Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی،تحریر:ملک سلمان

    کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی دوسال کی کارگردگی کی دھوم ناصرف پنجاب اور پورے پاکستان بلکہ دنیا کے متعدد ممالک تک جاپہنچی۔ فلاحی و ترقیاتی کاموں کی ایسی تاریخ رقم کی, جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ ایسے میں ہر کوئی مریم نواز کی کارگردگی کا معترف نظر آرہا تھا۔ دو سال کے مختصر دورانیے میں پنجاب کی بے مثال ترقی نے پنجاب اور پاکستانی عوام کو ان کا گرویدہ بنا لیا تھا دیگر صوبوں کی عوام کہتے تھے کہ خداداصلاحیتوں اور عوامی فلاح و بہبود کی تاریخ رقم کرنی والی مریم نواز کو وزیراعظم ہونا چاہئے تاکہ پورے پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔
    مریم نواز شریف طلبہ و طالبات کی پسندیدہ سیاسی شخصیت بن چکی تھیں۔

    بدقسمتی سے کتے کے کاٹنے سے ایک بچے کی ہلاکت کا واقع ہوتا ہے تو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف انتظامی افسران کی سخت سرزنش کرتی ہیں کہ پنجاب کے ہر بچے اور شہری کی حفاظت کو پہلی ترجیح بنایا جائے ساتھ ہی انہوں نے انتظامی افسران کو وارننگ جاری کی کہ کہیں بھی انسانی جان کا نقصان ہوا تو متعلقہ افسر کو سزا ملے گی۔
    شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے زخمی کتوں کا علاج معالجہ اور انکی ویکسینیشن کرنے کی بجائے ہمیشہ سے اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی ماہر بیوروکریسی نے انسانیت اور ضمیر کو مردہ کرکے وحشی جلاد کا روپ دھار لیا اور کتوں کی لاشوں کے ڈھیڑ لگادیے۔ ستھرا پنجاب جس کی دھوم مچی ہوئی تھی اس کے ورکرز کے ہاتھوں میں جھاڑو کی بجائے بندوق دے کر کتے مارنے پر لگادیا گیا جبکہ کچرا اٹھانے والی گاڑیوں میں کتوں کی لاشوں کی تصایر کو قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کے ساتھ شئیر کیا۔

    معصوم و بے زبان کتوں کے قتل عام نے ہر باضمیر انسان کو دکھی کردیا۔
    گذشتہ دنوں ایک دوست ملنے آئے تو کہنے لگے کہ چند دن قبل ڈپٹی کمشنرز کے انٹرویو تھے تو اس نے ڈی سی شپ سے انکار کردیا کہ اگر ڈی سی لگ کر ان معصوم جانوں کو قتل کرنا ہے تو ایسی ڈی سی شپ سے معذرت۔
    لاکھوں طلبہ و طالبات نے سوشل میڈیا پر
    ” 💔Broken Heart💔“
    کے ساتھ "سٹاپ ڈاگ کلنگ” کے سٹیٹس لگائے۔ ہزاروں طلبہ کے سوشل میڈیا سٹیٹس تھے کہ مریم نواز اگر آپ ان معصوموں کے قتل کا حکم دے رہی ہیں تو
    we no more love you 😞🙏

    اندرون لاہور کی چند خواتین کا انٹرویو وائرل ہورہا ہے کہ کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی، مذکورہ ویڈیو میں خواتین مادر جمہوریت کلثوم نواز کی رحم دلی اور شخصیت کے حوالے سے بتا رہی تھی کہ مرحوم کلثوم نواز تو باقاعدگی سے ان بے گھر کتوں کیلئے روٹی کا اہتمام کرتی تھیں۔مختلف دیہاتوں سے ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں ستھرا پنجاب اور میونسپل کمیٹی کے اہلکار جانوروں کی حفاظت کیلے رکھے گئے پالتو کتوں کو بھی زہر دے کر چلے گئے۔

    سپیشل برانچ اور انٹیلیجنس بیورو سے رپورٹ لیں آپ کو خوفناک حقائق ملیں گے کہ کتوں کو مارنے کے واقعات کے دوران کتنے شہری فائرنگ سے زخمی ہوئے اسی طرح کتوں کو مارنے کیلئے پھینکے گئے strychnine زہر سے چار بچوں کی ہلاکت اور درجنوں بچوں کے ہسپتال میں جانے کی اطلاعات ہیں۔ فائرنگ اور زہر سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کا کون ذمہ دار؟پنجاب بھر کے اضلاع کیلے ایک ہی ٹھیکیدار سے خریدے گئے strychnine زہر کی وجہ سے فضا زہریلی ہوچکی ہے۔

    جب سے کتا مار مہم شروع گئی کی گئی ہے تب سے کتا کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا کتا اگر مرتا نہیں ہے تو وہ زخموں کی وجہ سے باؤلا ہو جاتا ہے ۔
    گزارش ہے کہ کتوں کو فائرنگ اور زہر سے باؤلا کرنے یا تڑپا تڑپا کر مارنے کی بجائے ویکسینیشن کریں۔

    وزیر اعلیٰ تک کوئی بھی حقائق پہنچانے کی زحمت نہیں کرتا کہ آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔ بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔

    کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کر دینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں اس لیے کتوں کو مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرنی چاہئے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔ زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔

    بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔
    کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے اور انتہائی وفادار ساتھی سمجھا جاتاہے۔
    کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ہزاروں سالوں سے انسانی ابادی میں رہنے والے کتوں کو ختم کرنے سے ایکو سسٹم بری طرح متاثر ہوگا۔ ماضی میں اسی طرح ان سرکاری بے عقلوں نے چیلوں کا خاتمہ کیا تھا تو بعد میں ہمیں بیرون ملک سے چیلیں امپورٹ کرنی پڑی تھی۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان نے جس ذمہ داری، دانشمندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین اور ناقابلِ فراموش ہے

    ممتاز تجزیہ شہزاد قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ سے لے کر یورپ، مڈل ایسٹ اور دیگر عالمی خطوں تک پاکستان کا مثبت امیج بہتر بنانے میں ہماری عسکری قیادت، بالخصوص آرمی چیف، اور ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ سویلین حکومت، وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ نے نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دی ہے، اور حالیہ حالات میں بھی یہی پالیسی دنیا کے سامنے واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر آج دنیا ایک بڑے تصادم سے محفوظ ہے اور کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے تو اس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ذمہ دارانہ کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    شہزاد قریشی کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بھارت مسلسل پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے، جو دراصل اس کی بوکھلاہٹ اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اب پاکستان کے امن پسند کردار کو تسلیم کر رہی ہے، اور بے بنیاد الزامات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حقیقت کو تسلیم کرے، خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرے اور پاکستان کے خلاف منفی مہم بند کرے۔ پاکستان ایک ذمہ دار، پرامن اور باوقار ریاست ہے، اور اس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عزت اور مقام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    میجر (ر) ہارون رشید — دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان کی جانب سے حال ہی میں اپنے مقامی طور پر تیار کردہ SMASH میزائل کا بحری پلیٹ فارم سے کامیاب تجربہ ملکی دفاعی صلاحیتوں میں ایک نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی رفتار اور حدِ مار سے متعلق سرکاری تفصیلات محدود ہیں، تاہم دستیاب اشارے بتاتے ہیں کہ یہ نظام ایک جدید اور زیادہ مؤثر ورژن ہے—جسے غیر رسمی طور پر SMASH-II کہا جا رہا ہے—جو ممکنہ طور پر میخ 10 سے زیادہ رفتار (ہائپر سونک) اور 400 کلومیٹر سے زائد رینج کا حامل ہو سکتا ہے۔

    یہ پیش رفت کوئی الگ تھلگ کامیابی نہیں بلکہ دفاعی جدیدکاری کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔ SMASH میزائل کے تجربے کی اصل اہمیت اس کی بحری تعیناتی میں ہے، جو ایسے وقت میں پاکستان کی بحری ڈیٹرنس کو مضبوط بناتی ہے جب جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک ماحول مزید پیچیدہ اور مسابقتی ہوتا جا رہا ہے۔

    اس تجربے کا ایک اہم پہلو پاکستان کی سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت اور مجموعی ڈیٹرنس پوزیشن میں اضافہ ہے۔ اس سے قبل آبدوز سے داغے جانے والے ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز کے تجربات ایک قابلِ اعتبار سمندری ڈیٹرنس کی جانب پیش رفت کا عندیہ دے چکے ہیں۔ SMASH جیسے جدید میزائل سسٹمز کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کرنا اس صلاحیت کو مزید تقویت دیتا ہے، جو مستقبل میں روایتی اور ممکنہ طور پر ٹیکٹیکل ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی فراہم کر سکتا ہے۔

    اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے پاکستان بتدریج ایک ایسے “ٹرائیڈ نما ڈیٹرنس فریم ورک” کو مستحکم کر رہا ہے جو فضاء، زمین اور سمندر تینوں جہتوں پر محیط ہے۔ اگرچہ یہ بڑی طاقتوں کے روایتی نیوکلیئر ٹرائیڈ جیسا مکمل نظام نہیں، تاہم یہ کثیر جہتی ڈیٹرنس بقا، متبادل صلاحیت اور فوری ردعمل کی لچک میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    جنوبی ایشیا کے تناظر میں، جہاں سلامتی کے معاملات دیرینہ رقابتوں—خصوصاً بھارت کے ساتھ—سے متاثر ہوتے ہیں، ایسی پیش رفت کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ SMASH میزائل کی بحری جہازوں سے تعیناتی دشمن کی منصوبہ بندی میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کرتی ہے۔ یہ عملی طور پر جنگی میدان کو سمندری حدود تک پھیلا دیتی ہے اور مخالف کو سمندر سے آنے والے تیز رفتار اور طویل فاصلے کے خطرات کو مدنظر رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

    یہ پیش رفت خاص طور پر بھارت کی بڑھتی ہوئی بحری قوت اور بحرِ ہند میں اس کے اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے تناظر میں اہم ہے۔ پاکستانی بحری اثاثوں پر جدید میزائل سسٹمز کی موجودگی ایک مؤثر جوابی حکمتِ عملی کے طور پر کام کرتی ہے، جو “ڈیٹرنس بائی ڈینائل” کو مضبوط بناتی ہے۔ اس سے کسی بھی ممکنہ سمندری مداخلت کی لاگت اور خطرہ بڑھ جاتا ہے، یوں باہمی کمزوری کے اصول کے تحت اسٹریٹجک استحکام کو تقویت ملتی ہے۔

    تاہم، اس طرح کی پیش رفت خطے میں جاری اسلحہ جاتی مقابلے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے جیسے پاکستان اور بھارت اپنے عسکری نظام—بشمول میزائل، بحری پلیٹ فارمز اور نگرانی کی ٹیکنالوجیز—کو جدید بنا رہے ہیں، غلط اندازے یا غلط فہمی کے خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال میں اعتماد سازی کے اقدامات، مؤثر مواصلاتی ذرائع اور اسٹریٹجک تحمل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

    آخر میں، SMASH میزائل کا تجربہ محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ کثیر جہتی میدانوں میں ایک قابلِ اعتماد اور لچکدار ڈیٹرنس برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ جہاں قومی دفاع کو مضبوط بناتا ہے اور اسٹریٹجک توازن کو بہتر کرتا ہے، وہیں جنوبی ایشیا میں عسکری مسابقت کی بدلتی نوعیت کو بھی اجاگر کرتا ہے—جہاں ایک شعبے میں پیش رفت پورے خطے کے سکیورٹی توازن کو متاثر کرتی ہے

  • لوڈشیڈنگ کا عذاب: وعدوں سے آگے حل کب؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    لوڈشیڈنگ کا عذاب: وعدوں سے آگے حل کب؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    توانائی بحران: عوام کی آزمائش یا حکومتی ناکامی؟
    بجلی، گیس اور بے بسی: نظام کب بدلے گا؟
    تجزیہ شہزاد قریشی
    بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بنیادی ہیں، اور ان کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی، صحت اور معیشت پر پڑتا ہے۔ لیکن اس معاملے کو صرف یہ کہہ کر ختم کر دینا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران ایک دن یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط پالیسیوں، ناقص منصوبہ بندی، درآمدی ایندھن پر انحصار اور بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔

    یہ ماننا پڑے گا کہ ہر سال گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی وہی پرانے وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ بیانات دیے جاتے ہیں، تسلیاں دی جاتی ہیں، مگر عملی طور پر عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔ شدید گرمی میں بجلی کی بندش نہ صرف اذیت کا باعث بنتی ہے بلکہ اسپتالوں، گھروں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ گیس کی قلت سردیوں میں الگ مصیبت بن کر سامنے آتی ہے۔ ایسے میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔

    تاہم اصل مسئلہ محض ایک حکومت یا چند سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں۔ توانائی کے شعبے میں مستقل مزاجی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ہر نئی حکومت پچھلی پالیسیوں کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے، جس سے نہ صرف تسلسل ختم ہوتا ہے بلکہ وسائل کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، لائن لاسز اور بجلی چوری جیسے مسائل بھی اس بحران کو مزید سنگین بناتے ہیں۔

    اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس مسئلے کا حل موجود ہے، مگر اس کے لیے سیاسی عزم، ادارہ جاتی مضبوطی اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔ پاکستان کو مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے متبادل ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی کی طرف تیزی سے جانا ہوگا۔ یہی واحد راستہ ہے جو نہ صرف بجلی کو سستا بنا سکتا ہے بلکہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بھی نجات دلا سکتا ہے۔ساتھ ہی گورننس کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب تک اداروں میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک بہترین منصوبے بھی کاغذوں تک محدود رہتے ہیں۔ عوام کو محض وعدوں اور بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مطمئن کرنا ہوگا۔

    جمہوریت ایک خوبصورت نظام ہے، مگر اس کی خوبصورتی اسی وقت برقرار رہتی ہے جب یہ عوامی مسائل کو حل کرے اور لوگوں کی زندگی میں بہتری لائے۔ اگر بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں محض الزام تراشی سے آگے بڑھ کر قومی مفاد میں مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تاکہ عوام کو اس دیرینہ مسئلے سے حقیقی نجات مل سکے۔

  • نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    عصرِ حاضر کی بساط پر بچھا ہوا انسانی معاشرہ ایک ایسے تضاد کا شکار ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی کے کسی بھی ورق میں نہیں ملتی۔ یہ صدی اپنے جلو میں ترقی کے جو چراغ لے کر آئی تھی، ان کی چکا چوند نے انسانی بصیرت کو اس حد تک خیرہ کر دیا ہے کہ اب ہمیں روشنی تو دکھائی دیتی ہے مگر راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ہم ایک ایسے ہجومِ ناآشنائی کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے سے جڑا ہوا (Connected) ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر حقیقت میں ہر فرد تنہائی کے ایک ایسے جزیرے پر مقیم ہے جس کے چاروں طرف خاموشی کا سمندر موجزن ہے۔

    قدیم یونانی فلسفہ ہو یا مشرقی تصوف، انسان کو ہمیشہ "حیوانِ ناطق” یا "اشرف المخلوقات” کے طور پر اس کے سماجی اور روحانی رشتوں سے پہچانا گیا، مگر آج کا انسان "حیوانِ مشینی” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہماری زندگیوں میں رفتار کا وہ تلاطم ہے جس نے سکونِ قلب کی متاع چھین لی ہے۔ ہم وقت کی دھول اڑاتے ہوئے اس منزل کی طرف گامزن ہیں جس کا کوئی نشان نہیں، اور اس بھاگ دوڑ میں ہم وہ لمحہ کھو بیٹھے ہیں جسے "ادراکِ ذات” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ان کہی اور ان دیکھی تھکن ہے جو ہڈیوں میں نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں میں سرایت کر چکی ہے۔

    ٹیکنالوجی کے اس عہدِ غلبہ میں انسانی جذبات کو "مصنوعی بصارت” (Artificial Vision) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ وہ احساسات جن کے اظہار کے لیے کبھی غزل کے قافیے اور نظموں کے استعارے بھی کم پڑ جایا کرتے تھے، اب محض ایک "ایموجی” یا "ری ایکشن” کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ لفظوں کی حرمت پامال ہو چکی ہے کیونکہ اب وہ دل سے نہیں بلکہ مصلحتوں کی اسکرین سے جنم لیتے ہیں۔ ہم نے رفاقتوں کو "ڈیجیٹل سگنلز” میں مقید کر دیا ہے؛ ملاقاتیں اب باہمی لمس اور آنکھوں کی گفتگو سے عاری ہو کر بے جان پکسلز (Pixels) میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

    ادب ہمیشہ سے انسانی ضمیر کا آئینہ دار رہا ہے، مگر آج کا انسان خارجی دنیا کے مصنوعی شور میں اتنا محو ہے کہ اسے اپنے اندر سے اٹھنے والی کراہیں سنائی نہیں دیتیں۔ ہم دوسروں کے "ڈیجیٹل اسٹیٹس” کو دیکھ کر اپنی زندگی کے معیار مقرر کرتے ہیں، مگر اپنی روح کے اس بوجھ کو بانٹنے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں پاتے جو اسے روز بروز کچل رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب آنسو بھی اسٹوریز میں "نمائش” کے لیے رکھے جاتے ہیں اور دکھ کو بھی "پبلک ڈسپلے” کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ کرب جو کبھی صیغہِ راز میں رہ کر انسان کو کندن بناتا تھا، اب محض سستی شہرت کا ذریعہ بن گیا ہے۔

    یہ دورِ ترقی دراصل "اجتماعی بیگانگی” کا عہد ہے۔ ہم ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے کئی افراد کے درمیان رہ کر بھی ان سے میلوں دور ہوتے ہیں۔ قربت کا مفہوم اب جسمانی موجودگی نہیں بلکہ "آن لائن” ہونا رہ گیا ہے۔ یہ ایک ایسی تنہائی ہے جو صحراؤں میں نہیں بلکہ بھرے مجمعوں میں پیدا ہوتی ہے—ایسی تنہائی جہاں آپ کے پاس "فرینڈ لسٹ” میں تو ہزاروں لوگ ہوں، مگر دستک دینے کے لیے کوئی ایک بھی دروازہ حقیقی نہ ہو۔
    شاید مستقبل کا مورخ ہماری اس تہذیب پر نوحہ لکھتے ہوئے کہے گا کہ وہ لوگ کائنات کی تسخیر کے خواب دیکھتے تھے مگر اپنے وجود کی سرحدوں سے ناواقف تھے۔ انہوں نے جینے کے تمام اسباب تو فراہم کر لیے تھے، مگر "جینے کے ڈھنگ” سے محروم رہے۔ ہم نے سب کچھ پا لیا، مگر افسوس کہ اس سارے عمل میں ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا۔ یہ عہد دراصل اس حقیقت کا شاہد ہے کہ اگر احساس مر جائے تو انسان محض ایک گوشت پوست کا مشینی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے

  • امن کا مرکز، اسلام آبادتحریر: رانا شہزادہ الطاف

    امن کا مرکز، اسلام آبادتحریر: رانا شہزادہ الطاف

    دنیا اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ سے اٹھنے والی چنگاریاں کسی بھی وقت پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے کر تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی تھیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور بقا کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ لیکن ایسے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد نے ایک بار پھر "امن کے پیامبر” کے طور پر اپنا لوہا منوا لیا۔

    حالیہ امریکہ و ایران مذاکرات کا اسلام آباد میں کامیاب انعقاد اور ان کا حل ہونا محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کی بہت بڑی جیت ہے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے تو شاید آج دنیا ایک ایسی تباہی کا منظر دیکھ رہی ہوتی جس کا تصور ہی لرزہ خیز ہے۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ ٹکراؤ کا مطلب نسلِ انسانی کا خاتمہ تھا۔

    پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست ہے جو جنگوں میں فریق بننے کے بجائے امن کے پل تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام آباد کی پرسکون فضاؤں میں ہونے والے ان فیصلوں نے ثابت کیا کہ بڑی سے بڑی غلط فہمی اور دیرینہ دشمنی کا حل بھی بندوق کی گولی میں نہیں بلکہ میز پر موجود مکالمے میں ہے۔اس کامیابی نے جہاں دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب سائے سے نکالا ہے، وہاں پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ آج پوری دنیا سکھ کا سانس لے رہی ہے، اور اس امن کا سہرا ان تمام قوتوں کے سر ہے جنہوں نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے تباہی کے دہانے سے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔بلا شبہ، اسلام آباد نے آج تاریخ کا رخ موڑ کر دنیا کو ایک نئی زندگی کی امید دی ہے۔

  • تیسری عالمی جنگ کا ٹل جانا اور اسلام آباد کا تاریخی کردار،تحریر: جان محمد رمضان

    تیسری عالمی جنگ کا ٹل جانا اور اسلام آباد کا تاریخی کردار،تحریر: جان محمد رمضان

    تاریخ کے صفحات جب بھی پلٹے جائیں گے، اکیسویں صدی کے اس عشرے کو انسانیت کے لیے انتہائی نازک دور قرار دیا جائے گا۔ ایک ایسا وقت جب جدید ٹیکنالوجی اور مہلک ہتھیاروں نے انسان کو طاقت کے نشے میں چور کر دیا تھا، عین اسی وقت مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں سے اٹھنے والی امریکہ اور ایران کی کشیدگی نے دنیا کو ہولناک تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ عالمی مبصرین پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں ہے، جس کے بعد شاید زمین پر زندگی کے آثار باقی نہ رہیں۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، اور امن کی اس تلاش کا مرکز بنا پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد۔

    حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے کامیاب مذاکرات محض دو ممالک کے درمیان مفاہمت نہیں بلکہ عالمِ انسانیت کی بقا کا پروانہ ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے حالات جس نہج پر پہنچ چکے تھے، وہاں ایک معمولی سی چنگاری بھی عالمی آتش فشاں کو پھاڑنے کے لیے کافی تھی۔ بحیرہ عرب سے لے کر خلیجِ فارس تک پھیلے ہوئے تنازعات نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کو مفلوج کر دیا تھا۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ کا خطرہ اتنا بڑھ چکا تھا کہ بڑی طاقتیں بھی بے بس نظر آ رہی تھیں۔
    ایسے میں اسلام آباد کا بطورِ میزبان سامنے آنا اور دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر جرات مندانہ فیصلے کروانا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک عظیم الشان فتح ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ عالمی امن کے قیام کے لیے اس کا کردار ناگزیر ہے۔ ان مذاکرات کی کامیابی نے ان تمام سازشی نظریات کو دفن کر دیا جو پاکستان کو تنہائی کا شکار دیکھنا چاہتے تھے۔

    اس امن معاہدے کے اثرات دور رس ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا اس ہولناک ایٹمی جنگ سے بچ گئی جو شاید انسانی تہذیب کا آخری باب ثابت ہوتی۔ اسلام آباد کی پُرکشش فضاؤں میں ہونے والے ان مکالموں نے ثابت کیا کہ سفارت کاری وہ ہتھیار ہے جو بڑی سے بڑی فوج اور مہلک ترین میزائل سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس کامیابی نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور درمیان میں پاکستان جیسا مخلص ثالث موجود ہو، تو دہائیوں پرانی دشمنی بھی دوستی اور مفاہمت میں بدل سکتی ہے۔

    آج جب دنیا کے بڑے بڑے دارالحکومت جنگ کے سائے میں سہمے ہوئے تھے، اسلام آباد سے نکلنے والی امن کی اس کرن نے پوری دنیا کو امید کی نئی روشنی دی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے بھی ایک سنہری موقع ہے کہ وہ خود کو خطے میں معاشی اور سفارتی مرکز کے طور پر منوائے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں، جبکہ ترقی کا راستہ صرف اور صرف امن کی شاہراہ سے گزرتا ہے۔ جان محمد رمضان کی یہ تحریر اس بات کی گواہ ہے کہ آج اسلام آباد نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب سائے سے نکال کر تاریخ کا رخ موڑ دیا ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور سعودی ولی عہد کا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور سعودی ولی عہد کا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    محمد بن سلمان کا کردار: مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید
    سعودی عرب کی متوازن حکمتِ عملی: جنگ کے بجائے سفارتکاری
    خطے کے بحران میں دانشمند قیادت: محمد بن سلمان کا وژن
    تجزیہ شہزاد قریشی
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بدامنی، کشیدگی اور جنگی حالات کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے نازک اور حساس وقت میں علاقائی قیادت کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بحرانی صورتحال میں جس حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف محتاط بلکہ دوراندیشی پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔
    سعودی عرب، جو کہ عالمِ اسلام کی ایک اہم اور بااثر طاقت ہے، اگر چاہتا تو براہِ راست کسی بھی تنازع میں فریق بن سکتا تھا، مگر موجودہ قیادت نے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی پالیسی میں توازن، تحمل اور مکالمے کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔

    ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک طرف اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا، تو دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور مختلف علاقائی قوتوں کے درمیان رابطوں کا فروغ، اس پالیسی کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ حکمتِ عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب اب محض ایک تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی قوت کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

    مزید برآں، سعودی قیادت نے عالمی سطح پر بھی امن کے پیغامات کو تقویت دی ہے۔ جنگی ماحول میں ثالثی کی پیشکش اور مذاکرات کی حمایت، اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض اب تنازعات کے حل میں ایک کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب ایک نئی سمت کی طرف گامزن ہے، جہاں جنگ کے بجائے استحکام، معیشت اور ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ موجودہ حالات میں یہ طرزِ عمل نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے لیے امید کی ایک کرن بن سکتا ہے۔

  • میرےقلم کی دھنک  ،تحریر: ماریہ خان

    میرےقلم کی دھنک ،تحریر: ماریہ خان

    ایک طاقت، ایک مضبوط بنیاد، ایک رشتہ جو ہمارا قلم کے ساتھ ہے، ایک ایسی آواز جس کی طاقت کو آج تک دبایا نہیں جا سکا، وہ ہے قلم۔ قلم کی آواز میں ایسی طاقت ہے، جس کا شور سماعتوں تک اپنی گونج سے راستے بناتا ہوا خود پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے، جس کی مدد سے کوئی بھی فرد جو صرف قلم پکڑنا جانتا ہو، وہ اپنے جذبات کو کاغذ پر اتار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ،یہ بات اہم نہیں کہ جذبات منفی ہیں یا مثبت، ایک کالم نگار جب قلم اٹھاتا ہے تو معاشرے میں چھپی برائی کو بنا کسی ڈر، خوف اور مصلحت کے تنقید برائے اصلاح کی شکل میں قرطاس پر اتار دیتا ہے، ایک شاعر قلم اٹھاتا ہے تو زمانے کی دھوپ چھاؤں، محب کے ملن اور وصل، محبت و عداوت کو اپنے اشعار میں پرونے لگتا ہے، ایک افسانہ نگار، کہانی کار سمیت کوئی بھی لکھاری جب قلم تک رسائی لیتا ہے تو اپنے جذبوں اور ارد گرد کے حالات کو کہانیوں، افسانوں میں بہت خوبصورتی سے ڈھالنے کی طاقت رکھتا ہے، اگر دیکھا جائے تو لکھا تو ایک ہی قلم سے جاتا ہے یا یوں کہئے کہ جیسے ایک گاڑی ہے اور ڈرائیور اسے اپنے حساب اور ضرورت سے چلاتا ہے، اسی طرح قلم کی بھی یہی کیفیت ہے، اس کے بھی کئی رنگ ہیں، جیسے قوس قزاح کے سات رنگ بارش کے بعد قوس و قزاح آسمان پر اپنے خوبصورت رنگ بکھیرتی نظر آتی ہے، اسی طرح قلم کے بھی الگ الگ رنگ یا انہیں قلم کی دھنک کہہ سکتے ہیں۔

    بے شمار مصنف تو ایسے بھی گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں،جن کا دوست اور کل اثاثہ صرف قلم رہا۔ قلم کی دھنک ایک سمندر کی مانند ہے، اس کی دنیا بہت وسیع ہے، قلم سے زندگیاں سنورتی دیکھیں، مگر یہی قلم جب کسی جاہل کے ہاتھ آتا ہے تو وہ انسانیت کے تقاضوں کو خاک میں ملانے میں لمحہ بھر نہیں لگاتا، ایسے بے شمار قلم کاروں کو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے دیکھا۔ یہ ان لوگوں کی بد قسمتی ہے، جو قلم کی طاقت اور اس کے فیض سے محروم ہیں۔ ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو جان بوجھ کر محروم رہنا چاہتا ہے، قلم صرف یہ نہیں کہ ایک فرد واحد نے قلم اٹھایا اور اپنا حال کاغذ کی نذر کر دیا، قلم کا مقصد تو انسانیت کی اصلاح ہے، قوم کی بیداری ہے، لوگوں کے سوئے ہوئے ناقص ذہنوں کی آبیاری ہے، جو درسگاہوں سے اپنی نسلوں کو دور رکھتے ہیں، ان کے ذہنوں میں نفرتوں کے بیج بوتے چلے آ رہے ہیں اور یہ کام نسل در نسل چل رہا ہے، اسے روکنا تو درکنار ہے، مگر ایک کوشش ضرور کی جاسکتی ہے، قلم کار ہر قدم صرف ایک کوشش کا محتاج ہے۔ ہماری ترقی، ہماری آسائشیں، ہماری نوجواں نسل کے خواب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں قلم کے سات رنگوں میں سے کسی نہ کسی رنگ سے جا کے جڑتے ہیں۔ اس دھنک رنگ میں ایسی طاقت ہے کہ اگر کوئی فرد اس کا صحیح استعمال جانتا ہے تو وہ ایک پورے خطے کی سوچ بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہماری زندگیاں قلم اور قلم کی آواز کے گرد گردش کرتی ہیں اور اگر کوئی اس حقیقت کو جھٹلاتا ہے تو یہ اس کی گمراہی اور ناسمجھی ہے، کیونکہ قلم کا کارواں تو ایک سیلاب کی مانند اپنے راستے بناتا چلتا جا رہا ہے اور اس کارواں میں مسافر شامل ہوتے جا رہے ہیں، جب مختلف ہاتھ اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو وہی ایک قلم اور اس کی سیاہی مختلف رنگوں، سوچوں، ثقافتوں کی گہرائیوں میں رنگ جاتی ہے۔ قلم کے فروغ کے لئے ادبی بیٹھک کا اہتمام مدارس سے ہی شروع کیا جائے، تاکہ ہماری نسلوں میں تحریک اور شوق بچپن اور بلوغت میں ہی بنیاد پکڑ لے، کیوں کہ مضبوط بنیادیں ہی خوبصورت عمارتوں کا بوجھ سنبھال سکتی ہیں۔

  • گوجرخان مسائل کی آماجگاہ، سسکتی عوام اور تماشائی نمائندے،تحریر  : قمر شہزاد مغل

    گوجرخان مسائل کی آماجگاہ، سسکتی عوام اور تماشائی نمائندے،تحریر : قمر شہزاد مغل

    آج گوجرخان کی گلیوں میں گھومتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ شہر جو کبھی اپنی زندہ دلی کے لیے جانا جاتا تھا، آج مسائل کی گرد میں اٹا ہوا ایک ایسا لاوارث علاقہ معلوم ہوتا ہے جہاں سفید پوش طبقہ اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے روزانہ ایڑھیاں رگڑنے پر مجبور ہے۔ گوجرخان کے باسیوں کے لیے بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ واپڈا اور گیس آفس کے افسران کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گھنٹوں بجلی غائب رہنا معمول بن چکا ہے، جس نے کاروبارِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر گیس کی نایابی نے پوری کر دی ہے مائیں بہنیں ٹھنڈے چولہوں کے سامنے بیٹھی دہائیاں دے رہی ہیں، مگر سلنڈر مافیا کی چاندی ہے۔ بل تو ہزاروں میں آتے ہیں مگر سہولیات کے نام پر صرف ذلت اور رسوائی شہریوں کا مقدر بن چکی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت نے شہر کو ایک نئے انسانی المیے سے دوچار کر دیا ہے۔ پانی کی سپلائی کا نظام درہم برہم ہے۔ فلٹریشن پلانٹس صرف نمائشی رہ گئے ہیں، اور غریب آدمی مہنگے داموں پانی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ کیا اس جدید دور میں بھی گوجرخان کے شہریوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ایک بوند صاف پانی مانگتے ہیں؟افسوس تو اس بات کا ہے کہ جن نمائندوں کو ہم نے اپنا درد بانٹنے کے لیے ووٹ دیا، ان کی سیاست اب صرف جنازوں، ولیموں اور شادیوں میں حاضری لگوانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی کے ولیمے پر مسکرا کر مل لینا یا کسی کے جنازے میں صفِ اول میں کھڑا ہو جانا ہی عوامی خدمت ہے۔ جناب، ان متاثرین سے پوچھیں جن کے گھر میں گیس نہیں کہ روٹی پکا سکیں، ان کے لیے آپ کی ان رسمی حاضریوں کی کیا اہمیت ہے؟ عوامی مسائل پر فوکس تو جیسے ان کے منشور سے ہی خارج ہو چکا ہے۔خوشامدی ٹولہ اور مصلحت پسند فلاسفر
    شہر میں مصاحبوں، مالشیوں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالنے والوں کی ایک ایسی فوج تیار ہو چکی ہے جس نے حقائق اور نمائندوں کے درمیان دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔ حیرت تو ان نام نہاد سماجی تنظیموں اور دانشوروں پر ہے جن کے پاس ہر مسلے پر فلسفہ تو موجود ہے، مگر جب حق کی بات کرنے یا عوام کے لیے سڑک پر نکلنے کا وقت آتا ہے تو مصلحت کی چادر اوڑھ کر کونوں میں دبک جاتے ہیں۔ نجانے یہ لوگ سچ بولنے سے کیوں خوف کھاتے ہیں؟ کیا تعلقات نبھانا عوامی حقوق سے زیادہ مقدم ہے؟ واپڈا ہو، گیس آفس، بلدیہ ہو یا پولیس اسٹیشن غریب آدمی کے لیے یہاں صرف تذلیل لکھی ہے۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں عوام کو ناکوں چنے چبوانا روز کا معمول ہے۔ اور بات کریں سرکاری ہسپتال کی، تو وہاں علاج کے بجائے کھجل خواری مقدر بن چکی ہے، جہاں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ گوجرخان کا یہ حال دیکھ کر علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آتا ہے کہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجامِ گلستاں کیا ہوگا۔ جب تک اس شہر کے باسی اپنے شعور کو بیدار نہیں کریں گے، جب تک ہم تعلقات پالنے کے بجائے حقوق مانگنے کو ترجیح نہیں دیں گے، یہ خوشامدی ٹولہ اسی طرح بھنگڑے ڈالتا رہے گا اور ہمارا شہر اسی طرح سسکتا رہے گا۔