آج سے چار ہزار سال پہلے Egyptian لوگ جنہیں مصری بھی کہا جاتا ہے مصر پر راج کرتے تھے اور اپنے زمانے میں انہوں نے ایسی دریافتیں کی تھی جو آج ہم صرف سوچ ہی سکتے ہیں جیسا کہ پیرامڈ یا اہرام مصر کا آسمان کی طرف تین ستاروں کے بالکل نیچے ہونا اور اہرام مصر کے اندر کا درجہ حرارت 20 ڈگری ہی رہنا جس کا مطلب ہے کہ نہ یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے اور نہ ہی گرمی ہمیشہ ایک جیسا ٹمپریچر رہتا ہے اور سب سے حیرت انگیز چیز جو یہاں انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے وہ ہے ایلین کیونکہ ایلین کے بارے میں آج ہم جو تصورات پیش کرتے ہیں وہ وہاں مصر میں آج سے چار ہزار سال پہلے پیرامڈ یا اہرام مصر کے پر ایلین کے بارے میں ایسی ایسی پینٹنگز موجود ہیں جو آج کے سائنسدانوں کو وہاں کھوج کرنے پہ مجبور کر دیتی ہیں اور اہرام مصر کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ یہ انسانوں نے بنائے ہوں گے بلکہ یہاں پر اور بھی مخلوق موجود تھی جس پر آج کے دور میں یقین کرنا ناممکن ہے سائنسدان اہرام مصر پر لمبے عرصے سے کام کر رہے ہیں مگر آج تک کوئی بھی یہ نہیں جان پایا کہ یہ تین پیرامڈ کس طرح بنائے گئے اور یہاں پر کس طرح کی کنکریٹ کا استعمال ہوا ہو گا کیونکہ صرف ایک پیرامڈ کے اندر 13 لاکھ پتھر استعمال ہوئے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ استعمال ہونے والے ہر ایک پتھر کا وزن 27 سو کلو سے لے کر 70 ہزار کلو تک ہے اس لیے ایک پتھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت دینا بہت مشکل ہے اور اگر آج کی بات کریں تو آج کے دور کی جدید ترین کرین بیس ہزار کلو سے زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی تو آج سے چار ہزار سال پہلے اتنا وزن اٹھانا کس طرح ممکن ہوا ایک مقام سے دوسرے مقام پر کس طرح ان پتھروں کو پہنچایا گیا اس کا ایک ہی جواب ہے جس پر آج کل کے دور پہ یقین کرنا مشکل ہے اور وہ ہے ایلین کیونکہ ان پیرامیڈ کے بارے میں ایک مشہور تھیوری ہے جس کو Orion Constellation کی تھیوری کہہ سکتے ہیں کیونکہ اگر آپ رات کے وقت ان پیرامڈ کو دیکھیں تو ان کے بالکل اوپر تین ستارے پرفیکٹ ڈائریکشن میں نظر آئیں گے یہی تین ستارے Orion Constellation میں واقع ہے اور ان تین ستاروں کی پوزیشن ان پیرامڈ سے واضح ہوتی ہے اس لیے کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بہت سال پہلے خلائی مخلوق یا ایلین انہی تین ستاروں سے زمین پر آئے تھے اور اپنے ساتھ بہت ایڈوانس ٹیکنالوجی لے کر آئے تھے اور انہوں نے ہی ان کو تعمیر کروایا تھا اب یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ اہرام مصر کو خلائی مخلوق نے بنایا یا انسانوں نے لیکن ایک بات تو طے ہے اور وہ یہ کہ ان تین پیرامڈ سکا ان تین ستاروں سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے اس کا ذکر ایک اور سائنسدان نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے اس نے جب پیرامڈ کے پتھر کے پر تجربات کیے تو پتہ لگا کہ جو پتھر پیرامڈ میں لگا ہوا ہے اس ساخت کا پتھر پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے اہرام مصر ہر زاویے سے مختلف رازوں سے بھرے پڑے ہیں یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ پیرامیڈ انسانوں نے بنائے تو اس وقت انسانوں کے پاس اتنی ٹیکنالوجی کہاں سے آئی اور دوسری بات ان کے اوپر ایلینز اور اڑن طشتری کی پینٹنگ موجود ہونا جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ یہ پیرامڈ انسانوں نے نہیں بنائے ہیں اور اگر انسانوں نے بنائے ہیں تو یہ پیرامڈ کس لیے بنائے گئے پہلے لوگ یہ مانتے تھے کہ ان پیرامیڈ کے اندر س وقت کے بادشاہوں اور ملکہ کی حنوط شدہ لاشیں موجود ہیں ہے مگر جب پیرامڈ کے اندر ایک روبوٹ کو بھیجا گیا تو سب کچھ واضح ہو گیا کہ پیرامڈ کے اندر کسی قسم کی کوئی حنوط شدہ لاش موجود نہیں تھی اہرام مصر آج بھی سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے اور سائنسدان اس کے اوپر تجربات کر رہے ہیں دیکھتے ہیں اور کتنا وقت اور لگتا ہے اہرام مصر کی حقیقت جاننے میں
Author: Baaghi TV

نیوزی لینڈ ایک کٹھ پُتلی تحریر۔محمد نسیم
24 جون 2020 کو وزیرہوابازی جناب غلام سرور نے پارلیمان کے سیشن میں انکشاف کیا کہ قومی ائیرلائن PIA کے 262 پائلٹس کو جعلی لائسنس جاری کئیے گئے ہیں
کیونکہ خبر پاکستان کی تھی تو جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور خوب پھیلی انڈین میڈیا نے بھی بات کو خوب اچھالا اور یہ خبر پورے آب وتاب کے ساتھ انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنی کیونکہ خبر حیران کن تھی تو پاکستان دشمن عناصر نے موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور یورپی یونین ،امریکہ اور انگلینڈ میں یہ مسئلہ پوری قوت سے اٹھایا گیا اور ان تینوں نے پی آئی اے پر چھ ماه کی پابندی لگادی
اس ضمن میں یہ بات قابل ستائش ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت نے کھل کر اداروں میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا شروع کی اسی طرح مہذب قومیں اپنی خامیوں کو پہچان انکی تصیح کرکے ترقی کی منازل کی طرف گامزن ہوتی ہیں اور دُنیا میں نام کماتی ہیں لیکن پاکستان جو ہمیشہ سے اندرونی و بیرونی غداروں سے گھرا تھا اس دفعہ اسکو اندرونی غداروں کو کھل کر پہچاننے کا موقع ملا اور غداروں کو بھی غداری کرنے کا موقع مل گیا
اپنوں کی بیوقوفیوں اور غیروں کی عیاریوں کے باوجود اس امر کے کہ پاکستان نے معاملے کی تحقیقات کرکے 22 پائلٹس کے خلاف جعلی لائسنس رکھنے کے خلاف کاروائی کی یکم جولائی 2020 پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے 6 ماه کی پابندی لگادی گئی
یہ پاکستان کے قومی خزانے کا بہت بڑا نقصان تھا پر یہ وہی خواب تھا جس کے لئیے دشمن برسوں سے جال بنتا آرہا تھا خیر پاکستان نے اس امر کو مہلت سمجھتے ہوئے ائیر لائن میں ہر ممکن اصلاحات اور شفافیت لانے کا انتظام کیا۔
ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ جنوری 2021 کو پی آئی اے کو EU،انگلینڈ اور امریکہ جانے کی اجازت مل جاتی لیکن ناضرین PIA پر پابندی میرٹ کے تحت لگائی ہی نہ گئی تھی بلکہ یہ تو ایک سوچے سمجھے سازش تھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی لہذا نتیجہ یہ ہوا کہ دسمبر 2020 میں تین ماه کا اور اضافہ کردیا گیا
قائین لیکن بات ابھی بھی ختم نہ ہوئی بلکہ مارچ 2021 میں بھی پی آئی اے کی فلائٹس نا کھل سکیں اور کورونا کا بہانہ بنا کر جولائی 2021 تک پابندی میں اضافہ کردیا گیا اور پھر جولائی سے تاحال پابندی برقرار رکھی گئی
قارئین پاکستان نے ان تین فریقوں کو اس قدر غیر سنجیده روئیے پر سخت ردعمل کا فیصلہ کیا اور انگلینڈ کی ایک سال کے اندر آنے والی وزارت داخلہ کی تین فلائٹس کو پاکستان آمد سے صاف انکار کردیا اور برطانیہ سے سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں داخلے کے لئیے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالا جائے اور لوگوں کو آمد ورفت کی اجازت دے مگر برطانیہ نے پاکستان کا نام ریڈ لسٹ سے نہ ہٹایا اور اپنی ہٹدھرمی پر بضد رہا پاکستان پابندی سے کروڑوں ڈالر نقصان سہتا رہا برطانیہ کو جب چارٹرڈ طیاره اترنے کی اجازت نہ ملی تو اس کو تین لاکھ پاؤنڈ کا نقصان پہنچا اور قائین کھیل یہاں سے مزید کھیلا جاتا ہے ہم سب جانتے کہ برطانیہ کو نقصان سہنے کی عادت نہیں چنانچہ اس نے اور بھارت نے پاکستان میں ہونے والی پاک نیوزی لینڈ کرکٹ سیریز کو نشانہ بنانے کی ٹھانی۔انہوں نے کیوی ٹیم پر ممکنہ دہشگرد حملوں کی جھوٹی انٹیلیجینٹس رپورٹ نشر کرنا شروع کردی اور نیوزی لینڈ کو مجبور کردیا کہ وہ اپنا دوره پاکستان معطل کردے
چنانچہ پاکستان کی جانب سے صدارتی سیکیورٹی کے حصول اور تمام یقین دہانیوں کے باوجود بھی کیویز نے اپنا دورہ عین وقت پر معطل کیا
قائین یہ اقدام پاکستان کے ابھرتےاعتماد اور طاقت کو زچ کرنے اور پاکستان کے عوام کے جزبات مجروح کرنے کےلئیے کیا گیا
نیوزی لینڈ کے اس غیر ذمہ دارانہ روئیےسے دنیا بھر کے کرکٹ کھلاڑیوں ،شائقین اور منتظمین کی طرف سے کڑی تنقید کی گئی لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ملک پاکستان جوکہ بیرونی دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہا تھا اور متعلقہ فورمز پہ ان کو جواب دے رہا تھاعین اسی وقت ملک کے اندرونی غداروں نے آستین کے سانپ کی مانند ملک کو ڈسنا شروع کردیا ان ملکی غداروں نام نہاد دانشوروں سے لے کر بڑے بڑے صحافی ،اینکرز،تجزیہ کار اور سیاستدان بھی ہیں جنہوں نے اس ملک کی پلیٹ سے کھایا اور بڑانام کمایا، وه سیاستدان جنہوں نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا آج وه بین الاقوامی منظر نامے کے اس نازک موڑ پر پاکستان سے اس غداری کا ارتکاب کررہے ہیں کہ شاید ہی ملک پاکستان اس نقصان کو سہہ پائے
پاکستان آج تاریخ کے جس اہم موڑ پر کھڑا ہے مجھے الله پاک سے قوی اُمید ہے جلد پوری دُنیا پاکستان کی قربانیوں اور نیک نیتی کا اعتراف کرے گی لیکن پاکستانی ان بیرونی آقاؤں کے اشارے پر چلنے والے دانشوروں اور سیاستدانوں کو کبھی معاف نہیں کریں گےمیرے وطن خداکرے تیری ارض پاک سے نکلے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
@Naseem_KheraSent from my iPhone

مرنے کے بعد قیامت تک کا معاملہ. تحریر: محمد اسعد لعل
اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے ایک دن اس کے اعمال کے مطابق اس کے ساتھ جزا و سزا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے دی ہے۔قرآنِ مجید ہمیں پیغمبری کی تاریخ کے بارے میں یہ بتاتا ہے کہ جس دن اس دنیا کی ابتداء ہوئی اسی دن سے پیغمبری کی بھی ابتداء ہو گئی۔ حضرت آدمؑ سے لے کر محمد ﷺ تک انبیاء کرام جزا و سزا کی منادی کرتے آئے ہیں، انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید نے یہ بتایا ہے کہ انبیاء کرام اس لیے بھیجے گئے تاکہ وہ لوگوں کو جنت کی بشارت دیں اور اللہ کے عذاب اور گرفت سے ان کو خبردار کریں۔ انبیاء کرام نے جتنی بھی تفصیلات بیان کی ہیں وہ سب کی سب جزا و سزا ہی کا حصہ ہیں۔۔۔ اُس میں جو باتیں بتائی گئی ہیں ان کا خلاصہ میں بیان کر دیتا ہوں۔
اس دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں کہ جن کا معاملہ بالکل صاف ہوتا ہے۔ وہ خدا کی ہدایت کو لپک کر قبول کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تعبیر کے مطابق دین میں سبقت کے مقام پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں جیسے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر اور دوسرے جلیل و قدر صحابہ ہیں یا خود انبیاء کرام ہیں۔ اسی طریقے سے قرآنِ مجید نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کی راہ میں جان دے دیتے ہیں، جن کو شہدا کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان اللہ کی راہ میں دے دی، دین کی دعوت دی گئی تو آگے بڑھ کر دعوت کو قبول کیا، پہلے ہی مرحلے میں اللہ کے پیغام کی تصدیق کر دی اور اس کے بعد زندگی بھر اپنے آپ کو خدا کے راستے پر رکھا۔ ۔۔ان کے لیے کسی حساب کتاب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بتایا ہے کہ جیسے ہی یہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں ہماری نعمتیں ان کو ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
دوسرے وہ لوگ ہیں جو خدا کے مقابلے میں سرکش ہو گئے۔انہوں نے خدا اور خدا کے پیغمبروں کو چیلنج کر دیا۔ بڑی مثالوں میں جیسے فرعون ہے، ابو جہل ہے۔۔۔ اُن کے بارے میں بھی قرآنِ مجید میں بتا دیا گیا ہے کہ جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اُن کو صبح شام اُن کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح سے گویا ایک ذہنی نوعیت کا ٹورچر ہے جس میں وہ مبتلا کر دیے جاتے ہیں۔
تیسرے وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اچھے کام بھی کیے ہیں اور بُرے کام بھی۔۔۔ کوئی سرکشی نہیں کی، ندامت کا احساس بھی ہوتا ہے، ایمان بھی ہے اور خدا کی طرف رجوع بھی ہے۔۔۔تو ان لوگوں کا معاملہ اُٹھا رکھا جائے گا یہاں تک کے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حساب کتاب کر کے فیصلہ کریں گے اور بتائیں گے کہ یہ نیکو کار تھے، تو ان کے لیے ظاہر ہے ایک جزا ہے۔۔۔ اور اگر اس موقع پر ان کا پلڑا ہلکا ہوا تو ان کے لیے سزا ہے۔
یہ تین کیٹیگری قرآنِ مجید نے الگ الگ کر دی ہیں، جزا و سزا تو محشر کے روز ہی شروع ہو گی، لیکن اللہ کی نعمتیں ایک گروہ کے لیے اور اللہ کا عذاب ایک دوسرے گروہ کے لیے مرنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے، کیوں کہ ان کے حساب کتاب کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی ان کا معاملہ ہر لحاظ سے واضح ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں، اور روز محشر نیکوکار لوگوں کے ساتھ اُٹھائے جائیں۔۔۔آمین
Twitter ID:
@iamAsadLal

ڈالر اور حکومتی چورن تحریر : سیف الرحمان
دوستوپاکستان حاصل کرنے کا مقصد اگر دیکھا جائے تو اس حساب سے اس وقت ہم تقریبا الٹ چلتے نظر آ رہے ہیں۔ ہم نے انگریزوں اور ہندوں بظاہر آذادی حاصل تو کرلی لیکن ہمارے حکمرانوں آج بھی ہمیں ان کے تابع کر رکھا ہے۔ ہمارے ہاتھ پاؤں باند کر آئی ایم ایف اور ولڈ بینک کے آگے چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے تمام ٹیکس اور قیمتوں کا تعین امریکی کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم اس سیارے میں سب سے کم تر مخلوق ہیں۔ ہندوں آج بھی ہمیں ویسے ہی دیکھ رہا ہے جیسے ستر سال پہلے دیکھا کرتا تھا۔ انگریز آج بھی ہماری مجبوری سے فائدہ اٹھارہا ہے جیسا آذادی سے پہلے لیا کرتا تھا۔
ایک طرف ہمیں ڈالر نے دبا کر رکھا ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں آج جو اپوزیشن ملی وہ بھی انتہائی احمق , نابالغ , غیر سیاسی اور مفاد پرستوں کا ٹولا ہے۔ جب یہ لوگ حکومت میں تھے تب بھی انہوں نے ملک کو تباہ کیا اور آج جب یہ اپوزیشن میں ہیں تو بھی مال بچاؤ کھال بچاؤ سے آگے کا کچھ سوچتے ہی نہیں۔دوسری طرف حکومت کے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے اور اندازے اس وقت غلط نظر آ رہے ہیں۔ اشیاء خردو نوش کی تمام چیزیں مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہیں۔ آٹا ۔چینی۔گھی اور دالیں جو ہر گھر کی بنیادی ضروریات ہیں پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ اس وقت تمام صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے۔
ابھی غریب آٹے چینی اور گھی کی وجہ سے پریشان بیٹھا تھا کہ ڈالر نے اڑان بھر لی۔ ڈالر اس وقت تاریخ کی سب سے مہنگی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔اگر معیشت اچھی سمت چل رہی تھی تو ڈالر کیوں مہنگا ہو ا؟
ڈالر کی اڑان نے حکومت کے ان تمام دعوں کا پول کھول کر رکھ دیا جس میں برآمدات کے اضافے کی باتیں کی جا رہی تھی۔ کرنٹ خسارے میں کمی جیسے دعوے بھی کئے گئے۔ صحافی جب شوکت ترین صاحب سے مہنگائی اور ڈالر مہنگا ہونے پہ سوال کرتے ہیں تو ترین صاحب یا تو بات گول کر دیتے ہیں یا جواب ہی نہیں دیتے۔لگ رہا ہے کہ شاہد ترین صاحب اگلے دو سال پورے نا کر پائیں کیونکہ ان کے پاس کہنے کو کچھ خاص بچا بھی نہیں۔ خان صاحب کھلاڑی بدلنے سے وقت تو گزر جائے گا لیکن شاہد حالات نہ بدل سکیں۔ اس لئے بہتر ہے کوئی ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔
بحثیت پاکستانی قوم ہم اس رویہ کے مستحق نہیں جیسے ہمارے حکمران ہمارے ساتھ کرتے آ رہے ہیں۔ پیٹرول ڈبل ٹیکس لگا کر دیا جاتا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے گندم اور چینی باہر سے منگوائی جاتی ہے پھر ہمیں ہی مہنگےداموں فروخت بھی کی جاتی ہے۔جب وزیروں سے مہنگی چینی اور آٹے پہ سوال کیا جائے تو کہتے ہیں کسان کو اسکی پوری قیمت دی جا رہی ہے اس لئے آٹا چینی مہنگی ہیں۔ چلو مان لیا آپ کسان کو پوری قیمت دے رہے ہو تو پھر باہر سے گندم چینی اور دالیں کیوں منگوا رہے ہو؟ زرعی ملک ہونے کے ناطے عوام کو وافر چینی آٹا دالیں اور سبزیاں بھی تو ملنی چاہیں۔ اگر نہیں مل رہی تو کسان سے کون پوچھے گا کہ بھائی اتنی سبسڈی اور ریٹ لینے کے باوجود تم زرعات میں ہمیں کیا دے رہے ہو؟ کھانے پینے کی اشیاء کا ایک زرعی ملک میں مہنگا ہونا حکمرانوں کی نالااہلی کاجیتا جاگتاثبوت ہے۔
جب بات کی جائے مہنگائی کی تو کہتے ہیں سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے یہ دن دیکھنے کو ملا ہے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ سابقہ حکمرانوں نے بہت کرپشن کی وہ نااہل اور نکمے تھے لیکن خان صاحب آپ کو آئے بھی اب تین سال ہو چکے ہیں۔ آپ نے مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ اگر اقدام کئے تو کیا آپ کے اقدامات سے مہنگائی کنٹرول ہوئی ؟ آئندہ عام انتخابات میں جیتنا ہے تو مہنگائی کو شکست دینی پڑے گی ورنہ عوام نے مہنگائی سے تنگ آ کر بقول آپ کے ان ہی چوروں ڈاکوں کو پھر ووٹ دے دینا ۔ اس بار نہ تو آپ کا دھرنا کام آئے گا اور نا ہی عوام آپ کی باتوں میں آئے گی۔
اس وقت ڈالر نے تمام ملکی ریکارڈ توڑ دیئے۔ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکا ہے۔ مئی 2021سے ستمبر 2021کے درمیان صرف چار ماہ کے کم عرصہ میں ڈالر 16روپے مہنگا ہوا ہے۔ اگر بات کی جائے اوپن مارکیٹ کی تو پاؤنڈ اس وقت دوسو پینتیس, یورو اس وقت دوسو تیس, اماراتی درہم سنتالیس, سعودی ریال پنتالیس, دینار چارسوچوراسی ,ین تیس روپے پچاسی پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔
آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ خان صاحب آپ کو اپوزیشن سے ذیادہ اپنی معاشی ٹیم سے خطرہ ہے۔ اگلا الیکشن اگر جیتنا ہے تو مہنگائی کو ان دو سالوں میں ہر صورت شکست دینی پڑے گی۔ اگر آپ کی حکومت مہنگائی سے ہار گئی تو الیکٹرانک ووٹنگ بھی آپ کوشکست سے نہیں بچا پا گئی۔خان صاحب آپ کے اردگرد موجود سیاسی بیٹروں کی ٹیم نکمی اور نااہل ہے۔ آپ ایجنسیوں کی مدد لیں اور سٹاک ایکسچنج کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ مہنگائی پہ کنٹرول کیلئے بھی ایجنسیوں کو متحرک کریں۔ اپنے نااہل وزیروں اور مشیروں کی فوج کو گھر بھجوائیں۔ آپ کو ڈیفنڈ کرنے کیلئے سوشل میڈیا پہ نوجوانوں کی ایک لمبی چوڑی بیروگار فوج موجود ہے۔ آپ صرف عوام کی جان مہنگائی سے چھڑا دیں ورنہ عوام نے آپ سے جان چھڑا لینی۔
@saif__says

صنف نازک: ہر روپ میں عظیم
صنف نازک ہوں مگر میں سرفراز ہوں تاریخ کے کرداروں میں۔ میں صنف نازک محبت کی علامت۔ میں صنف نازک وفا کا پیکر۔
صنف نازک۔ عورت۔ معاشرے کا ایک ایسا ستون جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ تہذیب یافتہ نہیں ہو سکتا۔
یہ کہانی ہے آج کے دور کی۔ اکیسویں صدی کی۔ اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ بیٹیوں کی بجائے بیٹے کی پیدائش کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ انہیں نسل چلانے کے لیے بیٹے چاہیے۔ اولاد کا اختیار تو رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہے رحمت سے نوازے۔ جسے چاہے نعمت عطا کرے۔ ایک عورت آتی ہے ڈاکٹر صاحب کے پاس کہ ڈاکٹر صاحب کوئی ایسی دوا دیں کے میری بہو کے صرف بیٹا پیدا ہو۔ ایسا رواج بنا دیا ہے کہ سسرال میں صرف اسی عورت کی پوزیشن مضبوط ہے جو بیٹے کی ماں ہے۔ نسل چلانی ہے۔ نسل چلانے والی بھی ایک عورت ہی ہے نا۔؟ عورت کے بطن سے ہی اولاد جنم لیتی ہے نا۔ تو صرف بیٹوں کا رونا کیوں۔؟
اگر دنیا میں عورت نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ میں بتاتی ہوں اگر دنیا میں عورت نہ ہوتی تو مرد کی تکمیل نہ ہو پاتی وہ ادھورا ہی رہتا، عورت نہ ہوتی تو دنیا نا مکمل ہوتی، عورت نہ ہوتی تو دنیا میں حسن نہ ہوتا۔ عورت کی بدولت ہی دنیا میں رنگینی ہے۔ عورت کی بدولت ہی دنیا میں جذبات و احساسات ہیں۔ مرد کی کامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اگر عورت نہ ہوتی تو مرد کا وجود بے کار ہوتا اور دنیا میں تخلیق کا عمل نہ ہوتا، نسل نہ بڑھتی، ایک خوبصورت گھر کا تصور نہ ہوتا اور دنیا بالکل بے معنی اور بے رنگ ہوتی۔ کیوں کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔
ہمیں آج یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت بھی ہمارے معاشرے کا ایک مضبوط ستون ہے۔ عورت کے بغیر یہ معاشرہ نامکمل ہے۔ عورت عزت و احترام کا نام ہے۔ عورت والدین کے لیے باعث فخر اور بھائیوں کے لیے باعث عزت ہے۔ عورت صبح کا نور ہوتی ہے۔ عورت رات کا تارا ہوتی ہے۔ اللّٰہ تعالٰی کی دی گئی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت عورت کا وجود ہے۔ گھر ہو یا کاروبار ہر جگہ عورت ایک مضبوط ستون ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں عورت کی ذات جو سب سے بڑے مسئلے کا شکار ہے وہ یہ کہ قوت فیصلہ کی طاقت اس کے پاس نہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک دوست نے پوسٹ شیئر کی، جس میں اس نے لکھا تھا کہ ” میں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں۔ صبح سویرے ماں اٹھایا کرتی تھی کہ ” بیٹا اٹھ جاؤ تمہیں سکول جانا ہے ". جب کچھ بڑا ہوا تو بہن اٹھاتی تھی کہ ” بھائی جان اٹھ جاؤ ناشتا تیار ہے” بھائی جان کیا آج کالج نہیں جانا۔؟
شادی ہوئی تو بیگم کہنے لگی "اٹھ بھی جائیں، آپ نے ڈیوٹی پر نہیں جانا؟”.. کچھ عرصے بعد بیٹی کہنے لگی ” ابو جی اٹھ جائیں، آپ نے مجھے اسکول چھوڑنے جانا ہے”۔ اب بڑھاپے کی عمر ہے اور بہو رانی کہتی ہے ” بابا جی اٹھ جائیں، ناشتا کر لیں، آپ نے دوا وقت پر کھانی ہے”۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت جس روپ میں بھی ہو عظیم ہے”.
معاشرے میں اسلام نے عورت کو بہت مقام و مرتبہ اور شرف و اعزاز عطا فرمایا ہے۔ بحیثیت ماں ، بہن، بیوی اور بیٹی کے روپ میں اعلیٰ و ارفع مقام سے روشناس کرایا ہے۔
ویسے تو اسلام نے عورت کو ہر لحاظ سے بلند مقام عطا فرمایا ہے لیکن عورت کو ماں کا درجہ دے کر اس کی عظمت میں چار چاند لگا دئیے ہیں۔ عورت ماں کے روپ میں مرد سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ اللّٰہ تعالٰی نے عورت کے قدموں میں جنت رکھ کر اسے عظیم ترین بنا دیا ہے۔
اسلام نے عورت کو بحیثیت بیوی بہت سے حقوق دیئے ہیں۔ اسلام بحیثیت بیوی عورت کے تمام حقوق کی نگہداشت کرتا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور ظلم و تعدی سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کامل مومن وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہیں۔
اسلام میں عورت کو بحیثیت بہن و بیٹی جو بلند مقام عطا فرمایا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک نہیں چار بیٹیوں کا باپ بنایا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ جب وہ آتیں تو ان کے لیے چادر بچھا دیتے اور ان کو "بضغة منى” یعنی میرے جگر کا ٹکڑا کہتے تھے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی کہ لڑکیوں کا باپ ہونا مؤجب عار نہیں بلکہ مؤجب سعادت ہے۔ اللّٰہ تعالٰی جس سے خوش ہوتا ہے اس کے گھر اپنی رحمت بیٹی کے روپ میں بھیجتا ہے۔
آج کے زمانے میں بیٹیاں بیٹوں سے بڑھ کر اپنے والدین کا سہارا بنی ہوئی ہیں۔ ہر میدان میں کامیاب ہو کر اپنے والدین کا نام روشن کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی ہمیں بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
Twitter I’d @alifsheen_5
دنیا میں بہت سے لوگ آتے ہیں تحریر:تابش عباسی
دنیا میں بہت سے لوگ آتے ہیں جو شاید سب کچھ اپنی خواہشات و محنت کے مطابق حاصل کر لیتے ہیں پر جوں ہی ان کی سانسیں رکتی ہیں لوگ بھی انہیں بھول جاتے ہیں ۔ پر ایک ایسی بھی قسم انسانوں کی موجود ہے جو اپنا آج ، اپنی نسلوں و قوم کے کل پر قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں ، شاید ایسا ہی ایک نام نامور و بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی صاحب (شہید) کا بھی ہے ۔ سید علی گیلانی صاحب نے اپنی محنت و اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر و تحریک تکمیل پاکستان کو وہ جلا بخشی ہے کہ سید علی گیلانی صاحب اب ایک شخص نہیں بلکہ آزادی کشمیر کا ایک نا ختم ہونے والی جدو جہد مسلسل کا دوسرا نام بن چکے ہیں –
سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے ۔ پاکستان سے محبت شاید پیدائش کے وقت سے ہی آپ کی رگوں میں خون بن کر گردش کر رہی تھی –
سید علی گیلانی صاحب نے دو شادیاں کیں تھی – آپ کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں – آپ کا ایک بیٹا ڈاکٹر جبکہ دوسرا زرعی یونیورسٹی سرینگر میں لیکچرر ہے – آپ کی بیٹیاں اور خاندان کے دوسرے افراد بھی دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک ہیں -1953 سے لے کر 2004 تک آپ جماعت اسلامی کے ممبر رہے ، پر 2004 میں ممبر شب سے استعفیٰ دے دیا-اس کے بعد تحریک حریت کی بنیاد رکھی -جون 2020 تک چیئرمین حریت کانفرنس رہے اور اس دورانیے میں بہترین قائدانہ صلاحیتوں سے تحریک کو نئی جلا بخشی- آپ جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر سوپور حلقہ سے تین مرتبہ ( 1972 ، 1977, 1987) ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے-
تعلیم کے حصول کے لیے گیلانی صاحب نے لاہور بھی وقت گزارا – تکمیل تعلیم کے بعد ، جموں کشمیر واپس جا کر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس میں عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا –
1946 میں مولانا سید مسعودی صاحب سے آپ کی ملاقات ہوئی ،جس میں مولانا سید مسعودی صاحب نے آپ کو نہایت ذہین اور محنتی پایا – مولانا صاحب جو اس وقت نیشنل کانفرنس کے سیکرٹری جنرل بھی تھے ، انہوں نے گیلانی صاحب کو جماعتی اخبار ” اخبار خدمت” کا رپورٹر بنایا – مسعودی صاحب نے گیلانی صاحب کی اعلی تعلیم مکمل کرنے میں مالی معاونت بھی کی ، جس کی وجہ سے گیلانی صاحب اردو ، انگلش ، فارسی وغیرہ پر دسترس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے- تعلیم حاصل کرنے کے بعد ، گیلانی صاحب نے پتھری مسجد ، سرینگر میں معلم کی حثیت سے پہلی باقاعدہ نوکری کا آغاز کیا –مولانا مودودی کے ایک پیروکار ، صلاح الدین ترابی سے آپ کی قربت تھی ۔ آپ نے مودودی صاحب کی کتب ان سے ادھار لے کر پڑھنا شروع کی اور آہستہ آہستہ جماعت اسلامی کے قریب تر ہوتے گئے ۔ آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ جو میرے دل میں تھا وہ مودودی صاحب نے کتاب کی شکل میں میرے سامنے لا کھڑا کیا – یوں ، آپ باضابطہ جماعت اسلامی کی طرف راغب ہوئے-
پھر ، گیلانی صاحب سرینگر سے سوپور کی طرف واپس آ گئے اور انٹر میڈیٹ کالج میں پڑھانا شروع کیا ۔ ان چھ سالوں میں گیلانی صاحب نے جماعت اسلامی کے نصاب کو خوب پڑھا اور ساتھ اپنے شاگردوں کو بھی اس طرف راغب کیا ۔
1953 میں باقاعدہ طور پر جماعت اسلامی کی رکنیت حاصل کی ۔
بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں تحریک چلانے کی وجہ سے ہندوستانی حکومت نے 1981 میں آپ کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور اس کے بعد صف 2006 میں آپ کو حج کے لیے جانے کی اجازت دی گئی جو کہ آپ کی زندگی کا ہندوستان سے باہر جانے کا آخری واقعہ تھا-
2007 میں آپ کو کینسر کی تشخیص ہوئی – علاج کے لیے ڈاکٹروں نے انگلینڈ یا امریکہ جانے کا مشورہ دیا ۔ امریکہ نے آپ کو ویزہ شاید ہندوستانی حکومت کے دباؤ میں آ کر مسترد کر دیا اور بہانہ یہ رکھا کہ کشمیر کی تحریک کو پرتشدد بنانے میں گیلانی صاحب کا ہاتھ ہے –
عمر عبد اللہ ہمیشہ ہی سید علی گیلانی صاحب کی پاکستان سے محبت اور تحریک تکمیل پاکستان کے لیے جدو جہد کو وادی میں تشدد اور فوجی کاروائیوں کی وجہ قرار دیتے رہے جبکہ عمر عبد اللہ کے والد فاروق عبد اللہ بھی ہمیشہ گیلانی صاحب کے دل سے پاکستان سے محبت کو مٹانے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ۔
سید علی گیلانی صاحب کو ایک دھچکا اس وقت بھی لگا ، جب 2014 کے عام انتخابات میں انہوں نے کشمیریوں سے انتخابات سے بائیکاٹ کرنے کا کہا – پر اس الیکشن میں اس کے متضاد وہ ہوا جو گزشتہ 25 سال میں نہ ہوا تھا – 65 فیصد کشمیریوں نے اپنا رائے حق دہی استعمال کیا – ہندوستان اور ہندوستانی میڈیا کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل گیا کہ کشمیریوں کی اکثریت سید علی گیلانی صاحب سے الگ نظریہ رکھتی ہے اور شاید یہی کشمیریوں کے موجودہ حالات کی ایک وجہ بھی ہے – شاید مرد حق سید علی گیلانی 2014 میں جو مستقبل کے خطرات دیکھ رہے تھے ان کو پوری دنیا میں 2019 میں عملی طور پر ہوتے دیکھا ۔ عمر عبد اللہ ، محبوبہ مفتی کو بھی یہ بات ماننا پڑی اور وہ کہہ اٹھے کہ شاید ہمارے بزرگوں کا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ غلط تھا اور یوں سید علی گیلانی اور ان کے نظریہ الحاق پاکستان کی جیت ہوئی ۔2016 میں برہان وانی شہید کی شہادت کے بعد ، سید علی گیلانی صاحب نے اقوام متحدہ کو بھی خط لکھا جس میں چھ واضح پوائنٹس دیے گئے کہ کیسے کشمیر کو پرامن رکھا جا سکتا ہے اور کیسے انسانی حقوق کی پامالی کو روکا جا سکتا ہے-بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں تحریک چلانے کی وجہ سے ہندوستانی حکومت نے 1981 میں آپ کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور اس کے بعد صرف 2006 میں آپ کو حج کے لیے جانے کی اجازت دی گئی جو کہ آپ کی زندگی کا ہندوستان سے باہر جانے کا آخری واقعہ تھا-
12 مارچ 2014 کو جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ و بجلی کا بندش کا ایک واقع پیش آیا ۔جس میں یہ شور برپا ہوا کہ سید علی گیلانی صاحب وفات پا چکے ہیں اور حکومت وقت اس بات کو چھپانے کے لیے ایسے حالات بنا رہی ہے – پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی صاحب زندہ ہیں، بجلی اور انٹرنیٹ کا مسئلہ اس لیے آیا کہ وادی میں برف زیادہ پڑنے سے تاریں بہت سی جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں – تب جا کر کشمیریوں نے سکھ کا سانس لیا اور شکرانے کے نفل تک ادا کے گے –
2019 پلوامہ حملوں کے بعد ، ہندوستانی حکومت اور میڈیا نے آزادی پسند رہنماؤں خصوصاََ سید علی گیلانی صاحب کو حملے کا ذمہ دار قرار دے کر ایک دفعہ پھر تفتیش شروع کر دی -سید علی گیلانی صاحب کے صاحبزادے نعیم کے مطابق ، یکم ستمبر 2021 کو رات ساڑھے دس بجے (10:30pm) سید علی گیلانی صاحب اس فانی دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ گئے – وفات کی وجہ کئی دنوں سے مسلسل ہونے والا سخت بخار بتاتا گیا – نعیم علی گیلانی کے مطابق ان کے والد مرحوم کا جنازہ بھی ان سے چھین کر ہندوستانی فوجیوں نے خود دفنایا اور لوگوں کو نماز جنازہ میں آنے سے روکنے کے لیے پوری وادی میں انٹرنیٹ اور امدورفت کے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے ۔ حیدر پورہ میں کرفیو سا سماں تھا ، گویا سید علی گیلانی صاحب کی لاش سے بھی بزدل فوج اور حکومت ڈر رہی تھی -سید علی گیلانی صاحب اس دنیا سے آزادی کشمیر و الحاق پاکستان کا خواب لے کر چل دیے مگر اب ہم سب پر ، انفرادی و اجتماعی طور پر یہ لازم ہے اور گیلانی صاحب کے خون کا قرض ہے کہ اس تحریک کو نہ رکنے دیں نہ آہستہ ہونے دیں بلکہ اگر ضرورت پڑے تو اپنا آپ قربان کر کے بھی اس تحریک کو جلا بخشیں اور انشاء اللہ ، انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو گا اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کی تکمیل کو گیسید علی گیلانی صاحب کو اس نعرے ” ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے ” کی وجہ سے بطور بانی رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا -سید علی گیلانی صاحب کی نمازِ جنازہ پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی کشمیری موجود تھے وہاں غائبانہ طور پر ادا کی گئی ۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قومی اسمبلی کے سامنے ، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی –
سید علی گیلانی مرحوم کے پوتے ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی ( صدر کشمیر یوتھ الائنس پاکستان) کا کہنا تھا کہ "سید علی گیلانی ایک بہترین باپ ، بہترین دادا اور بہترین انسان تھے – خود ہندوستانی حکومت و فوج کے مظالم برداشت کرتے رہے پر انہوں نے ہم سب کو اعلی تعلیم دلوائی پر ” ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے ” کے نعرے کو ہم سے حلف لے کر ہم پر لازم کر دیا کہ ہم اپنے خون کا آخری قطرہ بھی آزادی کشمیر و تکمیل پاکستان کے لیے حاضر کریں – انشاء اللہ ، ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس نعرے کی محافظ رہینگی –
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی ایک شخص نہیں ایک تحریک کا نام ہے اور شاید آج کشمیری قوم خصوصاََ جموں و کشمیر کے کشمیری یتیم ہو چکے ہیں
Take a look at Engr Tabish Abbasi (@Abbasi_Talks): https://twitter.com/Abbasi_Talks?s=08-زراعت کے شعبے میں عمران خان کا انقلاب پہلا حصہ تحریر: احمد خان
پاکستان زراعت کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بہترین ملک ہے پاکستان کی تقریبا 60 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے جس ملک کا کسان خوشحال ہو سمجھو وہ ملک خوشحال ہے اس ملک کی معیشت اٹھ جاتی ہے وہ ملک بڑی تیزی سے ترقی کرنے لگتا ہے
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ بھارت کی معیشت ہم سے بہتر کیوں ہے؟؟ کیونکہ بھارت کی حکومت نے اپنے کسانوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کر کے اپنی برآمدات کو بڑھایا ہے
اور کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہم سب سے بہترین نہری نظام رکھنے کے باوجود بہترین زرخیز زرعی زمین رکھنے کے باوجود اپنی برآمدات کیوں نہ بڑھا سکے؟؟
کیونکہ ماضی کے تمام حکمرانوں نے جہاں ایک طرف ہمارے کسانوں کو سہولیات سے محروم رکھا تو وہاں دوسری طرف زرخیز زمینوں پر جان بوجھ کر وہ چیزیں کاشت کی گئی جس سے ان کے اپنے ذاتی کاروبار منافع بخش ہوتے گئے اور دیگر فصلوں کی پیداوار کم ہوتی چلی گئی اور یوں آہستہ آہستہ زراعت کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا
مثال کے طور پر نواز شریف آصف علی زرداری اور جہانگیر ترین جیسے مافیا کی بہت سی شوگر ملز ہیں اس کے متعلق یہ خبر نکل کر سامنے آئی تھی کہ
انہوں نے جان بوجھ کر پاکستان کی زرخیز زمینوں پر کماد کی کاشت کر کے پاکستانی زراعت کو تباہ کیا ہے جن زمینوں پر کپاس اور گندم کی زیادہ پیداوار ہونا تھی وہاں انہوں نے کماد کاشت کر کے اپنے ذاتی کاروبار کو فائدہ پہنچایا ہے
نمبر 2 زراعت
آپ یہ پڑھ کر حیران رہ جائیں گے کہ عمران خان کا یہ اقدام پاکستانی زراعت میں کتنا زبردست انقلاب لے کر آئے گا
عمران خان نے پاکستانی کسانوں کو جو سہولیات مہیا کی ہیں ان سہولیات کے بعد انشاءاللہ نہ صرف پاکستان کا کسان خوشحال ہو جائے گا بلکہ اس مرتبہ پاکستان میں ریکارڈ فصلوں کی پیداوار بھی ہوگی
کسان کے لیے دو سب سے بڑے مسئلے ہیں
1 کاشتکاری کے لیے کھاد بیج سپرے خریدنا
عمران خان نے کسان کے اس مسئلہ کو حل کرتے ہوئے کھاد بیج اور سپرے خریدنے کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپے کا بلا سود قرضہ فراہم کر دیا ہے یعنی مثال کے طور پر اگر میرے معاشی حالات اجازت نہیں دیتے کہ میں کوئی بھی فصل کاشت کروں یعنی گندم یا کپاس تو اب میں اس قابل ہو گیا ہوں کہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا بلا سود قرضہ لے کر میں کوئی بھی فصل کاشت کر سکتا ہوں
2 کسان کا دوسرا بڑا مسئلہ زرعی آلات خریدنا
کسان کو زمینوں اور فصلوں کی کاشت کے لیے مختلف زرعی آلات کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے لیکن آپ یہ جان کر بھی حیران رہ جائیں گے کہ عمران خان نے کسان کا یہ مسئلہ بھی حل کر دیا ہے اب کسان بڑی آسانی کے ساتھ دو لاکھ روپے تک کا بلا سود قرضہ لے کر اپنے زرعی آلات خرید سکتا ہے
اور صرف یہی نہیں اگر کسان کو اپنے لئے گھر بنانا ہو تو اسے 20 لاکھ روپے تک کا قرضہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے گھر کے ایک فرد کو بالکل مفت میں حکومت کی جانب سے ہنر مندی بھی سکھائی جائے گی
اس کے علاوہ زراعت کے شعبے میں بے شمار ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جو لکھنے بیٹھ جاؤں تو کالم ختم ہونے کا نام نہیں لے گا بس اتنا لکھ دیتا ہوں کہ بلوچستان میں تقریبا ایک کروڑ یا اس سے زائد ایکڑ پر زیتون کے درختوں کی کاشت کی جا رہی ہے اور یاد رکھیئے کھانے میں سب سے بہترین تیل زیتون کا ہوتا ہے اور یہ کھانے پینے کے علاوہ بہت سے معاملات زندگی میں استعمال ہوتا ہے
لیکن شرم تم کو مگر آتی نہیں ایسی سہولیات ملنے کے باوجود بھی لوگ عمران خان کو برا بھلا کہتے ہیں اسے بددعائیں دیتے ہیں اسے حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں
لیکن سچ تو یہ ہے جو خدا کا ناشکرا ہو وہ بھلا اپنے محسن کا کیسے شکر گزار ہو سکتا ہے
@iamAhmadokz

کاہلی کو بدقسمتی کا نام نہ دے تحریر: آویز
ہمارے معاشرے میں لوگ جس کام کو نہیں کر سکتے کہہ دیتے ہیں بلکہ ایسا کچھ نہیں ہے ہر محنت کرنے والے کو اللہ اس کا اجر دیتا ہے آپ بھی سچے دل سے ایمان سے محنت کریں اللہ آپ کو آپ کے کام میں ضرور مدد کرے گا وہ معجزوں کا خدا ہے
ہم میں سے اکثر افراد اپنی ناکامیوں کو اور کاہلی کو قسمت کا نام دیتے ہیں دراصل بدقسمتی ایک باطن ہوتا ہے جو کاہلو کی طرف سے خدا پر لگایا گیا تھا کمزور سوچ رکھنے والا شخص اور سست آدمی میں یہی سوچتا رہتا ہے کہ وہ اپنی ضرورتوں اور خواہشوں کوبن محنت کیے ہی حاصل کرلے دنیا میں ہر ترقی پذیر انسان محنت کرکے ہی اپنی منزل تک پہنچتا ہے جس کی کامیابی پر کاہلوں کو رشک ہوتا ہے جب کہ رب کریم نے بھی کاہلوں کو بھی باصلاحیت پیدا کیا ہوتا ہے
کامیاب انسانوں اور دوسرے انسانوں میں صرف ایک نقطے کا ہی فرق ہوتا ہے کامیاب انسان دوسرے انسانوں کی با نسبت لگ سوچتے ہیں بالآخر کامیابی کا سہرا اسے ہی سجایا جاتا ہے جو اس کے قابل ہوتا ہے زندگی میں سب سے مشکل کام کامیاب ہونا ہی ہے جو لوگ حوصلے والے ہوتے ہیں کامیابی کو حاصل کر لیتے ہیں وہ جن میں ہارنے کی ہمت نہیں ہوتی وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں کامیابی ایک بات نہیں ہر محنت کرنے والے کو اللہ کامیاب کرتا ہے چاہے جتنا مرضی مشکل راستہ کیوں نہ ہو خدا انسان کی ہر حال میں مدد کرتا ہے اگر آپ سچے دل سے خدا کے ہو جاؤ گے تو وہ آپ کا ہو جائے گا آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دی کھا آپ کے دکھ سکھ میں ہمیشہ آپ کا ساتھ دے گا جن کی ایک امتحان ہوتی ہے انسان کو اس میں طرح طرح کی مشکلیں پیش آتی لیکن انسان کو گھبرانا نہیں چاہیے اپنے اللہ پر رکھ کر یقین رکھ کر بس محنت کرنی چاہیے کچھ محنت کا اجر تو اللہ نے دیتا بجائے اس کے کہ آپ لوگوں کی خامیاں ڈھونڈے لوگوں میں اچھائی دیکھنا سیکھیں ان کے اچھے کاموں کو دیکھنا سیکھیں جب آپ ایک اچھی سوچ رکھتے ہیں تو خدا بھی آپ کے لئے اچھا سوچتا ہے میں یقین سے کہتا ہوں خدا انسان کو کبھی مایوس دیکھنا پسند نہیں کرتا خدا سے مانگنا چاہیے گلے شکوے شکایتیں نہیں کرنی چاہیے وہ تو دینے والا ہے جو آپ کے لئے اچھا ہو گا وہ آپ کو دے گا اور جو آپ کے لئے اچھا نہیں ہوگا وہ آپ سے چھین لے گا
انسان سوچتا ہے بعض دفعہ ان وہ اتنی محنت کرتا ہے لیکن خدا اس کے لئے کوئی رستہ نہیں نکال رہا یقین کیجئے اس کے کاموں میں دیر ہے اندھیر نے وہ تو عاجزی کا خدا ہے اگر وہ آپ کے لئے اچھا ہو تو وہ کبھی بھی آپ کو اس چیز کو دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا فرق بس اتنا ہی ہے کامیاب اور ناکام انسانوں کامیاب انسان محنت کر کے آگے جاتے ہیں جب کہ ناکام انسان محنت نہیں کر سکتے بزدل ہوتے ہیں بزدل ہوتے ہیں ہم دعا کرتے ہیں اللہ سب کو سب کی محنت کا اجر دے
انسان کے بس میں سب کچھ ہے لیکن وہ اپنے دل پر قابو نہیں پا سکتا اپنی خواہشوں پر قابو نہیں پا سکتا مجھے لگتا ہے انسان کو اپنے دل میں خواہشیں پیدا کرنی چاہیے تاکہ ان خواہشوں کو پورا کرنے کا انسان کے اندر جذبہ ہو تبھی تو انسان کامیاب ہو سکتا ہے یہ مت کبھی سوچیئے گا کہ اب ہمت ہار گئے ہیں ہمت نہ ہارے کامیابی ایک بہت بڑی دولت ہے اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی اس دنیا میں اس معاشرے میں صرف کامیاب انسان کی ہی قدر ہے سو معاشرے میں رہنے کے لئے عزت پانے کے لئے آپ کو کامیاب ہونا بہت ضروری ہے اگر آپ ہمت ہار جاؤ گے تو خدا بھی سوچے گا یہ انسان تو خود ہی ہمت ہار گیا ہیں اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو ہمت دے آپ اپنے راستے پر چلیں اس سے طاقت مانگے وہ کبھی آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے
@Hi_Awaiz

میری تو پولیس بھی سپانسرڈ ہے ۔۔! تحریر ؛ علی خان
@hidesidewithak
"پولیس کا فرض ہے مدد آپ کی، تعاون: حق بناسپتی "۔”تیزرفتاری سے اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں مت ڈالیں: تعاون برق موٹرز”۔”تھانہ کورس پارک ایک سو میٹر بائیں جانب، تعاون :کڑک چائے”۔ یہ اور ان سے ملتے متعدد بل بورڈز اور سائن بورڈز آپ کو ہر چھوٹے بڑے شہر میں ضرور نظر آتے ہیں۔ انہیں پڑھ کر یہ سمجھنا قاصر ہوجاتا ہے کہ یہ متعلقہ محکمے کی جانب سے مفاد عامہ کے پیغامات ہیں یا پھر ساتھ بتائے کاروبار کے اشتہارات۔ سب سے اچھنبے کی بات یہ ہے کہ ایسے بورڈز اوراشتہار زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پیغامات سے مزین ہوتے ہیں۔ یہ کمپنیاں اور کاروباری ادارے ایسے اشتہارات کو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی یعنی کاروباری سماجی ذمہ داری کے عنوان سے چھواتے اور لگواتے ہیں۔لیکن کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے؟؟؟
سب سے پہلے تو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کا یہاں اطلاق مبہم ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی قوانین میں سی ایس آر کا مطلب و مفہوم اس علاقے خطے یا ملک کے شہریوں کو معیار زندگی بہتر کرنے میں مدد کرنا ہے جہاں متعلقہ کمپنی کام یا کاروبار کر رہی ہو۔اس میں صحت عامہ کی سہولیات فراہمی، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔ کمپنی کا نام سرکاری اداروں کے ساتھ اشتہاری بورڈوں پر ٹانک دینےسے کونسی سماجی ذمہ دار ی ادا ہوتی ہے ؟یہ حل طلب سوال ہے۔
ایسے اشتہار نہ صرف سماجی ذمہ داری قوانین کی غلط تشریح ہیں بلکہ بہت سے حوالوں سے ذاتی فائدے، اثر و رسوخ بڑھانے اور غیر قانونی کاموں کو جواز دیتے ہیں۔ پہلے تو اس مد میں خرچ کی جانے والی رقم کو ٹیکس چھوٹ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا ادارہ جسکا نام محکمہ جاتی بورڈز پر کنندہ ہو سرکاری اہلکاروں کے لیے نو گو ایریا بن جاتا ہے اور وہ اسکی جانب رخ کرنے سے قبل کئی بار سوچتے ہیں چاہے وہاں کتنا ہی غیر قانونی کام ہی کیوں نہ ہورہا ہو۔ اب ایک ٹریفک کانسٹیبل ایسی کمپنی کی گاڑی کا چالان کیسے کاٹے گا جس کی ہر تقریب میں اسکا اعلیٰ افسر شرکت کرتا ہو؟ فوڈ انسپکٹر کے لیے ایسی فیکٹری میں کارروائی کرنا کہاں آسان ہوگا جو شہر میں ہونے والی تمام سرکاری تقاریب میں مفت کھانا فراہم کرتی ہو؟
سرکاری سطح پر ایسی سماجی ذمہ داری سرگرمیاں کوئی اب کی بات نہیں بلکہ دور قدیم میں جب کوئی سرکاری افسر کسی شہر کے دورے پر آتا تو اسکے قیام و طعام اور تفریح کی ذمہ داری مقامی ماتحتوں پر آجاتی۔ پٹواریوں میں ایک مقامی زمینداروں سے دیسی ککڑ اکھٹے کرتا تو دوسرا صاحب اور ہمراہیوں کے لیے نئے بستروں کا انتظام کرتا۔ گرمیاں ہونے کی صورت میں نئے پنکھوں کا انتظام کرنا بھی انہی سرکاری اہلکاروں کے ذمہ آتا ۔ اس مد میں آنے والی کل رقم صاحب کے ذاتی اکاونٹ میں منتقل ہوجاتی۔ یہی سلسلہ بڑھتے بڑھتے آج سرکاری اداروں کے بورڈوں تک پہنچ چکا
کچھ شہروںمیں اب پولیس کے گشت کرنے والے دستے کے موٹرسائیکلوں پر بھی یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ نجی کاروباری اداروں کی جانب سے فراہم کردہ موٹرسائیکل انکے عطیے کو نہ صرف شہر بھر میں مشتہر کرتے ہیں بلکہ قانون اور کاروبار کے مابین قریبی تعلق کا پیغام بھی عوام تک پہنچاتے ہیں۔ ارباب اختیار کو اس سلسلے کا جائزہ لینے اور حدود متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہاتو کوئی بعید نہیں کسی دن اہلکاروں کی وردیوں کے ایک بازو پر چائے والی کمپنی کا اشتہار کنندہ ہو اور دوسری جانب بناسپتی گھی کا۔ پولیس موبائل پر آئس کریم ، ٹوتھ پیسٹ، صابن اور ہیئر آئل کی تشہیر بھی دور کی بات نہیں لگ رہی۔ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ راہ چلتے ہیلمنٹ نہ پہننے پر آپکا چالان کاٹا جائے اور چالان کی پرچی پر محافظ ہیلمنٹ بنانے والے کا بطور تعاون کردہ ذکر ہو ۔

ٹیرارزم سے ٹورازم تک کا سفر ۔۔
9/11 کے بعد جنوبی ایشیا کے حالات بالعموم اور پاکستان کے حالات باالخصوص تبدیل ہوتے گئے۔ دنیا کی نظریں اس تبدیلی کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کے حالات پر ٹکی رہی۔
دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے اور قریبی ہمسایہ ملک افغانستان میں بیک وقت نیٹو امریکہ بھارتیوں سمیت کل ملا کر 50 کے قریب پراکسیز کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں اگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پہلے قبائل اور پھر پشاور سے ہوتے ہوئے دہشت گردی کا یہ ناسور پورے ملک میں سرائیت کر گیا۔
یہ ناسور اس قدر خطرناک تھا کہ ایک وقت میں پشاور میں لوگ خودکش اور بم دھماکوں کو گنتے تھے کہ اج کے دن ایک ہی روز میں 7 سے 8 دھماکے ہوتے گئے۔۔ حتی کہ کرکٹ جسے جینٹلمین کھیل کہا جاتا ہے اسکو بھی نا بخشا گیا اور سری لنکن ٹیم کی بس پر حملہ کر کے پاکستان کو پوری دنیا میں دہشت گردی کا گڑھ بنا دیا۔۔
دہشت گردی کے اس بھیڑیے نے پاکستان کو دنیا کے لیے نو گو ایریا بنا دیا جس کی وجہ سے دنیا پاکستان انے سے کتراتی رہی اور یوں سیاحت پاکستان میں نا ہونے کے برابر ہوئی۔۔
ِبھلا ہو ہماری عوام کا ہماری فوج کا ہماری عسکری نیم عسکری اداروں کا تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کا حکومت وقت کا جنہوں نے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا مصمم ارادہ کر کے 70 ہزار جانوں کا نزرانہ پیش کر کے بالاخر اس ناسور کو تقریباً ختم کردیا
اور دنیا میں پاکستان کے بارے میں لوگوں کا خیال رفتہ رفتہ بدلنے لگا۔
سب سے اچھا اقدام پی ایس ایل کا پاکستان میں انعقاد ہوا جس سے دنیا کو دہشت گردی کا خوف ختم کرنے میں بہت مدد ملی۔ اسکے بعد برطانوی جوڑے کا پاکستان کا دورہ کرنا بھی سیاحت کے فروغ کا باعث بنا۔
پاکستان ایک زرخیز اور 4 موسم رکھنے والا ملک ہے
جہاں دنیا کا اٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کے سرسبز و شاداب پہاڑ ، کشمیر کی قدرتی حسن سے مالا مال وادیاں اور خیبر پختونخواہ کا حسن، سیاحوں کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔
ساتھ ہی ساتھ موجودہ حکومت کی سیاحت میں دلچسپی کے باعث ایک بار پھر سے سیاحت نے انگڑائی لی اور مقامی افراد سمیت دنیا نے ان علاقوں کا رخ کرنا شروع کیا اور یوں دہشت گردی کے کالے سائے چھٹ کر سیاحت کا ایک درخشاں اور تابناک مستقبل سورج نمودار ہوا۔
اس عید الاضحی پر ایک سروے رپورٹ کے مطابق سیاحت کے شعبے میں 28 لاکھ عوام نے شمالی علاقہ جات کا رخ کیا جہاں انہوں نے 23 ارب سے زیادہ روپے خرچ کیے۔
یہ نوید ہے کہ پاکستان میں سیاحت پاکستان کی معیشت میں بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیاحت کے لیے مزید اقدامات کرے تاکہ نا صرف اندرونی سیاح بلکہ بین الاقوامی سیاح بھی مزید بڑی تعداد میں اکر سیاحت کو فروغ دیں۔
اخر میں سلام پیش کرتا ہوں پاکستانی عوام کا پاک فوج کا سیکیورٹی ایجنسیوں کا شہدا کا، جنہوں نے ٹیرارزم سے ٹورازم تک کے سفر میں بے شمار قربانیاں دے کر ہمیں اج اس قابل بنایا کہ ہم دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہیں۔۔
@Goharspeaks







