Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    گزشتہ ہفتے سے روز ایک سانحہ ہوتا ہے جو دل جھنجھوڑ دیتا ہے۔ثوبیہ شاہد نو سال کی معصوم بچی۔ثوبیہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی۔ عید کی خوشیاں منانے اپنے بزرگوں سے ملنے اور یادیں سمیٹنے برسوں بعد پاکستان آئی تھی۔ چکوال میں دادا، دادی کی آغوش رشتوں کی محبت اور عید کی رونقیں اس کی منتظر تھیں۔مگر وہ واپس نہ جا سکی۔آج سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ننھی ثوبیہ کی جان چلی گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا کہ انہیں "2025 ماڈل گاڑی میں دہشتگرد” سمجھ لیا گیا۔سوال صرف اتنا ہے: اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہ کی گئی؟ گولی چلانے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ قانون اور ریاستی اداروں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنا نہیں۔

    ثوبیہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اس کے خواب ابھی پوری طرح آنکھوں میں سجے بھی نہ تھے کہ زندگی نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس کی ہنسی اب کبھی گھر کے صحن میں نہیں گونجے گی اس کے عید کے نئے کپڑے اب کبھی نہ پہنے جائیں گے اور دادا دادی کی نظریں اب ہمیشہ اس دروازے کو تکتی رہیں گی جس سے وہ دوبارہ اندر نہیں آئے گی۔

    اس کی چوڑیوں کی کھنک، اس کی شرارتیں، اس کے سوال اور اس کی مسکراہٹیں اب صرف یادوں کا حصہ ہیں۔ ہر عید، ہر سالگرہ اور ہر خوشی کے موقع پر اس کے ماں باپ کے دل میں ایک خاموش کسک جاگے گی کہ ان کی بیٹی ان کے ساتھ نہیں۔اگر ایک بیرونِ ملک سے آنے والے خاندان کو محض شک کی بنیاد پر دہشتگرد سمجھ لیا جائے تو پھر عام شہری خود کو محفوظ کیسے محسوس کرے؟کوئی انکوائری، کوئی رپورٹ اور کوئی وضاحت ثوبیہ کو واپس نہیں لا سکتی۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم تو ہو جاتے ہیں مگر کبھی مکمل نہیں بھرتے۔ یہ سانحہ بھی ان ہی زخموں میں سے ایک ہے۔اللہ تعالیٰ ننھی ثوبیہ کی مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند کرے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    آسمان پہ دھواں زمین پر بکھرتا درد بن گیا ہے ہر ماں کے لیے جس کی گود اجڑ گئی ہے۔
    دارالحکومت مظفرآباد میں پاکستانی فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے بعد پورا آسمان دھوئیں کے کالے بادلوں میں ڈوب گیا۔ مقامی شہریوں کے مطابق وہ سیاہ بادل پورے شہر سے نظر آ رہے تھے سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں ان میں دھوئیں کا وہ ہولناک ستون دیکھ کر ہر ماں کا دل اداس ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ISPR کے مطابق یہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام جوان شہید ہو گئے۔ یہ ہیلی کاپٹر حادثے کے وقت نیلم سٹیڈیم سے پرواز بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
    وہ ویڈیو ہے جو میں نے دیکھی.
    ایک ماں ایک عام کشمیری ماں اپنی مقامی زبان میں بار بار بس یہی پکار رہی تھی:
    (ہائے پتہ نہیں کناں ماواں دے بچے سڑ گئے) ہائے پتہ نہیں کن ماؤں کے بچے جل گئے!

    وہ بین کر کے رو رہی تھی ایسے جیسے اس کے اپنے جگر کے ٹکڑے آگ میں جل رہے ہوں۔
    مائیں صرف مائیں ہوتی ہیں..
    ان کا دل صرف اپنی اولاد کے لیے نہیں دھڑکتا۔ دوسری ماں کی گود اجڑے تو ان کا کلیجہ بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے ۔مظفرآباد میں کتنی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں؟ کتنی بہنوں کے دوپٹے سفید ہو گئے؟ کتنے باپوں کے سہارے ٹوٹ گئے؟
    یہ وردی والے بھی کسی کے بیٹے ہیں۔ یہ بھی کسی کے لعل ہیں۔ ان کے جنازے پر سیاست مت کرو، ان کے خون پر تقریں مت کرو بس دعا کرو کہ رب ہر ماں کی گود سلامت رکھے۔
    گھروں کو صبر دے، اور وطن کی ماؤں کو کبھی ایسا دن نہ دکھائے۔ آمین۔
    کیونکہ گود ماں کی ہی اجڑتی ہے۔
    حکومتِ وقت اس طرح غائب ہے جس طرح گدھے کے سر سے سینگ۔خدارا نفر توں کی خون کی سیاست بند کریں جلتی پہ تیل نہ چھڑکیں اور مذاکرات کا راستہ ہموار کریں۔

  • الزام تراشی کی سیاست اور قومی ذمہ داریوں سے فرار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    الزام تراشی کی سیاست اور قومی ذمہ داریوں سے فرار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوریت کی اصل روح شکست کو تسلیم کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ہے، نہ کہ ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنے میں

    جو سیاست عوام کی خدمت کے بجائے الزام تراشی کے گرد گھومنے لگے، وہاں مسائل بڑھتے ہیں اور حل دور ہوتے چلے جاتے ہیں

    قومی ترقی تب ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں اپنے گریبان میں جھانکیں، کارکردگی کو معیار بنائیں اور جوابدہی کو شعار بنائیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ یہاں اقتدار میں آنے والی جماعت اپنے پیش روؤں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، جبکہ اقتدار سے محروم ہونے والی جماعت نئی حکومت پر ناکامیوں کا بوجھ ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ایک سیاسی طرزِ عمل بن چکی ہے جس نے عوامی مسائل کے حقیقی حل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انتخابات کے بعد شکست تسلیم کرنے کا سیاسی ظرف بھی ہمارے ہاں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے بجائے دھاندلی، مداخلت اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا بیانیہ اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر کسی مخصوص انتخاب میں مداخلت کے واضح شواہد موجود نہ ہوں، تب بھی الزامات کی گرد اڑائی جاتی ہے۔ یہ رویہ جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور سیاسی سنجیدگی کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مضبوط جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کی پہلی ذمہ داری عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان برسوں سے بجلی کے بحران، گیس کی قلت، مہنگائی، ناقص تعلیم، کمزور صحت کے نظام اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ مسائل کسی ایک حکومت یا ایک ادارے کی پیداوار نہیں بلکہ طویل عرصے کی پالیسی ناکامیوں اور اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح خوراک میں ملاوٹ، ادویات میں جعل سازی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری جیسے جرائم بھی قومی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ان جرائم کے پیچھے کون لوگ ہیں اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ اگر سیاسی جماعتیں واقعی عوامی خدمت کا دعویٰ کرتی ہیں تو انہیں ایسے عناصر کی سرپرستی کے بجائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے۔ ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف اسٹیبلشمنٹ یا کسی ایک ادارے کو قرار دینا نہ تو حقیقت پسندانہ رویہ ہے اور نہ ہی قومی مفاد کے مطابق۔ پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی ادارے اپنی اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن بلا ثبوت الزامات، مسلسل کردار کشی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈال دینا مسائل کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت اپنے گریبان میں جھانکے، اپنی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے اور عوام کے سامنے جوابدہی کا رویہ اختیار کرے۔ قومیں الزام تراشی، نفرت اور سیاسی ضد سے نہیں بلکہ دیانت دار قیادت، مؤثر حکمرانی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست کا ایک حصہ اب سنجیدہ قومی مباحث کے بجائے سوشل میڈیا کی شوریدہ فضا اور وقتی مقبولیت کے گرد گھومنے لگا ہے۔ ایسے ماحول میں اصل سوالات پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ نعروں کے بجائے کارکردگی کو معیار بنائیں اور سیاسی جماعتوں سے سوال کریں کہ انہوں نے عوامی فلاح، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے لیے کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کو آج الزاموں کی سیاست نہیں بلکہ جوابدہی، خدمت اور قومی یکجہتی کی سیاست کی ضرورت ہے۔ جب تک سیاسی قوتیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں کریں گی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈالتی رہیں گی، تب تک عوامی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے اور ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

  • عالمی یومِ غذائی تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    عالمی یومِ غذائی تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں محفوظ خوراک کے حوالے سے شعور بیدار کرنا، بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے اجاگر کرنا اور خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کی اہمیت کو نمایاں کرنا ہے۔ موجودہ دور میں غذائی تحفظ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے کیونکہ غیر معیاری اور آلودہ خوراک نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ قومی معیشت اور صحت کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

    عالمی یومِ غذائی تحفظ منانے کی ابتدا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ہوئی۔ دسمبر 2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ کے طور پر منانے کا اعلان کیا جبکہ اس دن کو عملی طور پر پہلی بار 2019 میں منایا گیا۔ اس مہم کی قیادت عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ اس دن کے قیام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں، ناقص غذائی نظام اور آلودہ خوراک کے خطرات کے بارے میں عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا تھا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ اور خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کے مسائل بھی بڑھتے گئے۔ مختلف ممالک میں آلودہ خوراک سے ہونے والی اموات اور وباؤں نے عالمی اداروں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو انسانی صحت، معیشت اور پائیدار ترقی سے جوڑا گیا۔

    عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا میں ہر سال کروڑوں افراد آلودہ خوراک کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص گھی، غیر معیاری مصالحہ جات، مضر صحت مشروبات اور کیمیکل ملے پھل و سبزیاں عوامی صحت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ بازاروں، ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والے کئی مراکز پر صفائی کے ناقص انتظامات بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

    غذائی ماہرین کے مطابق غیر محفوظ خوراک ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، فوڈ پوائزننگ اور معدے کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں کیونکہ کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی اور شہروں میں فاسٹ فوڈ کے بڑھتے رجحان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
    پاکستان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی، سندھ فوڈ اتھارٹی اور دیگر ادارے خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، مگر صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں۔ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ گھروں میں صفائی، تازہ خوراک کا استعمال، صاف پانی، پھلوں اور سبزیوں کی اچھی طرح دھلائی، اور کھانے کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
    یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دیہی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے روایتی طریقے اکثر غیر سائنسی ہوتے ہیں۔ دودھ میں ملاوٹ، مضر صحت رنگوں کا استعمال اور ناقص تیل میں تیار شدہ اشیاء انسانی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔بدقسمتی سے وطن عزیز میں اس صورتحال کا جائزہ لیا تو جاتا ہے مگر بنیادی وجوہات کو نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کیوں اور کیسے ہورہا ہے سب اچھا ہے سرکاری اعداد وشمار میں وجہ کوئی بھی ہوسکتی ہے آپ سب جانتے ہیں ۔

    عالمی یومِ غذائی تحفظ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحت مند معاشرے کی بنیاد محفوظ خوراک ہے۔ اگر ہم آج اپنی خوراک کے معیار پر توجہ نہیں دیں گے تو آنے والی نسلیں بیماریوں اور کمزور صحت کا شکار رہیں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے، فوڈ انسپیکشن کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے۔جو عام آدمی تک پہچنے میں مددگار ثابت ہو ۔
    محفوظ خوراک صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ صحت مند پاکستان کے لیے ہمیں ملاوٹ، غیر معیاری خوراک اور صفائی کی ناقص صورتحال کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔جو ہم سب کی ذمہداری ہے امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک

  • کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کل سے خطے میں جو بےچینی، اضطراب اور بےسکونی کی فضا قائم ہے اس نے دل دہلا دیے ہیں۔ ایک گھٹن زدہ کیفیت نے پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آزاد کشمیر میں نیٹ سروسز بند ہیں، اور یہ بندش صرف انٹرنیٹ کی نہیں بلکہ دلوں کی بھی ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے ماں باپ اپنے بچوں کی خیریت جاننے سے قاصر ہیں۔ بہنیں اپنے بھائیوں کے لیے دعائیں مانگ رہی ہیں، بیویاں شوہروں کی سلامتی کی منتظر ہیں اور بچے اپنے پیاروں کی ایک آواز سننے کے لیے بےتاب ہیں۔ فون کی خاموشی اب دلوں میں خوف اور اندیشوں کی گونج بن چکی ہے۔خون، چاہے کشمیری کا ہو، پاکستانی کا، فوجی کا، پولیس والے کا، یا کسی عام شہری کا یا کسی غیر مسلم کا خون بہرحال خون ہوتا ہے۔ اس کا درد ایک جیسا ہوتا ہے۔ ہر لاش کے پیچھے ایک ماں کی اجڑی ہوئی دنیا ہوتی ہے، ایک باپ کی ٹوٹی ہوئی امید ہوتی ہے، ایک بیوی کا بکھرا ہوا سہارا اور معصوم بچوں کا لٹتا ہوا مستقبل ہوتا ہے۔ والدین کے لیے اولاد کا جنازہ اٹھانا زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ یہ ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہرا ہو جاتا ہے۔ ماں عمر بھر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہے جیسے اس کا بیٹا ابھی لوٹ آئے گا۔ باپ اپنے آنسو چھپاتا ہے مگر اندر ہی اندر ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ بیوی زندگی بھر اس آواز کو ڈھونڈتی رہتی ہے جو کبھی اس کی زندگی کا سکون تھی۔ بچے ہجوم میں بھی اپنے باپ کا چہرہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔افسوس کہ ایسے نازک وقت میں بھی سوشل میڈیا پر نفرت، تلخی اور بدزبانی کا بازار گرم ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑک رہے ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے اور انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔خدارا! اب رک جائیے۔کتنا خون اور بہے گا؟ کتنی مائیں اپنے جوان بیٹوں کے انتظار میں دروازوں پر بیٹھی رہیں گی؟ کتنی بہنوں کی دعائیں ادھوری رہ جائیں گی؟ کتنے بچے یتیمی کی اذیت سہنے پر مجبور ہوں گے؟

    خون جب زمین پر گرتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں مرتا ایک خاندان بکھر جاتا ہے، کئی خواب دفن ہو جاتے ہیں اور بے شمار خوشیاں ماتم میں بدل جاتی ہیں۔اس وقت دل صرف غمزدہ نہیں، مضطرب بھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا خطہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہو۔ ہر طرف خوف ہے، بے یقینی ہے اور دعاؤں کا ایک خاموش سلسلہ جاری ہے۔ایسے وقت میں ضرورت نفرت کے نعرے بلند کرنے کی نہیں بلکہ انسانیت کی آواز بلند کرنے کی ہے۔ ضرورت ایک دوسرے کو گرانے کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بننے کی ہے۔
    آئیے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں جس کا نام محبت ہو، جس کا مقصد امن ہو اور جس کا پیغام انسانیت ہو۔ ایک ایسی تحریک جو ہمیں یاد دلائے کہ خون کا کوئی مذہب، کوئی زبان اور کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ خون صرف خون ہوتا ہے، اور اس کا درد ہر دل یکساں محسوس کرتا ہے۔

    آئیے ایسی زبان بولیں جو زخموں پر مرہم رکھے، ایسے الفاظ لکھیں جو دلوں کو جوڑیں اور ایسی دعائیں کریں جو نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کر سکیں۔کیونکہ قومیں نفرت سے نہیں، محبت سے بنتی ہیں۔ معاشرے انتقام سے نہیں، برداشت سے پروان چڑھتے ہیں۔ اور انسانیت کی سب سے بڑی فتح یہ نہیں کہ ہم اپنے مخالف کو ہرا دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بچا لیں۔خدایا! اس دھرتی پر امن نازل فرما۔ ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچا، بچوں کے سروں سے سایہ نہ اٹھا، بہنوں کی دعاؤں کو قبول فرما اور ہمیں اتنی انسانیت عطا فرما کہ ہم خون کے رنگ میں سیاست نہیں بلکہ انسانی جان کی حرمت دیکھ سکیں۔آمین
    خدارا اب بس کر دیں بس

  • بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    صبح کا وقت تھا اور موسم بڑا خوشگوار تھا لیکن کمرے میں سگنلز کی عدم موجودگی نے خوشگواری کا تسلسل توڑنا چاہا سگنلز ضروری تھے کیونکہ آج میری پسندیدہ انفلوئنسر نے لائیو آنا تھا میں چائے کا کپ اٹھائے بالکونی میں جا کھڑا ہوا کیونکہ وہاں نیٹ بہتر چلتا تھا ۔۔۔میرے فون پہ نوٹیفیکیشن آیا ۔۔۔۔۔” دی سوپر اسٹار اسمارا اپلوڈڈ آ سٹوری ” میں نے جلدی سے کھولی تو اس میں درج تھا کہ ابھی کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے وہ لائیو نہیں آسکتیں شاہد شام میں آئیں بحرحال آپکو آگاہ کردیا جائیگا مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن کیا کیا جا سکتا تھا۔ میں نے موبائل سائڈ پہ رکھتے ہوئے چائے کی ایک اور چسکی لی تو میری نظر برابر والے گھر سے نکلتی ہوئی اسما پر پڑی جو نہایت عام سی شکل وصورت ،قمیص شلوار میں ملبوس سفید چادر اوڑھتی ہوئی موٹر سائیکل پر سوار ہوئی ،وہ بہت اکڑو تھی کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی ۔۔اور پھر مجھ سے مزاج کا انسان تو اس سے بلکل بات کرنا بھی پسند نہ کرے ۔مجھے تو اسمارا جیسی لڑکیاں بھاتیں۔۔۔میں کچھ دیر وہاں ٹہلتا رہا پھر دفتر جانے کی تیاری میں مشغول ہو گیا ۔شام کے قریباً چار بج رہے تھے میں دفتر سے واپس آرہا تھا کہ مجھے رستے میں اسما نظر آئی اسکی موٹر سائیکل غالباً چوری ہوچکی تھی اور اب ٹیکسی کے انتظار میں تھی ،جتنی وہ عجیب اور نخرے باز تھی میرا دل تو نہیں تھا مدد کا مگر میرے اندر موجود انسانیت کی دکان اسے قرض دیے بغیر رہ نہ سکی میں نے بریک لگائی اور کہا : اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ کو گھر چھوڑ سکتا ہوں میرا گھر آپکے گھر کے برابر میں ہی ہے ۔پہلی دفعہ تو اس نے بات سنی ان سنی کر دی میں نے دو تین مرتبہ اصرار کیا پھر جا کر وہ پچھلی سیٹ پر آ کر براجمان ہوئی،اور بیٹھتے اپنے موبائل میں لگ گئی۔میں نے گاڑی سٹارٹ کی تو میرے فون پہ نوٹیفکیشن آیا۔دی اسمارا اپلوڈڈ سٹوری میں نے دیکھا تو اس میں درج تھا فکس آدھے گھنٹے کے بعد وہ لائیو آئیں گی میں نے غصے سے اسما کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اگر وہ میرا وقت ضائع نہ کراتی تو میں اب تک گھر ہوتا۔جیسے تیسے میں نے بیس منٹ میں اسما کو گھر چھوڑا اپنی گاڑی پارک کی اور سیدھا بالکنی کی طرف روانہ ہوا موبائل وہاں سیٹ کیا چائے منگوا لی ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ لائیو آگئی ۔۔ سو سوری گائز میں نے صبح لائیو آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کچھ مسائل کی وجوہات پر میں نہ سکی تو کیسے ہیں آپ سب ؟

    سیاہ بال جو کبھی لمبے ہو جاتے تو کبھی چھوٹے کبھی سیدھے اور کبھی گھنگریالے ہر روز فیشن کے نام پر نیا تجربہ اور ہر بار تجربہ ثمر پار ثابت ہوتا وہ ہر طرح کے حلیے میں حسین ترین لگتی تھی۔کبھی کبھار ہی لائیو آتی لوگ اس سے سوال پوچھتے ہیں جواب دیتی اس سے جواب پا لینا بھی کسی کی خوش قسمتی ہی ہوتی تھی میں نے بھی کئی دفعہ پیغام چھوڑا لیکن مجھ پہ قسمت کبھی اتنی مہربان نہیں ہوئی۔اچھا تو اگلا سوال ہے اسماء کا انہوں نے کہا ہے کہ آپ بہت پیاری ہیں تھینک یو سو مچ اسما آپ بھی بہت پیاری ہیں ہم سب ہی پیارے ہوتے ہیں۔یہ بات اس نے کہہ تو دی تھی لیکن شاید اس نے اسماء کو حقیقت میں نہیں دیکھا تھا اگر وہ دیکھتی تو کبھی یہ نہ کہتی کہ سب حسین ہوتے ہیں

    اچھا گائز پھر کبھی لائیو آؤں گی اور ڈھیر ساری باتیں کریں گے اللہ حافظ۔ابھی وہ گئی تھی کہ امی آ گئی تم ہر وقت اس موبائل میں گھسے رہتے ہو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔کیا بات کرنی ہے اماں ؟دیکھو لمبی چوڑی باتیں کرنا مجھے پسند نہیں سیدھا کہتی ہوں۔۔۔۔دروازے کی گھنٹی بجے میں دروازہ کھولنے گیا تو دروازے پہ موجود موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکیاں تھی جو غالباً پولیو کے قطرے پلانے آئیں تھیں موٹر سائیکل کچھ دیکھا دیکھا لگ رہا تھا اور ان میں سے ایک لڑکی کی آواز بھی جانی پہچانی تھی لیکن میں نے غور نہیں کیا اور انہیں یہ بتا کر دروازہ بند کر دیا کہ یہاں میں سب سے چھوٹا بچہ ہوں۔

    واپس آیا ہاں تو اماں اپ کچھ کہہ رہی تھی۔۔اب میں نے کیا کہنا ہے ساری بات کا تسلسل خراب کر دیا صبح بات کریں گے۔۔
    صبح ناشتے کی میز پر ہی میں نے اماں سے پوچھا۔
    اماں آپ نے کچھ کہنا تھا شام میں، کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے نا, بات تو میں بتاتی ہوں پر پہلے تو مجھ سے وعدہ کر کہ تو میری بات مانے گا۔۔ اماں شادی کے علاوہ جو بات منوانی ہے منوا لو۔۔
    نہیں نہیں اس دفعہ بس تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے۔بس دس منٹ کے لیے ،وعدہ شادی کی بات نہیں کروں گی ۔۔لیکن اماں جانا کہاں ہے؟ زیادہ سوال نہیں کرو میرے ساتھ چلو۔

    اچھا اماں آپ چلیں میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔ میں اماں کے بتائے ہوئے رستے پر ان کے ہمراہ چل پڑا کچھ دیر کے بعد ہم ایک آستانے پر پہنچے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ گھنگریالے بال، بڑی بڑی آنکھوں میں بہت زیادہ سرمہ پیلے دانت ،سیاہ رنگ کا کرتا گلے میں رنگ برنگی تسبیحات ڈالے ایک عورت نما کوئی جاندار چیز بیٹھی دم درود پڑھ رہی تھی۔ خوف اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ میں نے اماں کی طرف دیکھا۔۔تو اماں نے اسکے جواب مجھے ڈانٹنے والی نظروں سے دیکھا۔۔اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہمارا نمبر آیا اماں نے اسے بتایا کہ میں شادی نہ کرنے پر بضد تو اس نے اماں کو کوئی کاغذ پکڑایا جس پر نہ جانے کیا لکھا تھا اور ان کے کان میں کوئی بات کی جو بہر حال مجھے سنائی نہیں دے سکی۔۔۔اماں نے ان سے اجازت چاہی ۔۔ویسے میرا دل تو معذرت چاہنے کا تھا۔۔۔۔وہاں سے ہم گھر کے لیے روانہ ہوئے اور اسمارہ نے دوبارہ لائیو آنا تھا گھر پہنچے موسم کچھ خراب ہو گیا ، ایک دم آندھی آگئی جو کپڑے چھت پر پھیلائے تھے وہ پڑوسیوں کے گھر جاگرے تو میں نے اماں کو بتایا کیونکہ اسما کے گھر جانا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا گھر میں بس وہ ماں بیٹی ہی رہتی ہیں تو یوں مناسب نہیں لگتا اماں نے مجھے مجبور کیا کہ جاگ کر میں کپڑے لے آؤں تجھے کیا کہنا ہے ان لوگوں نے اتنی دیر میں نوٹیفیکیشن آیا پندرہ منٹ بعد لائیو آؤں گی ۔ ۔۔میں نے جلدی جلدی پڑوسیوں کا دروازہ بچایا تو اس کی اماں نے دروازہ کھولا میں نے بتایا کہ ہوا کی وجہ سے کپڑے گر گئے تھے وہ پکڑا دیں انہوں نے مجھے اندر بلا لیا بیٹھنے کو کہا میں نے منع کیا اور کہا کہ مجھے کپڑے دے دے اب کیونکہ میں ان کے گھر پہلی دفعہ گیا تھا تو وہ کپڑے لینے کے بجائے کچن میں چلی گئی مجھے جلدی تھی اور ان کے منصوبے لمبے نظر آرہے تھے لیکن میں مجبور تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ کپڑے گندی جگہ پر گر گئے تھے تو اسمإ نے دوبارہ دھو کر چھت پر پھیلا دیے ہیں اب بیٹا میری ٹانگوں میں تو اتنی جان نہیں کہ میں چھت پر جاؤں اور اسما کسی کام میں مصروف ہے اپنا ہی گھر ہے چھت سے میرا بیٹا جا کر کپڑے لے آؤ۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں ان کو کیا کہوں ؟ مجھے دیر ہو رہی تھی اور وہ میری امی کی طرح بات نہیں سمجھ رہی تھیں میں بھاگتا بھاگتا چھت پر جا رہا تھا برآمدے میں کمرے کے آگے سے گزرا اس کا دروازہ آد کھلا تھا سامنے دیوار پہ مجھے ایک لڑکی کی تصویر نظر آئی جو آدھی دکھ رہی تھی اور تصویر لگ بھی دیکھی دیکھی رہی تھی تو میں نے لاشعوری طور پر کمرے کا دروازہ کھول دیا اس وقت مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کہاں جاؤں ،پیروں تلے زمین نکلنا اس سے پہلے تک میرے لیے صرف ایک محاورہ تھا۔۔اس دن میرے لیے ایک عجیب قسم کا تجربہ تھا وہ تصویر وہی تصویر تھی جو اسمارا کے سٹوڈیو میں لگی نظر آتی تھی جب بھی وہ لائیو آتی تھی،اور وہاں شیشے کے سامنے ایک لڑکی جو میرا خواب تھی کائنات کی حسین ترین لڑکی اپنے حسن کو مزید سنوار رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی موٹر سائیکل کی چابی، سفید چادر ،پولیو کے قطرے پلانے والا نیلے رنگ کا ڈبہ سیاہ رنگ کا کرتا ایک طرف لٹکا تھا اور اسی کے ساتھ رنگ برنگی تسبیحات پڑی تھیں ،ایک جانب لینز کی ڈبی پڑی تھی جو اکثر اسمارہ لگایا کرتی تھی اور دوسری جانب ایک ڈبیا میں پیلے دانت یہ سارا منظر کچھ لمحوں کا بھی نہیں تھا میں کیسے وہاں سے گھر پہنچا نہیں معلوم کپڑے لائے نہیں لائے لیکن سوال بہت سارے لے آیا تھا۔
    مجھے نہیں معلوم تھا کہ قسمت نے مجھ پر اس طرح مہربان ہونا تھا۔

  • صحافت، ٹیکنالوجی اور بدلتی دنیا،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    صحافت، ٹیکنالوجی اور بدلتی دنیا،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا تیزی سے ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence (AI) صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معیشت، تعلیم، صحت، کاروبار اور صحافت سمیت ہر شعبے کی بنیادی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ وہ ممالک جو اے آئی کو جلد اپنائیں گے، مستقبل کی عالمی معیشت اور علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کریں گے، جبکہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جانے والی قومیں ترقی کے سفر میں مشکلات کا شکار ہوں گی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اے آئی اب کوئی فیشن یا اضافی سہولت نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔

    اسی تناظر میں ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اپنا کماؤ کے اشتراک سے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے لیے منعقد کی جانے والی خصوصی تربیتی ورکشاپ “Journalism in the Age of AI” ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ثابت ہوئی۔ اس پروگرام نے واضح کر دیا کہ مستقبل کی صحافت اب صرف قلم اور کیمرے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اے آئی ٹیکنالوجی سے جڑی مہارتیں ہی کامیابی کی ضمانت بنیں گی۔اس ورکشاپ کے انعقاد میں سر ملک وقاص اور ان کی ٹیم کی کاوشیں خصوصی طور پر قابلِ تحسین رہیں، جنہوں نے صحافیوں اور نوجوان میڈیا پروفیشنلز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم مہیا کیا۔ بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور میں ایسے افراد اور ادارے ہی دراصل معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار بنتے ہیں جو وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نئی نسل کو جدید علوم اور مہارتوں سے روشناس کرائیں۔

    لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں ہونے والی اس عملی ورکشاپ میں میڈیا انڈسٹری سے وابستہ افراد کو جدید اے آئی ٹولز کے استعمال کی تربیت دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے تحقیق کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے، فیک نیوز کی فوری تصدیق کی جا سکتی ہے، اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں اپنی مضبوط شناخت یعنی Personal Brand قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ تربیت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ موجودہ دور میں خبر کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ روایتی طریقے کئی مواقع پر ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا پلیٹ فارم بھی اس حوالے سے ایک مثبت اور جدید سوچ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ سیاسی اور سماجی پلیٹ فارمز اگر نوجوانوں کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کریں تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے دوری بھی ہے۔ ایسے میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ ،اپنا کماؤ جیسے پلیٹ فارمز کا AI اور ڈیجیٹل جرنلزم جیسے موضوعات پر عملی سرگرمیوں کا انعقاد مستقبل کے لیے ایک امید افزا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد سب سے بڑا چیلنج جھوٹی خبروں اور من گھڑت پروپیگنڈے کا ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور معاشرے میں بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں AI پر مبنی Fact-checking ٹیکنالوجی صحافت کے لیے ایک مضبوط ہتھیار بن سکتی ہے۔ جدید AI سسٹمز تصاویر، ویڈیوز اور بیانات کی صداقت جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو صحافت کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    ورکشاپ میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے معاشرتی ذمہ داریوں پر زور دیا۔ ان کا یہ جملہ کہ “معاشرہ ایک فرد سے نہیں چلتا” دراصل اجتماعی شعور اور قومی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں AI انسان کی زندگی کو آسان بنا رہا ہے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے کیا جائے۔

    حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں AI انقلاب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ، چین، جاپان اور یورپی ممالک اربوں ڈالر اس شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ تعلیم، زراعت، دفاع، بینکنگ، میڈیکل سائنس اور میڈیا ہر شعبہ AI سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان نے اس میدان میں سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی تو ہم آنے والے برسوں میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب بھی AI کے حوالے سے شعور محدود ہے اور بیشتر نوجوان صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ دنیا AI کے ذریعے نئی معیشت تعمیر کر رہی ہے۔
    پاکستان میں AI کے فروغ کے لیے سب سے پہلے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں Artificial Intelligence، Data Science اور Digital Journalism جیسے مضامین کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ عملی مہارتیں دینا ہوں گی تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں اپنا مقام بنا سکیں۔

    صحافت کے میدان میں AI صحافیوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک طاقتور معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ جو صحافی AI کو سیکھ لیں گے وہ تیزی سے تحقیق، ڈیٹا اینالیسس، ویڈیو ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل پبلشنگ جیسے شعبوں میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جو لوگ نئی ٹیکنالوجی سے دور رہیں گے وہ وقت کے ساتھ پیچھے رہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور پریس کلب میں ہونے والی یہ ورکشاپ محض ایک تربیتی سیشن نہیں بلکہ مستقبل کی صحافت کی سمت متعین کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔

    پاکستان ایک نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے اور یہی نوجوان ہماری اصل طاقت ہیں۔ اگر انہیں AI اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کیا جائے تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں ایک اہم ڈیجیٹل معیشت بن سکتا ہے۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، AI ریسرچ اور ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔وقت آ چکا ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو صرف ایک مشین یا سوفٹ ویئر نہ سمجھیں بلکہ اسے قومی ترقی کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھیں۔ AI سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سیکھنا، سمجھنا اور مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔ کیونکہ آنے والا دور اسی کا ہے جو علم، ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں سے خود کو ہم آہنگ کرے گا۔اگر پاکستان نے آج AI کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا تو یہی ٹیکنالوجی ہمارے نوجوانوں کے خواب، معیشت کی ترقی اور مستقبل کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔

  • جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کہوٹہ میں واقع جھیل نیل فیری، جسے نیل فری بھی کہا جاتا ہے، قدرتی حسن کا ایک ایسا شاہکار ہے جو اپنی دلکشی سے ہر آنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ جھیل سرسبز گھاس زاروں، ٹھنڈی ہواؤں اور دل موہ لینے والے مناظر سے گھری ہوئی ہے۔ یہاں سے پیر پنجال کی برف پوش چوٹیاں اور وادی کیرن کے سحر انگیز نظارے دیکھنے والوں کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

    تاہم اس بے مثال خوبصورتی تک پہنچنے کا سفر ابھی بھی خاصا دشوار اور بعض مقامات پر خطرناک ہے۔ سڑکوں کے کناروں پر حفاظتی بیریئرز کی کمی اور دشوار گزار راستے سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اگر حکومت ان سڑکوں کی بہتری، کناروں پر مضبوط حفاظتی بیریئرز کی تنصیب اور راستوں کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنائے تو یہ سفر زیادہ محفوظ اور پُرسکون ہو سکتا ہے۔

    اسی طرح سیاحوں کے لیے ریسٹ ہاؤسز، واش رومز، صاف پانی، طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اس علاقے کی کشش میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ چونکہ جھیل تک پہنچنے کے لیے سفر کا ایک حصہ جیپوں کے ذریعے طے کرنا پڑتا ہے، اس لیے اگر حکومت یا متعلقہ ادارے منظم جیپ سروس، پارکنگ اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کریں تو نہ صرف سیاحوں کو آسانی ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

    سیاحت کسی بھی علاقے کی معیشت میں جان ڈال سکتی ہے۔ نیل فیری جیسے قدرتی خزانوں پر توجہ دے کر نہ صرف آزاد کشمیر میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ علاقہ قدرت کے حسن سے مالا مال ہے؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس کی خوبصورتی کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے بہتر منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ یہ خوابیدہ جنت حقیقی معنوں میں ایک مثالی سیاحتی مرکز بن سکے۔

  • تبصرہ کتب،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    عبدالمالک مجاہد کی کتاب ’’ سیرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ‘‘ یہ کتاب دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے آرٹ پیپرپر ، دیدہ زیب سرورق اور چہار رنگ کے ساتھ شائع کی ہے ۔ 313عنوانات مشتمل یہ کتاب مختصر ہونے کے ساتھ اس قدر جامع ہے کہ سیدنا عثمان کی بیاسی سالہ زندگی کے تمام پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ کتاب میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ، القاب ، ولادت ، حلیہ مبارک ، قبول اسلام ، نکاح، اولاد ، بیٹے ، بہنیں ، ماں جائے بھائی ، ماں جائی بہنیں ، ایام جاہلیت میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ ، تاریخ وانساب پر آپ کا عبور ، اعلیٰ اخلاق ، قریش میں اہمیت ، ہجرت حبشہ ، قرآن کریم کے ساتھ تعلق ، حفظ ِ قرآن کا اہتمام ، کثرت تلاوت ، قرآن کریم کی نشرواشاعت کے لئے خدمات ، سیدنا عثمان اور غزوہ بدر ، مدینہ منورہ کے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے خدمات، غزوہ احد میں شرکت ، بیعت رضوان ، حدیبیہ کے میدان میں بیعت ، تین مرتبہ بیعت کرنے کااعزاز ، غزوہ تبوک میں شرکت ، غزوہ تبوک کے لشکر کے لئے بیمثال تعاون ، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی ، بئر رومہ کی خریداری اور مسلمانوں کے لئے وقف ، مسجد نبوی کی توسیع ، جنت کی بشارت ، خلعت ِ خلافت کی خوشخبری ، اللہ کے رسول کی جدائی کا غم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں رائے ، شرم وحیا کے پیکر ، عہد صدیقی میں معاشی بحران حل کرنے میں کردار ، عہد عمرفاروق میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمات ، امہات المئومنین کے ساتھ حج کی سعادت ، آپ کی رحمدلی ، انتخاب خلیفہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فراست ، بطور خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ کا انتخاب ، طرز حکومت ، صحابہ کے ہاں مقام ومرتبہ ، خطوط ، حکام بالاکے لئے ہدایات ، مجلس شوریٰ کی تشکیل ، خود کواحتساب کے لئے پیش کیا ، سیدنا عثمان اور قرآن ، اخلا ص اور تقوی ، بے مثال حلم عفو ودرگز ، عالی ظرفی اور فراخ دلی ، تواضع اورعجزوانکسار ، حیاداری ، فخر ومباہات سے اجتناب ، جودوسخا، حرمت خلافت کے لئے جان کی قربانی ، مسلمانوں کے لئے آسانیاں ، حرم کعبہ کی توسیع ، جمعہ کے معمولات ، شکر وسپاس اور قدر شناسی ، عذاب قبر کا خوف ، تواضع ، غلاموں کے لئے وظائف ، لوگوں کی خبر گیری ، اراضی الاٹ کرنے کے لئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسی ،آپ کے دور خلافت میں سرکاری چراگاہیں ، بطور خلیفہ آپ کے اخراجات ، پہلا اسلامی بیڑے کی تیاری، بندرگاہ کی شیعبہ سے جدہ منتقلی ،شاہرائوں کے اطراف میں کنوئوں کی کھدائی ، سپاہیوں کی تنخواہوں میں اضافہ ، پولیس کا شعبہ ، فتوحات ، رومیوں کو عبرتناک شکست ، بطور سپہ سالار ، تدوین قرآن ، صوبوں میں ارسال کردہ صحیفوں کی تعداد ، رعیت کی اصلاح کیلئے اقدامات ، اپنے پیاروں کے ساتھ بھی انصاف ، امرا اور گورنروں کے نام خطوط ، کھانے میں سادگی ، عجز انکسار ، قلعوں کی تعمیر ، خلافت عثمانی میں مدینہ منورہ ، آخری خطاب ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دشمن کون تھے ؟ عوام الناس کے نام کھلا خط ، شرپسندوں کی مدینہ آمد ، مخالفین کو قتل کرنے سے انکار ، سبائیوں پر اتمام حجت ، فتنوں پروروں کا مدینہ پر قبضہ ، شرپسندوں سے مذاکرات ، فتنہ کیسے پیدا ہوا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور محاصرہ کرنے والوں کے مابین مذاکرات ، فتنہ پروروں کے سرغنے کون تھے ؟ باغیوں سے خطاب ، اجل صحابہ سے رابطہ ، مظلوم ِ مدینہ منورہ ، عزیمت کے چالیس دن ، شہادت عثمان رضی اللہ عنہ ، آخری رات نبی ﷺ کی زیارت ، آخری دن قرآن کی تلاوت ، قاتلوں کاآخری حملہ ، جسد خاکی ، نماز جنازہ اور کفن دفن ۔یہ کتاب ان تمام موضوعات کااحاطہ کئے ہوئے ہے ۔ اس کتاب میں قارئین سیدنا عثمان بن عفان کی فضلیت اور منقبت کے حوالے سے دیگر بہت سارے واقعات پڑھیں گے ۔ اس کتاب میں جہاں سیدنا عثمان کے دور کے جرنیلوں کے حالات سے قارئین کو آگاہی ہوگی ، وہاں یہ بھی اندازہ ہوگاکہ ان کے دور میں لاکھوں مربع میل کا رقبہ مسلمانوں کی حکومت میں شامل ہوتا ہے ۔ ان کے تمام کارناموں کی تفصیل اس کتاب میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تاریخ کی بیشمار کتب میں موجود واقعات اس کتاب میں جمع کردیے گئے ہیں ۔ اس کتاب میں چہار کلر نقشے بھی شامل ہیں ۔اور پوری کوشش کی گئی ہے کہ کتاب میں بیان کردہ تمام واقعات درست اور صحیح ہوں ۔ کتاب 113گرام کے نہایت اعلی پیپر پر شائع کی گئی ۔
    کتاب کی قیمت 4000روپے ہے ۔ یہ کتاب درارلسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزدسیکرٹریٹ سٹاپ دستاب ہے ۔ یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل فون نمبر042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • غرورِ اقتدار اور خدمتِ عوام کا بھولا ہوا راستہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غرورِ اقتدار اور خدمتِ عوام کا بھولا ہوا راستہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مٹی کے انسان کا تکبر اور قوم کا زوال عہدے فانی ہیں، کردار امر ہے

    غرور کے محل اور خدمت کے اجڑے راستے جب حکمران عوام سے دور ہو جائیں

    تکبر کی سیڑھی زوال کی منزل قوم کو رہنما چاہیے حاکم نہیں اقتدار امتحان ہے انعام نہیں

    تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ بات آج بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر انسان، بالخصوص سیاست کے ایوانوں میں بیٹھا ہوا انسان، غرور اور تکبر کس بنیاد پر کرتا ہے؟ وہ سیاستدان جو تحصیل کی سطح سے لے کر قومی سطح تک عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ بیوروکریٹ جو ریاستی امور کے نگران ہیں، اور وہ لوگ جو خود کو ممتاز رہنما یا ممتاز شخصیت کہلوانا پسند کرتے ہیں، آخر وہ کس چیز پر فخر کرتے ہیں؟ اگر غرور کرنا ہی ہے تو اپنے کردار پر کریں، اپنی دیانت داری پر کریں، اپنی خدمتِ خلق پر کریں، اپنے اخلاق پر کریں۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاسی ماحول میں کردار سازی کے بجائے کردار کشی کو فروغ دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، لٹیرا اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازنا معمول بن چکا ہے۔ کئی دہائیاں گزر گئیں، لیکن قوم کے کانوں میں یہی الزامات گونجتے رہے ہیں۔

    میری عمر کا ایک بڑا حصہ ان سیاسی مناظر کو دیکھتے اور سنتے ہوئے گزرا ہے۔ چالیس برس سے زائد عرصے میں یہی سننے کو ملا کہ فلاں نے خزانہ لوٹ لیا، فلاں ملک کو نقصان پہنچا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب ہی چور ہیں تو پھر عوام کے مسائل کون حل کرے گا؟ اگر تمام توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف ہوں گی تو ملک آگے کیسے بڑھے گا؟ آج عوام بنیادی مسائل کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ گیس کا بحران، بجلی کی قلت، پانی کی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بے شمار مسائل عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ جمہوریت کا اصل حسن تو جمہور کی خدمت میں ہے،لیکن افسوس کہ خدمت کے بجائے اقتدار کی کشمکش نے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اقتدار کی کرسی کوئی دائمی شے نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا بھی ہے اور امتحان بھی۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی حیثیت، طاقت یا عہدہ ہمیشہ اس کے پاس رہے گا، وہ تاریخ کے آئینے میں اپنا انجام دیکھ لے۔ دنیا گواہ ہے کہ غرور اور تکبر نے بڑے بڑے تاجداروں کو مٹی میں ملا دیا۔ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی میں لوٹ جانا ہے، پھر یہ تکبر کس بات کا؟

    بدقسمتی سے اقتدار کے اردگرد خوشامدیوں کا ایک ہجوم بھی جمع ہو جاتا ہے۔ یہی خوشامد کرنے والے لوگ انسان کو حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ وہ اسے اس کی کمزوریاں نہیں بتاتے بلکہ اس کے غرور کو مزید بڑھاتے ہیں۔ حالانکہ سچا خیرخواہ وہ ہے جو آئینہ دکھائے، نہ کہ وہ جو تعریفوں کے پل باندھ کر انسان کو حقیقت سے بے خبر کر دے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان، بیوروکریٹ اور تمام بااثر طبقات اپنے اندر جھانکیں۔ وہ سوچیں کہ تاریخ ان کے عہدوں کو نہیں، ان کے کردار کو یاد رکھے گی۔ لوگ ان کی گاڑیوں، لباسوں اور پروٹوکول کو نہیں، بلکہ ان کی خدمت، انصاف اور دیانت کو یاد رکھیں گے۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کا راستہ غرور اور تکبر سے نہیں بلکہ عاجزی، خدمت اور کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔ عوام کی مشکلات کو اپنا مسئلہ سمجھنا، کمزور کی آواز بننا اور ریاستی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ کر ادا کرنا ہی اصل قیادت ہے۔ کاش ہمارے صاحبانِ اقتدار یہ حقیقت سمجھ لیں کہ عزت کرسی سے نہیں، کردار سے ملتی ہے؛ اور جو عزت کردار سے ملتی ہے، اسے نہ وقت چھین سکتا ہے اور نہ تاریخ فراموش کر سکتی ہے۔