں کو اب صرف بزنس کے طور پر چلایا جاتا ہے 

    بچوں کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے  ۔

    پاکستان کا 85 فیصد طبقہ پڑھ رہا ہے مگر کیا پڑھ رہا ہے ؟

    ‏‎ارباب اختیار اس بارے  میں بھی سوچئے اور  بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والے ان مافیاز کے خلاف ایکشن لے؛

    علم بہت بڑی دولت ہے!

    یقین نہ آئے تو تعلیمی اداروں کے مالکان کو ہی دیکھ لو ۔

    @UsmanKbol

  • ہندوستان کی سب سے بڑی جغرافیائی کمزوری تحریر اصغر علی                                                 

    ہندوستان کی سب سے بڑی جغرافیائی کمزوری تحریر اصغر علی                                                 

    تحریر اصغر علی                                                 

                                                 
    اگر آپ ہندوستان کے نقشے کو دیکھیں تو اس کے شمال مشرق میں بنگلہ دیش نیپال بھوٹان اور چین کے درمیان ایک تنگ سی راہداری ہے اس جگہ کا نام سیلیگوری ہے اور اس راہداری  کو اسی جگہ کے نام پر رکھا کیا ہے اس کو سیلیگوری کوریڈور کہتے ہیں یہ تنگ سی رہداری مرکزی بھارت کو اپنی شمال مشرقی  8 ریاستوں سے ملاتی ہے یہ راہداری اتنی  تنگ ہے ہے کہ ایک جگہ پر اس کی چوڑائی صرف 17 سے 20 کلومیٹر رہ جاتی ہیں  اگر کوئی اس راہداری کو بند کر دے تو بھارت کا اسکی ان آٹھ اہم ریاستوں سے  زمینی راستہ کٹ جاتا ہے  اور سمندر سے جانے کے لیے اسے خلیج بنگال کا سہارا لینا پڑے گا اس کے بعد یہ راستہ بنگلہ دیش اور برما سے ہو کر گزرتا ہے بنگلہ دیش سے اس کے تعلقات اچھے نہیں اور برما سے بھی یہی حالات ہے اس لیے بھارت کی یہ سب سے بڑی  جغرافیائی کمزوری کھلائی جاتی ہے بھارت کی ان آٹھ ریاستوں میں اسام اروناچل پردیش سکم منی پور میگھالے ناگا لینڈ تیری پورا اور میزو رام شامل  ہیں ان آٹھ ریاستوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ رقبے کے لحاظ سے یہ ریا ستیں نیوزی لینڈ اور برطانیہ جیسے بڑے ملک سے بھی زیادہ رقبے پر محیط ہے جبکہ ان آٹھ ریاستوں کی آبادی  سارے چار کروڑ لوگوں پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ اس کوریڈور کو کو بھارت کی سب سے بڑی دفاعی کمزوری سمجھا جاتا ہے اور اس لیے لیے ماہرین اس کو انڈیا کی چکن نک یعنی مرغی کی گردن کہتے ہیں اگر ہم آپ کو بتاتے ہیں کے اس کوریدور کو بھارت کی سب سے بڑی کمزوری کیوں سمجھا جاتا ہے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت چین کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اس کی بڑی وجہ صبح دونوں ملکوں کے درمیان میں موجود بارڈر میکموہن لائن ہیں جس سے چین نے کبھی اپنا مستقل بارڈر نہیں مانا کیونکہ اسی بارڈر پر موجود ایک ریاست جس کا نام اروناچل پردیس ہے اس کو کو چین بھارت کا نہیں بلکہ اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین اروناچل پردیش ہمیشہ آپنے نقشہ میں ہی دکھاتا ہے اروناچل پردیش فیس بک بھارت کی آن 8 شمال مشرق میں واقع ریاستوں میں سے ایک بہت بڑی ریاست ہے اس ریاست کا رقبہ لگ بھگ آسٹریا اور اردن کے برابر ہے ایسی ریاست کے حصول کے لیے دونوں ملکوں میں جنگ بھی ہو چکی ہے یہ جنگ 1962 میں ہوئی تھی اور اس جنگ میں چین کا پلڑا بھاری رہا اس کے بعد انیس سو سڑسٹھ میں بھی بھارت کی ریاست سکم اور تبت کے بارڈر پر بھی جھڑپیں ہو چکی ہیں ہنی تنازعات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان حالات کافی کشیدہ رہتے ہیں  اروناچل پردیش میں موجود بھارتی فوج کو سپلائی لائن اسی تنگ راستے سلیگوری کوریڈور سے ہی ہوتی ہے  اگر چین اور بھارت میں جنگ ہو جاتی ہے تو سلیگوری کوریڈور جیسے تنگ علاقے کا دفاع کرنا بہت مشکل ہے اس کے برعکس کس چین کا سپلائی لائن کاٹنا بہت آسان ہے اسی وجہ سے یہ بھارت کی سب سے بڑی دفاعی کمزوری ہے اگر اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بھارت کو اپنے زیر کنٹرول اور علاقوں میں سے اروناچل پردیش سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں گے بھارت نے اس کوریڈور کو بچانے کے لیے ادھر اپنی دفاعی پوزیشن انتہائی مضبوط کی ہوئی ہے ہے ادھر اس نے دو جنگی اڈے بنا رکھے ہیں  اور جنگ ہونے کی صورت میں بھارت کو نیپال اور بھوٹان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھنے پڑیں گے  کیونکہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے سے یہ کوریڈور بلاک کرنا چین کے لیے بہت مشکل ہوگا چین اپنی فوج اس کوریڈور سے صرف سو کلومیٹر کے فاصلے پر تبت میں اتار چکا ہے ہے اور وہ اپنی ریاست اروناچل پردیش جس کو اپنا حصہ اور اپنے نقشوں میں دکھاتا ہے اس کے لئے کبھی بھی  ہندوستان پر حملہ کر سکتا ہے اور یہی کمزوری ہندوستان کو آٹھ ریاستوں سے دور کر سکتی ہے                                        

    Written by Asghar Ali

    Twitter id @Ali_AJKPTI

  • جنگِ روم اور وفاتِ معتمد تحریر  منصور احمد قریشی ( اسلام آباد)

    جنگِ روم اور وفاتِ معتمد تحریر منصور احمد قریشی ( اسلام آباد)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سنہ ۲۵۷ میں میخائیل بن روفیل قیصر قسطنطنیہ کو اس کے ایک رشتہ دار نے جو صقلبی کے نام سے مشہور تھا ۔ قتل کر کے خود تختِ سلطنت پر براجمان ہوا۔ سنہ ۲۵۹ میں رومیوں نے ملطیہ پر فوج کشی کی ۔ مگر شکست کھا کر واپس گئے ۔ سنہ ۲۶۳ میں رومیوں نے قلعہ کرکرہ متصل طرسوس کو مسلمانوں سے چھین لیا ۔ سنہ ۲۶۴ میں عبدالّٰلہ بن رشید بن کاؤس نے چالیس ہزار سرحدی شامی فوجوں کے ساتھ بلادِ روم پر چڑھائی کی اول فتح حاصل کی ۔ مگر بعد میں عبدالّٰلہ بن رشید گرفتار ہو کر قسطنطنیہ پہنچا ۔ 

    سنہ ۲۶۵ میں رومیوں نے عام اذفہ پر حملہ کیا ۔ چار سو مسلمان شہید اور چار سو گرفتار ہوۓ ۔ اسی سال قیصرِ روم نے عبدالّٰلہ بن رشید کو معہ چند جلد قرآن مجید کے احمد بن طولون کے پاس بطور ہدیہ روانہ کیا ۔ سنہ ۲۶۶ میں جزیرہ صقلیہ کے متصل رومیوں اور مسلمانوں کے جنگی بیڑوں میں لڑائی ہوئی۔ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کی کئی جنگی کشتیاں رومیوں نے اپنے قبضے میں لے لیں ۔ باقی ماندہ نے ساحل صقلیہ میں جا کر قیام کیا ۔

    احمد بن طولون کے نائب شام نے اسی بلادِ روم پر ایک کامیاب حملہ کر کے بہت سامانِ غنیمت حاصل کیا ۔ سنہ ۲۷۰ میں رومیوں نے ایک لاکھ فوج کے ساتھ مقام قلمیہ پر جو طرسوس سے چھ میل کے فاصلے پر ہے ، حملہ کیا ۔ مازیار والی طرسوس نے رومیوں پر شب خون مارا اور ستر ہزار رومی مقتول ہوۓ۔ بطریق اعظم گرفتار ہوا اور صلیب اعظم بھی مسلمانوں کے قبضے میں آ گئی ۔ سنہ ۲۷۳ میں مازیار والی طرسوس نے رومیوں پر حملہ کیا اور کامیاب واپس آیا۔ سنہ ۲۷۸ میں مازیار والی طرسوس اور احمد جعفی نے مل کر بلادِ روم پر حملہ کیا ۔ حالتِ جنگ میں منجنیق کا ایک پتھر مازیار کو آ کر لگا ۔ وہ زخمی ہو کر لڑائی موقوف کر کے واپس ہوا اور راستے میں مر گیا ۔ مسلمانوں نے طرسوس میں لا کر دفن کیا ۔ اگرچہ عالمِ اسلام میں سخت ہلچل مچی ہوئی تھی اور جا بجا خانہ جنگی برپا تھی ۔ تاہم رومیوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں کوئی عظیم الشان کامیابی حاصل نہ ہو سکی ۔ 

    خلیفہ معتمد علی الّٰلہ بن متوکل علی الّٰلہ نے ۲۰ رجب سنہ ۲۷۹ میں وفات پائی اور سامرا میں مدفون ہوا ۔ معتصم بالّٰلہ بن ہارون الرشید کے وقت سے خلفاء عباسیہ کا دارالخلافہ سامرا چلا آتا تھا ۔ معتمد علی الّٰلہ نے سامرا کو چھوڑ کر بغداد میں رہنا اختیار کیا اور پھر بغداد ہی دارالخلافہ ہو گیا ۔ سامرا کو چھوڑنے اور بغداد کو دارالخلافہ بنانے ہی کا نتیجہ تھا کہ ترک سردار جو خلافت اور دربارِ خلافت پر حاوی و متسلط تھے اُن کا زور یک لخت ٹوٹ گیا ۔ دارالخلافہ کی تبدیلی بھی معتمد کے بھائی موفق کی عقل و تدبیر کا نتیجہ تھا ۔

    معتمد کے زمانے میں دولت و حکومت کی قوتیں بالکل کمزور ہو چکی تھیں ۔ اُمراۓ سلطنت میں جیسا کہ ایسی حالت میں ہونا چاہیۓ تھا نااتفاقی ، عداوت اور ایک دوسرے کی مخالفت خوب زوروں پر تھی ۔ ممالکِ محروسہ کے ہر حصے اور ہر سمت میں فتنہ و فساد کا بازار گرم تھا ۔ لوگوں کے دل سے خلیفہ کا رعب بالکل مٹ چکا تھا ۔ جہاں جس کو موقع ملا اُس نے ملک دبا لیا ۔ صوبہ داروں نے خراج بھیجنا بند کر دیا ۔ کوئی آئین اور کوئی قانون تمام ملک میں رائج نہ رہا ۔ ہر شخص نے جس ملک پر قبضہ کیا اپنا ہی قانون جاری کیا ۔ رعایا پر بڑے بڑے ظلم ہونے لگے ۔ عاملوں نے آزادانہ جس طرح چاہا رعایا کو تختہ مشق ظلم بنایا ۔ بنو سامان نے ماوراء النہر پر ، بنو صفار نے سجستان و کرمان خراسان اور ملکِ فارس پر حسن بن یزید نے طبرستان و جرجان پر زنگیوں نے بصرہ و ایلہ و واسط پر ، خوارج نے موصل و جزیرہ پر ابن طولون نے مصر و شام پر ۔ ابن اغلب نے افریقہ پر قبضہ کر کے اپنی اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔

    Twitter Handle : @MansurQr

  • مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے تحریر احمد

    مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے تحریر احمد

    اگر آپ کا آج سکھی ہے تو یقینا آپ کا آنے والا کل دکھی ہوگا 

    اگر آپ کا آج دکھی ہے تو یقینا آپ کا آنے والا کل سکھی ہوگا

    اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے

    میں حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ سخت سے سخت ترین فیصلے کل کی بجائے آج ہی لے کہیں ایسا نہ ہو کہ آج کا ریلیف کل کو وبال جان بن جائے لہذا میری تو رائے یہی ہے کہ قوم کو سلو پوائزننگ دینے کی بجائے مہنگائی کا چھٹکا ایک ہی دم دے دیا جائے

    میرے پاکستانیو اب حقائق کو غور سے پڑھنا

    مہنگائی کیوں ہو رہی ہے؟؟

    پاکستان تقریبا 80 فیصد اشیاء درآمد کرتا ہے یعنی جو اشیاء ہم باہر کے ملکوں سے خریدتے ہیں تو جب وہ مہنگی ہوتی ہیں تو ہمیں ڈبل قیمت میں ملنے لگتی ہیں مثال کے طور پر اگر ڈالر 150 کا ہو تو ہمیں جو چیز چاہیے مثال کے طور پر اگر ہمیں ایک پینسل چاہیے جس کی قیمت 1 ڈالر ہے 

    جب وہ پاکستان آئے گی تو اس کی قیمت 150 روپے ہوگی اور جب ڈالر 150 سے 170 تک جائے گا تو پینسل کی قیمت بھی 150 سے 170 روپے تک چلی جائے گی

    عالمی بحران

    کورونا نے اس وقت دنیا میں جو معاشی تباہی پھیلا رکھی ہے اگر آپ دنیا کے حالات و واقعات کو میری طرح جان جائیں تو آپ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ محسوس کریں گے کہ ہم پاکستان میں الحمداللہ سب سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں

    اب سنیں 

    کورونا کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 0 بیرل پر ڈالر ہو چکی تھی اور آج 80 بیرل پر ڈالر تک پہنچ چکی ہے

    تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 85 فیصد بڑھ چکی ہے گیس کی قیمت تقریبا 180 فیصد بڑھی اور 1 سال میں کوئلے کی قیمت 200 فیصد سے زائد بڑھی جبکہ 1 مہینے کے دوران تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 20 فیصد بڑھی ہے کوئلے اور گیس کی قیمت تقریبا 30 فیصد بڑھی ہے

    اس بدترین مہنگائی سے امریکہ یورپ چائنا جیسی معیشتیں ہل کر رہ گئی ہیں پاکستان تو کسی گنتی میں بھی نہیں آتا

    امریکہ میں گیس کی قیمت 180 فیصد تک بڑھ چکی ہے یورپ کا برا حال ہے پچھلے دنوں لندن میں پیٹرول کے لیے لمبی قطاریں لگی ہوئی تھی اٹلی اور سپین بجلی کے نرخ بڑھا رہے ہیں جبکہ چائنا نے تو باقاعدہ لوڈشیڈنگ کا اعلان کردیا ہے اور اپنے کارخانوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار یا تو کم کر لیں یا پھر بند کر دیں کیونکہ چائنہ میں بجلی کوئلے سے بن رہی ہے اور اس وقت سپلائی اور ڈیمانڈ کا شدید بحران آ رہا ہے

    اس وقت سب کا برا حال ہے

    امریکہ نے دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی OPEC سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آپ اپنی پیداوار بڑھائیں یورپ نے رشیا سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آپ اپنی گیس کی سپلائی بڑھائیں اور چائنا آسٹریلیا اور انڈونیشیا سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ کوئلے کی ترسیلات بڑھائیں 

    یعنی 1 سال میں عالمی مارکیٹ میں 80 فیصد پٹرول مہنگا ہوا ہے جبکہ حکومت پاکستان نے پیٹرول کی قیمت 1 سال میں صرف 20 فیصد سے کم قیمت بڑھائی اور آج بھی پیٹرول کی قیمت الحمدللہ اس خطے میں سب سے کم ہے

    اب یہ فیصلہ حکومت پاکستان کو کرنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں پٹرول بجلی گیس کی قیمت بڑھا کر پاکستان کے مستقبل کو روشن اور خود مختار بنانا چاہتی ہے یا پھر عارضی ریلیف فراہم کر کے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے در پر بھیک مانگنے جاتی ہے

    میری تو یہی رائے ہے کہ حکومت بجلی گیس اور پٹرول کی قیمت میں مزید 3 فیصد اضافہ کردے اور جتنی جلدی ہو پاکستانی معیشت کو آئی ایم ایف کی بیساکھیوں سے آزاد کروا لے

    جبکہ کمزور اور بے بس صارفین پر اس کا بوجھ ہرگز نہیں ڈالنا چاہیے

     باقی ہر صاحب استطاعت سے کم سے کم اتنی قیمت وصول کرے جتنی قیمت پر ہم باہر سے لے رہے ہیں 

    میرے پاکستانیو گھبرانا ہرگز نہیں آج دکھ ہو گا تو انشاءاللہ کل سکھ ہی سکھ ہوگا چین ہی چین ہو گا.

    @iamAhmadokz 

  • سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    محترم قارئين کرام

     رزق حلال یا زریعہ معاش  ایک ایسی اہم ضرورت ہے جو انسان کی زندگی کا بہترین حصہ یعنی جوانی اس ضرورت کی فکر کھا جاتی ہے۔

    غریب کا بچہ نو عمری میں ہی مزدوری کیلئے نکل پڑتا ہے

    اور امیر کا بچہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے

    اکثر ایسا ہی دیکھنے کو ملتا ہے

    لیکن یہ فرض نہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا

    بلکہ بہت سارے ایسے لوگوں کو میں جانتا ہوں جو انتہائی غربت میں پڑھے لکھے ہیں

    اسی طرح بہت سارے ایسے لوگوں کو بھی میں جانتا ہوں جو ابھی پوری طرح بالغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اینٹوں کے بھٹوں پہ اینٹیں، مستری کے ساتھ مزدوری یا پھر ہنر مند بننے کیلئے کسی ویلڈر یا میکنک کی دکان کا رخ کرتے ہیں۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کامیاب بننے کیلئے دولت مند یا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں 

    بلکہ کامیابی کیلئے ایسے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے جو ایجاد یا ڈائیرکشن یا پھر پالیسی بنانے کا ماہر ہو

    آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ بہت تھوڑی عمر میں بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں اور بعض لوگ بڑھاپے تک بھی یہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتے جو کچھ لوگ اٹھارہ بیس سال کی عمر میں حاصل کرچکے ہوتے ہیں.

    اسے ہم قسمت کا کھیل تو ضرور کہہ سکتے ہیں

    لیکن قسمت ہمیشہ بنانی پڑتی ہے 

    کامیاب بننے ترقی کرنے اور دولت کمانے کے مختلف طریقے ہیں

    لیکن سب سے بہترین طریقہ جو میں سمجھتا ہوں  وہ

    "سرمایہ کاری” ہے 

    ارسطو کے بقول:

    "دولت کھاد کی طرح ہے جب تک اسے پھیلایا نہ جائے فائدہ حاصل نہیں ہوتا”

    آج کے جدید دور میں سرمایہ کاری کے اتنے پلیٹفارم ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے 

    اور اتنے فراڈ ہیں کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے

    لیکن تھوڑی سی بھی سرمایہ کاری اگر کسی بہترین جگہ ہوجائے تو چند سالوں میں مالی پریشانیاں ہمیشہ کیلئے ختم ہوسکتی ہیں.

    بہت سارے لوگ آنلائن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں 

    یہ کمپنیاں شروع میں اچھا منافع ضرور دیتی ہیں اور بہت سارے لوگ گھیرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں لیکن چند ہی ماہ کے بعد عین غین ہوجاتی ہیں.

    اب انسان چونکہ لالچ میں آجاتا ہے 

    تو وہ کسی ایسی کمپنی میں اپنی رقم سرمایہ کاری کیلئے لگاتا ہے جو بہت سارا منافع دے رہی ہوتی ہے

    تو وہ اسے واپس نکالنے کی بجائے جب زیادہ منافع دیکھتا ہے تو منافع بھی اسی میں سرمایہ کاری پہ لگا دیتا ہے

    پھر بائینری انکم کے لالچ میں کچھ اپنے مزید ساتھیوں کی سرمایہ کاری بھی شروع کرتا ہے

    اور اتنے میں کمپنی عین غین کرجاتی ہے

    پھر سر میں بازو رکھ کے پریشان بیٹھ جاتا ہے

    اور کبھی بھی دوبارہ سرمایہ کاری کیلئے آمادہ نہیں ہوتا

    یہ ایک قسم کے ناکام لوگ ہی ٹھرتے ہیں

    دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو انہی طرز کی کمپنيوں میں گھستے ہیں اپنی تھوڑی بہت سرمایہ کاری کرتے ہیں اور کام کو مزید سمجھتے ہیں اپنی سرمایہ کاری واپس لیتے ہیں اور منافع شدہ رقم کو سرمایہ بنا کے سرمایہ کاری کرتے ہیں

    یہ ایک ٹیکنیکی ذہن رکھنے والے لوگوں کا کام ہوتا ہے جو اپنا نقصان یا تو ہونے ہی نہیں دیتے یا پھر ہو بھی جائے تو بہت ہی قلیل نقصان ہوتا ہے اور بہت جلد ایسے لوگ کامیابی کا سفر طے کرلیتے ہیں

    تیسری قسم کی سرمایہ کاری کا تعلق آنلائن کسی شعبے سے نہیں بلکہ براہ راست اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے

    اس میں بھی کامیابی اور ناکامی دونوں ہوتی ہیں لیکن جو ڈٹ جاتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو نقصان کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں وہ ناکام ٹھرتے ہیں.

    آنلائن سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اپنی رقم کسی دوسرے کے ہاتھ میں دینی ہوتی ہے

    جب کہ براہ راست اپنے ہاتھ سے سرمایہ لگانا الگ ہوتا ہے

    جیسے کوئی دکان کھول لی جائے اور اس سے کاروبار شروع کردیا جائے

    اب کاروبار جہاں بھی شروع کیا جاتا ہے وہ وقت اور علاقے کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

    اس پر ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر علاقے میں ضرورت کپڑوں کی دکان کی ہو اور بندہ کریانہ جو کہ پانچ ساتھ دکانیں پہلے ہی موجود ہوں کھول لے تو ظاہر ہے کامیاب ہونے میں وقت لگے گا.

    اس موضوع پر بہت سی گفتگو کی جاسکتی ہے

    مگر صرف اتنی گزارش ہے کہ اگر آپ بیس ہزار روپے بھی مہانہ کما رہے ہیں تو اس میں دو ہزار ہی سہی لیکن بچت کرکے سرمایہ کاری اپنے کاروبار کیلئے ضرور کریں

    اس سے آپ بھی اور آپکی نسلیں بھی نوکری سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرجائیں گی.

    @JavaidHaqqani

  • سیاحت کے فروغ میں ڈیجیٹل میڈیا کاکردار تحریر: محمد عابد خان

    ہمارا وطن پاکستان انتہائی دلکش اورخوبصورت سیاحتی مقامات سے بھرا ہوا ہے۔سیاحت کا فروغ ، نئے سیاحتی مقامات کی تلاش اور آثار قدیمہ کو محفوظ بنانا،سیاحوں کا تحفظ ، سیاحتی علاقوں کوسہولیات کی فراہمی اور متعلقہ امور کوفروغ دینا ہے۔سیاحت کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتاہے، پاکستان میں سیاحتی شعبے میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے.وطن عزیزپاکستان جغرافیائی اعتبار سے بھی دنیاکا ایک منفرد اور خوبصورت ترین ملک ہے۔یہاں وسیع و عریض سمندر ہیں ، لق و دق صحرا ہیں۔ بالخصوص ملک کے حسین ترین خطےخیبر پختو نخوا کے قبا ئلی اضلاع   کو وطن عزیز پاکستان کے ماتھے کا جھومر کہاجائے تو بے جانہ ہو گا۔ جہاں خوبصورت پہاڑ  اور سر سبز و شاداب وادیاں ہیں۔سیاحت کے فروغ کے لئے کسی ملک کےتاریخی وثقافتی ورثوں اور سیاحتی مقامات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے،سیاحت کے فروغ کے لئے جہاں تاریخی و ثقافتی مقامات اور سیاحوں کے لئے سہولتوں کی فراہمی درکارہوتی ہے وہاں امن و امان کا قیام بھی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے۔ بد قسمتی سے

    پاکستان میں ایک عرصہ تک امن و امان کے مسئلے کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر رہا۔لیکن پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا  اور ​سوشل میڈیا​کےزریعے عالمی سطح پر پاکستان  کو ایک پرامن ملک پیش کیا گیا جس کے  بعد سیاحوں نے پاکستان کی طرف رخ کرنا شروع کردیا۔ان ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم میں ایک نام کانسپٹ ٹی وی کا بھی ہے جو بیک وقت تین زبانوں ،پشتو،اردو اور انگریزی زبان میں ادب، ثقافت،سیاحت،امن اورکھیل بارے مختلف آرٹیکل اور خبریں اپنےنیوز ویب سائٹ پر پبلش کرکے سوشل میڈیااکاونٹس سے جاری کرکے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج گراف بڑھا دیا جس کی وجہ سے  پاکستان  کا پرامن اور پر سکون ماحول دنیا میں مثالی اور عالمی سیاحوں کے لئے کشش کا باعث  بن گیا ۔ ان کے علاوہ باغی ٹی وی کا کردار لائق تحسین ہے جس نے بھی اپنی خبروں اور مضامین کے زریعے پاکستان، خاص طور پر خیبر پختو نخوا اور قبائلی علاقوں میں  امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ عید کے دوران خیبر پختونخوا میں لاکھوں سیاحوں کی آمد کااندازہ لگایا گیا ہے ۔

    عید کی تعطیلات ختم ہو نے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے عید الاضحیٰ کے موقع پر صوبہ کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد کی رپورٹ جاری کردی تھی  جس کے مطابق 27 لاکھ ستر ہزار سیاحوں نے سیاحتی علاقوں کا دورہ کیا ، کثیر تعداد میں سیاحوں کی آمد سے 66 ارب سے زائد کا کاروبار ہوا جبکہ مقامی معیشت کو 27 ارب سے زائد کا فائدہ ہوا، سرکاری دستاویز کے مطابق عید کے دوران دس لاکھ 50 سے زائد سیاحوں نے سوات کا رخ کیا، گلیات دس لاکھ اور کمراٹ میں ایک لاکھ 20 ہزار سیاحوں نے سیر کی، وادی کاغان میں سات لاکھ سے زائد جبکہ چترال 50 ہزار سیاحوں کی آمد ہوئی ،عید کی چھیٹوں میں سات لاکھ 20 ہزار گاڑیاں سیاحتی علاقوں میں داخل ہوئیں، سیا حوں نے تین دن تک سیاحتی مقامات پر عید کی تعطیلات گزاریں، آیام عید کے دوران مقامی لوگوں کے روزگار و آمدن میں اضافہ ہوا، تازہ ترین رپورٹ  کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں سیاح اب بھی صوبے کے سیاحتی مقامات میں سیر و تفریح کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا محمود خان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے  سیاحوں کی آمد بارے رپورٹ وزیر اعظم عمران  خان سے ایک  ملاقات میں پیش کی تھی جس کو وزیر اعظم عمران خان نے بے حد سراہا اور صوبائی حکومت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین کی۔ سیاحت دنیا بھرمیں اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اسےدنیا کے مختلف ممالک میں انڈسٹری کا درجہ دیا گیا ہے ۔تہذیبی و ثقافتی اقدار اور تاریخی آثار کو ملک و قوم کے روشن مستقبل کے لئے بروئے کار لانا دانشمندقوموں کا وطیرہ ہوتا ہے ۔ ہماری ثقافتی سرگرمیاں پائیدار قومی تعمیر و ترقی کی ضامن ہونی چاہئیں۔

  • طلباء کا احتجاج  تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    طلباء کا احتجاج تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    تعلیم و تربیت ہر معاشرے کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ھے۔تعلیم کے لیے ایک نظام بنایا گیا ھے جس کا مقصد اس شعبے کو اچھے طریقے سے چلانا اور جو کمی کوتاہی ہو اس کو۔دور کرنا ھے۔تعلیمی میدان میں جو سب سے مشکل اور محنت طلب شعبہ ھے وہ میڈیکل کا ھے۔معاشرے کے وہ طلباء جو محنتی اور ذہانت کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں وہی اس کو اپناتے ہیں اور اپنے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔میڈیکل یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے ایک ٹیسٹ کا انعقاد کیا جاتا ھے جس کو MDCat کہا جاتا ھے۔اس ٹیسٹ کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ معاشرے کی کریم کو نکال کر اس شعبے میں لایا جائے تاکہ وہ آگے جا کر اچھی کارکردگی دکھائے۔اس امتحان کو پہلے یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز کے زیر انتظام پنجاب سے لیا جاتا تھا اسی طرح سندھ میں داود یونیورسٹی یہ ٹیسٹ لیتی تھی۔اس سے یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ہر صوبے کا چونکہ سلیبس مختلف ھے تو ٹیسٹ بھی مختلف ہوتا تھا اور طلباء کو شکایت نہیں ہوتی تھی اور سب سے بڑی بات یہ تھی بطور ثبوت کاربن پیپر سے لی گی عکاسی دی جاتی تھی کہ یہ یہ نشانات امیدوار نے لگائے ہیں اور جو غلط ہو جاتے تھے طالب علم بھی خاموشی سے مان لیتا تھا۔لیکن اس سال یہ امتحان پاکستان میڈیکل کمیشن کے زير اہتمام لینے کا فیصلہ کیا گیا۔اور پاکستان میڈیکل کمیشن نے جو پالیسی بنائی اس میں یہ تھا کہ۔طلباء کو آوٹ لائن دے دی گئی کہ اس سے آپکا امتحان آنا ھے۔اب جو سلیبس دیا گیا ہر صوبے میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے چونکہ وہ ایک نہیں ھے اس لیے کچھ فرق ہونے کی وجہ سے طلباء کو پریشانی ہوئی۔جیسے کہ مثال کے طور پر ایک سوال دیکھ لے 

    انسانی جسم میں پٹھوں کی تعداد کتنی ھے؟

    پنجاب بوڑد لی کتاب میں تعداد 650 لکھی ہوئی ھے جبکہ نیشنل بک فاؤنڈیشن اور سندھ کی کتاب میں تعداد 600 لکھی گئی۔

    اور اتفاق سے یہ سوال امتحان میں آیا بھی اور دونوں ہی آپشن تھے اب طالب علم کیا لگائے اس کی عقل سے باہر تھا۔

    طلباء کو پہلا جو مسلہ درپیش ہوا وہ یہ تھا کہ سوالات ان کی دسترس یعنی کے ان کے صوبے کے نصاب سے باہر تھے۔

    دوسرا بنیادی مسئلہ جو طلباء کو درپیش آیا وہ یہ تھا کہ امتحان چونکہ آن لائن TAB پر لیا گیا تو طلباء کو امتحان کے بعد بطور ثبوت کوئی پیپر یا دستاویز نہیں دی گئی کہ یہ یہ نشانات و جوابات آپ نے لگائے ہیں۔اس سے ہوا یہ بہت سے ذہین طلباء وہ طلباء جن کے میٹرک میں 95 فیصد سے زائد نمبر ہیں وہ فیل ہو گے وجہ کیا بنی کہ سافٹ وئیر میں غلطیاں ہیں۔اس کا منہ بولتا ثبوت یہ ھے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن نے جس کمپنی کے زیر انتظام یہ ٹیسٹ لیا وہ TEPs ھے اور اس کی طرف سے جو پریکٹس ٹیسٹ اپلوڈ کیا گیا اس کے سوالات میں بھی غلطیاں تھی اور جوابات میں غلطیاں تھی۔اس سے طلباء کی طرف سے یہ موقف اپنایا گیا کہ 210 سوالات آپ صحیح بنا نہیں سکے تو ہر بچے کا ٹیسٹ علیحدہ ھے آپ کیسے سوالات اور جوابات درست کر سکتے ہیں؟

    یہ اب تک پاکستان میڈیکل کمیشن پر سوالیہ نشان ھے جس کا وہ جواب نہیں دے سکا۔

    پاکستان میڈیکل کمیشن کے اس سسٹم میں غلطی کا امکان اس لیے بھی ھے کہ طلباء کو حق ہی نہیں کہ وہ ٹیسٹ کی ری چیکنگ یا ری کاؤنٹگ کروا سکے۔جبکہ دنیا بھر میں جتنے بھی ٹیسٹ لیے جاتے ہیں اگر آپ اپنے نتیجے سے مطمئن نہیں تو آپ اس کو چیلنج کر سکتے ہیں۔لیکن پاکستان میڈیکل کمیشن نے طلباء سے یہ حق بھی چھین لیا۔اسی طرح جب میں اس پر تحقیق کر رہا تھا تو میری نظر سے ایک بات گزری کہ ایک جاننے والے نے ٹیسٹ ہی ابھی نہیں دیا اور اس کا نتیجہ اپلوڈ کر دیا گیا یہ بات بھی پی ایم سی کے سسٹم میں خرابی پر دلالت کر رہی ھے۔یہ بات کوئی ایک دو طالب علم نہیں کہہ رہا بلکہ ہر طالب علم کی زبان پر عام ھے۔طالب علم امتحان دے کر نکلتا ھے وہ کہتا ھے 190 پکے ہیں لیکن جب نتیجہ آتا ھے تو فیل ہوتا ھے۔کوئی ایک دو طالب علم کہے تو چلو مان لیا جائے کہ طلباء غلط ہیں ادھر تو ہر بندہ ہی یہ ہی کہہ رہا ھے۔اس کے پاکستان میڈیکل کمیشن کے ایکٹ کے مطابق کمیشن اس بات کا پابند ھے کہ تمام طلباء کا ٹیسٹ ایک ہی دن لیا جائے لیکن ادھر یہ بھی زیادتی کی گئی کہ پورا مہینہ ٹیسٹ چلا کسی بچے کا پہلے امتحان تھا کسی کا بعد میں۔جو کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے اپنے قانون کی خلاف ورزی تھی۔ان تمام مطالبات کو لے کر جب نہتے طلباء میدان میں نکلے پہلے انھوں نے پاکستان میڈیکل کمیشن کے باہر پرامن احتجاج کیا جب ان کی شنوائی نہ ہوئی تو ڈی چوک میں سات دن انھوں نے دھرنہ دیا حکومت پاکستان نے پاکستان کے مستقبل کے مطالبات کو سننے کی بجائے ان پر لاٹھی چارج اور چاقووں سے حملہ کیا جو کہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ھے اور ریاست کو یہ ذیب بھی نہیں دیتا۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ طلباء کے مطالبات سن کر تحقیقات کروائے اور ان کا ٹیسٹ دوبارہ لینے کا جو مطالبہ ھے اس کو مانے کیونکہ طلباء ہمارا مستقبل ھے اور ان کو ر

    درپیش مسائل بھی حقیقت پر مبنی ھے۔

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے 

    وہ فضل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

  • طاقت کی سیاست تحریر: ملک سراج احمد

    طاقت کی سیاست تحریر: ملک سراج احمد

    خلافت عباسیہ کے دارالحکومت بغداد نے دنیا بھر میں ایک خاص شہرت حاصل کی ۔علم و حکمت اور فن تعمیر کے اعتبار سے بغداد کا کوئی ثانی نہیں تھا۔منگول جنرل مونکو خان نے بغداد پر چڑھائی کا ارادہ کیا اور اس سلسلے میں ایک بہت بڑی فوج تشکیل دی ۔اس فوج کی کمان ہلاکو خان نے کی اور اس فوج میں چینی کمانڈرز سمیت مسیحی افواج کا بڑا دستہ شامل تھا ۔نومبر 1257 میں منگول فوج نے بغداد کی طرف کوچ کیا اوربغداد پہنچ کر ہلاکو نے خلیفہ معتصم سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا جس کو خلیفہ نے حقارت سے ٹھکرا دیا۔منگول فوج کے چینی دستے نے 29 جنوری 1258 کو بغداد کا محاصرہ کرلیا۔محاصرہ سخت ہوا اور جب امان کی صورت نظر نا آئی تو ایک دن بغداد کی فصیل کا دروازہ کھلا اور کچھ لوگ باہر آئے اور ہلاکو سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    یہ بغداد کے عمائدین کا وفد تھا ان کو ہلاکو کے خیمے کی طرف لےجایا گیا ۔ہلاکو نے وفد کو ملاقات کے لیئے خیمے کے اندر بلا لیا۔گفتگو شروع ہوئی اور عمائدین کافی دیر گفتگو کرتے رہے ۔ہلاکو نے ترجمان سے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں تو ترجمان نے کہا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بغداد کی چابیاں دینے کو تیار ہیں مگر ہمیں کچھ باتوں پر آپ کی اخلاقی ضمانت چاہیے تو ہلاکو نے پوچھا کہ وہ کیا ہےتو انہوں نے کہا کہ فوج بغداد میں لوٹ مار نہیں کرئے گی اور قتل عام بھی نہیں کرئے گی ۔منگول فوج طے شدہ اصول وضوابط اور اخلاقیات کے ساتھ شہر میں داخل ہوگی ۔اس پر ہلاکو خان نے تاریخی جواب دیا کہ طاقت کے اپنے اصول وضوابط اور اخلاقیات ہوتی ہیں۔اور اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ طاقت نے بغداد کا جو حشر کیا ۔کئی روز تک دجلہ کا پانی عالموں اور فلسفیوں کے خون سے رنگین رہا۔

    منگولوں کا عہد اپنےاختتام کو پہنچا تو طاقت کا پلڑا ترکوں کا بھاری ہوگیا اور اس کے بعد دنیا سلطنت عثمانیہ کی بے پناہ طاقت کے سامنے سرنگوں رہی ۔بے خوفی اور جوانمردی سے لڑتے ہوئے ترکوں کے سامنے کوئی نا ٹھہر سکا اور یوں چرواہے دنیا کے ایک بہت بڑے خطے کے رہنما بن گئے ۔مگر جب یہ طاقت دوسروں کے ہاتھ میں پہنچی تو سلطنت عثمانیہ کے اتنے ٹکڑے ہوئے کہ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی تھی ۔اب یہ طاقت برٹش ایمپائر کے پاس تھی ۔تاج برطانیہ کا عظیم اقتدار ایک ایسے خطہ ارضی پر قائم ہوا جو اتنا وسیع وعریض تھا کہ کہتے ہیں کہ وہاں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔مگر دوسری جنگ عظم اس عظیم ایمپائر کو لے ڈوبی اور برٹش ایمپائر کے اتنے حصے ہوئے کہ لوگ سلطنت عثمانیہ کے زوال کو بھول گئے ۔

    منگولوں سے لے کر تاج برطانیہ کے عہد تک سات صدیوں میں بارہا جغرافیے تبدیل ہوئے اور اس تبدیلی کا محرک طاقت تھی یہ طاقت تھی جس نے اتنے بڑے بڑے ایمپائر بنائے اور یہی طاقت ہی تھی جس نے ان ایمپائر کو دھول چٹا دی ۔دجلہ کے خوں رنگ پانی سے لے کر روسی فوج کے آخری فوجی کے دریائے آمو کو پار کرنے تک کا بنیادی محرک طاقت ہی تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب وزیر خارجہ بھٹو نے ہندوستانی جارحیت پر اپنی طالبعلم بیٹی بے نظیر بھٹو سے تجزیہ کرنے کو کہا تو بے نظیر بھٹو کے مطابق بھارت یو این او چارٹر کی خلاف ورزی کرکے دنیا میں اکیلا ہورہا ہے اور پاکستان کو اس کیس میں اخلاقی برتری حاصل ہے اس پر ذوالفقار علی بھٹو نے تاریخی جواب دیا کہ مجھے خوشی ہےکہ تم سیاست کی طاقت کو سمجھ گئی ہو مگر تمہیں طاقت کی سیاست کو سمجھنے میں مزید کچھ وقت لگےگا۔

    یہ طاقت ہی ہے کہ جمہوریت اور انسانیت کا راگ الاپتی دنیا کو مقبوضہ کشمیر کے انسانوں کی حالت نظر نہیں آتی نا ہی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والےمظالم نظر آتےہیں۔کیمیائی ہتھیاروں کے نام پر امریکہ بہادر عراق پر چڑھ دوڑا اور لاکھوں عراقی مار دئیے اور دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے دو دہائیوں تک افغانستان میں خون کی ہولی کھیلتا رہا تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اب طاقت اس کے پاس ہے۔طے ہوگیا کہ طاقت کے اپنے اصول و ضوابط، عزائم ، مقاصد اور اخلاقیات ہوتی ہے ۔من پسند نتائج کےحصول کےلیےطاقت کا استعمال جائز تصور ہوتا ہے ۔

    انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہو یا علاقائی اسٹیبلشمنٹ ہو ایک ہی اصول پرکام کرتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیار کا حصول اور دشمن کو زیادہ سے زیادہ کمزور کرنا اب ان دو مقاصد کے لیے لاکھوں لوگوں کی قربانی بھی دینی پڑ جائےتو دریغ نہیں کرتے۔مذہب ، قومیت ، اور لسانیت کے نام پر تقسیم معاشرے ، معاشی طورپر بدحال ان طاقت وروں کی آسان شکار گاہیں ہیں۔ حقیقت میں ہم جیسے لوگ تو ان طاقتور ہاتھوں کی انگلیوں سے بندھے ہوئے دھاگوں کےساتھ لٹکی ہوئی وہ پتلیاں ہیں جو اس وقت تک حرکت میں رہتی ہیں جب تک یہ ہاتھ حرکت کرتے ہیں۔اس وقت یہ ہاتھ حرکت میں ہیں تو ہم بھی ناچ رہے ہیں مگر ستم یہ کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری ہر حرکت ہماری منشا اور ہمارے ارادے سے ہورہی ہے۔جبکہ ایسا نہیں ہے بالکل نہیں ہے

    طاقتوروں کا کھیل جاری ہے۔اوکس کے بعد کھیل دلچسپ ہوتا جارہا ہے۔زمینی اور سمندری ناکہ بندی شروع ہوگئی ہے۔انڈو پیسفک پر طاقتوروں کی نظریں جم گئی ہیں ۔ابھرتی ہوئی طاقت چین پہلے سے موجود سپر پاور کو چیلنج کررہی ہے۔زیادہ طاقت کے حصول کی خاطر نئے بلاک اور اتحاد بننا شروع ہوگئے ہیں۔دنیا بھر میں اور خاص طورپر چین کے اطراف میں طاقتوروں کی سیاست جلد نقطہ عروج کو پہنچ جائے گی۔خدانخواستہ مگر لگ یہی رہا ہےکہ ہاتھیوں کی لڑائی ہمارے کھیتوں میں ہوگی اگر ایسا ہوا تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔امید ہے اس پر غور وفکر ہوگا مگر فی الوقت سوال یہ ہے کہ طاقت کے اس کھیل میں ہمارا کردار کیا ہوگا اور دوسرا سوال یہ کہ ہمارے کردار کا تعین ہم خود کریں گے یا پھر یہ طاقتور کریں گے ۔آخری سوال یہ کہ اگر ہم اپنےکردار کا تعین خود کریں گے تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا اور ہمارے کردار کا تعین یہ طاقتیں کریں گی تو بھی ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟

    https://www.facebook.com/maliksiraj.ahmed.7

  • آج کے نوجوانوں کا سوشل میڈیا کا استعمال   تحریر: تیمور خان 

    آج کے نوجوانوں کا سوشل میڈیا کا استعمال تحریر: تیمور خان 

     انسان اپنی تمام ضروریات کو خود پورا نہیں کر سکتا۔  اسے اپنی خواہشات ، اپنی ضروریات اور اپنا موضوع دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے۔  ترسیل کے اس عمل کو "مواصلات” کہا جاتا ہے۔

     سوشل میڈیا کا مقصد لوگوں کے درمیان مختلف ذرائع سے رابطہ قائم کرنا ہے۔  جس کے مزاج ، خیالات ، ثقافت اور آج کے معاشرے کے حالات زندگی پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔  اس کا بہاؤ بہت وسیع اور لامحدود ہے۔  معاشرے میں ہر ایک کو سوشل میڈیا کے ذریعے اظہار رائے اور اظہار رائے کی آزادی کے زیادہ سے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔  آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔  یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا آزاد نہ ہو وہاں صحت مند جمہوریت کی تعمیر ممکن نہیں۔  سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر کسی مہذب معاشرے کا تصور کرنا ناممکن ہے۔  اگر ٹیکنالوجی کو ضرورت کے مطابق مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے میں کسی نعمت سے کم نہیں۔  موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ٹول کے طور پر ابھرا ہے جس نے معاشرے پر دیرپا تاثر چھوڑا ہے۔  سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا خصوصاً نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔  12 سے 35 سال کی عمر کے لوگوں کے سوشل میڈیا کے استعمال میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔  وہ نوجوان جنہوں نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو استعمال کرنا سیکھا ہے وہ بڑے مالی اور سماجی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔  سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوان مرد و خواتین نے لاکھوں روپے کمائے اور روزگار کا ذریعہ تلاش کیا۔  ہر گزرتے دن کے ساتھ ، فری لانسرز اور سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے اس کے معاشی فوائد کو تلاش کر رہے ہیں۔

     پچھلے کئی سالوں سے ، پاکستان سوشل میڈیا کے بے مثال استعمال کا مشاہدہ کر رہا ہے ، اور نوجوان تیزی سے استعمال کر رہے ہیں اور اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔  یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ انتہا پسندانہ رویوں کا آسانی سے شکار ہو جاتا ہے اور تعمیری سرگرمیوں سے ہٹ جاتا ہے۔  آج کل سوشل میڈیا پر ٹرولز ، یعنی سوشل میڈیا کے گمنام استعمال کرنے والے یا اپنی اصلی شناخت چھپانے والے ، جن کا مقصد جھوٹ یا طنز کی آمیزش کی آڑ میں الجھن پھیلانا ہے ، بہت سرگرم ہیں۔  ہم سب اس سنگین صورتحال سے واقف ہیں ، لیکن عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی موجود نہیں ہے۔  شاید اس سلسلے میں سب سے مناسب تجویز یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔  تاکہ وہ اپنے بچوں اور طلباء کی تربیت کرتے ہوئے اس اہم اور  بڑی حد تک نظر انداز کیے گئے مسئلے پر مناسب توجہ دے سکیں۔  اس سلسلے میں ، والدین کی پہلی اور اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے  عمر میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون تک رسائی دیں، یا تو وہ بلوغت کے دور سے گزریں مطلب اچھے برے چیز کی تمیز پر سمجھ سکیں  رسائی سے پہلے اور دوران مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی بہت اہم ہے۔

     اگر ہم سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر ایک نظر ڈالیں تو اس نے نوجوانوں کو خطرناک حد تک گمراہ کیا ہے۔  نوجوان فحاشی اور عریانی کے جال میں چھلانگ لگاتے ہوئے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ دشمن نوجوانوں کے ذہنوں میں اپنی برائی پھیلا رہے ہیں۔  ففتھ جنریشن وارفیئر بھی سوشل میڈیا پر لڑی جانے والی جنگ ہے جسے آج کل سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ تو عرض اور تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں پر گہری نظر رکھنی چاہئے خوصوص بلخصوص نوجوانوں کو چاہئیے کہ وہ سوشل میڈیا کو اپنے صحیح ضرورت دینی اور دنیاوی تعلیم کے لئے استعمال کریں تاکہ وہ اس سے مستفید ہو سکیں، اور آج ہمیں سوشل میڈیا پر ان ویبسائٹ اور اکاوئنٹس کا بائکاٹ کرنا چاہیے جو معاشرے میں فحاشی پھیلانے کا ایک ذریعہ ہے، اللہ تبارک وتعالی ہمیں نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔

    @ImTaimurKhan