قوم حیران ہے کہ نعمان نیاز نے قومی ہیرو شعیب اختر کے ساتھ کیا کردیا، اور میں حیران ہوں کہ قومی ہیرو کی بات کرنے والے لوگ حقیقت سے اتنے لاعلم کیوں ہیں؟ پاکستان میں قومی ہیرو اسے سمجھاتا جاتاہے جو اقتدار کی کرسی پر براجمان ہواورغلاموں کی توہین کرکے اپنی رعونت کی تسکین کرتاہو۔میں پی۔ٹی۔وی نہیں دیکھتا، اس لیے مجھے علم نہیں تھا کہ نعمان نیاز کیا چیز ہے۔ شعیب اختر سے مگر ہر وہ شخص واقف ہے جو کرکٹ کی معمولی سی شد بد رکھتا ہے کیونکہ پوری دنیا میں اس کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں جسے سومیل یا ایک سو اکسٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سےگیند بازی کرنے کا منفرد ترین اعزاز حاصل ہے ۔ وہ اس فن کا ”اکلوتا” فنکار ہے اور اس کی شناخت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ نعمان نیاز کو اتنا منفرد مقام حاصل کرنے کے لیے شاید سات جنم بھی کافی نہ ہوں۔ مجھے لکھنا نہیں چاہیے مگر لکھنا پڑ رہا ہے شعیب اختر کے ساتھ نعمان نیاز کا نام لکھتے ہوئے نہ جانے کیوں”چہ پدی چہ پدی کا شوربہ” والی کہاوت یاد آرہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دونوں کے درمیان ہونے والے افسوس ناک واقعہ کی گونج سنائی دی تو میں نے بھی ”گیم آن ہے” نامی پروگرام کا کلپ دیکھا۔ مجھے شدید حیرانی ہے کہ شعیب اختر میں اتنی قوت برداشت کہاں سے آگئی؟ اس کا رویہ مگر قوت برداشت نہیں، انتہا درجے کی اعلیٰ ظرفی کا مظہر تھا۔ نعمان نیاز کی فرعونیت اور کمینگی کا واحد جواب ایک زوردار تھپڑ ہونا چاہیے تھا جو اس کی اصل اوقات یاد دلا دیتا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ہم آج تک ایک قوم کی صورت متحد نہیں ہوسکے۔ ہم ایک منتشر گروہ ہیں اور قومی غیرت کے تقاضے نبھانے کے عادی بن ہی نہیں سکے۔ جو شخص قومی ہیرو کی توہین کرتا ہے، وہ پوری قوم کی توہین کرتا ہے کیونکہ ہیرو دراصل قوم کی تاریخ، ثقافت اور غیرت کی نمائندگی کرتا ہے۔قوم بہت دور کی بات ہے، ہم اپنے ساتھیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے سے بھی کتراتے ہیں۔ اس پروگرام میں شعیب اختر کے ساتھ پاکستان کے دوسرے کرکٹرز بھی موجود تھے، انھوں نے کس دل گردے سے نعمان اعجاز کی فرعونیت برداشت کی؟ کس معاوضے نے انھیں شعیب اختر کا ساتھ دینے سے روکا۔ شعیب اختر نے معذرت چاہتے ہوئے پروگرام چھوڑ کر اٹھنے اور استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو نعمان نیاز نے ایک ثانیے کے لیے بھی توجہ دینا گوارا نہیں کیا اور انتہائی بے نیازانہ انداز میں اپنا سکرپٹ جاری رکھا۔ اس کے نزدیک شعیب کا اٹھ جانا کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا تھا۔ میں گمان کر بیٹھا تھا کہ یہ کلپ دیکھ کر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز سرکاری ٹی۔وی کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکے ہوں گے۔ ایسے اقدامات کے لیے مگر قومیت کا عنصر ضروری ہے، اور بدقسمتی سے پاکستان میں اس عنصر کا فقدان ہے۔ ہم اگر قوم ہوتے تو اس سانحے کے فوراً بعد نعمان نیاز کو اپنا بستر گول کرنا پڑتا۔اُسے مگر علم ہے کہ پاکستان کے اصل ہیرو اہل اقتدار ہیں، اور وہ ان کی نمائندگی کررہا ہے۔ اس کی پشت پر یقیناً کوئی طاقتور شخصیت ہوگی، لہٰذا قومی ہیرو کی بات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سنا ہے کہ قومی حکومت نے انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔ کس چیز کی انکوائری؟ کیا پی۔ٹی۔وی انتظامیہ اندھی اور بہری ہے؟ جو کچھ ہوا آن ایئر ہوا، سب نے دیکھا، سب نے سنا، کمیٹی کس چیز کی تحقیق کرے گی۔ کیا نعمان نیاز کی زبان سے الفاظ اس کے ہمزاد نے ادا کیے تھے؟ یا یہ اس کی بدروح کی کارستانی تھی؟ اس نے شعیب اختر کے جس بیانیے پر اتنے مذموم رویے کا اظہار کیا، وہ کیا اس پروگرام کا حصہ نہیں ہے، اسے سننے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے۔ کچھ بزرجمہر پی۔ٹی۔وی اور شعیب اختر کے اختلافات کی بات کررہے ہیں، کچھ پردے کے پیچھے ہونے والی گفتگو کا رشتہ اس واقعے سے جوڑ رہے ہیں، معتبر صرف وہ ہے جو آن لائن نشر ہوا، اور سب نے دیکھا۔کسی ایک کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے پروگرام کی ریکارڈنگ کافی سے زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں صرف ایک سوال کافی ہے۔ کیا کسی ٹی وی اینکر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مہمان کو اختلاف رائے یا اندازِ گفتگو کی بنیاد پر پروگرام چھوڑنے کا حکم دے دے؟ انکوائری کے مثبت بتیجے کی توقع رکھنے والے مگر احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ قومی ہیرو صرف عوام کے دل میں رہتے ہیں، اور اہل اقتدار عوام کے دلوں کو کانچ کا کھلونا سمجھتے ہیں، جب تک چاہا ل بہلایا، جب چاہا تب توڑ دیا۔ ارباب اقتدار اگر شعیب اختر کی تذلیل کو انکوائری کی بھینٹ چڑھا کر پی جاتے ہیں تو شعب اختر کی حیثیت متاثر نہیں ہوگی، پی۔ٹی۔وی اور وزارت اطلاعات کا قد کاٹھ ضرور سکڑ جائے گا جسے دیکھنے کے لیے پہلے ہی خوردبین کی ضرورت محسوس ہوتی ہے..
Author: Baaghi TV
-
قومی ہیرو کے ساتھ رویہ کیسا ! تحریر : احسن ننکانوی
-
فیصلہ پارٹ نمبر 5 تحریر سکندر علی
پریشان نہ ہوں ۔ آپ اچھی طرح سے ڈھک گئے ہیں ۔
نہیں جارج کی بات کاٹتے ہوئے اس کا باپ چیخ کر بولا۔ اس نے پوری قوت سے بل پر سے کمبل پرے پھینکے کہ وہ وہ فورا ہی
پرے جاگرے۔ پھر وہ بستر پرتن کر کھڑا ہوگیا۔ صرف ایک ہاتھ سہارے کے لیے معمولی سا چھت کو چھورہا تھا۔
تم مجھے ڈھک دینا چاہتے ہو۔ میں جانتا ہوں میرے چھوٹے بچے لیکن میں آسانی سے ڈھک دیئے جانے والا
نہیں ہوں۔ اگر یہ میرے جسم کی قوت کی آخری لہر ہے تو بھی نبی نہیں سنبھالنے کے لیے کافی ہے۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ
ہی ہے۔ ہاں، میں تمھارے دوست کو جانتا ہوں۔ وہ میرا بیٹا ہوتا تو پسند بیرا بیٹا ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام برسوں میں تم
مجھ سے دھوکہ کرتے رہے اور اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں مجھے اس کا دکھ نہیں ہے؟ تم خود کو اپنے دفتر
میں بند کر لیتے تھے کہ چیف صاحب مصروف ہیں، انہیں پریشان نہ کیا جائے ۔ صرف اس لیے کہ تم روس میں جھوٹ کے
پلندے کو لکھ کر یہ کولیکن خوش قسمتی سے کوئی کسی باپ کو نہیں سکھا سکتا کہ وہ کیسے اپنے بیٹے کے اندر جائے اور اب جب
کہ تمھارا خیال ہے کہم اسے مات دے چکے ہو اور اتنا بیوگرا چکے ہو کہ اس پر سوار ہو سکو اور اس پر بیٹھ جاؤ اور وہ ذراسی چوں
چراں بھی نہیں کرے گا تو اب میرا چالاک بیٹا فیصلہ کرتا ہے کہ شادی کر لینی چاہیے۔
جارج اپنے باپ کے اس خوف زدہ کرنے والے روپ کو مبہوت ہو کر دیکھنے لگا۔ سینٹ پیٹرز برگ میں اس کے دوست نے، جسے اس کا باپ اچانک اتنے اچھے طریقے سے جانتا تھا، اس کے حواس کو یوں اپنی گرفت میں لیا کہ پہلے کبھی
ایسانہیں ہوا تھا۔ وہ اسے روس کی وسعت میں کم دکھائی دیا۔ وہ اسے ایک خالی، لئے پٹے گودام کے دروازے پرکھڑادکھائی
دیا۔ اپنے شوکیسوں کے ملبے ، اپنے مال کی شکستہ باقیات گیس کے ٹوٹے پھوٹے بریکٹوں کے درمیان و سیدھا کھڑا دکھائی
دیا۔ اسے کیوں اتنی دور جانا پڑ گیا۔
میری طرف دیکھو اس کا باپ پکارا اور جارج تقریبا ایک دم سے چونکتے ہوئے بستر کی طرف بڑھا تا کہ اس
معاملے سے نمٹ سکے لیکن پھر آدھے راستے ہی میں ٹھٹھر کا ۔
کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوگا۔ اس کا باپ گنگناتے ہوئے بولا کیوں کہ اس نے اپنا سکرت
اوپراٹھایا ہوگا اس طرح اس فاحشہ نے ۔ اور اس کی منگیتر ینقل اتارنے کے لیے اس نے ان میں آتی اور افعال کے
جی کے زمانے کا اس کی ران کا زخم دکھائی دینے لگا ” کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوا ہوں اور نہیں ، اور تم نے
اس سے عشق بگھارا، اور اس سے کسی رکاوٹ کے بغیر بے تکلف ہونے کے لیے تم نے اپنی ماں کی یاد کو پامال کیا، اپنے
دوست کو دھو کر دیا اور اپنے باپ کو یوں بستر میں لا چا که دوترکت کرنے کے قائل تیار ہے میں وہ حرکت کر سکتا ہے کیا میں
کرسکتا اور وہ بغیر کسی سہارے کے کھڑا ہو گیا اور اپنی جان میں ہوا میں پلانے لگا۔ شدت جذبات سے اس کے چہر سے کہا
سر کردیا تھا۔
جارج ایک کونے میں سکڑ کر کھڑا ہو گیا اپنے باپ سے کن حد تک فاصلے پر۔ بہت عرصہ پہلے اس نے کا ارادہ کیا تھا
کہ ہر معاملے پر گہری نظر رکھے گا تا کہ اگر کوئی اس پر پیچھے سے یا کسی اور طرت سے بالواسط حملہ کر ے، اس پر بھی تو دان
کے لیے تیار ہو۔ اب اسے پھر سے اتنے عرصے سے پھولا ہوا فیصلہ یاد آیا اور اسے وہ پھر سے کھول دیا جیسے کوئی سوئی کے
ناکے میں دھاگہ ڈالنے کی کوشش کرے۔
لیکن تم اپنے دوست کو دھوکہ نہیں دے سکے۔ اس کے باپ نے چیخ کرکہا، اپنی شہادت کی انگلی کے اشارے سے
اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے میں یہاں اس موقع پر اس کا نمائندہ ہوں ۔
تم مسخرے جارج خودکوچنے سے روک نہیں سکا لیکن فورأی بی احساس ہونے پر کہ اس سے کیسی تھی سرزد ہوئی ، اس
کی آنکھیں باہر بل پڑیں اور اس نے زبان دانتوں تلے دبلی لیکن اب دیر ہو چکی تھی ۔ تکلیف سے اس کے گھٹنے جواب دے گئے۔
ہاں بے شک میں یہاں مسخره کین ہی کر رہا ہوں ۔ مسخرہ پن ۔ ایک عمدو لفظ ۔ ایک بوڑھے ریڈ وے کی تشفی کے لیے
اور بچا ہی کیا ہے۔ مجھے بتا اور جواب دیتے ہوئے یہ مت بھولنا کہ تم ابھی تک میرے اکلوتے بیٹے ہو ۔ میرے لیے بھائی
کیا ہے، میرے پچھلے کمرے میں، بے ایمان نوکروں کے ہاتھوں تنگ، اپنی ہڈیوں کے گودے تک بوڑھا؟ اور میرا بیا ساری دنیا میں خوشی سے دندناتا پھرتا تھا، کاروباری معاملات نمٹاتا ہوا جنھیں میں نے ہی اس کے لیے تیار کیا ہوتا ہے۔
فاتحانہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا اور اپنے باپ کے سامنے سے ایک معزز کاروباری انسان کی طرح بھنچے ہوئے ہونٹوں
والے چہرے کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ کیا تم سوچتے ہو کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے، مجھے، جس سے تم پیدا ہوئے ۔
اب آگے جھکے گا’ جارج نے سوچا کہیں پر خود کو گرانہ لے، اور ٹوٹ پھوٹ جائے ۔ یہ الفاظ اس کے دماغ
میں سے سرسراتے ہوئے گزرے۔
اس کا باپ آگے جھکا لیکن گرانہیں ۔ جب چارج قریب نہیں آیا جیسا کہ اسے توقع تھی تو اس نے پھر سے خودکو سیدھا
وہیں شہر و جہاں ہو۔ مجھے تمھاری ضرورت نہیں ہے تمھیں غلط بھی ہے کہ تم میں اتنی طاقت ہے کہ یہاں تک آسکو
اور یہ کیتم اپنی مرضی سے خود کو وہاں روکے ہوئے ہو کسی بھول میں مست رہنا۔ مجھ میں اب بھی تم سے زیادہ ہی طاقت
ہے۔ صرف خود پر بھروسہ کرتا تو شاید گر چکا ہوتا لیکن تمھاری ماں نے اپنی طاقت میں سے تاحصہ حصہ مجھے دیا کہ میں نے
تمھارے دوست کے ساتھ شان دا تعلق قائم کیا اور تمھارے سارے گا یک بھی میری جیب میں ہیں ۔
اس کی قمیض میں جیبیں بھی ہیں ۔ جارج نے خود سے کہا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس بات سے وہ اسے دنیا بھر کے
لیے ایک مشکل آدی کے طور پر پیش کر دے گا۔ یہ خیال بس لیے بھر کے لیے اس کے ذہن میں آیا اس لیے کہ وہ مستقل طور پر
ہر بات بھولتا جارہا تھا۔
ذرا اپنی منگیتر کو بانہوں میں لے کر میرے سامنے سے گزر کر تو دیکھو، میں اسے تمھارے پہلو سے اچک لوں گا۔تم مجھ ہی نہیں پا گئے کہ کیسے؟
( جاری ہے )
-

قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ اے امام علی
قبر میں انسان کی پہلی رات کیسے گزرتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ انسان کی سب سے مشکل رات قبر کی پہلی رات ہوتی ہے ۔
جب دوسرے انسان اس کے دوست عزیزواقارب رشتے دار اسے دفنا کے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو وہ انسان روتا رہتا ہے ہر ایک دوست کے پاس آتا ہے اور اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے کہ مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ لیکن افسوس اس کی آواز کوئی نہیں سنتا ۔
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں اپنی موت کو یاد کیا کرو ۔
قبر ہر دن اپنے مُردوں سے اعلان کرتی ہے کہ میں غربت اور تنہائی کا گھر ہوں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں مٹی کا ڈھیر ہوں۔
جب مؤمن کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا کہ کر خوشخبری دیتی ہے کہ میری پشت پر چلنے والوں میں سے تو بڑا محبوب تھا آج میں تیری ہو گئی اور تو میرے پاس آ گیا آج میرا احسان دیکھ ۔
یہ کہہ کر قبر کشادہ ہو جاتی ہے اور جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے اس کو تازی ہوا آتی ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ ایک قبر پر بیٹھ گئے اور فرمایا :
کہ یہ قبر ہر روز با آواز بلند کہتی ہے کہ آدم کی اولاد تو کیوں مجھے بھول گیا، کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ میں تنہائی کا گھر غربت کا گھر وحشت کا گھر اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ۔
مگر اللہ جس کے لئے کشادگی کا حکم فرمائے گا اس کے لیے کشادہ ہو جاؤں گی ۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قبر تو یا تو جنت کا چمن ہے یا تو پھر آگ کا ایک تندور ہے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے اے ابن آدم تو ہلاک ہو تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا۔
کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں تجھے کس چیز نے مجھ سے بہکا کر نڈر کر دیا اور تو میری پشت پر بہت اکڑ کر چلتا تھا ۔
اگر وہ مردہ نیک ہوگا تو جواب دینے والے اسے جواب دیں گے ،کہ اے قبر تو دیکھ تو سہی اس کے اعمال کیسے ہیں یہ اچھائی اختیار کرتا تھا اور برائی سے دور رہتا تھا یہ سن کر قبر کہتی ہے بے شک یہ نیک تھا اب میں اس کے لئے سرسبز ہو جاتی ہوں۔
مُردے کا جسم اس وقت منور ہو جاتا ہے اور اس کی روح اللہ تعالی کی طرف بھیج دی جاتی ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کے مردہ قبر میں پیشتا ہے اور ان لوگوں کے گھروں کی آواز بھی سنتا ہے جو اس کے ساتھ جنازے میں گئے ہوں مردے سے اس کی قبر کہتی ہے کہ ابن آدم تیری ہلاکت ہو ۔
تو نے میری تنگی بدبو اور کیڑے مکوڑوں کا خوف نہیں کیا اس لئے تو نے ان چیزوں سے بچنے کے لیے تیاری نہ کی بد اعمال مردے سے قبر کہتی ہے ،
کہ تو نے میری تاریکی، میری وحشت، میری تنہائی اور تنگی، میرا غم تجھے یاد نہیں رہا۔
اس کے بعد قبر اس کو جکڑ لیتی ہے اور فرشتے اسکو ہتھوڑوں سے ایسے مارتے ہیں کے اس کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر ہوجاتی ہیں پھر دوزخ کی کھڑکی اس پر کھول دی جاتی ہے اور وہ مردہ حشر تک اس عذاب میں مبتلا رہتا ہے ۔
مرنے کے بعد ہر مردے کو صبح اور شام اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے ، فرشتے جنتی کو جنت دکھا کر خوشخبری دیتے ہیں، اور دوزخی کو دوزخ دکھا کر اس کی حسرت اڑاتے ہیں ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو مسلمان اس دنیا سے جا چکے ہیں ان کی بخشش فرمائے آمین ۔
-

6نومبر 1947: مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کا قتل عام! تحریر: محمد اختر
قارئینِ کرام!6 نومبر 1947 مقبوضہ جموں و کشمیرکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ یوں کہا جائے کہ یہ دن دورِ جدید کی تاریخ میں مسلم نسل کشی کا بھی ایک سیاہ باب ہے تو قطعَ غلط نا ہوگا، اِس دن دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کو اُس وقت شہید کیا گیا جب وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔اس کے علاوہ ریاست جموں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے 6 نومبر 1947 کا دن ایک علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ان شہداء کی یاد میں آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ان قربانیوں نے پوری دنیا کو بتایا کہ بھارت کے غیر قانونی قبضے اور مقبوضہ جموں و کشمیرکے لوگوں پر ظلم و جبر کے باوجودکشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور یہ قربانیاں اس امر کو بھی اجاگر کرتی ہیں کہ کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔قارئین، اگر تاریخ کے سیاہ اوراق کو پرکھا اور سمجھا جائے تو یہ بات باآسانی آیاں ہوتی ہے کہ مسلم نسل کشی کی منصوبہ بندیقیامِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ پہلے ہی دن شروع کر دی گئی تھی۔ چونکہ، 19 جولائی کو مسلم کانفرنس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔ جس کے دردِ عمل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے جشن منایااور بے حد خوشی کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں، کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ اس ہی جذبہ اور محبت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندو اور ڈوگرہ حکومت ہل گئی اور انہوں نے مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ اس ضمن میں ادھم پور، ریاسی، کھٹیا، رامسو، رام نگر، یانی ہور کوٹلی، قصبوں میں مسلمانوں کا خون بہایا۔ انتہا پسند ہندوؤں اور سکھوں نے ہزاروں دیہاتیوں کو دھوکے سے گھروں سے باہر نکال کر گولیاں برسانا شروع کر دی۔قارئین کرام! یہاں یہ بات واضح رہے کہ راشٹریہ سویم سیاک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکنوں نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی اور اس کو انجام دینے میں اہم کردار ادا کیا جو سلسہ تاحال ایک منظم سازش کے تحت جاری ہے۔اس کے علاوہ اسی دوران ہزاروں معصوم بچیوں اور خواتین کو اغوا کیا گیا۔ حیران کن پہلو یہ ہے کہ قتل عام اتنا منظم تھا کہ جب نومبر کے ابتدائی دنوں میں جموں میں یہ قتل عام ہوا تو سری نگر میں کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔ دراصل یہ سب کانگریس حکومت کے کہنے پر ہوا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 74 سالوں سے ہندوتوا نظریے کے تحت کشمیریوں کو ایک جامع حکمت عملی کے ذریعے نسل کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ واضح رہے، آج بھی بھارتی قابض افواج نت نئے طریقہ کاراپنائے ہوے، آبادیاتی تبدیلی، جبری گمشدگیاں، حراستی قتل و دیگر حربوں کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک ِ آزادی کو کچلنے کی کوشش پر عمل پیرا ہے۔ قارئین کرام، یاد رکھیں! مسئلہ کشمیر کا حل اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کے دو اہم فریق پاکستان، بھارت مل کر باوقار حل تلاش کریں۔ اس ضمن میں ریاستِ پاکستان بارہا اقوامِ عالم کو واضح کر چُکا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل طلب چاہتا ہے جبکہ اس کے بر عکس بھارت مسئلہ کشمیر کو دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔خیال رہے،بھارت کے پہلے وزیراعظم نے عالمی برادری اور خود کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے گا۔ لیکن، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا موقف بدلتا گیا اور وعدہ اب تک پورا نہہو سکا۔ اقوامِ عالم کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہے جب دو جوہری مسلح ممالک کے درمیان یہ دیرینہ تنازعہ حل ہو جائے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں عالمی برادری کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کا ذمہ دار صرف اور صرف بھارت ہے، جوغیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر قابض ہے اور رائے شماری کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھاگ رہا ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ وادی پر بھارت کے جارحانہ قبضے اور اس کے جارحانہ رویے کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی ہندوتوا فاشست سرکا ر نے بھی معاملات کو اس سمت میں لے جانے کے انتظامات کر لیے ہیں اور آئے روز بھارتی افواج کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے جیسا کہ گزشتہ کل مزید پانچ ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اگرچہ، مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اگر یہ مسئلہ جوہری طاقت کے استعمال کی طرف جاتا ہے تو اِس کے عالمی امن پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچنے کی کوشش کرے۔
-

انسانی خواہشات اور زندگی تحریر: ابوبکر ہشام
ہر انسان کے اندر خواہشات کا جنم لینا ایک فطری عمل ہے -اور اس حقیقت سے کوئی انکار بھی نہیں کر سکتا کہ بنی نوع انسان کی خواہشات اُس کے ہوش سنبھالنے سے لے کر قبر میں اترنے تک جاری رہتی ہیں –
دنیا کی رونقیں اور رنگینیاں دیکھنے کے بعد انسان کا اپنے اندر خواہشات کا سمندر لئے پھرنا اک عام سی بات ہے – اُس کی خواہشات عمر کے ہر حصے میں مختلف ہوتی ہیں ۔ وہ اپنا بچپن اس چاہ میں گزارتا ہے کہ وہ جلد بڑا ہو گا اور اپنے بڑھے بھائیوں کی طرح وہ سب کچھ کرے گا جو وہ کرتے ہیں ۔ اسی بات کا انتظار کرتے کرتے وہ وہ اپنی جوانی میں پہنچ جاتا ہے اور عمر اس حصے میں پہنچنے کے بعد اس کی تمناؤں کا جال پھیلتا ہی چلے جاتا ہے –
وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس اچھا گھر ہو ، گاڑی ہو ، عزت ہو ، شہرت ہو ، رعب و دبدبہ ہو اور وہ سب کچھ جس کی وہ آرزو کرے ۔
وہ نا چاہ کر بھی ان خواہشات کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے – اور انکی طلب میں وہ اپنی زندگی گزار دیتا ہے – لیکن اس کی خواہشات نہ تو کم ہوتی ہیں اور نہ کہ ختم – یہ بات انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ایک چیز کو حاصل کرنے کے بعد دوسری کی تمنا رکھنے لگتا ہے – وہ چاہتا ہے کہ اگر اس نے اپنے کاروبار سے سو کڑوڑ کما لیا ہے تو وہ اب مزید سو کڑوڑ کیسے کمائے – غرض یہ کہ انسان کی خواہشات اور زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حوس اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی –
اس ساری کشمکش کے دوران انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے ایک دن مرنا بھی ہے – اِس کاسب کچھ ادھر دنیا میں اس کے ساتھ دفن ہو جانا ہے -اس دنیا کی محبت اور رنگینی اُسے اس قدر اپنے اندر جکڑ لیتی ہے کہ اسے یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اگر میں ہی نہ رہا تو میری یہ سب دنیاوی تگ و دو کس کام کی ؟
اس مختصر زندگی میں جس کے اگلے لمحے کا کسی کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ اس نے زندہ بھی رہنا ہے یا نہیں وہ ایسے منصوبے بناتا ہے کہ جیسے اسے مرنا ہی نہ ہو ۔ لیکن حقیقت اس کے باکل برعکس ہے – اللہ قرآن کریم میں اشاد فرماتے ہیں :
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے
آل عمران 3-185″
انسان کااپنی خوہشات کے آگے بے بس ہونے کی ایک بڑی وجہ اللہ کے دئیے ہوۓ پر صبر و شکر ادا کرنے کی بجائے لالچ و ہوس میں مزید کی طلب رکھنا ہے –
انسان کی زندگی تو ختم ہو جاتی ہے لیکن اسکی خواہشیں مرنے تک اُس کے ساتھ رہتی ہیں – انسان کی خواہشات اور لالچ و حوس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہو تو وہ تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی – اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو (دل سے ) سچی توبہ کرتا ہے ۔
(صحیح بخاری ۶۴۳۶)
بعض اوقات خواہشات انسان کے اندر اس قدر بے چینی اور اضطراب کی سی کیفیت پیدا کر دیتی ہیں کہ وہ ان کی آرزو میں ہر جائز اور ناجائز ذریعہ بھی استعمال کر لیتا ہے – اس کی سوچ ، اُس کے خیالات ہر وقت صرف اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ کسی طرح ان کو پورا کرے لیکن انسان کی یہ خواہشات اُس کا پیچھا مرنے تک نہیں چھوڑتی اور شاید ان سے نجات اور انسان کے دل کو سکون موت کے بعد ہی ملتا ہے ۔ بقول غالب
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکل
-

تعلیمی نظام اور ہم: تحرير فیصل رفیع
جیسی خطرناک بیماری نے دنیا بھر میں تعلیمی نظام کو بہت حد تک متاثر کیا ہے اگر دیکھا جائے تو دنیا کے تمام شعبہ جات کو اس وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اس موزی بیماری کی روک تھام کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کی تعلیم پر کوئی حرج نہ آئے۔
اگر کرونا وائرس سے پہلے تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تب ہم اپنے لئے تعلیم صرف کتابوں کی حد تک محدود رکھتے تھے۔ ہم روزانہ اپنی یونیورسٹی کالج یا سکول جاتے تھے اور ہمیں جو کتابوں سے رٹا رٹایا سلیبس دیا جاتا تھا ہم وہ یاد کرتے تھے اور اسی کو سمجھتے تھے کہ یہی آئندہ پیپرز میں بھی آۓ گا۔ اسی امید کے ساتھ ہم لوگ کسی چیز کو انٹرنیٹ کے ذریعے دریافت کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ ہمیں پڑھنے کے لئے تمام مواد کتابوں سے بھی دیا جاتا تھا۔
بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام اس طرح کا ہے کہ کتابوں کا رزلٹ آتا ہے اکثر طلبہ اگر رٹا رٹایا سلیبس نہ لکھیں تو ان کو کم نمبر دیے جاتے ہیں۔
اگر ہم بات کریں کہ اس کو covid-19 کی وجہ سے ہماری کلاسیں آن لائن پڑھائی جا رہی ہیں تو کیا ہم اس کو مثبت انداز میں استعمال کر رہے ہیں؟
میرے مشاہدے کے مطابق میرے دوست، احباب میں جو کسی نہ کسی تعلیمی ادارے کا حصہ ہیں انہوں نے اپنے پورے سمسٹر میں اپنی پڑھائی کا آغاز پیپر سے دو دن پہلے شروع کیا کیونکہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ ہمارے پیپر کا دورانیہ8 گھنٹے ہو گا اور اتنے زیادہ وقت میں ایک بہترین قسم کا پرچہ لکھا جا سکتا ہے اگر ہم انٹرنیٹ اور کتابوں کا اچھے سے استعمال کریں۔
بہت سے طلبہ ایسے ہیں جو کہ گروپ کی شکل میں اپنے تمام تمام پیپرز حل کرتے ہیں اور جو آپس میں میل جول نہیں کر سکتے وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے آسانی سے اپنے پرچے باہمی مشاورت کے ساتھ حل کر لیتے ہیں۔
بظاہر اس تمام صورتحال میں اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں کیونکہ کہ اس ٹیکنالوجی کا اور اس صورتحال کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
جہاں پر اتنی زیادہ تنقید کی گئی ہے وہاں پر ہمیں مثبت پہلوؤں کو بھی سامنے لانا ہوگا کمالیہ میں ایک انٹر کی طالبات جو کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتی ہے اس نے تعلیمی میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے ہے طالبہ نے 1100/1100 نمبر حاصل کر کے آج تک کے تمام تعلیمی ریکارڈ توڑ دیے ہیں. پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں
ہے یہ ہم سب اچھے سے جانتے ہیں لیکن ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ہر چیز کا مثبت استعمال کریں۔
جب ہمارے ہاتھوں میں ڈگری موجود ہوں گی لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوگا تو وہ نہ صرف ہمارے شرمندگی کا باعث ہوگا بلکہ ہمارے والدین کے لیے بھی ہو گا جنہوں نے ہمیں اتنی محنت کے ساتھ اتنی بھاری فیسیں جمع کروا کر ہماری پڑھائی کو مکمل کیا۔
جب آئندہ مستقبل میں ہم سے ایسے سوال پوچھا جائے گا تو ہم اس کا جواب دینے کے لائق نہیں ہوں گے۔
اگر ہم ہم تاریخ کو پڑھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تلوار سے زیادہ طاقت قلم میں ہے لیکن اگر ہمارے آج کے نوجوان میں علم کو حاصل ہی نہیں کیا تو ہم کیسے ایک روشن مستقبل کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔
تاریخ اسلام میں علم کے حوالے سے اگر کسی کو فوقیت حاصل ہے تو وہ صرف اور صرف ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی ذات کو مکمل ضابطہ حیات بنا کر بھیجا گیا ہے۔
ہماری اسلامی تاریخ کو دیکھا جائے تو حضرت علی کرم اللہ کی ذات علم کے حوالے سے بہترین نمونہ ثابت ہوتی ہے بے شک انہوں نے اپنے تمام دشمنوں کو اپنے علم سے اور تلوار سے شکست دی۔ جب مشرکین مختلف سوالات اسلام کو بنیاد بنا کر لے آتے تھے تب حضرت علی علیہ السلام ان کو اپنے علم سے حیران کردیتے تھے اور اسی علم کی بدولت بہت سے کافر مسلمان ہونے پر مجبور ہو گئے۔
زیادہ دور نہیں ہم صرف اپنے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال جنھیں شاعر مشرق کا خطاب دیا گیا ان کی زندگی کے پہلو کو دیکھیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف علم ہی وہ واحد چیز ہے جنہوں نے اایک نئے ملک کا کام شرمندہ تعبیر کیا اگر یہ لوگ اپنے علم اور جدوجہد سے ہم لوگوں کو قائل نہیں کرتے تو ہم کبھی بھی اس آزاد ملک میں سانس نہیں لے پا رہے ہوتے۔
یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہماری تعلیمی معیار اور سوچ کو بدلنا ہوگا ہمیں صرف رٹا رٹایا اور یاد کرنے کی بجائے ان کی چیزوں کی گہرائی پر توجہ دینی ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اس کو کیوں پڑھ رہے ہیں؟ اس کا کیا مقصد ہے؟ اس سے ہماری ذات کو کیا کیا فرق پڑ سکتا ہے؟
جب تک ہم ان تمام سوالات کو اپنے دماغ میں نہیں لائیں گے ہماری پڑھائی بے مقصد ہو گی۔
تعلیمی نظام کیسا بھی ہو، بے شک ہم جا کر پڑھائی کریں یا پھر آن لائن تعلیم حاصل کریں جب تک ہم تعلیم کے اصل مقصد کو نہیں سمجھیں گے ہم ترقی حاصل نہیں کر پائیں گے۔
-
فیصلہ پارٹ نمبر 4 تحریر سکندر علی
نہیں ابوجان، میں کسی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں اور ہم اس کی ہدایات پرمل کریں گے۔ ہم یہ کمرہ ہی بدل لیں گے۔ آپ
سامنے کے کمرے میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔ میں یہاں آجاؤں گا۔ آپ کو اس تبدیلی کا معمولی ساہی احساس ہوگا ۔ ہر چیز آپ
کے ساتھ ہی وہاں منتقل ہو جائے گی لیکن یہ سب کچھ بعد میں ہوگا، پہلے تو میں آپ کو کچھ دیر کے لیے بستر میں لٹا دیتا
ہوں۔ مجھے یقین ہے آپ کو مل آرام کی ضرورت ہے۔ میں کپڑے اتارنے میں آپ کی مددکروں گا۔ آپ دیکھئے گا کہ
میں ایسا کروں گا۔ اگر آپ فورا ہی سامنے کے کمرے میں منتقل ہونا چاہیں تو آپ فی الحال میرے بستر میں جا کر لیٹسکتے ہیں ۔ یہی سب سے بہتر رہے گا۔
جارج اپنے باپ کے قریب کھڑا تھا جس کا الجھے ہوئے سفید بالوں والا سر اس کی چھاتی سے جالگا تھا۔
جارج اس کے باپ نے بغیر ہلے مدھم آواز میں کہا۔
جارج فورا ہی اپنے باپ کے ساتھ نیچے جھک گیا۔ اس نے اپنے باپ کے تھکے ہوئے چہرے پر پھیلی ہوئی پتلیاں
دیکھیں جو آنکھوں کے کناروں سے اسی پر جمی ہوئی تھیں ۔
سینٹ پیٹرز برگ میں تمھارا کوئی دوست نہیں ہے۔ تم ہمیشہ سے ایسے ہی فریبی ہو اور مجھ سے فریب کرنے سے باز
نہیں آتے۔ وہاں تمھارا کوئی دوست ہوئی کیسے سکتا ہے؟ مجھے یقین نہیں آتا ۔
ابو جان ز را یاد کرنے کی کوشش کئے جاری اپنے باپ کو آرام کری سے بلند کرتے ہوئے بولا اور جونہی وہ
نقاہت سے سیدھا کھڑا ہو تو اس کا شب خوابی کا لباس اتارایا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد اس بات کو تین سال ہو جائیں گے
جب میرا دوست آخری مرتبہ یہاں آیا تھا۔ مجھے یاد ہے آپ کو خاص طور پر وہ پیش نہیں تھا۔ کم ازکم دو بار میں نے آپ کو اس
سے ملنے سے رد کے حالاں کہ تب وہ میرے ہی کمرے میں بیٹا ہوا تھا۔ میں اس سے آپ کی نفرت کو اچھی طرح سے مجھ سکتا
ہوں ۔ میرا دوست بھی بہت عجیب ہے لیکن پھر بعد میں آپ کی ایک سے گاڑھی چھنے گی۔ مجھے یہ سوچ کر فخر محسوس ہوتا کہ
آپ نے اسے سنا، ہاں میں سر ہلایا اور اس سے سوال پر تھے۔ دماغ پر زور دیں تو ضرور آپ کو یاد آ جائے گا۔
وہ میں روی انقلاب کے بارے میں بہت کی غیر معمولی کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ مثال کے طور پر جب وہ کیو کے
دورے پر تھا اور ایک نادی جلوس سے اس کی ٹڈ بھیڑ ہوئی تھی اور اس نے ایک پادری کو بالکونی میں دیکھا تھا جس نے اپنے
ہاتھ میں خون میں لتھڑی ہوئی صلیب کا زخم بنایا تھا اور ہاتھ بلند کے ہجوم سے درخواست کر رہا تھا ۔ آپ نے اس واقعہ کا خود
کبھی ایک سے زائد بار ذکر کیا۔
اس اثنا میں جاری اپنے باپ کو پھر سے وہاں بٹھانے اور احتیاط سے اس کا سوتی پاجامہ اتارنے میں کامیاب ہو گیا
جو اس نے اپنے لینن کے بنے ہوئے زیر جامہ اور جرابوں کے اوپر پہنا ہوا تھا ۔ زیر جامہ کی غلاظت کو دیکھ کر اس نے اپنے
آپ کو ملامت کی کہ وہ اپنے باپ کو نظر انداز کیے ہوئے تھا۔ بی واقعتا اس کی زمہ داری تھی کہ وہ خیال رکھے کہ اس کے باپ
نے زیر جامہ بدلا تھایا نہیں ۔ اس نے ابھی تک واضح انداز میں اپنی منگیتر سے بھی اس بارے میں بات نہیں کی تھی کہ وہ
مستقبل میں اپنے باپ سے تعلق کیا انتظامات کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ انھوں نے اپنے طور پر فرض کرلیا تھا کہ شادی کے
بعد اس کا باپ یونہی اس پرانے اپارٹمنٹ میں رہتا ہے لیکن اب اس نے فورآنی یہ پکا ارادہ کیا کہ وہ باپ کو نئے گھر میں
اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ذرا سوچئے تو صاف معلوم ہوتا کہ جو د کھ ر کھ وہ اپنے باپ کی کرنا چاہتا تھا، اس کے لیے دیر ہو چکی تھی۔
وہ اپنے باپ کو بازوں میں اٹھا کر بستر تک لے گیا لیکن چند قدم ہی بستر کی طرف بڑھا ہوگا کہ دیکھ کر اس کا
پاپ اس کے سینے میں بندھی کھڑی کی زنجیر سے کھیل رہاتھا
، اسے دہشت کا احساس ہوا۔ وہ اپنے باپ کو بستر پر انہیں لٹا سکا
کیوں کہ زنجیر پر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی لیکن جوہی وہ بستر پرلیٹا، باپ نے زنجیر چھوڑ دیا۔ اس نے خود کھیل میں
اچھی طرح ڈھانپ لیا بلکہ اسے اپنی عادت کے بکس کافی اوپر اپنے کندسوں تک لیا۔ وہ جاری کو نامهربان نظروں سے
دیکھ رہا تھا۔
آپ کو میرا دوست یاد آنے لگا ہوگا یا نہیں؟’ جارج نے حوصلاف انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
کیامیں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ۔ اس کے باپ نے پوچھا جیسے وہ انداز نہیں لگا پارہا تھا کہ اس کے پیری
طور پر بلا سے ڈھکے ہوئے تھے یانہیں ۔
کیا آپ بستر میں آرام محسوس کررہے ہیں؟ جارج بولا اور باپ کے گرد بستر کو ہموار کر دیا۔
کیا میں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ؟ اس کے باپ نے ایک بار پھر پوچھا اور لگتا تھا جیسے اسے جواب سنے
میں دی تھی۔
جارج ہے۔
-
پاکستانی کرکٹ ٹیم کو منیجمنٹ کی قدم زمین پر رکھنے کی ہدایت تحریر محمد طلحہ سلیم
دبئی: بڑے حریفوں کو شکست دینے کے بعد ٹیم مینجمنٹ پاکستانی کرکٹرز کو قدم زمین پر ہی رکھنے کی ہدایت دینے لگی جب کہ چھوٹی ٹیموں کو تر نوالہ سمجھنے کی غلطی سے بچنے کی تلقین کر دی گئی۔
بھارت اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے والی پاکستانی ٹیم کا اب اپنے گروپ میں نسبتاً آسان حریفوں افغانستان، نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ سے مقابلہ ہونا ہے،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ٹیم آسانی سے فتوحات حاصل کر کے سیمی فائنل میں رسائی کر لے گی، البتہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کو آسان تصور نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر افغانستان سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے، اس سے مقابلہ جمعے کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا۔
پاکستانی ٹیم مینجمنٹ بھی اس خطرے سے آگاہ ہے، اس لیے پلیئرز کو بار بار یہی تلقین کی جا رہی ہے کہ سہل پسندی کا شکار نہیں ہونا، اپنے کھیل پر مکمل توجہ رکھتے ہوئے پہلی منزل فائنل فور میں رسائی پانا ہے،اس کے بعد فائنل اور ٹرافی پر نگاہیں مرکوز رکھنی ہیں۔
گزشتہ روز ٹیم کے 6 کھلاڑیوں نے آئی سی سی اکیڈمی گراؤنڈ پر شام 6 سے رات 8 بجے تک ثقلین مشتاق کی زیرنگرانی ٹریننگ کی،ان میں سرفراز احمد، محمد نواز، وسیم جونیئر ،خوشدل شاہ،حیدر علی اور عثمان قادر شامل تھے، نیوزی لینڈ سے میچ میں حصہ لینے والے پلیئرز نے آرام کیا،یہ تمام اب جمعرات کو شام 6 سے 9 بجے تک آئی سی سی اکیڈمی میں ٹریننگ کریں گے۔
ثقلین کی ورچوئل میڈیا کانفرنس دوپہر 12 بجے طے ہے، گالف کے شوقین محمد حفیظ بدھ کو کپتان بابر اعظم اور بولنگ کوچ ورنون فلینڈر کو بھی اپنے ساتھ کھیلنے کے لیے لے گئے،وہاں ان سب نے اچھا وقت گذارا۔
افغانستان سے میچ کے حوالے سے ٹیم مینجمنٹ کا خیال ہے کہ اچھا مومینٹم بن چکا لہٰذا فی الحال کسی کھلاڑی کو آرام دینے کی ضرورت نہیں، البتہ آخری 2 میچز میں اگر ضرورت پڑی تو شاید کوئی تبدیلی کر لی جائے،جمعے کے روز فاتح دستے کو ہی میدان میں اتارنے کا امکان ہے، حریف ٹیم کے پاس مجیب الرحمان اور راشد خان جیسے معیاری اسپنرز اورکئی پاور ہٹرز موجود ہیں اس لیے پاکستان کوئی خطرہ مول نہیں لے گا۔
نیوزی لینڈ سے میچ کے بعد قومی ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن نے کھلاڑیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیٹنگ کے لیے مشکل کنڈیشنز میں کھلاڑیوں نے ذمہ داری لی، محمد حفیظ نے اچھی بولنگ کی، ایک عمدہ کیچ لیا اور بیٹنگ میں پہلی ہی گیند پر چھکے سے عزائم ظاہر کیے،دیگر نے بھی فتح میں اپنا حصہ ڈالا،فخر زمان کی فیلڈنگ بہت اچھی رہی،مجموعی طور پر یہ ٹیم کی بہت زبردست کارکردگی تھی۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اب تک صرف ایک ہی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا گیا ہے،2013میں شارجہ میں منعقدہ مقابلہ گرین شرٹس نے ایک گیند قبل 6 وکٹ سے جیتا تھا،کپتان محمد حفیظ نے ناقابل شکست 42 رنز بنائے تھے، اس اسکواڈ کے جاری ورلڈکپ کھیلنے والے وہ واحد کھلاڑی ہیں،پاکستان کی افغانستان سے گذشتہ ماہ سیریز بھی ہونا تھی لیکن طالبان کی حکومت آنے کے بعد انعقاد نہیں ہو سکا، ورلڈکپ میں افغان ٹیم براہ راست سپر 12 راؤنڈ سے شریک ہوئی ہے۔
اب تک اپنے واحد میچ میں اس نے اسکاٹ لینڈ کو 130 رنز کے بڑے مارجن سے ہرایا، شارجہ کی پچ پر زیادہ رنز نہیں بن رہے تھے مگر افغانستان نے 4 وکٹ پر 192 رنز بنا لیے،مجیب اللہ زدران نے نصف سنچری بنائی، پاور ہٹرز نے 11 چھکے لگائے، بعد میں اسپنرز مجیب نے 5 جبکہ راشد خان نے 4 وکٹیں لے کر حریف ٹیم کو 60 رنز پر ٹھکانے لگا دیا۔
پاکستان سے میچ دبئی میں ہوگا جہاں کی پچ افغان ہوم گراؤنڈ شارجہ جیسی اسپن فرینڈلی نہیں ہے،اس لیے ٹیم کو سخت چیلنج کا سامنا ہوگا، البتہ سابق جنوبی افریقی کرکٹر لانس کلوسنر کی کوچنگ میں اسے تر نوالہ نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔
-
الفاظ تحریر: علیزہ شاہ
ہم الفاظ کی دنیا میں رہتے ہیں۔ الفاظ بے مقصد نہیں ہوتے ان میں تو ایک پوری زندگی اور روح ہوتی ہیں۔ الفاظ وہ ہیں جو ہمیں ہمت دیں یا ہمیں توڑ ڈالیں۔ الفاظ وہ ہیں جنہیں استعمال کر کے ہم کسی کے دل میں اپنے لئے محبت پیدا کر سکتے ہیں یا کسی کو اپنے خلاف کر سکتے ہیں۔ الفاظ وہ ہیں جس سے ہم کسی کے زخموں پر مرہم بھی لگا سکتے ہیں یا کسی کے زخموں کو ناسور بنا سکتے ہیں۔ الفاظ میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔
الفاظ تو وہ ہیں جس کی بنیاد پر اللہ تبارک و تعالی نے انسانوں کو تمام مخلوقات سے ممتاز بنایا ہے۔ الفاظ کی طاقت سے ہی تو یہ دنیا قائم ہے۔ اللہ تبارک و تعالی کے الفاظ سے قرآن بنا، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے حدیث بنے، بزرگانِ دین کے الفاظ ملفوظات بنے، داناؤں کے الفاظ اقوال بنے۔ الفاظ ہی تو انسان کی خوبصورتی ہے۔ یہ الفاظ جتنی خوبصورتی سے ادا ہونگے انسان اتنا ہی خوبصورت اور نکھرتا رہے گا۔
ہم بچپن سے ہی الفاظ سنتے اور سیکھتے ہیں۔ جس سے ہمارا کردار اور شخصیت بنتی ہے۔ یہی الفاظ ہی انسان کو اچھے یا برے بناتے ہیں، پسندیدہ اور نا پسندیدہ بناتے ہیں۔ الفاظ سے انسان کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔ ہم کسی انسان کے الفاظ سے ہی یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس گروہ، کس ثقافت یا کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔
لاکھوں الفاظ رسالوں میں، کتابوں میں، اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں جس سے ایک معاشرے کا پتہ چلتا ہے۔ جس سے ایک معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی سوچ اور انکے خیالات کا پتہ چلتا ہے کیونکہ الفاظ ہی ہماری سوچ اور شخصیت کے ترجمان ہوتے ہیں۔
الفاظ سے ہی ہمارے اچھے یا تلخ یادگار بنتے ہیں۔ لیکن آج کل اچھے الفاظ ناپید ہو چکے ہیں۔ برے اور تلخ الفاط عام ہو چکے ہیں۔ جس سے ہمارے معاشرے پر ہمارے موجودہ نسل پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ اور ہماری آنے والے نسلوں کے لئے ایک تلخ ماضی بن رہا ہے۔ ہم اپنا مقصدِ حیات بھول چکے ہیں۔ انہیں الفاظ کی وجہ سے ہم اپنے عزیز و اقارب کو خود سے دور کرتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے منفی خیالات کی دنیا میں اتنے گم ہو چکے ہیں کہ اپنے الفاظ کی ادائیگی سے ہم لوگوں کو جتنی تکلیف دے رہے ہیں اس کو دیکھ ہی نہیں پا رہے۔
آج کل ہر دوسرا بندہ پریشان اور زندگی سے مایوس نظر آتا ہے۔ اگر ہم اپنے الفاظ کو خوبصورتی سے استعمال کریں تو اس سے ہم کسی مایوس اور شکست خردہ انسان کو نئی زندگی کے نئے راستے اور خوشحالی کے راستے دکھا سکتے ہیں۔ اگر ہم کسی کو اچھا مشورہ یا اچھی بات نہیں کہہ سکتے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم برا بھی نہ کہے اور بس چپ رہے۔ کیونکہ ہمارے برے الفاظ کی وجہ سے ایک مایوس انسان مزید مایوس اور پریشان ہو سکتا ہے۔
برائے مہربانی اچھی باتیں کہے، اچھی باتیں پھیلائیں۔ منفی خیالات اور منفی رویوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے الفاظ اور دل میں نرمی پیدا کریں اور معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
شکریہ -

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر تحریر :ساجد علی
شہید بے نظیر بھٹو کسی بھی اسلامی ملک کی پہلی ہیڈ آف اسٹیٹ ہیں ان کی کہانی شہید ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوتی ہے شہید الفقار علی بھٹو جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں یہ پاکستان کے پہلے الیكٹڈ وزیراعظم ہیں بھٹو صاحب ایک زبردست سیاست دان تھے
جب بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو اس وقت بھٹو صاحب کے بیٹے مرتضی بھٹو ضیاء حکومت کے خلاف ایک تحریک بھی چلا رہے تھے
اس تحریک کا نام تھا "الذوالفقار”
مرتضی بھٹو سیاست میں بہت مشہور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ان کی بہن بے نظیر بھٹو کو ضیاء حکومت نے نظر بند کر رکھا تھا جس کی وجہ سے سیاست میں وہ بھی بہت مشہور ہو رہی تھی آخر کار 1984 میں جب بے نظیر کو رہائی ملی تو ملک سے باہر باہر چلی گئیں اپنے والد کی طرح بے نظیر دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں گریجویٹ کر چکی تھی جس میں "ہاؤورڈ اور آکسفورڈ” یونیورسٹیز شامل ہیں ۔
پاکستان سے باہر رہ کر بھی بے نظیر کافی مشہور ہو چکی تھی
1986 میں جب بے نظیر وطن واپس آئیں تو لاہور میں ان کا زبردست استقبال کیا گیا جس کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہے
اور استقبال کے بعد واضح ہو گیا کہ پاکستان کی اگلی وزیر اعظم بے نظیر ہی ہوگی اور بالکل ایسا ہی ہوا 1988 میں جب ضیاء الحق کا طیارہ تباہ ہوا تو اس کے بعد ہونے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ۔
پاکستان دنیا کے پہلے ممالک میں سے ہے جنہوں نے ایک فیمیل ہیڈ آف اسٹیٹ سلیکٹ کی ہے جبکہ امریکا آج تک ایسا نہیں کر سکا
الیکشن سے پہلے بے نظیر کو مشورہ دیا گیا کہ آپ شادی کر لیں
ایک نوجوان لڑکی کی بجائے ایک شادی شدہ عورت زیادہ بردبار ذہین اور عوام سے جڑی ہوئی لگے گی اور بے نظیر اس مشورے کو مان گئی ۔
اور بے نظیر نے فیصلہ کیا کہ وہ ارینج میرج کریں گے جس کے بعد ان کی والدہ نے اس کی شادی حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے کروائیں اور یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی جس میں دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔
بے نظیر بھٹو وزیراعظم تو بن گئی لیکن پنجاب میں ان کی حکومت نہیں آئی اور بیوروکیسی کی بھی پیپلزپارٹی کو کوئی خاص سپورٹ نہیں تھی کیونکہ ضیاء دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کی پاکیات کو چن چن کر ختم کیا گیا تھا ۔
اس لیے بے نظیر بھٹو کا پہلا دور تو حالات سنبھالتے سنبھالتے ہی نکل گیا کیونکے پنجاب کے وزیر اعلی نواز شریف نے بے نظیر کی ناک میں دم کر رکھا تھا اور جب سارے ہیں آپ کے پیچھے پڑ جائے تو حکومت کیا چلے گی اور بینظیر بھٹو کی حکومت تقریبا 20 ماہ کے بعد ختم ہوگئی
اور اسی طرح 1993 میں بینظیر بھٹو ایک بار پھر الیکشن جیت گئی اور اس بار وہ بہت میچور ہو گئی تھی اور اس بار وہ حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھی اسی دور میں بے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔
آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ بے نظیر کے تین سالہ حکومت کے بعد بے نظیر کے اپنے ہی لگائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت توڑ دی
اور اگلی بار الیکشن میں شکست ہونے پر بے نظیر بھٹو صاحبہ ملک سے باہر چلی گئی ۔
1999 میں مشرف نے ملک پر مارشل لاء لگا دیا تو 2000 میں نواز شریف بھی ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔
اور مشرف سکون سے حکومت کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہی بنائی ہوئی مسلم لیگ ق سے تنگ آنے لگے
اور 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر نے ملک میں واپسی قدم رکھا اور بے نظیر کا بھرپور استقبال کیا گیا لیکن استقبال کے ساتھ ساتھ ایک بم دھماکا بھی ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے
اور شہدائے کارساز کے دھماکے کے بعد بھی ان کا حوصلہ بہت بلند تھا اور اس دھماکے سے صرف دو ماہ بعد 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر کا لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ تھا اور یہ وہی جگہ تھی جہاں پر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک افغان شہری نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اسی مقام پر محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ جب جلسہ ختم کرکے واپس جا رہی تھی تو اپنے کارکنوں کو داد دینے کے لیے وہ اپنی گاڑی سے باہر نکل کر کارکنوں کو ہاتھ ہلا کر داد دینے لگی اس کے بعد ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور پھر بم دھماکا ہوا اس طرح کچھ ظالموں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کر دیا ۔
ہم سب کو وہ دن یاد ہے وہ وقت یاد ہے جب ان کو شہید کیا گیا خاص طور پر وہ لوگ جو بے نظیر صاحبہ کے ساتھ جلسے میں تھے پیپلز پارٹی کے تمام کارکن سڑکوں پر نکل آئے تھے اور حالات تمام خراب ہونے لگے تھے مگر پیپلز پارٹی کے لیڈر نے بات بگڑنے نہیں دی اور اپنےکارکنوں کو حوصلہ دیا
یہ بات تو سچ ہے بے نظیر ایک مضبوط لیڈر تھیں ان کو بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی اور ان کو کئی بار جیل کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی وہ ڈٹی رہی اور اپنے ملک کے لیے لڑتی رہی ایک باہمت اور ثابت قدم خاتون تھیں
دعا ہے اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین