Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    لاہور سے شیخوپورپ جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ، خصوصاً جناح ٹرمینل سے چلنے والی ویگنوں میں مسافروں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک نہ صرف افسوسناک بلکہ انسانی وقار کی کھلی تذلیل ہے۔ روزانہ سینکڑوں مرد، خواتین، بزرگ، طلبہ اور مزدور ان ویگنوں میں ایسے سفر کرنے پر مجبور ہیں جیسے انسان نہیں بلکہ جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہو۔ اوور لوڈنگ، من مانا کرایہ، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی نے اس مسئلے کو ایک سنگین عوامی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

    جناح ٹرمینل لاہور بائی پاس سے شیخوپورہ جانے والی بیشتر ویگنوں میں “پھٹہ” کلچر عام ہو چکا ہے، یعنی گاڑی کی گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر ٹھونس دیے جاتے ہیں۔ سیٹوں پر گنجائش ختم ہونے کے بعد مسافروں کو درمیان میں بٹھایا جاتا ہے، شدید گرمی، حبس اور دھکم پیل کے ماحول میں یہ سفر کسی اذیت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ موٹر وے اور مرکزی شاہراہوں پر کھلے عام جاری ہے۔

    خواتین مسافروں کے مسائل اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ متعدد ویگن مالکان اور کنڈیکٹر خواتین کو فرنٹ سیٹ دینے سے انکار کرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی سہولت اور تحفظ کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو غیر مناسب انداز میں تنگ سیٹوں پر بٹھایا جاتا ہے جبکہ بعض ڈرائیور حضرات فرنٹ سیٹ کو ذاتی پسند یا اضافی کمائی کے لیے مخصوص رکھتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ سماجی اقدار کے بھی منافی ہے۔

    کرایوں کا معاملہ بھی کسی کھلی لوٹ مار سے کم نہیں۔ سرکاری کرایہ نامہ ایک طرف پڑا رہتا ہے جبکہ ویگن مالکان اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں۔ بارش ہو، رش زیادہ ہو یا عید کا موقع، کرایہ فوری بڑھا دیا جاتا ہے۔ غریب آدمی جو روزانہ مزدوری یا ملازمت کے لیے سفر کرتا ہے، اس استحصالی نظام کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔

    سب سے اہم سوال National Highways and Motorway Police کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔ موٹر وے پولیس کا بنیادی مقصد محفوظ سفر کو یقینی بنانا، اوور لوڈنگ روکنا اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے، مگر لاہور شیخوپورہ روٹ پر صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ یا تو متعلقہ ادارے بے بس ہیں یا پھر بعض عناصر مبینہ “چمک” کے باعث خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اگر روزانہ درجنوں اوور لوڈ ویگنیں موٹر وے پر سفر کر رہی ہیں تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے یا طاقتور ٹرانسپورٹ مافیا کے لیے بھی؟

    یہ صورتحال National Highways and Motorway Police کے سربراہ، آئی جی موٹر وے پولیس کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر موٹر وے جیسے حساس اور جدید نظام پر بھی اوور لوڈنگ مافیا قابو پا لے تو پھر عام شہری کے اعتماد کا کیا بنے گا؟ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کب تک انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یہ غیر قانونی کاروبار جاری رہے گا۔

    ماضی میں اوور لوڈنگ کے باعث ہونے والے ٹریفک حادثات نے کئی خاندان اجاڑے، مگر اس کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ جب تک سخت کارروائی، مستقل نگرانی اور کرپٹ عناصر کا احتساب نہیں ہوگا، تب تک یہ مافیا مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موٹر وے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی مشترکہ آپریشن کے ذریعے ان ویگنوں کے خلاف فوری ایکشن لے، سرکاری کرایہ ناموں پر عمل درآمد کروائے، خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کو یقینی بنائے اور اوور لوڈنگ میں ملوث ڈرائیوروں کے لائسنس معطل کیے جائیں۔

    یہ صرف ٹرانسپورٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی عزت، شہری حقوق اور قانون کی عملداری کا معاملہ ہے۔ اگر آج بھی متعلقہ ادارے حرکت میں نہ آئے تو کل کسی بڑے سانحے کے بعد صرف افسوس اور مذمتی بیانات باقی رہ جائیں گے۔ عوام اب عملی اقدامات چاہتے ہیں، وعدے نہیں۔راقم نے موٹر وے پولیس کا موقف لیا تو ان کا کہنا تھا ہم چلان کرتے لوگ باز نہیں آتے اور دوسری بات مہنگائی ہے مطلب یہ ہوا کہ ،،چمک کا کام کرگئی
    عوامی سہولیات کے پیش نظر آئی جی موٹر وے پولیس پنجاب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

  • آپ جو ہیں وہی کیوں نہیں رہتے؟تحریر ِ:   ظفر اقبال ظفر

    آپ جو ہیں وہی کیوں نہیں رہتے؟تحریر ِ: ظفر اقبال ظفر

    انسان کیا سے کیا بننے کی کوشش میں پریشان حال ہے یہ پریشان حال ختم کیوں نہیں کر دیتے اس سوچ کے ساتھ کہ اپنے آپ کو ایسے نمونے میں ڈھالنے کی کوشش چھوڑ ہی دی جائے جس کے لیے آپ بنے ہی نہیں۔اور اگر کسی مصنوعی ڈانچے میں ڈال بھی لیا تو کیا کوئی یہ نہیں جان پائے گاکہ آپ وہ ہیں نہیں جو بننے کی ادکاری کررہے ہیں اداکاری کی بجائے کردار سازی پر محنت کیجئے انمول و خوش حال ہو جائیں گئے۔تلخ تجربے سے بچنے والوں کے لیے نصیحت یہی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے آپ جیسے بھی ہیں ہمیشہ وہی رہیں۔انسانی وجود پر آفاقی اصول یہی ہے اسے تسلیم و عمل میں رکھیں اگر آپ وہ بنیں گئے جو آپ نہیں ہیں تو نفسیاتی اور اعصابی الجھنوں کا شکار ہو جائیں گئے خود کو بدقسمت سمجھنے والا شخص ہی وہ بننا چاہتا ہے جو وہ جسمانی و دماغی اعتبار سے ہے ہی نہیں۔
    شوبز کی دنیا میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو وہ سکرین پر نظر آتے ہیں حقیقت میں ویسے نہیں ہوتے۔عوام ان کے ایک روپ کا زائقہ چکھ چکے ہیں اب نئے روپ میں ڈھل رہے ہیں روپ بدلتے بدلتے اپنی حقیقت بہت پیچھے رہ جاتی ہے انہیں اپنے آپ کو پہچاننے کے قابل بنانا بھی اک زہنی علاج کا تقاضا کرتا ہے جو بھی اپنی زات کی حقیقت سے ہٹ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرئے گا وہ فطرت کے خلاف جا رہا ہے اب انسان بندر کی طرح نقل اتارکر کامیابی تو حاصل نہیں کر سکتانہ میاں مٹھو بننے سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔جو بھی وہ بننے کی کوشش کر رہاہے جو وہ نہیں ہے تواسے جلدی علیحدہ کر دینا بڑا سودمند رہتا ہے کیونکہ نقل پانے کے عمل میں اصل کھو جاتا ہے۔

    دنیا کے بازار میں کتنے ہی ایسے لوگ پھرتے ہیں جو اپنے آپ کا پہچانتے ہی نہیں ریاکاری کا لبادہ اُڑھ کر صاف گو بننے کی اداکاری کرتے ہیں لیکن کھوٹے سکے سے مستقل کام نہیں چلتا۔ایک غریب گھر کی لڑکی گلوکارہ بننا چاہتی تھی مگر اس کا چہرہ رُکاوٹ بنا ہوا تھا اس کے چوڑے منہ سے لمبے لمبے دانت باہر نکلے ہوئے تھے وہ لوگوں کے سامنے گاتے وقت دلکش نظر آنے کے لیے اُوپر کا ہونٹ نیچے کھینچ کر دانت چھپانے کی کوشش کرتی تو گانے کی ترتیب بگڑ جاتی نتیجہ فنی ناکامی میں نکلتا۔ایک انسانی قدروں سے واقف شخص نے قیافہ شناسی سے ا سے کہا کہ تمہارے بننے میں تمہارا کوئی قصور نہیں شرمندگی کے احساس سے خودکو آزاد کرکے پورے جوش اور دھیان سے گاؤتمہارے دانت تمہاری قسمت کے معاون بن جائیں گئے اس نے مخلص مشورے پہ عمل کیا اوردیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی بلندیاں پا تے ہوئے فلموں اور ریڈیو کی چوٹی کی سٹار بن گئی۔انسانی کمزوریاں غیرمتوقع طور پر ہماری مدد کرتی ہیں۔
    اوسط درجے کے شخص اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کے دس فیصد حصے کو پروان چڑھاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور نہیں پہچان پاتے۔جو کچھ ہم ہیں اور جو کچھ ہمیں ہونا چاہیے ان دونوں پہلوؤں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم صرف نیم بیدار لوگ ہیں جو اپنی حدود سے بہت دُور نکل چکے ہیں جبکہ ہم مختلف قسم کی قوتوں کے مالک ہوتے ہیں ان انسانی قوتوں کو سمجھنے والا کبھی لوگوں کی مانند بننے میں وقت ضائع نہیں کرتاہر انسان اس دنیا میں نئی چیز ہے آغاز کائنات سے روز قیامت تک اس جیسا پیدا نہ ہوانہ ہوگا۔
    انسان میں تعجب خیز خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں منفی کو مثبت میں بدل دینے والی قوت موجود ہے۔ کسی بند کمرے کی کھڑکی سے زمین کے کیچڑ کو دیکھنے کی بجائے آسمان کے ستاروں بھی تودیکھے جا سکتے ہیں۔بہترین چیزیں انتہائی مشکل ضرور ہوتی ہیں مگر ناممکن نہیں۔

    ہر انسانی وجود زندگی کی سڑک پر چلتے ہوئے حالات کی گاڑیوں سے ٹکرائے بنا منزل پر نہیں پہنچ پاتامگر زخمی کر نے والے حادثات بھی ایک نئی سمت پر ڈال دیتے ہیں اور انسان نتیجہ دیکھ کر شکوئے کی بجائے شکر کرنے لگتا ہے۔صدمے اور افسردگی پر غالب آنے والوں کے لیے نئی دنیا میں داخل ہونا ہے جب میرے ساتھ ہوا تو میں مطالعے میں ادبیات عالیہ کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھنے لگاکتابوں نے نئی دنیا ؤں کے دروازے کھولے زندگی پرسکون، مسرت بخش،نئے ولولے اور جوش سے لبریز ہو گئی خیال کے نئے جہان مل گئے اپنی زندگی کو حقیقی تناظر میں دیکھنے اور قدروں کے صحیح احساس حاصل ہونے میں کامیابی ملی اور یہ اندازہ بھی ہوا کہ بہت سی چیزیں جن کے پیچھے میں بھاگا رہا وہ درحقیقت غیر اہم اور بے وقعت تھیں۔
    آپ کو گرانے کے لیے کھڈا کھودا گیااور آپ گر بھی گئے اب حاسدوں کو کوسنے اور خود کو ڈانٹنے کی بجائے اس کھڈے کوحکمت عملی اور دانائی کے اوزاروں سے اتنا گہرا کیجئے کہ زمینی خزانے آپ کا استقبال کریں یعنی حالات آپ کو نیبو دے تو زندگی کھٹی کرنے کی بجائے اس کا شربت بنائیے۔اندھا انسان شاعری کے زریعے آنکھوں والوں کو خیال کے رنگوں کی نشاندہی کروا سکتا ہے۔ایک بہرا آدمی موسیقی کی آفاقی دھنیں بنا سکتا ہے۔کتنے ہی ایسے تقدیر کی گاڑی تلے آئے اپاہج انسان اس دنیا میں موجود ہیں جن کی درخشاں حیات کے پیچھے عدم بصارت بہرا پن لولے لنگڑے جیسے اعضاء کی محرومی کے حادثات کا ہاتھ ہے کیا پتا شاید میرے ساتھ بھی کوئی حادثہ ہوا ہو جو دل کی گہرائیوں سے یہ پھڑ پھڑانے والے الفاظ ابھرتے ہوئے تحریر میں آجاتے ہیں۔
    اپنے اوپر ترس کھاکر پھولوں کی سیج کے آرزو مندبنے رہنے کی بجائے زہن سے خوف کا پردہ ہٹا کر ہمت کے ہتھیار سے وہ کانٹے کاٹ ڈالیے جو آپ کوپھولوں کی پنکھڑیوں پر خوشبودار بسیرے سے محروم رکھتے ہیں۔چھوٹے سے چھوٹا کام بھی پوری ایمانداری محنت اور اسلوب سے کرنے کا مزہ لیجئے مجھے ایک دفعہ بیوی کی غیر موجودگی میں گھر کے کام کرنے کا موقع ملا میں نے برتن دھوئے جس سے میرے وجود اند ر عجیب سا ہیجان برپا ہو گیا صابن کی رنگین روئیں دار جھاگ سے کھیلنے کا لطف اندوز نظارہ رونما ہو اصابن میں ہاتھ ڈبوتا تو چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی گیندیں بن جاتیں انہیں اُٹھا کر روشنی میں دیکھتا ہر بلبلے میں چھوٹے پیمانے کی دھنک کے شوخ اور دلکش رنگوں نے دنیا ہی بھلا دی کچن کی کھڑی سے باہر دیکھا تو فضا میں اڑتے پرندوں کے خاکستری پر پھڑ پھراتے نظر آئے چڑیوں بلبلوں کو دیکھ کر وجد طاری ہوا تو خدا کا شکر بجا لانے لگا جس نے مجھے زندگی حسن اوررعنائی کی سر زمین پر بسر کرنے کے لیے قدرتی نظارے دیکھنے والی آنکھیں عطا کیے اور نہ اتنا سیراب کیا کہ میں مزید لطف اندوز نہ ہو سکوں۔

  • آئندہ بجٹ حکومت کے لیے بڑا امتحان، IMF شرائط ،عوامی ریلیف میں توازن قائم کرنا چیلنج ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئندہ بجٹ حکومت کے لیے بڑا امتحان، IMF شرائط ،عوامی ریلیف میں توازن قائم کرنا چیلنج ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات ملکی سیاست کا رخ متعین کریں گے، بڑی جماعتوں میں سخت مقابلے کی توقع

    معاشی فیصلے اور انتخابی نتائج آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں معیشت اور سیاست ایک دوسرے پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔ آئندہ وفاقی بجٹ حکومت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوگا، کیونکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں جبکہ دوسری جانب مہنگائی سے پریشان عوام کو ریلیف دینا بھی ناگزیر ہے۔ بظاہر حکومت ایک ایسا بجٹ پیش کرنے کی کوشش کرے گی جو معاشی استحکام اور سیاسی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔

    دوسری طرف گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متوقع انتخابات ملکی سیاست کا اہم رخ متعین کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کی جماعتوں، خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، کو نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل دکھائی دیتی ہے، جبکہ تحریک انصاف بھی ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر مقابلے میں موجود ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی تینوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کے آثار ہیں۔

    مجموعی طور پر آنے والے چند ماہ پاکستان کی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت بجٹ کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہی تو اس کے سیاسی اثرات انتخابات میں بھی نظر آ سکتے ہیں، جبکہ معاشی دباؤ یا عوامی بے چینی اپوزیشن جماعتوں کے لیے سیاسی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ اور آئندہ انتخابات کو پاکستان کے سیاسی منظرنامے کے دو اہم ترین امتحانات قرار دیا جا رہا ہے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان؛ ایک صحت مند قوم کی جانب پہلا قدم،تحریر: بسمہ مجید

    تمباکو سے پاک پاکستان؛ ایک صحت مند قوم کی جانب پہلا قدم،تحریر: بسمہ مجید

    فضا میں تحلیل ہوتا سگریٹ کا دھواں صرف ہوا کو آلودہ نہیں کرتا بلکہ یہ انسان کی سانسوں، خوابوں اور زندگیوں کو بھی آہستہ آہستہ نگلتا چلا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی بظاہر ایک عادت دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایسا خاموش زہر ہے جو انسان کے جسم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تمباکو نوشی کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ نوجوان اسے فیشن سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ذہنی دباؤ سے نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض افراد محض صحبت کے اثر میں اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں پہلے ہی صحت کے مسائل، غربت اور بے روزگاری نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، وہاں تمباکو نوشی ایک مزید خطرناک بحران بن کر ابھر رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ، گٹکا، نسوار اور دیگر تمباکو مصنوعات کے استعمال کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان اموات کے پیچھے صرف ایک شخص کی غلطی نہیں ہوتی بلکہ پورا خاندان اذیت، کرب اور معاشی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔

    تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریاں کسی ایک عضو تک محدود نہیں رہتیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، سانس کی تکالیف، فالج اور منہ کے سرطان جیسی مہلک بیماریاں اسی زہر کا نتیجہ ہیں۔ ایک سگریٹ وقتی سکون تو دے سکتی ہے، مگر اس کے اثرات برسوں تک انسان کی زندگی کو عذاب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کم عمر نوجوان، جو قوم کا مستقبل سمجھے جاتے ہیں، اس عادت کا شکار ہو کر اپنی صحت اور صلاحیتیں برباد کر لیتے ہیں۔
    ہمارے تعلیمی اداروں کے اطراف میں سگریٹ کی کھلے عام فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نئی نسل کو محفوظ مستقبل دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ کئی نوجوان ابتدا میں محض تجسس کے تحت سگریٹ پیتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ یہ عادت ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر وہی نوجوان نہ صرف اپنی صحت تباہ کرتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود افراد کو بھی “پیسو اسموکنگ” یعنی بالواسطہ تمباکو نوشی کے خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔
    ایک لمحے کے لیے اس ماں کا تصور کیجیے جو اپنے جوان بیٹے کو اسپتال کے بستر پر تڑپتا دیکھتی ہے۔ اس بچے کے بارے میں سوچیے جو اپنے باپ کے ہاتھ میں سگریٹ نہیں بلکہ محبت، تحفظ اور زندگی دیکھنا چاہتا ہے۔ تمباکو نوشی صرف ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ پورے خاندان کی خوشیوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔

    بدقسمتی سے تمباکو مصنوعات بنانے والی کمپنیاں اشتہارات، فلموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو متاثر کرتی ہیں۔ وہ سگریٹ نوشی کو آزادی، اسٹیٹس اور جدیدیت کی علامت بنا کر پیش کرتی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک تمباکو نوش انسان دراصل اپنی آزادی کھو دیتا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسی لت کا غلام بن جاتا ہے جو اسے جسمانی، ذہنی اور مالی طور پر تباہ کر دیتی ہے۔
    تمباکو سے پاک پاکستان کا خواب صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، اساتذہ طلبہ میں شعور بیدار کریں، علما معاشرتی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں اور میڈیا صحت مند معاشرے کے فروغ کے لیے مثبت مہم چلائے۔ اگر معاشرہ متحد ہو جائے تو یہ ناسور جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

    حکومت کو بھی چاہیے کہ تمباکو مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کرے، کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر مکمل پابندی یقینی بنائے۔ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ اس زہر کے تباہ کن نتائج سے آگاہ ہو سکیں۔
    ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ قوم بن سکتی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان بیماریوں میں مبتلا ہوں گے تو ملک کی معیشت، تعلیم اور ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ تمباکو نوشی وقتی لذت ضرور دیتی ہے مگر اس کا انجام ہمیشہ درد، پچھتاوے اور محرومی پر ختم ہوتا ہے۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا چراغ جلائے۔ اگر ایک شخص بھی سگریٹ چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ صرف اپنی نہیں بلکہ اپنے خاندان کی زندگی بھی بچاتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، کالجوں اور معاشرے میں یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ زندگی قیمتی ہے اور اسے دھوئیں میں اڑانا دانشمندی نہیں۔

    تمباکو سے پاک پاکستان محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک خواب ہے، ایسا خواب جس میں بچے صاف فضا میں سانس لیں، نوجوان صحت مند ہوں، اور اسپتالوں میں مریض کم ہوں۔ اگر ہم آج سنبھل گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی، ورنہ یہ زہریلا دھواں ہمارے مستقبل کو نگلتا رہے گا۔
    یہ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم دھوئیں کو اپنی تقدیر بناتے ہیں یا زندگی کو اپنی پہچان۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: مدثریوسف پاشا

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: مدثریوسف پاشا

    آئیں! آج عہد کریں تمباکو سے جان چھڑائیں، خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں

    انسانی صحت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ صحت مند جسم ہی ایک خوشحال زندگی کی بنیاد بنتا ہے، مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں کئی ایسی عادات عام ہو چکی ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کو موت کے قریب لے جاتی ہیں۔ ان ہی خطرناک عادات میں ایک تمباکو نوشی بھی ہے۔ سگریٹ، نسوار، گٹکا، شیشہ اور دیگر تمباکو سے بنی اشیاء نہ صرف استعمال کرنے والے فرد کی صحت تباہ کرتی ہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کے خلاف شعور اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ انسان خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس زہر سے محفوظ بنا سکے۔

    تمباکو ایک خاموش قاتل ہے۔ ابتدا میں انسان اسے صرف شوق یا فیشن سمجھ کر استعمال کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت نشے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پھر انسان چاہ کر بھی اس سے جان نہیں چھڑا پاتا۔ نوجوان طبقہ اکثر دوستوں کی صحبت، فلموں کے اثرات یا وقتی ذہنی دباؤ کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کرتا ہے۔ ابتدا میں چند کش لگانے والا نوجوان جلد ہی اس کا عادی بن جاتا ہے اور پھر یہ عادت اس کی صحت، تعلیم، کردار اور مستقبل سب کچھ تباہ کر دیتی ہے۔

    ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج، دمہ، سانس کی بیماریوں اور منہ کے کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں لوگ صرف تمباکو کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب کم عمر بچے بھی اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کے باہر کھلے عام سگریٹ اور گٹکا فروخت ہونا ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو اس کا دھواں اردگرد بیٹھے افراد کے پھیپھڑوں میں بھی داخل ہوتا ہے۔ اسے “Passive Smoking” کہا جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں، خواتین اور بزرگوں کو پہنچتا ہے۔ کئی بچے ایسے گھروں میں سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں والد یا دیگر افراد مسلسل سگریٹ نوشی کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم صرف خود کو ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس زہر سے بچائیں۔

    تمباکو نوشی کے معاشی نقصانات بھی بے شمار ہیں۔ ایک غریب آدمی جو روزانہ سگریٹ پر پیسے خرچ کرتا ہے، اگر وہی رقم اپنے بچوں کی تعلیم، خوراک یا علاج پر خرچ کرے تو اس کے گھر کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ تمباکو پر خرچ ہونے والی دولت دراصل بیماریوں کو خریدنے کے مترادف ہے۔ حکومت کو بھی تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اگر یہ لعنت کم ہو جائے تو ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    اسلام بھی ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو انسانی جان اور صحت کے لیے نقصان دہ ہو۔ چونکہ تمباکو انسان کی صحت کو تباہ کرتا ہے، اس لیے علما کرام بھی اس کے استعمال سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے جسم کو نقصان پہنچانے والی عادات سے دور رہیں۔

    تمباکو سے پاک پاکستان صرف حکومت کی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم چلائیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ تمباکو نوشی کے نقصانات پر زیادہ پروگرام نشر کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ کم عمر بچوں کو تمباکو کی فروخت پر سخت پابندی عائد کرے اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔

    ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تمباکو نوشی چھوڑنا ناممکن نہیں۔ اگر انسان مضبوط ارادہ کر لے تو وہ اس بری عادت سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ ابتدا میں مشکل ضرور پیش آتی ہے لیکن آہستہ آہستہ انسان اس نشے سے دور ہو جاتا ہے۔ ورزش، مثبت سرگرمیاں، اچھی صحبت اور اہلِ خانہ کی حوصلہ افزائی اس عادت کو ترک کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر ایک عہد کریں کہ نہ خود تمباکو استعمال کریں گے اور نہ دوسروں کو اس کی ترغیب دیں گے۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو اس زہر سے پاک بنانا ہوگا۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    آئیں! آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے وطن کو تمباکو جیسی خطرناک لعنت سے بچائیں گے۔ کیونکہ ایک تمباکو سے پاک پاکستان ہی ایک صحت مند، خوشحال اور روشن پاکستان کی بنیاد ہے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:ملک اویس

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:ملک اویس

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ اپنی محنت کی کمائی سے خریدی گئی سگریٹ کا ہر کش دراصل آپ کی زندگی کا ایک حصہ جلا رہا ہوتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ جس دھویں کو آپ اپنے منہ سے باہر نکالتے ہیں، وہ دراصل آپ کے خوابوں، آپ کی صحت، آپ کے مستقبل اور آپ کے خاندان کی خوشیوں کو بھی ساتھ لے جا رہا ہوتا ہے؟

    پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ یہاں کروڑوں نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ انہی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی جیسی مہلک عادت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہر روز ہزاروں افراد اپنی جیب سے پیسے نکال کر ایسی چیز خریدتے ہیں جو نہ صرف ان کے جسم کو کھوکھلا کر رہی ہے بلکہ ان کی زندگی کو بھی مختصر بنا رہی ہے۔سوچیے، ایک مزدور جو سارا دن دھوپ میں پسینہ بہا کر چند سو روپے کماتا ہے، وہ ان میں سے کچھ رقم سگریٹ پر خرچ کر دیتا ہے۔ ایک طالب علم جو اپنے والدین کی امیدوں کا مرکز ہوتا ہے، وہ اپنی جیب خرچ کا حصہ تمباکو پر ضائع کر دیتا ہے۔ ایک باپ جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے، وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے خاندان کی خوشیوں کو دھویں میں اڑا دیتا ہے۔

    آپ پیسے بھی دے رہے ہیں، اپنی صحت بھی کھو رہے ہیں، اپنے پھیپھڑوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں اور اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جسے خریدنے والا خود بھی نقصان اٹھائے اور اس کے آس پاس موجود لوگ بھی متاثر ہوں، مگر تمباکو ایسی ہی ایک لعنت ہے۔ہر سال لاکھوں لوگ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی بیماریاں اور بے شمار دیگر مسائل انسان کو وقت سے پہلے قبر کے قریب لے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ سوچ کر سگریٹ سلگا لیتے ہیں کہ "ایک سگریٹ سے کیا ہوگا؟”حقیقت یہ ہے کہ تباہی کبھی ایک ہی دن میں نہیں آتی۔ ایک ایک کش، ایک ایک سگریٹ اور ایک ایک دن انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں واپسی ممکن نہیں رہتی۔

    پاکستان کو آج مضبوط معیشت، صحت مند نوجوانوں اور باصلاحیت افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ لیکن جب ہماری نوجوان نسل اپنے خون میں زہر گھول رہی ہو تو ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟ ایک بیمار قوم کبھی مضبوط قوم نہیں بن سکتی۔ جو سرمایہ تعلیم، تحقیق، کاروبار اور خاندان پر خرچ ہونا چاہیے، وہ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات کے دھویں میں برباد ہو رہا ہے۔ذرا اپنے بچوں کے چہروں کو دیکھیے۔ ان کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو دیکھیے۔ کیا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے والدین اپنی صحت کو تباہ کر کے انہیں وقت سے پہلے یتیمی، بیماری یا معاشی مشکلات کے حوالے کر دیں؟ کیا ہمارے نوجوان اس قابل نہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، اپنے ملک کا نام روشن کریں اور اپنی زندگی کو کامیابی کی مثال بنائیں؟یاد رکھیے، سگریٹ صرف ایک کاغذ میں لپٹا ہوا تمباکو نہیں ہوتا۔ یہ انسان کے ارادے، صحت، خوشیوں اور مستقبل کا دشمن ہوتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ انسان سے اس کی طاقت، خوبصورتی، اعتماد اور زندگی کی رونق چھین لیتا ہے۔

    آج وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک سوال پوچھیں: آخر کیوں؟ آخر کیوں ہم اپنی محنت کی کمائی کو آگ لگا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنے بچوں کے حق کا پیسہ دھویں میں اڑا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنی زندگی کو مختصر کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ کیوں ہم ایک ایسی صنعت کو فائدہ پہنچا رہے ہیں جو ہماری صحت کی قیمت پر اربوں کماتی ہے؟اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کیجیے کہ آپ اپنی زندگی کو اس قید سے آزاد کریں گے۔ اگر آپ کے دوست یا عزیز اس عادت میں مبتلا ہیں تو انہیں سمجھائیے، ان کا ہاتھ پکڑیے اور انہیں اس تباہ کن راستے سے واپس لائیے۔ ایک سگریٹ چھوڑنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اور یاد رکھیے کہ ہر وہ دن جس میں آپ تمباکو سے دور رہتے ہیں، آپ اپنی زندگی میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔

    ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں، سگریٹ نہیں۔ جہاں سانسوں میں تازگی ہو، زہر نہیں۔ جہاں ہسپتالوں کی قطاریں کم اور کامیابیوں کی داستانیں زیادہ ہوں۔ جہاں قوم اپنی دولت بیماریوں پر نہیں بلکہ ترقی پر خرچ کرے۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کو تمباکو سے پاک پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہم اپنی نسلوں کو اس لعنت سے بچائیں گے۔ ہم اپنی صحت، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کو دھویں کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔کیونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور کوئی بھی نعمت اس قابل نہیں کہ اسے اپنے ہی ہاتھوں دھویں میں اڑا دیا جائے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:نور فاطمہ

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے۔ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو قوم کا قیمتی سرمایہ، ترقی کا محور اور مستقبل کی امید ہیں۔ یہی نوجوان اگر علم، ہنر اور صحت کے زیور سے آراستہ ہوں تو ملک ترقی کی نئی منزلیں طے کرتا ہے، لیکن اگر وہ مضر عادات کا شکار ہو جائیں تو نہ صرف ان کی اپنی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا معاشرہ اس کے منفی اثرات بھگتتا ہے۔ ان مضر عادات میں تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی صحت، کردار، معاشی حالت اور مستقبل کو نگل جاتی ہے۔

    تمباکو نوشی بظاہر ایک معمولی عادت محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک خطرناک زہر ہے۔ سگریٹ، شیشہ، ویپنگ اور دیگر تمباکو مصنوعات انسانی جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمی سطح پر لاکھوں افراد ہر سال تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی بیماریاں اور متعدد دیگر جان لیوا مسائل تمباکو نوشی کے براہِ راست نتائج ہیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سے نوجوان محض شوق، دوستوں کے دباؤ، وقتی تفریح یا خود کو جدید ثابت کرنے کی خواہش میں اس عادت کا آغاز کرتے ہیں۔ ابتدا میں ایک یا دو سگریٹ سے شروع ہونے والا سفر جلد ہی ایسی لت میں تبدیل ہو جاتا ہے جس سے چھٹکارا پانا آسان نہیں رہتا۔ تمباکو میں موجود نکوٹین ایک نشہ آور مادہ ہے جو انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ یوں نوجوان اپنی صلاحیتوں، توانائی اور خوابوں کو ایک دھوئیں کے بادل میں گم کر دیتے ہیں۔

    نوجوانوں کو یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تمباکو نوشی غلامی ہے،کمزوری کی نشانی ہے۔ حقیقی آزادی اس میں ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور غلط رجحانات پر قابو پائے۔ جو نوجوان سگریٹ کے دھوئیں سے دور رہتا ہے، وہ اپنی صحت، عزتِ نفس اور مستقبل کی حفاظت کرتا ہے۔تمباکو نوشی کا نقصان صرف پینے والے تک محدود نہیں رہتا۔ گھر کے افراد، دوست احباب اور اردگرد موجود لوگ بھی اس کے دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ بچے، بزرگ اور خواتین غیر ارادی طور پر اس زہریلے دھوئیں کو سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں جس سے ان کی صحت کو بھی شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک فرد کی بری عادت پورے خاندان کی زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

    معاشی اعتبار سے بھی تمباکو نوشی ایک تباہ کن عمل ہے۔ روزانہ سگریٹ پر خرچ ہونے والی رقم بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر مہینوں اور سالوں میں یہی رقم ایک بڑی رقم بن جاتی ہے۔ یہ سرمایہ تعلیم، کاروبار، کتابوں، صحت اور خاندان کی ضروریات پر خرچ ہو سکتا ہے، لیکن تمباکو نوشی اسے دھوئیں میں اڑا دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے علاج پر آنے والے اخراجات الگ بوجھ بن جاتے ہیں۔پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل تمباکو سے مکمل دوری اختیار کرے۔ تعلیمی اداروں، والدین، اساتذہ، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں، کھیلوں، مطالعے اور مثبت مشاغل کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب نوجوان اپنی توانائیاں تعمیری کاموں میں صرف کریں گے تو وہ خود بخود ایسی مضر عادات سے دور رہیں گے۔

    آج ہر نوجوان کو اپنے آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہیے: کیا چند لمحوں کی جھوٹی تسکین میرے خوابوں، صحت اور مستقبل سے زیادہ قیمتی ہے؟ یقیناً جواب نفی میں ہوگا۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تمباکو نوشی نہ صرف صحت کے خلاف جرم ہے بلکہ اپنے مستقبل کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔آج عہد کریں کہ ہم خود بھی تمباکو نوشی سے دور رہیں گے اور اپنے دوستوں، بھائیوں، بہنوں اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی اس زہر سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ تمباکو سے پاک پاکستان قومی ضرورت ہے۔ جب ہمارے نوجوان صحت مند ہوں گے، ان کے خواب زندہ ہوں گے، ان کی صلاحیتیں محفوظ ہوں گی اور ان کی توانائیاں مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی تو پاکستان ترقی، خوشحالی اور کامیابی کی نئی داستان رقم کرے گا۔

    تمباکو کا دھواں وقتی طور پر فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات زندگی بھر انسان کا پیچھا کرتے ہیں۔ اس لیے آج ہی فیصلہ کیجیے، ابھی فیصلہ کیجیے، اور اپنے آپ کو اس زہر سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر لیجیے۔ ایک صحت مند نوجوان ہی ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے، اور تمباکو سے پاک پاکستان ہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: محمد راشد تبسم

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: محمد راشد تبسم

    دنیا بھر میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد لوگوں کو ان خطرناک اثرات سے آگاہ کرنا ہے جو تمباکو کے استعمال کی وجہ سے انسانی صحت، معیشت اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش وبا بن چکی ہے جو ہر سال لاکھوں جانیں نگل رہی ہے۔ بالخصوص پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں تمباکو نوشی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی، معاشی استحکام اور نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف عالمی مہم کا آغاز 1987 میں کیا گیا تاکہ دنیا بھر میں تمباکو کے نقصانات کے بارے میں شعور پیدا کیا جا سکے۔ ہر سال اس دن کے لیے ایک خاص موضوع منتخب کیا جاتا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو ان طریقوں سے آگاہ کرنا ہے جن کے ذریعے تمباکو کمپنیاں اپنی مصنوعات کو جدید فیشن اور پرکشش طرز زندگی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

    اگر دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی صورتحال دیکھی جائے تو اعداد و شمار انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال 7 ملین سے زائد افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان میں تقریباً 13 لاکھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود تمباکو استعمال نہیں کرتے مگر دوسروں کے دھوئیں، یعنی سیکنڈ ہینڈ سموک، کا شکار ہو کر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 1.3 ارب تک پہنچ چکی ہے اور ان میں بڑی تعداد ایسے ممالک کی ہے جہاں صحت کے وسائل محدود ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید سنگین بن جاتا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی دائمی بیماریوں اور کئی دیگر خطرناک پیچیدگیوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک نے سخت قوانین، بھاری ٹیکس اور آگاہی مہمات کے ذریعے تمباکو نوشی کی شرح میں واضح کمی کی ہے، لیکن ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں اس کا رجحان اب بھی خطرناک حد تک موجود ہے۔
    پاکستان میں لاکھوں افراد تمباکو کی مختلف قسمیں استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سگریٹ کے علاوہ نسوار، گٹکا، پان، شیشہ اور بیڑی جیسی مصنوعات بھی عام ہیں۔ مختلف قومی سرویز کے مطابق ملک میں مردوں میں تمباکو نوشی کی شرح خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے، تاہم خواتین اور نوجوان لڑکیوں میں بھی اس رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مزیدتشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تمباکو نوشی ایک خاموش مگر انتہائی خطرناک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

    تمباکو نوشی کے اثرات صرف تمباکو استعمال کرنے والوں تک محدود نہیں رہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر پھیلنے والا دھواں بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہوتا ہے۔
    ماہرین کے مطابق تمباکو کے دھوئیں میں سات ہزار سے زائد کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں جن میں درجنوں ایسے ہیں جوکینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں تمباکو نوشی بچوں کی کمزور پیدائش، قبل از وقت ولادت اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے ۔ اسی طرح بچوں میں سانس کی بیماریاں، الرجی اور پھیپھڑوں کی کمزوری بھی تمباکوکے دھوئیں سے جڑی ہوئی ہیں۔
    تمباکو کی صنعت کا سب سے بڑا ہدف نوجوان نسل ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً بارہ سو بچے تمباکو نوشی کا آغاز کرتے ہیں۔ نوجوانی میں شروع ہونے والی یہ عادت اکثر پوری زندگی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ مزید یہ کہ جدید دور میں ای سگریٹ اور ویپنگ نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہیں ”محفوظ متبادل“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین کے مطابق ان میں موجود نیکوٹین نوجوان دماغ کی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہے اور انسان کو مستقل نشے کی طرف لے جاتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت پر تمباکو نوشی کے اثرات بھی بہت خطرناک ہیں۔ اگرچہ حکومت کو تمباکو کی صنعت سے ٹیکس حاصل ہوتا ہے، مگر تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج، ادویات، ہسپتالوں کے اخراجات اور افرادی قوت کے نقصان کی صورت میں قومی معیشت کو کہیں زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے تقریباً 1800 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان ہوتا ہے جس سے قومی پیداوار اور معاشی ترقی پر منفی اثر پڑتا ہے۔
    حکومت پاکستان نے تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے ہیں۔مثلاً عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کے پیکٹوں پر تصویری انتباہات، اشتہارات پر پابندیاں اور ٹیکسوں میں اضافہ انہی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم ان قوانین پر موثر عمل درآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دوسری طرف غیر قانونی سگریٹ کی فروخت، کم قیمت مصنوعات کی دستیابی اور تمباکو کمپنیوں کا اثر و رسوخ اکثر ان پالیسیوں کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
    دنیا کے کئی ممالک میں سخت پالیسیوں کے ذریعے تمباکو نوشی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔تمباکو پر بھاری ٹیکس، مارکیٹنگ پر مکمل پابندی اور مسلسل آگاہی مہمات نے مثبت نتائج دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرپاکستان میں تمباکو مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کیے جائیں، نوجوانوں تک ان کی رسائی محدود کی جائے اور آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے تو تمباکو نوشی کی شرح میں واضح کمی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے لیے تعلیمی ادارے نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین بچوں کو اس لت کے خطرات سے آگاہ کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ اسی طرح میڈیا بھی تمباکو نوشی کو فیشن یا تفریح کے بجائے ایک سنگین خطرے کے طور پر پیش کرے۔
    اسلامی تعلیمات بھی انسانی جان کے تحفظ اور صحت کی حفاظت پر زور دیتی ہیں۔ چنانچہ اسلام ہر اس عمل سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو انسان کے لیے نقصان دہ ہو یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے کاسبب بنے۔ تمباکو نوشی نہ صرف انسان کی اپنی صحت تباہ کرتی ہے بلکہ اردگرد موجود لوگوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ مزید برآں،یہ غریب خاندانوں کے محدود وسائل کو ایک نقصان دہ عادت پر خرچ کرنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ یہی وسائل تعلیم، خوراک اور بہتر زندگی پر خرچ ہو سکتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ 31 مئی صرف ایک عالمی دن نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ اسی لیے پاکستان میں ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اموات اور اربوں روپے کے معاشی نقصانات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اب خاموش رہنے کی بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں، والدین، مذہبی رہنماوں اور سول سوسائٹی سب کو مل کر موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ ورنہ اگر آج اس خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزاریں گی جہاں بیماری، کمزور صحت اور معاشی مسائل مزید بڑھ چکے ہوں گے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو تمباکو کی لت سے بچائیں، صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں صاف ہوا میں سانس لینا ہر انسان کا بنیادی حق ہو۔ کیونکہ ایک صحت مند قوم ہی ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر: بینا علی

    تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر: بینا علی

    تمباکو آج کی دنیا میں صحتِ عامہ کا سب سے بڑا قابلِ تدارک خطرہ بن چکا ہے۔ اگرچہ تمباکو ایک پودا ہے اور اس کی کاشت زرعی معیشت کا حصہ رہی ہے لیکن اس کے مسلسل استعمال نے لاکھوں زندگیاں نگل لیں اور کروڑوں خاندانوں کو جسمانی، ذہنی اور معاشی نقصان پہنچایا۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ تمباکو میں موجود نکوٹین ایک طاقتور نشہ آور مادہ ہے جو دماغ کے کیمیائی نظام کو بدل دیتا ہے اور انسان کو جسمانی و نفسیاتی طور پر اس کا عادی بنا دیتا ہے۔قدیم زمانے میں امریکہ کے مقامی قبائل تمباکو کو مذہبی رسومات اور دوائی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ سولہویں صدی میں جب یورپی مہم جو امریکہ پہنچے تو وہ تمباکو اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ رفتہ رفتہ کپاس، گندم اور مکئی کی طرح تمباکو کی کاشت بھی تجارتی فصل کے طور پر پوری دنیا میں پھیل گئی۔ نباتاتی درجہ بندی کے مطابق تمباکو “نکوٹیانا” خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس پودے میں پایا جانے والا بنیادی کیمیائی مادہ “نکوٹین” ہے، جس کے نام پر اس خاندان کا نام بھی رکھا گیا۔

    نکوٹین بہت کم مقدار میں بھی دماغ میں موجود نکوٹینک رسیپٹرز کو متحرک کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ڈوپامین اور دیگر نیوروٹرانسمیٹر خارج ہوتے ہیں، جس سے عارضی طور پر سکون، توجہ اور خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ مگر بار استعمال سے دماغ ان رسیپٹرز کی تعداد بڑھا دیتا ہے، اور جسم نکوٹین پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ اسی لیے تمباکو نوش کو سگریٹ نہ ملنے پر بے چینی، چڑچڑاپن، سر درد اور نیند کی خرابی جیسی علامات محسوس ہوتی ہیں۔ کسی شخص کا نکوٹین پر انحصار اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کتنی مقدار میں، کتنے عرصے سے اور کس طریقے سے تمباکو استعمال کر رہا ہے۔ سگریٹ، حقہ، نسوار، ہان اور چیونگ تمباکو میں نکوٹین کی مقدار مختلف ہوتی ہے اور یہ فرق بھی عادت کی شدت پر اثر انداز ہوتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 1.1 ارب افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، یعنی بالغ آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ۔ ہر سال تقریباً 80 لاکھ افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے 70 لاکھ سے زائد اموات براہِ راست تمباکو نوشی کے نتیجے میں ہوتی ہیں، جبکہ 12 لاکھ اموات “سیکنڈ ہینڈ سموک” یعنی غیر تمباکو نوش افراد کے تمباکو کے دھوئیں میں سانس لینے سے واقع ہوتی ہیں۔

    تمباکو صرف جان ہی نہیں لیتا بلکہ معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ علاج کے اخراجات، پیداواری صلاحیت میں کمی اور قبل از وقت اموات کی وجہ سے عالمی معیشت کو سالانہ تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اس بوجھ کو برداشت کرنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں صحت کا نظام پہلے ہی محدود وسائل کا شکار ہے۔تمباکو کو “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے لیکن طویل مدت میں یہ جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تمباکو کے دھوئیں میں 7000 سے زائد کیمیائی مادے ہوتے ہیں، جن میں سے کم از کم 250 زہریلے اور 70 کینسر پیدا کرنے والے ہیں۔ طبی شواہد کے مطابق تمباکو نوشی منہ، گلے، خوراک کی نالی، پھیپھڑوں، اور لبلبے کے کینسر کا بڑا سبب ہے۔یہ دَمہ، نمونیا، دل کے دورے، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور خون کی نالیوں کی بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ حاملہ خواتین میں تمباکو کا استعمال قبل از وقت ولادت، کم وزن کے بچے اور اسقاطِ حمل کا باعث بن سکتا ہے۔ نوجوانوں میں تمباکو کا آغاز دماغی نشوونما کو متاثر کرتا ہے اور بعد میں منشیات کے استعمال کا امکان بڑھاتا ہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ قومی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 3 کروڑ سے زائد افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، جن میں سگریٹ نوشوں کے ساتھ نسوار اور حقہ استعمال کرنے والے بھی شامل ہیں۔ ہر سال ہزاروں افراد منہ، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کے امراض کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے، کیونکہ کم قیمت سگریٹ اور اشتہارات تک آسان رسائی انہیں اس عادت کی طرف کھینچتی ہے۔اس خطرناک صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی اور معاشرے کو مل کر سنجیدہ اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔پہلا اور سب سے اہم قدم تمباکو کنٹرول کے لیے بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے تحفظ کا قانون” موجود ہے، جس میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانعت، پیکیج پر صحت کے انتباہات اور نابالغوں کو تمباکو کی فروخت پر پابندی شامل ہے۔ مگر کمزور نفاذ کی وجہ سے یہ قانون مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔ ہوٹلوں، دفاتر، پارکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی کا نفاذ نہ صرف غیر تمباکو نوشوں کو دھوئیں سے بچائے گا بلکہ سماجی طور پر تمباکو کو ناپسندیدہ بھی بنائے گا۔

    دوسرا مؤثر ہتھیار قیمت اور ٹیکس کا ہے۔ اقتصادی تحقیق سے ثابت ہے کہ سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ نوجوانوں میں استعمال کو 4 فیصد اور بالغوں میں 2 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر بھاری اور یکساں ایکسائز ڈیوٹی لگانے سے ان کی قیمت بڑھے گی اور یہ نوجوانوں اور کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی۔ حاصل شدہ اضافی آمدنی کو صحت کے نظام اور تمباکو ترک کرنے کے پروگراموں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔تیسرا کام آگاہی اور تعلیم ہے۔ میڈیا، اسکولوں، کالجوں اور مذہبی و سماجی فورمز کے ذریعے بڑے پیمانے پر مہم چلانا ضروری ہے تاکہ لوگ تمباکو کے حقیقی نقصانات سے باخبر ہوں۔ پیکیج پر خوفناک تصویری انتباہات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر آگاہی پیغامات، اور اسکول کے نصاب میں تمباکو کے مضمرات کو شامل کرنا نئی نسل کو اس عادت سے بچا سکتا ہے۔

    چوتھا اہم اقدام تمباکو چھوڑنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ جو لوگ تمباکو ترک کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے مفت یا کم قیمت پر مشاورتی خدمات، ہیلپ لائن اور نیکوٹین متبادل تھراپی جیسے گم، پیچ اور ادویات کی فراہمی ضروری ہے۔ بنیادی صحت کے مراکز میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو “تمباکو ترک کرنے کی مختصر مداخلت” کی تربیت دینے سے لاکھوں افراد کو بروقت مدد مل سکتی ہے۔پانچواں قدم تمباکو کی ہر قسم کی تشہیر، پروموشن اور سپانسرشپ پر مکمل پابندی ہے۔ تمباکو کمپنیاں اکثر کھیلوں، موسیقی اور ثقافتی تقریبات کی سپانسرشپ کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اس روایت کو ختم کیے بغیر طلب میں کمی ممکن ہے

    تمباکو کے رجحان کو کم کرنے کے لیے صرف پابندی کافی نہیں بلکہ نوجوانوں کو صحت مند متبادل ذرائع بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ ملک میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ نوجوانوں کو کھیلوں، تعلیم، فنون اور سماجی خدمات کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ اس کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنے ہوں گے، اسکولوں میں جسمانی تعلیم کو فعال بنانا ہوگا اور مقامی سطح پر کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے ہوں گے تاکہ بچے اور نوجوان اپنا وقت سگریٹ نوشی کے بجائے کھیل کود اور تخلیقی سرگرمیوں میں صرف کریں۔

    تمباکو وہ واحد بڑی وجہِ اموات ہے جس کا تدارک مکمل طور پر ممکن ہے۔ اگر حکومت قوانین پر سختی سے عمل کرے، ٹیکس بڑھائے، آگاہی پھیلائے، ترک کرنے میں مدد دے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لائے تو پاکستان کو تمباکو سے پاک بنانا ایک حقیقت بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں زندگیاں بچیں گی، صحت کے خراجات کم ہوں گے اور ایک صحت مند، پیداواری نسل پروان چڑھے گی۔ تمباکو کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری خاندان اور ادارے کا فرض ہے کہ وہ اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:تحریر:ڈاکٹر عالیہ فیض

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:تحریر:ڈاکٹر عالیہ فیض

    یہ بات تو طے ہے کہ تمباکو نوشی پاکستان کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور کھوکھلا کر رہی ہے بے شمار پاکستانی صرف اور صرف تمباکو نوشی کے ذریعے اپنی قیمتی جانیں تلف کر بیٹھے ہیں۔۔۔اور مزید اعداد و شمار میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اموات میں بھی اور اس لت میں مبتلا ہونے والے نشئی افراد میں بھی اضافہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔۔اگر یہی عمل جاری و ساری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان(خدا نخواستہ) تباہی کے دلدل میں ڈوب جائے گا.

    یہ بڑی خوبصورت سوچ ہے کہ چند تجاویز حکومت کے سر منڈھ کر چین کی بنسی بجائیں اور خود ہر امر سے مبرّا ہو جائیں۔۔۔دراصل پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے ہر میدان میں ہم بڑھ چڑھ کر بولتے تو ہیں لیکن جب بات ذاتیات کی آتی ہے تو ہم ببانگ دہل نعرہ بلند کرنے والے پیچھے کھسک لیتے ہیں۔۔ہماری ہر بات میں زندہ دلی تو ہوتی ہے لیکن مردہ کرداروں کے ساتھ ہر اچھی بات کہنا نصیحت کرنا باعث ثواب سمجھا جاتا ہے لیکن عملی طور پر فقدان پایا جاتا ہے اور یہی شخصی جھول ہماری خو بن چکا ہے۔

    یہ آج کا مسئلہ نہیں ہے کہ پاکستان تمباکو نوشی سمیت مختلف نشوں کی مد میں سر فہرست کھڑا ہے۔اسکے سدّ باب کے لئے بہت کچھ کیا چکا ہے اور کیا جا رہا ہے لیکن فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق مسئلہ،معاملہ جوں کا توں قائم ہے…اعداد و شمار میں چنداں کمی محسوس نہیں ہو رہی بلکہ روز افزوں یہ لعنت اپنے پنجے گاڑھ رہی ہے۔۔۔پاکستان جیسی پاکیزہ سر زمین کو مفلوج کر رہی ہے۔۔۔کیونکہ اسکے ذریعے ہماری نو جوان نسل کے اعصاب شل کئے جا رہے ہیں ذہن مکدّر و پراگندہ کئے جا رہے ہیں اور یہ سب ایک بھیانک سازش ہے۔ہمارے ادارے غیر فعال ہو رہے ہیں ہمارے گھروں میں آپسی رنجشیں اور چپقلشیں پنپ رہی ہیں نفرتوں کے ستون تعمیر ہو رہے ہیں،ماں بہن بیوی بیٹی کی عزت و ناموس خاک میں مل رہی ہے۔۔۔رشتوں کا احترام خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔بے روزگاری عام ہو چکی ہے چوری ڈکیتی غرض یہ کہ کونسی برائی ہے جو اس تمباکو نوشی جیسی لعنت کے زیر اثر نہیں ہے۔نقصانات کی ایک طویل فہرست ہے جنکی اصل وجہ صرف اور صرف تمباکو نوشی ہے۔

    اس سلسلے میں بے شمار فلاحی تنظیمیں،حکومتی ادارے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن وغیرہ سب نے بڑے مؤثر انداز میں اپنے فرائض ادا کئے لیکن نتیجہ آٹے میں نمک کے برار۔دراصل اب وقت ہے کہ ہمیں نہایت سنجیدہ ہو کر اسکے اصل عوامل کیطرف توجہ کرنی ہو گی۔غور طلب امر اور پہلو یہ ہے کہ بہت کچھ کیا جا چکا ہے۔۔اسکے سدباب کے لئے لیکن اسکے باوجود نتائج حوصلہ افزاء نہیں حاصل ہو رہے ہیں تمام کوششیں کیوں بے ثمر و بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔لہذا غور طلب پہلو یہ ہے

    میری نظر میں اس لعنت میں اگر کمی یا خاتمہ ممکن ہے تو جواسکی بنیادی وجہ سمجھ میں آتی ہے وہ تربیت کا فقدان ہے اگر ہم نونہالوں کی اسلامی نظریات پر بنیادیں تعمیر کریں تو۔۔۔۔یقیناً امید کی جاسکتی ہے کہ کم و بیش ہم اس لعنت پر اسی نوے فیصد قابو پا سکتے ہیں۔۔۔دراصل کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی اسکی آئندہ آنے والی نسلیں ہوا کرتی ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کا درست ہونادراصل صحت کی بنیادی علامت ہوا کرتی ہے۔
    جسطرح درخت کی نرم شاخ کو ہم حسب منشاء موڑ سکتے ہیں بالکل یہی مثال ایک معصوم بچے کی بھی ہے،ہم بچپن میں بچے کو جو ماحول دیں گے وہ وہی اپنائے گا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر بچہ کو اسکے والدین اپنی طرف سے بہترین تربیت دے رہے ہوتے ہیں تو معزرت کے ساتھ عرض ہے کہ ایسا در حقیقت ہو نہیں رہا جسے والدین بہترین کہہ رہے ہیں وہ دراصل۔۔۔غیبت،لالچ،ایک دوسرے کو نیچا دکھانا،رشتوں کی بے حرمتی،احساس کمتری یا برتری کے حبس زدہ ماحول میں آداب مجلسی کی تنزلی کا شکار زدہ ماحول دیا جا رہا ہے۔
    جسکے نتیجہ میں بچوں میں گھبراہٹ،خوف،بے سکونی،اعتماد میں شدید ترین کمی کیوجہ سے بچوں میں اوائل عمر میں ہی تنہائی میں تحفظ کا احساس جاگنے لگتا ہے اور آگے چل کر یہی تنہائی مختلف جرائم کی بنیاد بنتی ہے۔تنہائی کے عادی بچے کاہل الوجود ہو جاتے ہیں ایسے میں وہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے چھوٹی موٹی چوریاں کرتے ہوئے بالآخر ان لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں اپنے اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کرتے اور نشہ دیکر ڈھیٹ بنا دیتے ہیں لہذا وہ معاشرے کا نا کارہ پرزہ ثابت ہونے لگتے ہیں اسی کے پیش نظر انہیں واپس پلٹنے کا راستہ نہیں ملتا۔

    لہذا حکومت کو چھوٹے بچوں کے لئے ہر علاقے میں ایسے ادارے ضرور بنانے چاہیں جہاں غیر تعلیم یافتہ والدین اپنے بچوں کو بھیج سکیں جہاں بچوں کو فری میں تعلیم اور چھوٹے ہنر سکھائے جائیں اور مصروف رکھا جائے۔۔وقتاً فوقتاً والدین کو بھی آگاہی پروگرامز کے ذریعے تعلیم دی جائے ایسی ورک شاپس منعقد کی جائیں کہ کہ جووالدین بیروزگار ہیں انکی آمدنی کا ذریعہ بن سکے۔دوسری جانب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہائی فائی طبقہ بھی تمباکو کی لت کا شکار ہوتا ہے اور دراصل یہ ہی طبقہ ہے جو پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔۔اور دراصل یہ ہی تمباکو کی ترسیل کا آلہ کار طبقہ ہے انکی اولادیں دراصل آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا کہ پیش نظر اس لت کا شکار ہو جاتی ہیں۔

    ان لوگوں کو بلا تفریق سزائیں ملنی چاہیں تاکہ اس گندگی سے پاک۔۔۔پاک سر زمینِ پاکستان پنپ سکے۔
    ” الہی خیر ہو ایمان کے کمزور بیڑے ہیں
    ہوائیں تند ہیں اور باد سر سر کے تھپیڑے ہیں..
    ہوائے شطنیت کمزور بیڑوں کو ڈبوتی ہے
    مگر اولاد آدم تخت غفلت پر سوتی ہے۔”