Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    تحریک انصاف کے دور میں قومی اسمبلی کچھ اہم بلوں کی منظوری آخر ہو ہی گئی جس میں ایک بل سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق تھا. اپوزیشن آخری وقت تک اس کا ساتھ دیتی نظر نہیں آئی مگر یہ بھی حقیقت ہے کے کچھ لوگوں نے خاموشی اور نام نہ ظاہرکرنےکے عیوض ووٹ دیا. موجودہ حکومت پہلے دن سے یہی کہتی آئی ہے کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین صرف ہمارا فائدہ ہی نہیں بلکہ پاکستان ممکی تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے اس سے الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہوگا وقت بھی بچے گا اور سب سے اہم دھاندلی کی بات اور بحث کرنے والے لوگ بھی اطمینان کا اظہار کریں گے اعتماد ہوگا انھیں یہی نہیں بلکہ قیمتی وقت بھی بچے گا اقر چند ہی گھنٹوں میں نتائج سب کے سامنے ہوں گے.

    مگر اپوزیشن کا رویہ اتنا اچھا نہیں دیکھا گیا اپوزیشن اس کے سخت خلاف ہے ساری چیزوں پر غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کے اپوزیشن اس بل پر حامی اس لئے نہیں بھرتی کہ پھر ان کے ووٹ جو یہ خریدتے ہیں وہ نہیں پڑ سکیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ سمندرپار پاکستانی وزیراعظم عمران خان پر ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے سے مکمل بھروسہ کرتے ہیں.

    دیکھا جائے تو ایک دون دن پہلے ن لیگ کے رہنما این اے ١٣٣ کے لئے ووٹرز کو قرآن پر حلف اور پیسے دیتے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے مگر اب واضح تو ہو ہی گیا کے ن لیگ یا اپوزیشن کیوں اتنا خلاف ہے ای وی ایم کے.

    ن لیگ نے ہر چیز جو پیسے اے خریدنے کی کوشش کی ہے اور یہی طرز سیاست بھی رہا ہے اس سیاسی جماعت کا. یہ لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں ای وی ایم سے جبکہ وفاقی وزیر ٹیکنالاجی شبلی فراز نے تو چیلنج بھی کیا کہ اس مشین کو ہیک کر کے دکھائیے دس لاکھ کا انعام حکومت خود دے گی چلیے تھوڑی سی دیر کے لئے مان لیا کے اس مشین میں نقائص ہیں تو دیگر سیاسی جماعتیں اس کے لئے اچھی تجاویز کیوں نہیں دیتی کیوں نہیں اس پر بات کرتے؟

    کچھ مہینوں پہلے ن لیگ کے احسن اقبال نے مخالفت میں آکر سمندر پار پاکستانیوں کی تضحیک بھی کی چلیں یہ بھی مان لیا کہ وہ درست مگر یہ بتائیے کے ن لیگ کی سوشل میڈیا سیل سے سمندر پار پاکستانیوں کی جو تضحیک کی گئی کیا اس کا اندازہ ہے انھیں.

    ساری اپوزیشن خاص کر ن لیگ نفرت میں بہت آگے نکل چکی ہے یہ بھی سنا گیا کہ کچھ ن لیگی اراکین نے قومی اسمبلی میں یہ گارنٹی دی کہ ہم ان بلز اور اس بل کے ساتھ ہیں بس ہمارا نام سامنے نہ آئے اب زرا بتائیے کہ نوااز شریف یا مریم نواز وہ بیانیہ لے کے چلتے ہیں جو کسی کو بھی منظور نہیں ویسے بھی ریاست مخالف بیانیہ رو کسی کو بھی منظور نہیں ہو سکتا سوائے ملک دشمن عناصر کے.

    شہبازشریف کامی باڈی لینگویج قدرے نرم نظر آئی اور یہ سب جانتے ہیں کے شہبازشریف نوازشریف والا بیانیہ نہیں لے کر چلتے.

    الیکٹرانک ووٹنگ سے مشین ست جو فوائد حاصل ہوں گے ہمیں اس کا اندازہ نہیں اگر اپوزیشن کو مسئلہ ہے تو وہ قومی اسمبلی میں ڈسکس کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو نقائص کے ساتھ اسکا دیر پا حل بھی تو بتائے نا لیکن اس پر آکر خاموش ہوجاتی ہے آخر کیوں؟

    اگر آج آپ پاکستان کے لئے ایک نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے سیاست صرف اقتدار یا دولت کی خاطر کیوں کیوں اتنا بے چین ہے اپوزیشن اور اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ہم ٹیکل کر لیں گے جھوٹ یا بہانے بنا کر یہ درست نہیں اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو پھر نئے قوانین بنوانے میں مدد کریں تاکہ اس کے فوائد حاصل کئے جا سکیں

    دعا ہے کے ﷲ پاکستان کی حفاظت کرے آمین.

  • ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت  تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر ایک مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ہے 2021 کی دوسری سہ ماہی تک، ٹوئٹر کے دنیا بھر میں 206 ملین منیٹائزیبل روزانہ فعال صارفین تھے۔
    ٹویٹر ایک مقبول سوشل نیٹ ورک سروس ہے جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ٹویٹر اشتہاری کمپنیوں کے لیے ایک نئے وسیع میڈیم کے طور پر ایک موثر پلیٹ فارم بن گیا ہے، اس لیے یہ ظاہر ہے کہ بااثر ٹوئٹر صارفین کو تلاش کرنا اور ان کے اثر و رسوخ کی پیمائش ضروری ہے۔ بدیہی طور پر، جن صارفین کے زیادہ پیروکار ہیں ان کے زیادہ بااثر ہونے کا امکان ہے۔
    اگر ہم سیاست اور ٹویٹر کے سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں بات کریں پھر ٹویٹر اس حوالے سے سرفہرست ہے۔ باراک اوباما سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ تک، آپ صرف کسی مشہور شخصیت یا سیاسی و مذہبی رہنما کا نام لیں جو آپ کو ٹوئٹر پر نہیں ملے!

    ٹویٹر نے نومبر 2020 میں محدود تعداد میں صارفین کے ساتھ Spaces کی جانچ شروع کی، لیکن اپریل 2021 میں، اس نے عالمی سطح پر iOS اور Android Twitter صارفین کے لیے اس فیچر کو متعارف کرانا شروع کر دیا جن کے 600 یا اس سے زیادہ فالوورز ہیں۔ 600 سے کم فالورز والے کچھ صارفین کے لیے بھی ٹویٹر اسپیس آپشن استعمال کرنے کے اہل تھے۔
    ٹوئٹر اسپیس حقیقی گیم چینجر ہے، اس سے نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی منظرنامے بھی متاثر ہوں گے۔ اگر ہم پاکستان اور ہندوستان کی بات کریں تو لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اسپیس آپشن کا استعمال کر رہے ہیں۔ جیسے سیاسی پوائنٹ سکورنگ، ڈیٹنگ، نفرت انگیز تقریر، علیحدگی پسند تحریکیں، انڈیا بمقابلہ پاکستان، کرکٹ، سماجی مسائل، آگاہی۔ وغیرہ۔ انتہائی دلچسپ پہلو جس کا ہم انتخابی موسموں میں مشاہدہ کریں گے جب سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے لیے ٹوئٹر اسپیس آپشن استعمال کریں گی۔ میں نے کچھ ٹویٹر اسپیس کا مشاہدہ کیا ہے جس میں ہزار سے زیادہ شرکاء نمایاں سیاسی شخصیات بھی بول رہے تھے۔
    سوئٹزرلینڈ میں کام کرنے والے آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر، میں ایک ساتھ اشتراک اور سیکھنے کے لیے ٹوئٹر اسپیس کی میزبانی بھی کر رہا ہوں۔ میں پاکستان اور باقی دنیا کے دیگر شاندار آئی ٹی پروفیشنلز کی مدد سے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے زیادہ تر ویک اینڈ پر سپیس کا انعقاد کرتا ہوں۔ اس وقت کے لیے اتنا ہی کافی ہے! لیکن ٹویٹر اسپیس، آئی ٹی اور دیگر مسائل کے بارے میں لکھوں گا۔ پڑھنے کا شکریہ, اور میں آپ کی رائے کا انتظار کروں گا۔

  • تبدیلی لانا آسان ہے کیا؟؟؟ تحریر فضل عباس

    تبدیلی لفظ سنتے ہی تمام پاکستانیوں کے ذہن میں ایک ہی نام آتا ہے وہ ہے عمران خان
    عمران خان نے سیاست میں لفظ "تبدیلی” اور "نیا پاکستان” متعارف کروایا ایک طویل جدو جہد کے بعد ان کو حکومت ملی اور لوگوں کی نظریں ان پر جم گئیں لوگ توقع کر رہے تھے کہ عمران خان چند ہی دنوں میں تبدیلی لاۓ گا عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے دوسرے دن نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟؟؟ یہ وہ سوال ہے جس پر آج ہم بات کریں گے

    پاکستان پچھلے چالیس سال سے انتظامی اور مالی مشکلات کا شکار ہے پاکستان ہمیشہ لیڈرز سے محروم رہا ہے جب پاکستان میں تیسرا مارشل لاء لگا تو جنرل ضیاء الحق خود ساختہ سیاسی جماعتوں کو وجود میں لاۓ تا کہ اسے طاقت کے استعمال میں کوئی مسئلہ درپیش نہ آۓ ایک طرف وہ میاں نواز شریف کو سیاست میں لاتے ہیں دوسری طرف الطاف حسین کو کراچی کا سکندر بناتے ہیں انہیں اس میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا تھا ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے وہ کچھ بھی کرنا چاہتے تھے اور وہ سب کر گزرے قوم کو نواز شریف اور الطاف حسین جیسے تحفے نوازے جو بعد میں پاکستان کی تباہی کا باعث بنے

    اس سب کے بعد پاکستان میں دو جماعتی رسم شروع ہوتی ہے ایک دفعہ ایک جماعت حکمران ہوتی ہے تو اگلی دفعہ دوسری جماعت ایک جماعت دوسری کو کرپٹ قرار دیتی ہے تو دوسری پہلی کو پیپلز پارٹی کی نظر میں سب سے کرپٹ اور نااہل جماعت مسلم لیگ ن ہوتی ہے اور مسلم لیگ ن کی نظر میں سب سے زیادہ کرپشن کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی
    ان دونوں جماعتوں نے اسی طرح اپنا کام جاری رکھا اور پاکستان کمزور ہوتا گیا ان کے ساتھ ساتھ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کراچی میں اپنی طاقت کے بل بوتے عذاب بنتی گئی پاکستان مالی اور انتظامی سطح پر بکھرنے لگا
    1999 ء میں جنرل پرویز مشرف مارشل لاء لگاتے ہیں آگے چل کر وہ صدر پاکستان بنے اور ایک نسبتاً اچھا بلدیاتی نظام لاۓ مگر وہ نظام ان کی حکومت جاتے ٹوٹ گیا اور پھر سے وہی دو جماعتی کھیل شروع ہو گیا اور پاکستان اب کی بار قرضوں کے سونامی میں ڈوبتا گیا اس بار ان دو جماعتوں کے مقابلے میں عمران خان آۓ اور بالآخر 2018 ء میں ان دو جماعتوں کو شکست دے کر وزیر اعظم پاکستان بنے

    عوام عمران خان کی تقاریر سن کر ان کی دیوانی ہو چکی تھی انہیں لگ رہا تھا کہ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ساتھ نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن ایسا نہیں ہوتا چالیس سال کا بگاڑ ایک ساتھ ٹھیک نہیں ہو سکتا وہ ٹھیک ہے کہ عوام کو عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں لیکن جتنی امیدیں ہوں اتنا وقت بھی دیا جاتا ہے خواب سپر پاور بننے کے ہوں اور وقت لمحوں کا بھی نہ ہو ایسا نہیں ہوتا اس پر تھوڑی واضح گفتگو کرتے ہیں

    تبدیلی لانے کے لیے سب سے پہلے نظام بدلنا پڑتا ہے اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی سے لڑنا پڑتا ہے یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جو طاقتیں سالوں سے اس ملک پر قابض ہیں انہیں لگام ڈالنا کو بچوں کا کھیل نہیں عمران خان کے پاس تو دو تہائی اکثریت بھی نہیں ہے عمران خان کو قانون سازی میں بہت زیادہ مشکلات ہیں بیوروکریسی اپوزیشن راہنماؤں کی ایماء پر حکومت کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کی بلیک میلنگ الگ سے ہے اس سب سے لڑنے میں وقت لگے گا عمران خان کو لوہے کے چنے چبانا ہوں گے تب ہی پاکستان بدلے گا اس سب میں بہت محنت درکار ہے عمران خان تو لگا ہوا ہے وہ کر دکھاۓ گا لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کریں کیوں کہ یہی صبر ہمیں کل اس قابل بناۓ گا کہ ہم فخریہ کہہ سکیں ہم اس راہنماء کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے تھے جس نے نیا پاکستان بنایا تھا اللّہ تعالیٰ عمران خان کو اس کے اس عظیم مقصد میں کامیاب کرے آمین ♥️

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو تحریر سیدہ اُمِ حبیبہ

    قائین محترم جہالت کی ضد علم ہے 

    تاریکی روشنی کو مات دیتی ہے

    صبح و شام ایک ساتھ ضم نہیں ہو سکتے.

    ہماری قوم کی یاداشت کمزور ہے یا ہماری جمہوریت کے پیچھے متحرک قوتیں ملک کے وسیع تر مفادات میں قوم کو ذہنی ہیجان سے گزارنے میں اور یاداشت کو مسخ کرنے میں ماہر ہیں.

    اور ہم بھی ایسی قوم ہیں کہ یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ

    چلو اچھا ہوا ہم بھول گئے

    ہماری قوم جابجا یہ بھی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے.

    ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں .

    مگر ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ ان ہی دہشت گردوں کی عام معافی کے اعلانات کیے جائیں؟ کس سے پوچھ کر ؟

    کیا اس ماں سے پوچھا گیا جسکا نازوں سے پالا نوخیز جوان ذبح کر کے اس کے سر سے فُٹ بال کھیلا گیا؟

    اس بہن سے پوچھا جسکا اکلوتا بھائی سہرا سجانے اے چند دن پہلے وردی میں ہی دفنانا پڑ جائے؟

    اس قوم سے پوچھا جس نے دہشت گردی کے لیبل کے ساتھ گلی گلی اور ملکوں ملکوں رسوائی برداشت کی پابندیاں برداشت کیں؟

    ملک کا ایسا کونسا مفاد ہے کہ اے پی ایس کے شہداء کے قاتل ہنس ہنس کر آپ کے ٹی وی چینل پہ بیٹھے ہوں اور شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے ہنستے قاتل کو دیکھ کر خون رو رہی ہوں.

    کل نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے عین پہلے دورہ ختم کر کے نکل جاتی ہے. قوم تڑپ اٹھتی ہے کہ 18 سال بعد کرکٹ کے رنگ وطن لوٹے ہی تھے کہ سب ایکا ایکی ختم ہو گیا.

    تمام تبصرے قابلِ بحث نہیں ..کچھ آستین کے سانپ زہر اگلتے رہے اور کچھ نمک حلال اپنے نہ ہو کر بھی ہمت بنے رہے.

    مدعے کے بات یہ تھی کہ دورے کی منسوخی میں کہیں نہ کہیں طالبان کی حمایت وجہ بن رہی تھی اور سر دھنیے افغان طالبان نہیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور وہ بھی عام معافی جیسی بات وہ بھی ان درندوں کے لیے جن کے سر پہ ستر ہزار پاکستانیوں کا بے گناہ خون ہو.

    دشمن وار جانے نہیں دیتا مگر ان کا کیا کریں جو دارالحکومت کے دامن میں دہشتگردی کی دکان سجائے بیٹھے ہیں.اور آج اسلام آباد کی پولیس کو لیکچر دیتا مہتمم کہتا ہے 

    "پاکستانی طالبان آئیں گے تمہارا حشر نشر کریں گے”

    ریاستی ادارے کو دہشتگردوں کی دھمکی پہ وزیرِ داخلہ خاموش وزیرِ دفاع ناپید ؟ 

    ہمارے وطن کے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں ناں کہ مقتولین کے حق میں بھی نغمات جاری کر لیں اور قاتلوں کو بھی معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیں تو ان اے کہدیجیے…

    ظلم رہے اور امن بھی ہو 

    کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    اپنے ہونٹ سیے تم نے 

    میری زباں کو مت روکو 

    تم کو اگر توفیق نہیں 

    مجھکو ہی سچ کہنے دو 

    ظلم رہے اور امن بھی ہو…

    @hsbuddy18

  • لاوارث ضلع (چنیوٹ ) تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ

     

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں ۔تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ 

    لاوارث ضلع (چنیوٹ)

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں

  • کی اس نے میرے قتل کے بعد جفا سے توبہ تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم حالات کی تلخیاں اس تحریر کا پیش خیمہ ہیں.ایک خبر نظر سے گزری کہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری دستخط شدہ درخواست سماعت کے لیے مقرر”. ظلم نہیں کہ ایک شخص جسے قوم نے جیتے جی ستایا ہو.اس کی ہر کوشش کے صلے میں اس پہ ایک مقدمہ کیا گیا ہو.

    حقائق میری تحریر سے متضاد ہو سکتے ہیں ممکن ہے کہ وقت کا تقاضا ہو کہ مقدمات قائم ہوئے.

    مگر یہ موت کے بعد مقدمات کی سماعت ہونا کب تک جاری رہے گا.

    مشہور انگریزی مقولہ ہے.

    Justice delayed is Justice denied.

    موت کے بعد عدالت سے بریت کا فیصلہ آتا ہے.

    پھانسی کے بعد بے گناہی ثابت ہو جاتی ہے.

    مجرم طبی بنیادوں پہ چند ہفتے کی کی ضمانت پہ دو سال نکال کر عدالت کے فیصلے کے پرخچے اڑاتا نظر آتا ہے .دوسری طرف اسی مجرم کی سزا یافتہ بیٹی کو اس مجرم کی عیادت کے لیے ضمانت ملی ہوئی ہے جو ملک میں موجود نہیں.عام آدمی مجرم ہو تو معاشرے میں کھڑا نہیں ہو سکتا مگر مجرم دولت مند ہو تو جلسے جلوس بھی کرتا ہے.کیا توہینِ عدالت نہیں ہے. 

    کیوں عدالتی فیصلے زیرِ التوا رہتے ہیں.

    کیوں فوری انصاف نہیں ملتا؟ موت کے بعد بریت کا فیصلہ کب تک ہماری روحیں جھنجوڑتا رہے گا؟ 

    یہ سوال توہین نہیں ہیں.میرا  اس اسلامی جمہوریہ کہ شہری ہونے کے ناطے حق ہے سوال کروں کہ کب تک اسی طرح غیروں سے لیا گیا نظامِ عدل ہمارے ملک میں لاقانونیت کا محرک رہے گا.رشوت سفارش دھونس دھاندلی والے مطمئن ہیں بے چین ہے تو شریف آدمی اور اسکی شرافت اسے کورٹ کچہری نہیں جانے دیتی.

    طاقتور مجرم بچتے ہیں تو قانون کی کمزوری نہیں سزا کے عمل کی کمزوری ہے.کسی بھی مضبوط معاشرے کا مطالعہ کریں بنیادوں میں مضبوط نظام عدل ہوگا.

    کسی بھی خوشحال معاشرے کی خوشحالی عدل کے بغیر ممکن نہیں.

    جہاں نظم و ضبط دیکھا جانچ کے بعد معلوم ہوا اس وطن کے شہری قانون توڑنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے کہ سزائیں سخت اور فوری ملتی ہیں.

    ہم نے ویکسین جرمانے اور باقی ماندہ تھریٹس کے پیشِ نظر لگوائی کہ فوری برطرف کیا جا رہا تھا.

    ہم کب تک دوسرے معاشروں کی مثالیں دیتے رہیں گے؟ 

    جب تک فوری اور سستا انصاف نہیں ملتا.

    جب  ہم جیتے جی تمغے دینے لگے. زندہ کو بری کرنے لگے ہم بھی کامیاب قوم بن جائیں گے.

    اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مقدمے کا فیصلہ ہوگا.

    ان کو معزز ٹھہرایا جائے گا.قوم نے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے.

    مگر ڈاکٹر صاحب جنتوں کے مکین ہو جانے کے بعد اس شعر کے مصداق مسکراتے ہوئے اپنی قوم کو دیکھ رہے ہوں گے

    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا 

    Twitter:@Hsbuddy18

  • وقت کے بارے میں اسلاف کی احتیاط ! تحریر تعریف اللہ عفی عنه

    ❤بسم اللہ الرحمن الرحیم❤

    "علمائے سلف اپنے وقت کے بارے میںبڑے محتاط تھے ،وقت کے ضائع ہونے کا انہیں ہر وقت کھٹکا لگا رہتا کسی بزرگ سے چند لوگ ملاقات کیلئے گئے ،ملاقات کے آخر میں انہوں نے ان بزرگ سے معذرت کے طور پر کہا”شاہد ہم نے آپ کو اصل کام سے ہٹا کر مشغول کردیا”وہ بزرگ فرمانے لگے "تم ٹھیک کہتے ہو،میں پڑھنے میمصروف تھا،آپ لوگوں کیوجہ سے میں نے پڑھنا چھوڑدیا۰”

    چند لوگ حضرت معروف کرخی رح کے پاس بیٹھے ،جب مجلس انہوں نے طویل کی اور کافی دیر تک نہیں اٹھے تو حضرت معروف کرخی رح ان سے فرمانے لگے:

    "نظام شمسی چلانے والا فرشتہ تھکا نہیں (اس کی گردش جاری اور وقت گزر رہا ہے)آپ لوگوں کے اٹھنے کا کب ارادہ ہے؟

    داؤد طائی روٹی کے بجائے چورہ استعمال کرتے تھے،فرماتے تھے،دونوں کے استعمال میں کاکافی تفاوت ہے روٹی کھاتے چباتے کافی وقت لگ جاتا ہے جب کہ چورے کے استعمال سے نسبتا اتنا وقت بچ نکل آتا ہے کہ اس میں پچاس آیات تلاوت کی جاسکتی ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰عثمان باقلانی ہمیشہ ذکر میں مصروف رہتے تھے،فرماتے تھے :”چونکہ کھاتے وقت ذکر نہیں ہوسکتا اس لئے جب میں کھانے میں مشغول ہوجاتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری روح نکل رہی ہو "حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:”جو شخص ایک مرتبہ "سبحان اللہ وبحمدہ”کہے گا،اس کے عوض اس شخص کیلئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا”

    ذرہ اندازہ کیجئے ! زندگی کی کتنی قیمتی گھڑیاں ایسی ہیں جو انسان ضائع کردیتا ہے اورءاتنے عظیم اجر وثواب سے محروم رہتا ہے ۰ دنیا کے یہ ایام اخرت کیلئے کھیتی کا درجہ رکھتے ہیں ،کون ہے ایسا جس میں  عقل ہو کہ اپنی کشت میں بیج نہ بوئے یا کاہلی وسستی سے کام لے۰اس لئے ضرورت ہی کے تحت لوگوں سے ملا جائے ،عام حالات میں صرف علیک سلیک  پر اکتفا کیا جائے،زیادہ میل جولترک کرکے خلوت اور کنج تنہائی وقت کو ضیاع سے بچانے میں بہت ممد ہے ،اس طرح کھانے کی مقدار میں کمی بھی وقت بچانے میں معاون بن سکتی ہے کیونکہ بسیار خوری بسیار خوابی کا سبب ہے،ہمارے اسلاف کی زندگیوں میں یہ چیز بڑی نمایاں نظر آتی ہے۰”

    "علمائے سلف بہتعالی ہمت تھے ،ان کی عالی ہمت کا اندازہ آپ ان کی ان تصانیف سے کرسکتے ہیں جو ان کی زندگیوں کا نچوڑ ہیں،علم میں کمال چاہنے والے طالب علم چاہیے کہ اسلاف کی کتابوں سے واقفیت حاصل کرے تاکہ ان کی عالی ہمتی دیکھ کر اس کا دل زندہ اور اس کے محنت کرنے کا عزم متحرک ہو ،نیز کتاب کسی بھی فن کی ہو فائدہ سے تو بہر حال خالی نہیں ہوتی (اس لئے اسلاف کی ہر قسم کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چایے)”

    صاحب وعیون الانباء نے امام رازی رح کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے تھے:

    "خدا کی قسم!کھانا کھاتے وقت علمی مشغلہ ترک کرنے کیوجہ سےمجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ وقت اور زمانہ بڑا ہی عزیز سرمایہ ہے۰”

    "منتقی الاحبار”کے مصنف مجدالدین ابن تیمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ ابن رجب نے "ذیل طبقات حنابلہ”(جلد ۲،صفحہ ۲۴۹)میں ان کے متعلق لکھا ہے:

    "وہ عمر عزیز کا کوئی لمحہ ضائع ہونے نہیں دیتے تھے،زندگی کی ایک گھڑی کو کسی مفید مصرف میں لگانے کا اس قدر اہتمام تھا کہ کھبی تقاضہ اور ضرورت سے جاتے تو اپنے کسی شاگرد سے کہتے تم کتاب بلند آواز سے پٹھو تاکہ میں بھی سن سکوں اور وقت ضائع نہ ہو۰”

    بات بڑی عجیب ہے لیکن عجب چیز ہے احساس زندگانی کا !

    اٹھویں صدی کے مشہور شافعی عالم اور فقیہ شمس الدین اصبہانی کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے "درر کا منہ”(جلد ۶ صفحہ ۸۵)میں،اور علامہ شوکانی نے "البدر الطالع”(جلد ۲ صفحہ ۲۸۹) میں ان کے متعلق لکھا ہے  کہ "وہ کھانا اس ڈر کی وجہ سے کم کھاتے تھے کہ زیادہ کھانے تقاضہ کی ضرورت بڑھے گی اور خلا جاکر وقت ضائع ہوگا”

    حافظ ابن عساکر نے "تبیین کذب المفتری”(صفحہ ۲۶۳) میں پانچویں صدی کے مشہور عالم سلیم رازی کے بارے میں لکھا ہے کہ "لکھتے لکھتے جب ان کا قلم گھس جاتا تو قلم کا قط لگاتے ہوئے ذکر شروع کردیتے تاکہ یہ وقت صرف قط ہی لگانے میں ضائع نہ ہو”

    علم عروض کے موجد اور علم نحو کے مشہور امام خلیل بن احمد فرماتے تھے "یعنی وہ ساعتیں اجھ پر بڑی گراں گزرتی ہیں جن میں،میں کھانا کھاتا ہوں۰”

    (متاع وقت اور کاروان علم ،مصنفہ ابن الحسن عباسی رح)

    @Tareef1234

  • بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں تحریر: حمیداللہ شاہین 

    دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ خوراک کی دستیابی، حفاظت اور مارکیٹنگ کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔  زرعی مارکیٹنگ وہ لائف لائن ہے جس میں زرعی پیداوار کے لیے نئی منڈیوں کی دستیابی، حفاظت اور ترقی شامل ہے۔  اس حقیقت کے باوجود کہ زراعت پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن پھر بھی مقامی منڈیوں سے قربت کے حوالے سے کاشتکاری کو بحرانوں کا سامنا ہے۔  زرعی مارکیٹنگ سے متعلق مختلف مخمصے ہیں جن پر مختصراً اس مضمون میں بحث کی جائے گی۔

     پاکستان خصوصاً بلوچستان کے کاشتکار برادری کے لیے بہت زیادہ مشکلات ہیں۔  ہم اسی مضمون میں کچھ مسائل کو جاننے کی کوشش کریں گے۔

     تمام مسائل میں سب سے اہم مسئلہ پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم توجہی ہے۔  نئی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں کی ترقی سے متعلق مسائل کو ترتیب دینے والے ریاستی محکمے اپنے نقطہ نظر میں سست اور غیر سنجیدہ ہیں۔  بلوچستان کے لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ زراعت ہے۔  یہ صوبہ نہ صرف دیگر ممالک بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے بھی زندگی کے حوالے سے بہت پسماندہ نظر آتا ہے۔  خضدار کے علاقے نال کے رہنے والے غریب کسان اللہ بخش لانگو کی ایک دکھ بھری کہانی سناتا ہوں۔  وہ پانچ ایکڑ زمین کا مالک ہے۔  پیاز کے کاشتکار ہونے کے ناطے اس کے پاس اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کوئی قریبی بازار نہیں ہے۔  گزشتہ جون میں کوئی قریبی مارکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔  وہ اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کراچی اور فیصل آباد آیا، جہاں اس نے اپنی پیداوار کو متعلقہ علاقوں کے دلالوں کے رحم و کرم پر ٹھکانے لگایا۔  یہی کہانی بلوچستان کے ہزاروں کسانوں کی بھی ہے، جو آخرکار اپنی بقا کی امید کھو رہے ہیں۔  ایک دن یہ صورت حال مزید خراب ہو جائے گی اور پہلے ہی باغیوں کی زد میں آنے والی زمین کو لاقانونیت کی ایک اور لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

     ایک اور بڑا گڑبڑ متعلقہ اداروں کی مالی مدد کی کمی ہے۔  کسانوں کی برادری کریڈٹ یا قرضوں، فصلوں کی بیمہ، اور کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر سبسڈی سے محروم ہے، جس سے ان کی پیداوار کی لاگت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔  ان کی حتمی مصنوعات میں اضافے کی وجہ سے کسانوں کو خاطر خواہ منافع نہیں مل سکتا۔  اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مقامی طور پر مہنگی پیداوار بین الاقوامی سطح پر سستی فصلوں کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟  یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں سے مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔  مائیکرو لون کے ذریعے صحیح کھادوں اور کیڑے مار ادویات کی صحیح وقت پر دستیابی آسانی سے کی جا سکتی ہے، جس سے فصل کی خالص پیداوار بڑھ جاتی ہے۔

     پیکجنگ اور گریڈنگ کے لیے پوسٹ ہارویسٹ بین الاقوامی معیارات کے بارے میں علم کی کمی  اشیاء کی پیکیجنگ اور درجہ بندی کھانے کے معیار پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔  پیداوار کا معیار مارکیٹ کی پائیداری کو یقینی بناتا ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کی عدم موجودگی اور اشیاء کی کم شیلف لائف بھی تشویش کا باعث ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کسانوں کو اپنی اجناس کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنے کی اجازت دیں گے اور جب مارکیٹ کی قیمتیں نسبتاً زیادہ ہوں گی تو وہ اپنی پیداوار فروخت کریں گے۔

     پراسیسڈ فوڈ کے پاکستانی برانڈز کو اپنی بین الاقوامی منڈیوں میں ترقی کرنی چاہیے۔  کیونکہ اب ہمارے برانڈز کی بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی زیادہ نمائش نہیں ہے۔  ایک بار جب ہمارے پراسیس شدہ کھانے کو بین الاقوامی سطح پر نمائش مل جائے گی، تب ہمارے کسانوں کو ان کی پیداوار کی بہترین قیمتیں ملیں گی۔  یہ کچھ مسائل تھے جن کا سامنا ہماری کاشتکاری کو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں کرنا پڑ رہا ہے۔  اب ان پیچیدگیوں کا حل کیا ہونا چاہیے؟  ہم نے کچھ حل تجویز کیے ہیں۔

     حکومت سپلائی چین سے مڈل مین کے کردار کو نکالے۔  اس کی تعمیل میں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی مثال لی جا سکتی ہے۔  ہندوستانی حکومت نے ہر قصبے میں خریداری مرکز تیار کیا ہے، جہاں ایک سے زیادہ گاؤں کے کسان اپنی پیداوار براہ راست حکومت کو فروخت کر سکتے ہیں۔  حکومتی ریگولیٹری اتھارٹی ہر اجناس کی قیمتیں طے کرتی ہے اور اس مرکز کا فرض ہے کہ وہ کسان کی ہر پیداوار کو تجویز کردہ نرخوں پر خریدے۔  اس پہل سے ہندوستان کی کاشتکاری برادری دن بہ دن مالی طور پر مضبوط ہوتی جارہی ہے۔

     عالمی سطح پر نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔  تاکہ پاکستان میں مزید تجارت ہو سکے اور اس سرگرمی سے پورے ملک کی معیشت مضبوط ہو گی۔  بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اچھا انفراسٹرکچر اور مقامی منڈیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔  تاکہ خوشحالی بلوچستان کے کسانوں کا مقدر بن جائے۔  صوبے میں نقل و حمل یا گاڑیوں کی قیمتیں علاقے سے متعلق حکام کے ذریعہ طے کی جائیں۔  تاکہ کسانوں کو دوسرے صوبوں کے کسانوں کے برابر مراعات مل سکیں۔

     ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے صوبے کی موجودہ حکومت کے دفاتر میں گھنٹیاں بجیں گی، تاکہ وہ بلوچستان کے کاشتکاری کے ہنگامی حالات کے مذکورہ بالا مسائل کو حل کرنے کے لیے کچھ سنجیدہ اقدامات کر سکیں۔

    @iHUSB

  • میری زندگی تحریر سعد اکرم

     

    ایک نمایاں مذہبی تحریک دنیا میں ہمیں نظر آتی ہے جس نے بڑے بڑے عبقری علماء پیدا کیئے یہ پچھلے دو سو سال میں سب سے بڑی مذہبی تحریک بن کر ابھری اور اپنے اثرات کے لحاظ سے بھی یہ بہت بڑی تحریک تھی  برصغیر میں انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئ تھی اس سے پہلے یہاں کم وبیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کا اقتدار قائم رہا ہے اس اقتدار میں بھی مسلمانوں کے مدارس قائم ہوئے بڑے بڑے علماء بھی پیدا ہوئے ان کے ذریعے سے تصنیف و تالیف کی سرگرمیاں بھی ہوتی رہیں ۔ انگریز آ گئے تو انھوں نے آ کے نئے نظام تعلیم نظام معاشرت اور نئے نظام سیاست کی بنا ڈالنا شروع کی تو اس وقت مسلمانوں میں تہذیبی لحاظ سے بھی اور مذہبی لحاظ سے بھی ردعمل آیا جس میں فتاوی دئے گئے اور ہندوستان کی حیثیت متعین کرنے کی کوشش کی گئ  بتایا گے یہ دارالسلام ہے یہ دارالحرب ہے اور اب اس کی نوعیت کیا ہو گئ ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس مسئلے کا حل سوچا کے ہم نے اگر اپنی تہذیب کو اپنے مذہب کو قائم رکھنا ہے تو اس کا راستہ یہی ہے کے ہم دین کی تعلیم کا اہتمام اعلی درجے پہ کریں ۔مسائل ختم ہو گئے تھے پرانے مسلمانوں کے اوقاف اس طرح نہیں رہے تھے انگریزوں کے آنے سے پہلے جو بادشاہوں کی طرف سے نوازشیں ہوتی رہتی تھیں وہ بھی ختم ہو گئیں تو عام مسلمانوں سے اپیل کی گئ کے وہ بندوبست کریں ۔یہاں سے جو علماء آگے آئے ان میں مولانا محمود الحسن مولانا قاسم نانوتوی مولانا اسماعیل میرٹھی مولانا رشید احمد گنگوہی یعنی بڑے غیر معمولی لوگ اپنے علم کے لحاظ سے سیرت کے لحاظ سے کردار کے لحاظ سے ۔ابھی یہاں علم زیر بحث آیا تو اس کی دو  بڑی روایات ہیں ایک وہ جس کو سلفی روایت کہتے ہیں جس کے بڑے لوگوں میں ابن تیمیہ اور ابن قیم کا نام لیا جاتا ہے اور ایک وہ روایت ہے جو فلسفہ اور تصوف کے زیر اثر پیدا ہوئ اور اس میں سرخیل کی حیثیت تو امام غزالی کو حاصل ہے ان کے بعد شیخ اکبر محی الدین عربی بھی ایک بڑا نام ہے اور بھی بہت لوگ اس میں پیدا ہوئے برصغیر میں اگر کسی کو امام الہند کی حیثیت حاصل ہے تو وہ شاہ ولی اللہ ہیں  تو شاہ صاحب کے گھرانے نے جو علمی کام کیا اس سے فکری علمی پس منظر پیدا ہوا  اس کو بھی ساتھ شامل کر لیں غزالی سے لے کر جو صوفیانہ مزاج اور ہمارا جو قدیم علم ہے اس کے پاسبانوں کی حیثیت سے ان لوگوں نے اس مدرسے کی بنیاد رکھی ۔یعنی ایک ایسے مدرسے کی بنیاد رکھی دی جائے جس میں اس تعبیر کے بڑے علماء پیدا ہوں پیش نظر تو بڑے علماء پیدا کرنا ہی تھا کیونکہ اس میں ہر درجے کے لوگ آتے ہیں اور اپنی اپنی حیثیت کے لحاظ سے سیکھتے ہیں  اور اس میں کوئی شک نہیں کے دارالعلوم دیوبند نے بہت بڑے بڑے علماء پیدا کیئے ہیں ۔مولانا حسین احمد مدنی مولانا اشرف علی تھانوی مولانا انور شاہ کشمیری مولانا بدر عالم میرٹھی ہوں یہ چند نام ہیں جو معمولی درجے کے لوگ نہیں ہیں بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے علماء میں سے ہیں ۔اس کے ساتھ دوسری چیز وہ تھی کے لوگوں کے اندر تقوی اور اخلاص پیدا کرنے کے وہ طریقے  آزمائے جائیں جو صوفیانہ روایت سے ملیں یعنی خانقاہ کا اور مدرسے کا ایک امتزاج بنانے کی انھوں نے کوشش کی ۔ایک طرف تو دینی علوم فقہ کی تعلیم دے رہے تھے تو دوسری طرف حاجی امداداللہ مہاجر مکی جیسے بزرگوں سے طریقت کے اصول بھی سیکھ رہے تھے اور خود مدرسے کی بنیاد جن لوگوں نے رکھی وہ اپنے پس منظر کے لحاظ سے مجاہدین تھے ان کے اسلاف نے جو پہلا کام کیا تھا کے انگریزوں کی حکومت کو یہاں سے نکالا جائے اور اس میں جہاد بھی ہوا بلکہ سید احمد شہید کی تحریک بھی وہی ہے 

    اس وجہ سے وہ اپنی ذات میں اپنی شخصیت میں اپنے طرز عمل میں ہندوستان کے اندر ایک سیاسی تحریک کے بھی بانی تھے علماء کے اندر بلکہ کہا جا سکتا ہے کے گاندھی اور مسلم لیگ سے پرانی تحریک علماء ہی کی تھی ۔اور  یہ وہ ظہور ہوا جس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت تک بات پہنچا دی  ۔اور خانقاہی صورت تھی اس نے نئ ایک صورت اختیار کی اور تبلیغی جماعت بن گئ اب چلتے پھرتے یہاں تربیت پاتے ہیں لوگ ۔جو کسی زمانے میں خانقاہوں میں جاتے تھے ۔دارالعلوم دیوبند تو ماں بن گیا اس کے بطن  سے بہت ساری درسگاہیں وجود پذیر ہوئیں ۔ اس کے اثرات دنیا بھر میں پھیلے اس کے پڑھے ہوئے لوگوں نے دنیا بھر میں علم فنون میں غیر معمولی کام کیئے ۔اسی کے اندر سے جمعیت علماء ہند پیدا ہوئ ایک موقع پر مولانا داود غزنوی  جو اہلحدیث کے بڑے عالم تھے انھوں نے مولانا  ابوالکلام آزاد سے کہا کے ہماری  جمعیت علماء ہند میں تو دیوبند ہی دیوبند ہے تو ابوالکلام آزاد نے کہا دیوبند نے علماء پیدا کیئے ہیں تو وہی ہوں گے۔ایران سعودیہ کے بعد افغانستان وہ ملک ہے جہاں ایک مسلک ہی  کی حکومت قائم ہے یعنی آپ اسے دیوبندی سٹیٹ کہ سکتے ہیں ۔پاکستان میں بھی جمعیت علماء اسلام کا ٹھیک ٹھاک وجود ہے اور یہ بھی جمعیت علماء ہند سے بنی جو دارالعلوم دیوبند سے پیدا ہوئ

    @saadAkram_

  • کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    صحت مند زندگی گزارنے کیلئے پرسکون نیند کا آنا لازمی ہے ۔ اس لیے انسان کو تروتازہ اور تندرست رہنے کے لیے روزانا سات سے آٹھ گھنٹے نیند کرنا ضروری ہے۔ نیند نہ آنا یا نیند کی کمی کا واقع ہونا ایک بیماری ہے جس کو انسومنیا کہاجاتا ہے ۔ اس دور میں سو میں سے 98٪ لوگوں کو نیند کی کمی کا سامنا ہے ۔ اس میں بڑی تعداد میں اب نوجوان طبقہ شامل ہوگیا ہے ۔ کیونکہ ٹیکنالوجی نے اب نیند کی جگہ لے لی ہے ۔ اب ہر ایک کے پاس جدید سے جدید قسم کا موبائل فون ہے ۔ اور اس میں مختلف قسم کی گیمز ڈون لوڈ ہیں اور نوجوان طبقہ دن رات اسی گیمز میں لگے رہتے ہیں ۔ اور ان گیمز کے کھیلنے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ نیند کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ آنلائن کاروبار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ نیند پوری نہیں کر پاتے ۔ اور کچھ لوگ رات کو دیر دیر تک مختلف پارٹیوں میں شرکت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مقرر وقت پر سو نہیں پاتے اور نیند کی کمی کا شکار رہتے ہیں ۔ اگر آپ کو نیند کی کمی کا سامنا ہوگا تو دن بھر مزہ نہیں آئے گا ۔ آپ سستی کا شکار ہوں گے۔ اس دور میں تقریباً ہر ایک موبائل فون میں لگا ہوا ہے ناہی ورزش کر پاتے اور ناہی چلاک چست رہ سکتے ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے لاحق ہونے والی بیماریاں جس میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی واقع ہونا ، یاداشت کا کمزور ہونا ، مدافعتی نظام کا کمزور ہونا ، شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم میموری کا متاثر ہونا ، چڑچڑے پن کا شکار ہونا ، نیند کی کمی سے ذیابیطس کا شکار ہونا ، ہائی بلڈ پریشر کا بڑھنا ، مختلف دل کی بیماریوں کا شکار ہونا جن میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ لاحق ہونا ، نیند کی کمی سے وزن کا بڑھنا ، بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساسات کا ختم ہونا شامل ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے آپ چڑچڑے پن کا ہمیشہ شکار رہ سکتے ہیں۔ مکمل نیند نا کرنے کی وجہ سے آپ اسکول ، دفتر اور گھر میں سست رہیں گے۔ جو آپ کا موڈ خراب کرنے کی وجہ بن سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے آپ بے چینی ، ڈیپریشن جیسے مسائل سے دو چار رہ 

      سکتے ہیں اس لیے ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کیلئے نیند کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ نیند کی کمی کو پورا نہیں کریں تو آپ کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ ایک واضع اور عیاں بات ہے اس چیز سے کسی کا انکار نہیں ہوسکتا ۔ اگر آپ یا آپ کے بچے نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان مسائل کا سامنا ہے تو آپ ان مسائل کے حل پر غور کریں۔ کہ کیا وجہ ہے جس سے ہمیں یہ مسائل درپیش ہیں۔ آپ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ہر چیز کا ایک مقررا وقت بنائیں اس وقت اس وقت تک میں نے کھیلنا ۔ اس وقت سے اس وقت میں گھر کے کام کرنے ہیں اس وقت سے اس وقت تک موبائل فون استعمال کرنا ہے ۔ جس دن آپ نے وقت کو وقت کے مطابق ڈھالا اس دن سے آپ محسوس کریں گے واقعی میں چینج ہوں کیونکہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے ۔ سورج کا بھی

     وقت مقرر ہے صبح طلوع ہوتا ہے اور شام کو غروب ہوتا ہے اسی طرح پانچ  نمازوں کا بھی  وقت 

     متعین ہے ۔ انسان کی بڑی غلطی یہی ہے وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا ۔ اور بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اس لیے وقت کی پابندی کریں ۔ اور نیند کی کمی کو پورا کریں ۔ نیند پوری ہوگی تو آپ ان مسائل سے بخوبی نکل آئیں گے۔

    عبدالوحید @Waheed_B