Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • منافقت آخر کیوں ؟”  تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    منافقت آخر کیوں ؟” تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 


    ایک ایسا موضع جس پر شائد بات کرنے یا یہ تحریر لکھنے پر مجھ بھی تنقید ہو لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کی منافقت اور دوہرا معیار دیکھ کر میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس پر بات کرنی چاہیے 

    سب سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور آئین پاکستان میں یہ واضع لکھا ہے کہ ہم ایسا کوئ قانون نہیں بنائیں گے جو شریعت کے خلاف ہو ،اسی لئے ہمارے ملک میں قانون شریعت کے عین مطابق ہیں ،دوسری بات زنا بالجبر ہو یا زنا بالرضا یا زنا کی کوئ بھی قسم ہو قانون وشریعت کی مطابق ہر طرح اس کی سزا بنتی ہے ہاں سزا میں تھوڑی بہت کمی بیشی ضرور ہے لیکن بہرحال سزا بنتی ضرور ہے ،تیسری بات یہ بھی اسلامی تعلیمات سے ہی ہم نے سیکھا ہے کہ کسی کا راز فاش نہیں کرنا چاہیے یا جتنا ہوسکے کسی کے راز پر پردہ رکھیں اس کی بھی کئ مثالیں اسلامی تعلیمات میں ہمیں ملتی ہیں 

    اب آجاتے ہیں اصل معاملہ پر ہمارے معاشرے میں کئ انسان نما وحشی درندے موجود ہیں جن کے چھوٹی بچیوں ،بچوں ،خواتین ،لڑکیوں ،لڑکوں اور یہاں تک جانوروں سے بھی ذیادتی کرنے کے کئ واقعات رونما ہوتے ہیں اور پوری قوم ایسے بد بخت لوگوں کو سخت سے سخت سزا دینی پر مکمل طور پر متفق نظر آتی ہے کوئ ایسی گھٹیا حرکت کرنے والوں کی حمایت کرتا نظر نہیں آئے گا 

    لاہور مینار پاکستان کا واقعہ ہو،اسلام آباد موٹروے کا واقعہ ہو ،کسی مدرسے میں بچے/بچی سے ذیادتی کا واقعہ ہو ،مفتی عبدالعزیز کی بچے سے ذیادتی کی ویڈیو کا واقعہ ہو ہم سب نے پوری قوم سمیت تمام مکاتب فکر اور ہر پیشہ سے وابستہ لوگوں نے کھل کر ان واقعات کی مذمت کے ساتھ سخت سزا کا بھی مطالبہ کیا اور یہ مطالبہ کرنا بھی چاہیے ایسے درندوں سے اس وطن کو پاک کرنا ہم سب پر فرض بنتا ہے 

    لیکن کچھ روز پہلے سابق گورنر سندہ،نواز شریف کے ترجمان زبیر عمر  کی کچھ ویڈیوز وائرل ہوئ جب تک ویڈیو نہیں آئ تب تک اس راز پر پردہ تھا لیکن ویڈیوز آگئ سب نے دیکھ لی تو اب اس میں پردے والی کوئ بات رہ نہیں جاتی تو اس ویڈیوز آنے کے بعد امید تھی پوری قوم تمام مکاتب فکر کے لوگ یک زبان ہوکر اس کی نا صرف مذمت کرے گی بلکہ اس کے لئے بھی سخت سزا کا مطالبہ کرے گی ،لیکن یہاں تو عجیب ہی دیکھنے کو ملا جسے دیکھو وہ بجائے زبیر عمر کے اس واقعے پر بات کرنے والوں کو برا بھلا کہتے نظر آئے ،راز رہنے دو ،نجی زندگی ہے ،ایسی باتوں میں سیاست نا کریں ،میڈیا کوئ ذکر تک نا کرے سب لوگ ایسے خاموش دکھائ دیئے جیسے ذیادتی زبیر عمر کے ساتھ ہوئ ہو 

    چند لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر بلیک میلنگ کا عنصر موجود ہو تو احتساب کریں ورنہ وہ اس کی نجی زندگی کا معاملہ ہے اس لئے بات نا کریں ،سوچیں یہی ویڈیو اگر pti کے کسی بندے ،کسی مدرسے کے مولوی،مزدور یا اسی گورنر ہاوس کے کسی گارڈ،چوکیدار وغیرہ کی ہوتی تو کیا یہ لوگ تب بھی اس طرح خاموش رہتے؟جو غلط کام غریب بندہ کرے تو پھانسی اور امیر پیسہ والا بندہ کرے تو پھانسی تو دور اس موضوع پر بات کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھا جائے 

    میرے خیال میں ہمیں ایسی منافقت ختم کرنی چاہیے ،قانون سزا و جزا ،عزت غیرت امیر غریب ،گورنر مولوی سب کے لئے ایک ہونی چاہیے 

    اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم فرمائیں آمین 

    ‎@MajeedMahar4

  • دوسرا ادھورا خط تحریر محمّد اسحاق بیگ ۔

    دوسرا ادھورا خط تحریر محمّد اسحاق بیگ ۔

    ‏28-01-95)
    بچپن کی محبت کو دل سے نہ جدا کرنا

    جب یاد میری آے ملنے کی دعا کرنا 

    ڈںیر نعیم!

    صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے 

    یونہی زندگی تمام ہوتی ہے۔

    جب چلنے پھرنے کے قابل ہوۓ تو اس وقت دل میں کوئی خواہش نہ ہوئی تھی سواۓ اس کے کہ کوئی ہمیں اُٹھا کر چلے، کوئی گود میں بٹھائے، کوئی سینے سے لگائے،کوئی ٹافی کھلاۓ تو کوئی دوسری قسم کی مٹھائیاں۔اُس وقت ہماری  تمام تر خواہشات بس اسی حد تک محدود تھی۔آہستہ آہستہ بڑے ہوتے گئے اسکول و مسجد جانے لگے۔ پڑھائی سب سے مصیبت زدہ چیز بن کر سامنے آئی۔کبھی قرآن کا پڑھنا کبھی اسکول کی پڑھائی اوپر سے گھر آ کر ابو کی علیحدہ ٹٹیوشن۔ان سب چیزوں سے اتنا ڈرتا تھا کہ اکثر گھر سے میں باہر رہتا تھا۔کبھی ایک چھت پر،اور کبھی دوسری چھت پر،کبھی ایک درخت کے نیچے سے اوپر پتھر برسا رہے ہوتے تھے تو کبھی دوسرے درخت کے نیچے سے،کبھی ایک گندے نالے میں سیومینگ سے لطف اندوز ہوتے تو کبھی دوسرے گڑ لائن  کے نالے میں اُسوقت کی خواہشات بس اس حد تک محدود ہوتی تھی کہ کوئی پڑھائی شڑھائ کے متعلق کچھ نہ کچھ پوچھے۔مگر پھر بھی پ پٹتے تھے یہ مسلہ اب تک حل نہ ہو سکا۔نیوی جوائن کی تھی کہ پڑھائی سے جان چھٹ جاۓ مگر پتہ چلا کہ صرف اور صرف پڑھائی ہے۔

    "بارش سے پجتے تھے،پر نالے کے نیچے رات آئی”

    جو کہ میرے لئے وہاں جان بنی ہوئی ہے۔اگر بچپن میں کچھ پڑھا ہوتا تو آج اتنی مصیبت  نہ ہوتی اسی لیے دوست یہی وقت ہے کہ کچھ کریں ورنہ کل بڑھاپے میں جب پچھتاوا  ہوگا تو یہی کہیں گے کہ کاش جوانی میں ایسا کر لیا ہوتا۔اس لیے جو کرنا ہے آج کر لو۔خوب مطالعہ  کرو،خوب پڑھو فضول انسانوں اور قصے کہانیوں سے کچھ نہیں بنے گا۔کیونکہ میں نے دیکھ لیا ہے کہ پڑھائی کے بغیر کوئی  چارہ نہیں اس لیے میں نے بھی پڑھنا شروع کر دیا ہے۔

    کارساز میں میری افسری  اچھی جارہی ہے طیب عدل، احمد حفیظ  ،آصف عزیز ،عزیز لعال اور اس قسم کے بہت سارے دوست یہاں ہیلپر   ہیں ہر طرف سے سلیوٹ پڑتے ہیں رعب ودبدباھے کبھی کبھار کارساز کے پارک وغیرہ کی طرف بھی چلا جاتا ہوں خوب یاد کرتا ہوں اپنے بچپن کے دنوں کو کھیلنا کودنا اور لڑنا ،جھگڑنا ،بھاگنا، نہانا ،بارشوں میں وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

    اچھا جی خط میں کبھی کوئی کام کی بات بھی لکھ لیا کرو بس فضول باتیں لکھی ہیں تم نے ۔

    ہوئی آنکھ نم اور یہ دل بھر آیا 

    آج وہ ساتھی کوئی بھولا یاد آگیا 

    (30-01-95) 

    اس وقت کلاس میں انسٹرکٹر  پڑھا رہا تھا اور مجھے نیند آگئی تھی اوپر کا یہ شعر میں نے نیند میں لکھا ہے اپنی اتنی پیاری لکھائی میں لکھا۔ اچھا جی ۔توصیف سے ملاقات ہوئی تھی تمہارے خط کی اس نے بھی تعریف کی ۔یار نعیم  یہ غم نم چھوڑو ،خوشی دیکھا کرو ،مت اتنا سوچو اپنے آپ کو شاعر نہ بناؤ ،دیوانہ نہ بناؤ،  اپنے آپ کو اپنا  اور اپنے ماں باپ کا بناؤ۔تمہارے گھر والوں کو تمہاری بے حد ضرورت ہے۔باقی اور کوئی خاص بات تو ہے نہیں کہ لکھوں تمہاری طرح ادھر ادھر کی جھڑ جھڑ لکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے اور نہ ہی اب میرا موڈ کرتا ہے اس قسم کی باتیں کرنے کو.یہ فلسفیانہ باتیں کرنے کو اب جی بھی نہیں چاہتا اور نہ ہی اب کی جاتیں ہیں۔

    اچھا جی اب آتے  ہیں  ادھر ادھر  کی باتوں پر  میری بہن ۔۔۔۔۔کی شادی میرے فرسٹ کزن سے ہو گئی ہے اور میری منگنی اگلے سال ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔کی بھی بات تقریبا  ہوگئی ہے۔اب تم سناؤ تمہارا کیا بنا اور شادی کا کیا ہوا؟ اس کی شادی وغیرہ  کب کر رہے ہو   اللہ خیر خیریت سے کرے آمین۔

    آنٹی کیسی ہیں اللہ انہیں بھی صحت مند رکھے آمین ۔

    (25-04-95)

    ڈیر نعیم  یہی وہ خط ہے جو میں نے تمہیں تین چار مہینے پہلے لکھنا شروع کیا تھا لیکن اب جا کر بھیج رہا ہوں کیوں کہ جب اسے میں نے بھیجنا چاہتا تھا تو تب تم ادھر ہوتے تھے۔بہرحال اب فرصت ملی ہے تو پھر لکھنے بیٹھ گیا ہو کراچی میں ویسے تو ہمیں  کچھ کام نہیں ہوتا لیکن پھر بھی بڑے مصروف مصروف سے لگتے  ہیں۔کیوں کہ دوپہر کو بھی سوتے ہیں اور رات کو بھی اور کلاس روم میں بھی۔اس لیے ٹائم نہیں ہوتا ہمارے پاس کچھ نہ کرنے کو۔

    اچھا جی نئی تازہ بات یہ ہے کہ شاید ہم میں میرے علاوہ گھر والے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے  پشاور شفٹ ہو جائیں کیونکہ ابو ہوگئے ہیں ریٹائر  اس لیے ان کا ارادہ اپنی زمین وغیرہ کی دیکھ بھال کا ہے تو دیکھو کے ابھی کیا پروگرام بناتے ہیں زاہد بنگلہ دیش سے سری لنکا گیا اور اب تیس اپریل کے بعد ھی پاکستان آئے گا انشاءاللہ۔خالد  خیریت سے ہے فون  وغیرہ تو آتے رہتے ہیں۔اور کوئی نئی تازہ بات نہیں ہے کہ تحریر کرو خوش رہا کرو۔شم نا کیا  کرو نماز پڑھا کرو اور اللہ کا شکر کیا کرو پاک صاف فریش رہا کرو سوچ بچار نہ کیا کرو صبح صبح چیل قدمی کیا کرو اور کوشش کیا کرو کہ رات کو ٹائم سویا کرو۔

    اوکے اب اجازت ہے 

    وسلام تمہارا دوست 

    محمّد اسحاق بیگ ۔

    توڑ دے ہر اک آس کی ڈوری, آنسوؤں میں کیا رکھا ہے۔

    عشق محبت باتیں ہیں بس، باتوں میں کیا رکھا ہے۔

    قسمت میں جو لکھا ہے، وہ آخر ہو کر رہنا ہے۔

    چند لکیریں الجھی سی،اور ہاتھوں میں کیا رکھا ہے۔

    ‎@Ishaqbaig___

  • "تحفظِ ختمِ نبوت”  تحریر:صائمہ ستار

    "تحفظِ ختمِ نبوت”  تحریر:صائمہ ستار

    "خود میرے نبی نہ یہ بات بتا دی لا نبی بعدی

    سنے لے ہر زمانہ یہ نوائے ہادی لا نبی بعدی”

    عقیدہ ختمِ نبوت ہر امتی کو جان سے بھی پیارا ہے. یہ اسلام کا ایسا لازم رکن ہے جسکے بغیر مسلمان کا ایمان کبھی مکمل نہیں ہو سکتا.یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر تمام مسالک اور فرقے متفق ہیں کہ سیدنا محمدﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والا یقینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج ہے. اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے”محمد ﷺتمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والے ہیں ” اس آیت سے  علم ہوا کہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلیے بند ہوگیا ہے اور یہ وہ اعزاز ہے جو کسی نبی یا رسول کو عطا نہیں ہوا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”(لا نبی بعدی)”  میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے. "قادیانی مرزا کافر کی نبوت پر جتنے دلائل پیش کرتے ہیں وہ سب نہ تو قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی احادیث سے بلکہ یہ سب تو ان کی من گھڑت باتیں ہیں. تحفظِ ختمِ نبوت پر زندگی فدا کر دینا زندگی کا بہترین استعمال ہے. اس کام کی فضیلت اسقدر ہے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ جو شخص اس بات کاخواہش مند ہو کہ وہ سیدنا محمدﷺ کی ذاتی خدمت کرنا چاہے وہ ختمِ نبوت کے تحفظ کا کام کرے. 

    فتنہِ قادیانیت پہلی بار سیدنا ابو بکر صدیق کہ دورِ خلافت میں اٹھا. 1200 صحابہ اکرام نے جنگِ یمامہ میں اپنی جانیں قربان کر کہ فتنہِ قادیانیت کو مکمل طور پر مٹا ڈالا. آنے والے وقتوں میں اسطرح کے مرتد سر اٹھاتے رہے لیکن ہر دور میں اس فتنہ کی سرکوبی کرنے والا مردِ مجاہد میدان میں موجود رہا. قیامِ پاکستان کے بعد نئی سلطنت کو درپیش مسائل میں ایک فتنہِ قادیانیت سے نمٹنا بھی تھا. اسوقت تک پاکستان کے آئین کے مطابق قادیانی کافر نہیں تھے. وقت کے ساتھ ساتھ یہ فتنہ اپنی جڑیں وسیع کر رہا تھا جسے کاٹنا بہت ضروری ہو گیا تھا.اسی نازک صورتحال میں سپہ سالارِ تحریکِ ختمِ نبوت,فاتح قادیانیت علامہ شاہ احمد نورانی اٹھے. آپ نے زندگی کی آخری سانس تک ختمِ نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کی. محراب و منبر سے لے کر سینٹ کے ایوانوں تک ہر میدان میں یہ مردِ مجاہد قادیانیت کی موت بن کر  سامنے آیا. آپ نے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی تحریک کا آغاز کیا. اس میں آپکے رفیقِ کار عبدالستار خان نیازی کی خدمات بھی قابلِ قدر ہیں.اس تحریک کے دوران دی جانے والی قربانیاں آبِ زرسے لکھنے کے لائق ہیں. پاکستان کا پہلا مارشل لاء اسی دوران نافذ ہوا جسے ختمِ نبوت کے محافظوں پر ہی آزمایا گیا. اور 10 ہزار کے قریب  نہتے بچے,بزرگ اور نوجوان محظ ختمِ نبوت کی پہریداری کے جرم میں شہید ہوئے.لاہور کی تاریخ کا یہ لہو رنگ دور تھا. سیکرٹری دفاع سکندر مرزا نے یہ فرعونی آرڈر جاری کر رکھا تھا کہ:”مجھے یہ نہ بتایا جائے کہ کوئی ہنگامہ ختم کر دیا گیا ہے، بلکہ مجھے یہ بتایا جائے کہ وہاں کتنی لاشیں گرائی گئی ہیں؟مجاہدین کا عزم اس قدر بلند تھا کہ بے انتہا ظلم و تشدد,گرفتاریاں اور گولیاں بھی اس جذبے کو سرد کرنے میں ناکام تھیں. ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا. اور ہزاروں بے گناہوں کو شاہی قلعہ اور جیلوں میں ٹھونس کر بے رحم پولیس کیرحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا.کرفیو کے باوجود جلوس نکلتے رہے,ڈنڈے گولیاں برستی رہیں.

    شہر میں شہدائے ختم نبوت کے پاک جسموں کے ڈھیر لگ گئے تھے جنہیں ٹرکوں میں لاد کر، چھانگا مانگا کے جنگل میں اجتماعی قبر کھود کر ڈالا جاتا اور پھر تیل چھڑک کر آگ لگا دی جاتی تھی، تاکہ شہیدانِ عشقِ رسالت  کا نام و نشاں مٹ جائے لیکن وہ بد بخت یہ نہیں جانتے تھے کہ تحفظِ ختم نبوت کے لیے آنے والی موت تو ابدی زندگی ہے. 

    . اس تحریک کے 3 مطالبات درج ذیل تھے.

    1۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔2۔قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے فارغ کیا جائے۔ 3۔قادیانی وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ خان کو بر طرف کیا جائے۔

    اگر چہ وقتی طور پر تحفظِ ختمِ نبوت کی تحریک کو ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے دبا دیا گیا لیکن آنے والے وقتوں میں شہداء کا مبارک خون اور قربانیاں رنگ لائیں. اور تمام مطالبات ایک ایک کر کہ پورے ہو گئے.سر ظفر اللہ قادیانی رسوا ہوا.اور اقتدار کو ترستا مرا. قادیانی غیرمسلم قرار پائے.یوں یہ تحریک اپنے مقصد میں کامیاب ہوئ.قادیانی اپنی اس ہار کو بھولے نہیں اور آج بھی وہ دوبارہ یہ خواب دیکھتے ہیں کہ کسی دن وہ اس وطن میں انکو کافر قرار دینے والا قانون ختم کروانے میں کامیب ہو جائیں گے. لیکن سیدنا محمدﷺ کا جب تک آخری جانثار بھی زندہ ہم اس وطن میں یہ ممکن نہیں ہونے دیں گے انشاء اللہ. ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کو ختم نبوت کی اہمیت, فتنہ قادیانیت اور اسکی سرکوبی کے لیے دی جانے والی لازاول قربانیوں سے آگاہ کریں. بطوایک امتی اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی کی آخری سانس تک عقیدہِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت کا وفادار رکھے اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دے. آمین.

    "فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود 

    ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام”

    ‎@just_S32

  • تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ تحریر: خوشنود

    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ تحریر: خوشنود


    آج کا مسلمان مختلف قوموں، قبیلوں، خاندانوں، فرقوں، حسب نسب میں بٹ چکا ہے۔ اسلام، اسلام کی تعلیمات تو آج کے مسلمان میں بس رسمی سی رہ گئی ہیں۔ خود کے مسلمان ہونے پہ فخر تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو کھوکھلا سا ایمان، نہ ہونے کے برابر دینی تعلیمات کی پیروی۔ بس "نام نہاد مسلمان”۔ اکثریت کے لئے تو اسلام، مسلمان ہونا بس ایک رمضان کے مہینے تک محدود ہوگیا ہوا وہ بھی بس ایک چُٹکی کے برابر۔

    ” اسلام” نام تو ایک مذہب کا ہے لیکن آج کے مسلمان نے اصولِ دین و عقائدِ دین میں اختلافات پہ اپنی مختلف فرقوں، مسلکوں میں تقسیم کر لی ہے۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    "تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا، تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو”

    لیکن آج کا مسلمان تو اسلام میں اپنے اپنے عقیدے کو لیکر اپنے سگے بھائی سے اختلافات رکھے ہوئے اُسے بھی پہچاننے سے عاری ہے۔ 

    اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فرض احکامات ہیں انکو پورا کرتے نہیں اور دیگر اصول و عقائد کی بحث میں کوئی سُنی بن گیا، کوئی سلفی، کوئی دیو بند اور کوئی شیعہ۔ مختلف مسالک و فرقے تو بن گئے لیکن عملی طور پر ایک مکمل مسلمان ہونا نہ رہا۔ 

    مذہب کی آڑ میں ایسے ایسے بیانات دیتے ہیں کہ نا جانے ایمان بھی قائم رہتا ہو گا کہ نہیں۔کلمہ طیبہ ک اقرار کرتے ہیں لیکن جس اللہ اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ ایمان کی زبان سے گواہی دیتے ہیں اُنہی کے نام پہ آپسی اختلافات میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں اپنا اپنا عقیدہ لیکر ایک دوسرے کو گالی گلوچ، توہمات، کافر تک کہہ دیتے ہیں، اسلام و ایمان کے ٹھیکیدار بنے ہوئے دوسروں کے دائرہ اسلام، دائرہ ایمان سے ہی خارج کر دیتے ہیں۔

    آج کا مسلمان تو بس دنیاوی زندگی، دنیاوی آسائشوں کو لیکر بس اِسی دنیا کی زندگی میں غرق ہو کے رہ گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دولت و شہرت کے چکروں میں سبھی قرآنی تعلیمات، دینی احکامات کو بھلائے بیٹھا ہے۔ کوئی بھی مسلمان جس بھی فِیلڈ میں ہے اپنی اپنی فِیلڈ میں آگے سے آگے بڑھنے، دوسروں سے سبقت لے جانے کے لئے رشوت، جھوٹ، زیادتی، دھوکا، ظلم و ستم، نا انصافی نیز ہر قسم کا غلط، نا جائز حربہ استعمال کر رہا ہے۔ حق تلفی عام ہے۔ ایک دوسرے سے برتری لے جانے کے لئے دوسروں کے لئے اپنے دلوں میں بُغض، حسد، کینہ، نفرتیں پالے ہوئے ہے۔ دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کے لئے کوئی بھی گھناؤنا قدم اٹھا لیتا ہے۔ آج کا مسلمان یہ بھولے بیٹھا ہے کہ کل کو روزِ محشر اللہ کے سامنے اپنے ہر ہر عمل کے لئے جوابدہ ہونا ہے۔ 

    اسلام تو امن کا دین ہے، آسانیوں کا پیغام دیتا ہے۔ آج کا مسلمان جو سب کچھ کر رہا ہے یہ تو اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں۔ جو سب کچھ آج اسلامی معاشرے میں ہو رہا ہے اور اپنے اپنے عقیدوں کو لیکر مسلمان جو مختلف فرقوں میں بٹ چکے ہیں یہ تو اسلام نہیں ہے۔

    آج کے مسلمانوں کے لئے پیغام ہے پہلے اپنے مسلمان ہونے کے فرائض تو پورے کر لیں کلمہ طیبہ کا بس زبان سے اقرار نہیں، اپنے ہر عمل سے بھی اللہ اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کی مضبوطی دکھائیں۔اسلام میں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد مقرر کئے گئے ہیں اُنکو پورا کریں۔ یہ”دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔” 

    اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہو گی، فانی کے لئے دائمی کو تباہ و برباد نہیں کریں۔ اگلی ہمیشہ کی رہنے والی زندگی میں آسائشوں اور آسانیوں کے لئے یہ ختم ہو جانے والی زندگی کو ایک سچے مسلمان ہوتے ہوئے مکمل دائرہ اسلام میں داخل ہو کر اسلامی تعلیمات و احکامِ الہی کے مطابق گزاریں۔ 

    آخر میں اقبال کے شعر سے آج کے مسلمان سے سوال ہے۔۔۔۔

    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو 

    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟؟؟

  • دیمک زدہ معاشرہ تحریر : نواب فیصل اعوان

    دیمک زدہ معاشرہ تحریر : نواب فیصل اعوان

    ہم جہاں رہتے ہیں جس جگہ پروان چڑھتے ہیں جس جگہ اپنی زندگی کا ہر پل گزارتے ہیں وہ ہمارا معاشرہ کہلاتا ہے ۔
    جس معاشرے میں انسان کی پیداٸش سے انسان کی وفات تک کا وقت گزرے اس معاشرے کی تعمیر و ترقی کیلۓ کوشش کرنا جہاں اس کا اخلاقی فرض بنتا ہے وہیں معاشرے سے وفاداری کا عنصر موجود ہونا بھی قابل تعظیم ہوتا ہے ۔
    ہمارا معاشرہ اس وقت اندرونی و بیرونی دونوں اطراف سے اچھے اور برے لوگوں سے گھرا ہوا ہے ۔
    ہر شخص یہاں کسی نہ کسی روپ میں اس معاشرے کی تعمیر و ترقی یا تنزلی کا باعث بن رہا ہے ۔
    اس وقت معاشرہ تین حصوں میں منقسم ہے
    پہلا حصہ :
    پہلا حصہ معاشرے کے وہ باسی ہیں جو حقیقی معنوں میں معاشرے کی اصلاح کیلۓ جدوجہد کر رہے ہیں کہ معاشرہ کسی نہ کسی صورت سدھار کی جانب آجاۓ ۔
    ایسے لوگ معاشرے کے ہمدرد و محسن ہیں جو بنا ذاتی اغراض و مقاصد کے معاشرے کی تعمیر و ترقی ، معاشرے کی بھلاٸ اور سدھار کیلۓ بے لوث خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔
    معاشرے میں اگر تھوڑی بہت غیرت و ہمدردی کا عنصر موجود ہے تو وہ انہی لوگوں کی وجہ سے ہے جو انتہاٸ مشکلات کے باوجود بھی اپنے حصے کی شمع کسی نہ کسی صورت جلاۓ ہوۓ ہیں ۔
    دوسرا حصہ :
    اس معاشرے کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ہیں تو اسی معاشرے کا ہی حصہ مگر انہیں فرق نہیں پڑتا کہ معاشرے میں کیا براٸیاں ہیں کیا نہیں ہیں کیا اچھا کام ہو رہا ہے کیا برا ۔
    ایسے لوگ معاشرے کے دوسرے حصے میں آتے ہیں مطلب جن کو فکر ہی نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ کس ڈگر محو سفر ہے ۔
    ایسے لوگ نہ تو معاشرے کی تعمیر و ترقی پہ کچھ بولتے ہیں نہ معاشرتی براٸیوں کے خلاف ان کے منہ سے کچھ نکلتے سنا ہو نہ یہ معاشرے کیلۓ فاٸدہ مند ہیں نہ نقصان دہ ایسے لوگ نیوٹرل رہتے ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہیۓ ۔
    اگر معاشرے میں رہنا ہی ہے تو معاشرے کی تعمیر و ترقی کیلۓ اچھے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہنا ہی عقل مندی ہے ۔
    معاشرے کا تیسرا حصہ :
    معاشرے کا تیسرا حصہ ان لوگوں پہ مشتمل ہے جو کہ معاشرے کے بگاڑ کی اصل وجہ ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں معاشرتی براٸیوں کی بہتات ہے ۔
    ایسے لوگ اپنے ہر غلط فیصلے ہر غلط کام ہر غلط معاشرتی براٸ الغرض معاشرے کے بگاڑ کا سبب بننے والے کوٸ بھی کام ہوں ان سب کا ذمہ دار ہی معاشرے کو دیتے ہیں کہ جی دنیا نے سکھایا دنیا نے ایسا بنایا فلاں فلاں فلاں ۔
    جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے یہی لوگ معاشرتی گناہ گار ہوتے ہیں جو ہر وہ معاشرتی و اخلاقی براٸ و جراٸم کا ارتکاب کرتے ہیں جو ایک معاشرے کا باشعور باسی کبھی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔
    بحثیت قوم ہمیں اپنے معاشرے کا وہ پہلا حصہ و طبقہ بننا ہے جو معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مثبت رویہ اپناۓ ہوۓ ہے جو خود سے ہوٸ کسی بھی زیادتی یا واقعہ کا ذمہ دار معاشرے کو نہیں ٹھہراتے نہ کسی سے بدلے کی آگ میں گرتے ہیں ۔
    ایسے لوگ ہمشہ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جاٸیں گے ۔
    معاشرے کے سدھار میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ معاشرتی براٸیوں کا خاتمہ کر کے ایک پرامن و اچھے معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنایا جا سکے ۔

    @NawabFebi

  • ‏سوشل میڈیا: یہ ادھوری اور مصنوعی دنیا  تحریر جواد خان یوسفزئی

    ‏سوشل میڈیا: یہ ادھوری اور مصنوعی دنیا تحریر جواد خان یوسفزئی

     

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@

    سوشل میڈیا اور خاص کر فیس بوک کی دنیا وسیع بھی ہے اور محدود بھی۔ وسیع یوں کہ ہر آدمی کو اس کے مزاج اور ضرورت کے مطابق مواد مل جاتا ہے۔ محدود یوں کہ جب اس مصنوعی دنیا میں چند لمحے جی کر حقیقی دنیا میں قدم رکھتے ہو تو احساس ہوتا ہے

    خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا 

    یہ مصنوعی دنیا ہے اور آنکھوں کو خیرہ کرتی اس دنیا سے جتنا دور رہیں، اتنا ہی اچھا ہے۔ حقیقت کے پرندے کا شکار، اس دنیا سے دور کھلی فضاؤں میں ہی ممکن ہے۔ یہ حقیقت اپنے بارے میں بھی ہو سکتی ہے، دوسروں کے باب میں بھی اور سب سے بڑھ کر اس دنیا کے تلخ حقائق بھی ہوسکتے ہیں۔ 

    میرے خیال میں سوشل میڈیا کا یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے کہ یہ انسان کو حقیقی دنیا کے بجائے مصنوعی دنیا میں لا کھڑا کرتا ہے۔ جو لوگ اپنا لائف کرئیر بنا چکے ہیں، ان کے لیے تو کسی حد تک ٹھیک ہے۔ مگر طالب علم اور خاص کر وہ لوگ جو یونیورسٹیوں سے نکل چکے ہیں اور غم روزگار اور غم دوراں کے دوراہے پر کھڑے ہیں، ان کے لیے یہ زہر قاتل سے بڑھ کر کوئی شے ہے۔ جب گھر سے ملنے والی جیب خرچ کا اے ٹی ایم کارڈ، جہانگیر ترین کی صورت اختیار کر گیا ہو، خود اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کے بجائے خان صاحب کی طرح فلسفہ جھاڑ رہے ہو اور عملی طور پر کچھ کرنے کے بجائے فیس بوکی دانشور بن بیٹھے ہو، تو یقین کریں آپ کا خون بالکل جائز ہے۔

    سوشل میڈیا کے فوائد بھی ہیں۔ ان سے کس کو انکار۔ اور نہ ان کی طویل فہرست پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں سب واقف ہیں۔ مگر مجھے وقت کے ساتھ احساس ہو چلا ہے کہ اس کے نقصانات فوائد سے کئ گنا زیادہ ہیں۔ سب سے بڑا نقصان تو اس کی مصنوعات ہی ہے۔ یہ سراب ہے۔ نظروں کا فریب ہے۔  ایک دن سر پہ تاج سجاتا ہے۔ دوسرے دن رسوا سر بازار کر دیتا ہے۔ "چائے والے” کی خوب صورت آنکھیں سوشل میڈیا کی برکت سے اس کو چند دن آسمانوں کی سیر کراتی ہیں۔ جب اس کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی شے ہے، پھر زمین پر پٹخ دیتا ہے۔ کہ بھائی جتنا نچانا تھا نچا لیا۔ اب جاؤ اور اپنی چائے بیچو۔ "پاری ہو رہی ہے” والی حسینہ کے لیے بھی یہ چند دن کی رونقیں ساتھ لاتا ہے۔ جب لڑکی تفاخر کا سر بلند کرتی ہے تو پھر ہما کب کا اڑ چکا ہوتا ہے۔ قندیل بلوچ کو چند روز نچایا اور پھر زیر زمین پہنچا دیا۔ صندل خٹک اپنی ساری شوخیوں، چال ڈھال کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہے۔ حریم شاہ کو ہر ماہ کوئی نئ واردات کرنی پڑتی ہے کیوں کہ سوشل میڈیا چند دن ہی کسی کی میزبانی کرتا ہے۔

    سوشل میڈیا ہم دانشوراں کے ساتھ ان مذکورہ ناموں سے بھی بڑھ کر المیے کر جاتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ فیس بوک پر لکھنے سے پیسے نہیں ملتے اور آپ لائف کرئیر کے طور پر اس کو اپنا نہیں سکتے۔ دوسری طرف فیس بوک آپ کو اس رنگ روپ میں پیش کرے گا جیسے کائینات میں آپ ہی آپ ہیں اور آپ کی ایک چال سے قیامت بپا ہو سکتی ہے۔ آپ محنت مزدوری اور کام کے بغیر روز آتے ہیں اور تھوڑا بہت پڑھ کر اس کو لوگوں کی نظر کرتے ہیں تو تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اور آپ کو پر لگ جاتے ہیں۔ جب آپ "واہ واہ” اور کیا خوب لکھا\بولا سے پھولے نہیں سما رہے ہوتے اور کہتے ہیں کہ اسی سے گلشن کا کاروبار چلے گا، اچانک نیٹ پیج ختم ہوجاتا ہے، اپنا پیٹ خالی پاتے ہیں اور نکوڑی جیب کو اس سے بھی زیادہ کنگال۔ تب احساس ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر پہلے اس سوشل میڈیا نے جو سر پہ تاج سجایا تھا، اب گدا بنا کر بیٹھا دیا ہے۔ کہاں گئے وہ داد و تحسین کے برستے ڈونگرے؟ کہاں گئ وہ دانش وری کی چمکتی دکان؟

     کچھ علاج اے چارہ گراں اس پیکج، پیٹ اور جیب کا ہے بھی کہ نہیں؟ 

    سو کیون نہ کوئی کام کیا جائے؟ محنت کی جائے۔ اپنا کرئیر بنایا جائے۔ چار پیسے کمائے جائیں۔ جہاں ٹیلنٹ ہے، اس کو بروئے کار لا کر اپنا مستقبل سنوارا جائے۔ سوشل میڈیا کو سنجیدہ لیے بغیر صرف دل لگی اور سیر سپاٹے کے واسطے اختیار کیا جائے۔ اور الٹے پاؤں نکلا جائے۔ جتنی جلد یہ حقیقت سمجھ آگئ، اتنا ہی بھلا ہے۔ 

     اس کے علاؤہ چلتے چلتے عرض کرتا چلوں کہ جو لوگ سوشل میڈیا پر دیر و حرم کے جھگڑے مٹانے آتے ہیں، سمجھو کہ جان کے دھوکہ کھاتے ہیں۔ دھوکہ دیتے ہیں۔ بھائی یہ ایسے مسائل ہیں جو لاکھوں کتابوں، مناظروں، بحثوں اور فتووں سے حل نہ ہوئے۔ آپ کی فیس بوک پوسٹ اور کمنٹ سے خاک حل ہوں گے۔ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ اپنی رائے کو، کسی پر ٹھونسے بغیر، آرام اور شائستگی سے کہہ کر پتلی گلی سے نکل جاؤ اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھو۔ سیدھے جا کر اپنا کام کرو، کام نہیں تو کوئی کتاب پڑھو، کچھ لکھنے بیٹھ جاؤ۔ اگر ایسا موڈ نہیں تو لمبی والک پہ نکل جاؤ۔ چائے کے ڈھابے کا رخ کرو۔ کسی ہم خیال دوست کو کال کرو اور گپ شپ لگاؤ۔ اگر کچھ بھی نہیں تو لمبی تان کر سو جاؤ۔ یقین کرو یہ سارے کام فیس بوک کو سنجیدہ لینے، اس پر دانشوری بگھارنے، لوگوں سے الجھنے اور بحث و تکرار میں حصہ لینے سے کہیں بہتر ہیں۔

  • خلیفہ اول یار غار حضرت صدیق اکبر

    خلیفہ اول یار غار حضرت صدیق اکبر

    ‏خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق یار غار بھی کہلاتے ہیں اور اول میں سے اسلام قبول کرنے والے اصحابِ کرام میں شامل ہیں اور آپ نے سب سے پہلے نبوت کا دعویٰ کرنے والے عبہلہ بن کعب معروف باسود العسنی ملعون  کو 511 میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّہ تعالیٰ عنہ نے قتل کیا جو پہلا نبوت کا دعویٰ کرنے والے تھا دوسری بھی آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ نے جس کا نام مسیلہ بن کبیر حبیب الکذاب تھا اسی سال یعنی 511 عیسوی میں کفر کا سر کچلا 
     ابوبکر الصدیق ، خدا کے رسول کے جانشین ، خدا ان پر سلامتی اور برکت نازل کرے ، ان کا نام عبداللہ ابن ابی قحافہ عثمان ابن عامر ابن عمرو ابن کعب ابن سعد ابن تیم ابن مرہ ابن کعب ابن ہے لوئے ابن غالب القرشی التمیمی ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں۔
    النوی نے اپنی تہذیب میں اور جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ ابوبکر الصدیق عبداللہ کا نام صحیح اور معروف ہے ، اور کہا گیا کہ اس کا نام عتیق ہے۔ ابن الزبیر ، اللیث ابن سعد اور ایک گروہ ، اور کہا گیا کہ اس کے نسب میں کچھ غلط نہیں ہے۔
    مصعب بن زبیر اور دیگر نے کہا:امت متفقہ طور پر اسے الصدیق کہنے پر راضی ہوگئی کیونکہ اس نے اللہ کے رسول believe پر ایمان لانے میں جلدی کی ، خدا اسے سلامت رکھے اور اسے سچا ہونا چاہیے۔ اسلام میں ، بشمول شب سفر کی رات کی کہانی ، اس کی ثابت قدمی اور اس میں کافروں کو اس کا جواب ، اور خدا کے رسول کے ساتھ اس کی ہجرت ، خدا اسے سلامت رکھے اور اسے سلامتی دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں اور بچوں اور ان کے ساتھیوں کو غار اور باقی راستے میں چھوڑ دیا ، پھر بدر کے دن اور حدیبیہ کے دن ان کے الفاظ جب دوسروں کو مکہ میں داخل ہونے میں تاخیر کا شبہ تھا اور پھر جب وہ رو رہے تھے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ ایک بندہ جسے خدا نے دنیا اور آخرت کے درمیان منتخب کیا ، تو اس نے آخرت کا انتخاب کیا اور پھر اس کے استحکام کے دن خدا کے رسول نبی کی وفات کے دن ، خدا کی دعائیں اور سلامتی ہو ، لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں آباد کیا ، پھر وہ مسلمانوں کے فائدے کے لیے بیعت کے مسئلے میں اٹھا ، پھر اسامہ بن زید کی فوج کو شام بھیجنے میں اس کی دلچسپی اور ثابت قدمی اس میں اس کا عزم ، پھر اس کا ارتداد کے لوگوں سے لڑنے کا عروج اور صحابہ کے ساتھ اس کی بحث جب تک کہ وہ ثبوت کے ساتھ حج نہ کریں اور خدا نے ان کے سینے کو اس بات کے لیے سمجھایا جو اس نے اسے سچ سے سمجھایا ، جو کہ ارتداد کے لوگوں سے لڑ رہا ہے ، پھر اس نے لیوینٹس کو اس پر فتح حاصل کرنے اور انہیں سامان مہیا کرنے کے لیے تیار کیا ، پھر اس نے ایک اہم کام کے ساتھ اس پر مہر لگا دیاس کی بہترین خوبیاں اور اس کی سب سے اعلیٰ خوبی مسلمانوں پر اس کی جانشینی ہے ، عمر رضی اللہ عنہ اس سے راضی ہیں ، اس کی تشریح اور اس کی مرضی ، اور خدا نے اسے قوم کے سپرد کیا ہے ، لہذا خدا غالب اور اس کے بعد ان میں بہترین خلافت آئی اور عمر کے سامنے پیش ہوئے ، جو ان کے نیک اعمال میں سے ایک ہے اور ان کا ایک عمل اسلام کا پیش خیمہ ہے اور دین کی مضبوطی اور خدا کے اس وعدے پر یقین ہے کہ وہ اسے سب پر ظاہر کرے گا ایک دوست کی بے شمار خوبیاں ، راضی اور فضیلتیں ہیں۔ یہ ایک نووی کے الفاظ ہیں۔
    اور میں کہتا ہوں: میں صدیق کے ترجمے کو کچھ ہندسوں میں آسان بنانا چاہتا تھا ، اس میں اس کے ایک بڑے جملے کا ذکر کرنا جو میں نے اس کی حالت سے کیا تھا ، اور اسے ابواب میں ترتیب دیا تھا۔
    اس کے نام اور عنوان میں ایک باب۔
    اس کا حوالہ دیا گیا۔ ابن کثیر نے کہا: وہ اس بات پر متفق تھے کہ اس کا نام عبداللہ ابن عثمان تھا ، سوائے اس کے کہ ابن سعد نے ابن سیرین کے اختیار پر بیان کیا کہ اس کا نام عتیق ہے ، اور صحیح اس کا لقب ہے۔ حنبل ، ابن ما میں اور دیگر ، اور ابو نعیم الفضل ابن ذکین نے کہا: وہ اپنی بھلائی کے لیے ہے ، اور کہا گیا: اس کا نسب ، یعنی اس کی پاکیزگی ، اگر اس کے نسب میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ ابوبکر کا نام اس نے کہا: عبداللہ۔ اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں عتیق۔ اس نے کہا کہ ابو قحافہ کے تین بچے تھے جن کا نام اس نے عتیق ، معطیق اور معطیق رکھا۔ ابن مندہ اور ابن عساکر نے موسیٰ بن طلحہ سے روایت کی کہ کہا: میں نے ابو طلحہ سے کہا ، اس نے ابو طلحہ سے کہا: ابوبکر کا نام عتیق کیوں رکھا گیا؟ اس نے کہا: اس کی ماں اپنے بیٹے کے لیے نہیں رہ رہی تھی ، اور جب اس نے اسے جنم دیا تو اس نے گھر کو سلام کیا ، پھر اس نے کہا ، "اے خدا ، یہ موت سے پاک ہے ، اس لیے اس نے مجھے یہ دیا۔” الطبرانی نے ابن عباس کی روایت پر بیان کیا ، جنہوں نے کہا:اسے اپنے اچھے چہرے کی وجہ سے عتیق کہا جاتا تھا ، اور ابن عساکر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، اللہ نے اس سے راضی ہو ، جس نے ابوبکر کا نام بتایا ، جسے اس کے خاندان نے اس کا نام عبداللہ رکھا ، لیکن عتیق نے اسے پیچھے چھوڑ دیا اور ایک تلفظ میں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اسے سلامت رکھیں ، اسے عتیق کہتے ہیں ، اس کے بارے میں خدا نے کہا ، خدا کی قسم ، میں ایک دن اپنے گھر میں ہوں اور خدا کے رسول ، خدا اسے برکت دے اور عطا کرے اسے سلامتی ، اور اس کے ساتھی صحن میں ہیں اور میرے اور ان کے درمیان پردہ ہے ، جب ابوبکر آتے ہیں۔ اسے ابوبکر کی طرف دیکھنے دو۔ "اور اس کا نام جو اس نے اپنے خاندان کے نام عبداللہ رکھا تھا ، اس لیے عتیق نام اس پر غالب آیا ، اور الترمذی اور الحکیم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، خدا اس سے راضی ہو ، کہ ابوبکر خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا اور کہا: اے ابوبکر ، تم خدا کی آگ سے آزاد ہو گئے ہو ، ابوبکر کا نام عبداللہ تھا ، لہذا خدا کے رسول ، خدا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برکت دی اور اسے سلامتی دی ، اس سے کہا ، "تم خدا کی آگ سے آزاد ہو۔” اسے عتیق کہا جاتا تھا۔اے ابوبکر تم جہنم کی آگ سے پاک یعنی جنتی ہو   ۔اس دن سے اسے عتیق کہا جاتا تھا۔ البزار اور الطبرانی نے عبداللہ بن الزبیر کے اختیار پر راوی کا ایک اچھا سلسلہ نکالا جس نے کہا: ابوبکر کا نام عبداللہ تھا ، تو خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سلامتی کی ، اس سے کہا ، تم جنتی ہو  ،” اس لیے اسے عتیق کہا گیا۔اے ابوبکر تم جہنم سے پاک  ہو۔اس دن سے اسے عتیق کہا جاتا تھا۔ البزار اور الطبرانی نے عبداللہ بن الزبیر کے اختیار پر راوی کا ایک اچھا سلسلہ نکالا جس نے کہا: ابوبکر کا نام عبداللہ تھا ، تو خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سلامتی کی ، اس سے کہا ، "تم خدا کی آگ سے آزاد ہو ،” اس لیے اسے عتیق کہا گیا۔
    جہاں تک الصدیق کا تعلق ہے ، یہ کہا جاتا تھا کہ اسلام سے پہلے کے زمانے میں انہیں ان کی ایمانداری کی وجہ سے پکارا جاتا تھا۔ خدا کی دعائیں اور سلامتی اس پر ، جو وہ اسے بتا رہا تھا۔ ابن اسحاق نے الحسن البصری اور قتادہ کے اختیار پر کہا۔ خدا اس سے راضی ہو۔ اس نے کہا مشرک ابوبکر کے پاس آئے اور کہا۔ کیا آپ کا کوئی دوست ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آج رات اپنے ساتھ بیت المقدس لے جایا گیا؟ انہوں نے کہا ، "ہاں۔” اس نے کہا ، "اس نے ایمان لے لیا ہے۔ میں اس پر اس سے زیادہ یقین کرتا ہوں ، صبح آسمان کی خبروں کے ساتھ اور اس کی روح میں۔ اسی لیے الصدیق کو اس کی زنجیر کہا جاتا ہے۔ اچھا ہے ، اور یہ انس اور ابوہریرہ کی حدیث سے آیا ہے ، جسے ابن عساکر اور ام ہانی نے بیان کیا ہے۔ اسے الطبرانی نے روایت کیا ہے۔
    سعید بن منصور نے اپنی سنن میں کہا: ابو معشر نے ہمیں ابوہریرہ کے آزاد کردہ غلام ابوہریرہ کے اختیار پر بتایا ، اس نے کہا ، "جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واپس آئے اس کے ساتھ میری پرواز کی رات ، وہ ذی طوا میں تھا ، اس نے کہا ، اے جبرائیل ، میری قوم مجھ پر یقین نہیں کرتی۔ ابو وہب ابوہریرہ کے اختیار پر
    الحاکم نے المستدرک میں النزال بن صبرا کے اختیار پر بیان کیا ، انہوں نے کہا: ہم نے علی سے کہا ، مومنوں کے کمانڈر ، ہمیں ابوبکر کی اتھارٹی پر بتائیں۔
    الدراقطنی اور الحاکم نے ابو یحییٰ کے حوالے سے بیان کیا ، جنہوں نے کہا: میں شمار نہیں کرتا کہ میں نے علی کو منبر پر کہتے ہوئے کتنا سنا: خدا نے ابوبکر کا نام اپنے نبی کی زبان پر رکھا ، ایک دوست۔
    الطبرانی نے اسے حکیم بن سعد کے حوالے سے ایک عمدہ ، مستند سلسلہ بیان کے ساتھ شامل کیا جس نے کہا: میں نے علی کو یہ کہتے ہوئے اور قسم کھاتے ہوئے سنا کہ خدا نے ابوبکر کا نام جنت سے صدیق نازل کیا۔
    اور ابی بکر کی والدہ جو اپنے والد کے چچا کی بیٹی تھی ، اس کا نام سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن کعب تھا اور اسے ام الخیر کہا جاتا تھا۔ الزہری نے کہا کہ اسے ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
    اس کی پیدائش اور پیدائش کے بارے میں ایک باب
    وہ نبی کی پیدائش کے دو سال اور مہینے بعد پیدا ہوا ، خدا اسے سلامت رکھے اور اسے سلامتی دے ، کیونکہ اس کی وفات اس وقت ہوئی جب وہ تریسٹھ سال کا تھا۔
    ابن کثیر نے کہا: جو کچھ خلیفہ بن الخیات نے یزید بن العاصم کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کہا: کیا میں بوڑھا ہوں ، یا آپ ہیں؟ اس نے کہا ، "تم بڑے ہو اور میں تم سے بڑا ہوں ، کیونکہ وہ بہت غریب مرسل ہے ، اور اس کے برعکس مشہور ہے ، لیکن یہ عباس کے اختیار میں سچ تھا۔”
    اس کی اصل مکہ میں تھی ، جہاں سے وہ صرف تجارت کے لیے نکلا تھا ، اور اس کے پاس اپنے لوگوں کے درمیان بہت زیادہ پیسہ تھا ، مکمل شرافت ، احسان اور ان کے ساتھ احسان ، جیسا کہ ابن الدغنا نے کہا: آپ رشتہ داری کو جوڑتے ہیں۔ ، حدیث پر یقین کریں ، غریب کمائیں ، سب برداشت کریں ، ہمیشہ کی آفات میں مدد کریں ، اور مہمان کو قبول کریں۔
    النووی نے کہا: وہ قبل از اسلام دور میں قریش کے سرداروں میں سے تھے ، اور جو لوگ ان سے مشورہ کرتے تھے ، ان سے محبت کرتے تھے اور ان کی خصوصیات کو جانتے تھے ، جب اسلام آیا تو اس نے اسے ہر چیز پر ترجیح دی اور اس میں داخل ہو گیا۔ زبیر بن بکر اور ابن عساکر نے معرف بن خاربود کے حوالے سے نکالا ، جنہوں نے کہا: ابوبکر الصدیق ، اللہ اس سے راضی ہوں ، قریش کے گیارہ کو بلایا گیا۔ انہیں اسلام سے پہلے کے دور کا اعزاز حاصل تھا۔ اسلام ، لہٰذا اس کے پاس خون کے پیسے اور جرمانے کا معاملہ تھا ، کیونکہ قریش کے پاس کوئی بادشاہ نہیں تھا کہ وہ اسے تمام معاملات واپس کر دے۔بلکہ ہر قبیلے میں اس کے سردار کے لیے ایک عام حکم تھا۔ بنو ہاشم میں پانی دینا اور سرپرستی دی گئی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں کھاتا یا پیتا ہے سوائے ان کے کھانے پینے کے ، اور یہ بنو عبد الدار الحجابہ ، بریگیڈ اور سیمینار میں تھا ، یعنی کوئی بھی ان کی اجازت کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہوتا۔ ، اور اگر قریش نے جنگ کا جھنڈا تھام لیا تو بنو عبد الار نے ان کے لیے تھام لیا۔
    نوٹ عظمت صحابہ کرام رکھتے وقت کوئی الفاظ کی انجانے میں غلطی کوتاہی ہوتو  اللّہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ 
    Twitter ‎@RizwanANA97

  • کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں – تحریر: یاسر اقبال خان

    کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں – تحریر: یاسر اقبال خان

    جھوٹ کا مطلب کے کسی کو دھوکہ دینا ہے۔ جھوٹ بولنے کو دنیا کے تمام مذاہب میں برا سمجھا جاتا ہے اور ہمارے مذہب اسلام میں جھوٹ کو گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ کسی کو دھوکہ دے کر اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا کے ہر معاشرے اور مذہب میں جھوٹ کو ایک اخلاقی جرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ جھوٹ بول کر لوگ اپنی کوئی کمزوری چھپاتے ہیں یا سزا سے بچنے کیلئے جھوٹ بولتے ہیں یا کسی کے ساتھ کوئی وعدہ توڑنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جھوٹ بولنا جب کسی معاشرے میں عام ہوجاتا ہے تو اس معاشرے پر دنیا کا کوئی فرد و قوم بھروسہ نہیں رکھتا اور نہ کوئی جھوٹ بولنے والوں سے دوستی رکھنا پسند کرتا ہے۔ جو بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اسکی اپنی شخصیت اور کردار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کسی بھی محفل میں جھوٹ بولنے والے کو دھوکے باز سے یاد کیا جاتا ہے۔

    دنیا کے تمام مذاہب میں جھوٹ بولنے کو برا سمجھا جاتا ہے جھوٹ بولنے والے انسان کو رفتہ رفتہ کسی بھی دوسرے شخص کے جذبات واحساسات کی کوئی پرواہ نہیں رہتی، جھوٹ بولنے والے اس انسان کا دماغ ہر وقت کسی کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ بڑے سے بڑے دھوکا دینے کے لئے تیار رہتا ہے اور جھوٹ اس کے لئے ایک معمولی سی بات ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ اس شخص پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی میں سوائے اپنے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اسکے قریبی رشتہ دار مثلاً اس کی بیوی، شوہر، بچے، ماں، باپ ، بہن ، بھائی، دوست پڑوسی کی بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ ایسے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے بھی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کے دور میں ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بولنے لگا کہ میں اسلام لانا چاہتا ہوں لیکن مجھ میں بہت سی برائیاں ہیں جنہیں میں چھوڑ نہیں سکتا اگر رسول ﷺ مجھے ان میں سے کوئی ایک برائی چھوڑنے کا کہے تو وہ میں چھوڑ دوں گا رسول ﷺ نے اس شخص کو فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو جس پر اُس بندے نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کر لیا جھوٹ چھوڑنے کے سبب اُس کی تمام برائیاں چُھٹ گئیں۔ اِس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جھوٹ بولنا کتنی بڑی برائی ہے اگر ہم اس کو ترک کرے تو بہت سی برائیوں سے بندہ بچ سکتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے سچ بولنے سے متعلق ایک ارشاد فرمایا ہے: ”سچ بولنے کی عادت بناؤ کیونکہ سچائی نیکی کی راہ دکھاتی ہے اورنیکی جنت میں لے جاتی ہے”۔

    (صحیح مسلم:۱۳؍۱۶حدیث: ۴۷۲۱)

    قرآن میں اللّه پاک نے فرمایا ہے کہ جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللّه پاک قرآن میں فرماتے ہیں:

    "اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو۔”   [9-التوبة:119]

    اسی طرح قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمانِ الٰہی ہے: 

    ”آج وہ دن ہے کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔”  (المائدۃ: ۱۱۹)

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ایک آیت میں جھوٹ بولنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: 

    ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتے جو اسراف کرنے والے ہیں اور جھوٹے ہیں۔” (المؤمن :۲۸)

    جھوٹ ایک برا عیب اور سب سے بڑا گناہ ہے بہت سے برے اور غیر پسندیدہ کاموں کا سرچشمہ ہے۔ سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت ہر مذہب اور ہر دور میں یکساں طورپر تسلیم کی گئی ہے، اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی۔ جھوٹ کا بازار کتنا ہی گرم ہو لیکن ہمیں کوئی ذاتی فائدے کیلئے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہئے اور سچ بول کر ہم دنیا و آخرت دونوں میں عزت اور کامیابی پا سکتے ہیں۔ 

    کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں

    نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں

    سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر

    یہی ہے موقع اظہار، آؤ سچ بولیں

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • انصاف کا دوہرا معیار  تحریر :  محمد زیشان روؤف

    انصاف کا دوہرا معیار تحریر :  محمد زیشان روؤف

    ‏ 

    کہتے ہیں معاشرے میں برائی کرنا جتنا آسان ہو جاتا ہے اس قدر اس برائی کے ارتکاب میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے اور کوئی بھی برا کام کرنے میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب اس کا سر انجام دینا آسان ہو چکا اور پہلے مشکل تھا بلکہ کسی بھی گناہ اور جرم پر مناسب سزاؤں کے رحجان میں کمی ہی اصل آسانی ہے جو باقی دیکھنے والوں کو بھی جرم کرنے پر اکساتی ہے۔ جب مجرم کو سزا نہیں ملتی تو باقی لوگوں کو شہہ ضرور مل جاتی ہے کہ ویسا ہی جرم وہ بھی دہرائیں اور جو جرم کر چکا ہوتا ہے اسکے تو جیسے منہ کو خون لگنے والی بات ہو جاتی ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ سزا جزا کا تو کوئی عمل دخل ہی نہیں اس لئے بار بار جرم ہوتے رہتے  ہیں ۔

     پاکستان کا المیہ یہی رہا ہے کہ قانون تو بنا دیا جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد کروانا کبھی ممکن نہیں ہو سکا۔ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ قانون کو گھر کی باندی سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح معاشرے میں جرم پروان چڑھتا رہتا ہے اور آئے دن نیا سے نیا جرم سامنے آتا ہے دو یا چار دن سوشل میڈیا ,  پرنٹ اور  الیکٹرانک میڈیا پر شور مچتا ہے پھر کوئی نیا کیس سامنے آ جاتا ہے اور پرانے کیس پر سے سب کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں اور یوں کبھی کسی کیس کا فیصلہ سامنے نہیں آتا جو کہ لوگوں کے لیئے نشان عبرت بن سکے۔ جب تک سزاؤں پر شرعی طریقہ کار کے مطابق عمل نہیں ہو گا تب تک لوگ عبرت حاصل کیسے کریں گے۔ اس لیئے ہمیشہ سے برائی کی جڑ کو پکڑنے کی ضرورت رہی۔ اور برائی کی جڑ ہمارے معاشرے میں انصاف کا نہ ہونا ہے  ۔

    اگر بروقت سزا  جرم ہونا شروع ہو جائے تو معاشرے میں آدھی برائیاں تو خود بخود ہی ختم ہو جائیں گی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طاقتور کو سزا دینے کا رواج ہی نہیں کمزور بغیر جرم کے بھی چار پانچ سال سزا کاٹ لیتا ہے۔ انصاف کا یہ دہرا معیار ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔  جس معاشرے کی جڑیں عدل و انصاف کی وجہ سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جائیں اس معاشرے کو تباہی سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ حضرت علی (رض) کا قول ہے

    کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ناانصافی کانہیں

    عدل و انصاف کسی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔  جب آپ ریڑھ کی ہڈی کو نکال دیں گے تو پھر جسم کا کیا بنے گا۔

    عواموانصاف کی فوری اور معیاری فراہمی کو کس قدر ترسی ہوئی ہے اس کا اندازہ جنرل الیکشن 2018میں عمران خان کی جیت سے واضع ہے۔ خان صاحب نے عدل و انصاف کا نعرہ لگایا تھا عوام نے عدل و انصاف کو ویلکم کیا اور ووٹ دیا۔

    لیکن پاکستان میں نظام عدل قائم ہونا نا ممکن نظر آتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے نام ہر حاصل کیا گیا ہو وہاں 4 ماہ سے 4 سال تک کی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے لیکن ایک طبقہ جو لبرل ازم کا جھنڈا اٹھائے پھرتا ہے وہ یہ کہے کہ سر عام سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔ اور ایسے قاتلوں اور درندوں کا دفاع کرنے والے ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی پاکستان میں جرم دہرایا جاتا ہے۔ جب کسی کو سر عام سزا نہ دی جائے گی تو لوگ عبرت کیسے حاصل کریں گے۔ اب دیکھا جائے تو وہ درندہ صفت لوگ کوئی زیادہ اثرو رسوخ والے بھی نییں ہوتے لیکن ان کے حق میں آواز اٹھا کر بچانے والے اس بات کے ذمہ دار ہیں جو ان درندوں کے ساتھ بھی رحم والا معاملہ کر کے جرم کو تقویت دیتے ہیں

    اس لیئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جرم کو عام کرنے کے پیچھے لبرل طبقے کا بھی بہت بڑا رول ہے

    اسی طرح منشیات کا دھندہ دیکھا جائے تو وہ چھوٹے پیمانے پر شاید لوگ چھپ چھپا کر کرتے ہوں لیکن بڑے مافیاز کو حکومتی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جو کہ اعلٰی آفسران کو ماہانہ ادائیگی کرتے ہیں اور کھلم کھلا منشیات جیسے نا سور کو معاشرے میں پھیلاتے ہیں۔ ایسے عناصر پر بھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا اور اگر کوئی رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جائے تو زر خرید عدالتوں سے شراب کو شہد ثابت کروا کے بری ہو جاتا ہے

    انصاف کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی اکائی ہے جسے بد قسمتی سے پاکستان کی بنیادوں سے مسمار کر دیا گیا۔ اور یوں پاکستان کی بنیادی اکائیوں میں سے ایک ستون ہی نکال دیا گیا۔ جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیئے جاتے حقیقی تبدیلی کسی صورت نہیں آ سکتی کیونکہ معاشرے مل کر قومیں اور ملک بناتے ہیں جب کی معاشرتی نظام ہی درہم برہم ہوا ہو تو کون سی تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے

    ‎@Z33_6

  • غداری اقوام کی تباہی کا سبب تحریر: محمد عمران خان

    قدیم چینیوں نے تاتاریوں کے حملوں سے بچنے کیلئے دیوار چین بنا لی،اس عظیم دیوار کو بنانے کے دوران 10 لاکھ مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، بیس سے تیس فٹ اونچی اور پندرہ سو میل پر پھیلی یہ دیوار بنانے میں چین کو زمانے لگ گئے، بالآخر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تعمیر معرض وجود میں آئی جس کو دیوار چین کہا جاتا ہے،

    اب سوال یہ ہے کےکیا چین بیرونی حملوں سے محفوظ ہوا؟ 

    آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس دیوار کو بنانے کے بعد پہلے 100 سال میں تاتاریوں نے تین بار چین میں گھس کر چین کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی اور اس سے بھی بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ تاتاریوں کو ایک بار بھی دیوار چین کو پھلانگنے یا توڑنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی،

    جانتے ہو کیوں؟

    اس لئے کہ ہر بار بیرونی دشمن کے لئے دروازے اور کنڈیاں اندر سے کھلیں، تاتاریوں نے محافظوں کو خریدا اور ملک کے اندر غدار پیدا کئے۔

    قدیم چینیوں نے اپنی تمام توانائیاں اور وسائل دیوار بنانے میں لگا دیے لیکن یہ بھول گئے کہ انسان بھی بنانے سے بنتے ہیں، تراشنا پڑتا ہے، حب الوطنی کی بٹھی سے گزارنا پڑتا ہے، تربیت کے مراحل سے گزر کے انسان تعمیر ہوتا ہے وہ ہی ملک و ملت کے مقدر کا ستارہ بن کے افق پہ چمکتا ہے۔

    ایسے ہی ہم نے پاکستان بنانے میں تو لاکھوں لوگوں کی قربانی دینے سے رتی برابر دریغ نا کیا، ایٹم بم اور جدید ہتھیار بھی بنا لیے، لیکن فرد اور قوم کو بنانے کے لیے ذرا سا کام نا کیا جس کا نتیجہ آج آپ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ اندر کی غداریوں اور اندر کے ناسوروں سے نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو آج تک اتنا نقصان شاید ہی دشمن کے ہاتھوں ہوا ہو جتنا اندر کے غداروں نے دیا ہے۔ کئی مواقع پر پاکستان کے اہم راز اور دستاویزات لیک ہوکر دشمنوں کے ہاتھوں تک جا پہنچیں مگر وہ راز لیک کرنے والے شاذونادر ہی تلاش کیے جاسکے۔ اسی طرح پاکستان کی تاریخ کا معروف ترین کیس ڈان لیکس بھی اندر کی غداری پر مبنی تھا جس میں پاکستان کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے کے اعلیٰ افسر نے راز دشمن کے ہاتھوں فروخت کردیے۔ اسی طرح سابقہ سیاست دانوں نے بھی اپنی اداروں سے چپقلش کے نتیجے میں اہم ترین راز عالمی میڈیا پر اگلے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    اندر کے ناسوروں اور غداروں کے متعلق ہی مسلمانوں کے عظیم لیڈر سلطان صلاح الدین ایوبی نے فرمایا تھا:

    "اندر کے غداروں کے ہوتے ہوئے دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی”

    برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو شکست ہمیشہ اپنے ہی لوگوں کی غداری سے ہوئی۔ ریاست میسور اور برصغیر کے عظیم جنگجو ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوا دیے مگر صرف ایک دوست کی غداری نے ان کی جان سے قیمت ادا کی۔ اسی طرح نواب سراج الدولہ کو بھی ان کے کمانڈر میر جعفر کی سنگین غداری کی وجہ سے شکست ہوئی اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ مغل شہنشاہوں کو بھی اندرونی غداریوں کا سامنا رہا اور ان کی مضبوط اور وسیع تر حکمرانی انگریزوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ 

    اسی لیے ایک حقیقی کلمہ گو مسلمان کو یہ کسی بھی حالت میں بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے مذہب یا قوم سے غداری کرنے کا سوچے بھی سہی۔ بطور فرد اور بطور شہری ہمیں اپنی قوم اور اپنے وطن کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی اور وقار کی خاطر تمام تر اختلافات کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔ یہ بات بھی ہمارے فرائض میں شامل ہونی چاہیے کہ اپنے اردگرد اور قرب و جوار پر گہری نظر رکھی۔ کسی بھی مشتبہ حرکت کی صورت میں متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع کریں تاکہ ہماری سلامتی اور وطن کی عزت و آبرو دونوں محفوظ رہیں۔ بصورت دیگر ہماری بقاء اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    Twitter Handle: @ImranBloch786