Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • بحیرہ عرب میں  پاکستان نیوی کا کامیاب ریسکیو آپریشن،تحریر:جان محمد رمضان

    بحیرہ عرب میں پاکستان نیوی کا کامیاب ریسکیو آپریشن،تحریر:جان محمد رمضان

    بحیرہ عرب میں پیش آنے والی ایک ہنگامی صورتحال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نیوی نہ صرف دفاعی محاذ پر مستعد ہے بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتی ہے۔ ایک مال بردار جہاز MV GAUTAM، جو عمان سے بھارت کی جانب رواں دواں تھا، دورانِ سفر اچانک تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر کھلے سمندر میں پھنس گیا۔ ایسے حالات میں فوری ردعمل نہ ہو تو یہ صورتحال سنگین حادثے کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔جیسے ہی جہاز کی جانب سے ہنگامی کال موصول ہوئی، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بغیر کسی تاخیر کے اپنے جہاز PMSA Ship KASHMIR کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم سے کم وقت میں متاثرہ جہاز تک رسائی حاصل کی اور صورتحال کا مکمل جائزہ لیا۔

    متاثرہ جہاز پر کل 7 افراد سوار تھے، جن میں 6 بھارتی اور ایک انڈونیشی شہری شامل تھا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران تمام افراد کو بروقت خوراک، ابتدائی طبی امداد اور ضروری تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ اس فوری امداد نے نہ صرف عملے کی جانوں کو محفوظ بنایا بلکہ ممکنہ بڑے حادثے کو بھی ٹال دیا۔پاکستان نیوی کی ٹیم نے صرف انسانی امداد تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جہاز کے ضروری نظام کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے۔ تکنیکی خرابی کو دور کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ جہاز اور اس کے عملے کی مکمل حفاظت کو یقینی بنایا گیا، جو اس آپریشن کی کامیابی کا اہم پہلو ہے۔

    یہ کامیاب ریسکیو آپریشن پاکستان کی بحری صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی ہمدردی کا واضح ثبوت ہے۔ کھلے سمندر میں اس نوعیت کے واقعات میں بروقت کارروائی نہ ہو تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان نیوی نے نہ صرف اس خطرے کو ختم کیا بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی عالمی ساکھ کو بھی مضبوط کیا۔اس واقعے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ امداد حاصل کرنے والے افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے، لیکن پاکستان نیوی نے کسی تفریق کے بغیر انسانیت کی بنیاد پر ان کی مدد کی۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سمندری قوانین اور انسانی اقدار کے تحت پاکستان ہر مشکل گھڑی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا ہے۔یہ ریسکیو آپریشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت، بروقت فیصلہ سازی اور انسانی ہمدردی کا امتزاج ہی وہ خصوصیات ہیں جو پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار بحری قوت کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔

    پاکستان نیوی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ملکی سمندری حدود کی محافظ ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ایک قابلِ اعتماد ادارہ ہے۔

  • پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی وقار بمقابلہ داخلی اسکینڈلز پاکستان کے امیج کو دوہرا چیلنج

    سفارتی کامیابیاں یا گورننس کا بحران؟ غیر قانونی تعمیرات نے سوالات کھڑے کر دیے

    وقار کی تعمیر، اعتماد کی شکست بااثر شخصیات اور غیر قانونی فلیٹس کا تنازع

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ
    بین الاقوامی سیاست میں کسی بھی ریاست کی ساکھ محض سفارتی کامیابیوں سے نہیں بلکہ داخلی طرزِ حکمرانی، شفافیت اور قانون کی بالادستی سے تشکیل پاتی ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمتِ عملی کے ذریعے ایک فعال اور ذمہ دار ریاست کا تاثر دینے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ، عسکری قیادت اور دیگر ریاستی اداروں کی مربوط کاوشوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر علاقائی کشیدگیوں میں ثالثی اور توازن کی پالیسی نے اسے ایک ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کے طور پر پیش کیا۔

    تاہم اسی مثبت بیانیے کے ساتھ ایک متوازی اور تشویشناک حقیقت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے غیر قانونی تعمیرات اور مبینہ طور پر بااثر شخصیات کی ان میں شمولیت۔ اربوں روپے مالیت کے فلیٹس اور ان میں اعلیٰ شخصیات کی سرمایہ کاری کے انکشافات نے نہ صرف عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان کے لیے بھی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ تضاد پاکستان کے امیج کے لیے ایک بنیادی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف ریاست خود کو شفافیت، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے علمبردار کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف داخلی سطح پر ایسے اسکینڈلز اس بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے صرف معاشی اعداد و شمار نہیں دیکھتے بلکہ گورننس، احتساب اور ادارہ جاتی شفافیت کو بھی بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ایسے اسکینڈلز داخلی سطح پر بھی خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عام شہری، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے، جب دیکھتا ہے کہ طاقتور طبقے قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں، تو ریاستی نظام پر اس کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ یہ عدم اعتماد طویل المدتی طور پر سماجی استحکام اور ریاستی رٹ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے اثرات کم اہم نہیں۔ جب ایک ملک بیک وقت مثبت سفارتی کردار اور داخلی بدعنوانی کے الزامات کا حامل ہو، تو عالمی بیانیہ غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، وہ سفارتی کامیابیاں جو بڑی محنت سے حاصل کی جاتی ہیں، ایسے تنازعات کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کا حل محض تردید یا وقتی بیانیے میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ شفاف تحقیقات، بلاامتیاز احتساب، اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف واضح کارروائی نہ صرف داخلی اعتماد بحال کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دے سکتی ہے کہ پاکستان اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے اور درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    آخرکار ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں کی کارکردگی اور اس کی قیادت کی دیانت داری میں ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے داخلی تضادات کو مؤثر انداز میں حل کر لیتا ہے، تو اس کی سفارتی کامیابیاں نہ صرف برقرار رہیں گی بلکہ مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکیں گی۔

  • فتح ٹو بمقابلہ Pinaka اور Pralay: جنوبی ایشیا میں پریسژن اسٹرائیک کی بدلتی ہوئی حرکیات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    فتح ٹو بمقابلہ Pinaka اور Pralay: جنوبی ایشیا میں پریسژن اسٹرائیک کی بدلتی ہوئی حرکیات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان کی جانب سے حالیہ کامیاب تجربہ، FATEH-II گائیڈڈ میزائل کا، جنوبی ایشیا میں روایتی ڈیٹرنس (deterrence) میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اپنی بڑھائی گئی رینج، اعلیٰ درستی (precision) اور maneuverability کے باعث یہ نظام روایتی توپ خانے سے نکل کر پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت کی جانب ایک واضح نظریاتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جو خطے کے عسکری توازن کو نئی شکل دے رہا ہے۔

    FATEH-II: پاکستان کی پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت

    FATEH-II ایک جدید گائیڈڈ راکٹ سسٹم ہے جس کی رینج تقریباً 400 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جو اسے quasi-theatre strike ہتھیاروں کے زمرے میں شامل کرتی ہے۔
    روایتی آرٹلری راکٹس کے برعکس، اس میں شامل ہیں
    * جدید ایویونکس اور نیویگیشن سسٹمز
    * اعلیٰ درجے کی ہدفی درستگی
    * میزائل دفاعی نظام سے بچنے کے لیے maneuverable trajectory

    یہ نظام پاکستان کے راکٹ آرٹلری کو ایک ایسے پریسژن اسٹرائیک پلیٹ فارم میں تبدیل کرتا ہے جو دشمن کے علاقے کے اندر گہرائی میں موجود اہم اہداف جیسے ایئر بیسز، لاجسٹک مراکز اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ FATEH-II، ایک قابلِ اعتماد روایتی متبادل فراہم کرکے اسٹریٹجک (جوہری) آپشنز پر انحصار کم کرتا ہے۔

    بھارتی نظام: Pinaka اور Pralay
    بھارت اس میدان میں دو اہم نظام رکھتا ہے:
    1. Pinaka MLRS
    * بنیادی طور پر ملٹی بیرل راکٹ لانچر (MBRL) سسٹم
    * روایتی طور پر کم رینج، تاہم بھارت 400–500 کلومیٹر تک توسیع شدہ ورژنز پر کام کر رہا ہے
    * بنیادی مقصد ایریا سیچوریشن، نہ کہ نقطہ وار درستگی

    2. Pralay میزائل
    * ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل جس کی رینج 150–500 کلومیٹر ہے
    * بھاری وارہیڈ (350–1000 کلوگرام) لے جانے کی صلاحیت
    * اہم اسٹریٹجک اہداف جیسے رن ویز اور کمانڈ انفراسٹرکچر کے لیے ڈیزائن کیا گیا

    تقابلی جائزہ
    خصوصیت FATEH-II (پاکستان) Pinaka (بھارت) Pralay (بھارت)قسم گائیڈڈ راکٹ / quasi-ballistic MLRS (راکٹ آرٹلری) ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل رینج تقریباً 400 کلومیٹر 40–75 کلومیٹر (موجودہ) 150–500 کلومیٹر،درستگی اعلیٰ (گائیڈڈ) کم (ایریا سیچوریشن) اعلیٰ،کردار پریسژن ڈیپ اسٹرائیک میدانِ جنگ سپورٹ اسٹریٹجک روایتی حملہ،موبلٹی زیادہ زیادہ زیادہ

    اہم نکات
    * FATEH-II بمقابلہ Pinaka:
    FATEH-II رینج اور درستگی دونوں میں Pinaka سے واضح طور پر برتر ہے۔
    * FATEH-II بمقابلہ Pralay:
    Pralay زیادہ طاقتور اور بھاری بیلسٹک میزائل ہے، لیکن FATEH-II لچک، بقا (survivability) اور لاگت کے لحاظ سے بہتر ہے۔
    * نظریاتی فرق:
    * پاکستان: پریسژن روایتی ڈیٹرنس کی طرف پیش رفت
    * بھارت: سیچوریشن (Pinaka) اور بیلسٹک اسٹرائیک (Pralay) کا امتزاج

    پاکستان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت
    1. روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا
    FATEH-II پاکستان کو جوہری سطح تک گئے بغیر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے بحران میں استحکام بڑھتا ہے۔

    2. کاؤنٹر فورس صلاحیت

    یہ درج ذیل اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے:
    * ایئر بیسز
    * لاجسٹک مراکز
    * میزائل سائٹس

    3. بقا اور لچک
    موبائل لانچ پلیٹ فارمز اور maneuverable پرواز اسے میزائل دفاعی نظام کے خلاف زیادہ محفوظ بناتے ہیں۔

    4. کم لاگت پریسژن جنگ
    بیلسٹک میزائلز کے مقابلے میں، یہ کم لاگت پر زیادہ حملوں کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
    5. اسٹریٹجک سگنلنگ

    یہ نظام تکنیکی صلاحیت اور دفاعی تیاری کا واضح پیغام دیتا ہے۔

    نتیجہ
    FATEH-II پاکستان کی روایتی اسٹرائیک صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اگرچہ بھارت کا Pralay زیادہ بھاری اور طاقتور ہے، لیکن FATEH-II آرٹلری اور اسٹریٹجک میزائلز کے درمیان خلا کو پُر کرتا ہے اور درستگی، لچک اور قابلِ اعتماد ڈیٹرنس فراہم کرتا ہے۔

    جدید جنگ میں طاقت سے زیادہ اہمیت رفتار اور درستگی کی ہو گئی ہے۔ اس میدان میں FATEH-II پاکستان کو ان ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے جو بغیر جوہری حد عبور کیے پریسژن ڈیپ اسٹرائیک کر سکتے ہیں۔

    جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب صرف جوہری ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہو رہا ہے کہ کون پہلے، تیزی سے اور درست حملہ کر سکتا ہے۔

    مصنف کے بارے میں
    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار ہیں جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری پر مہارت رکھتے ہیں، اور Research and Evaluation Cell for Advancing Basic Amenities and Development کے رکن ہیں۔

  • طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔

    طلاق ایک تلخ حقیقت ہے لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ اس فیصلے کا سارا بوجھ صرف عورت کے حصے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔اور تو اور ستم ظریفی دیکھیں کہ طلاق کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، انگلیاں ہمیشہ عورت پر ہی اٹھتی ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مرد نے کیا کیا؟ یا مرد کے وہ کیا رویے تھے جنھوں نے بات یہاں تک پہنچائی؟

    مرد سے سوال کرنا جیسے معاشرے میں منع ہے۔

    طلاق کے بعد مرد کے لیے نئی زندگی شروع کرنا آسان بنا دیا جاتا ہے، جبکہ عورت کو قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اسے ایک اچھی بیوی، ایک اچھی ساتھی نہ بن پانے کے طعنے دیے جاتے ہیں، گویا رشتہ نبھانے کی ساری ذمہ داری صرف اسی کی تھی۔

    یہ رویہ نہ صرف عورت کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اسے سماجی طور پر بھی تنہا کردیتا ہے۔

    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کسی کے لیے، کسی بھی طرح خوشی کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے جس کے بعد ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ مزید اس انسان کو ملامت کیا جائے۔۔۔ جب اسے بار بار ملامت کیا جائے تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کو ایک ناکام انسان ہی سمجھنے لگتا ہے اور کئی زندگیاں اس ڈپریشن کی نذر ہوگئی ۔۔

    ہمارے معاشرے کا یہ ایک تلخ پہلو ہے کہ طلاق کا سارا ملبہ اور سماجی بدنامی صرف عورت کے حصے میں آتی
    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ رشتہ دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسکے ختم ہونے کی ذمہ داری بھی کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عورت کو اس کے ماضی کے بجائے اس کی ہمت اور شخصیت سے پہچانیں، نہ کہ کسی ایک لفظ سے جو اس کی زندگی کا کل اثاثہ نہیں۔

  • وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اندرونی کمزوریاں، بیرونی کامیابیاں ، سمت کا تعین ضروری
    حکمرانی کا کڑا امتحان: دعووں سے آگے بڑھنے کا وقت

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان: عالمی وقار سے عوامی بہبود تک، ایک سنجیدہ جائزہ
    حالیہ برسوں میں پاکستان کے عالمی وقار میں جو بہتری دیکھنے میں آئی ہے، وہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور مختلف عالمی معاملات میں اس کی شرکت اور مؤثر سفارت کاری کو سراہا جا رہا ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا بڑا سہرا پاکستان کی عسکری قیادت اور وزارتِ خارجہ کو جاتا ہے، جنہوں نے نہایت تدبر اور حکمت عملی سے عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کا دفاع کیا اور اس کے وقار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تاہم، کسی بھی ملک کی اصل ترقی کا پیمانہ اس کی داخلی صورتحال ہوتی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں—پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان—میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہیں۔ یہ تنوع جمہوریت کی خوبصورتی تو ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام صوبائی اور وفاقی حکومتیں باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسے شعبے وہ بنیاد ہیں جن پر ایک مضبوط معاشرہ استوار ہوتا ہے۔

    بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اکثر پالیسیوں سے زیادہ بیانات پر زور دیا جاتا ہے، اور عملی اقدامات میں تسلسل کی کمی نظر آتی ہے۔ ترقی کے لیے محض اعلانات کافی نہیں ہوتے بلکہ ٹھوس حکمت عملی، مستقل مزاجی اور نتائج پر مبنی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ عوام اب نعروں سے آگے بڑھ چکے ہیں؛ وہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنائے۔

    بیوروکریسی، جو ریاستی نظام کا ایک اہم ستون ہے، اس سے بھی عوام کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ایک فعال، ایماندار اور وقت کا پابند سرکاری نظام ہی عوامی مسائل کے حل کو ممکن بنا سکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی اداروں میں تاخیر، غیر سنجیدگی اور روایتی سستی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کی ادارہ جاتی مضبوطی اور وقت کی سخت پابندی میں پوشیدہ ہے۔

    عوامی اعتماد کسی بھی ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے، تو وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکمران اور ادارے اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد بحال کریں۔
    پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، معدنی ذخائر اور نوجوان آبادی وہ سرمایہ ہیں جو ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ان وسائل کا مؤثر استعمال کیا جائے اور شفافیت، میرٹ اور دیانتداری کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔

    پاکستان ایک عظیم صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، جس کے پاس آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والے وقار کو داخلی استحکام اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر حکومت، بیوروکریسی اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خلوص اور دیانتداری سے ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ اقوام کی صف میں نمایاں مقام حاصل کر لے گا۔

  • گوجرخان کا معاشی قبرستان جہاں غریب کی چتا پر ترقی کے چراغ جلیں گے،تحریر :   قمرشہزاد مغل

    گوجرخان کا معاشی قبرستان جہاں غریب کی چتا پر ترقی کے چراغ جلیں گے،تحریر : قمرشہزاد مغل

    تاریخ لکھے گی کہ گوجرخان میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جب ترقی کے نام پر غریبوں کی بستیوں کو اجاڑا گیا اور شہر کے بڑے کہلانے والے تماشہ دیکھتے رہے۔ تم نے شہر تو چمکا لیا، مگر انسانیت کا جنازہ نکال دیا۔گوجرخان کی تاریخ میں ستم ظریفی کی ایک نئی داستان رقم ہو چکی ہے۔ وہ شہر جو کبھی اپنی زندہ دلی اور تجارتی گہما گہمی سے پہچانا جاتا تھا، آج اپنوں ہی کی بے حسی اور سفید ہاتھیوں کی لوٹ مار کا نوحہ پڑھ رہا ہے۔ بیس سال پہلے پچاس کھوکھوں کی لیز سے شروع ہونے والا سفر، تین سو سے زائد کھوکھوں میں سینکڑوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر کے اختتام پذیر ہوا۔ یہ صرف کھوکھوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ متوسط طبقے کی معیشت کا وہ قتلِ عمد ہے جس کے پیچھے دہائیوں کی کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری کا ہاتھ ہے۔ انڈر پاسز کے شاندار منصوبے اپنی جگہ، لیکن کیا ترقی کا راستہ ہمیشہ غریب کی ہڈیوں سے گزر کر ہی بنتا ہے؟ کھوکھا بازار کی مسماری نے جہاں سینکڑوں چھوٹے تاجروں کو سڑک پر لا کھڑا کیا، وہیں اب اگلا نشانہ وہ تین ہزار رکشہ ڈرائیور ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر رزقِ حلال کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

    گوجرخان کی بلدیہ، جسے ہم سفید ہاتھی کہیں تو غلط نہ ہوگا، برسوں سے ان رکشہ والوں سے انٹری فیس کے نام پر 10 روپے سے شروع ہونے والی اب 50 روپے کی پرچی وصول کر رہی ہے۔پورے پنجاب میں کہیں بھی یہ بھتہ نما پرچی اتنی مہنگی نہیں، مگر گوجرخان وہ واحد لاوارث تحصیل ہے جہاں رکشہ ڈرائیور سے رقم تو لی جاتی ہے، مگر اسے سر چھپانے کے لیے ایک فٹ کا اسٹینڈ تک میسر نہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کروڑوں روپے کا ریونیو آخر جا کہاں رہا ہے؟ وہ کون سے پیٹ ہیں جو غریب کی دہاڑی سے بھرے جا رہے ہیں؟ بلدیہ گوجرخان نے آج تک ان محنت کشوں کو کوئی متبادل جگہ کیوں نہیں دی؟ کیا اس ادارے کی ذمہ داری صرف وصولی تک محدود ہے؟ ستم تو یہ ہے کہ پہلے 50 کھوکھوں کی آڑ میں سینکڑوں غیر قانونی ڈھانچے کھڑے کروا کر جیبیں بھری گئیں، اور جب حساب کا وقت آیا تو بوجھ اس ریڑھی والے اور کھوکھے والے پر ڈال دیا گیا جس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے ان پالیسی میکروں پر بھروسہ کیا۔گوجرخان میں الٹی گنگا بہتی ہے۔

    یہاں پہلے کیری ڈبہ کار اسٹینڈز کو ختم کیا گیا، متبادل جگہ کا لالی پاپ دیا گیا، مگر وہ وعدہ وفا نہ ہوا۔ اب باری رکشہ والوں کی ہے۔ انڈر پاس بنے گا، سڑکیں چمکیں گی، مگر ان سڑکوں پر چلنے والا وہ محنت کش کہاں جائے گا جس کا ذریعہ معاش چھین لیا گیا؟ اس معاشی قتلِ عام کے ذمہ دار صرف سرکاری افسران نہیں، بلکہ گوجرخان کے وہ سفید کالر شرفاء، وہ نام نہاد کھڑپینچ اور سماجی شخصیات بھی ہیں جو فوٹو سیشن میں تو پیش پیش رہتی ہیں، مگر جب شہر کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہو تو ان کی زبانوں پر قفل لگ جاتے ہیں۔ مقامی سیاست دانوں سے لے کر مالشی پالشی ٹاوٹوں تک سب نے مل کر اس شہر کو بیروزگاری کی دلدل میں دھکیلا ہے۔ موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے دور میں، جہاں ایک وقت کی روٹی خواب بنتی جا رہی ہے، وہاں ہزاروں خاندانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا کسی المیے سے کم نہیں۔ یہ انتظامیہ اور پالیسی ساز یاد رکھیں کہ جب غربت اور فاقہ کشی حد سے بڑھتی ہے، تو وہ صرف بے بسی نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسے لاوے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو ہر نظام کو بہا لے جاتا ہے۔

    گوجرخان کے متوسط طبقے کی آہیں ان ایوانوں کو ضرور ہلا دیں گی جہاں بیٹھ کر غریب کے رزق پر شب خون مارنے کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ترقی ضرور لائیے، مگر انسانوں کو مار کر نہیں۔ انڈر پاسز ضروری ہیں، مگر ان سے پہلے ان ہاتھوں کو روزگار دینا ضروری ہے جو اس شہر کا پہیہ چلاتے ہیں۔ ورنہ تاریخ گوجرخان کے ان مسیحاؤں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے شہر کو چمکانے کے چکر میں اس کے بیٹوں کو اندھیروں کے حوالے کر دیا۔

  • نازک سیزفائر، گہری بداعتمادی ایران امریکہ مذاکرات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازک سیزفائر، گہری بداعتمادی ایران امریکہ مذاکرات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بالواسطہ سفارتکاری یا تعطل؟ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشمکش

    پاکستان بطور ثالث عالمی امن کی امید یا ایک اور سفارتی امتحان؟

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    ایران امریکہ کشیدگی نازک سیزفائر اور غیر یقینی سفارتکاری،عالمی سیاست اس وقت ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی وقتی سیزفائر کی صورت میں تو تھمتی دکھائی دیتی ہے، تاہم یہ خاموشی کسی پائیدار امن کی ضامن نہیں بلکہ ایک عارضی توقف کا منظر پیش کرتی ہے۔ بظاہر مذاکرات کا در کھلا ہے، مگر باہمی بداعتمادی اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ ہر پیش رفت ایک نئے تعطل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

    واشنگٹن کی خواہش ہے کہ معاملات کو براہِ راست مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے، جبکہ تہران اس کے برعکس بالواسطہ سفارتکاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تضاد محض حکمتِ عملی کا فرق نہیں بلکہ اعتماد کے شدید بحران کی عکاسی ہے۔ ایران کو اندیشہ ہے کہ براہِ راست مکالمہ اسے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے کمزور کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ اسے سفارتی عمل میں تاخیر اور پیچیدگی کا باعث سمجھتا ہے۔ اس پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بطور ثالث، اسلام آباد دونوں فریقین کے درمیان ایک محتاط توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جو نہ صرف اس کی سفارتی صلاحیتوں کا امتحان ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافے کا بھی مظہر ہے۔ تاہم، یہ عمل کسی آسان سفارتکاری کا تقاضا نہیں کرتا، کیونکہ دونوں اطراف اپنے اپنے اصولی مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔ مزید برآں، امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ایسے بنیادی نکات ہیں جنہیں ایران اپنی خودمختاری کے منافی قرار دیتا ہے۔ جب تک ان امور پر کسی حد تک لچک پیدا نہیں کی جاتی، مذاکرات کی رفتار سست اور غیر مؤثر رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

    موجودہ حالات میں ایک دیرپا اور قابلِ اعتماد امن کا قیام فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا، تاہم اسے یکسر خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر فریقین تحمل، تدبر اور سفارتی فراست کا مظاہرہ کریں، اور ثالثی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے، تو کسی حد تک پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ نازک سیزفائر کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن پر بھی مرتب ہوں گے۔ بالآخر، یہ تنازع محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ حکمت، برداشت اور باہمی اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔

  • نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن، ایک نازک توازن. تجزیہ: شہزاد قریشی

    نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن، ایک نازک توازن. تجزیہ: شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں فضا میں بارود کی بو تو ہے، مگر گولیاں ابھی پوری طرح چل نہیں رہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہی ہے: نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن۔

    یہ ایک عجیب اور پیچیدہ کیفیت ہے۔ ایک طرف بیانات کی سختی، پابندیوں کا دباؤ، اور خطے میں طاقت کے مظاہرے جاری ہیں، تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتکاری بھی خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔ دونوں ممالک بظاہر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ کھلی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔

    امریکہ، جو پہلے ہی عالمی سطح پر کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے، ایک نئی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب ایران، جس کی معیشت پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی کے باوجود ایک غیر مرئی حد قائم ہے جسے عبور کرنے سے دونوں فریق گریز کر رہے ہیں۔

    یہ صورتحال دراصل “کنٹرولڈ ٹینشن” کی مثال ہے—یعنی کشیدگی کو اس حد تک برقرار رکھا جائے کہ سیاسی اور سفارتی مقاصد حاصل کیے جا سکیں، مگر وہ جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ اس کھیل میں پراکسیز، سفارتی دباؤ، اور عالمی ثالثی سب اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    دنیا کی بے چینی بھی اسی تضاد کا نتیجہ ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی نازک حالت میں ہے، توانائی کی منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہیں، اور کسی بھی لمحے ایک چھوٹا سا واقعہ بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے عالمی برادری کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اصل جنگ میدان میں نہیں بلکہ سفارتی میزوں پر لڑی جا رہی ہے۔ دباؤ، مذاکرات، اور مفادات کا یہ پیچیدہ جال ایک ایسے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے جو بظاہر مستحکم دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے نہایت کمزور ہے۔

    آنے والے دنوں میں یہ توازن برقرار بھی رہ سکتا ہے اور کسی اچانک واقعے سے ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ تاہم موجودہ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کے کنارے کھڑے ہو کر بھی اس میں چھلانگ لگانے سے گریزاں ہیں۔
    یہی اس دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے:
    جنگ کا خطرہ موجود ہے، مگر امن کی کوشش بھی جاری ہے—اور دنیا اسی درمیانی کیفیت میں سانس لے رہی ہے۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی قیادت کا مثبت کردار عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں رنگ لے آئیں

    ایران امریکہ معاملات آخری مرحلے میں، سیز فائر مستقل امن کی طرف اہم پیش رفت

    تجزیہ شہزاد قریشی
    سیز فائر میں توسیع محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار تھا، پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ خصوصاً عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی حکمتِ عملی، تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جو واقعی قابلِ ستائش ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی حمایت بھی ایک مثبت اور عملی قدم ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب تصادم کے بجائے استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور عالمی ممالک کی مشترکہ کوششیں بھی اس پیش رفت میں شامل رہی ہیں، جنہوں نے ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور زمینی حقائق یہی اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق کسی نہ کسی قابلِ قبول حل کے قریب پہنچ چکے ہیں، اور معمولی نکات پر اتفاق رائے بھی جلد ہو سکتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ سیز فائر نہ صرف ایک عارضی سکون بلکہ ایک مستقل امن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

    بلاشبہ، یہ ایک اجتماعی کامیابی ہے جس میں پاکستان، امریکہ اور دیگر تمام شامل ممالک کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ پیش رفت ایک جامع معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی، جو خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا۔

  • یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    عالمی سیاست کے پیچیدہ اور بدلتے ہوئے منظرنامے میں کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو محض سفارتی یا مفاداتی بنیادوں پر قائم نہیں ہوتے بلکہ ان کی جڑیں تاریخ، عقیدے،مذہب اور مشترکہ اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق بھی اسی نوعیت کا ایک لازوال رشتہ ہے ایک ایسا رشتہ جسے بجا طور پر ’’ یک دل و یک جان ‘‘ کہا جاتا ہے۔

    ہر آن، ہر لمحہ اور ہردم بدلتے حالات کے تناظر میں دنیا اس بات کا مشاہدہ کررہی ہے کہ واقعتا سعودی عرب اور پاکستان’’ یک دل ویک جان ‘‘ ہیں ۔ امریکہ کے حملوں کی آڑ میں ایران نے سعودی عرب کی تیل اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ایسے حساس وقت میں جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا وہاں کور کمانڈر کانفرنس میں بھی سعودی عرب کے ساتھ بھر پورطریقے سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا ۔ یہ اظہار یکجہتی نہ صرف ایک بروقت اقدام تھا بلکہ ایک ایسی ذمہ دار ا نہ ا ور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کا بھی عکاس ہے جس کی بنیاد سعودی عرب کے ساتھ بے لوث محبت پر رکھی گئی ہے ۔ یہ یکجہتی محض رسمی بیان نہیں بلکہ اس امر کا واضح اعلان تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی پر خطرات کے منڈلاتے سائے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے ۔ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ پاکستان کی متوازن اور مدبرانہ خارجہ پالیسی کی عکاسی بھی تھا اور اس امر کا اظہار بھی تھا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے ۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی محض رسمی بیان نہ رہا بلکہ چند ہی دن بعد دنیا نے اس وقت اسے حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا جب پاکستان کے شاصہین صفت لڑاکا طیارے سعودی سرزمین پر اترے اور فضائوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ محض ایک عسکری سرگرمی نہ تھی بلکہ ایک بھرپور پیغام تھا۔۔۔۔اتحاد کا۔۔۔۔ اعتماد کا ۔۔۔۔اور مشترکہ دفاع کا۔ یہ لمحہ دراصل اس دیرینہ رفاقت کا عملی اظہار تھا جو آزمائش کی ہر گھڑی میں سرخرو رہی ہے۔یہ طیارے جن میں JF-17 تھنڈر اور F-16 جیسے جدید شاہکار شامل ہیں صرف دھات اور مشینری کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری مہارت، خودانحصاری اور دفاعی خودداری کے جیتے جاگتے مظاہر ہیں۔ جب یہ شاہین فضائوں میں پرواز کرتے ہوئے سعودی عرب پہنچے تو ہر پاکستانی کا دل فخر وانبساط سے بھر گیا ۔ اب الحمد للہ پاک فوج کے چنیدہ اور تربیت یافتہ دستے سعودی عرب میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی موجودگی کسی جارحیت کی علامت نہیں بلکہ امن، تربیت اور دفاعی ہم آہنگی کا استعارہ ہے۔ یہ شاہین صفت جوان اپنی مہارت، نظم و ضبط اور تجربے کے ذریعے سعودی افواج کے ساتھ ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں جو کسی بھی ممکنہ خطرے کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ کنگ عبدالعزیز جیسے اسٹریٹجک ایئر بیس کا انتخاب خود اس تعاون کی سنجیدگی اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خلیجی خطے کے قریب واقع یہ ائیر بیس دفاعی اعتبار سے کلیدی حیثیت بھی رکھتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ایک اہم عسکری مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں پاکستانی طیاروں کی موجودگی دراصل ایک واضح اعلان ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں یک دل اور یک جان ہیں اور دونوں ممالک کسی بھی چیلنج کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ عسکری اشتراک صرف ہتھیاروں اور مشقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط نظریاتی اور جذباتی رشتہ بھی کارفرما ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ پر استوار ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھا ہے یہی جذبہ آج بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔ آج جب دنیا طاقت کے توازن کی نئی صف بندیوں میں مصروف ہے پاکستان کا یہ اقدام سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بھی کرتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور عسکری اعتبار سے مضبوط ومستحکم ریاست ہونے کا تاثر بھی اجاگر کرتا ہے۔دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات سے دنیا کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ آل سعود خادم الحرمین ہیں تو پاکستان کو اللہ نے محافظ الحرمین کا اعزاز بخشا ہے ۔

    دوسری طرف سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستان کا سچااور مخلص دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ خوشی ہو یا غم سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ہے ۔ آج اگر پاکستان دنیا میں سربلند ہے تو سعودی عرب کی بدولت ہے کہ جس کے تعاون سے پاکستان ایک مضبوط عسکری قوت اور ملک بنا ہے ۔ اس وقت پاکستان معاشی اعتبار سے مشکلات کا شکار ہوا تو سب سے پہلے سعودی عرب ہی پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے آگے بڑھا دو ارب ڈالر امداد دی اور تین ارب ڈالر قرضے روول اوور کئے ۔

    مذہبی ، سفارتی ، دفاعی اور عسکری تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک نہایت اہم ستون ہے۔ 1960 ء کی دہائی سے ہی پاکستان نے سعودی عرب کی فوجی تربیت اور دفاعی صلاحیتوں میں معاونت فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ پاکستانی فوجی ماہرین اور ٹرینرز سعودی عرب میں تعینات رہے جہاں انہوں نے سعودی افواج کو جدید جنگی مہارتوں سے آراستہ کیا۔ 1982 ء میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان نے سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع کی ذمہ داری قبول کی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں تعینات رہی، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    1990 ء کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ دونوں ممالک کا تعلق محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی جھلکتا ہے۔
    حالیہ برسوں میں مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصا امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع نے خطے کو ایک نازک صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔ ایسے حساس موقع پر پاکستان نے نہایت دانشمندانہ اور متوازن پالیسی اپنائی تاہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کو برقرار رکھا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی سعودی موقف کی حمایت کی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بھی فعال کردار ادا کیا۔ یہ ایک نازک توازن تھا، جس میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی پختگی اور بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

    سیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی قابلِ رشک ہے۔ عالمی فورمز پر بھی پاکستان اور سعودی عرب اکثر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو یا امتِ مسلمہ کو درپیش دیگر چیلنجز سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کو اہمیت دی ہے ۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ بھی اسی دیرینہ تعلق کا تسلسل ہے ۔ وزیراعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    آج جب دنیا مختلف سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزر رہی ہے، ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا ’’ یک دل، یک جان ‘‘ کا رشتہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے یہ تعلق نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے استحکام، اتحاد اور امید کی علامت ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض دو ممالک کا تعلق نہیں بلکہ دو دلوں کی دھڑکن، دو قوموں کی امید اور ایک امت کی مشترکہ طاقت کا مظہر ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو ہر آزمائش میں سرخرو ہو کر ابھرتا ہے۔