Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • غرور کا سر نیچا  تحریر۔ نعیم الزمان

    غرور کا سر نیچا  تحریر۔ نعیم الزمان

    بلآخر پاکستان نے آئی سی سی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں بھارت کو شکست دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ کے کوالیفائی راؤنڈ کے بعد سپر 12 راؤنڈ کا آغاز ہو چکا ہے۔ پاکستان نے اپنے پہلے میچ میں روایتی حریف بھارت کو  عبرتناک شکست سے دو چار کیا۔ موقع موقع کے ٹرینڈ چلانے والوں کو پاکستان کے خلاف نہ کھل کر بیٹنگ کرنے کا موقع ملا اور نہ ہی پاکستانی بیٹسمینوں کی وکٹیں لینے کا موقع ملا۔ پاکستان کا ٹاس جیت کر  پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کارآمد ثابت ہوا۔  شائین شاہ آفریدی کی تیز اور سوئنگ بولنگ کے سامنے انڈین اوپنر ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ شائین شاہ آفریدی نے پہلے ہی آور کی چوتھی گیند پر روہیت شرما کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔ روہیت شرما بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹے۔ اور شائین شاہ آفریدی نے اپنے دوسرے آور کی پہلی ہی گیند پر لوکیش راہول کو کلین بولڈ کیا۔ محض چھ سکور پر انڈیا کے دو مستند  اوپنر پویلین لوٹ چکے تھے۔ شائین کے بہترین سپل کی بدولت پاکستان نے انڈیا پر اچھا خاصا پریشر بنا لیا تھا۔ جس سے نکلنا کافی مشکل تھا۔ پاکستانی بولرز نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کو 20 آوروں میں سات وکٹوں کے نقصان پر  151 رنز تک محدود رکھا۔ پنت اور ویرت کوہلی کی پارٹنر شپ کے علاوہ کوئی بھی بیٹسمین پارٹنر شپ لگانے میں ناکام رہے۔ پنت 39 رنز بنا کر شاداب خان کی گوگلی کا نشانہ بننے۔ اور ویرات کوہلی 57 رنز بنانے کے بعد شائین شاہ آفریدی کی گیند پر  رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ شائین شاہ آفریدی نے 31 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ حسن علی تھوڑے مہنگے ثابت ہوئے انہوں نے 44 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ شاداب خان  نے 22 رنز اور حارث راؤف 25 رنز دے کر ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کی بہترین بولنگ کی بدولت انڈیا کی مظبوط بیٹنگ لائن 20 آوروں میں 151 رنز بنا سکی۔  152 رنز کے تعاقب میں پاکستان کی اینگز کا آغاز کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے کیا۔  دونوں اوپنرز نے نہایت ہی عمدگی کے ساتھ بہترین کھیل پیش کیا۔ اینگز کی پہلی بال سے لے کر میچ جیتنے تک بغیر کسی پریشر کے کھیلے۔ اور پاکستان کو دس وکٹ سے جیت دلوائی۔ بابر اعظم دو چھکوں اور چھے چوکوں کی مدد سے 68 رنز اور محمد رضوان تین چھکوں اور چھے چوکوں کی مدد سے 79 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔ پاکستان نے 17.5 آوروں میں بغیر کسی وکٹ کے 152 رنز کا ہدف پورا کیا۔ انڈیا کو پہلی بار دس وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پاکستان کی آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں ہائیسٹ اوپنر پارٹنر شپ تھی۔ اور  یقیناً پوری قوم اس فتح کا انتیس سال سے انتظار میں تھی۔ پاکستان کی ٹیم نے جوش وجذبے محنت اور لگن سے اچھا کھیل پیش کرتے ہوئے انڈیا کے غرور کو خاک میں ملایا۔ الحمدللہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے پاکستان کی اس ٹیم نے انڈیا کو عبرتناک شکست سے دو چار کیا جسے خود بہت ساری پریشانیوں کا سامنا تھا۔ نیوزی لینڈ کا دورہ منسوخ ہوا انگلینڈ نے پاکستان آنے سے معذرت کی۔ کوچز مستعفی ہو ئے۔ ان سب مشکلات سے دو چار  پاکستانی ٹیم نے دنیا کی بہترین مانے جانے والی ٹیم کو بڑی شکست سے دو چار کیا۔ اس بہترین کارکردگی  پر سابق ‏ویسٹ انڈیز کرکٹر اور کمنٹیٹر آئن بشپ نے شاہین آفریدی کو دنیا کا بہترین باؤلر قرار دیا UAE میں کھیلے جانیوالے پاک بھارت میچ میں کمنٹری کےدوران انکا کہنا تھا کہ میری نظر میں شاہین آفریدی موجودہ باؤلرز میں سب سے بہترین ہیں۔ وہ صرف ٹی ٹونٹی ہی نہیں بلکہ ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ اور بھی بہت سارے سابق کرکٹر نے  میچ کے بعد  اپنے اپنے ٹویٹس میں کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کی بھی خوب تعریفیں کی۔  بڑی عرصہ کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دیکھی۔ اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں نے شوشل میڈیا پر ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔ صدر ، وزیراعظم اور آرمی چیف نے بھی ٹیم کی کامیابی پر  مبارکباد پیش کی۔ مگر چند اقتدار کے بھوکے پیاسے اس جشن پر بھی سیاست سے باز نہ آئے۔ اللہ پاک ہدایت بخشے ایسے عناصر کو۔ انڈیا کی طرح ان کو بھی پاکستان کی جیت ہضم نہیں ہو سکی۔ پاکستانی شائقین نے موقع موقع کے مقابلے میں ٹھوکا ٹھوکا گنگنا کر خوب جشن منایا۔ جہاں پورا پاکستان انڈیا کے خلاف جیت پر جشن منا رہا تھا وہاں مقبوضہ کشمیر کی عوام نے بھی پاکستان کی جیت کا خوب جشن منایا۔ پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔

      اس سارے معاملے کے بعد جہاں انڈین ٹیم کو انڈین عوام کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہاں ہی انڈین ٹیم سے تعلق رکھنے والے مسلمان کھلاڑی محمد شامی کو کافی تنقید اور گالیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ختی کہ شامی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہا گیا۔ اور ان کو ٹیم سے نکالنے کی ڈیمانڈ کی جا رہی ہے۔  خدارا کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ اس کامیابی کے بعد کپتان بابر اعظم نے ٹیم کی سپورٹ اور دعاؤں پر پوری قوم کا شکریہ ادا کیا ۔ اور قوم سے مزید دعاؤں کی اپیل کی۔  اللہ پاک سے دعا ہے کہ  ملک پاکستان کو کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے۔ چاہیے کھیل ہو معیشت اور سیاحت ہو  اللہ پاک پاکستان کو ہر محاذ پر فتح نصیب فرمائے۔ امین 

  • شاکر ساکوں معاف چا کر! تحریر زکیہ نیر

    ارمان ہے شاکر ایں گَل دا
    ساڈا یار ہوندا اَساں کیوں رُلدے ۔۔۔
    شاکر شجاع آبادی ادب کی دنیا کا ایسا ستارہ جسکے بنا شاید ہی سرائیکی شعر کی منزل تک کوئی پہنچ سکے ہیرے جیسے شعر لکھنے والا سونے جیسے گیتوں کا خالق تخیل اتنا قیمتی کہ شعر شعر انمول آج انہیں ایک موٹر سائیکل پر ایک کپڑے سے بندھا دیکھا یعنی ادب کا امیر آج اتنا غریب ہوا کہ کسی کرائے کی گاڑی تک میں بیٹھنے کو پیسے نہیں جیب خالی اور مرض مہنگا ۔۔۔ایسے میں سرائیکی ادب کی پہچان شاکر کو زمانے کے رحم وکرم پہ رُلتے دیکھا۔۔۔جب سے ویڈیو دیکھی سمجھ نہیں آرہی کہ کس سے گلہ کروں کس کو دہائی دوں کونسا ایسا ادارہ ہے جو فنکاروں کی حالت زار پہ انہیں سہارا دیتا ہے وہ فنکار جو اپنے فن سے لاکھوں دلوں میں گھر کرتے ہیں وہ در بدر کیوں ہیں کہاں شاکر کی عرضی لے کر جاؤں۔
    شاکر شجاع آبادی کا اصل نام  شفیع محمد شجاع آبادی ہے جبکہ تخلص شاکر۔۔۔ان کا تعلق ملتان سے ستر کلو میٹر دور شجاع آباد کے ایک گاؤں راجہ رام سے ہےشاکر 1968 میں پیدا ہوئے 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں نصابی تعلیم نہ ہونے کیوجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے مگر شاعری انہوں نے ریڈیو سن کر سیکھی وہ سرائیکی خطے میں پیدا ہوئے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ سرائیکی عوام کو محرومیوں میں رکھا گیا اور وہ اپنی شاعری کے زریعے انکی محرومیوں کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچائیں گے۔۔انہیں عشق کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے انہوں نے ساری زندگی غربت دیکھی انکے شعروں کو سراہا ضرور گیا جس پر انہیں کئی ایوارڈز بھی دئیے گئے مگر حالات بدلنے کی نہ کوشش کی گئی نہ ہی اس بارے سوچا گیا۔
    ہِک شاکر تھی برباد گئے
    ڈوجھے تبصرے کھا گئے لوکاں دے۔
    انکے دوہڑے کئی سیاستدان اپنے جلسوں میں پڑھتے رہے ایک بار تو مریم نواز صاحبہ نے خود کو انکی مداح بھی کہا دو بار صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا انکی تصانیف میں کلام شاکر،پیلے پتر،پتھر موم،
    لہو دا عرق،شاکر دے ڈوہڑے،شاکر دے قطعے،بلدیاں ہنجوں،پتہ لگ ویندے،شاکر دے گیت،شاکر دیاں غزلاں،منافقاں توں خدا بچاوے،اور شاکر کی اردو غزلیں شامل ہیں۔۔انہی سخی لکھاری بھی کہا جاتا ہے ایک ایسا شاعر جسے کبھی کوئی چاہ نہ رہی لوگ کہتے شاکر کسی وزیر مشیر سے بیٹوں کی نوکری ہی مانگ لو مگر وہ شاکر ہی کیا جو بے نیازی میں سر نہ جھٹک دے  کہتا حاکمو جس حال میں بھی رکھو شاکر شاکر ہی رہے گا اپنی ساری زندگی میں کبھی شاکر شجاع نے کسی کی شان میں قصیدے نہ لکھے نہ ہی کسی کے لیے تعریفی کلمات کہے۔۔
    بے وزنی ہیں تیڈی مرضی ہے بھانویں پا اچ پا بھانویں سِر اچ پا
    یا چَن دی چٹی چاندنی وچ بھانویں رات دے سخت ہنیر اچ پا
    پا کہیں دشمن دی فوتگی تے یا جھُمر دے کیں پھیر اچ پا
    راہ رُلدے شاکر کنگن ہیں بھانویں ہتھ اچ پا بھانویں پیر اچ پا۔
    بدقسمتی سے شاکر شجاع آبادی پہلے فنکار نہیں جو حکومتی بے حسی کے حصار میں ہیں یہاں کئی فنکار جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے پاکستان کا نام روشن کرنے میں اپنے فن کا  نقطہ  نقطہ دان کیا جن کے فن سے لوگ محظوظ ہوتے رہے مگر جب بھی ان جگمگاتے ستاروں پہ برا وقت آیا ریاست نے کمر ہی دکھائی کئی فنکار غربت اور تنگدستی میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے۔۔۔حکومتیں آتی رہیں جاتی رہیں مگران لوگوں کے لیے کوئی ایسا فنڈ نہیں رکھا جاتا کہ جب ان پر بیماری یا کوئی مصیبت کی گھڑی آئے تو یہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں نہ ہی انکی فلاح کے لیے کوئی ادارہ قائم کرنے کا خیال آیا۔۔۔انکا حق بنتا ہے کہ انہیں انکے فن کاصلہ ریاست کی جانب سے دیا جائے بے حسی کی انتہاء ہے شاکر کی حالت زار دیکھ کر سوال تو جنم لیتے ہیں کہ کیا اس مملکت کے تمام مالی وسائل امراء اور حکمرانوں کے لئے ہیں کیا اس بے بس اور غریب شاعر کا اس ملک پر کوئی حق نہیں ہے دعوے تو ہر بار سینہ تان کے کیے جاتے ہیں کہ کلچر فنڈز میں ادب سے تعلق رکھنے والوں کو بھی حق ادا ہونگے  مگر شاکر جیسوں کی سسکتی زندگی دیکھ کر صرف سینہ ہی پیٹا جاسکتا ہے
    بندے ڈیکھ کہ روندیں زندگی کوں
    میکوں ڈیکھ کہ زندگی رو پئی ہے۔
    شاکر شجاع آبادی صاحب ہم شرمندہ ہیں ہمیں چوہتر سال گزرنے کے بعد بھی آپ جیسے انمول فنکاروں کو عزت اور احترام دینا نہ آیا جو اس دھرتی ماں کی آبرو میں جھل مل کرتے ستارے رہے میری حکمرانوں سے ہاتھ جوڑ کر فریاد ہے شاکر اور اس جیسے کئی فنکار لوگ کسمپرسی میں حیاتی بسر کر رہے ہیں اٹھیے اور پہنچیے انکے آس کے جھونپڑوں میں اور دیکھیے جو زیست وہ گزار رہے اسکے حقدار ہیں کیا۔۔۔پھر کل کو جب وہ نہیں رہیں گے تو آپ انکے نام پر سیمینارز منعقد کراؤ گے مشاعرے سجائے جائیں گے  ایوارڈز تقسیم کرو گے اور تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دوگے مگر کیا فائدہ مرنے کے بعد کس نے دیکھا کہ کسی چوراہے پہ اسکے نام کی تختی لگا کر اسے اعزاز بخشا جارہاہے جو کرنا ہے انکی زندگی میں کیجیے تاکہ انہیں بھی فخر ہو کہ جس مملکت کی آبیاری میں انکے فن کے لطیف احساسات بھی شامل ہیں اس ریاست نے بڑھ کر ایسے مالیوں کے گلے لگا لیا ہے۔
    اساں مفت اِچ شاکر رُل گئے ہیں
    جڈاں ویسوں مر ساڈا مُل پوسی۔
    میرا ایک شعر شاکر صاحب کے لیے کہ
    شاکر اساں شرمسار بہوں
    توں ظرفاں آلا ساکوں معاف چاکر
    اساں تیڈی حیاتی رُلدی ڈیکھی
    تُوں قلماں آلا ساکوں معاف چا کر
    توں مر کہ ڈیکھ اساں عزت ڈیسوں
    تُوں صبراں آلا ساکوں معاف چا کر۔

    @NayyarZakia

  • اخلاقیات اور بدمزاجی تحریر افشین

    تلخ مزاج ہونا ، بات کرتے وقت لہجے کا سخت ہونا ۔ نا خوشگوار حالات انسان کو تلخ مزاج بنا دیتے ہیں ۔ زندگی میں رونما ہونے والے واقعات جن سے دل آزاری ہوئی ہو انسان کو بدمزاج بنا دیتے ہیں ۔اخلاق بہتر بنائیں ۔ اخلاق بہتر بنانے سے مراد روحانی طور پہ خود کو بہترین بنائیں صرف دکھاوے کی غرض سے نہیں ۔
    بہت سے افراد کا لہجہ مخاطب ہوتے وقت شہد جیسا ہوتا ہے اتنا میٹھا کے ہر کوئی انکا گرویدہ ہوتا ہے انکی باتوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ اور ایسا انسان اپنی میٹھی باتوں سے دوسروں کے دل پہ راج کرنے لگتا ہے اور ہر کام کروا سکتا ہے ۔ جب کہ تلخ مزاج انسان سے ہر کوئی دوری اختیار کرتا ہے ۔ کوئی بھی اسکو سمجھنے کو کوشش نہیں کرتا۔ وہ ایسا بدمزاج کیوں ہے ؟ انسان کو املی کی طرح کھٹا میٹھا ہونا چاہیے ۔بہت میٹھا بھی صحت کے لیے مضر ہے ۔ایسے لوگ بھی معاشرے میں موجود ہیں کہ جنکا انداز گفتگو ایسا ہوتا ہے کہ انکے اچھے اخلاق، بات کے انداز سے متاثر ہوکے لوگ انکے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں ۔ لوگ اچھا اخلاق دوسروں کے سامنے ظاہر کر کے خود کو اعلی مثال پیش کرتے ہیں ۔حقیقت میں وہ اپنے اس انداز سے صرف دوسروں کا استعمال کرتے ہیں۔ایک اچھا انسان کبھی بھی ایسے نہیں کرتا ۔ لہذا خود کو دکھاوے کی غرض سے بہترین نہ بنائے ۔
    انسان کو پرکھنا ہو تو اسکے میٹھے لہجے سے نہیں بلکہ اسکے دل کو دیکھیے وہ سچ بولتا ہے، رحم دل ہے ، دوسروں کی مدد کرتا ہے، دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے سب پہلو دماغ میں رکھ کے اسکے جاننے کی کوشش کریں۔ صرف لہجوں سے انسان کی پہچان نہیں ہوتی ۔انسان کی جو فطرت ہو وہ کبھی نہیں بدل سکتی نا میٹھے لہجے کے پیچھے نا کرواہٹ لہجوں میں ، ہمیشہ وہی رہے جو آپ حقیقی معنوں میں ہیں ۔بہترین اخلاق وہی ہیں جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔ کہیں لوگ گھر سے باہر اچھا انسان ہونے اور اپنی مثال قائم کرنے میں لگے ہوتے ہیں اپنی برائیاں چھپائے دنیا کی نظر میں اعلی ظرفی کا مقام پاتے ہیں ۔
    اللّلہ پاک کی نظر میں اعلی مقام والا وہی ہے جو کسی کا دل نہ دکھائے سچا مومن ہو ظاہری مومن تو ہر کوئی بنا ہوا ہے ۔ اخلاق بہترین بنائیں بزرگوں کا احترام کریں۔ بچوں سے پیار سے پیش آئیں ۔ رحم دلی، ایمانداری اور سچائی کے پیروکار بنے ۔ اللّلہ سب دیکھتا ہے دنیا کے سامنے اچھا بننے کا ناٹک نہ کریں جو آپ حقیقی طور پر ہیں وہی رہیں ۔ کرواہٹ سے بات نہ کریں جس سے کسی کی دل آزاری ہو ۔ لفظوں سے زیادہ لہجے اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر آپ دنیا کی تلخیاں برداشت کر کے سخت مزاج ہو چکے ہیں پھر بھی آپ اپنے لہجے پہ قابو رکھیں ۔اختتام پہ اتنا ہی کہنا چاہوں گی ۔ جو انسان اپکے ساتھ بہت ہی میٹھا ہے اس سے بچاؤ رکھیں ۔ کیونکہ انسان کوئی بھی اتنا خوبیوں کا مالک نہیں ہوتا کوئی بھی اتنا پرفیکٹ نہیں ہوتا کہ جس کو ساری زندگی آپ اسکو کبھی غصے میں نہ دیکھا ہو ۔ ایسا انسان کوئی ہو ہی نہیں سکتا جس کو غصہ نہ آتا ہو ۔ یا جس میں کوئی بھی برائ نہ پائی جاتی ہو ۔ میٹھا لہجہ ایک جال ہوتا ہے جس میں پھنسنے سے بچیں ۔ ایسے لوگ وقتی طور پہ اپکے سکون کا باعث بن سکتے ہیں اپکی ہاں میں ہاں ملا کہ اپکو خوش کرتے ہیں ۔ منافقت سے بچیں ۔ منافق لوگ ظاہری اچھے اندرونی زہریلے ہوتے ہیں ۔دوسروں کو آپ اپنی باتوں سے متاثر بس وقتی طور پہ کر سکتے ہیں ۔ اپنے اچھے اخلاق سے آپ ہمیشہ کے لیے دوسروں کے دلوں میں رہ سکتے ہیں زندگی میں بھی آپکو اچھا کہا جاتا ہے اور مرنے کے بعد بھی اچھا انسان سمجھ کے یاد کیا جاتا ہے ۔ اخلاقیات کو جانے اور سمجھے لہجوں سے پرکھنے اور دل سے کسی کو جان لینے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔
    "رشتے کھٹے میٹھے ہی ہوتے ہیں ، منافق رشتے کبھی بھی سگے نہیں ہوتے ”

    @Hu__rt7

  • پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ تحریر: فضل عباس

    پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ تحریر: فضل عباس

    ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ سے قبل ہی تمام لوگوں کی نظروں کا محور دو میچز تھے ایک پاکستان بمقابلہ انڈیا دوسرا پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ پہلے معرکے میں تو پاکستان نے شاندار فتح حاصل کر لی کیا دوسرے مقابلہ میں پاکستان اسی طرح فتح کا جھنڈا گاڑے گا؟ اور اس مقابلے کی اہمیت کیا ہے؟ پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ اتنا اہم کیوں ہو گیا ہے؟ پاکستانیوں کے لیے یہ میچ زیادہ دلچسپی کا باعث کیوں ہے؟ اس سب پر آج بات کرتے ہیں

    ورلڈ کپ سے تھوڑا عرصہ قبل پاکستان نے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے دو اہم سیریز کھیلنی تھی ایک سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف اور ایک سیریز انگلینڈ کے خلاف نیوزی لینڈ پاکستان آئی سب انتظامات انتہائی زبردست طریقے سے سنبھالے گئے لیکن جوں ہی میچ کا دن آیا نیوزی لینڈ نے سیکورٹی کا بہانہ بنا کر کھیلنے سے انکار کر دیا اور واپس نیوزی لینڈ روانہ ہوگئی اس قدم نے پاکستانی قوم میں غم وغصہ پیدا کر دیا اور ورلڈ کپ میں پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ میچ کی اہمیت کو کئی گنا زیادہ کر دیا

    اب ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے کہ اس بھگوڑی ٹیم کو بھی اسی طرح اوقات میں لایا جائے جیسے انڈیا کا غرور توڑا اسی طرح نیوزی لینڈ کا غرور بھی خاک میں ملایا جائے یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ انتہائی دلچسپی کا باعث بنا ہے پاکستانی قوم کو شاہینوں سے قوی امید ہے کیویز کو دبوچنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آۓ گی

    اس میچ میں کھیل کے ساتھ پاکستان کا جذبہ بھی عروج پر ہو گا
    اگر دونوں ٹیموں کا موازنہ کریں تو پاکستان نیوزی لینڈ کی نسبت زیادہ طاقتور نظر آتی ہے اس کی مختلف وجوہات ہیں ان کو بیان کر کے ٹیمز کا موازنہ کرتے ہیں

    متحدہ عرب امارات پاکستان کا ہوم گراؤنڈ رہا ہے تو اس لیے پاکستان یہاں نہایت مضبوط ٹیم ہے پاکستان کے لیے یہاں کھیلنا گھر پر کھیلنے جیسا ہے پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر 12 انٹرنیشنل ٹی ٹوئینٹی میچز کھیلے ہیں اور سارے جیتے ہیں یہ پاکستان کے لیے باعث اطمینان ہے یہاں کی وکٹ پاکستان کے لیے سازگار ہے نیوزی لینڈ یہاں مشکلات کا شکار رہتا ہے پاکستان ان میدانوں کی چیمپیئن ٹیم ہے پاکستان یہاں کا بے تاج بادشاہ ہے اس لیے پاکستان نہ صرف اس میچ کے لیے بلکہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے نہایت شاندار ٹیم ہے

    نیوزی لینڈ ٹیم کی طاقت کی بات کی جائے تو سب سے اہم ان کا کپتان کین ولیمسن ہے کین ولیمسن ایک مستقل مزاج کپتان اور شاندار بیٹسمین ہیں ان کی کارکردگی ہمیشہ اعلیٰ رہی ہے وہ کسی بھی ٹیم کے لیے خطرہ ہیں پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے انہیں جلد سے جلد آؤٹ کرنا ہو گا اس کے بعد جارحانہ مزاج بیٹسمین مارٹن گپٹل بھی نہایت شاندار بیٹسمین ہیں اگر وہ اچھا کھیلتے ہیں تو یہ نیوزی لینڈ کے لیے شاندار ثابت ہو سکتا ہے باؤلنگ میں اش ساؤدھی اسپن اٹیک اور ٹم ساؤتھی فاسٹ باؤلنگ اٹیک کی کمان سنبھالیں گے

    پاکستان ٹیم کی بات کریں تو ایک سے بڑھ کر ایک شیر ہے پاکستان کے کپتان پاکستان کی شان بابر اعظم دنیائے کرکٹ پر راج کر رہے ہیں پوری دنیا میں بابر اعظم کے چرچے ہیں بابر اعظم پاکستان کے کپتان کے ساتھ اوپنر بھی ہیں ان کے ساتھی اوپنر محمد رضوان انتہائی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں شاندار بیٹنگ بہترین وکٹ کیپنگ کے ساتھ پاکستان ٹیم کی شان ہیں ان کے بعد نمبر آتا ہے فخر زمان کا فخر زمان جارحانہ مزاج بیٹسمین ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں ان کے بعد شعیب ملک اور محمد حفیظ پاکستان کے سینیئر کھلاڑی ہیں ان کی موجودگی پاکستان کے لیے باعث فخر اور باعث اطمینان ہے اس کے بعد آصف علی کا نمبر آتا ہے آصف علی انتہائی زبردست پاور ہٹر ہیں جو ایک اوور میں میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کے بعد پاکستان کے آل راؤنڈرز آتے ہیں شاداب خان اور عماد وسیم انتہائی زبردست باؤلنگ کے ساتھ شاندار بیٹنگ کر کے پاکستان ٹیم کو کئی فتوحات دلوا چکے ہیں اور اس طرح پاکستان کا نام روشن کرتے آۓ ہیں فاسٹ باؤلرز کی نمائندگی پاکستان کی جان شاہین آفریدی کرتے ہیں جو بہترین رفتار کے ساتھ بال کو سوئنگ کرنے کا ہنر جانتے ہیں ان کے ساتھ سینیئر فاسٹ باؤلر حسن علی موجود ہیں جو پاکستان کو فتح دلانے میں پیش پیش ہوتے ہیں ان کے ساتھ حارث رؤف پاکستان کے اسپیڈ اسٹار ہیں ان کی شاندار رفتار، بہترین یارکررز اور نایاب مگر زبردست سلو بالز ان کی پہچان ہیں اس طرح پاکستان ایک مضبوط اور مکمل ٹیم ہے

    اس سب کو دیکھتے ہوئے بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ان شاء اللہ نیوزی لینڈ کو ہرانے میں کامیاب ہو گا

  • اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ تحریر: علی حمزہٰ 

    اللّٰه تعالیٰ نے اس دنیا میں کم و پیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ ان میں سے کسی نا کسی پر کتاب یا صحیفے نازل فرمائے اور اپنے دین کے کام کے لیے کسی نا کسی جگہ پر اُتارا اور وہ آکر لوگوں کو اللّٰهِ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے۔ اللّٰه تعالیٰ نے اپنے دین کی ترویج و تقسیم کا کام حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا جو کہ ہم سب کے باپ ہیں۔ اور یہ سلسلہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبيين ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اسی طرح کلمہ طیبہ بھی اسی بات کی گواہی ہے اللّٰه تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔

    لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله

    ترجمہ:   

    اللّٰه کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

     اسی طرح تمام انبیاء کی سابقہ شریعتوں و طریقوں پر عمل کرنے کا انکار ہے (اس لئے کہ تمام شریعتیں شریعت محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم میں سموگئی ہیں) اور صرف اسوئہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کا اقرار ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ کو آخری نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ سلسلہٴ نبوت و رسالت کو آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ اب آپ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئیگا۔ قرآن کی طرح آپ کی رسالت و نبوت بھی آفاقی و عالمگیر ہے جس طرح تعلیمات قرآنی پر عمل پیرا ہونا فرض ہے اسی طرح تعلیمات نبوی صلی اللّٰه علیہ وسلم پر عمل کرنا فرض ہے۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کی دعوت تمام جن و انس کیلئے عام ہے دنیا کی ساری قومیں اور نسلیں آپ کی مدعو ہیں تمام انبیاء کرام میں رسالت کی بین الاقوامی خصوصیت اور نبوت کی ہمیشگی کا امتیاز صرف آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم گروہ انبیاء کرام کے آخری فرد ہیں اور سلسلہٴ نبوت و رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلاصہ انسانیت ہیں۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی گواہی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

    چنانچہ اس آیت میں اس کی پوری وضاحت اور ہرطرح کی صراحت موجود ہے "مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلَیْمًا”

     نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللّٰه کے رسول اور تمام انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں اور اللّٰه ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

    اس آیت میں اللّٰه تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کہہ کر نبوت کا سلسلہ ہی ختم کر دیا ہے۔ اس کے بعد اب کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی کوئی قیامت تک نبی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا لیکن سب جہنم واصل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانے بنا کوئی دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نا مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا۔

    اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ.

    ”میں خاتم النبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔”

    پس سلسلہ نبوت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے اس لیے جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو نبی مانے یا جائز جانے یا نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔

    امام ابوحنیفہ رح کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کے علامات پیش کروں اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں کہ "لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ”  غرض یہ کہ شروع سے اب تک تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اور اسے ماننے والے کافر مرتد اور واجب القتل ہیں۔

    اللّٰه تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچی اور پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • فیٹف کا سیاسی فیصلہ اور پاکستان پر اسکے اثرات تحریر ہارون خان جدون

    فیٹف کا سیاسی فیصلہ اور پاکستان پر اسکے اثرات تحریر ہارون خان جدون

     فرانس کے دارلحکومت پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس بار صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تركی کو بھی گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے تركی اور پاکستان اس وقت عالمی سیاست میں جس مقام اور مدار پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رے ہیں وہ مغربی بلاک کو پسند نہیں 

    اسلئے پاکستان کی طرح تركی کی معیشت بھی شدید مشکلات کا شکار ہے اس فیصلے پر بھارت سمیت دنیا کے کئی ملكوں میں خوشی کے شادیانے بج اٹھنا فطری ہے مگر پاکستان نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے پچھلی بار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ سوال اٹھایا تھا کے اب یہ طے کرنا ہوگا کے فیٹف تکینکی فورم ہے یا سیاسی_ گویا کہ انہوں نے پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنے کو سراسر سیاسی قرار دیا ہے

     کچھ یہی بات دوسرے لفظوں میں وزیر خزانہ نے اپنے ایک interview میں یوں کی تھی FATF کی شراہط میں کوئی چیز نہیں بچی کوئی اور ملک ہوتا تو گرے لسٹ سے نکل جاتا مگر علاقای سیاست میں پھنس کر رہ گے ہیں

    شوکت ترین کی اس بات کا مطلب واضح تھا کے علاقے کی چین مخالف اور حمایت کی تقسیم کی زد پاکستان پر پڑ ری ہے چین مخالف مغربی بلاک جو علاقای سطح پر بھارت کے ساتھ اتحاد کر چکا ہے

    یہ اتحاد ملکر ہر محاذ پر پاکستان کی كلای مروڑنے کی کوشش کر رے ہیں

    ایف اے ٹی ایف کے حکام نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کے پاکستان نے ستایس میں سے چھبیس نكات پر کامیابی سے عمل کیا ہے اس کارکردگی کی بنیاد پر پاکستانی حکام کو اس بار گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں آنے کی قوی امید تھی مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا اگر فیصلہ تیکنیکی اور حقیقی بنیاد پر کیا جاتا چونکہ معاملہ سیاسی ہے اس لئے پاکستان موجودہ حالات میں FATF کے هدف سے آگے بڑھ کر بھی کام کرتا تب بھی گرے لسٹ سے نکلنے کے امكان نہیں تھا

    اب FATF نے پاکستان کو ڈومور کے انداز میں پاکستان کو مزید کچھ نكات کی فہرست تهما دی ہے گویا کہ پاکستان کا گرے لسٹ میں لمبے عرصے کے لئے رہنا اب یقینی ہے جن بنیادوں پر پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا ہے وہ ختم ہونے کی بجاۓ مزید گہری ہو رہی ہے، پاکستان زیادہ قوت سے چین کے قریب اور امریکہ سے دور ہوتا جا رہا ہے

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تو یہ سوال عمران خان سے بھی پوچھا کہ انکے امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں اصل رکاوٹ چین تو نہیں اس پر عمران خان نے چین اور پاکستان کے تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ کی جنگ میں شراکت دار بن کر پاکستان میں جو تخریب کاری ہوئی تھی اسے تعمیر میں بدلنے میں چین ہی اگے آیا ہے ادھر شوکت ترین نے علاقای سیاست کی زد میں آنے کی جو بات کی اسکا تعلق بھی اسی حقیقت سے ہے

    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ملک ہر فورم پر پاکستان کی كلای مروڑنے کی کوشش جاری رکھیں گے

    آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہوں یہ FATF کی سیاست بازیاں یا عالمی عدالت میں کلبوشن کے کیس کی سنوای اور ایک مسلمہ جاسوس پر بےجا مہربانیاں ہوں یا یورپی ملک میں سری واستر گروپ کی جھوٹ کی فیکٹریاں یہ سب پاکستان کو فكس اپ کرنے کی کوششیں ہیں

    مستقبل میں پاکستان کو مزید مغرب کے اس نارواسلوک کا سامنا کرنا پڑے گا اسلئے پاکستان کو ذہنی اور عملی طور پر اسکے لئے تیار رہنا چاہئے اس رویہ کے حامل مغربی مملاك اور مغربی اثر رسوخ والے اداروں سے کشمیر  سمیت کسی خیر کی توقع نہیں ہے اگر وہ کسی جگہ مسلہ کشمیر حل کرنے کی بات بھی کریں گے تو وہ بھارتی نقطہ نظر سے ہوگا ان تمام سیاسی اور علاقای اور مغربی ممالک کے اس رویہ کے بعد ان مملاك سے تعلقات تو رکھنے چاہیے لیکن ان سے مستقبل میں کسی اچھے کی امید نہیں رکھنی چاہیے اور جتنا جلدی ہو سکے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جانا چاہیے تاکہ پاکستان اس طرح کی blackmailing سے بچ سکے اور اپنی آزادی اور خود مختاری کے فیصلے خود کر سکے اسی میں پاکستان کی بقا اور بہتری ہے جتنی جلدی یہ بات ہمارے حکمران طبقہ کو سمجھ آ جاۓ اتنا ہی اچھا ہے کیوں کے آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کے اہل کفر کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے چاہے ہم جتنا مرضی ہے انکے لئے کر لیں اس کی زندہ مثال امریکہ کی جنگ میں پاکستان نے جو 20 سال نقصان اٹھایا ہے وہ سب کے سامنے ہے پھر بھی امریکہ پاکستان سے خوش نہیں ہے اور اپنی ہار اور ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالتا ہے.

    اللہ پاکستان کی حفاظت فرماۓ اور اس میں بسنے والوں پر اپنا کرم فرماۓ ۔۔۔آمین 

     

    @ItzJadoon

  • ایف اے ٹی ایف میں ترکی بھارت کا نیا دشمن بن گیا۔  تحریر:- حماد خان

    ایف اے ٹی ایف میں ترکی بھارت کا نیا دشمن بن گیا۔ تحریر:- حماد خان

    Twitter @HammadkhanTweet

    ترکی پاکستان کے دوست کی حیثیت سے بھارت کی آنکھ میں کانٹا تھا. بھارت نے اپنے غیر منصفانہ طریقوں سے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اس آرٹیکل میں ہم دیکھیں گے کہ انڈیا کے دباؤ پر ترکی کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں کیوں رکھا گیا۔

    2018 میں ، جب پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا ، ترکی واحد ملک تھا جس نے اس کی حمایت کی۔ترکی واحد ملک ہے جس نے اقوام متحدہ میں کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔ اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کرنا بھارت کی نظر میں ترکی کے لیے گناہ بن گیا۔

    حالیہ برسوں میں ترکی کے اپنے روایتی مغربی اتحادیوں بشمول امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔

    واشنگٹن نے ترکی کو F-35 طیاروں کی فروخت روک دی جب انقرہ نے روسی سطح سے فضا میں مار کرنے والے S-400 میزائل سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔

    بحیرہ روم میں اپنے سمندری حقوق کے نفاذ کے لیے ترکی کی کوششوں نے یورپی یونین کے رکن ملک یونان کو ناراض کیا ہے۔

    ترکی شام اور لیبیا میں اپنے کچھ مغربی اتحادیوں کے مخالف سمت میں ہے۔ تقریبا 4 4 ملین شامی مہاجرین کی میزبانی کے لیے اپنے طور پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ، ترکی کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے یورپی رہنما باقاعدگی سے نشانہ بناتے ہیں۔ 

    ایف اے ٹی ایف نے ترکی کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کرنے والے ممالک کی فہرست میں درج کرنے کے فیصلے سے پیرس میں قائم تنظیم کی غیر جانبداری کے بارے میں ایک بار پھر سرخ جھنڈا بلند کردیا ہے۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ترکی کو ایف اے ٹی ایف کی نام نہاد گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے ، یہ اقدام ترکی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ان ممالک کو نشانہ بنانے میں منتخب ہو گیا ہے جہاں بینکوں کے پاس فنڈز کے غیر قانونی بہاؤ کو روکنے کے لیے کمزور تعمیل یا کنٹرول ہے۔

    مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل حسن اسلم شاد نے کہا ، "اگر وہ تمام ممالک کے ساتھ اپنے سلوک میں منصفانہ ہوتے تو وہ برطانیہ کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیتے۔”

    لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا ہے اور پہلے سے تصورات ان کے فیصلوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔حال ہی میں لیک ہونے والے پانڈورا پیپرز ، آف شور کمپنیوں کی دستاویزات کا ایک مجموعہ ، ظاہر کرتا ہے کہ کرپٹ سیاستدان اور بیوروکریٹس اپنی دولت چھپانے کے لیے دو تہائی فرمیں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہیں۔

    ایف اے ٹی ایف نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ترکی کو اپنے منی لانڈرنگ کے قوانین کی نگرانی بڑھانے اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروہوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

    انقرہ نے کہا کہ اس کی گرے لسٹ میں شمولیت "غیر منصفانہ” ہے لیکن اس نے اصرار کیا کہ وہ تنظیم کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ "کم سے کم وقت میں غیرضروری فہرست” سے باہر آنے کی کوشش کی جا سکے۔

    ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ نگرانی کے تحت کسی ملک کے رسک پروفائل میں اضافہ کرتا ہے ، جس سے حکومت اور نجی شعبے کو بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں سے فنڈ اکٹھا کرنا مہنگا پڑ جاتا ہے۔

    آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے زیر اہتمام ایف اے ٹی ایف عالمی معیارات مرتب کرتا ہے جو دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف جنگ کو آگے بڑھاتا ہے۔

    یہ سفارشات جسم کے 200 سے زائد ارکان کو غیر قانونی منشیات ، انسانی سمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث مجرموں کے پیسے کے پیچھے جانے میں مدد دیتی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی فنڈنگ ​​روکنے کے لیے بھی کام کرتا ہے۔

    کسی قوم کو فہرست میں شامل کرنے کے لیے تنظیم کو اپنے اراکین کے اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے ، حالانکہ عین مطابق تعداد متعین نہیں ہے۔

    گرے لسٹ میں شامل ہونے کا یہ بھی مطلب ہے کہ گھریلو اور کثیر القومی بینکوں کو تعمیل اور منی لانڈرنگ کے عملے پر زیادہ وسائل خرچ کرنے پڑتے ہیں ، جنہیں دھوکہ دہی اور دہشت گردی کی مالی اعانت کا پتہ لگانے میں زیادہ چوکس رہنا پڑتا ہے۔

    Twitter @HammadkhanTweet 

  • جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو چار صوبوں میں میں تقسیم کیا گیا صوبہ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور سرحد شامل ہیں اور بعد میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھ دیا گیا ۔ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب بڑا صوبہ ہے اور صوبہ پنجاب کو پھر دو حصوں میں شامل کیا گیا شمالی پنجاب و جنوبی پنجاب ۔ شمالی پنجاب جسے اپر پنجاب بھی کہا جاتا ہے گزشتہ تیس سے چالیس سالوں میں حکمران طبقہ اپر پنجاب سے منتخب ہوتا رہا ۔ جہنوں نے اپر پنجاب کو خوب نوازا اور جنوبی پنجاب کو اپر پنجاب کی نسبت محروم رکھا گیا کیونکہ وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب اپر پنجاب سے کیا جاتا تھا تو وزیرِ اعلیٰ  نے اپر پنجاب خاص کر اپر پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو خوب نوازا ۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور کے فی کس آدمی پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے زائد لگائے گئے جبکہ جنوبی پنجاب کے فی کس آدمی پر صرف اور صرف بیس سے پچیس ہزار روپے لگائے گئے ۔ جس سے اپر پنجاب ترقی کے لحاظ سے بہت آگئے نکل گیا اور جنوبی پنجاب بہت پیچھے رہ گیا ۔ اس بات کا اندازہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ہونے لگا کہ ہمیں محروم رکھا جارہا ہے جس پر انہوں نے اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا شروع کر دیا ۔ منتخب نمائندوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا تو انہوں نے سوچا کہ اس مسلے کا صرف ایک ہی حل ہے وہ ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔ اس طرح دو ہزار اٹھارہ کے عام الیکشن میں صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کا ایک گروپ ابھر کر منظر عام پر آیا ۔ جس میں موجودہ اور سابقہ ایم این اے اور ایم پی اے شامل ہوگئے جن کی سربراہی مخدوم خسرو بختیار کررہے تھے ۔اس وقت کے حکمراں جماعت کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے اس گروپ سے ملاقات کی ۔ جب خان صاحب نے ان جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا مواقف جانا تو جنوبی پنجاب محاذ کے نمائندگان اور عمران خان صاحب کا ویژن ایک ہی تھا کہ جو علاقے پیچھے رہ گئے ان کو برابری کی سطح پر لانا تھا۔ دو نہیں بلکہ ایک پاکستان کا ویژن تھا ۔ اس گروپ نے پی ٹی آئی شمولیت اختیار کرلی اور الیکشن کے بعد جنوبی پنجاب میں عمران خان صاحب نے بہت بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تقریباً جنوبی پنجاب سے تقریباً کلین سوئپ کیا اس طرح خان صاحب پنجاب اور وفاق میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کی وجہ سے حکومت ممکن ہوئی ۔ اس کے بعد خان صاحب کا جنوبی پنجاب کے لیے سب بڑا قدم یہ تھا کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا ۔جو کہ تمام لوگوں کے لیے سرپرائز تھا کیونکہ خان صاحب نے ایک ایسے علاقے سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا جوکہ کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا ۔ جنوبی پنجاب سے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے سے سے جنوبی پنجاب کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ وزیرِ اعلیٰ نے کافی حد تک جنوبی پنجاب کے مسائل حل کئے جس میں جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ کا قیام ، ایڈیشنل آئی جی اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا قیام عمل میں لایا گیا۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنا کر اور 15 محکموں کے سیکرٹریز تعینات کیےگئے۔

     اس کے علاؤہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 37 فیصد حصہ بجٹ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مختص کیا جس سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو احساس ہوا اس دفعہ واقعی ان کے محرومیوں کا ازالہ ہوا ہے لیکن ممکن نہیں کہ ایک دورے حکومت میں تیس چالیس سالوں کے مسائل حل ہوں۔ انشاء اللہ دو ہزار تیئیس کے عام انتخابات سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنے جائے گا اور مزید جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ 

    @Wah33d_B

    IMG_20210903_213041.

  • 27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری!   تحریر: محمد اختر

    27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری! تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام!   27اکتوبر 1947، حالیہ صدی میں انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے،اس دن بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رقم کر دی یہ وہ دن ہے جب بھارت نے سری نگر میں اپنی افواج اتاری تھیں۔ایک طرف بھارتی قابض افواج نے کشمیری آزادی کے جنگجوؤں سے لڑ کر انہیں دریائے جہلم کے دوسری طرف دھکیل دیا اور دوسری طرف اس نے مقامی آبادی پر مظالم کے پہاڑ ڈھا دیے۔اسی دوران، جب مہاراجہ ہری سنگھ جموں گئے تو وہاں مسلمانوں کا ایک وفد انکے پاس شکایت لے کر آیا کہ مقامی سکھ اور ہندو آبادی مسلمانوں پر مظالم ڈھارہی ہے۔ مہاراجہ نے شکایتوں کو دور کرنے کے بجائے مسلم وفد کو ہی قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے، اس حکم کے اجراء سے قبل کشمیر سے ملحق ہندوستان کی سکھ ریاستوں سے بڑی تعداد میں سکھ فوجیوں کو کشمیر بلایا گیا تھا، جنہوں نے خاص طور پر جموں کی مسلم آبادی کا بے رحمانہ قتل عام کیا۔ کشمیری مسلمانوں پر مظالم کے سلسلے میں، 1947 میں پاکستان کے الحاق کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد کے دوران، پورے کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شہید ہوئے۔تاہم، یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے، جدید دور میں بھی یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ آج مقبوضہ جموں و کشمیر ظلم کا ایک خوفناک منظر بن گیا ہے، جہاں بھارتی افواج کی 14، 15، 16 بٹالین تعینات ہیں جن کی کل تعداد 9.5 لاکھ سے زائد ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔اس تعداد کا مطلب ہے کہ ہر 10 کشمیریوں کے لیے اوسطا ایک فوجی تعینات ہے۔ قار ئین کرام،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ وادی اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ ہے اور قابض افواج ظلم اور بربریت کی ایسی داستان رقم کر رہی ہیں کہ وادی میں مٹی کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں جس میں  شہیدوں کا خون شامل نہ ہو۔کوئی دریا ایسا نہیں جس میں کشمیری مسلمانوں کا خون نہ بہتا ہو، وادی میں کوئی گھر ایسا نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہو اور کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جسے قابض افواج نے تشدد کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ ان مظالم کے علاوہ بھارت نے کئی کالے قانون نافذِعمل کئے ہوئے ہیں جس کے ذریعے وہ کشمیریوں کی آزادی جدوجہد کو کچلنا چاہتا ہے، جیساکہ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ، 1958 کے تحت، سیکورٹی فورسز کو مظاہرین کو کچلنے اور تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اپنے اختیار میں کسی بھی طریقے کو استعمال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی، چاہے ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کتنی ہی وسیع ہو۔ یہ قانون 1990 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا تھا، جب کشمیریوں کی مسلح تحریک عروج پر پہنچ چکی تھی اور مرکزی حکومت کے پاس ان کو کچلنے کا کوئی حربہ نہیں تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح ایکٹ کے نفاذ پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ وغیرہ کی جانب سے حسبِ معمول رسمی طور پر شدید تنقید کی گئی، کیونکہ اس نے فوجی افسران کو اپنے مشن کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کی سرگرمیاں کرنے کا براہ راست اختیار دیا تاکہ مرکزی حکومتی احکامات اور حکمت عملی کو عملی جامہ پہنایا جائے اور  وہ ہر قسم کی قانونی کارروائی سے محفوظ رہے۔اس قانون کا انتہائی خطرناک استعمال 23 فروری 1991 کو کیا گیا، جب بھارتی فوج نے کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دو گاؤں کنان اور پوش پورہ میں رات کی تاریکی میں ایک رات کے سرچ آپریشن کے دوران مختلف عمر کی 100 سے زائد خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔قارئین کرام، جب میں کنان اور پوش پورہ کے واقعے کے بارے میں مطالعہ کر رہا تھا تومجھے معلوم ہوا کہ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 150 کے قریب تھی۔اس ضمن میں، ان تنظیموں کے دباؤ کے تحت، دہلی حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کی، لیکن ہمیشہ کی طرح، انہوں نے اس پر آنکھ بند رکھی اور اسے بے بنیاد قرار دیا اور ملوث  فوجیوں کو بری کر دیا تھا۔در حقیقت، پچھلے 74 سالوں سے، بھارتی افواج مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے، لیکن بھارت ہمیشہ راہِ فرار اختیار کرتا رہا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد اس کا جواب یہ رہا ہے کہ یہ صرف ایک من گھڑت کہانی ہے یا پروپیگنڈا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کو بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے اور وہاں کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔بھارت کا یہ رویہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم کی بہت سی داستان ہیں، بھارت کسی مبصر کو  مقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت نہیں دیتا کہ کہیں وہ واقعات سے پردہ نا اٹھا دے اور اس کے جھوٹے دعوں کی کلی کھل نہ جائے۔ لیکن پھر بھی کشمیری نوجوان سماجی رابطہ کی ویب سائٹ کے ذریعے دنیا کو ان حالات اور واقعات سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم، 5 اگست 2019 کے بعد سے، کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی مانگ یہ بھی ہے کہ ہندوستان غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کرے اور حقِ خود ارادیت کا حق دے تاکہ وہ اپنی مرضی سے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ قارئین کرام! میری رائے میں، بھارت کی جانب سے کرفیو، لاک ڈاؤن، جبر اور تشدد جیسی حکمت عملی ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیرکے لوگوں کو بھگتنا پڑی ہے۔ میں سمجھتا  ہوں کہ اِس طرح کے اقدامات انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور انہیں اپنے مطالبات اور مشن کو ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں کرفیو لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ واضح رہے، اکتوبر 1947 میں ہندوستانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ٹیلی گرام بھیجا اور کھلے عام اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی اور رائے نہیں۔لیکن، اس کے برعکس وقت گزرنے کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہے کہ، یہ محض ایک کھوکھلا بیان تھا۔ اس کے علاوہ، جب بھارت اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے گیاتو بھارت نے عالمی برادری سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ایک منٹ لگے گا۔ لیکن، ہندوستان کا یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔اب ایک طرف بھارتی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے اور دوسری طرف وہ کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑڈھا رہی ہے۔قارئین کرام! اقوامِ عالم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔آزادی ِ جدوجہد کے عظیم رہنما سید علی شاہ گیلانی کی وفات کے بعد سے بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں پر مظالم کی ایک نئی لہرکاآغاز کر دیا ہے۔ ہندوستانی قابض افواج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہی ہیں۔ حال ہی میں، سرچ آپریشن کی آڑ میں، زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ صرف اکتوبر، 2021 کے مہینے میں اب تک درجنوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی قابض افواج نے جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہے۔ قا رئین کرام! یہ بات ہر ایک پرآشنا ہے کہ بھارت افغانستان میں ہزیمت اٹھانے کے بعد منہ چھپانے کے نت نئے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، ہندوتوا نظریے کے تحت بھارتی فاشسٹ حکمران حکومت، ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ”فالس فلیگ آپریشن” کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال سے ہٹائی جا سکے۔ آخر میں، بطور ڈویژنل صدر کشمیر یوتھ الائنس میں اقوامِ عالم سے پُر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے عملی اقدام کرے۔چونکہ، عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حقِ خود ارادیت دینے پر مجبور کرے۔ ورنہ،مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرنا اور کھوکھلے بیانات خطے میں سب سے بڑی تباہی کا باعث بنیں گے۔ 

    @MAkhter_

  • فیصلہ پارٹ نمبر 2    تحریر سکندر علی 

    فیصلہ پارٹ نمبر 2 تحریر سکندر علی 

    Twitter @cikandarAli

     یا شاید ایسا قسمت کے اتفاقات کا ہی نتیجہ تھا جو بلاشبہ اغلب ہوتے ہیں لیکن پچھلے دو سالوں میں کسی باعث ان کا کاروبار انتہائی غیر معمولی انداز میں چمکا تھا تھا۔ عملے کی تعداد دوگنی ہوئی ، آمدنی پانچ گنا پڑھی اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ترقی کی گئی ہنوز جاری تھا لیکن اس تبدیلی کے بارے میں وہ اپنے دوست کو کچھ نہیں بتا پایا تھا۔ شروع کے سالوں میں، شاید آخری بار اپنے تعزیتی خط میں، اس دوست نے جارج سے اصرار کیا تھا کہ وہ روس ہجرتکرے۔ نیز وہاں جارج کی کاروباری شاخ کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا تھا۔ اس حوالے سے جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ، وہ جارج کی موجودہ کاروباری سرگرمیوں کے موازنے میں بہت کم تھے۔ وہ دوست کو اپنی موجوره کاروباری کامیابی کے بارے میں بتانے سے چپچپاہٹ محسوس کرتا رہاتھا۔ نہ یہ بہتر لگتا تھا کہ اب سارے قصے کو نئے سرے سے بیان کیا جائے۔

    اس لیے جاری اپنے دوست کو خط میں ادھر ادھر کی غیر اہم باتیں لکھتا رہتاتھ جیسی باتیں ایسے کی کی پر سکون اور اردو استاتے ہوئے آدی کے ذہن میں آسکتی تھیں ۔ وہ تو بس یہی چاہتا تھا کہ اتنے بے عرصے میں اس کے دوست نے اپنے زہنی سکون کے لیے اس ملک سے متعلق اپنے ذہن میں جو تصور قائم کر رکھا ہے، وہ برقرار ہے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ جارج نے طویل وقفوں سے لکھے گئے تین بالکل مختلف خطوں میں ایک غیر اہم خص کی ایک میں ہی غیر اہم لڑ کی سے گئی ہو جائے کے واقہ تفصیل کے ساتھ بیان کیاحتی کہ اس کی توقع کے باکس اس کا دوست اس واقعے میں وقتی دی ظاہر کرنے لگا۔ جارج نے یہ بیان کرنے کے بجائے کہ مہینہ بھر پہلے اس کی فراولین فریڈا برینڈن قلڈ سے ، جوا بھی کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی تھی منگنی ہوئی تھی، دوست کو ایسی غیر اہم باتیں بتانے کو تری دی تھی مگیتر سے اپنی گفتگو میں وہ اپنے دوست اور اس کے ساتھ اپنے بھی تعلق کے بارے میں اکثر بات کرتا جو اس خط و کتابت کے دوران پیدا ہوا تھا۔ تو کیا ہماری شادی میں نہیں آئے گا۔ مجھے تمھارے دوستوں کے بارے میں جانے کا ہے۔ اس کی منگیتر نے کہا۔ میں اسے کیا پریشانی میں گرفتارنہیں کرنا چاہتا۔ جارج نے جواب دیا ” مجھے غلط مت سمجھو ۔ شاید وہ آئے گا ایسا لگتا ہے لیکن و محسوس کرے گا جیسے اس کا حق مارا گیا ہو۔ اسے ٹھیس پہنچے گی ۔ شاید وہ مجھ سے حسد کرے اور یقینا مز ید آزرده ہوجائے گا۔ اپنی مایوسی کا سامنا کرنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے سو اکیلا ہی نہیں نکل جائے گا۔ پھر سے اکیلا ہو جائے گا اس کا کیا مطلب ہے؟

    کیا تمھارے خیال میں اسے کسی طرح سے ہماری شادی کی خرنہیں ہو جائے گی ؟

    میں اس بات کو ہونے سے روک تو نہیں سکتا لیکن ایسا ہونا دشوارترین ہے، اس کا طرز زندگی ہی ایا ہے۔

    جارج تمھارے دوست اس قسم کے ہیں تو بہتر تقاته منگنی ہی نہیں 

    اس کام میں تو ہم دونوں شامل ہیں ۔ جو ہو گیا ہے، اسے بدلا نہیں جاسکتا۔ تب اس کے طویں برسوں کے دوران تیز تیز سانس لیتے ہوئے وہ کسی طرح کہ پی : ” بہرحال مجھے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے 

    تب اس نے سوچا اگر وہ اپنے دوست کومنگنی کے واقعے کے بارے میں بتادے اور امکان ہے کہ یوں وہ خود کو کسی اور پریشانی سے بچا سکے گا۔

    میں ایسا ہی ہوں اور اسے مجھے ایسے ہی قبول کرنا ہوگا۔ میں خود کو اس کے موافق بنانے کے لیے بدل نہیں سکتا ۔اس نے اپنے آپ سے کہا۔ اور اصل میں اس نے اپنے طویل خط میں جو وہ اتوار کی صبح لکھتا رہا تھا، اپنے دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں الفاظ میں اطلاع دی تھی: اختتام کے لیے میں نے سب سے بہترین خبر بچا کر رکھی ہے۔ میں نے شہر کے ایک متمول گھرانے کی لڑکی فراولین برینڈن فلڈ سے منگنی کر لی ہے۔ وہ لوگ تمھارے جانے کے کافی عرصہ بعد یہاں آباد ہوئے۔ اس لیے تم ان سے واقف نہیں ہوں۔ اس بارے میں آئندہ بھی تفصیل سے لکھوں گا لیکن آج کے لیے انا بنانا چاہتا ہوں کہ میں بہت خوش ہوں تمہارے اور میرے تعلق میں بس اتنا ہی فرق آیا ہے کہ اب تم مجھے ملو گے تو تمھیں مجھ جیسے عام دوست میں ایک آسودہ دوست ملے گا تم میری منگیتر کے بارے میں مزید بھی جائو گے، دو میں سلام کہہ رہی ہے اور جلد ہی خودبھی تھیں خط لکھے گی، ایک بچی عورت دوست کی طرح، جوایک غیر شادی شدہ شخص کے لیے بہر حال ایک خاص بات ہے۔ مجھے علم ہے بہت سی وجوہات ہیں تمھارے یہاں منانے کیلیکن کیا میری شادی ایک اہم موقع نہیں ہے جس کے لیے تم ان رکاوٹوں کو پس پشت ڈال دو اور لے چل او لیکن خیر جیسا بھی ہو ، وہی کرو جو تھیں، میری خواہش سے قطع نظر اپنے مطابق بہتر گئے اس خط کو ہاتھ میں لیے دیر سے جارج اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف کیے لکھنے کی کرسی پر بیٹا ہوا تھا وہ دیکھ ہی نہ پایا کہ گلی میں سے گزرتے ہوئے کسی واقف کار نے اسے ہاتھ ہلا کر ایک غائب مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا تھا۔

    (جاری ہے۔)