Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • تنقید یا احتساب؟ پسرور اسپتال کے دورے نے صحت کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ۔تحریر: سعدیہ مقصود

    تنقید یا احتساب؟ پسرور اسپتال کے دورے نے صحت کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ۔تحریر: سعدیہ مقصود

    سرکاری اداروں میں انتظامی احتساب کبھی آسان عمل نہیں ہوتا۔ جب بھی کسی غفلت پر کارروائی کی جاتی ہے تو اس پر مختلف آراء سامنے آتی ہیں، لیکن بنیادی سوال یہی ہوتا ہے کہ اگر عوامی وسائل کے تحفظ اور سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی پر بھی جوابدہی نہ ہو تو نظام میں بہتری کیسے آئے گی؟

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں شفافیت، مؤثر نگرانی، عوامی وسائل کے تحفظ اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی وزیرِ صحت و آبادی پنجاب خواجہ عمران نذیر پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں کے مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ٹی ایچ کیو اسپتال پسرور کا حالیہ دورہ بھی تھا، جس نے صحت کے نظام میں احتساب اور انتظامی ذمہ داری پر نئی بحث چھیڑ دی۔

    وزیرِ صحت نے اچانک دورے کے دوران اسپتال کے مختلف شعبوں، ادویات کے ذخیرے اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ معائنے میں سامنے آیا کہ ادویات کے اسٹور میں مطلوبہ ایئر کنڈیشننگ موجود نہیں تھی، جس سے قیمتی ادویات کے خراب ہونے کا خدشہ تھا، جبکہ بعض خالی کمروں میں ایئر کنڈیشنرز حکومتی ہدایات کے برخلاف 26 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت پر چل رہے تھے۔ ایمبولینس کی عدم دستیابی اور صفائی و سکیورٹی عملے کی تنخواہوں میں تاخیر کا بھی نوٹس لیا گیا، جس پر فوری اصلاحی اقدامات کیے گئے اور متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید سامنے آئی، جس پر خواجہ عمران نذیر نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ صلاحیت یا طبی خدمات پر تنقید نہیں تھا، بلکہ معاملہ صرف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق ایم ایس صرف ایک معالج نہیں بلکہ اسپتال کے انتظام، وسائل کے تحفظ اور مؤثر گورننس کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے، اس لیے انتظامی غفلت پر جوابدہی ناگزیر ہے۔

    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس اور ٹویٹس بھی سامنے آئیں، جن میں بعض افراد نے اس کارروائی کو سیاسی تناظر میں پیش کرتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناقدین کے برعکس یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ اصلاحی اقدامات کو ان کے اصل مقصد اور نتائج کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات مثبت اقدامات کو بھی سیاسی مقاصد کے تحت منفی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ صوبائی وزیرِ صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر متعدد مواقع پر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بہترین کارکردگی کو سراہتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ وہ مختلف مواقع پر محکمۂ صحت کے طبی عملے کا دفاع بھی کرتے نظر آئے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جو ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر افسران اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور محنت سے ادا کرتے ہیں، وہ تعریف اور شاباش کے مستحق ہیں۔ تاہم جہاں نااہلی، انتظامی غفلت یا سرکاری وسائل کے ضیاع کی نشاندہی ہوگی، وہاں وہ کسی دباؤ، بلیک میلنگ یا مصلحت کو خاطر میں نہیں لائیں گے بلکہ قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی کریں گے۔

    وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ اگر لاکھوں روپے مالیت کی ادویات مناسب درجہ حرارت نہ ہونے کے باعث خراب ہونے کے خطرے سے دوچار ہوں اور دوسری جانب غیر ضروری طور پر بجلی ضائع کی جا رہی ہو تو خاموش رہنا عوامی مفاد کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کے ڈاکٹرز نظامِ صحت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کا احترام ہمیشہ مقدم رہے گا، تاہم انتظامی غفلت کسی بھی عہدے پر قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔

    حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی انتظامی فیصلے کو چند وائرل ویڈیوز یا سوشل میڈیا پوسٹس کے بجائے اس کے مکمل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر مقصد عوامی وسائل کا تحفظ، اسپتالوں میں نظم و ضبط اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ہو تو ایسے اقدامات کا اصل معیار ان کے نتائج ہونے چاہییں۔ پسرور کا واقعہ بھی یہی پیغام دیتا ہے کہ صحت کے نظام میں پائیدار بہتری مؤثر نگرانی، بروقت فیصلوں اور شفاف احتساب سے ہی ممکن ہے۔

  • انتظامی کرائسز کا شکار پنجاب چیف سیکرٹری کی تبدیلی کا منتظر۔ تحریر:ملک سلمان

    انتظامی کرائسز کا شکار پنجاب چیف سیکرٹری کی تبدیلی کا منتظر۔ تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیوروکریسی کی ٹرانسفر پوسٹنگ میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو مکمل اختیارات دے کر تاریخی کارنامہ تو کر دیا لیکن مذکورہ صوبائی سربراہان نے”میرٹ“ کا وہ قتل عام کیا جس کی نظیر تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ سنئیر اور قابل افسران کھڈے لائن جبکہ جونئیر اور من پسند افسران پر عہدوں کے ایسی نوازشات ہوئی کہ ہر کوئی حیران و پریشان ہوگیا۔بہت سارے کرپٹ بزداری افسران اہم عہدوں پر لگا دیے گئے ہیں ثبوت کے طور پر پی ٹی آئی دور حکومت کی پوسٹنگ نکال کر موازنہ کرلیں، پی ٹی آئی دور میں ”اہم پوزیشن“ انجوائے کرنے اور کرپشن کے ریکارڈ توڑنے والے موجودہ حکومت میں پہلے سے بھی اچھی سیٹ پر ہیں۔

    چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کے دور میں چند ”بلیو آئیڈ“ ایک سے بڑھ کر ایک اہم سیٹ پر نوازے جاتے ہیں تو دیگر ایک ہی سیٹ پر کھڈے لائن ہیں تو کچھ ناکردہ گناہوں کی سزا پر او ایس ڈی”گل سڑ“ رہے ہیں۔

    پک اینڈ چوز کی وجہ سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ہے سوائے ان کے جن کو آؤٹ آف دی وے جا کر نواز ا گیا۔
    چیف سیکرٹری نے ایک طرف ڈپٹی کمشنرز کیلئے خود ساختہ میرٹ اور بیرئیر لگادیے ہیں جبکہ سجی دکھا کر کھبی مارنا کے مترادف گریڈ بیس لیول کی اربوں کھربوں روپے والی
    CEO IDAP, CEO PECTAA، پراجیکٹ ڈائریکٹر ورلڈ بینک سمیت اہم سیٹوں اور اٹھارٹیز پر 42,43,44کامن کے کنسیپٹ کلئیر بچوں کو لگادیا ہے۔ اسی طرح چند گریڈ 19 والوں کو گریڈ 21 کی سیٹوں پر آل ان آل بنا دیا گیا۔ کرپٹ افسران نے ستھرا پنجاب، پیرا، سیاحت اور بیوٹیفیکیشن جیسے فلیگ شپ پروگرامات کو مال لوٹنے کا زریعہ بنایا ہوا ہے۔
    چیف سیکرٹری کی انتظامی کمزوری ہے کہ انٹی کرپشن میں اسی فیصد سے زائد کیسز کا تعلق ریونیو سے ہوتا ہے لیکن اہم ترین محکمے کو پولیس کے حوالے کیا ہوا ہے۔ اس سے بڑھ کر مضحکہ خیز بات کیا ہوگی کہ پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم ساجد ڈال کے بھائی سمیت دیگر ڈی ایس پیز کو ڈویژنل ڈائریکٹر انٹی کرپشن لگایا گیا ہے، احتساب کا دعوی اور تمام امیدیں یہیں ختم ہوجاتی ہیں جب گریڈ بیس تک کے افسران کے احتساب کی ذمہ داری گریڈ 17کے ڈی ایس پی کو دے دی جائے۔
    ایک ڈی ایس پی اپنے سنئیر ایس پی، ایس ایس پی یا ڈی آئی جی کا احتساب تو درکنار گردن جھکائے بن ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتے کیونکہ انہی سنئیر سے اس نے اپنی اے سی آر لکھوانی ہے۔

    پنجاب کی انتظامی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ جونئیر ترین ڈی پی او لگائے گئے ہیں۔ 44اور 43کامن کے ایس پیز کو ڈی پی او لگانا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
    سانحہ ماڈل ٹاؤن سے لیکر جتنے بھی بڑے سانحات ہوئے انکی ”جے آئی ٹی” رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں ہر جگہ ناکامی کی ایک ہی وجہ ملے گی کہ جونئیر آفیسر ہونے کی وجہ سے مس ہینڈلنگ اور فیصلہ سازی کی کمی۔
    محکمہ صحت سمیت لگ بھگ درجن محکموں کے سیکرٹری گریڈ انیس کے جونئیر افسران ہیں۔ اسی طرح سی ای او، ڈی جی اور ایم ڈی لیول کی اہم سیٹوں پر بھی گریڈ بیس کی بجائے گریڈ انیس اور حتیٰ کہ گریڈ اٹھارہ کے افسران تعینات ہیں۔ گریڈ 18سے گریڈ21تک کے 58افسران او ایس ڈی ہیں جبکہ لاڈلوں کو ڈبل اور اضافی چارج دیے ہوئے ہیں۔

    کسی نے کبھی سنا کہ آرمی میں گریڈ سترہ کے کپتان کو گریڈ انیس کے لیفٹنٹ کرنل کی جگہ یونٹ کمانڈ پر لگا دیا گیا؟ گریڈ اٹھارہ کے میجر کو گریڈ بیس کے برگیڈئیر کی جگہ برگیڈ کمانڈر تعینات کردیا؟ سننا تو درکنار آرمی میں ایسی بیہودگی اور لاقانونیت کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ میرٹ اور احتساب یہی وجہ ہے کہ ہماری فوج دنیا کی نمبر ون آرمی ہے اور بیوروکریسی دنیا کے 200 ممالک میں آخری نمبروں پر۔

    نگران حکومت سے شروع ہونے والے گینگ آف سیون” کے بیوروکریٹک مارشل نے جہاں حکومت سے عوام کا اعتماد خراب کیا وہیں سینکڑوں افسران بھی شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ ”گینگ آف سیون” کا کمال ہے کہ وہ افسران جو اخلاقی اور مالی لحاظ سے بدنام زمانہ کرپٹ ترین ہیں، بزدار اور پرویز الٰہی دور کے بڑے بینیفشریز تھے انکو اہم ترین سیٹوں پر لگایا ہوا ہے۔
    دسمبر 2022سے سیکرٹری فنانس کی سیٹ پر آل ان آل مجاہد شیر دل پنجاب کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا اہم ترین ستون ہیں۔ زبان زد عام ہی نہیں گزشتہ 42ماہ کی ٹرانسفر پوسٹنگ دیکھ لیں اہم ترین سیٹوں پر آنے اور جانے کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ اور سیکرٹری فنانس ”راستہ“ ہیں۔

    خاص طور پر IDAPاور بیرونی فنڈنگ والی تمام پوسٹوں کا آڈٹ کروایا جائے کیونکہ زبان زد عام ہے کہ وہاں حصے بانٹے جاتے ہیں۔
    ہر وقت key Posting والے احساس برتری کی وجہ سے اور OSD رہنے والے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر دونوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
    موجودہ چیف سیکرٹری کے دور میں سوائے نگران وزیراعلیٰ کے لاڈلوں اور کارخاص کے پنجاب کے پی ایم ایس افسران کا اچھی پوسٹنگ حاصل کرنا مشن امپاسبل بنا دیا گیا۔ پنجاب کی صوبائی سیکرٹریز کی 42 سیٹوں میں سے 6/7سیکرٹریز کی سیٹیں بامشکل پی ایم ایس افسران کو دی گئی ہیں۔ پنجاب کی 10 میں سے صرف 2 ڈویژن میں صوبائی سروس کے افسران کمشنر لگائے گئے ہیں جبکہ 41 میں سے صرف 9 اضلاع میں صوبائی سروس کے ڈپٹی کمشنر ہیں۔ اسی طرح ڈی جی،ایم ڈی سے لیکر تمام اہم سیٹوں پر بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر ترین افسران براجمان ہیں۔
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ جس صوبے کی آپ وزیراعلیٰ ہیں اسی کے صوبائی افسران بے یارومددگار دہائیاں دے رہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • آبنائے ہرمز کا بحران دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آبنائے ہرمز کا بحران دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آبنائے ہرمز کا بحران دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر

    امریکہ، ایران اور مشرقِ وسطیٰ جنگ نہیں، مذاکرات وقت کی ضرورت

    تیل، تجارت اور تنازع ایران امریکہ کشیدگی کے عالمی

    ہرمز میں تناؤ، دنیا میں بے چینی
    امریکہ ایران کشمکش نقصان سب کا، فائدہ کسی کا نہیں

    جنگ کے سائے میں عالمی معیشت
    مشرقِ وسطیٰ پھر بارود کے ڈھیر پر

    آبنائے ہرمز سے اٹھتے خطرات اور دنیا کا مستقبل

    مذاکرات یا محاذ آرائی؟ امریکہ اور ایران کے سامنے بڑا سوال

    تجزیہ شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل رہی ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والے تنازع نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے جب بھی اس آبی راستے میں تناؤ پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی امریکی اور ایرانی مؤقف میں سختی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر یہ تنازع ختم کیوں نہیں ہوتا؟ امریکہ خطے میں اپنے مفادات، اتحادی ممالک اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کو اپنی ترجیح قرار دیتا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کو اپنی قومی سلامتی اور علاقائی اثر و رسوخ کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اس حد تک گہری ہو چکی ہے کہ مذاکرات کی میز پر ہونے والی پیش رفت بھی اکثر میدانِ سیاست یا میدانِ جنگ میں جا کر متاثر ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقتی جنگ بندیوں اور معاہدوں کے باوجود کشیدگی دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار قابلِ ذکر رہا ہے۔ پاکستان نے ماضی قریب میں امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی اور دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے وقتی طور پر امید پیدا کی کہ شاید خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے، لیکن بنیادی اختلافات، خصوصاً آبنائے ہرمز اور سکیورٹی معاملات پر، اب بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اگر امریکہ اور ایران تصادم کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اس کا نقصان صرف انہی دو ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ خلیجی ممالک، ایشیائی معیشتیں، یورپی منڈیاں اور ترقی پذیر ممالک سب متاثر ہوتے ہیں۔ تیل اور گیس مہنگی ہوتی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تجارتی راستے متاثر ہوتے ہیں اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کے شعلے بھڑکانا آسان لیکن انہیں بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اگر دونوں ممالک مذاکرات، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران سے بچ سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر آبنائے ہرمز کا ہر نیا بحران عالمی معیشت کے لیے ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بندوق کی زبان کو خاموش کر کے مذاکرات کی زبان کو فروغ دیا جائے، کیونکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو خطے کے عوام، عالمی معیشت اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

  • وزیر اعلی مریم نواز کی ٹیم نے پنجاب کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت دلا دی،تحریر:قمر شہزاد مغل

    وزیر اعلی مریم نواز کی ٹیم نے پنجاب کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت دلا دی،تحریر:قمر شہزاد مغل

    عالمی اعزاز نے ثابت کر دیا، میرٹ پر بننے والی ٹیمیں ہی تاریخ رقم کرتی ہیں

    تحریر: قمرشہزاد مغل

    اچھی قیادت کی اصل طاقت ایک مضبوط، باصلاحیت اور باکردار ٹیم ہوتی ہے، اور پنجاب میں اس کی نمایاں مثال پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابی ہے۔ 2026 کے بین الاقوامی آئی اے سی پی (IACP) لیڈرشپ اِن دی پریوینشن آف وہیکل کرائمز ایوارڈ کے لیے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی "اپلیکیشن” کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ میرٹ، جدید سوچ اور مسلسل محنت عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت بناتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی انتظامی حکمتِ عملی میں میرٹ، کارکردگی اور عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہوئے ایسے افسران کو ذمہ داریاں سونپیں جو نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ کسی بھی حکومت کی کامیابی ایک پوری ٹیم کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے، تاہم مؤثر قیادت اس ٹیم کو ایک سمت، اعتماد اور حوصلہ فراہم کرتی ہے، اور پنجاب میں اس طرزِ حکمرانی کے اثرات مختلف شعبوں میں نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی محمد احسن یونس ایک قابل، محنتی اور وژن رکھنے والے پولیس افسر ہیں، جنہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر حکمتِ عملی اور شبانہ روز محنت کے ذریعے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کو ایک فعال اور عوام دوست ادارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں 27 اکتوبر 2026، بروز منگل، امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں واقع اورنج کاؤنٹی کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والی IACP سالانہ ایوارڈز تقریب میں ایڈیشنل آئی جی محمد احسن یونس یہ بین الاقوامی اعزاز وصول کریں گے۔ یہ اعزاز صرف پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب اور پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس بات کا پیغام بھی ہے کہ جب قیادت میرٹ کو فروغ دے، ٹیم خلوص اور محنت سے کام کرے اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح بنایا جائے تو کامیابیاں سرحدوں کی محتاج نہیں رہتیں۔

  • آئین کی بالادستی کا تقاضا سب سےیکساں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئین کی بالادستی کا تقاضا سب سےیکساں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئین کی بالادستی کا تقاضا صرف دوسروں سے نہیں، بلکہ سیاست دانوں، اداروں اور عوام سب سے یکساں طور پر ہوتا ہے

    پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں، جن کا احترام اور اعتراف ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے

    ملکی استحکام الزام تراشی سے نہیں، بلکہ آئین کی پاسداری، قومی یکجہتی اور تمام اداروں کے باہمی احترام سے حاصل ہوتا ہے۔

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں آئین، جمہوریت، ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے حوالے سے بحث کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کی بات کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایک بنیادی سوال ہمیشہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ کیا آئین پر عمل درآمد صرف دوسروں سے مطالبہ کرنے کا نام ہے یا خود بھی اس کی مکمل پابندی ضروری ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آئین کسی ایک ادارے، جماعت یا فرد کے لیے نہیں بلکہ پوری ریاست کے لیے ہوتا ہے۔ آئین کی پاسداری کا تقاضا سیاست دانوں، حکومتی عہدیداروں، ریاستی اداروں اور عام شہریوں سب پر یکساں طور پر عائد ہوتا ہے۔ اگر کوئی سیاسی رہنما آئین کی بالادستی کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنی سیاسی زندگی، فیصلوں اور طرزِ عمل میں بھی آئینی اصولوں کی پاسداری کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح ریاستی اداروں پر تنقید یا حمایت دونوں حقائق، دلیل اور ذمہ داری کے دائرے میں ہونی چاہئیں۔پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی ادارے ملک کی سرحدوں کے دفاع، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قومی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، شہداء اور غازیوں کی خدمات قوم کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سرحدوں پر کھڑے سپاہی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں اور قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ دوسری طرف جمہوری معاشروں میں عوام کو یہ حق بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، حکومتوں اور سیاسی قیادت کی کارکردگی پر سوال اٹھائیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔ لیکن یہ اظہارِ رائے ذمہ داری، شائستگی اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ بے بنیاد الزامات، نفرت انگیز زبان یا ایسے بیانات جو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں، کسی کے حق میں نہیں ہوتے۔ پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل الزام تراشی، محاذ آرائی اور مسلسل تناؤ میں نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مضبوط جمہوری روایات اور ریاستی اداروں کے باہمی احترام میں ہے۔ اگر سیاست دان، ادارے اور عوام سب اپنی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کریں تو پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست کے طور پر مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ ملک کی تعمیر صرف نعروں سے نہیں ہوتی، بلکہ کردار، ذمہ داری، قربانی اور آئین و قانون کی حقیقی پاسداری سے ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قومی اتحاد، استحکام اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

  • کور کمانڈرز کانفرنس، قومی عزم، دفاعی بصیرت اور فولادی حوصلے کی تعبیر،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    کور کمانڈرز کانفرنس، قومی عزم، دفاعی بصیرت اور فولادی حوصلے کی تعبیر،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاک فوج اس عزمِ صمیم، غیر متزلزل ایمان اور بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کی روشن علامت ہے جس نے ہر آزمائش میں وطنِ عزیز کے دفاع کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھا۔ ہمارے بہادر سپاہی برف پوش چوٹیوں سے لے کر تپتے صحرائو ں، سرحدوں کی حفاظت سے لے کر دہشت گردی کے خلاف محاذوں تک ہر لمحہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قوم کے امن، آزادی اور وقار کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی جرأت و بہادری، نظم و ضبط، قربانی اور حب الوطنی کی داستانیں تاریخ کے سنہری اوراق پر ہمیشہ روشن رہیں گی۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھا، افواجِ پاکستان فولادی دیوار بن کر اس کے ناپاک عزائم کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ شہدا کا مقدس لہو اس سرزمین کی مٹی میں شامل ہو کر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کی حفاظت ایمان، عزت اور غیرت کا تقاضا ہے۔ قوم اپنے ان عظیم سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی جنہوں نے اپنے آج کو ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ کل پر قربان کر دیا۔ ایک طرف سرحدوں پر وطن کے دفاع کیلئے پاک فوج کے جوان ہمہ وقت مستعد وتیار کھڑے رہتے ہیں تو دوسری طرف پاک فوج کی اعلی قیادت بھی کور کمانڈر کانفرنس میں وقتاََ فوقتاََ سکیورٹی کے حوالے سے ملک کو درپیش حالات ومعاملات کا جائزہ لیتی رہتی ہے ۔
    پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، دہشت گردی کے نئے رجحانات، ہائبرڈ جنگ، آبی تنازعات اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت منعقد ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس بھی اسی نوعیت کا ایک اہم قومی اجتماع تھا۔ اس کانفرنس نے دشمنوں کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔

    کانفرنس کا آغاز افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے دعائے مغفرت سے کیا گیا۔ یہ لمحہ اس حقیقت کا مظہر تھا کہ پاکستان کی سلامتی کسی ایک دن کی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ ہزاروں شہداء کے مقدس لہو کی امانت ہے۔ انہی قربانیوں نے وطن عزیز کو دہشت گردی کے اندھیروں سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا اور آج بھی یہی قربانیاں قومی وحدت اور دفاع کی مضبوط بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔
    کانفرنس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاری اور جنگی استعداد کے اعتبار سے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدید جنگ کے تقاضوں کے مطابق عسکری تیاری، انٹیلی جنس تعاون، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور ہمہ جہت دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
    کانفرنس میں دہشت گردی کو پاکستان کے لیے ایک مسلسل خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ یہ بھی باور کرایا گیا کہ پاکستان کے عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں، مربوط حکمت عملی اور قومی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    کانفرنس میں ہائبرڈ وار اور منظم گمراہ کن مہمات کا بھی خصوصی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے اس امر پر زور دیا کہ دشمن اب صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں بلکہ جھوٹی اطلاعات، سوشل میڈیا کے غلط استعمال، نفسیاتی دباؤ اور پراکسی ذرائع کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس پس منظر میں قومی یکجہتی، عوامی شعور، ذمہ دار صحافت اور اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

    آبی وسائل کے حوالے سے بھی کانفرنس میں اہم گفتگو ہوئی۔ فورم نے پاکستان کے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی اور قومی مفاد کے مطابق ہر ضروری اقدام کیا جائے گا تاکہ پاکستان کو اس کا حق مل سکے۔ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت، زراعت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، اس لیے اس کے تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیا گیا۔
    کانفرنس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی اظہارِ تشویش کیا گیا اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کے پاکستانی مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔ ساتھ ہی علاقائی امن، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو بھی اہم قرار دیا گیا، تاکہ خطے میں دیرپا استحکام کے لیے مثبت ماحول پیدا ہو سکے۔
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اختتامی گفتگو میں کمانڈرز کو ہدایت کی کہ افواج کی جدید خطوط پر تبدیلی کے منصوبے پر تیزی سے عمل جاری رکھا جائے، آپریشنل تیاری کی بلند ترین سطح برقرار رکھی جائے اور پاکستان کی خودمختاری، قومی مفادات اور سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر وقت مکمل آمادگی رکھی جائے۔ یہ ہدایات اس بات کی عکاس ہیں کہ بدلتے ہوئے جنگی ماحول میں صرف ہتھیار نہیں بلکہ وژن، تربیت، ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط بھی کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔

    پاکستان کی مسلح افواج نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ سرحدوں کے دفاع سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں سے لے کر امن و استحکام کے قیام تک، افواج نے ہر محاذ پر اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ ہزاروں افسران اور جوانوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لاتعداد اہلکار زخمی ہوئے، بے شمار خاندانوں نے اپنے پیاروں کی جدائی برداشت کی، مگر قومی پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ یہ قربانیاں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
    یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ مضبوط افواج اور باشعور قوم ایک دوسرے کی طاقت ہوتی ہیں۔ جب قوم متحد ہو، اداروں پر اعتماد کرے، قانون کی پاسداری کرے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے تو دشمن کے تمام عزائم ناکام ہو جاتے ہیں۔ قومی سلامتی صرف سرحدوں پر تعینات سپاہیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اتحاد، نظم و ضبط، محنت اور حب الوطنی کے ذریعے وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود قومی سلامتی کے بنیادی معاملات پر پوری قوم ایک صفحے پر کھڑی ہو۔ پاکستان کی بقا، استحکام اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب سپاہی سرحد پر جاگتا ہے تو قوم سکون سے سوتی ہے، اور جب قوم اپنے محافظوں کے حوصلے بلند رکھتی ہے تو دفاعِ وطن ناقابلِ تسخیر بن جاتا ہے۔

    276ویں کور کمانڈرز کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ کانفرنس صرف عسکری حکمت عملی کا اجلاس نہیں بلکہ قومی عزم، اجتماعی اعتماد اور مستقبل کے لیے واضح سمت کا اظہار بھی تھی۔ پوری قوم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے، اپنے غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وطنِ عزیز کے دفاع، امن، استحکام اور خوشحالی کے سفر میں وہ اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل قوت ہے، یہی ہماری امید ہے اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی۔

  • باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کارشہزاد قریشی کی کتاب "میرا سفر،میری کہانی” شائع

    باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کارشہزاد قریشی کی کتاب "میرا سفر،میری کہانی” شائع

    باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کارشہزاد قریشی کی کتاب "میرا سفر،میری کہانی” شائع ہو گئی ہے

    پاکستان سے نیدرلینڈز تک ہجرت، جدوجہد، امید اور ذاتی ترقی کے سفر پر مبنی نئی کتاب "میرا سفر، میری کہانی” شائع کر دی گئی ہے۔ باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کارشہزاد قریشی نے میرا سفر میری کہانی میں اپنی زندگی کے مختلف مراحل، مشکلات، کامیابیوں اور بیرونِ ملک نئی زندگی کے تجربات کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔کتاب کا مقصد قارئین، خصوصاً نوجوانوں اور بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند افراد کو یہ پیغام دینا ہے کہ محنت، عزم اور امید کے ذریعے زندگی کے بڑے چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔”میرا سفر، میری کہانی” جولائی 2026 میں شائع ہوئی ہے اور اسے اردو اور ڈچ دونوں زبانوں میں پیش کیا گیا ہے تاکہ پاکستان اور نیدرلینڈز سمیت مختلف ممالک کے قارئین اس سے استفادہ کر سکیں۔

    کتاب میں مجموعی طور پر 82 صفحات شامل ہیں ،اس کی اصل قیمت 1,600 روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم تعارفی رعایتی قیمت 1,499 روپے رکھی گئی ہے۔

    میر ا سفر، میری کہانی ایک دل کو چھو لینے والی سوانحی کتاب ہے جو ہجرت، جدوجہد، امید اور شکرگزاری کے سفر کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ ہر اُس شخص کی نمائندگی کرتی ہے جس نے بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑا، نئی سرزمین پر خود کو منوایا، اور محنت، صبر اور حوصلے سے اپنی شناخت قائم کی۔مصنف نے ہالینڈ میں اپنے ابتدائی دنوں، ثقافتی تبدیلیوں، زندگی کے نشیب و فراز، اور وہاں کے معاشرے سے حاصل ہونے والے تجربات کو خلوص اور سچائی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس سفر میں قاری کو صرف واقعات ہی نہیں بلکہ زندگی کے قیمتی اسباق، انسانیت، احترام، محنت، ایمان اور تعلق کی گہری جھلک بھی ملتی ہے۔یہ کتاب اُن تمام قارئین کے لیے ایک متاثر کن تحفہ ہے جو حقیقی زندگی کی کہانیوں، ہجرت کے تجربات، ذاتی کامیابیوں اور مثبت سوچ سے بھرپور تحریروں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ میر ا سفر، میری کہانی امید، عزم اور شکرگزاری کا ایسا سفر ہے جو ہر قاری کے دل پر دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاستی اداروں کے ساتھ پوری قوم کو میدان میں آنا ہوگا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاستی اداروں کے ساتھ پوری قوم کو میدان میں آنا ہوگا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیر قانونی عناصر اور قومی سلامتی اب فیصلہ کن اقدامات کا وقت آ گیا ہے

    پاکستان کے امن کے خلاف سازشیں ناکام بنائیں قومی یکجہتی ہی کامیابی کی ضمانت ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا خطرہ محض داخلی نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ بیرونی عناصر بھی سرگرم ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے حوالے سے جو شواہد سامنے آتے رہے ہیں، وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے دشمن عناصر ملک کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

    اس تناظر میں غیر قانونی غیر ملکیوں، خصوصاً غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ماضی میں ریاستی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کی جانب سے مؤثر اور بلاامتیاز کارروائیاں کی جاتیں تو آج بار بار اس بات کی ضرورت پیش نہ آتی کہ غیر قانونی مقیم افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ یہ صرف وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ضلعی اور تحصیل سطح کی انتظامیہ بھی اس حوالے سے جوابدہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں رجسٹریشن، شناخت اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ کوئی بھی غیر قانونی فرد ریاستی نگرانی سے باہر نہ رہے۔ اسی طرح نجی سیکیورٹی اداروں میں بھرتی ہونے والے افراد کی مکمل جانچ پڑتال، بائیو میٹرک تصدیق اور پس منظر کی چھان بین بھی ناگزیر ہے۔ قومی سلامتی کے تقاضے یہی ہیں کہ ہر ایسے شعبے پر کڑی نظر رکھی جائے جو حساس نوعیت کا حامل ہو۔

    تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پاک فوج، سیکیورٹی اداروں یا پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پوری قوم کی اجتماعی جنگ ہے۔ جب تک عوام، سیاسی قیادت، سول انتظامیہ، میڈیا اور تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر کھڑے ہو کر اپنا اپنا کردار ادا نہیں کریں گے، اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

    آج وقت کا تقاضا ہے کہ قومی مفاد کو ہر قسم کی سیاسی، لسانی اور علاقائی تقسیم سے بالاتر رکھا جائے۔ پاکستان کے امن و استحکام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی، قانون کی بالادستی اور اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ معرکہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ قومی شعور، اجتماعی ذمہ داری اور غیر متزلزل عزم سے جیتا جاتا ہے۔ جب پوری قوم ایک آواز بن جائے تو کوئی دشمن، خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی، پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

  • بلوچستان پاکستان کی جان،دشمن ہو گا ناکام،تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان پاکستان کی جان،دشمن ہو گا ناکام،تحریر:جان محمد رمضان

    کچھ سرزمینیں صرف مٹی نہیں ہوتیں، وہ قوموں کی غیرت، تاریخ، قربانیوں اور مستقبل کی علامت ہوتی ہیں۔ بلوچستان بھی ایسی ہی مقدس دھرتی ہے جس کے پہاڑ شہادتوں کے امین ہیں، جس کی وادیاں وفاداری کی خوشبو سے مہکتی ہیں، اور جس کے باسی ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔

    گزشتہ چند دنوں میں بلوچستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ معصوم شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی سازش کی گئی۔ لیکن دشمن شاید یہ بھول گیا کہ یہ وہ قوم ہے جو شہادتوں سے کمزور نہیں، بلکہ مزید مضبوط ہوتی ہے۔جن جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، وہ اس وطن کی سلامتی کے امین تھے۔ ان کے لہو کی ہر بوند اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان کی سرحدیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان، حوصلے اور قربانی سے محفوظ ہیں۔دہشت گرد چاہے کسی بھی نام، کسی بھی نظریے یا کسی بھی سرپرستی کے ساتھ آئیں، ان کا انجام ہمیشہ شکست اور رسوائی ہی ہوگا۔ معصوم جانوں کا خون بہانے والے کبھی کسی قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ جو عناصر نفرت، خوف اور انتشار کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں، تاریخ انہیں کبھی عزت نہیں دیتی۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا مقصد صرف ایک ہے، اس ملک کی ترقی، استحکام اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا۔ مگر دشمن شاید اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ یہ وطن کلمۂ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ اس کی بنیاد صرف جغرافیہ نہیں، بلکہ ایمان، قربانی اور مشترکہ قومی عزم ہے۔ ایسے نظریے کو نہ بارود جھکا سکتا ہے، نہ پروپیگنڈا مٹا سکتا ہے۔بلوچستان پاکستان تھا، پاکستان ہے، اور ہمیشہ پاکستان رہے گا۔ اس دھرتی کو نفرت کی سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بلوچستان کے پہاڑوں میں پاکستان کی محبت گونجتی ہے، اس کے صحراؤں میں سبز ہلالی پرچم کی شان لہراتی ہے، اور اس کے نوجوانوں کے دل وطن کی محبت سے دھڑکتے ہیں۔

    اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کی مکاریوں،افغانستان کی عیاریوں، بیرونی سازشوں، دہشت گردی یا خونریزی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے ہر آزمائش کا سامنا صبر، اتحاد اور قربانی سے کیا ہے۔ ہر شہید کا خون اس وطن کی جڑوں کو مزید مضبوط کرتا ہے، کمزور نہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے شہداء کو سلام پیش کریں، بلوچستان کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں، اور ہر اس آواز کو مسترد کریں جو پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کرتی ہے۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ہم اپنے وطن، اپنی سرزمین اور اپنی آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے متحد رہیں گے۔

    پاکستان زندہ باد۔
    بلوچستان پائندہ باد۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے، اور وطنِ عزیز کو ہر داخلی و خارجی سازش سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔

  • لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟
    بعض پولیس افسر سازش پر اترآئے، اپنے ہی ادارے کی بدنامی کا سبب بننے لگے
    ملک کو بدنام کرنے ،اداروں کو متنازع بنانے اور بغیر ثبوت الزام تراشی بند کی جائے
    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عالمی امن کیلئے جو کردار اداکیا ،وہ کسی ڈھکا چھپا نہیں
    وزیراعلیٰ پنجاب نے ہمیشہ میرٹ کو ترجیح دی ،اس کیس میں بھی میرٹ نظر آیا ،پھر تنقید کیوں؟
    لاہور کے افسوسناک واقعے پر بہت سی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کسی قسم کی مداخلت کی نہ نائب وزیر اعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نہ ہی کسی اور حکومتی شخصیت نے تحقیقات پر کوئی دباؤ ڈالا ، پولیس نے مقدمہ درج کیا، تحقیقات کا آغاز کیا، گرفتاریاں کیں اور قانونی کارروائی اپنے راستے پر چل رہی ہے،ایسے میں ضروری ہے کہ حقائق کو سامنے رکھا جائے اور بے بنیاد الزامات یا سیاسی مقاصد کے تحت چلائی جانے والی مہمات سے گریز کیا جائے، اگر قانون حرکت میں آ چکا ہے تو پھر سوشل میڈیا پر مسلسل شور شرابا، کردار کشی اور پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے؟اطلاعات ہیں کہ پولیس کے اندر بعض عناصر اپنی پسند کی پوسٹنگ یا ترقی کے حصول کے لئے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بعض افراد کو استعمال کر کے ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ طرزِ عمل نہ صرف ادارے کے وقار کے خلاف ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہے،ان افسران سے گزارش ہے کہ ذاتی مفادات، گروہی سیاست یا بہتر پوسٹنگ کی خواہش کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دیں،پاکستان پہلے ہی بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ملک کو بدنام کرنے، اداروں کو متنازع بنانے اور منتخب قیادت پر بغیر ثبوت الزامات لگانے کے بجائے قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اورنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت کسی بھی عوامی عہدے دار پر الزام لگانے سے پہلے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے، خصوصاً اسحاق ڈار نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ حکومتِ پنجاب کی ذمہ داری بھی قانون کے مطابق معاملات کو آگے بڑھانا ہے، اس لئے سیاسی یا ذاتی مفادات کے لئے ملک، اداروں اور منتخب نمائندوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا کسی طور قومی خدمت نہیں،آئیے اختلاف ضرور کریں، تنقید بھی کریں، لیکن حقائق، قانون اور قومی ذمہ داری کے دائرے میں رہ کر