Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر: چوہدری مجاہد حسین

    ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر: چوہدری مجاہد حسین

    تمہید: ازل کی پکار اور الٰہی انتخاب
    کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بکھر جانا فنا ہے اور جڑ جانا زندگی ہے۔ خالقِ کائنات نے جب شعورِ انسانی کی بنیاد رکھی، تو اسے ‘ اجتماعیت ‘ کے نور سے منور کیا۔ ” بنیانِ مرصوص ۔یہ صرف دو الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جہاں مادہ فنا ہو جاتا ہے اور مقصد زندہ رہتا ہے۔ یہ وہ آہنی دیوار ہے جس کی بنیادیں زمین کی گہرائیوں میں نہیں، بلکہ ایمان کی پختگی میں پیوست ہوتی ہیں۔ جب حق و باطل کا معرکہ برپا ہو، جب طوفانِ بلا خیز صفوں کو درہم برہم کرنے نکلے، اور جب دشمن کی نگاہیں دراڑوں کی تلاش میں ہوں، تب قدرت پکار کر کہتی ہے:

    بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیان مرصوص) ہیں۔(سورۃ الصف: 4)

    لغوی و اصطلاحی تشریح
    لفظ بنیان بنا سے نکلا ہے جس کے معنی عمارت کے ہیں، اور مرصوص کا مادہ ‘ رصص ہے، جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی چیز یا ایسی چیز جسے جوڑ کر ایک جان کر دیا گیا ہو۔ عربی زبان میں اس اصطلاح کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی دیوار کی اینٹوں کے درمیان پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا جائے تاکہ وہ ایک ٹھوس چٹان بن جائے۔ یہ اصطلاح ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مومن کا دوسرے مومن کے ساتھ تعلق محض سماجی نہیں بلکہ ساختاری (Structural) ہے۔ جس طرح ایک بلند و بالا عمارت اپنی مضبوطی کے لیے ہر ہر اینٹ کی مرہونِ منت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح اسلام کا معاشرتی ڈھانچہ بھی ہر فرد کے اخلاص اور ایثار سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی اینٹ اپنی جگہ سے ہٹی یا اس نے کمزوری دکھائی، تو پوری دیوار کے گرنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

    تاریخی تناظر: جب دیواریں سربلند تھیں
    تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے خود کو "بنیانِ مرصوص” کے سانچے میں ڈھالا، تو وقت کے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اٹھے۔ مواخاتِ مدینہ کی صورت میں جو دیوار کھڑی کی گئی، اس نے ثابت کر دیا کہ خون کے رشتوں سے زیادہ طاقتور ‘عقیدے کا رشتہ’ ہوتا ہے۔ وہ انصار اور مہاجرین ہی تھے جنہوں نے اپنی انا، اپنی جائیداد اور اپنے قبیلے کی دیواریں گرا کر ایک ایسی آہنی فصیل تیار کی جس کے سائے میں اسلام کا پودا ایک تناور درخت بنا۔

    غزوہ خندق ‘بنیانِ مرصوص’ کی ایک عظیم الشان عملی تصویر نظر آتی ہے ۔ جب دس ہزار کا لشکرِ کفار مدینہ کے محاصرے کے لیے پہنچا، تو مسلمان تعداد میں کم اور وسائل میں پیچھے تھے، مگر ان کے درمیان جو فکری اور جسمانی اتحاد تھا، اس نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ صحابہ کرام رضی الله تعالٰی عنہما نے بھوک اور سردی کی شدت کے باوجود، خندق کھودتے وقت جس یگانگت کا ثبوت دیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے مثال ہے۔ وہاں کوئی سردار تھا نہ کوئی غلام، بلکہ سب ایک ہی مقصد کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ خود اس دیوار کی سب سے مضبوط اینٹ بن کر اپنے دستِ مبارک سے پتھر توڑ رہے تھے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے ثابت کیا کہ جب ارادے جواں ہوں اور صفیں متحد ہوں، تو مادی قوتیں ہیچ ثابت ہوتی ہیں۔

    بقولِ حکیم الامت علامہ اقبال
    > فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
    > موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

    موجودہ دور کا کرب اور فکری انتشار
    آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معرکہِ حق و باطل اپنے عروج پر ہے۔ غزہ کی پکار ہو یا کشمیر کی سسکیاں، ہر جگہ ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ "وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کہاں ہے؟ ۔افسوس کہ ہم نے دیوار کی مضبوطی کے بجائے اینٹوں کے رنگ اور نسل پر بحث شروع کر دی۔ ہمیں کبھی قومیت کے نام پر بانٹا جاتا ہے، کبھی لسانی بنیادوں پر دست و گریبان کیا جاتا ہے اور کبھی فرقہ واریت کی آگ میں جھونکا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کو ہمارے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ہماری صفوں میں بدگمانی کے بیج بوئے جائیں۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑ صرف باہر سے نہیں پڑتی، بلکہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں یا ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہیں، تو ہم دراصل اس آہنی دیوار کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے رکھی تھی۔ دشمن اب براہِ راست حملوں کے بجائے ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    ہم بنیانِ مرصوص کیوں ہیں؟
    ہم بنیانِ مرصوص اس لیے ہیں کیونکہ ہمارا کلمہ ایک ہے، ہمارا قبلہ ایک ہے اور ہمارا غم ایک ہے۔ ہماری قوت کا سرچشمہ وہ ایمان ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو قوت بخشتا ہے۔

    ہمیں آج پھر سے وہی عزم دہرانا ہے کہ ہماری صفوں میں کوئی دراڑ نہیں ہوگی، ہماری آواز میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا، اور ہمارا عمل صرف اور صرف رضائے الٰہی کے لیے ہوگا۔ اقبال نے امت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا:
    > بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
    > نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

    عملِ پیہم اور انفرادی ذمہ داری
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم دوبارہ ‘بنیانِ مرصوص’ کیسے بن سکتے ہیں؟ اس کا آغاز کسی بڑے اجتماع سے نہیں بلکہ ہر فرد کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہر مسلمان کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ اس دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ اگر وہ ایماندار ہے، اگر وہ بااخلاق ہے، اور اگر وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے کرتا ہے، تو وہ دیوار مضبوط ہو رہی ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں، اپنی مساجد اور اپنے گھروں میں نفرت کے بجائے محبت کا درس دینا ہوگا۔ ہمیں وہ سیمنٹ فراہم کرنا ہے جو دلوں کو جوڑ دے۔ جب تک ہماری معیشت، ہماری سیاست اور ہماری سماجیات قرآن کے اس اصول کے تابع نہیں ہوں گی، ہم محض ایک ہجوم رہیں گے، قوم نہیں بن سکیں گے۔

    اختتام: فتح کا یقین اور عزمِ صمیم
    "ہم بنیانِ مرصوص ہیں .یہ محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے اس باطل کے خلاف جو ہماری صفوں میں انتشار دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ عہد ہے اس ظلم کے خلاف جو ہمیں تنہا پا کر کچلنا چاہتا ہے۔ معرکہِ حق میں وہی سرخرو ہوتا ہے جو اپنے بھائی کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے۔

    آئیے! آج ہم عہد کریں کہ ہم وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنیں گے جس سے ٹکرا کر وقت کے فرعون پاش پاش ہو جائیں گے۔ ہم وہ فصیل بنیں گے جو انسانیت کی محافظ ہو، جو مظلوم کی پناہ گاہ ہو اور جو باطل کے لیے قہرِ الٰہی ہو۔ اگر ہم ایک ہو گئے، تو پھر زمین و آسمان کی کوئی طاقت ہمیں نیچا نہیں دکھا سکتی۔ ہمارا اتحاد ہی ہماری جیت ہے، ہمارا پیار ہی ہمارا ہتھیار ہے، اور ہماری یگانگت ہی وہ بنیانِ مرصوص ہے جس کا وعدہ اللہ نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے۔

    فتح ہمارا مقدر ہے، کیونکہ ہم حق پر ہیں، اور ہم متحد ہیں-
    *ہم بنیانِ مرصوص تھے، ہم بنیانِ مرصوص ہیں، اور ان شاء اللہ، ہم بنیانِ مرصوص رہیں گے ۔

    اللہ آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو!

  • بنیان مرصوص ،تحریر: فضاء ذولفقار علی

    بنیان مرصوص ،تحریر: فضاء ذولفقار علی

    سن 2095 کا زمانہ تھا۔ زمین پر ٹیکنالوجی بہت ترقی کر چکی تھی، مگر اس کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا تھا انسانوں کے درمیان دوریاں۔ لوگ اب ایک دوسرے سے ملنے کے بجائے مشینوں پر زیادہ انحصار کرنے لگے تھے۔

    شہر “نیورا” اس جدید دنیا کا سب سے ترقی یافتہ شہر تھا۔ یہاں ہر کام روبوٹس کرتے تھے، اور انسان صرف اپنے اپنے کمروں میں بیٹھ کر اسکرینوں کے ذریعے زندگی گزارتے تھے۔ باہر کی دنیا میں سناٹا تھا، اور انسانوں کے درمیان تعلق تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
    اسی شہر میں ایک 16 سالہ لڑکی، عائشہ، رہتی تھی۔ وہ باقی لوگوں سے مختلف تھی۔ اسے پرانی کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا، خاص طور پر وہ کہانیاں جن میں لوگ مل کر کام کرتے تھے، ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔
    ایک دن اسے اپنے دادا کی پرانی ڈائری ملی۔ اس میں ایک لفظ بار بار لکھا تھا:
    “بنیانِ مرصوص”
    عائشہ نے حیرت سے سوچا، “یہ کیا ہے؟”
    ڈائری کے ایک صفحے پر لکھا تھا:
    “جب انسان ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں، تو وہ ایسی مضبوط دیوار بن جاتے ہیں جسے کوئی طاقت نہیں توڑ سکتی۔”
    یہ پڑھ کر عائشہ کے دل میں ایک عجیب سی خواہش پیدا ہوئی کیا آج کے زمانے میں بھی ایسا ممکن ہے؟
    اسی دوران ایک خطرناک خبر پھیلی۔ شہر کے مرکزی سسٹم، جسے “نیوراکور” کہا جاتا تھا، میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ سسٹم پورے شہر کی بجلی، پانی، اور سیکیورٹی کو کنٹرول کرتا تھا۔
    اگر یہ مکمل طور پر بند ہو جاتا، تو شہر میں تباہی پھیل سکتی تھی۔
    حکومت نے روبوٹس کو مسئلہ حل کرنے کا حکم دیا، مگر یہ خرابی بہت پیچیدہ تھی۔ روبوٹس بار بار ناکام ہو رہے تھے۔
    لوگ اپنے کمروں میں بیٹھے گھبرا رہے تھے، مگر کوئی باہر نکلنے کو تیار نہ تھا۔
    عائشہ نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ کرے گی۔ وہ شہر کے کنٹرول سینٹر پہنچی، جہاں چند لوگ پریشان کھڑے تھے۔ سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، مگر کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔
    عائشہ نے بلند آواز میں کہا،
    “ہم سب مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں!”
    ایک آدمی ہنسا،
    “یہ کام مشینیں نہیں کر پا رہیں، ہم کیا کریں گے؟”
    عائشہ نے جواب دیا،
    “مشینوں میں دل نہیں ہوتا، وہ ایک دوسرے کو سمجھ نہیں سکتیں۔ مگر ہم انسان ہیں، اگر ہم اکٹھے ہو جائیں تو کچھ بھی کر سکتے ہیں!”
    اس کی بات سن کر چند لوگ رک گئے۔ ایک انجینئر آگے بڑھا اور بولا،
    “میں سسٹم کو سمجھ سکتا ہوں، مگر مجھے مدد چاہیے ہوگی۔”
    پھر ایک اور لڑکی بولی،
    “میں کوڈنگ جانتی ہوں، میں بھی مدد کر سکتی ہوں۔”
    آہستہ آہستہ لوگ شامل ہونے لگے۔
    کنٹرول سینٹر میں پہلی بار انسان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ کوئی ڈیٹا چیک کر رہا تھا، کوئی وائرنگ ٹھیک کر رہا تھا، کوئی پلان بنا رہا تھا۔

    شروع میں مشکلات آئیں۔ لوگ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے، کبھی غلطیاں ہوتیں، مگر اب وہ رکنے والے نہیں تھے۔
    عائشہ نے سب کو یاد دلایا،
    “ہمیں بنیانِ مرصوص بننا ہے ایک مضبوط دیوار!”
    یہ الفاظ سب کے دلوں میں ہمت پیدا کرتے۔
    گھنٹوں کی محنت کے بعد انہیں مسئلے کی جڑ مل گئی۔ سسٹم کے ایک حصے میں ایسا وائرس داخل ہو گیا تھا جو روبوٹس کو الجھا رہا تھا۔
    اب سب نے مل کر ایک نیا حل تیار کیا۔ انجینئر نے سسٹم کھولا، کوڈر نے وائرس کو ختم کیا، اور باقی لوگوں نے سپورٹ دی۔
    آخرکار ایک لمحہ آیا جب سب نے سانس روک لی…
    اور پھر سسٹم دوبارہ چل پڑا۔
    پورے شہر میں روشنی پھیل گئی۔ بجلی بحال ہو گئی، پانی کا نظام درست ہو گیا، اور خطرہ ٹل گیا۔

    لوگوں کے چہروں پر خوشی تھی، مگر اس بار یہ خوشی مختلف تھی۔ یہ صرف کامیابی کی خوشی نہیں تھی، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہونے کی خوشی تھی۔
    ایک بوڑھے آدمی نے کہا،
    “ہم نے سالوں بعد آج ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا ہے… اور ہم کامیاب ہو گئے!”
    عائشہ مسکرائی اور بولی،
    “کیونکہ ہم بنیانِ مرصوص بن گئے تھے۔”
    اس واقعے کے بعد شہر “نیورا” بدل گیا۔ لوگ اب صرف مشینوں پر انحصار نہیں کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے سے ملتے، بات کرتے، اور مل کر کام کرتے۔
    شہر میں دوبارہ زندگی آ گئی تھی۔
    عائشہ نے اپنے دادا کی ڈائری بند کی اور آسمان کی طرف دیکھا۔
    “آپ ٹھیک کہتے تھے… اصل طاقت اتحاد میں ہے۔”
    چاہے زمانہ کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، انسان کی اصل طاقت اس کے اتحاد میں ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، تو وہ بنیانِ مرصوص بن جاتے ہیں—ایک ایسی مضبوط قوت جسے کوئی مشکل شکست نہیں دے سکتی۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مقیتہ وسیم

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مقیتہ وسیم

    قرآنِ حکیم میں "بنیان مرصوص” ایک ایسی مضبوط، منظم اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کو کہا گیا ہے جس کی اینٹیں ایک دوسرے سے اس طرح جڑی ہوں کہ کوئی طاقت انہیں کمزور نہ کر سکے۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں بلکہ اجتماعی قوت، اتحاد، نظم، قربانی اور مشترکہ مقصد کا عظیم استعارہ ہے۔ جب افراد اپنی انا، مفاد اور اختلافات سے بلند ہو کر ایک نصب العین کے لیے یکجا ہوتے ہیں تو وہی قوم "بنیان مرصوص” بن جاتی ہے۔ آج کے منتشر دور میں یہ پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ انفرادی طاقت محدود ہوتی ہے مگر متحد قومیں تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں۔

    ہماری زندگی کا ہر شعبہ ہمیں اتحاد کی اہمیت سکھاتا ہے۔ ایک گھر اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے افراد محبت، احترام اور تعاون سے جڑے ہوں۔ ایک معاشرہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے شہری ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ایک قوم اس وقت ناقابلِ شکست بنتی ہے جب اس کے افراد ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ اگر اینٹیں بکھری رہیں تو دیوار نہیں بنتی مگر جب یہی اینٹیں مضبوط ربط میں آ جائیں تو بڑے سے بڑا طوفان بھی انہیں گرا نہیں سکتا۔ یہی فلسفہ قوموں کی تعمیر کا بنیادی اصول ہے۔

    اسلام نے بھی اجتماعیت، اخوت اور اتحاد کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ نماز باجماعت سے لے کر حج کے عالمی اجتماع تک، ہر عبادت مسلمانوں کو وحدت کا درس دیتی ہے۔ صفوں میں کھڑے نمازی اس حقیقت کی عملی تصویر ہوتے ہیں کہ رنگ، نسل، زبان اور مقام سے بالاتر ہو کر سب ایک مقصد کے لیے متحد ہیں۔ یہی اتحاد مسلمانوں کی اصل قوت ہے۔ جب قومیں اپنے باہمی اختلافات میں الجھ جاتی ہیں تو ان کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے مگر جب وہ مشترکہ نصب العین کے تحت متحد ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔

    تاریخ گواہ ہے کہ بڑی کامیابیاں ہمیشہ اجتماعی قوت سے حاصل ہوئیں۔ جنگیں ہوں، تحریکیں ہوں یا قوموں کی تعمیر، کامیابی انہی کو ملی جنہوں نے اتحاد کو اپنایا۔ قیامِ پاکستان بھی اسی "بنیان مرصوص” کی روشن مثال ہے، جہاں بے شمار قربانیوں، مشترکہ جدوجہد اور ایک واضح مقصد نے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن عطا کیا۔ اگر اس وقت مسلمان منتشر رہتے تو شاید تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ یہ سبق آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ قومی ترقی کا راز باہمی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔

    بدقسمتی سے موجودہ دور میں فرقہ واریت، لسانیت، تعصب اور ذاتی مفاد نے اجتماعی قوت کو کمزور کیا ہے۔ ہم نے اپنی صفوں میں ایسی دراڑیں پیدا کر لی ہیں جو ہماری قومی بنیادوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ بھلائی کے لیے سوچیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرے اور معاشرتی بہتری میں اپنا کردار ادا کرے تو ہم ایک بار پھر مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔

    نوجوان نسل اس خواب کی تعبیر میں کلیدی کردار رکھتی ہے۔ نوجوان اگر علم، کردار، دیانت اور قومی شعور سے آراستہ ہوں تو وہ قوم کی منتشر اینٹوں کو دوبارہ جوڑ سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ نفرت کے بجائے محبت، تقسیم کے بجائے وحدت اور مایوسی کے بجائے امید کو فروغ دیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی نوجوان مثبت سوچ، تعمیری گفتگو اور قومی یکجہتی کے سفیر بن سکتے ہیں۔

    "ہم بنیان مرصوص ہیں” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے کہ ہم ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے، کمزوری نہیں۔ ہم نفرت کے بجائے محبت، انتشار کے بجائے اتحاد اور خود غرضی کے بجائے اجتماعی بھلائی کو فروغ دیں گے۔ جب ہر فرد اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا ہو اور دوسروں کے ساتھ جڑا ہو تو پوری قوم ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہے۔

    آج ہمیں اس پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مضبوط قومیں صرف وسائل سے نہیں بنتیں بلکہ مضبوط کردار، باہمی اعتماد اور اجتماعی شعور سے وجود میں آتی ہیں۔ اگر ہم واقعی ترقی، استحکام اور عزت چاہتے ہیں تو ہمیں "بنیان مرصوص” بننا ہوگا۔ ایک ایسی مضبوط دیوار، جسے کوئی دشمن، کوئی بحران اور کوئی سازش کمزور نہ کر سکے۔

    یقیناً، ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ایک ہوں، مضبوط ہوں اور اپنے مقصد میں ثابت قدم رہیں۔ کیونکہ جب قومیں "بنیان مرصوص” بن جاتی ہیں تو تاریخ انہیں ہمیشہ عزت، وقار اور کامیابی کے الفاظ میں یاد رکھتی ہے۔

    یہ وقت خواب دیکھنے کا نہیں بلکہ عملی بیداری کا ہے۔ ہمیں اپنے رویوں، ترجیحات اور قومی کردار کو ازسر نو ترتیب دینا ہوگا۔ ہر شہری اگر اپنے حصے کی شمع روشن کرے تو اجتماعی روشنی پورے وطن کو منور کر سکتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قوموں کی عظمت ان کے اتحاد، نظم و ضبط اور مشترکہ جدوجہد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ہم ایک مضبوط دیوار کی مانند جڑ جائیں گے تو نہ صرف اپنی بقا یقینی بنائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی استحکام، ترقی اور سربلندی کی نئی بنیاد رکھ سکیں گے۔

  • معرکہ حق بنیان المرصوص ،تحریر:تابندہ طارق عکس

    معرکہ حق بنیان المرصوص ،تحریر:تابندہ طارق عکس

    گاؤں کی پرانی مسجد کے صحن میں شام ڈھلتے ہوئے آسمان پر سنہری روشنی پھیل رہی تھی اور بچے ہمیشہ کی طرح عادل صاحب کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے سوائے حمزہ کے وہ ایک جگہ پرسکون حالت میں براجمان ہونے سے قاصر تھا۔حمزہ جتنا زیادہ شرارتی تھا اس سے کئی گنا زیادہ ذہین تھا۔صحن میں اچھلتے کودتے اسے ایک اخبار ملا وہ اس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ایک لفظ پر اٹک گیا اور کہنے لگا۔
    "دادا ابو! بنیان المرصوص کیا ہوتا ہے؟” حمزہ نے معصومیت سے پوچھا۔
    عادل صاحب نے اپنی عینک درست کی اور مسکرا کر بولے۔
    "بیٹا! بنیان المرصوص کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ایسی دیوار جس میں دراڑ نہ ہو، جس کی اینٹ سے اینٹ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہو۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:-”
    "مومن آپس میں بنیان المرصوص کی مانند ہیں۔”
    عائشہ تجسّس بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔ "تو کیا ہمارے سپاہی بھی ایسے ہوتے ہیں؟”
    عادل صاحب نے گہرا سانس لیا۔ "ہاں بیٹا! جب وطن پر مشکل وقت آتا ہے تو ہمارے سپاہی، ہمارے سائنسدان، ہمارے ڈاکٹر، ہمارے انجینئر سب ایک دیوار بن جاتے ہیں۔ یہی ہے معرکۂ حق بنیان المرصوص۔”
    بچوں کی دلچسپی بڑھ گئی۔ دادا ابو نے کہانی شروع کی۔

    "بچوں!یہ ان دنوں کی بات ہے جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ دشمن نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ ہمیں خوفزدہ کر سکتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وہ قوم ہے جس کے جوانوں نے 1965ء اور 1971ء میں بھی تاریخ رقم کی تھی اور جس کی افواج کا نظم و ضبط دنیا میں مثال سمجھا جاتا ہے۔”
    حمزہ حیرت سے کہنے لگا۔
    "دادا جان! پھر کیا ہوا تھا؟”
    "میرا بڑا بیٹا علی رضا! سرحد پر تعینات ہے لیکن جب اس نے ماں کی آواز فون پر سنی تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔وہ اپنی ماں سے کچھ نہیں کہہ سکا۔اس نے مجھ سے بات کی لیکن میں بس اتنا ہی کہہ پایا تھا۔”
    "بیٹا!اپنا خیال رکھنا۔”
    "بابا! آپ دعا کریں ہم سب مل کر دشمن کو دھول چٹوا دیں گے دشمن کے ارادے خاک میں ملا دیں گے ہم اپنی عرض پاک کے محافظ ہیں۔ دشمن ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائے گا۔”
    سب بچے یکسوئی سے دادا جی کی باتوں سے استفادہ حاصل کر رہے تھے۔

    اسی وقت محاذ کے دوسری طرف بری فوج کے جوان مستعد کھڑے تھے۔ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کی داستانیں نئی نہیں تھیں۔ پاک فوج کے جوانوں کے چہروں پر عزم کی روشنی تھی۔
    فضا میں گرج کی آواز گونجی یہ پاک فضائیہ کے شاہین تھے۔
    پاک فضائیہ کے پائلٹ آسمانوں میں دشمن کی ہر چال کا جواب دے رہے تھے۔ اسکواڈرن لیڈر سارہ کی آواز ریڈیو پر گونجی جس نے سب کے حوصلے اور بلند کر دیے تھے۔
    "ہم تیار ہیں وطن کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔”
    سمندر کی لہروں میں پاک بحریہ کے جہاز گہرے پانیوں میں مستعد تھے۔ کمانڈر فہد اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔
    "ہماری نگاہیں ہر سمت ہیں۔ دشمن سمندر کے ذریعے بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔”
    لیکن یہ معرکہ صرف بندوقوں اور جہازوں کا نہیں تھا۔دور ایک خفیہ تحقیقی مرکز میں پاکستانی سائنسدان مصروف تھے۔ وہ دن رات جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہے تھے۔ ڈاکٹر حارث نے اپنی ٹیم کو جوش دلاتے ہوئے کہا۔
    "ہماری محنت بھی اسی دیوار میں سنجوئی ہوئی اینٹ کی طرح ہے۔ اگر ہم ان کی ہمت بڑھائیں گے تو سپاہیوں کے حوصلے اور بھی مضبوط ہوں گے۔”
    ان سائنسدانوں کو اپنے محسنوں کی یاد تھی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے عظیم سائنسدان جنہوں نے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر بنایا اور انہیں وہ دن بھی یاد تھے جب ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی قیادت میں قوم نے سائنسی میدان میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا تھا۔ڈاکٹر حارث نے مسکرا کر کہا۔
    "ہم صرف ہتھیار نہیں بناتے بلکہ ہم امن کی ضمانت بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”

    گاؤں کے اسکول میں اسمبلی ہو رہی تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے بچوں سے مخاطب ہوئی۔
    "بچو! وطن صرف جنگ جیتنے سے نہیں بنتا بلکہ ہم سب کے اتحاد،ایمان،بھائی چارہ اور یکتا ہوکر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ایک دیوار کی مانند مضبوطی سے کھڑا ہونے سے بنتا ہے۔”
    حمزہ نے ہاتھ اٹھایا اور سنجیدگی سے کہنے لگا۔ "میم! ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
    "بچوں! تم محنت سے پڑھو، سچ بولو، ملک سے محبت کرو، یہی تمہارا معرکہ ہے۔”
    بچے یک زبان ہو کر بولے، "پاکستان زندہ باد!”

    سرحد پر رات گہری ہو چکی تھی۔ دشمن نے ایک بار پھر پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تھی مگر ہر سمت سے اسے مضبوط مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بری فوج زمین پر ڈٹی ہوئی تھی، فضائیہ نے فضاؤں کے ذریعے جم کر مقابلہ کیا،بحریہ نے سمندر کی راہوں پر پہرہ سخت کر دیا اور سائنسدانوں کی ٹیکنالوجی نے دشمن کی ہر چال ناکام بنا دی تھی۔اپنی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے ان کے سارے سسٹم ہیک کر کے تباہ کر دیے تھے۔یہ صرف جنگ نہ تھی، یہ اتحاد کی قوت تھی۔ایک لمحے کو ایسا لگا جیسے پوری قوم کئی جسم اور ایک جان بن گئے ہوں۔ مسجدوں میں دعائیں ہو رہی تھیں، مائیں سجدوں میں بیٹھی تھیں، بچے اپنے سپاہیوں کے لیے کارڈ بنا رہے تھے۔آخرکار دشمن کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔صبح کی اذان کے ساتھ فضا میں امن کی خوشبو پھیل گئی۔ سپاہی علی رضا نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر زمین پر ماتھا ٹیک کر سجدہ شکر ادا کیا۔سارے سپاہی ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارکباد پیش کرنے لگے۔علی رضا نے ہاتھ اٹھا کر نعرہ بلند کیا۔
    "نعرہ تکبیر!”
    سارے سپاہی علی رضا کی آواز پر یک زبان ہو کر جوابا نعرہ بلند کرنے لگے۔
    "اللّٰہ اکبر!”
    "پاکستان کا مطلب کیا؟”
    سارے سپاہی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کہنے لگے۔
    "لا اله الا اللّٰہ!”
    وطن کے محافظ اپنی جانوں کی پراہ کئے بغیر دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے رہے ان کے ماتھے پر ڈر کی ہلکی شکن بھی نہ پڑی جس جرأت سے دشمن کے ہر وار کو ناکام بنایا تھا وہ قابل تحسین تھا۔

    معمول کے مطابق شام کے وقت بچے عادل صاحب کے پاس آنا شروع ہو گئے تھے۔آج حمزہ حیرت سے دادا ابو کو دیکھ رہا تھا۔عادل صاحب بھی حمزہ کی حیرت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ کچھ نہ سمجھ پائے پھر حمزہ سے برائے راست ہی پوچھ لیا۔
    "حمزہ بیٹا! کیا ہوا ہے؟آج کوئی شرارت نہیں سب ٹھیک ہے نا؟”
    "دادا ابو! میں کچھ سوچ رہا ہوں۔”
    عادل صاحب اس کی مستقل مزاجی سے تجسّس کا شکار ہوتے ہوئے کہنے لگے۔
    "بیٹا! کیا سوچ رہے ہو ہمیں بھی اپنی قیمتی سوچ سے آگاہ کرو تاکہ ہمیں بھی علم ہو سکے۔”
    حمزہ عادل صاحب کے پوچھنے پر ان کے سامنے آکر کھڑا ہو کر کہنے لگا۔
    "دادا ابو! تو کیا ہم بھی بنیان المرصوص بن سکتے ہیں؟” عادل صاحب نے شفقت سے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    "ہاں بیٹا!کیوں نہیں۔”
    حمزہ ہاتھ کے اشارے سے کہنے لگا۔
    "لیکن دادا ابو! کیسے؟”
    "بیٹا!جب ہم آپس میں نفرت چھوڑ دیں ایک دوسرے کی مدد کریں، سچائی اور محنت کو اپنا شعار بنا لیں، تب ہم سب بنیان المرصوص بن جاتے ہیں۔”
    حمزہ کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری اس کے ہونٹوں پر ہلکی مسکان کے ساتھ ایک عہد بھی تھا حمزہ عزم سے گویا ہوا۔”دادا جان!میں بڑا ہو کر سائنسدان بنوں گا اور اپنے وطن کا محافظ بنوں گا۔”
    عائشہ کی سماعتوں سے جہاز کی آواز نے سرگوشی کی اسی لمحے عائشہ کی آنکھوں میں نئے خواب نے دستک دی اور وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔
    "دادا جان!میں پائلٹ بنوں گی اور دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام کر دوں گی۔”

    عادل صاحب بچوں کی باتوں سے مستفید ہوتے ہوئے ہنس پڑے وہ سمجھ چکے تھے اس وطن کو کوئی زیر نہیں کر سکتا ہے کیوں کہ آنے والے وقت میں کئی نئے محافظ اپنے وطن کی حفاظت کے لیے سینہ تان کر کھڑے ہوں گے۔عادل صاحب کی آنکھوں میں نمی اُترنے لگی انھوں نے آنکھوں کو موند کر نمی ضبط کرنے کی کوشش کی اور بچوں کی ہمت کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔
    "شاباش میرے بچوں! تم سب اس عرض پاک کی شان ہو اور میں تم سب کے لیے دعائیں کروں گا۔”
    فون پر گھنٹی بجی سکرین پر ابھرنے والا نام عادل صاحب کے لیے ایک نئی زندگی کی نوید تھا انھوں نے فون اٹھایا دوسری طرف سے جو آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی اس نے کئی نئے چراغ روشن کر دیے تھے۔
    "بابا! آپ کا بیٹا جلد ہی سر خرو ہو کر واپس آ رہا ہے۔”
    "بیٹا! مجھے تم پر فخر ہے۔”
    اسی لمحے مسجد کے مینار سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہو رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے روشنی خود اعلان کر رہی ہو۔
    "یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہے یہ قربانیوں، محنتوں اور دعاؤں سے بنی ہوئی ایک مضبوط دیوار ہے بنیان المرصوص۔”

  • ہم  بنیان مرصوص ہیں،تحریر:  بابر امین ابر

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: بابر امین ابر

    ” ریڈ فائل کہاں ہے؟ وہ فائل ہماری بقاء کا ثبوت ہے۔ اگر وہ دشمن کے ہاتھ لگ گئی تو ہمارا بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔” آفیسر حیدر علی ایک کمرے میں بیٹھا اپنے ماتحتوں سے مخاطب تھا۔ کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ کمرے میں مختلف مشینیں موجود تھیں۔ دیواروں پر نقشے ابھرے ہوئے تھے۔
    ” سر! آخر وہ فائل گئی کہاں اور اس میں ایسا کیا خاص ہے کہ وہ فائل ہماری بقاء سے مربوط ہے؟” ایک ماتحت ذیشان صفی نے پوچھا۔ باقی سب کے چہروں پر بھی حیرانی براجمان تھی۔
    ” میں تمھیں بتاتا ہوں کچھ دیر میں۔ پہلے میری ایک بات سن لو۔ مجھے شک ہے کہ ہم میں سے ہی کوئی غدار ہے۔ جو وطنِ عزیز کے قیمتی راز چوری کر کے دشمن کو پہنچا رہا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس کی بیخ کنی کرنی چاہیے۔” آفیسر حیدر علی نے کہا۔ سب اس کی بات سے متفق ہو گئے اور سر ہلاتے ہوئے اس کی تصدیق کرنے لگے۔

    ” جب تک اس ارضِ پاک کے شیر دلیر زندہ ہیں۔ کوئی بھی اس ملک کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی آنکھ پھوڑ دی جائے گی۔ وہ غدار سائے جو ملک کی سالمیت داؤ پر لگا رہے تھے، ان کی بیخ کنی کی جا چکی ہے۔” ایک آواز کمرے میں گونجی تو سب چونک اٹھے۔ وہ ایک سیکرٹ میٹنگ روم میں موجود تھے۔ یہاں ایسے حفاظتی انتظامات کے باوجود یوں اجنبی آواز گونجنا بہت بڑے معنیٰ رکھتا تھا۔ ایک چہرہ اور دو آنکھیں خوف سے لبریز اس آواز کو پہچان چکے تھے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میٹنگ روم کا کمرہ اچانک کھلا اور ایک سنہری نقاب اوڑھے ایک لمبا تڑنگا آدمی اندر داخل ہوا۔ اس نے چست پتلون اور کوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کے سر پر فلیٹ ہیٹ تھا۔ سب اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ اس کے سینے پر ایک بیج جگمگا رہا تھا۔ جس پر گولڈن ایگل لکھا ہوا تھا۔
    ” تم کون ہو اور ایسے سخت ترین حفاظتی اقدامات کے باوجود تم یہاں اندر کیسے آ گئے؟” آفیسر حیدر علی نے پوچھا۔
    ” یہی تھی ناں وہ ریڈ فائل جس کے بارے میں تم اتاولے ہو رہے تھے؟” سنہری نقاب پوش نے جواب دینے کی بجائے کہا۔ ریڈ فائل دیکھ کر آفیسر حیدر علی کی آنکھوں میں شدید حیرت عود کر آئی۔

    ” میں تم سب کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ ایک جانباز اور محبِ وطن آفیسر تھا، جس کی بہادری کی مثالیں ہمارے کورس میں بطور نصاب شامل تھیں۔ پھر وہ محبِ وطن چند کاغذی ٹکڑوں کے عوض اپنی ماں یعنی مملکت کا سودا کر بیٹھا اور اس نے ملک کی سب سے قیمتی فائل جسے ریڈ فائل کہا جاتا ہے، کو دشمن کے ہاتھوں بیچ دیا۔ لیکن وہ ایک بات بھول گیا کہ ملکِ عزیز بنیان مرصوص کے حصار میں پوشیدہ ہے اور اس بنیان مرصوص میں دراڑیں کوئی مائی کا لال نہیں ڈال سکتا۔” سنہری نقاب پوش کی آواز میں بادلوں کی سی گھن گرج تھی۔ دو آنکھیں اور ایک چہرہ اب بھی خوف اپنے روم روم میں سموئے ہوئے تھا۔

    ” لیکن تم آخر ہو کون اور وہ غدار کون ہے؟” آفیسر حیدر علی نے پوچھا۔
    ” میں ملکِ عزیز کی بنیان مرصوص کی ایک پوشیدہ اینٹ گولڈن ایگل ہوں۔ جسے کچھ عرصہ پہلے دشمن اپنے تئیں مٹا چکے تھے۔” سنہری نقاب پوش نے کہا اور چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ اسے دیکھ کر سب کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔
    ” تم؟” آفیسر حیدر علی کے منھ سے نکلا۔ باقی سب کے منھ بھی کھلے کے کھلے تھے۔ اب ان کے سامنے دو دو آفیسر حیدر علی موجود تھے۔ پھر اس سے پہلے کوئی کچھ سمجھ پاتا، سنہری نقاب پوش نے بجلی کی سی تیزی پسٹل نکال کر آفیسر حیدر علی اور اس کے ماتحت ذیشان صفی کو گولیوں کی نظر کر دیا۔

    ” یہ دونوں میک اپ کے ماہر دشمن ملک کے ایجنٹ تھے۔ انھوں نے مجھے اغواء کر کے اپنے تئیں مار ڈالا تھا۔ یہ ریڈ فائل لے اڑے تھے۔ لیکن خدا کو میری زندگی ابھی منظور تھی۔ میں بچ گیا۔ پھر یہ فائل دشمن ملک کے افسران کے ہتھے چڑھنے سے پہلے پہلے میں واپس نکال لایا۔ وہاں ان کے ہی اڈوں کی تفصیل والی فائل رکھ آیا۔ یہ دوہری گیم چلنے کے چکر میں تھے۔ انھوں نے ہمارے محافظوں کو مروانے کی پلاننگ کر رکھی تھی۔” سنہری نقاب پوش جو اصلی آفیسر حیدر علی تھا، نے اپنی روداد بتاتے ہوئے کہا۔
    ” مگر سر! اس فائل میں آخر ہے کیا؟” ایک ماتحت نے پوچھا۔

    ” اس فائل میں ہمارے تمام ریڈار سسٹمز اور ہیکنگ تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایٹمی اثاثوں کی تفصیلات ہیں۔ وہی ریڈار سسٹمز جن کی بدولت ہم نے دشمن کے جدید جنگی طیاروں کو مٹی کا ڈھیر بنایا ہے۔” سنہری نقاب پوش آفیسر حیدر علی نے جواب دیا تو حالات کی سنگینی کا اندازہ کر کے سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ آفیسر حیدر علی نے ثابت کر دیا تھا کہ ملکِ عزیز حقیقی معنوں میں بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی دیوار کے حصار میں محفوظ ہے۔ سب ستائشی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ دونوں مردہ اشخاص کو کراہت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر :نور فاطمہ

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر :نور فاطمہ

    معرکہ حق، بنیان مرصوص، قوم کا اتحاد، مسلح افواج کا جذبہ جہاد،عسکری و سول قیادت،حکومت و اپوزیشن ایک پیج پر …یہ وہ موقع جب بھارت نے پہلگام فالس فلیگ کا ڈرامہ رچایا اور پھر خطے کا ٹھیکیدار بننے کی ناکام کوشش میں دنیا بھر میں رسوا ہو گیا….معرکہ حق …اک ایسی جنگ جس میں جذبے جیتے، اتحاد جیتا،پاکستان جیتا، قوم جیتی، افواج جیتی، ہارا تو ہندوبنیا ہارا، شکست ہوئی تو مودی سرکار کو، رسوائی ہوئی تو گائے کے پجاری کو…معرکہ حق یہ سچ اور جھوٹ کے درمیان لکھی گئی وہ داستان تھی جس نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، ایک نظریہ ہے، ایک جذبہ ہے، ایک ایسی حقیقت ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا۔

    معرکۂ حق کی فتح کو آج ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر اس معرکے کی گونج آج بھی دشمن کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم ایک پرچم تلے جمع ہوئی، جب سیاسی اختلافات مٹ گئے، جب ہر زبان پر صرف پاکستان تھا اور ہر دل میں صرف سبز ہلالی پرچم کی حرمت،بھارت نے ہمیشہ کی طرح جھوٹ، پروپیگنڈے اور فالس فلیگ آپریشنز کے سہارے پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش کی، مگر اس بار مقابلہ بھارت کے لئے جس طرح وہ سمجھ رہے تھے آسان ہر گز نہ تھا، یہ معرکہ بیانئے کا،سچائی کا شعور کا ،حب الوطنی کا تھا اورایٹمی پاکستان اس معرکے میں‌ اللہ کے فضل و کرم، خدا کی غیبی مدد سے فاتح ٹھہرا،

    جب بھارتی میڈیا چیخ رہا تھا، پاکستان دلیل سے بول رہا تھا،جب وہاں نفرت کا بازار گرم تھا، یہاں سچائی کا چراغ روشن تھا،جب بھارت نے پاکستانی آوازوں کو دبانے کیلئے یوٹیوب چینلز پر پابندیاں لگائیں، تب پاکستان نے ذہانت، حکمت اور ڈیجیٹل قوت سے دشمن کے اپنے گھر تک سچ پہنچایا،پاکستانی نوجوانوں، خصوصاً جنریشن زی نے اس معرکے میں جو کردار ادا کیا، وہ تاریخ کا سنہری باب ہے۔ میمز، ویڈیوز، ملی نغموں اور تخلیقی انداز کے ذریعے نوجوانوں نے دنیا کو بتایا کہ پاکستانی قوم سچ کو خوبصورتی سے پیش کرنا بھی جانتی ہے۔

    معرکہ حق کے دوران جے ایف 17 تھنڈر کی گونج، سبز پرچم کی شان، اور قومی ترانوں کی آواز جب بھارتی شہروں تک پہنچی تو وہاں کے عوام خود مودی سرکار سے سوال کرنے لگے،دہلی میں اڑتے پاکستانی ڈرون ،بھارتی سرزمین پر ٹکراتے پاکستانی میزائل ،بھارتی فضاؤں میں پاکستان کا راج، میڈیا و سوشل میڈیا پر سچے بیانیے کی جنگ، قوم کا اتحاد، مسلح افواج کا بھر پور وار، منہ توڑ جواب، یہ درحقیقت نظریے کی فتح تھی،قوم کی فتح تھی، افواج کی فتح تھی، پاکستان کی فتح تھی.

    پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت نے حسب روایت پاکستان پر الزامات کی بارش کر دی، مگر پاکستان نے جواب میں دنیا کو حقائق دکھائے۔ بین الاقوامی صحافیوں کو ان علاقوں کا دورہ کروایا گیا جہاں بھارت دہشت گرد کیمپوں کا دعویٰ کرتا تھا۔ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہاں زندگی معمول کے مطابق رواں تھی۔ بچوں کی ہنسی، لوگوں کی مصروفیات اور پُرامن فضا بھارتی جھوٹ کے منہ پر طمانچہ تھی۔بھارتی مذموم حملوں،آپریشن سندور کے بعد معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص…تاریخی بن گیا کیونکہ اس میں افواجِ پاکستان کے ہمراہ پوری قوم شریک تھی، بھارتی ڈرون آئے تو قوم کا بچہ بچہ ڈرون گرانے نکل پڑا،لاہور کی فضاؤں، گلیوں کوچوں میں پاک فوج زندہ باد کے نعروں نے افواج پاکستان کے جذبے کو بڑھایا،اتحاد کی فضا بنی ،وزارتِ اطلاعات، آئی ایس پی آر، میڈیا، نوجوان، صحافی، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس، حتیٰ کہ عام شہری بھی اس جنگ کے سپاہی تھے۔ ہر طرف ایک ہی آواز تھی “پاکستان زندہ باد!”پاکستان ہمیشہ زندہ باد

    دنیا نے پہلی بار اتنے واضح انداز میں دیکھا کہ پاکستان ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے،جب وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام فالس فلیگ کے بعد غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی تو دنیا نے پاکستان کا اعتماد دیکھا، اور جب بھارت کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا تو اس کا جھوٹ خود اس کے گلے کا پھندا بن گیا،بھارت آج بھی دو قومی نظریے کو تسلیم نہیں کر پایا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان مزید مضبوط، مزید متحد اور مزید ناقابلِ تسخیر ہو رہا ہے،دوسری طرف ہندوتوا کی آگ میں جلتا بھارت اپنے ہی تعصبات، انتہا پسندی اور نفرت کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف وہ قربانیاں دی ہیں جن کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کا لہو، شہداء کی ماؤں کے آنسو، جوانوں کی قربانیاں،ضرب عضب،ردالفساد، یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان نے صرف اپنی نہیں، پوری دنیا کی جنگ لڑی ہے،پاکستان امن کا خواہاں‌لیکن دہشتگردی کے خلاف طویل ترین جنگ جیتی ہے،افواج پاکستان کے جانبازوں اور عوام پاکستان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں،رب نے پاکستان کو سرخرو کیا، دنیا نے وہ منظر دیکھا کہ بھارتی رافیل بھی پاکستان نے گرائے اور مودی جنگ بندی کی بھیک مانگنے کے لئے ٹرمپ کے پاؤں بھی پڑ گیا، کل تک دھمکیاں دینے والا مودی، آپریشن سندور شروع کر کے اپنی خواتین کے سندور مٹوا چکا تھا،پاکستان کو معرکہ حق میں وہ شان و عزت ملی کہ آج جب دنیا پاکستان کی طرف دیکھتی ہے تو اسے ایک باوقار، مضبوط اور باشعور قوم نظر آتی ہے،معرکۂ حق ہمیں یہ سبق دے گیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں،قوموں کا اتحاد، سچائی کی طاقت، اور نظریے پر یقین ہی اصل فتح دلاتا ہے۔

    آج معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر ہر پاکستانی سر اٹھا کر یہ کہہ سکتا ہے ہم نے صرف دشمن کو جواب نہیں دیا بلکہ ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان کبھی جھکتا نہیں،یہ وطن شہیدوں کی امانت ہے، اور اس کی حفاظت کیلئے پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔پاکستان ہمیشہ قائم رہے گا، کیونکہ یہ لاکھوں قربانیوں، دعاؤں اور خوابوں کی تعبیر ہے،اور جب تک اس دھرتی پر سبز ہلالی پرچم لہراتا رہے گا،حق کا یہ معرکہ ہمیشہ پاکستان کے نام رہے گا

  • ہم بنیان مرصوص ہیں۔تحریر: نظام درانی

    ہم بنیان مرصوص ہیں۔تحریر: نظام درانی

    انسانی تاریخ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ وہ قومیں کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوتیں جو اتحاد نظم و ضبط اور باہمی اعتماد کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں "بنیان مرصوص” کی مثال دے کر مومنوں کو ایک ایسی جماعت قرار دیا گیا ہے جو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند مضبوط مربوط اور ناقابلِ تسخیر ہوتی ہے۔ یہ محض ایک خوبصورت تشبیہ نہیں بلکہ ایک ایسا عملی پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ انفرادی کمزوریاں اجتماعی طاقت میں ڈھل سکتی ہیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں۔

    آج کا دور بے شمار چیلنجز سے بھرا ہوا ہے۔ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی انتشار نفرت اور تقسیم بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا تصور ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کر لیں تو کوئی رکاوٹ ہمیں ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

    ایک مضبوط عمارت ہمیشہ مضبوط اینٹوں اور ان کے باہمی ربط سے قائم ہوتی ہے۔ اگر ایک اینٹ بھی کمزور ہو یا اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو پوری عمارت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہی اصول ایک قوم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ قوم افراد سے بنتی ہے۔ اور ہر فرد اس کی بنیاد کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے دیانت داری محنت اور اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے تو قوم ترقی کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم خود غرضی حسد اور نفرت کو فروغ دیں تو ہم اپنی ہی بنیادوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ مختلف قسم کی تقسیم کا شکار ہے۔ کبھی زبان کے نام پر، کبھی علاقے کے نام پر، اور کبھی مسلک کے نام پر ہم ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ اختلافات ہمیں کمزور کرتے ہیں اور ہماری اجتماعی طاقت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلاف رائے فطری ہے۔ مگر اس اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اگر ہم برداشت رواداری اور احترام کو اپنا لیں تو یہی اختلاف ہماری طاقت بن سکتا ہے۔

    نوجوان نسل اس تبدیلی کی سب سے بڑی امید ہے۔ نوجوانوں کے پاس توانائی جذبہ اور نئے خیالات ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں اور اتحاد و یگانگت کا پیغام عام کریں تو معاشرہ ایک نئی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ آج سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک نوجوان کا ایک مثبت پیغام ہزاروں لوگوں کے دلوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم کو نفرت پھیلانے کے بجائے محبت امن اور اتحاد کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔

    تعلیم بھی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔ ایک ایسا تعلیمی نظام جو طلبہ کو صرف نصابی علم ہی نہ دے بلکہ انہیں اخلاقیات برداشت اور اجتماعی سوچ بھی سکھائے۔ وہی ایک حقیقی بنیان مرصوص تشکیل دے سکتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف ذاتی ترقی میں نہیں بلکہ اجتماعی بہتری میں بھی ہے۔ جب ایک فرد کامیاب ہوتا ہے تو اس کا فائدہ محدود ہوتا ہے۔ مگر جب پوری قوم ترقی کرتی ہے تو اس کا اثر ہر فرد تک پہنچتا ہے۔

    ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب ہم متحد ہوئے تو ہم نے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے۔ تحریکِ آزادی کے دوران مختلف زبانوں ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک مقصد کے لیے قربانیاں دیں۔ ان کا اتحاد ہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔ یہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ اگر ہم آج بھی اسی جذبے کو زندہ کریں تو ہم ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔

    "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی انفرادیت کھو دیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی مختلف شناختوں کے باوجود ایک مضبوط رشتہ قائم کریں۔ جیسے ایک خوبصورت باغ میں مختلف رنگوں کے پھول اپنی اپنی خوشبو کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ مگر سب مل کر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہماری مختلف ثقافتیں اور روایات بھی ہماری طاقت بن سکتی ہیں۔ اگر ہم انہیں قبول کریں اور ان کا احترام کریں۔

    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک مضبوط متحد اور کامیاب قوم بننے کے لیے ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔ ہمیں اپنے رویوں کو بہتر بنانا ہوگا۔ ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ جب ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں گے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں گے اور ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے۔ تبھی ہم حقیقی معنوں میں "بنیان مرصوص” بن سکیں گے۔
    آئیے عہد کریں کہ ہم نفرت کے اندھیروں کو محبت کی روشنی سے بدلیں گے۔ تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں گے۔ اور ایک ایسی قوم کی بنیاد رکھیں گے جو واقعی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند مضبوط ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی استحکام اور عزت کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

  • ہم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر:بنت حوا

    ہم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر:بنت حوا

    یہ قوم جب بھی اٹھی ہے حصار توڑ گئی
    ہر ایک ضرب سے دشمن کا غرور توڑ گئی

    قوموں کی زندگی میں کچھ الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ایک نظریہ ایک پیغام اور ایک عہد ہوتا-ہے ایسا ہی جملہ "ہم بنیان المرصوص ہیں "جو چند الفاظ نہیں بلکہ ایک قوم کی وہ لازوال علامت ہے جو اتحاد استقامت باہمی اعتماد اور اجتماعی طاقت کے ساتھ ایک قوم کی مضبوطی کا اعلان کرتی ہے اس کی پہچان بنتی ہے "بنیان المرصوص "جس کے معنی سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہیں جس کی ہر اینٹ دوسری کے ساتھ اس طرح مضبوطی سے جڑی ہوتی اسے ہلانا ممکن نہ ہو یہی حقیقت انسانی معاشرے پر بھی صادق آتی ہے جب قوم متحد ہو جاتی ہے تو ہر مشکل کا مقابلہ کر کے ممکن کو ناممکن بنا دیتی ہے ایسا ہی ایک سال قبل ہوا جب بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں وار کیا اور اس مشن کو سندور کا نام دیا جب جارحیت اشتعال انگیزی اور طاقت کے زعم میں یہ گمان کیا کہ پاکستان پر دباو ڈال کر مرعوب کیا جا سکتالیکن سلام ہے ہماری قوم ہماری افواج پاکستان خاص طور پر ہماری فضائیہ کے جوانوں کو جو ایسی دیوار کی مانند ہوئے جو فولاد کی ہی نہیں ایمان مہارت اور غیرت ملی سے بنی ہوئی تھی سلام ہے ہماری عسکری قیادت پرجنھوں نے دنیا پر واضح کر دیا کہ امن پسند ضرور ہیں مگر خود مختاری سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا نہ کرتے ہیں نہ کریں گے یہ وہ وقت تھا جب پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ ایک جسم اور ایک آواز بن کر کھڑی ہو گئی یہ معرکہ عسکری حکمت عملی کا مظاہرہ نہیں تھا یہ دشمن کے غرور تکبر اور عددی برتری کے زعم کے خلاف ایک واضح پیغام تھا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم ذہانت تربیت اور یقین سے جیتی جاتی ہیں اور اس قومی یکجہتی سے جس نے اس دن پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا کون سے اختلافات کیسے اختلافات سب پس پشت چلا گیا نظریاتی تقسیم مٹ گئی اور ایک ہی شناخت تھی "پاکستان ”

    ہمارے شاہین جب دفاع وطن کے لئے حرکت میں آئے جدید ٹیکنالوجی بھی ان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی
    "غرور دشمن کو جب للکار ملی
    فضا کو شاہینوں کی للکار ملی”
    یہ کامیابی پوری دنیا کے سامنے اعلان تھا پاکستان کو آزمانے والے ہر بار تاریخ کے ملبے تلے دفن ہوں گے کیونکہ یہاں کا دفاع ان ہاتھوں میں ہے جو عزم و وفا والے ہیں اپنی نیند راحت اور اپنی جان تک وطن پر قربان کرنے کو اعزاز سمجھتے ہیں

    اور یہی وہ لمحہ تھا پوری دنیا نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو تسلیم کیا معرکہ حق اور بنیان المرصوص پاکستان کے عزم واتحاد دفاعی طاقت کی علامت بن چکے ہیں "ہم بنیان المرصوص ہیں ایک نظریہ حیات ہے جو ہمیں اجتماعی ذمہ داری کا شعور دیتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں باہمی اختلافات کو بردباری اور حکمت سے حل کریں کیونکہ آج کے دور میں جب دنیا مختلف چیلنجز سازشوں انتشار اورفکری خلفشار کا شکار ہے "ہم بنیان المرصوص ہیں "پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا آج کل کے جوان اس تصور کے حقیقی علمبردار بن سکتے ہیں وہ اپنے کردار عمل اور علم کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے تعصب نفرت انتشار لسانی علاقائی سیاسی اور فرقہ وارانہ تقسیم ختم کر سکتے ہیں سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہ مثبت سوچ کو فروغ دے سکتے ہیں

    ہم بنیان المرصوص ہیں ہمیں سبق دیتا ہے آزمائش کے سامنے ڈٹ جانا ہے یہ ایک ایسا پیغام جو ہمیں ہماری اصل طاقت کو احساس دلاتا ہے کہ قوت تعداد کی بجائے اتحاد میں ہے
    ہم اس جذبے کو محض یادگار تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کو اپنے کردار کا حصہ بنائیں کیونکہ جب تک ہم بحیثیت قوم بنیان المرصوص بن کر کھڑے ہیں کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی
    دیوار وہی مضبوط ہے جو اتحاد سے ہو فولاد بھی جھک جاتا ہے جب قوم بیدار ہو
    کیونکہ جب ہم متحد ہو جائیں تو ہم بنیان المرصوص ہوتے ہیں
    سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

  • ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: بینا علی

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: بینا علی

    22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں 26 شہری جاں بحق ہوئے۔ اس المناک واقعے کے فوراً بعد بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔ یہ الزام تراشی محض ایک بہانہ تھی، جس کے ذریعے خطے میں ایک نئی جنگی فضا پیدا کی گئی۔ 7 مئی کو بھارت نے ایک فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جسے آپریشن سندور کا نام دیا گیا۔ بقولِ بھارت، اس آپریشن کا مقصد پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔ مگر درحقیقت یہ کارروائی شہری آبادی، مذہبی مراکز اور دفاعی تنصیبات پر مشتمل تھی۔

    ان کے اہداف میں مریدکے مرکزِ طیبہ، بہاولپور میں جیشِ محمد کا مرکز، اور مظفرآباد کے نواحی علاقے، خصوصاً شوائی نالہ شامل تھے۔ مظفرآباد کے پہاڑوں میں گونجتی ہوئی دھماکوں کی آوازیں رات کے سکوت کو چیر گئیں۔ اسکول بند ہو گئے، امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔میں خود مظفرآباد شہر سے تعلق رکھتی ہوں اور چشم دید گواہ ہوں جب اچانک شوائی نالہ کے علاقے میں بھارت کی جانب سے گولہ باری شروع ہوئی تو پہاڑ لرز اٹھے۔ مگر یہاں کے لوگ ثابت قدمی، ہمت اور حوصلے سے کھڑے رہے۔ وہ بے خوف ہو کر اپنے گھروں میں رہے، اور اللہ تعالیٰ سے اپنی فوج کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتے رہے۔ یہ منظر کسی بھی قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ اس سندور کو جلد ہی بیوگی کی چادر اوڑھنا پڑی، جب 10 مئی کو اس کا جواب بنیانِ مرصوص کے نام سے دیا گیا۔ یہ نام محض ایک عسکری اصطلاح نہ تھی، بلکہ قوم کے اتحاد کا اعلان تھا۔
    "ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانھم بنیان مرصوص”
    ترجمہ:” بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔”

    بنیان یعنی عمارت یا دیوار، اور مرصوص یعنی سیسہ پلائی، ایسی مضبوطی جس میں کوئی دراڑ نہ ہو۔ دشمن شاید یہ بھول گیا کہ ہم بنیان المرصوص ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو اتحاد، حوصلے اور یقین کی قوت سے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔ ناقابلِ تسخیر، ناقابلِ شکست۔ ہم وہ ہیں جو 313 کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو کم ہو کر بھی بھاری پڑتے ہیں۔ ہم خیبر شکن ہیں، وہ عزم رکھتے ہیں جو دروازے اکھاڑ دے۔ ہم بدر کے وارث ہیں، ہم خندق کے محافظ ہیں۔ ہم خالد بن ولید کے سپاہی ہیں، ہم طارق بن زیاد کی جرات رکھتے ہیں، ہم صلاح الدین ایوبی کی غیرت کے امین ہیں۔ مظفرآباد کے پہاڑ جب گونجے تو وہ صرف بارود کی آواز نہ تھی، بلکہ غیرتِ وطن کی صدا تھی۔ آپریشن سندور کے دوران اس خطے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کے لوگوں کے حوصلے اور دفاعی عزم نے یہ واضح کر دیا کہ یہ سرزمین جھکنے والی نہیں۔ ہر گونج کے جواب میں ایک عزم ابھرا، ہر حملے کے مقابل ایک حوصلہ کھڑا ہوا اور پھر جواب آیا، ایسا جواب جو صرف دفاع نہیں بلکہ پیغام تھا۔ سرحد کے اُس پار کی گئی جوابی کارروائی نے دشمن کو حیران کر دیا۔ یہ حکمت، مہارت اور جرات کا ایسا امتزاج تھا جس نے واضح کر دیا کہ ہم صرف اپنے حصار میں محدود نہیں، بلکہ وقت آنے پر دشمن کے میدان میں جا کر بھی اپنی طاقت کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ 10 مئی کو فجر کے وقت شروع ہونے والا یہ مرحلہ شام تک جاری رہا۔ پاک فضائیہ نے دشمن کی فضائی برتری کو توڑا، اور زمینی افواج نے سرحدوں پر فولادی دیوار کھڑی کر دی۔ پاکستان نے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں 15 ایئربیسز بھی شامل تھیں۔ رافیل جیسے جدید طیارے، جنہیں دنیا کے بہترین لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے، بھی پاکستانی جانبازوں کے عزم کے سامنے بے بس ہو گئے۔ ہماری صفیں جب بنتی ہیں تو صرف لشکر نہیں بنتا، ایک دیوار بنتی ہے ۔ بنیان المرصوص! یہ دیوار صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ عوام اور افواج کے اتحاد سے بنی تھی۔ میڈیا نے قومی بیانیے کو مضبوط کیا، اور سوشل میڈیا پر ہر پاکستانی نے فوج کے لیے دعائیں اور نعرے بلند کیے۔

    جدید جنگی سازوسامان بھی اس عزم کے سامنے بے معنی ہو جاتا ہے، جب مقابل ایمان، مہارت اور حوصلے سے ہو۔ پاکستانی جانبازوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ دفاعِ وطن محض ذمہ داری نہیں، یہ ایمان کا حصہ ہے۔ ہر پائلٹ، ہر سپاہی، ہر کمانڈر نے یہ ثابت کیا کہ ہمارا جذبہ دشمن سے کہیں بلند ہے۔ آخرکار عالمی ثالثی کے ذریعے شام کو سیز فائر پر اس کا اختتام ہوا۔ اس دوران دشمن کو واضح پیغام دیا گیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کا ہاتھ بڑھایا ہے، مگر جب جنگ مسلط کی جائے تو ہم پوری قوت سے جواب دینا جانتے ہیں۔ اس پورے مرحلے میں پاکستانی اور کشمیری عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ مائیں دعاؤں میں مصروف رہیں، نوجوان جذبے سے لبریز رہے، اور ہر دل ایک ہی صدا دے رہا تھا: ہم ایک ہیں، ہم متحد ہیں۔ ہر گھر میں قومی پرچم لہرایا گیا۔ یہ وہ منظر تھا جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی عوام ہے۔
    ہم بنیانِ المرصوص ہیں

    ہم خیبر شکن ہیں، ہم سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو ٹوٹتی نہیں، جھکتی نہیں، انتشار میں بھی وطن کے نام پر متحد ہو جاتی ہے۔ یہ وطن ہماری پہچان ہے۔ اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔

  • ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: ڈاکٹر مریم خالد

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: ڈاکٹر مریم خالد

    10 مئی 2025 جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور پاکستان کو ایک نازک صورتحال کا سامنا تھا۔ ایسے وقت میں پوری قوم نے جس اتحاد، یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کیا، وہ “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” کی حقیقی تصویر تھا۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ وہ جذبہ ہے جو کسی بھی قوم کو آزمائش کی گھڑی میں ناقابلِ تسخیر بنا دیتا ہے۔

    “بنیانِ مرصوص” ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ ایسی مضبوط دیوار جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ سے اس طرح جڑی ہو کہ کوئی طاقت اسے کمزور نہ کر سکے۔ 10 مئی کے حالات نے ثابت کیا کہ جب قوم متحد ہو، جب ہر فرد اپنے ذاتی اختلافات بھلا کر قومی مفاد کو ترجیح دے، تو وہ ایک مضبوط دیوار کی مانند ہر چیلنج کے سامنے ڈٹ سکتی ہے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ معرکے صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتے جاتے بلکہ قوموں کے حوصلے، اتحاد اور نظریاتی قوت فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ مئی 2025 کی کشیدہ فضا میں پاکستانی قوم نے جس صبر، استقامت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ قوم آزمائش کے وقت بکھرتی نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

    اس موقع پر سب سے قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ قوم کے مختلف طبقات—طلبہ، اساتذہ، ڈاکٹرز، صحافی، مزدور، کسان اور سیاسی حلقے—سب ایک آواز بن گئے۔ اختلافات اپنی جگہ موجود تھے، لیکن قومی مفاد کے معاملے پر ہر شخص ایک ہی صف میں کھڑا دکھائی دیا۔ یہی “بنیانِ مرصوص” کی روح ہے کہ ذاتی نظریات اور مفادات سے بلند ہو کر اجتماعی مقصد کے لیے متحد ہو جانا۔

    ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے بھی اس دوران اہم کردار ادا کیا۔ جہاں ایک طرف افواہوں اور غلط اطلاعات کے پھیلاؤ کا خطرہ تھا، وہیں باشعور شہریوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصدیق شدہ معلومات کو ترجیح دی۔ اس طرزِ عمل نے یہ ثابت کیا کہ جدید دور میں قومی دفاع صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ اطلاعاتی محاذ پر بھی ہوتا ہے، اور اس محاذ پر بھی اتحاد ناگزیر ہے۔

    10 مئی کے حالات نے نوجوان نسل کو بھی ایک اہم سبق دیا۔ نوجوانوں نے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے قومی شعور کا اظہار کیا اور یہ دکھایا کہ حب الوطنی صرف جذباتی نعروں کا نام نہیں بلکہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک باشعور نوجوان ہی مستقبل میں قوم کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

    یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ بیرونی دباؤ اکثر اندرونی اتحاد کو مضبوط کر دیتا ہے۔ جب قوم کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی سلامتی، آزادی اور وقار داؤ پر لگا ہے تو وہ اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ مئی 2025 کے حالات میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سیاسی وابستگیوں، علاقائی تقسیم اور فکری اختلافات سے بالاتر ہو کر قوم نے یکجہتی کا ثبوت دیا۔

    تاہم اصل امتحان صرف ہنگامی حالات میں اتحاد دکھانے کا نہیں بلکہ امن کے دنوں میں بھی اسی جذبے کو برقرار رکھنے کا ہے۔ اگر ہم واقعی “بنیانِ مرصوص” بننا چاہتے ہیں تو ہمیں روزمرہ زندگی میں بھی باہمی احترام، برداشت اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔ تعلیمی اداروں، گھروں اور سماجی حلقوں میں اتحاد و نظم کی تربیت دینا ہوگی تاکہ یہ جذبہ وقتی نہ رہے بلکہ قومی مزاج بن جائے۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مضبوط قوم صرف طاقت سے نہیں بنتی بلکہ اس کی اصل قوت اس کے شہریوں کی فکری پختگی، اخلاقی استحکام اور اجتماعی شعور میں ہوتی ہے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرے، قانون کی پاسداری کرے، اور قومی مفاد کو مقدم رکھے تو پوری قوم واقعی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتی ہے۔

    10 مئی 2025 ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ مشکل حالات میں اتحاد ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جب پوری قوم ایک مقصد کے تحت یکجا ہو جائے تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی چھوٹا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” ہمیں دیتا ہے۔

    آئیں ہم عہد کریں کہ ہم صرف آزمائش کے وقت ہی نہیں بلکہ ہر دن اس جذبے کو زندہ رکھیں گے۔ ہم اختلاف کے باوجود انتشار کا شکار نہیں ہوں گے، ہم تنوع کے باوجود متحد رہیں گے، اور ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑے رہیں گے۔
    کیونکہ جب ایک قوم “بنیانِ مرصوص” بن جاتی ہے تو کوئی طاقت اسے کمزور نہیں کر سکتی۔