Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • عالمی ترقی،برصغیرکا ذہنی اخلاقی زوال کا باعث تحریر : عظیم بٹ

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کراہ ارض پر جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی جدت نے انسانوں کو قریب لانے کا بیڑا اٹھایا تو قریبا پچھلے دو ہزار سالوں میں انسانی رویوں میں بے تحاشہ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔یہ تبدیلیاں اکثریت میں مثبت تھیں جن میں انسان کو دوسرے انسان کے لئے سہولیات پیدا کرنے کا اداراک ہوا۔انسان کے احساس اور حقوق نامی جذبات کی بنیاد پڑی۔ہم نے دیکھا کہ جیسے کوئی معاشرہ ترقی کرتا گیاوہاں لوگوں کے مابین اخلاقیات کی سطح میں اضافہ ہوا۔

    اگر ہم دنیا پر پچھلے کئی ہزار سالوں سے اپنا اثر رکھنے والی طاقتوں کا بغور مشاہدہ کریں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ امریکہ اور یورپ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار قرار دئیے گئے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے انسانی حقوق کو اپنی بنیادی ضروریات کی طرح اپنے رسم و رواج میں شامل کیا حالانکہ اس کے برعکس وہاں ٹیکنالوجی نے بھی دنیا میں ایک انڈسٹریل انقلاب کی بنیاد رکھی جس سے ان کے رہن سہن میں تبدیلی اور دنیا پر اثر انداز ہونے کے معاملات آگے بڑھے مگر ان کی انسانی حقوق کی روش نے ان کے اس طاقت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور دنیا ان کے ساتھ جڑنے لگی۔

    جہاں دنیا نئے رسم و رواج کو اپنا کر اپنے وحشی پن اور جنگ و جدل کے معاملات کو مدفون کرنے میں مصروف رہی وہاں برصغیر میں احساس کمتری کے بڑھتے رجحان نے ان کو اخلاقی پستی کی طرف ایسا دھکیلا کہ اب تک اس کے بدبو دار سحر سے یہ خطہ نہیں نکل پا رہا۔برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل قریبا 3سو سال پہلے ہندو ، مسلم،عیسائی،پارسی سمیت کئی مذاہب کا مجموعہ اس خطے میں ایک خوبصورت باغیچے کی سی صورت پیش کرتا تھا اور اس وقت یہ تمام قومیں اور افراد مل کر خود پر مسلاط مختلف ظالموں سے جان چھڑوانے کے لئے اتفاق میں برکت کو ترجیح دیتے تھے ۔برصغیر میں ظلم کا معیار کسی مذہب سے جڑا نا تھا بلکہ سادہ سا کلیا یہ تھا کہ جو ظالم ہے وہ ظالم ہے ۔مذاہب انسان کے اعتقاد کا معاملہ ہے جو کہ نجی ہےاس پر مشتمل معاشرہ اور یکجا قوم برصغیر میں قیام پذیر تھی۔

    ایسٹ انڈیا کمپنی کے بر صغیر میں آنے کے بعد سے برطانوی راج کے عروج پر ہونے تک برصغیر کی روایت یہی تھی کہ ظالم انگریز ہے نا کہ عیسائی اور برصغیر کے عیسائی افراد ہندو،مسلم،پارسی،جین،بنگال افراد مل کر اس کو یہاں سے نکالنے اور آزادی کی بات کرتے رہے۔جب وقت کا پہیہ گھوما اور مشترکہ محنت سے عوام میں ایک آگ پیدا ہوئی اور انگریز کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آیا تو اس نے اپنی دوسری شاطرانہ چال کو برصغیر پر یوں پھینکا کہ باغیچہ بکھر کر کلیاں اور کلیاں بکھر کر کانٹوں کا منظر پیش کرنا شروع ہوئیں جو آج تک قائم ہے۔

    انگریز نے اپنی ٹیکنالوجی جس کو اس نے اپنے قابل دماغ سے دنیا میں متعرف کروایا تھا اسی دماغ سے اس نے برصغیر میں اپنا پرانا طریقہ واردات "ڈیوائڈ اینڈ رول” کا استعمال کیا اور نفرت کا بیج جو کہ کئی سالوں سے یہاں نا بویا جا سکا تھا وہ کاشت کیا اس کی بنیادی مثال یہ بھی ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ سنہ 1800 سے قبل یعنی تقریبا ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل برصغیر میں کوئی ہندو ، مسلم ، عیسائی تنازعہ اس سطح کا ہو کہ سب کا ساتھ رہنا کسی دوسرے کے لئے مشکلات کا سبب بنے۔

    انگریز یہاں سے جانا تو پڑ رہا تھا مگر وہ برصغیر کو ایک ایسی کشمکس میں دھکیل کر جانا چاہتا تھا جس سے انگریز کے بھاگنے کا داغ بھی دھل جائے اور برصغیر کی عوام اگلے کئی سو سالوں تک اسی کشکش میں مبتلا رہے کہ آیا اصل دشمن انگریز تھا یا ہندواور مسلمانوں کے مابین اعتقاد کا اختلاف۔ابھی حال ہی میں افغانستان سے انخلاء کے وقت امریکہ نے بھی برطانیہ جیسی چال کھیلنے کی کوشش تو کی مگر آج کے جدت بھرے دور میں جہاں میڈیا موجود ہو اور معلومات کی منتقلی کا عمل چند سیکنڈ پر کھڑا ہو یہ ممکن نا ہو سکا کہ پنجشیر میں احمد شاہ مسعود اور طالبان کے مابین لڑائی کروا کہ افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار کیا جائے۔

    برصغیر کی عوام انگریز کے گولی بارود والی ہتھیار سے تو کامیاب ہو گئی مگر اس طریقہ واردات کے نرگے میں جو آئی تو آج تک نکل نا سکی۔اس وقت پھر مذاہب کا پہیہ گھوما اور سیاست اور حکومت کا معیار اب برصغیر میں مذاہب کے نام پر چلنے لگا۔اس وقت برصغیر میں ہندو مسلمان کے مابین دو قومی نظریہ ایک حالات کی ضرورت بن چکا تھا جس میں مسلمانوں کا اپنے لئے علیحدہ ملک کا مطالبہ سامنے آیا اور پھر اس کے لئے قابل قدر خدمات دیکھنے میں آئیں ۔البتہ ہندوستان کے بانی مہاتما گاندگی اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح صاحب انگریز کو برصغیر سے بھانے میں تو کامیاب رہےمگر اپنے درمیان ایسی خلش تھی کہ اپنی تقسیم کا فیصلہ اس دشمن سے کروانے کو راضی ہو گئے جس کوکئی سالوں کی جدوجہد کے بعد اپنی سرزمین سے بھگا رہے تھے۔

    حالات کا پہیہ جس طرف کو گھوما برصغیرکے افراد نے دونوں جانب ہندوستان اور پاکستان نے اس سے مزاحمت کا کبھی سوچا ہی نہیں اور یہ نفرت کا بیج 70 سال میں اب اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ غالبا گمان ہوتا ہے کہ اس نفرت سے باہر نا نکلنا ہی ہماری بقاء ہے۔ہندوستان نے تو اس پہیہ کو اس رفتار سے گھمایا ہے کہ وہاں انہوں نے مسلمانوں سے نفرت تو ایک طرف اپنے ہی اعتقاد والے چھوٹی ذات کے لوگوں جن کو وہ دلت کہہ کر دھتکارتے ہیں ان کو بھی نا بخشا،ہمالیہ،تامل ناڈو،آسام،اور پھر سکھ حضرات تک کو نا پخشا بلکہ ہندوتوا کا نظریہ کی چکی کو ایسا گھمایاکے لاشیں اورخون بھی ان کی انسانیت کی روح کو دوبارہ زندہ نا کر سکا۔

    وہیں پاکستان 70 سالوں اس سوچ سے باہر نہیں نکل پا رہا کہ ہمارا پڑوسی ایک دشمن ہے ظالم ہے اور ہمارے بقاء کا مخالف ہے حالانکہ یہ بات کسی حد تک بھارت نے بارڈر پر کھڑے جوانوں سمیت پاکستان کی سلامتی پر کئی بار حملے کر کے ثابت بھی کیا ہے کہ بھارت میں خاص کر اب گزشتہ 10 سالوں میں جس رجحان کا اضافہ ہوا ہے وہ خالصتا ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر ہندوتوا کے نظریے کا پرچار ہے چاہے اس کے لئے پورا خطہ جنگ اور خون میں کیوں نا بہہ جائے اگر یوں کہا جائے تو غلط نہیں کہ بھارت اب مہاتما گاندھی کے نظریہ امن بھائی چارہ عدم تشدد کا ملک نہیں بلکہ آر ایس آیس، شیو سینا، ناتھو رام گوڈسے کے نظریے کا ملک ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ وہیں پاکستان سے متعلق بھی اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ 70 کی دہائی سے قبل کا پاکستان اور اب کا پاکستان مکمل طور پر ایک دوسرے کے متضاد ہیں نا صرف مذہبی جنونیت بلکہ ہر طرح کے شعبے اور سوچ کا یہاں متشدد پن پایا جاتا ہے اس میں وہ روشن خیال افراد بھی شامل ہیں جو خود کو عدم تشدد کا نام لے کر منظر عام پر آتے ہیں مگر ذہنی اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں کسی کے مخالف نظریات و عقائد کا پاس نہیں رکھتے۔

    اس حوالے سے شاعر کا شعر اس تناظر میں مکمل درست عکس بندی کرتا ہے کہ

    دیکھتا کیا ہے میر منہ کی طرف

    قائد اعظم کا پاکستان دیکھ

    سنہ 71 کے بعد پاکستان کےحالات اور سوچ میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ بنگلہ دیش کا علیحدہ ہونا بھی تھا جس نے پاکستان میں اپنی بقاء کے لئے اس حادثے کے مقابلے مزید مضبوط ہونے کے نام پر اوپر بیان کئے پہیہ کو تیزی سے گھمایا اور اب تک گھما رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک سائنٹسٹ ڈاکٹر ہودبائی نے صحافی نجم الحسن باجوہ کو انٹرویو دیتے ہوئے دو قومی نظریے کے سوال پر ایک عقلی دلیل داگی تھی کہ دو قومی نظریہ تو سنہ 71 میں خراب تب ہو گیا جب تیسری قوم بنگلہ نے ہم سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ان کی یہ دلیل کتنی درست ہے کون مانتا ہے کون نہیں یہ پڑھنے والوں کی اپنی سوچ پر مبنی ہے مگر تاریخ نے یہ ثابت کیا کہ جہاں دنیا نے ترقی کی منازل طےکئیں اور دنیا اور نئے رسم و رواج اور اصولوں پر چلی برصغیر مکمل طور پر عدم برداشت اور اخلاقی پستی کا شکار ہوا ہے اب اس کی وجہ برصغیر کے لوگوں کی کم عقلی کہیں یا بیرون ممالک کی سازش یہ سوچ آپ کے اطمئان قلب پر منحصر ہے۔ بلکل ایسے ہی جیسے غالب کہتے ہیں کہ ‘دل پہلانے کو یہ خیال اچھا ہے غالب’

    Find out more Opinion on Twitter 

    @_azeembutt 

  • ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان   تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    جہاں پاکستانی عوام کو دوسرے مسائل درپیش ہیں وہی پر ایک بہت بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جو کسی بھی عام شہری اور مزدوری کرنے والے شخص کے نزدیک کسی ہارٹ اٹیک سے کم نہیں ہے۔ موجودہ حکومت سے جب مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں تو بظاہر ہمیں ان سے صرف ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ کورونا وائرس کی خوفناک لہر کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی نے اپنے ڈیرے لگائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بری طرح متاثر ہوا ہے اور لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں لیکن حکومت ان تمام معاملات کے ساتھ ان ممالک کا تذکرہ بالکل نہیں کرنا چاہتی جنہوں نے اس مشکل دور میں بھی اپنی معیشت کو مستحکم کیا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کی کرنسی پاکستان سے ڈبل ہوگئی ہے اور انہوں نے کورونا وائرس کی خوفناک لہر میں اپنی معیشت کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیا لیکن جب ہم موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہیں تو ہمیں یہ جواب سننے کو ملتا ہے کہ چونکہ بنگلہ دیش نے آج تک کوئی جنگ نہیں لڑی جس کی وجہ سے اسکی معیشت پاکستان سے بہتر ہے لیکن کیا وہ اس موقع پر افغانستان کے حالات پر کچھ کہنا پسند کریں گے کہ انہوں نے ضروریات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں چالیس فیصد تک کمی کرنے کے احکامات کیوں جاری کیے ہیں؟ کیا افغانستان نے بھی کبھی جنگ نہیں لڑی؟ کیا افغانستان روز اوّل سے جنگی محاذ کا شکار رہا ہے یا نہیں؟ یہ عجیب منطق ہمیں حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کے کارکنان سے سننے کو ملتی ہے۔ بظاہر موجودہ حکمران جماعت اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی کارکردگی کو عوام کے سامنے بہتر بناتی انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا ملبہ اپوزیشن کی کرپشن کی نظر کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بظاہر ہمیں وہ اس میں بھی کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔

    یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ حکمران جماعت اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے بعد رعایا کے سامنے اپنی بہترین پالیسیوں کو رکھ کر انکے دلوں میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے یا اپنے سیاسی مخالفین کو کرپشن، غداری جیسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اپنے دل میں لگی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔ اس حکومت نے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے انتقام کا نشانہ بنانے کو بہتر سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قوم مہنگائی کی چکی میں پستی چلی جا رہی ہے۔ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے عوض لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، لوگ دو وقت کی روٹی کھانے کو ترس رہے ہیں، مہنگائی نے برا حال کیا ہوا ہے، لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی بجائے بیروزگار کیا جا رہا ہے، لوگوں کو پچاس لاکھ گھر دینے کی بجائے پہلے سے تعمیر شدہ گھروں کو غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مسمار کیا جا رہا ہے۔ 

    بظاہر یہ حکومت عوام کے چہروں پر مسکراہٹیں نہیں بلکہ پریشانیوں کو جنم دینے کے لیے لائی گئی ہے۔ گزشتہ چند روز قبل ایک سنئیر جج نے ریٹائرڈ ہونا تھا انہوں نے اپنے آخری فیصلے میں سوئی سدرن گیس کے تیس ہزار ملازمین کو ایک جھٹکے میں نکال باہر کیا، ان ملازمین میں کوئی ریٹائرمنٹ کے عین قریب تھا اور کسی نے ساری زندگی اپنے اس محکمے کے نام کرنی تھی لیکن ذرا سی ناانصافی کی وجہ سے تیس ہزار ملازمین اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کی وجہ سے بہت سے ملازمین خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اس حکومت کو آٹا، چینی، گھی، ادویات کی قیمتوں میں کمی لازمی لانا ہوگی ورنہ اس حکومت کا خاتمہ پیپلزپارٹی کی نسبت قدرے زیادہ برا ہوگا اور شاید آپ کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف ایک یونین کونسل کی جماعت نہ بن پائے۔ عوام نے آپ کو تبدیلی اور سہولیات فراہم کرنے کی وجہ سے ووٹ دیا تھا لیکن آپ نے سہولیات فراہم کرنے کی بجائے پہلے سے سہولیات جو میسر تھی انکو بھی ختم کر دیا۔ اس حکومت کو اپنے کیے گئے فیصلوں پر سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ورنہ رعایا جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تو دنیا کی کوئی طاقت رعایا کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔

  • حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    ہوا یہ کہ 12 ربیع الاول کا جو جلوس تھا وہ جیسے ہی اختتام پذیر ہوا تو لاہور میں ملتان روڈ جہاں پہ خادم حسین رضوی کی مزار بھی ہے اور وہاں پہ مسجد بھی ہے تو وہاں پر تحریک لبیک کے جو کارکنان ہیں انہوں نے اس جلوس ایک دھرنے میں تبدیل کر دیا اور یہ کہا گیا کہ تین دن آپ کے پاس ہیں اور ان تین دنوں میں حکومت کے سامنے دو مطالبات رکھے گئے کہ ان دونوں مطالبات پر کام کرنا پڑے گا اگر آپ یہ مطالبات مان لیتے ہیں تو بالکل ٹھیک ہے ورنہ ہم آپ کے خلاف احتجاج کریں گے معاملہ خراب اس وقت ہوا تھا جب نومبر 2020 میں ناموس رسالت کے اوپر بہت زیادہ احتجاج ہوئے اور بہت کچھ ہوا اور بعد میں ایک معاہدہ ہوا اس معاہدے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری ہیں انہوں نے بھی دستخط کیے اور شیخ رشید نے بھی دستخط کیے اس میں بڑی سیدھی سادی بات تھی کہ ہم جناب جو فرانس کا سفیر ہے پاکستان سے اسکو نکال دیں گے اور اسکو لیکر قومی اسمبلی میں قرارداد بھی آئی لیکن سفیر کو نکالنے کی بات وہاں پر نہیں ہوئی لیکن حکومت نے اس وقت کمٹمنٹ ضرور کر دی کہ ہم نکال دیں گہ لیکن پھر صورتحال خراب اس وقت ہوئی جب اپریل میں سعد رضوی جب وہ کہیں سے واپس آرہے تھے تو انکو گرفتار کر لیا اور پھر کافی عرصے سے انکو جیل میں رکھا ہوا ہے اور پھر لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ آتی ہے لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ کے بعد بھی انکو رہائی نہیں ہو رہی، دو بنیادی مطالبات ہیں جو سامنے رکھے گئے اس میں پہلا کہ سعد رضوی کی رہائی ہر صورت میں تحریک لبیک کے کارکنان چاھتے ھیں اور دوسرا فرانسی سفیر کو اس وقت ملک سے نکالا جائے، 

    اب آتے ہیں اگلے مرحلے کی طرف کہ اس معاملے اپڈیٹ کیا ہے مذاکرات ہوئے ہیں نہیں ہوئے ہیں حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ بات چیت کی ہے انسے رابطہ کیا ہا نہیں کیا؟

    تو میں آپکو بتا دیتا ہو جب سے یہ اعلان ہوا ایسا نہیں ہے کہ تحریک لبیک کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ملتان روڈ پر اور نارے لگا رہے ہیں اور انکی کوئی بات نہیں سن رہا اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ اب زاعری بات ہے اس میں حکومتی سفیر یا حکومتی وزیر تو نہیں تھے اس میں سیکیورٹی ایجنسیز کہ لوگ تھے انہوں نے تحریک لبیک کے لوگوں کے ساتھ بات کی لیکن اس وقت تک جو نئی خبر ہے ان دونوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا جس کے بعد اب تحریک لبیک نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جا رہے ہیں اسلام آباد کی جانب تو انہوں نے ان مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کردی ہے اور یہ مذاکرات ہونے کی پہلے تحریک لبیک نے تصدیق کی جس کہ بعد ابھی بھی تصدیق کردی ہے کہ انکے جو مذاکرات ہیں حکومت کے ساتھ وہ ناکام ہو گئے اس کے بعد اب تحریک لبیک کے کارکنان لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے ہیں لیکن لاہور شہر کے اندر اور پورے پنجاب میں تحریک لبیک کے خلاف پولیس جو ہے وہ کریک ڈاؤن کر رہے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں انکے لوگ گرفتار کیے جا رہے ہیں داخلی اور خارجی راستے بند کیے جا رہے ہیں دو دن سے ٹریفک کا ماحول انٹرنیٹ سروس درہم برہم ہے لیکن اس دوران سب سے بڑی جو خبر ہے وہ ہے شیخ رشید صاحب کا بیرون ملک جانا شیخ رشید جناب دبئی کے لیے روانہ ہو گئے دو تین دن کا انکا وزٹ ہے اطلاعات کے مطابق وہ انڈیا پاکستان کا میچ دیکھنے گئے ہیں پاکستان کے حالات معمول پر نہیں اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ اس بات پر کہ میچ ضروری ہے یا اس وقت آج لاہور شہر میں اپوزیشن جماعتوں کی ریلیز الگ سے ہیں اور مزعبی جماعت کا احتجاج اپنی طرف ہے اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ میچ دیکھنے جا رہا ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )

  • فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    1945کے بعد بیشتراقوام عالم پرسے برطانوی سامراج کے بتدریج خاتمے اور انخلاء کے بعد جن چیزوں کا غلام اقوام میں تسلسل ازحد یقینی بنایا گیا ان میں سرفہرست سامراجی نظام انصاف ہے۔ یعنی جو نظام فاتح اقوام نے مفتوحہ اقوام پر اپنا جبرواستبداد برقراررکھنے کے لئے پوری قوت سے نافذالعمل کیا تھاوہی نظام آج تک غلام اقوام جو کہ بظاہر اب آزاد ہو چکی ہیں پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذالعمل ہے۔اس پورے عرض گذاری سے شروع ہونیوالے اور متوفی پر ختم ہونیوالے نظام پر سرسری نظر دوڑانے پر ہی معلوم ہوجاتاہے کہ یہ نظام حصول انصاف کے لئیے ہے ہی نہیں بلکہ ترویج ظلم کے لیئے ہے۔ قول مشہور ہے کہ پاکستان میں حصول انصاف کے لیے آپ کے پاس قارون کا خزانہ اور عمر خضر ہونی چاہئے ۔ یعنی نہ قارون کا خزانہ ہو ، نہ عمر خضر ہو اور نہ انصاف ہو۔پاکستان میں فوجی حکمران آئے ، سول حکمران آئے بڑے بڑے بیوروکریٹ آئے جن کی کتابیں مشہور ہوئیں ہر طرح کے طاقتور لوگ آئے اور ان سب نے اپنی اپنی بھانت بھانت کی پالیسیاں چلائیں، قانون بنائے اور بے شمار خرافات کیں لیکن ان سب نے 74سالوں میں جو ایک مشترکہ چیز یقینی بنائی رکھی وہ یہ تھی کہ کسی طرح اس ملک کا نظام عدل ٹھیک نہ ہو۔حکمران طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جس دن اس ملک میں فوری انصاف ملنا شروع ہوگیا ان کی بدمعاشیوں اور عیاشیوں کو بھی نکیل ڈل جائیگی۔ تو لہذا اب مختلف نظریات کی دعویدار انگنت پارٹیاں اور جھنڈے ، بولیاں ایک سیل بے کراں ہے لیکن کہیں کوئی عملی طور پر فوری انصاف کیلئے کام کرتا نظر نہیں آتا نہ آئیگا۔ اس ملک میں سب طرح کے قانون و آرڈیننس بن کر نافذ ہو سکتے ہیں لیکن 14دن کے اندراندر فیصلہ کرنے کے بنے ہوئے قانون پر عملدرآمد کوئی مائی کا لعل نہیں کروائیگا اور نہ کوئی اس پر بات کریگا ۔اور ایسا نہ کرنیکے صورت میں کوئی اس پر بات نہیں کریگا نہ سروس کٹے گی نہ مراعات۔ سب کو معلوم ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے ذمرے میں آتی ہے لیکن انصاف میں تاخیر جاری ہے۔ اصل ظلم یہ ہے جس کیخلاف کچھ لوگ بولتے ضرور ہیں لیکن ان کی آواز نقارخانے میں طوطی جتنی بھی نہیںاور مزے کی بات یہ ہے کہ انصاف ،انصاف کی دھائی دینے والے بھی دوسروں کیلیے انصاف جبکہ اپنے لیے ہر قسم کی معافی کے طلبگار ہیں۔
    امریکہ یورپ اور اسکے حواری افغانستان میں اپنی بدترین شکست کا بدلہ اب طالبان کے نظام انصاف پر انگلیاں اٹھا اٹھا کر لے رہے ہیں حالانکہ وہی اسلامی قوانین سعودی عرب میں نافذہیں لیکن ادھر تیل اور ڈالر کے اشتراک سے حاصل ہونیوالی دولت کے انبار نظر آتے ہیں اور طالبان بے چارے غریب ہیں اس لیے ان میں نظام میں خرابیاں نظر آتی ہیںجوکہ منافقت ہے۔ امریکہ کو بے گناہوں پر ڈرون حملے کرتے ہوئے کوئی انسانی حقوق یادنہیں آتے اور نہ ہی خواتین کے چادر اور چاردیواری کے حق کی پامالی نظر آتی ہے لیکن طالبان اگرکسی مستند چور کے ہاتھ کاٹ دیں یا بچوں سے بدفعلی کرکے ان کو جان سے مارنے والے درندوں کو چوک چوراہے پر لٹکا دیں تو ان نام نہاد انسانی حقوق والوںکے پیٹ میں مروزاٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ادھر پاکستان کو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئے ہوئے 74سال بیت گئے بلکہ بتا دیے گئے لیکن آجتک اس میں اسلامی قوانین کا بعینہ نفاذ نہیں ہونے دیا گیا۔ کہتے ہیں کوئی قانون یہاں اسلامی قوانین سے متصادم نہیں بنا نہ بن سکتا ہے ۔ تو پوچھنایہ کہ اسلامی ماخذ قانون Islamic Jurisprudenceسے لاکھوں کروڑوں مقدمات کے التوا کا جواز بھی نکال کر دکھا دو۔ یہی ایک بات کہ اس ملک میں بندہ مر جاتا ہے نسلیںبرباد ہوجاتی ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا اس نظام کو غیراسلامی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے ملک کی اشرافیہ اس نظام ناانصاف سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہیں۔ لوئر کورٹس، سیشن کورٹس، ہائی کورٹس، سپریم کورٹس، اسلامی کورٹس سے ایک اپر کلاس کے ظلم کے نظام کو دوام بخشنے کے ادارے ہیںجو بدمعاشیہ کو تحفظ فراہم کرتے ہیںاور غریب کی نسلیں اجاڑ دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو سولیوں پر ہونا چاہئے تھا وہی لوگ کرسیوں پر براجمان ہیں۔

  • زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    دنیا کی ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی بھی چیز بے مقصد اور بے معنی پیدا نہیں فرمائی ہر چیز کا کوئی نہ کوئی خاص مقصد ہے اور قدرت ان سے انہیں مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ زمین کی نپلوں سے لے کر آسمان کی صورت تک کسی نہ کسی مقصد کے ساتھ منسلک ہیں۔ تخلیق کائنات کے مقصد کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ اللہ تعالی نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں بنایا۔ پھر مختلف مقاصد کو نوع بہ نوع چیزوں کا پابند کردیا کہ اس طرح وہ مقاصد پھیلتے چلے گئے جیسا کہ اللہ تعالی نے مقصد اس کائنات کو خود فرمایا کہ:

    میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا جب میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو میں نے کائنات کی تخلیق کر دی ” ( الحدیث)

    اس سے یہ بات پتا چل گئی کہ تخلیق کائنات کا سب سے بڑا اہم اور اصل مقصد اللہ تعالی کی ذات و صفات کی معرفت اور اس پر کامل ایمان رکھنا ہے۔ اور جب اللہ تعالی کا عرفان حاصل ہو جائے تو یہ مقصد پورا ہو گیا کہ آپ کائنات کی وہ شے اپنے وجود میں کامل ہو گی۔ پھر مخلوقات میں جو درجات ہیں ان میں بھی مقصد نمایاں ہے۔ پہلے اس امر پر غور کریں کہ اللہ تعالی نے مخلوق میں زی حس کو تین طرح پر پیدا فرمایا۔

    1)ایک وہ جن کو عقل دیا اور نفس سے محفوظ رکھا۔ جیسے فرشتے
    2) ایک وہ جن کو نفس دیا اور عقل سے بے بہرہ کیا۔ جیسے حیوانات
    3) ایک وہ جن کو عقل بھی دیں اور نفس بھی دیا۔ جیسے جن و انس

    ان میں ہر ایک کا مقصد جداگانہ ہے۔ فرشتوں کو بے نفس بنا کر انہیں صرف اپنی عبادت پر مامور فرما دیا اور دیگر ضروریات سے محفوظ کر دیا۔ اور تمام بشری تقاضے ان سے الگ کر دیئے۔ جانوروں کو پیدا کیا تو انہیں عقل سے خالی کرکے صرف نفس کا خوگر بنایا اب ان پر کوئی شرعی احکام یا امرونہی کا حکم نافذ نہیں۔ مگر ان سوجن کو یہی خصلت بھی دیں اور فرشتوں کا شعور بھی دیا۔ اس لئے اس کے ڈھاٹے ملکوتی خصائل سے ملتے ہیں۔ اور دوسری طرف بہمانا صفات سے۔ اس کو اس منزل پر کھڑا کیا جو انتہائی زیادہ آزمائشی ہے۔ انہیں تکلیف شرعی بھی دی اور لذت نفس بھی عطا کیا۔ اب جن و انس دونوں خصلتوں کے حامل ٹھہرے۔ اگر ملکوتی صفات غالب آجائیں تو اس وقت انسان فرشتوں کا ہم نشیں ہیں اور اگر بہمانہ خصائل غالب آجائیں تو اس وقت وہ جانور ہے۔

    رب کریم نے جن و انس کی مقصدیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    ” ہم نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا” ( زاریات، آیت 54)

    معلوم ہوا کہ مقصد انسان صرف عبادت الہی ہے۔ اسی کو مذکورہ بالا حدیث قدسی میں اپنی ذات کی معرفت سے تعبیر فرمایا۔ اب یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد حیات بڑا مبارک عظیم اور اہم ہے۔ اب چونکہ یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد بہت اہم اور مبارک ہے تو اس لیے ہر انسان کو چاہیئے کہ وہ دنیاوی کاموں سے برتر سب سے پہلے اللہ کی معرفت اور عبادت کو سب سے پہلے رکھے۔ اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور بنیادی مقصد اللہ کی عبادت ہونی چاہیے۔ کیونکہ باقی دنیاوی کام تو سب چلتے رہتے ہیں۔ اگر انسان اللہ کا قرب پا گیا تو سمجھو وہ مقصد حیات پا گیا۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    @RealPahore

  • بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ  تحریر:- فروا نذیر

    بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ تحریر:- فروا نذیر

    Twitter : @FarwaSpeaks_
    آج کل نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر ایک تازہ بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مغربی دنیا افغانستان میں امریکی شکست کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش میں ہے۔ امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے طویل اور مہنگی ترین جنگ ہار چکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ نے اس جنگ میں 20 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ کا سرمایہ خرچ کیا۔ افغانستان میں رہتے ہوئے امریکہ معاشی حوالے سے چین کا مقروض ہوتا رہا۔
    چین ناچاہتے ہوئے بھی امریکہ کو قرض دیتا رہا کیونکہ امریکہ چین کے پڑوس میں بیٹھا تھا اور کسی بھی وقت پراکسی وار چین پر مسلط کر سکتا تھا۔ جنگ سے بچنے کے لئے چین کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا۔
    افغان جنگ میں پوری مغربی دنیا کی سرمایہ کاری تھی۔ اب سرمائے کے ڈوب جانے کے بعد مغرب بدمست ہاتھی کی طرح ہنکار رہا ہے۔ ان کی نظروں میں اس شکست کا بس ایک جواز ہے اور وہ ہے "One word, PAKISTAN” ۔ پاکستان اس وقت مغربی دنیا کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔
    اس وقت حالات واضح طور پر نئے بلاک کی طرف جا رہے ہیں۔ جو کہ چین اور روس کی سرکردگی میں ہو گا۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے سرمائے کا کثیر حصہ چند ہاتھوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہتھیلیوں میں آ چکا ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ دنیا کا سسٹم تبدیلی کی طرف آئے۔ جمود کو موت ہے اور تغیر میں بقا ہے۔ لہٰذا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا اشتراکیت کی طرف آ جائے۔ اگر دنیا کا نظام اشتراکیت کی طرف آیا تو اس میدان میں لیڈ روس اور چین کی طر رہے ہیں۔ امریکی capitalism آخری سانسیں لے رہا ہے۔
    امریکہ کے پاس جنگ کے لئے اور کوئی میدان بھی نہیں بچا۔ سیانے کہہ گئے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی جنگ میں میدانِ جنگ غریب ممالک ہی بنتے ہیں۔ ایسے ہی افغانستان بھی ایک میدانِ جنگ تھا۔ پاکستان کی مضبوط دفاعی حکمتِ عملی اور راولپنڈی میں بیٹھے دنیا کے تیز ترین دماغوں کی وجہ سے پاکستان اب تک بچا ہوا ہے ورنہ شاید اب تک ہم بھی افغانستان، عراق یا شام کی طرح شام کے اندھیرے میں ڈوب چکے ہوتے۔
    اگر نیا بلاک بنتا ہے تو اسے لیڈ چین اور روس کریں گے اور ساؤتھ ایشیا میں پاکستان اس کا سرکردہ رکن ہو گا۔ کیونکہ انڈیا اپنی وفاداریاں امریکہ کے ساتھ جوڑ چکا ہے۔ طاقت کا توازن بھی ایشیا میں ہی رہے گا اور مغرب کے پاس سوائے انتظار کے اور کچھ نہیں بچے گا۔
    جہاں تک پاکستان پر پابندیوں کی بات ہے تو یہ مغرب کی سب سے بڑی بے وقوفی ہو گی۔ یہ بل اور قراداد والا سارا ڈراپ سین امریکہ صرف اور صرف اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لئے کر رہا ہے۔  دنیا کو خاموش کرانے کے بعد یہ سب باتیں ہوا ہو جائیں گی۔ امریکہ افغانستان میں شکست کھانے کے بعد پہلے ہی ایشیاء میں اپنی پوزیشن کمزور کر چکا ہے۔ کیونکہ ایشیا میں پہلے صرف چین کی امریکہ کے مدِ مقابل تھا لیکن اب چین کے ساتھ ساتھ روس، ایران اور ترکی بھی امریکی چودھراہٹ کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور پاکستان میں بھی پہلی بار گورننس ذاتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں عمل میں آ رہی ہے۔ جو کہ امریکہ کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔
    امریکہ اب پاکستان کو مزید ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پاکستان خطے میں اپنا کافی اثر و رسوخ بنا چکا ہے۔
    امریکہ میں بھی اب جنگی جنون باقی نہیں رہا۔ امریکہ کی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔ امریکہ اب جنگ کی بجائے چین کی طرح معاشی میدان میں قدم جمانے کی پلاننگ میں ہے۔ آنے والا وقت اسی کا ہو گا جس کی جیب بھاری ہو گی۔ اسی حوالے سے امریکہ نے چینی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابلے میں اپنا نیا پراجیکٹ لانچ کیا ہے۔ امریکہ نے سمندروں پر قبضہ کر رکھا تھا لیکن چین نے زمینی سفر کو ترجیح دے کر پورے خطے میں تجارتی روٹس کا جال بچھا دیا جو کہ امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد چین کے پاس مشرقِ وسطیٰ تک پہنچنے جا زمینی راستہ بھی آ چکا ہے جس کی حفاظت کے لئے چین افغان طالبان سے پہلے ہی مذاکرات کر چکا ہے۔
    دنیا کی سیاست کا نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے۔
    اب ہم نے دیکھنا یہ ہے دنیا کا معاشی نظام کس کروٹ بیٹھتا ہے
    سرمایہ دارانہ یا اشتراکیت؟
    یہ وقت ہی بتائے گا۔

  • لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    @mnasirbuttt

    اور ایک بار موبائل فون سروس بند ہونے سے دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہوگیا، گھر سے نکلنا دشوار اور سوشل میڈیا پر رائے دینا محال ہوگیا، ایک بار پھر کالعدم تحریک لبیک کی جانب سے شہر اقتدار پر یلغار کا اعلان اور حکومت کی جانب سے سیکورٹی انتظامات کی آڑ میں موبائل فون سروس، شاہراہیں اور تقریبا عام شہری کی آنکھیں بند کرنے کا آغاز کر دیا گیا، شہر لاہور میں پولیس کی جانب سے فلیگ مارچ اور جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد پر وفاقی و پنجاب پولیس کا مشترکہ دھرنے سے پہلے استقبالی دھرنا بھی جاری ہے، جگہ جگہ کنٹینٹرز لگا کر راستے بند کرنے کے باوجود ڈنڈے ہاتھوں میں پکڑے نفری منتظر ہے لاہور سے جمعہ کے بعد اسلام آباد کے لیے نکلنے والے مہمانوں کی، پولیس والے اس لانگ مارچ کے انتظار میں دو دن ڈیوٹی پر رہیں گے یا چار دن معلوم نہیں لیکن ان چند روز میں ملحقہ علاقوں میں رہنے والوں کی زندگی ضرور اجیرن رہے گی، ایک سوال جو ملک بھر کے عوام خصوصا اس صورتحال میں متاثر ہونے والے شہری من میں لیے گھومتے ہیں لیکن پوچھنے کی سکت نہیں کہ آخر حکومت کی جانب گزشتہ دھرنے کو ختم کروانے کے لیے بطور ضمانت قومی اسمبلی میں بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی اب تک معاملات کا حل کیوں نہیں نکال سکی، کیوں تحریک لبیک کی لیڈر شپ کو اعتماد میں لیکر مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی، اگر دیگر قومی مسائل کو حل کرنے میں غیر سنجیدگی کی طرح ادھر بھی سستی دکھا ہی دی گئی تو لاہور میں جاری حالیہ دھرنے کا ہی رخ کر لیا جاتا، کاش لاہور میں ہی ان سے مذاکرات کر لیے جائیں تاکہ مذہبی جماعت کے کارکنان و پولیس کو آمنے سامنے آنے کا موقع ہی نہ ملتا، گزشتہ روز شیخ رشید نے سفارتی تعلقات کے اعتبار سے اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا مسئلے کا حل نہیں ایسا کرنے کی صورت میں یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہونے کا خدشہ رہے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے پی ڈی ایم راولپنڈی احتجاج کی آڑ میں مذہبی گروپ کو بھی سنا دیا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا، پہلی بات تو یقینا درست ہے کہ سفارتی دنیا میں اس طرح کسی بھی گروہ کے پریشر میں آکر سفیر جو کہ اپنے ملک کا نمائندہ سمجھا جاتا یے اس کو ملک بدر کرنا بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ کی متعلقہ ملک کے ساتھ طلاق ہوگئی اور آپ نے تین بار لب کشائی کرکے کام تقریبا ختم ہی کر دیا جبکہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ طلاق بھی کیوں دی جائے جب بیوی فرانس جیسی امیر و ترقی یافتہ بیوی ہو ہاں ایتھوپیا کے ساتھ معاملات اس نہج تک پہنچنے تو شاید ریاست مدینہ کے خلیفہ ایسا کچھ سوچ بھی لیتے، دوسری بات کچھ ایسی ہی ہے کہ "کہنا بیٹی کو سنانا بہو کو” وزیر داخلہ نے پنڈی میں احتجاج کرنے والی ن لیگ کو قانون کی حرکت کے بارے میں سنایا تو ضرور لیکن پیغام لاہور والوں کو بھی سنا دیا کہ فیض آباد آنا آسان نہیں اور اگر پہنچ بھی گئے تو مہمان نوازی کا شرف پنجاب و وفاقی پولیس کی مشترکہ میزبانی کو حاصل ہوگا جس میں آنسو گیس، لاٹھی چارج، گرفتاریوں سمیت دیگر اشیاء بھی بطور مینو پیش کی جاسکیں گی، اس ساری صورتحال میں نقصان قوم کا ہوگا جو اپنے معمولات زندگی سے جو کورونا کے عذاب سے بمشکل باہر نکل کر بحالی کی طرف ابھی چلے ہی تھے سے ایک بار پھر ہاتھ دھو بیٹھیں گے دوسرا کسی بھی قسم کی ممکنہ جھڑپ کی صورت میں زخمی پولیس اہلکار ہو یا تحریک کا کوئی کارکن نقصان ریاست کا ہی ہوگا نقصان پوری قوم کا ہی ہوگا، ریاست مدینہ والوں سے دست بدستہ درخواست تو یہ ہی ہے کہ کالعدم تنظیم کے ایکٹو علماء کو بجائے گرفتار کرنے یا مار دھاڑ کرنے کے ان سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی جائے، ان کو سنا جائے اور ان کو بین الاقوامی و قومی مجبوریوں کے حوالے سے آگاہ کیا جائے، ان کو سفارتی دنیا کی بھی ایک سیر کروائی جائے اور مطالبات کی منظوری کی صورت میں ہونے والے ریاستی نقصان کا تخمینہ بھی بتایا جائے لیکن لیکن لیکن ساتھ ہی ساتھ مستقبل میں ہونے والی اس طرح کی کسی بھی قسم کی گستاخی و توہین کی صورت میں سخت ترین قانون سازی بھی کی جائے اور ڈرافٹنگ کے دوران علماء کے ایک وفد کو بھی اپنی تجاویز کو قانونی نقاط میں شامل کرنے کی دعوت دی جائے تاکہ ایمان بھی سلامت رہے اور بروز قیامت نبی الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی جواب دہی ہوسکے کہ آپ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو صرف جماعتی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر دبایا گیا اس کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر اس کے خلاف کاروائی بھی کی گئی کیونکہ آپ سے محبت ہی ایمان کی نشانی ہے اور آپ کی حرمت پر بولنا ہی زندگی کا حقیقی مقصد لیکن آقا دو جہاں کے پیروکاروں کا یوں سڑکوں پر ایک دوسرے کو آمنے سامنے ہوگا لاٹھی چارج مار دھاڑ اور باقی سب پرتشدد کاروائیاں، یہ نہ ہی اسلام سکھاتا ہے نہ ہی اس سب سے دین کی خدمت میں کوئی حصہ ڈالا جاسکتا ہے

  • آپ کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں تحریر:- ساجد علی

    آپ کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں تحریر:- ساجد علی

    آپ کے اندر ایک خوبی ہے تو آپ کامیاب ہو سکتے ہیں وہ خوبی یہ ہے کہ آپ اپنی  منزل کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں ڈٹے رہیں آپ کبھی ناکام نہیں ہوں گے کامیابی 5 چیزوں کا مجموعہ ہے .

    1-پیسہ 

    2-صحت 

    3-علم 

    4-سوچ 

    5-عادات 

    آپ کو یہ پانچ چیزیں برابر رکھنی ہے اگر ان میں سے ایک چیز بھی بہتر نہ ہوئی تو بندہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا اور کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا یہ پانچ چیزیں کامیابی کی قیمت ہیں  جب تک آپ کامیابی کی قیمت ادا نہیں کریں گے تو آپ کامیابی نہیں ہوں گے.

    سب سے پہلے ہمیں اپنا روّیہ ٹھیک کرنا ہے  رویہ وہ  ہوتا ہے جو ہمارے اندر اور ہمیں ہی نظر آتا ہے اور برتاؤ وہ ہوتا ہے جو ہمارے اندر دوسروں کو نظر آتا ہے اور ہماری کامیابی میں 99 فیصد رول ھمارے روّیے کا ہوتا ہے اگر آپ کا روّیہ برا ہے تو ساری دنیا کے فلاسفر آپ کو کامیاب کرنا چاہیں تو آپ نہیں ہو سکتے اور اگر آپ کا رویہ اچھا ہے تو ساری دنیا کےفلاسفر مل کر ناکام کرنا چاہیں تو آپ کبھی ناکام نہیں ہو سکتے اگر کسی بندے نے بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے تو اس کے اچھے رویے کی وجہ سے ۔

    چاہے ہم باہر سے جتنے پریشان ہوں لیکن اندر کا روّیہ اچھا رکھنا چاہیے جس  انسان کے دماغ کو  گندی سوچ ملی ہو گی وہ بندہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا 

    انسان اپنے دماغ کے اندر جیسے سوچے گا وہی اس کے ساتھ ہوگا اگر ہمارے دماغ میں ناکامی تیار کی ہوئی ہے تو ویسے ہی ہوگا ہمارے ساتھ باہر سے بندہ جیسا بھی ہو اندر ٹھیک ہونا چاہیے اب بندہ باہر سے کہے کہ میں  کامیاب ہو جاؤں گا لیکن اندر میں یہ سوچے کہ بہت مشکل ہے میں نہیں ہوسکتا کامیاب تو وہ بندہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا ۔

    بندے کی نیت یہ ہو کہ میں نے اگلے بندے کو لیڈر بن کے دکھانا ہے اپنے دماغ میں جیسا محسوس کرو گے ویسا ہی ہو گا  سب کچھ ہمارے اپنے کنٹرول میں ہے جیسا اندر سوچیں گے ویسا باہر بھی ہوگا اپنا بیج اچھا بوئیں تو سب کچھ اچھا ہی ہوگا ۔

    دنیا میں 80 فیصد لوگ دنیا کا 20 فیصد کماتے ہیں 

    اور دنیا کے 20 فیصد لوگ پوری دنیا کماتے ہیں 

    اگر آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ آپ غلط طریقے سے کام کرکے کامیاب ہو جائیں گے تو ایسا کبھی نہیں ہوگا یہ مومن کا عقیدہ نہیں ہے سب کچھ عقیدے کی وجہ سے ملتا ہے بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا عقیدہ ہو کہ صحیح  کام کریں گے تو کامیابی ملے گی اس کی دنیا بھی بن جائیں گی آخرت بھی بن جائے گی ۔

    کامیابی کا بیج ایک سوچ ہے کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی سوچ کو بڑا کرو فیصلہ کرنے سے کامیابی نہیں ملتی بلکہ فیصلہ کرکے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے سے کامیابی ملتی ہے برا وقت دیکھنے کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے کامیاب بندہ اپنے ایک منٹ میں 60 سیکنڈ گزرنے کی قیمت بھی وصول کرتا ہے جیسے زمین ایک سیکنڈ میں 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے اور سورج ایک سیکنڈ میں 274 کلومیٹر طے کرتا ہے اسی طرح ایک کامیاب آدمی ایک سیکنڈ کی قیمت بھی وصول کرتا ہے ۔

    اگر ہم وقتی فائدہ سوچیں گے تو کامیاب نہیں ہو سکتے اچھے کپڑے پہننا تبدیلی نہیں ہے بلکہ اپنی سوچ اچھی کرنا اور اپنا رویہ اچھا کرنا تبدیلی ہے ۔

    ہماری ناکامی کی سب سے بڑی  وجہ :-

    1 حسد 

    2 نااتفاقی 

    3 تکبر

     4 بے ادبی 

    5 سُستی 

     6 صبروتحمل /غصہ

    7 برداشت 

    اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں یہ چیزیں اپنے اندر سے نکالنی پڑیں گی ورنہ ہم کبھی کامیاب نہیں ہوگی 

     انسان ہمیشہ نام سے نہیں کام سے پہچانا جاتا ہے 

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے کام سے دل لگائیں انشاءاللہ ایک دن کامیاب بن کر دکھائیں گے 

  • کرپٹو کرنسی اور معیشت تحریر محمّد عثمان

    کرپٹو کرنسی اور معیشت تحریر محمّد عثمان

    کرپٹو کرنسی ہمیشہ سے ہی لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنی رہی ہے ۔ اور بٹ کوائن کے بارے میں ایلون مسک کے ٹویٹس کے بعد  تو دنیا بھر کے لوگوں کی دلچسپی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ساتھ بٹ کوائن کی قیمت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔

    بٹ کوائن جو کبھی صرف ٹیکنالوجی سیکھنے والوں کے لیے ایک چیز تھی اب غیر تکنیکی لوگوں کے لیے بھی عام علم ہے۔ کرپٹو کرنسی یا ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں دنیا کے کئی ممالک کا نقطہ نظر بدل گیا ہے۔ 

    جب کرپٹو کرنسی کی پہلی کوائن بٹ کوائن متعارف کروائی گئی تھی تو لوگ مشکل سے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو سمجھتے تھے۔ لیکن اب، ہر عام شخص کرپٹو کرنسی کے بارے میں جانتا ہے- 

    ٹیکنالوجی کی کی دوڑ میں پاکستان دنیا سے بہت پیچھے پایا جاتا ہے دل کے حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن وقار زقا وہ واحد شخص تھا جس نے پاکستانی عوام کو کرپٹو کرنسی کے بارے میں بتایا اور سکھایا  پاکستان میں بغیر کسی وجہ کے کرپٹو کرنسی پر پابندی کے خلاف اکیلا لڑا اور اس وقت پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو لے کر پاکستانی عوام میں کافی دلچسپی اور روشن مستقبل کی امید پائی جاتی ہے کہ کرپٹو کرنسی ان کی تقدیر بدل دے گی مگر اب بھی ایسے جاہل لوگ موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی سے پاکستان کی معیشت تباہ ہو جائے گی-

    اب تو یہ کہاوت بھی پُرانی لگتی کہ دنیا چاند پر پہنچھ گئی ہے لیکن ہم لوگ ہیں کہ ٹیکنالوجی پر پابندی لگا رہے ہماری حکومت میں بیٹھے لوگوں کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ چیز انہیں ہرگز نہیں بھاتی جو ان کی عقل سے بہت وسیع ہو جسے یہ لوگ سمجھنے سے قاصر ہوں-

    جہاں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کا تھنک ٹینک کریپٹو کرنسی کو لے کر کافی پُر امید ہے کہ کرپٹو کرنسی سے معیشت میں مثبت تبدیلی آئےگی اور ہماری حکومت کرپٹو کرنسی پر پابندی کی طرف جارہی ہے-

    بھارت 2012 سے اپنی ڈیجیٹل کرپٹوکرنسی پر کام کر رہا ہے جن میں Zebpay, Coindelta, BTCXIndia, Laxmicoin, OM, CoinDCX شامل ہیں-

    جن میں سے بیشتر کرپٹو کوائن بھارت میں لاؤنچ بھی ہو چکی ہیں اور پاکستانی حکومت ابھی تک اسی کشمکش میں ہے کہ  پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی TENUP کا کیا کیا جائے؟ ایک طرف حکومتی زرائع سے کرپٹو کرنسی پر پاکستان میں پابندی لگانے کی خبریں آرہی ہیں اور دوسری طرف TENUP کی لاؤنچنگ کی بات  ہو رہی ہے اور لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے کرپٹو کرنسی مائن کرنے پر بھی پابندی لگائے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    خدارا کچھ تو چھوڑ دیں اس بےروزگار عوام کے لیے

    مہنگائی پر تو اس حکومت پر قابو پایا نہیں جا رہا ۔ روزگار فراہم کرنے کی زمینداری حکومت کی ہوتی ہے یہ بات بھول کر بس مہنگائی کیے جارہی ہے بس یہی ایک کام پوری ایمانداری سے کر رہی ہے ۔ 

    پاکستان کی پریشان حال عوام پر رحم کیجئے عمران خان صاحب اگر آپ اس عوام کو روزگار دے نہیں سکتے تو چھینے بھی مت کرپٹو کرنسی نارمل investment سے نارمل income کا بہترین زریعہ ہے ۔ مانا شروعات میں جب لوگ پاکستانی روپیہ بیچ کر ڈالر خریدے گے اس وقت پاکستانی روپے کی قدر میں کمی آئےگی لیکن مستقبل میں روپے کی قدر بڑھ جائے گی جس وقت لوگ ڈالر بیچ کر روپیہ خریدے گے 

    مارکیٹ کا اصول ہے کہ اپنی کوئی چیز دے کر آپ دوسرے سے کوئی چیز لی جاتی ہے-

    جس سے اس چیز کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے اور وہ چیز مہنگی ہوجاتی ہے 

    خریدی جانے والی چیز ہمیشہ valueable ہوتی ہے

    خرید کے بدلے دی جانے والی چیز devalue ہو جاتی ہے. 

    کرپٹو کرنسی روپے کی قدر میں بے پناہ اضافہ لائے گی

    صرف آپ نے تھوڑا سا انتظار کرنا ہے اس وقت کا جب لوگ ڈالر کو روپے میں ایکسچینج کرینگے

    اور وہ وقت جلدی آئے گا جب لوگ ڈالر کو روپے میں ایکسچینج کرنے کے باد کسی دکان سے چینی لینے جائے گے پاکستانی دکاندار ڈالر نہیں پاکستانی روپیہ لیتے ہیں۔

     

    Twitter @UsmanKbol

    Email @Usmankbol3@gmail.com

  • اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟   تحریر: زاہد کبدانی

    اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟ تحریر: زاہد کبدانی

    ذہنی صحت صحت مند ، متوازن زندگی گزارنے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔

     ( نیشنل الائنس آف مینٹل بیماری ) کے مطابق ، ہر پانچ میں سے ایک ذہنی صحت کے مسائل کا تجربہ کرتا ہے جو کہ سالانہ 40 ملین سے زائد بالغوں میں ترجمہ کرتا ہے۔

    ہماری ذہنی صحت ہماری نفسیاتی ، جذباتی اور سماجی بہبود کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہم ہر روز کیسا محسوس کرتے ہیں ، سوچتے ہیں اور برتاؤ کرتے ہیں۔ ہماری ذہنی صحت ہمارے فیصلہ سازی کے عمل میں بھی کردار ادا کرتی ہے ، ہم کس طرح تناؤ کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہم اپنی زندگی میں دوسروں سے کیسے تعلق رکھتے ہیں۔

    جذباتی صحت کیوں ضروری ہے؟

    جذباتی اور ذہنی صحت اہم ہے کیونکہ یہ آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور آپ کے خیالات ، طرز عمل اور جذبات کو متاثر کرتا ہے۔ جذباتی طور پر صحت مند ہونا کام ، اسکول یا دیکھ بھال جیسی سرگرمیوں میں پیداوری اور تاثیر کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ آپ کے رشتوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، اور آپ کو اپنی زندگی میں تبدیلیوں کو اپنانے اور مشکلات سے نمٹنے کی اجازت دیتا ہے۔

    آپ اپنی جذباتی صحت کو روزانہ کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟

    ایسے اقدامات ہیں جو آپ اپنی ذہنی صحت کو روزانہ بہتر بنانے کے لیے اٹھا سکتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے ورزش کرنا ، متوازن اور صحت مند کھانا کھانا ، اپنی زندگی میں دوسرے لوگوں کے لیے کھولنا ، جب آپ کو ضرورت ہو تو وقفہ لینا ، کسی ایسی چیز کو یاد رکھنا جس کے لیے آپ شکر گزار ہوں اور اچھی نیند لینا آپ کی جذباتی صحت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ .

    مدد کے لیے پہنچنے کا اچھا وقت کب ہے؟

    ذہنی صحت سے متعلق مسائل مختلف لوگوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی مجموعی خوشی اور رشتوں میں تبدیلیاں دیکھنا شروع کردیتے ہیں تو ، ہمیشہ آپ کی مدد حاصل کرنے کے طریقے موجود ہیں۔ یہاں کچھ طریقے ہیں جن سے آپ مدد حاصل کر سکتے ہیں:

    دوسرے افراد ، دوستوں اور کنبہ کے ساتھ رابطہ قائم کریں – اپنی زندگی کے دوسرے لوگوں تک پہنچنا اور ان سے رابطہ کرنا جذباتی مدد فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    ذہنی صحت کے بارے میں مزید جانیں – جذباتی صحت کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بہت سے وسائل ہیں جن کی طرف آپ رجوع کر سکتے ہیں۔ کچھ مثالوں میں سائیکالوجی ٹوڈے ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ ، اور بے چینی اور ڈپریشن ایسوسی ایشن آف امریکہ شامل ہیں۔

    ذہنی صحت کا جائزہ لیں – ایک تشخیص اس بات کا تعین کرنے میں مدد کر سکتی ہے کہ تناؤ ، اضطراب یا ڈپریشن آپ کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر آن ڈیمانڈ ایک مفت اور نجی آن لائن ذہنی صحت کی تشخیص پیش کرتا ہے جسے آپ کسی بھی وقت لے سکتے ہیں۔

    کسی پیشہ ور سے بات کریں – اگر آپ محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں کہ آپ کی جذباتی صحت آپ پر اثرانداز ہونے لگی ہے تو ، اضافی مدد کے لیے پہنچنے کا وقت آسکتا ہے۔ ڈاکٹر آن ڈیمانڈ کے ساتھ ، آپ ایک ماہر نفسیات یا ماہر نفسیات کو دیکھ سکتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

    آخر میں ، آپ ہمارے بلاگ پر اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں۔ اپنی جذباتی تندرستی کے لیے صحت مندانہ انداز اپنانے کے طریقے دریافت کریں، نیز ڈپریشن جیسے مسائل کو سمجھیں اور یہ مردوں اور عورتوں کو مختلف طریقے سے کیسے متاثر کر سکتے ہیں۔ 

    @Z_Kubdani