Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کل والا میچ — ضیغم قدیر

    کل والا میچ — ضیغم قدیر

    کل والا میچ اتنا بہترین تھا کہ اب تک اس کو تیسری مرتبہ دیکھ چکا ہوں۔ کل بہت پیاری جیت ہمارے نام ہوئی تھی مگر بارش کے دوران جب خان صاحب کے حادثے کی خبر سنی تو دل اداس ہو گیا تھا اور پھر جیتنے پر رتی برابر بھی خوشی نا ہوئی۔

    لیکن،

    کل والے میچ نے ہماری سیمی فائنل میں جانے کی امیدیں پھر سے تازہ کر دی ہیں۔ اب فیصلہ کن دن اتوار کا ہی ہوگا۔ اس دن فقط ہماری جیت ہی ضروری نہیں بلکہ دو کیسز ہونا اہم ہے۔

    اگر اتوار کو ہونیوالے پہلے میچ میں ساؤتھ افریقہ اگر نیدرلینڈز سے ہار جائے تو پاکستان آٹومیٹیکلی بنگلہ دیش سے جیت کر آگے جا سکتا ہے۔ مگر نیدرلینڈز ساؤتھ افریقہ کو ہرا پائیں گے؟ یہ سوچنا بھی ناممکن سا لگتا ہے لیکن اپ سیٹ ہو بھی سکتے ہیں۔

    اگر خدانخواستہ ساؤتھ افریقہ جیت جاتا ہے تو دوسرا میچ ہمارا ہے جو کہ ہم جیت جاتے ہیں تو پھر امیدیں زمبابوے سے ہیں۔ اگر پھر زمبابوے بھارت کو ہرا دے گا تو ہمارا رن ریٹ جو کہ بھارت سے بہتر ہے اسکی بنا پہ ہم آگے چلے جائیں گے۔

    وہیں اگر ساؤتھ افریقہ کا میچ کینسل ہو جائے تو تب بھی ہم آگے جا سکتے ہیں۔ اب صرف ہماری قسمت کا کھیل ہے۔ اگر ہماری قسمت ہوئی تو سیمی فائنلز میں جانا کنفرم ہے۔

    وہیں پہ خان صاحب کیساتھ قوم کی وابستگی ان کی سیاست نہیں تھی بلکہ یہی کرکٹ تھی جس کی وجہ سے لوگ ان سے جڑے تھے۔ آپ اندازہ لگائیں وہ قوم جو دو میچ ہار کر دو جیتنے والی ٹیم کو ہیرو بنا چکی ہے وہ عمران خان جو کہ کرکٹر ہونے کے بعد شوکت خانم اور سیاست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکا تھا اس کے حق میں کیوں نا کھڑی ہو۔

    دعا ہے کہ یہ اتوار ہمارے لئے خوش نصیبی کا اتوار ثابت ہو اور آسٹریلیا میں موجود کرکٹ ٹیم کیساتھ ساتھ وطن میں موجود کرکٹر تک دونوں کامیاب ہو جائیں اور ملک میں حالات نارمل ہو جائیں۔

  • تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    نام: جولیس سیزر 44 قبل مسیح
    سٹیٹس: عوامی مقبولیت اتنی بڑھ گئی تھی کہ تاحیات بادشاہ مقرر ہونے والا تھا ۔
    نتیجہ: اپنی ہی پارلیمنٹ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عمر بن خطابؓ 644ء
    سٹیٹس: تیزی سے دنیا میں ایک منصفانہ نظام کا قیام ۔
    نتیجہ: ایک غلام جو اپنے حق میں فیصلہ چاہتا تھا ، کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عثمان بن عفانؓ 656ء
    سٹیٹس: ریاست میں قوانین کا نفاذ ۔
    نتیجہ: قانون سے بھاگنے والے مصری گروپ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت علی ابن طالبؓ 661ء
    سٹیٹس: جنگ نہروان میں سٹینڈ لیا ۔
    نتیجہ: خارجیوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: ابراہم لنکن 1865ء
    سٹیٹس: سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: نسل پرستوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی 1963ء
    سٹیٹس: امیرکہ میں ایک سیکرٹ گورنمنٹ کی بات کرنے لگ گئے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: مہاتما گاندھی 1948ء
    سٹیٹس: پاکستان کے قیام کو قبول کر لیا تھا ۔
    نتیجہ : RSS کے شدت پسند کے ہاتھوں assassinated

    نام: لیاقت علی خان 1951ء
    سٹیٹس: جانی مانی راولپنڈی سازش کا شکار ۔
    نتیجہ: سعد اکبر کے ہاتھوں assassinated جسے اسی وقت کسی اور نے مار دیا تھا ۔

    نام: جورڈن کے بادشاہ کنگ عبداللہ 1951ء
    سٹیٹس: امن کی کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل 1975ء
    سٹیٹس: سعودی عرب کی ترقی کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: امیرکہ سے آئے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں assassinated

    نام: انور سادات 1981ء
    سٹیٹس: شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: مصر کی ملٹری پریڈ کے دوران assassinated

    نام: بینظیر بھٹو 2007ء
    سٹیٹس: عوام میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کر گئی تھیں ۔
    نتیجہ: معلوم اور نامعلوم ناموں کے ہاتھوں assassinated

    ان سب ناموں میں آپ کو کیا pattern کامن نظر آ رہا ہے ؟

    یہ سب لوگ کسی نہ کسی صورت میں اپنے مذہب یا ملک یا اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ کر رہے تھے اور انہیں عوام میں مقبولیت ملنا شروع ہو گئی تھی ۔

    اور ان میں سے امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی … جو اچانک امیرکہ میں ایک shadow اور چھُپے ہوئے لوگوں کی حکومت کی بات کرنے لگ گئے تھے ان پر ایک نہیں بلکہ بیس مرتبہ assassination اٹیمپٹس ہوئی تھیں اور بالآخر ان میں سے ایک اٹیمپٹ ، کامیاب ہو گئی ۔

    اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو … لیکن تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ، اور تاریخ کے اسی پیٹرن کو دیکھتے ہوئے میری deductive logic مجھے بتاتی ہے …

    کہ وہ دوبارہ attempts ضرور کریں گے ۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان اور جو بھی اسلام اور پاکستان کا محسن ہے ، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے ۔

  • قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    یہ تو آپ کو ہی پتہ ہوگا کہ جہاں آپ کی رہائش ہے وہاں سے دوسری بلند ترین چوٹی K2 کتنی دور ہے. لیکن آپ جہاں سے بھی آئیں گے تو کے ٹو کا راستہ پاکستان سے سب کیلئے ایک ہی ہے. 16 ہزار تین سو فٹ بلندی پر بیس کیمپ ہے. جبکہ ایڈوانس بیس کیمپ 17400 فٹ کی بلندی پر ان لوگوں کیلئے ہے جو تہیہ کر لیں ہم نے اسے سر کرنا ہی کرنا ہے.

    موسم اور حالات اگر سازگار ہوں تو سفر کیمپ اول کیلئے شروع ہوگا جو انیس ہزار نو سو فٹ بلندی پر ہے. اگلا پڑاو کیمپ ٹو پر ہوگا جو کچھ بائیس ہزار فٹ پر ہے تیسرا پڑاو کیمپ تھری پر 23 ہزار آٹھ سو پر کریں گے چوتھا 25 ہزار تین سو پر اور ہھر آخری کوشش ہوگی جس میں کوئی پڑاو نہیں بلکہ ایک تنگ راستہ ہے جسے بوٹل نیک کہتے ہیں.

    اعتماد کی بھی دو اقسام ہیں. ایک معلوم ہونے کا اعتماد اور دوسرا عمل کا اعتماد. ہماری اکثریت پہلا اعتماد رکھتی ہے. جسے معلوم ہونے کا اعتماد کہتے ہیں. آپ سے کوئی پوچھے آپ کو کے ٹو کا راستہ معلوم ہے.؟ آپ کو معلوم ہوگا تو بہت اعتماد سے فرفر بتا دیں گے ورنہ گوگل سے چیک کر لیں گے جیسے میں نے اوپر گوگل سے لکھ دیا.

    گھر میں لیٹے لیٹے بھی آپ اپنی معلومات پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ چونکہ مجھے معلوم ہے تو اسکا مطلب ہے میں قراقرم کے سر کا تاج کے ٹو سر کر سکتا ہوں. لیکن عمل کا اعتماد وہ ہے جو آپ کو اس سفر کیلئے گھر سے نکالنے کی جرات و ہمت دیتا ہو. یہ ہر سال کے ٹو سر کرنے والے لوگ ہوں یا دور دراز کے سفر پر نکل جانے والے ہوں یہ تاریخ میں اپنا نام لکھانے نہیں بلکہ اپنا اعتماد ہی چیک کرنے نکلتے ہیں. کیونکہ اعتماد کا بوٹل نیک یہی امتحان ہے.

    یہ امتحان ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے ہم کتنے پانی میں ہیں اور اس امتحان کے نمبرز ہمارا رزلٹ طے کرتے ہیں. اور یہی رزلٹ ہمارا مقام طے کرتا ہے.

  • علم کی فضیلت — ام عفاف

    علم کی فضیلت — ام عفاف

    اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو تخلیق کیا تو اسے علم سکھایا انسان اور علم کا ابتداء ہی سے گہرا تعلق ہے. انسان اور دوسری مخلوقات کے درمیان فرق صرف علم اور شعور کا ہے. اسی بنا پر للہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا.

    اس دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک جتنی بھی قومیں گزری ہیں ان میں بھی علم کی بہت اہمیت رہی ہے. علم کے بغیر قومیں ناکام رہی ہیں. اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبی اکرم صلعم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ علم سے ہی متعلق تھی کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا. 12 ربیع الاول جو کہ اصحاب سیر کے ایک طبقہ کے مطابق یوم ولادت با سعادت نبوی ہے (بعض محققین 9 ربیع الاول کے قائل ہیں) مسلم معاشرے کے مختلف طبقوں میں مختلف انداز میں منایا جاتا ہے. کہیں محفل میلاد ہے تو کہیں جلسہ سیرت النبی کہیں نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہے تو کہیں جلوس کا اہتمام ہے.

    ظاہر ہے یہ سب کچھ رسول اللہ صلعم کے لیے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ہی کیا جاتا ہے لیکن احقر کی نظر میں یہ دن رسول اللہ صلعم کے مشن کی یاد اور اس کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کے احتساب کے طور پر منایا جائے تو آپ صلعم کے لیے امت مسلمہ کی بہترین خراج عقیدت ہو گی. ذرا غور کریں! یہ وحی اس وقت نازل ہوئی جب دنیا کے منظر نامے میں سوائے ظلم اور جہالت اور اندھیرے کے کچھ بھی نہ تھا ‘عالم یہ تھا کہ انسانیت پس چکی تھی’ مظلوم کا پرسان حال کوئی نہیں تھا ‘غریب بے یار و مددگار تھا یتیم بے کس تھا. علم کائنات سے اٹھ چکا تھا’ بے مروتی انتہا پر تھی شیخی وطیرہ بن چکی تھی. جہالت اتنی کہ جہالت بھی پناہ مانگے. قانون کوئی نہیں تھا البتہ طاقت؛ دستور وہی جو طاقتور کے الفاظ. فقط ایک افراتفری تھی بے ہنگم عقائد تھے. بے سلیقہ زندگیاں تھیں. غور وفکر ناپید تھی اسلاف کے سچے اور جھوٹے من گھڑت کارنامے تھے. ان پر نسلی قبائلی نسبی و علاقائی تفاخر طاقت ہے. انسان اسفل السافلین سے بھی نچلے گھڑے میں اتر چکا تھا. لیکن یہ انسانیت کا مقدر تو نہ تھا. یہ خلیفہ لم یزل کی شان تو نہ تھی. اس لئے انسان اور انسانیت کو عروج ودوام بخشنے کے لیے اسلامی تہذیب کا آفتاب طلوع ہونا ناگزیر تھا تاکہ زوال پذیر تہذیب بھی اسلامی تہذیب سے روشنی اور چمک لے کر محبت اور ترقی کا ثمر چکھ سکیں.

    تہذیب اسلامی کا منبع اور بنیاد رسول صلعم کی ذات مبارکہ ہے آپ صلعم کے اخلاق و کردار افعال واقوال آپ صلعم کی سیرت طیبہ مینارہ نور کی طرح ہدایت ورہنمائ کے لیے محفوظ اور موجود ہے. آپ صلعم کے بارے میں خود رب کائنات نے فرمایا کہ

    انک لعلی خلق عظیم.

    اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں.(یعنی کہ آداب قرآنی سے مزین اور اخلاق الہیہ سے متصف ہیں)
    .
    آپ صلعم نے حصول علم کو ہر مسلمان مرد و زن پر فرض قرار دیا ہے. بلکہ حصول علم کی فضیلت میں دین اسلام کہتا ہے کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے ہیں.

    رسول صلعم نے فرمایا کہ حکمت(علم) مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے لے لو. ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں حضور اکرم صلعم نے اہل علم کی فضیلت بیان کی حتیٰ کہ آپ صلعم نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو. مزید مومنین کو علم حاصل کرنے پر ابھارا. علم کے حصول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلعم نے فرمایا کہ حصول علم کی خاطر گھر سے باہر جانے والے کی موت بھی واقع ہوجائے تو اس کا مرتبہ شہید جیسا ہے.

    یاد رہے! کہ یہاں علم سے مراد علم نافع ہے. جس سے انسان دین اور دنیا کی بھلائی کا کام کرسکے معاملات دنیا کو سلجھانے کی تعلیم حاصل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہمیں سیرت النبی صلعم سے ملتی ہے. علم دین اور قرآن تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درسگاہ نبوت سے براہ راست سیکھتے تھے وہ علم انہیں کہیں جاکر سیکھنے کی حاجت نہ تھی. لیکن غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار جنگ ہار گئے اور ان میں سے کچھ کو قید کر لیا گیا تو ان کے آزاد ہونے کی شرط یہ تھی کہ جو فدیہ ادا نہیں کرسکتا وہ مسلمانوں کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاءے اب اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ کفار نے جو مسلمانوں کے بچوں کو پڑھانا تھا وہ ہرگز تعلیمات اسلامی نہیں ہوسکتی تھی. وہ اس وقت کے مروجہ دنیاوی علوم ہی تھے.

    اگر آج ہم اپنے علمی رویے پر غور کریں تو جان جائیں گے کہ ہم علم و حصول علم سے کتنی دور ہیں. مسلمانوں کی کتنی جامعات ویونیورسٹیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں. دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں ہمارا شمار کس جگہ پر ہے؟ اتنا نیچے کہ بس شرمندگی! ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس کی ابتداء اقراء سے ہوتی ہے. جہاں قلم کی روشنائی کا درجہ شہید کے لہو کی مانند ہے. لیکن ہمارا سماجی رویہ حصول علم کی جانب کتنا مثبت ہے؟ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نقالی کرہے ہیں ہم جدت سے کتنا دور ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ اس وقت رسول صلعم کے آگے آنے سے ڈرتے تھے آج ہم ان کی نقالی کرہے ہیں. جس مذہب کی اپنی ثقافت تہذیب وتمدن ہو وہ قوم کسی اور کے طور طریقوں کو اختیار کرے ایسی قوم کے لئے شرمندگی کا مقام اور کیا ہو گا.

    ذرا سوچیں! کہ جس قوم کی آج سے کچھ صدیوں پہلے اتنی مضبوط پوزیشن تھی وہ قوم آج زوال پذیر کیوں ہے؟

    وہ صرف اسی لیے کہ ہم نے اطاعت رسول صلعم کو چھوڑ دیا ہے ہمارے پیارے نبی صلعم جن کی مثال کافر بھی دیتے ہیں آج ہم نے ان کی پیروکاری کو چھوڑ دیا ہے. جلسے جلوس محبت کا اظہار، جشن، چراغاں تو یہودونصاری بھی ایک دن کے لیے اپنے نبیوں کے لیے کرلیتے ہیں لیکن اصل بات اطاعت کی ہے. افسوس کہ وہ ہمارے اندر اب مفقود ہے. رسول صلعم کا عاجزانہ رویہ سادگی، سادہ طرز زندگی کو ہم نے اختیار نہیں کیا ہے. ہم نے سیرت طیبہ کے قانون کو لاگو نہیں کیا ہے اسی لیے آج ہم اتنا پیچھے ہیں. دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں،
    شاعر کیا خوب کہتا ہے.

    وہ معزز تھے زمانے میں صاحب قرآں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

  • عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    پاکستان کی سیاست آجکل اس ہانڈھی کی مثال پیش کر رہی ہے جس میں صرف پانی ہے اور اسکے نیچے تیز آنچ جل رہی ہے جس سے پانی جوشِ ابال سے چھلک چھلک کر باہر آنے کو بیتاب ہے۔۔۔چونکہ ملک میں ایک بڑی سیاسی جماعت لانگ مارچ لیے دارالحکومت کی جانب رواں دواں ہے اور وفاق میں بیٹھی مخلوط حکومت کو اپنے ڈر اور تحفظات نے گھیرا ہو ہے تو ایسا ہونا بعید از قیاس اور انہونا نہیں۔۔۔

    کل عمران خان کے لانگ مارچ کو چھٹا روز تھا اور حسب معمول خان صاحب کی توپوں کا رخ اداروں کی قیادت اور مخلوط حکومت کی جانب ہی رہا۔۔۔ بہر کیف یہ تو ماننا ہوگا کہ خان صاحب واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جنہیں مخالفت برائے مخالفت کی سیاست راس آگئی ہے اورعوام کی ایسی پولیٹیکل اور سوشل سپورٹ بھی میسر آگئی ہے جو باقی سیاستدانوں سے تو انکی قابلیت، اہلیت اور کارکردگی کا سوال کرتی ہے لیکن خان صاحب کو استثنیٰ دیکر بجز انکے مخالفین کے متعلق خان صاحب کی پر جوش تقاریر سن کر ہی مطمئن اور خان صاحب کے شانہ بشانہ ہے۔

    خیر کل خان صاحب کا کہنا تھا کہ ” اگر نیوٹرل اور غیرسیاسی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا چیزآپ کوصاف اورشفاف الیکشن کرانے میں روک رہی ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگ سن لیں، نوازشریف جنرل جیلانی کے گھر سریا لگاتے لگاتے وزیراعلیٰ بن گیا، میں چھبیس سال سے مقابلہ کر کے ادھرپہنچا ہوں، میچ کے دوران ہی کپتان کو پتا چل جاتا ہے وہ میچ جیت گیا ہے، پاکستانیوں ہم اللہ کے فضل سے پاکستان کا میچ جیت چکے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کچھ نہیں، ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں اورپسینے آرہے ہیں۔ مجھے پہلی دفعہ پاکستان میں حقیقی آزادی نظرآرہی ہے۔”

    اسکے بعد خان صاحب نے خطاب کے دوران مقتدر قوتوں سے چھ سوالات بھی کیے اور ساتھ ہی یہ بھی خبریں گرم ہیں کہ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کا شیڈول بھی اب 11 نومبر طے کیا گیا ہے جبکہ خان صاحب کے 6 سوالات کے جوابات کے لیے ردعمل میں پھر مریم اورنگزیب نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ” آپ روئیں،پیٹیں یا کچھ اور کریں،حکومت شہباز شریف کی ہے اور یہی حقیقت بھی ہے،،شہباز شریف چور تھا تو عدالتوں میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟اگر احتساب کر رہے تھے تو پھر آرمی چیف کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر کیوں کی ؟رانا ثنا اللہ قاتل تھا تو ہیروئن کا کیس بنا کر انہیں گرفتار کیوں کیا؟شہباز شریف چور تھا تو3سال برطانیہ کی عدالت میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟”

    بطور عوام ہمارے بھی چھ سوالات ہیں کہ "ملک کب تک عدم استحکام کا شکار رہے گا؟، عوام کب تک سیاستدانوں کی کٹھ پتلی بنی رہے گی؟، ملکی معیشت اور دفاع کی بھی کسی اقتدار کے خواہشمند کو سچ میں فکر ہے؟، اداروں کو کمزور کرنے اور ان سے تصادم کی یہ بھونڈی چالیں کب تک جار رہیں گی؟، حقیقی آزادی کے نام پر کب تک قوم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی رہے گی؟ اور تمام سیاستدان کب مل بیٹھ کر حقیقی جمہوری طریقے سے اپنے اور ملک و عوام کے مسائل کے حل بارے سوچیں گے۔۔۔۔۔ آخر کب؟”

    ملک جس سیاسی، ریاستی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے وہاں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاستدان اور ادارے قوم وملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مشاورت کرتے اور باہمی اتفاق سے کسی قومی حکومت کی بنیاد رکھ کر عوام کو خوشخبری سناتے لیکن ہو اس کے بر عکس رہا ہے کہ روزانہ عوام کو ایک دوسرے کی کمزوریاں اور برائیاں سنا کر نا صرف ایک دوسرے کی بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے،عام آدمی جس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں سراپا سوال ہے کہ میں کب تک سیاست اور حالات کی اس بے رحم چکی میں پستا رہوں گا؟

  • تاج محل — ریاض علی خٹک

    تاج محل — ریاض علی خٹک

    آگرہ میں تاج محل کے سامنے کسی انجنئیر کو کھڑا کر دیں. وہ آپ کو اس عمارت کی فن تعمیر میں وہ زاوئے نکال کر دکھائے گا جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے. وہ بتائے گا دیکھو یہ اسلامی فن تعمیر کا ٹچ ہے یہ ہند کا تو یہ ثمرقند و بخارا کا زاویہ ہے.

    کسی شاعر کو کھڑا کر دیں وہ محبت کی لازوال داستان سنائے گا. کسی تاجر کو کھڑا کر دیں وہ اس کی آج کی قیمت طے کرنے لگے گا. تاریخ دان اس کی تاریخ سنائے گا کسی سیاست کے مارے مذہب پرست کو کھڑا کر دیں وہ بتائے گا یہ ایک مندر کے اوپر کھڑی عمارت ہے اسے گرا دو.

    ہمارے پختون دیہاتی معاشرے میں کسی آرکیٹیکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی. ایک قطار میں لڑکے گن کر کمرے بنا دیتے ہیں سامنے ایک برآمدہ ہوگا برآمدے میں ہوا یا خوبصورتی کیلئے بارانی جالی لگی ہوگی اور آرکیٹیکچر کے نام پر صرف برآمدے کے ستون رے جاتے ہیں. سیدھے رکھیں یا ترچھا کر کے کونا آگے کر دیں؟ زیادہ انجینئرنگ ہو تو بس ایک کی جگہ دو ستون کردو. جسے بھی سامنے کھڑا کردو وہ کہے گا بس رہنے کیلئے ہی عمارت بنی ہے.

    ہماری فیس بُک کی تحریریں گاوں کی یہی سیدھی قطار کی سیدھی آبادی ہوتی ہے. کچھ لوگ پتہ نہیں کیسے خود کو انجینئر یا تحریر کو تاج محل سمجھ کر اس میں سے وہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں جو ہم نے بھی سوچے نہیں ہوتے لیکن کمال تو سیاست کے مارے ذہن دکھاتے ہیں وہ اس کی بنیاد پر ہی سوال کھڑا کر دیتے ہیں.

  • عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    ملک کا درجہ حرارت بتدریج ٹھنڈ کی جانب گامزن ہے جبکہ ملکی سیاست کے درجہ حرارت میں انتہا کی شدت اور گرمی پیدا ہوتی جارہی ہے۔ عمران خان جی ٹی روڈ پر لفظوں کی گولا باری کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب پیش قدمی کی قیادت کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں مخلوط پارٹی حکومت کے لوگ جوابی لفظوں کی گولا باری میں مصروف ہیں۔

    ساتھ ہی کنٹینرز اور خندقوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایسا منظر بنایا جا رہا ہے جیسے کوئی بیرونی حملہ آور فوج اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے آرہی ہے اور رانا ثناء اللہ کسی ریاست کے آخری وارث ہیں۔

    عمران خان نے آج گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "نواز شریف اور آصف علی زرداری مل کر ہمارے خلاف سازش کر رہے ہیں،،میں نواز شریف نہیں جو باہر بھاگ جاؤں گا،سن لو!میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے،ڈاکو نواز شریف کا استقبال کریں گے،سیدھا جیل پہنچائیں گے،الیکشن لڑیں ،ان کے حلقے میں شکست دوں گا۔۔۔”

    دوسری جانب لندن میں پریس کانفرنس سے شعلہ بیانی کرتے ہوئے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ "عوام کے ٹیکس کا پیسہ لانگ مارچ پر خرچ کیا جا رہا ہے، عمران خان کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے،لانگ مارچ میں لوگ شریک نہیں ہوئے،آخری کارڈ بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکا،4سال معیشت کو تباہ کیا گیا،مہنگائی عروج پر پہنچائی،اور کوئی ایسا شعبہ نہیں جو عمران خان کی تباہی سے محفوظ رہا ہو،عمران خان چاہتا تھا موجودہ حکومت آرمی چیف کی تعیناتی نہ کر سکے۔۔۔”

    جبکہ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ” لانگ مارچ میں 5سے 700لوگ شریک ہیں،،،عوام نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو مسترد کر دیا، صرف ایک مخصوص طبقہ عمران خان کی باتوں میں آ کر گمراہ ہوا،الیکشن جیتنے میں صوبائی حکومتوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے،،یہ لانگ مارچ نہیں فتنہ مارچ ہے،آئندہ دنوں میں یہ مزید سکڑ جائے گا، اور فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پی ٹی آئی کا شوشہ تھا۔۔۔”

    خیرہم نے سب سیاستدانوں کی گفتگو سنی اور ان کے مزاج کی گرمی دیکھ لی جو کسی صورت جمہوری اقدار کی آئینہ دار نہیں، عوام بھی ایک حد تک ہی اس گرمی اور شدت کا بوجھ اٹھا سکتی ہے اور بہت جلد ملک میں افواج پاکستان کی کمان کی تبدیلی بھی متوقع ہے لیکن اس سے پہلے ادارے کی قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ اور ممکنہ چیف پر شکوک و شبہات کے سائے طاری کرنا کیا سود مند رہے گا ؟

  • اگناڈس – ریاض علی خٹک

    اگناڈس – ریاض علی خٹک

    پیدائش عیسی علیہ السلام سے چار صدی پیچھے ایک دن یونان کی گلیوں میں خواتین اچانک احتجاج کیلئے نکل آئیں. اس دور میں جب معاشرے میں خواتین کا کردار خاندان کی خدمت بچے پالنا اور صرف امور خانہ داری تھا یہ احتجاج ایک انوکھا کام تھا. اس کے پیچھے اگناڈس کا ایک قصہ ہے.

    یونان میں علم طب صرف مرد کا پیشہ تھا. خواتین کیلئے یہ علم ممنوع تھا. اگناڈس نام کی لڑکی لیکن اس دور کی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی. کیونکہ زچگی میں مرد ڈاکٹروں سے فطری شرم کی وجہ سے اکثریت خواتین یہ تکلیف خود گزار دیتی لیکن ڈاکٹر کی خدمات نہ لیتی. بہت سی خواتین اس لئے زچگی میں زندگی کی اپنی جنگ ہار جاتیں. اگناڈس یہ بدلنا چاہتی تھی.

    اس نے مردانہ کپڑے پہنے بال مردانہ بنا لئے اور اسکندریہ کی علم طب کی درسگاہ میں بطور مرد داخلہ لے لیا. تحصیل علم کے بعد واپس یونان میں آکر مطب کھولا. خواتین میں سینہ بہ سینہ بات پھیلی اور حاملہ خواتین سب اگناڈس کی کلینک جانے لگیں. مرد ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے. انہوں نے الزام لگایا اگناڈس ڈاکٹر خواتین کو ورغلاتا ہے.

    اگناڈس کو عدالت میں پیش کیا گیا اور وہاں اس نے اپنا لباس اتار کر ثبوت دیا کہ میں مرد نہیں عورت ہوں. اب لیکن ایک اور مقدمہ کھڑا ہوگیا. عورت نے علم طب کیسے حاصل کر لیا.؟ اس غداری پر جب کیس چلا تو خواتین سب احتجاج کیلئے نکل آئیں. یہ احتجاج اتنا پھیل گیا کہ یونان کو اپنا قانون بدلنا پڑا اور خواتین کو علم طب کی اجازت مل گئی.

    مجھے نہیں پتہ یہ یونانی قصہ کتنا سچا ہے. لیکن یہ البتہ تاریخی سچ ہے کہ جب بھی خواتین احتجاج کیلئے نکل آئیں تو تاریخ بدل جاتی ہے. آپ کسی مرد کو ڈرا سکتے ہیں لیکن اس عورت کو خوفزدہ نہیں کر سکتے جو ایک بیمار معاشرے میں نئی زندگی کیلئے نیا گھر بسانے کا حوصلہ رکھتی ہو.

  • نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    کیا آپ جانتے ہیں کہ 14 ملین پاکستانی تھوڑے سے درمیانے درجے کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں؟ تاہم، اس طرح کی تعداد اس وسیع آبادی کا سایہ بنی ہوئی ہے جو اس ذہنی پریشانی کی اطلاع دینے یا اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ اس آبادی کا ایک وسیع حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔

    گلوبل ہیومن رائٹس ڈیفنس کی 2015 میں کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان کی 10 سے 16 فیصد آبادی نفسیاتی پریشانی یا الجھنوں کا شکار ہے۔ جس میں ڈپریشن، شیزوفرینیا اور مرگی جیسے امراض شامل ہیں۔

    حال ہی میں میری ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو کہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی میں ایم ایس پروگرام میں زیر تعلیم ہے۔ لڑکی کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے اور معاشرتی رویوں نے اسے شدید دباؤ کا شکار کر رکھا ہے۔ عاصمہ نے مجھے بتایا کہ کس قدر مشکلوں کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد سے اسلام آباد پہنچی ہے۔ گھر میں تعلیم حاصل کرنے سے لے کر ایک بے جوڑ شادی اس کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہے تھے۔ اس لڑکی کو لگتا ہے کہ اسے با اختیار ہونا چاہیئے ، وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو معاشرے میں بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے خوابوں کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے والدین ہیں ، جو اس سے پیار کرنے کے دعویدار تو ہیں لیکن اپنی اولاد کو بہت سے رشتے داروں کے تعنوں سے بچنے، اور رشتے داروں کے روٹھنے خوف سے، ان کی مرضی کے بنا ہی شادی کرنے لیے آمادہ ہیں۔

    ابھی کل ہی کی بات ہے ، ایک سہیلی کے ریفرنس سے طیبہ سے ملاقات ہوئی، جو کہ آج کل فری لانسر ہے۔ بیس منٹ کی ملاقات میں طیبہ کے مسائل سننا اور اس سے اس کی جنگ میرے لیے اب شاید روز کی بات ہے ۔

    طیبہ، نے اس مختصر سی ملاقات میں کافی کے ساتھ دو سگریٹ سلگائے ۔ اس کی شادی انیس سال کی عمر میں ایک وکیل سے ہوئی تھی، تقریباً پینتیس سالہ، طیبہ کے تین بچےہیں، جن کی کفالت کی وہ اکیلی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ شادی کے آٹھ سال بعد اس نے خلاء لے لی۔ طیبہ کے مطابق، گھریلو ضروریات نہ پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا سابق خاوند مذہبی انتہا پسندی ، شک اور تشدد پسند بھی تھا۔ وہ کہتی یے کہ اسکا شوہر اکثر شہر سے باہر رہتا میں نے سسرال اور میکے والوں کو بہت بار کہا کہ اس کو نفسیات کے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں شاید زندگی میں کچھ بہتری آجائے۔ لیکن! ہم سب اپنا علاج کرنے کی بجائے دوسروں کو پاگل بنانے کو ترجیح دیتےہیں۔ طیبہ کہتی ہے کہ وہ شدید کرب، لاچاری اور ذہنی اذیت سے دوچار ہو کر علحیدہ ہوئی تو اس کے بچوں کو وراثت سے آک کر دیا گیا۔ کئی مہینے ماں باپ کے گھر میں خود کو قید کر لیا۔ اور پھر اپنی ایک کلاس فیلو کے تعاون سے اس نے اپنے آپ سے لڑنا چھوڑا اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    کچھ منٹ ہم سب خاموش رہے ، طیبہ اٹھ کر جا رہی تھی اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ ٹاسک ریلیشن کتنی بڑی اذیت ہیں۔پاکستان میں ناجانے کتنی خواتین روزآنہ ایسے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہوں گی۔ نہ صرف خواتین بلکہ مرد بھی جس دباؤ سے گزرتے ہیں اس کا اظہار ایک ٹیبو ہے۔ جہاں وہ خاموشی سے اپنے مسائل سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔ان سارے سوچوں کے ساتھ میں اپنے ایک جاننے والی پروفیسر کے پاس پہنچی جو کہ آٹھ سال تک ذہنی امراض کے ایک کلینک میں کام کرتی رہیں ہیں اور اب نمس یورنیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں پڑھا رہیں ہیں۔ ڈاکٹر عظمی نے بتایا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ہماری کمیونٹیز کی ذہنیت مریضوں کی صحت کو کس طرح نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ پرانی نسل کی اقدار کو برقرار رکھنے والے والدین ، اکثر اپنے بچوں کے لیے اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ جس سے ان کی اولاد میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ (پاکستانی والدین) اس طرح کی بیماریوں کے بارے میں حساس اور آگاہ بھی ہیں کو نہیں سمجھتے ۔

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    ہم میں سے اکثر والدین پدرانہ نظام کا حصہ رہے ہیں جس میں خواتین کے جذبات بمشکل ہی بحث کا موضوع ہوتے ہیں۔ خواتین کے جذبات، احساسات اکثر معاشرے میں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ خاندان اور رشتے داروں کے نزدیک وہ قابل ذکر نہیں ہوتے، کم عمری میں شادی ، بے جوڑ رشتے اور بعض اوقات لوگوں کے مطابق ایک عمر تک شادی نہ ہونے یا کرنے کی صورت میں خواتین کو اکثر طعنے سننا پڑتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ انھیں مجبوریوں کا واسطہ دے کر ایک اور تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتاہے ۔

    وہ کہہ رہیں تھی کہ صرف ہم نہیں بلکہ سارا ملک ہی ایسے بہت سے کرب میں مبتلا ہے، بے سکونی، نیند نہ آنا، غربت و افلاس، تعلیم اور شعور کی کمی اور مذہبی و معاشرتی جنون ہم سب کے لیے ایک بڑا المیہ ہیں ۔ ہم نفسیاتی کے متعلق بیماریوں کو جاننا یا حل تلاش کرنے کو پاگل پن سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دماغی صحت کا مسئلہ پاکستان باقی رہے گا اگر پاکستانی نوجوان اپنے بزرگوں سے مختلف ذہنیت کو ترجیح دینے میں ڈٹے رہے تو ذہنی بیماریوں کی شناخت نہ صرف آسان ہوجائے گی بلکہ نوجوانوں خاص طور پر خواتین کی پر اعتمادی میں اضافہ ہوگا ۔

    حال ہی میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت یے یہ ان کی تولید صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو ملک میں خواتین کی صحت کی بہترین پر کام کرے گا وہاں زیادہ ترقی ہو گی۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کی سطح دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کا موازنہ ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے مقابلے میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر 38 میں سے ایک عورت حمل سے متعلق وجوہات کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہے جبکہ سری لنکا میں یہ شرح 230 میں سے ایک ہے۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد

    شہر قائد کراچی کی منی بسوں میں فحش ڈانس کی ویڈیوز چلنے لگی

    ماضی کی رپورٹس بھی کچھ ایسا ہی احوال پیش کرتی ہیں۔کراچی کی آغا خان یونیورسٹی/ہسپتال میں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں ایک اور 5 سالہ سروے (1992-1996) یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائیکو تھراپی حاصل کرنے والے 212 مریضوں میں سے 65% خواتین تھیں، جن میں سے 72% شادی شدہ تھیں۔ مشورے کے محرک میاں بیوی اور سسرال والوں کے ساتھ تنازعات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 50% خواتین میں کوئی نفسیاتی تشخیص نہیں تھی اور انہیں ‘پریشان خواتین’ کا لیبل لگایا گیا تھا۔ 28 فیصد خواتین ڈپریشن یا اضطراب کا شکار تھیں، 5-7 فیصد شخصیت یا ایڈجسٹمنٹ کی خرابی تھی اور سترہ فیصد کو دیگر امراض تھے۔

    تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا یے کہ پاکستان میں بیس سے چالیس سال کی عمر زیادہ ذہنی امراض کا شکار ہے۔ گویا پالیسی بنانے والوں کو اس عمر کی خواتین کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا تاکہ ان کی ذہنی اور تولیدی صحت کس کم سے کم متاثر کیا جائے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔

  • اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک کے انتہائی اہم اداروں کے وقار کو روندنے کا خبط ہوس اقتدار اور اقتدار سے چمٹنے کا نشہ کہیں کسی ردالفساد کا منتظر تو نہیں ؟ جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالا دستی ایک خواب بن کر رہ گیا ۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جس میں مہنگائی کا زخم پہلے سے بدن دریدہ عوام پر نہ لگایا جاتا ہو، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ صاف پانی ، گیس ، بجلی اور دوسری بنیادی سہولیات کی محرومی دن بدن شدت پکڑتی جا رہی ہے ۔ لینڈ مافیا سرکاری زمینوں کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹی بنا کر قانون اور قانون بنانے والوں کا مذاق اڑا رہا ہے ۔ سوسائٹیز سے منسلک ادارے کروڑوں روپے کی رشوت لے کر پاکستان برائے فروخت کا بورڈ اپنے دفاتروں پر آویزاں کردیا ہے ۔

    ملکی معیشت کا جنازہ نکال کر عمران خان کس مقصد کے لئے لانگ مارچ کررہے ہیں اگر یہ مارچ نئے انتخابات کے لئے ہیں تو اس سے قبل عمران خان حکومت نے عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کے لیے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ؟ حیرت اس بات پر کہ اس سرکس نما مارچ میں اعلیٰ عسکری اداروں پر زبان درازیاں اور الزامات کی بوچھاڑ نام نہاد راہنمائوں کی اپنی ہی شخصیت کے پول کھول رہی ہے دوسری جانب لانگ مارچ میں جس شرمناک طریقے سے ملک کی مایہ ناز خفیہ ایجنسی کے سربراہان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں۔ بلاشبہ جنرل ندیم انجم ایک اعلیٰ پیشہ وارانہ ریکارڈ کے حامل حقیقی سولجر ہیں اوران کا تعلق شہیدوں ،غازیوں اور نشان حیدر والوں کی سرزمین گوجر خان سے ہے ، گوجر خان تحصیل کے قبرستانوں میں شہداء کی قبروں پر پاکستان کے جھنڈے موجود ہیں اور گوجر خان کو افواج پاکستان کا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ اس خطے نے پاکستان آرمی کو آرمی چیف بھی دئیے ہیں ۔ جن میں جنرل سوار خان ، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جیسے سپہ سالار شامل ہیں۔ جنرل ندیم انجم افواج پاکستان کا فخر ہیں اور گوجر خان کی غیور عوام کو بھی ان پر فخر ہے ۔ ملک کے محب وطن عوام سیاسی سرکس میں ہونے والی بدست تقریروں اور نعرہ بازیوں پر شدید رنجیدہ ہیں اور سنجیدہ حلقے سوچ رہے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کو ملکی سلامتی اور بقا سے زیادہ اقتدار عزیز ہے ؟