وہ دو دن سے اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارٹ میں زیرعلاج تھا، ان کے منہ سے باربار ایک ہی لفظ نکل رہاتھاکہ مجھے اپنے فرض پر واپس جاناہے ، قوم نے مجھ پرایک فرض عائد کیاہے میں وہ فرض پوراکروں گا، بھلا میں اپنے فرض سے کیسے غافل ہوسکتاہوں ، ڈاکٹر اصرار کرتے رہے وہ انکار کرتے رہے ، ٹی وی اسکرینز پر سرخیاں چلتی رہی آج ایک اہم رکن قومی فرائض پورا کرنے سے قاصر رہیں گے لیکن اللہ کاکرنا ایساہوا وہ دو دن مکمل ہوتے ہی مکمل ٹھیک ہوگئے، اور ڈاکٹرزنے انہیں اپنے فرض پر واپس جانے کی اجازت دے دی، وہ خوشی سے پھولاجا رہاتھاکیونکہ انہیں ایک بار پھر قوم کی خدمت کاموقع ہاتھ آگیا تھا، انہوں نے رب کاشکر ادا کیا اور فرض شناسی کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے راہ کی جانب ایساگامزن ہوگیا کہ رہتی دنیا کیلئے مثال بن گیا، اور ہر جگہ سے واہ واہ کی صدائیں بلند ہونے لگی، یہ نوجوان کوئی اور نہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے بار محمد رضوان ہے، محمد رضوان کا تعلق کے پی کے شہر پشاور سے ہیں ، یہ یکم جون 1992کو پیدا ہوئے ، بچپن سے ہی کرکٹ کا جنون سرپر سوار تھا، 140لسٹ اے میچز اور 161ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے بعد 17اپریل 2015کو بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے جبکہ 24اپریل کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا آغاز کیا، یہ آگے پچھلے مڑے بغیر اپنی پرفارمنس پر توجہ مرکوزرکھنے کی پوری کوشش کرتے رہے، پاکستان کرکٹ ٹیم میں مقابلہ سخت تھا، ہر نئے آنے والاکھلاڑی اپنی ردھم میں واپس آکر ٹیم میں جگہ بنانے کاخواہاں تھا،انہیں کئی بارمایوسی کاشکار اس لیے ہوناپڑاکیوں کہ وہ فارم سے بالکل آوٹ ہوچکے تھے، یوں ٹیم سے باہر کی ہوا بھی کھانی پڑی، یہ محنت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والاکھلاڑی ہے، مسلسل محنت کرتے رہے یوں 2019 میں ٹیم میں واپس آگیا، اسی اثنا میں وکٹ کیپر بلے باز سرفرازاحمد کی تنزلی کا آغاز ہوگیا،محمدرضوان مسلسل پرفارم کرتے رہے گیارہ فروری 2021کو لاہور میں ساوتھ آفریقہ کے خلاف 104رنز کی نایاب اننگز کھیل کر اپنی جگہ مزید مستحکم کر دیا، یہ یوں قوم کی خاطر کھیلتے رہے ، 24اکتوبر کو پاکستان کا انڈیاکے خلاف ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی میں میچ طے تھا، شائقین کرکٹ سالوں سے پٹاخے پھوڑنے کا انتظارکررہے تھے، شائقین کوامید تھی کہ اس بار یہ ٹیم وہ کام کردیکھائے گی جو اب تک نہیں ہوگا، پاکستان نے کرکٹ کی تاریخ میں انڈیاکو کبھی ورلڈ کپ میں شکست سے دوچار نہیں کیاتھا، لیکن یہ کارنامہ 24اکتوبر کی شام کو شاہینوں نے کردیکھایا، انڈیاکی پوری ٹیم 151کی مجموعی اسکور پر ڈھیر ہوگی، ٹیم پاکستان نے سترہویں آور میں بغیر کسی وکٹ کے تقصان کے ہدف پوری کرکے تاریخ رقم کرلی،اس میں محمد رضوان نے 79رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، یہ وہ مرحلہ تھا پاکستان کاسر فخر سے بلندہوگیا، ٹیم نے پچھلے مڑ کرنہیں دیکھی، بددستور نیوزی لینڈ،افغانستان، نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا، سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے ساتھ 11اکتوبر کو پنچہ آزمانی کرنی تھی، لیکن میچ سے دو دن قبل ٹی وی اسکرینز پر خبریں چلنے لگی، محمدرضوان اور شعیب ملک بیماری کی وجہ سے آسڑیلیاکے خلاف میچ نہیں کھیل پائیں گے، میڈیاکو بھی معلوم نہیں تھا کہ کیا ہورہاہے، 9اکتوبر کو محمد رضوان کی طبعیت اچانک بگڑ گئی وہ دبئی کے میڈیور اسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہوگئے، انہیں اپنی بیماری سے زیادہ قوم کی فکر تھی انہیں قوم نے ایک مشن پہ بھیجا تھا وہ ذمہ داری کو کسی صورت چھوڑنے کیلئے تیار ہی نہیں تھا، ڈاکٹر علاج کرتے اصرار کرتے رہے یہ انکار کرتے رہے کہ مجھے ٹیم میں واپس جاکر آسڑیلیا کے خلاف میچ کھیلناہے ، یہ باتیں اس وقت عیاں ہوئی جب آسڑیلیا کے خلاف میچ کے بعد محمدرضوان کاعلاج کرنے والاڈاکٹر سہیر سین العابدین سے رضوان کے بارے میں پوچھاکیا، ڈاکٹر سہیرسین العابدین نے کہا میں رضوان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا کہیں انہیں ہارٹ اٹیک تو نہیں آیا،جب انہیں اسپتال لایاگیا توان کی حالت بہت خراب تھی ، ان کے سینے میں درد تھا، گلہ سکھ گیا تھا، بیماری کے انتہائی درجے پر پہنچ چکاتھا لیکن ان کا حوصلہ آسمانوں سے باتیں کررہاتھا انہیں صرف اور صرف وطن کی فکر تھی، وطن کی لت نے انہیں بستر بیمار پر بھی رہنے نہیں دے رہاتھا، مسلسل 36گھنٹے آئی سی یو میں رکھنے کے بعد جب انہیں واپس بھیجا جارہاتھا تو وہ ایک دم صحت یاب ہوچکے تھے ۔ ڈاکٹر سہیر بھی ان کے اس حالت کو دیکھ کر حیران رہ گیا، محمدرضوان آئی سی یو سے نکل کرکٹ کے میدان میں آن پہنچا آسٹریلیا کے خلاف مسلسل سترہ آورز پچ کر براجماں رہے اور 79رنز کی نمایاں اننگر کھیلی، دوران میچ آسڑیلیا کے باولر مچل اسٹاک کی باونسرکی وجہ سے چہرے پر داغ بھی لگا، لیکن وہ باونسر بھی ان کی راہ میں حائل نہ ہوسکے،میچ میں آسڑیلیا نے پاکستان کو شکست تو دے دی لیکن رضوان کی کارکردگی اور وطن سے محبت نے دنیا ئے کرکٹ کے ستاروں سمیت شائقین کو حیران کردیا،
آپ نے کئی بار ایسی ویڈیو کلپ یا تصویر دیکھی ہوگی جس میں محمدرضوان میچ کے دوران نماز پڑھتے دیکھائی دیتاہے، چاہیے وہ بھارت کے خلاف میچ ہو یا پریکٹس سیشن ، دین سے قربت اور وطن سے محبت کی اس عمدہ مثال کیوجہ سے محمدرضوان دنیاجہاں میں آمر کرگیا، انہیں دنیائے کرکٹ کی تاریخ میں آئی سی یوسے نکل کر مردمیدان بننے والے کھلاڑی کے نام سے یاد کیاجائے گا، اسی فرض شناسی اور اپنے شعبے سے محبت نے دنیاجہاں کو جھومنے اور واہ واہ کرنے پر مجبور کردیا، پاکستان ورلڈ کپ تونہیں جیت سکا لیکن ورلڈ کپ سے بڑا کارنامہ انجام دے کر عالم انسانیت کی محبتیں سمیٹ لیں ۔
آپ ایک دن پورے ملک میں موجود اداروں کا ڈینانکال کر دیکھ لیں ، جہاں کام کرنے والے کتنے افراد فرض شناسی کے ساتھ اپناکام سر انجام دیتے ہیں ، آپ یقین کرلیں بیس فیصد ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے فرض کو پورا کرتے ہوئے تنخواہ حلال کرنے کی سعی کرتاہے،ہم میں سے ہرایک اپنے فرض سے غافل ہے، جب بھی فرصت ملے اپنا فرض چھوڑ دیتے ہیں ، اس ضمن میں سب سے زیادہ افراد گورنمنٹ سیکٹر میں کام کرنے والے ملازمین کی ہے ، انہیں نہ خوف خداہوتاہے نہ خوف انسان ، انہیں معلوم ہے ہماری نوکری لگ گئی اب کوئی بھی یہ نہیں چھین سکتا، ایساکیوں ہے، کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان صرف نام کامسلمان رہ گیا ہے، ہمیں اپنے فرائض معلوم ہی نہیں ، ہم صرف گورنمنٹ کو کرپٹ کہنے میں مصروف ہے، دراصل ہم میں سے ہرایک کرپٹ ہے ہمیں بس موقع ملنے کی دیر ہے،ہم کرپشن کی داستانیں بناکردم لیں گے ۔ جس دن اس ملک کا ہر فرد اپنے اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے محمدرضوان بن جائے گا اس دن یقین جانیں ملک ترقی کی راہوں پر داخل ہوگا اور پوری دنیا میں ہماری واہ وہ ہوں گے
Author: Baaghi TV

محمدرضوان بن جائیں تحریر ممتازعباس شگری
تابش کی تشنگی ! تحریر : تابش عباسی
اکتوبر 2013 کو پاکستان کی عام عوام میں ایک نئی امید روشن ہوئی کہ شاید کوئی مسیحا آ نکلا ہے جس کو اپنے آپ سے زیادہ ، عام عوام کی فکر ہے – مہنگائی ، بےروزگاری ، دہشتگردی اور اس طرح کے اور کہیں مسائل سے نبرد آزما عام عوام کو ایک امید سی ہو چکی تھی کہ گویا اب جلد ہی سب ٹھیک ہو گا ۔ پوری قوم اس لیڈر کے پیچھے چل پڑی ، محنت کا ثمر ملتے ملتے پانچ سال گزر گئے اور 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان میں قائم ہوئی۔ عام عوام کے ذہنوں میں یہ بات نقش کی گئی کہ آج سے پہلے سب حکمران ، سب حکومتیں چور تھیں اور اب "امانت دار ، نیک ، صادق و امین ” حکومت قائم ہوئی ہے – پوری قوم کی امیدیں وابستہ تھیں کہ اب ان کے لیے بھی کوئی بہتری ہو گی ۔
پر گزرتا دن عام عوام کے لیے کچھ نہ کچھ تکلیف دہ خبر لے کر ہی آتا – تاریخ گواہ ہے جس جس چیز کا نوٹس لیا گیا وہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوئی اور ایک مخصوص طبقہ امیر سے امیر ترین ہوا ۔
آج نومبر 2021 ، ضرورت روزمرہ اشیاء زندگی کی قیمتیں آسمان پر ہیں ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر دوسرے ہفتے بڑھتی ہیں ! والدین اپنے بچوں کو بھوک و افلاس کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں ، خود خود کشیاں کرتے ہیں ! متوسط طبقے کے لوگ بھی غربت کی لکیر تک پہنچ گئے ہیں – چوریاں اور ڈکیتیاں عام ہیں ، اور اکثر چور جب پکڑے جاتے ہیں اور بات کھلتی ہے معلوم پڑتا ہے کہ "پیٹ کی آگ” نے اس گناہ پر مجبور کیا – کہاں گئی وہ "ریاست مدینہ ” جو کا خواب دکھلا کر پوری قوم کو امید دکھائی گئی تھی ! کہاں وہ حکمران جو دریا دجلہ کے کنارے مرنے والی بکری پر بھی خود کو ذمہ دار سمجھتے تھے اور کہاں یہ ریاست مدینہ جس کے حکمران کو خبر ہی نہیں کہ روز غربت کتنوں کو کھا جاتی ، سانحہ ساہیوال ہو گا موٹروے کا واقعہ ! کہاں ہیں ہمارے حکمران ؟
وطن عزیز کی عام عوام کی حالت یہ کر دی گئ ہے کہ اب ” یہاں سب ہی سب سے ڈرتے ہیں”۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سابقہ حکومت پر معن طعن کرنے والے اپنی حکومت کے 3 سال مکمل ہونے کے بعد بھی انصاف نہ دے پائے –
آپ خواہ بین الاقوامی پالیسی جتنی بھی بہترین کر لیں ، یا کبھی بھی کر لیں جب تک آپ کی حکومت غریب آدمی کو ریلیف نہیں پہنچا سکتی آپ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے – آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ” ان صادق و امین سے وہ چور حکومت ہی اچھی تھی ” جس میں مہنگائی تو اتنی نہ تھی – یہ عام آدمی کی آواز ہے اور عام آدمی کی امید اگر اس حکومت سے ٹونٹی تو شاید آیندہ یہ لوگ کسی پر امید نہ رکھ پائیں ، اس کا نقصان موجودہ حکومت کو تو ہو گا ہی پر جمہوری اقدار بھی تنزلی کا شکار ہونگے –
حکومت وقت کو یہ بات سوچنا ہوگی کہ مہنگائی کا جن ان کی حکومت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور اگر سال بعد آمدہ انتخابات میں دوبارہ حکومت بنانے کا خواب ہے تو اس جن کو بند کر کے بوتل میں قید کریں – جیسے گزشتہ حکومتیں کرپشن و اقربا پروری کی بدولت آج اپنا بویا کاٹ رہی ہیں کل موجودہ حکومت کو مہنگائی کی بدولت نہ رونا پڑے-
بہت سے اچھے اقدامات بھی اس حکومت میں شروع ہوئے جن میں غریب آدمی کی مدد کرنے کی کوشش کی گئی ( احساس پروگرام وغیرہ ) مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان اقدامات کا فائدہ عام آدمی کو بھی ہوا یا صرف سیاست کی بھینٹ چڑھا دی گیا اس کو بھی – کامیاب جوان سکیم پر پورے ملک سے آوازیں اٹھیں کہ اس پروگرام کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے –
نا امیدی کفر ہے ، امید تو ہے کہ یہ حکومت ، آخری سال میں عوام کی بہتری و فلاح پر کام تیز کرے گی ، خصوصاً مہنگائی کا جن قابو کر لیا جائے گا –

رائے ونڈ….مسلمانوں کاعظیم الشان اجتماع تحریر:یاسرشہزادتنولی
۔
رائے ونڈ ایک گمنام جگہ تھی لیکن تبلیغی جماعت کی محنت نے اسے پوری دنیا میں متعارف کرادیا،آج دنیا کے کونے کونے سے لوگ رائے ونڈ آکر دین اسلام کی فکر اور حضورنبی کریم ﷺکی محنت کا طریقہ سیکھ کر دین کی محنت میں لگ جاتے ہیں،یہاں سے ہرسال بے شمار جماعتیں نکل کر پوری دینامیں جاتی ہیں اور دین اسلام کی آفاقی دعوت دینے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، دین اسلام کے مبلغ اول جناب رسول اللہ ﷺہیں، جنہوں نے مکہ جیسے مخالفین کے بھرے شہر میں بے شمار سختیاں برداشت کرکے دین اسلام کی محنت شروع فرمائی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام دنیا میں پھیل کر روئے زمین کا سب بڑامذہب بن گیا،جناب رسول اللہ ﷺکے بعد خلفائے راشدین نے دین اسلام کے دامن کو مزید وسعت دے کر چین سے فرانس،ہسپانیہ کے جزائر،افریقہ کے جنگلات اور مراکش کے آخری کونے تک اسلامی تعلیمات کا جال پھیلادیا،اس کے بعد مسلمان حکمران،مجاہدین اسلام،مبلغین،علماء،صوفیا ء اوردردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کی محنتوں سے اسلام کی شمع جلتی رہی،برصغیرپاک وہندمیں انگریز ی دوراقتدارمیں اسلام کی شمع ٹمٹمانے لگی ہندوستان کے بعض دیہات خصوصاًمیوات میں اسلام برائے نام رہ گیا تھا،1923ء انتہائی متعصب ہندوتحریک شدھی سنگٹھن نے ہزاروں مسلمانوں کو زبردستی اسلام سے برگشتہ کیا،جس مسلمان علمائے کرام دلوں کو شدید دچھکا پہنچا،ہمارے اکابر حضرت مولاناانورشاہ کشمیریؒ،مولاناحبیب الرحمن عثمانی ؒ،مولاناشبیر احمدعثمانی ؒ،مولاناسید حسین احمدمدنی ؒ، دہلویؒ،مولانا احمدسعید دہلویؒ،مولاناشمس الحق افغانی ؒ،امام الہند مولاناابولکلام آزادؒ،مولانامحمد الیاس دہلویؒ،مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوریؒ،امیر شریعت مولاناسید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اوردیگر اکابرین امت نے اس طوفان کے سامنے ڈٹ کر مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کی بھرپور محنت کی جس کی بدولت ہزاروں مسلمان اپنے دین کی طرف واپس آگئے،ان حالات میں مولانامحمدالیاس دہلویؒ نے ایک مستقل ایمانی تحریک برپا کرکے مسلمانوں کو مستقل دین اسلام کی دعوت میں بھرپور طریقے سے لگانے کی سوچ وفکر کا آغاز کیا،علماء کرام،صوفائے عظام،اہل مدارس اور اپنے زمانہ کے تمام اکابر ین امت سے صلاح ومشورہ کے بعد مدینہ منورہ میں حاضر ہوکر خاص ہجرہ نبوی کے اندر ایک ہفتہ اعتکاف کے بعد جب ہندوستان واپس آئے تو 1926ء میں تبلیغی محنت کا آغازکیا جو آگے جاکر تبلیغی جماعت کی موجودہ شکل وصورت میں دنیا ئے اسلام کی سب سے بڑی تحریک بن گئی،تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع حضرت مولانامحمد الیاس دہلوی کے دورمیں 28،29،30،نومبر 1941ء کو میوات کے علاقہ قصبہ نوح کے اندرہوا،اس اجتماع میں حضرت مولانامحمدالیاس صاحب ؒکے علاوہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒشیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند،مفتی اعظم ہند،مولانامفتی کفایت اللہ دہلویؒ،حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب قاسمیؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند،سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعید دہلوی ؒناظم اعلی جمعیت علماء ہند،مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابوالحسن ندویؒ،مناظراسلام مولانامحمدمنظورنعمانی ؒ،مولاناعبداللطیف ناظم جامعہ مظاہرالعلوم سہارن پور،الحاج محمدشفیع قریشی امیر اول تبلیغی جماعت پاکستان اور ان کے علاوہ اس دورکے تمام اکابرین امت شامل تھے،نماز جمعہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒنے پڑھائی اور اس کے بعد اجتماع کی کاروائی شروع ہوئی،اس اجتماع کے بارہ میں مفکر اسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں کہ یہ اجتماع،اجتماع سے زیادہ زندہ خانقاہ معلوم ہوتاتھا،جس میں عبادت وذکر،نمازوں کی پابندی اور ذوق نوافل کے ساتھ چستی مستعدی،جفاکشی ومجاہدہ،سادگی وبے تکلفی،تواضع وخدمت،دین کی توقیر اور اسلامی اخلاق کے موثر مناظر دیکھنے میں آئے۔دوسرا بڑااور اہم اجتماع مولانامحمدالیاس دہلوی کی وفات کے بعد 14،15،16،جنوری 1945ء کو مسجد شاہی مرادآباد میں ہوا،اس اجتماع میں امیر تبلیغی جماعت مولانامحمدیوسف دہلویؒ سمیت شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنیؒ ؒ،مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ،شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریاکاندہلوی ؒ،مفکر اسلام مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ اور دیگر اکابرین امت نے شرکت کی،اس اجتماع کی خاص بات یہ تھی کہ حضرت شیخ الہند مولانامحمود حسن ؒ(بانی تحریک آزادی ہند)کے وہ متعلقین جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒکی وفات کے بعد شدت غم سے گوشہ نشینی اختیار کررکھی تھی اورعلاقہ سے باہر نکلناچھوڑدیا تھا،انہوں نے اپناعہد توڑا اور حضرت مدنی ؒکو لانے کے لئے دیوبند حاضرہوئے اور حضرت شیخ الاسلام مولانامدنی ؒکو شدیدمصروفیات کے باوجود اجتماع میں شرکت کرنے پر آمادہ کیا۔اس کے بعد اجتماعات کا نہ ٹوٹنے ولا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جوآج دنیا کے اکثرممالک میں دین اسلام کی شان وشوکت اور تبلیغ اسلام کا سب سے بڑا موثرذریعہ بن چکا ہے۔تقسیم ہندکے بعد پاکستان میں حضرت حاجی عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کوششوں سے تبلیغی جماعت کا کام شروع ہوا،اور پہلا اجتماع 10/اپریل1954ء بروزہفتہ رائے ونڈ کے مقام پر منعقد ہوا،مولانا محمدیوسف کاندہلوی صاحب ؒ اس دن صبح دہلی سے روانہ ہوکر دن کے بارہ بجے لاہور پہنچ گئے اور عصرکی نماز کے بعد اجتماع میں تشریف لائے،یہاں مولانایوسف صاحب ؒ نے تین دن قیام فرمایا۔جب اجتماع ختم ہوا تو مولانا یوسف صاحب ؒ نے تمام احباب کو ایک جگہ جمع کیا اور فرمایا:”دیکھوبھائی! آج کے بعد یہ جگہ تمہاری جماعت کا مرکز ہے،تم نے اسے سرسبزوشاداب بناناہے،اور اس جگہ کو دین کی محنت سے آباد کرنا ہے،اس لئے تنگی آئے یا وسعت،بھوک آئے یا پاس،بیماری آئے یاموت،تم نے دنیا کے کسی کام میں نہیں لگنا،بلکہ اسی کمائے کے کام میں لگنا ہے اور اپنے آپ کو یہاں مٹادینا ہے،جو تیارہو وہ اُٹھے اور میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرے،پھر فرمایا کوئی کسی کو ترغیب بھی نہ دے،جس نے کھڑاہونا ہے اپنی ذمہ داری پر کھڑاہو”چنانچہ جو شخص پہلے کھڑاہوا اس کانام”حاجی عبدالوہاب” تھا اس کے بعد حافظ سلیمان(سابق امام رائے ونڈمرکز) کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبداللہ کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبدالرحمن کھڑے ہوئے،اس کے بعد حافظ نورمحمد کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی اسماعیل کھڑے ہوئے،جوکھڑاہوتا مولانایوسف صاحب اس کو آگے اپنے پاس بلالیتے اور اس سے یہ اقرار(حلف نامہ) لیتے کہ:آج کے بعد میں اشاعت اسلام،خدمت دین،اور مرکزکی آبادی کے علاوہ دنیا کے کسی کام میں نہیں لگوں گا،اس راستے میں اگرمجھے بھوک آئی توبرداشت کروں گا،پیاس آئی تو برداشت کروں گا،بیماری آئی تو برداشت کروں گا لیکن کسی دوسرے کام میں نہیں لگوں گا”۔ابھی مولانامحمدیوسف کاندہلوی ؒ یہ کہلواکر ایک ایک کو علیحدہ علیحدہ باہر بٹھارہے تھے،کہ اسی اثنامیں آپ کی نظرمیاں جی محراب پر پڑگئی جو حاجی محمدمشتاق صاحب ؒ کو تیار کررہے تھے،تو آپ نے میاں جی محراب کو انتہائی زور سے ڈانٹا اورفرمایا:”میں نے پہلے ہی نہیں کہا تھاکہ کوئی کسی کو تیارنہ کرے ورنہ کل جب بھوک اور پیاس آئے گی تو پھر یہ تمہیں گالیاں دے گا کہ مجھے اس نے پھنسایا تھا،اس لئے کوئی کسی کو تیار نہ کرے”۔الغرض کل 18آدمی کھڑے ہوئے اور انیسویں حاجی مشتاق صاحبؒ تھے،جو سب سے آخرمیں کھڑے ہوئے تھے،یہ کل انیس آدمی تھے جنہوں نے تمام ترمخدوش حالات کامقابلہ کرتے ہوئے تبلیغ دین کی بنیادوں کو مضبوط کیااور اس ڈانواڈول کشتی کو بھنور سے نکالا اور اسے کھینچ کر ساحل پر لائے،ان میں سے جو احباب موت تک یہیں رائے ونڈمیں پڑے رہے وہ چھ تھے (1)حضرت حافظ نورمحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ(2) حضرت میاں جی محمداسماعیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ (3)حضرت حافظ سلیمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ (4)حضرت میاں جی عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ(5)حضرت حاجی محمدمشتاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ(6)حضرت حاجی عبدالوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ،اس کے بعد جب تبلیغی محنت مزید آگے بڑھی اور ماہانہ مشورہ شروع ہوا جس کی ابتداء اس طرح ہوئی حاجی عبدالوہاب صاحب فرمایاکرتے تھے کہ میں مشورہ کے لئے ایک ایک آدمی کے پاس جایاکرتاتھا، محمدشفیع قریشی صاحب ؒکے پاس پنڈی،قاضی عبدالقادر صاحبؒ کے پاس سرگودھا،مفتی زین العابدین صاحبؒ کے پاس فیصل آباد اوربھائی بشیر صاحبؒ کے پاس کراچی جاتا،پھر سب کو بتاتاکہ فلاں کی یہ رائے ہے،فلاں کی یہ رائے ہے،پھر سب کو خیال آیا کہ یہ اکیلا ہم سب کے پاس پھرتا ہے کوئی دن مہینہ میں ایسا طے کرلیناچاہئے کہ ہم خود اس کے پاس اکٹھے ہوجایاکریں۔ چنانچہ حاجی صاحب ؒکی اس قربانی کی برکت سے ماہانہ مشورہ شروع ہوا،جس پر سب حضرات حاجی صاحبؒ کے پاس آنے لگے،شروع میں ہرماہ ایک دن کے لئے آتے تھے پھر جوں جوں کام بڑھتا گیا اور تقاقضے بڑھتے گئے توتین دن کے لئے مشورہ کے عنوان سے جمع ہونے لگے۔ان بزرگوں کی دن رات ان تھک محنتوں اورکاوشوں سے جو کام شروع ہوا،وہ ملک کے مختلف حصوں میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا تک پہنچ گیا اور آج وہ کام پوری دنیا کے ہرملک کے ہر قصبے اور دیہات میں پھیل چکا ہے،کروڑوں مسلمان آج اس تحریک کے سات وابستہ ہیں جن کی نقل وحرکت سے مسلمانانِ عالم میں دینداری کی ایک عمومی فضابن چکی ہے،رائے ونڈکا سالانہ اجتماع جوپہلے ایک ہی بڑااجتماع ہواکرتاتھا،پھر دوحصوں میں تقسیم ہوگیا اور اب چندسالوں سے عوام کی بڑھتی ہوئی تعدادکے باعث چار حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے دوحصوں کا اجتماع ایک سال اوردوسرے دوحصوں کا دوسرے سال ہوتاہے،اس سال دوحصوں کاپہلااجتماع،4نومبر 2021ء کو رائے ونڈمیں شروع ہے جس سے پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے بزرگوں کے خطابات کاسلسلہ بھی شروع ہے۔دوسرے حصے کا اجتماع 11نومبر کو شروع ہوگا اور 14نومبر2021کو اختتامی دعاپر ختم ہوگا۔
https://twitter.com/YST_007?s=09
نادرا ! علی مجاہد
آپ 18 سال کے ہوتے ہیں تو آپ پر لازمی ہو جاتا ہے اپنا شناختی کارڈ بنانا کیوں کہ آپ سے ہر جگہ پھر یہ ہی مانگا جاتا ہے اب شناختی کارڈ بنانا اتنا آسان نہیں میں شام کے تقریباً ساتھ بجے اپنے دفتر سے نکلتا ہوں اور قریب ہی سیمینس چورنگی سائٹ ایریا کراچی میں ایک نادرا کا میگا سینٹر ہے، کہا تو یہی جاتا ہے کہ میگا سینٹر ہے 24 گھنٹے کھلا ہے عوام کےلئے سہولت وغیرہ وغیرہ پر میں جب وہا اپنے کارڈ کےلئے جاتا ہوں تو ایک لمبی سی لائن دیکھ کر پہلے تو ارادہ کیا کہ واپس چلتا ہوں پھر سوچا آج نہیں تو کل بنوانا تو ہے ایک گھنٹے تک نمبر بھی آجائے گا، پر وہاں دیکھا تو ایک الگ ہی ماحول تھا صرف وہی حضرات اندر جا رہے تھے جن کی کوئی اندر جان پہچان تھی اور دوسرے وہاں میں نے ایک اور چیز دیکھی اندر سے کچھ سویپر ٹوکن لیکر آتے اور یہاں آکر بھیجتا پھر لوگ ان سے ٹوکن لیکر گارڈ کو ٹوکن دیکھا کر اندر چلے جاتے یہ بھی ایک بہت برا مافیا ایسی جگہوں پر موجود ہوتا ہے، گارڈ حضرات کہے رہے تھے کہ 10 افراد کو جانے دیا جا رہا ہے پر وہا پر ہر گھنٹے میں 3 یا 4 افراد کو جانے دیا جا رہا تھا پھر پورے چار گھنٹے بعد رات گیارہ بجے نادرا میگا سینٹر کے باہر لائن میں کھڑے ہونے کے بعد اندر جانے کا موقع ملا تو وہاں ٹوکن لینے کے بعد معلوم ہوا کے اب یہاں پر 3 سے 4 گھنٹے اور لگنے ہیں کیوں کہ وہاں کائونٹر تو 10 سے اوپر تھے پر ورکنگ میں صرف 2 تھے اب سوال یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے میگا سینٹر میں صرف دو بندے رکھے گئے ہیں؟ یا سٹاف تو موجود ہے پر صرف تنخواہیں لینے کےلئے یہاں بندہ پہلے اپنا پورا دن انتظار کرے پھر جا کر اسکو ٹوکن ملتا ہے اور پھر اپنے ٹوکن کا انتظار کریں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے ٹوکن کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں پر ہزاروں لوگوں کی خدمت کےلئے صرف دو لوگ موجود اور تنخواہیں پورا اسٹاف اٹھا رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں نا ان کو کوئی بات کرنے کی تمیز ہوتی ہے نا کسی کا خیال، وہ چاھتے ہیں بس کسی نا کسی طریقے سے جتنے پیسہ ہو سکے کما لیا جائے۔ نادرا میگا سینٹر کے باہر ایک بزرگ انکل کو دیکھا بہت غصے میں تھے جب پوچھا تو بولا صبح 8 بجے کا آیا ہوں اور انکو کہا بھی مجھے معلومات لینے دو پر گارڈز نے جانے نہیں دیا ابھی جب میرا نمبر آیا تو بولا فلاں چیز نہیں ہے تو کام نہیں ہوگا یہ بھی لیکر آئیے، مطلب بندہ صبح 8 سے شام 7:30 تک انتظار کرے صرف اور صرف معلومات لینے کے لیے اور ان گارڈز کو کہو کہ معلومات لینے ہے تو وہ آپ کو اپنے دوسرے گارڈ کی طرف اشارہ کرے گا اور کہے گا یہ معلومات فراہم کر رہا ہے میں نے ان سے پوچھا یار نارمل کارڈ کی کیا فیس ہے وہ کہنے لگا بھائی اندر جائو گے تو پتا چل جائے گا مختلف فیس ہیں مطلب اتنی زیادہ معلومات دے دی کہ پھر کبھی ضرورت ہی نا پرے، پھر وہاں لوگ مجبور ہوکر کہتے ہیں اس سے اچھا تھا ہم آزاد نا ہوتے یا پاکستان نہیں بنتا وغیرہ وغیرہ، یہ محکمہ خود عوام کو مجبور کرتے ہیں کہ ہم انکو ہمارے پیارے پاکستان کو برا بھلا کہیں، ہمارے سرکاری دفاتر کے حصول و ضوابط کو بہتر کرنے کےلئے ہماری حکومت کو نادرا ڈپارٹمنٹ کو اور حکومت پاکستان کو سخت توجہ کی ضرورت ہے۔
Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )
سیمی فائنل لائن اپ مکمل تحریر غلام مرتضی
عرب امارات میں جاری ساتواں t20عالمی کپ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ سپر 12 مرحلے کے اختتام پر 4 ٹیمز نے سیمی فائنل کےلئے جگہ بنا لی ہے ۔گروپ Aسے انگلینڈ اور آسٹریلیا جبکہ گروپ Bسے پاکستان اور نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل کےلئے کوالیفائی کرلیا ہے ۔ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔
پہلا سیمی فائنل انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان 10نومبر کو ابوظہبی میں کھیلا جائے گا ۔انگلینڈ اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست رہا ۔انگلینڈ کو اپنے آخری گروپ میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی دوسری طرف نیوزی لینڈ 8 پوائنٹس کے ساتھ گروپ بی میں دوسرے نمبر پر رہا ،نیوزی لینڈ کو پاکستان کیخلاف شکست نصیب ہوئی تھی ۔
دونوں ٹیمیں t20عالمی میں پانچ بار پنجا آزما ہوئیں، 3 بار انگلینڈ اور 2بار فتح نیوزی لینڈ کا مقدر بنی
دونوں ٹیمیں t20 میں مجموعی طور پر 20 بار آمنا سامنا ہوا 13 میچز میں انگلینڈ اور 7میچز میں نیوزی لینڈ کامیاب رہا۔ نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل 467 رنز کے ساتھ ٹاپ پر ہیں جبکہ انگلش کپتان مورگن 424 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ۔ اس ایڈیشن میں جوز بٹلر 100بنانے والے واحد بلے باز ہیںدوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 11نومبر کو دوبئی میں کھیلا جائے گا ۔آسٹریلیا اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمر پر رہا جبکہ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔
پاکستان اور آسٹریلیا t20 عالمی کپ میں 6بار پنجا آزما ہوئے۔ دونوں ٹیمز نے 3،3میچز جیتے ہیں
2010 کے ایڈیشن میں بھی دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں ٹکرا چکی ہیں اس میچ میں مائک ہسی نے آخری اور میں سعید اجمل کو 4چھکے لگا کر پاکستانیوں کی ہنسی چھین لی تھی
دونوں ٹیمیں t20 میں 22مرتبہ پنجا آزما ہوئیں 13 مرتبہ فتح پاکستان کے حصہ میں آئی جبکہ 9 بار جیت آسٹریلیا کا مقدر بنی ۔آسٹریلیا کی طرف سے ڈیوڈ وارنر، مچل مارش، کپتان ارون فنچ، سٹیو سمتھ لمبی باری کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔گلین میگزویل اس ٹورنامنٹ میں آوٹ آف فارم ہیں ۔ آسٹریلیا کے پاس زبردست باولنگ اٹیک ہے جو کسی بھی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا سکتی ہے ۔ جوش ہیزلے وڈ،پیٹ کمنز،مچل سٹارک ،ایڈم زمپا باولنگ کے شعبے میں زبردست پرفارم کررہے ہیں اور فیلڈرز بھرپور ساتھ دے رہے ہیں
دوسری طرف پاکستانی ٹیم نے ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔بابر اعظم اور رضوان نے اسی عالمی کپ میں بھارت کے خلاف 152 رنز کی اوپننگ شراکت داری قائم کرکے عالمی ریکارڈ بنایا، پاکستانی کپتان بابر اعظم زبردست فارم میں ہیں اسی عالمی کپ میں 4بار 50 رنز یا اس ذیادہ بنا کر میتھیو ہیڈن اور ویراٹ کوہلی کا ریکارڈ برابر کردیا ہے۔ بابر اعظم اس وقت t20پر راج کررہے ہیں اس وقت دنیائے کرکٹ کے نمبر 1بلے باز ہیں ۔دوسری طرف وکٹ کیپر بلے بھی زبردست فارم میں ہیں مڈل آرڈر میں تجربہ کار محمد حفیظ، شعیب ملک، بھر پور فارم میں ہیں شعیب ملک نے اسکاٹ لینڈ کے 18 گیندوں پر 54رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی ۔شعیب ملک نے اس عالمی کپ میں تیز ترین 50 رنز بنانے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا ہے ۔جارحانہ مزاج سے بیٹنگ کرنے والے آصف علی ایک ہی اور میں میچ کا نقشہ تبدیل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔اس کا عملی مظاہرہ پہلے نیوزی لینڈ پھر افغانستان کے خلاف ایک ہی اور میں 4چھکے لگا کر فتح افغانستان کے جبڑے سے چھین لی تھی ، فخر زمان کو بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے پاس زبردست گیندباز موجود ہیں جوکہ مضبوط ترین بیٹنگ لائن کے پر خچے اڑا سکتے ہیں شاہین آفریدی، حارث راوف، حسن علی، عماد وسیم ،شاداب خان اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔
بابر اعظم پانچ کھیل 264 کے ساتھ سرفہرست ہیں انگلیڈ کے وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر 240 کے ساتھ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں محمد رضوان 214 رنز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں
سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو ہرانے کیلئے پاکستان کو کھیل کے تینوں شعبوں میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔پوری قوم کی دعائیں ٹیم پاکستان کے ساتھ ہیں
گرین شرٹس میدان میں سرخرو ہونگے پاکستانی شاہینز کینگروز کا شکار کرنے کےلئے بالکل تیار ہیں@__GHulamMurtaza
فیصلہ پارٹ نمبر آخری 6 تحریر سکندر علی
جارج نے ایسے منہ بنایا جیسے اسے باپ کی بات پر اعتماد نہ ہو۔ اس نے جارج کی طرف دیکھ کر سر ہلایا جیسے اپنی بات
کی سچائی پر اصرار کر رہا ہو۔
کتنی مزے کی بات ہے کہ آج تم میرے پاس آئے، یہ پوچھے کہ کیا دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں
لکھوں ۔ بیوقوف لڑکے، وہ یہ بات پہلے سے جانتا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔ میں اسے خط لکھتا رہا ہوں کیوں کہ تم میرا لکھنے
کا سامان مجھ سے چھینا بھول گئے تھے۔ اسی لیے تو اتنے برسوں سے وہ یہاں نہیں آیا ۔ وہ ان باتوں کو تم سے بھی کئی ہزار گنا
بہتر طریقے سے جانتا ہے۔ اپنے بائیں ہاتھ سے وہ تمھارے خطوں کو پڑھے بغیر مر کر دیتا ہے۔ اس کی دائیں ہاتھ میں
میرے خط ہوتے ہیں جنھیں وہ پڑھتا ہے ۔”
جوش جذبات میں اس کے باپ نے اپنا بازو سر کے اوپر جھلایا۔” وہ ہر بات تم سے ہزار گنا بہتر طرح سے جانتا
ہے۔ وہ چلایا۔
دس ہزار گنا بہتر جارج نے اپنے باپ کے احمقانہ پن سے مزہ لیتے ہوئے کہا۔
برسوں میں نے انتظار کیا کہ تم ایسا کوئی سوال لے کر میرے پاس آو کیا تم سمجھتے ہو کہ مجھے کسی اور بات کی پرواو
ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں میں اخبار پڑھتا رہتا ہوں؟ دیکھ لو
، اس نے جارج کی طرف اخبار کا ایک صفی اچھالا
جیسے وہ کسی طور اپنے ساتھ ہی بستر تک لے آیا تھا۔ ایک پرانا اخبار جس کا نام جارج کے لیے بالکل غیر اجنبی تھا۔
بڑے ہونے میں کتنے سال اور لو گے تمھاری ماں اس انتظار میں مر گئی ۔ اسے یہ خوشی کا دن دیکھنا نصیب نہیں
ہوا تمھارا دوست روس میں خراب ہورہا ہے ۔ حتی کہ تین سال پہلے وہ اتنا زرد تھا کہ چھینک دیئے جانے کے قابل، اور
جہاں تک میرا تعلق ہے ہم جانتے ہو کی حالت میں ہوں ۔ بیردیکھنے کے لیے تمھارے پاس آنکھیں بھی ہیں ۔
تو آپ یہاں لیٹے میرا انتظار کرتے رہتے تھے ۔’ جار چلایا۔
غیر دوستانہ لہجے میں اس کے باپ نے افسوس کے ساتھ کہا : میرے خیال میں یہ بات تم بہت پہلے کہہ دینا چاہتے
ہے لیکن اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، پھر اونچی آواز میں بولا اس لیے کہ اب تم جانتے ہو تمھارے اردگرد دنیا میں
اور کیا کچھ ہے۔ اب تک تمھیں صرف اپن کریں۔ ایک معصوم بچہ ہاں، یہی ہوتی ، یہی ہی ہے لیکن اس سے بھی بڑا یہ
ہے کہ تم ایک شیطان صفت انسان ہو اور اس لیے جھلو
، میں تمھیں ڈوب کر مر جانے کی سزاسناتا ہوں ۔
جارج نے محسوس کیا کہ اسے کمرے سے باہر دھکیل دیا گیا ہو۔ جس دھماکہ خیز آواز کے ساتھ اس کا باپ پچھے کمرے میں
اپنے بستر پرگرا تھا وہ باہر کرتے ہوئے اس کی کانوں میں گونج رہی تھی۔ زینے پر وہ بھاگتا ہوا نیچے اترا جیسے کوئی نشیب ہو وہاں
اس کی ٹر تھیٹر صفائی کرنے والی عورت سے ہوئی جو پچھلی رات کے بعد سے اب اس کے کمرے میں صفائی کرنے آئی تھی ۔
د خدایا وہ چینی اور اپنا چہرہ ایپرن میں چھپا لیالیکن وہ تیزی سے آگے نکل گیا۔ صدر دروازے سے نکل کر وہ بھاگا،
سڑک پر دریا کی طرف بڑھتے ہوئے۔ وہ شئے کو یوں زور سے پڑے ہوئے تھا جیسے کوئی بھوکا آدی خوراک کوٹھی میں
دبائے ہو۔ وہ جنگل کو پلا نگا جمناسک کے ایک غیر معمولی باہر کی طرح جیسا کہ وہ اپنی نوجوانی میں تھا، اپنے والدین کا
فتار کمزور ہوتی ہوئی گرفت کے ساتور های تک خشگل کو پڑھے ہوئے تھا، جب اس نے جنگلوں کے درمیان میں سے
ایک بس کو
آتے دیکھا جو آسانی سے اس کے گرنے کے شور کور با لے گی ۔ وہ خاموی سے اور عزیز والدہ کی ، میں نے ہمیشہ
آپ سے محبت کی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود اور پھر خودکو پنچ گرالیا۔
اس لیے پل پر سے ٹریفک کا غیرفتم سیلاب گزررہا تھا۔
ختم شد

اولاد کی تربیت کیسے کریں تحریر: فضیلت اجالہ
آپ میں سے اکثر لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ابابیل (پرندہ) کنویں میں اپنا گھونسلہ بناتی ہے ،بچوں کو اڑان کی تربیت دینے کے لیے نا تو اس کے پاس وسیع احاطہ میسر ہوتا ہے اور نا ہی وہ اپنے بچوں کو نا کافی تربیت کے ساتھ اڑنے کی اجازت دے سکتی ہے ،کیونکہ وہ جانتی ہے کہ دوسرے پرندوں کی طرح اس کے بچوں کو گر کے سنبھلنے اور دوبارہ اڑان بھرنے کا موقع نہیں ملے گا، بلکہ اگر پہلی اڑان نا کام ہوئ تو اسکا نتیجہ موت ہوگا۔ بچوں کو اس درد ناک موت سے بچانے کے لیئے ابابیل تربیت کی یہ مشقیں بھی اپنی زات پہ کرتی ہے ،بچوں کی ولادت سے پہلے جو ابابیل دن میں 25 اڑانیں بھرتی تھی بچوں کی ولادت کے بعد وہ اپنی اڑانوں کی تعداد تین گنا بڑھا کر 75 کر دیتی ہے ،اور یوں ایک مکمل دن میں دونوں والدین 150 اڑانیں بھرتیں ہیں جس سے بچوں کے دل میں یہ عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے کہ یہاں سے اڑ کہ سیدھا باہر جانا ہے کیونکہ بچے انسان کے ہو یا حیوان کہ وہ وہی عادات و انداز اپناتے ہیں جو والدین کو کرتے دیکھتے ہیں ۔اسی طرح ہمارے بچے بھی کل کو وہی کریں گے جو آج ہم انہیں اپنے عمل سے سکھائیں گے ۔
اچھی اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے اور اچھی اولاد اچھی تربیت سے بنتی ہے،
بچے کی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے کیونکہ ماں کی گود بچے کے لیئے پہلی درسگاہ ہوتی ہے ،بچوں کو اسکول ،کالج یا مدرسہ بھیج کر آپ اسکی تربیت سے بری الزماں نہیں ہو سکتے ،اسے نمازی،پرہیزگار ،سچا اور اچھا انسان نہیں بنا سکتے۔
اگر ہمیں اپنے بچوں کو نمازی بنانا ہے تو اسکے لیئے سختی کرنا یا زبردستی مسجد بھیجنا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں انہیں نماز پڑھ کے دکھانا ہے انکے لیئے ایک مثال بننا ہے کہ نماز ہر کام سے ضروری ہے ۔
بچوں کے سامنے چھوٹے چھوٹے سچ بولنے کی پریکٹس کریں ۔
بچوں کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں بلکہ اللہ سے محبت پیدا کریں ،انہیں بتائیں کہ اللہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن جس طرح کوئ بھی غلط کام کرنے پر ہم آپ سے ناراض ہو سکتے ہیں بلکل اسی طرح اللہ تعالی بھی ناراض ہو جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ اللہ پاک انتہائ رحیم و کریم ہیں اگر تم ان کے سامنے سچ بولو گے اپنے گناہ پہ شرمسار ہو گے تو وہ آپ کو معاف کر دیں گے، یقین کیجیئے آپکا بچہ سچ بولنے کا عادی ہوتا جائے گا ۔
سارے دن کے بعد رات سونے سے پہلے کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں ان سے دن بھر ہونے والے واقعات کے متعلق پوچھیں اس سے آپ کافی حد تک اپنے بچے کی سر گرمیںوں سے آگاہ رہیں گے ،بچوں سے تمام دن میں ملنے والی کوئ سی تین نعمتوں کے باریں میں پوچھیں تاکہ ان میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے متعلق احساس شکر گزاری پیدا ہو۔
بچوں کو ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں جس میں وہ دن بھر ہونے والے اچھے اور غلط کام لکھیں ،اس سے ان میں اپنی کوتاہیوں کو قبول کرنے کا اور انہیں سدھارنے کا وصف پیدا ہوگا ۔
بچوں کو زرا زرا سی بات پر روک ٹوک نا کریں ،دینی یا دنیاوی جو بھی معاملات ہوں کبھی بھی بچوں سے بہت زیادہ پرفیکشن کا مطالبہ نہ کریں،خاص کر عبادات کے سلسلے میں بہت زیادہ حدود و قیود نا لگائیں کیونکہ یہ باتیں اسے دین سے متنفر کر دیں گی ،پہلے بچے کو اس کام کا یا عبادت کا عادی بنائیں ،جب اس کی عادت پختہ ہو جائے گی ِتو وہ اپنا تجزیہ خود کرے گا۔جب سکول میں تمام سلیبس ایک ساتھ نہیں پڑھایا جاتا تو ہم سارا دین ،سارے ادب و آداب اسے ایک ساتھ کیسے پڑھا سکتے ہیں ۔
آج کے فتنہ پرور دور میں جب قدم قدم پہ بہکنے کا سامان موجود ہے تو بحیثیت والدین آپ کی ڈیوٹی مزید سخت ہو جاتی ہے ،آپ انہیں برائ سے دور نہیں رکھ سکتے لیکن برائ اختیار کرنے سے روک سکتے ہیں ،لیپ ٹاپ ،موبائل نا دینا مسلے کا حل نہیں ہے آج کے دور میں ان چیزوں تک رسائ مشکل نہیں،آپکا کام ان کے دل میں حرام اور حلال کا فرق واضح کر دینا ہے ،ان کہ اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے پھر وہ خود ان چیزوں سے دوری اختیار کریں گے جن کی اسلام میں ممانعت ہے ۔
بچے میں یہ احساس پیدا کیجیئے کہ اس کا ہر عمل اللہ اور اس کے درمیان ہے اور وہ ہر عمل کے لیئے خالص اللہ کے آگے جواب دہ ہیں ،جب وہ اس بات کو سمجھ لے گا تو پھر دنیا کہ ڈر سے کوئ کام چھپ کر نہیں کرے گا بلکہ وہ اللہ کے ڈر سے کوئ غلط کام کرے گا ہی نہیں ۔
یاد رکھیئے قانون قدرت ہے کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ،اس کےقلب میں اللہ سے لگاؤ کا شعلہ ٹمٹا رہا ہوتا ہے
ہمیں اس شعلے کو جلا دے کر مشعل بنانے کی ضرورت ہے ۔چھوٹے بچے کی پرورش کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ کہ نرم و نازک پودے کی کانٹ چھانٹ کرنا ،معاشرے میں نمو پاتی مزہب سے دوری اور نسل نوجواں کو بے راہ روی کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیئے دیا بننے کی کوشش کیجیئے اپنی اور دوسروں کی اولاد کے لیئے صراط مستقیم کی دعا ضرور کیجیئے ۔
@_Ujala_R
قومی ہیرو کے ساتھ رویہ کیسا ! تحریر : احسن ننکانوی
قوم حیران ہے کہ نعمان نیاز نے قومی ہیرو شعیب اختر کے ساتھ کیا کردیا، اور میں حیران ہوں کہ قومی ہیرو کی بات کرنے والے لوگ حقیقت سے اتنے لاعلم کیوں ہیں؟ پاکستان میں قومی ہیرو اسے سمجھاتا جاتاہے جو اقتدار کی کرسی پر براجمان ہواورغلاموں کی توہین کرکے اپنی رعونت کی تسکین کرتاہو۔میں پی۔ٹی۔وی نہیں دیکھتا، اس لیے مجھے علم نہیں تھا کہ نعمان نیاز کیا چیز ہے۔ شعیب اختر سے مگر ہر وہ شخص واقف ہے جو کرکٹ کی معمولی سی شد بد رکھتا ہے کیونکہ پوری دنیا میں اس کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں جسے سومیل یا ایک سو اکسٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سےگیند بازی کرنے کا منفرد ترین اعزاز حاصل ہے ۔ وہ اس فن کا ”اکلوتا” فنکار ہے اور اس کی شناخت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ نعمان نیاز کو اتنا منفرد مقام حاصل کرنے کے لیے شاید سات جنم بھی کافی نہ ہوں۔ مجھے لکھنا نہیں چاہیے مگر لکھنا پڑ رہا ہے شعیب اختر کے ساتھ نعمان نیاز کا نام لکھتے ہوئے نہ جانے کیوں”چہ پدی چہ پدی کا شوربہ” والی کہاوت یاد آرہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دونوں کے درمیان ہونے والے افسوس ناک واقعہ کی گونج سنائی دی تو میں نے بھی ”گیم آن ہے” نامی پروگرام کا کلپ دیکھا۔ مجھے شدید حیرانی ہے کہ شعیب اختر میں اتنی قوت برداشت کہاں سے آگئی؟ اس کا رویہ مگر قوت برداشت نہیں، انتہا درجے کی اعلیٰ ظرفی کا مظہر تھا۔ نعمان نیاز کی فرعونیت اور کمینگی کا واحد جواب ایک زوردار تھپڑ ہونا چاہیے تھا جو اس کی اصل اوقات یاد دلا دیتا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ہم آج تک ایک قوم کی صورت متحد نہیں ہوسکے۔ ہم ایک منتشر گروہ ہیں اور قومی غیرت کے تقاضے نبھانے کے عادی بن ہی نہیں سکے۔ جو شخص قومی ہیرو کی توہین کرتا ہے، وہ پوری قوم کی توہین کرتا ہے کیونکہ ہیرو دراصل قوم کی تاریخ، ثقافت اور غیرت کی نمائندگی کرتا ہے۔قوم بہت دور کی بات ہے، ہم اپنے ساتھیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے سے بھی کتراتے ہیں۔ اس پروگرام میں شعیب اختر کے ساتھ پاکستان کے دوسرے کرکٹرز بھی موجود تھے، انھوں نے کس دل گردے سے نعمان اعجاز کی فرعونیت برداشت کی؟ کس معاوضے نے انھیں شعیب اختر کا ساتھ دینے سے روکا۔ شعیب اختر نے معذرت چاہتے ہوئے پروگرام چھوڑ کر اٹھنے اور استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو نعمان نیاز نے ایک ثانیے کے لیے بھی توجہ دینا گوارا نہیں کیا اور انتہائی بے نیازانہ انداز میں اپنا سکرپٹ جاری رکھا۔ اس کے نزدیک شعیب کا اٹھ جانا کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا تھا۔ میں گمان کر بیٹھا تھا کہ یہ کلپ دیکھ کر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز سرکاری ٹی۔وی کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکے ہوں گے۔ ایسے اقدامات کے لیے مگر قومیت کا عنصر ضروری ہے، اور بدقسمتی سے پاکستان میں اس عنصر کا فقدان ہے۔ ہم اگر قوم ہوتے تو اس سانحے کے فوراً بعد نعمان نیاز کو اپنا بستر گول کرنا پڑتا۔اُسے مگر علم ہے کہ پاکستان کے اصل ہیرو اہل اقتدار ہیں، اور وہ ان کی نمائندگی کررہا ہے۔ اس کی پشت پر یقیناً کوئی طاقتور شخصیت ہوگی، لہٰذا قومی ہیرو کی بات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سنا ہے کہ قومی حکومت نے انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔ کس چیز کی انکوائری؟ کیا پی۔ٹی۔وی انتظامیہ اندھی اور بہری ہے؟ جو کچھ ہوا آن ایئر ہوا، سب نے دیکھا، سب نے سنا، کمیٹی کس چیز کی تحقیق کرے گی۔ کیا نعمان نیاز کی زبان سے الفاظ اس کے ہمزاد نے ادا کیے تھے؟ یا یہ اس کی بدروح کی کارستانی تھی؟ اس نے شعیب اختر کے جس بیانیے پر اتنے مذموم رویے کا اظہار کیا، وہ کیا اس پروگرام کا حصہ نہیں ہے، اسے سننے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے۔ کچھ بزرجمہر پی۔ٹی۔وی اور شعیب اختر کے اختلافات کی بات کررہے ہیں، کچھ پردے کے پیچھے ہونے والی گفتگو کا رشتہ اس واقعے سے جوڑ رہے ہیں، معتبر صرف وہ ہے جو آن لائن نشر ہوا، اور سب نے دیکھا۔کسی ایک کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے پروگرام کی ریکارڈنگ کافی سے زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں صرف ایک سوال کافی ہے۔ کیا کسی ٹی وی اینکر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مہمان کو اختلاف رائے یا اندازِ گفتگو کی بنیاد پر پروگرام چھوڑنے کا حکم دے دے؟ انکوائری کے مثبت بتیجے کی توقع رکھنے والے مگر احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ قومی ہیرو صرف عوام کے دل میں رہتے ہیں، اور اہل اقتدار عوام کے دلوں کو کانچ کا کھلونا سمجھتے ہیں، جب تک چاہا ل بہلایا، جب چاہا تب توڑ دیا۔ ارباب اقتدار اگر شعیب اختر کی تذلیل کو انکوائری کی بھینٹ چڑھا کر پی جاتے ہیں تو شعب اختر کی حیثیت متاثر نہیں ہوگی، پی۔ٹی۔وی اور وزارت اطلاعات کا قد کاٹھ ضرور سکڑ جائے گا جسے دیکھنے کے لیے پہلے ہی خوردبین کی ضرورت محسوس ہوتی ہے..
فیصلہ پارٹ نمبر 5 تحریر سکندر علی
پریشان نہ ہوں ۔ آپ اچھی طرح سے ڈھک گئے ہیں ۔
نہیں جارج کی بات کاٹتے ہوئے اس کا باپ چیخ کر بولا۔ اس نے پوری قوت سے بل پر سے کمبل پرے پھینکے کہ وہ وہ فورا ہی
پرے جاگرے۔ پھر وہ بستر پرتن کر کھڑا ہوگیا۔ صرف ایک ہاتھ سہارے کے لیے معمولی سا چھت کو چھورہا تھا۔
تم مجھے ڈھک دینا چاہتے ہو۔ میں جانتا ہوں میرے چھوٹے بچے لیکن میں آسانی سے ڈھک دیئے جانے والا
نہیں ہوں۔ اگر یہ میرے جسم کی قوت کی آخری لہر ہے تو بھی نبی نہیں سنبھالنے کے لیے کافی ہے۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ
ہی ہے۔ ہاں، میں تمھارے دوست کو جانتا ہوں۔ وہ میرا بیٹا ہوتا تو پسند بیرا بیٹا ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام برسوں میں تم
مجھ سے دھوکہ کرتے رہے اور اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں مجھے اس کا دکھ نہیں ہے؟ تم خود کو اپنے دفتر
میں بند کر لیتے تھے کہ چیف صاحب مصروف ہیں، انہیں پریشان نہ کیا جائے ۔ صرف اس لیے کہ تم روس میں جھوٹ کے
پلندے کو لکھ کر یہ کولیکن خوش قسمتی سے کوئی کسی باپ کو نہیں سکھا سکتا کہ وہ کیسے اپنے بیٹے کے اندر جائے اور اب جب
کہ تمھارا خیال ہے کہم اسے مات دے چکے ہو اور اتنا بیوگرا چکے ہو کہ اس پر سوار ہو سکو اور اس پر بیٹھ جاؤ اور وہ ذراسی چوں
چراں بھی نہیں کرے گا تو اب میرا چالاک بیٹا فیصلہ کرتا ہے کہ شادی کر لینی چاہیے۔
جارج اپنے باپ کے اس خوف زدہ کرنے والے روپ کو مبہوت ہو کر دیکھنے لگا۔ سینٹ پیٹرز برگ میں اس کے دوست نے، جسے اس کا باپ اچانک اتنے اچھے طریقے سے جانتا تھا، اس کے حواس کو یوں اپنی گرفت میں لیا کہ پہلے کبھی
ایسانہیں ہوا تھا۔ وہ اسے روس کی وسعت میں کم دکھائی دیا۔ وہ اسے ایک خالی، لئے پٹے گودام کے دروازے پرکھڑادکھائی
دیا۔ اپنے شوکیسوں کے ملبے ، اپنے مال کی شکستہ باقیات گیس کے ٹوٹے پھوٹے بریکٹوں کے درمیان و سیدھا کھڑا دکھائی
دیا۔ اسے کیوں اتنی دور جانا پڑ گیا۔
میری طرف دیکھو اس کا باپ پکارا اور جارج تقریبا ایک دم سے چونکتے ہوئے بستر کی طرف بڑھا تا کہ اس
معاملے سے نمٹ سکے لیکن پھر آدھے راستے ہی میں ٹھٹھر کا ۔
کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوگا۔ اس کا باپ گنگناتے ہوئے بولا کیوں کہ اس نے اپنا سکرت
اوپراٹھایا ہوگا اس طرح اس فاحشہ نے ۔ اور اس کی منگیتر ینقل اتارنے کے لیے اس نے ان میں آتی اور افعال کے
جی کے زمانے کا اس کی ران کا زخم دکھائی دینے لگا ” کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوا ہوں اور نہیں ، اور تم نے
اس سے عشق بگھارا، اور اس سے کسی رکاوٹ کے بغیر بے تکلف ہونے کے لیے تم نے اپنی ماں کی یاد کو پامال کیا، اپنے
دوست کو دھو کر دیا اور اپنے باپ کو یوں بستر میں لا چا که دوترکت کرنے کے قائل تیار ہے میں وہ حرکت کر سکتا ہے کیا میں
کرسکتا اور وہ بغیر کسی سہارے کے کھڑا ہو گیا اور اپنی جان میں ہوا میں پلانے لگا۔ شدت جذبات سے اس کے چہر سے کہا
سر کردیا تھا۔
جارج ایک کونے میں سکڑ کر کھڑا ہو گیا اپنے باپ سے کن حد تک فاصلے پر۔ بہت عرصہ پہلے اس نے کا ارادہ کیا تھا
کہ ہر معاملے پر گہری نظر رکھے گا تا کہ اگر کوئی اس پر پیچھے سے یا کسی اور طرت سے بالواسط حملہ کر ے، اس پر بھی تو دان
کے لیے تیار ہو۔ اب اسے پھر سے اتنے عرصے سے پھولا ہوا فیصلہ یاد آیا اور اسے وہ پھر سے کھول دیا جیسے کوئی سوئی کے
ناکے میں دھاگہ ڈالنے کی کوشش کرے۔
لیکن تم اپنے دوست کو دھوکہ نہیں دے سکے۔ اس کے باپ نے چیخ کرکہا، اپنی شہادت کی انگلی کے اشارے سے
اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے میں یہاں اس موقع پر اس کا نمائندہ ہوں ۔
تم مسخرے جارج خودکوچنے سے روک نہیں سکا لیکن فورأی بی احساس ہونے پر کہ اس سے کیسی تھی سرزد ہوئی ، اس
کی آنکھیں باہر بل پڑیں اور اس نے زبان دانتوں تلے دبلی لیکن اب دیر ہو چکی تھی ۔ تکلیف سے اس کے گھٹنے جواب دے گئے۔
ہاں بے شک میں یہاں مسخره کین ہی کر رہا ہوں ۔ مسخرہ پن ۔ ایک عمدو لفظ ۔ ایک بوڑھے ریڈ وے کی تشفی کے لیے
اور بچا ہی کیا ہے۔ مجھے بتا اور جواب دیتے ہوئے یہ مت بھولنا کہ تم ابھی تک میرے اکلوتے بیٹے ہو ۔ میرے لیے بھائی
کیا ہے، میرے پچھلے کمرے میں، بے ایمان نوکروں کے ہاتھوں تنگ، اپنی ہڈیوں کے گودے تک بوڑھا؟ اور میرا بیا ساری دنیا میں خوشی سے دندناتا پھرتا تھا، کاروباری معاملات نمٹاتا ہوا جنھیں میں نے ہی اس کے لیے تیار کیا ہوتا ہے۔
فاتحانہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا اور اپنے باپ کے سامنے سے ایک معزز کاروباری انسان کی طرح بھنچے ہوئے ہونٹوں
والے چہرے کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ کیا تم سوچتے ہو کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے، مجھے، جس سے تم پیدا ہوئے ۔
اب آگے جھکے گا’ جارج نے سوچا کہیں پر خود کو گرانہ لے، اور ٹوٹ پھوٹ جائے ۔ یہ الفاظ اس کے دماغ
میں سے سرسراتے ہوئے گزرے۔
اس کا باپ آگے جھکا لیکن گرانہیں ۔ جب چارج قریب نہیں آیا جیسا کہ اسے توقع تھی تو اس نے پھر سے خودکو سیدھا
وہیں شہر و جہاں ہو۔ مجھے تمھاری ضرورت نہیں ہے تمھیں غلط بھی ہے کہ تم میں اتنی طاقت ہے کہ یہاں تک آسکو
اور یہ کیتم اپنی مرضی سے خود کو وہاں روکے ہوئے ہو کسی بھول میں مست رہنا۔ مجھ میں اب بھی تم سے زیادہ ہی طاقت
ہے۔ صرف خود پر بھروسہ کرتا تو شاید گر چکا ہوتا لیکن تمھاری ماں نے اپنی طاقت میں سے تاحصہ حصہ مجھے دیا کہ میں نے
تمھارے دوست کے ساتھ شان دا تعلق قائم کیا اور تمھارے سارے گا یک بھی میری جیب میں ہیں ۔
اس کی قمیض میں جیبیں بھی ہیں ۔ جارج نے خود سے کہا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس بات سے وہ اسے دنیا بھر کے
لیے ایک مشکل آدی کے طور پر پیش کر دے گا۔ یہ خیال بس لیے بھر کے لیے اس کے ذہن میں آیا اس لیے کہ وہ مستقل طور پر
ہر بات بھولتا جارہا تھا۔
ذرا اپنی منگیتر کو بانہوں میں لے کر میرے سامنے سے گزر کر تو دیکھو، میں اسے تمھارے پہلو سے اچک لوں گا۔تم مجھ ہی نہیں پا گئے کہ کیسے؟
( جاری ہے )

قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ اے امام علی
قبر میں انسان کی پہلی رات کیسے گزرتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ انسان کی سب سے مشکل رات قبر کی پہلی رات ہوتی ہے ۔
جب دوسرے انسان اس کے دوست عزیزواقارب رشتے دار اسے دفنا کے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو وہ انسان روتا رہتا ہے ہر ایک دوست کے پاس آتا ہے اور اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے کہ مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ لیکن افسوس اس کی آواز کوئی نہیں سنتا ۔
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں اپنی موت کو یاد کیا کرو ۔
قبر ہر دن اپنے مُردوں سے اعلان کرتی ہے کہ میں غربت اور تنہائی کا گھر ہوں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں مٹی کا ڈھیر ہوں۔
جب مؤمن کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا کہ کر خوشخبری دیتی ہے کہ میری پشت پر چلنے والوں میں سے تو بڑا محبوب تھا آج میں تیری ہو گئی اور تو میرے پاس آ گیا آج میرا احسان دیکھ ۔
یہ کہہ کر قبر کشادہ ہو جاتی ہے اور جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے اس کو تازی ہوا آتی ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ ایک قبر پر بیٹھ گئے اور فرمایا :
کہ یہ قبر ہر روز با آواز بلند کہتی ہے کہ آدم کی اولاد تو کیوں مجھے بھول گیا، کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ میں تنہائی کا گھر غربت کا گھر وحشت کا گھر اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ۔
مگر اللہ جس کے لئے کشادگی کا حکم فرمائے گا اس کے لیے کشادہ ہو جاؤں گی ۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قبر تو یا تو جنت کا چمن ہے یا تو پھر آگ کا ایک تندور ہے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے اے ابن آدم تو ہلاک ہو تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا۔
کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں تجھے کس چیز نے مجھ سے بہکا کر نڈر کر دیا اور تو میری پشت پر بہت اکڑ کر چلتا تھا ۔
اگر وہ مردہ نیک ہوگا تو جواب دینے والے اسے جواب دیں گے ،کہ اے قبر تو دیکھ تو سہی اس کے اعمال کیسے ہیں یہ اچھائی اختیار کرتا تھا اور برائی سے دور رہتا تھا یہ سن کر قبر کہتی ہے بے شک یہ نیک تھا اب میں اس کے لئے سرسبز ہو جاتی ہوں۔
مُردے کا جسم اس وقت منور ہو جاتا ہے اور اس کی روح اللہ تعالی کی طرف بھیج دی جاتی ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کے مردہ قبر میں پیشتا ہے اور ان لوگوں کے گھروں کی آواز بھی سنتا ہے جو اس کے ساتھ جنازے میں گئے ہوں مردے سے اس کی قبر کہتی ہے کہ ابن آدم تیری ہلاکت ہو ۔
تو نے میری تنگی بدبو اور کیڑے مکوڑوں کا خوف نہیں کیا اس لئے تو نے ان چیزوں سے بچنے کے لیے تیاری نہ کی بد اعمال مردے سے قبر کہتی ہے ،
کہ تو نے میری تاریکی، میری وحشت، میری تنہائی اور تنگی، میرا غم تجھے یاد نہیں رہا۔
اس کے بعد قبر اس کو جکڑ لیتی ہے اور فرشتے اسکو ہتھوڑوں سے ایسے مارتے ہیں کے اس کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر ہوجاتی ہیں پھر دوزخ کی کھڑکی اس پر کھول دی جاتی ہے اور وہ مردہ حشر تک اس عذاب میں مبتلا رہتا ہے ۔
مرنے کے بعد ہر مردے کو صبح اور شام اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے ، فرشتے جنتی کو جنت دکھا کر خوشخبری دیتے ہیں، اور دوزخی کو دوزخ دکھا کر اس کی حسرت اڑاتے ہیں ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو مسلمان اس دنیا سے جا چکے ہیں ان کی بخشش فرمائے آمین ۔



