Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏آخر پٹرول اور ڈالر کی اتنی اونچی اڑان کیوں؟  تحریر: چودھری عرفان رانا

    ‏آخر پٹرول اور ڈالر کی اتنی اونچی اڑان کیوں؟ تحریر: چودھری عرفان رانا

    گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر دو چیزیں بہت زیادہ گردش کررہی ہے، جن میں سے ایک پٹرول اور دوسرا ہے ڈالر، لفظ پیٹرولیم لاطینی زبان کا لفظ ہے جس میں پیٹرا کے معنی چٹان اور اولیم کے معنی تیل کے ہیں، یعنی چٹانوں سے حاصل والی تیل، اور یہی تیل کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے تیل کو "کالا سونا” بھی کہا جاتا ہے پاکستان اپنے ضرورت کا 70 فیصد سے زائد تیل درآمد کرتا ہے، حکومت نے گزشتہ چند ماہ سے  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کافی حد تک اضافہ کیا، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا، ہر کوئی حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کافی پریشان ہے،ایسے میں جب ملک میں شرح مہنگائی پہلی ہی 11 فیصد سے تجاوز کر گئی، اس اضافے سے عوام پر کافی بوجھ بڑھ گیا ہے اور عوام ایک کمر توڑ مہنگائی کے نیچے دب گیا ہے، اگر ہم پٹرول کی بنیادی قیمت اور ان پر لگے ٹیکسز پر نظر دوڑائیں تو اس وقت ملک میں پٹرول کی قیمت 123.3 روپے ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی 5.62 اور سیلز ٹیکس 11.76 ہے یعنی کل ٹیکس 17.38 اور پٹرول کی بنیادی قیمت 105.92 ہے، اس طرح کل بنیادی قیمت 123.3 روپے بنتا ہے، ن لیگ کی حکومت میں یہ ٹیکس کی شرح 52 فیصد تھا، کسی بھی ملک کی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کی حساب سے طے کرتی ہیں، گزشتہ سال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کافی گر چکی تھی، جس کی وجہ سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی جنگ قرار دے دی گئی، یاد رہے سعودی عرب تیل نکالنے پر سب سے کم خرچ کرتا ہے اس لیے اس نے روس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے عالمی منڈی میں ضرورت سے زیادہ تیل کی رسد شروع کی، جس کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں کافی گر گئی، جس کا زیادہ فائدہ چین کو ہوا کیونکہ چین تیل درآمد کرنیوالا دنیا کا پانچواں ملک ہے، تاہم روس کی معیشت پر تیل کی اتار چڑھاؤ کا زیادہ اثر نہیں ہوتا، 

    اب آتے ہیں ڈالر کی اونچی اڑان پر، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ڈالر کی اونچی اڑان ہے دنیا میں زیادہ تر تجارت ڈالر اور سونے میں ہوتا ہے، ہر ملک میں اوپن مارکیٹ ڈالر کی قیمت متعین کرتا ہے، جو قومی ریزرو اور ڈالر کی رسد اور کمی کو دیکھ کر متعین کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں ڈالر کا ریٹ  دو طریقوں سے متعین کیا جاتا ہے جسمیں سے ایک انٹر بینک اور دوسرا اوپن مارکیٹ ہے، انٹر بینک اپنے انڈر تمام بینکوں کیلئے ڈالر کا ریٹ متعین کرتا ہے، اور اسی طریقے سے بینکوں کے درمیان ڈالر کی خریدوفروخت ہوتی ہے، دوسرا طریقہ اوپن مارکیٹ ہے جہاں عام لوگوں کیلئے ڈالر کا ریٹ متعین کیا جاتا ہے، اس وقت پاکستان میں ڈالر کی قیمت 168 روپے کے آس پاس ہے،ڈالر کی قیمت میں اس اضافے سے بیرونی قرضوں میں 1170 ارب روپے کا اضافہ ہوا، اس طرح ڈالر کے بڑھنے سے شرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے، ڈالر کے معاملے میں سٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ کیلئے اپنے ہدایات جاری کر سکتا ہے، لیکن سٹیٹ بینک حکومت کے پابند نہیں ہے, ڈالرکی ریٹ تب بڑھتا ہے جب ڈالرکی رسد کم اور ڈیمانڈ زیادہ ہوجاتا ہے، اس کی عمدہ مثال میلے میں ٹماٹر کی قیمت ہے، جب میلے میں ٹماٹر کم ہوجاتی ہے تو ریٹ زیادہ ہوجاتا ہے، اور جب باہر سے زیادہ ٹماٹر کی سپلائی میلے میں آجائیں تو پھر ٹماٹر کی قیمت کم ہوجاتی ہے، یہی مثال ڈالر کی بھی ہے، جب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کم ہو جاتے ہیں تو اس کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے سٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ میں ڈالر بھیجتے ہیں،جس سے ڈالر کی قیمت کنٹرول ہوجاتی ہے  لیکن حکومت کے پاس ڈالر کا سٹاک جسے  فارن ریزرو کہا جاتا ہے کم پڑ جاتے ہیں، یہی طریقہ ڈالر کی مصنوعی قیمت برقرار رکھنا بھی کہلاتی ہے، یاد رہے اسحاق ڈار پر بھی یہی الزام لگایا گیا تھا، ڈالر کے ریٹ بڑھنے کی ایک وجہ افغانستان کی صورتحال ہے، جن کے ساتھ ہمارے برآمدات رک گئے ہیں اور یہاں کے ڈالر وہاں منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں، دوسری وجہ سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے مطابق اس سال پاکستان کا 20 ارب ڈالر قرض کی واپسی ہے، اس لیے کرنسی ڈیلر ڈالر کی کمی اور قیمت بڑھنے سے بچنے کیلئے پہلے سے ڈالر خرید لیتے ہیں، تیسری وجہ درآمدات ہے جن میں کرونا ویکسین، گندم، چینی کپاس ، تیل اور مشینری جیسی درآمدی اشیاء شامل ہیں،اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے ماہ پاکستان کی درآمدات 4 بلین ڈالرز سے بڑھ کر 6 بلین ڈالرز ریکارڈ کی گئی ہے، یاد رہے سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے ایک انٹرویو میں ڈالر اور شرح سود بڑھانے کی اصل وجہ درآمدات کو کنٹرول کرنا قرار دیا تھا،  چوتھی وجہ ڈالر کی بلیک مارکیٹ ہے، پانچویں وجہ ذخیرہ اندوزی ہے، چھٹی وجہ 30 جون کو ایمنسٹی اسکیم کی بندش ہے، اس اسکیم کے ذریعے بھی زیادہ ڈالر پاکستان منتقل ہوئے، یہ ہے کچھ وجوہات، پٹرول اور ڈالر کی ڈالر کی اونچی اڑان کی،یہ سارے وجوہات مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں

    Chaudhry Irfan Rana Twitter

    ‎@Ipashtune

  • عمران خان کے ساتھ میرا دس نکاتی اختلاف    تحریر: احسان الحق

    عمران خان کے ساتھ میرا دس نکاتی اختلاف  تحریر: احسان الحق

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان نے قوم میں ایک نئی سوچ اور امید پیدا کی ہے. عمران کی انتخابی مہمات میں کی گئی تقاریر، مخالفین پر لگائے گئے الزامات اور نئے پاکستان بنانے کے لئے نعروں اور وعدوں سے پاکستانیوں بالخصوص نوجوانوں میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی. عمران خان کے نعرے اور وعدے اس قدر خوبصورت اور پرکشش تھے کہ پاکستانیوں کی خاصی تعداد سیاسی لحاظ سے عمران خان کی طرف جھک گئی. انتخابی نعروں اور وعدوں کی بنا پر پاکستانیوں نے عمران خان سے غیر معمولی توقعات وابستہ کر لیں. عمران خان کی حکومت چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور ابھی تک عمران خان قوم کی توقعات کے عین مطابق پورا نہیں اترے ماسوائے کچھ شعبوں اور معاملات میں.

    میرے خیال میں عمران خان کے نعروں اور وعدوں کو دو مختلف زاویوں سے دیکھنا چاہئے. ایسے معاملات جن کا تعلق اقتصادیات اور معاشیات سے ہے جیسا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا وغیرہ اور کچھ انتظامی حوالے سے وعدے تھے جیسا کہ مختلف اصلاحات وغیرہ. پاکستان ایک غریب، ترقی پذیر اور قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک ہے. دوسرا سابقہ حکومتوں کے معیشت مخالف معاہدوں، منصوبوں اور قرضوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا، بجلی مہنگی کرنا، ڈالر کا اوپر جانا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا جیسی مجبوریاں سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں اور ان پر مجھے ذاتی طور پر کوئی تشویش نہیں. وعدوں اور نعروں کی دوسری قسم جس کا تعلق انتظام، حکومت، احتساب، آئین سازی، مہنگائی اور اصلاحات سے ہے، ان پر مجھے بہت تشویش ہے کیوں کہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں پیسہ خرچ نہیں ہوتا. جیسا کہ پولیس اصلاحات، اس میں قومی خزانے پر کتنا بوجھ پڑے گا؟ میرے خیال میں کچھ بھی نہیں، مفت میں پولیس اصلاحات ہو جائیں گی.

    مجھے عمران خان کے ساتھ جس 10 نکاتی اختلاف ہے، ان دس نکات کا خزانے اور بجٹ سے تقریباً کوئی تعلق نہیں.

    عمران خان نے سو دنوں میں مختلف کام کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے سو دنوں کا حکومتی ایجنڈا پیش کیا تھا. ان سو دنوں میں مختلف کام کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور ان میں ایک وعدہ تھا سرائیکی صوبے کا قیام. آج 1100 دن گزر جانے کے باوجود بھی سرائیکی صوبے کا قیام مکمل نہیں ہوا حالانکہ یہ کام سو دنوں میں کرنے کا وعدہ تھا، خیر ہم تو اس وقت بھی جانتے تھے کہ یہ کام سو دنوں میں کیسے ہو سکتا ہے. صوبے کا قیام ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے. کچھ سیکرٹریوں کی تعیناتی کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جا سکا. اگر حکومت غیر معمولی تیزی اور کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنے دور حکومت میں سرائیکی صوبے کا قیام مکمل کر جائے تو پھر بھی انتخابی حوالے سے الیکشن کمیشن کا کام باقی رہ جائے گا. جس میں صوبائی اور وفاقی حلقہ بندیوں سمیت ایوان بالا کی نشستوں پر بھی کام کرنا پڑے گا. دس نکات میں یہ پہلا نکتہ ہے جس پر اعتراض ہے کیوں کہ اس کا تعلق بھی بہت بڑے بجٹ سے نہیں.

    ماڈل ٹاؤن واقعہ کے ردعمل میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ حکومت میں آتے ہی پولیس کو سیاست دانوں، جاگیرداروں اور حکومتی ارکان کے عمل دخل اور اثر سے پاک کریں گے. پولیس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی. پولیس کو عوام کا خادم بنایا جائے گا. پولیس اصلاحات ابھی تک نہیں ہو سکیں بلکہ مخالفین کا الزام ہے کہ شہباز شریف دور میں پنجاب پولیس کی کارکردگی نسبتاً بہتر تھی. پولیس اصلاحات کرنے کے لئے بھی کسی اضافی رقم کی ضرورت نہیں، مطلب محض انتظامی معاملہ ہے مگر ابھی تک عمران خان اور پنجاب حکومت اصلاحات کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے. عمران خان مختصر کابینہ رکھنے کا بھی وعدہ کرکے آئے ہیں. وہ اکثر یورپ بالخصوص برطانیہ کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہتے تھے کہ 15 بندوں کی کابینہ ہوگی. مگر اب وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کے مشیر اور وزیر مملکت کی تعداد نصف سینکڑے کے نزدیک ہوگی.

    سب سے مقبول نعرہ اور پرکشش اور متاثر کن وعدہ احتساب کا وعدہ تھا. عمران خان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے بہت سارے لوگوں سے پیسہ نکلوا کر قومی خزانے میں جمع کروانے کا وعدہ کرتے تھے. سیاسی معاملات اور وجوہات کی بنا پر کچھ لوگوں کا یا کسی سطح تک احتساب ضرور ہوا ہے مگر جس قدر توقعات وابستہ تھیں ویسا احتساب ابھی تک دیکھنے میں نظر نہیں آیا. متحدہ حزب اختلاف اور حکومت کے کچھ لوگ احتساب کے ریڈار میں ضرور آئے ہیں مگر مقصد سزا دینا نہیں بلکہ قومی پیسہ وصول کر کے واپس قومی خزانے میں جمع کروانا ہے.

    مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے. موجودہ حکومت میں مہنگائی سو فیصد سے تین سو فیصد تک بڑھ چکی ہے. معاشی بدحالی عروج پر ہے. موجودہ حکومت کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ دوسرا سال کورونا میں گزر رہا ہے مگر مجموعی طور پر حکومت مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے. غریب عوام کی قوت خرید جواب دے رہی ہے. اشیائے خوردونوش میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے. مہنگائی یا قیمتوں پر قابو پانا صرف جانچ پڑتال اور سزا جزا سے ہو سکتا ہے. ذخیرہ اندوزوں اور خود ساختہ قیمتوں میں اضافہ کرنے والے مافیا کو راہ راست پر لانے کے لئے بجٹ کی ضرورت نہیں. یہ صرف انتظامی امر ہے.

    عمران خان اور موجودہ حکومت کے ساتھ اہم ترین اور شدید ترین اختلافات میں سے ایک اختلاف بے حیائی، فحاشی اور اسلام دشمنی کے متعلق ہے. موجودہ حکومت میں فحاشی اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. مارچ 2018 میں پہلی بار پاکستان میں لبرلز اور اسلام دشمن طلاق یافتہ خواتین نے عورت مارچ منایا. یہ ن لیگ کے دور حکومت میں اور عام انتخابات سے پہلے کی بات ہے. چند درجن آنٹیوں نے شرعی اقدار اور چادر چاردیواری کے خلاف اور عورت کی آزادی کے نام پر متنازعہ جلوس نکالا. اگلے سال 2019 میں ہونے والے عورت مارچ نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے. خواتین کی تعداد، مردوں اور میڈیا کے لوگوں کی شرکت، سوشل میڈیا پر کوریج، انتہائی نازیبا اور شرمناک پلے کارڈز اور نعروں کے لحاظ یہ عورت مارچ انتہائی متنازعہ تھا. مبینہ طور پر ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری ہیں. ہر آئندہ عورت مارچ اسلام دشمنی میں، شرعی اقدار کے مزاق اڑانے میں اور فحش نعروں کے حوالے سے زیادہ متنازعہ اور شرمناک ہوتا ہے. اسلام، اخلاقیات اور شرم وحیا کی ساری حدیں تو رواں سال 2021 کے عورت مارچ میں عبور کی گئیں جب مبینہ طور گستاخانہ پلے کارڈز اور ہم جنس پرستی کی عالمی تنظیم کا جھنڈا لہرایا گیا مگر آج تک عمران خان اور اس کی حکومت اس پر ایسے خاموش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں. مجھے زیادہ اعتراض اس بات پر ہے کہ اس طرح کی تمام اسلام اور اخلاق دشمن سرگرمیوں کی پشت پناہی وزارت انسانی حقوق کر رہی ہے.

    عمران خان نے مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگایا اور ٹھیک مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان کو چلانے کا وعدہ کیا مگر حقائق اس کے برعکس ہیں. عمران خان نے کابینہ کے لئے جن لوگوں کا انتخاب کیا وہ اکثر لبرل ہیں اور ان میں متعدد اسلام کے دشمن ہیں. ایک طرف مدینہ کی ریاست کا نعرہ دوسری طرف لبرل اور اسلام دشمن کابینہ کا انتخاب، اس بات پر بھی مجھے کافی اختلاف ہے.

    سنجیدہ ترین اعتراضات اور اختلافات میں ایک اسلام دشمن آئین سازی یا ترمیم سازی بھی ہے. موجودہ ایوان نے اسلام مخالف قانون سازی کی اور کچھ ترمیم کی. جیسا کہ گھریلو تشدد بل یا Domestic violence Bill جس میں بیوی کو شوہر کی اطاعت اور خدمت نہ کرنے کا اختیار دیا گیا، عورت چاہے تو خاوند کو جیل بھی بھیج سکتی ہے. والدین اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کر سکتے اور تربیت کے لئے ڈانٹ ڈپٹ نہیں کر سکتے. کسی بھی جرم یا غلطی پر والدین اپنی اولاد کو گھر سے نہیں نکال سکتے حالانکہ اسلام نے والد کو اجازت دی ہے کہ اگر بیٹا نافرمانی پر اتر کر باغی بن جائے تو والد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے بیٹے کو جائیداد سے عاق کر سکتا ہے.

    ان دنوں ایک اور متنازعہ مجوزہ آئینی بل زیر بحث ہے جس میں 18 سال سے کم کوئی بھی غیر مسلم شخص اسلام قبول نہیں کر سکتا اور 18 سال سے اوپر اسلام قبول کرنے والے شخص کے لئے سخت طریقہ کار بناتے ہوئے ایسی شرائط اور پیچیدگیوں کی تجویز زیر غور ہے جس سے اسلام قبول کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا جائے گا. حکومتی سطح پر اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ واقعی اس نوعیت کا بل وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس زیر غور اور زیر بحث ہے. اب یہ بھی سنا ہے کہ اس بل کو مسترد کر دیا گیا ہے.

    آخر میں سادگی اور یکساں نظام تعلیم کے وعدے ہیں. سادگی پر عمران خان نے اپنے تئیں کوشش کرتے ہوئے سادگی اختیار کی ہے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کیا. وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات اور وزیراعظم کے بیرونی دوروں پر آنے والے اخراجات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے. وفاقی کابینہ اور اراکین، صوبائی حکومت اور اراکین روایتی انداز میں اقتدار کے مزے لے رہے ہیں. بحیثیت وزیراعظم اور بحیثیت سربراہ تحریک انصاف عمران خان کو سختی سے سادگی والی بات کا عمل درآمد دوسرے ماتحت لوگوں پر بھی کروانا چاہیے.

    آخر میں یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب کے حوالے سے ہے، کچھ دن پہلے حکومت اور وزارت تعلیم کی جانب سے عملی کام دیکھنے میں نظر آیا حالانکہ یہ کام عمران خان ہنگامی بنیادوں پر کرنے کا وعدہ کر چکے تھے. حسب معمول اور حسب روایت عمران خان کے اس بہترین کام کی مخالفت کی گئی اور اس وقت مخالفت عروج پر ہے. مخالفین اور مخالفت کی متعدد وجوہات ہیں. سب سے اہم عمران خان کے ساتھ سیاسی اختلاف، دوسرا لبرلز کا گروہ جو ہمیشہ اخلاقیات کے منافی کام کرتا ہے، کچھ نجی تعلیمی ادارے بھی مخالفت کر رہے ہیں، کچھ قوم پرست طبقہ بھی اردو کے بغض میں یکساں نصاب کی مخالفت میں ہے. عمران خان اور وزارت تعلیم مخالفت اور تنقید کے بعد بیک فٹ پر چلی گئے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب والا وعدہ کب، کیسے اور کتنا پورا ہوتا ہے.

    @mian_ihsaan

  • عالمی تناظر میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت  تحریر: محمد عمران خان

    عالمی تناظر میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت تحریر: محمد عمران خان

    کسی بھی ملک کی جغرافیائی حیثیت اس کو دنیا میں ممتاز بناتی ہے۔ کیونکہ جغرافیہ ہی واحد ایسی چیز ہے جو سماجی، معاشی اور علاقائی فوائد کا مظہر ہے۔ ہر ملک کسی نہ کسی بنیاد پر اپنے جغرافیے کی اہمیت رکھتا ہے۔ 

    جنوبی ایشیاء میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان نے جب اپنے جغرافیے کے خطوط و نقوش کو دیکھا تو یقیناً یہ خداوند کریم کا ایک عظیم تحفہ تھا جو پاکستانی قوم کے حصے میں آیا۔ پاکستان کے مشرق میں روایتی حریف بھارت، مغرب میں افغانستان، شمال مشرق میں چین، شمال مغرب میں ایران اور جنوب میں بحیرہ عرب واقع ہے۔ چین کا ہمسایہ ہونا پاکستان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں کیونکہ مستقبل قریب میں چین ایک نئی سپر پاور کے طور پر ابھرنے والی ریاست ہوگا اور دنیا کے تمام فیصلے یہیں ہوں گے۔ پاکستان کے برادر ممالک ایران اور افغانستان سے تعلق کچھ اچھے نہیں رہے۔ ایران سے اکثر و بیشتر پاکستان کے خلاف بیانات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں بدامنی اور دہشتگردی کا باعث بنتی رہی ہے۔ 

    وسطی ایشیائی ممالک اور روس کو سمندر کے ایسے ساحل کی ضرورت ہے جو بارہ مہینے تجارت کے لئے موزوں ہو۔ پاکستان کے پاس کراچی اور گوادر کے شاندار ساحل موجود ہیں جو پورا سال آپریشنل رہتے ہیں۔ اسی طرح روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو تجارت کے لئے پاکستان کی بندرگاہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب روس نے 70 کی دہائی میں افغانستان پر حملہ کیا تھا تو تب بھی اس کا واحد مقصد افغانستان کو فتح کرکے پاکستان کے ساحل پر قبضہ جمانا تھا مگر پاکستانی ایجنسیوں نے بروقت ایکشن لیا اور روس کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اسی طرح افغانستان کی سمندری تجارت بھی پاکستان کی بندرگاہوں سے ہوتی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک گیس کی پیداوار سے مالامال ہیں لہٰذا پاکستان نے بھی گیس درآمد کرنے کے لیے ان ممالک کا انتخاب کیا ہے جس میں تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا شامل ہیں۔ یہ گیس پائپ لائن خطے کے ممالک کے درمیان انتشار اور دشمنی کو ختم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ 

    جب 9/11 کا واقعہ ہوا تو امریکہ کو افغانستان میں جنگ کے لیے افغانستان کے قریبی ممالک سے ہوائی اڈے درکار تھے۔ تب بھی پاکستان نے اپنے ہوائی اڈے امریکہ کو فراہم کرنے کی غلطی کی۔ مگر امریکی آج تک اڈے فراہم کرنے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے تاکہ خطے کو دہشتگردوں سے پاک کیا جاسکے۔ 

    اسی طرح چین کو سمندر کی تجارت کے لئے پاکستان کی بندرگاہوں کی ضرورت ہوئی تو پاکستان نے سی پیک جیسا منصوبہ شروع کرکے پرانی دوستی کو مزید مضبوط کرنے کا سامان کرلیا۔ سی پیک میں روس سمیت خطے کے کئی ممالک شرکت کے خواہش مند ہیں تاکہ وہ اپنی تجارت کو بڑھا سکیں۔ پاکستان نے بھی فراخدلی سے خطے کے دوست ممالک کو اس عظیم الشان منصوبے میں شامل کرنے کے سگنل دیے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد خطے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں پھنسے عالمی برادری کے سفیروں، آفیشلز اور باشندوں کو نکالنے کے لیے دن رات محنت اور جانفشانی سے کام لیتے ہوئے محفوظ طور پر ان کا انخلا مکمل کیا۔ دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح افغانستان کی عوام کے لیے پاکستان نے راشن اور ادویات باہم پہنچانے کا بندو بست کیا ہے تاکہ عوام کو انسانی ہمدردی کے تحت ہر ممکن مدد فراہم کی جاسکے۔ امریکی بھی پاکستان کے تعاون پر شکر گزار نظر آئے۔

    پاکستان کی جغرافیائی اہمیت پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ دنیا کو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا ہوگی تاکہ نیو ورلڈ آرڈر جو کہ چین ترتیب دے گا اس میں پاکستان کی حمایت کے ساتھ وہ ممالک اپنا اچھا وقار حاصل کرکے چین کی مدد کے حق دار بن سکیں

  • سعادت حسن منٹو تحریر عزیزالرحمن

    سعادت حسن منٹو تحریر عزیزالرحمن

    سعادت حسن منٹو کے بارے میں کچھ کہنا یا لکھنا میرے
    لئے بہت مشکل ہے ۔یہ تو منٹو سے محبت اور عقیدت کا تقاضا ہے کہ اس کے اظہار میں قلم اٹھانے کی جسارت کر رہاہوں ۔
    سعادت حسن اور منٹو دو الگ اورعلیحدہ قسم کی شخصیات ہیں اسے حسن اتفاق کہیے کہ خالق نے منٹو کو تخلیق کرتے وقت سعادت حسن کو بھی پیدا کر دیا۔ منٹو چونکہ ایک بہت غیر معمولی قسم کا کردار تھا اور اس کو سنبھالنے اس کا بوجھ اٹھانے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کے لئے بھی بہت ہی منفرد قسم کا فرد درکار تھا چنانچہ یہ خدمت سعادت حسن کے مقدر میں لکھ دی گئی۔
    سعادت حسن متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر کے کوچہ وکیلاں میں پیدا ہوا۔ اس کے والد پیشے کے اعتبار سے جج اور ذات کے حوالے سے کشمیری تھے۔ غلام حسن منٹو نے دوشادیاں کی تھیں۔ دوسری شادی ایک افغان خاتون سردار بیگم سے ہوئی اور اسی خاتون نے سعادت حسن کو جنم دیا۔ اس کی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد ہی غلام حسن منٹو نے ملازمت چھوڑ دی جس سے گھر کی کمزور مالی حالت پر ایک بڑے کنبے کا گزارہ کرنا کافی مشکل ہو گیا۔ اسی مشکل کے باعث سعادت حسن جس کے کندھوں پر منٹو بھی سوار تھا اسے مناسب توجہ نہ مل سکی جس کا وہ حقدار تھا۔ چنانچہ اپنے سوتیلے بھائیوں کی نسبت تعلیمی میدان میں وہ بہت پیچھے رہ گیا اور بچپن سے ہی امرتسر کے آوارہ مزاج لوگ اور پوشیدہ و پیچیدہ گلی کوچے سعادت حسن کے ہم سفر بن گئے۔ میٹرک کے امتحان میں متعدد بار ناکام ہونے کے بعد بڑی مشکل سے تھرڈ ڈویثرن میں پاس ہوا، اس کے بعد امرتسر کے ہی ایک کالج ’’ہندوسبھا‘‘میں داخلہ لیا، کچھ عرصہ فیض احمد فیض کے سامنے زانو تہہ کئے مگر جلد ہی طبیعت لکھائی پڑھائی سے اچاٹ ہو گئی اور عاشق علی فوٹو گرافر اور فضلو کمہار کی دکانیں اس کے لئے عظیم مکتب ٹھہریں۔ یہیں سے سعادت حسن کے ہمزاد منٹو نے جوا بازی اور شراب نوشی کے دھندے اختیار کئے۔ اسی اثناء ایک دوست کے کہنے پر علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں تقریباََ تین ماہ کے قیام کے بعد بیماری کے سبب کوچ کر گیا۔ اسی دوران منٹو کی مشہور اشتراکی ادیب باری علیگ سے ملاقات ہوئی جو اس وقت امرتسر سے شائع ہونے والے ایک اخبار ’’مساوات‘‘کے ایڈیٹر تھے، یاد رہے باری علیگ کا ’’’عسرت کدہ‘‘آج بھی پرانی انار کلی لاہور کے ایک مختصر سے مکان میں قائم ہے ۔
    باری علیگ کی صحبت نے منٹو کو سنجیدگی سے ادب کی طرف راغب کیا باری علیگ کے ایماء پر منٹو نے مشہور روسی تصینف’’ایک اسیر کی سرگذشت اورویرا‘‘ کے تراجم کئے جو آج بھی اپنی ہیت اور روانی بیان میں بے مثل ہیں۔ امرتسر میں سعادت حسن کی مالی بدحالی جب حد سے بڑھ گئی اور اسے چھوٹے سے شہر میں اسے کوئی چارہ اور چارہ کار دکھائی نہ دیا تو وہ دہلی چلا آیا، جہاں وہ آل انڈیا ریڈیو کے لئے پروگرام لکھا کرتا تھا۔یہیں پر اس نے ریڈیو کے لئے ڈرامے بھی لکھنا شروع کر دئیے۔ منٹو دہلی سے بھی جلد ہی اکتا گیا اور اگلی منزل سر کرنے کے لئے بمئبی کو ٹھکانہ بنا لیا۔ بمئبی منٹو کی حیات میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے اسی شہر میں رہتے ہوئے منٹو کو فلمی زندگی کے فراڈ سمجھنے کا موقع ملا۔ معروف ادیب، محقق اور نقاد اینس ناگی لکھتے ہیں کہ ممبئی میں منٹو کے شب و رزو مختلف فلم کمپنیوں میں بسر ہونے لگے، ممبئی میں قیام کے دوران منٹو کی ادبی شہرت مسلم ہو چکی تھی۔
    انیس ناگی لکھتے ہیں قیام پاکستان کے بعد منٹو کی زندگی ایک نئی کشمکش سے دوچار تھی، اس نے جہاں سے زندگی شروع کی تھی وہ اسی مقام پر کھڑا تھا۔جب وہ ممبئی گیا تو نوجوان تھا، نادار تھا، جب وہ پاکستان آیا تو مشہور تھا ،ادھیڑ عمر شروع ہونے والی تھی، وہ نادار تھا۔چند ہی برسوں میں اس کی صحت شراب اور غربت کی نذر ہو گئی۔ قیام پاکستان کے بعد منٹو نے امروز، وفاق اور احسان میں مضامین لکھنے شروع کئے۔اس کی پندرہ کتابیں شائع ہوئیں۔ فحاشی کے الزام میں اس پر تین مقدمات بھی دائر ہوئے۔ منٹو کی مالی حالت بد سے بد تر ہوتی گئی صفیہ منٹو کی بیوی اس کے عزیز واقارب منٹو کے گھر، اور اس کی تین بچیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ منٹو نے ’’ کفن‘‘ میں اپنی صور تحال کے بارے فریاد کی لیکن کوئی ادبی بورڈ یا ثقافتی ادارہ حرکت میں نہ آیا ،جسم کا زوال ،فن کا زوال،مالی زوال منٹو نرغے میں تھا۔ اس کا جواز حیات ختم ہو چکا تھا۔اس کے لئے ایک ہی راستہ تھا چنانچہ اس نے وہی راستہ اختیار کیا۔ منٹو موت کے وقت بھی خوف وہراس سے مغلوب نہیں تھا، نہ وہ اپنی مغفرت کا طلبگار تھا، اس نے نہ کوئی وصیت کی تھی نہ ہی اپنے پسماندگان کے لئے کسی بوکھلاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ جو شخص زندگی بھر بیمار رہا ہو، تنگ دستی کا شکار ہو۔ جسے اپنے ہنر کی داد نہ ملی ہو۔ جو ہمیشہ معتوب رہا ہو اور جس نے امید کے بغیر زندگی بسر کی ہو۔ اس کے لئے موت کوئی خطرہ نہیں ہے۔ منٹو کے لئے زندگی کو اپنی منطق کے مطابق بسر کرنا موت سے زیادہ تکلیف وہ عمل تھا،کیونکہ زندہ رہنے کے لئے اسے ایک پورے نظام سے متصادم ہونا تھا منٹو کی زندگی کا آغاز بھی بدترین حالات میں ہوا اس کا انجام بھی بدترین حالات میں ہوا۔ اس نے امر تسر کے کوچہ وکیلاں سے لکشمی میشن لاہور تک پہنچتے پہنچتے انسان کی پوری نفسیات کا سفر کیا، وہ اپنے لئے خود موضوع بھی تھا اور معروض بھی۔
    منٹو کے بارے دنیا میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، بہت ساری یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی سطح کے مقالمے لکھے جا چکے ہیں اور مزید تحقیق جاری ہے۔چنانچہ میں منٹو کے فن اس کی سوچ، اس کے طرز تحریر ، اسلوب یا افسانوی سے متعلق کچھ لکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا، میرے نزدیک تو وہ اُردو افسانوی ادب میں کسی بھی طور سے استاد سے کم نہیں ہے، وہ پہلا قلمکار ہے جس نے اپنے قلم سے جدید اُردو افسانے کے لئے زمین کھودی۔ اسے ہموار کیا، اسے نرم کیا، اس میں جدید افسانے کا بیج بویا اور پھر عمر بھر اس بیج سے نکلنے والی کونپلوں کو درخت بنتا دیکھتا رہا۔
    افسوس کہ وہ اس کی چھاؤں میں بیٹھ نہ سکا۔

    @The_Pindiwal

  • مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارنامے اور ایجادات تحریر: فرقان اسلم 

    مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارنامے اور ایجادات تحریر: فرقان اسلم 

    جیسا کہ انسان شروع سے ہی نت نئی چیزیں بنانے اور ان کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی جدوجہد کررہا ہے۔ ان سب ایجادات میں سائنس کا بہت اہم کردار ہے۔ اور سائنس کی ان ایجادات میں سب سے اہم کردار مسلمان سائنسدانوں کا ہے۔ اگرچہ ابھی تک بہت سی مسلمانوں کی ایجادات ایسی ہیں جو نظروں سے دور ہیں۔ حالانکہ دنیا کی مفید اور ضروری ایجادات مسلمانوں اور عربوں کی مرہون منت ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں جدید یورپ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ان میں سے بعض کی تو جدید سائنس نقل بھی نہ کرسکی اور بعض کو نقل کر کے ایجاد کاسہرا اپنے سر سجایا۔

    یورپ والوں نے عظیم مسلمان سائنسدانوں جن میں قابلِ ذکر جابر بن حیان کوگیبر، ابن رشد کو اویرو، ابن سینا کو ایوونا اورابن الہیشم کو الہیزن کہنا شروع کردیا تاکہ ان عظیم انسانوں کا مسلمان اور عرب ہونا ثابت نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا سائنس کا طالب علم خالد بن یزید، زکریا، رازی، ابن سینا، الخوارزمی، ابو ریحان البیرونی، الفارابی، ابن مسکویہ، ابن رشد، کندی، ابو محمد خوحبدی، جابر بن حیان، موسیٰ بن شاکر، البتانی، ابن الہیثم، عمر خیام، المسعودی، ابو الوفاء اور الزہراوی جیسے عظیم سائنسدانوں کے حالات زندگی اور سائنسی کارناموں سے یکسر ناواقف ہے۔ بلکہ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ ان کا نام سن کر ہمارے طلباء حیرانی سی محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ سائنس کی ترقی میں زیادہ ہاتھ یورپ کا ہی ہے۔

    مسلمانوں نے سائنسی خدمات اور انسانی خدمات کی وجہ سے بہت نام بنایا ہے۔ ان کی ایجادات نے دنیا کا رہن سہن ہی بدل دیا۔ اور دنیا کو ایک نئی سمت کی جانب گامزن کردیا۔ اس بات کا اقرار مغربی دنیا آج بھی کرتی ہے۔ 

    آج میں آپ کو مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارناموں اور اہم ایجادات کے بارے میں بتاؤں گا جن کی بدولت آج دنیا میں بہت سے کام سرانجام دیے جارہے ہیں۔ ان ایجادات کے بغیر آج کے دور میں زندگی گزارنے کا تصور کرنا بھی تقریباً ناممکن تھا۔ 

    1۔ ہسپتال

    دنیا کا پہلا ہسپتال بنانے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر جاتا ہے۔ یہ ہسپتال 872ء میں مصر کے شہر قاہرہ میں احمد بن طالون کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ اس میں طبیب اور نرسیں مریضوں کے علاج کے لیے موجود ہوتی تھیں۔ اور ساتھ ہی طالبعلموں کی ٹریننگ کے لیے ایک سینٹر بھی قائم تھا۔ یہاں پر مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔

    2۔ یونیورسٹیاں

    ڈگری دینے والی دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی بنانے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے۔859ء میں مراکش میں دنیا کی پہلی یونیورسٹی "القراویون” نے پہلی ڈگری دی تھی۔ یہ یونیورسٹی شہزادی فاطمہ الفرہی نے قائم کی تھی اور آج بھی یہاں تدریس کا عمل جاری ہے۔

    3۔ سرجری

    مسلم سائنسدان الزہراوی کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ جدید سرجری کا بانی ہے۔ انہوں نے ہی سرجری کے آلات ایجاد کیے اور آپریشن کو ممکن بنایا۔ ان کی بدولت ہی موجودہ دور میں سرجری ممکن ہوئی۔ سرجری میں آج جو بھی آلات استعمال کیے جاتے ہیں سب ان کی مرہون منت ہیں۔

    4۔ الجبرا 

    محمد ابن موسیٰ الخوارزمی وہ پہلے سائنسدان ہیں جنہوں نے حساب اور الجبرا میں فرق کیا اور الجبرا کو باقاعدہ ریاضی کی صنف کے طور پر روشناس کرایا۔ یورپ پہلی بار حساب کے اس نئے سسٹم سے بارھویں صدی میں روشناس ہوا۔ الخوارزمی کو متفقہ طور پر دنیا بھر میں "الجبرا” کا بانی مانا جاتا ہے اور لفظ الگوریتھم بھی ان کے نام سے ہی کشید کیا گیا ہے۔

    4۔ ٹوتھ برش

    نبی کریم ﷺ سے مسواک کی مبارک سنت ترویج پائی اور تمام مسلمانوں کو اپنے دانت صاف کرنے کے بارے میں کہا گیا۔ اس سے قبل انسان اپنی دانتوں کی صفائی کی طرف خاص توجہ بھی نہیں دیتا تھا۔ اسی طرح سے ٹوتھ برش کی ایجاد بھی ممکن ہوئی اور دنیا کے لوگوں کو اپنے دانت صاف کرنے کا خیال آیا۔

    5۔ شیمپو

    شیمپو دنیا میں پہلی بار ایک مسلمان نے 1759ء میں اس وقت متعارف کروایا جب اس نے برطانیہ میں ایک حمام کھولا۔ برصغیر کے شیخ دین محمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلی بار یورپ کو شیمپو سے متعار ف کروایا۔

    6۔ گٹار

    مغربی دنیا میں بہت زیادہ پسند اور بجایا جانے والا آلہ موسیقی گٹار بھی مسلمانوں کی ایجاد "لیوٹ” سے متاثر ہوکر بنایا گیا۔ لیوٹ عربوں نے تقریباًایک ہزار سال قبل ایجاد کیا تھا۔ جس سے موجودہ موسیقی کے دور کے آلات بنانے میں مدد ملی۔

    7۔ شطرنج

    دنیا بھر میں بہت زیادہ پسند کی جانے والی گیم کو ایجاد کرنے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے۔ یہ کھیل ہڑپہ اور موہنجو داڑو میں بھی کھیلی جاتی تھی لیکن وہ موجودہ کھیل سے مختلف تھی۔ مسلم سائنسدان موسیٰ الخوارزمی نے صفر کی ایجاد کے ساتھ کئی طرح کے مسائل کاخاتمہ بھی کیا۔

    8۔ گھڑی

    یورپ سے سات سو قبل بھی اسلامی دنیا میں گھڑیاں عام استعمال ہوتی تھی۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے ہم عصر فرانس کے شہنشاہ شارلیمان کو گھڑی (واٹر کلاک ) تحفہ میں بھیجی تھی۔ محمد ابن علی خراسانی (لقب الساعتی 1185ء) دیوار گھڑی بنانے کا ماہر تھا ۔ اس نے دمشق کے باب جبرون میں ایک گھڑی بنائی تھی۔ اسلامی سپین کے انجنیئر المرادی نے ایک واٹر کلاک بنائی جس میں گئیر اور بیلنسگ کے لئے پارے کو استعمال کیا گیا تھا۔ مصر کے ابن یونس نے گھڑی کی ساخت پر رسالہ لکھا جس میں ملٹی پل گئیر ٹرین کی وضاحت ڈایاگرام سے کی گئی تھی ۔ جرمنی میں گھڑیاں1525ء اور برطانیہ میں 1580ء میں بننا شروع ہوئی تھیں۔

    9۔ علم فلکیات و ارضیات 

    776ء میں ابراہیم بن جندب نے سب سے پہلے عجائب الفلک کے مشاہدے کے لیے دوربین ایجاد کی تھی۔ دنیا کا پہلا ماہر فلکیات احمد بن سجستانی تھا جس نے گردش زمین کا نظریہ پیش کیا تھا۔ احمد کثیر الفرغانی نے اپنے طریقہ سے زمین کے محیط کی پیمائش معلوم کی جو مسلمہ محیط سے بہت قریب ہے۔ ابن یونس صوفی نے اپنی کتاب ”الشفائی” میں حرکت کا قانون بیان کیا ہے اس قانون کو یورپ نے بوعلی سینا کے پانچ سال بعد نیوٹن کی ایجاد کے طور پر ساری دنیا میں مشہور کرا دیا۔ علم فلکیات کا ماہر اور جغرافیہ داں ابو ریحان البیرونی نے زمین کی محیط کی پیمائش معلوم کی تھی، البیرونی نے سورج کے مشاہدے کے بعد ارض البلد اور طول البلد معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا تھا۔ البیرونی نے زمین کی محوری گردش کو بھی بیان کیا ہے۔

    10۔سوراخ والا کیمرہ

    ابن الہیثم دنیا کا پہلا انسان تھا جس نے کہا کہ روشنی آنکھ میں داخل ہوتی ہے۔ اس نے آنکھ کی ساخت پر بہت تفصیل سے لکھا اور دنیا کو کیمرے کے خیال سے متعارف کرایا۔ اگر انہوں نے یہ نہ بتایا ہوتا کہ کس طرح روشنی سفر کرتی ہے اور اسے کس طرح شبیہہ کی صورت میں محفوظ بنایا جا سکتا ہے تو آج بھی لوگوں کوکیمرے کے بارے میں علم بھی نہ ہونا تھا۔

    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کی مسلمان نسل اپنے اسلاف کے کارناموں کو فراموش کر چکی ہے۔ اور ان کی نظر میں صرف یورپ کو کی ترقی اور ایجادات کا سہرا دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر آج بھی مسلمان اپنے اسلاف کے کارناموں سے سبق حاصل کریں اور ان کی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو دنیا میں کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔

    علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں کہ:

    گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی 

    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا 

    @RanaFurqan313

  • مرد بنو تحریر   زوہیب خٹک

    مرد بنو تحریر زوہیب خٹک

    ۔

    بچپن سے سنتے آئے ہیں مرد ہو بہادر بنو مرد روتے نہیں مرد کو درد نہیں ہوتا مرد کو ٹھنڈ نہیں لگتی وغیرہ وغیرہ ۔۔ ان سب باتوں میں بیچارا مرد اپنی انا کی تسکین کا غلام بن جاتا ہے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی پہلا مشن ہوتا ہے ماں باپ کا سہارا بننا بہنوں کی شادی کوئی چھوٹا موٹا زمین کا ٹکڑا پھر اس پر گھر کی تعمیر الغرض اپنی خواہشات اور ضرورتوں کا گلا گھونٹ کر وہ اپنے فرائض پورے کرتا جاتا ہے پھر کہیں خوش قسمتی سے اچھا جیون ساتھی مل جائے تو اس کی خدمت میں دن رات ایک کر دیتا ہے بوڑھے ماں باپ کا خیال اور اپنی ازدواجی زندگی دونوں کو متوازن رکھ کر چلنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے ۔ ساس بہو کے جھگڑوں میں پِستا ہے تو سمجھ نہیں پاتا کس کے حقوق پورے کرے ایک طرف ماں باپ دوسری طرف جیون ساتھی ۔وہ پھر بھی مرد بن کر سب جھیلتا ہے ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ دونوں کے حقوق میں کوئی کوتاہی نا ہو ۔ زمانے بھر کی ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن کبھی شکوہ نہیں کرتا کہ میں تھک گیا ہوں کیونکہ وہ مرد ہے۔ جب بہن کا بھائی ہوتا ہے تو اس کی حفاظت کرتا ہے جب بیوی کا شوہر بنے تو اس پر اپنی جان قربان کرتا ہے ۔بچوں کی پرورش میں جی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ اور اس سب میں وہ کوئی احسان بھی نہیں جِتاتا اس نے اپنے باپ دادا کو بھی یہی کرتے دیکھا اور وہ خود بھی یہی سب اپنا فرض سمجھ کر کرتا ہے ۔ دکھ میں ہو تو رو نہیں سکتا تکلیف میں ہو تو اظہار نہیں کر سکتا کیونکہ اسے یہی پڑھایا سمجھایا گیا ہے تم مرد ہو ۔۔ یہی میرے معاشرے کے بیشتر مردوں کی کہانی ہے جو اپنے اپنے فرائض بخوبی نبھا بھی رہے ہیں ۔اور یہی ہمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ہاں آج بھی ماں بہن بیٹی بہو جیسے رشتے عقیدت کی حد تک محبت سے دیکھے جاتے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ برے مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر اور اس نمک برابر تعداد پر کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ میرا جسم میری مرضی ۔ اس نعرے کا سب سے پہلا شکار کون ہوا ؟ جی ہاں "مرد” جسے ظالم جابر سفاک بھیڑیا بنا کر پیش کیا گیا سڑکوں اور چوراہوں میں اس مرد کا تمسخر اڑایا گیا ننگی گالیاں دی گئیں بغاوت کے شادیانے بجائے گئے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتی نوجوان نسل بیٹیاں چیختی چلاتی پائیں گئیں "باپ سے لیں گے آزادی” یعنی باپ نے آزادی دی تھی تو آج سڑک پر اسی کی پرورش پا کر اسی کے خلاف اعلانِ بغاوت کر دیا گیا ۔ پورے ملک کو دکھایا گیا کہ ہمارا مرد ہماری پیروں کی زنجیر بن چکا ہے ہمیں آزادی چاہئیے ۔ بھلا کون سی آزادی ۔۔؟ وہ جہاں ماں بہن بیٹی بہو کے رشتے بے معنی ہیں ۔۔؟ امریکہ کی کونڈولیزا رائس کا بیان تاریخ کا حصہ ہے کہ "پاکستان کی عورت بہت محفوظ ہے جسے بچپن سے بھائی اور باپ تحفظ دیتے ہیں اور پھر جوانی سے تا مرگ شوہر اس کی حفاظت کرتا ہے۔ پاکستان کی طاقت خاندانی نظام ہے جسے ہم امریکہ میں کھو چکے ہیں”۔ یہ اسی آزاد معاشرے کی سب سے بڑے عہدے پر فائز عورت کا کہنا ہے ۔ لیکن کیا کہئیے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا ۔ مرد جو خاندانی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اسے توڑ دیا گیا تو ہم اپنے خاندانی نظام کو بچا نہیں پائیں گے ۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • جھوٹی خبروں والے مانگیں           مادر پدر آزادی ۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

     

             "خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں.”

    سورة الروم 41

    آزادی اظہار رائے سے مراد انسان کو اپنی بات کہنے بیان کرنے اور لکھنے کی  خودمختاری حاصل ہو۔

    مہذب معاشروں میں صحافتی اصولوں کا معیار غیرجانبداری تحقیق شدہ مکمل سچ لوگوں کے سامنے بیان کرنا ہے ۔

    پرنٹ میڈیا کے لکھنے والوں کے لئے اصولوں ضوابط ہوتے تھے اورادارتی بورڈز کی نگرانی کی وجہ سے حمید نظامی نذیر ناجی جمیل الدین عالی حسن نثار انور قدوائی جیسے بڑے بڑے نامور کالم نگار اور تجربہ کار سامنے آئے جن کی غیر جانبداری وضع داری کا زمانہ معترف ہے

    مگر ہمارے ہاں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو جب کام کرنے کی اجازت دی گئ تو صحافت نے کاروبار کا درجہ حاصل کر لیا اور ناتجربہ کار نئے نئے لوگ چینلوں پر خبریں پڑھتے پڑھتے ٹاک شوز کے میزبان تجزیہ کار اور اینکرز بن گئے۔ بات یہاں تک ہی نہ رکی نوخیز صحافی سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بن گئے واٹس ایپ پر ہدایت لینے لگے انٹرویو میں پلانٹڈ سوال پوچھے جانے لگے کئ صحافیوں نے تو بزنس آئیکون کے لئے کرائے پر کالم لکھنے کا کام بھی شروع کردیا لاہور کی سڑکوں پر پرانی موٹرسائیکل کا پلگ صاف کرتے نظر آنے والے صحافیوں نے دن دگنی ترقی کی اور فارم ہاوسز کے مالک بن گئے سیاسی جماعتوں نے اپنے ایجنڈے اور بیانیہ کےفروغ کے لئے صحافیوں کا استعمال شروع کیا اور حکومت میں آنے کے بعد من پسند صحافیوں کو پیمرا ہارٹیکلچر جیسے اداروں کا چئیرمین لگایا گیا اور سرکاری عہدوں سے نوازا گیا قلم بکنے لگے ایزی لوڈ صحافیوں کی ایک فوج طفر موج مارکیٹ میں آگئ اور یوں صحافت جیسا مقدس پیشہ تجارت کا درجہ اختیار کر گیا۔ سلسلہ یہی تک نہیں رکا شہرت اور دولت کی ہوس نے پیشہ ور بدیانتوں کا حوصلہ بڑھایا اب یہ ملک اور ملکی اداروں کے خلاف لکھنا اور بولنا شروع ہوگئے سیکورٹی اداروں کے خلاف لکھنے اور بولنے والوں کو ملک دشمن قوتوں نے ہائیر کیا اور ان کے قلم حساس اداروں کے خلاف استعمال ہونے لگے ۔جب ریاستی اداروں نے ان ملک دشمن عناصر کے خلاف تحقیقات کے کے لئے اقدامات کئے تو آزادی اظہار رائے پر حملے کا بہانہ بنا کر بیرون ممالک پناہ لینا شروع کردیا اور گرفتاریوں کو جبری گم شدگی کا نام دیا گیا۔                  

    یہ مخصوص نام نہاد صحافی ہمیشہ آپ کو اچھے کام کی مخالفت کرتے نظر آئیں گے مذہبی اخلاقی اقدار پر تنقید ملکی مفاد پر تنقید اور جھوٹی خبریں رپورٹیں نشر کرنا انکا وطیرہ ہے اپنے آپ کو بائیں بازو والے لبرلز کہلانا ان کا مشغلہ ہے حالانکہ لبرلز آزاد خیال دوسروں کی رائے کا احترام اور برداشت کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کہ لبرلز اپنی رائے کے علاوہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اسی لئے انہیں خونی لبرلز کہا جاتا ہے۔

    حکومت نے نظام تعلیم میں طبقاتی تفرئق کو ختم کرنے کے لیے یکساں قومی نصاب متعارف کروایا اس مخصوص اور نومولود صحافتی ٹولے نے نصاب کا جائزہ لئے بغیر ہی صرف اسی بات پر مضامین لکھ مارے کہ پرائمری کی کتب  کے سرورق پر بچی زمین پر کیوں بیٹھی ہے حجاب کیوں لیا ہے بچی نے پورے کپڑے کیوں پہنے ہیں۔اور یوں انہوں نے ایک ایجنڈے کے تحت ایک اچھا کام میں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش کی۔

    موجودہ حکومت کے تین سالوں میں جھوٹی خبریں اور رپورٹیں نشر کرنے والوں کی تعداد میں بےپناہ اضافہ ہوا کچھ تو اداروں اور ملک دشمنی کے اپنے لا علاج مرض کے سبب چینلز سے بھی نکالے گئے اب ان میں سے اکثر بے روزگار ہو کر یوٹیوب پر بونگیاں مار رہے ہیں۔

    یہ نام نہاد صحافی خبر دینے اور رپورٹنگ کی بجائے خود پارٹی بن جاتے ہیں کئ تو مولانا فضل الرحمن کی پرائیویٹ فوج کی یونیفارم پہن کر انقلاب کی رہ تکتے تکتے مایوس ہوکر فاتحہ خوانی بھی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    جھوٹی خبر دینے والوں کا محاسبہ کرنے کے لیے ہر ملک میں قوانین موجود ہیں صحافیوں کو بھاری جرمانے برطانیہ جیسے آزاد معاشرے میں بھی کئے جاتے ہیں۔ 

    موجودہ حکومت نے جھوٹی خبریں دینے والے صحافیوں کا محاسبہ کرنے اور میڈیا کے کیمرہ مینوں بیٹ رپورٹرز اور دیگر ورکرز کو کئ کئ ماہ تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا مالکان کے خلاف قانون سازی کرنے کی کوشش کی تو نام نہاد نامور صحافی جن کو منہ مانگی قیمت ملتی ہے وہ جھوٹی خبروں اور میڈیا ورکرز کے حق میں بننے والے پاکستان میڈیا اتھارٹی کے خلاف پھٹ پڑے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیں جھوٹ بولنے کی مادر پدر آزادی دی جائے تاکہ یہ معاشرے میں اپنی  جھوٹی خبروں اور رپورٹنگ کے ذریعے فساد مچاتے رہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہ ہو۔

    حکومت وقت سے استدعا ہے کہ اگر اب اس مافیا کو لگام ڈالنے کے ارادہ کر ہی لیا ہے تو اپوزیشن میں بیٹھے ان کے خیرخواہوں کی تنقید کو خاطر میں نہ لایا جائے

    اور اس کام کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔           

    @EducarePak 

  • ھماری سو کالڈ سوسائٹی تحریر ہما عظیم

    ھماری سو کالڈ سوسائٹی تحریر ہما عظیم

    ھماری سو کالڈ سوسائٹی
    سگریٹ کے ڈبی پہ لکھوا لیتی ھے
    کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ھے
    زھریلی ادویات پہ لکھوا لیتی ھے
    کہ بچوں سے دور رکھئیے
    صحت کے لئے مضر ھے وغیرہ وغیرہ
    لیکن گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ جیسے
    نامحرم تعلقات کے بعد پیدا ھونے والے
    خطرات و حالات کے بارے میں بات نہیں کرتی۔۔مگر
    زرا سا ان نا محرم نا جائز و حرام رشتوں پہ
    سچ بات کہہ دو سچ کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دو
    تو بڑے بڑے اعلی تعلیم یافتہ لنڈے کے لبڑلز
    کو آگ لگ جاتی ھے ۔۔
    نور مقدم کیس کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔
    بچپن سے جوانی تک کا ساتھ تھا ظاھر جعفر کا اور نور مقدم کا۔۔
    آپس میں دونوں فیمیلیز کی اتنی انڈرسٹینڈنگ تھی
    کہ نور کو رات گزارنے تک کی آزادی تھی جعفر کے گھر میں۔۔
    اس دن بھی نور اپنے والدین کو یہ بتا کر گئی کہ
    وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تین چار دن کے لئے ناردرن ایریاز میں جا رھی ھے۔۔۔
    اتنے عرصہ کے تعلقات کے باوجود ایسا کیا ھو گیا کہ جعفر نے اس بے دردی سے اس بندی کا قتل کیا ؟؟
    جو بھی ھوا ؟
    جو بھی وجوھات تھیں؟
    غلط ھوا ؟
    لیکن سب اسی بات پہ شور مچا رھے ھیں کہ یہ کیوں ھوا ؟
    ” یہ کیوں ھوا ” کہ علاوہ یہ سوال بھی ہونا چاہئیے کہ "ایسا کیوں ہوا……؟”
    ہم جب جب اپنے محرم رشتوں کی بنی حفاظتی زنجیر سے باہر نکلیں گے تب تب انسانی شکل میں موجود بھیڑیوں کو اپنے انتظار میں پنجے تیز کئیے تیار پائیں گے۔بظاہر یک کھڑے آپ کے لئیے نعرے لگارہے ہونگے آپ کو باہر کی آزادی کگ سبز باغ دیکھائیں گے مگر اصل میں خود بھوکے حوس کی پیاس لیئے اپنے شکار کو رجھا رہے ہوتے ہیں۔ہماری معصوم لڑکیاں جب ان کے جھانسے میں آجاتی ہیں تو یہ نفسیاتی انسان یا تو انہیں نورمقدم کیس کی طرح مار دیتے ہیں یا پھر کمزور کر کے کسی اور کے شکار کے۔ لئیے چھوڑ دیتے ہیں
    اور زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان جنگلی بھیڑیوں کے ساتھ عورت کی دشمنی میں عورت ہی میدان میں نکل آئی ہے۔ عورت جو عورت کا آئینہ ہے۔کہا جاتا تھا عورت ہی عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہے۔اب ظلم یہ ہو گیا ہے عورت ہی عورت کی دشمن بن چکی ہے۔وہ بھی معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر جھوٹے خواب دکھا کر مردوں کی سوسائٹی میں لاکر تر نوالہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔
    مقصد بات کا یہ ہے کہ
    کل اپنی بچیوں کو صرف یہ نہ بتائیں کہ
    نور مقدم کے ساتھ ظلم ھوا۔۔
    یہ بھی بتائیں کہ نور کے ساتھ ایسا ظلم صرف اس لئے ھوا
    کیونکہ نا محرم کے ساتھ تعلقات کا ایسا ھی انجام ھوتا ھے
    تحریر ہما عظیم
    @DimpleGirl_PTi

  • زہر کا گھونٹ  تحریر بسمہ ملک

    زہر کا گھونٹ تحریر بسمہ ملک

    میرے ہاتھ میں زہر کا پیالہ تھا۔ میں نے دھندلی نگاہوں سے اردگرد دیکھا، تو چند لوگ میرے آس پاس موجود تھے، مگر ان میں سے کوئی بھی میرے قریب نہیں آیا ، سب مجھے دور کھڑے دیکھ رہے تھے۔ زہر تو مجھے پینا ہی تھا ، پھر کیوں کسی کا انتظار کرتی۔ جیسے ہی میں نے پیالہ منہ سے لگایا۔ایک چیخ نما آواز آئی عائشہ۔۔۔۔۔۔۔!!! اور میری آنکھ کھل گئی ، اسی کے ساتھ میرے جسم کو جھٹکا سا لگا تھا۔ ہوش کی دنیا تک آتے آتے میں سوچ رہی تھی کہ شاید کسی نے وہ پیالہ مجھ سے چھین لیا تھا ، وہ شاید ابو تھے۔ ذہن پر زور دیتے خواب کے منظر کو دہراتے میں آٹھ گئی تو دیکھا امی سرہانے ہی کھٹی تھیں ” بے وقت کیوں سوئیں…..؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ؟ ” انہوں نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ جی ٹھیک ہوں ۔ بچے کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟ اسی لیے تو تمہیں آواز دے رہی تھی ، اب تو انہیں کچھ کھلا پلا دو،، دوپہر میں بھی انہوں نے صحیح طرح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ "جی اچھا” میں بال سمیٹتے ہوئے بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی اور امی بھی پاس ہی بیٹھ گئی ۔ پھر ریحان سے تمہاری کوئی بات ہوئی ؟ کئی دن ہوگئے عضے بھرے انداز سے کہا ۔ کیا کہا اس نے ؟؟ امی آپ کو بتایا تو تھا ، پھر کیوں ایک ہی سوال بار بار پوچھتی ہیں۔ میں بے زاری سے بولی میری تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ نہ جانے کیوں باربار وہی بات سنن،ئا چاہتی ہیں، جسے سن کر خود آپ کو تکلیف اور مجھے اذیت محسوس ہوتی ہے میں نے قدرے مغمول لہجے میں کہا۔ "کہہ رہے تھے خود گئی ہو ، تو خود ہی آجاو ۔ مجھ سے توقع مت رکھنا کہ واپس لینے آوں گا۔”
    ” ویسے میں سوچ رہی تھی کہ اس میں بھی کوئی حرج تو نہیں ہے جیسے آئی تھیں، ویسے ہی جاسکتا ہو اور میاں ، بیوی کے بیچ تو جھگڑے ہوتے ہی رہتے ہیں، اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ ساری زندگی میکے میں گزار دی جائے ۔ ویسے بھی تم بیوی ہو اس کی اور دو بچوں کی ماں بھی ۔” وہ بے گانگی سے بولیں۔ ” لیکن ابو کا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو پتا ہے ناں ، ابو ان سے بات کرنا چاہتے ہیں، انہیں ان کی ذمے داریوں کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ آپ خود سوچیں امی کہ آخر میں اور میرے بچے کب تک سسرال والوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ میں نے تو پھر جیسے تیسے گزارہ کر لیا ، لیکن بچوں کا کیا ۔۔۔۔۔وہ کیوں دوسروں کے احساس تلے دبے رہیں؟ چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لیے دوسروں پر انصار کرتے رہے تو ان کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچے گی ، عزت نفس ختم ہوجائے گی اور انہیں بھی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی عادت پڑ جائے گی ، جو میں ہر گز نہیں چاہتی ۔” ایک تو مجھے تمہارے ابو کی بھی سمجھ نہیں آتی ۔ انہیں اب ریحان سے کیا بات کرنی ہے ۔ ہم نے تمہاری شادی کردی ، تمہیں رخصت کرکے ہماری ذمے داری ختم ۔ اب نبھانا تم نے ہے ، تم پہ فرض ہے کہ شوہر کا مزاج سمجھو ۔ اس کے دکھ ، سکھ میں ساتھ دو، اس کے مطابق زندگی گزارو۔”
    اتنے سالوں سے برداشت ہی تو کرتی آئی ہوں ۔ بیوی ہوں تو کیا ہوا ، ان کا کوئی فرض نہیں ہے ۔۔ وہ مجھے کتنا کچھ کہہ گئے ، بچوں تک کی پروا نہیں کی ، چلو میں ماں لیتی ہوں میں بڑی ہوں ، لیکن بچے تو ان کے اپنے ہے ناں ، ایک بار بھی پلٹ کر بچوں کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کیسے ہیں کس حال میں ہیں۔ الٹا یہ کہا کہ بچوں کی بھی ضرورت نہیں رکھ لے تمہارے امی ابو مجھے پروا نہیں ۔ ایک آدمی شوہر چاہے کیسا بھی ہو ، لیکن باپ کے روپ میں تو بچوں کا سائبان ہوتا ہے مگر میرے بچوں کا سائبان ہی ان سے بیزار ہے ” میں ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی اور آنسو بہنے لگے۔ سینے میں چبھے تیر تکلیف دے رہے تھے میں سوچتی رہی کہ ریشم کی ڈوری کی طرح میں ہی پاوں سے لپٹ رہی ہوں۔
    (جاری ہے ۔۔۔۔)

    @BismaMalik890

  • 12 ربیع الاول   تحریر : فرح بیگم

    12 ربیع الاول تحریر : فرح بیگم

    حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات میں مختلف راۓ ہیں ۔ کوئی 8 ربیع الاول کا قول راجح کرتا ہے تو کوئی 12 ربیع الاول کا ۔ لیکن زیادہ مشہور 12 ربیع الاول ہے ۔ اسی طرح حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تاریخ میں بھی تضاد ہے بعض علمائے کرام کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے روز وفات پائے اور مہینہ بھی ربیع الاول کا تھا ۔البتہ تاریخ کی رائے پھر مختلف ہے ،پر زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ 12 ربیع الاول کا دن تھا ۔

    زمانہ گواہ ہے کہ جب بھی 12 ربیع الاول کا چاند دیکھائی دیتا ہے دل میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت کی لہر دوڑتی ہے ۔ ہمارا ایمان پر جوش اور یک دم تازہ ہو جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کی آمد ہر سال تجدید عہد وفا سنت کا پیغام لے کر آتی ہے ۔ اس مہینے کا مطلب ہے کہ کوئی سنت کے خلاف کام نہ ہو ۔ حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے لیے روشنی کا سر چشمہ ہیں ۔وہ پوری دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں ۔اور ہمیں فخر ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ملت لے کر اے جو دن میں نور اور رات میں امن ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ راہ دیکھائی جس پر چل کر ہم نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی فلاح پا سکتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب کی باتیں بھی بتائی پر کھبی بخل سے کام نا لیا ۔

    جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آپنے آمد کے مقصد کو پورا کر بیٹھے اور اسلام کو لوگوں تک پہنچا دیا تو اپنے خالق سے جا ملے۔ اور اس دین کو قیامت تک مکمل قرار دیا ۔ اب اس دین کے بعد کوئی دین نہیں اے گا اور حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اللّه کے آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اے گا ۔ نہ ہی اس دین میں کسی زیادتی ، مکاری کی گنجائش ہے اور نہ کسی نقصان کی ۔ لوگ 12 ربیع الاول کو عبادت سمجھ کر مناتے ہیں ،جلوس نکالتے ہیں ،لوگ جلوسوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ گھروں میں محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے ۔ یہ سب ایک عادت ہے دین سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے ۔لیکن برصغیر پاک و ہند میں اسکو ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو محفل میلاد کا سما شروع ہو جاتا ہے اور کیوں نا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات کا دن ہے اور اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں ہے ۔ 12 ربیع الاول کو تیسری عید سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔

    12 ربیع الاول کی خوشی میں پورے ملک کے تمام شہروں کو ،گلیوں کو سجایا جاتا ہے ۔سارا منظر روح پرور ہوتا ہے ۔اس دن کو مولود نبی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ملک بھر میں قرآن پاک کی تلاوت اور نماز کے لیے بڑے اجتامت منعقد کیے جاتے ہیں ۔ لوگ ضرورت مندوں میں کھانا تقسیم کرتے ہیں ۔ لوگ خیرات دیتے ہیں ۔ غریبوں میں کپڑے اور کھلونے بانٹے جاتے ہیں ۔ باہر ملکوں میں مسلمان 12 ربیع الاول کو مسجد میں جمع ہوتے ہیں ، عبادت کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ محفل میلاد منائی جاتی ہے ۔

    اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس دن کو نہایت پر جوش ،احترام ، عقیدت اور ولولے کے ساتھ منائیں۔

    Twitter ID: @iam_farha