Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب   تحریر: احسان الحق

    وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب تحریر: احسان الحق

    گزشتہ رات وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے خطاب کیا. یہ خطاب ورچوئل یا فاصلاتی خطاب تھا. وزیراعظم نے ایک مسلمان عالمی رہنما کے طور پر خطاب کرتے ہوئے عالمی اور خطے کے مسائل پر مختصر مگر جامع خطاب کیا. عالمی مسائل بشمول عالمی وبا، کووڈ۱۹ ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی، منی لانڈرنگ، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی، مسئلہ کشمیر، اسلامو فوبیا، ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم، مسئلہ افغانستان اور طالبان حکومت سازی جیسے اہم ترین امور پر بات کرتے ہوئے خود کو عالمی رہنما ثابت کیا. وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز اقوام متحدہ کے صدر کو 76ویں اجلاس کی صدارت سنبھالنے پر مبارک دینے سے کیا.

    وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنما کے تقاضوں کے عین مطابق سب سے پہلے عالمی مسائل پر بات کی. اس وقت اقوام عالم کو سب سے بڑا مسئلہ عالمی وبا کووڈ۱۹ کا درپیش ہے. مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری دینا کو کووڈ ۱۹ کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کا بھی سامنا ہے. کووڈ ۱۹ کی ویکسین کی یکساں فراہمی پر بات کی کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ان ممالک کی فنانسنگ کی جائے تا کہ اس موذی مرض کا مقابلہ کیا جائے. ماحولیاتی آلودگی میں مضر گیسوں کے اخراج کے حوالے سے پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے مگر پھر بھی ہم سب سے زیادہ متاثر دس ممالک میں سے ایک ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا. اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں کروڑوں نئے درخت لگائے جا چکے ہیں اور کئی نئے جنگل بھی لگائے گئے ہیں. پاکستان نئی آماج گاہوں کو تیار کر رہا ہے اور پہلے سے موجود قدرتی آماجگاہوں کو محفوظ بنا رہا ہے. آلودگی سے بچنے کے لئے جدید اور قابل تجدید توانائی کے طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے.

    وزیراعظم نے کووڈ۱۹ کے حوالے سے  پاکستان کی کاوشیں دنیا کے سامنے رکھیں. اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے پاکستان نے عالمی وبا پر قابو پانے میں کامیاب رہا. ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کروایا جس کو دنیا نے نہ صرف سراہا بلکہ اپنایا بھی. وسائل اور بجٹ کی عدم دستیابی کے باوجود پاکستان نے انتہائی خوبصورتی اور چابکدستی سے اس موذی مرض پر قابو پایا اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور قوم کو بڑے نقصان سے بچا لیا. ہم کووڈ ۱۹ کی یکساں ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں اور ہر شہری کو ویکسین لگانے پر بھی پابند کر رہے ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی سے نپٹنے کے لئے بلین تری سونامی کا بھی ذکر کیا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان میں 1 ارب نئے درخت لگائے جا رہے ہیں. پچھلے تین سالوں میں کروڑوں نئے درختوں اور جنگلات کو اگانے سے مثبت نتائج ملنا شروع ہو چکے ہیں.

     

    مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے بھارتی مظالم اور ناجائز قبضے پر کھلے الفاظ اور شدید انداز میں مذمت کی. بھارتی مکرہ چہرے کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے رکھا. واضح انداز اور کھلے الفاظ میں فاشسٹ آر ایس ایس اور ہندوتوا کے نظریات پر بات کی کہ کس طرح پورے ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اور بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے. شہریت کے امتیازی قانون کے ذریعے آر ایس ایس اور ہندوتوا ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں. مقبوضہ جموں وکشمیر میں اکثریتی مسلمان آبادی کو ہندو آبادی سے تبدیل کیا جا رہا ہے. بھارت کی ذمہ داری ہے کہ حالات کو سازگار بناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ پرامن مزاکرات کرے اور 5 اگست 2019 والے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے. بھارت کی طرف سے فوجی تیاری، اسلحے کی دوڑ میں شمولیت، جدید اور مہلک ہتھیاروں کی خریداری پر حالات مزید خرابی کی طرف جا سکتے ہیں. ان حالات اور مستقبل میں ممکنہ جنگ کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا.

    وزیراعظم نے سید علی گیلانی کو خراج عقیدت بھی پیش کیا. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی بربریت اور دہشتگردی کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ سید علی گیلانی کی میت کو چھین لیا گیا. سید علی گیلانی کی میت پر دھاوا بول کر قبضہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بھارتی دہشت گردی سے سید علی گیلانی کے اہل خانہ مذہبی اور اسلامی طریقہ سے تدفین کرنے سے قاصر رہے. میں جنرل اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ بھارت سے مطالبہ کرے تا کہ سید علی گیلانی کے ورثا اپنی خواہش اور اسلامی طریقے سے باقیات کو اسلامی قبرستان میں دفن کر سکیں.

    وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے عالمی سطح پر منی لانڈرنگ پر بھی تفصیل سے بات کی. کہنا تھا کہ فیکٹ آئی سے پتہ چلا کہ 7000 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے محفوظ عالمی پناہ گاہوں میں چھپائے گئے ہیں. غریب اور ترقی پذیر ممالک سے چوری کر کے سالانہ اربوں ڈالر غیرقانونی طریقے سے محفوظ مالیاتی جگہوں منتقل کئے جاتے ہیں. ترقی پزیر اور غریب ممالک غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں. ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے. ان ممالک کا سرمایہ ترقی یافتہ ممالک میں جمع ہو رہا ہے اور وہ امیر سے امیر تر ملک بنتے جارہے ہیں. غریب ممالک سے لوگ روزگار کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. امیر ممالک لوٹی ہوئی غریب ممالک کی دولت اور پیسہ واپس نہیں کرتے کیوں ایسی کوئی مجبوری یا کشش نہیں ہوتی کہ جس بنا پر لوٹا ہوا پیسہ غریب ملکوں کی غریب عوام کو واپس کیا جائے. وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ منی لانڈرنگ کو روکا جائے. ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب روزگار کے لئے مہاجرین اور ملازمت کے لئے جانے والے لوگوں کو روکنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک کو دیواریں کھڑی کرنی پڑیں گی.

    وزیراعظم نے کہا 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا. اس جنگ میں ساتھ دینے کے بدلے میں پاکستان پر بھارت کے ذریعے دہشت گردی مسلط کی گئی. افغانستان کے راستے سے پاکستان پر دہشت گردی کے حملے ہوتے رہے اور بھارت افغانستان کی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرتا رہا. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانیوں نے 80 ہزار جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا. 35 لاکھ افراد بے گھر ہو کر دوسرے علاقوں کا سفر کرنے پر مجبور ہوئے. اتنی بڑی جانی اور معاشی قربانیوں کے بدلے ہماری تعریف کے بجائے امریکہ اور یورپ میں ہمارے خلاف باتیں ہوتی رہیں.

    میں پہلے دن سے ہی کہتا رہا کہ افغانستان کا حل فوجی آپریشن میں بالکل نہیں، میں امریکہ آیا یہاں سینیٹر جان ریڈ، بائیڈن اور کیری سے ملا اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی مگر میری بات کوئی بھی ماننے کے لئے تیار نہیں تھا. 20 سال بعد ہماری بات درست ثابت ہوئی اور امریکہ کو مزاکرات کے ذریعے افغانستان چھوڑنا پڑا. عمران خان نے کہا اس وقت کسی نے یہ بات نہ سمجھی اور بد قسمتی سے فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی. آج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو ایک تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ کیوں 3 لاکھ افراد پر مشتمل سازو سامان سے لیس افغان فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے. یاد رکھیں کہ افغان قوم دنیا کی بہادر ترین قوموں میں سے ایک ہے. جب اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم ہوگا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں اور کیسے آئے ہیں؟

    افغانستان کی صورتحال اور طالبان کی حکومت اور حکومت سازی پر بات کی اور دنیا پر واضح کیا کہ اس وقت طالبان اور افغانستان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا. ہمیں افغان طالبان اور عوام کو ان کے حال پر نہیں چھوڑنا چاہئے. دوحہ مزاکرات میں یہی شرائط تھیں جن پر افغان طالبان عمل پیرا ہیں. امریکہ کی طرف سے عام معافی کا اعلان، مخلوط حکومت، افغان سرزمین کو کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرنے کی اجازت اور انسانی حقوق کا احترام کرنے جیسی شرائط تھیں، افغان ان شرائط پر عمل پیرا ہیں. میں اقوام عالم کو کہتا ہوں کہ اس وقت ہم سب کو طالبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی مالی اور غذائی امداد کرنی چاہئے. اگر ان کی مدد نہ کی گئی تو اگلے سال تک غذائی قلت 90 فیصد تک بڑھ جائے گی. آخر میں میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنا وقت ضائع کئے بغیر افغانستان کے متعلق عملی طور کردار ادا کرنا ہوگا، آپ سب کا بہت شکریہ

    @mian_ihsaan

  • خاندان پہلے سیاست بعد میں تحریر:آصف اسماعیل

    اس سے پہلے کہ ہم اس بحث کو سمیٹیں کہ نواز شریف کے بعد پارٹی قیادت کو کے پاس جائے گی ہمیں چوہدری ظہور الہی کے خاندان اور ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کو سمجھنا ہو گا کیونکہ یہ دونوں خاندان ایک دوسرے سے منسلک بھی ہیں اور ایسا کرنے سے زیادہ بہتر انداز میں پتا چلے گا کہ پاکستان میں سیاسی خاندانوں میں قیادت کیسے منتقل ہوتی ہے۔

    اگر چوہدری ظہور الہی کے خاندان پر نظر دوڑائی جائے تو چوہدری صاحب خود سیاست میں کافی متحرک تھے جبکہ ان کے بھائی چوہدری منظور الہی نے اپنے آپ کو کاروبار تک ہی محدود رکھا، مگر وہ اپنے بھائی کے سیاست مفادات کی حفاظت بھی کرتے تھے ان کی مدد بھی۔
    چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں ہی اپنے بیٹے چوہدری شجاعت کو قومی اسمبلی کا ممبر منتخب کروایا، اس وقت کے سیاستدانوں سے بات کی جائے تو وہ یہ بتاتے ہیں کہ گجرات میں ایک رائے تھی کہ چوہدری ظہور الہی کے بیٹے سیاست کریں گے جبکہ چوہدری ظہور الہی کے بیٹے چوہدری پرویز الہی کاروبار کا آگے لے کر جائیں گے مگر پھر انیس سو

    اکیاسی میں چوہدری ظہور الہی کو الذوالفقار کی جانب سے قتل کیا گیا تو یہ ضرورت پڑی کہ مرکز کی سیاست اگر چوہدری شجاعت کریں گے تو صوبائی سیٹ پر بھی کسی ایسے شخص کو سامنے لانا چاہیے جو خاندان سے ہو اور جو خاندان سے مفادات کی حفاظت بھی کرے۔ اسی حوالے سے جب میری ترجمان پرویز الہی زین علی بھٹی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ "چوہدری ظہور الہی کی شہادت کے فوری بعد قیادت کا ایک خلا پیدا ہو گیا کیونکہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا تو اس وقت خاندان کے اندر اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ چوہدری شجاعت مرکز کی سیاست کریں گے اور چوہدری پرویز الہی جو کہ چوہدری ظہور الہی کے بھتیجے بھی ہیں انہیں پنجاب کے معاملات دیکھنے پر معمور کیا جائے گا، جہاں تک سیاسی کھینچا تانی کی بات ہے تو وہ اسی وجہ سے نہیں ہوئی کہ دونوں کو اپنے رولز کا پتا چل گیا”۔ چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں ہی چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز دونوں ہی متحرک ہو گئے تھے کیونکہ پی این اے کی تحریک میں دونوں سے طالبعلم سیاست شروع کر دی تھی۔

    اسی طرح اگر ہم بھٹو خاندان پر نظر دوڑائی تو کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کے بھائی نہیں تھے تو قیادت کا جھگڑا ان کے بچوں میں ہونا تھا جو بعد میں ہوا بھی مگر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی بے نظیر بھٹو کی گرومنگ شروع کر دی تھی جیسا کہ آپ سب نے دیکھا ہو گا کہ شملہ معاہدے کے وقت بے نظیر بھٹو اس دورے میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھیں اور انہیں ہی سیاسی جانشین تصور کیا جاتا تھا مگر خاندان کے اندر لوگوں کا خیال تھا کہ جانشین مرتضی بھٹو کو ہونا چاہئے لیکن اس خیال کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی اور بے نظیر بھٹو ہی اصل وارث بنیں۔

    اب اگر ہم ان دونوں خاندانوں کو سامنے رکھیں تو ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ نواز شریف کا سیاسی وارث کون ہو گا۔ 1999ء کے مارشل لاء کے فوری بعد سے لے کر دو ہزار سات تک سب کا ماننا یہی تھا کہ حمزہ شہباز ہی نواز شریف کے سیاسی وارث ہوں گی اور یہ تاثر دو ہزار سولہ تک کافی حد تک درست بھی مانا جاتا ہے کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار اٹھارہ کے دوران حمزہ

    شہباز پنجاب میں ڈپٹی وزیراعلی کے طورپر متحرک رہے۔ مرکز کی سیاست نواز شریف کے ہاتھ میں تھی جبکہ مریم نواز ان کے ساتھ میٹنگ اور بیرونی دوروں پر ہوتی تھیں اور پنجاب کے انتظامی معاملات شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے ہاتھ میں تھے۔ میری اپنی رائے میں خاندان میں خاموش مفاہمت اب بھی برقرار ہے مگر اب اس میں تھوڑی پیچیدگی آ گئی ہے کیونکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پانامہ کیسز کے دوران اس طرح سے متحرک نہیں ہوئے اور نہ ہی دونوں نے بیانات دیئے جیسے کھل کر مریم نواز یا نواز شریف سامنے آئے۔ اب پارٹی میں دو گروپ ہیں جو نظر نہیں آتے لیکن نواز شریف کے منظر سے ہٹنے کے بعد سامنے آئیں گے۔ ایک گروپ کا ماننا یہ ہے کہ جس کی دھاک پنجاب پر ہوتی ہے وہی مرکز میں حکومت بناتا ہے جبکہ دوسرے گروپ کا ماننا ہے کہ ووٹ نواز شریف کا ہے، مریم نواز اور نواز شریف پر جب مشکل وقت تھا تو شہباز شریف اور ان کے بیٹے خاموش تھے تو قیادت مریم نواز کے پاس ہی جانی چاہیے۔

    اب اگر تجزیہ کیا جائے تو جیسے چوہدری خاندان میں اس بات پر اتفاق تھا کہ مرکز کی سیاست چوہدری شجاعت کریں گے اور صوبے کی سیاست چوہدری پرویز الہی ویسے ہی نواز شریف کا سیاسی وارث مرکز میں مریم نواز کی صورت میں سامنے آئے گا اور صوبے میں حمزہ شہباز کی صورت یہاں تک شہباز شریف کا تعلق ہے تو ان کا کردار بالکل اسی طرح کا ہو گا جیسا اس وقت نواز شریف کا ہے، کیونکہ جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر بھٹو کی گرومنگ اپنی زندگی میں ہی شروع کر دی تھی تو یہ بات سب کو معلوم تھی کہ بے نظیر بھٹو ہی سیاسی جانشین ہوں گی ویسے ہی مریم نواز کا پلڑا اس وقت حمزہ شہباز پر کافی بھاری ہے۔ ہمیں لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں کہ حمزہ شہباز کی نسبت مریم نواز کی جدوجہد کم ہے مگر مریم نواز حمزہ شہباز کے مقابلے میں "کراوڈ پلر”ہیں۔ جہاں تک جماعت یا خاندان میں لڑائی کی بات ہے تو میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو گا کیونکہ جس طرح مافیاز میں "خاندان پہلے اور کاروبار بعد میں” آتا ہے 2یسے ہی سیاسی خاندانوں میں ایک خاموش مفاہمت ہوتی ہے کہ "خاندان پہلے آتا ہے اور سیاست بعد میں” آتی ہے۔ ہم نے ماضی میں تو یہی دیکھا اب مستقبل کا حال اللہ جانتا ہے۔

  • ترکی کتنا طاقتور ہے:-     تحریر اصغر علی

    ترکی کتنا طاقتور ہے:-     تحریر اصغر علی

                                 
                
    اسلامی دنیا میں اگر کوئی ایک ملک امریکی بالادستی کو چیلنج کرتا ہے تو وہ ترکی ہے اس کی حالیہ مثال پچھلے دنوں میں آپ کے سامنے آئی امریکہ نے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو ترکی نے اسرائیل سے اپنے ڈپلومیٹک تعلقات توڑ دیے ترکی نہ ہی کوئی ایٹمی ملک ہے اور نہ ہی اس کے پاس کسی قسم کے کوئی ایٹمی ہتھیار ہیں ہیں مگر باوجود اس کے اس کا شمار دنیا کی چند بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے ترکی کی سب سے بڑی قوت اس کا جغرافیہ ہے کیونکہ ترکی یورپ اور ایشیا دونوں براعظموں کے درمیان میں واقع ہے اور درمیان میں واقع ہونے کی وجہ سے وہ دونوں براعظموں کا دروازہ بن چکا ہے ترکی کے اس جغرافیائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روس اور امریکہ دونوں ہی یہ چاہتے ہیں کہ ترکی میں ان کے ساتھ رہے اور اس چیز کو ترکی اچھی طرح جانتا ہے مگر یہی جغرافیہ ترکی کے لئے سب سے بڑی مصیبت بھی ہے کیوں کہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہر سال ایشیا سے یورپ جانے کے لیے ترکی میں آ جاتے ہیں جو ترکی کی کے لیے بڑا معاشی چیلنج کھڑا کر دیتا ہے ترکی یورپی یونین کا حصہ بننا چاہتا ہے ہے مگر اس کا جغرافیا اس کی بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ یورپی یونین میں آنے والے ہر ملک کے لوگ دوسرے ملک میں بغیر ویزے آسانی سے آ جا سکتے  ہیں اگر ترکی یورپی یونین میں شامل ہو جاتا ہے تو ہر سال ایشیا سے آنے والے لاکھوں تارکین وطن بآسانی یورپ چلے جائیں گے جو کہ ممکن نہیں ہے اس لیے ترکی کی سر توڑ کوششوں کے باوجود یورپی یونین اسے اپنا رکن بنانے سے انکاری ہے معاشی لحاظ سے ترکی 863 ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کی سترویں بڑی معاشی طاقت ہے ترکی کے جی ڈی پی کا زیادہ انحصار سیاحت پر ہے ایک اندازے کے مطابق ہر سال ستر لاکھ سیاح ترکی کا رخ کرتے ہیں ترکی کی فوجی اہمیت اور بھی زیادہ ہے ترکی دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ہے جب کہ پاکستان تیرویں بھارت پانچویں اور چین تیسری بڑی طاقت ہے نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ملک ترکی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو مغربی فوجی اتحاد نیٹو سے بھی جنگ کرنے پڑے گی اور یہاں یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ نیٹو اتحاد میں امریکہ کے بعد دوسری بڑی فوج بھی ترکی کی ہے اور اس کی تعداد 4 لاکھ دس ہزار ہے امریکی پابندیوں کے باوجود ترکی نیٹو اتحاد کا واحد ایسا ملک ہے جو روس سے جدید ہتھیار اور ریڈارسسٹم خرید رہا ہے ترکی مسلمان ملکوں میں بھی خاص اہمیت رکھتا ہے ہے جب امریکی صدر  نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مسلم ممالک کا ایک اجلاس بلایا اور بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا ترکی کے اس اقدام نے مسلمانوں کے دل جیت لیے تھے ترکی میں دو بڑے اہم مسائل ہیں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ترکی میں رہنے والے کرد اقلیت کے لوگوں نے آزادی کی تحریک شروع کردی ہے ان لوگوں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ ساتھ شام اور عراق میں بھی اپنے اڈے قائم کر لیے ہیں ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شام کے شمالی علاقے پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے اور عراق میں بھی ترکی کی فوج داخل ہوچکی ہے اسی فوجی مداخلت کی وجہ سے ترکی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ترکی کا دوسرا بڑا مسئلہ یورپی یونین اور امریکہ سے خراب تعلقات ہیں اس وقت صورت حال یہ ہے ہے کہ ترکی تیزی سے روس ایران پاکستان کے قریب ہو رہا ہے قطر اور ایران سے بھی اس کے اچھے تعلقات ہیں تاہم شام عراق اسرائیل سعودی عرب یمن یونان سائپرس اور امریکہ سے اس کے تعلقات کافی حد تک ک خراب ہو چکے ہیں یوں دیکھا جائے تو ترکی اپنے جغرافیائی لحاظ معاشی ترقی نیٹو کی رکنیت اور فوجی طاقت کی وجہ سے دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے ہے تاہم کرد کی بغاوت امریکا اور یورپ سے مسلسل کشیدہ تعلقات اور ہمسایہ ممالک کی بگڑتی صورتحال نے ترکی کے لیے بہت سارے چیلنج پیدا کر دیے ہیں

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI
    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • اسلام و پاکستان مخالف بل منظور تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    اسلام و پاکستان مخالف بل منظور تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    آج سے کچھ قبل سوشل میڈیا پر ایک خبر نظروں سے گزری جس کا عنوان یہ تھا کہ سندھ اسمبلی میں اسلام مخالف بل منظور ہوگیا پہلے تو میں نے اسے فیک اور جھوٹی خبر سوچ کر ان دیکھا کردیا کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کیسے اسلام مخالف بل منظور کا سکتا ہے؟

     مگر پھر اگلے دن میرے ایک اور عزیز نے مجھے یہ خبر واٹسپ پر بھیجی پھر میں نے سوچا کیوں نہ اس خبر کی تصدیق کی جائے.

    خبر کی تحقیق کرنے پر پتا چلا واقع یہ خبر تو حقیقت پر مبنی ہے پھر مزید سندھ اسمبلی میں منظور ہوئے اس کردار داد کو پڑھا تو اس کا اسکا خلاصہ یہ نکلا کہ حقیقت میں یہ بل اسلام مخالف ہے اور اسلام کے دارہ کار کے بل کل منافی ہے. 

    کیا ہمارے حکمران اتنے کم عقل ہیں؟ کہ ا چند ووٹوں کی خاطر اپنا ایمان بیچ کر ان کے تہواروں میں جاتے ہیں انہیں کے جیسی عبادت کرتے ہیں ان کے بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں کیا اسلام اس اجازت دیتا ہے؟

    تفصیلات کے مطابق یہ بل ایک سال قبل مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی نند کمار گولکانی نے پیش کیا تھا جسے منظور کرلیا گیا.

    وطن عزیز پاکستان میں دین مذہب میں کوئی تفریق نہیں بلکہ اتنا خیال تو یہاں کسی مسلم کا نہیں رکھا جاتا جتنا کسی غیر مسلم کا رکھا جاتا ہے اس کے بر عکس اگر آپ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو دیکھیں وہاں کتنی انسان حقوق کی پامالی ہو رہی ہے مسلمانوں کا جینا وہاں محال ہے کتنی ہی مسلم بستیوں کو غیر قانونی طور پر قرار دے مسمار کر دیا جاتا ہے اپنے آپ کو سیکیولر ملک قرار دینے والا بھارت خود انسانی حقوق کی پامالی کرتا ہے .

    آئیں اس بل کی کچھ اہم تعریف آپ کے سامنے رکھتا ہوں.

    کوئی بھی لڑکی یا لڑکا 18سال سے قبل اسلام قبول نہیں کرسکتا زبردستی کلمہ پڑھنا نے والے اور نکاح خواں کو کم از کم 5 سال قید اور ضمانت بھی نہ ہو سکے گی.

    اس میں سب سے پہلے خلاف شریعت بات عمر کی تحدید کرنا ہے دین اسلام میں کہیں بلوغت کیلئے اٹھارہ سال کی عمر مقرر نہیں کیونکہ دور نبوی میں پندرہ سال سے کم بچوں نے بھی اسلام قبول کیا بچوں میں سب سے پہلے اسلام حضرت علی المرتضیٰ رضہ نے قبول کیا اسی طرح زید بن حارثہ رضہ نے پندرہ اور معاذ و معوذ رضی اللہ عنھما نے بارہ اور تیرہ سال میں اور اگر تاریخ اسلام کو صحیح معنوں میں پڑھا جائے تو یہ بل بلکل ہی اسلام مخالف ہے

    اسلام تو اسکی بھی اجازت نہیں دیتا کہ کسی غیر مسلم کو زبردستی اسلام قبول کروایا جائے. 

    اگر یہ بل کسی غیر مسلم ملک میں ہو تو سمجھا جا سکتا ہے لیکن اس وطن عزیز پاکستان یہ کردار داد منظور ہونا ہمارے سیاستدانوں کے منہ پر ایک تماچہ ہے.

    میں سمجھتا ہوں کہ بل اسلام کی دعوت تبلیغ کو روکنے کیلئے اور اس وطن عزیز پاکستان کے خلاف ایک ہتھکنڈا استعمال کیا گیا ہے پہلے جب دشمنوں نے ملک پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی الحمدللہ ہم نے اسکا بھرپور جواب دیا اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی اب جبکہ یہ اس میں بھی ناکام ہوئے تو انہیں نے ہمارے سوئے ہوئے حکمرانوں کا سہارا لیکر وطن عزیز کی بنیادیں کچی کرنی چاہیں ہیں کیونکہ دین اسلام وہ واحد مذہب ہے جو تیزی سے دنیا میں پھیل رہا ہے جس سے غیر مسلم ان خوفزدہ طاقتوں، این جی اوز اور سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے غیر مسلم خصوصاً ہندو ارکان نے نومسملوں کے ساتھ تعاون اور ان کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے اداروں اور علماء کو ڈرانے کےلیے مذکورہ قانون پاس کیا ہے۔

  • کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    قارئین آج میں ایک بہت اہم موضوع پر لکھنےجارہا ہوں یوں تو میں اپنی تمام تحریروں میں کوشش کرتا ہوں کے میری لکھی گئی تحریر سے کسی کی دل آزاری نہ ہو اور قلم کی آواز ایوانوں میں سنائی دے جیسا کے آپ کے علم میں ہے کے ہر جگہ کرونا کا رونا ہے لیکن کرونا جاتے جاتے بھی کراچی کے کئی پڑھے لکھے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرتا جا رہا ہے آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کرونا کا نوجوانوں کے مستقبل سے کیا واسطہ تو آئیں میں آپ کو بتاتا ہوں کرونا کس طرح نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے بالخصوص کراچی کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کررہا ہے آج میرا جانا اپنے کسی دوست کے پاس ہوا جو کے سندھ پولیس میں بطور ایس ایچ او ملازمت کر رہا ہے میں اس کے پاس بیٹھا خوش گپیاں مار رہا تھا کے اچانک اس دوست کے فون کی گھنٹی بجی اس نے فون کال اٹھاتے ہی کہا سر میں گرفتاریاں کر رہا ہوں جن لوگوں نےکرونا ویکسین نہیں لگوائی دوسری جانب کال پر کوئی اعلیٰ افسر موجود تھا کیونکہ میرا ایس ایچ او دوست اسے سر کر کے مخاطب کر رہا تھا دوسری طرف سے کرونا ویکسین نہ لگانے والوں کے خلافِ 40 ایف آئی آرز درج کرنے کا حکم صادر فرمایا جا رہا تھا چونکہ میں ایس ایچ او صاحب کے قریب بیٹھا تھا تو مجھے دوسری جانب سے کی جانے والی گفتگو کی آواز سنائی دے رہی تھی اور میرا ایس ایچ او دوست سر سر اور سر بولے جارہا تھا فون کال بندہونےکےبعد میں نے اپنے دوست موصوف سے پوچھا کے یہ کیا چکر ہے 40 ایف آئی آرز کس کی کرنی ہے اور آج ہی کیوں کرنی ہے میرے دوست نے مجھ سے کہا بھائی آج سے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کےخلاف مہم کا آغاز کیا جا چکا ہےاور ایف آئی آر درج کرنے کا حکم ملا ہے اور مجھے فوری طور پر حکم ملا ہے کے کم ازکم 40 ایف آئی آرز درج کر کے رپورٹ واٹس کرنی ہے افسران بالا کو یہ تمام باتیں سن کر میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور میں نے اپنے ایس ایچ او دوست سے کہا یار یہ تو بہت زیادتی اور ظلم ہو جائے گا کہنے کو تو یہ ایف آئی آر چھوٹی سی ہے لیکن یہ ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دے گی ایک ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ نوجوان کسی باہر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے نہیں جا سکتا سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکتا اسلحہ کا لائسنس نہیں بنوا سکتا تو یہ تو بہت بڑا ظلم ہو جائے گا اس سے پہلے بھی آپ کو یاد ہو گا ون وے اور ڈبل سواری پر نوجوانوں کی ایف آئی آرز درج کر کے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کیا جا چکا ہے کہنے کو تو یہ تمام ایف آئی آریں ایک چھوٹی سی سیکشن 188کے تحت کاٹی جاتی ہیں لیکن یہ چھوٹی سی ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرجاتی ہے کرمنل ریکارڈ ڈیٹا بیس پر انٹری کر کے نوجوانوں پر ساری زندگی کا دھبہ لگا دیا جاتا ہے پوری دنیا میں اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں کے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہوں لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کے کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ کیا جارہاہے خدارا نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ نہ کیا جائے یہ نوجوان مستقبل کا معمار ہیں اس ملک کی باگ دوڑ ان ہی میں سے کسی نوجوان نے سنبھالنی ہے براہِ مہربانی کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کے خلافِ ایف آئی آر کے بجائے اگر جرمانہ کر دیا جائے تو بھی لوگ ویکسین لگوا لیں گے اگر ہم فرض کر لیں کے ایک تھانے میں 40 نہیں 25 ایف آئی آرز روزانہ کی بنیاد پر درج کی جائیں تو کراچی کے 108 تھانہ جات سے 2700 ایف آئی آرز درج کر کے نوجوانوں کو تباہی کی جانب گامزن کر دیا جائے گااس پر نظر ثانی کی جائے اور اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کیاجائے چیف جسٹس آف پاکستان اس بات کا از خود نوٹس لیں اور کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ پونے سے بچائیں۔

    جزاکِ اللہ

    Name:

    Sadiq Saeed | صادق سعید

    Twitter Handle

    @SadiqSaeed

  • کالم نگاری کے 5 آسان طریقے۔ تحریر کنزہ صدیق

    قلم اور قلمکار کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے قلم کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اقبال کی قلم ہی مسلمانوں کا شعور جگانے کا سبب بنی اسی طرح قلم اور قلم کار کا رشتہ نہایت ہی گہرا ہے 

    کالم نگار معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔

    کالم نگاری کے شوقین نوجوانوں کے لیے چند نہایت آسان طریقے اور کچھ اصول میں بتانا چاہوں گی جن کی مدد سے کوئی بھی بڑی آسانی سے اپنے خیالات کو لفظوں میں بیان کرسکتا ہے 

    کالم لکھنے کا سب سے پہلا مرحلہ شروع ہوتا ہے ڈائری لکھنے سے۔۔

    جی ہاں آپ کے دماغ میں جب بھی کوئی اچھا سا ٹاپک آئے تو آپ فوراً ہی اسے محفوظ کر لیں ساتھ ساتھ اسی کے متعلق سوچنا بھی شروع کریں 

    بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دماغ میں وہی ٹاپک آتا ہے جو ہمارے اردگرد ہورہا ہوتا ہے لہذا جب بھی آپ اپنے عنوان کے متعلق سوچیں تو زرا اردگرد کے ماحول پہ بھی نظرِ ثانی کریں

    روز ایک ورق لکھئیے دماغ میں خاکہ بنائیے یہ طریقہ آپکو اچھا لکھاری بننے میں مدد دے گا

    دوسرے طریقہ یہ ہے کہ آپ چھوٹی چھوٹی کہانیاں بنائیے ایسی کہانیاں جو موجودہ دور کی عکاسی کرسکیں، آپ سیاسی کہانیوں سے لے کر طنزومزاح سے بھرپور کہانیاں لکھنا شروع کریں آج کل نوجوانوں کو سیاست کا بڑا ہی شوق ہے اسی لیے ملک میں ہونے والے روز مرہ کے معاملات پہ بھی آپ لکھ سکتے ہیں 

    چلیں جی اب بڑھتے ہیں ہمارے تیسرے طریقے کی طرف جوکہ آپ کو ایک اچھا کالم نگار بننے میں مدد دے گا تیسرا طریقہ یہ کہ آپ کسی اچھے کالم نگار کو پڑھنا شروع کریں انکے الفاظ پہ غور کریں الفاظ کے چناو اور انکے معنی و مفہوم پہ غور کریں تاکہ آپ کو سیکھنے میں مدد ملے یاد رکھئیں جب بھی آپ کسی کتاب یا کالم کو پڑھتے ہیں تو آپکے دماغ میں بھی مختلف کردار ابھرتے ہیں جسکی وجہ سے آپکو مختلف آئیڈیاز مل جاتے ہیں 

    چوتھا طریقہ ہے مکالمہ،

    تحریر سکیھنے کا ایک طریقہ فرضی مکالمہ ہے جیسا کہ فرض کر لیجئے کہ دو دوست آپس میں مثبت بحث کر رہے ہیں جس میں ایک چھٹی کے دن کو گھر میں گزارنے پہ بہتر سمجھتا ہے تو دوسرا گھومنے پھرنے کو اہمیت دیتا ہے۔ دو متضاد نظریات یا خیالات کے درمیان موازنہ کرنے سے مزید خیالات جنم لیتے ہیں جسکی وجہ سے تحریر لکھنے مں آسانی ہوتی ہے 

    پانچواں طریقہ اور سب سے اہم یہ کہ مراسلہ اور مکتوب نگاری ہے آپ جو بھی لکھیں اس پہ بڑے غور کرنے کے بعد اسے جانچ لیں بات ہمیشہ مثبت اور مختصر کریں سمجھانے کے لیے الفاظ کا چناو آسان رکھیں تاکہ کسی بھی کلاس کے لوگوں کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو مختصر بامعنی الفاظ سے آپ کے کالم میں خوبصورتی آتی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ مزاح یا شاعری بھی شامل کیجئے تاکہ پڑھنے والے کو مزہ آئے بجائے اسکے کہ وہ بور ہوجائے ۔۔

    میں نے بھی کوشش کی کہ آپ کو سب سے آسان لفظوں میں سمجھا سکوں امید ہے کہ شروعات میں کالم لکھنے کے لیے آپکو ان طریقوں سے مدد ملے گی

    کالم نگاری کا دائرہ کار اور دائرہ عمل اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ اسکی سماجی و سیاسی،تہذیبی،اخلاقی اور ہمہ گیر وسعت سے کون انکار کر سکتا ہے ۔اس کے اعتراف میں اکبر الہ آبادی کا کہنا ہے کہ 

    کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

    جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو۔

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔

  • صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    .

    پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پولیس صحافیوں کی بے حد عزت کرتی ہے۔ چائے پلاتے ہیں ساتھ تصویر بناتے ہیں۔ صحافی اتنے میں پھولے نہ سما پاتے ہیں کہ ہمارے فلاں آفسر کے ساتھ تعلق ،فلاں ایس ایچ او میری بہت قدر اور عزت کرتا ہے۔ اس افسر کا کہنا ہے کہ تمہاری خبریں اور تحریر بہت اچھی ہوتی ہے۔ وہ افسر میرے کام کی بہت تعریف کرتا ہے۔ اس طرح معاشرے کے افراد صحافیوں کی عزت کرنے لگتے ہیں کہ جب کبھی کام ہوا ،تو یہ کام آئے گا۔

    صحافی افسران کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔ افسران کے قصیدے لکھتا ہے۔ ڈکیتی اور چوری کی خبریں شائع کرنے کی بجائے چھپا دیتا ہے۔ پولیس کے ظلم و ستم ، رشوت ستانی، ناانصافی کی خبروں پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بجائے میرٹ کرنے کے خبریں لکھتا ہے ویلڈن ، کرائم فائٹر، دبنگ آفیسر، جرائم کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ۔ صحافی اندر سے ڈرتا بھی ہے کہ پولیس کی نہ تو دوستی اچھی ہوتی ہے، نہ پولیس کی دشمنی اچھی ہوتی ہے۔ کہ ایسا نہ ہو کسی مقدمے میں میرا نام ڈال کر مجھے زلیل وخوار کیا جائے۔

    پولیس والے اچھی سیلری اور فیس لے کر ملک و قوم کی خدمت سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ میں انعامات اور تعریفی اسناد وغیرہ۔ اس کے برعکس صحافی تنخواہ کوئی نہیں، گھر چلانے کے لیے محنت مزدوری، یا چند صحافی ناجائز ذرائع آمدنی۔ رشوت یا فیس نہیں، شیلڈ یا انعام نہیں۔ جتنی مرضی ایمانداری سے چلے ، بلیک میلر ، اور پتہ نہیں کیا کیا الزامات ۔ مطلب گھوڑا کھوتا برابر۔ بلکہ کھوتوں کی تو آج کل سنا ہے زیادہ قدر و منزلت ہے۔

    اب صحافی کو کام پڑ گیا ہے،اپنا یا عزیز یا دوست کا۔ صحافی بڑا خوش ہوتا ہے،دل میں کہ میں نے تو اس آفسر کی بڑی تابعداری کی ہوئی ہے۔ انشاء اللہ جاتے ہی کام ہو جائے گا۔ کام بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ کام بھی جائز ہے ،ناجائز نہیں ہے۔ اب صحافیآافسر کے پاس پہنچ گیا۔ کام سے بھی چھٹی کی ، لینا دینا بھی کچھ نہیں۔ اب افسر پانی یا چائے ،عزت کرے گا۔

    جیسے ہی صحافی کام بتائے گا۔ تو افسر کو یاد آ جاتا ہے کہ اس کام کے تو میں نے پیسے لیے ہوئے ہیں۔ اس مفت خورے نے دینا بھی کچھ نہیں ہے ۔ افسر فوری سوچتا ہے کہ اب اس کو کس طرح ٹالنا ہے۔ سر معاملہ چونکہ اوپر تک نوٹس میں ہے۔ اس لیے میں کچھ نہیں کر سکتا،آپ آ گئے ہیں، آپ سے وعدہ ہے ،میرٹ ہو گا۔ بے فکر ہو کر جائیں۔ یا کہا کہ مدعی کو مطمئن کر لیں ،ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب اسی رات تفتیشی 5 ہزار روپے لے کر بندہ چھوڑ دیتا ہے۔بلکہ مدعی کو ڈرا دھمکا اور بے عزت کر کے راضی نامہ لکھوا دیتا ہے۔ یا کسی تفتیش میں 2 سے 3 بار صحافی جا چکا ہے۔ اب کسی نیچے ملازم کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی بے عزتی کرو ، روایتی طریقہ اختیار کرو، تاکہ ہمارا سر چھوڈ دے۔ ہمیں فیس لے کر گناہ گار اور بے گناہ لکھنے دے۔ کیونکہ نہ اس نے پیسے دینے ہیں،نہ لینے دینے ہیں۔ اور تھانہ کہ آپ کو پتہ ہے کتنے اخراجات ہوتے ہیں۔ پھر صحافی پرچہ ہو جانے پر یا کوئی زیادتی ہو جانے پر پولیس کے کسی بڑے آفسر سے رابطہ کرتا ہے۔ اب بڑے آفسر کو سب پہلے سے ہی علم ہوتا ہے۔ یا وہ کوئی نوٹس نہیں لیتا ہے۔ صحافی سوچتا رہتا ہے کہ میں نے تو اس کی بڑی تابعداری کی تھی۔ زیادہ پریشر آنے پر پرچہ خارج کرنے کے احکامات،یا ریلیف دینے کے فرضی احکامات ۔ لیکن اس کے باوجود طریقہ پاکستانی اور روایتی، جمع قائد اعظم۔ 

    اس سب کے باوجود،صحافی کڑتا رہتا ہے۔ لیکن مجبور ہوتا ہے،ویلڈن کے پی کے پولیس۔ کیونکہ اسے اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ ہمارا دیس پولیس اسٹیٹ ہے۔ اور ہماری باری ان کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ اور وہی کام ٹاؤٹ چند سکوں میں کروا لیتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ یہاں کسی بھی جھوٹ پر مبنی من گھڑت کہانی میں نام آنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ اور کس طرح پیسے لے کر بے گناہ کو گناہ گار اور گناہ گار کو بے گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ لوگ روازنہ یہ معاملات لے کر اس کے پاس آتے ہیں۔ لیکن وہ خاموش رہتا ہے،کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ ہماری پولیس کسی کو اٹھا کر غائب کر دے اور کچھ بھی کر دے۔ لیکن کچھ نہیں بنتا ، کیونکہ ہمارا ملک پولیس اسٹیٹ ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کس آفسر نے کتنا مال بنایا اور کس قدر تیزی سے ترقی کی ،لیکن وہ خاموش رہتا ہے کیونکہ اس کی باری پولیس کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کہاں تک کتنے پیسے پہنچ رہے ہیں، لیکن وہ خاموش رہتا ہے کہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ پولیس کی نہ دوستی اچھی ،نہ دشمنی۔ 

    انصاف بکتا ہے تھانہ کی دکان پر سے

    روٹی خریدوں یا انصاف کس دکان سے

    سوچ رہا ہوں کہ تفتیشی کو فیس دوں

    یا وکیل صاحب کو،لیکن فیصلہ تو ہے مثل پہ

    لعنت ہے ایسے نظام پہ،انصاف ناپید ہے

    مجرم دندناتے ہیں،مسکین کے لیے جیل

    عدالت بھی ہے چلتی تفتیش پہ یارو

    سفارشی پولیس کو پسند نہیں ہیں یارو

    بس پیسے دو اور کام اپنے لو ،ہے شرط

    نام نہیں لو گے ،تو ہر کام ہو جائے گا

    ٹوکن مشین کی طرح چلتا ہے نظام یارو

    پورے ملک کا دستور ہے،بس قائد اعظم یارو

    بات میری مانو اور تم بھی قائد کے اصول اپناٶ۔

  • آئی سی سی، نیوزی لینڈ اور پاکستان تحریر:محمد محسن 

    آئی سی سی، نیوزی لینڈ اور پاکستان تحریر:محمد محسن 

    دنیا کے چند محبوب ترین کھیلوں میں سے ایک کھیل کرکٹ بھی ہے۔ ویسے اگر آپ کرکٹ کا موازنہ دوسری کھیلوں سے کریں تو یہ دنیا میں اتنا مشہور نہیں جتنا اولمپکس یا فٹبال ہیں لیکن پھر بھی اس کا جنون پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ جیسے فٹبال کی گیم کو مینج کرنے کے لیے فیفا نامی ایک اتھارٹی بنائی گئی ہے بالکل اسی طرح کرکٹ کے قواعد و ضوابط بنانے کے لیے ICC نامی ایک اتھارٹی قائم کی گئی ہے جو بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کی مختلف سیریز منعقد کرواتی ہے اور ساتھ ساتھ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کو سزائیں بھی سنائی ہے۔ ICC بنیادی طور پر 1909 میں imperial cricket conference کے نام سے معرضِ وجود میں آئی جو کہ 1965 میں international cricket conference بن گئ اور اب موجودہ دور میں یہ international cricket council کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بنیادی طور پر انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ نے ICC بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ دوسرے ممالک بھی جڑتے گئے اور اپنا اثرورسوخ بڑھاتے گئے جس میں چیدہ مثال انڈیا کی ہے۔ انڈیا، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز تینوں ممالک نے 1926 میں ICC کو جوائن کیا لیکن انڈیا ان تینوں میں سے ICC میں سبقت لے گیا۔ اس وقت ویسے تو ICC کے 12 مستقل ممبرز ہیں لیکن ان میں سے چند ایک ممبرز کی اس اتھارٹی پر اجارہ داری ہے جن میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور انڈیا سرفہرست ہیں۔ 

    اسی ICC کے شیڈول کے مطابق ستمبر 2021 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کی پاکستان کے ساتھ پاکستان میں ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز منعقد ہونا تھی۔ جس میں تین ون ڈے اور پانچ ٹی ٹونٹی میچز کھیلے جانے تھے۔ اس شیڈول کے مطابق نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان میں آئی دو، چار دن پریکٹس کی اور پاکستان نے اپنی فول پروف سکیورٹی مہیا کی جس سے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مطمئن تھے۔ لہزا پہلا میچ ہونے والا تھا، ٹکٹوں کی فرخت ہو چکی تھی، گراؤنڈ میں میڈیا کیمرے لگ چکے تھے اور میچ کی مکمل تیاریاں ہو چکی تھیں کہ اچانک نیوزی لینڈ کی ٹیم کو یہ کہہ کر وطن واپس بلا لیا گیا کہ یہاں سیکورٹی خطرات ہیں۔ پاکستان نے بارہا پوچھا کہ ہماری انٹیلیجنس کے پاس ایسی کوئی رپورٹ نہیں لہزا آپ بے فکر ہو کر کھیلیں لیکن انہوں نے اپنی رٹ لگائے رکھی اور عمران خان کے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو فون کرنے کے باوجود ٹیم واپس چلی گئی۔

    نیوزی لینڈ کی ٹیم تو واپس چلی گئی لیکن وہ یہاں کئ سوالات چھوڑ گئی۔ کیا جب یہاں ان کے پریکٹس میچز چل۔رہے تھے تب یہاں کوئی تھریٹ نہیں تھا؟ کیا جب یہاں پی ایس ایل میں فارن سے کھلاڑی آتے ہیں تب یہاں سب ٹھیک ہوتا ہے؟ اس سیریز کا عین اس وقت کینسل ہونا جب دو دن بعد IPL شروع ہونا ہو کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ شاید دنیا یہ بھول رہی ہے جب انہی ممالک کے فوجی جنہوں کی شہہ پر نیوزی لینڈ کی ٹیم واپس گئی افغانستان سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے تب ان کو سہارا اسی پاکستان نے ہی دیا تھا۔ تب یہ بھاگ بھاگ کر پاکستان آرہے تھے اور پاکستان کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا واپس جانا ایک نئی گیم کا حصہ ہے جو آج کل امریکہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا شروع کرنے جا رہا ہے۔ انڈیا اور اس کے حلیف جتنی مرضی بھونڈی کوششیں کر لیں وہ پاکستان کو ایک پر امن ملک بننے سے نہیں روک سکتے۔ یہ شاید یہ بھی بھول گئے ہیں کہ اسی انگلینڈ کے ایک ادارے نے پچھلے سال پاکستان کو ٹورازم میں بہترین ملک قرار دیا تھا۔ اب جتنا مرضی نیوزی لینڈ اپنی اس حرکت کو کور کرنے کی کوشش کرے یا پاکستان کو کسی دوسرے ملک میں سیریز کروانے کا کہے اس کی یہ دغابازی ICCکی تاریخ میں اس پر ایک بدنما داغ کی طرح اس کے ماتھے پر سجی رہے گی۔ 

  • ہم اہل کفار کے خوف سے اللہ سے جنگ کررہے ہیں تحریر: میاں عبدالمتین

    ہم اہل کفار کے خوف سے اللہ سے جنگ کررہے ہیں تحریر: میاں عبدالمتین

    اللہ تعالی نے سود کو صرف حرام ہی قرار نھیں دیا بلکے اللہ اور اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سود کھانے والوں کے لئے سخت ترین وعیدیں بھی بیان کی ہیں۔

    سود کیوجہ سے بظاہر تو مال و دولت میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اضافہ بے برکتی اور نقصان کا باعث بنتا ہے اور انسان کیلئے کسی ناگہانی آفت کا باعث بنتا ہے۔

    اللہ تعالی نے سود سے دور رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا!

    ( سود قرآن کی روشنی میں )
    آیت نمبر 1..اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اور جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نھیں ہوں گے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شحص جس کو شیطان خبطی بنا دے لپٹ کر (یعنی مدہوش سا)یہ سزا اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے

    ایت نمبر 2..اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں ۔۔
    ( سود احادیث کی روشنی میں )
    حدیث نمبر 1..حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کو ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار (یعنی بھاگنا) اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔”( بخاری)۔۔۔

    حدیث نمبر 2۔۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جس شب مجھے (معراج میں) سیر کرائی گئی، میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جس کے پیٹ کمروں کے مانند تھے، ان میں بہت سے سانپ پیٹوں کے باہر سے دکھائی دے رہے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہنے لگے کہ سود خور ہیں۔”( سنن ابن ماجہ)

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بنکاری بھی شریعت کے مطابق سودی نظام سے پاک ہوگی مگر ان کی رحلت کے بعد پاکستان کفار کے بنائے سودی نظام کی دلدل میں اس طرح دھنستا چلا گیا کہ آج ہم کفار کے پھیلائے جال کی وجہ سے 97 بلین ڈالرز کے مقروض ہوچکے ہیں ہم اس سودی نظام کو اس خوف سے نہیں چھوڑ رہے کہ عالم کفار ہم پر معاشی پابندیاں عائد کردے گا گویہ ہمیں کفار کا تو خوف ہے لیکن اللہ کا خوف نہیں ہے سودی نظام کو اپنا کر ہم نے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم فرقان حمید میں سود کھانے والوں سے اعلانِ جنگ کیا ہے ہم سود خور اللہ سے حالتِ جنگ میں نہیں ہیں؟ بیشک اللہ اس پوری کائنات کا خالق و مالک ہے وہی بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس سے کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا سود خور خسارے میں ہیں اللہ ہمارے حکمرانوں کو قرآن و حدیث کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام چلانے اور ہم عوام کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

    @MateenSpeaks

  • ڈیجیٹل میڈیا کےاستعمال سے اداروں کی کارکردگی میں حیرت انگیز بہتری   تحریر  وقاص امجد

    ڈیجیٹل میڈیا کےاستعمال سے اداروں کی کارکردگی میں حیرت انگیز بہتری تحریر وقاص امجد

    روایتی میڈیا  بتدریج قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے اور آہستہ آہستہ ڈیجیٹل میڈیا اسکی جگہ لے رہا ہے۔ جہاں آپ معلومات کے حصول کیساتھ ساتھ روزمرہ امور کو منظم انداز سے  پیش کرکے مزید بہتری کی  جانب بڑھتے ہیں۔ کسی بھی  عوامی تاثر  کو مثبت انداز سے پیش کرنے او ر مسائل کے حل  کیلئے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی ناگزیر ہے ۔

    یہی وجہ ہے کہ جوں جوں انفرادی طورپرڈیجیٹل میڈیاکارجحان بڑھا وہیں سرکاری ادارے بھی اسکے استعمال سے اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہترکرنے کیلئے سرگرم ہونا شروع ہوگئے۔اپنی بات ،اپنے کام اور پیغام کو صحیح طریقے سے عوام الناس تک پہنچانے کا یہ جدیدذریعہ اتنا سہل ثابت ہوا ہے کہ پنجاب کے کئی اداروں نے اپنےدیگر شعبہ جات کیساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرلیا۔

    آج سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے ہی ہم پنجاب کے  بلدیاتی اداروں کے کاموں کو  صرف کاغذوں پرہی نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے ناصرف دیکھ سکتے ہیں بلکہ انکے کام کے طریقہ کار کوبھی  سمجھ سکتے ہیں۔عصر حاضر کی اس سہولت سے  ہم اپنی کسی بھی قسم کی شکایت یا  رہنمائی کیلئے ان سے بغیر کسی رکاوٹ کے مدد مانگ سکتے ہیں۔ پنجاب بھرکے وزراء، کمشنرز ، ڈپٹی کمشنرز،اسسٹنٹ کمشنرز غرض تمام افسران اپنی کارکردگی کوبذریعہ ڈیجیٹل میڈیا عوام تک پہنچاتے ہیں ۔

    دیکھا جاسکتا ہے کہ اس جدت کو اپنانے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی پیش پیش رہی ہے۔ماضی قریب میں جتنے اچھے طریقے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کیا ،اسکی نظیر  نہیں ملتی ۔پہلے پہل اس ادارے کے قیام کا مقصد  لوگوں کو مضر صحت اشیاءکی خریدو فروخت سے روکنا تھا ،بعدازاں عوام الناس کی آگاہی کیلئے روایتی میڈیا کیساتھ ڈیجیٹل میڈیا کااستعمال شروع کیا گیا تو اسکے بھی  خاطر خواہ نتائج سامنے آنے لگے۔ لوگ یہ جاننے لگے  کہ کونسی چیز صحیح ہے اور کسی کی افادیت زیادہ ہے جبکہ کونسی چیز کھانے سے بیماریوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ایک سرکاری ادارے کے اس احسن قدم سے لوگوں کو وسیع پیمانے  پر آگاہی ملی اور وہ پہلے کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے کھانے پینے کی اشیا  ءکوخریدنے میں احتیاط برتنا شروع ہوگئے۔

    بدلتے وقت کے تقاضوں کیساتھ جہاں گلی محلوں کی صفائی ستھرائی کے  پرانے طریقہ کارکو  ختم کیا گیا وہیں پنجاب کی   ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز نےبذریعہ  ڈیجیٹل میڈیا پورے پنجاب میں اپنے کام کواس انداز سے لوگوں میں روشناس کروایا  کہ بھولی بھالی عوام کو بھی اس بات کا احساس ہوا کہ کئی کئی روز سے گلیوں  میں پڑا گند آس پاس کے ماحول کیساتھ ساتھ انکی اور انکے پیاروں کی صحت کیلئےبھی نقصان دہ ہے۔ اسی لیے اب ماضی کی طرح خط وکتاب کی بجائے  ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال سےکوڑا کرکٹ کی نشاندہی اور اسے فوری ٹھکانے لگانے کی حکمت عملی میں حیران کن تیزی سامنے آئی ہے ۔

    غرض عوامی خدمت کے لیے موجود تمام اداروں میں میڈیا ڈیجیٹلائزیشن کی ایسی فضا قائم ہورہی ہے کہ جس سے جہاں خلق خدا کو بے حدفائدہ ہورہا ہے وہیں حکومت کو بھی اپنی خدمات اور پیغامات  نچلی سطح تک براہ راست  پہنچانے کا بہترین موقع مل رہا ہے۔

    Twitter Id

    @waqas_amjaad