Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • "سوزشِ زمین اور ہمارا مستقبل”،تحریر:قرۃالعین خالد

    "سوزشِ زمین اور ہمارا مستقبل”،تحریر:قرۃالعین خالد

    دور حاضر میں پاکستان جن بڑے بڑے چیلنجز کی زد میں ہے، ان میں سے سب سے خاموش لیکن سب سے زیادہ تباہ کن چیلنج موسمیاتی تبدیلی ہے۔ کبھی بن موسم کے شدید بارشیں اور بادل پھٹنے کے واقعات، کبھی خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں، گلیشیرز کا تیزی سے پگھلنا اور موسمِ سرما میں شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی بدترین سموگ۔ یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ ہمارا ماحول اب معمول کے مطابق نہیں رہا۔ پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
    اکثر و بیشتر ہمارے ملک میں شدید سیلاب یا قحط کو صرف ایک آسمانی آفت کہہ کر ساری ذمہ داری قدرت پر ڈال دینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ حقیقتاً قدرتی عوامل سے انکار ممکن نہیں، لیکن سائنسی اور حقیقی نقطہ نظر سے اس تباہی میں بڑا قصور خود ہمارا ہے۔ دن بدن جنگل کٹتے جا رہے ہیں۔ عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ درختوں کا قتل عام جاری ہے اور درختوں کے قبرستانوں پر انسان اپنے خوابوں کے محل تعمیر کر رہے ہیں۔درخت! جو ہماری زمین کے پھیپھڑے ہیں اور سیلابی بہاؤ کو روکنے کی سب سے پہلی ڈھال ہیں۔ ہم نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور لکڑی کی ہوس میں جنگلات کا بے دردی سے صفایا کر دیا۔ ندی نالوں کے قدرتی راستوں پر تعمیرات اور نکاسیِ آب کے ناقص نظام نے معمولی بارش کو بھی تباہ کن سیلاب میں بدل دیا ہے۔ شہروں میں نالوں کو ڈھکا نہیں گیا اور ذرا سی بارش سے وہ نالے اپنے فضلے کے ساتھ سڑک پر ابل پڑتے ہیں۔ پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، گاڑیوں اور فیکٹریوں کا زہریلا دھواں، اور پانی کے ضیاء نے ماحول کے توازن کو بری طرح بگاڑ دیا ہے۔ یہ تمام عوامل بتاتے ہیں کہ آفت اگر آسمان سے نازک صورت میں آتی ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے اسے ایک ہولناک تباہی کا روپ دے دیتے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہم کیا کریں؟ کیا کوئی خدائی فوج ہماری مدد کو آئے گی؟ یا ہم کسی معجزے کے انتظار میں ہیں؟ یاد رکھیے اس دنیا میں ہم اکیلے ہی آئے تھے اور اکیلے ہی جائیں گے تو یہاں جو کرنا ہے بغیر کسی مدد کے اکیلے ہی کرنا ہے۔ بحثیت ذمہ دار شہری ہمارا فرض ہے کہ ہم حکومت یا امدادی اداروں کا انتظار کیے بغیر اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔ ہر شخص سالانہ کم از کم دو درخت لگائے اور ان کی پرورش کرے۔ اپنے گھروں اور گلیوں میں سبزے کو فروغ دیں۔ پانی کے بے جا ضیاع کو روکیں۔ نلکے کھلے نہ چھوڑیں اور بجلی کی بچت کے لیے توانائی بچانے والے آلات استعمال کریں۔ پلاسٹک جو کہ ایک خاموش قاتل کی طرح ہماری زندگیوں میں موجود ہے اس سے بچیں اور کپڑے یا جوٹ کے تھیلے استعمال کریں۔ کچرا گلیوں یا ندی نالوں میں پھینکنے کے بجائے متعین جگہوں پر ڈالیں اور فضلہ جلانے سے پرہیز کریں تاکہ سموگ میں اضافہ نہ ہو۔ حکومتی طور پر دیکھا جائے تو وہ رعایا کی جان و مال کی محافظ ہوتی ہے لہذاموسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر ہنگامی اور جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

    تمام حساس علاقوں میں جدید ترین سنسرز اور الرٹ سسٹم نصب کیے جائیں تاکہ سیلاب یا گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پہلے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی لگانی چاہیے اور مؤثر قوانین نافذ کیے جانے چاہیے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینی چاہیے۔ قومی سطح پر جنگلات کی بحالی کی مہمات کو صرف کاغذوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عمل میں لایا جائے۔ کوئلے اور تیل پر انحصار کم کر کے شمسی، ہوائی اور پن بجلی جیسے ماحول دوست ذرائع پر منتقل ہوا جائے۔ اس کے علاؤہ غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے اور شہروں میں پانی کی نکاسی کے نظام کو جديد خطوط پر استوار کیا جائے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی جائے تاکہ آلودگی پھیلانے والے بڑے صنعتی ممالک سے کلائمیٹ فنڈ اور نقصان و تلافی فنڈ حاصل کیے جا سکیں۔

    یاد رکھیے ۔۔۔۔۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب آنے والے وقتوں کے لیے نا صرف خطرہ ہے بلکہ آج کا تلخ سچ بھی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی روایتی غفلت کا مظاہرہ کیا تو ہماری آنے والی نسلوں کو ایک بنجر اور غیر محفوظ زمین ملے گی۔ یہ وقت الزامات تراشی کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی، ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اور ٹھوس حکومتی اقدامات کرنے کا ہے۔ زمین ہمارا واحد گھر ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اب اس طرز عمل سے نکلنے کا وقت ہے کہ کوئی کیا کر رہا ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ یاد رکھیے جو دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں تقسیم کرتے ہیں رب العزت ان کی زندگی کو آسان کر دیتے ہیں۔ درخت لگائیے اپنے جینے کے لیے اور اپنوں کی زندگی کے لیے۔

  • پسند کا نکاح میرا حق ہے،تحریر:قرۃالعین خالد

    پسند کا نکاح میرا حق ہے،تحریر:قرۃالعین خالد

    "یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَحِلُّ لَكُمُ النِّسَاءَ كَرْهًا”
    "اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔”(سورۃ النساء: 19) اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر اس پر کسی قسم کا جبری فیصلہ مسلط کرنا اسلام میں بالکل بھی جائز نہیں ہے۔ اسی طرح حدیث نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطابق کنواری، بیوہ یا مطلقہ سے ان کی مرضی پوچھے بغیر نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بیوہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس کی رضا مندی کے بغیر نہ کیا جائے۔ صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کنواری لڑکی کیسے اجازت دے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس کا خاموش رہ جانا ہی اس کی اجازت ہے۔”(صحیح بخاری: 5136، صحیح مسلم: 1419)

    دور نبوی میں اگر والدین یا ولی لڑکی کی مرضی کے خلاف زبردستی نکاح کروا دیتے تو اسلام عورت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اس نکاح کو ختم (منسوخ) کروا دے۔ خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح ان کی مرضی کے خلاف کر دیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی، تو آپ ﷺ نے اس نکاح کو رد (منسوخ) فرما دیا۔ (صحیح بخاری: 5138) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دوشیزہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی ناگواری کے باوجود کر دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو اس نکاح کو برقرار رکھے یا ختم کر دے۔(سنن ابوداؤد: 2096، سنن ابن ماجہ: 1875) جب اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ اس نے آپ ﷺ کے پاس جا کر یہ قدم کیوں اٹھایا؟ تو اس نے تاریخی جواب دیا: "میں اپنے والد کے فیصلے کو نافذ رکھنا چاہتی تھی، لیکن میں عورتوں کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ نکاح کے معاملے میں ان کے باپ دادا کو (زبردستی کا) کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 1874)

    دین اسلام کے مطابق ایک عاقل اور بالغ لڑکی کو اپنی مرضی سے جیون ساتھی چننے اور نکاح کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر کوئی معاشرتی یا خاندانی رسم و رواج عورت کو اس کے شرعی حق اور پسند سے محروم کرتا ہے، تو وہ اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔ شریعت کے مطابق والدین، سرپرست یا ولی کو نصیحت اور مشورے کا حق تو حاصل ہے لیکن اپنی مرضی ٹھونسنے یا زبردستی نکاح کروانے کا بالکل بھی حق حاصل نہیں ہے۔ قرآن و حدیث میں عورت کی رضامندی اور مرضی کو نکاح کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے اور زبردستی کی شادی کو باطل اور قابل منسوخ ٹھہرایا گیا ہے۔ اپنی پسند کا نکاح کرنے کا اختیار ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے تو پھر آج معاشرے کو کیا مسلہ ہے کہ لڑکی سے یہ حق چھیننے میں سب اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ شادی ایک ذمہ داری ہے ایک ایسا بندھن جو نا صرف ایک خاندان بلکہ ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جن دو افراد کا ساتھ زندگی بھر کا ہوتا ہے ان کے علاؤہ باقی سارا خاندان ایک دوسرے کو ملتا ہے اور دعوتیں بھی اڑاتا ہے بس پردہ ہوتا تو ان دونوں فریقوں کے درمیان۔ سب خاندان والے ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں ماسوائے ان دو افراد کے کہ جنہوں نے ساری زندگی اکھٹے گزارنی ہوتی ہے۔ سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں سوائے دلھا دلھن کے بس وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے شادی ٹوٹنے سے بہتر منگنی اور رشتے کا ٹوٹ جانا ہے۔ خدارا اب تو زمانہ جاہلیت سے باہر آ جائیں اور جو حق عورت کو رب نے دیا ہے وہ اسے چیخ چیخ کر اس معاشرے سے کیوں مانگنا پڑ رہا ہے۔ جو حق رب العزت نے دیا ہے اس حق کو عورت کو استعمال کرنے دیں۔ وہ گرے گی، سنبھلے گی، ہمت کرے گی اور پھر اٹھے گی۔ اسے خود تجربے کی بھٹی میں جلنے دیں۔ اسے اپنی مرضی سے جینے دیں۔ وہ بھی انسان ہے اسے بھی انسان سمجھیں۔
    جیو اور جینے دو اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔

  • طلاق یافتہ عورت کے مسائل ،تحریر:  آمنہ خواجہ

    طلاق یافتہ عورت کے مسائل ،تحریر: آمنہ خواجہ

    طلاق یافتہ عورت صرف ایک رشتہ ختم ہونے کا نام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں اکثر ایک ایسی آزمائش کا آغاز بن جاتی ہے جہاں اسے ہر قدم پر سوالوں، طعنوں، بے اعتنائی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ طلاق یافتہ عورت کی زندگی کو صرف ایک واقعے کی بنیاد پر پرکھتے ہیں لیکن اس کے حالات مجبوریوں ذہنی اذیت اور معاشرتی دباؤ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

    ہمارے معاشرے میں جب کسی عورت کی طلاق ہوتی ہے تو اکثر انگلیاں سب سے پہلے اسی کی طرف اٹھتی ہیں۔ لوگ بغیر حقیقت جانے فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ یقیناً غلطی عورت ہی کی ہوگی حالانکہ ہر ازدواجی تنازعے کی اپنی الگ وجوہات ہوتی ہیں اور کسی بھی رشتے کی ناکامی کا ذمہ دار صرف ایک فریق نہیں ہوتا۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے حقیقت کو جانا جائے نہ کہ افواہوں اور قیاس آرائیوں پر فیصلے صادر کیے جائیں۔

    طلاق یافتہ عورت اگر ملازمت علاج تعلیم یا کسی ضروری کام کے لیے اکیلی گھر سے نکلے تو اس کی عزت اور کردار پر سوالات اٹھا دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہی لوگ اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ اگر اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں، تو وہ اپنی ضروریات کیسے پوری کرے؟ ایک خوددار عورت اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتی ہے مگر اسے سہارا دینے کے بجائے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    بدقسمتی سے بعض خاندانوں میں طلاق یافتہ بیٹی یا بہن کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ بھی اسی گھر کی اولاد ہوتی ہے جس گھر میں کبھی اس کی ہنسی گونجتی تھی۔ والدین کے بعد بعض اوقات اسے احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں پر بوجھ بن چکی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عزت محبت اور اپنائیت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
    دوسری شادی کے معاملے میں بھی معاشرے کا رویہ متضاد نظر آتا ہے۔ اگر ایک مرد دوسری شادی کرے تو اسے معمول کی بات سمجھا جاتا ہے لیکن اگر ایک طلاق یافتہ عورت دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو اسے تنقید، طعنوں اور بے جا سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ اسلام نے بیوہ اور طلاق یافتہ عورت دونوں کو دوبارہ نکاح کا مکمل حق دیا ہے۔ اس حق کو معیوب سمجھنا نہ صرف سماجی ناانصافی ہے بلکہ دینی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

    کئی طلاق یافتہ خواتین کو یہ سننے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مفت کی روٹیاں توڑ رہی ہیں یا گھر پر بوجھ ہیں یہ الفاظ کسی بھی خوددار انسان کی عزتِ نفس کو شدید مجروح کرتے ہیں۔ اگر ایک عورت معاشی طور پر کمزور ہے تو اسے سہارا دینا، روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے، نہ کہ اسے ذلیل کرنا۔گھر کے کاموں میں بھی اکثر اس کی ہر کوشش میں نقص نکالا جاتا ہے۔ اگر وہ خاموش رہے تو مغرور کہلاتی ہے، اگر بولے تو بدتمیز قرار دی جاتی ہے۔ اگر بیمار ہو جائے تو بیماری کے بھی طعنے دیے جاتے ہیں مگر اس کے علاج دواؤں یا دیکھ بھال کی ذمہ داری لینے کے لیے بہت کم لوگ آگے آتے ہیں۔ یہ رویہ صرف ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔

    معاشرتی اور نفسیاتی ماہرین بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طلاق کے بعد خواتین کو شدید ذہنی دباؤ اضطراب مالی مشکلات اور سماجی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں خاندان، رشتہ داروں اور معاشرے کی اخلاقی حمایت ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ تحقیقی مطالعات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ سماجی تعاون انسان کو ذہنی دباؤ سے نکلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات بھی یہی سبق دیتی ہیں کہ کسی انسان کو اس کے حالات کی وجہ سے ذلیل نہ کیا جائے۔ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں حسنِ سلوک عدل رحم دلی اور ضرورت مندوں کی مدد پر زور دیا گیا ہے۔ طلاق ایک جائز مگر ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے، لیکن طلاق یافتہ عورت کی تذلیل یا اس کے حقوق سلب کرنے کی کوئی اجازت نہیں دی گئی۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم طلاق یافتہ عورت کو ترس کی نہیں بلکہ عزت، انصاف اور برابری کی نگاہ سے دیکھیں۔ اسے بوجھ نہیں بلکہ ایک باوقار انسان سمجھیں اس کے کردار پر بلاوجہ فیصلے نہ سنائیں، اس کے لیے روزگار، تعلیم اور نئی زندگی کے مواقع پیدا کریں، اور اگر وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو اس کے اس حق کا احترام کریں۔

    کسی عورت کی پہچان اس کی ازدواجی حیثیت نہیں بلکہ اس کا کردار، محنت، انسانیت اور عزتِ نفس ہونی چاہیے۔ معاشرہ اس وقت حقیقی معنوں میں مہذب کہلائے گا جب طلاق یافتہ عورت کو طعنوں کے بجائے سہارا، نفرت کے بجائے احترام، اور تنہائی کے بجائے اپنائیت ملے گی۔ کیونکہ ایک معاشرے کی اصل عظمت اس بات سے پہچانی جاتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور آزمائش میں مبتلا افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔

  • پچاس برس کی سیاست، گوجرخان کو آخر ملا کیا؟تحریر   : قمرشہزاد مغل

    پچاس برس کی سیاست، گوجرخان کو آخر ملا کیا؟تحریر : قمرشہزاد مغل

    گوجرخان کو برسوں سے راجوں کی تحصیل کہا جاتا ہے۔ مگر آج ایک سوال پورے وقار کے ساتھ کھڑا ہے راج تو بہت ہوئے، مگر رعایا کے حصے میں آیا کیا؟ یہ دھرتی وطن کو غازی بھی دیتی ہے، شہید بھی دیتی ہے، گیس بھی دیتی ہے، ٹیکس بھی دیتی ہے، ووٹ بھی دیتی ہے۔ مگر جب اس کے اپنے بچے تعلیم مانگتے ہیں، مریض علاج مانگتے ہیں، نوجوان روزگار مانگتے ہیں اور مائیں صاف پانی مانگتی ہیں تو جواب میں انہیں وعدے، اعلانات اور سنگِ بنیاد ملتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ گوجرخان کی بڑی سرکاری شناختیں گزشتہ صدی کی یادگاریں ہیں۔ گورنمنٹ مسلم ہائی سکول 1919ء، گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول 1930ء کی دہائی، سرور شہید کالج 1960ء، خواتین ڈگری کالج 1978ء اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال 1979ء میں قائم ہوئے۔ اس کے بعد سوال صرف ایک ہے گزستہ پچاس برس کی سیاست نے گوجرخان کو ایسا کون سا تحفہ دیا جسے آنے والی نسلیں فخر سے یاد کریں؟ اگر جواب خاموشی ہے تو یہ خاموشی ہی سب سے بڑا الزام ہے۔ آج بھی غریب کا ہونہار بچہ اعلیٰ تعلیم کے لیے راولپنڈی کی طرف دیکھتا ہے، کیونکہ گوجرخان میں کوئی بڑی سرکاری یونیورسٹی موجود نہیں۔ نجی جامعات کے دروازے صرف ان کے لیے کھلے ہیں جن کی جیب بھاری ہے۔ غریب کے بچے کے لیے تعلیم حق نہیں، ایک مہنگا خواب بن چکی ہے۔

    صحت کے شعبے کی تصویر اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ تقریباً نصف صدی قبل قائم ہونے والا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان آج بھی جدید آئی سی یو، وینٹی لیٹر، کیتھ لیب، مکمل نوزائیدہ نگہداشت اور مؤثر ٹراما سہولتوں سے محروم ہے۔ ایمرجنسی کے نام پر اکثر مریض راولپنڈی ریفر کر دیے جاتے ہیں۔ یہ ریفر صرف ایک طبی اصطلاح نہیں بہت سے خاندانوں کے لیے امید سے مایوسی تک کا سفر ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان چند کلومیٹر کا یہی فاصلہ کئی خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تحصیل کے عوام کو بروقت علاج ہی میسر نہ ہو تو ترقی کے دعوے کس کام کے؟ پھر روزگار کی کہانی دیکھیے۔ جی ٹی روڈ پر واقع، اسلام آباد اور راولپنڈی کے دروازے پر کھڑا گوجرخان آج بھی کسی بڑے صنعتی زون کا منتظر ہے۔ نوجوان روزگار کی تلاش میں روزانہ میلوں کا سفر کرتے ہیں یا پردیس کی راہوں میں اپنی جوانیاں کھپا دیتے ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اگر مقام، وسائل اور افرادی قوت سب موجود تھے تو صنعت کیوں نہ آئی؟ المیہ صرف یہ نہیں کہ وسائل نہیں، المیہ یہ ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود عوام محروم ہیں۔ مسا کسوال اور اہدی کی گیس ملک کے دوسرے علاقوں کو روشن کرتی ہے، مگر خود گوجرخان کے کئی علاقے لوڈشیڈنگ کی اذیت سہتے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کے مسائل عوام کی زندگی مزید مشکل بنا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو خطہ پورے ملک کو وسائل دے رہا ہو، کیا وہ خود بنیادی سہولتوں کا حق دار نہیں؟ یہ تضاد صرف انتظامی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ یہ تحریر کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ اس سیاسی رویے کے خلاف ہے جس میں ہر انتخاب سے پہلے وعدوں کے چراغ جلتے ہیں اور انتخاب کے بعد امیدوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ عوام کو نعروں سے نہیں، اداروں سے ترقی ملتی ہے، تصویروں سے نہیں، منصوبوں سے، تقریروں سے نہیں، عملی کارکردگی سے۔ ہر الیکشن میں سڑکوں پر قافلے نکلتے ہیں، جلسوں میں دعوے گونجتے ہیں، بینر بدل جاتے ہیں، چہرے مسکراتے ہیں، وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ مگر انتخابات گزرنے کے بعد وہی ٹوٹی سڑکیں، وہی خستہ ہسپتال، وہی بے روزگار نوجوان اور وہی مایوس والدین رہ جاتے ہیں۔ سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں، بلکہ عوام کی تقدیر بدلنا ہوتا ہے۔ اگر نسلیں بدل جائیں مگر مسائل نہ بدلیں، تو پھر احتساب صرف حکومتوں کا نہیں، سیاسی سوچ کا بھی ہونا چاہیے۔ گوجرخان کے عوام کو اب یہ سوال ہر امیدوار، ہر جماعت اور ہر منتخب نمائندے سے پوچھنا ہوگا، کیا آپ نے گوجرخان کو صرف ووٹوں کا گودام سمجھا، یا اسے ترقی کا بھی حق دار مانا؟ کیونکہ تاریخ تقریروں کی گونج نہیں سنبھالتی، تاریخ جدید ہسپتال، یونیورسٹیاں، صنعتیں، روزگار اور خوشحال نسلیں یاد رکھتی ہے۔ اور اگر نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ایک شہر اپنے بیمار کو علاج، اپنے نوجوان کو روزگار، اپنے طالب علم کو اعلیٰ تعلیم اور اپنے شہری کو صاف پانی نہ دے سکے، تو پھر مسئلہ عوام کی قسمت نہیں، حکمرانی کی ترجیحات ہوتی ہیں۔ گوجرخان اب خاموش نہیں، سوال بن چکا ہے۔ اور یاد رکھیے، جب شہر سوال بن جائیں تو تاریخ کے پاس جواب مانگنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی

  • پوٹھوہارکی سرزمین ترقی کے نئے دور میں داخل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پوٹھوہارکی سرزمین ترقی کے نئے دور میں داخل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر کے انتخابی جلسوں میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہے اور یہ ہر سیاسی جماعت کا حق بھی ہے۔ تاہم تنقید کی بنیاد حقائق اور زمینی حقائق کے درست ادراک پر ہونی چاہیے۔ اگر حقائق سے صرفِ نظر کیا جائے تو سیاسی بیانیہ کمزور اور عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک جلسۂ عام میں پوٹھوہارکے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ترقی کا دائرہ محدود ہے۔ لیکن اگرپوٹھوہارکے خطے کو زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو تصویر اس کے برعکس نظر آتی ہے۔پوٹھوہارمحض راولپنڈی کا نام نہیں بلکہ جہلم، چکوال، راولپنڈی اور اٹک پر مشتمل ایک وسیع خطہ ہے، جہاں حالیہ عرصے میں متعدد ترقیاتی منصوبے عوام کی نظروں کے سامنے ہیں۔

    راولپنڈی شہر میں راجا بازار، صدر، کچہری چوک اور دیگر اہم شاہراہوں پر جاری تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیاں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ گوجرخان میں اربوں روپے مالیت کے منصوبے علاقے کی معاشی اور سماجی ترقی کی نئی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اسی طرح جہلم، چکوال اور اٹک میں سڑکوں کی بہتری، شہری سہولیات، صفائی کے نظام، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ پٹھوار کا خطہ ترقی کے سفر میں آگے بڑھ رہا ہے۔

    یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ شاید بلاول بھٹو زرداری تک پہنچنے والی معلومات مکمل یا درست نہ ہوں۔ کیونکہ زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے والا ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ وزیراعلیٰ پنجاب کی نگرانی میں مختلف منصوبوں پر مسلسل کام کر رہی ہے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
    جمہوریت میں اختلافِ رائے حسن سمجھا جاتا ہے، تنقید سیاسی عمل کا لازمی جز ہے، لیکن حقائق کو نظرانداز کرکے بیانیہ تشکیل دینا عوام کے شعور کے ساتھ انصاف نہیں۔ سیاسی مخالفین پر تنقید کی جا سکتی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر زمینی حقائق کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔پوٹھوہارکی سرزمین آج بھی اپنے بدلتے ہوئے انفراسٹرکچر، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات کے ذریعے خود گواہی دے رہی ہے کہ یہ خطہ ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

    سیاست میں بیانیے وقتی ہو سکتے ہیں، مگر سڑکیں، تعلیمی ادارے، ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاح کے کام وہ حقائق ہوتے ہیں جو ہمیشہ اپنی موجودگی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔

  • رات بارہ بجتے ہی گوجرخان اندھیرے میں، آخر عوام کا جرم کیا ہے؟تحریر  : قمرشہزاد مغل

    رات بارہ بجتے ہی گوجرخان اندھیرے میں، آخر عوام کا جرم کیا ہے؟تحریر : قمرشہزاد مغل

    تحصیل گوجرخان میں ایک طویل عرصے سے روزانہ رات بارہ بجتے ہی بجلی کی بندش نے عوام کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ شدید حبس اور گرمی میں معصوم بچے بلکتے ہیں، بزرگ بے بسی سے پسینہ بہاتے ہیں، مریض ساری رات تڑپتے ہیں اور محنت کش طبقہ، جو دن بھر روزی روٹی کے لیے مشقت کرتا ہے، رات کو بھی سکون کی ایک سانس لینے سے محروم رہتا ہے۔ یہ صرف لوڈشیڈنگ نہیں، بلکہ عام شہری کے بنیادی حقِ زندگی اور سکون پر کاری ضرب ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عوام سے بجلی کے بھاری بھرکم بل، فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور نت نئے ٹیکس تو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر وصول کیے جاتے ہیں، لیکن جب عوام کو ان کا بنیادی حق دینے کی باری آتی ہے تو پورا نظام خاموش دکھائی دیتا ہے۔ آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ عوام ادائیگی بھی کریں، مہنگائی بھی برداشت کریں اور پھر راتیں بھی اندھیرے اور اذیت میں گزاریں؟ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو مقامی سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی خاموشی ہے۔ گوجرخان کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ان کے منتخب نمائندے کہاں ہیں؟ اگر یہ مسئلہ مہینوں سے جاری ہے تو اسمبلیوں میں اس پر کتنی بار آواز بلند کی گئی؟ کتنی بار متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا گیا؟ کتنی بار عوام کے حق میں مؤثر مؤقف اختیار کیا گیا؟ اگر عوام کو آج بھی جواب نہیں مل رہا تو یہ خاموشی خود ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ شہریوں میں یہ احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ انتخابات کے بعد عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ جب ووٹ درکار ہوتے ہیں تو گلی گلی دستک دی جاتی ہے، لیکن جب انہی لوگوں کے گھروں میں اندھیرا، گرمی اور بے بسی اترتی ہے تو ان کی آواز سننے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ گوجرخان کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے اپنی نمائندگی ثابت کریں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بجلی کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ عوام اب وعدوں، دعوؤں اور تصویری بیانات سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ وہ جواب بھی چاہتے ہیں، ذمہ داری بھی چاہتے ہیں اور فوری ریلیف بھی چاہتے ہیں۔ اگر اربوں روپے کے بل اور ٹیکس وصول کرنے کے باوجود بھی ایک شہری کو رات کے وقت پنکھے کی ہوا نصیب نہ ہو تو پھر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ آخر اس نظام کی کامیابی کا معیار کیا ہے؟ رات بارہ بجے ہونے والی روزانہ کی لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، اس کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور منتخب نمائندے خاموش تماشائی بننے کے بجائے اسمبلیوں اور متعلقہ فورمز پر اپنے لوگوں کے حق کی مؤثر آواز بنیں۔ عوام مزید اندھیرے نہیں، جواب اور انصاف چاہتے ہیں۔

  • مہنگائی اور بے برکتی، تحریر نور فاطمہ

    مہنگائی اور بے برکتی، تحریر نور فاطمہ

    آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ "مہنگائی” ہے۔ بازار جائیں تو ہر چیز کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ آٹا، چینی، دال، سبزی، بجلی کا بل، پیٹرول، دوائیں اور بچوں کی فیس، غریب اور متوسط طبقہ سب پریشان ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مہنگائی ہی ہماری تنگی کی وجہ ہے یا ہمارے رزق سے برکت اٹھ چکی ہے؟

    مہنگائی کی اصل وجہ
    مہنگائی کے پیچھے کئی اسباب ہیں۔ حکومتوں کی غلط معاشی پالیسیاں، ڈالر کی اونچی اڑان، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور منافع خوری۔ جب تاجر حلال منافع چھوڑ کر ناجائز کمائی کرنے لگے تو بازار خود بخود مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہماری اپنی عادتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ ہم ضرورت سے زیادہ خریدتے ہیں، کھانا ضائع کرتے ہیں، نمود و نمائش پر پیسہ لٹاتے ہیں۔ پھر شکایت کرتے ہیں کہ "گھر میں برکت نہیں”
    رزق میں بے برکتی کیوں؟
    اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے "اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے”
    برکت کا تعلق پیسے کی مقدار سے نہیں بلکہ اللہ کی رضا سے ہے۔ آج ہم نے کچھ ایسی عادتیں اپنا لی ہیں جو برکت چھین لیتی ہیں
    حرام کمائی،سود، رشوت، جھوٹ اور دھوکہ۔ حرام کا ایک روپیہ بھی سو حلال روپوں سے زیادہ نقصان دیتا ہے۔
    زکوٰۃ اور صدقہ نہ دینا،مال کو پاک کرنے والا ذریعہ ہم بھول گئے۔
    شکر نہ کرنا،جو نعمت ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ہر وقت شکایت۔
    قطع رحمی،والدین کی نافرمانی اور رشتہ داروں سے تعلق توڑنے سے رزق تنگ ہو جاتا ہے۔
    حل کیا ہے؟
    مہنگائی کو ہم فوراً ختم نہیں کر سکتے، لیکن برکت لا سکتے ہیں۔
    تقویٰ اور توکل،اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ جو اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔
    حلال رزق،چاہے کم ہو، لیکن حلال ہو۔ حلال میں ہی سکون اور برکت ہے۔
    صدقہ، ہفتے میں تھوڑا سا بھی صدقہ دینے سے مال بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں۔
    قناعت جو ہے اس پر راضی رہیں۔ فضول خرچی اور دکھاوے سے بچیں۔
    دعا نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رِزْقًا طَيِّبًا وَعِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا”
    یاد رکھیں، مہنگائی آزمائش ہے اور بے برکتی ہمارے اعمال کا نتیجہ بھی۔ جب تک ہم اللہ سے تعلق درست نہیں کریں گے، دام گرنے سے بھی دل کو سکون نہیں ملے گا۔ رزق اللہ دیتا ہے۔ ہمارا کام حلال طریقہ اپنانا اور شکر کرنا ہے۔
    اللہ ہم سب کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور مہنگائی کے اس دور میں سب کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین۔

  • پرندوں کا ٹکراؤ،تحریر:بتول فاطمہ

    پرندوں کا ٹکراؤ،تحریر:بتول فاطمہ

    ہجرت کرنے والے پرندے ایک ہی راستے سے، ایک ہی سمت میں، برسوں سفر کرتے ہیں۔ جس راہ سے وہ پہلی بار گزرتے ہیں، وہاں اکثر نہ کوئی بلند و بالا عمارت ہوتی ہے، نہ کوئی انسانی بستی۔ بس کھلا آسمان، اور آسمان جتنا ہی وسیع راستہ۔ مگر وقت گزرتا ہے، اور جب یہی پرندے دوبارہ اُسی راہ سے گزرتے ہیں، تو وہاں اکثر کوئی نئی عمارت کھڑی ہو چکی ہوتی ہے۔

    عجیب بات یہ ہے کہ اگر وہ عمارت اینٹ، پتھر، یا کنکریٹ کی ہو، تو پرندے اسے فوراً بھانپ لیتے ہیں۔ اُن کی فطرت انہیں خبردار کر دیتی ہے کہ یہاں اب راستہ بدل چکا ہے، یہاں اب کوئی رکاوٹ آ کھڑی ہوئی ہے۔ وہ اپنا رخ موڑ لیتے ہیں، اوپر اٹھ جاتے ہیں، یا کنارہ کر جاتے ہیں۔ مگر شیشے کی عمارت کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
    شیشہ پرندوں کو دھوکا دے جاتا ہے۔ وہ اُس میں آسمان کا عکس دیکھتے ہیں، بادلوں کا عکس، درختوں کا عکس گویا شیشہ کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ راستے کا ہی تسلسل ہو۔ وہ پوری رفتار سے اُڑتے ہوئے اُس میں جا ٹکراتے ہیں، اور اکثر اُسی ٹکراؤ میں دم توڑ دیتے ہیں۔ یہی شیشے کا المیہ ہے وہ نظر آتا تو کچھ نہیں، مگر روکتا سب کچھ ہے۔
    سوچتی ہوں تو لگتا ہے، انسان بھی اکثر اپنی زندگی میں اِنہی شیشوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔ پتھر کی رکاوٹیں تو نظر آ جاتی ہیں، اُن سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر وہ رشتے، وہ وعدے، وہ چہرے جو شفاف نظر آتے ہیں، جن میں ہمیں اپنا ہی عکس دکھائی دیتا ہے، جن کے پار ہمیں کھلا آسمان محسوس ہوتا ہے وہی سب سے زیادہ زخم دیتے ہیں۔ ہم پوری رفتار سے، پورے اعتماد سے، اُن میں جا ٹکراتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ شفافیت بھی ایک دیوار ہو سکتی ہے۔

    ہر وہ چیز جو آرپار دکھائی دے، ضروری نہیں کہ راستہ ہی ہو۔ کبھی کبھی سب سے شفاف نظر آنے والی شے ہی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے، اور اُس کا ٹکراؤ، پتھر کے ٹکراؤ سے کہیں زیادہ گہرا زخم چھوڑ جاتا ہے۔

  • الفاظ کا جال اور غلامی،تحریر: اقصیٰ جبار

    الفاظ کا جال اور غلامی،تحریر: اقصیٰ جبار

    اطالوی فلسفی انتونیو گرامشی نے برسوں پہلے جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھ کر ایک بڑی پتے کی بات کہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ دنیا کے طاقتور لوگ جب عام انسانوں کو اپنا ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں، تو وہ کسی بندوق، لاٹھی یا قانون کا استعمال نہیں کرتے۔ وہ بہت چلاکی سے ہماری روزمرہ کی زبان اور لائف اسٹائل کو بدل دیتے ہیں۔ وہ ایسے نئے الفاظ اور طریقے رائج کرتے ہیں جو ہمیں دیکھنے میں بہت معصوم، سیدھے اور ‘عقلِ عام’ (Common Sense) لگتے ہیں۔ نظام کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ بظاہر غاصب نہ لگے، بلکہ ہماری عادت بن جائے۔

    آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو گرامشی کا یہ فلسفہ ہمارے سوشل میڈیا اور موبائل فون کی شکل میں بالکل سچ ثابت ہو رہا ہے۔ ہم نے کبھی ٹھنڈے دماغ سے سوچا ہی نہیں کہ "اسکرولنگ”، "ٹرینڈ”، "لائکس”، "ویوز” اور "فالوورز” جیسے بظاہر سادہ اور آسان الفاظ نے کس طرح ہماری سوچنے کی آزادی کو ہم سے چھین لیا ہے۔

    زیادہ پرانی بات نہیں ہے، ہمارے معاشرے میں ایک روایت ہوتی تھی کہ ہر دوسرا شخص اپنے پاس ایک چھوٹی سی ڈائری, نوٹ بک یا بیاض رکھتا تھا۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد جب انسان تھک ہار کر بیٹھتا، تو وہ اپنے سچے جذبات، اپنی خوشی، اپنا دکھ یا کوئی پسندیدہ شعر اس ڈائری کے سپرد کر دیتا تھا۔ وہ ڈائری کسی کو دکھانے کے لیے نہیں ہوتی تھی، بلکہ وہ انسان کی اپنے آپ سے گفتگو ہوتی تھی۔ وہاں کوئی سنسرشپ تھی اور نہ ہی کسی مصلحت کا خوف۔ وہ انسان کی اپنی پناہ گاہ تھی، جہاں وہ کھل کر سانس لیتا تھا۔

    لیکن آج کے ڈیجیٹل دور نے ہم سے وہ پناہ گاہ چھین لی ہے۔ اب ہم نے اپنے جذبات کو ڈائری میں چھپانے کے بجائے فیس بک اور انسٹاگرام پر "اسٹیٹس” اور "اسٹوریز” کی شکل میں سرِعام بازار میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب ہماری سچی خوشی یا گہرا دکھ تب تک معتبر نہیں مانا جاتا، جب تک اس پر انٹرنیٹ کی دنیا کے سو پچاس لوگ ‘لائیک’ کا ٹھپا نہ لگا دیں۔ ہم نے اپنی تنہائی، اپنا سکون اور اپنی انفرادیت کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈیجیٹل مارکیٹ کے حوالے کر دیا ہے۔

    سب سے بڑا المیہ یہ نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ بدل گیا ہے؛ بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس ذہنی اسارت اور دکھاوے کی زندگی کو ہم نے بہت فخر سے اپنی ‘آزاد مرضی’ اور ‘جدید طرزِ زندگی’ سمجھ کر گلے سے لگا لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ موبائل فون اور یہ سوشل میڈیا ایپس ہمارے خادم ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ ان کے پیچھے بیٹھے کارپوریٹ نظام نے ایک ایسی زبان تخلیق کر دی ہے جو ہمیں اپنی انگلیوں پر نچا رہی ہے۔ ہم وہی سوچ رہے ہیں، وہی خرید رہے ہیں اور ویسا ہی بن رہے ہیں جیسا یہ نظام ہمیں بنانا چاہتا ہے۔

    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، اپنی باطنی روایات کو زندہ نہ کیا اور اس بھیڑ چال سے خود کو الگ نہ کیا، تو یاد رکھیے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جس کے پاس چمکتے ہوئے موبائل تو ہوں گے، لیکن ان کے اندر دھڑکنے والا دل اور آزادانہ سوچنے والا دماغ بالکل ختم ہو چکا ہوگا۔ اپنی زبان، اپنی سوچ اور اپنی روایات کی حفاظت کیجیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے

  • ملتان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی والٹ سموں کا بحران، مستحق خواتین دربدر،تحریر: آمنہ خواجہ

    ملتان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی والٹ سموں کا بحران، مستحق خواتین دربدر،تحریر: آمنہ خواجہ

    ریاست کا اصل حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب وہ اپنے کمزور، بے سہارا اور مستحق شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ لیکن جب فلاحی منصوبے بھی انتظامی غفلت کی نذر ہونے لگیں تو امید کی کرن بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ ملتان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک والٹ سموں کی مبینہ قلت نے ہزاروں مستحق خواتین کو اسی کربناک صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے۔

    شہر اور گردونواح سے آنے والی خواتین کئی کئی روز سے متعلقہ دفاتر اور مراکز کے چکر کاٹ رہی ہیں، مگر ہر بار انہیں یہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ والٹ سموں کا اسٹاک ختم ہو چکا ہے، نئی سمیں موصول ہونے پر ہی ان کا مسئلہ حل ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا جملہ بن چکا ہے جو ان خواتین کی امیدوں پر ہر روز پانی پھیر دیتا ہے۔شدید گرمی کی تپتی دھوپ، میلوں کا سفر، لمبی قطاریں، بار بار آنے جانے کے اخراجات اور گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ پہلے ہی ان خواتین کی زندگی کو دشوار بنائے ہوئے ہے۔ کئی خواتین روزانہ کی مصروفیات ترک کرکے مراکز کا رخ کرتی ہیں، جبکہ بعض اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لیے گھنٹوں انتظار کرتی رہتی ہیں۔ لیکن شام ڈھلنے تک ان کے ہاتھ میں صرف مایوسی آتی ہے اور دل میں ایک نیا سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ان کا قصور کیا ہے؟

    یہ صورتحال کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر حکومت مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے اربوں روپے مختص کرتی ہے تو بنیادی انتظامی تیاریوں میں ایسی خامیاں کیوں موجود ہیں؟ اگر والٹ سمیں ہی دستیاب نہیں تو امدادی رقوم کی بروقت فراہمی کیسے ممکن ہوگی؟ فلاحی منصوبوں کی کامیابی صرف اعلانات، تقریبات یا اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اس امر سے مشروط ہوتی ہے کہ مستحق افراد تک سہولت، عزت اور بروقت رسائی یقینی بنائی جائے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک معمولی انتظامی رکاوٹ ہزاروں غریب خاندانوں کے لیے معاشی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جن خواتین کے لیے یہ امدادی رقم زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا واحد سہارا ہے، وہی آج دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف وقت اور وسائل کا ضیاع بلکہ ان کی عزتِ نفس پر بھی ایک غیر ضروری بوجھ ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کا فوری اور سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ والٹ سموں کی فراہمی بلا تاخیر یقینی بنائی جائے، مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور ایسے انتظامات کیے جائیں کہ مستحق خواتین کو بار بار دفاتر کے دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت نہ پڑے۔ریاست کی ذمہ داری صرف امدادی رقوم مختص کرنا نہیں بلکہ انہیں مستحقین تک باوقار، شفاف اور بروقت پہنچانا بھی ہے۔ اگر واقعی ملتان میں والٹ سموں کا اسٹاک ختم ہو چکا ہے تو یہ ایک انتظامی کمی بلکہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی مشکلات میں اضافے کا باعث بننے والا ایک سنگین مسئلہ ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ حکام محض یقین دہانیوں سے آگے بڑھیں اور عملی اقدامات کے ذریعے اس بحران کا مستقل حل نکالیں، تاکہ مستحق خواتین کو ان کا حق عزت، وقار اور بروقت مل سکے، اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو۔