Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں مبشر لقمان ایک ایسا نام ہے جس نے اپنے منفرد انداز، جرات مندانہ مؤقف اور براہِ راست گفتگو کے ذریعے اپنی ایک الگ پہچان قائم کی۔ وہ ان چند اینکرز میں شمار ہوتے ہیں جو محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی اور بین الاقوامی معاملات پر واضح رائے دے کر عوام کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر کئی نشیب و فراز سے گزرا، مگر انہوں نے ہر دور میں خود کو ایک “آواز” کے طور پر منوایا۔ چاہے وہ ٹی وی اسکرین ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم، انہوں نے ہمیشہ بروقت معلومات فراہم کرنے کو اپنا فرض سمجھا۔ بطور سی ای او باغی ٹی وی، انہوں نے جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آن لائن صحافت کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا، جہاں لمحہ بہ لمحہ خبریں اور تجزیے عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔

    حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران، مبشر لقمان نے جس طرح مسلسل اپڈیٹس اور تجزیے فراہم کیے، وہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی ان کی نظر گہری رہی ہے، اور انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کو باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    صحافت محض خبر دینا نہیں، بلکہ ذمہ داری، دیانت اور الفاظ کے درست استعمال کا نام ہے۔ ایسے میں جب کسی بھی شخصیت کے بارے میں غیر مناسب یا توہین آمیز زبان استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف اس فرد بلکہ مجموعی صحافتی اقدار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ناصر ادیب جیسے افراد کو بھی اس حساسیت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ الفاظ کا انتخاب معاشرتی فضا پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

    مبشر لقمان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنی رائے کے اظہار سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہی جرات انہیں عام اینکرز سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کے مداح صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت دنیا بھر میں موجود ہیں، جو ان کی تجزیاتی صلاحیتوں اور بے باک انداز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے، مگر اس اختلاف کو مہذب دائرے میں رکھنا ہی اصل شعور کی علامت ہے۔ مبشر لقمان جیسے صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہمیں بطور معاشرہ برداشت، احترام اور مثبت مکالمے کو فروغ دینا ہوگا،کیونکہ یہی ایک صحت مند میڈیا اور مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فائز رحمان

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فائز رحمان

    حالیہ دنوں میں ایران کے سینئر اور نسبتاً اعتدال پسند رہنما علی لاریجانی کا قتل مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک انتہائی اہم اور تشویشناک موڑ ہے۔ علی لاریجانی کا شمار ان عالمی اور علاقائی رہنماؤں میں ہوتا تھا جو تنازعات کو سفارتکاری اور پرامن بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حق میں تھے۔ ان کی شہادت نہ صرف ایرانی قوم بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں جنگ کے بادلوں کو مزید گہرا کر دیا ہے اور کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس کی رسائی اور عزائم
    اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو اسرائیل کی ایرانی سیکیورٹی نظام میں گہری رسائی ہے۔ یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اسرائیل کو ایرانی قیادت تک اتنی درست اور بروقت رسائی کیسے حاصل ہے؟ یہ دراصل اسرائیل کی جدید ‘ٹیکنالوجیکل انٹیلی جنس’ اور زمینی سطح پر موجود ‘ہیومن انٹیلی جنس’ (جاسوسی نیٹ ورک) کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اس دراندازی نے ایرانی سیکیورٹی کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ قیادت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

    دوسری جانب، اس حملے سے اسرائیل کے جنگی عزائم بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ یہ کارروائی واضح کرتی ہے کہ اسرائیل خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید بھڑکانے اور ایک وسیع تر جنگ کی طرف دھکیلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازعے کو طویل کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور اسے جلد از جلد سمیٹنے کی خواہش مند ہیں۔

    ایران کا غیر مرکزی (Decentralized) دفاعی نظام
    ان تمام تر نقصانات اور ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز کے باوجود، یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ ایران کی جنگی صلاحیت مفلوج ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس متبادل قیادت کا ایک انتہائی مؤثر اور خودکار نظام موجود ہے۔ ان کے سیکیورٹی اور عسکری ڈھانچے میں قیادت کی کئی تہیں (Layers) بنائی گئی ہیں، جو کسی بھی اہم رہنما کی شہادت کی صورت میں فوری طور پر ان کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہیں۔

    مزید برآں، ایرانی جنگی مشینری کسی ایک مرکز کی محتاج نہیں ہے۔
    ملک بھر میں تقریباً 33 آزاد یونٹس (Independent Units) موجود ہیں جو ایک طے شدہ حکمت عملی (Playbook) کے تحت ‘آٹو پائلٹ’ موڈ پر کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کے خلا کے باوجود ان کی جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار ہے۔ یہ جنگ روایتی طرز کی نہیں بلکہ ایک ‘غیر متناسب جنگ’ (Asymmetric Warfare) کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں ایک علاقائی طاقت بڑی عالمی طاقتوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے خطرات کے پیشِ نظر امریکی صدر کو نیٹو، یورپ اور حتیٰ کہ چین سے بھی مدد کی اپیل کرنی پڑ رہی ہے۔
    اندرونی محاذ: ایران کا اتحاد بمقابلہ امریکی تقسیم

    جنگ کے اندرونی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو ایک حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل، ایران میں مذہبی حکومت کے خلاف شدید عوامی مظاہرے جاری تھے۔ تاہم، اس بیرونی حملے نے پوری ایرانی قوم کو بیرونی خطرے کے پیشِ نظر متحد کر دیا ہے۔ اندرونِ ملک اب حکومت کی مخالفت نہ ہونے کے برابر ہے، اور محض بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن (Diaspora) کی جانب سے ہی تنقید کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    اس کے بالکل برعکس، اس جنگ کے سب سے بڑے حامی، یعنی امریکہ میں شدید اندرونی تقسیم پائی جاتی ہے۔ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت اس جنگ کے خلاف ہے، اور یہ تقسیم اب وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) بھی اس جنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، وائٹ ہاؤس کے کاؤنٹر ٹیررزم انٹیلی جنس یونٹ کے ڈائریکٹر کا احتجاجاً استعفیٰ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک بااثر طبقہ اس جنگ کو "امریکہ کی جنگ نہیں، بلکہ اسرائیل کی جنگ” سمجھتا ہے۔

    مختصراً یہ کہ علی لاریجانی جیسے اہم رہنماؤں کے نقصان کے باوجود، ایران کا بنیادی دفاعی اور عسکری ڈھانچہ بظاہر تباہ نہیں ہوا۔ بیرونی خطرے نے ایران کو اندرونی طور پر مستحکم کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کو شدید اندرونی اختلافات اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔

  • آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا کی سب سے حساس بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز، ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور نیٹو اتحادیوں سے اس اہم راستے کے تحفظ اور کھلے رکھنے کے لیے بھرپور تعاون نہ ملنے پر شکوہ کیا ہے۔ یہ شکوہ محض ایک بیان نہیں بلکہ مغربی اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک اس معاملے پر مکمل یکسو نہیں۔ کچھ یورپی ریاستیں مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی عسکری مہم جوئی سے گریز چاہتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور داخلی سیاسی مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ برطانیہ، جو تاریخی طور پر امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے، اب ایک محتاط توازن قائم کرنے کی کوشش میں نظر آتا ہے—نہ مکمل لاتعلقی، نہ اندھا ساتھ۔

    یہ اختلاف دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے: کیا نیٹو ایک دفاعی اتحاد کے طور پر اپنی اصل روح برقرار رکھے گا یا بدلتے عالمی حالات میں اس کے اندر ترجیحات کی نئی درجہ بندی ہوگی؟ امریکہ کی نظر میں آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، مگر یورپ کے لیے یہ معاملہ صرف سلامتی نہیں بلکہ سفارتکاری اور استحکام کا بھی ہے۔

    مستقبل قریب میں تین ممکنہ راستے ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اول، محدود اور علامتی تعاون جس سے اتحاد بھی برقرار رہے اور براہِ راست تصادم سے بھی بچا جا سکے۔ دوم، نیٹو کے اندر واضح تقسیم، جہاں چند ممالک امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں اور دیگر فاصلے پر رہیں۔ سوم، ایک وسیع تر سفارتی حل جس میں علاقائی طاقتوں کو شامل کر کے کشیدگی کم کی جائے۔اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے،کیا مغرب ایک مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دے پائے گا یا یہ بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد رکھے گا؟ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ عالمی اتحاد دباؤ میں کس حد تک متحد رہ سکتے ہیں۔

  • سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے کی حدیں واضح کرنے لگا

    الزامات، وضاحتیں اور سچ کی تلاش سرکاری طیارے کی بحث نے ذمہ دارانہ صحافت کا سوال کھڑا کر دیا

    سیاسی بیانیے اور سوشل میڈیا کی گرد میں چھپتے حقائق، سرکاری طیارہ بحث نے تحقیق اور تصدیق کی اہمیت بڑھا دی

    رپورٹ شہزاد قریشی

    پروپیگنڈا، حقیقت اور ذمہ دارانہ صحافت، حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے ایک سرکاری طیارے کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور الزامات گردش کر رہے ہیں۔ ان الزامات کا رخ بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم جب ان دعوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کئی باتیں یا تو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی گئی ہیں یا پھر ان کی بنیاد غیر مصدقہ اطلاعات پر ہے۔حکومت پنجاب کے مطابق جس طیارے کو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے، وہ کوئی نیا جہاز نہیں بلکہ 2019 ماڈل کا طیارہ ہے، یعنی تقریباً سات سال پرانا۔ اس کے باوجود اسے ایک بالکل نئے اور مہنگے جہاز کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ قواعد و ضوابط کے مطابق حاصل کیا گیا اور اس کی مکمل تکنیکی جانچ اور کارکردگی کے جائزے کا عمل بھی اسی طریقہ کار کا حصہ ہے۔

    اسی تناظر میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ طیارہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا تک کسی نجی یا غیر ضروری سفر کے لیے بھیجا گیا۔ تاہم حکومتی وضاحت کے مطابق یہ پرواز دراصل طیارے کی تکنیکی جانچ اور کارکردگی کی تصدیق کے لیے تھی۔ ایوی ایشن کے معمول کے ضابطوں کے مطابق اس نوعیت کی ٹیسٹ پروازوں کے اخراجات عموماً فروخت کنندہ کمپنی برداشت کرتی ہے، تاکہ طیارے کی حفاظت، کارکردگی اور معیار کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔مزید برآں سوشل میڈیا پر یہ الزام بھی گردش کرتا رہا کہ جنید صفدر اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی طیارے میں ویانا گئے۔ حکومتی موقف کے مطابق یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

    واضح رہے کہ بیرون ملک کسی بھی شہری کے سفر کا ریکارڈ امیگریشن نظام میں موجود ہوتا ہے، جس کی باآسانی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اس نوعیت کے الزامات کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنا مشکل نہیں۔ اس ساری بحث کے دوران ایک اور پہلو بھی سامنے رکھا گیا ہے کہ شریف خاندان کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں زیادہ تر وقت خاندان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ ماضی میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اپنی سیاسی مصروفیات کے باوجود اس مہینے کو خاندانی اجتماع اور عبادات کے لیے مخصوص رکھنے کی روایت نبھاتے رہے ہیں۔ اصل سوال یہاں یہ نہیں کہ ایک طیارہ کب خریدا گیا یا وہ کہاں گیا، بلکہ یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی خبر یا دعوے کو بغیر تصدیق کے پھیلانا مناسب ہے؟ جدید دور میں اطلاعات کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ صحافت اور حقائق کی تصدیق کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو پروپیگنڈے کی شکل دینے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی جائے۔ اگر کسی معاملے میں سوالات ہیں تو انہیں شواہد اور دستاویزات کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے، نہ کہ قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے ذریعے۔ آخرکار جمہوری معاشروں میں شفافیت، احتساب اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو عوامی اعتماد کو مضبوط بناتا ہے اور سیاسی مباحثے کو صحت مند رکھتا ہے.

  • تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے تھے کہ اگر یہ جنگ 2 سے 3 ماہ سے زیادہ طویل ہو گئی تو پاکستان کے لیے اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اب تک 15 دن گزر چکے ہیں اور ابھی تک کسی واضح حل یا قابلِ اعتماد جنگ بندی کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔
    اس پس منظر میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ پاکستانی روپیہ کس طرح ردِعمل دکھائے گا۔

    مختصر مدت (Short Term)
    قریب مدت میں رمضان کے باعث بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بدستور مضبوط ہیں۔ فارن ایکسچینج فارورڈ پریمیم منی مارکیٹ کی سطح سے اوپر ٹریڈ ہو رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زرمبادلہ کی لیکویڈیٹی نسبتاً آرام دہ ہے۔ آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ کے درمیان رابطوں کی خبریں بھی مجموعی طور پر مثبت ہیں۔
    گزشتہ دو ہفتوں میں برآمدات سے آنے والی رقوم میں کچھ سستی آئی ہے۔ اسی دوران درآمدی ادائیگیوں کو مرحلہ وار کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی نظر آ رہی ہے تاکہ کسی بھی دن انٹر بینک مارکیٹ پر غیر معمولی دباؤ نہ پڑے۔ یہ طریقہ کار روپے کی قدر پر غیر ضروری دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں روپیہ ایک محدود دائرے میں رہے گا۔ تاہم دو اہم مالی دباؤ سامنے ہیں:
    عید کے فوراً بعد تیل کی بڑی ادائیگیاں
    ایک ارب ڈالر سے زائد کی یورو بانڈ ادائیگیاں

    درمیانی مدت (Medium Term)
    یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صورتحال کافی غیر واضح ہو جاتی ہے۔
    نیا تیل نظام (The New Oil Regime)
    آبنائے ہرمز اب مؤثر طور پر تیل کی قیمتوں کے تعین کا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ مارکیٹیں اب حقیقی سپلائی میں کمی کے بجائے رکاوٹ کے امکانات کی بنیاد پر تجارت کر رہی ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں ساختی طور پر زیادہ غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔ تیل اب محض ایک کموڈیٹی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ کی طرح برتاؤ کر رہا ہے۔
    اس سے ایک نیا معاشی ماحول پیدا ہو رہا ہے:
    توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا خطرہ
    طلب کے معمول کے چکر سے ہٹ کر اچانک اتار چڑھاؤ
    عالمی تجارت کے بہاؤ میں ساختی غیر یقینی صورتحال

    ترسیلاتِ زر کا مسئلہ
    ترسیلاتِ زر نے ہر بحران میں خاموشی سے پاکستان کو سہارا دیا ہے، لیکن اب یہ سہارا پہلے جیسا یقینی نہیں رہا۔ اگر خلیجی معیشتیں سست ہو گئیں تو مزدوروں کی طلب بھی کم ہو جائے گی۔ بیرونِ ملک کم مزدور ہوں گے تو زرِ مبادلہ کی آمد بھی کم ہو گی اور ملک کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ ایک سست رفتار مگر طاقتور خطرہ ہے جو پاکستان کی معاشی سمت کو بدل سکتا ہے۔

    عالمی مالیاتی حالات
    جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھنے کے باعث عالمی مالیاتی حالات سخت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے یورو بانڈ اور CDS پہلے ہی تقریباً 100 بیسس پوائنٹس بڑھ چکے ہیں، جو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔
    اس سے مارکیٹ سے قرض لینے کی لاگت اور غیر یقینی دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ یورو بانڈ یا پانڈا بانڈ مارکیٹ تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری بھی محدود رہ سکتی ہے۔ اس طرح بیرونی مالی وسائل کا زیادہ انحصار حکومتی پالیسی کے اعتماد اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون پر ہو جائے گا۔

    ممکنہ اثرات
    یہ تمام عوامل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے، مالیاتی دباؤ میں اضافہ اور پالیسی لچک میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسے ہی مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں، شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔ اس سے روپے پر دباؤ اور معاشی نمو کی رفتار کمزور ہو سکتی ہے۔ مجموعی اثر خاصا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    بنیادی امکان (Base Case)
    پاکستان کے لیے یہ امکان کم ہے کہ وہ روپے کو سہارا دینے کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے خرچ کرے۔ اس کے بجائے ایڈجسٹمنٹ درآمدات کو سختی سے منظم کرنے اور بیرونی توازن کو زیادہ پائیدار بنانے کے ذریعے آئے گی۔ روپیہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتا ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی اچانک یا بڑی قدر میں کمی کا امکان کم نظر آتا ہے۔

  • عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    جب ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائیٹ ہاؤس میں آئے تو ان کی تقاریر اور بیانات میں ایک مرکزی نکتہ بار بار سامنے آیا: دنیا میں جنگوں کو ختم کرنا اور عالمی امن کو فروغ دینا۔ اس اعلان نے بہت سے ممالک اور خطوں میں امید پیدا کی کہ شاید امریکہ اپنی عالمی طاقت اور اثر و رسوخ کو اس بار جنگوں کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے استعمال کرے گا۔ تاہم موجودہ عالمی صورتحال ان توقعات کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
    خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اس وقت شدید کشیدگی اور غیر یقینی حالات سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور اس پورے منظرنامے میں امریکہ کی براہِ راست یا بالواسطہ موجودگی نے خطے کو ایک بار پھر عالمی سیاست کے خطرناک مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات صرف ان ممالک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی اثرات محسوس کر رہی ہے۔

    عالمی معیشت پہلے ہی کئی بحرانوں سے دوچار ہے، اور جنگی ماحول نے ان مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال، سفری خدشات اور سیکیورٹی مسائل نے عام شہری کی زندگی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور توانائی کے بحران کے خدشات دنیا کے مختلف حصوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ان جنگی اور سیاسی کشیدگیوں کے اثرات سب سے زیادہ عام آدمی پر پڑتے ہیں، جو نہ پالیسی سازی میں شریک ہوتا ہے اور نہ ہی جنگ کے فیصلوں میں اس کی کوئی رائے شامل ہوتی ہے۔
    ایسے حالات میں عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔ اگر واقعی عالمی امن کو ترجیح دی جائے تو ضروری ہے کہ جنگی بیانیے کے بجائے سفارت کاری، اعتماد سازی اور مذاکرات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ دنیا کے کئی خطوں میں جاری تنازعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستوں کو ترجیح دی جائے۔

    آج کا بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اپنے اعلانات اور وعدوں کے مطابق واقعی امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں گی یا عالمی سیاست بدستور طاقت کے توازن اور اسٹریٹیجک مفادات کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، بین الاقوامی استحکام اور دنیا کے عام شہری کی زندگی پر اس کے اثرات مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔
    دنیا اس وقت قیادت کی منتظر ہے—ایسی قیادت جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دے اور سفارت کاری کو طاقت کے استعمال پر فوقیت دے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہی قائم ہوتا ہے، میدانِ جنگ میں نہیں۔

  • عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    آج کی دنیا سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے باوجود بے چینی اور عدمِ استحکام کا شکار نظر آتی ہے۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں اور سیاسی کشیدگیاں انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال بن چکی ہیں۔ طاقتور ممالک کی سیاسی اور فوجی رقابتوں کا سب سے زیادہ اثر عام انسان پر پڑ رہا ہے۔ عام آدمی مہنگائی، عدمِ تحفظ، ہجرت اور خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    بیسویں صدی میں دنیا نے دو بڑی تباہ کن جنگیں دیکھیں: World War I اور World War II۔ ان جنگوں نے کروڑوں انسانوں کی جانیں لے لیں اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ان سانحات کے بعد عالمی امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ جیسے ادارے قائم کیے گئے تاکہ ممالک کے درمیان تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں جنگیں جاری ہیں۔

    موجودہ دور میں عالمی سیاست کے مرکز میں بڑی طاقتیں اور ان کے مفادات ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ عالمی سیاست اور فوجی طاقت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی عالمی سطح پر اثر ڈالتی ہے۔ اسی طرح یورپ میں جاری روس یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل حماس جنگ جیسے تنازعات نے دنیا کے امن کو شدید متاثر کیا ہے۔

    ان جنگوں کی بنیادی وجوہات میں سیاسی مفادات، قدرتی وسائل پر قبضہ، علاقائی بالادستی، نظریاتی اختلافات اور عالمی طاقتوں کی رقابت شامل ہیں۔ جب ممالک اپنے مفادات کو انسانیت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو تنازعات شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں، معیشتیں کمزور ہو جاتی ہیں اور معاشروں میں خوف اور عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔

    عام آدمی آج واقعی تھک چکا ہے۔ وہ مسلسل مہنگائی، بے یقینی اور جنگوں کے خطرات میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک مزدور، کسان یا متوسط طبقے کا فرد چاہتا ہے کہ دنیا میں سکون اور استحکام ہو تاکہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہو سکے۔ عام انسان کو جنگ نہیں بلکہ امن، روزگار اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق چاہیے۔

    بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور انصاف پر مبنی فیصلوں کو ترجیح دی جائے۔ عالمی اداروں کو بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کو بڑھنے سے پہلے ہی حل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف، تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔

    آخرکار دنیا میں پائیدار امن صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، برداشت اور انسانیت کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی رہنما اپنے سیاسی اور معاشی مفادات سے بڑھ کر انسانیت کے درد کو سمجھیں تو دنیا میں جنگوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ آج پوری دنیا کا عام انسان یہی دعا اور امید رکھتا ہے کہ جنگوں کے بجائے امن، سکون اور بھائی چارے کا دور آئے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور بہتر دنیا میں زندگی گزار سکیں۔

  • مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست اس وقت ایک عجیب دور سے گزر رہی ہے۔ بظاہر جمہوریت موجود ہے، پارلیمنٹ قائم ہے، سیاسی جماعتیں فعال ہیں اور ہر روز بیانات اور پریس کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن اگر اس ساری سیاسی سرگرمی کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہماری سیاست میں اصل قیادت اور فکری گہرائی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پارلیمنٹ کے ایوان میں حقیقی سیاستدانوں کی جگہ مصنوعی کردار ادا کرنے والے لوگ بڑھتے جا رہے ہیں۔

    آج اگر کوئی شخص پارلیمنٹ ہاؤس کی کارروائیوں کو غور سے دیکھے تو اسے اندازہ ہوگا کہ قومی مسائل پر سنجیدہ بحث کم اور سیاسی تماشہ زیادہ نظر آتا ہے۔ ایسے ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک اس وقت جن سنگین مسائل کا شکار ہے، ان پر وہ توجہ دکھائی نہیں دیتی جس کی ایک ذمہ دار قیادت سے توقع کی جاتی ہے۔

    پاکستان اس وقت مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، صنعتیں توانائی کی قلت سے پریشان ہیں اور نوجوان طبقہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے۔ ایسے میں قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو مسائل کو سمجھتی ہو، ان کے حل کے لیے واضح حکمت عملی رکھتی ہو اور قوم کو اعتماد دے سکے۔

    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ایسے افراد کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ چند ایک لوگ ضرور موجود ہیں جو سیاسی بصیرت رکھتے ہیں، جنہیں ملکی اور عالمی حالات کا ادراک ہے اور جو سنجیدہ انداز میں بات کرتے ہیں، مگر ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ باقی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل دکھائی دیتی ہے جن کے نزدیک سیاست ایک سنجیدہ قومی ذمہ داری کے بجائے محض ایک سیاسی مشغلہ بن چکی ہے۔

    یہ صورتحال صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی یہی مسئلہ موجود ہے۔ جماعتوں میں نظریاتی کارکن کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ایسے لوگ لے رہے ہیں جن کا سیاست سے تعلق زیادہ تر اقتدار کے حصول تک محدود ہے۔ سیاسی تربیت، مطالعہ اور فکری بحث کا جو کلچر کبھی سیاست کا حصہ ہوا کرتا تھا، وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

    ان حالات میں جب قیادت کے بحران کی بات ہوتی ہے تو اکثر لوگوں کی نظر ایک ہی نام پر جا کر ٹھہرتی ہے اور وہ نام ہے نواز شریف ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں طویل عرصہ گزارا ہے اور اقتدار و اپوزیشن دونوں کے تجربات سے گزرے ہیں۔ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط سیاسی لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ مخالفین ان پر تنقید بھی کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار اور اثر و رسوخ ایک حقیقت ہے۔

    تاہم ایک صحت مند جمہوری نظام کا تقاضا یہ ہے کہ قیادت صرف چند افراد تک محدود نہ رہے بلکہ نئی قیادت سامنے آئے۔ نوجوان سیاستدان تیار ہوں، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات مضبوط ہوں اور ایسے لوگ آگے آئیں جو ملک کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کر سکیں۔پاکستان کی غریب عوام اس وقت سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ وہ روزانہ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے لڑ رہی ہے۔ ان کے لیے سیاسی بیانات یا ٹی وی ٹاک شوز کی گرما گرمی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان کی زندگی میں بہتری آئے۔اگر پاکستان کی سیاست کو واقعی مضبوط بنانا ہے تو مصنوعی سیاستدانوں کے اس ہجوم سے نکل کر حقیقی قیادت کو سامنے لانا ہوگا۔ سیاست کو دوبارہ سنجیدگی، نظریے اور قومی خدمت کے جذبے سے جوڑنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں اور تقریروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور مضبوط قیادت سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ آقاِ دو جہاں حضرت رسول اللہﷺ ہے؛

    "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد(وعورت) پر فرض ہے۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام وہ دینِ برحق ہے جس نے عورت کو معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے تمام بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ عورت اور مرد معاشرے کے دو اہم ارکان ہیں جن کے بنا معاشرہ ارتقاء کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ اسی لئیے اسلام نے عورت کے بنیادی حقوق کا خصوصی خیال رکھا ہے۔

    ہر قیمتی شے چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر چھپی ہوئی شے نایاب ہوتی ہے۔ پردہ اور حیا عورت کے زیور ہیں۔ پردہ عورت پہ ناصرف واجب ہے۔ بلکہ اخلاقی و روحانی و معاشرتی تقاضا بھی ہے ۔ یہ اس کے تقدس کی علامت ہے۔

    ہر سال 8 مارچ خواتین کے عالمی دن پر ان کے حقوق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ میں اکثر کہتی ہوں کہ سب سے پہلے تو عورت کو خود اپنے مقام ،اپنے مرتبے کا شعور ہونا چاہئیے ۔آپ کسی سے اپنے حقوق کی بات تبی کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو خود اپنے مقام کا علم ہو گا۔ خود تعلیم حاصل کریں۔ اور کسی مغربی گروہ کا شکار ہونے کی بجائے اپنے مذہب اسلام میں عورت کے حقوق کو جانیں۔

    مغرب جس کی ہمارے معاشرے کے نام نہاد لبرلز تقلید کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں ، میں عورتوں کے قانونی طور پہ برابری کے حقوق کے حصول کی پہلی آواز 1848ء میں اٹھائی گئی۔ جسے فیمی نزم کا نام دیا گیا۔ امریکہ جیسے آزاد خیال ملک میں عورت کو ووٹ ڈالنے تک کا حق حاصل نہ تھا۔ نہ وارثت میں کوئی حصہ۔ یعنی مغرب میں قانونی و معاشرتی طور پہ عورت کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اس تحریک میں ان حقوق کے حصول کے لئیے آواز اٹھائی گئی۔ جو کہ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی عورت کو فراہم کر دیئے تھے۔ شاید مغرب والوں نے بھی اس تحریک کی شروعات سے پہلے اسلام میں عورت کے ان حقوق کا مطالعہ کیا ہو گا۔ عورت جسے قبل اسلام زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اسے وارثت کا حق دیا، تعلیم کے حصول میں برابری کے حقوق عطا کئیے۔عبادت میں مساوی حقوق دئیے۔ حتی کہ نکاح میں اپنی مرضی کا حق دیا۔

    مغرب میں فیمی نزم تحریک ان کے معاشرے کی ضرورت تھی۔ مگر اسلام نے تو یہ ضرورت 1400 سال قبل ہی پوری کر دی۔ آج کل کا خود کو لبرلز کہنے والا سڑکوں پہ اوٹ پٹنگی حرکات کرنے والا مخصوص گروہ فیمی نزم تحریک کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط عزائم کو پروان چڑھانے کی کوشش میں ہے۔ دراصل یہ عورت کے اصل حقوق سے توجہ ہٹانے کا باعث ہے۔ عورت کے آج کل کے اصل حقوق تو یہ ہیں۔ کہ اسے تعلیم سے لے کر جاب تک برابری کے امواقع حاصل ہوں، وہ اگر باپردہ کسی جاب کی اہل ہے۔ تو پردے کو وجہ ِ رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ وہ اگر حالتِ سفر میں ہو۔ تو اسے احساس ِتحفظ رہے۔ اسے کسی فحش نظر یا جملے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

    اسلام سے بڑھ کر عورت کو مقام اور حقوق کسی اور نظام نے نہیں دیئے۔ ہمارے مذہب نے عورت کو جو مقام دیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی آئین یا قانون میں اور کہیں بھی نہیں۔ اسلام نے عورت کو عورت سے عظیم عورت بنایا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ جنت ایک عورت یعنی ماں کے قدموں تلے ہے۔ اسلام نے ہمیں عورت کے مثالی کردار دیئے ہیں ۔ ایک شریک حیات کے روپ میں بی بی سیدہ خدیجؑہ ،ایک بیٹی کی روپ میں بنتؑ محمد ﷺ جناب بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ، ایک بہن کے روپ میں جناب بی بی سیدہ زینبؑ، اور ایک ماں کے روپ میں مادرؑ ِ حسنین کریمیںنؑ ہمارے لئیے موجبِ رہنمائی ہیں۔ عورت تو وہ ہے۔ جو نہتی بھی ہو تب بھی اپنی فکر و ہمت سےقصرِ یزید (لعین) کے در و دیوار ہلا دے ۔ عورت کو کمزور کوئی کیونکر کہے ۔ اگر وہ اپنا مقام خود جان لے۔ جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ عورت کا مقام یہ ہے۔ کہ قرآن کریم میں سورہ نساء موجود ہے۔

    عورت بہت عظیم جذبات کی مالک ہے۔وہ سفید رنگ ہے۔ جو ہر رنگ اپنے اندر سمو سکتی ہے۔اپنے عورت ہونے پہ فخر محسوس کریں۔مگر اپنے فرائض کو بھی ساتھ لے کے چلیں۔ فخر محسوس کریں۔ کہ آپ کینزِ زہرا ع اور کینزِ زینبؑ ہیں۔ آپ کے سامنے کوئی فحش گروہ نہیں بلکہ یہ عظیم ہستیاںؑ رہنمائی کے لئیے ہونے چاہئیں۔۔

    عورت کا دن تو ہر نیاء دن ہے۔ پھر صرف ایک دن ہی کیوں۔۔۔۔ میرا سلام ہے ۔ان تمام خواتین کو جو کھیتوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔ اور ناصرف ان کا بازو بنتی ہیں۔ بلکہ ملکی معشیت کی مظبوطی میں بھی اپنا کردار اہم ادا کر رہی ہیں۔ ان تمام خواتین اساتذہ کو جو روز سینکڑوں اذہان کو شعور بخشنے کا سبب ہیں۔ ان تمام گھریلو خواتین کو جو گھر میں رہ کر گھر کو بخوبی چلا رہی ہیں۔ اور اپنے گھر کے ارکان کے لئیے باعث ِسکون ہیں۔ ان تمام ماؤں کو جو اپنے اولادوں کی بہترین تربیت کر رہی ہیں۔میرا سلام ہے۔ اسلام کی ہر باحیا و باپردہ بیٹی کو، جو اپنے مقام و تقدس سے آگاہ ہے۔

    آخر میں میرا خواتین کا عالمی دن میری رہنما ہستیوںؑ ، حضرت بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور سیدہ زینب الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے نام ہے۔ اللہ رحمن الرحیم سے دعا ہے۔ کہ وہ تمام بیٹیوں کو ہماری ان عظیم رہنماؤں سلام اللہ علیھا کی پیروی کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین

    میں بیٹی، میں ماں، بہن ، ہم سفر میں
    سبھی کا سکوں میں سدا چاہتی ہوں

    عطاۓ خدا ہیں مرے حوصلے بھی
    میں عنبرؔ ہمیشہ نبھا چاہتی ہوں

  • مشرق وسطیٰ جنگ، نئی مہنگائی کی لہر،عام آدمی ہی "پسے”گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرق وسطیٰ جنگ، نئی مہنگائی کی لہر،عام آدمی ہی "پسے”گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی گونج پوری دنیا کی معیشت میں سنائی دیتی ہے۔ یہ خطہ دنیا کے توانائی کے بڑے ذخائر کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی منڈیوں میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو توانائی کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام آدمی کے کندھوں پر ہی آ کر پڑتا ہے۔

    دنیا کے ترقی پذیر ممالک پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، صنعت اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بالآخر ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں کمزور معیشتوں والے ممالک کے لیے عوام کو ریلیف دینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

    خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے وہ ممالک جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ بحران مزید سنگین ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی بجٹ خسارے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے یہ ممالک اگر مہنگی توانائی خریدنے پر مجبور ہوئے تو ان کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑے گا۔ اس کا براہِ راست اثر عوام کی زندگی پر پڑے گا جہاں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال طویل عرصے تک کشیدہ رہی تو دنیا ایک نئی مہنگائی کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے۔ اس مہنگائی کی سب سے بڑی قیمت وہ عوام ادا کریں گے جو پہلے ہی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جنگ چاہے کسی بھی خطے میں لڑی جائے، اس کے معاشی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔