Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • انسانیت اور مسلمانیت   تحریر : امین 

    انسانیت اور مسلمانیت  تحریر : امین 

    خط جو میں نے لکھا انسانیت کے نام پر ڈاکیاں ہی مر گیا پتہ پوچھتے پوچھتے ۔

    ہروز سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا میں انسانیت سوزی کے ایسے ایسے واقعات اور شہ سرخیاں نظروں سے گزرتی ہیں کہ انسانیت شرمسار نظر آتی ہے ۔ 

    زاتی اناؤں،جھوٹی شخصیت کے تکبر میں گم ہم اپنے اصل اپنی پیدائش کے مقصد کو مکمل بھول چکے ہیں 

    کہ 

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 

    انسان انس سے ہے اور انس محبت ہے جس میں محبت ہی نہیں وہ انسان ہی نہیں 

    انگریزی کہاوت ہے کہ 

                                                 Do good Have good 

    اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ کسی کے ساتھ نیک عمل کریں تو وہ ہی  شخص ہی آپ کے ساتھ بھلائ کرے  نہیں ایسا نہیں ہے جس طرح آپ نے انسانیت کے ناطے کسی کی مدد کی بلکل اسی طرح کہیں کسی موڑ پہ کوئ اجنبی آپ کے معاملے بھی ایسے ہی انسانیت دکھائے گا اور  اسکا مطلب یہ بھی  ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ بھلائ کریں گے تو اللہ تعالی ہمارے ساتھ بھلائ کا معاملہ فرمائیں گے  

    ہم پہلے انسان ہے اور پھر مسلمان  اگر ایک شخص صرف مسلمان ہے اور اس میں انسانیت نہیں  تو یہ اسکے لۓ کافی نہیں وہ کامیاب نہیں ہے در حقیقت وہ مسلمان ہی نہیں ۔اسلام کو تمام مزاہب میں سے بہترین مزہب کا درجہ انسانیت کی بنیاد پہ ہی دیا گیا ہے 

    مذہب میں سے انسانیت اور خدمت نکال دی جاۓ تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کیلۓ پروردگار کے پاس فرشتوں کی کوئ کمی نہیں تھی   

    میرے پیاروں اگر ایک انسان پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے روزے رکھتا ہے حج ادا کرتا ہے اپنے چہرے پر داڑھی سجاتا ہے سفید کپڑے پہنتا ہے تہجد پڑھتا ہے دیگر نوافل ادا کرتا ہے حقوق اللہ تو پورا کرتا ہے لیکن 

    وہ انسان حقوق العباد میں کوتاہی کرتا ہے اس میں انسانیت نہیں ہے وہ حرام کھاتا ہے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے لوگوں کو تنگ کرتا ہے تو یقیناً یہ انسان خسارے میں ہے اسکی آخروی کامیابی ناکامی ہے 

     کیونکہ انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہی کہی پیدا ہوتی ہے  میرا مذہب انسانیت پسندی ہے جو کہ دنیا کے ہر مذہب کی بنیاد ہے۔

    دوسرے طرف ایک انسان جس میں انس ہے محبت ہے شفقت ہے ہم دردی ہے اخلاق ہے حرام نہیں کھاتا حقوق العباد تو پورا کرتا ہے لیکن یہ انسان محض انسانیت کی حد تک ہے روزے نہیں رکھتا نماز نہیں پڑھتا حلال کام نہیں کرتا حقوق اللہ پورا نہیں کرتا تو یہ انسان بھی خسارے میں ہے اسکی کامیابی ناممکن ہے

     طرف لاکھوں انسان بھی دیکھے اور لاکھوں مسلمان  بھی دیکھے لیکن ایسا بہت کم دیکھا جو انسان بھی ہو اور مسلمان بھی ہو ۔

    آج انسان چاند پر پہنچ گیا ،سمندر کی تہوں تک رسائ حاصل کر لی ،صدیوں کے سفر کو لمحوں میں سمیٹ لیا ،لیکن افسوس انسانیت تک نہ پہنچ پایا ۔وہ اونچائ یا  بلندی کس کام کی جس پر سوار ہو  کر انسان انسانیت کے میعار سے ہی گر جائے

    اے بادل اتنا برس کے نفرت ڈھل جائیں 

     انسانیت ترس گئ ہے محبت کے سیلاب کو  

    قربان جاؤں اس عظیم شخص اور عظیم انسان سے جسکی انسانیت اور مسلمانیت دیکھ کر غیر مذہب ایمان لے آتے  

    آپ میرے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ تو پڑھے آپکو ایک ہی شخصیت میں انسان بھی نظر آئیگا اور مسلمان بھی ۔اور کتنے بد نصیب ہیں ہم کہ ہم اس نبی کے امتی ہیں لیکن انسانیت کے الف سے بھی واقفیت نہیں رکھتے 

    یہاں  اگر مسلمان ہے تو انسان نہیں اور گر  انسان ہے۔جب کہ اسلام بار بار کہتا ہے کہ دین و دنیا کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی پورے کیے جائے یعنی ثابت ہوا کہ مزہب اور انسانیت لازم و ملزم ہیں ،

     آج ہمارہ مقصد صرف دوسروں پہ طنز و تنقید کرنا رہ گیا ہے ،دوسروں کے رویوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہم اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔ خدارا دوسروں پہ فتوے لگانے کی بجائے اپنے اعمال کو سدھاریے ،صحیح اور غلط کا فیصلہ رب تعالی پر  چھوڑ دیں 

    آپ انسان ہیں انسانیت پر زور دیں۔ 

     کسی کو دنیا اور آخرت میں خوشحالی، کا میابی و کامرانی چاہئے تو مزہب اور انسانیت  دونوں چیزیں خود میں پیدا کرے اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ اچھا انسان بھی بنے

     موجودہ دور کا سنگین المیہ ہے کہ سمجھانے والے نے سمجھا کر چھوڑا سمجھنے والے نے سمجھ کر چھوڑا 

    سنانے والے نے سنا کر چھوڑا سننے والے نے سن کر چھوڑا

     پڑھانے والے نے پڑھا کر چھوڑا پڑھنے والے نے پڑھ کر چھوڑا

    لکھنے والے نے لکھ کر چھوڑا ،عمل کرنے کے مقام تک کوئ نہیں آتا ۔بحیثیت مسلمان ،بحیثیت انسان ہمیں اس بات کو  سمجھنا ہے کہ کامیاب انسان بننے کیلیے 

    گفتار کے دور میں کردار کی ضرورت ہے ۔

    محض دلچسپی کے لۓ نہ پڑھے عمل کی کوشش ضرور کیجۓ گا۔

    Twitter Handle : @ameyynn

  • تقدیر تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس 

    @drislamilyas

     

    تقدیر کیا ہے ۔ جب انسان کو سید ھے اور غلط راستے پر چلنے کا اختیار دیا گیا ہے اوراس کے لیے

    جزا اور سزا کا نظام بنایا گیا ہے تو پھر یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو لکھ دیا

    جا تا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے اسی سوال سے اکثر لوگوں کے ذہن میں گردش کر تا ہے ۔اگر پیدائش سے پہلے

    ہی لکھا ہوا ہے تو انقیار کیسا اور حساب کتاب کیا۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ اگر ہر چیز لوح محفوظ میں

    درج ہے تو یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ شب قدر یا شب برأت والے دن فرشتوں کو اگلے سال کا شیڈول دیا جا تا

    ہے کہ اس سال یہ پیدا ہوگا ، ی مرے گا، یہ نیکی کے کام کرے گا، یہ برائی کے کام کرے گا، رزق کی تقسیم

    وغیرہ وغیرہ۔

    در اصل انسان کو اختیار دیا گیا ہے ۔ اور وہ آزاد ہے کہ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کرے یا

    نافرمانی کر کے سزا کا مستحق بنے ۔لیکن اللہ جونقل کل ہے یہ اس کا علم ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ انسان اپنے

    اختیار کو کیسے استعمال کرے گا۔ وہ یہ جانتا ہے کہ کون کس وقت کیا کام کرے گا۔ قیامت تک کے تمام

    حالات واقعات لوح محفوظ میں درج ہیں لیکن لوح محفوظ تک فرشتوں کی بھی رسائی نہیں ہے ۔ شب قد رکو

    آئندہ سال کا شیڈ ول فرشتوں کے حوالے کیا جا تا ہے ۔ اور انسان پورا سال اپنے اختیار سے اپنی زندگی

    گزارتا ہے ۔اورمنکر نکیرلحہ بلح تحریر کرتے ہیں اور وہ وہی اعمال ہوتے ہیں جو انہیں سال پہلے لکھ دیئے گئے

    تھے کہ کون ساشخص کب اور کیاعمل کرے گا۔ یہ اللہ کاعلم ہے جس تک مخلوق کی رسائی نہیں ۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان ہاتھ کی لکیروں ستاروں سے مستقبل کیسے جان لیتا ہے ۔ کیا

    اس میں بھی کوئی حقیقت ہے۔ جی ہاں یہ بیچ ہے اور یہ نظام بھی اللہ کا بنایا ہوا ہے ۔ اور اللہ نے انسان کو علم بھی

    دیا ہے لیکن اس میں کب تبد یلی کردی جائے گی اس کا اختیاراللہ کو ہے اور اےسی تبدیلیاں لوح محفوظ میں درج

    ہیں جس کا علم تلوق کونہیں دیا گیا۔ سورۃ لقمان آیت نمبر ۳۴ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے ” بیک اللہ کے پاس

    ہے قیامت کاعلم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اورکوئی جان نہیں جانتی کہ کل

    کیا کماۓ گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی ، بے شک اللہ جانے والا بتانے والا ہے ۔

    اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بھئی پیدائش سے پہلے پتا چل جا تا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ۔ در اصل اسکا

    معانی جنس نہیں اس کا مطلب ہے کہ جو ماں کے پیٹ میں ہے اچھا ہے یا برا ہے معاشرے میں کیسا رہے گا

    نقصان والا یا فائدہ دینے والا ۔ ہمارے پیارے نبیﷺ نے قسمت کا حال جانے سے منع فرمایا ہے اس

    لیے ہمیں مستقبل کے بارے میں جاننے کی کوئی ضرورت نہیں اور ہر وہ کام جس کے کرنے سے ہمارے نبی

    ﷺ نے منع فرمایا ہے اس کو کرنا گناہ ہے ۔ایک اور بات تقذ یرکو نہ ماننے والوں کے لیے ” قیامت کی

    نشانیان بیان کی گئی ہیں اگر انسان کے اعمال سے اللہ پہلے سے باخبرنہیں تو نشانیوں کا جواز ہی پیدانہیں

    ہوتا”۔ غزوہ احد میں ایک دن پہلے رسول ﷺ نے بتادیا تھا کہ فلان اس جگہ مارا جاۓ گا اور فلان اس جگہ

    اور وہی ہوا۔اگر تقدیر میں سب لکھا نہیں ہے تو یہ کسے ہوا مثالیں بے شمار ہیں مگر سمجھدار کے لیے یہ کافی ہیں

    اور نہ مانے والوں کو تو کوئی منانہیں سکتا 

    ڈاکٹر اسلام الیاس

  • ڈپریشن کی علامات اور علاج  تحریر :فرقان اسلم

    ڈپریشن کی علامات اور علاج تحریر :فرقان اسلم

    انسان کبھی خوش ہوتا ہے اور کبھی غمگین جس سے اس کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو کوئی پریشانی لاحق ہو تو اسے ڈپریشن کا نام دے دیا جاتا ہے اور فرضی یا معمولی سمجھ کر ٹال دیا جاتا ہے۔ ڈپریشن کی بیماری کے بارے میں ایک عام آدمی کے ذہن میں بہت سے ابہام اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جس سے ڈپریشن میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آیا اسے ڈپریشن ہے بھی یا نہیں۔ 

    ڈپریشن کے بارے میں سب سے سب سے پہلے ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈہریشن ایک بیماری ہے جیس طرح نزلہ، زکام، بلڈ پریشر، ذیابیطس، ٹی بی یا دیگر امراض۔ جن کے مریضوں کو دوا کے ساتھ ساتھ مناسب توجہ اور دیکھ بھال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح کوئی بھی انسان کئی طرح کی جسمانی بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے بالکل اسی طرح کوئی بھی انسان نفسیاتی بیماریوں کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی خاص حد مقرر ہے۔ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ آج کل چھوٹی عمر کے بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں۔ جس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً نا مساعد حالات، والدین کا مناسب پیار نہ ملنا اور احساس کمتری وغیرہ۔

    ڈپریشن کی بہت سی علامات ہوسکتی ہیں لیکن میں چند اہم علامات کا ذکر کروں گا جو کہ آج کل عام ہیں۔

    درج ذیل میں سے اگر کسی شخص میں کم ازکم چار علامات کی موجودگی ہو تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔

    1۔ عموماً ہر وقت یا اکثر اوقات برقرار رہنے والی اداسی اور افسردگی۔ 

    2۔ جن چیزوں اور کاموں میں پہلے دلچسپی محسوس ہوتی ہو ان میں دل نہ لگنا اور ان سے بیزاری محسوس ہونا۔

    3۔ جسمانی یا ذہنی طور پر کمزوری محسوس کرنا، ہر وقت اپنے آپ کو بہت زیادہ تھکا ہوا محسوس کرنا۔

    4۔ روز مرہ کے امور اور باتوں پر صحیح طرح سے توجہ نہ دے پانا۔

    5۔ اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر سمجھنا جس کے نتیجہ میں خود اعتمادی میں واضح کمی ہونا۔

    6۔ ماضی کی تمام چھوٹی بڑی بڑی باتوں کے لیے اپنے آپ کو موردِ الزام  ٹھہراتے رہنا، اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں ناکارہ اور فضول سمجھنا۔

    7۔ مستقبل کے بارے میں سوچ کر مایوس ہونا۔

    8۔ ذہن میں خودکشی کے خیالات آنا یا خودکشی کی کوشش کرنا۔

    9۔ نیند کی خرابی یعنی کہ نیند نہ آنا اور نیند سے اچانک جاگ جانے کی صورت میں دوبارہ نیند نہ آنا۔

    10۔ بھوک کی کمی اور کسی چیز کو کھانے کا دل نہ کرنا۔

    ان علامات کی موجودگی کی صورت میں کسی ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رابطہ کرنے میں بالکل بھی جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیئے۔ کیونکہ ڈپریشن کے دورانیے اور شدت کا انحصار انسان کی شخصیت اور قوتِ مدافعت پر بھی ہوتا ہے۔ بعض مریض محض سائیکوتھراپی سے ہی بہتری محسوس کرنے لگتے ہیں لیکن اگر حالت انتہائی ہو تو ایسے حالات میں سکون آور ادویات کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔ اس صورت میں مریض کی حوصلہ افزائی کرنا اس کے لیے بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔ 

    ان تمام حالات کو اچھی طرح سے کنٹرول کرنے کے لیے ایک "ٹائم ٹیبل” کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں سونے جاگنے، کھانے پینے اور ورزش کے اوقات مقرر ہونے چاہیئں خوراک کا خصوصی طور پر خیال رکھنا جائے۔ پھل سبزیاں اور صحت بخش کھانوں کو ترجیح دی جائے کیونکہ یہ جسم کی قوتِ مدافعت بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ شراب نوشی، سگریٹ نوشی، یا اس طرح کی دیگر چیزوں کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔ اپنے ذہن میں آنے والے منفی خیالات کو جگہ نہ دی جائے۔ ذہن کو مثبت چیزوں کی جانب گامزن کیا جائے۔ اگر کسی قسم کا کوئی نقصان ہو گیا تو اس پر صبر کا جائے اور برداشت سے کام لیا جائے۔

    سب سے پہلے انسان کی صحت ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کی پریشانی سے گریز کیا جائے۔ کسی کو مستقبل کی فکر ہوتی ہے اور کسی کو دولت کی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر انسان کی رزق دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تو جتنا ملے اس پر اکتفا کر لینا چاہیئے۔ کیونکہ اس سے ذہنی دباؤ میں کمی آئے گی۔ ان سب پریشانیوں میں انسان سکون کی نیند بھی نہیں سو سکتا۔ اس لیے ذہنی اور روحانی طور پر سکون کے لیے پانچ وقت کی نماز ادا کی جائے اور قرآن پاک کی تلاوت کی جائے۔ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ :

    "بلا شبہ اللّٰہ کے ذکر میں ہی دلوں کا سکون ہے”۔ 

    اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

    @RanaFurqan313

  • چراغ امید   تحریر: ثناءاللہ محسود

    چراغ امید  تحریر: ثناءاللہ محسود

    لفظ امید کہنے کو ایک بہت چھوٹا سا لفظ ہے۔ جو ہم کبھی خود کو دلاسا دینے کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ 

    مگر حقیقت میں زندگی کا انحصار امید پر ہی ہے۔ یہ زندگی جو دکھوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کی آماجگاہ ہے۔ جہاں قدم قدم پر کوئی نئی آزمائش، ناکامی ہماری منتظر ہوتی ہے۔

    ایسی صورتحال میں اگر ہم امید کا دامن نہ تھامیں تو زندگی ہمارے لئے مشکل ہو جائے گی۔ 

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لفظ انسان کی ساری زندگی کا خاصہ ہے ۔امید ہر دم انسان کے اندر ایک نیا جذبہ پھونکے رکھتی ہے کہ کل یہ ہو گا پرسوں یہ ہو گا۔ امید یہ ہے کہ انسان رات کو سوتا ہے تو کہتا ہے کل فلاں نے آنا ہے میں نے فلاں سے ملنے جانا ہے۔ امید یہ ہے جو ہر فرد کو ایک ایسے خواب میں رکھتی ہے۔  جو زندگی کی معمولی ٹھوکروں سے ٹوٹ جاتا ہے ۔

    امید ایک لاحاصل خواب ہے۔ جو حقیقت کی پردو پوشی کرتا ہے۔ اور زندگی کی تلخیوں کو میٹھا رکھتا ہے۔

    اگر کوئی بیمار ہے تو تندرستی کی امید ، غریب ہے تو دولت ملنے کی امید اور برے دنوں میں اچھے دنوں کی امید لگائے رکھتا ہے ۔

    مگر اکثر لوگ ذرا سی پریشانی آنے پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ اور مایوسی کی حالت میں  خود کشی جیسے حرام فعل کا ارتکاب بھی کر بیٹھتے ہیں۔ جس سے انسان کو کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس طرح وہ اپنی دنیا کہ ساتھ ساتھ آخرت بھی برباد کر لیتا ہے۔ اسی لئے تو احادیث مبارکہ میں مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ انسان سے اس کا اچھا گمان چھین کر مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ 

    اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا!

    "اور میری رحمت سے نا امید نہ ہونا”

    سورت الزمر 53

    اللہ تعالیٰ نے خود انسان کو فرما دیا کہ حالات جیسے بھی تلخ ہوں انسان کو اللہ کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے۔

    ہماری مایوسی کی بڑی وجہ دین سے دوری ہے۔ ہم لوگ اللہ پر توکل کرنے کی بجائے خود ہی  زندگی کے جھمیلوں کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ناکامی کی صورت میں ان مصائب سے گھبرا کر فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جو سراسر خسارے کا راستہ ہے۔

    اسی طرح آج کے مشکل وقت میں ہم مہنگائی اور بے روزگاری جیسے وسائل سے پریشان ہو کر غیر قانونی ذرائع سے روزی کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس حرام رزق سے اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بچے بھی والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے برائی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ 

    اس کے بجائے اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرتے جو رازق ہے ۔ تو ہمیں آسان اور حلال طریقے سے بھی رزق مل سکتا تھا۔ مگر ہم نے امید کا دامن چھوڑ کر مایوسی کو چنا۔ تو اس سے ہمیں کوئی فایدہ حاصل نہ ہوا۔

    اسی طرح جب ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں۔ اور اگر ہماری دعاؤں کی قبولیت میں تاخیر ہو جائے تو ہم اکثر مایوسی کا شکار ہو کر اللہ سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ 

    جبکہ اللہ تو کن فیکون کا مالک ہے۔ وہ جو چاہے ہو سکتا ہے۔ مگر ہم لوگ اچھا گمان رکھنے کی بجائے نا امید ہو جاتے ہیں۔ ہمیں مضبوط شخصیت بننے کے لئے اپنے اندر چراغ امید کو جلائے رکھنا ہو گا ۔ تا کہ زندگی سہل رہے۔

    @SanaullahMahsod

  • دنیا کرکٹ اور مغربی منافقت تحریر ناصر بٹ

    دنیا کرکٹ اور مغربی منافقت تحریر ناصر بٹ

    نیوزی لینڈ کی فوج سے زیادہ فورس ان کی ٹیم سیکورٹی پر لگائی، یہ الفاظ وفاقی وزیر داخلہ کے ہیں جو ان کی جانب سے گزشتہ روز دورہ نیوزی لینڈ منسوخ ہونے کے حوالے سے کہے گئے انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ تھریٹ الرٹ دینے والے تب کہاں تھے جب ماہرین کی ٹیم یہاں دورے پر تھی، وفاقی وزیر داخلہ نے اہم ترین باتیں کیں لیکن شیخ رشید کی یہ سیکورٹی کے حوالے سے کہی گئی پہلی لائن تمام میڈیا چینلز کے ڈائریکٹر نیوز صاحبان سمیت نیوز ایڈیٹرز کو بھی جیسے بھا سی گئی کہ تمام ہیڈلائنز اور اخباری سرخیوں پر یہ الفاظ ٹی وی چینلز اور اخبارات کی زینت بن گئے جس کے بعد ہونا کیا تھا وہی جو ہمارے یہاں سوشل میڈیا صارفین کیا کرتے ہیں، اخباری تراشے اور ٹی وی کے سکرین شاٹس کو جوں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا کہ ایک نئی بحث کا آغاز ہو ہی گیا، صارفین کی جانب سے وزیر داخلہ کے بیان کو کہیں بھارت کو دھمکانے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا تو کہیں نیوزی لینڈ کی اندرونی سیکورٹی پر سوالات اٹھانے کے لیے بہرحال اس ساری صورتحال میں قومی سطح پر ہوئے نقصان کا ازالہ ہونے کی بجائے اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور طے شدہ دورہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو بھی منسوخ کرنے کی خبریں گردش میں آگئیں، جبکہ آئندہ ماہ میں ہونے والی آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیریز بھی خطرے میں پڑ گئیں، نومنتخب چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ کی جانب سے اس پر سخت ردعمل دیا گیا کہا کہ پاکستان میں سیکورٹی معاملات پر مغربی دنیا اکٹھی ہوجاتی ہے 

    اب اس ساری صورتحال میں سیکھنے کی دو تین اہم باتوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا کہ کس طرح پاکستان کے خلاف مغربی دنیا کی منافقت کھل کر بے نقاب ہوئی اور منفی پراپیگنڈے میں سب ممالک ایک سے بڑھ کر ایک نظر آئے، اس کی چھوٹی سی جھلک اس بات میں دیکھ لیجیے کہ انگلینڈ نیوزی لینڈ کی ویمن کرکٹ ٹیمز کے مابین سیریز کا تیسرا ون ڈے شیڈول ہے لیکن نیوزی لینڈ کی ٹیم اسی ہوٹل میں موجود ہے جسے کچھ روز قبل بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی جس کے بعد بظاہر ٹریننگ تو منسوخ کر دی گئی تاہم انسداد دہشتگردی کی ایجنسیز کی جانب سے خطرناک تھریٹ دئیے جانے کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت ٹس سے مس نہیں ہوئی جس سے مغربی ممالک کی آپس اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں امتیازی روئیے کی پول کھل کر سامنے آگئی اس ساری صورتحال میں دوسری جنگ عظیم کے دوران تشکیل دی گئی پانچوں ممالک جس میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا شامل ہیں کی مشترکہ خفیہ ایجنسی فائیو آئیز کے ذریعے پاکستان کے Absolutely NOT کو ہاں میں بدلنے کی ناکام کوشش کے بعد اس پراپیگنڈے کا آغاز کیا گیا جس کے بعد پہلے نیوزی لینڈ اور بعد میں انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان میں کھیلنے سے منع کیا گیا 

     دوسری جانب اس ساری صورتحال میں ویسٹ انڈیز سمیت کئی اہم ممالک کے کرکٹرز کی جانب سے جس طرح کھل کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت اور محفوظ پاکستان کے حق میں کھل کر بات کی گئی وہ قابل ستائش ہے ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے تو اس حد تک لکھ دیا کہ بھیڑ کی کھال میں چھپے بھیڑیوں سے ہوشیار رہو، یقیناً ان کا اشارہ مغربی دوغلے پن کی طرف تھا

    لیکن بحرانی کیفیت میں موقعوں کی تلاش کرنے والی قوم ہی دنیا میں ترقی کی راہ پر چل سکتی ہیں اور یہ ہی کیا پاکستان نے کہ شائقین کے ٹوٹے دل اور قومی سطح پر پست ہونے والے حوصلوں کو دوبارہ بلند کرنے کے لیے نیشنل ٹی ٹونٹی میچ کا اعلان کر دیا جس کا باقاعدہ میلہ 23 ستمبر سے سجے گا جبکہ 12 اکتوبر تک کھیلا جائے گا

  • پاکستان اور سیاحت تحریر: تعمیر حسین

    پاکستان اور سیاحت تحریر: تعمیر حسین

    سیاحت کسی بھی ملک کا مثبت پہلو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ھے۔  تمام ممالک کی یہ کوشش ھوتی ھے کہ زیادہ سے زیادہ سیاح ان کے ملک جائیں۔ جس سے نہ صرف اس ملک کا اچھا امیج پیدا ھوتا ھے بلکہ معیشت کو بھی سہارا ملتا ھے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ھوتے ھیں۔ کیونکہ سیاح جس علاقے میں بھی جائیں وھاں کی روایتی اشیاء کو خریدتے ھیں اور اپنے دوستوں اور فیملی کے لیے تحائف کے طور پر لے کر جاتے ھیں ۔

    بعض ممالک کی معیشت کا تو انحصار ہی سیاحت پر ھے۔

     

    پاکستان بھی سیاحت کے شعبے میں دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور پاکستان کے شمالی علاقوں کی مہم جُو سیاحت،ثقافتی ورثہ اور آثار قدیمہ کے نوادرات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ شمالی علاقہ جات نہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بے حد مشہور ھیں۔ شمالی علاقہ جات ، کشمیر کے بلند پہاڑ، گلگت کی برف پوش پہاڑی چوٹیاں اور وادی کیلاش یہ صرف چند مشہور تفریحی مقامات کے نام ھیں۔ الحمدللہ پاکستان کا چپہ چپہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ھے۔

    پاکستان ان ممالک میں سے ایک ھے جہاں چاروں موسم پاے جاتے ہیں۔

    پاکستان کے شہری علاقے سیاحوں کے لئے توجہ کا ساماں رکھتے ہیں جبکہ ملک کے دیہی علاقے آرٹ،دستکاری اور دلکش ثقافت کا شاندار نمونہ ہیں۔

    دیہات اب بھی ثقافت کے مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ھوے ھیں۔

     آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں آپ کو چھولیں بلکہ آپ سے لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟

    یہ ناممکن نہیں بلکہ حقیقت ھے،  اگر آپ پاکستان کے پہاڑی مقامات کی سیر کے لیے جائیں تو ایسا تجربہ آپ کو  اچانک ہوسکتا ہے۔

    سمجھ نہیں آتا کہ کن الفاظ میں اس احساس کو بیان کریں، مگر ہمارے وطن کے رنگ ایسے ہی سدا بہار ہیں جو دل کو جیت لیتے ہیں۔ 

    گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ خزاں کا ذکر بھی زیادہ تر ہوتا ہے کیونکہ اس موسم میں اس وادی کے رنگ دیکھنے والے ہوتے ہیں یعنی نارنجی، زرد، سرخ اور دیگر رنگ ہر جگہ پھیلے ہوتے ہیں۔

    وادی سوات اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش چوٹیوں، ان گِنت جھرنوں ، چراگاہوں، نہروں اور ندیوں، قدرتی پارکوں، جھیلوں اور گھنے و تاریک جنگلوں کی وجہ سے مشہور ہے.

    بلوچستان کے ریگستانوں سے لے کر پنجاب کے سرسبز میدانوں تک پاکستان بے شمار سیاحتی مقامات رکھتا ھے 

    لاھور شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان جیسے تاریخی مقامات رکھتا ھے تو سر زمین ملتان اولیاء اللہ کی سر زمین مشہور ھے اور وھاں جلیل القدر اولیا کے مزارات ھیں جن میں بہاوالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی شامل ھے۔

     لاھور کی فوڈ سٹریٹ کی تو شان ہی نرالی ھے۔ وھاں کے چٹ پٹے مزیدار روایتی پکوان لاھور کی پہچان ھیں۔  سیاحوں کے لیے خصوصی انتظامات موجود ھیں۔

     آپ روایتی ٹانگہ پر پرانہ لاھور بھی گھوم سکتے ھیں۔ اندرون لاھور اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ھوے ھے۔ 

    مری ، اسلام آباد، کلر کہار، چکوال، خوشاب ، چترال، وادی کیلاش، سوات ، وزیرستان غرض کون کون سی جگہ کا نام لوں جو تاریخی اور سیاحتی مقامات نہ رکھتی ھو ؟  ہر شہر ، ہر علاقہ انفرادیت کا حامل ھے اور اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ھے۔  

     یہاں ضرورت اس بات کی ھے کہ حکومت پاکستان ان سیاحتی مراکز کو سہولیات فراہم کرے اور انٹرنیشنلی طور پر اس کو پروموٹ کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ سیاح پاکستان کا رخ کریں ۔ اس سلسلے میں حکومت نے کے پی کے کے علاقوں میں خاصہ کام کیا ھے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ھے۔

    اوورسیز پاکستانیوں کو چاھیے کہ جس ملک بھی جائیں پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کریں۔ وھاں پاکستان کے سیاحتی مقامات کے متعلق آگاہی پھیلائیں تا کہ وھاں کہ لوگوں میں پاکستان کے متعلق تجسس ھو اور پاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری عروج کی بلندیوں کو چھوئے۔

    جس طرح اس سال لاکھوں کی تعداد میں مقامی سیاح عید کے موقع پر سیاحتی مقامات کی طرف امڈے ھمیں  امید ھے کہ مستقبل قریب میں پاکستان غیر ملکی سیاحوں کا بھی مرکز ھو گا۔ 

    پاکستان پائندہ باد

    Official Twitter Account @J_Tameer  

  • سعودیہ واپسی کے منتظر پاکستانی پریشانی کا شکار تحریر ہارون خان جدون

    سعودی عرب کی جانب سے کرونا کی وجہ سے ڈائریکٹ فلائٹس پر کہیں ماہ سے پابندی
    کی وجہ اپنے ملک آئے ہوے پاکستانی مزدور ورکر بیچارے ذلیل و خوار ہو گئے ہیں
    ابھی یہ سلسلہ جاری ہے جو بھی دو ماہ کے لیے گھر آیا تھا ہو دس دس ماہ سے گھر
    بیٹھا ہوا ہے اب ہو بیچارہ کھائے گا کہاں سے؟ حکومت کو چاہیے سعودی عرب سے بات
    کرکے کچھ حل نکالے

    ‏‎‎یورپ،امریکہ اور کنیڈا میں رہنے والے اورسیز جو وہاں مستقل رہنا چاہتے ہیں
    اور پاکستان آنے کا امکان بھی نہیں اور نہ اپنے رقم کا دس فیصد بھی پاکستان
    بھیجنا چاہتا ہے ان کیلئے سہولیات تلاش کیجاتی ہے لیکن جو مشرق وسطی ممالک میں
    مقیم ہے اور جسمانی محنت مزدوری سے ہر سال ریکارڈ پیسہ ‏‎‎بھیجتے ہیں،جو اپنے
    پیٹ کاٹ کر بچوں اور ملک کیخاطر یہاں یا پاکستان جاکر اب واپس آنے میں مشکلات
    سہہ رہے ہیں ان کیلئے کوئ آواز اٹھانے والا نہیں۔۔۔

    بنگلہ دیش جیسے ملک سے فلائٹس اوپن ہے لیکن ہمارے لوگ کرغزستان کے راستے آرہے,
    ‏‎‎بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن، ازبکستان، تاجکستان اور بہت سارے ملکوں کی فلائٹ
    ہے۔
    لیکن پاکستان کو اپنا بھائ مان کر بھی فلائٹ کا اجازت نہیں دیتا۔
    حکومت کو اس پر عملی اقدام اٹھانا چاہیئے ۔اور ان بیچاروں مزدوروں کی مدد کرنا
    چاہیئے
    اس وقت سودیہ میں سابق Dg رینجر جنرل R ‏‎بلال اکبر صاحب وہاں سفیر تعینات ہیں
    انکو چاہیے کے وہ سودیہ سے آے ہوے ان ملازمت پیشہ لوگوں کے اس issue کو جلد از
    جلد حل کروائیں کیوں کہ پاکستانی سفارتخانہ پہلے کا بہت ٹھنڈا ہے سعودیہ میں
    انکی کوئی نہیں سنتا ہے بنگلہ دیش کرونا کے پیک میں بھی اوپن رہا اور اب بھی
    نارمل فلائٹس ہیں پاکستان بنگلہ دیش سے بھی پیچھے ہے سعودیہ میں اور حکومت وقت
    کی سفارت کاری بھی نا ہونے کے برابر ہے حکومت کو چاہیے کے وہ اس مسلے کو
    سنجیدگی سے حل کروائیں کیوں کے لاکھوں مزدور وہاں کام کر کے اپنی family کو
    سپورٹ کرتے ہیں اور انکا گھر چلتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اکانومی کو
    بھی بہت فائدہ ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے کھانے پینے کی ہر ایشاء
    غریب کی پنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے بجلی گیس بھی مہنگی ہے اوپر سے کرونا کے اس
    وائرس نے پوری دنیا خاص کر کے غریب ممالک میں رہنے والے مزدور طبقے پر بڑا اثر
    ڈالا ہے انکی کمر ٹوٹ چکی ہے
    جو لوگ پردیس میں کام کرتے ہیں انکی پوری family ان پر dependent ہوتی ہے وہی
    پورے خاندان کا سرکل چلاتے ہیں
    لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سوچنا چاہیے اور ‏‎جب تک پاکستانیوں کی
    جعلی، ویکسین سرٹیفیکیٹ والی 2 نمبریاں نہیں رکیں گی سارے پاکستانی اسی طرح
    ذلیل ہوتے رہیں گے مختلف ممالک میں۔ کڑوا سچ ہے

    اس کے ساتھ جو لوگ گلف سے آے ہوے ہیں وہ وہاں کے قانون کی پاسداری کریں اور
    کرونا vaccine کی دو  ڈوز مکمل لگواہیں تاکہ انکے لئے واپسی کا سفر آسان ہو
    سکے کیوں کے دھوکے اور دو نمبری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس سے مزید پریشانی
    بنتی ہے پاکستانیوں کو چاہیے کے وہ legal پراسس مکمل کریں اور اسکے ساتھ ساتھ
    حکومت وقت وزیرخارجہ اور وہاں پر موجود پاکستانی سفیر کو پاکستانیوں کی اس
    پریشانی کو سمجھنا چاہیے اور جلد از جلد اس issue کو حل کروانا چاہیے تاکہ
    مزدور اپنے اپنے روزگار پر واپس جا کر اپنا کام سٹارٹ کر سکیں اور اپنی زندگی
    کو معمول پر لا سکیں.

    @ItzJadoon

  • حکومت کا ٹارگٹ غریب یا غربت  تحریر:   حافظ طلحہ ابوبکر

    حکومت کا ٹارگٹ غریب یا غربت تحریر:  حافظ طلحہ ابوبکر

    جب سے ہوش سنمبھالا ہے یہی سنتے آئے ہیں 

    مہنگائی نے جینا حرام کردیا 

    ہر نئی حکومت سے نئی اُمیدیں وابستہ کی جاتی ہیں 

    لیکن آنے والے حکمران عام آدمی تک انصاف اور عوامی سہولیات کا محض نعرہ ہی لگاتے ہیں عمل نہیں کیا جاتا پھر بھی غربت اور مہنگائی میں پسی ہوئی عوام کسی ایک کو منتخب کرتے ہیں کہ شاید ان کی مشکلات میں آسانی ہو مگر ایسا ہوا کبھی نہیں

    گزشتہ 32 سالوں کے دوران سیاستدانوں نے 

    کبھی روٹی کپڑا مکان اور کبھی ووٹ کو عزت دو کے کھوکھلے نعروں سے عوام کو بیوقوف ہی بنایا لیکن جس طرح سے موجودہ حکومت نے اپنے نعروں سے لے کر اقتدار میں آنے تک کے دوران عوامی مسائل کو حل کرنے کی امید جگائی اور وعدے کیے تھے تو محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید پاکستان کی غریب عوام کی قسمت بدل جائے گی حالات و نظام کے ستائے ہوئے لوگوں کو کچھ تو ریلیف ملے گا انصاف کی فراہمی ممکن ہو گی لیکن ایسا ابھی تک کچھ نہیں ہوا بلکہ موجودہ حکومت نے غربت ختم کرنے بجائے غریب کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ناں غریب رہے گا اور ناں ملکی ترقی میں مشکل در پیش ہو گی

    لیکن سوال یہ ہے کہ اگر غریب کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی مؤثر حکمتِ عملی نہیں تو غریب کے ووٹ کی خاطر یہی حکمران اس کی دہلیز تک کیوں جاتے ہیں 

    کسی غریب کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ملکی معیشت کہاں پر جا رہی ہے اور ڈالر کا عالمی منڈی میں کیا اتار چڑھاؤ ہے اسے فکر ہے تو گھر کا چولہا کیسے جلے گا 

    مہنگائی اور غربت نے عوام کا جینا محال کر دیا

    پٹرول کی قیمتوں میں آۓروز اضافہ’ آٹے اور چینی اور گھی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر ہی رہیں اسکے ساتھ ساتھ سبزی اور دالیں بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئیں ایسے حالات میں تو یوں لگتا کہ جیسے غریب کو جینے کا کوئی حق ہی نہیں ہے 

    ہر گزرتے دن کے ساتھ روپے کی قدر میں کمی اور بجلی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی فکر معاش کے ساتھ یہ اضافی بوجھ لادھ کر حکومت کو لگتا ہے کہ ہر ایک خوشحال زندگی بسر کر رہا تو ایسا ہر گز نہیں ہے 

    غربت کی وجہ سے چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا غربت کے ہاتھوں مجبور بے روزگار نوجوانوں کا ہجوم کسی طرح شارٹ کٹ سے زندگی آسان کرنے کے لئے دوسروں کی زندگیوں کو عذاب بنا رہے ہیں اور ہمارے وزراء اور مشیر اعلٰی سب اچھا ہے کی گردان لیے بیٹھے ہیں انکو اندازا ہی نہیں ملک میں غربت کے باعث خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہونے والی ہے آخر کب تک لوگ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے عوام کو ریلیف کی ضرورت ہے 

    اور یہی بات آج سب سے اہم اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے غریب جب اٹھے گا تو اسکو روکنا نا ممکن ہو گا حکومت کو اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ عام عوام بھی سمجھ گئی ہے اپنے حق کے لئے سڑکوں پر نکلنا پڑے گا تو وہ نکلیں گے 

    اس دیس کے ہراک لیڈ ر پرسوال اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کے ہراک حاکم کوسولی پہ چڑ ھانا واجب ہے

    ‏حکومت اور اپوزیشن کے ہمیشہ کی طرح اختلافات نے عوام کو پاگل بنایا ہوا ہے عوام مہنگائی سے پس رہی چاہے 2 سال بعد کوئی بھی جیتے عوام کو اس سے کیا، عوام کو نا اپوزیشن نے ریلیف دیا نا حکومت نے۔ عوام کا اصل مسلہ الیکشن نہیں مہنگائی ہے جس نے اس وقت کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حکومت کے تین سال گزر جانے کے باوجود عوام کو کوئی خاص ریلیف نا مل سکا۔ اب حکومت کو چاہیے کہ سابقہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کو صرف اجاگر کر کے اپنی سیاست چمکانے کی بجائے ان غلطیوں کو سدھارنے کی اور اصلاحات کی کوشش کرے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔

    الفت بدل گئی، کبھی نیت بدل گئی

    خود غرض جب ہوۓ تو پھر سیرت بدل گئی

    اپنا قصور دوسروں کے سر پر ڈال کر

    کچھ لوگ سوچتے ہیں حقیقت بدل گئی۔

    ‎@talha_abubakar4 

  • آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اور اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم حضرت محمد ﷺ کے امتی ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے ہم امتی ہونے کا حق ادا کرنا بھول گئے، ہم اپنی زندگیوں کو آپ کے بتائے ہوئے احکامات پر چلانے کی بجائے ایسے کاموں میں ملوث ہو گئے جس کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔

    افسوس کہ آج مسلمان مذہب سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے حیائی، جھوٹ، چغل خوری، مکر و فریب، غرور و تکبر سرایت کرگئے ہیں۔

     اگر ایک نگاہ مسلمانوں کے موجودہ احوال پر ڈالی جائے، برما ہو یا شام، فلسطین ہو یا افغانستان، افریقہ یا امریکہ، عراق ہو یا یمن، ہر ملک اور دنیا کے ہر خطہ میں مسلم قوم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ تمام اقوام عالم نے یک زبان ہو کر دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑدیا ہے، مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

    قرآن کریم میں اللہ تعالی مسلمانوں کے حوالے سے ارشاد فرماتا ہے: ” تم بہترین امت ہو "یعنی دنیا کی سب سے اچھی امت ہو ؛حالانکہ سب سے اچھی امت اسے کہتے جسے دنیا میں عز ت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے، دوسری اقوام جسے اپنے لیے نمونہ بنائیں، اس کی تہذیب کو اپنایا جائے نیز وہ ایسی امت ہو کہ خوش حالی کی زندگی گزارے، تمام طرح کی دنیاوی پریشانیوں سے مامون ومحفوظ ہو۔ ان میں سے کوئی چیز بظاہر امت مسلمہ میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

    وہ کون سے اسباب ہیں جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی یہ حالت ہے، ہمیں جلد ہی ان عوامل کو تلاش کرنا ہو گا کہیں دیر نا ہو جائے۔ ان دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کہیں کسی دن موت کا بلاوا نہ آ جائے۔ بحیثیت مسلمان اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہمیں ہر وقت اپنی آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیئے اور آخرت کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیے۔

    مسلمانوں کی موجودہ پریشان حالی کے اسباب یہ ہیں کہ وہ لاشعوری اور غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ انھیں اس ذمہ داری کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے کہ وہ اس دنیا میں بسنے والے تمام افراد کے نفع و نقصان کی فکرکریں، مگر وہ اپنی ذاتی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگئے ہیں کہ اپنی اس عظیم ذمہ داری کو بھول بیٹھے ہیں۔

    دوسرا سبب یہ ہے کہ مسلمان تعلیمی اور فنی میدان میں بہت پیچھے رہ گئے اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی کسی بھی میدان میں صحیح راہنمائی کرنا محض خواب وخیال ہے۔

    تیسرا سبب یہ ہے کہ دین سے ان کا رشتہ بہت کمزرو پڑچکا ہے، چنانچہ دینی تعلیمات ، اسلامی طرز زندگی اور اسلامی اخلاق ان کی زندگی سے ختم ہورہے ہیں۔

    چوتھا سبب یہ ہے کہ امت اللہ کی طرف رجوع کرنا بھول گئی ہے، جس کا بہترین راستہ نماز ہے، 

    نماز ہر طرح کی پریشانیوں، تکلیفوں، غموں، مصیبتوں، الجھنوں، بیماریوں اور حزن و ملال کے بادل چھانٹ دیتی ہے۔ جب کبھی حضور ﷺ کو کوئی اہم مسئلہ پیش ہوتا تو آپ اپنے رب کی بارگاہ میں نماز کی حالت میں رجوع کرتے، نماز کی ادا سے اپنے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے اور نماز سے ہی اپنے تمام معاملات کو بہتر کرتے۔ کائنات میں صرف ایک ذات اللہ عزوجل کی ہے جو دل کو جمانے اور ڈھارس بندھانے والی ہے۔

     ہم لوگ آج ہر طرف سے نفسیاتی،جسمانی،دماغی، معاشرتی، پریشانیوں، الجھنوں میں پھنسے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے اور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ سے صبر و سکون حاصل کرنے کے بجائے ہم مادی وسائل کا انتخاب کرتے ہیں، جب کہ سکون، اطمینان حاصل کرنے اور ان  تمام بیماریوں کے علاج کا ایک ہی ذریعہ، ایک ہی مداوا اور حل ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے خالق و مالک کے سامنے نماز کی حالت میں جھک جائے۔

    لہٰذا مسلمانوں کو ان چاروں اسباب میں غور کرنا چاہیے اور ان چاروں کی طرف سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے،ان انشاءاللہ کامیابی و کامرانی ان کا مقدر ہوگی اور زمین کی سربراہی اور دیگر اقوام کی قیادت و سیادت انھیں حاصل ہوگی، وہ ایک قائد امت بن کر دوبارہ ابھر سکیں گے اور پوری دنیا انھیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے گی،  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

     آیت 139: وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا:  ”اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھاؤ’ 

    وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ:  ”اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔”

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    –  

                                             Written by : Asghar Ali 

    حصہ دوئم:-                                                          انقرہ شہر کا محاصرہ ہو چکا تھا صرف یہی نہیں اس کے بعد امیر تیمور کی فوج نے سلطان بایزید اول کے واپسی کے راستے پر تمام فصلیں اور گودام جلا ڈالے اب سلطان بایزید اول کے لیے واپس انقرہ جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اور واپس اسی راستے سے جانا تھا جس راستے پر امیر تیمور کی فوج  نے سب کچھ جلا دیا تھا اب نہ کچھ کھانے کو تھا اور نہ ہی کچھ پینے کو اور تیموری لشکر ایک ایسی جگہ پر  تھا جہاں پر گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا اس جگہ پر امیر تیمور کو تین فائدے تھے نمبر ایک گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا نمبر 2 امیر تیمور کی فوج سلطان بایزید اول سے 60 ہزار سے زیادہ تھی جبکہ اس فوج میں ہندوستان سے لائے گئے ہاتھی بھی شامل تھے نمبر تین  امیر تیمور کی فوج کو آرام کرنے کا موقع مل گیا تھا اس کے مقابلے میں سلطان بایزید اول کی فوج کو دیکھیں اس مقام پر اس کو تین بڑے نقصان تھے ایک اس کی فوج منظم بھی نہیں تھی ایک لمبے سفر سے بھوک اور پیاس کا مقابلہ کر رہی تھی دوسرا یہ یہ کہ لمبے سفر کے باعث بھوک اور پیاس سے بیس ہزار سپائی راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے تیسرا بڑا نقصان فوج کی تنظیم میں چھپا تھا وہ یہ کہ اس میں تین طرح کے لوگ تھے یعنی وہ فوج ایک منظم اور اکٹھی فوج نہیں تھی اس میں میں سب سے پہلے جینیسیریز تھے جو کہ وہ سلطان بایزید اول کے بھروسے کے لوگ تھے اس کے بعد وہ ترک اور تاتاری سپاہی تھے جن کو پیسے دے کر فوج میں شامل کیا گیا تھا اور وہ کسی بھی لالچ کے تحت کسی بھی ٹائم ترک فوج کو چھوڑ سکتے تھے تیسرے وہ یورپی دستے جو سلطنت عثمانیہ کی وفاداری کے تحت اس کے ساتھ شامل تھے اب ڈیڑھ لاکھ تیموری فوج 70 ہزار  عثمانی فوج کے سامنے کھڑی تھی یہ بات دونوں سلطان بایزید اول امیر تیمور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ ایک بہت بڑی جنگ ہونے جا رہی ہے کیونکہ اس وقت پوری روئے زمین پر ان دونوں سے بڑی اور خطرناک سلطنتیں اور کہیں نہیں تھی دونوں سلطان جو کل تک ایک دوسرے کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے تھے آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں اب جنگ باضابطہ طور پر شروع ہو چکی تھی پہلا حملہ امیر تیمور کی جانب سے ہوا مگر اس کو ترک فوج نے پسپا کردیا جیسے جیسے جنگ آگے بڑھتی گئی امیر تیمور کا لشکر عثمانی سلطان کے لشکر پر حاوی ہوتا چلا گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ امیر تیمور کی فوج سلطان سلطان بایزید ثانی کی فوج کو شکست دینے لگی اب سلطان بایزید اول کے پاس چند ہی وفادار سپاہی بچے تھے جن کو جینسیریز کہتے تھے تیموری فوج طاقت کے ساتھ ساتھ تیرے برساتی رہیں لیکن کب تک جینسیریز ان کا مقابلہ کرتے جب سلطان نے دیکھا کہ امیر تیمور کی فوج حاوی ہونے لگی ہے تو وہ میدان جنگ سے فرار ہو گیا یہاں پر پر اب امیر تیمور کی تیموری فوج جیت چکی تھی مگر سلطان بایزید اول ان کی حراست میں نہیں تھا اور ان کے سامنے سے زندہ فرار ہو چکا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ہوا ایک ایک تیموری گھڑسوار نے بھاگتے ہوئے سلطان بایزید اول کے اوپر تیر برسایا جس کا گھوڑا زخمی ہو گیا اور سلطان زمین پر گر گیا اور امیر تیمور کا قیدی بن گیا یہ سلطنت عثمانیہ کے لیے بدترین شکست تھی اس سے بدترین شکست عثمانیوں کو آج تک نہیں ہوئی تھی اب سلطنت عثمانیہ کا سلطان امیر تیمور کا قیدی تھا اور اس کے تین بیٹے بھی امید تیمور کی تلواروں کے نیچے تھے لیکن امیر تیمور نے اس کے بیٹوں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ تیمور کی اطاعت قبول کرتے رہیں گے سلطان بایزید اول یورپ کا بہت بڑا فاتح تھا اور وہ یہ اذیت برداشت نہ کر سکا اور چند ماہ بعد دوران قید ہی مر گیا اس کے کچھ ہی ماہ بعد1405 میں امیر تیمور بھی مر گیا اس کے بعد تیموری سلطنت کافی حصوں میں ٹوٹ کے بکھر گئی جب کہ سلطنت عثمانیہ بھی سلطان بایزید اول کے تینوں بیٹوں میں بٹ چکی تھی  بھائی بھائی کے خون کا پیاسا تھا اور پوری سلطنت خانہ جنگی میں چلی گئی لیکن اس خانہ جنگی میں سلطنت عثمانیہ بکھری ضرور مگر ٹوٹی نہیں اس کی وجہ  تھی کہ یورپ میں کوئی بھی ایسی طاقت نہیں تھی جو سلطان بایزید کی حکومت ختم ہونے کے بعد یورپ سے ترکوں کو نکالنے کی کوشش کرتی یا اناطولیہ پر قبضہ کرتی اور دوسرا یہ کہ امیر تیمور اور اس کے ساتھی بھی اناطولیہ میں ٹھہر کر  عثمانی سلطنت پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے ترک سلطنت کو تیمور اور اس کے جانشینوں نے بھی کنٹرول میں نہیں لیا تو بہرحال بایزید کے چار بیٹے محمد اول عثمان عیسی اور موسی کے درمیان اگلے 11 سال تک خونریز جنگ ہوتی رہی اس میں عثمان عیسی  مارے گئے اور موسی فرار ہوگیا اور محمد اول بچ گیا اس طرح سلطنت عثمانیہ کو ایک نیا سلطان محمد اول مل گیا تھا اور سلطنت عثمانیہ ایک دفعہ پھر دنیا کے نقشے میں چودہ سو چودہ میں نمودار ہوگی سلطان محمد اول نے ایک تاریخی کام کیا کہ اس نے ترکوں کی تاریخ لکھوانا شروع کر دی آج ہم ترکوں کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ سلطان محمد اول کی مرہون منت ہے

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI