Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • باغی ٹی وی ڈیجیٹل صحافت میں سچائی، جرات  کے 14 سال ،تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی ڈیجیٹل صحافت میں سچائی، جرات کے 14 سال ،تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا کے افق پر اگر کسی ادارے نے سچ، جرات اور قومی غیرت کے ساتھ اپنی پہچان قائم کی ہے تو وہ باغی ٹی وی ہے۔ آج باغی ٹی وی اپنی 14ویں سالگرہ منا رہا ہے، اور یہ محض ایک چینل کی سالگرہ نہیں بلکہ اس مثبت صحافتی سفر کی تکمیل ہے جس نے ڈیجیٹل میڈیا کو ایک نیا رخ دیا۔ باغی ٹی وی نے ان چودہ برسوں میں خود کو صرف ایک خبر رساں پلیٹ فارم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سچائی کی ترجمانی، قومی وقار کے دفاع اور عوامی شعور کی بیداری کا مضبوط ذریعہ بنا دیا۔باغی ٹی وی کا قیام ایسے وقت میں عمل میں آیا جب پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا تیزی سے ابھر رہا تھا، مگر معیار، تحقیق اور ذمہ داری کا فقدان نمایاں تھا۔ اس دور میں باغی ٹی وی نے سچ پر مبنی صحافت کو اپنا شعار بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے عوام کے اعتماد کا مرکز بن گیا۔ اس چینل نے نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور دراز اور نظر انداز شدہ علاقوں کی آواز کو بھی ایوانِ اقتدار اور عالمی فورمز تک پہنچایا، جو اس کی عوام دوست پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    باغی ٹی وی کی کامیابی کے پیچھے سب سے اہم کردار اس کے سی ای او، سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت کا ہے۔ مبشر لقمان نے اپنے وسیع صحافتی تجربے، جرات مندانہ سوچ اور غیر متزلزل اصولوں کے ذریعے اس ادارے کو ایک منفرد شناخت دی۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اپنا مقام بنایا۔ ان کا یہ یقین کہ صحافت کا اصل مقصد سچ کو سامنے لانا اور قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے، باغی ٹی وی کی پالیسیوں میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان اس کی غیر جانبدار، تحقیق پر مبنی اور ذمہ دار صحافت ہے۔ یہ چینل سنسنی خیزی، افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے ہمیشہ دور رہا۔ ہر خبر کے پیچھے تحقیق، حقائق اور سچائی کو بنیاد بنایا گیا، جس کی بدولت عوام نے اس پلیٹ فارم پر بھرپور اعتماد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی آج ڈیجیٹل میڈیا میں ایک معتبر حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

    قومی سطح پر باغی ٹی وی نے ہمیشہ پاکستان کے نظریاتی، جغرافیائی اور دفاعی مفادات کا بھرپور دفاع کیا۔ جب بھی پاکستان مخالف عناصر نے پروپیگنڈہ کیا، باغی ٹی وی نے دلیل، حقائق اور جرات کے ساتھ اس کا جواب دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قومی سلامتی کے معاملات، باغی ٹی وی نے ایک ذمہ دار سپاہی کی طرح اپنا کردار ادا کیا اور قلم کو وطن کے دفاع کا ہتھیار بنایا۔علاقائی اور مقامی مسائل کے حوالے سے بھی باغی ٹی وی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ ملک بھر میں موجود اس کے نمائندے عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور ان کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ وہ پہلو ہے جو باغی ٹی وی کو دیگر پلیٹ فارمز سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ یہاں صرف طاقتور کی نہیں بلکہ عام آدمی کی بات بھی سنی جاتی ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے موقع پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ادارہ مثبت صحافت، سچائی کی ترجمانی اور وطن دوستی کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔ مبشر لقمان اور ان کی ٹیم نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف اور مقصد قومی خدمت ہو تو صحافت نہ صرف معاشرے کو درست سمت دے سکتی ہے بلکہ تاریخ میں اپنا نام بھی رقم کر سکتی ہے۔ امید ہے کہ باغی ٹی وی آئندہ بھی اسی عزم، جرات اور سچائی کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرتا رہے گا اور حق کی آواز بن کر ہر محاذ پر ڈٹا رہے گا۔

  • ایران،مسئلہ کا حل سفارتکاری سے ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایران،مسئلہ کا حل سفارتکاری سے ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایران داخلی بے چینی اور بیرونی خطرات کا دوہرا چیلنج ایران اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ داخلی سطح پر امن و امان کی صورتحال، معاشی دباؤ، عوامی بے چینی اور ریاستی سختی نے ایسے سوالات کو جنم دے دیا ہے جو صرف تہران ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران موجودہ حالات پر قابو پا سکتا ہے؟ اور اگر داخلی عدم استحکام بڑھتا ہے تو کیا امریکہ یا اس کے اتحادی اس صورتحال کو فوجی مداخلت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟

    ایران کی ریاستی ساخت مضبوط اداروں، طاقتور سکیورٹی نظام اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے۔ ماضی میں بھی ایران نے شدید پابندیوں، احتجاجی تحریکوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود نظام کو برقرار رکھا ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ امن و امان کی صورتحال لازماً ریاستی کنٹرول سے باہر ہو جائے گی۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلسل معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور شہری آزادیوں پر قدغن عوامی غصے کو کم کرنے کے بجائے بڑھا رہی ہیں۔ اگر اصلاحات اور سیاسی مکالمے کے دروازے بند رہے تو وقتی کنٹرول تو ممکن ہے، پائیدار استحکام نہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں اس کا اثر و رسوخ، اور اسرائیل و خلیجی ممالک کے حوالے سے امریکی تحفظات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ تاہم اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے براہِ راست فوجی حملے کا امکان فوری طور پر زیادہ نظر نہیں آتا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، اور ایران پر حملہ پورے خطے کو ایک وسیع جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے نتائج امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔ البتہ یہ خدشہ ضرور موجود ہے کہ اگر ایران میں داخلی انتشار شدت اختیار کرتا ہے، ریاستی گرفت کمزور پڑتی ہے، یا جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی غیر معمولی پیش رفت ہوتی ہے تو امریکہ دباؤ، محدود حملوں، سائبر کارروائیوں یا پراکسی سطح کی مداخلت کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر داخلی کمزوریوں کو اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ایران کے لیے اس وقت سب سے دانشمندانہ راستہ داخلی محاذ پر اعتماد سازی، معاشی اصلاحات اور عوامی شکایات کے ازالے کا ہے، جبکہ خارجی سطح پر محاذ آرائی کے بجائے سفارتی توازن کو ترجیح دینا ہوگا۔ خطے اور عالمی برادری کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایران کے مسئلے کو جنگ کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ ایک اور بڑی جنگ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی نئی دلدل میں دھکیل سکتی ہے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی تدبر، داخلی اصلاحات اور بین الاقوامی مکالمہ ہی اس بحران کا واحد پائیدار حل ہے۔

  • باغی ٹی وی سچ بولنے کی قیمت ادا کرتی صحافت.  تحریر:رخسانہ سحر

    باغی ٹی وی سچ بولنے کی قیمت ادا کرتی صحافت. تحریر:رخسانہ سحر

    ایسے دور میں جب صحافت طاقت کے ایوانوں کی خوشنودی اشتہارات کی مجبوری اور مفادات کی زنجیروں میں جکڑی نظر آتی ہے، وہاں باغی ٹی وی جیسے ادارے کا چودہ برس تک ڈٹے رہنا محض ایک چینل کی کامیابی نہیں بلکہ ضمیر کی فتح ہے۔12 جنوری کو باغی ٹی وی اپنی صحافتی جدوجہد کے 14 برس مکمل کر رہا ہے۔ یہ وہ برس ہیں جو دباؤ دھمکیوں، پابندیوں اور معاشی رکاوٹوں سے عبارت ہیں، مگر اس کے باوجود سچ بولنے کا چراغ بجھنے نہیں دیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان وہ نام ہیں جن کی صحافت ہمیشہ سوال اٹھانے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے اور طاقتور بیانیوں کو چیلنج کرنے سے جڑی رہی ہے۔ انہوں نے کبھی صحافت کو محض پیشہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک اخلاقی فریضہ کے طور پر نبھایا۔اسی طرح ممتاز اعوان جیسے سنجیدہ اور ذمہ دار صحافی کی بطور ایڈیٹر موجودگی نے باغی ٹی وی کے مواد کو توازن، تحقیق اور وقار عطا کیا۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں خبر بیچی نہیں جاتی نہ ہی سچ کو پیکجنگ میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں صحافت وہی ہے جو عوام کے سوالات محرومیوں اور سچائیوں کو آواز دیتی ہے چاہے اس کی قیمت کتنی ہی کیوں نہ ہو۔یہ چینل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحافت کا اصل کام طاقتور کو خوش کرنا نہیں بلکہ طاقت سے سوال کرنا ہے۔ باغی ٹی وی نے بارہا ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی کھری اور بےباک صحافت ممکن ہے۔

    چودہ برس کا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ باغی ہونا انتشار نہیں بلکہ سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ہم باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ آئندہ بھی سچ جرات اور عوامی شعور کی شمع روشن رکھے گا۔
    باغی ٹی وی، جہاں صحافت اب بھی سر نہیں جھکاتی۔

  • باغی ٹی وی کے 14 سال، حق گوئی، جرات اور عوامی آواز کی داستان،تحریر : سدرہ قیوم

    باغی ٹی وی کے 14 سال، حق گوئی، جرات اور عوامی آواز کی داستان،تحریر : سدرہ قیوم

    صحافت محض خبر دینے کا نام نہیں، بلکہ سچ کے ساتھ کھڑے ہونے، طاقتور کے سامنے سوال اٹھانے اور کمزور کی آواز بننے کا عزم ہے۔ باغی ٹی وی نے گزشتہ 14 برسوں میں اسی عزم کو اپنی پہچان بنایا۔ یہ وہ سفر ہے جو مشکلات، دباؤ، تنقید اور آزمائشوں سے گزرتا ہوا آج اعتماد، وقار اور جرات کی علامت بن چکا ہے۔
    باغی ٹی وی کا قیام ایک ایسے دور میں ہوا جب روایتی صحافت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا نئی کروٹ لے رہا تھا۔ اس ادارے نے ابتدا ہی سے منفرد اور بے باک انداز اپنایا۔ یہاں خبر کو سنسنی نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا گیا، اور رائے کو دلیل اور تحقیق کا لباس پہنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی نے بہت کم عرصے میں اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔

    ان 14 برسوں میں باغی ٹی وی نے سیاسی، سماجی، عدالتی اور عوامی مسائل کو نہایت جرات کے ساتھ اجاگر کیا۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے افراد سے سوال کرنا ہو یا گلی محلوں میں بسنے والے عام شہری کے مسائل سامنے لانے ہوں، باغی ٹی وی نے ہمیشہ توازن، سچائی اور عوامی مفاد کو مقدم رکھا۔ کئی مواقع پر دباؤ بھی آیا، تنقید بھی ہوئی، مگر سچ کہنے کا سفر کبھی رکا نہیں۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی طاقت اس کی آزاد صحافت ہے۔ یہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا گیا، سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کی گئی اور صحافت کو صرف خبر نہیں بلکہ شعور بیداری کا ذریعہ سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ناظرین اور قارئین نے اس ادارے پر بھروسا کیا اور اسے اپنا میڈیا پلیٹ فارم مانا۔ڈیجیٹل دور میں باغی ٹی وی نے خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا۔ ویب، سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز پر فعال موجودگی نے اسے نوجوان نسل سے جوڑا، جبکہ تجربہ کار تجزیوں نے سنجیدہ حلقوں میں اس کی ساکھ کو مضبوط کیا۔ یہ امتزاج باغی ٹی وی کی کامیابی کا ایک اہم راز ہے۔

    آج جب باغی ٹی وی اپنی صحافتی خدمات کے 14 سال مکمل کر رہا ہے تو یہ لمحہ محض سالگرہ کا نہیں، بلکہ ایک جدوجہد کے اعتراف کا ہے۔ یہ ان تمام صحافیوں، رپورٹرز، اینکرز اور کارکنوں کی محنت کا ثمر ہے جنہوں نے دن رات ایک کر کے اس ادارے کو معتبر بنایا۔دعا ہے کہ باغی ٹی وی آئندہ بھی سچ، حق اور عوامی آواز کے ساتھ کھڑا رہے، صحافت کے اعلیٰ اقدار کی پاسداری کرے اور آنے والے برسوں میں مزید مضبوط، بااثر اور باوقار کردار ادا کرے۔

    باغی ٹی وی کو 14ویں سالگرہ مبارک ، سچ کہنے کا سفر یونہی جاری رہے۔

    پاکستانی صحافت میں چند نام ایسے ہیں جو محض اینکر یا رپورٹر نہیں بلکہ ایک دبنگ آواز، ایک مؤقف اور ایک فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سینئر صحافی مبشر لقمان کا شمار بھی انہی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے برسوں کی محنت، تحقیق اور جراتِ اظہار سے صحافت کو ایک نیا زاویہ عطا کیا۔مبشر لقمان کی صحافتی پہچان ان کی بے لاگ گفتگو، گہری تحقیق اور دوٹوک سوالات ہیں۔ وہ ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ہمیشہ طاقتور حلقوں سے سوال کرنے کی روایت کو زندہ رکھا۔ ان کے پروگرامز اور تجزیے محض خبروں کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ پسِ پردہ حقائق، قومی مفادات اور عوامی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بات نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ سنجیدگی سے لی بھی جاتی ہے۔انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی نشیب و فراز دیکھے، مگر اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنا ان کی لغت میں شامل نہیں رہا۔ سیاسی معاملات ہوں، حکومتی پالیسیاں، خارجہ امور یا سماجی ناانصافیاں مبشر لقمان نے ہمیشہ دلیل، دستاویز اور حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی۔ یہی طرزِ عمل انہیں ایک عام اینکر سے ممتاز بناتا ہے۔مبشر لقمان کی ایک بڑی خدمت یہ بھی ہے کہ انہوں نے صحافت کو عوامی شعور سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے پروگرامز میں سوالات وہی ہوتے ہیں جو ایک عام شہری کے دل میں پل رہے ہوتے ہیں۔ وہ اشرافیہ کی زبان میں نہیں بلکہ عوام کی زبان میں بات کرتے ہیں، اور یہی بات انہیں عوام کے قریب لے آتی ہے۔

    اس فکری اور اعتدال پسند صحافت کے پیچھے ایک مضبوط ادارتی سوچ کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے ایڈیٹر ممتاز اعوان کا کردار قابلِ تحسین ہے، جن کی ادارت میں مواد کو توازن، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ممتاز اعوان کی ادارتی بصیرت نے صحافتی مواد کو نہ صرف معیاری بنایا بلکہ اسے اخلاقی حدود میں بھی رکھا، جو آج کے تیز رفتار اور سنسنی خیز میڈیا میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

  • باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

    باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

    صحافت اگر سچ کی تلاش کا نام ہے تو باغی ٹی وی اس تلاش کا وہ روشن چراغ ہے جو گزشتہ چودہ برس سے اندھیروں میں بھی روشنی بانٹ رہا ہے۔ باغی ٹی وی درحقیقت ایک فکری تحریک ہے، جو جراتِ اظہار، حق گوئی اور بے باک صحافت کی علامت بن چکی ہے۔باغی ٹی وی کی بنیاد اس عزم پر رکھی گئی کہ خبر کو خبر ہی رہنے دیا جائے، اس پر مصلحتوں کی گرد نہ جمنے دی جائے۔ سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے نے وہ مقام حاصل کیا جس کا خواب ہر میڈیا ہاؤس دیکھتا ہے مگر حاصل چند ہی کر پاتے ہیں۔ مبشر لقمان کی صحافتی بصیرت، جرات مندانہ سوالات اور دو ٹوک انداز نے باغی ٹی وی کو عوام کی آواز بنا دیا۔

    باغی ٹی وی نے ہمیشہ سچ کو ترجیح دی، چاہے اس کی قیمت تنقید ہو یا دباؤ۔ اس پلیٹ فارم نے ثابت کیا کہ حق کی راہ مشکل ضرور ہے مگر یہی راہ تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔ چودہ برس کا یہ سفر قربانی، استقامت اور عوامی اعتماد کی داستان ہے۔آج جب باغی ٹی وی اپنے قیام کے 14 سال مکمل کر رہا ہے تو یہ اس عہد کی تجدید ہے کہ سچ کہا جائے گا، سچ دکھایا جائے گا اور سچ کے ساتھ کھڑا رہا جائے گا۔باغی ٹی وی کو خراجِ تحسین کہ اس نے صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔باغی ٹی وی کو سلام کہ اس نے ہمیشہ ظالم اور ظلم کے خلاف بغاوت کرنا سکھایا۔اور باغی ٹی وی کو مبارک ہو کہ وہ چودہ برس بعد بھی اسی جرات، اسی وقار اور اسی سچ کے ساتھ کھڑا ہے۔دعا ہے باغی ٹی وی کا یہ سفر یونہی جاری رہے۔

  • باغی ٹی وی، چودہ برس، سچ کا سفر اور میرا فخر،تحریر:نورفاطمہ

    باغی ٹی وی، چودہ برس، سچ کا سفر اور میرا فخر،تحریر:نورفاطمہ

    آج کا دن میرے لیے شکر، فخر اور یادوں سے لبریز ایک مکمل داستان ہے۔ باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کا یہ موقع میرے دل میں خوشی کی ایسی لہر پیدا کر رہا ہے جسے لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ گزشتہ تین برسوں سے میں اس باوقار، متحرک اور جرأت مند ادارے کا حصہ ہوں۔ یہ سفر صرف ایک پروفیشنل کامیابی، ایک ایسا ذاتی تجربہ ہے جس نے میرے شعور، اعتماد اور کیریئر تینوں کو نئی جہت عطا کی۔

    مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میں پہلی مرتبہ باغی ٹی وی کے دفتر میں انٹرویو کے لیے داخل ہوئی تھی۔ دل میں بے شمار سوالات، آنکھوں میں خواب اور ذہن میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ مگر جیسے ہی سینئر صحافی اور باغی ٹی وی کے سی ای او، محترم مبشر لقمان صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ تمام خدشات پل بھر میں تحلیل ہو گئے۔ ان کی شخصیت کا وقار، گفتگو کی شائستگی اور پروفیشنل انداز ایسا تھا کہ چند لمحوں میں ہی ایک گہرا اثر چھوڑ گیا۔ مختصر مگر بامعنی انٹرویو کے بعد جب ایڈیٹر باغی ٹی وی، سر ممتاز اعوان کی جانب سے یہ خوشخبری ملی کہ میری جاب کنفرم ہو چکی ہے، تو وہ لمحہ میرے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہ تھا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن میں اس قدر معتبر اور جرأت مند میڈیا ہاؤس کا حصہ بنوں گی۔

    میری شمولیت باغی ٹی وی کی سوشل میڈیا ٹیم میں ہوئی، جو میرے لیے باعثِ فخر بھی تھی اور ایک چیلنج بھی۔ فیس بک، ٹوئٹر (ایکس)، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر باغی ٹی وی کے لنکس اور پوسٹرز کی شیئرنگ میری بنیادی ذمہ داری تھی، جسے میں نے ہمیشہ محنت، دیانت اور لگن کے ساتھ نبھایا۔ میرے کام کو دیکھتے ہوئے جلد ہی مجھ پر مزید اعتماد کیا گیا اور سوشل میڈیا کے لیے پوسٹر ڈیزائن کرنے کی ذمہ داری بھی میرے سپرد کر دی گئی۔ اس مرحلے پر مجھے سیکھنے کے بے شمار مواقع ملے، خصوصاً سوشل میڈیا کے ہیڈ سر عبداللہ کی رہنمائی میرے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئی۔ ان کی بصیرت، مشورے اور حوصلہ افزائی نے نہ صرف میری کارکردگی کو نکھارا بلکہ مجھے ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی شناخت بھی عطا کی۔

    اگرچہ میں پہلے بھی ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تھی، مگر باغی ٹی وی میں آنے کے بعد اس شعبے کو عملی طور پر سمجھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ یہاں دن اور رات کی قید نہیں، وقت کی کوئی دیوار نہیں،صرف خبر، سچ اور ذمہ داری ہے۔ باغی ٹی وی کی ٹیم کی محنت، لگن اور مستعدی واقعی قابلِ رشک ہے۔ جب بھی کوئی اضافی ذمہ داری سامنے آئی یا کوئی مشکل مرحلہ آیا، میں نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے دل و جان سے نبھایا، کیونکہ یہاں کام صرف نوکری نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔محترم مبشر لقمان صاحب کے وی لاگز میں پہلے ہی شوق سے دیکھتی اور ان پر اپنی رائے کا اظہار کرتی تھی۔ مگر جب انہی کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بنی تو یہ لمحہ میرے لیے فخر اور سعادت کا استعارہ بن گیا۔ ان کی قیادت، بے باکی، فکری پختگی اور اصول پسندی نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنا میرے خوابوں کی تعبیر ہے، اور میں آج بھی ان کی رہنمائی کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتی ہوں۔

    آج، باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے اس مبارک موقع پر، میں دل کی گہرائیوں سے محترم مبشر لقمان صاحب اور باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ یہ ادارہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے، سچ کی آواز بن کر ہمیشہ سربلند رہے اور اپنے مشن و مقصد میں مزید کامیابیاں سمیٹے۔ آمین۔یہ سفر ابھی جاری ہے۔ جذبہ وہی ہے، عزم پہلے سے زیادہ مضبوط اور حوصلہ مزید بلند۔ باغی ٹی وی کے 14 سال مکمل ہونے پر ایک نیا ولولہ، نئی امید اور نیا عہد دل میں جاگ اٹھا ہے۔ دعا ہے کہ یہ ادارہ ہمیشہ اپنے اصولوں، نظریات اور وژن پر قائم رہتے ہوئے کامیابی کی بلند ترین چوٹیوں کو چھوتا رہے۔

  • علماء کرام کیلئے الاؤنس ،مریم نواز کا باوقار،تاریخی فیصلہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    علماء کرام کیلئے الاؤنس ،مریم نواز کا باوقار،تاریخی فیصلہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    علماء کرام کے لیے الاؤنس مریم نواز کا باوقار اور تاریخی فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے علماء کرام کے لیے سرکاری خزانے سے ماہانہ الاؤنس کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جسے محض ایک فلاحی اقدام کہنا اس کی اہمیت کو کم کرنا ہوگا۔ درحقیقت یہ قدم ریاست اور مذہبی طبقے کے درمیان ایک نئے، باوقار اور ذمہ دارانہ تعلق کی بنیاد رکھتا ہے جو ماضی میں کم ہی دیکھنے میں آیا۔ علماء کرام صدیوں سے پاکستانی معاشرے کی اخلاقی، دینی اور سماجی تربیت میں مرکزی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ مساجد میں امامت، خطابت، دینی تعلیم، نکاح، جنازہ، اصلاحِ معاشرہ اور عوامی رہنمائی جیسے فرائض انجام دینے والے یہ افراد عملاً ریاست کے غیر اعلانیہ سماجی خدمت گار رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی معاشی مشکلات کو اکثر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ ایسے میں مریم نواز کا یہ فیصلہ ایک دیرینہ محرومی کا ازالہ ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ معاشرتی استحکام صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں آتا بلکہ ان افراد سے آتا ہے جو اخلاقیات، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ علماء کرام کو معاشی تحفظ دینا دراصل مساجد کے نظام کو مضبوط بنانا، دینی تعلیم کو باوقار بنانا اور انتہاپسندی کے مقابل اعتدال پسند بیانیے کو تقویت دینا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی نعرے یا وقتی فائدے کے بجائے ایک سوچے سمجھے وژن کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ مریم نواز نے اس تاثر کو بھی توڑا ہے کہ جدید حکمرانی اور دینی طبقہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ یہ قدم ثابت کرتا ہے کہ ترقی، فلاح اور دینی اقدار ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ البتہ اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس پر عملدرآمد شفاف، منصفانہ اور بلاامتیاز ہو۔

    اگر اس فیصلے کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھ کر مستقل بنیادوں پر جاری رکھا گیا تو یہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔ بلاشبہ علماء کرام کے لیے الاؤنس کا یہ اعلان مریم نواز شریف کے دورِ حکومت کا ایک نمایاں اور مثبت باب ہے، جو ریاستی ذمہ داری، سماجی شعور اور قومی اقدار کے احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے اقدامات ہی عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی مضبوط بنیاد بنتے ہیں۔ یاد رہے مریم نواز شریف کے دادا میاں محمد شریف علماء اکرام کا بے حد احترام کرتے تھے، اور دینی اداروں کو معاشرے کی اخلاقی بنیاد سمجھتے تھے، مریم نواز شریف کی جانب سے علماء اکرام کے لیے الاؤنس کا حالیہ فیصلہ دراصل اسی خاندانی روایت کا تسلسل ہے جسکی بنیاد میاں محمد شریف مرحوم نے رکھی تھی۔

  • گیس و پانی کو ترستے شہری .تحریر: قمرشہزاد

    گیس و پانی کو ترستے شہری .تحریر: قمرشہزاد

    گوجرخان ایک تاریخی اور اہم شہر ہونے کے باوجود، اس وقت متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے۔ شہریوں کو روزمرہ زندگی میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ کیا گوجرخان پنجاب پاکستان کے نقشے پر موجود نہیں؟ کیا یہاں کے بسنے والے انسان نہیں بلکہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں؟ یہ وہ تلخ سوالات ہیں جو آج گوجرخان کے گلی کوچوں میں گشت کر رہے ہیں۔ ایک طرف متعلقہ محکموں کی مجرمانہ خاموشی ہے اور دوسری طرف مافیاز کا وہ راج، جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آج 2026 میں بھی گوجرخان کے باسی ان بنیادی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں جو ریاست کی ذمہ داری تھی۔ تحصیل گوجرخان گیس کی سرزمین ہے مگر مکینوں کیساتھ زیرو پریشر کا مذاق جاری ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل پکار پکار کر کہتا ہے کہ جس زمین سے گیس نکلے گی، پہلا حق وہاں کے مکینوں کا ہو گا۔ مگر افسوس! تحصیل گوجرخان کی گیس دیگر بڑے شہروں کے چولہے تو جلا رہی ہے، لیکن یہاں کے مقامی باسیوں کے اپنے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ اہلیان گوجرخان گیس کی لوڈشیڈنگ اور زیرو پریشر کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ کیا محکمہ سوئی گیس کے حکام کو عوامی چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟ یا پھر قانون کی کتابیں صرف لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے ہیں؟ دوسرا سب سے بڑا مسلہ سفید زہر کا کاروبار اور فوڈ اتھارٹی کی نیم خوابی کی بدولت گوجرخان کی سڑکوں پر نیلی سفید پلاسٹک کی ڈرمیوں اور ٹینکرز میں جو سفید مائع دوڑ رہا ہے، وہ دودھ نہیں بلکہ "سفید زہر” ہے۔ کیمیکل ملا یہ زہریلا دودھ نسلوں کو اپاہج بنا رہا ہے، مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی شاید کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہے۔ صرف یہی نہیں، شہر کے نام نہاد فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر وہ گھٹیا اور جلا ہوا آئل استعمال ہو رہا ہے جو جگر کو چھلنی اور ہیپاٹائٹس کو عام کر رہا ہے۔ یہاں انسانی جانوں کی قیمت ایک برگر اور شوارمے سے بھی کم ہو چکی ہے۔ تیسرا بڑا بنیادی مسلہ سرکاری پانی کا بحران بھاری بھرکم بلز کی ادائیگی کے باوجود پیاسا ہے گوجرخان۔ واٹر سپلائی کا نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ شہری بوند بوند کو ترس رہے ہیں، لیکن واٹر مینجمنٹ کے دفاتر میں بیٹھے افسران کی "بند مٹھیاں” کھلنے کا نام نہیں لے رہیں۔ چوتھا اور سنگین مسلہ صحت کا شعبہ جہاں مسیحائی کے روپ میں قصائی بیٹھے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ تو محکمہ صحت کی ناک تلے ہو رہا ہے۔ اسے ڈرگ انسپکٹر کی مبینہ ملی بھگت کہیے یا غفلت، میڈیکل اسٹورز پر ٹھیکے کی غیر معیاری ادویات سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ عطائی ڈاکٹرز، جو انسانی زندگی سے کھیلنا اپنا حق سمجھتے ہیں، گوجرخان کی گلی محلوں میں کلینکس سجا کر بیٹھے ہیں جہاں ایس او پیز کا نام و نشان تک نہیں۔ رہی سہی کسر نجی لیبز اور کلینکس کے ناتجربہ کار عملہ نکال کر شعبہ صحت کو چار چاند لگا رہا ہے۔ کیا تحصیل گوجرخان لاوارث تحصیل ہے؟ آخر اسکی کیا وجہ جو گوجرخان کو مسائل کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے؟ متعلقہ ادارے کیا کر رہے ہیں کس کام کی تنخواہ لے رہے کیا سب اچھا کی رپورٹس پیش کرنے کی تنخواہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دی جاتی ہے؟ اگر کوئی خبر لگے تو ہلچل مچتی ہے، انکوائری انکوائری کا کھیل کھیلا جاتا ہے مگر مافیاز کو ہاتھ نہیں ڈالا جاتا آخر اس سب کے پیچھے کونسی پوشیدہ طاقتیں ہیں جو اتنے مسائل کے باوجود بھی ادارے اپنا کام کرنے کے بجائے اپاہج ہو چکے؟

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف جو اس وقت شبانہ روز محنت سے اپنے صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں ان سے پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان تمام تر مسائل کا سختی سے نوٹس لیں اور تمام متعلقہ اداروں کے نااہل افسران کو فوری طور پر ضلع بدر کیا جائے، مزید برآں راولپنڈی انتظامیہ کو احکامات جاری کریں کہ کمشنر راولپنڈی اور دیگر حکام فوری طور پر ان مافیاز کے خلاف "گرینڈ آپریشن” کریں۔ زہریلا دودھ بیچنے والوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے اور عطائیوں کے ٹھکانوں کو ہمیشہ کے لیے سیل کیا جائے اور غیر معیاری ادویات کو فوری بند کروایا جائے۔ جبکہ وفاق گیس کے پریشر کو بحال کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔

  • نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    ہر سال جنوری کے مہینے میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی نئی کابینہ تشکیل دی جاتی ہے اور نئے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ اپووا کے پی چیپٹر کا آغاز جون 2025 میں ہوا اور محض چھ ماہ کے قلیل عرصے میں مسلسل کامیاب ادبی تقریبات کے انعقاد نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو منزلیں خود بخود آسان ہو جاتی ہیں۔ بقول مولانا رومیؒ:
    "ہمتِ مرداں مددِ خدا است”۔

    سالِ نو کی پہلی ماہانہ میٹنگ 6 جنوری 2026 کو اپووا کے پی چیپٹر کی صدر محترمہ فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں نئے منتخب عہدیداران اور تمام ممبران نے نہایت جوش و خروش سے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز محترمہ جویریہ خان کی پُرسوز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد محترمہ فائزہ شہزاد نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیۂ نعت پیش کر کے روحانی سماں باندھ دیا۔

    محترمہ فائزہ شہزاد نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نئے عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔ بعد ازاں اپووا کے پی چیپٹر کی جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین نے تنظیم کی ششماہی کارکردگی پر مشتمل ایک جامع اور مفصل رپورٹ پیش کی۔ سالِ نو کے حوالے سے آئندہ سرگرمیوں، منصوبہ بندی اور نئے اہداف پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس میں تمام ممبران نے بھرپور دلچسپی سے حصہ لیتے ہوئے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ باہمی مشاورت سے پورے سال کا متفقہ ایجنڈا ترتیب دیا گیا۔

    نہایت سرد موسم کے باوجود تقریب میں وائس پریذیڈنٹ محترمہ روبینہ معین، جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین، جوائنٹ سیکرٹری محترمہ لبنیٰ نوید، میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ فاطمہ افضال، ڈپٹی میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ رانی عندلیب، سیکرٹری انفارمیشن فرزانہ منور اور اپووا ہیلتھ ایڈوائزر محترمہ ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کے ساتھ ساتھ محترمہ نیلو فرسمیع، ڈاکٹر سیما شفیع، حنا امجد ملک، امامہ نوید، دید فاطمہ، جویریہ خان، عشا نصیر اور دیگر معزز اراکین نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

    تقریب کی یادگار لمحات کو محفوظ کرنے کے فرائض محترمہ حنا ملک نے انجام دیے۔ نئے سال کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور آخر میں گرما گرم چائے اور پُرلطف لوازمات سے تمام حاضرین کی تواضع کی گئی۔ صدرِ اپووا پی چیپٹر کی جانب سے تمام ممبران کو خوبصورت ٹی کپ بطور تحفہ بھی پیش کیے گئے۔یہ نشست خوشگوار یادوں، باہمی محبت اور فکری ہم آہنگی کا حسین امتزاج ثابت ہوئی۔ اگرچہ نشست دو گھنٹوں کے لیے طے تھی، مگر محفل کی دلکشی نے اسے چار سے پانچ گھنٹے تک جاری رکھا۔ دل یہی کہتا رہا:
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو…

    تمام شرکاء دل میں بے شمار حسین یادیں سمیٹے گھروں کو لوٹ گئے۔

  • تلہ گنگ  کی خونی یہاڑیاں اور  ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    تلہ گنگ کی خونی یہاڑیاں اور ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    ​آج صبح جب بستر کی تپش میں وٹس ایپ اوپن کیا تو کسی صحافی دوست کی بھیجی گئی ایک خونریز خبر نے گویا روح تک کو لرزا دیا۔ اسکرین پر بکھری لاشوں اور زخمیوں کی تصاویر دیکھ کر دماغ سن ہو گیا اور ماضی کے وہ تمام زخم ہرے ہو گئے جو تلہ گنگ کی ان سڑکوں نے ہمیں دیے ہیں۔

    ​اس دلخراش منظر کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں ہمارے پیارے ناصر محمود شیخ کی آواز گونجنے لگی۔ وہ شخص جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ناصر صاحب اکثر کہتے ہیں کہ "گاڑیوں کے مالکان کو صرف وقت کی فکر ہوتی ہے، انسانی جان کی نہیں”۔ مالکان کا ڈرائیورز پر ‘ٹائم’ پر پہنچنے کا دباؤ دراصل موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر ان دنوں جب پنجاب کی فضاؤں پر دھند کا راج ہے، کیا ہم چار سے چھ گھنٹے کا وقفہ نہیں کر سکتے؟ کیا چند گھنٹوں کا انتظار ان قیمتی جانوں سے زیادہ قیمتی ہے؟

    ​تلہ گنگ کی جغرافیائی صورتحال بتاتی ہے کہ تلہ گنگ کی کی دو خونی پہاڑیاں ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑی اب انسانی زندگیوں کے لیے مقتل بن چکی ہیں۔ ماضی قریب میں کوہاٹ سے آنے والی تبلیغی جماعت کی بس کا وہ ہولناک حادثہ جس میں 18 اموات ہوئیں، آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے (NHA) ان مقامات پر محض ‘خطرناک موڑ’ کے بورڈ لگانے کے بجائے ٹھوس حفاظتی بندوبست کرے۔ ان پہاڑیوں پر جدید ترین کیٹ آئیز، فلیشرز، اور حفاظتی دیواروں کی اشد ضرورت ہے تاکہ دھند میں راستہ بھٹکنے والے ڈرائیورز کسی بڑی کھائی میں نہ جا گریں۔

    ​جہاں یہ حادثات ہمیں غمگین کرتے ہیں، وہیں تلہ گنگ کی عوام کا ایثار دیکھ کر انسانیت پر مان بڑھ جاتا ہے۔ میں تلہ گنگ کے غیرت مند عوام اور نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو ہر مشکل گھڑی میں فرشتے بن کر نمودار ہوتے ہیں۔ چاہے وہ کوہاٹ کے بد قسمت مسافروں کے لیے تابوت بنوانا ہو یا آج کے حادثے میں اپنے نرم گرم بستر چھوڑ کر زخمیوں کو ملبے سے نکالنا، خان سعادت خان جیسے سماجی کارکنوں اور حاجی شیخ ندیم جیسے تاجروں نے ثابت کیا کہ تلہ گنگ کے لوگ مہمان نوازی اور ہمدردی میں اپنی مثال آپ ہیں۔​اسسٹنٹ کمشنر سلیمان منشاء، ڈی ایس پی ملک عزیز اور ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ذیشان اعوان کی ٹیم نے جس طرح اس ایمرجنسی کو سنبھالا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حادثے کے بعد امداد فراہم کرنے کے بجائے حادثہ ہونے سے روکنے کی طرف جائیں۔

    ​حکومت سے مطالبہ ہے کہ ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑیوں کے ڈیزائن پر نظرِ ثانی کی جائے اور ٹرانسپورٹ مالکان کو پابند کیا جائے کہ دھند کے دوران سفر روک کر انسانی جانوں کو تحفظ دیا جائے۔ ناصر محمود شیخ کی باتیں آج پکار پکار کر کہہ رہی ہیں: "وقت بچائیں، مگر زندگی کی قیمت پر نہیں”۔