Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ تحریر: فضل عباس

    پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ تحریر: فضل عباس

    ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ سے قبل ہی تمام لوگوں کی نظروں کا محور دو میچز تھے ایک پاکستان بمقابلہ انڈیا دوسرا پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ پہلے معرکے میں تو پاکستان نے شاندار فتح حاصل کر لی کیا دوسرے مقابلہ میں پاکستان اسی طرح فتح کا جھنڈا گاڑے گا؟ اور اس مقابلے کی اہمیت کیا ہے؟ پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ اتنا اہم کیوں ہو گیا ہے؟ پاکستانیوں کے لیے یہ میچ زیادہ دلچسپی کا باعث کیوں ہے؟ اس سب پر آج بات کرتے ہیں

    ورلڈ کپ سے تھوڑا عرصہ قبل پاکستان نے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے دو اہم سیریز کھیلنی تھی ایک سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف اور ایک سیریز انگلینڈ کے خلاف نیوزی لینڈ پاکستان آئی سب انتظامات انتہائی زبردست طریقے سے سنبھالے گئے لیکن جوں ہی میچ کا دن آیا نیوزی لینڈ نے سیکورٹی کا بہانہ بنا کر کھیلنے سے انکار کر دیا اور واپس نیوزی لینڈ روانہ ہوگئی اس قدم نے پاکستانی قوم میں غم وغصہ پیدا کر دیا اور ورلڈ کپ میں پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ میچ کی اہمیت کو کئی گنا زیادہ کر دیا

    اب ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے کہ اس بھگوڑی ٹیم کو بھی اسی طرح اوقات میں لایا جائے جیسے انڈیا کا غرور توڑا اسی طرح نیوزی لینڈ کا غرور بھی خاک میں ملایا جائے یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ انتہائی دلچسپی کا باعث بنا ہے پاکستانی قوم کو شاہینوں سے قوی امید ہے کیویز کو دبوچنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آۓ گی

    اس میچ میں کھیل کے ساتھ پاکستان کا جذبہ بھی عروج پر ہو گا
    اگر دونوں ٹیموں کا موازنہ کریں تو پاکستان نیوزی لینڈ کی نسبت زیادہ طاقتور نظر آتی ہے اس کی مختلف وجوہات ہیں ان کو بیان کر کے ٹیمز کا موازنہ کرتے ہیں

    متحدہ عرب امارات پاکستان کا ہوم گراؤنڈ رہا ہے تو اس لیے پاکستان یہاں نہایت مضبوط ٹیم ہے پاکستان کے لیے یہاں کھیلنا گھر پر کھیلنے جیسا ہے پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر 12 انٹرنیشنل ٹی ٹوئینٹی میچز کھیلے ہیں اور سارے جیتے ہیں یہ پاکستان کے لیے باعث اطمینان ہے یہاں کی وکٹ پاکستان کے لیے سازگار ہے نیوزی لینڈ یہاں مشکلات کا شکار رہتا ہے پاکستان ان میدانوں کی چیمپیئن ٹیم ہے پاکستان یہاں کا بے تاج بادشاہ ہے اس لیے پاکستان نہ صرف اس میچ کے لیے بلکہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے نہایت شاندار ٹیم ہے

    نیوزی لینڈ ٹیم کی طاقت کی بات کی جائے تو سب سے اہم ان کا کپتان کین ولیمسن ہے کین ولیمسن ایک مستقل مزاج کپتان اور شاندار بیٹسمین ہیں ان کی کارکردگی ہمیشہ اعلیٰ رہی ہے وہ کسی بھی ٹیم کے لیے خطرہ ہیں پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے انہیں جلد سے جلد آؤٹ کرنا ہو گا اس کے بعد جارحانہ مزاج بیٹسمین مارٹن گپٹل بھی نہایت شاندار بیٹسمین ہیں اگر وہ اچھا کھیلتے ہیں تو یہ نیوزی لینڈ کے لیے شاندار ثابت ہو سکتا ہے باؤلنگ میں اش ساؤدھی اسپن اٹیک اور ٹم ساؤتھی فاسٹ باؤلنگ اٹیک کی کمان سنبھالیں گے

    پاکستان ٹیم کی بات کریں تو ایک سے بڑھ کر ایک شیر ہے پاکستان کے کپتان پاکستان کی شان بابر اعظم دنیائے کرکٹ پر راج کر رہے ہیں پوری دنیا میں بابر اعظم کے چرچے ہیں بابر اعظم پاکستان کے کپتان کے ساتھ اوپنر بھی ہیں ان کے ساتھی اوپنر محمد رضوان انتہائی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں شاندار بیٹنگ بہترین وکٹ کیپنگ کے ساتھ پاکستان ٹیم کی شان ہیں ان کے بعد نمبر آتا ہے فخر زمان کا فخر زمان جارحانہ مزاج بیٹسمین ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں ان کے بعد شعیب ملک اور محمد حفیظ پاکستان کے سینیئر کھلاڑی ہیں ان کی موجودگی پاکستان کے لیے باعث فخر اور باعث اطمینان ہے اس کے بعد آصف علی کا نمبر آتا ہے آصف علی انتہائی زبردست پاور ہٹر ہیں جو ایک اوور میں میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کے بعد پاکستان کے آل راؤنڈرز آتے ہیں شاداب خان اور عماد وسیم انتہائی زبردست باؤلنگ کے ساتھ شاندار بیٹنگ کر کے پاکستان ٹیم کو کئی فتوحات دلوا چکے ہیں اور اس طرح پاکستان کا نام روشن کرتے آۓ ہیں فاسٹ باؤلرز کی نمائندگی پاکستان کی جان شاہین آفریدی کرتے ہیں جو بہترین رفتار کے ساتھ بال کو سوئنگ کرنے کا ہنر جانتے ہیں ان کے ساتھ سینیئر فاسٹ باؤلر حسن علی موجود ہیں جو پاکستان کو فتح دلانے میں پیش پیش ہوتے ہیں ان کے ساتھ حارث رؤف پاکستان کے اسپیڈ اسٹار ہیں ان کی شاندار رفتار، بہترین یارکررز اور نایاب مگر زبردست سلو بالز ان کی پہچان ہیں اس طرح پاکستان ایک مضبوط اور مکمل ٹیم ہے

    اس سب کو دیکھتے ہوئے بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ان شاء اللہ نیوزی لینڈ کو ہرانے میں کامیاب ہو گا

  • اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ تحریر: علی حمزہٰ 

    اللّٰه تعالیٰ نے اس دنیا میں کم و پیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ ان میں سے کسی نا کسی پر کتاب یا صحیفے نازل فرمائے اور اپنے دین کے کام کے لیے کسی نا کسی جگہ پر اُتارا اور وہ آکر لوگوں کو اللّٰهِ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے۔ اللّٰه تعالیٰ نے اپنے دین کی ترویج و تقسیم کا کام حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا جو کہ ہم سب کے باپ ہیں۔ اور یہ سلسلہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبيين ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اسی طرح کلمہ طیبہ بھی اسی بات کی گواہی ہے اللّٰه تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔

    لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله

    ترجمہ:   

    اللّٰه کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

     اسی طرح تمام انبیاء کی سابقہ شریعتوں و طریقوں پر عمل کرنے کا انکار ہے (اس لئے کہ تمام شریعتیں شریعت محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم میں سموگئی ہیں) اور صرف اسوئہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کا اقرار ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ کو آخری نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ سلسلہٴ نبوت و رسالت کو آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ اب آپ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئیگا۔ قرآن کی طرح آپ کی رسالت و نبوت بھی آفاقی و عالمگیر ہے جس طرح تعلیمات قرآنی پر عمل پیرا ہونا فرض ہے اسی طرح تعلیمات نبوی صلی اللّٰه علیہ وسلم پر عمل کرنا فرض ہے۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کی دعوت تمام جن و انس کیلئے عام ہے دنیا کی ساری قومیں اور نسلیں آپ کی مدعو ہیں تمام انبیاء کرام میں رسالت کی بین الاقوامی خصوصیت اور نبوت کی ہمیشگی کا امتیاز صرف آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم گروہ انبیاء کرام کے آخری فرد ہیں اور سلسلہٴ نبوت و رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلاصہ انسانیت ہیں۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی گواہی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

    چنانچہ اس آیت میں اس کی پوری وضاحت اور ہرطرح کی صراحت موجود ہے "مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلَیْمًا”

     نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللّٰه کے رسول اور تمام انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں اور اللّٰه ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

    اس آیت میں اللّٰه تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کہہ کر نبوت کا سلسلہ ہی ختم کر دیا ہے۔ اس کے بعد اب کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی کوئی قیامت تک نبی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا لیکن سب جہنم واصل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانے بنا کوئی دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نا مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا۔

    اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ.

    ”میں خاتم النبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔”

    پس سلسلہ نبوت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے اس لیے جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو نبی مانے یا جائز جانے یا نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔

    امام ابوحنیفہ رح کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کے علامات پیش کروں اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں کہ "لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ”  غرض یہ کہ شروع سے اب تک تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اور اسے ماننے والے کافر مرتد اور واجب القتل ہیں۔

    اللّٰه تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچی اور پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • فیٹف کا سیاسی فیصلہ اور پاکستان پر اسکے اثرات تحریر ہارون خان جدون

    فیٹف کا سیاسی فیصلہ اور پاکستان پر اسکے اثرات تحریر ہارون خان جدون

     فرانس کے دارلحکومت پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس بار صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تركی کو بھی گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے تركی اور پاکستان اس وقت عالمی سیاست میں جس مقام اور مدار پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رے ہیں وہ مغربی بلاک کو پسند نہیں 

    اسلئے پاکستان کی طرح تركی کی معیشت بھی شدید مشکلات کا شکار ہے اس فیصلے پر بھارت سمیت دنیا کے کئی ملكوں میں خوشی کے شادیانے بج اٹھنا فطری ہے مگر پاکستان نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے پچھلی بار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ سوال اٹھایا تھا کے اب یہ طے کرنا ہوگا کے فیٹف تکینکی فورم ہے یا سیاسی_ گویا کہ انہوں نے پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنے کو سراسر سیاسی قرار دیا ہے

     کچھ یہی بات دوسرے لفظوں میں وزیر خزانہ نے اپنے ایک interview میں یوں کی تھی FATF کی شراہط میں کوئی چیز نہیں بچی کوئی اور ملک ہوتا تو گرے لسٹ سے نکل جاتا مگر علاقای سیاست میں پھنس کر رہ گے ہیں

    شوکت ترین کی اس بات کا مطلب واضح تھا کے علاقے کی چین مخالف اور حمایت کی تقسیم کی زد پاکستان پر پڑ ری ہے چین مخالف مغربی بلاک جو علاقای سطح پر بھارت کے ساتھ اتحاد کر چکا ہے

    یہ اتحاد ملکر ہر محاذ پر پاکستان کی كلای مروڑنے کی کوشش کر رے ہیں

    ایف اے ٹی ایف کے حکام نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کے پاکستان نے ستایس میں سے چھبیس نكات پر کامیابی سے عمل کیا ہے اس کارکردگی کی بنیاد پر پاکستانی حکام کو اس بار گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں آنے کی قوی امید تھی مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا اگر فیصلہ تیکنیکی اور حقیقی بنیاد پر کیا جاتا چونکہ معاملہ سیاسی ہے اس لئے پاکستان موجودہ حالات میں FATF کے هدف سے آگے بڑھ کر بھی کام کرتا تب بھی گرے لسٹ سے نکلنے کے امكان نہیں تھا

    اب FATF نے پاکستان کو ڈومور کے انداز میں پاکستان کو مزید کچھ نكات کی فہرست تهما دی ہے گویا کہ پاکستان کا گرے لسٹ میں لمبے عرصے کے لئے رہنا اب یقینی ہے جن بنیادوں پر پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا ہے وہ ختم ہونے کی بجاۓ مزید گہری ہو رہی ہے، پاکستان زیادہ قوت سے چین کے قریب اور امریکہ سے دور ہوتا جا رہا ہے

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تو یہ سوال عمران خان سے بھی پوچھا کہ انکے امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں اصل رکاوٹ چین تو نہیں اس پر عمران خان نے چین اور پاکستان کے تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ کی جنگ میں شراکت دار بن کر پاکستان میں جو تخریب کاری ہوئی تھی اسے تعمیر میں بدلنے میں چین ہی اگے آیا ہے ادھر شوکت ترین نے علاقای سیاست کی زد میں آنے کی جو بات کی اسکا تعلق بھی اسی حقیقت سے ہے

    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ملک ہر فورم پر پاکستان کی كلای مروڑنے کی کوشش جاری رکھیں گے

    آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہوں یہ FATF کی سیاست بازیاں یا عالمی عدالت میں کلبوشن کے کیس کی سنوای اور ایک مسلمہ جاسوس پر بےجا مہربانیاں ہوں یا یورپی ملک میں سری واستر گروپ کی جھوٹ کی فیکٹریاں یہ سب پاکستان کو فكس اپ کرنے کی کوششیں ہیں

    مستقبل میں پاکستان کو مزید مغرب کے اس نارواسلوک کا سامنا کرنا پڑے گا اسلئے پاکستان کو ذہنی اور عملی طور پر اسکے لئے تیار رہنا چاہئے اس رویہ کے حامل مغربی مملاك اور مغربی اثر رسوخ والے اداروں سے کشمیر  سمیت کسی خیر کی توقع نہیں ہے اگر وہ کسی جگہ مسلہ کشمیر حل کرنے کی بات بھی کریں گے تو وہ بھارتی نقطہ نظر سے ہوگا ان تمام سیاسی اور علاقای اور مغربی ممالک کے اس رویہ کے بعد ان مملاك سے تعلقات تو رکھنے چاہیے لیکن ان سے مستقبل میں کسی اچھے کی امید نہیں رکھنی چاہیے اور جتنا جلدی ہو سکے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جانا چاہیے تاکہ پاکستان اس طرح کی blackmailing سے بچ سکے اور اپنی آزادی اور خود مختاری کے فیصلے خود کر سکے اسی میں پاکستان کی بقا اور بہتری ہے جتنی جلدی یہ بات ہمارے حکمران طبقہ کو سمجھ آ جاۓ اتنا ہی اچھا ہے کیوں کے آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کے اہل کفر کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے چاہے ہم جتنا مرضی ہے انکے لئے کر لیں اس کی زندہ مثال امریکہ کی جنگ میں پاکستان نے جو 20 سال نقصان اٹھایا ہے وہ سب کے سامنے ہے پھر بھی امریکہ پاکستان سے خوش نہیں ہے اور اپنی ہار اور ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالتا ہے.

    اللہ پاکستان کی حفاظت فرماۓ اور اس میں بسنے والوں پر اپنا کرم فرماۓ ۔۔۔آمین 

     

    @ItzJadoon

  • ایف اے ٹی ایف میں ترکی بھارت کا نیا دشمن بن گیا۔  تحریر:- حماد خان

    ایف اے ٹی ایف میں ترکی بھارت کا نیا دشمن بن گیا۔ تحریر:- حماد خان

    Twitter @HammadkhanTweet

    ترکی پاکستان کے دوست کی حیثیت سے بھارت کی آنکھ میں کانٹا تھا. بھارت نے اپنے غیر منصفانہ طریقوں سے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اس آرٹیکل میں ہم دیکھیں گے کہ انڈیا کے دباؤ پر ترکی کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں کیوں رکھا گیا۔

    2018 میں ، جب پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا ، ترکی واحد ملک تھا جس نے اس کی حمایت کی۔ترکی واحد ملک ہے جس نے اقوام متحدہ میں کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔ اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کرنا بھارت کی نظر میں ترکی کے لیے گناہ بن گیا۔

    حالیہ برسوں میں ترکی کے اپنے روایتی مغربی اتحادیوں بشمول امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔

    واشنگٹن نے ترکی کو F-35 طیاروں کی فروخت روک دی جب انقرہ نے روسی سطح سے فضا میں مار کرنے والے S-400 میزائل سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔

    بحیرہ روم میں اپنے سمندری حقوق کے نفاذ کے لیے ترکی کی کوششوں نے یورپی یونین کے رکن ملک یونان کو ناراض کیا ہے۔

    ترکی شام اور لیبیا میں اپنے کچھ مغربی اتحادیوں کے مخالف سمت میں ہے۔ تقریبا 4 4 ملین شامی مہاجرین کی میزبانی کے لیے اپنے طور پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ، ترکی کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے یورپی رہنما باقاعدگی سے نشانہ بناتے ہیں۔ 

    ایف اے ٹی ایف نے ترکی کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کرنے والے ممالک کی فہرست میں درج کرنے کے فیصلے سے پیرس میں قائم تنظیم کی غیر جانبداری کے بارے میں ایک بار پھر سرخ جھنڈا بلند کردیا ہے۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ترکی کو ایف اے ٹی ایف کی نام نہاد گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے ، یہ اقدام ترکی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ان ممالک کو نشانہ بنانے میں منتخب ہو گیا ہے جہاں بینکوں کے پاس فنڈز کے غیر قانونی بہاؤ کو روکنے کے لیے کمزور تعمیل یا کنٹرول ہے۔

    مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل حسن اسلم شاد نے کہا ، "اگر وہ تمام ممالک کے ساتھ اپنے سلوک میں منصفانہ ہوتے تو وہ برطانیہ کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیتے۔”

    لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا ہے اور پہلے سے تصورات ان کے فیصلوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔حال ہی میں لیک ہونے والے پانڈورا پیپرز ، آف شور کمپنیوں کی دستاویزات کا ایک مجموعہ ، ظاہر کرتا ہے کہ کرپٹ سیاستدان اور بیوروکریٹس اپنی دولت چھپانے کے لیے دو تہائی فرمیں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہیں۔

    ایف اے ٹی ایف نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ترکی کو اپنے منی لانڈرنگ کے قوانین کی نگرانی بڑھانے اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروہوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

    انقرہ نے کہا کہ اس کی گرے لسٹ میں شمولیت "غیر منصفانہ” ہے لیکن اس نے اصرار کیا کہ وہ تنظیم کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ "کم سے کم وقت میں غیرضروری فہرست” سے باہر آنے کی کوشش کی جا سکے۔

    ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ نگرانی کے تحت کسی ملک کے رسک پروفائل میں اضافہ کرتا ہے ، جس سے حکومت اور نجی شعبے کو بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں سے فنڈ اکٹھا کرنا مہنگا پڑ جاتا ہے۔

    آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے زیر اہتمام ایف اے ٹی ایف عالمی معیارات مرتب کرتا ہے جو دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف جنگ کو آگے بڑھاتا ہے۔

    یہ سفارشات جسم کے 200 سے زائد ارکان کو غیر قانونی منشیات ، انسانی سمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث مجرموں کے پیسے کے پیچھے جانے میں مدد دیتی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی فنڈنگ ​​روکنے کے لیے بھی کام کرتا ہے۔

    کسی قوم کو فہرست میں شامل کرنے کے لیے تنظیم کو اپنے اراکین کے اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے ، حالانکہ عین مطابق تعداد متعین نہیں ہے۔

    گرے لسٹ میں شامل ہونے کا یہ بھی مطلب ہے کہ گھریلو اور کثیر القومی بینکوں کو تعمیل اور منی لانڈرنگ کے عملے پر زیادہ وسائل خرچ کرنے پڑتے ہیں ، جنہیں دھوکہ دہی اور دہشت گردی کی مالی اعانت کا پتہ لگانے میں زیادہ چوکس رہنا پڑتا ہے۔

    Twitter @HammadkhanTweet 

  • جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو چار صوبوں میں میں تقسیم کیا گیا صوبہ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور سرحد شامل ہیں اور بعد میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھ دیا گیا ۔ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب بڑا صوبہ ہے اور صوبہ پنجاب کو پھر دو حصوں میں شامل کیا گیا شمالی پنجاب و جنوبی پنجاب ۔ شمالی پنجاب جسے اپر پنجاب بھی کہا جاتا ہے گزشتہ تیس سے چالیس سالوں میں حکمران طبقہ اپر پنجاب سے منتخب ہوتا رہا ۔ جہنوں نے اپر پنجاب کو خوب نوازا اور جنوبی پنجاب کو اپر پنجاب کی نسبت محروم رکھا گیا کیونکہ وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب اپر پنجاب سے کیا جاتا تھا تو وزیرِ اعلیٰ  نے اپر پنجاب خاص کر اپر پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو خوب نوازا ۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور کے فی کس آدمی پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے زائد لگائے گئے جبکہ جنوبی پنجاب کے فی کس آدمی پر صرف اور صرف بیس سے پچیس ہزار روپے لگائے گئے ۔ جس سے اپر پنجاب ترقی کے لحاظ سے بہت آگئے نکل گیا اور جنوبی پنجاب بہت پیچھے رہ گیا ۔ اس بات کا اندازہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ہونے لگا کہ ہمیں محروم رکھا جارہا ہے جس پر انہوں نے اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا شروع کر دیا ۔ منتخب نمائندوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا تو انہوں نے سوچا کہ اس مسلے کا صرف ایک ہی حل ہے وہ ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔ اس طرح دو ہزار اٹھارہ کے عام الیکشن میں صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کا ایک گروپ ابھر کر منظر عام پر آیا ۔ جس میں موجودہ اور سابقہ ایم این اے اور ایم پی اے شامل ہوگئے جن کی سربراہی مخدوم خسرو بختیار کررہے تھے ۔اس وقت کے حکمراں جماعت کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے اس گروپ سے ملاقات کی ۔ جب خان صاحب نے ان جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا مواقف جانا تو جنوبی پنجاب محاذ کے نمائندگان اور عمران خان صاحب کا ویژن ایک ہی تھا کہ جو علاقے پیچھے رہ گئے ان کو برابری کی سطح پر لانا تھا۔ دو نہیں بلکہ ایک پاکستان کا ویژن تھا ۔ اس گروپ نے پی ٹی آئی شمولیت اختیار کرلی اور الیکشن کے بعد جنوبی پنجاب میں عمران خان صاحب نے بہت بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تقریباً جنوبی پنجاب سے تقریباً کلین سوئپ کیا اس طرح خان صاحب پنجاب اور وفاق میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کی وجہ سے حکومت ممکن ہوئی ۔ اس کے بعد خان صاحب کا جنوبی پنجاب کے لیے سب بڑا قدم یہ تھا کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا ۔جو کہ تمام لوگوں کے لیے سرپرائز تھا کیونکہ خان صاحب نے ایک ایسے علاقے سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا جوکہ کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا ۔ جنوبی پنجاب سے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے سے سے جنوبی پنجاب کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ وزیرِ اعلیٰ نے کافی حد تک جنوبی پنجاب کے مسائل حل کئے جس میں جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ کا قیام ، ایڈیشنل آئی جی اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا قیام عمل میں لایا گیا۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنا کر اور 15 محکموں کے سیکرٹریز تعینات کیےگئے۔

     اس کے علاؤہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 37 فیصد حصہ بجٹ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مختص کیا جس سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو احساس ہوا اس دفعہ واقعی ان کے محرومیوں کا ازالہ ہوا ہے لیکن ممکن نہیں کہ ایک دورے حکومت میں تیس چالیس سالوں کے مسائل حل ہوں۔ انشاء اللہ دو ہزار تیئیس کے عام انتخابات سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنے جائے گا اور مزید جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ 

    @Wah33d_B

    IMG_20210903_213041.

  • 27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری!   تحریر: محمد اختر

    27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری! تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام!   27اکتوبر 1947، حالیہ صدی میں انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے،اس دن بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رقم کر دی یہ وہ دن ہے جب بھارت نے سری نگر میں اپنی افواج اتاری تھیں۔ایک طرف بھارتی قابض افواج نے کشمیری آزادی کے جنگجوؤں سے لڑ کر انہیں دریائے جہلم کے دوسری طرف دھکیل دیا اور دوسری طرف اس نے مقامی آبادی پر مظالم کے پہاڑ ڈھا دیے۔اسی دوران، جب مہاراجہ ہری سنگھ جموں گئے تو وہاں مسلمانوں کا ایک وفد انکے پاس شکایت لے کر آیا کہ مقامی سکھ اور ہندو آبادی مسلمانوں پر مظالم ڈھارہی ہے۔ مہاراجہ نے شکایتوں کو دور کرنے کے بجائے مسلم وفد کو ہی قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے، اس حکم کے اجراء سے قبل کشمیر سے ملحق ہندوستان کی سکھ ریاستوں سے بڑی تعداد میں سکھ فوجیوں کو کشمیر بلایا گیا تھا، جنہوں نے خاص طور پر جموں کی مسلم آبادی کا بے رحمانہ قتل عام کیا۔ کشمیری مسلمانوں پر مظالم کے سلسلے میں، 1947 میں پاکستان کے الحاق کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد کے دوران، پورے کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شہید ہوئے۔تاہم، یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے، جدید دور میں بھی یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ آج مقبوضہ جموں و کشمیر ظلم کا ایک خوفناک منظر بن گیا ہے، جہاں بھارتی افواج کی 14، 15، 16 بٹالین تعینات ہیں جن کی کل تعداد 9.5 لاکھ سے زائد ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔اس تعداد کا مطلب ہے کہ ہر 10 کشمیریوں کے لیے اوسطا ایک فوجی تعینات ہے۔ قار ئین کرام،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ وادی اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ ہے اور قابض افواج ظلم اور بربریت کی ایسی داستان رقم کر رہی ہیں کہ وادی میں مٹی کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں جس میں  شہیدوں کا خون شامل نہ ہو۔کوئی دریا ایسا نہیں جس میں کشمیری مسلمانوں کا خون نہ بہتا ہو، وادی میں کوئی گھر ایسا نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہو اور کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جسے قابض افواج نے تشدد کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ ان مظالم کے علاوہ بھارت نے کئی کالے قانون نافذِعمل کئے ہوئے ہیں جس کے ذریعے وہ کشمیریوں کی آزادی جدوجہد کو کچلنا چاہتا ہے، جیساکہ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ، 1958 کے تحت، سیکورٹی فورسز کو مظاہرین کو کچلنے اور تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اپنے اختیار میں کسی بھی طریقے کو استعمال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی، چاہے ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کتنی ہی وسیع ہو۔ یہ قانون 1990 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا تھا، جب کشمیریوں کی مسلح تحریک عروج پر پہنچ چکی تھی اور مرکزی حکومت کے پاس ان کو کچلنے کا کوئی حربہ نہیں تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح ایکٹ کے نفاذ پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ وغیرہ کی جانب سے حسبِ معمول رسمی طور پر شدید تنقید کی گئی، کیونکہ اس نے فوجی افسران کو اپنے مشن کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کی سرگرمیاں کرنے کا براہ راست اختیار دیا تاکہ مرکزی حکومتی احکامات اور حکمت عملی کو عملی جامہ پہنایا جائے اور  وہ ہر قسم کی قانونی کارروائی سے محفوظ رہے۔اس قانون کا انتہائی خطرناک استعمال 23 فروری 1991 کو کیا گیا، جب بھارتی فوج نے کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دو گاؤں کنان اور پوش پورہ میں رات کی تاریکی میں ایک رات کے سرچ آپریشن کے دوران مختلف عمر کی 100 سے زائد خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔قارئین کرام، جب میں کنان اور پوش پورہ کے واقعے کے بارے میں مطالعہ کر رہا تھا تومجھے معلوم ہوا کہ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 150 کے قریب تھی۔اس ضمن میں، ان تنظیموں کے دباؤ کے تحت، دہلی حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کی، لیکن ہمیشہ کی طرح، انہوں نے اس پر آنکھ بند رکھی اور اسے بے بنیاد قرار دیا اور ملوث  فوجیوں کو بری کر دیا تھا۔در حقیقت، پچھلے 74 سالوں سے، بھارتی افواج مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے، لیکن بھارت ہمیشہ راہِ فرار اختیار کرتا رہا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد اس کا جواب یہ رہا ہے کہ یہ صرف ایک من گھڑت کہانی ہے یا پروپیگنڈا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کو بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے اور وہاں کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔بھارت کا یہ رویہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم کی بہت سی داستان ہیں، بھارت کسی مبصر کو  مقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت نہیں دیتا کہ کہیں وہ واقعات سے پردہ نا اٹھا دے اور اس کے جھوٹے دعوں کی کلی کھل نہ جائے۔ لیکن پھر بھی کشمیری نوجوان سماجی رابطہ کی ویب سائٹ کے ذریعے دنیا کو ان حالات اور واقعات سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم، 5 اگست 2019 کے بعد سے، کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی مانگ یہ بھی ہے کہ ہندوستان غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کرے اور حقِ خود ارادیت کا حق دے تاکہ وہ اپنی مرضی سے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ قارئین کرام! میری رائے میں، بھارت کی جانب سے کرفیو، لاک ڈاؤن، جبر اور تشدد جیسی حکمت عملی ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیرکے لوگوں کو بھگتنا پڑی ہے۔ میں سمجھتا  ہوں کہ اِس طرح کے اقدامات انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور انہیں اپنے مطالبات اور مشن کو ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں کرفیو لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ واضح رہے، اکتوبر 1947 میں ہندوستانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ٹیلی گرام بھیجا اور کھلے عام اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی اور رائے نہیں۔لیکن، اس کے برعکس وقت گزرنے کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہے کہ، یہ محض ایک کھوکھلا بیان تھا۔ اس کے علاوہ، جب بھارت اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے گیاتو بھارت نے عالمی برادری سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ایک منٹ لگے گا۔ لیکن، ہندوستان کا یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔اب ایک طرف بھارتی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے اور دوسری طرف وہ کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑڈھا رہی ہے۔قارئین کرام! اقوامِ عالم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔آزادی ِ جدوجہد کے عظیم رہنما سید علی شاہ گیلانی کی وفات کے بعد سے بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں پر مظالم کی ایک نئی لہرکاآغاز کر دیا ہے۔ ہندوستانی قابض افواج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہی ہیں۔ حال ہی میں، سرچ آپریشن کی آڑ میں، زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ صرف اکتوبر، 2021 کے مہینے میں اب تک درجنوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی قابض افواج نے جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہے۔ قا رئین کرام! یہ بات ہر ایک پرآشنا ہے کہ بھارت افغانستان میں ہزیمت اٹھانے کے بعد منہ چھپانے کے نت نئے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، ہندوتوا نظریے کے تحت بھارتی فاشسٹ حکمران حکومت، ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ”فالس فلیگ آپریشن” کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال سے ہٹائی جا سکے۔ آخر میں، بطور ڈویژنل صدر کشمیر یوتھ الائنس میں اقوامِ عالم سے پُر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے عملی اقدام کرے۔چونکہ، عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حقِ خود ارادیت دینے پر مجبور کرے۔ ورنہ،مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرنا اور کھوکھلے بیانات خطے میں سب سے بڑی تباہی کا باعث بنیں گے۔ 

    @MAkhter_

  • فیصلہ پارٹ نمبر 2    تحریر سکندر علی 

    فیصلہ پارٹ نمبر 2 تحریر سکندر علی 

    Twitter @cikandarAli

     یا شاید ایسا قسمت کے اتفاقات کا ہی نتیجہ تھا جو بلاشبہ اغلب ہوتے ہیں لیکن پچھلے دو سالوں میں کسی باعث ان کا کاروبار انتہائی غیر معمولی انداز میں چمکا تھا تھا۔ عملے کی تعداد دوگنی ہوئی ، آمدنی پانچ گنا پڑھی اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ترقی کی گئی ہنوز جاری تھا لیکن اس تبدیلی کے بارے میں وہ اپنے دوست کو کچھ نہیں بتا پایا تھا۔ شروع کے سالوں میں، شاید آخری بار اپنے تعزیتی خط میں، اس دوست نے جارج سے اصرار کیا تھا کہ وہ روس ہجرتکرے۔ نیز وہاں جارج کی کاروباری شاخ کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا تھا۔ اس حوالے سے جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ، وہ جارج کی موجودہ کاروباری سرگرمیوں کے موازنے میں بہت کم تھے۔ وہ دوست کو اپنی موجوره کاروباری کامیابی کے بارے میں بتانے سے چپچپاہٹ محسوس کرتا رہاتھا۔ نہ یہ بہتر لگتا تھا کہ اب سارے قصے کو نئے سرے سے بیان کیا جائے۔

    اس لیے جاری اپنے دوست کو خط میں ادھر ادھر کی غیر اہم باتیں لکھتا رہتاتھ جیسی باتیں ایسے کی کی پر سکون اور اردو استاتے ہوئے آدی کے ذہن میں آسکتی تھیں ۔ وہ تو بس یہی چاہتا تھا کہ اتنے بے عرصے میں اس کے دوست نے اپنے زہنی سکون کے لیے اس ملک سے متعلق اپنے ذہن میں جو تصور قائم کر رکھا ہے، وہ برقرار ہے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ جارج نے طویل وقفوں سے لکھے گئے تین بالکل مختلف خطوں میں ایک غیر اہم خص کی ایک میں ہی غیر اہم لڑ کی سے گئی ہو جائے کے واقہ تفصیل کے ساتھ بیان کیاحتی کہ اس کی توقع کے باکس اس کا دوست اس واقعے میں وقتی دی ظاہر کرنے لگا۔ جارج نے یہ بیان کرنے کے بجائے کہ مہینہ بھر پہلے اس کی فراولین فریڈا برینڈن قلڈ سے ، جوا بھی کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی تھی منگنی ہوئی تھی، دوست کو ایسی غیر اہم باتیں بتانے کو تری دی تھی مگیتر سے اپنی گفتگو میں وہ اپنے دوست اور اس کے ساتھ اپنے بھی تعلق کے بارے میں اکثر بات کرتا جو اس خط و کتابت کے دوران پیدا ہوا تھا۔ تو کیا ہماری شادی میں نہیں آئے گا۔ مجھے تمھارے دوستوں کے بارے میں جانے کا ہے۔ اس کی منگیتر نے کہا۔ میں اسے کیا پریشانی میں گرفتارنہیں کرنا چاہتا۔ جارج نے جواب دیا ” مجھے غلط مت سمجھو ۔ شاید وہ آئے گا ایسا لگتا ہے لیکن و محسوس کرے گا جیسے اس کا حق مارا گیا ہو۔ اسے ٹھیس پہنچے گی ۔ شاید وہ مجھ سے حسد کرے اور یقینا مز ید آزرده ہوجائے گا۔ اپنی مایوسی کا سامنا کرنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے سو اکیلا ہی نہیں نکل جائے گا۔ پھر سے اکیلا ہو جائے گا اس کا کیا مطلب ہے؟

    کیا تمھارے خیال میں اسے کسی طرح سے ہماری شادی کی خرنہیں ہو جائے گی ؟

    میں اس بات کو ہونے سے روک تو نہیں سکتا لیکن ایسا ہونا دشوارترین ہے، اس کا طرز زندگی ہی ایا ہے۔

    جارج تمھارے دوست اس قسم کے ہیں تو بہتر تقاته منگنی ہی نہیں 

    اس کام میں تو ہم دونوں شامل ہیں ۔ جو ہو گیا ہے، اسے بدلا نہیں جاسکتا۔ تب اس کے طویں برسوں کے دوران تیز تیز سانس لیتے ہوئے وہ کسی طرح کہ پی : ” بہرحال مجھے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے 

    تب اس نے سوچا اگر وہ اپنے دوست کومنگنی کے واقعے کے بارے میں بتادے اور امکان ہے کہ یوں وہ خود کو کسی اور پریشانی سے بچا سکے گا۔

    میں ایسا ہی ہوں اور اسے مجھے ایسے ہی قبول کرنا ہوگا۔ میں خود کو اس کے موافق بنانے کے لیے بدل نہیں سکتا ۔اس نے اپنے آپ سے کہا۔ اور اصل میں اس نے اپنے طویل خط میں جو وہ اتوار کی صبح لکھتا رہا تھا، اپنے دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں الفاظ میں اطلاع دی تھی: اختتام کے لیے میں نے سب سے بہترین خبر بچا کر رکھی ہے۔ میں نے شہر کے ایک متمول گھرانے کی لڑکی فراولین برینڈن فلڈ سے منگنی کر لی ہے۔ وہ لوگ تمھارے جانے کے کافی عرصہ بعد یہاں آباد ہوئے۔ اس لیے تم ان سے واقف نہیں ہوں۔ اس بارے میں آئندہ بھی تفصیل سے لکھوں گا لیکن آج کے لیے انا بنانا چاہتا ہوں کہ میں بہت خوش ہوں تمہارے اور میرے تعلق میں بس اتنا ہی فرق آیا ہے کہ اب تم مجھے ملو گے تو تمھیں مجھ جیسے عام دوست میں ایک آسودہ دوست ملے گا تم میری منگیتر کے بارے میں مزید بھی جائو گے، دو میں سلام کہہ رہی ہے اور جلد ہی خودبھی تھیں خط لکھے گی، ایک بچی عورت دوست کی طرح، جوایک غیر شادی شدہ شخص کے لیے بہر حال ایک خاص بات ہے۔ مجھے علم ہے بہت سی وجوہات ہیں تمھارے یہاں منانے کیلیکن کیا میری شادی ایک اہم موقع نہیں ہے جس کے لیے تم ان رکاوٹوں کو پس پشت ڈال دو اور لے چل او لیکن خیر جیسا بھی ہو ، وہی کرو جو تھیں، میری خواہش سے قطع نظر اپنے مطابق بہتر گئے اس خط کو ہاتھ میں لیے دیر سے جارج اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف کیے لکھنے کی کرسی پر بیٹا ہوا تھا وہ دیکھ ہی نہ پایا کہ گلی میں سے گزرتے ہوئے کسی واقف کار نے اسے ہاتھ ہلا کر ایک غائب مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا تھا۔

    (جاری ہے۔)

  • غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    اللہ تعالی ٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے ۔یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اسکے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔

    جامع ترمذی کی ایک حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا  جن لوگوں کو غصہ نہیں آتا اور جو اپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں میرے نزدیک اس نے اپنی زندگی جیت لی وہ جیسے چاہئے اپنی زندگی کو اپنے طور پر گزار سکتا ہے دنیا میں دو لوگ کامیاب زندگی گزارتے ہیں ایک جو صبر کرتے ہیں اور دوسرا جن کے دل میں رحم ہوتا ہے جن میں یہ دونوں صفات نہ پائ جائیں وہ غصے میں نہ تو صبر کر پاتے ہیں اور نہ ہی کسی پہ رحم  اور نتیجتاً جذباتی اور غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کی کیونکہ غصے میں انسان کو ہوش ہی نہیں ہوتا اپنے نفس پر قابو پانا سیکھئے خدا سے ڈریئے  اور اگر آپ کے کہئے ہوئے الفاظ سامنے والے کو برے لگے تو اور اس نے صبر کر لیا تو معاملہ پھر آپ کے اور خدا کے درمیان آ جائے گا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے مجھے جب خود غصہ آتا ہے تو میں قابو نہیں رکھ سکتا لڑائ قطع تعلقی کے ساتھ ساتھ گالم گلوچ پر بھی اتر آتا ہوں میں نے گزشتہ 22 رمضان کو ایک خبر پڑھی اخبار میں پشاور میں ایک شخص نے رمضان میں اپنی 6 سالہ بھتیجی کو صرف اس بات پہ فائرنگ کر کے قتل کر دیا کے وہ سو رہا تھا اور بچی شور کر رہی تھی اس کے آرام میں خلل پڑ رہا ہو گا جس کا اتنا غصہ آیا اس کو کے اس نے پھول جسیی ننھی معصوم کلی کو چار گولیاں تک مار دیں اور اپنے لیے رحمتوں اور مغفرتوں کے مہینے میں ایک فرض کی تکمیل کرتے ہوئے جہنم خرید لی آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا یار مجھے غصہ بہت آتا ہے اپنے غصے پر قابو پانا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ غصہ آگ ہے یہ دماغ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھوڑی دیر کیلئے چھین لیتا ہے غصے کا آغاز حماقت اور انجام پچھتاوا ہے غصے میں انصاف ہر گز نہیں ہو سکتا اور غصے میں کئے گئے فیصلے کبھی درست ثابت نہیں ہوتے یہ ہنستے بستے گھر اجاڑ کے رکھ دیتا ہے گھر میں کوی بے قاعدگی ہو جائے تو آپکو شدید غصہ آتا ہے اچھا خاصہ گھر پانی پت کا میدان بن جاتا ہے لیکن آپ اگر دفتر میں کوے غلطی کریں تو آپ کو جھاڑ پلائ جائے تو آپ برداشت کر لیتے ہیں اس انتہائ ناپسندیدہ صورتحال میں بھی آپ اپنے غصے پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا سیدھا اور صاف جواب یہی ہے کے غصہ آتا نہیں بلکہ کیا جاتا ہے غصہ آئے یہ کیا جائے دونوں صورتحال میں غصہ اچھی چیز نہیں ہے بزرگوں نے اس سے بچنے کی تلقین کی آدمی کس کس بات کا رونا روئے غصہ تو بہت ساری باتوں پر آتا ہے آج وطن عزیز میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں بہت سے سقراط بقراط اور ارسطو اپنے نام نہاد زریں خیالات سے قوم کو نواز رہے ہیں لیکچر پہ لیکچر دئے جا رہے ہیں الکٹرانک میڈیا پہ لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں دانشوریاں بکھیری جاتی ہیں پاکستان کی زبوں حالی پر مگر مچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اس کی ترقی کے حوالے سے اپنے سستے جذبات کی تشہیر کی جاتی ہے ان لوگوں کی باتیں سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کے پاکستان اور اس کی مظلوم عوام کے غم میں یہ بے چارے گھلے جا رہے ہیں اور ان کے شب وروز اسی سوچ میں گزرتے ہیں کبھی غور کیجئے کتنے لوگ جن کے پاس وسائل بھی ہیں اقتدار بھی ہے اگر وہ پسماندہ  عوام کی بہتری کیلئے کچھ کرنا چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں چند ماہ پہلے ایک عالمی سروے  سے معلوم ہوا ہر تیسرا شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے  عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی گیلپ گلوگل ایموشنز  رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آیا ہے یوں کہئے پوری قوم اس وبا میں مبتلا ہو چکی ہے نائ حلوائی قصائ نانبائی غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا نشے میں اپنے ہوش و حواس کھو چکا ہے کچھ لوگوں نے غصہ آنے کی ایک بڑی وجہ  ظلم اور ناانصافی کو قرار دیا ہے  یقینا  ہمارے  معاشرے میں جھوٹ کا چلن بہت عام ہو چکا ہے یہ ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑے بگاڑ اور بے برکتی کا سبب ہے ظالمانہ مناظر تو ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سکہ تو یہاں خوب چلتا ہے ایک مشہور چینی کہاوت ہے ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں ہمارے ہاں بھی یہی دستور ہے قانون کی پکڑ صرف غریب کیلئے ہے بڑے چوروں کو ہماری جیلوں میں وہ سہولتیں میسر ہیں جس کا غریب آدمی اپنے گھر میں بھی نہیں سوچ سکتا کچھ لوگوں کو دوسروں کی بدتمیزی اور غیر ذمہ داری پر بھی غصہ آتا ہے لوگ گلیوں میں گندگی پھینک دیتے ہیں جس طرف نظر اٹھتی ہے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں اگر کوئ روکنے یہ سمجھانے کی کوشش کریے تو تو آگے سے کہا جاتا ہے یار یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے یہ جملہ یقینا بہت زیادہ غصہ دلانے والا ہے ہم اپنے مادر وطن کی تحقیر ہر ہر وقت آمادہ نظر آتے ہیں اپنے پیارے وطن کی ہماری نظروں میں کوی وقعت ہوتی تو ہم ایسی بات کبھی بھی نہ کہتے معاشرتی اخلاقیات کا فقدان ہے بڑی بڑی شاہراوں پر ٹریفک پولیس کی موجودگی میں قانون توڑے جاتے ہیں مک مکا کی وجہ سے قانون کو کھیل سمجھا جاتا ہے قانوں کے رکھوالوں کی مٹھی گرم کرنے کا عام رواج ہے یہ سب وہ مذموم حرکتیں ہیں جنہیں دیکھ کر ہر شریف شہری کا خوں کھول اٹھتا ہے اس سب کچھ کے باوجود یہ بات بڑی خوش آئند ہے جنوبی ایشیا میں بسنے والے ایک ارب اسی کروڑ لوگوں میں سے ہم بائیس کروڑ پاکستانی سب سے ذیادہ خوش اور مطمئن ہیں اس خوشی اور اطمینان کی وجوہاٹ میں سے ایک بہت بڑی وجہ اللہ کی ذات پہ مکمل یقین اور بھروسہ ہے

    @saadakram_   twiter handle 

  • چھاتی کے سرطان سے آگاہی؛ چھاتی کا سرطان کیسے ہوتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہیں ؟  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    چھاتی کا سرطان یہ ہے کہ خواتین میں سب سے عام حملہ آور کینسر اور اس لئے کارسینوما کے بعد خواتین میں کینسر کی موت کی دوسری اہم وضاحت ہے۔چھاتی کا سرطان ایک بیماری ہے جس کے دوران چھاتی کے اندر خلیات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔چھاتی کے سرطان کی مختلف اقسام ہیں۔ کارسینوما کی قسم کا انحصار اس بات پر ہے کہ چھاتی کے اندر کون سے خلیات کینسر بن جاتے ہیں۔چھاتی کا سرطان چھاتی کے مختلف حصوں میں شروع ہوسکتا ہے۔ایک چھاتی تین اہم حصوں سے بنتی ہے: لوبلز، نالیاں اور جانوروں کے ٹشو۔لوبلوہ وہ غدود ہیں جو دودھ پیدا کرتے ہیں۔ نالیاں ٹیوبیں ہیں جو دودھ کو نپل تک لے جاتی ہیں۔جانوروں کے ٹشو (جو ریشے دار اور چربی دار ٹشو پر مشتمل ہوتا ہے) ہر چیز کو ایک ساتھ رکھتا ہے اور گھیر لیتا ہے۔زیادہ تر چھاتی کے سرطان نالیوں یا لوبلز میں شروع ہوتے ہیں۔ چھاتی کا سرطان خون کی شریانوں اور لمف شریانوں کے ذریعے چھاتی کے باہر پھیل سکتا ہے۔جب کارسینوما جسم کے دیگر حصوں میں پھیلتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس میں میٹاسٹائزڈ ہوتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی اقسام: چھاتی کے سرطان کی کئی مختلف اقسام ہیں، بشمول: ڈکٹل کارسینوما: یہ دودھ کی نالیوں کے اندر شروع ہوتا ہے اور یہ عام قسم ہے۔لوبلر کارسینوما: یہ لوبلز میں شروع ہوتا ہے۔ حملہ آور کارسینوما اس وقت ہوتا ہے جب کینسر کے خلیات لوبلز یا نالیوں کے اندر سے فرار ہو جاتے ہیں اور قریبی ٹشو پر حملہ کرتے ہیں۔اس سے کینسر کے جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔یہ کیسے ہوتا ہے؟ بلوغت کے بعد عورت کی چھاتی چربی، جانوروں کے ٹشو اور ہزاروں لوبلز پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ چھوٹے غدود ہیں جو دودھ پلانے کے لئے دودھ پیدا کرتے ہیں۔ چھوٹی ٹیوبیں، یا نالیاں، دودھ کو نپل کی طرف لے جاتی ہیں۔سرطان خلیوں کو بے قابو ہونے کا سبب بنتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے چکر میں معیاری مقام پر نہیں مرتے ہیں۔خلیات کی یہ ضرورت سے زیادہ نشوونما کینسر کا سبب بنتی ہے کیونکہ ٹیومر غذائی اجزاء اور توانائی کا استعمال کرتا ہے اور اس کے ارد گرد کے خلیوں کو محروم کرتا ہے۔چھاتی کا سرطان عام طور پر دودھ کی نالیوں یا دودھ کی فراہمی کرنے والی لوبلز کی اندرونی لائننگ میں شروع ہوتا ہے۔وہاں سے یہ جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی علامات: کارسینوما کی پہلی علامات عام طور پر چھاتی کے اندر گاڑھے ٹشو کے پڑوس یا چھاتی یا بغل کے اندر ایک گٹھلی کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔دیگر علامات میں شامل ہیں: بغلوں یا چھاتی کے اندر درد جو چھاتی کی جلد کے ماہانہ چکر پٹنگ یا لالی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، تقریبا ایک نارنگی کی سطح کی طرح ایک نپل سے خارج ہونے والی چونچوں میں سے ایک کے ارد گرد یا ایک پر دانے، ممکنہ طور پر خون میں ایک ڈوبا ہوا یا الٹا نپل چھاتی کے چھلکے کے سائز یا شکل کے اندر ایک تبدیلی، چھاتی یا نپل پر جلد کی چھلکا لگانا، یا اسکیلنگ کرنا زیادہ تر چھاتی کی گٹھلیاں کینسر زدہ نہیں ہوتی ہیں۔تاہم، خواتین کو معائنہ کے لئے ڈاکٹر سے ملنے جانا چاہئے اگر انہیں چھاتی پر گٹھلی نظر آئے۔اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتا ہے؟ چھاتی کے سرطان کا علاج کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔یہ چھاتی کے سرطان کی قسم اور اس کے پھیلنے کی حد تک پر منحصر ہے۔کارسینوما کے شکار افراد اکثر کافی خاموش علاج حاصل کرتے ہیں۔ سرجری: ایک آپریشن جہاں ڈاکٹروں نے کینسر کے ٹشو کو کاٹ دیا۔کیموتھراپی: کینسر کے خلیوں کو سکڑنے یا مارنے کے لئے خصوصی ادویات کا استعمال۔دوائیں اکثر گولیاں ہیں جو آپ لے رہے ہیں یا آپ کی رگوں میں دی جانے والی دوائیں ہیں، یا کبھی کبھی دونوں۔ہارمونل تھراپی: کینسر کے خلیات کو ان ہارمونز کو حاصل کرنے سے روکتا ہے جو انہیں بڑھنا ہوتا ہے۔حیاتیاتی تھراپی.: کینسر کے خلیوں سے لڑنے یا کینسر کے دیگر علاج سے ضمنی اثرات کو منظم کرنے میں مدد کرنے کے لئے اپنے جسم کے نظام کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔تابکاری تھراپی. کینسر کے خلیوں کو مارنے کے لئے اعلی توانائی کی شعاعوں (ایکسرے کی طرح) کا استعمال کرنا۔علاج کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، بشمول: کینسر کی قسم اور مرحلہ عمر، مجموعی صحت اور فرد کی ترجیحات ہارمونز کے بارے میں شخص کی حساسیت۔کسی فرد کے علاج کی قسم کو متاثر کرنے والے عوامل میں کینسر کا مرحلہ، دیگر طبی حالات اور انفرادی ترجیح شامل ہوں گے۔

    TA: @AhtzazGillani

  • لاکھ آبادی پر محیط مسائل میں جگڑا چولستان حکومت کی توجہ کا منتظر   تحریر: تنویر وگن

    لاکھ آبادی پر محیط مسائل میں جگڑا چولستان حکومت کی توجہ کا منتظر تحریر: تنویر وگن

    موجودہ حکومت نے چولستان میں کوئی بھی خاطر خواہ کام نہیں کیا تعمیر شدہ 450 سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار، پینے کا صاف پانی میسر نہیں

    700 کلومیٹر کی پٹی پر محیط چولستان اونٹ ، بھیڑ، بکری، گائے کے گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے سینکڑوں چکوک میں موجود سکولوں کی بھی بہت بڑی تعداد حکومتی سرپرستی نہ ہونے سے زبوں حالی کا شکار، وفاقی وزیرخزانہ ہاشم جواں بخت سے توجہ کا مطالبہ

    پاکستان کا سب سے بڑا صحرائی علاقہ چولستان جو 700 کلومیٹر کی پٹی اور 3 اضلاع ضلع رحیم یارخان، بہاول پور، بہاول نگر کے علاوہ سندھ کے کچھ علاقوں تک پھیلا ہوا ہے60 لاکھ ایکڑ پر محیط اس علاقے کی انسانی آبادی 3 لاکھ نفوس سے زائد پر مشتمل ہے جبکہ70 لاکھ سے زائد مویشی پاۓ جاتے ہیں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں چولستان میں 450 کلومیٹر سے زائد سڑکیں واٹر سپلائی کے لیے 1100 ٹوبوں کے علاوہ مختلف چکوک میں بجلی اور دیگر سہولیات مہیا کی گئیں مگر موجودہ حکومت نے چولستان میں کوئی بھی خاطر خواہ کام نہیں کیا تعمیر شدہ 450 کلومیٹر سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں 734 دیہاتوں پر مشتمل چولستان ( روہی ) وزیراعظم عمران خان اور پنجاب حکومت کی توجہ کا منتظر ہے چولستان کو ترقی دینے کے لیے 1976ء میں چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی CDA کا قیام عمل میں لایا گیا۔

    اس سے قبل 1959-60 میں لوگوں کو آباد کرنے کے لیے درخواستیں لے کر انہیں رقبے الاٹ کیے گئے سب سے پہلے گرومروفوڈ سکیم کے تحت 2 مربع اراضی ہر شخص کو الاٹ کی گئی 1960ء میں پھر ایک نوٹیفیکیشن کے تحت اس رقبہ کو ساڑھے 112 پکڑ کر دیا گیا چولستان جو 700 کلومیٹر کی پٹی پر محیط ہے یہ سندھ پنجاب بارڈر سے فورٹ عباس بہاول نگر تک پھیلا ہوا ہے اور بیشتر جگہوں سے اس سے انڈیا کی سرحد بھی ملتی ہیں، اونٹ، بھیڑ، بکری، گاۓ کے گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے چولستان پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے پہلے پہل ہر سال یہاں موجود ٹوبوں کے لیے باقاعدہ ترقیاتی فنڈز مہیا ہوتے تھے اور کچھ ٹوبوں کو کمپیوٹرائز کر کے ان کی بھل صفائی تک کا کام بھی ہوتا تھا

    مگر اب بھی ایسے سینکڑوں ترقیاتی منصوبے کھٹائی کا شکار ہیں جہاں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کے لیے بلڈنگز بناکر پائپ لائنیں تک بچھادی گئیں لیکن یہاں اس دور حکومت میں ان کو چالو نہ کیا گیا چونکہ روہی ( چولستان ) کا زیر زمین پانی کڑوا ہے اس لیے یہاں قدرتی ٹوبوں جو کہ بارش کے پانی کی وجہ سے آبادی اور جانوروں کو پینے کا پانی فراہم ہوتا ہے اس میں صفائی اور دیگر کئی معاملات کی وجہ سے ان علاقوں میں یرقان، گردوں کی بیماریوں سمیت دیگر کئی پیچیدہ امراض سر اٹھاتے ہیں اکثر اوقات ان علاقوں میں قحط سالی کا بھی ساں رہتا ہے۔

    ایک دہائی قبل چولستان میں مویشیوں کی افزائش اور انسانوں کی ترقی کے لیے خوراک تک حکومت اور دیگر اداروں کی طرف سے مفت تقسیم کی جاتی تھی مگر اب ایسا سلسلہ نہیں ہے 2014 میں ہونے والی خشک سالی کے باعث کئی انسان اور جانور لقمہ اجل بن گئے تب اس وقت کی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر چولستانی ترقیاتی ادارہ کو بہت بڑی تعداد میں فنڈز مہیا کیے اور علاقوں میں مویشیوں کے ہسپتالوں کے علاوہ موبائل ہسپتالوں کے لیے گاڑیاں تک فراہم کیں ان علاقوں میں سکولوں کی بھی بہت بڑی تعداد تھی جو حکومتی موثر سر پرستی نہ ہونے کے باعث آہستہ آہستہ زبوں حالی کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بعض علاقوں میں پٹہ ملکیت فی یونٹ فیس 700 روپے تھی اب یہ فیس 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے اور 1400 روپے کے عوض ملنے والی زمین اب 16 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے اس پر ستم ظریفی یہ بھی کہ ابھی تک چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ان کے ملازمین کو مستقل نہیں کیا جاسکا

    چولستان کے لیے علیحدہ کمپیوٹرائز ریکارڈ سینٹر اور نادرا سینٹر بھی قائم نہیں کیے گئے اور نہ ہی فلڈ سپلائی کے تحت چولستان کے پانی کو علیحدہ کر کے اس کا سیم نالہ علیحدہ کیا گیا ہے قبل از میں مسلم لیگ ن کے دور میں سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف ہمیشہ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین ہوتے تھے اور وہ خود اپنی نگرانی میں چولستان کی ترقی اور خوشحالی کے علاوہ یہاں نامناسب اور ناموجود سہولیات کو دیکھ کر وقت کے مطابق انہیں فنڈز بھی مہیا کرتے تھے۔ لیکن صحیح بات تو یہ ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد چولستان میں اس طرح سے ترقیاتی کام اور انسانی و جانوروں کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے اب صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم باشم جواں بخت کا تعلق نہ صرف سرائیکی وسیب کے ضلع رحیم یار خان سے ہے بلکہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت ان کا تعلق اس سیاسی گروپ سے بھی ہے

     جنہوں نے جنوبی پنجاب سرائیکی وسیب کے استحصال شدہ علاقوں کی ترقی کا وعدہ کیا تھا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ وہ چولستان کو محض ایک صحرا کے طور پر جانتے ہوۓ اس کو نظر انداز نہ کریں بلکہ چیئرمین چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی مخدوم ہاشم جواں بخت تینوں اضلاع میں اس ریگستانی پٹی کے ان سینکڑوں چکوک کا خصوصی دورہ کریں۔ جہاں پر بہت بڑی آبادی قائم ہے اور وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور جو سڑکیں بن کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، پینے کے صاف پانی کے علاوہ سکولوں اور ہسپتالوں میں ناموجود سہولیات کی فراہمی کو بھی پورا کرلیں۔

    Twitter account @WaganMir