Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    چاول کے پودے سے نکلے ریشے سے بنے تتامی غالیچے جاپانی تہذیب کی نشانی ہیں. اسے یہ گھر میں بچھاتے ہیں اسی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور اسی پر لیٹ کر سو جاتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ یہ تتامی غالیچہ کافی نازک ہوتا ہے. یہ گیلا ہو جائے تو بھی مسئلہ، گرد آلود ہوا تو فنگس لگ جاتی ہے. جاپانیوں نے اسکا حل صفائی میں نکالا. جاپانی گھر بہت صاف ستھرے ہوتے ہیں. گھر کا ہر فرد اندر داخل ہونے سے پہلے جوتے نکال لیتا ہے. بھاری بھرکم کپڑے دروازے پر ہی اتار لیتا ہے اور ان کے برتن گہرے بڑے ہوتے ہیں. تاکہ کچھ گرنے کا چانس ہی کم ہو.

    یورپ اور دوسرے ٹھنڈے ممالک میں بھی گھر کے دروازوں پر ایک ہینگر سٹینڈ ہوتا ہے. آپ اپنے اوور کوٹ اور لمبے بھاری جوتے دروازے پر اتار کر داخل ہوتے ہیں. ہمارے ہاں ایسے رواجوں کی طرف کم ہی کسی کا دھیان جاتا ہے. ہم سب کچھ پہنے گھر میں داخل ہوتے ہیں. باہر کے استعمال کے جوتے ہی کیا باہر کی زندگی بھی اپنے ساتھ کھینچ کر اندر لے آتے ہیں.

    کوئی بھی کاروبار ہو آفس ہو نوکری ہو یا روزگار اس میں اونچ نیچ کام کا حصہ ہے. بلکل ویسے ہی جیسے روز آتے جاتے سڑک کی ٹریفک پر ہمارا کنٹرول نہیں ہوتا ایسے ہی کام کی ایک اپنی ٹریفک ہوتی ہے. کبھی کھلی سڑک ملتی ہے کبھی ٹریفک جام تو کبھی سگنلز بند تو کبھی یہاں ٹکر وہاں ٹکر. لیکن یہ عملی زندگی کے میدان کا کھیل ہی تو ہے.

    مسئلہ تب بنتا ہے جب ہم یہ سب کچھ سر پر سوار کر لیں. اور بڑے مسائل تب بنتے ہیں جب یہ سواریاں ہم اپنے ساتھ گھر پر بھی لے آئیں. گھر میں سارا دن انتظار کرتے بچے خواتین تتامی کے غالیچے کی طرح نازک اور کمزور ہوتے ہیں. وہ یہ پریشر برداشت نہیں کر سکتے. اور ماحول بگڑنے لگتا ہے. ہمیں بھی اپنے دروازوں پر ہینگر لگانے چاہئے. جہاں گھر کا رواج بنا دیا جائے کہ باہر کی آلودگی یہاں ٹانگ کر اندر آنا ہے.

    ایک پرسکون گھر سے سکون حاصل کر کے نکلا فرد پھر دن بھر کا یہ کھیل سکون سے کھیل سکتا ہے.

  • پاکستان اور متبادل توانائی کے ذرائع!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان اور متبادل توانائی کے ذرائع!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پرانے زمانے میں پاکستان ٹپلیوژن پر موسم کی خبروں میں اور کچھ ہوتا نہ ہوتا یہ خبر ضرور ہوتی کہ ” پورے ملک میں اس وقت موسم خشک ہے جبکہ مالاکنڈ ڈویژن میں ہلکی ہلکی بوندا باندی کے آثار ہیں”. خدا خبر مالاکنڈ کی عوام ہر روز یہ خبر سن کر کیا سوچتی ہو گی؟

    مگر آج پورے ملک میں بوندا باندی نہیں بلکہ زارو قطار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ اس وقت دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے گزر رہی ہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ان تبدیلیوں سے دنیا کی معیشت پر کس قدر منفی اٹرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کہیں سیلاب آ رہے ہیں تو کہیں طوفان، کہیں قحط سالی ہے تو کہیں پانی اور خوراک کی قلت۔

    دنیا میں اس وقت ماحولیاتی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ جرمنی میں حالیہ الیکشن کے نتیجے میں حکومت بنانے والی پارٹیوں میں ماحول دوست گرین پارٹی کی کئی سیٹیں ہیں۔ اسی طرح دوسرے یورپی ممالک جیسا کہ آسٹریا، بیلجیئم ، فن لینڈ، آئرلینڈ اور سویڈن میں بھی ایسی ماحول دوست پارٹیاں اُنکی حکومتوں کا حصہ ہیں۔

    پاکستان میں البتہ اس طرف یا اس منشور پر عوامی سطح پر کوئی خاطر خواہ تحریک نظر نہیں آتی حالانکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔

    ماحولیاتی تحریکیں یا گرین مومنٹس کی ابتدا ترقی یافتہ مملک میں کافی عرصے سے زور پکڑ رہی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت تب دیکھنےمیں آئی جب 2018 میں تن تنہا سویڈن کی ایک پندرہ سالہ لڑکی گریٹا تُھنبرگ جمعہ کے روز سکول جانے کی بجائے سویڈن میں پارلیمنٹ کے باہر بیٹھ جاتیں۔ اُنکے دھرنے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے فیصلہ سازوں اور پالیسی سازوں کو باور کرانا تھا اور ان سے بچاؤ کے لیے ہر ممکنہ اقدام کرنے پر زور دینا تھا۔

    اُنکی کوشش کامیاب رہی اور جلد ہی اُنہیں مقامی اور بین القوامی فورمز پر ان تبدیلیوں کے حوالے سے بات کرنے کے لئے بلایا جانے لگا۔ اسی تحریک کے باعث 2019 میں یورپ میں کئی یورپی گرین پارٹیوں نے اپنے اپنے ملکوں اور یورپین یونین کے انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔

    آج دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ کاربن ایمیشن کو کم کر کے ہی زمین کو مستقبل کے انسانوں کے لئے بچایا جا سکتا ہے۔ گو اس حوالے سے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر جس تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اُنکے مقابلے میں یہ اقدامات ناکافی ہیں۔

    2016 کے پیرس معاہدے میں شریک 196 ممالک نے اس عزم کا ایادہ کیا کہ زمین پر 2050 تک کاربن ایمیشن کو صفر تک لایا جائے گا۔ یاد رہے کہ آج دنیا کی کل کاربن ایمیشن 35 ارب ٹن سالانہ کے قریب ہے۔

    پیرس معاہدے میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پچھلے دورِ حکومت میں ماحولیات کے حوالے سے اقدامات اُٹھائے گئے جن میں شجرکاری کا منصوبہ اہم تھا۔ مگر اسکے علاوہ بھی پاکستان کو توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع کا حصول یقینی بنانا ضروری ہے۔

    جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کو قدرت نے بھرپور نوازا ہے۔ یہاں تقریبآ سارا سال کی سورج کی روشنی پڑتی ہے۔اسکے علاوہ سمندر سے آنے والی ہوائیں بھی ملک کے بیشتر جنوبی علاقوں خاص کر سندھ اور بلوچستان میں چلتی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان توانائی کے ماحول دوست متبادل جن میں شمسی توانائی اور ہوا شامل ہے سے نہ صرف بھرپور بجلی بنا سکتا ہے بلکہ اسے درآمد کر کے کثیر زرِ مبادلہ بھی کما سکتا ہے۔

    2020 میں شمسی توانائی کے حوالے سے ورلڈ بینک کے تعاون سے تیار کردہ رپورٹ یہ بتاتی ہے اگر پاکستان اپنے کل رقبے پر سولر پارکس بنائے تو اس سے اسکی قبے کا
    محض 0.07 فیصد کی تمام ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
    یہ رقبہ کتنا بنتا ہے؟
    لاہور سے بھی آدھا!!

    اس رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان 2030 تک متبادل شمسی اور ہوا کے ذرائع سے 24 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر لےتو اس سے اگلے بیس سال میں پیٹرول کی مد میں 5 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہو سکتی ہے۔ اسکے ساتھ وقت پاکستان متبادل ذرائع سے تقریباً 1500 میگاواٹ بنا رہا ہے جو کل بجلی کی پیداوار کا محض 2 فیصد ہے۔

    اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کو ہر ماہ متبادل ذرائع سے 150 سے 200 میگاواث بجلی بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گیاور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

    حکومت کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور متبادل توانائی کے شعبے میں ہنرمند پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آنے والا دور اسی کا ہے۔

  • "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    شیر شاہ کراچی میں کار کی پسنجر سیٹ پر انتظار کرتے شیشے سے دیکھا ایک لمبا تڑنگا مجہول سا سادہ آدمی مجھے غور سے دیکھ رہا ہے. آنکھیں چار ہوئیں تو وہ میری طرف بڑھا. سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دماغ نے کئی تجزیے کر ڈالے. یہ خطرناک علاقہ ہے لوٹنے والا نہ ہو.؟ یہ ضرور اب کچھ مانگے گا.؟ سیل فون بٹوہ کہاں ہے؟ کیا اوپری جیب میں کچھ کھلے پیسے ہیں؟

    وہ آدمی جب پہنچا تو اس نے پوچھا باو جی خیریت تو ہے؟ کوئی مسئلہ تو نہیں. میں نے کہا نہیں بھائی سب ٹھیک ہے دوست کا انتظار کر رہا ہوں. اس نے بند مٹھی میں مکئی کے دانے پکڑے تھے جو وہ کھا رہا تھا. اس نے کچھ شرمندگی سے کہا باو جی کھاو گے.؟ میں نے کچھ دانے لئے اور کہا کیوں نہیں بس بھائی دعا کرنا میری نظر کچھ کمزور ہے.

    سچی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی ہی نظر کمزور ہیں. ہم فوری دوسروں پر دیکھ کر ایک رائے بناتے ہیں اور اپنی سوچ و رائے کو ختمی سمجھ لیتے ہیں. یہی حال اسپیشل لوگوں پر معاشرتی سوچ کا ہے. ہم ان کو معذور سمجھ کر زندگی کا بوجھ سمجھ لیتے ہیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ اللہ جس نے ہمیں اگر مکمل بنایا تو اپنے ایک دوسرے بندے کو نامکمل کیوں بنایا.؟

    اللہ رب العزت انسانیت کی تصویر مکمل کرنے کیلئے ہمیں خالی جگہیں دیتا ہے. ان خالی جگہوں پر ان اسپیشل لوگوں کو مکمل سمجھ کر جب ہم جگہ دیتے ہیں تو تصویر مکمل ہوتی ہے. معاشرے کی سوچ جب معذور ہو جائے تب یہ خالی جگہیں نامکمل رہتی ہیں اور معاشرہ ٹھوکر پر ٹھوکریں کھاتا چلا جا رہا ہوتا ہے.

    ہماری بہن حنا سرور کی کتاب نامکمل زندگی بھی ایک شاندار اسپیشل شخصیت کی یہی سمجھاتی کوشش ہے. اسے مکمل پذیرائی دے کر اپنی بینائی کا ثبوت دیں. زندگی آپ کو بڑے بڑے عالم اور لکھاری فلسفی نہیں سمجھا سکتے. زندگی ہمیشہ عام لوگوں کی عام باتوں پر سمجھ آتی ہے بس اگر آپ کی نظر ٹھیک ہو.

  • محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    کونو میگریگا آئرش باکسر ہے. ایک بار اپنی بیوی پر ہوئے ایک سوال پر اُس نے کہا جب مجھے کوئی نہیں جانتا تھا تب بھی میں ایک باکسر بننا چاہتا تھا. مجھے اپنا یہ خواب پورا کرنے کیلئے وقت تربیت اور ایک اتھلیٹ کی خوراک چاہئے تھے. آئرلینڈ میں ڈبلن سے تیس کلومیٹر دور کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں تب میرے ساتھ ایک ہی ہستی تھی. وہ میری بیوی تھی.

    اسے یقین تھا کہ میں باکسر بن جاوں گا. اسی نے وہ تکلیف اٹھائی وہ دور میرے ساتھ برداشت کیا جب ہمارے پاس کچھ نہ تھا لیکن خواب بہت بڑے تھے. آج میرے پاس سب کچھ ہے میں اس کیلئے کوئی بھی گھر گاڑی خرید سکتا ہوں. لیکن وہ کل بھی مجھے خوش دیکھنا چاہتی تھی اور آج بھی وہ میرے لئے ہی خوش ہے.

    محبت اور وفا کی کہانیاں کبھی ایک منظر دیکھ کر سمجھ نہیں آتیں. رتن ٹاٹا نے کیوں شادی نہیں کی.؟ وفا کی یہ داستان آج ایک کامیاب مشہور و دولتمند شخص کو دیکھ کر سمجھ نہیں آئے گی جب تک تاریخ کے ورق پلٹ کر آپ لاس اینجلس امریکہ کی اُس لڑکی تک نہ چلے جائیں جس سے رتن نے شادی کا وعدہ کیا تھا.

    محبت اور وفا کی کہانیاں بہت انمول ہوتی ہیں. جب کوئی وفا کی اپنی کہانی میں ثابت قدم رہتا ہے وقت پھر اس کہانی اور اس کے کرداروں کو کامیاب بناتا ہے. اتنا کامیاب جسے اکثریت جان لے. وفا کی یہ کہانی پھر مثال بنتی ہے کچھ نئی کہانیوں کی ابتداء ہوتی ہے.

  • آلو کی بھجیا — عین حیدر

    آلو کی بھجیا — عین حیدر

    بچے کو ٹیوشن پر چھوڑ کر واپس گھر جا رہے تھے تو بیگم نے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور پر رکنے کو کہا۔۔ میرے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ جیب کی غربت بھی ہچکولے لینے لگی۔۔ وجہ پوچھنے پر بیگم نے بتایا کہ آلو خریدنے ہیں۔۔۔

    میں نے شکوک و شبہات کے بیچوں بیچ بائیک پارکنگ میں کھڑی کی اور بیگم کو لے کر سٹور میں داخل ہو گیا۔۔۔

    بیگم سیدھی کاسمیٹک اور جیولری والی سائیڈ کی طرف لپکی۔۔ کافی دیر تک جیولری اور دوسری اشیاء دیکھتی رہی۔۔۔ وہاں سے کراکری والے پورشن میں چل دی۔۔۔ میں بھی لیلے کی طرح پیچھے ہو لیا۔۔۔ کچھ دیر شیشے اور پلاسٹک کی کراکری اٹھا اٹھا کر دیکھتی رہی۔۔۔

    بیگم کی حسرت بھری نگاہوں اور والہانہ انداز سے مجھے لگا کہ آج لمبا خرچہ ہونے والا ہے۔۔۔میں نے دل ہی دل میں پارکنگ میں کھڑی اپنی پرانی بائیک کی قیمت لگائی تو بیس بائیس ہزار سے زیادہ ملتے نظر نہ آئے۔۔۔ رکشے کا کرایہ جیب میں رکھ کر بھی خریداری کرنے پر وہ سب کچھ نہیں ملنے والا تھا جو بیگم دیکھ رہی تھی۔۔۔

    میرے اندر درد کی ایک لہر ابھری اور سوچ آئی کہ لوئر مڈل کلاس کی خواتین کتنی حسرتیں دل میں دبا کر زندگی جھیلتی ہیں۔۔ لیکن غریب اور مجبور خاوند تو صرف دعائیں ہی کر سکتا ہے، چنانچہ میں نے اب دعاؤں پر زور دیا۔۔ اور بیگم کے دل کے نرم ہونے کی دعائیں کرنے لگا۔۔ شاید قبولیت کی گھڑی تھی، بیگم وہاں سے واپس پلٹی اور سبزی والے علاقے کی طرف چل دی، جاتے جاتے ہینڈ بیگز، پرفیومز اور دیگر چیزوں کے قریب رک رک کر دیکھتی رہی۔۔۔

    میں بدستور لیلے کی طرح پیچھے پیچھے ہی پھرتا رہا ۔۔۔ آخر کار اس نے ایک کلو آلو خرید ہی لئے تو میں نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ میں نے کاؤنٹر پر پیسے ادا کئے اور ہم باہر آ گئے ۔۔۔

    بائیک پر بیٹھتے ہوئے میں نے پوچھا۔۔۔ "بیگم، لینے تو تم نے صرف ایک کلو آلو تھے، اور دیکھ پورا سٹور آئی ہو”…

    اگرچہ میرا سوال کئی قسم کے خطرات کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔۔لیکن بیگم نے کمال سادگی سے جواب دیا ۔۔۔۔ کہنے لگی "راشد علی، بات یہ ہے کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے”۔۔۔

    بات تو بیگم کی سچ ہی تھی لیکن میں بھی کیا کر سکتا تھا، چنانچہ خود کو آلو آلو سا سمجھتے ہوئے بائیک کو کک لگائی اور گھر کو چل دیئے۔۔۔

    راستے میں ایک بڑا شادی ہال پڑتا ہے۔۔وہاں پہنچے تو سڑک پر کافی رش تھا، شاید ابھی ابھی بارات پہنچی تھی اور گاڑیوں میں سے گویا سجی سنوری پریاں نکل نکل کر شادی ہال کے اندر جا رہی تھیں۔۔۔

    میں نے بائیک ایک طرف روک دی۔۔اور اللہ کی بنائی ہوئی حسین جمیل مخلوق کو انہماک سے دیکھنے لگا۔۔۔

    بیگم نے کچھ دیر تو صبر کیا، پھر بولی ۔۔ "اب چلیں گے بھی یا دلہن کو وداع کر کے ہی جانے کا ارادہ ہے”…

    میں نے جواب دیا۔۔۔”بیگم، اصل میں تمہاری بات یاد آ گئی تھی۔۔۔تم نے بالکل ٹھیک کہا تھا”۔۔۔

    کہنے لگی۔۔۔ "کون سی بات یاد آ گئی اب”..؟

    میں نے جواب دیا۔۔۔”وہی، جو تم نے کہا کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے”۔۔۔

    میری بات سنتے ہی بیگم کا ضبط جواب دے گیا اور گھر پہنچنے تک آلو کی بھجیا تقریباً تیار ہو چکی تھی۔۔۔

  • گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    دو سال قبل گھر میں چوری ہوئی تھی۔ اللہ کا کرم ہوا کہ جلد ہی چور بھی پکڑ لیے اور سامان بھی برآمد کر لیا۔ اس دوران چوروں سےپوچھ گچھ کے دوران، پولیس والوں سے اور دوسرے لوگوں سے بہت کچھ سیکھا۔ جن کی بنیاد پر کچھ پوسٹس تیار کی ہیں کہ چوری سے کیسے بچا جا سکتا ہے، اگر خدانخواستہ گھر میں چوری ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔

    1) کہیں جائیں تو باہر والے دروازے کو باہر سے تالا ہرگز نہ لگائیں۔ سب سے زیادہ اسی بات سے چوروں کو معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔ اگر گھر کے ایک سے زیادہ دروازے ہیں تو کسی ایک دروازے کو باہر سے ہمیشہ تالا لگا کر رکھیں تاکہ کہیں جانا پڑے تو وہی تالاباہر سے لگا کر چلے جائیں۔ اس طرح معلوم نہیں ہو پائے گا کہ آپ گھر پر نہیں ہیں کیونکہ وہ تالا تو ہمیشہ ہی باہر سے لگا رہتا ہو گا چاہے آپ گھر پر ہوں یا نہ ہوں۔

    2) آج کل ایسی لائیٹس مل جاتی ہیں جو کہ اندھیرا ہونے پر خود جل پڑتی ہیں۔ تھوڑی بجلی کھانے والی ایسی دو تین لائٹس گھر میں ضرور لگائیں۔ لیکن اگر یہ نہ ہوں تو پھر کوئی لائٹ آن چھوڑ کر نہ جائیں کہ جو لائٹ دن رات چلتی رہے اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔

    3) اگر زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تو کسی نہ کسی جاننے والے کو باہر والے دروازے کی چابی دے کر جائیں کہ وہ روزانہ ایک بار گھر میں ضرور چکر لگا لیا کرے۔

    4) چائنہ والا کوئی بھی تالا نہ لگائیں۔ ان کو کھولنا بہت ہی آسان ہوتا ہے۔ اس کی بجائے دیسی تالے لگائیں جن کی چابی بڑی مشکل سے بنتی ہے۔

    5) بیرونی دروازے لکڑی کے ہرگز نہ لگوائیں۔ بیرونی دروازے لوہے کے ہونے چاہیے، ایک تو انھیں توڑنا مشکل ہوتا ہے دوسرا توڑنے کی کوشش کی جائے تو آواز بہت آتی ہے جس کی وجہ سے کوئی چور انھیں ہاتھ نہیں ڈالتا۔

    6) اگر تین چار گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے گھر سے باہر جا رہے ہوں تو جتنے بھی دروازے ہوں سب کو تالے لگا کر جائیں۔ ان کمروں کو بھی جن میں کچھ بھی خاص نہ پڑا ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ خدانخواستہ کوئی چور آ بھی جائے تو زیادہ وقت اس کا تالے توڑنے میں ہی گزر جائے۔ چور کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد چیزیں سمیٹ کر چلتا بنے۔ پھر جس کمرے کو جتنا بڑا تالا ہو چور سمجھتا ہے کہ اس میں ضرور کوئی قیمتی چیز ہو گی۔

    7) سونے چاندی اور کیش کو کم سے کم مقدار میں گھر پر رکھیں۔ اگر کبھی مجبوری کی وجہ سے گھر پر ہو تو جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی جاننے والے کے پاس رکھوا جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو یا کم وقت کے لیے کہیں جا رہے ہوں تو پھر کسی ایسی جگہ رکھ کر جائیں جہاں چوروں کا خیال بھی نہ جائے جیسے واشنگ مشین میں، دھونے والے کپڑوں میں، کسی برتن میں وغیرہ وغیرہ

    8) گھر میں کام کرنے والی عورتوں یا مردوں، دودھ والے یا کسی بھی دوسرے شخص کو یہ نہ بتائیں کہ واپسی کب ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ کل نہیں آنا، جب آپ کو بلانا ہوا کال کر دیں گے۔ ایک دن کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں، زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں۔

    9) گھر میں سیکیورٹی کیمرے ضرور لگوائیں۔ خاص طور پر ایسے کہ جن کی ویڈیو موبائل پر دیکھی جا سکے اور جن میں Motion Detection کا فیچر لازمی ہے۔ آج کل یہ بیس تیس ہزار میں لگوائے جا سکتے ہیں۔ اگر کیمرے لگوانا ممکن نہ ہو تو پھر بازار سے ڈمی کیمرے ملتے ہیں وہ لگوا لیں دو چار سو روپے میں۔ کیمرے کے ڈر کی وجہ سے ہی بہت سے چور گھر میں نہیں گھستے۔

    10) اگر گھر میں کام کرنے والی رکھنا ناگزیر ہوتو پھر اس کا لازمی طور پر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر فری میں اندراج کروائیں،اس کے شناختی کارڈ کی کاپی لازمی رکھیں، اس کا گھر بھی دیکھ لیں اور یہ بھی معلوم کر لیں کہ گھر اپنا ہے یا کرائے کا۔ ان کو ترجیح دیں جن کا گھر اپنا ہو۔

    اگر خدانخواستہ چوری ہو جائے تو پھر کیا کرنا چاہیے کہ چور پکڑے جائیں۔

    1) آپ کہیں باہر سے آئیں اور معلوم ہو کہ خدانخواستہ گھر میں چوری ہو گئی ہے تو سب سے پہلے 15 پر کال کریں اور ساتھ یہ بھی کہیں کہ فرینزک والی ٹیم کو لازمی بھیجیے گا جو فنگر پرنٹس لے سکے۔ یاد رکھیں کہ مقامی تھانے میں ہرگز کال نہ کریں نہ ہی وہاں جائیں۔ وہاں جانے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہونا۔ 15 پر کی گئی کال ریکارڈ ہوتی ہے اور اس پر لازمی ایکشن لیا جاتا ہے۔ 15 پر کی گئی کال کی وجہ سے پولیس فوراً آپ کے گھر آئے گی۔

    2) جس گھر میں چوری ہوئی ہو یا گھر کے جس حصے میں چوری ہوئی ہو اس میں کسی کو بھی نہ جانے دیں، خود بھی نہ جائیں جب تک کہ فرینزک والے فنگر پرنٹس نہ لے لیں۔

    3) فنگر پرنٹس لیتے وقت پولیس کے ساتھ رہیں اور اگر کوئی چیز ایسی نظر آئے جس پر کوئی نشانات ہوں تو اس کی نشاندہی ضرور کریں۔ فنگر پرنٹس شیشے اور صاف پلاسٹک والی چیزوں پر بہت اچھے آتے ہیں۔ اگر کسی چیز پر پینٹ ہوا ہو تو اس پر بھی۔ بعد میں پولیس سے پوچھتے بھی رہیں کہ کیا فنگر پرنٹس نادرا بھجوا دیے ہیں یا نہیں۔ اور اگر بھجوا دیے ہوں تو ان کا کیا بنا۔ اگر میچ نہ ہوں تو جن پر شک ہو ان کے فنگر پرنٹس لے کر بھجوائیں۔ آج کل فنگر پرنٹس سے بہت سے چور پکڑے جا رہے ہیں۔

    4) ایک دفعہ پولیس اپنی کاروائی پوری کر لے تو پھر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر اپنی شکایت درج کروائیں اور اس کا حوالہ نمبر حاصل کریں۔ یاد رکھیں کہ یہ ایف آئی آر نہیں ہے۔

    5) اگلے دن آفس کی ٹائمنگ میں جا کر ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کریں۔ یہ اتنی آسانی سے نہیں ہوگی مگر جتنے بھی ممکن تعلقات ہوں سب کو بروئے کار لا کر ہر حال میں ایف آئی آر درج کروائیں۔ تعلقات سے بھی نہ درج ہو تو 8787 پر کال کر کے بتائیں کہ یہ مسئلہ ہے اور ایف آئی آر درج نہیں کر رہے۔

    6) ایف آئی آر میں کم سے کم دو گواہوں کے نام ضرور لکھوائیں اور اگر کوئی موبائل وغیرہ بھی چوری ہوئے ہوں تو ان کے IMEI نمبر ضرور لکھوائیں۔ اور ان کو لازمی طور پر ٹریکنگ پر لگوائیں اور ان کا پتہ بھی کرتے رہیں سی ڈی یو برانچ سے۔

    7) ایک دفعہ ایف آئی آر درج ہو جائے تو پھر خود سے بھی کوشش کرتے رہیں اور پولیس پر بھی مختلف طریقے سے دباؤ ڈلواتے رہیں کہ وہ چوروں کو گرفتا ر کرے۔ پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ چوری کس نے کی ہے۔ آپ کوئی تگڑی سفارش لے آئیں تو فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔

    8) یاد رکھیں کہ چوری والے معاملے میں کبھی بھی کسی بھی حال میں پولیس والوں کو پیسے نہ دیں ورنہ اتنے کی چوری نہیں ہو گی جتنے آپ پیسے لگا بیٹھیں گے اور ہاتھ بھی کچھ نہیں آنا۔ کچھ دن بعد آپ نے تنگ آ کر خود ہی جانا چھوڑ دینا ہے۔ اگر پیسے نہیں دیں گے تو آپ کئی بار چکر لگا سکتے ہیں پولیس سٹیشن کے۔

    9) اگر آپ خوش قسمت ہوں اور چور پکڑے جائیں تو پھر لازمی طور پر لسٹ بناتے جائیں کہ کس چور سے کیا برآمد ہوا ہے اور پولیس کو کہیں کہ جس سے جو بھی برآمد ہوا ہے وہ اس پر ڈالیں۔ پولیس اکثر چوروں پر نہیں ڈالتی جس سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں۔

    10) یاد رکھیں کہ مجرموں سے سامان پولیس نے ہی برآمد کروا کر دینا ہے عدالت نے نہیں۔ اس لیے پولیس کو کہیں کہ ریمانڈ لے اور چالان نہ کرے مجرموں کا۔ ایک دفعہ جیل چلے گئے تو آپ کو کچھ نہیں ملنا۔

    11) اگر مجرموں کی طرف سے کوئی آپ سے مذاکرات کرنا چاہے تو اس سے بات چیت لازمی کریں تاکہ آپ کو آپ کا سامان مل سکے۔ اور اگر کوئی مجرم پکڑا جائے تو اسے ہرگز تھانے سے باہر نہ آنے دیں جب تک کہ آپ کو سامان نہ مل جائے۔

    12) اس کے بعد کوئی وکیل کر کے مجرموں کو سزا دلوانے کی بھی پوری کوشش کریں۔

  • جنیٹک ٹیسٹنگ (Genetic testing) — خطیب احمد

    جنیٹک ٹیسٹنگ (Genetic testing) — خطیب احمد

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی 8 ارب آبادی میں سے 15 فیصد یعنی 1 ارب لوگ کسی نہ کسی سپیشل کنڈیشن یا معذوری کا شکار ہیں۔ ان میں 20 کروڑ یعنی پاکستان کی کل آبادی جتنے افراد شدید قسم کی ناقابل علاج ڈس ایبیلٹیز کے ساتھ ہیں۔ ایک ارب میں سے دنیا بھر میں 49 کروڑ سماعت سے محروم و متاثرہ سماعت ہیں۔ 2018 میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب سے زیادہ ہوگی۔ جس میں 1.5 ارب سماعت سے متاثرہ و محروم افراد ہونگے جس کی وجہ لاؤڈ اسپیکرز، ہینڈز فری، بلیو ٹوتھ، ائیر پاڈز ایم پی تھری ڈیوائسز وغیرہ کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ باقی معذوریوں کی ریشو آپ خود نکال سکتے ہیں۔

    جہاں دنیا بھر میں 1 ارب لوگ سپیشل ہیں۔ وہیں ان میں سے سپر پاورز کے حامل سپیشل افراد اور دیگر انسان اپنی اگلی پیڑھی کو معذوریوں سے بچاؤ کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔ کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ کسی طرح معذوری کو ہونے سے پہلے ہی روکا جائے۔۔کیونکہ بے شمار بیماریاں اور معذوریاں آج بھی ناقابل علاج ہیں۔

    اس روک تھام میں کلیدی کردار انسانی جینیاتی علوم کا ہے۔ جینیاتی ماہرین جنیٹک ٹیسٹنگ کی فیلڈ میں نت نئے تجربات و مشاہدات کرکے انسانی جسم کو وائرسز، دائمی امراض، انفیکشنز، جان لیوا بیماریوں، معذوریوں سے بائی ڈیفالٹ ہی محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔سائنس فکشن فلموں میں ہم اپنے بچپن سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ جو اب کسی حد تک حقیقت میں بھی ہونے لگا ہے۔ گو اب بھی اس میں کئی افسانے ہیں مگر میں کوئی افسانہ نہیں سنانے والا۔ کچھ عملی باتیں ڈسکس کروں گا۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ پر جانے سے پہلے کچھ بنیادی باتیں سمجھ لیں۔ ماں کے تخم اور والد کے نطفے سے حمل ٹھہرنے پر بننے والا زائگوٹ یک خلوی جاندار ہوتا ہے۔ جسے بنیادی خلیہ یا سٹیم سیل کہتے ہیں۔

    اس سیل میں ایک نیوکلئیس ہوتا ہے۔ نیوکلئیس کو خوردوبین سے دیکھیں تو اس میں ننھی منھی سی چھوٹی چھوٹی دھاگے نما چیزیں حرکت کرتی نظر آتی ہیں۔ جنہیں ہم کروموسوم کہتے ہیں۔ یہ 23 جوڑے یعنی ایک انسانی سیل میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ مختلف جانداروں جانوروں و پودوں میں ان کروموسومز کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً بلی میں 38 اور کتے میں 78 کروموسوم ہوتے ہیں۔ ایک کیکر کے درخت میں 12 اور ایک کبوتر میں 80 کروموسوم ہوتے ہیں۔ ایک ہاتھی میں 56 کروموسوم ہوتے ہیں۔

    جب کروموسوم کو خوردوبین میں بڑا کرکے دیکھیں تو اس میں گول گول گھومتی ہوئی سیڑھی نما چیزیں دکھائی دیں گی۔ جنکو ہم DNA 🧬 کے نام سے جانتے ہیں۔ ایک ڈی این کے چھوٹے سے ٹکڑے کو ہم جین Gene کہتے ہیں۔

    انسانی جینوم یعنی انسانی کوڈ میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 20 ہزار جین ہوتے ہیں۔۔اور ایک انسانی جینوم میں 3 ارب معلومات کے مقام ہوتے ہیں۔

    کروموسوم جین جینوم ڈی این اے یہ سب مل کر انسانی حصوصیات وراثتی معلومات کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

    جینوم ایک ریسپی بک اور جین ایک ریسپی کی ترکیب ہوتی ہے۔ جنیوم طے کرتا ہے کہ ہمارا سارا سٹرکچر کیسا ہوگا۔ اور جین جسم کے ہر حصے کو بنانے کے لیے ڈی این اے میں محفوظ معلومات پر عمل درآمد کرواتا ہے۔ ہمارے دانت آنکھیں رنگ وزن قد کیسا ہوگا یہ سب جینز کا کام ہے۔ جینز پروٹین پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں اور پروٹین انسانی جسم بناتی ہیں۔ کونسے جین میں کوئی تبدیلی یا تغیر آیا ہے۔ یہ طے کرتا کہ جسم کا کونسا حصہ ٹھیک نہیں بن سکا۔

    ہزاروں جینز کے نام ہیں۔ مثلا OCA2 نامی جین میں تغیر آجائے تو جسم میں میلانن پروٹین نہیں بن سکے گی یا کم بنے گی۔ میلانن ہمارے جسم میں کالے رنگ کی مقدار طے کرتی ہے۔ اس جین کی خرابی والے افراد Albinism یعنی سورج مکھی کا شکار ہوتے ہیں۔ میلانن پگمنٹ ہی طے کرتا ہے ہماری اسکن آنکھوں اور بالوں کا رنگ کیا ہوگا۔ وہ ہوگا ہی نہیں تو آنکھیں لائٹ کلر کی بال اور جسم بلکل سفید ہوگا۔ اسکن عام دھوپ سے جل سکتی ہے۔

    خیر جنیٹکٹس کی بنیادی معلومات سمجھ آگئی ہیں ناں؟ کہ ہم ایک انسان بنتے کیسے ہیں۔

    اب آتے ہیں جنیٹک ٹیسٹنگ کی طرف۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ میں ہمارے خون تھوک پسینے یا ایک سیل کا سامپل لیکر ڈی این اے کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کہ ہمارا جسم کیسے فنکشن کر رہا ہے۔ جین ڈی این اے کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔ اس ٹیسٹنگ میں معلوم کیا جاتا ہے کہ کونسے جینز میں میوٹیشن ہوئی ہے۔ آیا ہمارے پاس کوئی سویا ہوا کینسر ہیموفیلیا تھیلیسیمیا سسٹک فائبروسس کا جین تو نہیں۔ جو ہمارے بچوں میں جا کر جاگ سکتا ہے۔ ہم ٹھیک ہیں ہمارے بچے ان بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اور اس سے ہمارے اپنے جسم میں کیا تبدیلی آسکتی ہے۔ یعنی کوئی بیماری یا کسی معذوری کا پیشگی اندازہ لگانا۔ یا اگلی پیڑھی کو یہ جین منتقل کرنے کی روک تھام پر ماہرین سے جنیٹک کاونسلنگ لینا۔

    بے شک جنیٹک ٹیسٹنگ کسی بھی مسئلے کا سراغ لگا کر اس سے بچاؤ اور علاج میں مددگار ہے۔ مگر ہم اسے سو فیصد درست نہیں کہہ سکتے۔ ڈی این اے اور جینز کے اندر اربوں کھربوں گھتیاں ہیں۔ جو انسانی عقل ابھی لاکھوں سال بعد سلجھا پائے گی۔

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ انسانی جین دیگر جانوروں اور پودوں میں بھی پائے جاتے ہیں؟ اسکا مطلب ہے کہ زندگی کا آغاز کھربوں سال قبل ایک سیل سے ہوا تھا اور اسی سے ساری کائنات وجود میں لائی گئی۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ میں پروٹین ان کوڈنگ encoding کے پارٹس جنکو ہم Exome کہتے ہیں۔ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کہ کہاں کوئی تنوع ہے۔ جو ہماری صحت یا ہمارے بچوں کو کسی طرح متاثر کر سکتا ہے۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ کی سات بڑی اقسام ہیں۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ دنیا بھر میں جینیاتی بیماریوں کی مختلف لیولز پر کھوج لگانے میں مدد گار ہوتی ہے۔ اگر کسی جینیاتی نقص کا علم ہوجائے تو اسکا علاج یا روک تھام کیسے کرنی ہے اس پر کام کیا جاتا ہے۔

    میں نے اسی مضمون کے پہلے حصے میں لکھا کہ جینیاتی ٹیسٹوں کو ہم سات بڑی اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ جینیاتی بیماریاں کیا اور کیسی ہوتی ہیں تفصیل سے پچھلی پوسٹ میں لکھا گیا ہے۔۔ اسکا لنک اسی پوسٹ کے اختتام میں موجود ہے۔

    سات طریقہ ہائے ٹیسٹ یہ ہیں۔

    1.تشخیصی ٹیسٹ (Diagnostic Testing)

    اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے اندر کسی بھی ایسی بیماری یا معذوری یا Disease کی علامات ہیں جو کہ جینیاتی ہیں۔ ان کو ہم عام زبان میں جینیاتی تغیر یعنی mutated genes کہتے ہیں۔ جنیٹک ٹیسٹنگ ایسے کیسز میں تصدیق کرتی ہے کہ آپ میں واقعی کوئی جینیاتی مرض ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر ہم سسٹک فائبروسس Cystic fibrosis یا Huntington’s disease کا پتا ڈائیگناسٹک ٹیسٹنگ سے لگا سکتے ہیں۔

    2. علامات ظاہر ہونے سے پہلے جنیٹک ٹیسٹنگ کروانا
    Presymptomatic and predictive testing

    اگر خاندان میں کوئی جینیاتی بیماری موجود ہے۔ اور آپ میں اس کے کوئی آثار یا علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ ایسے میں یہ ٹیسٹنگ کی جاتی ہے کہ آپ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے رسک پر تو نہیں ہیں۔ عموماً اس میں کولو ریکٹل کیسنر colorectal cancer شامل ہے۔ اس کینسر کو ہم bowel cancer, colon cancer, or rectal cancer بھی کہتے ہیں۔ ہماری بڑی انتڑی کے حصے کولن اور ریکٹم میں کیسنر ہوجاتا ہے۔ اس کینسر کے 10 میں سے 8 مریض تشخیص کے بعد ایک سال بعد ہی وفات پاجاتے ہیں۔

    3. کیرئیر ٹیسٹنگ (Carrier testing)

    اگر آپ کے خاندان میں کوئی جینیاتی امراض کی فرد یا ہسٹری موجود ہے۔ جیسے سکل سیل انیمیا Sickle cell Anemia یا ہیموفیلیا یا سسٹک فائبروسس، سپائنل مسکولر اٹرافی وغیرہ۔ یا آپ کسی ایسے ایتھنک گروپ سے ہیں جہاں کوئی مخصوص بیماری یا معذوری بہت عام ہے۔ مثلاً ملتان کے ایک محلے میں 70 افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ اور کرک کے ایک گاؤں میں 50 سے زائد بونے لڑکے لڑکیاں موجود ہیں اور ان دونوں مخصوص ایریاز میں ان دونوں جینیاتی امراض کی ریشو بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

    آپ کے بچوں میں یہ مرض نہ جائے اس کے لیے ہم کیرئیر ٹیسٹنگ کرواتے ہیں کہ آیا ہم میوٹڈ جین کیری کیے ہوئے ہیں یا نہیں۔

    میں یہاں بتاتا چلوں کہ اگر ماں اور باپ دونوں ایک ہی جینیاتی مرض کے صرف کیرئیر ہیں۔

    "ان میں وہ مرض ہے نہیں”

    تو 25 فیصد چانسز ہیں وہ بچہ اس مرض کے ساتھ پیدا ہوگا۔

    اور 50 فیصد چانسز ہیں کہ بچہ اگر اس کے ساتھ پیدا نہیں ہوا تو کیرئیر ضرور ہوگا۔

    اگر صرف ماں کیرئیر ہے تو بھی بچے کے جینوم میں 50 فیصد وہ جین منتقل ہونے کے جانسز ہیں۔

    4. فارماکو جینیٹکس (Pharmacogenetics)

    اگر آپ کسی مخصوص و دائمی صحت کی خرابی کے مرض یا ڈی زیز میں مبتلا ہیں۔ اور ڈاکٹروں سے سمجھ سے باہر ہے دوائی کیا دیں؟ تو جنیٹک ٹیسٹنگ کی یہ قسم اپلائی کی جاتی ہے۔ تاکہ پراسرار یا ناقابل فہم بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے دوائی کا سالٹ اور ڈوزیج معلوم کی جا سکے۔

    مشہور گولی پیناڈول کا سالٹ پیراسیٹا مول ہے اور پیناڈول ایکسٹرا کے سالٹ میں پیراسیٹا مول کے ساتھ کیفین Caffeine بھی شامل ہوتی ہے۔ پہلے ایک گولی میں ایک سالٹ ہوتا تھا اب دو سے تین سالٹ تک ایک گولی میں ڈالے جا رہے ہیں۔ مطلب جہاں آپ دو یا تین گولیاں کھاتے تھے اب ایک ہی کھائیں گے۔

    5. دوران حمل ٹیسٹنگ (Pre natal testing)

    اگر آپ حاملہ ماں ہیں۔ کچھ ٹیسٹ بتا سکتے ہیں کہ آپکے پیدا ہونے والے بچے میں کوئی ابنارمل جین تو نہیں ہے۔ ڈاؤن سنڈروم اور ٹرائی سومی 18 Edwards syndrome یا ٹرائی سومی 18 یعنی Patau syndrome اس کی کچھ مثالیں ہیں۔ یہ سب پری نیٹل جنیٹک ٹیسٹنگ میں ماں کے پیٹ سے سیری برو سپائنل فلیوڈ یا پلاسینٹا سے بلڈ سیل لیکر حمل کے پہلے تین ماہ میں روح پھونکے جانے سے پہلے ہی معلوم ہو سکتے ہیں۔ اب تک 2 ہزار سے زیادہ سنڈروم دریافت ہو چکے ہیں۔ 5 کے قریب تو میں پڑھ چکا ہوں۔ موسٹ کامن 20 کے قریب ہیں وہ سب میری زیر تصنیف کتاب میں شامل ہیں۔

    اسی سال ایک جدید ٹیسٹ دریافت ہوا ہے جسے سیل فری ڈی این اے ٹیسٹ cell-free DNA testing کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی اس میں ہمیں یوٹرس سے پانی یا بچے کا خون لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی سے ماں کے خون سے ہی پیٹ میں موجود بچے کا ڈی این اے نکال کر اسکا ٹیسٹ ہوجائے گا۔ جین ڈی این اے کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔ چارپائی ایک ڈی این اے ہے اور اسکی ایک چھوٹی سی رسی ایک جین۔

    6. نومولود بچوں کی سکریننگ (Newborn screening)

    دنیا بھر میں یہ سکریننگ عام ہے۔ مگر پاکستان کے بڑے سے بڑے مہنگے ترین ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کو اسکا شعور نہیں ہے۔ میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کر رہا ہوں کہ نومولود بچوں کا 1 سے 2 فیصد ہسپتالوں کو چھوڑ کر کسی بھی جگہ سماعت و بصارت کا ابتدائی ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔ جو کہ دنیا بھر میں یونیورسل ٹیسٹ بن چکا ہے۔ اسکے علاوہ رئیر جنیٹک اور ہارمونل تغیرات کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ کچھ میٹابولک خرابیوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو بچے کی جان تک لے سکتے ہیں۔ کیوں پیدائش کے بعد پہلے سال ہی لاکھوں بچے فوراً بیمار ہو کر ایک سے دو دن میں فوت ہوجاتے؟ وجہ یہی ہے کہ ابتدائی ٹیسٹ نہیں ہوپاتے۔ اگر ہوجائیں فوری اسکا علاج ہو تو بچے فوت ہونے سے بچ سکیں۔

    7۔ پری امپلانٹیشن ٹیسٹنگ (Preimplantation testing)

    جب ہم مصنوعی طریقہ حمل ان ورٹو فرٹی لائزیشن IVF کے ذریعے حمل کی طرف جاتے ہیں۔ تو بلاسٹو سسٹ یا ایمبیریو میں سے لیزر کے ذریعے ایک دو سیل لے کر انکی جنیٹک ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ ایمبیریو میں موجود میوٹڈ جین کو نکال دیا جاتا ہے۔۔اور صحت مند بلکل ٹھیک ایمبریو کو بچہ دانی میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس سے چند ممکنہ جینیاتی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔

    ان میں سے پانچ قسم کی ٹیسٹنگ میری معلومات کے مطابق پاکستان میں ہو رہی ہے۔ آغا خان اور شوکت خانم لیبارٹری جینیٹک ٹیسٹنگ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ کچھ اور بھی کر رہے ہونگے معتبر اور قابل اعتماد یہ دونوں نام ہیں۔ یہ ٹیسٹنگ کافی مہنگی ہے۔ مگر ایک اسکی قیمت آپکے یا آپکے بچوں میں عمر بھر کے روگ سے تو کسی صورت بھی زیادہ نہیں ؟

  • کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    ہم نے اکثر و بیشتر ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کامیاب لوگوں سے خوامخواہ چڑتے ہیں۔ امیر اور دولت مند لوگوں سے خار کھاتے ہیں۔
    اگر کسی دولت مند اور غریب کی لڑائی ہو جائے تو از خود ہمیشہ امیر بندے کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔ گاڑی یا بائیک ٹکرا جائے تو صرف گاڑی والے کو ہی برا بھلا سناتے ہیں۔ ریڑھی یا رکشہ والا قیمتی گاڑی میں رکشہ ٹھوک دے ہمیشہ ریڑھی اور رکشے والے کو ہی مظلوم ثابت کرتے ہیں اور گاڑی والے کو مغرور اور بد تمیز گردانتے ہیں۔

    ہم نے از خود فرض کر لیا ہے کہ دولت مند ہی ہمیشہ غلط ہے۔ اور تمام تر سمجھوتے اور درگزر اور خوف خدا بھی صرف اور صرف دولت مند کو ہی کرنے چاہیے اور سب کے سب اصولوں کی پاسداری بھی صرف دولت مند یا کھاتے پیتے لوگ کریں باقی غریبوں کو ہر بات کی ریلیکسیشن ہے۔

    ہم سمجھتے ہیں کیونکہ ہم غریب ہیں اس لیے بد دیانتی جائز ہے جب کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم غریب اسی لیے ہیں کہ ہم بد دیانت ہیں۔

    ہم اپنے ورکرز اور ملازمین میں دیکھیں یہ جہاں دل کرئے گا وہاں کام میں آنا کانی کریں گے جب دل کرئے گا خاندان کے ہر دور و نذدیک کی فوتگیوں شادیوں میں جائیں گے ہر زرا سی بات پہ چھٹیاں کریں گے جب دل چاہے گا کام بیچ میں چھوڑ کے بھاگ جائیں گے مگر امیر لوگوں پہ یہ فرض ہے کہ وہ ان کی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود ان کو تنخواہ پوری دے کیونکہ یہ غریب آدمی ہے۔

    مجھے حیرت ہوتی ہے کیا غریب آدمی کو خود احساس نہیں ہے کہ وہ غریب ھے اس کو بد نیتی نہیں دیکھانی چاہیے؟ اس کو چھٹیاں نہیں کرنی چاہیں؟ اس کو بہانے نہیں بنانے چاہیے؟ اس کو کام میں ڈنڈیاں نہیں مارنی چاہیں؟
    اس سے اس کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔

    یہاں رکشہ سواروں کو دیکھیں سڑکوں پہ رکشہ ایسے چلاتے ہیں جیسے موت کے کنوئیں میں چلا رہے ہوں بعض مرتبہ اچانک سامنے آ کے کسی بھی نئی شاندار گاڑی میں لا کے رکشہ ٹھوک دیں گے خود کپڑے جھاڑ کے ہنستے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے دوسرے کی شاندار گاڑی کی ہزاروں روپے کی لائٹس توڑیں ڈینٹ ڈالا نقصان کیا اس کا کوئی ہمدرد نہیں سارا مجمع اکھٹا ہو کہ گاڑی والے کو کہے گا جانے دو غریب آدمی ہے. کیا غریب آدمی کے لیے چھوٹ ہے کہ وہ اندھا دھن رکشہ چلائے یا بائیک چلائے ؟ کیا اس پہ کسی کے نقصان کی کوئی زمہ داری نہیں ھے؟ اور کیوں نہیں ھے؟

    اگر کوئی دوست وقت کے ساتھ ترقی کر گیا کامیاب ھو گیا تو پرانے دوست لازم ہے کہ اس پہ طنز کریں گے۔ وقت بے وقت فون کریں گے۔ فون نا اٹھانے پہ اس کے بخیے ادھیڑیں گے۔ اسے پرانا وقت یاد دلائیں گے۔ اس کو مغرور گردانیں گے۔ صرف اس کیے کہ اب وہ چوک پہ آپ کے ساتھ بیٹھ کے گپیں نہیں لگاتا یا وقت بے وقت فون نہیں اٹھاتا؟

    کبھی آپ نے سوچا ھے کہ وہ مصروف ہو سکتا ھے یا وہ سارا دن کام کے بعد آرام کر رہا ہو سکتا ھے یا اس کا فیملی ٹائم ہو سکتا ھے۔

    اگر آپ نے یہ نہیں سوچا تو اب یہ ضرور سوچیں کہ وہ اسی لیے آپ سے آگے نکلا ہے کیونکہ اس نے وقت کے ساتھ وقت کی قدر کو پہچانا ھے اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے۔ اس نے گپوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے انتھک محنت کی ھے۔

    اکثر لوگوں کو کہتے سنا جب سے فلاں کے پاس گاڑی آئی ہے فلاں بہت مغرور ہو گیا ھے فلاں تو ہمیں اپنی گاڑی میں بیٹھاتا ہی نہیں کبھی آپ نے سوچا ھے کہ کیا آپ نے کسی کہ ذاتی سواری میں اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اس کی پرائیویسی کا خیال رکھا ہے سفر کے دوران اس کی ٹیلیفون کالز پہ کی گئی ڈیلز یا کوئی بھی ذاتی بات کا پاس رکھا ہے۔

    اکثر لوگوں کو شکوہ ہوتا ہے فلاں اپنے گھر نہیں بلاتا فلاں ہمارے گھر نہیں آتا۔ فلاں فلاں جگہ نہیں جاتا۔

    ٹھیک ہے خوشی غمی میں شامل ہونا اچھی بات ہے مگر کیا آپ نے کبھی کسی کامیاب دولت مند امیر آدمی کے جوتوں میں پاوں ڈالے ہیں کبھی اس کے پاوں کے آبلے دیکھے ہیں کبھی آپ کو احساس ہو گا اس انتھک محنت کا جس کو نا موسموں کی پروا تھی نا اس کے پاس کسی تفریح کی گنجائش۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا ھے کہ ایک کامیاب آدمی نے کتنی شادیوں، اور تفریحات کی قربانی دی ہے۔

    کبھی کامیاب لوگوں کی روٹین دیکھی ہے وہ کتنے کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کی نیند کا ٹائم کتنا ہے۔ ان کی کھانے پینے کی روٹین کیا ہے اور یہ اپنے خاندان
    کو کتنا وقت دے پاتے ہیں اس میں بھی ہم کہتے ہیں ہمارا فون نہیں اٹھایا جبکہ فون پہ کرنی آپ نے صرف ادھر ادھر کی ھے۔

    اگر کسی کی دولت کا احسان کسی دوسرے پہ نہیں ہے تو کسی کی غربت کی ذمہ داری بھی کسی دوسرے کی نہیں ہے۔
    بعض مرتبہ یہ خدا کی تقسیم ہے اور بے شمار مرتبہ ہر انسان کی ذاتی محنت، ہمت، استقامت۔
    اور صحیح وقت پہ ترجیحات کا تعین۔

    آخر میں دل تو چاہتا ھے یہی جملہ لکھوں کہ

    محنت کر حسد نا کر۔

    مگر اس کے ساتھ یہ ضرور کہوں گی کہ کامیاب لوگوں کو سٹڈی کریں ان کے وہ اوصاف ڈھونڈیں جنہوں نے انہیں کامیابی دلائی اور خود میں وہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

  • پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی، امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل

    پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی، امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل

    امریکی حکام کا پاکستان کا دہشتگردی کیخلاف اقدام کی حمایت کا اعلان

    پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خود کش حملہ، بنوں میں سی ٹی ڈی کی جیل پر حملہ اور اسکے بعد بلوچستان میں فورسز پر حملے، پنجاب کے شہر خانیوال میں حساس ادارے کے اہلکاروں پر حملہ انتہائی الارمنگ صورتحال بن چکی ہے، امن کے قیام کے لئے پاکستان کی مسلح افواج ،عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہزاروں افراد کی شہادتیں کبھی رائیگاں نہیں جا سکتی، پاکستان جو کلمہ کے نام پر بنا وہ امن کا گہوارہ بنے گا ،اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ سب تبھی ہو گا جب قیام امن کے لئے سب ملکر کوشش کریں گے اور ملک میں لسانیت، فرقہ واریت ،سیاسی شدت پسندی کو ترک کریں گے اور سب سے پہلے پاکستان کے نعرے پر جمع ہوں گے،

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد کئی ممالک نے ان واقعات کی مذمت کی ہے ، ایسے میں امریکہ جسے پاکستان میں کئی حلقے پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں لیکن امریکہ سے امداد و تعاون کے بغیر بھی نہیں رہ سکتے ، ایسے میں امریکہ نے بھی پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے پاکستانی عوام نے دہشتگرد حملوں کے باعث شدید نقصان اٹھایا طالبان کو کہیں گے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں اور افغان سرزمین کو عالمی دہشتگرد حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طورپر استعمال نہ ہونے دیں طالبان کے کیے گئے فیصلوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ ان کا جواب دیا جائے گا

    افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر مسلسل حملے، قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی چند روز قبل ہوا جس میں یہ عزم مصمم کر لیا گیا کہ اب کسی سے کوئی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے، ملکی اداروں، ریاست پر حملہ کرنیوالوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، پاکستان کا یہ اپنا فیصلہ ہے، اس میں امریکہ یا کسی اور ملک کی تائید و مدد کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان کی افواج دہشت گردی کیخلاف ایک طویل ترین اور کامیاب ترین جنگ لڑ چکی ہیں، جانیں قربان کر دینے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے، افواج پاکستان اور عوام پاکستان کی قربانیاں رنگ لائیں گی،اور وطن عزیز پاکستان ، ایٹمی پاکستان، امن کا گہوارہ دکھے گا، ان شاء اللہ

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    تمباکو کا استعمال پاکستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے مجموعی طور پر افراد اور معاشرے پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لگائی جائے۔ ہیلتھ لیوی تمباکو کی مصنوعات پر وہ ٹیکس ہے جو ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

    سب سے پہلے، یہ تمباکو کی مصنوعات کو مزید مہنگا بنا کر ان کی مانگ کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تمباکو ایک نشہ آور مادہ ہے، اور بہت سے لوگ جو اسے استعمال کرتے ہیں وہ ایسا کرنا جاری رکھ سکتے ہیں چاہے یہ مہنگا ہو یا تکلیف دہ ہو۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے، صحت سے متعلق محصول لوگوں کو تمباکو کا استعمال شروع کرنے کی حوصلہ شکنی کرنے یا ان لوگوں کی تمباکو چھوڑنے پر حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کر سکتا ہے جو پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسرا، تمباکو کی مصنوعات پر صحت پر عائد ٹیکس حکومت پاکستان کے لیے اضافی آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ اس آمدنی کا استعمال صحت عامہ کے اقدامات، جیسے تمباکو کنٹرول پروگرام، صحت و تدرستی کی تعلیمی مہمات، اور بنیادی حفظان صحت کی سہولتوں سے محروم کمیونٹیز کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنانے کی کوششوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی سے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تمباکو کا استعمال مختلف قسم کی سنگین صحت کی حالتوں کے لیے ایک بڑا خطرناک عنصر ہے، بشمول کینسر، دل کی بیماری، اور سانس کی بیماری۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے سے، ہیلتھ لیوی ان لوگوں کی تعداد کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے جو ان حالات کو پیدا کرتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے متعلقہ اخراجات کو کم کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول میں ممکنہ خرابیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ لوگ یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ تمباکو کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے کیونکہ ان پر پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ دوسرے لوگ یہ بحث کر سکتے ہیں کہ ہیلتھ لیوی غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے افراد پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جو تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں اور اضافی لاگت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

    ان تحفظات کے پیش نظر، حکومت پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے اقدام کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا بغور جائزہ لے۔ اگر حکومت صحت سے متعلق محصول عائد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو درج ذیل سفارشات میں سے کچھ پر غور کرنا مفید ہو سکتا ہے:

    1. لیوی کو اس سطح پر متعین کریں جو تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے کافی ہو۔

    2. ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باصابطہ طور پر عوامی صحت کے ایسے اقدامات کو فنڈ دینے کے لیے استعمال کریں جو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور آبادی کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

    3. تمباکو کے استعمال اور صحت کے نتائج پر ہیلتھ لیوی کے اثرات کی نگرانی کریں، اور ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کریں۔

    4. اسٹیک ہولڈرز، بشمول صحت عامہ کے وکلاء، تمباکو کی صنعت کے نمائندوں، اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقوں کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں تمام آوازیں سنی جائیں اور ان پر غور کیا جائے۔

    5. صحت سے متعلق محصول کی وجوہات اور محصول کو کس طرح استعمال کیا جائے گا کے بارے میں عوام سے واضح طور پر بات کریں۔

    ان سفارشات پر عمل کر کے، حکومت پاکستان تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکتی ہے اور اسے آبادی کی صحت کو بہتر بنانے اور تمباکو کے استعمال کے منفی نتائج کو کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

    لیکن پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کی وکالت کرنے کے لیے آپ بھی چند اقدامات اٹھا سکتے ہیں:

    اپنے آپ کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ رکھیں: اس کی وکالت کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کو سمجھنا ضروری ہے ۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے میں اس طرح کے اقدامات کی تاثیر پر شواہد کی تحقیق کریں۔

    اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں: آپ اپنے مقامی، صوبائی، یا قومی نمائندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں بتا سکتے ہیں کہ آپ تمباکو کی مصنوعات پر عائد ہیلتھ لیوی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان وجوہات کی وضاحت کریں کہ آپ اسے کیوں اہم سمجھتے ہیں اور یہ پاکستان میں صحت عامہ کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔

    انسداد تمباکو پر بنے سماجی گروپوں میں شامل ہوں: پاکستان میں ایسی تنظیمیں ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں جیسے کہ کرومیٹک اور باغی ٹی وی۔ ان گروپوں میں شامل ہونے اور ان کی تمباکو کے خلاف مہم میں حمایت کرنے سے ان کی آواز کو بڑھانے اور مہم کی کامیابی کے امکانات کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انسداد تمباکو پیغامات کو پھیلائیں: اپنے دوستوں، خاندان اور سوشل میڈیا کے فالوورز کے ساتھ اس اعم مسئلے کے بارے میں معلومات کا اشتراک کریں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی حمایت کریں۔

    اس مسئلے کو باعزت اور باخبر انداز میں اٹھانا اور یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دونوں طرف سے درست دلائل ہو سکتے ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔ تاہم، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی وکالت کرکے، آپ صحت عامہ کو فروغ دینے اور پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے مضر صحت اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔