Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    اسلامی نظام سے مراد دنیا میں ایک ایسی عظيم نظام جس میں صرف اور صرف اللہ کے حکم  اور نبی کریمﷺ کے بتاۓ ہوۓ طریقوں سے بننی ہو اور ساتھ ساتھ غلط کاموں پر سزا بھی وہی مختص ہو جو اللہ اور رسول اللہﷺ نے حکم دیا ہو۔ آج کل کی دنیا میں جب بھی کوٸی بدفعلی ، غلط کام کرے تو فورا ہمارے لبوں پر یہی ایک جملہ آتا ہے کہ کاش دنیا/ملک میں السلامی نظام نافذ ہو تاکہ کوٸی بھی ایسے غلط کام نہ کر سکے اور کرے بھی تو اُس کو وہی سزا دی جاۓ جو عبرت کا نشان بننے اور دوسروں میں ایسے غلط کام کرنے کی جرت تک نہ ہو۔ 

    وارڈو میٹر کے مطابق ستمبر 2021 میں دنیا کی کل آبادی 7.9 ارب ہیں جس میں مسلمانوں کی کل آبادی تقریبا 1.9 ارب ہے تو ظاہر ہے کہ کفار ہم سے زیادہ ہیں  ہم مسلمان آج کی دور میں کیوں بے بس ہیں ان کفاروں کے آگۓ کیوں ہمارے مسلمان بھاٸیوں پر ظلم و بربریت ہو رہا ہے (کشمیر ، فلسطين وغیرہ)؟۔

    "اکثر ہمارے ذہنوں میں یہی آرہا ہے کہ کفار زیادہ ہیں اور ہم کم ہیں اس لیے ہم انکے سامنے بے بس ہیں”

    نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے تو کیوں؟

    کیونکہ ہمارے اندر وہ ایمان وہ جذبہ نہیں ہے جو  313 مسلمانوں کے اندر تھا نے جنگ بدر میں کفار کے ایک ہزار لشکر کو شکست دی تھی۔ اور اسطرح سے ہمیشہ کم تعداد میں ہی مسلمانوں نے فتح حاصل کی ہے کیونکہ جو اکیلا ہوتا ہے اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ حضرت خالید بن ولید (عظيم سپہ سالار تھے جن کی بے مثال کامیابیوں کی وجہ سے رسول اللہﷺ نے "سیف اللہ” یعنی اللہ کی تلوار کے لقب سے نوازا تھا ) کے بارے میں آتا ہے کہ جس جنگ میں بھی جاتے تھے تو فتح یاب لوٹتے تھے وہ ہمیشہ کفاروں کو مردہ (جو اللہﷻ کا زکر نہیں کرتے ہیں) سمجھتے تھے (اللہ کا ذکر کرنے والا اللہ کے سامنے زندہ ہے اور اللہ کا ذکر نہ  کرنے والا اللہ کے سامنے مردہ ہے) کفار حیران تھے کہ یہ کیوں اتنا طاقتور ہیں ان پاس کچھ بھی نہیں ہے کھانے پینے کے اشیإ اور جنگ سامان بھی بہت کم ۔ اور ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ہرطرح کی طاقت ہے لیکن انہیں کیا معلوم کے اصلی طاقت تو ایمان کا ہوتا ہے جن کے دل میں اللہ اور رسولﷺ کی فرمانبداری چھا جاۓ تو پوری دنیا کی طاقت بھی مل کر کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے  انکی ایمان مضبوط تھی۔ اور وہ صرف اور صرف اللہ اور رسول اللہﷺ کی تابع تھے آج ہماری بے بسی کا نتیجہ یہی ہے کہ ہمارے ایمان کمزور ہیں آج کی دور میں لوگ پیسہ، گاڑی ، اچھی نوکر اور عمدہ گھر کو طاقت سمجھتے ہیں اصلی طاقت ایمان کا ہوتا ہے کہتے ہے نا ” جب پیٹ بھر جاۓ تو اللہ کو بھول جاتے ہیں” آج ہم دنیاوی زندگی کے پیچھے مصروف ہیں آخرت کی زندگی کا کوٸی سوچتا بھی نہیں ہے ہماری اصلی زندگی آخرت کی زندگی ہے دنیاوی زندگی محض ایک مختصر وقت ہے۔ 

    سوشل میڈیا ہر صبح  اچھی اچھی پوسٹوں سے بھرا رہتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم صرف سوشل میڈیا میں پکے مسلمان ہیں اصلی زندگی میں نہیں۔ میں حیران ہوں کہ اگر اتنے پکے اور سچ مسلمان سوشل میڈیا پر ہیں؟ تو یہ مساجد کیوں ترس رہے ہیں نمازیوں کے لیے یہ مظلوم کیوں ترس رہے ہیں انصاف کے لیے وغیرہ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم محض دوسروں کے لیے اچھے پوسٹ لگاتے ہیں اور خود عمل کرنے سے قاصر ہیں۔

    اب اگر ہم دنیا میں اسلامی نظام چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں آپنے اندر اسلامی نظام لانا ہوگا جب ہم آپنی اس چھ  فٹ جسم پر السلامی طور طریقے اپناٸینگے تو اسلامی نظام ہمارے اندر خود بخود نافذ ہوگی اور یوں یہ السلامی نظام ہم سے ہمارے گھر پھر سارے دنیا کو متاثر کرے گی بالاآخر دنیا میں اگر اسلامی نظام نافذ کرنا ہے تو یہ طریقہ آپنا ہوگا ورنہ صرف لبوں اورذہنوں پر رکھنے سے نہیں ہوگا۔

    یہ میرا پہلا آرٹیکل ہے پڑھے اور فیڈ بیک ضرور دیجیۓ گا۔

  • آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranBloch786

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آن لائن کاروبار کرنے کا ٹرینڈ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نوجوان مرد و عورتیں آن لائن کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ آن لائن کام ایک تو ماحول دوست اور وقت کے حساب سے پے پانا والا کام ہے دوسرا اس میں تھوڑا کام کرکے اچھا خاصا پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ 

    ویسے تو آن لائن پیسے کمانے کے بہت سارے طریقے ہیں مگر جو آج کل زیادہ معروف اور مقبول ہیں ان میں یوٹیوب، بلاگر، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا منیجمنٹ، لیڈ جنریشن، ویب سائٹ ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ورچوئل اسسٹنٹ، ڈیٹا انٹری وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کی چند بڑی ویب سائٹس جن میں اپ ورک، فائیور، بینگ گرو، پیپل پر آور وغیرہ شامل ہیں۔ ان ویب سائٹس پر کروڑوں کی تعداد میں فری لانسرز موجود ہیں جو لاکھوں اور کروڑوں روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

    آج کل ای کامرس بھی بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس میں اپنی چیزوں کی آن لائن تشہیر کرکے کے بیچنے کے بعد اچھا منافع کمایا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں لوگ تیزی سے آن لائن شاپنگ کی طرف مبذول ہو رہے ہیں۔ تھوڑا سا تجربہ حاصل کرکے ای کامرس سے اچھی دولت کمائی جاسکتی ہے۔ 

    اسی طرح سوشل میڈیا مارکیٹنگ بھی تیزی سے مقبولیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ لوگ سوش میڈیا پر اپنی پراڈکٹس کی تشہیر کرکے اور ان کو پروموٹ کرکے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا منیجمنٹ بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور بہترین طریقہ ہے۔ اس میں فری لانسر کو اپنے کلائنٹ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اپڈیٹ رکھنا ہوتا ہے۔ کلائنٹ کی ہدایات کے مطابق اس کے اکاؤنٹس پر چیزیں شیئر کرنی ہوتی ہیں۔ یہ بھی پیسے کمانے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔

    بلاگنگ کرکے بھی بہت بھاری مقدار میں پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے بلاگ بنا کر مختلف آرٹیکلز اپلوڈ کرتے ہیں جو قارئین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ جتنے زیادہ لوگ بلاگ پر آتے ہیں اتنے زیادہ پیسے گوگل بلاگر کو دیتا ہے۔

    یوٹیوب بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور معروف طریقہ ہے۔ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے یوٹیوب چینلز بنارکھے ہیں جس پر مختلف قسم کی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کے بعد جتنے زیادہ ویوز اتنے زیادہ پیسے کی بنیاد پر کمائی کررہے ہیں۔

    گرافک ڈیزائننگ بھی آن لائن پیسے کمانے کے لیے ایک معروف ترین سکل ہے۔ بینر ڈیزائننگ، لوگو ڈیزائننگ، ویکٹر ڈیزائننگ، اشتہار بنانا، بک کور، شرٹ ڈیزائننگ سمیت اور بھی کئی قسم کی ڈیزائننگ شامل ہے۔ کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گرافک ڈیزائننگ سے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔ 

    ویب سائٹ ڈویلپمنٹ بھی ایک شاندار ہنر ہے جو بہت زیادہ پیسے دلوانے والا کام ہے۔ آج کل کسٹم تھیمز اور ٹولز مفت مل جاتے ہیں جس سے ویں سائٹ بنانا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ ویب سائٹ ڈویلپمنٹ کا ایک پروجیکٹ 1 لاکھ سے زائد تک کا بھی ہوسکتا ہے۔

    ان کاموں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات ذہن میں گونجتی ہے کہ کیا یہ کام ہر بندہ کرسکتا ہے؟ اس کا جوب نہیں میں ہے کیونکہ یہ کام کرنے کے لیے آپ کو کوئی کمپیوٹر ریلیٹڈ ہنر آنا چاہیے۔ آپ کو اپنے کلائنٹ یا کسٹمر کے ساتھ گفتگو کرنے کا طریقہ اور انداز معلوم ہونا چاہیے۔ اپنے کام سے لگن اور محنت ہی انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ 

    لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ بیروزگاری کی چکی میں پستے نوجوان فری لانسنگ اور آن لائن کام کرکے پیسے کما کر سرمایہ ملک میں لائیں۔ جس سے معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور نوجوان بھی خوشحال ہوں گے۔ جب نوجوان خوشحال اور معیشت مضبوط ہوگی تو پاکستان کو کوئی بھی طاقت ترقی کرنے سے نہیں روک سکے گی۔

  • بطلِ حریت ۔۔۔ وفا کا پیکر۔۔۔ سید علی گیلانی. تحریر: عرفان صادق

    بطلِ حریت ۔۔۔ وفا کا پیکر۔۔۔ سید علی گیلانی. تحریر: عرفان صادق

    لہجے کو ذرا دیکھ جوان ہے کہ نہیں ہے
    بالوں کی سفیدی کو بڑھاپا نہیں کہتے

    ایک سوال اکثر ہمارے اذہان میں ابھرتا ہے کہ آخر بڑے شخص کی تعریف کیا ہونی چاہیے بڑے شخص سے کیا مراد ہے۔؟ ایک صاحب جاہ و ثروت بھی بڑا شخص ہو سکتا ہے، ایک عالی دماغ فلسفی بھی بڑا شخص مانا جا سکتا ہے، ایک نازک خیال شاعر،ایک عالم متبحر،ایک کامل سیاستدان ،یہ سب بڑے شخص ہو سکتے ہیں۔۔۔لیکن در حقیقت جسے بڑا شخص مانا اور سمجھا جاتا ہے وہ،وہ ہے جو اپنے افکار سےدلوں میں ولولہ ،دماغوں میں جلا اور خیالات میں انقلاب پیدا کر دے قوم کو تاریکی کی دلدل سے نکال کر اجالے میں لے آئے پستی و ذلالت سے موڑ کر اس راستے پر لے آئے جسے "صراط مستقیم”کہا جاتا ہے۔

    دیگر بڑے لوگوں کی طرح خلقِ خدا اور خصوصا کشمیریوں کی یہی خدمت "سید علی گیلانی”نے "آزادی کا نعرہ”بلند کر کے انجام دی۔انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے بنائے ہوئے خوف کے بت کو توڑا۔غلامی کے خیالاتِ باطلہ کے بتوں کو پاش پاش کیا اور اذہان کو ایک مکمل آزادی سے روشناس کروانے کا بیڑا اٹھایا۔یہ انقلاب محترم سید علی گیلانی نے اپنے حیاتِ آفرین خیالات سے برپا کیا۔

    قیام پاکستان اور بانیء پاکستان کی آنکھیں بند کرنے کے بعد بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبصہ کر لیا بھارتی حکام ریاست جموں کشمیر کا آزادی کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہو گئے انھون نے کشمیر کی اس تاریک زمین پر مہتاب کو چمکنے سے روک دیا لیکن وہ اس حقیقت کو پسِ پشت ڈال چکے تھے کہ تاریکیاں اور اندھیرے جتنے گہرے ہوتے ہیں آخر ایک روز چھٹ جایا کرتے ہیں۔ہر شب کے بعد سحر قدرت کا حکم ازل ہے۔ کبھی مٹھی کے طاقچے میں روشنی کو قید نہیں کیا جاسکتا۔لیکن پھر بھی وہ اپنے پراگندہ عزائم کی پرورش میں مصروف رہے۔اقوامِ متحدہ اور پوری دنیا کے سامنے کیے ہوئے وعدوں سے مکر گئے۔کیونکہ وہ اس حقیقت سے نابلد تھے کہ خدا نے اس مظلوم قوم کی آہیں سن لی ہیں ان پر قبولیت کی مہر ثبت کر دی ہے۔اور جموں کشمیر کو سید علی گیلانی کی صورت(29ستمبر 1929ء) ایک ایسا بیٹا عطا کیا جو اپنی آخری سانس تک آزادی کی جنگ لڑے گا۔

    جموں کشمیر کے سیاسی رہنما جن کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے تھا۔اپنے تعلیمی دورانیے میں جب وہ اورینٹل کالج لاہور آئےتو اس وقت جماعت اسلامی کے خیالات سے بہت متاثر ہوئے اور پھر جب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی وطن کشمیر لوٹے تو باقاعدہ جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی جماعت کے چوٹی کے رہنماووں میں آپ کا شمار ہونے لگا۔

    آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جماعت اسلامی میں ممبری کے ساتھ معروف عالمی فورم”رابطہ عالم اسلامی”کے بھی رکن رہے۔گیلانی یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلی کشمیری جانباز تھے۔فکرِ حریت کی شمع جلانے والے یہ عظیم محسن کشمیریوں کے اذہان کو آزادی کی جانب متوجہ کرنے والے ایک متحرک اور سرگرم رکن تھے جنھوں نے ہمیشہ بھارتی حکام اور افواج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آزادی کا نعرہ لگایا کرتے یہی وجہ ہے کہ آپ کشمیریوں کا مضبوط بازو بنے اور جدوجہد آزادی کے لیے”تحریک آزادی”کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا جسے آگے چل کر بہت شہرت ملی اور یہ کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔

    آزادی اور جدوجہد کے اس استعارے کو بھارت سرکار نے خریدنے کی بارہا کوشش کی ہر اوچھا ہتھکنڈا عمل میں لایا گیا ہر حربہ آزمایا گیا مگر یہ بہادر ٹس سے مس نہ ہوئے اور ڈٹے رہے۔دباؤ جس قدر بڑھتا گیا گیلانی کا جزبہ حریت پختہ اور مزید پختہ ہوتا چلا گیا۔

    سید علی گیلانی کی زندگی میں کئی مواقع ایسے آئے جب وہ اپنے لیے ایک پرسکون اور مراعات پسند زندگی کا انتخاب کر سکتے تھے اور کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آواز کا گلا گھونٹ سکتے تھے لیکن آپ نے اپنی ذات پر کشمیریوں کی آزادی کو ترجیح دی اور ڈنکے کی چوٹ پر کشمیریوں کے حق کے لیے ڈٹے رہے۔پوری زندگی بھارتی مظالم اور ریاستی جبر کے سامنے سینہ سپر رہے لیکن کبھی جھکے نہیں بھارتیوں کو یہ باور کروا دیا کہ اس سپوت کا تعلق اس نبی کی امت سے ہے جو جام شہادت تو بخوشی پی لیتی ہے،سر تو کٹا سکتی لیکن سر جھکاتی نہیں۔ جیتے ہیں تو شان اور آن سے اور جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو دنیا والے ان پر رشک کرتے ہیں۔

    سید علی گیلانی، اقبال کی مردِ مومن کی تمام صفات اپنے اندر لیے ہوئے تھے۔ اقبال کے اس مرد مومن نے زندگی کی نوے بہاریں دیکھیں جن میں بیشتر حصہ کشمیریوں کے حوصلے بلند کرنے ،آزادی کی پہچان کروانے،مقدمے بھگتنے،جیلیں کاٹنے اور نظر بندیوں کا سامنا کرتے گزارا لیکن پھر بھی آزادی کے مطالبے سے منہ نہ موڑا۔ غلامی کی زندگی کو توہینِ زندگی قرار دیتے رہے اور اس ظالم سامراج سے ٹکر کی جس کی ظلم وبربریت کے پیشِ نظر یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ پسپا ہو سکتا ہے اس سب کے باوجود حریت پسند رہنما آزادی کے جذبے سے سرشار تھے ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی اور ہمیشہ اس نعرے کی صدا لگاتے رہے۔

    "اسلام کی نسبت سے، اسلام کے تعلق سے،اسلام کی محبت سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے”

    یہ دین اسلام سے محبت اور جذباتی لگاو تھا اور ان کا یہ جملہ ان کے ملت اسلامیہ کے تصور کو پوری طرح اجاگر کرتا ہے۔
    ہمت ،جرات،شجاعت اورعزم واستقلال کا پیکر،جدوجہد کااستعارہ،بابائے آزادی سید علی گیلانی کشمیریوں کو روتا چھوڑ اس جہان فانی سے پردہ فرما گئے۔وفا و اخلاص کا یہ پیکر آزادی کی تڑپ لے کر اس دنیا میں آئے اور لمحہء آخری تک اس تگ ودو میں مصروف رہے۔خود تو چلے گئے لیکن کشمیریوں کو آزادی کا شعور اور آدرش دے گئے جو قابض حکمرانوں کو کبھی چین کی نیند سونے نہ دے گا۔۔۔۔جب تک مقبوضہ جموں کشمیر کے لیے آزادی کا نعرہ بلند ہوتا رہے گا سید علی گیلانی کی آواز بھی کانوں کو سنائی دے گی۔

    آپ کی کاوشوں، جدوجہد،اور عمل پیہم کو ہر پاکستانی کا سلام!
    خداتعالی آپ کی لحد پر اپنی رحمت کی شبنم افشانی کرے(آمین)

    @IrfanSOfficial

  • مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور پہلو مایوسی، ناامیدی بن چکا ہے اس درخت کی اتنی جڑیں پھیل چکی ہیں کہ ہر طبقہ ہاے زندگی میں اس کی شاخیں موجود ہیں بچوں سے لیکر بوڑھوں تک مردوں سے لیکر عورتوں تک عوام سے لیکر خواص تک حکمران سے لیکر رعایا تک سر سے لیکر پاوں تک فرد سے لیکر خاندان تک گھر سے لیکر کاروبار تک ہر جگہ مایوسی کے بادل چھاے ہوے ہیں. نوجوان اپنے مستقبل اور کیرئر کے بارے میں ناامید نوکری کاروبار ملازمت معاش زندگی سب کے بارے کمزور کھوکھلی باتیں کرتا نظر آتا ہے. ریڑھی بان سے پوچھو یا نان بائ سے مزدور سے پوچھو یا مستری سے بزنس مین سے پوچھو یا دہاڑی دار سے ایم این اے سے پوچھو یا اس کی رعایا سے اے سی میں بیٹھنے والے سے پوچھو یا چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ہر کسی کی زبان پر ملک پاکستان اور اس کے مستقبل کے بارے میں مایوس، غیرمہذب، کمزور، معیوب جملے ملیں گے.

    جب ہر کسی کی یہی حالت ہو تو سب ایک ہی تلاب میں نہانے والے نظر آتے ہیں تو امید و رجاء کی کرن کہاں سے پیدا ہو گی ، اور یہ تو عین فطرت ہے جو سوچ و افکار میں آتا ہے گمان و خیال میں جنم لیتا ہے وہی عین الیقین اور حق الیقین بنتا ہے یعنی وہی کچھ ہوتا ہے جو سوچا جاتا ہے . میری قوم کے اجتماعی جملے اور چند مایوس کن بول . ستر سال میں پاکستان نے کچھ نہیں کیا آگے کیا کریگا ایک دہائ سے کشمیر آزاد نہیں ہوا اب تو آزاد ہو گا ہی نہیں کیونکہ پاکستان ان کےلیے کچھ نہیں کرتا اب تک مہنگائ میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ ستر سال میں ترقی نہیں کی تو آگے بھی امکان نہیں بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ پاکستان دنیا میں دہشت گرد ملک ہے
    دنیا میں تنہا ملک ہے کوئ ساتھ نہیں ہے پاک فوج دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتی اگر لڑ سکتی تو کشمیر آزاد کیوں نہیں کراتی پڑھائ کر کے کیا کرنا جب نوکری رشوت اور سفارش سے ملتی ہے پاکستانی قوم دنیا میں بدنام ہے کوئ ٹیلنٹ نہیں ہے سب ادارے تباہ ہوگے ہیں خسارے میں ہیں پاکستان آئ ایم ایف ورلڈ بینک کا غلام ہے یہود و نصاری کی ایجنٹ حکومت ہے پاکستان میں اسلام کا نفاذ ممکن ہی نہیں یہ اسلام کےلیے نہیں بنا اس کو بنانے والا بھی مسلمان نہیں تھا مایوسی کا شور ہے منافقین کا دور ہے .معاملات کبھی حل نہیں ہوں گے .جھگڑے ہمیشہ رہیں گے اولاد کبھی نہیں سدھرے گی .مسلہ کا حل طلاق ہی ہے کاروبار تو اب ہو ہی نہیں سکتا معیشت کمزور ہو رہی ہے امریکہ ، روس جنگ میں پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا کوئ فائدہ نہیں ہوا .اور کئ قسم کے جملے .

    ھکذا تاکہ تحریر لمبی نہ ہو .مایوسی پیدا ہونے کے اسباب : لوگوں کے حالات دیکھ کر خود ناامید ہو جانا میڈیا سے منفی پروپگنڈے سے متاثر جانا تجربات میں ناکامی پر مستقل مایوس ہو جانا امتحان میں نا کامی یا تھوڑے نمبر پر معاشی مسائل کی مسلسل کمزوری کی بنا پر ناامید کاروبار میں بہتر منافع نہ ہونے پر ناامید بچوں کی بگڑتی صورت حال پر نا امید ہونا مایوس لوگوں کی صحبت اور مجلسیں ناکام لوگوں کے تذکرے ناکام.اور مایوس کن باتوں اور موضوعات میں دلچسپی یقینی کیفیت کا فقدان میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات میں کمزوری ظاہری مادی اسباب پر یقین اور اعتماد وغیرھم کثیرہ

    اس دیمک سے اپنے آپ کو بچانے کےلیے قرآن کا سہارا لیں اور اپنے رب کا سہارا لیں سب سے بڑا سہارا ہمارا اللہ ہے اور یقین اور امید اللہ کی ذات ہے اس دلدل سے کیسے نکلا جاے .لا تقنطوا من رحمة الله اللہ کی رحمت جو ہر کسی کو شامل حال ہے اس سے کائنات کی کوئ چیز اور مخلوق بھی بعید نہیں ہے الا کہ کفر کرنے والا انسان بھی اللہ کی اس رحمت کی چھتری کے نیچے ہے کہ وہ اپنی نافرانی اور شراکت کو دیکھنے کے باوجود اور شدید غیض و غضب رکھنے کے باوجود بھی رزق و روٹی کی عنایت جاری رکھتا ہے اور گناہوں کے پہاڑوں کو ذرے بنا کر مٹا دیتا ہے یہاں اس آیت سے ہم سمجھتے ہیں کہ صرف گناہ سے معافی مانگنے میں مایوس نہیں ہونا چاھیے یہ کامل مفہوم نہیں ہے بلکہ کسی بھی کام کے کرنے پانے حصول پر اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاھیے .

    مایوسی کفر ہے.
    ولا تائسو من روح اللہ انہ لا ییئس من روح اللہ الا القوم الکافرون .
    یہ آیت واضح پیغام ہے کہ اسلام میں مایوسی ہے ہی نہیں اور جو مسلمان اور مومن ہے اس میں یہ چیز پیدا ہی نہیں ہوتی . اگر ماہوسی پیدا ہو رہی ہے تو سمجھ لیں ہمارا اسلام اور ایمان کمزور ہے اس کو بہتر کرنا چاھیے .
    گویا یہ بات سمجھ آئ مایوسی و الے جملے کفریہ جملے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہیں .
    یقین والوں کی صحبت .
    لا تصاحب الا مومنا
    مومن تو کامل یقین والا ہوتا ہے اس کی صحبت ناامیدی کو دور کرتی ہے .
    فضولیات اور مسموعات کو کان نہ دینا .
    کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع .
    محنت اور کوشش پر یقین اور اللہ پر توکل .
    وان لیس للانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یری .
    ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ
    کامیاب لوگوں کو پڑھنا اور تاریخ ماضی میں سب سے کامیاب لوگ انبیاء تھے اور وہ یقین کا منبع و مظھر تھے .
    لقد کان گی قصصھم عبرة لاولي الألباب
    صبر کا دامن نہ چھوڑنا .
    بے صبری بداعتمادی پیدا کرتی ہے اور بے یقینی مایوسی پیدا کرتی ہے بعض اوقات اللہ کے فیصلے ہمارے لیے بہتر ہوتے ہیں لیکن ذرا فاصلے پر ہوتے ہیں اس فاصلے کو طے کرنے کا صبر توکل و یقین سے ہو سکتا ہے اور مستقل مزاجی سے ہو سکتا ہے .
    فاصبر ان وعد اللہ حق
    سلامتی بہت پیار
    تحریر لمبی ہے لیکن وقت ضائع نہیں جاے گا .

    @Amanullah6064

  • انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم !

    ٧٠ سے زائد عرصہ گزر چکا لیکن انڈیا نے اپنی سوچ کو زرا برابر بھی وسیع نہیں کیا ،انڈیا جو ایک طرف خود کو جمہوریت پسند ملک سمجھتا ہے تو دوسری طرف اسی انڈیا میں آئے روز اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمان کی زبان بندی کے لئے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھارہا ہے ،کبھی بابری مسجد کے معاملے پر تو کبھی گجرات میں مسلمانوں کی بستیاں جلانے کے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں ،سمجھوتا ایکسپریس کا واقعہ ہو یا مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وستم کی نا ختم ہونے والی داستانیں انڈین پنجاب کے سکھوں پر مظالم ہوں یا اپنے ہندو دھرم کے نیچ طبقے پر جاری مظالم ہوں لیکن سب سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ دنیا انڈیا کے ان مظالم پر بلکل خاموش تماشائ بنی نظر آتی ہے ،کسی مسلم ملک میں اگر خدانخواستہ اقلیت کے بندے سے کسی ذاتی اختلاف پر ،ذاتی دشمنی کی بناء پر دو محلے دار یا دوست آپس میں بھی زرا سے لڑجائیں تو اس مسلم ملک کے خلاف پوری دنیا اکٹھی کھڑی نظر آتی ہے اور سب کو انسانی حقوق کا خیال آجاتا ہے لیکن انڈیا میں مسلمانوں پر جاری ظلم وستم پر عالمی دنیا کو نا انسانی حقوق نظر آتے ہیں اور نا ہی کوئ ظلم وستم نظر آتا ہے ،کشمیر میں انڈین مظالم کی سب سے بڑی مثال تو یہی کافی ہے کہ وہاں پر انڈیا نے اپنی ٧ لاکھ سے ذیادہ فوج بھیج رکھی ہے جو اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ انڈیا کس طرح کے مظالم ڈھارہا ہے مقبوضہ کشمیر میں ،کبھی ماوں ،بہنوں ،بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں تو کبھی ان کے جوان بیٹے،بھائ ،باپ اور شوہر سرعام اذیت دے کر قتل کردیئے جاتے ہیں باقی انڈیا میں تو جب سے مودی کی حکومت آئ ہے تب سے ہر جگہ مسلمانوں پر قیامت برپا کر رکھی ہے ،کہیں قانون نام کی کوئ چیز نظر نہیں آتی ،راہ چلتے مسلمانوں کو بے وجہ ڈنڈا بردار لوگ تشدد کا نشانہ بنارہے ہوتے ہیں ان کی آہ و پکار سننے والا کوئ نہیں ہوتا ،مسلمان لڑکیوں کو زبردستی مذھب تبدیل کروانے کی مہم بھی مودی کی سرپرستی میں جاری ہے اور یہ باتیں یہ مظالم دنیا میں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن عالمی دنیا ستو پی کر سورہی ہے ایسے واقعات کا ١% بھی پاکستان یا دنیا کے کسی ایک مسلم ملک میں ایسا کوئ واقعہ نظر آجائے تو اسے دنیا اس طرح بڑھا چڑھاکر پیش کرتی ہے کہ جیسے یہ مسلم ملک ہی دنیا میں سب سے ذیادہ ظالم ہے باقی ساری دنیا پارسا ہے 

    عالمی دنیا کو اب یہ منافقت چھوڑنی پڑے گی اور انڈین مظالم کے خلاف دنیا کو آگے آنا پڑے گا تاکہ مسلمان چاہے کسی بھی ملک میں ہو وہ بھی انسان ،ان مسلمانوں کو بھی وہی حقوق دینے پڑیں گے جو دنیا میں کسی بھی دین دھرم سے تعلق رکھنے والے فرد کے لئے ہیں اور خاص طور پر انڈیا کے ساتھ اب دنیا کو سختی کرنی چاہیے ورنہ اگر ہر طرف مسلمانوں پر اسی طرح ظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا تو یقین کریں  اس کے عالمی دنیا سمیت تمام ممالک پر اور خاص طور پر انسانیت کے بات کرنے والوں پر بڑے گہرے اثرات پڑنے ہیں اور دنیا کسی اور خانہ جنگی طرف چل پڑے گی جس کا نتیجہ سب کو بھگتنا پڑسکتا ہے ،اس لئے عالمی دنیا انڈیا کے نا صرف ہاتھ روکے بلکہ انڈیا پر سخت قوانین اور پابندیاں لاگو کی جائیں تاکہ انڈیا جیسے بدمست ہاتھی کو زرا سی لگام ڈالی جاسکے اور مسلمانوں کی نظر میں   عالمی دنیا اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرسکے ورنہ حالات جس طرف جارہے ہیں وہ پوری دنیا کے لئے بھیانک ہوتے جائیں گے 

    ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    @MajeedMahar4 

  • کیا چائنا۔روس ۔ترکی اور سنٹرل ایشیاء طالبان حکومت کو تسلیم کریں گا ؟ تحریر واحید خان

    کیا چائنا۔روس ۔ترکی اور سنٹرل ایشیاء طالبان حکومت کو تسلیم کریں گا ؟ تحریر واحید خان

    سیاست کی دنیا میں آج کا دوست کل کے لئے دشمن بن جاتے ہیں۔

    ہر ریاست قومی مفادات پر ترجیح اور دوستی رکھتی ہے۔

    اور اس کے محل وقوع کے نظر سے بھی بین الاقوامی تعلقات اور نظریات کے لحاظ سے بھی لین دین اور تجارت وغیرہ کرتے ہیں۔

    طالبان نے بھی چائنا کے ساتھ دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا اور وہ اس لئے طالبان بھی یہ جان چکے ہیں اگر دنیا کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو خطے کے اہم ممالک کے ساتھ روابط اور تجارت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    چائنا بھی آج کل اقتصادی سطح پر سپر پاور ابھر ہے۔

    دوسری طرف چائنا نے بھی طالبان کے ساتھ سی پیک کو سنٹرل ایشیاء تک لانا ہے اور اپنے اشیاء کو دنیا تک رسائی کا عزم رکھا ہے۔کیونکہ آج کل جنگ اقتصادی جنگ شروع ہو چکا ہے۔

    چائنا بھی چاہتا ہے کہ بھارت امریکا اور اس کے اتحادیوں کو معاشیات کی نظر میں شکست دے۔

    روس بھی اس بار طالبان کے نئی حکومت کو تسلیم کرے گا کیونکہ روس بھی نہیں چاہتا کہ امریکہ دنیا پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے رہے۔

    وسطی ایشیا ریاستیں 1991 تک سوویت یونین کے ماتحت رہے۔

    سنٹرل ایشیا ممالک کے ساتھ روس اور طالبان دونوں چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت کے ساتھ نئی دوستی شروع کرے اور اپنے تجارت وغیرہ آگے بڑھائیں۔

    کابل فتح سے پہلے روس کی پشت پناہی مدد کرتے تھے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے اپنا بدلہ لے۔

    پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اوپر اور نیچے ہوتے ارہے ہے 

    لیکن اس بار پاکستان طالبان حکومت کے ساتھ بھائی چارہ کی طرح آگے بڑھاے گا کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں ریاستوں کے درمیان آمدورفت بہت زیادہ ہیں۔

    چمن بارڈر اور طورخم بارڈر پر روزانہ ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔اور ساتھ ساتھ تجارت بھی بہت زیادہ ہیں۔

    دونوں ممالک کے درمیان اگست 1965 میں اپنا تجارتی معاہدہ بھی ہوا تھا۔

    اور دونوں کی محل وقوع ایشیا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں دونوں ریاستیں ایک کے بنا رہنے میں ناممکن ہے۔

    کیونکہ دونوں ریاستیں شادیاں وغیرہ بھی کی ہے۔

    لہذا پاکستان طالبان کی حمایت ضرور کریں گے۔

    ترکی بھی ایک اسلامی ملک ہے۔

    ترکی بھی خواہشات رکھتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے۔

    ترکی نے انخلا میں اہم رول ادا کیا ہے اور ساتھ ساتھ اپنا سفارت خانہ بھی کھولا رکھا اور ترکی کے افواج انخلا میں کابل ائرپورٹ پر بھی ڈیوٹی سرانجام دی۔

    ترکی چاہتا ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ کام کرے۔

    سنٹرل ایشیا کے بنا افغانستان اور وسطی ایشیا ممالک ادھورا ہے۔

    وہ اس لئے افغانستان اور ازبکستان کے درمیان بارڈر ہے۔

    آگے یہ سنٹرل ایشیا ریاستیں کی محل وقوع جڑے ہوئے ہیں۔

    افغانستان بھی چاہتا ہے کہ وسطی ایشیا ممالک کے ساتھ تجارت کرے کیونکہ زندگی گزارنے کے لئے گیس۔صحت تعلیم ہسپتال اور روڈ وغیرہ بنانا ضروری ہے۔

    ایک ریاست دوسرے ریاست کے ساتھ ( MOU ) ہونا ضروری ہے۔

    چائنا۔اور پاکستان چاہتے ہیں کہ وسطی ایشیا ریاستوں کے ساتھ سی پیک cpec پہنچ جائے افغانستان کے ذریعے۔

    لہذا چائنا پاکستان ترکی روس وغیرہ سب ممالک افغانستان کے نئے طالبان حکومت کے ساتھ روابط جاری رکھے گا لیکن ہر ریاست قومی مفادات اور وقت کے ساتھ طالبان حکومت کو تسلیم کریں گے ان شاء اللہ

    Twitter Handle @waheedkhan59

  • منصب کی بےتوقیری  تحریر: آصف گوہر 

    ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔

    ۞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°

    "۔۔۔۔۔۔۔۔  اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    سورة الأنعام 151

    مختلف سیاسی جماعتوں کے بدکار رہنماؤں کی  ویڈیو لیک ہونا معمول بن چکا مگر معاشرے اور ریاست کا اس پر ردعمل انتہائی قابل افسوس ہے ۔بےحیائی کے مناظر پر مبنی ویڈیوز چند روز سوشل میڈیا کا موضوع بحث بنتی ہیں اور پھر یکسر بھلا دی جاتی ہیں نہ ملک کا قانون حرکت میں آتا ہے نہ عدالتیں از خود نوٹس لیتی ہیں اور یوں معاملہ ختم ہوجاتا ہے اور بدکار پورے طم طراق سے اپنی گندی سیاست کو جاری رکھتا ہے ۔

    بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بےحیائی کو برائی سمجھا ہی نہیں جاتا ایسے بدبخت صحافی اور نام نہاد دانشور بےحیائی کے دفاع میں سینہ ٹھونک کر سامنے آجاتے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے ترجمان زبیر عمر کی پانچ قابل اعتراض اور فحش ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد نیوز چینل پرخبریں پڑھتے پڑھتے صحافی بننے والی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اگر زبیر عمر نے پانچ خواتین کے ساتھ باہمی رضامندی سے بدکاری کی تو اس پر کوئی اعتراض نہیں بنتا ہاں اگر نوکری کا جھانسہ دیکر بدکاری کی گئ تو پھر سوال بنتا ہے۔

    اس طرح کی چربی زبانی کی وجہ سے بدکاروں کے حوصلے بڑھتے ہیں۔اور زبیر عمر جیسے بدکار ویڈیو لیک ہونے پر منہ چھپائے کی بجائے اگلے ہی لمحے ٹی وی پر بیان بازی کر رہا ہوتا ہے۔

    اور تو اور ان بدکاروں کی سیاسی جماعتیں بھی ان کی کھلی بےحیائی پر نہ صرف خاموشی اختیار کرتی ہیں بلکہ اپنے ان رہنماؤں کی سرپرستی بھی جاری رکھی جاتی ہے۔ طلال چوہدری کی تنظیم سازی عابد شیر علی کی فحش گوئی راحیل اصغر کی سرعام بدزبانی اور زبیر عمر کی ویڈیوز پر مسلم لیگ ن نے بطور سیاسی جماعت کو ایکشن نہیں لیا۔ یاد رہے یہ بدکاری زبیر عمر نے نہیں کی بلکہ گورنر زبیر عمر نے کی ہے

     ایک بندہ گورنر جیسے اہم منصب پر فائز ہوتے ہوئے کیسے مجبور خواتین کو نوکریوں کا جھانسہ دیکر ان کے ساتھ منہ کالا کرتا رہا اور ریاست خاموش رہی ۔ایسے زندیق شخص کو اس منصب پر فائز کرنے والا بھی اس کے جرم اور گناہ میں برابر کا شریک ہے

    گناہ کو گناہ نہ سمجھنے والے معاشرے انارکی اور ٹو پھوٹ  کا شکار ہوکر وحشی درندوں کا مسکن بن جایا کرتے ہیں۔

    ہمارے مذہب نے شادی شدہ زانیوں کے لئے سزا مقرر کی ہے اور سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت ان تمام ویڈیوز کا فرانزک تجزیہ کروائے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو گرفتار کرکے حد لاگو کرے ۔

    آئین کی متعلقہ شق کے تحت ایسے بدکاروں کو سیاست میں حصہ لینے اور میڈیا پر بیان جاری کرنے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے ۔اگر آئین میں اس بدکاری کے متعلق کوئی سزا مقرر نہیں تو حکومت ضروری آئین سازی کرے تاکہ آئندہ کسی کو گورنر جیسے اہم ریاستی اور آئینی عہدہ کو استعمال کرتے ہوئے اسی بدکاری کی جرات نہ ہو سکے۔                             @EducarePak

  • پاکستانی صحافیوں کا پاکستان میں پھنسے طلباء سے سفری پابندیاں ہٹانے کی اپیل۔ تحریر: یاسر اقبال خان

    پاکستانی صحافیوں کا پاکستان میں پھنسے طلباء سے سفری پابندیاں ہٹانے کی اپیل۔ تحریر: یاسر اقبال خان

    ‏اچھی تعلیم اور اچھی نوکری ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے اور اپنا ملک چھوڑ کر ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کے حصول کیلئے جانا ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے لیکن کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال ہر انسان کیلئے معاشی اور سماجی خطرہ بن گیا ہے۔ اس کورونا وبائی بیماری نے پوری دنیا کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔ وہ نوجوان نسل جنہوں نے اپنی خوابوں کی تكمیل کیلئے ترقی یافتہ ممالک تعلیم کیلئے جانا تھا وہ اپنے ہی ملک میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ 

    ایسا ہی کچھ حال پاکستانی طلباء کا ہے جو دو سالوں سے چین کا ویزا حاصل کرنے کے انتظار میں ہیں۔ دسمبر 2019ء میں چین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ابتدائی طور پر کیے جانے والے اقدامات میں تعلیمی اداروں کو بند کردیا تھا اور طلبا کو ویزا دینے پر پابندی عائد کی تھی۔ یہ پاکستانی طلباء چین کے یونیورسٹیز میں BS, MS اور PhD کی ڈگریاں پڑھ رہے ہیں اور کورونا وبا کی وجہ سے چین کا ویزا نہ ملنے پر ان طلباء کا معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ معمولات زندگی اور تعلیمی کیریئر متاثر ہو رہا ہے۔ یہ طلباء covid-19 کے وبائی بیماری میں پاکستانی حکومت سے ہر دن مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان پر سفری پابندیاں ختم کرنے کیلئے کچھ مدد فراہم کیا جائے۔ 

    ان طلباء کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے پاکستانی میڈیا کے صحافی بھی میدان میں آگئے ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم ان نوجوان طالب علموں کیلئے چینی حکومت سے بات کی جائے اور ان کے سفری مسائل حل کئے جائے تاکہ جلد از جلد یہ طلباء چین جا کر اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔

    پاکستان کے صحافی انور لودھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر طلباء کے حق میں لکھتے ہیں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چینی حکام سے پاکستانی طلباء کی حالت زار کے بارے میں بات کرے جو کورونا وبا کے دوران پاکستان آئے تھے۔ اب چینی حکومت انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے چین واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔  اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے۔

    پاکستان کے جانے پہچانے صحافی حامد میر نے بھی طلباء کی مدد کرنے کیلئے آواز بلند کیا سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر لکھتے ہیں کہ چین کی حکومت ہمارے بچوں کی بات پر توجہ دے۔ 

    نجی ٹی وی کے صحافی سلیم صافی بھی پاکستانی حکومت پر طلباء کے سفری مسائل ختم کرنے کا کہہ رہے۔

    انیلہ خالد نامی صحافی بھی حکومت وقت سے پاکستانی طلباء کے سفری مسائل حل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    نجی ٹی وی کے صحافی معید پیرزادہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک آرٹیکل شیر کیا اور لکھتے ہیں کہ اسلام آباد کے پاس بیجنگ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے کچھ مہارت ہونی چاہیے تاکہ طلباء چین واپس جا سکیں۔

    طلباء کے پریشانیوں کو دیکھتے ہوے اینکر شعیب جٹ چین کے صدرشی جن پنگ سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاک چین سے اچھے تعلقات ہیں اور طلباء آپ کی مدد کو دیکھ رہے ہیں۔ 

    نجی ٹی وی سے تعلق رکھنے والی صحافی شازیہ زیشن اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو میسج میں پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کا معاملہ حکومت پاکستان کے سامنے اٹھا رہی ہے۔

    پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی عبدالقادر نے پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کی مدد کرنے کیلئے دفتر خارجہ سمیت حکومتی حکام پر زور دیا کہ یہ مسئلہ حل کرا یا جائے۔ 

    اس کے ساتھ باغی ٹی وی نے بہت بار پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کیلئے آواز اٹھایا ہے اور ہر ذمہ دار ذرائع پر زور دیا ہے کہ طلباء کو ویزا جاری کرایا جائے اور انہیں چین واپس بھیجا جائے. 

    Twitter: @RealYasir__khan

  • ربیع الاول رحمتوں، عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ تحریر: علی حمزہ 

    ربیع الاول رحمتوں، عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ تحریر: علی حمزہ 

    اسلامی مہینوں میں تیسرا مہینہ ربیع الاول کا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء (شروع) میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع الاول کی ابتداء تھی۔ یہ مہینہ ساعتوں اور خیرات و برکات کا مہینہ ہے۔ کیونکہ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو اللّٰه تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمارے اور آپ سب کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ، رحمتہ اللعالمین کو پیدا فرما کر ہم سب پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش برسائی۔ اسی ماہ کو خاتم النبیین ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسی ماہ کی دسویں تاریخ کو محبوب ﷺ نے ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نکاح فرمایا تھا۔ (عجائب المخلوقات صفحہ 45) 

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ 

    وما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین۔

    "اور (اے محمد ﷺ) ہم نے تم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے۔”

     

     سورة الْاَنْبِیَآء 21:107

    دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے دونوں صورتوں میں مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دراصل نوع انسانی کے لیے خدا کی رحمت اور مہربانی ہے، کیونکہ آپ نے آ کر غفلت میں پڑی ہوئی دنیا کو چونکایا ہے، اور اسے وہ علم دیا ہے جو حق اور باطل کا فرق واضح کرتا ہے، اور اس کو بالکل غیر مشتبہ طریقہ سے بتا دیا ہے کہ اس کے لیے تباہی کی راہ کونسی ہے اور سلامتی کی راہ کونسی ۔ کفار مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو اپنے لیے زحمت اور مصیبت سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے، ناخن سے گوشت جدا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس پر فرمایا گیا کہ نادانو ، تم جسے زحمت سمجھ رہے ہو یہ درحقیقت تمہارے لیے خدا کی رحمت ہے۔ 

    مسلمانوں کو چاہیے کہ اس مہینہ مبارک میں بارہویں تاریخ کو بالخصوص محفلوں اور میلاد شریف کا انعقاد کیا جائے۔ اور محفل پاک ذریعہ ہدایت اور حصول برکات ہو گی۔

    محفل میلاد شریف کی حقیقت، حضور کی ولادت پاک کا واقعہ بیان کرنا’ آپ کی کرامات، شیر خوارگی اور حضرت حلیمہؒ کے یہاں پرورش حاصل کرنے کے واقعات بیان کرنا ا ور حضور کی نعت پاک نظم یا شعر میں پڑھنا سب اس کے تابع ہیں۔ اب واقعہ ولادتِ نبی کا تذکرہ مبارک خواہ تنہائی میں ہو یا مجلس میں، شعر میں ہو یا نثر میں ‘ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر جس طرح بھی کیا جائے اس کو میلاد شریف ہی کہا جائے گا۔

    ضور نبی کریم کے یوم ولادت کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے محافل منعقد کرتے چلے آئے ہیں اور اس مسرت کے موقع پر طرح طرح کے میٹھے پکوان پکاتے ہیں ، شب ولادت پر جی بھر کر خرچ کرتے ہیں اور قرآتِ قران کے ساتھ ساتھ نعتیہ مقابلوں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ محفل میلاد شریف منعقد کرنا اور ولادت پاک کی خوشی منانا اور اس موقع پر خوشبو لگانا’ عرق گلاب چھڑکنا’ شیرینی تقسیم کرنا’ غرض کہ خوشی کا اظہار جس جائز طریقہ سے ہو وہ مستحب اور بہت ہی باعث برکت اور رحمت الٰہی کے حصول کا سبب ہے۔

    حدیثوں میں آیا ہے کہ شب میلاد مبارک کو عالمِ ملکوت (فرشتوں کی دنیا) میں ندا سنائی دی کہ "سارے جہاں کو انوارِ قدس سے منور کردو” اور زمین و آسمان کے تمام فرشتے خوشی و مسرت میں جھوم اٹھے اور داروغہءجنّت کو حکم ہوا کہ فردوس اعلیٰ کو کھول دے اور سارے جہاں کو خوشبوﺅں سے معطر کر دے۔ اب آپ ہی سوچیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بھی آمد مصطفیٰ کی خوشی منائی تو ہم، جو آپ کے امتی ہیں، کیوں نہ اپنے پیارے نبی کے میلاد کی خوشی منائیں۔ ہم جب جشن مناتے ہیں تو اپنی بساط کے مطابق روشنیاں کرتے ہیں قمقمے جلاتے ہیں’ اپنے گھروں’ محلوں دکانوں اور بازاروں کو ان روشن قمقموں اور چراغوں سے مزین و منور کرتے ہیں لیکن وہ خالق کائنات جس کے قبضے میں مشرق و مغرب ہے اس نے جب اپنے محبوب کے میلاد پر خوشےاں منانے کا حکم دےاچراغاں کروں تو نہ صرف مشرق و مغرب تک کائنات کو منور کر دیا بلکہ آسمانی کائنات کو بھی اس خوشی میں شامل کرتے ہوئے ستاروں کو قمقمے بنا کر زمین کے قریب کر دیا اور جس پیارے نبی کے وسیلے پر ہمیں یہ دنیا’ یہ جان’ یہ جہاں اور تمام نعمتیں ملیں اس پیارے نبی کی آمد پر ہم خوشی کیوں نہ منائیں۔

    ماہ مُنّور کا چاند نظر آتے ہی سب مسلمان اپنے پیارے نبی کی ولادت کا جشن عقیدت واحترام سے منانے کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔ بچے’ بوڑھے’ مرد’ عورتیں سبھی اس ماہِ مبارک کی بارھویں تاریخ کو میلاد شریف کی مجالس کا اہتمام کرتے ہیں۔ پاکستان کے تمام شہر’ گلے کوچے ‘ محلے’ مساجد اور تاریخی عمارات کو قمقموں سے سجایا جاتا ہے اور چراغاں کیا جاتا ہے۔

    مسلمان کے ایمان کا یہ اہم رکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آپ کی محبت میں بنائی۔ ویسے تو سارے مہینے اور یہ کائنات آپ کے نعلین پاک کے صدقے چمک دمک رہی ہے۔ ماہ نور ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں کے جذبے دین اور آپ کی محبت کے چراغ جگہ روشن نظر آتے ہیں ۔

    میلاد والے دن خوشبو لگانا:

    یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادتِ پاک کا واقعہ بیان کرنا، حمل شریف کے واقعات، نورِ محمدی کی کرامات، نسب نامہ یا شیر خوارگی اور حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنھا کے یہاں پرورش حاصل کرنے کے واقعات بیان کرنا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نعت پاک نظم یا نثر میں پڑھنا، سب اس کے تابع ہیں۔

    اب واقعہ ولادت خواہ تنہائی میں پڑھو یا مجلس جمع کر کے، نظم میں پڑھو یا نثر میں، کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر جس طرح بھی ہو، اس کو میلاد شریف کہا جائے گا۔

     محفلِ میلاد شریف کا شرعی حکم محفلِ میلاد شریف منعقد کرنا اور ولادت پاک کی خوشی منانا، اس کے ذکر کے موقع پر خوشبو لگانا، گلاب چھڑکنا، شیرینی تقسیم کرنا، غرضیکہ خوشی کا اظہار جس بھی جائز طریقہ سے ہو وہ مستحب اور بہت ہی باعثِ برکت اور رحمتِ الہی کے نزول کا سبب ہے۔

     حوالہ:

    (جاءَ الحق، حصہ اول، صفحہ#230

    ربیع الاول میں کثرت سے درود پاک: ربیع الاول شریف کے مبارک مہینہ میں درود شریف کثرت سے پڑھنا چاہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جو کوئی اس ماہ کی تمام تاریخوں میں یہ درود پاک ۔ "اللھم صلی علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید ایک ہزار ایک سو پچیس (1125) مرتبہ نماز عشا کے بعد پڑھے گا تو اس کو خواب میں امام الانبیاءو المرسلین کی زیارت ہو گی اگر کوئی بندہ مومن ماہ ربیع الاول میں اس درود شریف الصلوٰة والسلام علیک یا رسول اللّٰہ کو سوا لاکھ مرتبہ پڑھے تو وہ یقینا حضور پر نور شافع یوم النشور کی زیارت سے مشرف ہو گا۔ کتاب الاوراد میں لکھا ہے کہ جب ربیع الاول شریف کا مبارک چاند نظر آئے تو اس رات کو سولہ رکعت نفل پڑھے جائیں۔ دو دو رکعت کرکے اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد قل ھو اللّٰہ احد تین تین مرتبہ پڑھے جب سولہ رکعت پڑھ لے تو یہ درود شریف ایک ہزار مرتبہ پڑھے۔ اللّٰھم صلی علی محمدن النبی الامی رحمة اللّٰہ و برکاتہ اور بارہ روز تک یہ پڑھتا رہے تو سید المرسلین محبوب رب العالمین حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ کی زیارت خواب میں ہو گی۔ مگر عشاءکی نماز کے بعد اس کو پڑھا کرے اور پھر باوضو سویا کرے۔ (فضائل الشہور)

    اولیائے الہی نے حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی ولادت باسعادت کو ماہ ربیع الاول کا ایک اہم ترین واقعہ قرار دیتے ہیں اور اسی مبارک واقعہ کی وجہ سے ہی اس مہینے کو بہار کا نام دیتے ہیں۔

    بنی نوع انسان کو دین اسلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی جتنی برکات اور مہربانیاں حاصل ہوئی ہیں وہ کامل ترین انسان یعنی حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے مقدس وجود کی برکت کی وجہ سے ہیں کہ جو اس مہینے میں اس دنیا میں آئے تھے۔

    اس مہینےکی شرافت دیگر تمام مہینوں سے زیادہ ہے اور یہ مہینہ حقیقت میں دیگر مہینوں کی بہار ہے کیونکہ نبی اکرم (ص) کے نورانی وجود کی وجہ سے ہی تمام شرافتیں، رحمتیں، دنیاوی اور اخروی عنایات اور نبوت، امامت ، قرآن اور شریعت نازل کی گئی ہے۔

    میں اپنی بات کا اختتام اقبال کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا ۔

    کی محمد ﷺ سے وفا تونے تو ہَم تیرے ہیں

    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں 

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟

    خدا جانے کیوں ایک عرصہ ہوا اس ایلیٹ کلاس سے ایک قسم کی گھن آنے لگی ہے۔ ان لوگوں میں کوئی انسانی اقدار، کوئی شرم و حیا نام کی شے نہیں ہوتی۔ مجھے کوئی اخلاقی بھاشن نہیں دینا اور نہ ہی راضی بہ رضا کے معاملات میں دخل در معقولات کا قائل ہوں۔ مگر ایک حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ کچھ معاملات پوشیدہ کرنے کے ہوتے ہیں۔ اور ان معاملات پر چاہے معاشرہ کتنا ہی مدر پدر آزاد کیوں نہ ہو، ملک مزہبی ہو کہ سیکولر، معاشرتی اور سماجی قدغنیں لگی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین سے متعلق وہ اسکینڈلز ہیں جو گاہے گاہے سامنے آتے رہے اور ان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا گئے۔ امریکی معاشرہ بھی کچھ چیزوں کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مشرقی روایات کے باب میں کیا عرض کرنا۔

    بھائیو اور بہنو، جو کرنا ہے کرو، کون روکے ہے۔ (ویسے کون نہیں کرتا؟ کچھ ویڈیو میں کرتے ہیں۔ کچھ ویڈیو دیکھ کر کرتے ہیں۔) مگر اس دیدہ دلیری سے، اس بے احتیاطی اور بے باکی سے؟ چور تب تک چور ہے اور باکمال ہے جب تک چوری پکڑی نہیں جاتی۔ چور ہر ممکن احتیاط کرتا ہے کیوں کہ اس کو پتا ہے کہ وہ ایک جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ایک اوسط درجے کا آدمی یہ دوسرے "معاملات” بھی اسی چور کی طرح چوری چھپے کرتا ہے مگر ایلیٹ کلاس اپنی ڈھٹائی، بے شرمی اور بے باکی کی رو میں ایسی بہہ جاتی ہے کہ نہ معاشرتی حساسیت کی پرواہ، نہ مزہبی قدغنوں کا ادراک۔ نہ انسانی اقدار کا پاس نہ اپنی ساکھ کی پرواہ۔ نہ دوسرے کے خاندان کو خاطر میں لاتے ہیں نہ اپنے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طبقے میں طلاق کا رجحان سب سے زیادہ ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     زبیر عمر کی ویڈیو ایک تازہ واردات سہی مگر یہ نہ آخری ہے اور نہ پہلی۔  ویڈیوز کی فہرست کافی طویل ہے۔

    مجسمہ حسن و خوبی، ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی ایک بچی کی ماں سے کس لب و لہجے میں بات کر رہی ہے؟ سن کر ایک ابکائی سی آتی ہے۔
    کرنل کی ڈراؤنی بیوی کو کس نے نہیں دیکھا ہوگا۔
    جسٹس ارشد ملک کی وڈیو آئی جو واشروم میں جا کر دیکھنے کی چیز ہے۔
    عمران خان کے بارے میں ریحام خان کی کتاب میں انکشافات دیکھ لیں۔ اگر کسی نے تہمینہ درانی کی My Feudal Lord پڑھی ہے تو اس کو اس کلاس کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
      چیئرمین نیب ایک کال میں کس چاؤ سے سر تا پا ایک خاتوں کو چوم رہا ہے۔ اپنا طلال چودھری جو حال ہی میں تنظیم سازی کے لیے گیا اور بازو تڑوا آیا۔ نور مقدم اور اس کا قاتل دونوں ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ چوہان ہوئے، مفتی ہوئے کہ شیخ جی ہوئے، سب حریم شاہ نامی حسینہ کی گھنیری زلفوں کے اسیر ہوئے۔ ملک ریاض کی بیٹی ایک ویڈیو میں دو لڑکیوں کو اپنے شوہر کے ساتھ اپنے ہی بنگلے میں رنگے ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ کہاں تک سنو گے۔ کہاں تک سناؤں۔

    یاد آیا۔ عرصہ ہوا ایک کلپ نظر سے گزری تھی۔ امریکہ میں بسا ایک شخص دہائیاں دے رہا تھا کہ اگر اس کا تعلق مڈل کلاس اور غریب طبقے سے ہوتا تو وہ امریکہ میں کبھی نہ آ بستا۔ آگے چل کر وہ پاکستان کے اس طبقے میں بے غیرتیوں اور بے شرمیوں کی جو طویل لسٹ پیش کر رہا ہے، وہ سننے سے تعلق رکھتی ہیں، لکھنے کی نہیں۔
    تحریر : جواد خان یوسفزئی
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com