Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اعمال کا دارومدار نیتوں پر   تحریر: تیمور خان

    اعمال کا دارومدار نیتوں پر تحریر: تیمور خان

    تمام اعمال اور تمام عبادات بلکہ مسلمانوں کے تمام معاملات میں نیت اور اخلاص کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے، اور وہ اہم چیز قران کریم اور احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے، جو  ایک مسلمان کے اخلاص کے ساتھ نیت اور ارادہ ہے، مسلمان کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جب بھی کوئی کام کیا کرے گا، چاہیے وہ کام خالص عبادات میں سے ہو یا دنیاوی اغراض اور مقاصد کے لئے ہو، جس مقصد کے لئے جو کام کیا جائے اس میں مسلمان اپنی نیت کو خالص رکھے اگر وہ اپنی نیت کو خالص رکھے گا تو اس نیت کے اخلاص کی وجہ سے اس مسلمان کو دنیاوی اور اخروی بہت سارے ثمرات اور فوائد حاصل ہونگے، سرکارِ دوعالم ﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورت انعام میں یہی ارشاد فرمایا٫٫ اے میرے حبیب  ﷺ آپ فرما دیجئے میری نماز اور میری قربانی اور میری ساری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور آپ فرما دیجئے کہ مجھے اسی طرح اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے نیت کو خالص رکھوں یہاں تک کہ میری موت اور زندگی خالص اللہ کہ لئے ہو، اور میں سب سے پہلے اللہ کی اطاعت کرنے والا ہوں، قرآن کریم فرقان حمید میں بہت جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ یوں کہیے یا آپ یوں مجھ سے دعا منگیئے، کی اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما، تو جس چیز کا حکم اللہ اپنے نبی کو دے اور مطالبہ یہ ہو کہ تم اللہ سے یہ چیز مانگو تو وہ چیز نہایت ہی اہمیت کہ حامل ہوتی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ احلاص نیت جب انسان ایک کام کرتا ہے اپنی زندگی اللہ کے لئے گزراتا ہے اپنے معاملات اللہ کے لئے وہ سر انجام دیتا ہے یہاں تک اس کی موت بھی اللہ کے لئے ہوتی ہے تو یہ اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو اس چیز کا ارشاد فرمایا،

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے بھی اپنے احادیثِ طیبہ میں اس چیز کو بنیاد فرما کر ارشاد فرمایا اور یہاں تک محدیثین بھی اپنی کتابوں کے ابتدا میں لکتے  ہیں تاکہ کوئی بھی انسان دین سیکے اور دنیاوی معاملات کے لئے دین سے شعریت سے  رہنمائی حاصل کرے تاکہ اس کی نیت خالص ہو، ٫٫ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اعمال کی قبولیت کا دارومدار یہ نیتوں پر ہے، جس شخص کے نیت خالص ہوگی اس شخص کی عبادت اتنا ہی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو گا قرآن کریم میں اللہ نے فرمایا کہ جو ایک نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سات سو گنا تک اجر دیتا ہے،اور اللہ جیسے چاہتا ہے اسے اس سے بھی دگنا کر کے دیتا ہے اور کبھی کبھی اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ایک نیکی کا اجر اللہ بے حساب بھی دیتا ہے، اب ان تمام احکامات اور آیاتوں کا دارومدار انسان کے نیتوں پر منحصر ہے، اگر ایک شخص نیکی کرتا ہے اگر نیکی دنیاوی معاملات یا اللہ کی رضامندی کے لئے ہو تو اس کا دس گنا اجر دے دیا جاتا ہے اب اس کا احلاص جتنا زیادہ ہوگا تو اس کے اخلاص کے مطابق اس کو اتنا ہی اجر ملے گا،

    تو اسی لئے نیت جو ہے یہ ایک مومن اور مسلمان کے تمام اعمال کا اصل ہے جب ہم گھر سے مسجد کے لئے نکلتے ہیں تو ہماری نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم مسجد میں نماز کے لئے اللہ کو راضی کرنے کے لئے جاتے ہیں، اب یہ ارادہ کامل ہوتا اس نیت کا اجر بھی سو گنا ہوگا اگر اتفاقاً ایک انسان گھر سے مسجد کی طرف نکلا اور راستے میں یہ کسی کام کی طرف چلا گیا تو تب بھی اللہ اس کو پورا اجر دیگا کیوں کہ اس کی نیت مسجد جانے کا تھا، اسی لئے محدیثین فرماتے ہیں کہ جب بھی کسی کام کے نیت کریں تو اس نیت کے ساتھ اور بھی اچھے کام کے نیت کر لیا کریں اگر وہ کام ہوا بھی نہیں تو بھی اس کام کا اجر ملے گا، ایک مسجد جاتے ہوئے کئی نیک نیتیں جمع ہو سکتی ہیں اب ایک شخص گھر سے نکلتا ہے اور اسے کوئی ایسا کام نہیں ملا جس کی اس  نے نیت کی تھی  تب بھی اس کو پورا کا پورا ثواب جتنی بھی نیتیں اس نے کی تھی اسے ملے گا، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جو بھی عمل انسان کرتا ہے اس کی نیتوں کا دیکھا جائے گا، اب اللہ کے ہاں نیت معتبر ہے اللہ کے ہاں ظاہری کام معتبر نہیں ہے کیوں کہ اس نے تو نیت کی تھی کہ راستے میں اگر کوئی شخص آیا میں اسے سلام کروں گا راستے میں اسے کوئی شخص ملا ہی نہیں تو بھی اس کو اجر ملا، 

    اسی لئے ایک دوسرے حدیث میں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہت بہتر  ہے اب ایک انسان نے تو عمل کی تھی کہ گھر سے مسجد کی طرف جاتے وقت میں راستے میں ہر اچھے اعمال کروں گا لیکن اس نے وہ اعمال کیے ہی نہیں اسکو موقع ہی نہیں ملا اب اس نے صرف نیت کی عمل اس نے کیا نہیں گویا کہ اس نے یہ تمام کام کر لیے حضور نے فرمایا یہ وہ چیز ہے کہ جس کی نیت کا بھی اس کو اجر مل جاتا ہے، 

    لیکن اس کے بر خلاف ایک شخص کام تو بڑے نیک کرتا ہے لیکن نیت اس کی خالص نہیں ہے نیت اللہ کی رضا نہیں ہے تو یاد رکھیں یہ نیک کام بھی اس کے منہ پہ مارا جائے گا، ایک شخص ہے وہ نماز اللہ کی رضا کے لئے پڑھتا ہے تو اس کو نماز پڑھنے کا اجر دیا جائے گا، لیکن ایک انسان نماز پڑھتا ہے اس کی نے نیت بھی کی لیکن وہ نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ لوگ اس سے نمازی کہیں تو فرشتے نماز اس کے منہ پہ ماریں گے کہ اسے نماز کو اللہ کی کوئی ضرورت نہیں اسی طرح ہماری زندگی کے جتنے بھی نیک اعمال ہیں ان تمام کا دارومدار نیتوں پر ہے،

    احادیث مبارکہ میں آتا ہے قیامت کے دن ایک شہید کو اٹھایا جائے گا بخآری شریف کی حدیث ہے اس شہید کو اللہ تعالیٰ کہے گا اے بندے میں نے دنیا میں تجھے یہ نعمت دی تھی فلاں نعمت دی تھی وہ اقرار کرے گا ہاں میرے رب تو نے یہ سب کچھہ دی تھی اللہ پوچھے گا پھر تو نے ان نعمتوں کے بدلے میرے لئے کیا کیا، تو یہ شہید کہے گا اے میرے پروردگار میں نے تیرے دین کی سربلندی کے لئے اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا، اللہ فرمائے گا نہیں نہیں تو نے اس لئے جان قربان نہیں کی کہ میرا دین سربلند ہو بلکہ تو نے اس لئے جان قربان کی کہ لوگ آپ کو بہادر اور شہید کہیں، جا تجھے دنیا میں تمغے بھی مل گئی تیری وا وا بھی ہو گئی، اے فرشتوں اس کو جہنم میں لے جاؤ، اب وہ شہید اس کی نیت خالص تھی اور اس کی نیت اللہ کی رضا تھی اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن وہی شہید عمل تو وہی ہوا اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن اس کے نیت میں فرق تھا تو الٹا وہ جہنم میں داخل ہوا،

    اسی لئے تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان جو  بھی عمال کرے چاہے وہ دنیا کے لئے ہو  یا چاہے وہ  آخرت کے لئے ہو ہر عمل میں  اس کی نیت خالص ہونی چاہیے اسی لئے نیت اپنی خالص کر لیں ہم سب کو چاہئے کہ اپنی نیتیں خالص کر لیں عمل بے شک اپنے ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کر رہے ہیں لیکن نیت وہ اللہ کی رضا ہو اور جب اللہ رضا ہوگا تو اس کے اجر ہمیں بے شمار ملیں گے اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  •   بداخلاقی،عریانی،فحاشی کا سیلاب  تحریر: شھریار سیالوی

    ٹوئیٹر ہینڈل: @shehryarsialvi

    پاکستان اسلامی نظریاتی مملکت خداداد ہے۔ ہماری نئی نسل کو بھی تحریک پاکستان کے مقاصد سے آگاہ رہنا چاہیئے تاکہ وہ تعمیر پاکستان کیلئے کوشاں رہے۔ آج پاکستان میں سے  بےسمت نظام تعلیم، شرم وحیاء کا خاتمہ، عریانی، فحاشی اور مادر پدر آزاد تہذیبی چلن نئی نسل اور ملک و ملت کیلئے بڑی تباہی، خطرات کے اشارے ہیں۔پاکستان قائد اعظم (رح)، علامہ اقبال( رح) اور مشاہیر پاکستان کے تصور کے مطابق صالح فکر اور نظریاتی پختگی کی ضرورت ہے۔

       قائد اعظم (رح) نے ملت پاکستان کیلئے نظریہ، ثقافت، تہذیب، اتحاد و یگانگت، درد مشترک اور قدر مشترک کیلئے شاندار راہ متعین کی لیکن آج نظام تعلیم، نظام ثقافت و معاشرت، تہذیب و اقدار کو فحاشی، بےحیائی اور مذہب بیزاری کیطرف پوری قوت سے دھکیلا جارہا ہے۔ جہاں بداخلاقی، نفس پرستی اور لذات جسمانی کی بندگی آخری حدوں کو چھو رہی ہو، جہاں مرد و خواتین، جوان و پیرعیش پرستی اور بےحیائی کے دلدادہ بنائے جارہے ہوں تو یہ قومی ہلاکت کے آثار ہیں۔ مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے عورتوں میں حسن کی نمائش، عریانی اور فواحش کو غیر معمولی ترقی دے دی ہے۔ اسلامی نظریاتی مملکت میں فیشن کے نام پر عریانیت پر مبنی کیٹواک، الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور اور منہ زور تشہیر آخر نئی نسل کو کس آزادی سے روشناس کیا جارہا ہے؟ یہی طریقہ واردات مغربی قوموں کو قوت حیات کو گھن کیطرح کھا رہا ہے۔ یہ ایسا گھن ہے کہ جس قوم کو لگ جائے اس کا جینا محال ہوجاتا ہے۔

    افراط و تفریط کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے والی دنیا کو اگر عدل، سلامتی، باہمی احترام کا راستہ اگر کوئی دکھا سکتا ہے تو وہ مسلمان ہے جس کے پاس انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل اور الجھنوں کے صحیح حل موجود ہیں لیکن تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ جن کے پاس حیاء، عزت و احترام، محبت و حدت کی روشنی کا چراغ ہے وہی خود اپنے اعمال کی خرابیوں کی بنیاد پر دوسروں کو راستہ دکھانے کی بجائے خود اندھوں کیطرح بھٹک رہے ہیں، جو قومیں بھٹک چکی ہیں، جن کی نسلیں بگڑ چکی ہیں، اسلامیان پاکستان ان بھٹکنے والوں کے پیچھے دوڑتے پھرتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، پاکستان بڑے مقاصد اور بڑی قربانیوں کیساتھ وجود میں آیا۔ آخر کب تک ہم بھٹکیں گے؟ بحیثیت انسان کوئلے کی چھت اور تاروں بھرے آسمان کا فرق محسوس کرنے سے کب تک انکار کرتے رہیں گے؟ اسلامی اخلاقیات میں حیاء کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس سے الگ نہیں ہوسکتا۔ حیا، تمدن و معاشرت کو صحیح سمت اور عریانی و بےحیائی انسانی معراج کو زمین بوس ہی نہیں ذلت و بربادی سے دوچار کر دیتی ہے۔ اسلام کے تصور اخلاق کے مطابق تشکیل پانے والا معاشرہ، خاندان کی بقاء اور تحفظ پر توجہ مرکوز رکھتا ہے کیونکہ خاندان ہی تہذیبوں کی بنیادی اکائی ہے۔ اسلامی تعلیمات اخلاقی اور روحانی قدروں کی حامل اور دین میں اس حوالہ دے خاندان کا ادارہ ماضی اور حال کے درمیان اہم رابطہ اور بندھن ہے، اسلامی تعلیمات نوجوان نسل کی تربیت اور تنطیم کا اولین مکتب ہے، اقدار کی تعلیم، باہمی احترام و محبت، تفہیم و تعاون، حکم اور اطاعت جیسے اعمال اور اوصاف پر زور دیتا ہے جس سے متوازن مزاج افراد تیار ہوتے ہیں۔ اس سے ہی معاشرے کو استحکام ملتا ہے۔ مسلم خاندان پر فحاشی، بےحیائی، عریانیت، بدتہذیبی کے وار کے ذریعے اسے بےوقعت، بےوقار اور ذلیل کیا جارہا ہے تاکہ خاندان ٹوٹ پھوٹ جائیں۔ یہ روش دین اور ایمان کو لوگوں کے سماجی اور سیاسی امور سے بےدخل کردینا چاہتی ہے۔ 

    آپ نے فرمایا: 

    "جب عریانی اور فحاشی عام ہوجائے گی، تو لوگوں میں ایسی ایسی بیماریاں پیدا ہونگی، جنکے متعلق نہ تو تم نے پہلے کبھی سنا ہوگا اور نہ تمہارے آباو اجداد نے” ۔ عریانیت، برہنگی، نجی شخص اور تنہا ایک گناہ نہیں بلکہ متعدی اور کئی گناہوں کا اذیت ناک مجموعہ ہے۔ اللہ اور اسکے رسول کو ناراض کرنا ہے، بےحیائی، فحاشی اور بدکاری کو دعوت دینا ہے۔ معاشرہ میں گندگی، اخلاقی انارکی کو عام کرنا ہے۔ غرض عریانیت، نفسانی جذبات اخلاقی نوعیت کے تمام گناہوں میں بنیادی اور اولین کردار ادا کرتی ہے۔ 

    گذشتہ اور قریبی عرصہ میں عریانیت، فحاشی کے خلاف ریاستوں  اور قانون نے تو کوئی سنگین اور سخت سزا تجویز نہیں کی لیکن ایک اور نقد سزا دریافت ہوئی ہے، سزا کیا ہے، موت کا پروانہ ہے۔ جیتے جی انسان مر جاتا ہے۔ معاشرہ اور برادری سے کٹ جاتا ہے۔ علیحدہ کردیا جاتا ہے، یہ قدرت کی گرفت ہے اور یہ سزا ایڈز ہے۔ 90ء کی دہائی میں اس مرض کی تشخیص کی گئی اسکے بعد سے ایڈز، ایچ آئی وی (HIV Positive) کی امراض مسلسل بڑھتی جارہی ہیں اور لاعلاج مرض ہے۔ اگر اس وقت دنیا میں ایڈز کا مرض پھیلنے کی رفتار برقرار رہی تو مجموعی طور پر پوری دنیا میں   2022ء تک ایڈز سے مرنے والوں کی تعداد 70 ملین تک پہنچ جائے گی۔ 

    اس سنگین صورتحال میں تو عبرت یہ تھی کہ انسانوں کی آنکھیں کھل جاتیں اور رہنمایان قوم، پالیسی سازوں، میڈیا کی دنیا کے آقاوں کا مردہ ضمیر جاگ جاتا اور تمام مل کر فحاشی، بدتہذیبی، عریانیت، کے خاتمے کیلئے کمربستہ ہوجاتے، کم از کم اسلامیان پاکستان کیلئے اسلام کی سراپا رحمت تعلیمات کو اپنا لیا جاتا مگر یہ حیران کن حقیقت ہے کہ بےحیائی اور عریانیت کو تاریخ بنادینے کی آواز کوئی بلند نہیں کرتا، معاشرہ کو صاف ستھرا، پاکیزہ اور عریانیت سے محفوظ بنانے کی کوئی بات نہیں کرتا۔ دردناک اور عبرتناک بیماریوں سے نجات کیلئے اس کی خرابی کی جڑ کوختم کرنیکی آواز بلند نہیں ہوتی۔عریانیت، بےحیائی، بداخلاقی اور بدتہذیبی کا ماحول برقرار رکھنے اور بیماریوں سے بچنے کیلئے سدباب کی جو تجاویز دی جارہی ہیں یہ فریب، دھوکہ، اور مزید تباہی کا سبب ہیں۔ اس صورت حال سے نجات کا تو یہی طریقہ ہے کہ فکر لاحق ہو، احساس کی جڑیں گہری ہوں، بےحیائی، بداخلاقی، عریانیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے دانش مندانہ، موثر اور کامیاب علاج یہ ہے کہ اس بربادی کی راہ کے قریب بھی نہ پھٹکا جائے، جو اسلوب جان لیوا ہیں، خاندان کی بربادی، انسانیت کی توہین اور دوسروں کے حقوق کی پامالی ہو۔ ایسے ارادوں اور عمل سے اجتناب اور کنارہ کشی اختیار کی جائے، اپنے گھرانوں اور اولادوں کو حق سے آشنا اور قرآن و سنت کی تعلیمات کا خوگر بنایا جائے۔ قرآن کی انسانیت نواز تعلیمات پر عمل کرنے کی بنیادوں پر اسلامی معاشرت کو اپنانے اور اختیار کرنیکی کوشش کی جائے۔ 

    ملک میں آئین، قوانین، ذرائع ابلاغ کا ضابطہ، عریانیت، فحاشی، بدتہذیبی کے تدراک کی رہنمائی دیتے ہیں۔ عدالت عظمی میں ان قوانین پر عملدرآمد کے مسائل پر آئینی، قانونی پٹیشن زیر سماعت ہیں۔ عوام خود خاندانون کے سربراہ، حکمران، پالیسی ساز، قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اور عدلیہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ فکر کریں، آگے بڑھیں، خاموشی توڑیں اور اس بڑھتی بربادی کا سدباب کریں اور نئی نسلوں اور قیام پاکستان کے مقاصد کو محفوظ بنائیں۔

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت     تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت     تحریر اصغر علی

     

    حصہ اول:-                                                             

    یہ بات آج سے سات سو بیس سال پہلے سنہ 1390 کی ہے جب دنیا کی دو طاقتور ترین سلطنتوں کی سرحدیں آپس میں ملتی تھی ایک طرف سلطنت عثمانیہ تھی اور دوسری طرف تیموری سلطنت اس وقت سلطنت عثمانیہ کا سلطان بایزید اول تھا اور تیموری سلطنت کا سلطان ایک منجھا ہوا جنگجو امیر تیمور تھا ایک وہ تھا جو ایشیا کے بعد یورپ کے بڑے بڑے امپائر گرا رہا تھا اور دوسری طرف امیر تیمور جو بغداد سے دہلی تک اور عرب کے صحراؤں سے لیکر ازبکستان کے پہاڑوں تک تمام علاقے فتح کا چکا تھا اور اب یہ دونوں ایک دوسرے کی سرحد پر دستک دے رہے تھے یہاں پر آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتے ہیں کہ جب یہ دونوں سلطان آمنے سامنے ہوئے تو ایک سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور کچھ سالوں بعد دوسرے کی سلطنت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی یہ کیسے ہوا بایزید اول اپنے بھائی کو قتل کر کے سلطنت عثمانیہ کا سلطان بن گیا تھا یہاں پر سلطنت عثمانیہ کو دو خطرے تھے ایک طرف کرمانی سلطنت  جو کہ سلطنت عثمانیہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی اور اس وقت کرمانی سلطنت کو مملوک سلطنت جو کہ مکہ اور مدینہ پر قائم تھی کی حمایت حاصل تھی اور اس وقت سلطنت عثمانیہ  نے کرمانی سلطنت کےپر حملہ کردیا اور کرمانی سلطان کے دونوں بیٹوں کو قتل کر دیا قریب تھا کہ کرمانی سلطنت سرے سے ہی ختم ہو جاتی مگر ایسے میں آج کے ازبکستان سے ایک طوفان اٹھا اور خود عثمانی سلطنت ہی خطرے میں پڑ گئی اس کا نام تھا امیر تیمور لنگ

    امیر تیمور ایک جنگجو سردار تھا جس نے اپنی جنگی مہارت کے باعث سمرقند پر قبضہ کر لیا اور اس کو اپنا ہیڈکوارٹر بنا دیا اور اس نے اپنی تیموری سلطنت کو  از بکستان پاکستان انڈیا افغانستان ایران ایراق آذربائیجان روس شام تک پھیلا لیا تھا  کل ملا کر بات کریں تو امیر تیمور چالیس سے زیادہ چھوٹے بڑے ملکوں اور ریاستوں پر قبضہ کر چکا تھا سن 1399  میں  تیموری سلطنت کی سرحدیں عثمانی سلطنت کو چھونے لگی تھی جو جو علاقے  عثمانیوں نے اپنے قبضے میں لیے تھے ان کے حکمران امیر تیمور کے پاس گئے اور جا کر عثمانی سلطان کے بارے میں بتایا امیر تیمور نے عثمانی سلطان کو خط لکھا اور خط میں اس  نے کہا کہ جو علاقے تم نے فتح کیے ہیں وہ اپنے پاس رکھو اور جو باقی علاقے رہ گئے وہ ان لوگوں کو واپس کر دو اگر نہیں تو میں خدا کا قہر بن کر تم پر نازل ہو جاؤں گا یہ خط عثمانی سلطان کے پاس پہنچا  تو اس خط کو پڑھ کر سلطان بایزید اول کو کہر چڑھ گیا کیونکہ آج تک کسی نے ایک سوپر پاور کو اس طرح نہیں للکارا تھا غصے میں آگ بھگولا  سلطان بایزید اول نے پہلا کام یہ کیا ک جو قاصد تیمور کا خط لے کر آئے تھے  ان کی داڑھیاں کاٹ دی اس کے بعد ان کو خوب بےعزت کیا اور دربار سے نکال کر واپس بھیج دیا یہ اس بات کا پیغام تھا کہ عثمانی سلطان بایزید اول کسی سے نہیں ڈرتا یہ ایک طرح کا طبل جنگ تھا لیکن جنگ سے پہلے آگ کو اور بھی بھڑکنا تھا اس کے بعد سلطان بایزید اول نے امیر تیمور کو ایک خط لکھااور اس خط میں لکھا کیوں کہ تمہاری لا محدود لالچ کی کشتی خود غرضی کے گھڑے میں اتر چکی ہے تو تمہارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ اپنی گستاخی کے بادبانوں کو نیچے کر لو ورنہ ہمارے انتقام طوفان سے تم سزا کے اس سمندر میں غرق ہو جاؤ گے جس کے تم حقدار ہو یہ خط جب امیر تیمور تک پہنچا تو اس نے یہ خط پڑھ کر عثمان سلطان کو جنگ کا پیغام بھجوا دیا ادھر یورپی لوگ جو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ لڑ رہے تھے اور اس جنگ کو مسلمان اور عیسائیت کی جنگ کہہ رہے تھے وہ بھی امیر تیمور کو خفیہ پیغام بھیجنے لگے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں سلطنت عثمانیہ پر حملہ کر دیں اس کے علاوہ ایک چھوٹی سی سلطنت بیزنٹائن امپائر بھی تیمور کے ساتھ مل گئی اور اس نے چودہ سو ایک میں ترکی کے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا اور بہانہ اس کا یہ تھا کہ یہ علاقہ اسی کی ملکیت تھی جو عثمانیوں نے اس سے زبردستی چھین لی تھی اس کے بعد امیر تیمور نے عثمانی سلطنت کے ایک علاقے پر حملہ کر دیا اور زبردست جنگ کے بعد اس علاقے پر قبضہ کرلیا اور وہاں پر اپنا ٹریڈمارک چھوڑ دیا امیر تیمور کا ٹریڈ مارک خوف اور دہشت پھیلانا تھا اس نے چار ہزار لوگوں کو زندہ گاڑ دیا جس جگہ پر امیر تیمور نے قبضہ کیا اس کی ذمہ داری سلطان بایزید اول نے اپنے بیٹے ارطغرل کو دی ہوئی تھی تیمور نے بایزید اول کے بیٹے سمیت تمام جنگجوؤں کو ہلاک کردیا اور جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو ظاہر ہے اس کے پاس مقابلے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں تھا اور وہ امیر تیمور کے تعاقب میں نکل پڑا اس کے ساتھ ستر ہزار فوج کا لشکر تھا بایزید اول ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ امیر تیمور کے لشکر کی جانب بڑھتا گیا اور انقرہ پہنچ کر اس نے ڈیرے ڈال دیئے اس کے بعد بایزید اول انقرہ سے آگے بڑھا اور امیر تیمور کے لشکر کے قریب ہوتا چلا گیا امیر تیمور اپنی فوج سمیت پیچھے ہٹنے لگا اور آہستہ آہستہ وہ اپنی تیموری سلطنت کے قریب پہنچ گیا اور یہاں پر آکر امیر تیمور اپنے لشکر سمیت اچانک کہیں غائب ہو گیا بایزید اول ہفتوں اس کا انتظار کرتا رہا کہ اتنے بڑے لشکر سمیت تیمور کدھر چلا گیا آخر کار چار مہینوں انتظار کے بعد سن چودہ سو دو میں میں بایزید اول کو پتہ لگ گیا کہ تیمور کا لشکر کہاں ہے مگر یہ خبر بایزید اول پر بجلی بن کر گری تیمور کا لشکر اس کے پیچھے سلطنت عثمانیہ کے شہر اور موجودہ ترکی کے دارالحکومت وقت انقرہ شہر پہنچ چکا تھا اور انقرہ شہر کا محاصرہ کر لیا تھا

    جاری ہے……… 

    Twitter id:  @Ali_AJKPTI 

    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • ذہنی سکون- ترجیح اول تحریر: سید غازی علی زیدی

    ذہنی سکون- ترجیح اول تحریر: سید غازی علی زیدی


    آج کے پر آشوب اورنفسانفسی کے دور میں، زیادہ تر لوگ ڈپریشن و ٹینشن جیسے امراض سے نبردآزما ہیں۔ ذہنی سکون اولین ترجیح تو ہے لیکن بدقسمتی سے نایاب ہوتی جارہی۔
    معاشی مسائل ہوں یا معاشرتی تفکرات، روز بروز ہمارے اضطراب و بے سکونی میں اضافہ کررہے اور ہم بےبسی سے تماشا دیکھ رہے۔بظاہر پرآسائش گھر، پرتعیش گاڑیاں،مال ودولت، اولاد سب ہے لیکن قلبی سکون نہیں۔ عجیب بےچینی ہےجس کا مداوا نہیں ہوپارہا۔گولیاں پھانک کر بھی نیند سے محرومی ہے۔ حالانکہ صدقہ و خیرات میں کوئی کوتاہی نہیں، نماز پنجگانہ اور حج و عمرہ باقاعدہ، پھربھی پریشانی ہے کہ جاتی نہیں۔ پریشانی بھی ایسی جو ناقابل بیان و برداشت،ایسے رستے زخم جن کا مرہم ناپید۔ وجہ؟ حقوق اللّٰہ و حقوق العباد میں کوتاہی۔
    اورحل؟ سادہ ترین۔ لیکن اپنی انا کو کون مارے؟
    فرمان باری تعالیٰ ہے
    "اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان(سکون) نصیب ہوتا ہے۔”
    لیکن اگر عبادات، صدقات، خیرات سکون دینے سے قاصر ہیں تو یقیناً ہمارےمعاملات زندگی بگاڑ کا شکار ہیں۔
    حقوق اللہ کی معافی تو یقیناً توبہ استغفار سے مل سکتی لیکن حقوق العباد کی معافی بغیر تلافی و کفارہ دیے ممکن نہیں۔کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف کردیں گے لیکن بندوں کے حقوق جب تک معاف نہیں ہوں گے جب تک مظلوم خود معاف نہ کرے۔
    تو پھر ہم کہاں بھٹکتے جا رہے؟
    انسان اتنی عجیب مخلوق ہے کہ جو چیز اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھ دی ہے اسے مادی اشیاء میں تلاش کرتا۔حقوق العباد سے پہلو تہی کرنے والوں کے مقدر میں بےچینی و پریشانی لکھ دی جاتی۔ سکون، خوشی، اطمینان یہ سب انسان کی ذات میں پوشیدہ ہیں۔ اچھائی و نیکی کیلئے معمولی سی کاوش بھی لامحدود نتائج دیتی جبکہ ایک معمولی غلط کاری دل پر سیاہ داغ کی صورت اپنا نشان چھوڑ دیتی۔ دل جتنا خوبصورت و پرنور ہو گا اتنا ہی اطمینان قلب نصیب ہو گا۔ جبکہ سیاہ کاروں کیلیے تو دنیا میں بھی بے سکونی و گمراہی ہے اور آخرت میں بھی ضلالت و رسوائی۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم ظاہری خوبصورتی کیلئے تو ہر حد تک جاتے یہاں تک کہ پلاسٹک سرجری کرانےسے بھی گریز نہیں کرتے لیکن اندرونی بدصورتی کا سدباب کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
    دولت کے انبار، رنگ و نور کا سیلاب، عیش وعشرت، سیرو سیاحت، تفریحات و ترغیبات، شراب و کباب سے آراستہ رنگین محافل، منشیات،مزید برآں ان خرافات کے حصول کیلئے کی گئی کرپشن، رشوت، حرام کمائی، دھوکہ بازی! الغرض حرص و ہوس،بداعمالیاں، بے راہ روی، بداخلاقی انسان کے ضمیر کو مردہ کرتی چلی جاتی۔
    جان لیجیئے: یہ سب وقتی خوشی تو دے سکتے لیکن سکون قلب دینا ان مادی اشیاء کے بس کی بات نہیں۔الٹا سرمایہ، وقت اور صحت کا ضیاع ہے
    کیا وجہ ہے کہ تاریخ انسانی کےکامیاب ترین افراد خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتے حالانکہ وہ بظاہر تمام نعمتوں سے مالا مال تھے؟ پھر خواہ وہ ہٹلر ہو یا مشہور پینٹر وان گوگ، حسنیہ عالم قلوپطرہ ہو یا سلیبرٹی شیف انتھونی بورڈین، اداکار سوشانت سنگھ ہو یامزاح کا بے تاج بادشاہ رابن ولیمز، کامیاب ترین ہوکر بھی ناکام قرار پائے۔
    "بےشک انسان خسارے میں ہے”
    اپنی گمراہی پر خود گواہ،شیطانیت کا آلہ کار بناہوا۔ حرص و ہوس،بداعمالیاں، بے راہ روی، بداخلاقی انسان کے ضمیر کو مردہ کرتی چلی جاتی اور اپنے وقتی سکون کیلئےگھاٹے کا سودا کرکے خوار ہوتا۔
    اگر ذہنی سکون چاہیے تواپنے مردہ ضمیر کو جگائیں۔خود احتسابی پہلا قدم ہے سکون قلب کے حصول کیلئے۔ اور یہ قدم ہر انسان کو خود اٹھانا پڑتا۔خلوص، محبت، اخوت ، رزق حلال، سادگی، عاجزی یہ وہ گنج ہائے گراں مایہ ہیں جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتے۔ بظاہر معمولی لیکن ہر وصف اپنے اندر سمندر جیسی وسعت سموئے ہوئے ہے۔ حقداروں کو ان کا حق دیں۔ مخلوق خدا کے ساتھ معاملات ٹھیک کریں،حق تعالیٰ وہ بھی ودیعت کرے گا جو آپ کے گمان میں بھی نہ ہوگا۔ آزمائش اور سزا کا فرق جاننے کی کوشش کریں جو مصیبت قرب الٰہی عطا کرے وہ آزمائش ورنہ سزا۔ حضرت محمد ﷺ پر سب سے زیادہ تکالیف آئیں لیکن ان سے بڑھ کر خدا کومحبوبﷺ کوئی نہیں۔ لوگوں کی تکلیفوں میں انکا ساتھ دیں اللّٰہ تعالیٰ آپکی تکالیف دورکردے گا۔
    فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
    مگر اس میں لگتی ہے محنت 
    ناانصافی، رزق حرام، جھوٹ، نمود و نمائش ہماری زندگی کو جہنم بنادیتے لیکن ہم وقتی و ذاتی اغراض کے حصول کیلیے ان علتوں کو گلے لگائےبیٹھے ہیں۔ رسم ورواج، سماجی روابط، عہدے و رتبے کو خدا بنا کرسکون قلب کے طلبگار ہیں؟
    ذہنی سکون عطائے خداوندی ہے جس کو میسر ہو گیا اس کیلئے مشکلات میں بھی آسانی کا وعدہ ربی ہے اور جو اپنی خطاکاری و ریاکاری کی وجہ سے محروم رہا وہ حریر و ریشم کے باوجود بھی نامراد رہے گا
    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
    writer :

    Syed Ghazi Ali Zaidi

  • لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے امکانات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تحریر روشن دین

    @Rohshan_Din

    جب ہم لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے  ذہن میں سب سے پہلے کیا آتا ہے؟ ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے کہ ہم  کسی خاص لڑکی کو یاد کریں جو بچپن میں ہمارے ساتھ کھیلتی ہوگی  جو پرائمری سکول نہیں جا سکی۔ یا شاید ہم کسی خاص دباو اور مداخلت کی بدولت   پرائمری سکول میں پڑھنے والی مسکراتی اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی ان عظیم تصاویر میں سے ایک کو دیکھیں گے۔

     دونوں تصاویر درست ہیں ، لیکن وہ کہانی کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے تک ، بہت سی لڑکیوں نے پرائمری سکول بھی مکمل نہیں کیا تھا۔  ترقیاتی پروگرام کے وجہ سے   بنیادی تعلیم میں اچانک مساوات کی طرف ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، لڑکیوں کی تعلیم ، مہارت اور ملازمت کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے آج کے چیلنجز بدل گئے ہیں۔

     

    پرائمری سکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے اپنی ضرورت کی مہارت حاصل کرنے کے لیے ، ہمیں کچھ اصول و ضوابط طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہر قدم پر ، ہمارے پاس ایک اچھا خیال ہے کہ کون سی مداخلت لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    سب سے پہلے ،  ابتدائی بچپن کی ترقی (ECD) کے ذریعے ایک مضبوط بنیاد دیں۔ ابتدائی زندگی میں پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا مشکل ہے ، لیکن مؤثر ECD پروگرام اس طرح کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور اس طرح زیادہ ادائیگی حاصل کرسکتے ہیں۔ ای سی ڈی پروگرام تکنیکی ، علمی ، اور طرز عمل کی مہارتیں بناتے ہیں جو بعد کی زندگی میں اعلی پیداوری کے لیے سازگار ہوتی ہے۔اصولی اور  کامیاب مداخلت دیگر شعبوں میں ، غذائیت ، محرک اور بنیادی علمی مہارت پر زور دیتی ہے۔

    ایک نئی تحقیق سے پتہ چلاہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں تعلیم  پہ توجہ سے ایک خاطر خاہ تبدیلی آئی ہے۔   ، ایک ECD مداخلت کے 20 سال بعد ، فائدہ اٹھانے والوں کی اوسط کمائی  لڑکے اور لڑکیوں  کو پابند رکھنے والے علاقوں  کی نسبت 42 فیصد زیادہ ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے بڑے فوائد حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں اگر تمام بچے اس طرح کی مداخلتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوں ، جو کہ حتمی مقصد ہے ، اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ ابتدائی نفسیاتی محرک مستقبل کی کمائی کو کافی حد تک بہتر بنا سکتا ہے۔

     اور اس کے بعد   بنیادی تعلیم پر مرکوز ہے۔جو  خلاء باقی ہے ، اس بات کا یقین کرنے کے لیے۔آئندہ کاغذ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 24 فیصد سےکم آمدنی والے ممالک میں ، 20 فیصد غریب ترین گھرانوں میں صرف 34 فیصد لڑکیاں پرائمری سکول مکمل کرتی ہیں ، جبکہ امیر ترین 20 فیصد گھرانوں میں 72 فیصد لڑکیاں . آمدنی سے متعلق یہ خلا لڑکیوں کے سکول جانے کے مواقع کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مداخلت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ، 

     

    یمن میں ، ایسا ہی ایک نیا پروگرام جو پسماندہ طبقات میں 4-9 گریڈ میں لڑکیوں کو فوکس کر کے بناتا ہے وہ کافی کامیاب پروگرام رہا۔  داخلہ اور حاضری بڑھانے کے علاوہ ، ہمیں یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سکول جانے والی تمام لڑکیاں سیکھ سکیں – سیکھنے کے مضبوط معیارات ، اچھے اساتذہ ، مناسب وسائل ، اور ایک مناسب ریگولیٹری ماحول جو کہ احتساب پر زور دیتا ہے۔

     لیکن سیکھنا کس کے لیے؟ اپنی خاطر تعلیم یقینی طور پر ایک اندرونی قدر رکھتی ہے ، لیکن تعلیم اور تربیت جو کام کی جگہ پر مفید ثابت ہوتی ہے وہ بھی ضروری ہے۔ لڑکیوں کو بڑھنے میں مدد دینے کا اگلہ مرحلہ یہ ہے کہ انہیں ملازمت سے متعلقہ مہارتیں فراہم کی جائیں جن کا آجر درحقیقت مطالبہ کرتے ہیں ، یا وہ اپنا کاروبار شروع کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔اور وہ معاشرے کے کارامد رہے

     

    بہت سے ممالک نے بنیادی تعلیم میں خواتین برابری حاصل کی ہے (یا تیزی سے ترقی کر رہے ہیں)۔ اس کے برعکس ، زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں لیبر فورس کی شرکت نوجوان خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں کافی کم رہتی ہے۔ پاکستان  ، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ میں ، 15-24 سال کی تمام لڑکیوں میں سے تین چوتھائی سے زیادہ تنخواہ دار کام میں مصروف نہیں ہیں اور کام کی تلاش میں نہیں ہیں۔ اور انٹرنیشنل انکم ڈسٹری بیوشن ڈیٹا بیس کے مطابق ، عالمی سطح پر تقریبا 40 40 فیصد نوجوان خواتین یا تو بے روزگار ہیں یا ‘بیکار’ ہیں (نہ تعلیم میں ، نہ کام میں)۔ اس کے علاوہ لاکھوں نوجوان خواتین ہیں جو بغیر تنخواہ یا غیر پیداواری کام میں مصروف ہیں۔

     اگلے مرحلہ ایک ایسے ماحول کی تخلیق سے متعلق ہے جو علم اور تخلیقی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے لیے اختراعات سے متعلق مہارت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگوں کو آئیڈیاز سے جوڑنے میں مدد ملے ، نیز رسک مینجمنٹ ٹولز جو جدت کو آسان بناتے ہیں۔ ایک بار پھر ، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں  کو نقصان ہوتا ہے ، کم مواقع ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ، بہت سے ممالک میں انٹرپرینیورشپ کی شرح کم ہوتی ہے۔اور اکثر اجکل تو خواتین کو وہ تعلیم ہی نہیں دی جاتی جس میں وہ معاشرے  کی تربیت کے لئے  ایک اچھا کردار ادا کر سکے۔ 

     آخر میں  یہ ضروری ہے کہ معاشرے لچکدار ، موثر اور محفوظ لیبر مارکیٹ کو فروغ دیں۔ آمدنی کے تحفظ کے نظام کو مستحکم کرتے ہوئے سخت نوکری کے تحفظ کے ضوابط سے بچنے کے علاوہ ، کارکنوں اور فرموں کے لیے ثالثی کی خدمات مہیا کرنا مہارت کو حقیقی روزگار اور پیداوری میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ہے۔خواتین ورکر کو پرامن اور اچھا ماحول  دیا جاے جہاں وہ سکون سے کام کر سکے ایک اچھی تنخوا اور ان کا مقرر کردہ وقت پہ سختی سے پابند کیا جاے کہ ان سے زیادہ کام تو نہی لے رہا کوئی۔ 

    لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے وقت ، پرائمری سکولوں کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن لڑکیوں کی زندگی میں کامیابی کے لیے یہ کافی نہیں ہے: ہمیں پرائمری اسکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 21 ویں صدی کی نوکری کے بازار میں داخل ہونے والی لڑکیاں اور نوجوان خواتین کو ایسی مہارتوں اور علم کی ضرورت ہوگی جو صرف ان کی زندگی بھر میں تیار کی جاسکیں۔ انہیں راستے میں ہر قدم پر ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

     

    یہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لیے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ لڑکیاں اکثر زیادہ تنگ ہوتی ہیں اور انہیں مواقع تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے ، جس کے نتیجے میں توقعات کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ، کم از کم جزوی طور پر ، یہ بتاتے ہوئے کہ مارکیٹیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ 

    ہمارے ملک میں خواتین کے کام نہ کرنے کے وجہ میں سے سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ وہ  آفس میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی  ہیں ۔اکثر خواتین شادی کے بعد نوکری کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ہماری تحقیق سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ بہت سارے  خاوند خواتین کو اس  لئے بھی کام کرنے سے روکتے ہیں کے کہیں  وہ کسی کے ساتھ افئر نہ چلاے۔ دوسرے طرف خواتین کو سستہ لیبر سمجھا جاتا ۔ان کی اجرت بہت کم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بھی وہ کام کرنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ 

    ملک میں خواتین کو تعلیم کے ساتھ ایک پرامن ماحول کی ضرورت ہے جہاں ان کے گھر والے ان پہ یقین رکھے افسز میں ان کے زندگی مکمل طور پہ محفوظ ہو۔ان کے دفتر کے اوقات کار کو کم سے کم رکھا جاے ان کے لئے تنخواہوں میں خصوصی پیکجزدیئے جائے تاکہ وہ معاشرے کے ترقی میں اپنا کردار (رول) ادا کر سکے

  • حصّولِ عزت ایک آزمائش  تحریر: یاسر خان بلوچ

    حصّولِ عزت ایک آزمائش تحریر: یاسر خان بلوچ

          عزت زلت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وتعز من تشاء و تزل من تشاء بیدک الخیر کا مالک شہنشاہ مطلق کی ذات ہے۔ لوگ پیسوں کے ساتھ اپنی عزت اور معیار بنانے کی کوشش کرتے آئے ہیں، عزت کیلئے سیاست کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اور اپنا سٹیٹس بڑا شو کرنے کیلئے بڑے بڑے رشتوں کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اپنے سے بڑے رُتبے والے سے دوستی رکھتے ہیں۔ عزت کیلئے انتھک محنت رات دن ایک کر لیتے ہیں صبح شام دوڑ لگی ہوتی ہے۔

          یہاں جس کی ایک لاکھ مہینہ کی آمدن ہو وہ سمجھتا کے میں سب سے زیادہ معتبر شخص ہوں مجھے عزت دی جائے میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں۔ کسی کو کرسی مل جائے وہ سمجھتا کہ عزت مل گئی، اچھی نوکری مل جائے سمجھتا عزت مل گئی، کالا دھندہ چلنے لگ جائے سمجھتے ہے کہ اللہ نے ہاتھ پکڑ لیا۔ نادان سمجھتا ہے جتنی بڑی کوٹھی ہو گی، جتنے زیادہ نوکر چاکر ہوں گے اتنی زیادہ عزت ہو گی پتہ نہیں ہم لوگوں نے عزت کو کیا سمجھا ہوا ہے؟ 

          دراصل عزت میں عزت ملے گی جتنی عزت کرو گے اتنی عزت ملے گی تمہیں سب سے پہلے عزت کا حق ادا کرنا ہے رب العزت کا پھر رب کے نبی کی عزت کا پھر مومنین کی عزت کا  خدا اور اس کے رسول کی آمد کا رسول کے صحابہ کی عزت کرنے کا اگر تم ان سب کی عزت کا حق ادا کر لیتے تو پھر یقین رکھ اپنے رب کریم پر وہ کبھی بھی تمہاری عزت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ اور اگر تو ان کا حق ادا نہیں کرتا اور بڑی کوٹھی بڑے رتبے اور زیادہ پیسے کے حصول کیلئے دوڑ لگائے گا اور ان کی عزت نہیں کرے گ جن کی عزت تم پر فرض ہے تو یہ بات جان لے کہ وہ ذات تجھے تیرے گھر میں بے عزت کر کے چھوڑے گا۔

          یہاں ہم سب آزمائش میں ہیں۔ اللہ آزمائش کرتا ہے مال و اولاد دے کر، علم دے کر، حسن دے کر، بھوک دے کر، نوکری دے کر، دُکھ دے کر، سکھ دے کر ہر حال میں آزمائشیں ہیں۔ عزت ذلت کے فیصلے موت کے وقت ہوتے ہیں یا پھر آخرت میں ہوں گے۔

          یہاں پر کوئی آدمی یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میں معزز ہوں عزت والا ہوں تو پھر عزت دار بننے کے جھوٹے خواب کیوں دیکھتا ہے؟ 

          موت کو جتنا زیادہ یاد رکھو گے اتنے زیادہ ذرائع عزت کے رب عطاء کرے گا۔اللہ تیری وہاں سے عزت بنائیں گے جہاں تک تیری سوچ بھی نہیں ہوگی، تیرا وہ مقام ہو گا جس کے تم مستحق ہو گے۔

          اگر ہمیں عزت دار بننا ہے تو ہمیں قرآن مجید اور سیرت مصطفیٰ کو سامنے رکھ کر خود کو دیکھنا چاہیے۔ہمیں اپنے گریبان میں دیکھنا ہو گا کہ معزز کس طرح ہوتا ہے اور ہم کیا ہیں۔ ہمیں قرآن مجید اور سیرت محمد مصطفیٰ کو آئینہ بنا کر دیکھنا ہو گا۔ اور انہیں کے بتائے ہوئے راستے پر ہی تو ہم عزت حاصل کر سکتے ہیں۔

          @YasirKhanblouch

  • معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    دین و دنیا کے لئے سب سے خطرناک چیز جھگڑے ہیں جو آدمی کی صلاحیت کو دیمک لگادیتے ہیں ۔

    معاشرہ انسانوں کے باہم مل جل کر رہنے کا نام ہے جس میں ہنسی خوشی کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ہر انسان کامزاج اللہ تعالیٰ نے مختلف بنایا ہے ۔ایک دوسرے کے ساتھ رہنے یا معاملہ کرنے میں اونچ نیچ ہوجاتی ہے جو بعض اوقات جھگڑے کی شکل اختیار کرجاتی ہے ۔

    زندگی کو پرسکون بنانے کیلئے شریعت میں ایسے مواقع پر ہمیں جھگڑوں سے بچنے اور صلح صفائی کیساتھ معاملہ کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے ۔

    اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے کے امین مسلمان جنہوں نے پوری دنیا کی قیادت کرنی تھی ہماری زبوں حالی کا یہ حال ہے کہ آج ہم گھریلو خاندانی کاروباری چھوٹے بڑے جھگڑوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔

    ایک حدیث میں حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جو جو نماز، روزے اور صدقہ سے بھی افضل ہے؟ 

    جھگڑے دین کو مونڈنے والے ہیں۔یعنی مسلمانوں کے درمیان آپس میں جھگڑے کھڑے ہوجائیں فساد برپا ہوجائے ایک دوسرے کا نام لینے کے روادارانہ رہیں، ایک دوسے سے بات نہ کریں، بلکہ ایک دوسرے سے زبان اور ہاتھ سے لڑائی کریں ۔یہ چیزیں انسان کے دین مونڈدینے والی ہیں ۔

    ہماری وہ صلاحیت جو خدمت دین میں صرف ہوتی تھیں وہ آج باہمی جھگڑوں کی نذر ہورہی ہیں ۔آج ہمارے معاشرے میں جھگڑوں کی شرح کس قدر ہے اس کا اندازہ حضرات مفتیان کرام سے پوچھے جانیوالے روزمرہ کے سوالات سے لگایا جا سکتا ہے یا وکلاء کے لفافوں میں زیرسماعت مقدمات کو دیکھا جاسکتا ہے ۔

    بے صبری اورجلد بازی ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے جس کا مشاہدہ آئے دن سڑکوں اور بازاروں پر کیا جاسکتا ہے ۔معمولی کوتاہی یا رنجش پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان ہوجاتے ہیں ۔صاحب زور مارپیٹ کرکے اپنی آگ بجھا دیتا ہے تو زبردست گالم گلوچ کرکے دوسرے کی عزت نیلام کررہا ہے ۔

    یوں معمولی رنجش پر جھگڑوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ہماری عدالتوں، کچہریوں اور تھانوں میں مقدمات کی بہتات ہمارے قومی مزاج کی آئینہ دار ہے ۔خاندانی یا کاروباری جھگڑوں کے حل کیلئے اگر انگریزی قانون کا سہارا لیا جائے تو عمریں بیت جاتی ہیں لیکن انصاف ملنا مشکل ہے ۔

    خدابیزار قوموں کے بنائے ہوئے اصول وقوانین سے ایک خدارسیدہ مسلمان کو کب اور کہاں انصاف مل سکتا ہے کاش قیام پاکستان کے بعد حقیقتاً قرآن وحدیث کی بالادستی ہوتی اور یہ ملک کلمہ طیبہ کی عملی تصویر پیش کرتا ۔

    لیکن ان حالات میں بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں نہیں، ہر وقت ہر جگہ ایسے بزرگ خدارسیدہ علماء حضرات موجود ہیں ۔جن کی خدمت میں حاضر ہو کر ہر مسلمان دینی اور اخروی مشکلات کیلئے دعا اور جھگڑوں میں تصفیہ کراسکتا ہے ۔

    حدیث شریف میں جھگڑا چھوڑنے کی یہاں تک فضیلت آئی ہے کہ جو شخص باوجود غلطی پر ہونے کے پھر بھی جھگڑا چھوڑ دے تو اسے جنت کنارے میں جگہ ملنے کی بشارت ہے ۔

    جن لوگوں نے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے اپنا جائز حق بھی چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ نے انہیں ضائع نہیں کیا بلکہ اس حق کا بدل نعم البدل کی صورت میں عطا فرمایا ۔

    ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے اپنی کروڑوں کی جائیداد کے سلسلہ میں دس سال تک مقدمہ لڑا ۔لیکن انصاف نہ ملا بالآخر بزرگوں کے مشورہ پر مقدمہ سے دستبردار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے سکون کی ایسی دولت بخشی جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔

    اس لئے اپنی دنیا کو پرسکون اور آخرت کو سنوارنے کیلئے جھگڑوں سے بچا جائے اور صبر اوردرگزر کرنا مسلمانوں کا دینی واخلاقی شیوہ ہے ۔جھگڑوں کو چھوڑیئے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجئے ۔

    اپنا حق معاف کیجئے اور دوسروں کے حق ادا کرنے کی فکر کیجئے پھر دیکھئے کیسی پرلطف زندگی گزرتی ہے ۔

    یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ روزانہ کچہریوں کے چکر لگ رہے ہیں اور خدا کے دشمن انگریز کے قانون سے انصاف کی بھیک مانگی جارہی ہے بھلا مسلمان کو دشمن خدا سے انصاف ملے گا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • مہنگائی کا طوفان    تحریر.ہارون خان جدون

    مہنگائی کا طوفان تحریر.ہارون خان جدون

    گزشتہ رات ڈالر کی اڑان سب کی نیندیں اڑا کر لے گئی ہے جس کے سبب پٹرولیم مصنوعات ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں مزدور بندہ تو پہلے ہی بہت مشکل سے اپنی زندگی گزار رہا ہے اب اوپر سے مزید پٹرول مہنگا ہو جانے سے عام بندے کی زندگی پر بہت اثر پڑے گا

    واقعی حقیقی معنوں میں تو ڈالر کو فریز کر دیا جاتا ہے اور جس کے سبب خاص طور پر ایشیائی ممالک کی معیشت بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہےپاکستان جو کہ پہلے ہی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے س کی معیشت مزید گرتی ہے اور بدلے میں مہنگائی کا طوفان لے کر آتی ہے۔ پرائس کنٹرول والوں کی اپنی ریٹ لسٹ ہے جبکہ بازار میں فروخت کنندگان کی اپنی لسٹ۔ کچھ تو ان بھائی لوگوں نے بھی مصنوعی مہنگائی کی ہوئی ہوتی ہے جس کا خمیازہ عوام بھگتتی ہے۔ اگر کوئی آگے سے احتیاطاً پوچھ بھی لے کہ اتنی مہنگی چیز کیسے؟ تو جواب سننے کی بجائے وہ اپنے سوال پہ پچھتاتا ہے

    صوبائی اور وفاقی سطح کی پالیسی عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہے وہ نہیں جانتا کہ ایکسچینج ریٹ کیا ہے ؟ کرنسی کی ویلیو بڑھی یا گھٹی ؟ افراط زر یا تفریط زر کا مقصد کیا ہے ؟ ڈیولپمنٹ ہو رہی ہے کہ نہیں ؟ ہم گرے لسٹ میں ہیں یا بلیک لسٹ میں؟ نیشنل انکم یا جی ڈی پی کہاں پہ رکے گی؟ وغیرہ وغیرہ اور عام آدمی سمجھنا بھی نہیں چاہتا کیونکہ اسے بس اپنا گھر چلانا ہے۔ وہ ووٹ اسی لیے تو دیتا ہے کہ مجھ سے بہتر لوگ ملک چلائیں۔ 

    اب ہم ملک تو نہیں چلا سکتے کم از کم اپنی اخلاقی اقدار تو بہتر بنا سکتے ہیں تا کہ ایک عام آدمی کی زندگی سہل ہو سکے اب جیسا کہ آج کل مارکیٹ میں شخصیت کو دیکھ کر چیز بیچی جاتی ہے اگر تو تھوڑا پڑھا لکھا ہے مارکیٹ کے اصول و ضوابط جانتا ہے اسے چیز مناسب نرخ پہ بتائی جا تی ہے اگر کوئی بیچارہ سادہ لوح شخص پہلے تو خریداری کی سکت نہیں رکھتا اور اگر بچوں کی خاطر چلا بھی جائے تو اسے مہنگے داموں پہ چیز دی جاتی ہے یا پھر غیر معیاری چیز پکڑا دی جاتی ہے۔ جیسا کہ میڈیکل اسٹور پہ ملٹی نیشنل دوائی کی بجائے کٹ ریٹ والی دوائی تھما دی جاتی ہے۔ 

    دوسری طرف ہماری یہ بھی اخلاقی کمزوری بن چکی ہے کہ جس چیز کا ریٹ موجود نہیں اس میں بے تحاشہ منافع شامل کر لیا جاتا ہے۔ کپڑے کو دیکھیں تو 50 یا 100 کے ہندسے میں ملے گا یعنی یا تو 300 روپے میٹر یا پھر 350 روپے بیچ والی گنتی جیسے بھول گئی ہو, اسیطرح جوتے والے یا پھر جنرل اسٹور اور کراکری والے بھی من مرضی کے ریٹ لگاتے ہیں اور آگے سے پوچھتے ہیں کہ آپ کتنے دیں گے؟ فرنیچر والے اور دیگر اشیائے ضرورت والے تو مت پوچھیں دکان میں پاؤں رکھا نہیں کہ اسی طرح واپس آنے کو دل کرتا ہے۔ 

    میری تمام تاجران سے اور حکومتی عہدیداروں سے اپیل ہے کہ مہنگائی کے طوفان میں اور کچھ نہ سہی تو غریب عوام کی اس طرح بھی مدد ہو سکتی ہے ایک تو ہر چیز کا ریٹ لگا ہو ، جو کہ منظور شدہ ہو ، اور مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کو یقینی بنائیں تاکہ عام آدمی کو کسی جگہ تو ریلیف ملے.

    @ItzJadoon 

  • شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ بڑی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔
    خیبر پختونخوا پاکستان کے شمال مغربی حصے میں واقعہے۔ اس کی وسیع سرحد
    افغانستان سے منسلک ہے۔ خیبر پختونخوا اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے جانا جاتا
    ہے۔ سیاحوں کی دلچسپیاور مہم جوئی کے لیے بہت سی جگہیں ہیں۔ شمال میں کچھ
    خوبصورت اور جنت نظیر وادیاں اور پہاڑ ہیں جن میں کاغان اورسوات،کالام، مالم
    جبہ شامل ہیں۔ یہاں پر بہت سے دریا بھی بہتے ہیں جن میں کابل، سوات، چترال، ژوب
     شامل ہیں۔ ان دریاؤںاور جھیلوں کی وجہ سے یہ صوبہ زیادہ تر سرسبز و شاداب
    وادیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ سال کے زیادہ تر وقت یہ وادیاں اور پہاڑ برفسے ڈھکے
    ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں یہاں موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا ہے اس لیے پاکستان سمیت
     دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑیتعداد شمالی علاقوں کا رخ کرتی ہے۔

    ناران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں کاغان وادی ایک مقبول سیاحتی
     مقام ہے۔ یہ مانسہرہ شہر سے 119 کلومیٹر (74 میل) 2،409 میٹر (7،904 فٹ) کی
    بلندی پر واقع ہے ۔یہ بابوسر ٹاپ سے تقریبا kilometres 65 کلومیٹر (40 میل) دور
     ہے۔  کاغاناپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر
    سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    وادی کاغان

    ایک الپائن وادی ہے جو خیبر پختونخوا ، پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے۔
     2005 کے تباہ کن کشمیر زلزلے سے پیدا ہونے والیلینڈ سلائیڈنگ نے وادی میں جانے
     والے کئی راستوں کو تباہ کردیا ، حالانکہ اس کے بعد سڑکیں بڑی حد تک دوبارہ
    تعمیر کی گئی ہیں۔کاغان ایک انتہائی مقبول سیاحتی مقام ہے۔

    ناران کاغان میں ہر سال خوشگوار موسم کی وجہ سے ہزاروں سیاح وادی کی سیر کو آتے
     ہیں۔ یہ بابوسر پاس سے گرمیوں میں گلگتہنزہ کا گیٹ وے بھی ہے۔

    جھیل سیف الملوک

    جھیل سیف الملوک ایک پہاڑی جھیل ہے جو وادی کاغان کے شمالی سرے پر واقع ہے ، یہ
     سیف الملوک نیشنل پارک میںناران قصبے کے قریب سطح سمندر سے 3،224 میٹر (10،
    578 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ اور پاکستان کی بلند ترین جھیلوں میں سےایک ہے۔
    ماہرین کا خیال ہے کہ وادی کاغان تقریبا 300،000 سال قبل گلیشیر سے ڈھکی ہوئی
    تھی۔ اور یہ جھیل بھی گلیشیر کےپگھلنے سے وجود میں آئی۔ دی گارڈین کے مطابق
    جھیل سیف الملوک پاکستان کے پر کشش مقامات میں سے 5 ویں نمبر پر ہے۔گلیشیر کے
    درمیان سبزی مائل شفاف جھیل کسی خواب کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس کے اسی ملکوتی
    حسن کی بدولت اس کےبارے میں مختلف کہانیاں مشہور ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چاند
     کی چودھویں رات کو یہاں پریاں اترتی ہیں۔

    شوگران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کو بے شمار خوبصورت مقامات سے نوازا گیا ہے اور
    وادی شوگران ان میں سے ایک ہے۔ شوگرانوادی کاغان کا ایک پہاڑی مقام ہے جو سطح
    سمندر سے 2،362 میٹر کی بلندی پر ہے۔ شوگران کے لوگ بہت شائستہ اور دوستانہہیں۔
     ہر سال سیاحوں ایک بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے۔  سری پائے میں ، پائی جھیل
    کے نام سے ایک جھیل ہے جہاںسیاح گھڑ سواری سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ
    کہ سری پائے ایک زرخیز سرسبز گھاس کا میدان ہے۔ وادی شوگران میںمالکنڈی جنگل
    اور منی چڑیا گھر شوگران اہمیت کے حامل ہیں۔ مالکنڈی جنگل ایک گھنا اور گہرا
    جنگل ہے۔ مالکنڈی جنگل کی سیرکرتے وقت ، آپ کو چیتوں اور کالے ریچھوں کا سامنا
    کرنا پڑ سکتا ہے ، اس لیے اپنی حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ وادیشوگران میں
    منی چڑیا گھر بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ ایک چھوٹا چڑیا گھر ہے جس میں
    معروف سہولیات اور پرندوں کیخاص قسم ہے۔

    آنسو جھیل

    آنسو جھیل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی وادی کاغان میں
    واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے 4،245 میٹر (13،927 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے اور اسے
    ہمالیہ رینج کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ جھیل وادی کاغان
     کا سب سےاونچا پہاڑ ملیکا پربت کے قریب واقع ہے۔ جھیل کا نام اس کی آنسو کی
    شکل کی وجہ سے  ہے۔ اس کو  1993 میں پاک فضائیہ کےپائلٹوں نے دریافت کیا تھا جو
     اس علاقے میں نسبتا کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔ مشکل اور دشوار گزار سفر کے
     باوجود اس کیخوبصورتی سیاحوں خاص طور پر مہم جوئی کے شوقین افراد کو یہاں
    کھینچ کر لے آتی ہے۔

    مالم جبہ

    مالم جبہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں سیدو شریف سے تقریبا
     40 کلومیٹر دور ہندوکش پہاڑی سلسلے میں ایک ہلاسٹیشن اور سکی ریزورٹ ہے۔ یہ
    اسلام آباد سے 314 کلومیٹر اور سیدو شریف ہوائی اڈے سے 51 کلومیٹر کے فاصلے پر
    واقع ہے ۔ یہپاکستان کا واحد سکی ریزورٹ ہے۔  یہ صرف ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ
     اس کے آس پاس  2 بدھسٹ سٹوپا اور 6 خانقاہیں بھیہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ
    یہاں دو ہزار سال پہلے بھی آبادی تھی۔

    اگرچہ مالم جبہ زیادہ تر اسکیئنگ کے لیے مشہور ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک
    خوبصورت اور پر فضا پہاڑی مقام ہونے کی وجہ سےبھی یہاں ہر سال سیاحوں کا رش
    رہتا ہے۔

    نتھیاگلی

    نتھیا گلی ایک خوبصورت اور پر فضا پہاڑی ریزورٹ ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر
    پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں واقع ہے۔ یہگلیات رینج کے مرکز میں واقع ہے ،
    جہاں کئی پہاڑی سٹیشن واقع ہیں۔ نتھیا گلی اپنی قدرتی خوبصورتی ، پیدل سفر کے
    ٹریک اورخوشگوار موسم کے لیے جانا جاتا ہے، جو کہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے باقی
     گلیات رینج کے مقابلے میں بہت ٹھنڈا ہے۔ یہ مری اورایبٹ آباد دونوں سے تقریبا
     32 کلومیٹر (20 میل) دور ہے۔ جنگلی حیات اور فطرت سے محبت کرنے والے سیاحوں
    اور ہائیکنگکرنے والوں کے لیے یہ بے پناہ کشش لیے ہوئے ہے۔

    چونکہ نتھیا گلی 8،200 فٹ پر واقع ہے ، اس لیے میراں جانی ہائیکنگ  کے لیے
    بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ یہ 6-7 گھنٹے کا سفر ہے۔اگر پیدل سفر طویل لگتا ہے تو
     سفر کے لیے گھوڑے بھی کرائے پر دستیاب ہیں۔

    ایک انتہائی تجویز کردہ جگہ ، گرین اسپاٹ پاکستان ایئر فورس بیس کالاباغ پر
    واقع ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز ، آرام دہ علاقہ ہے۔قریب ہی ایک چھوٹا سا کیفے ہے
    جو کافی ، چائے ، سافٹ ڈرنکس اور سنیکس پیش کرتا ہے۔

    گورنر ہاؤس نتھیا گلی کے مرکزی بازار سے سڑک کے اوپر واقع ہے۔ بہت پہلے برطانوی
     راج کے دوران تعمیر کیا گیا۔یہ سرسبز وشاداب لان سے گھرا ہوا ہے۔

    فن تعمیر کا ایک اور حیرت انگیز شاہکار نتھیا گلی کا چرچ ہے۔  برطانوی حکمرانوں
     کے دور میں تعمیر کیا گیا ، لکڑی سے بنا ہوا چرچ نتھیاگلی میں ایک اہم کشش ہے۔
     اس کے چاروں طرف سرسبز گھاس ہے جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔

    مشک پوری

    شمالی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں نتھیا گلی پہاڑیوں
    میں ایک 2،800 میٹر اونچا (9،200 فٹ) پہاڑ ہے۔ یہاسلام آباد سے 90 کلومیٹر (56
    میل) شمال میں ، ایوبیہ نیشنل پارک کے نتھیا گلی علاقے میں ڈنگا گلی کے بالکل
    اوپر ہے۔ یہ میرانجانیکے بعد گلیات ریجن کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو 2،992
    میٹر (9،816 فٹ) پر واقع ہے۔

    چوٹی پر پانی کا تالاب ہے جو آسمان اور درختوں کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔
    وادی کشمیر کا ایک خوبصورت نظارہ مشک پوری سےبھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لہذا ،
    بنیادی طور پر ، نہ صرف یہ دلکش مقام آپ کو اپنی اندرونی خوبصورتی دکھاتا ہے
    بلکہ آس پاس کےمقامات کی جھلک بھی پیش کرتا ہے-

    ایوبیہ نیشنل پارک

    مری پہاڑیوں میں ایک چھوٹا قومی پارک ہے۔ ایوبیہ نیشنل پارک تقریبا 3128 ہیکٹر
    ایکڑ رقبے پر محیط ، یہ جگہ خاص طور پر کے پیکے میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں ان
    پرندوں اور جانوروں کا وجود ہے جو ناپید ہونے کے خطرے کا شکار ہیں۔ کالا ریچھ
    اور چیتےعام نظر میں آتے ہیں۔ کوکلاس فیزینٹ اور کالیج فیزینٹ ، یہاں پائے جاتے
     ہیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ 45 منٹ کا یہ سفر دریائے جہلم اور پائنس
     سے ڈھکی پہاڑیوں کی دلکش خوبصورتی سے بھرپور ہے۔ یہ پارک پاکستان میں نم
    ہمالیہ کےمعتدل جنگلات کی بہترین باقیات میں سے ایک ہے اور سات بڑے دیہات اور
    تین چھوٹے شہروں (نتھیاگلی ، ایوبیا اور خانس پور) سے گھرا ہوا ہے۔ ایوبیہ
    نیشنل پارک ایک بڑا تفریحی علاقہ ہے جس میں بڑی تعداد میں مقامی سیاح آتے ہیں
    جن میں زیادہ تر اسلامآباد اور ایبٹ آباد سے آتے ہیں۔ ہر سال تقریبا 100،000
    سیاح یہاں آتے ہیں۔

    وادی سوات

    وادی سوات ایک بلند و بالا سیاحتی مقام ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے
     شمال مغربی پہاڑوں میں واقع ہے۔ یہ جگہ آثارقدیمہ ، سیر و تفریح اور ہائیکنگ
    کے لیے مثالی ہے۔ اگرچہ سوات کی وادی اپنی شاندار قدرتی خوبصورتی کے لیے شہرت
    رکھتی ہے ،پھر بھی اس کے 5،337 کلومیٹر (2،061 مربع میل) کے رقبے میں سیاحوں کے
     لئے بہت سے پرکشش مقامات ہیں۔ سوات کوپاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے ،
    دریائے سوات کے ارد گرد ایک قدرتی جغرافیائی علاقہ ہے۔ وادی گندھارا کی قدیم
    بادشاہت کےتحت ابتدائی ہندو مت اور بدھ مت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ وادی میں 10
    ویں صدی تک بدھ مت کا وجود تھا، جس کے بعد یہ علاقہزیادہ تر مسلم ہوگیا۔

    سیدو شریف سوات کا دارالحکومت ہے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، سیدو شریف میں
    مرکزی سرکاری دفاتر ، پیشہ ور تعلیمیادارے ، صحت کی سہولیات وغیرہ موجود ہیں ۔
    سیدو شریف وادی سوات میں 25 قبل مسیح اور پہلی صدی کے اختتام کےدرمیان بدھ مت
    کا ثبوت ہے۔ سیدو شریف میں سیاحوں کی ایک اور اہم توجہ سوات میوزیم ہے جو بدھ
    دور کی ہزاروں اشیاءکے ساتھ ساتھ بدھ سے پہلے کے تاریخی نمونے بھی دکھاتا ہے۔

    مینگورہ بازار سوات کا مرکزی کاروباری مرکز ہے۔ مینگورہ شہر میں ہزاروں دکانیں
    ہیں جو تمام دن کھلی رہتی ہیں۔ مینگورہ میں مختلفقسم کے ہوٹل ، ریستوران ، ٹیک
    اوے ، کیفے اور مغربی فوڈ آؤٹ لیٹس ہیں جو مقامی اور فاسٹ فوڈ دونوں پیش کرتے
    ہیں۔

    سوات ہندوکش پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع اپنے شاندار پہاڑوں کے لیے بھی مشہور
     ہے جہاں آپ پیدل سفر ، ٹریکنگ اورہائیکنگ کر سکتے ہیں۔ سطح سمندر سے 4500 سے
     6000 میٹر تک کئی پہاڑی چوٹیاں ہیں۔ دریائے سوات پر مشتمل سوات کا علاقہسرسبز
    وادیوں ، برف سے ڈھکے گلیشیئرز ، جنگلات ، گھاس کا میدان اور میدانی علاقوں سے
    ڈھکا ہوا ہے۔سوات کی جھیلیں اپنےساتھ ایک بھرپور تاریخ رکھتی ہیں۔ وادی سوات
    میں بے شمار تالاب اور میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیلیں ہیں۔ اس وادی میں تقریبا
    35 مشہور جھیلیں ہیں ، ان میں سے ہر ایک اپنے دلکش اور چمکتے ہوئے مناظر سے
    منفرد ہے۔ یہ جھیلیں پودوں اور جنگلی حیات کیمتعدد اقسام کا گھر ہیں۔

    وادی کالاش

    شمالی پاکستان کے ضلع چترال کی وادیاں ہیں۔ یہ وادیاں ہندوکش پہاڑی سلسلے سے
    گھری ہوئی ہیں۔ وادی کے باشندے ایک منفردثقافت ، زبان رکھتے ہیں اور قدیم ہندو
    مت کی ایک شکل پر عمل پیرا ہیں۔ کالاش وادیاں پاکستانی اور بین الاقوامی سیاحوں
     کے لیےکشش کا باعث ہیں۔ کالاش لوگوں کی ثقافت منفرد ہے اور شمال مغربی پاکستان
     میں اپنے اردگرد موجود بہت سے عصری اسلامینسلی گروہوں سے مختلف طریقوں سے
    مختلف ہے۔ وہ مشرک ہیں اور فطرت ان کی روز مرہ کی زندگی میں انتہائی اہم اور
    روحانیکردار ادا کرتی ہے۔ ان کی مذہبی روایات اور تہوار ان کے مذہب کی نمائندگی
     کرتے ہیں۔ کالاش دو الگ الگ ثقافتی علاقوں پرمشتمل ہے ، رمبور اور بمبوریت کی
    وادیاں ایک بنتی ہیں اور دوسری وادی بیریر؛ وادی بیریر ان دونوں میں زیادہ
    روایتی ہے۔ کالاشافسانہ اور لوک داستانوں کا موازنہ قدیم یونان سے کیا گیا ہے ،
      لیکن وہ برصغیر پاک و ہند کے دیگر حصوں میں ہندو روایات کےبہت قریب ہیں۔
    کالاش نے ماہرین بشریات اور سیاحوں کو اپنی منفرد ثقافت کی وجہ سے اس علاقے کے
    باقی لوگوں کے مقابلےمیں متوجہ کیا ہے۔ اپنی شاندار ثقافت ، زبان ، تہواروں اور
     آرٹ کی عالمی مقبولیت کے معیار کے ساتھ سیاحوں کے لیے بھرپورکشش رکھتا ہے۔اگر
    آپ معاصر آرٹ اور کلچر کے شوقین ہیں تو کے پی کے میں کالاش ویلی کا رخ کریں۔

    ٹھنڈیانی

    ٹھنڈیانی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گلیات علاقے میں ایک پہاڑی سٹیشن
    ہے۔ ٹھنڈیانی ضلع ایبٹ آباد کے شمال مشرقمیں واقع ہے اور ہمالیہ کے دامن میں
    ایبٹ آباد سے 37.5 کلومیٹر (23.3 میل) کے فاصلے پر ہے۔ دریائے کنہار سے آگے
    مشرق میںبرف سے ڈھکا ہوا پیر پنجال پہاڑی سلسلہ کشمیر ہے۔ کوہستان اور کاغان کے
     پہاڑ شمال اور شمال مشرق میں دکھائی دیتے ہیں۔شمال مغرب میں سوات اور چترال کے
     برفانی سلسلے ہیں۔ ٹھنڈیانی کے لفظی معنی ” بہت سرد ” کے ہیں۔ اس سے آپ یہاں
    کیآب و ہوا کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ٹھنڈیانی موسم گرما کے مہینوں میں بہترین
    موسم اور سرسبز و شاداب ، اور سردیوں میں برف سےڈھکی پہاڑیوں کی خصوصیت رکھتا
    ہے۔ خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان سے بہت سے سیاح یہاں آتے ہیں ، خاص طور پر
    گرمیوںکے موسم میں۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے ، پرکشش مناظر اور جنگلوں اور
    دیگر قریبی مقامات تک ہائیکنگ کی خصوصیت کی وجہسے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے۔ یوں تو پاکستان کے دوسرے صوبوں اور
    اضلاع میں بھی خوبصورت وادیاں ہیں۔ لیکنخیبر پختونخواہ میں پائی جانے والی یہ
    سرسبز، دلکش اور پرسکون وادیاں پاکستانی سیاحت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ
    وادیاں ہر ساللاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ کر لاتی ہیں۔ اگرچہ بہت سی
    وادیوں کو جانے والے راستے کافی اچھی حالت میں ہیں لیکن ابھیبھی زیادہ تر
    علاقوں تک پہنچنے کے لئے انتہائی دشوار گزار سفر طے کرنا پڑتا ہے۔  لیکن سیاحت
    اور مہم جوئی میں دلچسپی رکھنے اورپرفضا، پرسکون جگہ پر چھٹیاں گزارنے کے
    خواہشمند افراد کے راستے میں یہ مشکلات رکاوٹ نہیں بنتی۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • نسبت کمال اللہ کی طرف تحریر: یاسر خان بلوچ

    نسبت کمال اللہ کی طرف تحریر: یاسر خان بلوچ

          ذوالقرنین ایک ایسا حکمران تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے سلطنت حکومت اقتدار اور اسباب و وسائل کی فراوانی سے نوازا تھا ۔ آپ کے اقتدار اور سازوسامان کا رب تعالیٰ نے ان الفاظ میں تذکرہ فرمایا: ”ہم نے انہیں زمین پر اقتدار دیا اور ہر قسم کے وسائل مہیا کیے۔”
          آپ مشرقی و مغربی ممالک کو فتح کرتے ہوئے ایک ایسے پہاڑی درّے پر پہنچے کہ جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے وہاں کے لوگوں نے آپ سے ایک مطالبہ کیا ، جس کا ذکر رحمٰن نے یوں فرمایا: ” انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! بے شک یاجوج و ماجوج اس سرزمین میں فساد کرنے والے ہیں تو کیا ہم تیری کچھ آمدنی طے کر دیں اس شرط پر کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دے۔”
          بادشاہ ذوالقرنین نفس پرست اور مال و دولت کا حریص نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والا اور آخرت پر ایمان رکھنے والا مومن شخص تھا۔ اس نے جواباً کہا:
          "جن چیزوں میں میرے رب نے مجھے اقتدار بخشا ہے وہ بہت بہتر ہے، اس لیے تم قوت کے ساتھ میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔”
          ذوالقرنین نے فوراً اپنی خدمات پیش کی اور تعمیراتی سامان مزدوروں سمیت طلب کیا اور فرمایا:
          "تم میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کا درمیانی حصہ برابر کر دیا تو کہا: آگ تیز جلاؤ یہاں تک کہ اس نے اسے آگ بنا دیا تو کہا: لاؤ میرے پاس پگھلا ہوا تانبا میں اس کو اس پر انڈیل دوں۔”
          جب گرم چادروں پر پگھلا ہوا تانبا ڈالا گیا تو وہ ایسا لمبا مضبوط بند بن گیا کہ یا جوج ماجوج اس کو پار کرنے یا اس میں نقب زنی کرنے سے عاجز آگئے۔ حد درجہ مضبوط اور لمبی چوڑی دیوار قائم کر دی اور اس عظیم کارنامے کو سر انجام دیکر اپنی زبان سے ایسا تاریخی جملہ کہا کہ ساری کوشش و محنت اور ہنر مندی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دی اور رب تعالیٰ نے اس پیارے جملے کا قرآن بنا کر حضرت محمدﷺ پر نازل فرمادیا۔
          حضرت ذوالقرنین نے فرمایا:
          "یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آگیا وہ اسے زمین کے برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ ہمیشہ سچا ہے۔”
       سیدنا ذوالقرنین کے مثالی جواب سے تین باتیں سامنے آئیں۔
       1۔ ہمین نیکی، اچھائی اور احسان کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اللہ نے ہمیں اس قدر مقام عطا فرمایا ہے کہ ہماری توجہ، سفارش یا راہ نمائی سے کسی غریب کا بھلا ہو سکتا تو ہمیں اول فرصت اس سے تعاون کر کے اپنا اللہ سے اجر لینا چاہیے۔ دوسری طرف کسی ساتھی، دوست یا قریبی کا کام کرنے سے پہلوتہی کرنا، جھوٹے وعدے دے کر اس کو پریشان کرنا یا کام کرنے کے لیے تکلفات کا مظاہرہ کرنا رشوت کا مطالبہ کرنا، ایسا کردار کسی دنیا دار جاہل کا تو ہو سکتا ہے با عمل مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔
       2۔نیکی کا کام سر انجام دیکر اپنی صلاحیتوں اور کارناموں کی داستان کھولنے کی بجائے، اس کو اللہ تعالیٰ کی توفیق کہ کر اسی کی طرف منسوب کر دینا چاہیے۔ اکثر دنیا دار تو درکنار دینی ذوق رکھنے والے معمولی سا کارنامہ انجام دے کر اترانا شروع کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے کام لے لے وہ شکر، تواضع اور نسبت الی اللہ کی بجائے فخرو غرور اور گھمنڈ کا شکار ہو جاتے ہیں جب کہ ایسا کرنا عمل ضائع کرنے کے برابر ہے۔اور آجکل یہ ٹرینڈ بنا ہوا ہے کہ کوئی بھی اگر کسی غریب کی مدد کر دے تو سیلفی کے بہانے اس کی تذلیل کی جاتی ہے۔
       3۔اپنی مضبوط سے مضبوط بلڈنگ، کوٹھی اور بنگلے پر بھی نازاں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عارضی جانتے ہوئے، توجہ آخرت کی طرف کرنی چاہیے۔ آج کل لوگ پانچ یا بیس مرلہ کی کوٹھی بنا کر فکر آخرت سے بلکل غافل ہو جاتے ہیں اور ان کی ساری توجہ مکان، کوٹھی اور دکان تک ہی محدود رہتی ہے۔
       ‎@YasirKhanblouch