Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    وہ دونوں ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا
    ایک ہاتھ میں لرزتی ہوئی دعا
    اور دوسرے میں عمر بھر کی تھکن۔
    سفید داڑھی میں الجھی ہوئی سسکیاں جھریوں میں قید برسوں کے دکھ اور آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ جیسے دنیا کی روشنی سے نہیں، اپنی قسمت کی سختی سے آنکھیں چرا رہا ہو۔
    یہ وہ ہاتھ تھے جنہوں نے کبھی کسی کے سامنے نہیں پھیلے تھے مگر آج رب کے حضور خالی تھے۔
    اس نے پوری زندگی محنت کی۔
    دھوپ میں جلتا رہا سردیوں میں ٹھٹھرتا رہا۔
    اولاد کے خوابوں کو اپنے خوابوں پر ترجیح دی۔
    ماں باپ کے لیے سہارا بنا بچوں کے لیے سایہ۔
    مگر جب وہ خود سہارا مانگنے کے قابل ہوا، تو سب مصروف نکلے۔
    آج اس کے پاس نہ شکوہ تھا، نہ شکایت۔
    بس ایک سوال تھا جو آنسوؤں میں ڈوبا ہوا تھا:
    “یا اللہ میں نے کسی کا حق نہیں مارا، پھر یہ تنہائی کیوں؟”
    ہوا نے اس کی کانپتی انگلیوں کو چھوا۔
    لب ہلے، آواز نہ نکلی۔
    صرف آنکھوں سے وہ آنسو گرے جو لفظوں سے زیادہ سچے تھے۔
    شاید یہ دعا کسی اخبار کے صفحے پر خبر نہ بنے
    مگر عرش تک ضرور پہنچی ہو گی۔
    کیونکہ جب انسان سب دروازے کھٹکھٹا کر تھک جائے،
    تب جو آخری دستک ہوتی ہے
    وہ سیدھی خدا کے دل پر پڑتی ہے۔
    اور خدا
    خالی ہاتھوں کو کبھی خالی نہیں لوٹاتا

  • کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    بھاٹی گیٹ حادثہ والی جگہ پر سڑک تنگ کر کے، پیدل گزرگاہ ختم کرکے غیرقانونی پارکنگ چلائی جارہی تھی۔ ایسی ہی سینکڑوں غیر قانونی پارکنگ لاہور سمیت دیگر شہروں کی ہر سڑک پر قائم ہیں۔ انتظامیہ کی رشوت ستانی کی وجہ سے تمام اہم شاہراؤں پر کار شورومز اور ورکشاپ سڑکوں پر قائم ہیں، تجاوزات کے خاتمے کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا گیا ہے۔

    شدید دھند کے دنوں میں گھروں کے باہر اور بازاروں میں بنائے گئے غیر قانونی ریمپ، گھروں کے باہر سڑک پر رکھے گئے پتھر، اضافی گرین بیلٹ اور غیر قانونی گارڈ رومز سے ٹکرا کر سینکڑوں حادثات ہوئے لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کیونکہ صرف زخمی ہونا کافی نہیں تھا، حکمرانوں تک آواز پہنچانے کیلئے مرنا ضروری ہے۔واسا، ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور میونسپل کارپوریشن کے افسران کی اربوں روپے کے بجٹ میں ڈاکہ ذنی کے راستے تلاش کرنے کے علاوہ دوسری سوچ ہی نہیں۔واسا، پی ایچ اے اور ڈی سیز نے چائنہ کی رنگ برنگی بتیوں کے ساتھ ایک ویڈیو بنا کر چیف منسٹر کو ٹیگ کر کے شاباش بھی لے لینی ہوتی ہے اور کروڑوں روپے کی گیم بھی ڈال لینی ہوتی ہے جبکہ اسی جگہ سمیت باقی سارا شہر اور ضلع کھنڈر بنا ہوتا ہے۔سرکاری میلوں، سیمینارز اور جشن بہاراں جیسی سرگرمیاں کمائی کا اہم زریعہ ہیں۔

    شعبہ صحت کا بیڑا غرق ہوچکا ہے لوگ مر رہے ہیں اور افسران جیبیں بھر رہے ہیں۔سرکاری طور پر تقسیم کیے گئے مفت ہیلمٹ اور موٹر بائک راڈز کے بل دیکھ کر آپ چکرا جائیں گے کہ ہزار فیصد ایکسٹرا ریٹ لگائے جاتے ہیں اور اگر تعداد ایک لاکھ بتائی جاتی ہے تو حقیقت میں بیس ہزار تقسیم کی جاتی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے بیس ہزار والی ریڑھی ساٹھ کی اور ساٹھ ہزار والی ایک لاکھ ساٹھ میں تیار کروا کر ریڑھی بازاروں کے نام پر خوب کمائی کی، پھر وہی ریڑھی دینے کیلئے بھی بیس سے تیس ہزار کی دھیاڑی لگائی گئی۔ پھر انہی ریڑھیوں سے روزانہ بھتہ بھی لیا جاتا ہے۔ سرکاری ریڑھی بازار کے بالکل سامنے سڑک پر پرائیویٹ ریڑھیوں اور ٹھیلوں کو بھی رشوت کے عوض دکانداری کی اجازت ہے۔ یعنی سرکاری ملازمین کی ساری توجہ فراڈ سکیموں اور پیسہ بنانے پر ہوتی ہے عوام مرتی ہے تو مرجائے انکی دھیاری لگنی چاہئے۔

    انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا جاتاہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہوتی ہے۔ گھر کے باہر زیادہ سے زیادہ 2 فٹ تک گرین بیلٹ ہوتا ہے لیکن لاہور سمیت تمام شہروں میں پانچ سے پندرہ فٹ تک گرین بیلٹ، پارکنگ اور گارڈ روم کی نام پر جگہ پر قبضہ کیا گیا ہے۔ گارڈ روم والی بدمعاشی سرکاری کن ٹٹوں نے کی ہوئی ہے۔ ہر سرکاری افسر گھر کے باہر سڑک پر گارڈ روم بنانا، بدمعاشی دکھانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔ بہت سارے افسران نے جی او آر کی تصاویر اور ویڈیوز بھیجی ہیں کہ انکے ساتھی افسران کس طرح بدمعاشی کرکے راستہ بند کردیتے ہیں اور گلی پر قبضہ کرکے پختہ تعمیرات کی ہوئی ہیں۔ جو اپنے گھر سرکاری کالونی سے تجاوزات ختم نہیں کروا سکتے وہ باہر کیا کریں گے۔

    سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جا رہی۔ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگا کر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔سرکاری گاڑیوں کی اکثریت بنا نمبر پلیٹ ہے یا نمبر کے آگے راڈ لگا کر چھپایا ہوتا ہے ، عام پبلک کا آن لائن چالان اور ان سرکاری بدمعاشوں کو کھلی چھٹی کیوں ؟رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو دو ہزار روزانہ پر بلا نمبر پلیٹ چلانے کی اجازت ہے کیوں کہ مجموعی طور پر یہ رقم 60 کروڑ روزانہ سے زائد ہے۔عام شہریوں کو ان قانون شکن اور بدمعاش سرکاری و پرائیویٹ مافیا سے انصاف اور حق لینے کیلئے مرنا ضروری ہے کیا ؟

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک طرف دنیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور دوسری طرف ہم آج بھی الیکٹرانک میڈیا، اخبارات اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری اور لاحاصل مباحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسی رسم، جسے کبھی بسنت اور کبھی روایت کا نام دے دیا جاتا ہے، اس پر گھنٹوں کی بحث قوم کی ترجیحات پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نوعیت کے مباحث پہلے بھی ہمارے فکری زوال کا سبب بنے،کبھی “کوا حلال ہے یا حرام” جیسے موضوعات نے ذہنوں کو الجھائے رکھا، اور آج وہی روش نئے عنوانات کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا شوق درست ہے یا غلط، اصل سوال یہ ہے کہ قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں؟ کیا دنیا پتنگیں اڑا کر آگے بڑھی ہے، یا تعلیم، تحقیق، صنعت اور مضبوط معیشت کے ذریعے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک میں آج بھی عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری، کمزور تعلیمی نظام اور ناقص صحت کی سہولیات جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں قومی مکالمہ اصل مسائل کے بجائے غیر سنجیدہ موضوعات کے گرد گھوم رہا ہو۔

    میڈیا کا کردار قوم کی رہنمائی اور شعور کی بیداری ہے، مگر جب توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے تو عوامی سوچ بھی منتشر ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وقت اور توجہ قیمتی قومی سرمایہ ہیں۔ اگر یہ سرمایہ غیر ضروری بحثوں میں ضائع ہوتا رہا تو نقصان صرف آج کا نہیں، آنے والی نسلوں کا بھی ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اپنے حقیقی مسائل پر توجہ دیں، درست ترجیحات طے کریں اور قومی بیانیے کو ترقی، اصلاحات اور عوامی فلاح کی سمت موڑیں۔ بصورت دیگر افسوس کے سوا ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچے گا۔

  • جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹجی اور دفاعی جدیدکاری کے ماہر، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    تعارف
    جھیلِ طبریہ—جسے بحرِ طبریہ، سی آف گلیل یا کنیرت بھی کہا جاتا ہے—شمالی فلسطین/اسرائیل میں واقع ایک میٹھے پانی کی جھیل ہے جو یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں میں غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ روحانی علامت سے بڑھ کر، آج یہ جھیل مذہب، قومی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے نازک امتزاج پر واقع ہے، جس کے باعث یہ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ زیرِ نگرانی آبی ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔

    یہودی مذہبی اہمیت
    یہودیت میں جھیلِ طبریہ یہودی تاریخ اور علمی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
    جھیل کے مغربی کنارے واقع شہر طبریہ، دوسرے ہیکل کی تباہی کے بعد یہودی تعلیم و فقہ کا ایک مرکزی مرکز بن گیا۔
    متعدد جلیل القدر یہودی علماء اور بزرگ اس کے اطرافی علاقوں میں مدفون ہیں۔
    تاریخی طور پر یہ جھیل ایک اہم میٹھے پانی کا ذریعہ رہی ہے، جس نے شمالی فلسطین میں زراعت اور آبادیوں کو سہارا دیا۔
    یہودی روایت میں جھیلِ طبریہ وراثت، تسلسل اور بقا کی علامت ہے۔

    عیسائی مذہبی اہمیت
    عیسائیوں کے نزدیک بحرِ طبریہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ اور تبلیغی مشن سے وابستہ مقدس ترین مقامات میں شامل ہے:
    حضرت عیسیٰؑ نے اس کے کناروں پر واقع بستیوں—کفرناحوم، بیت صیدا اور مگدلہ—میں وسیع پیمانے پر تبلیغ کی۔
    اس جھیل سے منسوب کئی عظیم معجزات بیان کیے جاتے ہیں:
    پانی پر چلنا
    طوفان کو پرسکون کرنا
    مچھلیوں کا معجزاتی شکار
    حواریوں کی دعوت
    یہ علاقہ حضرت عیسیٰؑ کی عوامی دعوت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اسی لیے جھیلِ طبریہ آج بھی دنیا بھر کے عیسائیوں کے لیے ایک بڑا زیارتی مقام ہے۔

    اسلامی نقطۂ نظر اور نبوی اہمیت
    اسلام میں جھیلِ طبریہ—جسے صحیح احادیث میں بحیرۂ طبریہ کہا گیا ہے—قیامت سے پہلے کے حالات (علاماتِ قیامت) میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور دجال کے ظہور سے براہِ راست منسلک ہے۔
    صحیح حدیث کا حوالہ
    حضرت فاطمہ بنت قیسؓ سے مروی ایک معروف روایت، جو صحیح مسلم میں مذکور ہے، میں حضرت تمیم داریؓ کا ایک جزیرے پر ایک زنجیروں میں جکڑے ہوئے شخص سے سامنا بیان کیا گیا، جسے بعد ازاں نبی اکرم ﷺ نے دجال قرار دیا۔
    صحیح مسلم، حدیث 2942
    دجال کے سوالات میں ایک سوال یہ تھا:
    کیا بحیرۂ طبریہ میں پانی موجود ہے؟
    جب بتایا گیا کہ ابھی پانی موجود ہے تو اس نے کہا:
    “قریب ہے کہ یہ خشک ہو جائے گا۔”
    نبی کریم ﷺ نے اس واقعے کی تصدیق فرمائی، یوں بحیرۂ طبریہ کا خشک ہو جانا دجال کے ظہور سے قبل کی بڑی علامات میں شامل قرار پایا۔
    علمائے اسلام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عارضی کمی یا موسمی اتار چڑھاؤ اس پیش گوئی کے مصداق نہیں؛ بلکہ اس سے مراد جھیل کا مکمل طور پر خشک ہو جانا ہے۔
    دجال کی جسمانی علامات (جیسا کہ صحیح احادیث میں بیان ہوا)
    نبی اکرم ﷺ نے امت کو فتنۂ دجال سے بچانے کے لیے اس کی واضح نشانیاں بیان فرمائیں:
    دجال کانا ہوگا
    اس کی دائیں آنکھ اندھی ہوگی، جسے یوں بیان کیا گیا:
    “گویا ابھرا ہوا انگور” (صحیح بخاری 3438؛ صحیح مسلم 2933)
    اس کی پیشانی پر لفظ “کافر” (كافر) لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا
    وہ جھوٹا دعویٰٔ الوہیت کرے گا اور فریب پر مبنی کرتب دکھائے گا
    اس کا فتنہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔

    جدید اسٹریٹجک اور سلامتی کا پہلو
    موجودہ دور میں جھیلِ طبریہ قومی سلامتی اور اسٹریٹجک اہمیت بھی اختیار کر چکی ہے:
    اسرائیل قومی آبی نظم و نسق اور ماحولیاتی توازن کے باعث جھیلِ طبریہ کی سطحِ آب کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔
    جھیل کے گرد بعض علاقوں میں رسائی محدود ہے، اور اطراف کے کچھ حصوں کو وقتاً فوقتاً حساس یا عسکری کنٹرولڈ زون قرار دیا جاتا رہا ہے۔
    شہری نقل و حرکت، ماہی گیری اور تعمیراتی سرگرمیاں، خصوصاً اسٹریٹجک تنصیبات کے قریب، سخت ضوابط کے تحت ہیں۔
    گزشتہ دہائیوں میں پانی کی سطح میں کمی نے اس جھیل کو محض مذہبی مقام سے بڑھا کر ایک اسٹریٹجک اثاثہ بنا دیا ہے، جس پر ریاستی ادارے کڑی نظر رکھتے ہیں۔
    یہ نگرانی نہ صرف ماحولیاتی خدشات کی عکاس ہے بلکہ پانی کی قلت کے شکار خطے میں میٹھے پانی کی جغرافیائی سیاست کی حساسیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

    اسلامی عقیدے میں حضرت عیسیٰؑ کا کردار
    اسلامی عقیدے کے مطابق دجال کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے قریب نزول فرمائیں گے اور بالآخر دجال کو قتل کریں گے، جس کے نتیجے میں عدل، حق اور اخلاقی نظام بحال ہوگا—اس سے قبل کہ انسانی تاریخ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو۔

    خلاصہ
    جھیلِ طبریہ ایمان، نبوت اور سلامتی کے ایک منفرد سنگم کی حیثیت رکھتی ہے۔
    یہودیوں کے لیے یہ علمی وراثت کی علامت ہے؛ عیسائیوں کے لیے حضرت عیسیٰؑ کی دعوت کی زندہ سرزمین؛ اور مسلمانوں کے لیے انسانیت کے آخری امتحانات سے جڑی ایک واضح نبوی نشانی۔
    جدید دور میں اس کی سخت نگرانی اور محدود حیثیت اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ جھیلِ طبریہ محض ایک مذہبی یادگار نہیں—بلکہ ایک اسٹریٹجک، علامتی اور نبوی مرکز ہے، جس کی اہمیت زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔

  • انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    ادب کی تاریخ میں بعض لمحات محض تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں رہتے بلکہ روایت، شناخت اور فکری تسلسل کی علامت بن جاتے ہیں۔ انجمن ترویجِ زبان و ادب کے قیام کو مکمل ہونے والا پہلا برس بھی ایسا ہی ایک یادگار اور بامعنی لمحہ تھا، جسے انجمن کے اراکین نے محبت، وقار اور اعلیٰ ادبی شعور کے ساتھ منایا۔ اولین یومِ تاسیس کی یہ تقریب دراصل لفظ، احساس اور رفاقت کا جشن تھی، جہاں قلم نے دلوں سے مکالمہ کیا اور ادب نے روحوں کو یکجا کر دیا۔

    تقریب کا آغاز شکرگزاری، دعا اور اس پختہ عزم کے ساتھ ہوا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب اردو زبان و ادب کے فروغ کا وہ چراغ ہے جو اخلاص، محنت اور فکری دیانت سے روشن کیا گیا ہے۔ اسی روحانی فضا میں محمد اویس کی دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرتی حمد و نعت پیش کی گئی، جس نے انجمن کو روحانی و نورانی حرارت سے سرور بخشا۔ ان کی مترنم آواز، خلوصِ عقیدت اور اثرانگیز انداز نے حاضرین کے دلوں کو ذکرِ الٰہی سے گرمایا اور محفل کو روحانی سکون سے ہمکنار کیا۔

    اس موقع پر انجمن کی بانی و سرپرست پارس کیانی کو پُرخلوص خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کے فکری وژن، گہرے ادبی شعور اور سنجیدہ رہنمائی نے اس خواب کو عملی صورت عطا کی۔ ان کا قلم اور ان کی قیادت انجمن کی فکری بنیاد اور سمت کا تعین کرتے ہیں۔منتظم اعلیٰ سلیم خان اور بانی و سرپرست پارس کیانی نے تقریب میں موقع کی مناسبت سے روح کی غذایت کا اہتمام خوبصورت گیتوں کے انتخاب کی صورت میں کیا اور ثابت کیا کہ ایسے برمحل انتخاب محفل کو توازن، لطافت اور داخلی سکون عطا کرتے ہیں۔

    منتظمِ اعلیٰ سلیم خان کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، جن کی بے لوث قیادت، ادب نوازی، انسان دوستی اور مسلسل عملی تعاون نے انجمن کو استحکام بخشا۔ وہ محض نظم و نسق کے نگران نہیں بلکہ محبتوں کے سفیر اور ادب کے سچے خادم ہیں۔ انہوں نے بھی روح کو سرشار کرنے والے گیتوں کے انتخاب سے انجمن کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔

    تقریب میں سابق منتظمِ ثانی احمد منیب کا تذکرہ نہایت عقیدت اور احترام سے کیا گیا، جو اپنی نجی مصروفیات کے باعث اس وقت انجمن سے رخصت پر ہیں۔ ان کی خوش اخلاقی، علمی ذوق اور ادبی وابستگی کو انجمن کی تاریخ کا قیمتی حوالہ قرار دیا گیا۔انتظامی ٹیم میں منتظمہ عمارہ کنول چوہدری، منتظم خان عبداللہ ایلیاء اور منتظمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی منظم، مخلص اور فعال خدمات کو انجمن کے تسلسل اور استحکام کی ضمانت قرار دیا گیا۔ ان کی انتھک محنت نے انجمن کو ایک مربوط، شائستہ اور باوقار ادبی پلیٹ فارم بنایا۔فعال اراکینِ انجمن کی خدمات تقریب کا روشن اور قابلِ فخر باب رہیں۔ ڈاکٹر ارشاد خان کو قادرالکلام شاعر و نثر نگار کی حیثیت سے فکری گہرائی اور ادبی وقار کی علامت قرار دیا گیا۔ خواجہ ثقلین سمیط کی بذلہ سنجی، شعری مہارت اور لفظوں کے برمحل استعمال نے محفل کو تازگی اور توانائی بخشی۔ رانا طارق بلال کے روزانہ سلامتی اور خیرسگالی پر مبنی پیغامات کو روحانی خوشبو سے تعبیر کیا گیا۔ عبدالرحمان واصف کے کلام میں سچائی اور اثر پذیری کو نمایاں طور پر سراہا گیا، جبکہ سید عارف لکھنوی کی حمد، نعت اور منقبت کو عقیدت اور فن کا حسین امتزاج قرار دیا گیا۔

    ڈاکٹر شگفتہ کی غزل گوئی کو نسائی حساسیت اور شعری لطافت کی نمائندہ کہا گیا۔ پروفیسر محمد صدیق بزمی کی علمی بصیرت، ادبی وقار اور وقیع انتخاب کو انجمن کا قیمتی علمی سرمایہ قرار دیا گیا۔ ثاقب قریشی، چٹکلوں کے بادشاہ، نے اپنی بذلہ سنجی سے محفل میں مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ ملک عدیل عاصم کی ادبی خدمات، محمد ساجد کی سنجیدہ اور معیاری ادبی ترسیلات، محمد عتیق الرحمن کی علمی جستجو اور فضل کریم کے قرآن و سنت پر مبنی اصلاحی و فکری پیغامات کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔

    تقریب کا ایک نہایت قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا پہلو انجمن کی جانب سے بہترین کارکردگی کے حامل اراکین کو اسنادِ اعزاز جاری کرنے کی روایت کا آغاز تھا۔ اس اقدام کو اراکین کی حوصلہ افزائی، ادبی خدمات کے اعتراف اور مثبت مسابقت کے فروغ کی عمدہ مثال قرار دیا گیا۔اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب آئندہ بھی شائستگی، برداشت، اخلاص اور فکری دیانت کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتی رہے گی۔ دعا کی گئی کہ یہ ادبی قافلہ یوں ہی علم، محبت اور خیر بانٹتا رہے اور آنے والے برس اس کی تاریخ میں مزید روشن اور یادگار ابواب کا اضافہ کریں۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • گل پلازہ ۔۔۔زندہ انسانوں کا مدفن ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    گل پلازہ ۔۔۔زندہ انسانوں کا مدفن ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    نام تو اس کا’’ گل پلازہ ‘‘ تھایعنی پھول پلازہ ۔ ’’ گل ‘‘ ۔۔۔۔مطلب پھول جو دیکھنے میں بھی خوشنما ہوتا ہے لوگوں کے لئے خوشیاں بانٹتا اور خوشبو بکھیرتا ہے لیکن کراچی کا ’’ گل پلازہ ‘‘ لوگوں کے لیے موت کا کنواں اور دہکتا ہوا الاؤ بن گیا۔ ایسا الاؤ جس نے پھول نہیں، جس نے چشم زدن میں 80زندہ انسان جلائے۔گل پلازہ لوگوں کیلئے ایسا الاؤ بن گیا جس نے خوشبو نہیں، راکھ بکھیری۔ جس نے زندگی نہیں، موت بانٹی ۔ کراچی کے اس بدقسمت پلازے میں لگنے اور بھڑکنے والی آگ کوئی اچانک حادثہ نہ تھی، یہ برسوں سے سلگتی ریاستی بے حسی تھی جو اُس دن شعلوں کی صورت پھٹ پڑی۔ یہ آگ لکڑی، کپڑے یا کیمیکل سے نہیں لگی ۔ یہ آگ غفلت، لالچ، رشوت ، مجرمانہ خاموشی اور بدانتظامی سے لگی ہے ۔اب تک 80سے زائد زندگیاں اس الاؤ میں جل کر راکھ چکی ہیں۔لیکن اصل سانحہ اعداد و شمار نہیں بلکہ اصل سانحہ وہ 30 لاشوں کی باقیات ہیں جو ایک ہی دکان سے ملیں،وہ جلی ہوئی ہڈیاں، وہ ٹوٹے ہوئے دانت، وہ راکھ میں دبے سوختہ جسم جو اپنی شناخت اور پہچان تک کھو چکے ہیں ۔۔۔جن کا ڈی این اے تک بھی ممکن نہیں۔

    سوچئے! جب اپنے بیٹے کی راہ تکتی ماں کو لاش نہیں صرف راکھ ملے ، جب باپ کو قبر نہیں صرف ایک تھیلی دی جائے۔ جب ورثا سے کہا جائے کہ شناخت ممکن نہیں تو اس ماں کے درد اور انتظار کیا کا نام کیا رکھا جائے؟ یہ کیسا نظام ہے ، جہاں انسان جل کر راکھ ہو جائے مگر فائلیں زندہ رہیں؟ چیخیں جو فائلوں میں دب گئیں ، آگ کے شعلوں میں گھرے وہ معصوم بچے، جو آخری لمحے میں ماں کو پکار رہے تھے، وہ بزرگ جو چل نہیں سکتے تھے، وہ محنت کش جو رزق کی تلاش میں آئے تھے، وہ خواتین جو زندگی کی امید لے کر گھروں سے نکلی تھیں۔۔۔۔سب کی چیخیں نظام کی بہری دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آئیں۔ کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ، کوئی فائر الارم نہیں ، کوئی اسپرنکلر نہیں ، کوئی راستہ نہیں ، بس شعلے تھے ۔۔۔۔۔۔اور موت کے بھیانک قہقہے تھے ۔

    بلاشبہ یہ ایک درد ناک سانحہ اور المیہ ہے جس پر اب طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔ کوئی کہہ رہا ہے آگ شارٹ سرکٹ سے لگی اور کوئی کہہ رہا ہے کہ آگ اچانک لگ گئی ۔ کوئی کچھ کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ ۔ یہ تمام قیاس آرائیاں درحقیقت قاتل کو بچانے کی کوشش ہے۔ یہ آگ کسی دکان دار نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی مزدور نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی ، یہ آگ اچانک نہیں بڑھکی یہ آگ ان بچوں نے بھی نہیں لگائی جو اس میں زندہ جل گئے بلکہ یہ آگ اُس نظام نے لگائی ہے ،جو پلازے بنانے کی اجازت تو دیتا ہے ، مگر انسان بچانے کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ یہ آگ اس نظام نے لگائی ہے جو پلازے بنانے کی اجازت کو دیتا ہے لیکن پلازے کے مالکان کو سیفٹی فائر سسٹم کی تنصیب اور ہنگائی راستے بنانے کے احکامات جاری نہیں کرتا ۔

    ہم سمجھتے ہیں سانحہ گل پلازہ۔۔۔۔۔ حادثہ نہیں بلکہ اجتماعی قتل عام ہے ، یہ حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نوحہ ہے۔ وہ مرد و خواتین جو صبح گھروں سے نکلے کہ شام کو بچوں کے لیے روٹی لائیں گے وہ شام کو خود کفن بن گئے۔ زندگی بھر کی وہ جمع پونجی جو دکانوں میں لگی تھی خود بھی جل گئی اور اپنے مالکوں کو بھی جلا گئی ۔ آج ان گھروں میں نہ ہنسی ہے ، نہ چراغ اور نہ امید ہے ۔۔۔۔۔۔صرف بین ہیں ، آہیں ہیں اور سناٹا ہے ۔
    گل پلازہ میں جلنے والوں میں کئی ایسے تھے جو آگ سے نہیں مرے بلکہ دم گھٹنے سے مرے ہیں ۔وہ لوگ جو سیڑھیوں کی طرف دوڑے مگر راستے بند تھے ، جو کھڑکیوں کی طرف لپکے مگر سلاخیں نصب تھیں، جو چھت کی طرف بھاگے مگر دروازہ مقفل تھا وہ سب آگ سے پہلے مایوسی میں مر گئے۔

    یہ کیسی عمارت تھی جس میں داخلہ تو آسان تھا مگر نکلنے کا راستہ نہیں تھا ؟ کراچی جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے معاشی شہ رگ ہے لیکن یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں بازار بنتے ہیںمگر زندگی کے لیے نہیں بلکہ موت کے لیے؟ آگ میں گھرے اور شعلوں میں لپٹے لوگوں نے یقینا باہر نکلنے کی ہر ممکن کوشش کی ہوگی ۔ انھوں نے مدد کیلئے اپنے پیاروں کوفون بھی کئے ہوں گے ۔ وہ آخری فون کالز جو کبھی نہیں ملیں ۔ اس سانحے میں کچھ موبائل فون جلے ہوئے ملے کچھ بجتے رہے مگر اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ کسی نے آخری لمحے ماں کو فون کیاہو گا کہ امی یہاں آگ لگ گئی ہے ! کسی نے دم آخریں بیوی کو پیغام بھیجا ہو گا کہ بچوں کا خیال رکھنا ۔ یہ وہ پیغامات ہیں جو موبائل میں محفوظ رہ گئے لیکن پیغام بھیجنے والے راکھ ہو گئے۔ کفن بھی پورا نہیں، قبر بھی ادھوری ہے یہ کیسا المیہ ہے کہ کچھ لاشوں کے لیے پورا کفن بھی میسر نہیں۔کہیں ہڈیوں کو کپڑے میں لپیٹا گیاکہیں راکھ کو ڈبوں میں رکھا گیااور ورثا سے کہا گیا یہی ہے جو بچ سکا ہے۔
    سوچیے!
    جس جسم نے عمر بھر مشقت کی جس ہاتھ نے بچوں کو پالا ، جس پیشانی نے سجدے کیے وہ اب چند ہڈیوں میں سمٹ گیااور ریاست کے ضمیر پر راکھ کی تہہ بن کر سوالیہ نشان بن گیا ۔

    اب تو تحقیقات نے بھی نظام کو بے نقاب کر دیا ہے ۔ سانحے کے بعد تحقیقات ہوئیں تو سچ اور زیادہ بھیانک نکلا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کمشنر کراچی کو سات فائلیں پیش کیں تین فائلیں گل پلازہ کے زیر التواء عدالتی مقدمات کی باقی فائلیں خلافِ ضابطہ تعمیرات کی جو اپنے دامن میں دولت کی ہوس کی کئی المناک اور شرمناک داستان لیے ہوئے ہے ۔ یعنی یہ پلازہ غیر قانونی تھا، متنازع تھا اور خطرناک تھا ۔ پھر بھی آباد رہا ، کاروبار ہوتا رہا اور آخرکار یہ پلازہ کتنے ہی زندہ انسانوں کا مقتل اور مدفن بن گیا ۔پلازے کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ تو ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے صرف 5 فیصد حصے میں فائر سیفٹی سسٹم۔ ہنگامی اخراج کے راستے ناپید اور آگ بجھانے کے آلات غائب !

    تو سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ۔۔۔۔۔؟ سانحے کا سب سے لرزا دینے والا پہلو یہ ہے کہ کئی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ ڈی این اے نہ ہونے کی وجہ سے باقیات ورثا کے حوالے کرنا بھی ایک کرب ناک مرحلہ بن چکا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز دروازے پر بیٹھتی ہے وہ بیوی جو ہر فون کال پر چونک اٹھتی ہے وہ بچہ جو پوچھتا ہے ابو کب آئیں گے؟

    ان سب کو کون جواب دے گا؟ آگ میں جل کر شہید ہونے والوں کے ورثا کا ایک ہی مطالبہ اور قوم کا بھی مطالبہ اور قوم کے ضمیر کی آواز بھی ہے کہ اگر آج بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور بازار، کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا۔ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں یہ پورے پاکستان کا المیہ ہے۔ہر شہر میں ایسے ہی جلتے ہوئے اور بارود کے ڈھیر پر کھڑے کمرشل اور رہائشی پلازے خاموشی سے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔

    سانحہ گل پلازہ میں ہمارے لیے سبق ہے کہ آئندہ کے لیے کمرشل اور رہائشی پلازوں کی تعمیر میں تمام تر حفاظتی اقدامات کئے جائیں ۔ اب صرف آنسو کافی نہیں، صرف بیانات کافی نہیںبلکہ فوری طور پر ملک گیر فائر سیفٹی ایمرجنسی، تمام کمرشل و رہائشی عمارتوں کافوری اور شفاف آڈٹ یقینی بنایا جائے ۔ بغیر سیفٹی عمارت بند کی جائیں ۔ اس لئے کہ سیفٹی کے بغیر پلازہ براہِ راست قتل گاہ ہے ۔ لہذا یسے تمام پلازے فوری سیل کیے جائیں اور ان کے مالکان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے ۔

  • کوئی بھارتی ایجنٹ تو کوئی یہودی،سیاست ’’بازاری‘‘ کیوں؟ تجزیہ،شہزاد قریشی

    کوئی بھارتی ایجنٹ تو کوئی یہودی،سیاست ’’بازاری‘‘ کیوں؟ تجزیہ،شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاستدانوں نے ملکی وقار ،اقدار کا جنازہ نکال دیا،الزام تراشی جمہورٹھہری
    ہر ریاست میں زمینی حقائق پر فیصلے ہوتے ہیں ،پاکستان کو استثنیٰ حاصل نہیں
    سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت،معیشت کی مضبوطی اور بہترین خارجہ پالیسی ہونا چاہیے
    مشکلات کے باوجود مملکت خداداد قائم،پاک فوج نے ہمیشہ دوام بخشا،خون سے آبیاری کی
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    سیاست یا الزام تراشی؟پاکستانی سیاست ایک طویل عرصے سے ایک خطرناک روش پر گامزن ہے، جہاں دلیل، کارکردگی اور عوامی خدمت کی جگہ الزام تراشی، بہتان اور ایک دوسرے کو ’’ایجنٹ‘‘ قرار دینے کا چلن عام ہو چکا ہے، کوئی یہودی ایجنٹ ہےتوکوئی بھارتی،یہ وہ زبان ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے آ رہے ہیں، افسوس کہ اس روش نے قومی سیاست کو تماشا بنا دیا ہے،یہ طرزِ سیاست نہ صرف قومی وقار کے منافی ہے بلکہ عوامی شعور کی توہین بھی ہے، پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، جس کے اپنے مفادات، ترجیحات اور عالمی ذمہ داریاں ہیں،بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات میں ہر ریاست کو زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنا پڑتے ہیں، پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں، ریاستی فیصلوں کو بیرونی ایجنڈے سے جوڑنا دراصل اپنی ہی ریاست کی کمزوری کا اعلان کرنے کے مترادف ہے،سیاست کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کا حل، معیشت کی بہتری، خارجہ محاذ پر مؤثر کردار اور داخلی استحکام ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست ذاتی دشمنیوں اور وقتی فائدے کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، اختلافِ رائے کو غداری اور سیاسی مقابلے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے، جس کا نقصان براہِ راست عوام اور ریاست دونوں کو ہو رہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ اگر آج پاکستان اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود قائم ہے تو اس کے پیچھے پاک فوج اور دیگر ریاستی اداروں کی قربانیاں، استقامت اور ذمہ دارانہ کردار شامل ہے،ان اداروں نے ہر مشکل وقت میں ریاست کو سہارا دیا،سیاسی قیادت اکثر باہمی لڑائیوں میں الجھی رہی، قوم اب اس تماشے سے اکتا چکی ہے، عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مہنگائی کیسے کم ہو گی،روزگار کیسے بڑھے گا، تعلیم اور صحت کے شعبے کیسے بہتر ہوں گے، اور پاکستان عالمی برادری میں ایک باوقار اور مضبوط کردار کیسے ادا کرے گا۔

    ’’ایجنٹ‘‘ کے نعروں سے معیشت سنبھلتی ہے نہ ریاست مضبوط ہوتی ہے،وقت آ گیا ہے کہ سیاستدان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، الزام تراشی ترک کریں، کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کریں اور اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں، اگر سیاست کا معیار یہی رہا تو تاریخ سخت سوال کرے گی کہ جب ملک کو سمت کی ضرورت تھی،تب رہنما تماشے میں مصروف کیوں تھے،پاکستان کو نعروں کی نہیں، وژن کی ضرورت ہے

  • مکافات عمل ، کائنات کا اٹل انصاف ،تحریر:پارس کیانی

    مکافات عمل ، کائنات کا اٹل انصاف ،تحریر:پارس کیانی

    انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اسے ایک سوال ہمیشہ بے چین کرتا رہا ہے کہ اس کے کیے ہوئے اچھے یا برے کام کا نتیجہ آخر اسے کیوں اور کیسے ملتا ہے۔ اور وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کہیں یہ اس کی اپنے دماغ کی اختراع تو نہیں یا اس کی کوئی شخصی کمزوری تو نہیں جو اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مکافات عمل (karma) جیسی بھی کوئی چیز ہے جس کے خوف کے تحت وہ زندگی گزارتا ہے۔

    مختلف تہذیبوں، مذاہب اور فلسفوں میں اس سوال کا جواب مختلف ناموں سے دیا گیاہے، کسی نے اسے "کرم” کہا، کسی نے "مکافاتِ عمل”، کسی نے "اخلاقی قانون”، کسی نے "فطری ردّعمل”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مگر ایک بات سب میں مشترک ہے: انسان جو کچھ کرتا ہے، وہی کسی نہ کسی صورت میں اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ زندگی کے چلتے، وہ کائنات کے حوالے جو بھی قوتیں کرتا ہے کائنات پوری قوت سے اسے واپس کرتی ہے۔اگر کوئی مذہب یا خدا کو نہ بھی مانے، تب بھی کائنات کا نظام ایک سادہ اصول پر استوار ہے کہ ہر عمل ایک ردّعمل کو جنم دیتا ہے۔”اگر کوئی خدا کا انکار بھی کر دے تو کائنات کی توانائیوں کا انکار نہیں کر سکتا۔”

    ہر سوچ، ہر جذبہ، ہر عمل اپنے اندر ایک لہر رکھتا ہے۔ یہ لہر فضا میں چھوڑتے ہی اپنا سفر شروع کر دیتی ہے، اور سائنس کے مطابق electro magnetic field اور انسانی bio-field کی صورت میں گھوم کر واپس اسی انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔اسی ردّ عمل کو مذہبی زبان میں مکافاتِ عمل کہا جاتا ہے، اور سائنسی زبان میں resonance vibration اور bio-energy کا اصول۔یہ صرف سائنسی حقیقت نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ جدید دماغی علوم ( مجموعی طور پر )( cognetive and behaveroul sciences esp.) کے مطابق جب انسان کوئی نیکی کرتا ہے، کسی کی مدد کرتا ہے، نرم رویہ اختیار کرتا ہے یا سچائی پر قائم رہتا ہے تو انسان کے دماغ میں ایسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو اس کے اندر اعتماد، سکون اور خوشی کی لہریں بیدار کرتے ہیں۔ یوں اس کے رویّے، فیصلے اور سوچ مثبت ہو جاتی ہے اور وہ بہتر حالات اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس بددیانتی، نفرت، دھوکا اور ظلم وہ کیمیکلز بڑھاتے ہیں جو بے چینی، اضطراب اور بوجھل ذہنی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ یعنی چاہے کوئی مانے یا نہ مانے، کائنات انسان کے ہر عمل کو ایک مخصوص توانائی کے طور پر قبول کرتی ہے اور اسی نوعیت کی لہریں کئی گنا اضافہ کے ساتھ واپس لوٹا دیتی ہے۔
    انسانی ذہن کے ماہرین کا موقف یہ ہے کہ برائی کا سب سے پہلا عذاب انسان کے اپنے اندر پنپتا ہے۔ جو شخص ظلم کرتا ہے، دھوکا دیتا ہے یا کسی کا حق مارتا ہے، اس کے شعور کے کسی کونے میں خوف، بداعتمادی اور گناہ کا احساس جڑ پکڑ لیتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ احساس اس کے کردار کو کھوکھلا کرتا ہے، اس کے رشتوں میں دراڑیں ڈالتا ہے اور زندگی میں مسلسل بے سکونی پھیلا دیتا ہے۔ نیکی کا اثر بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔ اچھا کرنے والا فرد سب سے پہلے اپنے اندر ہلکا پن اور اعتماد محسوس کرتا ہے، اس کی سوچ میں وسعت آتی ہے اور اس کے رویے میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ یوں وہ خود کو بھی سنوارتا ہے اور ماحول کو بھی بہتر بناتا ہے۔

    سماجی علوم کی رو سے معاشرہ بھی انسان کے عمل کو دیر تک نظرانداز نہیں کرتا۔ جو شخص لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، انصاف کا خیال رکھتا ہے یا دوسروں کے ساتھ سچائی کا رویہ اختیار کرتا ہے، سماج اسے عزت دیتا ہے۔ لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں، اسے پذیرائی ملتی ہے اور اس کا دائرۂ اثر وسیع ہوتا ہے۔ مگر جو فرد دھوکا دینے والا، موقع پرست یا نقصان پہنچانے والا ہو، معاشرہ اسے کسی نہ کسی مرحلے پر ردّ بھی کر دیتا ہے اور اس رویے کا منفی انجام اس کی زندگی میں ضرور سامنے آتا ہے۔ دنیا کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی بنیاد پر کھڑی ہوئی کوئی طاقت دیرپا نہیں رہی، جبکہ انصاف، انسانی وقار اور خیرخواہی پر مبنی رویے ہمیشہ دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

    زمانہ گواہ ہے کہ بڑے بڑے ظالم وقت کے ایک موڑ پر شکست سے دوچار ہوئے۔ طاقت، دولت اور اختیار سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ داخلی خوف اور عدم تحفظ سے نہیں بچ سکے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے انسانیت، انصاف اور سچائی کو اختیار کیا، چاہے عارضی مشکلات کا شکار ہوئے، مگر وقت نے ان کا ساتھ دیا۔ یہ محض اخلاقی یا مذہبی بیانیہ نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔ مکافات عمل یا عمل کی واپسی یا فطری رد عمل ایک ایسا اصول ہے جسے ماننے کے لیے مذہب ضروری نہیں۔

    یہ بالکل ایسے ہے جیسے کششِ ثقل کو ماننے سے انکار کر دیں، چاہے مانیں یا نہ مانیں، وہ پھر بھی اثر کرتی ہے۔
    انسان کا ہر لفظ، ہر خیال، ہر ارادہ، ہر عمل ایک توانائی ہے جو کائنات میں گشت کرتی ہے اور اپنے جیسی توانائیوں کو کھینچ کر واپس لاتی ہے۔
    Karma ( بدلے کا عمل )
    آخر کیسے چلتا ہے؟
    آپ محبت دیتے ہیں، محبت ملتی ہے
    آپ دوسروں کے لیے راستے آسان کرتے ہیں، آپ کے راستے کھلتے ہیں
    آپ حسد، بغض، نفرت پھیلاتے ہیں، یہی چیزیں کئی گنا ہو کر آپ تک پہنچتی ہیں
    آپ رزق روکتے ہیں، رزق آپ سے روٹھ جاتا ہے
    یہ کوئی روحانی نعرہ نہیں، یہ انسانی تعلقات، نفسیات، معاشرت اور فطرت کا جامع قانون ہے۔
    اور کائنات کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے
    مکافاتِ عمل کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ اندھا انصاف کرتا ہے۔
    یہ ذات، مذہب، مقام، طاقت، دولت، ،شہرت کسی چیز کی رعایت نہیں کرتا۔
    اسی لیے دانا کہتے ہیں:
    "کائنات خاموش ہے، مگر حساب بہت باریک رکھتی ہے۔ انسان کا ہر لفظ، ہر ارادہ اور ہر عمل ایک توانائی بن کر فضا میں جاتا ہے اور پھر ایسا نہیں ہوتا کہ وہ کہیں گم ہو جائے۔ یہ واپس آتا ہے، مگر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ۔ یہی زندگی کا سب سے غیرجانبدار اصول ہے۔

    انسان جب محبت، خیرخواہی، آسانی یا نیکی بانٹتا ہے تو انہی خوبیوں کے دروازے اس کی اپنی زندگی میں کھلنے لگتے ہیں۔ اور جب وہ نفرت، حسد، بغض یا نقصان پھیلاتا ہے تو انہی چیزوں کا بوجھ اس کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔ رزق، عزت، سکون اور کامیابی بھی اسی اصول کے تابع چلتے ہیں۔ آسانیاں بانٹنے والا شخص آسانیوں کا مالک بنتا ہے، مگر دوسروں کے لیے مشکل پیدا کرنے والا فرد خود بھی مشکلات کے بھنور میں آ جاتا ہے۔
    تاریخ کے صفحات بھی مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی شہادت ہیں۔ روم کی عظیم سلطنت ہو یا یونان کی فکری حکومت، عرب کی وسعتیں ہوں یا منگولوں اور عثمانیوں کی شہرت، جب تک یہ انصاف، نظم اور اعتدال پر قائم رہیں، دنیا نے ان کے سامنے سر جھکایا۔ اور جب ظلم، تکبر، بددیانتی اور انسانیت سے انحراف بڑھا تو انہی سلطنتوں کے ستون زمین بوس ہو گئے۔ فرعون کے پاس طاقت بےپناہ تھی مگر تکبر نے اسے ڈبو دیا۔ ہٹلر کے پاس لشکر تھے مگر نفرت نے اسے تباہ کر دیا۔ اس کے برعکس نیلسن منڈیلا جیسے لوگ جن کے پاس طاقت نہیں تھی، صرف سچائی اور انصاف کا اصول تھا، وقت نے انہیں عزت، وقار اور عظمت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔ یہ کوئی مذہبی یا روحانی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔

    مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کسی طاقت، دولت یا رتبے سے متاثر نہیں ہوتا۔ یہ کسی ذات، مذہب، علاقے یا حیثیت کے لحاظ سے فیصلہ نہیں کرتا۔ یہ صرف عمل کو دیکھتا ہے، نیت کو جانچتا ہے اور پھر وقت آنے پر اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ انسان چاہے جتنا بڑا منصوبہ ساز بن جائے، کائنات کے باریک حساب سے نہیں بچ سکتا۔ انسان جو کچھ دیتا ہے، وہی ایک دن مجبوراً اس کے دروازے پر لوٹ کر کھڑا ہو جاتا ہےکبھی روشنی بن کر، کبھی اندھیرا بن کر.

  • ٹرمپ کے   کلب میں خوش آمدید  ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ٹرمپ کے کلب میں خوش آمدید ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    انوار الحق کاکڑ 14 اگست 2023 سے 3 مارچ 2024 تک پاکستان کےآٹھویں نگراں وزیر اعظم رہے ،انوار الحق کاکڑ کو سمجھا جاتا ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کے نمائندہ کے طور پر سامنے آتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ نگران وزیر اعظم کیلئے ان کا نام شہباز شریف نے دیا تھا اور شہباز شریف کن کے آدمی ہیں آج اس حقیقت سے پوری دنیا واقف ہے۔ نگران وزیر اعظم کا نام اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے ذریعے دیا جانا تھا اور راجہ ریاض نے صادق سنجرانی سمیت 2 قریبی ساتھیوں کے نام دئیے تھے جبکہ شہباز شریف نے دوسری ملاقات میں راجہ ریاض کو انوارالحق کاکڑ کے نام کی پرچی دیکر کہا تھا کہ نام تجویز کریں، انوارالحق کاکڑ کے علاوہ شہباز شریف نے راجہ ریاض کو کوئی اور نام دیا ہی نہیں تھا، اب آپ کو واضح ہو جانا چاہیے کہ کاکڑ صاحب کتنے اہم ہیں اور کن کے اہم ہیں۔

    چوبیس جنوری 2026 کو انوار الحق کاکڑ نے ایک سخت بیان دیا جو کہ ان کا اپنا تجزیہ یا موقف نہیں بلکہ انہی اہم لوگوں کا پیغام تھا جنہوں نے نگران وزیر اعظم بنوایا تھا، کاکڑ صاحب نے نرم لہجے میں گرم بات کر کے بتایا کہ ٹرمپ کے غزہ پیس پلان میں شامل ہونا حکومت کا فیصلہ ہے کل کو اس کے نتائج بھی حکومت کو ہی بھگتنے پڑیں گے، کاکڑ صاحب کا یہ بیان ایک دھماکہ ہے ان لوگوں کیلئے جو آج ٹرمپ اور امریکہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ 28 مئی 1998 کو جب پاکستان نے امریکہ کی مخالفت کر کے ایٹمی حملے کر دئیے تو جنگ نیوز کی شہہ سرخی تھی کہ پاکستان کی امریکہ کو جھنڈی۔آج کے منظر نامے کے بعد مجھے خدشہ ہے کہ دشمن ملک کو یہ موقع نہ مل جائے کہ اپنے اخبارات میں شہ سرخی لگائیں کہ امریکہ کی مشرقِ وسطی کو جھنڈی ۔ معذرت کہ ساتھ کہ عامر خان کی فلم پی کے کا یہ ڈائیلاگ تو نہیں کہہ سکتا کہ سرفراز دھوکہ دے گا لیکن یہ بات میں بہت سوچ سمجھ کہ کہہ رہا ہوں کہ امریکہ پاکستان کو دھوکہ دے گا۔ اور اسی بات کا خطرہ انوار الحق کاکڑ کو ہے دوسری جانب بڑوں نے انوارالحق کاکڑ کے ذریعے پیغام پہنچا کر خود کو بیچ میں سے نکال دیا ہے کہ یہ فیصلہ تو در اصل حکومت کا ہے مقتدرہ کا نہیں۔ کل جب اللہ نہ کرے بُرا وقت آئے گا تو بڑے بیچ میں سے نکل جائیں گے اور ووٹ کو عزت دینے والوں کا نعرہ واپس آ جائے گا اور عمران خان کی طرح کہہ رہے ہوں گہ ہمیں استعمال کیا گیا تھا۔

    انوار الحق کاکڑ مارچ 2018 میں مسلم لیگ ن کی حمایت سے آزاد حیثیت سے چھ سال کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم اسی مہینے وہ مسلم لیگ ن سے منحرف ہونے والے اس گروپ کا حصہ بن گئے تھے جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی ۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں کہ سیاست کی نگری میں احسان کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ طاقت اور طاقتوروں کی ہاں میں ہاں ہی کامیابی کا راز ہے کیو نکہ وہ کہتے ہیں ہو جا تو سب کچھ ہو جاتا ہے۔مجھے کبھی لگتا ہے کہ اُن کو بھی امریکہ کی چالوں کا پتہ ہے لیکن وہ نزلہ کبھی بھی خود پر نہیں آنے دیں گے۔

    مسلم ممالک میں امن کے نام پر پچھلے 60 سالوں میں جو اُدھم مچا ہوا ہے اس کی کوئی بات نہیں کرتا ، امریکہ اور مغرب ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے نام پر آئے ، پچھلے چالیس سال سے امن کے نام پر سوا پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کو مار دیا ہے۔ مغرب کے کسی ملک میں ایسی کوئی جنگ نہیں ہوئی جہاں پچھلے چالیس سال میں جہاں امریکہ نے مداخلت کر کے کہا ہو کہ امن کیلئے ہم آئے ہیں پھر اسی ملک پر قبضہ کر لیا ہو۔ پہلے افغانستان، پھر شام، عراق اور ایران میں آج کچھ جاری ہے سب کے سامنے ہے۔ صر ف غزہ فلسطین میں 62 ہزار سے زائد لوگ شہید اور 31 لاکھ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں لیکن تب امریکہ اور ان مغربی طاقتوں کو امن یا د نہیں آیا ، آج غزہ بورڈ آف پیس کے نام سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا ذاتی کلب بنا چکے ہیں جس میں 60 ہزار بچوں اور خواتین کا قاتل نیتن یاہو بھی شامل ہے۔

    الجزیرہ نے پیس بورڈ تقریب کے دن ہی ٹرمپ کے اس ڈھونگ کا پردہ فاش کیا اور بتایا کہ ٹرمپ بورڈ آف پیس میں 11 صفحات کے چارٹر میں جس میں8 چیپٹر اور 13 آرٹیکل ہیں ، ایک بار بھی غزہ کا نام نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسا غزہ امن بورڈ ہے جس میں غزہ ہی شامل نہیں جبکہ ظلم کرنے والا اسرائیل اور اسکا حمایتی امریکہ شامل ہے۔ جس دن بورڈ پر دستخط کیلئے ایک میدان لگا اسی دن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی شہ سرخی تھی کہ ۔ جابر بادشاہوں اور قانون کو مطلوب مجرموں کا گروہ ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہو گیا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کی 8 قرار دادیں امریکہ نے جبکہ 6 اسرائیل نے ویٹو کیں اب وہی امریکہ غزہ میں امن لائے گا، کیسا انصاف اور نظام جبکہ اس کو ماننے والے اندھے، گھونگے اور بہرے بن چکے ہیں۔ نائب وزیر اعظم آئرلینڈ نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں سنگین خطرات کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔

    دنیا میں یہودی آبادی کل ڈیڑھ کروڑ کے قریب جبکہ مسلمان دو ارب ہیں۔ یہودی حاکم اور غالب ہیں جبکہ مسلمان محکوم اور مغلوب۔ ایسا کیوں؟ یروشلم پوسٹ جو کہ اسرائیل کا اخبار ہے اس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی آذربائیجان سے تیل کی درآمد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اسرائیل ترک بندرگاہ کے ذریعے آذربائیجان سے تیل درآمد کرتا ہے، اسرائیل اپنے ضرورت کا 46% تیل آذربائیجان سے خریدتا ہے ۔میری نظر میں غزہ و فلسطین کو دھوکہ دینے والے سب سے بڑے منافق یہ مسلم ممالک ہیں ۔سب مسلم ملک ساتھ مل گئے اور کافر سمجھے جانے والے ممالک ظلم کے خلاف کھڑا ہونے سے انکاری ہیں۔

    جس دن غزہ امن بورڈ پر دستخط ہو رہے تھے اس دن غزہ میں اسرائیل کے حملے سے 11 فلسطینی شہید ہوئے، غزہ میں چھ بہنوں کا 17 سالوں کے بعد پیدا ہونے والا والدین کا اکلوتا بیٹا شدید سردی سے جاں بحق ہو گیا۔ تو سوال یہ بھی ہے کہ کونسا امن اور کونسا بورڈ؟ آپ اندازہ کریں صرف وہ ممالک جہاں ڈکٹیٹر شپ، آمرانہ نظام، شاہی حکومتیں، ہابرڈ نظام والا ڈرامہ ہے وہ ہی ٹرمپ کے ساتھ اس بورڈ میں شامل ہوئے ہیں۔ پاکستان اسرائیل،اردن،آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، ویتنام،قازقستان،ارجنٹینا،بیلاروس، مراکش ۔تو کیا فرانس، برطانیہ، اٹلی میں اتنے بڑے غزہ کے حق میں جو مظاہرے ہوئے تھے وہ لوگ اور حکمران اسرائیل ، امریکہ کی چالوں سے واقف نہیں تھے ؟

    کہتے ہیں کہ جب تک کوئی مشورہ نہ مانگے تو نہیں دینا چاہیے لیکن میں ملک کی محبت میں طاقتوروں کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ابھی وقت آپ کا ہے ۔سوچ لیں کہ مستقبل قریب میں یہ نہ کہنا پڑے کہ ہمیں ڈیووس میں زبردستی لے جا یا گیا تھا اور ہم مجبور تھے اور اگر مجبور ہیں تو انوارالحق کاکڑ کی بات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ ریاست ماں ہوتی ہے اور پاکستانی معاشروں میں ماؤں کی عزت کیا ہے یہ لیکچر ہمیں آج سے 78 سال پہلے ایک سیاستدان نے دیا تھا۔ لہذا اگر مجبوری ہے تو بتائیں کہ مجبور کیوں ہوئے اور کس کے کہنے پر ؟ اور اگر اتنے مجبور ہیں کہ زبان پر کچھ نام آتے ہی پھسل جاتی ہے تو پھر آپ سب کو صدر ٹرمپ کے ذاتی کلب میں خوش آمدید۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • کیا پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    کیا پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوال مزید گہرا اور سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، انتظامی مسائل، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی شکایات نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ صوبے، خصوصاً پنجاب، آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر حکمرانی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، سرائیکی خطہ اور کراچی جیسے علاقوں میں یہ احساس مسلسل بڑھ رہا ہے کہ فیصلے اُن کی ضروریات کے مطابق نہیں ہو پاتے۔ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی کے لیے غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
    نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بہتر گورننس کو یقینی بناتے ہیں۔ جب دارالحکومت قریب ہو، فیصلہ سازی مقامی سطح پر ہو اور وسائل کی تقسیم علاقائی ضروریات کے مطابق کی جائے تو عوامی مسائل زیادہ تیزی سے حل ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی کئی کامیاب ریاستیں اسی ماڈل پر چل رہی ہیں جہاں انتظامی تقسیم کو ترقی کا ذریعہ بنایا گیا۔
    تاہم اس بحث کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ناقدین کے مطابق نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی نہیں بلکہ ایک حساس آئینی اور سیاسی معاملہ ہے۔ اگر یہ عمل لسانی، نسلی یا سیاسی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے بھاری مالی وسائل، نیا انتظامی ڈھانچہ اور سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے، جو اس وقت ایک مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔
    اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر اور کس مقصد کے تحت بننے چاہئیں۔ اگر مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، محرومیوں کا ازالہ اور ریاستی نظام کو مؤثر بنانا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ مطالبہ صرف سیاسی نعرہ یا وقتی فائدے کے لیے ہو تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر جذبات کے بجائے قومی مفاد، آئینی تقاضوں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ ایک غیر جانبدار قومی کمیشن کے ذریعے آبادی، وسائل، انتظامی صلاحیت اور عوامی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ وسیع سیاسی مکالمہ اور اتفاقِ رائے کے بغیر اس سمت میں کوئی بھی قدم ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔
    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر نئے صوبے پاکستان کے عوام کی زندگی آسان بنانے، ریاست کو مضبوط کرنے اور احساسِ محرومی کم کرنے کا ذریعہ بنیں، تو یہ ایک قابلِ غور آپشن ہے—لیکن شرط یہ ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی، سیاست یا تقسیم کے بجائے تدبر، شفافیت اور قومی وحدت کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔