Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت نام ہے تقدیر کا جس کے ذریعے اللّہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کرتا ہے قسمت مقدر کا دوسرا نام ہے مقدر میں خوشیاں بھی شامل ہوتی ہیں غم بھی آتے ہیں آزمائش بھی مقدر کا حصہ ہوتی انعام بھی قسمت کا حصہ ہوتا ہے لیکن کیا قسمت بدلی جا سکتی ہے؟ قسمت میں جو لکھ دیا جاۓ وہ بدلا جا سکتا ہے؟ جی بالکل اگر اللّہ چاہے تو قسمت بھی بدل سکتی ہے آج ہم اس پر بات کریں گے کہ انسان قسمت کیسے بدل سکتا ہے
    قسمت بدلنے کے دو طریقے ہیں ایک محنت دوسرا دعا
    محنت کرنے والے لوگ اللّہ تعالیٰ کو پسند ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو اللّہ تعالیٰ ان کی محنت کا اجر دیتا ہے اگر لوگ محنت کرتے رہیں تو ان کی قسمت میں آئیں مشکلات راہ سے ہٹ جاتی ہیں یہ ان کی محنت کا ثمر ہوتا ہے لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ محنت سے آپ قسمت میں ایک حد تک تبدیلی لا سکتے ہیں آپ محنت کر کے چیزیں حاصل کر سکتے ہیں وہ چیزیں جو آپ کی قسمت میں نہیں تھی لیکن آپ نے محنت کی اور اللّہ تعالیٰ نے آپ کی محنت کا ثمر دیا اور وہ چیزیں آپ کو مل گئیں لیکن کیا محنت کرنے سے آپ کو وہ لوگ بھی مل سکتے ہیں جو آپ سے کھو گئے ہیں؟ جو آپ کو دکھ دے کر ایک طرف ہو گئے ہیں؟ کیا وہ لوگ آپ کے بھی ہو سکتے ہیں جو آپ کو نظر انداز کر کے آپ کے مخالف کی طرف کھڑے ہو گئے تھے؟ شاید نہیں
    اگر آپ اپنی قسمت میں لوگوں کو شامل نہیں کر سکتے تو محنت کا کیا فائدہ؟ یہ سوال یقیناً ہر ایک شخص کے ذہن میں آتا ہے اس کا جواب اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ ہر چیز کی مختص طاقت ہوتی ہے محنت کی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے کہ یہ آپ کو چیزیں دلا سکتی ہیں لوگ نہیں اگر آپ لوگ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ایک قدم آگے بڑھنا ہو گا اس منزل پر پہنچ کر آپ وہ حاصل کر سکتے ہیں جو آپ کی قسمت میں بھی نہیں ہے جی یہ منزل ہے دعا!!!

    اب آتے ہیں دعا کیا ہوتی ہے اور دعا قسمت کیسے بدل سکتی ہے دعا ایک مقدس جذبہ ہے جو آپ کا تعلق اللّہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے اس تعلق میں وسیلہ نہایت اہم ہوتا ہے وسیلہ پاک ہستییاں ہوتی ہیں وہ ہستیاں جو اللّہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت والی ہوتی ہیں اس طرح دعا آپ کا تعلق پاک ہستیوں کے ذریعے اللّہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے اور یہی تعلق انسان کے لیے بہت زیادہ طاقت والا ہوتا ہے

    دعا ایک طاقت ہوتی ہے وہ طاقت جو مایوسی کو امید اور امید کو یقین میں بدلنے کا فن جانتی ہے یہ طاقت مایوسی ختم کرنے کا ہنر جانتی ہے مایوسی کا ختم ہونا انسان کی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے

    اب آتے ہیں اس بات پر کہ دعا انسان کی قسمت کو کیسے بدلتی ہے انسان جب خالق کائنات کے سامنے اپنی بات دعا کی صورت یقین کے ساتھ رکھ دیتا ہے تو خالق کائنات اس دعا کو قبول کرتا ہے چاہے انسان کی قسمت میں پہلے سے نہ لکھا ہو کیوں کہ ہوتا وہی ہے جو اللّہ چاہے قسمت بھی اللّہ تعالیٰ لکھتا ہے تو اللّہ تعالیٰ سے دعا کرو گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کی قسمت بدل دے گا اللّہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے اللّہ تعالیٰ معاف کر دینے والا ہے اللّہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے تو دعا کی قبولیت میں شک بنتا ہی نہیں کیوں کہ جب ایک ماں اپنے بچے کی خواہش پوری کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرتی ہے تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا انسان کا خالق جس کی قدرت میں سب کچھ ہے وہ انسان کی دعا کو رد کر ہی نہیں سکتا

    اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی میں قسمت کا عمل دخل ہوتا ہے قسمت انسان کی زندگی میں ایک واضح مقام رکھتی ہے لیکن قسمت بدلی بھی جا سکتی ہے قسمت اتنی سخت نہیں ہوتی کہ بدلی نہ جا سکے قسمت بدلتے دیر نہیں لگتی بس آپ محنت جاری رکھو جو چیز محنت سے بھی نہ ملے اسے دعا میں مانگو چاہے وہ کچھ بھی ہو اگر آپ کے لیے وہ چیز، وہ لوگ اچھے ہوں گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کو لازمی وہ دے گا اگر آپ کی دعا قبول نہیں ہوتی تو دوبارہ دعا کرو اللّہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کی دعا سنے گا اور جو آپ کے لیے بہتر ہو گا وہ آپ کی قسمت میں لکھ دے گا

  • شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی

    شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی


    9 /11 کے بعد  دنیا کرکٹ نے پاکستان میں  دہشت گردی کی آڑ میں چھپ کر  سیکورٹی کا بہانہ بنا کر پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا ۔ یہ کرکٹ فین کے لئے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں تھی ۔ لیکن اسی عرصہ میں پاکستانی کرکٹ اسٹارز دیار غیر  میں کھیل کر سبز ہلالی پرچم بلند کرتے رہے ۔ گزشتہ 21 سال سے پاکستان گراونڈ ویران پڑے ہیں ۔کرکٹ کے متوالے اپنے اسٹارز کو اپنے ہوم گروانڈ پر حوصلہ افزائی کرنے کےلئے ترس گئے ہیں  ۔میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے کھیل کے سفیروں کو جنہوں نے  اس کا منہ توڑ جواب دینے کےلئے میدان میں ڈٹے رہے ۔کبھی مصباح الحق کی صورت میں کبھی یونس خان کبھی آفریدی کی شکل میں، پاکستانی ٹیم نے گزشتہ ان 21 سالوں  میں ہوم  گراونڈ  خشک ہونے کے  باوجود بڑے بڑے ایونٹ جیتے بھی ہیں اور بڑی بڑی ٹیمز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست بھی  دی ہے ۔ 2007 کے پہلے ایڈیشن کا فائنل کھیلا ۔پھر 2009 کے دوسرے  ایڈیشن میں یونس خان کی قیادت میں ۔ٹرافی فضا میں بلند کی ،وقت گزرتا گیا پاکستان نے اپنا سفر جاری رکھا ۔2017 میں انگلینڈ میں مایوس قوم کو توقعات کے برعکس پاکستان نے فائنل میں سرفراز کی قیادت میں بھارت کو شکست فاش دیکر بڑے بڑے کرکٹ کے پنڈتوں کو حیران کر دیا،  وہ چمپیئن ٹرافی کسی اکیلے کھلاڑی نے نہیں جیتی تھی بلکہ سب نے جیت میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔اس میں ایک نام حسن علی کا بھی تھا۔

    حسن علی کسی تعارف کے محتاج نہیں  گلی کوچوں میں کرکٹ کھیل کر دنیا کرکٹ کے افق پر نمودار ہوئے ۔2جولائی 1994 میں منڈی بہاؤالدین میں پیدا ہونے والے نوجوان  تیز گیند بازی سے بڑے بڑے بلے بازوں  کے پاوں اکھاڑ کر رکھ دئیے ۔حسن علی کا وکٹ لینے کے بعد جشن میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور تماشائیوں نے بھر پور داد دی ،انہیں مسٹر جنریٹر بھی کہا جاتا ہے ۔سیلیکٹر نے 2017کے چمپیئن ٹرافی کے اسکواڈ میں جگہ دی ۔حسن علی نے اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھایا ۔اپنی سلیکشن کو 13 وکٹ لیکر ثابت کردیا پاکستان میں ٹیلنٹ کی  کوئی کمی نہیں ہے کمی ہے صرف بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی ۔حسن علی نے چمپیئن ٹرافی میں 5میچ کھیل کر  13 وکٹ لیئے ۔چمپیئن ٹرافی کا بہترین کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔ یہ پاکستان کےلئے حسن علی کےلئے  اور پاکستانی قوم کےلئے ایک اعزاز بات ہے ۔وقت  ایک جیسا نہیں رہتا دوبئی میں آسٹریلیا کے ہاتھوں سیمی فائنل میں  شکست کے بعد کچھ لوگوں نے   ساری ذمہ داری حسن علی  پر ڈال رہے ہیں ۔صرف ایک کیچ نے حسن علی کو ہیرو سے زیرو بنا دیا ۔افسوس مجھ سمیت پوری قوم کو ہے "کاش”حسن علی وہ کیچ پکڑ لیتے  نتیجہ کچھ اور ہوتا ،گرین شرٹس اس ٹورنامنٹ میں چمپئن کی طرح کھیلے اور مجھے فخر ہے گرین شرٹس کی پرفارمنس پر اور ہمیں ہونا چاہیے ۔ٹاس ہارنے کے بعد بابر اعظم اور رضوان نے بہت اچھا آغاز فراہم کیا ایک بڑا اسکور کھڑا کیا جا سکتا تھا بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا رضوان اور فخر زمان کی نصف سنچری کی بدولت 176 رنز بنائے آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف  ایک اورقبل5وکٹ  پر مکمل کر لیا ۔
    آسٹریلیا بڑی ٹیم ہے ۔پریشر میں اچھا کھیل گئے شکست کے بعد گرین شرٹس کا سفر تمام ہوا
    شکست کے بعد  حسن علی پر تنقید کے نشتر چلائے گئے ،انہیں برا بھلا کہا گیا بہت سی گالیوں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔مجھے  اس وقت حیرت ہوئی جب  حقیقت ٹی وی نے بہت غلیظ زبان استعمال کی اپنے ہیروز کی تذلیل کی۔ کیا حسن علی نے ایسا جان بوجھ کر کیا ؟۔ہر گز نہیں۔اس کی آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کوشش کے باوجود وہ پاکستان کےلئے کچھ نہ کرسکا ۔کیا ہم جیت میں اپنے ہیروز کو سپورٹ کریں گے ہار میں کیوں نہیں،  زندہ قومیں اپنے ہیروز کی تذلیل نہیں بلکہ ہار میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں ، ہمیں بطور قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے،   جس طرح جیت میں ان کے ساتھ تھے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اس  صدمہ سے باہر نکل سکیں تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکیں   ۔پاکستان زندہ باد

  • حسن علی کو لے کر انڈین پروپگینڈا تحریر عبدالوحید

     السلام علیکم ناظرین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سترہ اکتوبر کو دبئی میں شروع ہوا ۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیم کو گروپ بی میں رکھا گیا گروپ بی کا پہلا میچ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان چوبیس اکتوبر کو شروع ہوا ۔ میچ سے پہلے انڈین اور انڈین میڈیا اپنی ٹیم کی ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہی تھی جیسا کوئی آسمان سے اتری ہوئی ٹیم ہو ۔ جب پہلا میچ کھیلا گیا تو پاکستان نے بہت بری طرح سے انڈیا کو شکست دی ۔ ایسی شکست جس کی تواقعات کسی انڈین کی وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ۔ پاکستان کے اوپننگ بیٹسمین محمد رضوان اور بابر اعظم جم کر انڈین بولروں کی دھلائی کی۔ انڈین ٹیم کوئی بھی ایسا بولر نہیں تھا جو پاکستانی اوپنرز کو پویلین بھیج سکے۔ پاکستانی بیٹسمینوں نے تاریخ رقم کردی۔ اس کے بعد پاکستان نے مسلسل نیوزیلینڈ ، افغانستان، نیمبیا اور سکاٹلینڈ کو شکست دی ۔ پاکستانی ٹیم ایسی ٹیم بن کر ابھری جس کی تواقع کوئی نہیں کررہا تھا۔ پاکستانی اوپنرز ، مڈل آرڈر بیٹسمین سب اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ انڈیا اپنے پہلا میچ ہارا اس کے ساتھ دوسرے میچ میں بھی بری طرح شکست ہوئی ۔ اس کے بعد ان کا جو تیسرا میچ ہوا افغانستان کے ساتھ وہاں کے میچ میں ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ میچ فکس ہو۔ جب نیوزی لینڈ نے افغانستان کو شکست دی تو نیوزیلینڈ سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور انڈیا ٹورنا منٹ سے باہر ہوگیا ۔  دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تھا ۔ جب دوسرا سیمی فائنل میچ کھیلا گیا اس میچ میں پاکستان کو کانٹے دار مقابلے کے بعد شکست ہوئی۔ اس دوسرے سیمی فائنل میں جب پاکستان فیلڈنگ کررہے تھا تو آخری اورر میں شاہین شاہ آفریدی کے تیسرے گیند پر جب حسن علی نے کیچ چھوڑا ۔ اس کے بعد میتھین ویڈ نے آخری تین بالوں پر تین چھکے لگا دیا۔ میچ ختم ہونے کے بعد حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ہوئی ۔ اس تنقید کو بڑھاوا دینے کے لیے انڈین کا ایک پینل میدان میں اتر آیا ۔ اور  مذہب کا سہارا لے کر پاکستان میں شیا سنی فسادات کو بڑھانے کی ناکام کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پراپیگنڈا کیا کہ حسن علی پر اس لیے تنقید کی جارہی ہے وہ شیا ہے ۔ حالانکہ حقائق بلکل مختلف تھے۔حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ضرور ہوئی

      لیکن وہ اس لیے نہیں ہوئی کہ وہ شیا ہے اور سنی نہیں ہے ۔ یہ تنقید ان کی اصلاح کے لیے تھی۔ میچ میں کیچ چھوڑنے کی وجہ سے ہوئی تنقید۔ انڈیا کے وہ لوگ جو ہمیشہ چاہیے ہیں کہ وہ پراپیگنڈا کے ذریعے پاکستان میں سنی شیا فسادات کو پروان چڑھایا جائے ۔ اس سے پہلے انڈین کا ایک سابق میجر گورو آریا تھا وہ بھی اس قسم کے پلان کرتا رہا کہ کسی نا کسی طرح اس قسم کے فسادات کو بڑھایا جائے تاکہ پاکستان میں امن کا ماحول خراب ہو اور خانہ جنگی پیدا ہوا ۔ انڈین جو ہمیشہ چاہتے ہیں پاکستان میں اس طرح کے حالات پیدا کیے جائیں جس سے خون خرابا ہو۔ پاکستانیوں کو اب انڈین کے چالوں کو سمجھنا چاہیے۔ ایسے پراپیگنڈا سے بچنا چاہیے جو پاکستان میں امن کے ماحول کو خراب 

     کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔ حسن علی بھی  انسان ہے  اگرچہ اس سے یہ کیچ چھوٹا ہے تو اس میں کون سی  مذہب والی بات آگئی۔ یہ لوگ جو نفرت کو پاکستان میں اپلائی کرنا چاہتے ہیں ہمیں ایسے لوگوں سے چوکنا رہنا چاہیے۔

    ہم سب پاکستانی ہیں ہمیں کسی پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں۔ دوسروں پر انگلی اٹھائیں گے تو دشمن ایسی طرح ہم پہ وار کریں کہ لہذا ہم ایک پاکستانی ایک قوم کی طرح رہنا چاہیے اور دشمن کے ہر چال کو ناکام بنانا چاہیے ۔پاکستان زندہ باد

  • محمدرضوان بن جائیں تحریر   ممتازعباس شگری

    محمدرضوان بن جائیں تحریر   ممتازعباس شگری

     وہ دو دن سے اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارٹ  میں   زیرعلاج تھا، ان کے منہ سے باربار ایک ہی لفظ نکل رہاتھاکہ مجھے اپنے فرض پر واپس جاناہے ، قوم نے مجھ پرایک فرض عائد کیاہے  میں   وہ فرض پوراکروں  گا، بھلا میں   اپنے فرض سے کیسے غافل ہوسکتاہوں ، ڈاکٹر اصرار کرتے رہے وہ انکار کرتے رہے ، ٹی وی اسکرینز پر سرخیاں  چلتی رہی آج ایک اہم رکن قومی فرائض پورا کرنے سے قاصر رہیں  گے لیکن اللہ کاکرنا ایساہوا وہ دو دن مکمل ہوتے ہی مکمل ٹھیک ہوگئے، اور ڈاکٹرزنے انہیں  اپنے فرض پر واپس جانے کی اجازت دے دی، وہ خوشی سے پھولاجا رہاتھاکیونکہ انہیں  ایک بار پھر قوم کی خدمت کاموقع ہاتھ آگیا تھا، انہوں  نے رب کاشکر ادا کیا اور فرض شناسی کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے راہ کی جانب ایساگامزن ہوگیا کہ رہتی دنیا کیلئے مثال بن گیا، اور ہر جگہ سے واہ واہ کی صدائیں  بلند ہونے لگی، یہ نوجوان کوئی اور نہیں  پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے بار محمد رضوان ہے، محمد رضوان کا تعلق کے پی کے شہر پشاور سے ہیں ، یہ یکم جون 1992کو پیدا ہوئے ، بچپن سے ہی کرکٹ کا جنون سرپر سوار تھا، 140لسٹ اے میچز اور 161ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے بعد 17اپریل  2015کو بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے جبکہ 24اپریل کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا آغاز کیا، یہ آگے پچھلے مڑے بغیر اپنی پرفارمنس پر توجہ مرکوزرکھنے کی پوری کوشش کرتے رہے، پاکستان کرکٹ ٹیم  میں   مقابلہ سخت تھا، ہر نئے آنے والاکھلاڑی اپنی ردھم  میں   واپس آکر ٹیم  میں   جگہ بنانے کاخواہاں  تھا،انہیں  کئی بارمایوسی کاشکار اس لیے ہوناپڑاکیوں  کہ وہ فارم سے بالکل آوٹ ہوچکے تھے، یوں  ٹیم سے باہر کی ہوا بھی کھانی پڑی، یہ محنت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والاکھلاڑی ہے، مسلسل محنت کرتے رہے یوں  2019 میں   ٹیم  میں   واپس آگیا، اسی اثنا میں   وکٹ کیپر بلے باز سرفرازاحمد کی تنزلی کا آغاز ہوگیا،محمدرضوان مسلسل پرفارم کرتے رہے گیارہ فروری 2021کو لاہور  میں   ساوتھ آفریقہ کے خلاف 104رنز کی نایاب اننگز کھیل کر اپنی جگہ مزید مستحکم کر دیا، یہ یوں  قوم کی خاطر کھیلتے رہے ، 24اکتوبر کو پاکستان کا انڈیاکے خلاف ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی  میں   میچ طے تھا، شائقین کرکٹ سالوں  سے پٹاخے پھوڑنے کا انتظارکررہے تھے، شائقین کوامید تھی کہ اس بار یہ ٹیم وہ کام کردیکھائے گی جو  اب تک نہیں  ہوگا، پاکستان نے کرکٹ کی تاریخ  میں   انڈیاکو کبھی ورلڈ کپ  میں   شکست سے دوچار نہیں  کیاتھا، لیکن یہ کارنامہ 24اکتوبر کی شام کو شاہینوں  نے کردیکھایا، انڈیاکی پوری ٹیم 151کی مجموعی اسکور پر ڈھیر ہوگی، ٹیم پاکستان نے سترہویں  آور میں  بغیر کسی وکٹ کے تقصان کے ہدف پوری کرکے تاریخ رقم کرلی،اس  میں   محمد رضوان نے 79رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، یہ وہ مرحلہ تھا پاکستان کاسر فخر سے بلندہوگیا، ٹیم نے پچھلے مڑ کرنہیں  دیکھی، بددستور  نیوزی لینڈ،افغانستان، نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا، سیمی فائنل  میں   آسٹریلیا کے ساتھ 11اکتوبر کو پنچہ آزمانی کرنی تھی، لیکن میچ سے دو دن قبل ٹی وی اسکرینز پر خبریں  چلنے لگی، محمدرضوان اور شعیب ملک بیماری کی وجہ سے آسڑیلیاکے خلاف میچ نہیں  کھیل پائیں گے، میڈیاکو بھی معلوم نہیں  تھا کہ کیا ہورہاہے، 9اکتوبر کو محمد رضوان کی طبعیت اچانک بگڑ گئی وہ دبئی کے میڈیور اسپتال کے آئی سی یو میں   داخل ہوگئے، انہیں  اپنی بیماری سے زیادہ قوم کی فکر تھی انہیں  قوم نے ایک مشن پہ بھیجا تھا وہ ذمہ داری کو کسی صورت چھوڑنے کیلئے تیار ہی نہیں تھا، ڈاکٹر علاج کرتے اصرار کرتے رہے یہ انکار کرتے رہے کہ مجھے ٹیم  میں  واپس جاکر آسڑیلیا کے خلاف میچ کھیلناہے ، یہ باتیں  اس وقت عیاں  ہوئی جب آسڑیلیا کے خلاف میچ کے بعد محمدرضوان کاعلاج کرنے والاڈاکٹر سہیر سین العابدین سے رضوان کے بارے  میں   پوچھاکیا، ڈاکٹر سہیرسین العابدین نے کہا  میں   رضوان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا کہیں  انہیں  ہارٹ اٹیک تو نہیں  آیا،جب انہیں  اسپتال لایاگیا توان کی حالت بہت خراب تھی ، ان کے سینے  میں درد تھا، گلہ سکھ گیا تھا، بیماری کے انتہائی درجے پر پہنچ چکاتھا لیکن ان کا حوصلہ آسمانوں  سے باتیں  کررہاتھا انہیں  صرف اور صرف وطن کی فکر تھی، وطن کی لت نے انہیں  بستر بیمار پر بھی رہنے نہیں  دے رہاتھا، مسلسل 36گھنٹے آئی سی یو  میں   رکھنے کے بعد جب انہیں  واپس بھیجا جارہاتھا تو وہ ایک دم صحت یاب ہوچکے تھے  ۔  ڈاکٹر سہیر بھی ان کے اس حالت کو دیکھ کر حیران رہ گیا، محمدرضوان آئی سی یو سے نکل کرکٹ کے میدان  میں   آن پہنچا آسٹریلیا کے خلاف مسلسل سترہ آورز پچ کر براجماں  رہے اور 79رنز کی نمایاں  اننگر کھیلی، دوران میچ آسڑیلیا کے باولر مچل اسٹاک کی باونسرکی وجہ سے چہرے پر داغ بھی لگا، لیکن وہ باونسر بھی ان کی راہ میں   حائل نہ ہوسکے،میچ  میں   آسڑیلیا نے پاکستان کو شکست تو دے دی لیکن رضوان کی کارکردگی اور وطن سے محبت نے دنیا ئے کرکٹ کے ستاروں  سمیت شائقین کو حیران کردیا،
    آپ نے کئی بار ایسی ویڈیو کلپ یا تصویر دیکھی ہوگی جس  میں   محمدرضوان میچ کے دوران نماز پڑھتے دیکھائی دیتاہے، چاہیے وہ بھارت کے خلاف میچ ہو یا پریکٹس سیشن ، دین سے قربت اور وطن سے محبت کی اس عمدہ مثال کیوجہ سے محمدرضوان دنیاجہاں   میں   آمر کرگیا، انہیں  دنیائے کرکٹ کی تاریخ  میں   آئی سی یوسے نکل کر مردمیدان بننے والے کھلاڑی کے نام سے یاد کیاجائے گا، اسی فرض شناسی اور اپنے شعبے سے محبت نے دنیاجہاں  کو جھومنے اور واہ واہ کرنے پر مجبور کردیا، پاکستان ورلڈ کپ تونہیں  جیت سکا لیکن ورلڈ کپ سے بڑا کارنامہ انجام دے کر عالم انسانیت کی محبتیں  سمیٹ لیں  ۔  
     آپ ایک دن پورے ملک  میں   موجود اداروں  کا ڈینانکال کر دیکھ لیں  ، جہاں  کام کرنے والے کتنے افراد فرض شناسی کے ساتھ اپناکام سر انجام دیتے ہیں  ، آپ یقین کرلیں  بیس فیصد ایسے لوگ ہوں  گے جو اپنے فرض کو پورا کرتے ہوئے تنخواہ حلال کرنے کی سعی کرتاہے،ہم  میں   سے ہرایک اپنے فرض سے غافل ہے، جب بھی فرصت ملے اپنا فرض چھوڑ دیتے ہیں  ، اس ضمن  میں   سب سے زیادہ افراد گورنمنٹ سیکٹر  میں   کام کرنے والے ملازمین کی ہے ، انہیں  نہ خوف خداہوتاہے نہ خوف انسان ، انہیں  معلوم ہے ہماری نوکری لگ گئی اب کوئی بھی یہ نہیں  چھین سکتا، ایساکیوں  ہے، کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان صرف نام کامسلمان رہ گیا ہے، ہمیں   اپنے فرائض معلوم ہی نہیں  ، ہم صرف گورنمنٹ کو کرپٹ کہنے  میں   مصروف ہے، دراصل ہم  میں   سے ہرایک کرپٹ ہے ہمیں   بس موقع ملنے کی دیر ہے،ہم کرپشن کی داستانیں  بناکردم لیں  گے ۔  جس دن اس ملک کا ہر فرد اپنے اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے محمدرضوان بن جائے گا اس دن یقین جانیں  ملک ترقی کی راہوں  پر داخل ہوگا اور پوری دنیا  میں  ہماری واہ وہ ہوں  گے  

  • تابش کی تشنگی !  تحریر : تابش عباسی

    اکتوبر 2013 کو پاکستان کی عام عوام میں ایک نئی امید روشن ہوئی کہ شاید کوئی مسیحا آ نکلا ہے جس کو اپنے آپ سے زیادہ ، عام عوام کی فکر ہے – مہنگائی ، بےروزگاری ، دہشتگردی اور اس طرح کے اور کہیں مسائل سے نبرد آزما عام عوام کو ایک امید سی ہو چکی تھی کہ گویا اب جلد ہی سب ٹھیک ہو گا ۔ پوری قوم اس لیڈر کے پیچھے چل پڑی ، محنت کا ثمر ملتے ملتے پانچ سال گزر گئے اور 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان میں قائم ہوئی۔ عام عوام کے ذہنوں میں یہ بات نقش کی گئی کہ آج سے پہلے سب حکمران ، سب حکومتیں چور تھیں اور اب "امانت دار ، نیک ، صادق و امین ” حکومت قائم ہوئی ہے – پوری قوم کی امیدیں وابستہ تھیں کہ اب ان کے لیے بھی کوئی بہتری ہو گی ۔ 

    پر گزرتا دن عام عوام کے لیے کچھ نہ کچھ تکلیف دہ خبر لے کر ہی آتا – تاریخ گواہ ہے جس جس چیز کا نوٹس لیا گیا وہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوئی اور ایک مخصوص طبقہ امیر سے امیر ترین ہوا ۔ 

    آج نومبر 2021 ، ضرورت روزمرہ اشیاء زندگی کی قیمتیں آسمان پر ہیں ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر دوسرے ہفتے بڑھتی ہیں ! والدین اپنے بچوں کو بھوک و افلاس کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں ، خود خود کشیاں کرتے ہیں ! متوسط طبقے کے لوگ بھی غربت کی لکیر تک پہنچ گئے ہیں – چوریاں اور ڈکیتیاں عام ہیں ، اور اکثر چور جب پکڑے جاتے ہیں اور بات کھلتی ہے معلوم پڑتا ہے کہ "پیٹ کی آگ” نے اس گناہ پر مجبور کیا – کہاں گئی وہ "ریاست مدینہ ” جو کا خواب دکھلا کر پوری قوم کو امید دکھائی گئی تھی ! کہاں وہ حکمران جو دریا دجلہ کے کنارے مرنے والی بکری پر بھی خود کو ذمہ دار سمجھتے تھے اور کہاں یہ ریاست مدینہ جس کے حکمران کو خبر ہی نہیں کہ روز غربت کتنوں کو کھا جاتی ، سانحہ ساہیوال ہو گا موٹروے کا واقعہ ! کہاں ہیں ہمارے حکمران ؟ 

    وطن عزیز کی عام عوام کی حالت یہ کر دی گئ ہے کہ اب ” یہاں سب ہی سب سے ڈرتے ہیں”۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سابقہ حکومت پر معن طعن کرنے والے اپنی حکومت کے 3 سال مکمل ہونے کے بعد بھی انصاف نہ دے پائے – 

    آپ خواہ بین الاقوامی پالیسی جتنی بھی بہترین کر لیں ، یا کبھی بھی کر لیں جب تک آپ کی حکومت غریب آدمی کو ریلیف نہیں پہنچا سکتی آپ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے – آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ” ان صادق و امین سے وہ چور حکومت ہی اچھی تھی ” جس میں مہنگائی تو اتنی نہ تھی – یہ عام آدمی کی آواز ہے اور عام آدمی کی امید اگر اس حکومت سے ٹونٹی تو شاید آیندہ یہ لوگ کسی پر امید نہ رکھ پائیں ، اس کا نقصان موجودہ حکومت کو تو ہو گا ہی پر جمہوری اقدار بھی تنزلی کا شکار ہونگے –

    حکومت وقت کو یہ بات سوچنا ہوگی کہ مہنگائی کا جن ان کی حکومت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور اگر سال بعد آمدہ انتخابات میں دوبارہ حکومت بنانے کا خواب ہے تو اس جن کو بند کر کے بوتل میں قید کریں – جیسے گزشتہ حکومتیں کرپشن و اقربا پروری کی بدولت آج اپنا بویا کاٹ رہی ہیں کل موجودہ حکومت کو مہنگائی کی بدولت نہ رونا پڑے-

    بہت سے اچھے اقدامات بھی اس حکومت میں شروع ہوئے جن میں غریب آدمی کی مدد کرنے کی کوشش کی گئی ( احساس پروگرام وغیرہ ) مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان اقدامات کا فائدہ عام آدمی کو بھی ہوا یا صرف سیاست کی بھینٹ چڑھا دی گیا اس کو بھی – کامیاب جوان سکیم پر پورے ملک سے آوازیں اٹھیں کہ اس پروگرام کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے – 

    نا امیدی کفر ہے ، امید تو ہے کہ یہ حکومت ، آخری سال میں عوام کی بہتری و فلاح پر کام تیز کرے گی ، خصوصاً مہنگائی کا جن قابو کر لیا جائے گا – 

  • رائے ونڈ….مسلمانوں کاعظیم الشان اجتماع					  تحریر:یاسرشہزادتنولی

    رائے ونڈ….مسلمانوں کاعظیم الشان اجتماع تحریر:یاسرشہزادتنولی

    ۔

    رائے ونڈ ایک گمنام جگہ تھی لیکن تبلیغی جماعت کی محنت نے اسے پوری دنیا میں متعارف کرادیا،آج دنیا کے کونے کونے سے لوگ رائے ونڈ آکر دین اسلام کی فکر اور حضورنبی کریم ﷺکی محنت کا طریقہ سیکھ کر دین کی محنت میں لگ جاتے ہیں،یہاں سے ہرسال بے شمار جماعتیں نکل کر پوری دینامیں جاتی ہیں اور دین اسلام کی آفاقی دعوت دینے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، دین اسلام کے مبلغ اول جناب رسول اللہ ﷺہیں، جنہوں نے مکہ جیسے مخالفین کے بھرے شہر میں بے شمار سختیاں برداشت کرکے دین اسلام کی محنت شروع فرمائی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام دنیا میں پھیل کر روئے زمین کا سب بڑامذہب بن گیا،جناب رسول اللہ ﷺکے بعد خلفائے راشدین نے دین اسلام کے دامن کو مزید وسعت دے کر چین سے فرانس،ہسپانیہ کے جزائر،افریقہ کے جنگلات اور مراکش کے آخری کونے تک اسلامی تعلیمات کا جال پھیلادیا،اس کے بعد مسلمان حکمران،مجاہدین اسلام،مبلغین،علماء،صوفیا ء اوردردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کی محنتوں سے اسلام کی شمع جلتی رہی،برصغیرپاک وہندمیں انگریز ی دوراقتدارمیں اسلام کی شمع ٹمٹمانے لگی ہندوستان کے بعض دیہات خصوصاًمیوات میں اسلام برائے نام رہ گیا تھا،1923ء انتہائی متعصب ہندوتحریک شدھی سنگٹھن نے ہزاروں مسلمانوں کو زبردستی اسلام سے برگشتہ کیا،جس مسلمان علمائے کرام دلوں کو شدید دچھکا پہنچا،ہمارے اکابر حضرت مولاناانورشاہ کشمیریؒ،مولاناحبیب الرحمن عثمانی ؒ،مولاناشبیر احمدعثمانی ؒ،مولاناسید حسین احمدمدنی ؒ، دہلویؒ،مولانا احمدسعید دہلویؒ،مولاناشمس الحق افغانی ؒ،امام الہند مولاناابولکلام آزادؒ،مولانامحمد الیاس دہلویؒ،مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوریؒ،امیر شریعت مولاناسید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اوردیگر اکابرین امت نے اس طوفان کے سامنے ڈٹ کر مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کی بھرپور محنت کی جس کی بدولت ہزاروں مسلمان اپنے دین کی طرف واپس آگئے،ان حالات میں مولانامحمدالیاس دہلویؒ نے ایک مستقل ایمانی تحریک برپا کرکے مسلمانوں کو مستقل دین اسلام کی دعوت میں بھرپور طریقے سے لگانے کی سوچ وفکر کا آغاز کیا،علماء کرام،صوفائے عظام،اہل مدارس اور اپنے زمانہ کے تمام اکابر ین امت سے صلاح ومشورہ کے بعد مدینہ منورہ میں حاضر ہوکر خاص ہجرہ نبوی کے اندر ایک ہفتہ اعتکاف کے بعد جب ہندوستان واپس آئے تو 1926ء میں تبلیغی محنت کا آغازکیا جو آگے جاکر تبلیغی جماعت کی موجودہ شکل وصورت میں دنیا ئے اسلام کی سب سے بڑی تحریک بن گئی،تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع حضرت مولانامحمد الیاس دہلوی کے دورمیں 28،29،30،نومبر 1941ء کو میوات کے علاقہ قصبہ نوح کے اندرہوا،اس اجتماع میں حضرت مولانامحمدالیاس صاحب ؒکے علاوہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒشیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند،مفتی اعظم ہند،مولانامفتی کفایت اللہ دہلویؒ،حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب قاسمیؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند،سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعید دہلوی ؒناظم اعلی جمعیت علماء ہند،مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابوالحسن ندویؒ،مناظراسلام مولانامحمدمنظورنعمانی ؒ،مولاناعبداللطیف ناظم جامعہ مظاہرالعلوم سہارن پور،الحاج محمدشفیع قریشی امیر اول تبلیغی جماعت پاکستان اور ان کے علاوہ اس دورکے تمام اکابرین امت شامل تھے،نماز جمعہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒنے پڑھائی اور اس کے بعد اجتماع کی کاروائی شروع ہوئی،اس اجتماع کے بارہ میں مفکر اسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں کہ یہ اجتماع،اجتماع سے زیادہ زندہ خانقاہ معلوم ہوتاتھا،جس میں عبادت وذکر،نمازوں کی پابندی اور ذوق نوافل کے ساتھ چستی مستعدی،جفاکشی ومجاہدہ،سادگی وبے تکلفی،تواضع وخدمت،دین کی توقیر اور اسلامی اخلاق کے موثر مناظر دیکھنے میں آئے۔دوسرا بڑااور اہم اجتماع مولانامحمدالیاس دہلوی کی وفات کے بعد 14،15،16،جنوری 1945ء کو مسجد شاہی مرادآباد میں ہوا،اس اجتماع میں امیر تبلیغی جماعت مولانامحمدیوسف دہلویؒ سمیت شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنیؒ ؒ،مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ،شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریاکاندہلوی ؒ،مفکر اسلام مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ اور دیگر اکابرین امت نے شرکت کی،اس اجتماع کی خاص بات یہ تھی کہ حضرت شیخ الہند مولانامحمود حسن ؒ(بانی تحریک آزادی ہند)کے وہ متعلقین جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒکی وفات کے بعد شدت غم سے گوشہ نشینی اختیار کررکھی تھی اورعلاقہ سے باہر نکلناچھوڑدیا تھا،انہوں نے اپناعہد توڑا اور حضرت مدنی ؒکو لانے کے لئے دیوبند حاضرہوئے اور حضرت شیخ الاسلام مولانامدنی ؒکو شدیدمصروفیات کے باوجود اجتماع میں شرکت کرنے پر آمادہ کیا۔اس کے بعد اجتماعات کا نہ ٹوٹنے ولا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جوآج دنیا کے اکثرممالک میں دین اسلام کی شان وشوکت اور تبلیغ اسلام کا سب سے بڑا موثرذریعہ بن چکا ہے۔تقسیم ہندکے بعد پاکستان میں حضرت حاجی عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کوششوں سے تبلیغی جماعت کا کام شروع ہوا،اور پہلا اجتماع 10/اپریل1954ء بروزہفتہ رائے ونڈ کے مقام پر منعقد ہوا،مولانا محمدیوسف کاندہلوی صاحب ؒ اس دن صبح دہلی سے روانہ ہوکر دن کے بارہ بجے لاہور پہنچ گئے اور عصرکی نماز کے بعد اجتماع میں تشریف لائے،یہاں مولانایوسف صاحب ؒ نے تین دن قیام فرمایا۔جب اجتماع ختم ہوا تو مولانا یوسف صاحب ؒ نے تمام احباب کو ایک جگہ جمع کیا اور فرمایا:”دیکھوبھائی! آج کے بعد یہ جگہ تمہاری جماعت کا مرکز ہے،تم نے اسے سرسبزوشاداب بناناہے،اور اس جگہ کو دین کی محنت سے آباد کرنا ہے،اس لئے تنگی آئے یا وسعت،بھوک آئے یا پاس،بیماری آئے یاموت،تم نے دنیا کے کسی کام میں نہیں لگنا،بلکہ اسی کمائے کے کام میں لگنا ہے اور اپنے آپ کو یہاں مٹادینا ہے،جو تیارہو وہ اُٹھے اور میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرے،پھر فرمایا کوئی کسی کو ترغیب بھی نہ دے،جس نے کھڑاہونا ہے اپنی ذمہ داری پر کھڑاہو”چنانچہ جو شخص پہلے کھڑاہوا اس کانام”حاجی عبدالوہاب” تھا اس کے بعد حافظ سلیمان(سابق امام رائے ونڈمرکز) کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبداللہ کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبدالرحمن کھڑے ہوئے،اس کے بعد حافظ نورمحمد کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی اسماعیل کھڑے ہوئے،جوکھڑاہوتا مولانایوسف صاحب اس کو آگے اپنے پاس بلالیتے اور اس سے یہ اقرار(حلف نامہ) لیتے کہ:آج کے بعد میں اشاعت اسلام،خدمت دین،اور مرکزکی آبادی کے علاوہ دنیا کے کسی کام میں نہیں لگوں گا،اس راستے میں اگرمجھے بھوک آئی توبرداشت کروں گا،پیاس آئی تو برداشت کروں گا،بیماری آئی تو برداشت کروں گا لیکن کسی دوسرے کام میں نہیں لگوں گا”۔ابھی مولانامحمدیوسف کاندہلوی ؒ یہ کہلواکر ایک ایک کو علیحدہ علیحدہ باہر بٹھارہے تھے،کہ اسی اثنامیں آپ کی نظرمیاں جی محراب پر پڑگئی جو حاجی محمدمشتاق صاحب ؒ کو تیار کررہے تھے،تو آپ نے میاں جی محراب کو انتہائی زور سے ڈانٹا اورفرمایا:”میں نے پہلے ہی نہیں کہا تھاکہ کوئی کسی کو تیارنہ کرے ورنہ کل جب بھوک اور پیاس آئے گی تو پھر یہ تمہیں گالیاں دے گا کہ مجھے اس نے پھنسایا تھا،اس لئے کوئی کسی کو تیار نہ کرے”۔الغرض کل 18آدمی کھڑے ہوئے اور انیسویں حاجی مشتاق صاحبؒ تھے،جو سب سے آخرمیں کھڑے ہوئے تھے،یہ کل انیس آدمی تھے جنہوں نے تمام ترمخدوش حالات کامقابلہ کرتے ہوئے تبلیغ دین کی بنیادوں کو مضبوط کیااور اس ڈانواڈول کشتی کو بھنور سے نکالا اور اسے کھینچ کر ساحل پر لائے،ان میں سے جو احباب موت تک یہیں رائے ونڈمیں پڑے رہے وہ چھ تھے (1)حضرت حافظ نورمحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ(2) حضرت میاں جی محمداسماعیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ (3)حضرت حافظ سلیمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ (4)حضرت میاں جی عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ(5)حضرت حاجی محمدمشتاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ(6)حضرت حاجی عبدالوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ،اس کے بعد جب تبلیغی محنت مزید آگے بڑھی اور ماہانہ مشورہ شروع ہوا جس کی ابتداء اس طرح ہوئی حاجی عبدالوہاب صاحب فرمایاکرتے تھے کہ میں مشورہ کے لئے ایک ایک آدمی کے پاس جایاکرتاتھا، محمدشفیع قریشی صاحب ؒکے پاس پنڈی،قاضی عبدالقادر صاحبؒ کے پاس سرگودھا،مفتی زین العابدین صاحبؒ کے پاس فیصل آباد اوربھائی بشیر صاحبؒ کے پاس کراچی جاتا،پھر سب کو بتاتاکہ فلاں کی یہ رائے ہے،فلاں کی یہ رائے ہے،پھر سب کو خیال آیا کہ یہ اکیلا ہم سب کے پاس پھرتا ہے کوئی دن مہینہ میں ایسا طے کرلیناچاہئے کہ ہم خود اس کے پاس اکٹھے ہوجایاکریں۔ چنانچہ حاجی صاحب ؒکی اس قربانی کی برکت سے ماہانہ مشورہ شروع ہوا،جس پر سب حضرات حاجی صاحبؒ کے پاس آنے لگے،شروع میں ہرماہ ایک دن کے لئے آتے تھے پھر جوں جوں کام بڑھتا گیا اور تقاقضے بڑھتے گئے توتین دن کے لئے مشورہ کے عنوان سے جمع ہونے لگے۔ان بزرگوں کی دن رات ان تھک محنتوں اورکاوشوں سے جو کام شروع ہوا،وہ ملک کے مختلف حصوں میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا تک پہنچ گیا اور آج وہ کام پوری دنیا کے ہرملک کے ہر قصبے اور دیہات میں پھیل چکا ہے،کروڑوں مسلمان آج اس تحریک کے سات وابستہ ہیں جن کی نقل وحرکت سے مسلمانانِ عالم میں دینداری کی ایک عمومی فضابن چکی ہے،رائے ونڈکا سالانہ اجتماع جوپہلے ایک ہی بڑااجتماع ہواکرتاتھا،پھر دوحصوں میں تقسیم ہوگیا اور اب چندسالوں سے عوام کی بڑھتی ہوئی تعدادکے باعث چار حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے دوحصوں کا اجتماع ایک سال اوردوسرے دوحصوں کا دوسرے سال ہوتاہے،اس سال دوحصوں کاپہلااجتماع،4نومبر 2021ء کو رائے ونڈمیں شروع ہے جس سے پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے بزرگوں کے خطابات کاسلسلہ بھی شروع ہے۔دوسرے حصے کا اجتماع 11نومبر کو شروع ہوگا اور 14نومبر2021کو اختتامی دعاپر ختم ہوگا۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • نادرا ! علی مجاہد

    آپ 18 سال کے ہوتے ہیں تو آپ پر لازمی ہو جاتا ہے اپنا شناختی کارڈ بنانا کیوں کہ آپ سے ہر جگہ پھر یہ ہی مانگا جاتا ہے اب شناختی کارڈ بنانا اتنا آسان نہیں میں شام کے تقریباً ساتھ بجے اپنے دفتر سے نکلتا ہوں اور قریب ہی سیمینس  چورنگی سائٹ ایریا کراچی میں ایک نادرا کا میگا سینٹر ہے، کہا تو یہی جاتا ہے کہ میگا سینٹر ہے 24 گھنٹے کھلا ہے عوام کےلئے سہولت وغیرہ وغیرہ پر میں جب وہا اپنے کارڈ کےلئے جاتا ہوں تو ایک لمبی سی لائن دیکھ کر پہلے تو ارادہ کیا کہ واپس چلتا ہوں پھر سوچا آج نہیں تو کل بنوانا تو ہے ایک گھنٹے تک نمبر بھی آجائے گا، پر وہاں دیکھا تو ایک الگ ہی ماحول تھا صرف وہی حضرات اندر جا رہے تھے جن کی کوئی اندر جان پہچان تھی اور دوسرے وہاں میں نے ایک اور چیز دیکھی اندر سے کچھ سویپر ٹوکن لیکر آتے اور یہاں آکر بھیجتا پھر لوگ ان سے ٹوکن لیکر گارڈ کو ٹوکن دیکھا کر اندر چلے جاتے یہ بھی ایک بہت برا مافیا ایسی جگہوں پر موجود ہوتا ہے، گارڈ حضرات کہے رہے تھے کہ 10 افراد کو جانے دیا جا رہا ہے پر وہا پر ہر گھنٹے میں 3 یا 4 افراد کو جانے دیا جا رہا تھا پھر پورے چار گھنٹے بعد رات گیارہ بجے نادرا میگا سینٹر کے باہر لائن میں کھڑے ہونے کے بعد اندر جانے کا موقع ملا تو وہاں ٹوکن لینے کے بعد معلوم ہوا کے اب یہاں پر 3 سے 4 گھنٹے اور لگنے ہیں کیوں کہ وہاں کائونٹر تو 10 سے اوپر تھے پر ورکنگ میں صرف 2 تھے اب سوال یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے میگا سینٹر میں صرف دو بندے رکھے گئے ہیں؟ یا سٹاف تو موجود ہے پر صرف تنخواہیں لینے کےلئے یہاں بندہ پہلے اپنا پورا دن انتظار کرے پھر جا کر اسکو ٹوکن ملتا ہے اور پھر اپنے ٹوکن کا انتظار کریں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے ٹوکن کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں پر ہزاروں لوگوں کی خدمت کےلئے صرف دو لوگ موجود اور تنخواہیں پورا اسٹاف اٹھا رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں نا ان کو کوئی بات کرنے کی تمیز ہوتی ہے نا کسی کا خیال، وہ چاھتے ہیں بس کسی نا کسی طریقے سے جتنے پیسہ ہو سکے کما لیا جائے۔ نادرا میگا سینٹر کے باہر ایک بزرگ انکل کو دیکھا بہت غصے میں تھے جب پوچھا تو بولا صبح 8 بجے کا آیا ہوں اور انکو کہا بھی مجھے معلومات لینے دو پر گارڈز نے جانے نہیں دیا ابھی جب میرا نمبر آیا تو بولا فلاں چیز نہیں ہے تو کام نہیں ہوگا یہ بھی لیکر آئیے، مطلب بندہ صبح 8 سے شام 7:30 تک انتظار کرے صرف اور صرف معلومات لینے کے لیے اور ان گارڈز کو کہو کہ معلومات لینے ہے تو وہ آپ کو اپنے دوسرے گارڈ کی طرف اشارہ کرے گا اور کہے گا یہ معلومات فراہم کر رہا ہے میں نے ان سے پوچھا یار نارمل کارڈ کی کیا فیس ہے وہ کہنے لگا بھائی اندر جائو گے تو پتا چل جائے گا مختلف فیس ہیں مطلب اتنی زیادہ معلومات دے دی کہ پھر کبھی ضرورت ہی نا پرے، پھر وہاں لوگ مجبور ہوکر کہتے ہیں اس سے اچھا تھا ہم آزاد نا ہوتے یا پاکستان نہیں بنتا وغیرہ وغیرہ، یہ محکمہ خود عوام کو مجبور کرتے ہیں کہ ہم انکو ہمارے پیارے پاکستان کو برا بھلا کہیں، ہمارے سرکاری دفاتر کے حصول و ضوابط کو بہتر کرنے کےلئے ہماری حکومت کو نادرا ڈپارٹمنٹ کو اور حکومت پاکستان کو سخت توجہ کی ضرورت ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )

  • سیمی فائنل لائن اپ مکمل  تحریر غلام مرتضی

    عرب امارات میں جاری ساتواں t20عالمی کپ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ سپر 12 مرحلے کے اختتام پر  4 ٹیمز نے   سیمی فائنل کےلئے جگہ بنا لی ہے ۔گروپ Aسے انگلینڈ اور آسٹریلیا  جبکہ گروپ Bسے پاکستان اور نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل کےلئے کوالیفائی کرلیا ہے ۔ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔

    پہلا سیمی فائنل انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان 10نومبر کو ابوظہبی میں کھیلا جائے گا ۔انگلینڈ اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست رہا ۔انگلینڈ کو اپنے آخری گروپ میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں   شکست ہوئی تھی  دوسری طرف نیوزی لینڈ 8 پوائنٹس کے ساتھ گروپ بی میں دوسرے نمبر پر رہا ،نیوزی لینڈ کو  پاکستان کیخلاف شکست نصیب ہوئی تھی ۔

    دونوں ٹیمیں  t20عالمی میں پانچ بار پنجا آزما ہوئیں، 3 بار انگلینڈ اور 2بار فتح نیوزی لینڈ کا مقدر بنی
    دونوں ٹیمیں t20 میں مجموعی طور پر  20 بار آمنا سامنا ہوا 13 میچز میں انگلینڈ اور 7میچز میں نیوزی لینڈ  کامیاب رہا۔ نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل 467 رنز کے ساتھ ٹاپ پر ہیں جبکہ انگلش کپتان مورگن 424 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ۔ اس ایڈیشن میں جوز بٹلر 100بنانے  والے واحد بلے باز ہیں

    دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے  درمیان 11نومبر  کو دوبئی میں کھیلا جائے گا ۔آسٹریلیا اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمر پر رہا جبکہ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔

    پاکستان اور آسٹریلیا t20 عالمی کپ میں  6بار  پنجا آزما ہوئے۔ دونوں ٹیمز  نے 3،3میچز  جیتے ہیں
    2010 کے ایڈیشن میں بھی دونوں ٹیمیں  سیمی فائنل میں  ٹکرا چکی ہیں  اس میچ میں مائک ہسی نے  آخری اور میں سعید اجمل کو 4چھکے لگا کر  پاکستانیوں کی ہنسی  چھین  لی تھی
    دونوں ٹیمیں t20  میں 22مرتبہ پنجا آزما ہوئیں  13 مرتبہ فتح پاکستان کے حصہ میں  آئی جبکہ 9 بار جیت آسٹریلیا کا مقدر بنی ۔

    آسٹریلیا کی طرف سے ڈیوڈ وارنر، مچل مارش، کپتان ارون فنچ، سٹیو سمتھ لمبی باری کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔گلین میگزویل اس  ٹورنامنٹ میں آوٹ آف فارم ہیں  ۔ آسٹریلیا کے پاس زبردست باولنگ اٹیک ہے جو کسی بھی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا سکتی ہے ۔ جوش ہیزلے وڈ،پیٹ کمنز،مچل سٹارک ،ایڈم  زمپا باولنگ کے شعبے میں زبردست پرفارم کررہے ہیں اور فیلڈرز بھرپور ساتھ دے رہے ہیں

    دوسری طرف پاکستانی ٹیم نے ہر شعبے میں  نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔بابر اعظم اور رضوان نے اسی عالمی کپ میں  بھارت کے خلاف 152 رنز کی اوپننگ  شراکت داری قائم کرکے عالمی ریکارڈ بنایا، پاکستانی کپتان بابر اعظم زبردست فارم میں ہیں  اسی عالمی کپ میں 4بار 50 رنز  یا اس ذیادہ  بنا کر میتھیو ہیڈن اور ویراٹ کوہلی  کا ریکارڈ  برابر کردیا ہے۔  بابر اعظم اس وقت t20پر راج کررہے ہیں  اس وقت دنیائے کرکٹ کے نمبر 1بلے باز ہیں  ۔دوسری طرف وکٹ کیپر بلے بھی زبردست فارم میں ہیں  مڈل آرڈر  میں  تجربہ کار   محمد حفیظ، شعیب ملک، بھر پور  فارم میں ہیں شعیب ملک نے اسکاٹ لینڈ کے 18 گیندوں پر 54رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی  ۔شعیب ملک نے  اس عالمی کپ میں تیز ترین 50 رنز بنانے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا ہے ۔جارحانہ مزاج سے بیٹنگ کرنے والے آصف علی  ایک ہی اور میں میچ کا نقشہ تبدیل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں  ۔اس کا عملی مظاہرہ پہلے نیوزی لینڈ  پھر افغانستان کے خلاف  ایک ہی اور میں 4چھکے لگا کر فتح افغانستان کے جبڑے سے چھین لی تھی ، فخر زمان کو بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے پاس  زبردست  گیندباز موجود ہیں جوکہ    مضبوط ترین بیٹنگ لائن کے پر خچے  اڑا سکتے ہیں  شاہین آفریدی، حارث راوف، حسن علی، عماد وسیم ،شاداب خان اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔

    بابر اعظم پانچ کھیل 264 کے ساتھ سرفہرست ہیں  انگلیڈ کے وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر 240 کے ساتھ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں محمد رضوان 214 رنز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں
    سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو ہرانے کیلئے پاکستان کو کھیل کے تینوں شعبوں میں  اعلی  کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔پوری قوم کی دعائیں ٹیم پاکستان کے ساتھ ہیں
    گرین شرٹس  میدان میں سرخرو ہونگے  پاکستانی شاہینز کینگروز کا شکار کرنے کےلئے بالکل تیار ہیں

    @__GHulamMurtaza

  • فیصلہ پارٹ نمبر آخری 6 تحریر سکندر علی 

    جارج نے ایسے منہ بنایا جیسے اسے باپ کی بات پر اعتماد نہ ہو۔ اس نے جارج کی طرف دیکھ کر سر ہلایا جیسے اپنی بات

    کی سچائی پر اصرار کر رہا ہو۔

    کتنی مزے کی بات ہے کہ آج تم میرے پاس آئے، یہ پوچھے کہ کیا دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں

    لکھوں ۔ بیوقوف لڑکے، وہ یہ بات پہلے سے جانتا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔ میں اسے خط لکھتا رہا ہوں کیوں کہ تم میرا لکھنے

    کا سامان مجھ سے چھینا بھول گئے تھے۔ اسی لیے تو اتنے برسوں سے وہ یہاں نہیں آیا ۔ وہ ان باتوں کو تم سے بھی کئی ہزار گنا

    بہتر طریقے سے جانتا ہے۔ اپنے بائیں ہاتھ سے وہ تمھارے خطوں کو پڑھے بغیر مر کر دیتا ہے۔ اس کی دائیں ہاتھ میں

    میرے خط ہوتے ہیں جنھیں وہ پڑھتا ہے ۔”

    جوش جذبات میں اس کے باپ نے اپنا بازو سر کے اوپر جھلایا۔” وہ ہر بات تم سے ہزار گنا بہتر طرح سے جانتا

    ہے۔ وہ چلایا۔

    دس ہزار گنا بہتر جارج نے اپنے باپ کے احمقانہ پن سے مزہ لیتے ہوئے کہا۔

    برسوں میں نے انتظار کیا کہ تم ایسا کوئی سوال لے کر میرے پاس آو کیا تم سمجھتے ہو کہ مجھے کسی اور بات کی پرواو

    ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں میں اخبار پڑھتا رہتا ہوں؟ دیکھ لو

    ، اس نے جارج کی طرف اخبار کا ایک صفی اچھالا

    جیسے وہ کسی طور اپنے ساتھ ہی بستر تک لے آیا تھا۔ ایک پرانا اخبار جس کا نام جارج کے لیے بالکل غیر اجنبی تھا۔

    بڑے ہونے میں کتنے سال اور لو گے تمھاری ماں اس انتظار میں مر گئی ۔ اسے یہ خوشی کا دن دیکھنا نصیب نہیں

    ہوا تمھارا دوست روس میں خراب ہورہا ہے ۔ حتی کہ تین سال پہلے وہ اتنا زرد تھا کہ چھینک دیئے جانے کے قابل، اور

    جہاں تک میرا تعلق ہے ہم جانتے ہو کی حالت میں ہوں ۔ بیردیکھنے کے لیے تمھارے پاس آنکھیں بھی ہیں ۔

    تو آپ یہاں لیٹے میرا انتظار کرتے رہتے تھے ۔’ جار چلایا۔

    غیر دوستانہ لہجے میں اس کے باپ نے افسوس کے ساتھ کہا : میرے خیال میں یہ بات تم بہت پہلے کہہ دینا چاہتے

    ہے لیکن اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، پھر اونچی آواز میں بولا اس لیے کہ اب تم جانتے ہو تمھارے اردگرد دنیا میں

    اور کیا کچھ ہے۔ اب تک تمھیں صرف اپن کریں۔ ایک معصوم بچہ ہاں، یہی ہوتی ، یہی ہی ہے لیکن اس سے بھی بڑا یہ

    ہے کہ تم ایک شیطان صفت انسان ہو اور اس لیے جھلو

    ، میں تمھیں ڈوب کر مر جانے کی سزاسناتا ہوں ۔

    جارج نے محسوس کیا کہ اسے کمرے سے باہر دھکیل دیا گیا ہو۔ جس دھماکہ خیز آواز کے ساتھ اس کا باپ پچھے کمرے میں

    اپنے بستر پرگرا تھا وہ باہر کرتے ہوئے اس کی کانوں میں گونج رہی تھی۔ زینے پر وہ بھاگتا ہوا نیچے اترا جیسے کوئی نشیب ہو وہاں

    اس کی ٹر تھیٹر صفائی کرنے والی عورت سے ہوئی جو پچھلی رات کے بعد سے اب اس کے کمرے میں صفائی کرنے آئی تھی ۔

    د خدایا وہ چینی اور اپنا چہرہ ایپرن میں چھپا لیالیکن وہ تیزی سے آگے نکل گیا۔ صدر دروازے سے نکل کر وہ بھاگا،

    سڑک پر دریا کی طرف بڑھتے ہوئے۔ وہ شئے کو یوں زور سے پڑے ہوئے تھا جیسے کوئی بھوکا آدی خوراک کوٹھی میں

    دبائے ہو۔ وہ جنگل کو پلا نگا جمناسک کے ایک غیر معمولی باہر کی طرح جیسا کہ وہ اپنی نوجوانی میں تھا، اپنے والدین کا

    فتار کمزور ہوتی ہوئی گرفت کے ساتور های تک خشگل کو پڑھے ہوئے تھا، جب اس نے جنگلوں کے درمیان میں سے

    ایک بس کو

    آتے دیکھا جو آسانی سے اس کے گرنے کے شور کور با لے گی ۔ وہ خاموی سے اور عزیز والدہ کی ، میں نے ہمیشہ

    آپ سے محبت کی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود اور پھر خودکو پنچ گرالیا۔

    اس لیے پل پر سے ٹریفک کا غیرفتم سیلاب گزررہا تھا۔

    ختم شد

  • اولاد کی تربیت کیسے کریں   تحریر: فضیلت اجالہ 

    اولاد کی تربیت کیسے کریں  تحریر: فضیلت اجالہ 

    آپ میں سے اکثر لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ابابیل (پرندہ) کنویں میں اپنا گھونسلہ بناتی ہے ،بچوں کو اڑان کی تربیت دینے کے لیے نا تو اس کے پاس وسیع احاطہ میسر ہوتا ہے اور نا ہی وہ اپنے بچوں کو نا کافی تربیت کے ساتھ اڑنے کی اجازت دے سکتی ہے ،کیونکہ وہ جانتی ہے کہ دوسرے پرندوں کی طرح اس کے بچوں کو گر کے سنبھلنے اور دوبارہ اڑان بھرنے کا موقع نہیں ملے گا، بلکہ اگر پہلی اڑان نا کام ہوئ تو اسکا نتیجہ موت ہوگا۔ بچوں کو اس درد ناک موت سے بچانے کے لیئے ابابیل تربیت کی یہ مشقیں بھی اپنی زات پہ کرتی ہے ،بچوں کی ولادت سے پہلے جو ابابیل دن میں 25 اڑانیں بھرتی تھی بچوں کی ولادت کے بعد وہ اپنی اڑانوں کی تعداد تین گنا بڑھا کر 75 کر دیتی ہے ،اور یوں ایک مکمل دن میں دونوں والدین 150 اڑانیں بھرتیں ہیں جس سے بچوں کے دل میں یہ عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے کہ یہاں سے اڑ کہ سیدھا باہر جانا ہے کیونکہ بچے انسان کے ہو یا حیوان کہ وہ وہی عادات و انداز اپناتے ہیں جو والدین کو کرتے دیکھتے ہیں ۔اسی طرح ہمارے بچے بھی کل کو وہی کریں گے جو آج ہم انہیں اپنے عمل سے سکھائیں گے ۔

    اچھی اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے اور اچھی اولاد اچھی تربیت سے بنتی ہے،

    بچے کی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے کیونکہ ماں کی گود بچے کے لیئے پہلی درسگاہ ہوتی ہے ،بچوں کو اسکول ،کالج یا مدرسہ بھیج کر آپ اسکی تربیت سے بری الزماں نہیں ہو سکتے ،اسے نمازی،پرہیزگار ،سچا اور اچھا انسان نہیں بنا سکتے۔

    اگر ہمیں اپنے بچوں کو نمازی بنانا ہے تو اسکے لیئے سختی کرنا یا زبردستی مسجد بھیجنا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں انہیں نماز پڑھ کے دکھانا ہے انکے لیئے ایک مثال بننا ہے کہ نماز ہر کام سے ضروری ہے ۔

    بچوں کے سامنے چھوٹے چھوٹے سچ بولنے کی پریکٹس کریں ۔

    بچوں کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں بلکہ اللہ سے محبت پیدا کریں ،انہیں بتائیں کہ اللہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن جس طرح کوئ بھی غلط کام کرنے پر ہم آپ سے ناراض ہو سکتے ہیں بلکل اسی طرح اللہ تعالی بھی ناراض ہو جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ اللہ پاک انتہائ رحیم و کریم ہیں اگر تم ان کے سامنے سچ بولو گے اپنے گناہ پہ شرمسار ہو گے تو وہ آپ کو معاف کر دیں گے، یقین کیجیئے آپکا بچہ سچ بولنے کا عادی ہوتا جائے گا ۔

    سارے دن کے بعد رات سونے سے پہلے کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں ان سے دن بھر ہونے والے واقعات کے متعلق پوچھیں اس سے آپ کافی حد تک اپنے بچے کی سر گرمیںوں سے آگاہ رہیں گے ،بچوں سے تمام دن میں ملنے والی کوئ سی تین نعمتوں کے باریں میں پوچھیں تاکہ ان میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے متعلق احساس شکر گزاری پیدا ہو۔

    بچوں کو ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں جس میں وہ دن بھر ہونے والے اچھے اور غلط کام لکھیں ،اس سے ان میں اپنی کوتاہیوں کو قبول کرنے کا اور انہیں سدھارنے کا وصف پیدا ہوگا ۔

    بچوں کو زرا زرا سی بات پر روک ٹوک نا کریں ،دینی یا دنیاوی جو بھی معاملات ہوں کبھی بھی بچوں سے بہت زیادہ پرفیکشن کا مطالبہ نہ کریں،خاص کر عبادات کے سلسلے میں بہت زیادہ حدود و قیود نا لگائیں کیونکہ یہ باتیں اسے دین سے متنفر کر دیں گی ،پہلے بچے کو اس کام کا یا عبادت کا عادی بنائیں ،جب اس کی عادت پختہ ہو جائے گی ِتو وہ اپنا تجزیہ خود کرے گا۔جب سکول میں تمام سلیبس ایک ساتھ نہیں پڑھایا جاتا تو ہم سارا دین ،سارے ادب و آداب اسے ایک ساتھ کیسے پڑھا سکتے ہیں ۔

    آج کے فتنہ پرور دور میں جب قدم قدم پہ بہکنے کا سامان موجود ہے تو بحیثیت والدین آپ کی ڈیوٹی مزید سخت ہو جاتی ہے ،آپ انہیں برائ سے دور نہیں رکھ سکتے لیکن برائ اختیار کرنے سے روک سکتے ہیں ،لیپ ٹاپ ،موبائل نا دینا مسلے کا حل نہیں ہے آج کے دور میں ان چیزوں تک رسائ مشکل نہیں،آپکا کام ان کے دل میں حرام اور حلال کا فرق واضح کر دینا ہے ،ان کہ اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے پھر وہ خود ان چیزوں سے دوری اختیار کریں گے جن کی اسلام میں ممانعت ہے ۔

    بچے میں یہ احساس پیدا کیجیئے کہ اس کا ہر عمل اللہ اور اس کے درمیان ہے اور وہ ہر عمل کے لیئے خالص اللہ کے آگے جواب دہ ہیں ،جب وہ اس بات کو سمجھ لے گا تو پھر دنیا کہ ڈر سے کوئ کام چھپ کر نہیں کرے گا بلکہ وہ اللہ کے ڈر سے کوئ غلط کام کرے گا ہی نہیں ۔

    یاد رکھیئے قانون قدرت ہے کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ،اس کےقلب میں اللہ سے لگاؤ کا شعلہ ٹمٹا رہا ہوتا ہے 

    ہمیں اس شعلے کو جلا دے کر مشعل بنانے کی ضرورت ہے ۔چھوٹے بچے کی پرورش کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ کہ نرم و نازک پودے کی کانٹ چھانٹ کرنا ،معاشرے میں نمو پاتی مزہب سے دوری اور نسل نوجواں کو بے راہ روی کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیئے دیا بننے کی کوشش کیجیئے اپنی اور دوسروں کی اولاد کے لیئے صراط مستقیم کی دعا ضرور کیجیئے ۔

    @_Ujala_R