Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    وہ پرائمری جماعت کا طالب علم بچہ ہے، اس کی عمر اور جسمانی قوت کے لحاظ سے اس کا بستہ بہت بھاری ہے جو اس کے نازک کندھوں پر نشان ڈال دیتا ہے اور کمر توڑنے والا ہوتا ہے۔ وہ اسے ہانپتے کانپتے اٹھاکر اسکول پہنچتا ہے اور اسی حالت میں اسکول سے گھر لوٹتا ہے۔ یہ بھاری بستہ اس کے لیے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تکلیف دہ ہے۔ اس کی عمر کا اگر کوئی بچہ مزدوری کرتا ہوا نظر آئے تو سب کو بڑا ترس آتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی جاگ اٹھتی ہیں۔ اخباروں میں خبریں بھی لگ جاتی ہیں، عالمی سطح پر اس کے حقوق کی بابت کانفرنسیں بھی منعقد ہوتی ہیں، بچوں کے عالمی دن بھی منائے جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے پوری دنیا اس کے مسائل حل کرنے کے لیے متحرک ہوگئی ہے مگر کسی کو اس کا بستہ چھوٹا اور آسان کرنے کی فکر نہیں ہے۔

    یہ بھی آخر گوشت پوست کا انسان ہے اس کے سینے میں بھی بڑوں کی طرح ایک دھڑکتا دل ہے۔ آخر کب تک اس کے اس مسئلے پر صرف نظر کیا جاتا رہے گا؟ جب کہ طبی ماہرین نے بھی اس کے بھاری بستے کو اس کی عمر سے بڑا وزنی اور اس کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ہسپانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ وزنی اسکول بیگ بچوں میں کمر درد کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مسلسل وزنی بیگ اٹھانے کا عمل ان کی کمر کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اس سے بچنے کے لیے اپنے وزن کے 10 فیصد سے کم وزنی بیگ اٹھانے سے کئی مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔

    اسپین کے طبی ماہرین نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسکول جانے والے بچوں کو اپنے وزن سے 10 فیصد کم اسکول بیگ اٹھانے چاہئیں۔ وہ بچے جو اپنے ذاتی وزن سے 10 فیصد زائد کا اسکول بیگ اٹھاتے ہیں انھیں کمر درد کی تکلیف ہوسکتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے ماہرین نے 1403 طلباء پر تحقیق کی جن میں سے 12 سال سے 17 سال کی عمر کے 11 اسکولوں کے بچوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کے اسکول بیگ کا وزن ان کے اپنے وزن کے 10 فیصد سے زائد تھا ان میںسے 66 فیصد بچے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا پائے گئے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو کمر درد کی زیادہ شکایت تھی۔ پھر بھی کوئی نہیں سنتا۔ تعلیمی میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والے اگر اس کے بستے کو چھوٹا اور آسان نہیں بناسکتے تو پھر اس کے پاس کیا دلیل ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرے گا؟

    یہ جلی کٹی باتیں نہیں ہیں، پرائمری اسکول کا یہ معصوم بچہ تعلیمی پالیسی کا ستایا ہوا ہے۔ روزانہ ذہنی اذیت کا شکار یہ چھوٹا طالب علم روزانہ ان دانشوروں کی جان کو روتا ہے جو اس کی مشکل کو مانتے ہیں مگر حل نہیں کرتے۔ اپنے بستے کے بوجھ تلے دبے ہوئے بچے کی چیخیں واقعی کان دھرنے کے لائق نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس معصوم طالب علم کا بستہ بڑا ہونے میں اس کے لیے نصاب سازی کرنے والوں کی سطحی سوچ اور ذہنی مرعوبیت کا بڑا دخل ہے۔

    دنیا میں بڑے بڑے مسائل کی بابت لوگ گہرائی کے ساتھ سوچتے ہیں اور ان کے حل نکال لیتے ہیں مگر معصوم طالب علم کا بستہ چھوٹا کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی حل نہیں نظر آتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی کاروں، کوٹھیوں اور بنگلوں کو بڑی سرعت کے ساتھ بڑا کرنے والے بستے کو بھی اسی رو میں بہتے ہوئے بڑا کرنے میں مگن ہیں۔ معصوم طالب علم کا بستہ اب تک کتابوں کی غذا کھاکھا کر موٹا ہوتا جارہا ہے غالباً یہ موٹے دماغوں والے کی کارستانی ہے۔

    کسی زمانے میں انگریزی چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی اور چھٹی جماعت کا بچہ قدرے بڑا ہوتا ہے اور بستے کا جسمانی اور ذہنی بوجھ کس قدر آسانی سے اٹھاسکتا ہے۔ پہلے کم ازکم ایک انگریزی کی کتاب اور اس کے ساتھ چار کاپیوں کا بوجھ تھا۔ اب اس معصوم بچے کے بستے میں ایک انگریزی کی کتاب،ایک الفاظ معانی کی کاپی، ایک سبق کے آخر میں موجود مشقوں کے لیے اور ایک انگریزی خوشخطی کے لیے ہے جو کتابوں کے وزن اٹھانے کی بات ہے۔ ایک دفعہ اسکول جاتے ہوئے اور ایک دفعہ واپس آتے ہوئے انھیں اٹھانا پڑتا ہے۔

    اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا کہ پرائمری کے اس معصوم طالب علم کو جتنی محنت اور جتنی توانائی دوسرے تمام مضامین پر خرچ کرنی پڑتی ہے اتنی ہی توانائی انگریزی کے مضمون پر خرچ ہوتی ہے۔ پھر بھی اسے انگریزی نہیں آتی ہے۔ رٹے کی چکی میں پس پس کر اس کا دماغ تھک جاتا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ اس کی سائنس کو بھی اتنا پیچیدہ اور غیر فطری بنادیا گیا ہے کہ معصوم طالب علم اسکول سے بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بستہ ساز اسے پڑھنے نہیں دینا چاہتے۔ اخبارات میں کروڑوں روپے خرچ کرکے مہم چلائی جاتی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کروائیں، مگر اسکول میں ایک غیر ملکی زبان اور غیر فطری سائنسی نصاب کا بوجھ ڈال کر معصوم طالب علم کی تمام دلچسپیوں کو ختم کررہے ہیں ان حالات میں ایک معصوم طالب علم کا اسکول میں کیسے دل لگ سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ بستہ سازوں اور نصاب سازوں نے معصوم طالب علموں سے خاموش جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ملک کے کروڑوں بچوں کو بطور بیگار اس جنگ میں سپاہی کے فرائض انجام دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

    خدارا! معصوم طالب علموں کے ماتھے پر پریشانیوں کی شکنوں میں چھپے ان کے دل کے درد کو محسوس کیا جائے، کیا یہ جبری مشقت نہیں جو ہر روز ان سے لی جاتی ہے؟ کیا یہ ان کا حق نہیں کہ ان کا بستہ ان کی عمر، جسمانی صحت اور ذہنی سطح کے مطابق ہو؟ کیا انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس مسئلے کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کرنا چاہیے؟ یہ وہ جواب طلب معصوم طالب علموں کےسوالات ہیں جن کے جواب تعلیم سازوں کو دینے ہیں۔ قارئین کرام! آپ کا کیاخیال ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ معصوم طالب علم بچوں کی صدا ارباب اختیارات تک بھرپور انداز میں پہنچ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کار نیک کی جزا دینے والا ہے۔

  • بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    اپنی بیٹیوں کو درج ذیل چند باتیں لازمی سکھائیے.

    1_سیڑھی پر اس وقت مت چڑھیں جب آپ کے پیچھے کوئی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زینے پر رک جائیں اور اس کے بعد چڑھیں۔

    2_لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھیں اس کے نکلنے کا انتظار کریں اور بعد میں چڑھیں۔

    3_اپنے چچا، ماموں، خالہ، پھپھو وغیرہ کے بیٹوں سے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ مت کریں۔

    4_اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کے ساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھیں۔

    5_ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیں۔

    6_سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیں۔

    7_جب کوئی ملنے آئے تو اسے توجہ دیں، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جائیں اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی دیں۔

    8_گلی محلہ کے سبھی مرد باپ/بھائی کے سوا اجنبی ہوتے ہیں اس لیے اُن سے بِلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہراساں کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ آپ کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔

    9_جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکیں۔کوشش کریں بیٹھ کر چیز دیکھیں پھر کھڑے ہو جائیں تاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم پیچھے سے بے نقاب/نمایاں نہ ہو۔

    10_ہمیشہ کوشش ہونی چاہیے کہ بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کریں۔

    11_گھر کا دروازہ ہمیشہ پوچھ کر اور گھر کے افراد یا جاننے والوں کی آواز پہچان کر کھولیں۔

    مجھ سمیت سبھی بیٹوں، لڑکوں، مردوں کے لیے بھی یہی سب باتیں اور آداب ضرور کرنے والے ہیں۔

  • انسانوں کے بنائے عناصر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانوں کے بنائے عناصر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جانتے ہیں کہ یورینیم تک تمام عناصر جو پیریاڈیک ٹیبل میں ہیں یہ سب ستاروں میں بنے ہیں اور یہ زمین پر قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں مگر کیا انسان ان سے آگے کے بھاری عناصر بنا سکتے ہیں؟

    اسکا جواب ہے جی۔ سائنسدانوں نے پچھلی ایک صدی میں یورینیم کے بعد 24 مزید ایسے عناصر لیبارٹریوں میں بنائے ہیں جو زمین پر نہیں پائے جاتے۔

    یہ عناصر نیوکلیئر ری ایکٹرز، پارٹیکل ایکسلیریٹر یا ایٹمی دھماکوں کے دوران بنے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا عنصر 1944 میں بنایا گیا جبکہ آخری 2010 میں۔ ان مصنوعی عناصر کی ہاف لائف یعنی وہ مدت جس میں ایک خاص مقدار میں موجود انکے ایٹم ڈیکے ہو کر آدھے رہ جائیں ملی سیکنڈز سے لیکر کروڑوں سالوں تک ہے۔ یہ عناصر موجودہ قدرتی عناصر میں مزید پروٹانز ڈال کر بنائے جاتے ہیں۔

    ان میں سے پہلا مصنوعی عنصر کیورئیم تھا جسکا ایٹامک نمبر 96 ہے یعنی اسکے مرکزے میں 96 پروٹانز ہیں۔ یہ 1944 میں پلوٹونیم کے ایٹموں میں ایلفا پارٹیکلز کے ٹکرانے سے بنائے گئے۔ ایلفا پارٹیکلز الیکٹرانز کے بغیر ہیلئیم کا مرکزہ ہوتے ہیں جس میں دو پروٹان اور دو نیوٹران آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ اس عنصر کے 19 آئسوٹوپس(ریڈیوسٹوپس) ہیں
    ۔
    آئسوٹوپ کسی عنصر کے ایٹم میں پروٹان کی تعداد برابر مگر نیوٹران کی اضافی تعداد کے باعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن کے تین آئسوٹوپ ہیں۔ پہلا ہائیڈروجن کا نارمل ایٹم جسکے مرکزے میں ایک پروٹان ہے جبکہ باقی دو آئسوٹوپس میں بالترتیب ایک پروٹان اور ایک نیوٹران اور ایک پروٹان اور دو نیوٹران پائے جاتے ہیں۔

    کیوریم کے سب سے سٹیبل ریڈیسٹوپ(وہ آئسوٹوب جو تابکار ہوں) کی ہاف لائف ہے تقریباً 1.5 کروڑ سال۔ کیوریم کا استعمال پلوٹونیم کے سب سے سٹیبل ریڈیسٹوپ میں کیا جاتا ہے جو دل کی دھڑکن کو معمول پر رکھنے والے آلے یعنی پیس میکر کو ماضی میں توانائی فراہم کرنے میں استعمال ہوتا رہا ہے مگر اب یہ متروک ہے۔۔اسکے علاوہ خلا کی تسخیر کے لیے بھیجے جانے والے کئی مشنز میں بھی توانائی کے حصول کے لیے پلوٹونیم کا استعمال تھرمو نیوکلئیر جنریوٹٹرز میں ہوتا رہا ہے۔

    2010 میں امریکہ اور روس کے سائنسدانوں نے ملکر ایک نیا عنصر لیبارٹری میں بنایا اسکا ایٹامک نمبر تھا 117 یعنی اسکے مرکزے میں 117 پروٹانز تھے اور اسے نام دیا گیا Tennessine۔ مگر یہ کوئی سٹیبل عنصر نہںں اور اسکے سب سے سٹیبل ریڈیوسٹوپ کی ہاف لائف تھی محض 51 ملی سیکنڈ۔

    اسی طرح اب تک کا سب سے بھاری عنصر جسے لیب میں تیار کیا چکا ہے اسکا نام ہے Oganesson اور یہ 2002 میں بنایا گیا۔ یہ پیرایاڈک ٹیبل کا سب سے آخری عنصر ہے اور اسکی ہاف لائف محض 0.69 ملی سیکنڈ ہے۔

    اب تک کا سب سے مہنگا مصنوعی عنصر ہے کیلوفورنیم۔ اسکا ایٹامک نمبر ہے 98 اور اسکے 100 گرام کی قیمت ہے تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ قدرتی طور پر پایا جانا والا سب سے مہنگا عنصر جسے آپ خرید سکتے ہیں وہ ہے لوٹیٹیم اِسکا ایٹامک نمبر یے 71 اور اسکے سو گرام کی قیمت ہے دس ہزار ڈالر۔ انسانوں نے قدرتی عناصر سے ہٹ کر مصنوعی عناصر تیار کر لیے ہیں اور یہ دوڑ ابھی جاری ہے۔

  • باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں لوگ باقاعدہ موٹیویشن کا مذاق اڑاتے ہیں. وہ سمجھتے ہیں یہ سب کتابی باتیں ہیں. اس سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا. انہوں نے موٹیویشن کو سمجھا ہی نہیں ہے.

    عرصہ ہوا میں نے ایک بار بیگم سے کہا یہ طارق روڈ یہ برانڈز کی دکانیں یہ شاپنگ پلازہ میں بڑے بڑے کرائے پر مہنگی دکانیں لے کر اشیاء بیچنے والے معیاری چیز نہیں دیں گے تو اور کیا دے سکتے ہیں.؟ لیکن اس میں کوئی فن نہیں ہے. چیز دیکھی رنگ پسند کیا اور اٹھالی بھلا اس میں شاپنگ کیا ہوئی.؟ آن لائن چند تصاویر دیکھ کر چیز خرید لینے میں فن کہاں ہے.؟

    بیگم نے کہا پھر کہاں ہے.؟ میں نے کہا اتوار بازار میں جمعہ بازار میں بدھ بازار میں. جہاں دکاندار کے ڈھیر میں اچھی معیاری چیز بھی ہوتی ہے اور سستی غیر معیاری بھی. وہ بھی فنکار ہوتا ہے سستی چیز مہنگی کے ساتھ ملا کر اس صفائی سے بیچتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا. جیسے اچھے سیبوں میں دو دانے داغ والے ملا دیتا ہے.

    اس بازار سے معیاری چیز نکال کر لانا آرٹ ہے کمال ہے. میری موٹیویشن کام کر گئی. اب وہ ہر بازار میں جاتی ایک ایک چیز پر مول تول کرتی. دیکھتی پرکھتی ہیں. اپنے فن کو اس بلندی پر لے گئیں ہیں کہ لنڈے کے ڈھیر میں سے بھی وہ پیس نکال لیتی ہیں کہ بندہ واقعی ششدر رے جائے. میرے نماز والا صافہ انہوں نے صرف تیس روپے میں خریدا اور پچھلے دو سال سے ان کے فن کے اعتراف میں ہم یہی استعمال کر رہے ہیں.

    یہ موٹیویشن ہی ہے جو اب عرصہ گزرا ہم کسی شاپنگ پلازہ یا برانڈ کی دکان میں گھسے ہی نہیں اور بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں موٹیویشن کام نہیں کرتی. البتہ یہ سچ ہے کہ موٹیویشنل سپیکر کمائی بھلے نہ کریں بچت خوب ہو جاتی ہے.

  • فٹبال میں چھپا سنسر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    فٹبال میں چھپا سنسر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    قطر میں ہونے والے فٹبال کے عالمی مقابلے میں استعمال ہونے والی فٹبال گیند "الرحالہ” جو عربی زبان کا لفظ ہے اسکے معنی ہیں سفر کے۔

    اس فٹبال کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ پاکستان میں بنی ہے لیکن دراصل یہ مصر میں بنائی گئی ہے۔ البتہ اسے بنانے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور مشینری پاکستان سے منگوائی گئی۔ یہ دعویٰ کہ یہ فٹبال سو فیصد مصر میں بنائی گئی مصر کی کابینہ اور مصری وزیر اعظم ڈاکٹر مصطفیٰ مدبولی کی طرف سے کیا گیا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ پاکستان پچھلے کئی عالمی مقابلوں کے لئے آفیشل فٹبال تیار کرتا رہا ہے۔

    مصر کی حکومت کی جانب سے یہ بات سامنے آئی کہ فٹبال کھیلوں کی مصنوعات بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ایڈیڈاس کی تیار کردہ ہے جس نے اسے مصری "فارورڈ مصر” کمپنی کی فیکٹری کو گیند بنانے کی منظوری دی اور اس کمپنی کو عالمی مقابلے کے لیے 1500 فٹ بال گیندیں تیار کرنے کا معاہدہ دیا گیا۔

    مگر اس گیند میں کیا خاص بات ہے؟ یہ گیند جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائی گئی ہے جسکا مقصد ہوا میں گیند کی اُڑان کو بہتر بنانا اور ساتھ ہی ساتھ گیند میں ایک سنسر کا استعمال ہے۔ یہ سنسر ایک انرشئیل موشن سنسر ہے جو گیند پر لگنے والی بیرونی قوت کو ماپتا ہے اسکے علاوہ یہ پورے کھیل کے دوران گیند کی رفتار، اسکی پوزیشن کو بھی ریکارڈ کرتا ہے۔ اس طرح کے سنسر نیوگیشن سسٹم یا بڑے بحری جہازوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں جو اُڑان جا سفر کے دوران اِنکی جگہ، سمت اور ان پر پڑنے والی قوت سے آگاہ کرتے ہیں۔ ایک بڑا بحری جہاز کیسے یہ جان پاتا ہے کہ وہ اپنے ماس کے مرکز پر پانی میں تیر رہا ہے یا کیا وہ جھکا ہوا ہے، ٹیڑھا یے یا سیدھا ہے وغیرہ وغیرہ، اسی پرح کے انرشیل سنسرز کی بدولت۔

    اسی سنسر کی بدولت پچھکے ہفتے پرتگال اور یوراگوئے کے درمیان میں میچ کے ایک گول کا فیصلہ ہوا۔ بظاہر فٹبال پرتگال اور دنیائے فٹ بال نے صفِ اول کے کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کے سر سے ٹکرا کر گول پوسٹ میں گئی مگر فیدا آفیشلز نے فٹبال میں لگے سینسر کی بدولت یہ جانا کہ گیند رونالڈو کے سر سے نہیں ٹکرائی۔ اسی وجہ سے ورلڈکپ کا یہ گول رونالڈو کے حصے میں نہ آ سکا۔

  • سورج سے قریب مگر سردی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سورج سے قریب مگر سردی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کا سورج کے گرد مدار گول نہیں بلکہ بیضوی ہے۔ یعنی سال میں زمین کا سورج کے گرد فاصلہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کبھی کم تو کبھی زیادہ۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زمین جب سورج کے قریب ہوتی ہے تو گرمیاں آتی ہیں۔ مگر یہ بات بالکل غلط ہے۔ 3 جنوری کو زمین سورج کے سب سے قریب ہوتی ہے مگر آپ رضائی میں ٹھنڈ سے دبکے مونگ پھلیاں اور دیگر خشک میوہ جات رگڑ رہے ہوتے ہیں۔ مگر ایسا کیوں؟ کہ جنوری میں زمین سورج کے سب سے قریب ہوتی ہے جسے عرفِ عام میں ایک مشکل سا نام دیا جاتا ہے Perihelion اور آپ رضائی میں سر گھسائے سردی کو کوس رہے ہوتے ہیں جبکہ 4 جولائی کو جب زمین سورج سے باقی سال کی نسبت سب سے دور ہوتی ہے جسے Apehlion کہتے ہیں تو آپ اے سی کے سامنے بیٹھے ٹھنڈا پانی پی رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں؟

    پہلی بات یہ جان لیں کہ زمین کے دو کرے ہیں۔ شمالی کرہ اور جنوبی کرہ۔ ان دو کروں کو زمین کے درمیان سے گزرتی ایک فرضی لکیر سے تقسیم کیا جاتا ہے جسے خطِ استوا یا ایکوئیٹر کہتے ہیں۔ مملکتِ خداداد یعنی پاک لوگوں کا ملک پاکستان اتفاق سے زمین کے شمالی کُرے پر واقع ہے۔ جب زمین کے شمالی کُرے پر جون میں سخت گرمیاں پڑ رہی ہوتی ہیں تو زمین کے جنوبی کُرے پر واقع ممالک جیسے کہ آسٹریلیا ، برازیل، چِلی وغیرہ میں سردیاں اور برف باری ہو رہی ہوتی ہے اور جب پاکستان اور شمالی کرے پر موجود دیگر ممالک میں لوگ دسمبر میں سردی سے کانپ رہے ہوتے ہیں تو جنوبی کُرے پر واقع ممالک یعنی آسٹریلیا ، برازیل, جنوبی افریقہ وغیرہ میں لوگ ساحلِ سمندر پر فحاشی اور عریانی کی مثالیں بنے ٹی شرٹ یا چڈیوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض تو محض سلیمانی لباس میں۔

    گویا زمین پر موسم ہر جگہ، ہر وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ شمالی کُرے پر گرمیاں ہونگی تو جنوبی کُرے پر سردیاں ۔ البتہ خط ِ استوا پر واقع ممالک میں سارا سال موسم تقریباً ایک سا رہتا ہے جیسے کہ ایکواڈور ، کینیا وغیرہ۔

    دراصل زمین پر سردیوں، گرمیوں، بہار، خزاں جیسے موسموں کا تعلق زمین کا سورج سے فاصلے پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ زمین کے کس حصے پر سورج کی روشنی کتنی زیادہ پڑتی ہے۔ زمین اپنے محور پر 23.5 ڈگری تک جھکی ہوئی ہے۔ جسکی وجہ سے زمین کے شمالی کرے پر جنوری سے مارچ تک جھکاؤ کم ہوتا ہے جسکے باعث ان مہینوں میں یہاں سورج کی روشنی کم مدت تک پڑتی ہے تبھی سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں جبکہ اسکے بعد متواتر زمین کا جھکاؤ سورج کی طرف بڑھتا جاتا ہے اور موسم مئی جون تک گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے جبکہ دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتی جاتی ہیں۔

    چونکہ زمین کروی ہے تو اسکا ایک کُرہ جب سورج کی طرف زیادہ جھکا ہوتا ہے تو دوسرا کرہ کم۔ لہذا شمالی اور جنوبی کروں پر موسموں کی ترتیب اُلٹ ہوتی ہے۔ زمین پر درجہ حرارت دراصل زمین کی فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسوں کی سورج کی روشنی کو جذب کرنے پر منحصر ہے نہ کہ زمین سے سورج کے فاصلے پر۔ جس قدر زیادہ وقت سورج زمین کے کسی حصے تک روشنی ڈالے گا یعنی جس قدر زیادہ زمین کے کسی حصے کا جھکاؤ سورج کی طرف ہو گا اس قدر زیادہ وقت فضا میں موجود گیسیں سورج کی روشنی کو جذب کریں گی اور زمین کو گرم رکھیں گی۔

    پاکستان میں آ جکل سردیاں چل رہی ہیں جبکہ سورج میاں اس وقت زمین کے سب سے قریب ہیں۔ ویسے سردیوں سے یاد آیا فی زمانہ سچے دوست کی نشانی یہ ہے کہ جب آپ سردیوں میں اُسکے گھر جائیں تو وہ آپکی تواضع چلغوزوں سے بھری ٹرے سے کرے۔

  • بہارستان — عمر یوسف

    بہارستان — عمر یوسف

    خاندان کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ انسان معاشرتی حیوان ہے اور لوگوں کے بغیر اس کا کامیاب زندگی بسر کرنا ناممکن ہے ۔ اگر وہ بہت کچھ حاصل کر بھی لے تو روحانی اطمینان اس سے کوسوں دور رہتا ہے ۔ فیملی کے اندر انسان احساس تحفظ سے لبریز زندگی گزارتا ہے ۔ بچے اکثر اداسی محسوس کرتے ہیں انہیں عدم تحفظ کا شدید احساس ہوتا ہے جو ان کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالتا ہے ۔

    لیکن جو بچہ ایسی فیملی میں زندگی بسر کرتا ہے جہاں ماں باپ ، دادا دادی ، چچاوں کا پیار نصیب ہو وہاں وہ شاہانہ انداز سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ زندگی میں انسان کو بعض دفعہ حقیقی مسائل سے سامنا پڑتا ہے کبھی وہ خیالی مسائل ہی ذہن میں جنم دے لیتا ہے ۔

    دونوں صورتوں میں ایک خاندان کے اندر زندگی بسر کرنے والا شدید ذہنی پریشانی سے محفوظ رہتا ہے ۔ اگر اس کو حقیقی مسائل ہوں تو خاندان کے افراد اس کو سہارا دیتے ہیں لیکن اگر نفسانی واہمے پریشان کریں تو وہ خود کو تسلی دے لیتا ہے کہ میں خاندان میں زندگی بسر کرتا ہوں میرا سہارا بننے والے موجود ہیں ۔

    یہی وجہ ہے کہ اگر حقیقی خوشیوں بھری زندگی جینا ہے تو خاندان ازحد ضروری ہے وگرنہ تو انسان زندگی کو مجبورا گزار کر ہی عدم کا راہی بن جاتا ہے ۔

    خاندان کے بغیر زندگی کو اجاڑ زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جبکہ خاندان کے ساتھ زندگی کو بہارستان کے ساتھ تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔

  • سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی
    پوری قوم بند گلی میں کھڑی ہے۔ اس وقت قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ خطے کی تازہ ترین صورت حال کو بھی مدنظر رکھیں بالخصوص افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے اثرات اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ عمران خان بھی اقتدار میں ہے اور پی ڈی ایم بھی اقتدار میں ہے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں کوسوں دور ہیں ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایسے ایسے ناٹک اور عوام کو ایسے ایسے موضوعات میں الجھا رکھا ہے کہ خدا کی پناہ، مثلاً پہلے آرمی چیف کی تعیناتی کو لے کر قوم کو بحث پر لگا دیا یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید انسانی تاریخ میں پہلی بار کسی ملک میں آرمی چیف کا تقرر ہونے جا رہا ہے۔ اب کہیں سے تحریک عدم اعتماد کہیں سے گورنر راج۔ کہیں سے اسمبلی توڑنے کی باتیں کہیں سے قومی انتخابات کی باتیں کی جا رہی ہیں تاہم عوام کی تقدیر اور نصیب کے دامن کسی فقیر کے کاسہ گدائی کی طرح خالی کے خالی ہی رہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کا خیال کون کرے گا؟ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

    خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بالخصوص افغانستان اور ملک و قوم کے مفاد میں سیاسی انتشار جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا اس وقت جماعت اسلامی اپنا کردار ادا کرے اور سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ بلاشبہ جماعت اسلامی ایک بڑی اور مقتدر پارٹی ہے جس کی شرافت اور اصول و ضوابط کے قائل ان کے بدترین دشمن بھی رہے ہیں مولانا مودودی مرحوم کی تحریر و تقدیر جماعت کے تمام ساتھیوں اور رفقاء کے سینوں میں پیوست ہے۔ بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار میں جماعت اسلامی کے امیر اپنا کردار ادا کریں ملک میں سیاسی عدم استحکام کو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی جان کی دشمن بن چکی ہیں۔ ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ہیں سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی ہے سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں

  • فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    دیہات کے وہ لوگ جنہوں نے مویشی پالے ہوں جانتے ہیں کہ کسی کٹے کی گردن میں پڑی رسی پکڑ کر اسے سنبھالنا کتنا مشکل ہے بنسبت ایک بھینس کے. بھینس کی رسی پکڑ لیں وہ آپ کے پیچھے آرام سے چل دے گی. لیکن کٹا آپ کو کھینچنے لگے گا. کیونکہ ابھی کٹے نے رسی سے سمجھوتہ نہیں کیا ہوتا.

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے ہاتھ سے آپکا قیمتی موبائل پھسل جاتا ہے لیکن گرنے سے پہلے آخری لمحے میں آپ کیچ کر لیتے ہیں. آپ سوچیں ہاتھ سے نکلنے کا دکھ زیادہ ہے یا کیچ کرنے کی خوشی.؟ آپکا دماغ فوراً بتائے گا کیچ کرنے کی خوشی زیادہ ہے. کیا اس خوشی کیلئے اب موبائل کو آپ کرکٹ کی بال بنا لیں گے.؟

    ہمارے بازار انسانی نفسیات سے کھیلتے ہیں. جیسے سود اور قرض قسطوں پر چیزیں بیچنے والے ہوں. یہ اپنا اشتہار ان الفاظ سے شروع کریں گے” ابھی پائیں” اور پھر آسان اقساط میں واپسی کریں وغیرہ. اس وقت ہمارے نفس کی مثال اس کٹے کی طرح ہو جاتی ہے جو رسی کمزور دیکھ کر سمجھتا ہے میں اس رسی پکڑنے والے کو کھینچ لوں گا.

    فوری تسکین یا instant gratification ہماری نفسیات کا حصہ ہے. ہمارا دماغ جب کچھ کیچ کرلے تو وہ یہ سوچنا نہیں چاہتا کہ گرا بھی تو مجھ سے تھا. آخر میں اتنا غائب دماغ کیوں ہوا.؟ لیکن کیچ اسے اپنا کارنامہ لگتا ہے. ان قرضوں کے جال میں وہی لوگ پھنستے ہیں جو فوراً کوئی کارنامہ کرنا چاہتے ہوں. لوگ ان کی واہ واہ کریں. بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی.

    لیکن کچھ عرصہ بعد وہ قرض ان کی گردن کی وہ رسی بن جاتی ہے جس سے وہ سمجھوتہ کر چکے ہوتے ہیں. پھر سود خور ان کا دودھ بیچ رہے ہوتے ہیں. اور یہ اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں.

  • سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    ایڈولف سیکس انیسویں صدی کی شروعات میں بیلجیئم میں پیدا ہوا تھا. ایڈولف ایک عجیب قسمت لے کر آیا تھا. حادثے اسکا پیچھا کرتے تھے. مثلاً جب وہ دو سال کا تھا تو اپنی بلڈنگ کی دوسری منزل کی کھڑکی سے گر گیا تھا. اسکا سر پھٹ گیا لیکن زندگی بچ گئی.

    چھ سال کا ہوا تو تیزاب پی لیا تھا. بمشکل زندگی بچائی گئی. 9 سال کا ہوا تو سیڑھیوں پر پھسل کر ایسا گرا کہ قلابازیاں کھاتے نیچے پہنچ گیا. بدقسمتی یہ ہوئی کہ نیچے ایک جلتے ہوئے چولہے پر گر گیا. 11 سال کی عمر میں اسے خسرہ ہوا. اتنا شدید خسرہ تھا کہ صاحب 9 دن کوما میں رہے.

    یہی نہیں 14 سال کی عمر میں بازو تڑوا دیا 19 سال کی عمر میں ایک عمارت کے اوپر سے گری اینٹ نے اسکا سر ڈھونڈ لیا. 23 سال کی عمر میں زہریلی شراب پی لی تھی لیکن بال بال بچ گیا. البتہ ایڈولف سیکس جب 29 سال کا ہوا تو اس نے سیکسو فون ایجاد کر لیا.

    قسمت اور زندگی سب اپنی اپنی لکھوا کر لائے ہوتے ہیں. بد قسمتی اگر گزر جائے اور زندگی خود کو بچا لے تو بندے کو آگے چل دینا چاہئے. ایک حادثہ ایک واقعہ پکڑ کر بیٹھ جانے والے پھر زندگی سے انصاف نہیں کر پاتے. آج جب کسی سٹیج پر یا کسی فوجی بینڈ میں کسی فنکار کو لہک لہک کر سیکسو فون بجاتے آپ دیکھیں تو ایڈولف سیکس کو یاد کر کے سوچیں کیا آپ اس سے بھی زیادہ بد قسمت ہیں.؟ وہ تو آج بھی لہک لہک کر گا رہا ہے.