Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی )پاکستان کی سلامتی کے اداروں کے بارے میں چہ مگوئیوں سے بلند و بانگ پیشگوئیوں سے خدارا اجتناب برتنا اشد ضروری ہے۔ کسی بھی جماعت سیاستدانوں ،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوبرز کو ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں اعلیٰ فوجی قیادت کے بارے میں قیاس آرائیوں اور پیشگوئیوں پر سے پرہیز کرنا چاہئے اور پیمرا کو ملک کی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طرز صحافت پر یکسر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس سٹاف کمیٹی کا تقرر پاکستان کے وسیع تر مفاد اور دوررس پالیسیوں کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے جس پر قیاس آرائیوں اور ذاتی پسند نا پسند سیاسی وابستگیوں اور تجزیاتی پوائنٹ سکورنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔

    میرا پٹواری میرا اے سی میرا ڈی سی میرا ایس ایچ او کا راگ الاپنے والے نام نہاد رہنمائوں ۔نام نہاد صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسی حساس تقرریوں پر بیان بازیوں اور زبان درازیوں کے ذریعے ملکی سلامتی کو تماشہ بنائیں۔مقتدر اور فیصلہ ساز اداروں کو چاہیے کہ ایسی اوچھی حرکات اور خلاف ورزی کے مرتکب ٹی وی چینل اور شخصیات کو قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ آئندہ کسی کو ملکی سلامتی اور قومی ساکھ کے ساتھ کھیلنے کی کسی کو جرآت نہ ہو۔

    مزید برآں وال سٹریٹ جرنل میں آشکار کیے گئے خدشات پر اعلیٰ سطح تحقیقات کا آغاز ہونا چاہئے تا کہ ملکی سلامتی کے اداروں کے وقار کو مجروح کرنے کی جرآت کسی کو نہ ہو۔

  • پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    حملے کے بعد کیوں عمران خان کسی بھی انکوائری کمیٹی کو اپنے الزامات کے ثبوت نہیں دینا چاہتے؟

    عمران خان کیوں میڈیکو لیگل رپورٹ بنوانے سے کترا رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو گولیوں کے ٹکڑے لگے ہیں تو پہلے 4 گولیوں کا جھوٹ کیوں بولا گیا؟

    عمران خان جن پر الزام لگا رہے ہیں انہیں استعفے کا کہہ رہے ہیں۔ اپنے دور حکومت میں خود پر لگنے والے الزامات پر کیوں استعفیٰ نہیں دیتے تھے؟

    اپنے دور حکومت میں سڑکیں بلاک کرنے والوں کے خلاف تقریریں کرتے تھے تو اب لوگوں کو کیوں اسی بات کی ترغیب دے رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو 24 ستمبر سے ہی پتہ تھا کہ ان پر حملہ ہونا ہے تو کیوں انہوں نے اپنی اور سپورٹرز کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں؟

    عمران خان نے DW کو انٹرویو میں اقرار کیا کہ ان کے پاس circumstantial evidence ہے۔ کیا صرف ایسے ثبوت سے وہ الزام پر الزام دھر رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کی مرضی کی بنی انکوائری کمیٹی نے بھی الزامات کو غلط قرار دے دیا تو کیا عمران خان جلاؤ گھیراؤ کی سیاست ترک کریں گے؟

    عمران خان کیوں فوج سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ نیوٹرل ہونے کی بجائے وہ انہیں دوبارہ حکومت کی کرسی پر بٹھائے؟

    کیا پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ نافذ ہے؟ اگر نہیں تو عمران خان سے معمولی اختلاف کرنے والے کو پارٹی سے کیوں نکال دیا جاتا ہے؟

    کیا عمران خان کو اپنی پارٹی میں صرف "یس مین” چاہئیں؟ اگر نہیں تو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی پارٹی کارکن کی رکنیت کیوں منسوخ کی جا رہی ہوتی ہے؟

    کیا پی ٹی آئی میں کسی کو اتنا بھی حق نہیں کہ عمران خان کی بات سے اختلاف کرے یا مختلف نقطہ نظر پیش کرے؟

    کیا پی ٹی آئی اختلاف رائے رکھنے والے ممبران کی ممبرشپ منسوخ کر کے جمہوری اقتدار کے برعکس عمل پیرا ہے؟

  • مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر یورپ کے آرٹ میں کئی جدید فنی تحریکوں نے جنم لیا جن میں سب سے دلچسپ سرئیلیزم تھی۔ آپ اگر پیرس جائیں تو وہاں ایک پورا میوزیم محض جدید آرٹ کی تحریکوں کی پینٹنگز کے لیے مختص ہے۔ اسے میوزیم آف ماڈرن آرٹس کہتے ہیں اور یہ ایفل ٹاور اور دریائے سین کے کنارے پر ہے۔ اسکے علاوہ جدید آرٹ کے حوالے سے ایک اور میوزیم "اورسے میوزیم” ہے جہاں یورپ میں چودہویں سے سترویں صدی تک نشاطِ ثانیہ کی تحریک کے دوران جنم لینے والے جدید آرٹ کے نمونے موجود ہیں۔

    ان دونوں میوزیمز میں آپکو انیسویں کے سرئیلیزم کے نامور فنکاروں جیسے کہ سلوادور دالی, پابلو پِکاسو، اندرے بریطون وغیرہ کے فن پارے ملیں گے۔ سرئیلیزم دراصل انسانی تخیل اور انسان کے لاشعور میں بسے خیالات کو کینوس پر اُتارنے کا نام ہے۔ خواب میں ہم جو عجیب و غریب قسم کی تشبیہات دیکھتے ہیں اسے کیسے لاشعور سے شعور میں لایا جائے اور دکھایا جائے۔

    مثال کے طور پر دالی کی مشہور پینٹنگ "Persistence of Memory” یا "یاداشت کی استقامت” میں گھڑیوں کو پگھلتا دکھایا گیا جس سے لوگوں نے سمجھا کہ یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی نمائندگی ہے جس میں وقت کا بہاؤ تبدیل ہوتا ہے مگر دالی صاحب نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ پینٹنگ سورج میں پگھلتے پنیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ مگر اس میں وقت کا بہاؤ دراصل گھڑیوں کے پگھلنے کی صورت انسانی لاشعور سے شعور میں آیا۔

    بالکل ایسے ہیں ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان کو ایک عظیم فنکار ملا جسکا نام تھا صادقین۔ صادقین کا کام بے حد خوبصورت ہے۔ لاہور میوزیم جائیں یا تربیلہ ڈیم یا سٹیٹ بینک کراچی وہاں آپکو صادقین کا کام چھتوں پر، پینٹینگز میں, لکڑی کے کام میں دکھے گا۔صادقین ایک بڑی حد تک پاکستان میں سرئیلزم تحریک کے پیشوا تھے مگر اُنکا کام اس میڈیم کے ذریعے آفاقی تصورات کو جس میں فلکیات، انسانی جستجو اور کائناتی رموز، اور لاشعور کے خیالات کو ایک شکل دینا تھی۔ انکے اس کام پر مبنی ایک کتاب ہے : Sadquine: The” Holy Sinner ” جسکا ٹائٹل جرمنی کے نوبل انعام یافتہ مصنف تھامس مان کے اسی نام کے ناول سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اّنکے سرئیلیزم آرٹ جس میں کچھ کام اُنہوں نے غالب اور اقبال کی شعروں سے متاثر ہو کر کیا، موجود ہے۔

    زیرِ نظر تصویر میں صادقین کے اس کام کی دو جھلکیاں ایک علم کی جستجو کے حوالے سے اور دوسری افلاک اور انسان کے موضوع پر۔

    صادقین نے برصغیر کے آرٹ میں میں حروفیہ تحریک کا آغاز کیا جس میں عربی خطاطی کو ایک نئے روپ سے پیش کیا گیا۔ برِ صغیر میں اگر آرٹ میں اصل سوچ رکھنے والوں کا نام لیا جائے تو صادقین بلاشبہ سرِ فہرست ہونگے۔

    صادقین (1923 تا 1987)

  • شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر 23 سے 26 سال کی عمر ہے۔ اس میں انسان کو شادی ضرور کر لینی چاہیے۔ فیملی سٹارٹ کرنے سے لیکر پارٹنر سے ذہنی ہم آہنگی تک، ہر کام کے لئے یہ لائف پیریڈ بہت اہم ہے۔ اور ہو سکے تو انسان کو اپنے پارٹنر کے بارے میں 20 سال کی عمر تک کلئیر ہونا چاہیے یا کم از کم اس کے جیسے انسانوں کی خصوصیات کا علم ہونا چاہیے کہ اس کو کیسا پارٹنر چاہیے۔ تاکہ وہ ایک ذہنی کوفت سے آزاد رہ کر باقی سرگرمیوں پہ زیادہ سے زیادہ انرجی صرف کرسکے۔

    ماڈرنزم ایک طرف، فیمنزم ایک طرف، انسان کا جو بائیولوجیکل وجود ہے وہ ایک پارٹنر مانگتا ہے اور بہت شدت سے مانگتا ہے۔ انسان جتنا مرضی اس بات کی مخالفت کرتا نظر آئے کہ انسان کو شادی نہیں کرنی چاہیے فلاں کام کرنا چاہیے لیکن جب اس کو پیار ہو جاتا ہے یا اس کا جسم بغاوت کرتا ہے تو شادی ایک مجبوری امر بن جاتی ہے۔ سو یہ ایک ایسا جسمانی رد عمل ہے جس سے فرار نا ممکن ہے۔

    رہی بات بائیولوجی کی، تو بائیولوجیکلی ایک انسانی عورت 30 کے بعد اگر ماں بننے کی طرف جاتی ہے تو یہ آنے والے بچوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ سو ارتقاء نے ہمارے جسموں کو اس سختی سے ڈیزائن کیا ہے کہ ہماری مادائیں 30 کے بعد "شادی” کی طرف جائیں تو یہ نا صرف انکے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی نقصاندہ ہے۔

    ماڈرنزم ہماری زندگیوں کو کافی بدل چکی ہے اس میں خصوصاً لڑکیوں کو 20-30 سال کی عمر کے دوران اتنی ڈیٹنگ آپشن مل جاتی ہیں کہ وہ ایک مستقل پارٹنر رکھنا فضول سمجھنے لگ جاتی ہیں مگر جونہی انکی عمر ایک خاص لمٹ کراس کرتی ہے تو کوئی ان کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ یہی حساب لڑکوں کا ہے کہ کیرئر کی دوڑ میں وہ اس اہم کام کو بھلا بیٹھتے ہیں اور ظاہر ہے ہر لڑکا ویل سیٹل نہیں ہو پاتا تو وہ بھی تنہا رہ جاتا ہے۔

    بظاہر 35 سال تک تو انسان کو لگتا ہے کہ وہ بہت سے لوگ رکھتا ہے مگر جب سب کی فیملیز شروع ہو جاتی ہیں تو وہ تنہائی محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے اور آخر میں وہ مکمل طور پہ ایموشنل تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ایموشنل تنہائی بہت خطرناک چیز ہوتی ہے۔ آپ اکثر ان لوگوں کو دیکھیں جو شادی کئے بغیر رہ رہے ہیں پھر انکی زندگی اور روٹین دیکھیں تو آپ کو ایک جھرجھری ضرور آئے گی۔

    ہمارے معاشرے میں اس چیز کو ڈسکس کرنا ٹابو سمجھا جاتا ہے مگر یہ باتیں حقیقت کے قریب ہیں ۔ آپ معاشی طور پہ جتنا مرضی آزاد ہو جائیں آپ کو ایک ایموشنل بانڈ کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ 30 تک یہ بانڈ شوہر یا بیوی دے سکتی ہے اور پھر بچے آپ کی اس نفسیاتی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔

    امیجن کریں کہ آپ 70 سال کی عمر میں بستر مرگ پہ ہوں اور آپ سے جدا ہونے کے غم میں تیس چالیس پوتے پوتیاں نم آنکھیں لئے کھڑے ہوں یہ آپ کی زندگی کی ایک بڑی کامیابی ہے بجائے اس کے کہ آپ کی وفات کا ماسوائے آپکے بہن بھائیوں کے کسی کو بھی خاص غم نا ہو بلکہ ان کو بھی اندر سے آپکی ذمہ داری ختم ہونے کی خوشی ہوگی۔

  • سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    عمران خان پر قاتلانہ حملے نے دنیا بھر کے میڈیا کو اپنا رُخ پاکستان کی طرف موڑنے پر مجبورکردیا۔ ملکی سیاست میں انتشار مزید گہرا ہو رہا ہے۔پاکستان مخالف قوتیں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں جشن کا سماں ہے۔ تاہم سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مستقبل اور اقتدار میں رہنے کی جنگ میں مصروف ہیں اس وقت ملک کہاں کھڑاہے.

    عوام کس حال میں ہیں اس سے بے خبر سیاستدان ایک ایسی جنگ میں مصروف ہیں جس کا عوام سے کوئی واسطہ نہیں پنجاب میں گورنر راج لگے یا عمران خان کو گرفتار کرنے پر پاکستان کو کن مشکلات کا سامنا کرناپڑے گا اگر عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے توخیبر پختونخوا میں حالات خراب تر ہو سکتے ہیں پاک افغان سرحد اور پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت انتشار مزید پھیلانے میں اپنا کردارادا کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔

    ملکی سلامتی اور بقا کے لئے سیاسی جماعتیں ضد ،انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کریں حکومت اور عمران خان اس ملک اور عوام کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اپنے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف ، پیپلزپارٹی میں موجود سنجیدہ سیاستدان ، مسلم لیگ (ن) کے سنجیدہ سیاستدانوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں جومذاکرات کرے اورملک کو مزید انتشار کی سیاست سے بچانے میں کردارادا کرے۔ ملک کے وقاراور سلامتی کی خاطر یہی ایک راستہ ہے سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور ہٹلر کا راستہ ہے۔

    قوم تقسیم ہو رہی ہے ۔ چوراہوں جلسے ،جلوسوں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے خدا کی پناہ۔ اس ملک کی خاطر ضد، ہٹ دھرمی کو دفن کریں ۔ دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیا اس سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

    اس وطن عزیز کی خاطر اور اس عام آدمی کی خاطر جس کو دنیائے سیاست میںکیا تبدیلی ہو رہی ہے ۔ بے خبر ہو کر اپنی مشکلات سے لڑرہا ہے۔عام آدمی سبزی ، دالیں ،گوشت، بجلی ،گیس ،آٹے کی خرید سے جنگ لڑ کر ہار رہا ہے اور ہار چکا ہے عام آدمی کا سیاستدانوں پر اعتماد اٹھ رہا ہے عام آدمی بیزار ہے اس کا اعتماد بحال کرنے میں سیاستدان کردار ادا کریں اگر اس کا اعتماد بحال نہ ہوا تو ذرا سوچئے کیا ہو گا؟

  • فوٹوشاپ بڑے بڑے قد کے ڈھانچے!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    فوٹوشاپ بڑے بڑے قد کے ڈھانچے!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    انٹرنیٹ پر جابجا موجودہ انسانوں سے کئی گنا بڑے انسانی ڈھانچوں کی فوٹوشاپ اور فیک تصاویر ہیں جنکا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔۔پرانے زمانے میں انسانوں کی اوسط قد موجود انسانوں سے کم تھی۔ انسانی قد میں اوسط اضافہ جدید سائنسی طریقوں سے خوراک کی کاشت اور حصول کے ذریعے ممکن ہوا۔فی زمانہ خوراک کی فراوانی سے انسانی نشونما میں اضافہ ہوا۔

    آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اوسط مرد کی قد دنیا کے پسماندہ ممالک سے زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر ڈنمارک میں اوسط مرد کی قد 1.82 میٹر ہے جبکہ پاکستان میں اوسط مرد کی قد 1.67 میٹر ہے۔
    مشرقِ وسطیٰ کے ممالک جیسے کہ عراق، مصر، سعودی عرب وغیرہ میں اوسط قد 1.73 میٹر کے قریب ہے۔

    تاریخ میں انسانی قد میں اضافہ انیسویں اور بیسویں صدی میں صنعتی ترقی کے بعد ممکن ہوا جب کاشتکاری کے بہتر طریقے متعارف ہوئے، صنعتی طور پر کھاد بننا شروع ہوئی اور جینیاتی چناؤ کے باعث فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا۔

    کھدائی سے ملنے والے انسانی ڈھانچوں، ہڈیوں اور فوسلز سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرق وسطی میں آج سے دس ہزار سال پہلے یعنی آٹھویں صدی قبلِ۔مسیح سے لیکر اٹھارویں اور انیسویں صدی تک انسانوں کی اوسط قد 1.65 میٹر سے بھی کم تھی۔

    اندازہ کیجئے ایک شخص 30 میٹر کی قد کا ہو؟ اب تک کا ملنے والا سب سے بڑا ڈائناسور Sauroposeidon قسم کہلاتا ہے جو لگ بھگ 18 میٹر قد کے تھے۔ تو اگر ڈائناسورز کی قد سے دوگنے قد یعنی 30 میٹر کے انسان ہوں اور دو ٹانگوں پر چلتے ہوں تو اُنکی ہڈیاں کیا لوہے کی ہونگی کہ اتنا وزن اُٹھا سکیں اور اگر بالفرض وہ نیچے گرتے تو گویا 10 منزلہ عمارت جتنی اونچائی سے نیچے زمین پر اُنکا سر ٹکراتا تو کھوپڑی نہ اُڑ جاتی؟ یا اُنکی ہڈیاں اتنی مضبوط تھیں کہ کچھ نہ ہوتا کیونکہ وہ دودھ پیتے ہونگے اُن بھینسوں کا جو شاید اُن سے بھی بڑی ہوں؟

    لہذا ایسی فوٹوشاپ تصاویر بنا کر لگانے والے جانے کیا خدمت انجام دیتے ہیں؟ اگر آپ نے قدیم انسانوں اور انسانی تاریخ کے متعلق جاننا ہے تو مستند سائنسی جرائد میں ہزاروں مقالے موجود ہیں۔ آئے روز نئی سے نئی تحقیق ہو رہی ہے جسکے نتائج انٹرنیٹ پر عام پڑے ہیں۔ جائیں جا کر خود تردد کریں اور جانیں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔

    آج کے دور میں غلط خبروں اور غلط باتوں کو بنا تحقیق کے سچ سمجھنا ایک معمول کی بات ہے جو بے حد خطرناک ہے۔ اس سے اصل علم کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور ذہن جمود کا شکار رہتے ہیں۔۔اس روش کو بدلیں۔ سنجیدہ ہو کر سائنس سیکھیں۔

  • اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اور اس کا نعم البدل کچھ بھی نہیں، اسی لئے ارشاد ہوا، مفہوم

    "جس نے ایک انسان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا ”

    آپ بےشک خود کو ناکارہ اور دھرتی کا بوجھ سمجھیں لیکن کچھ لوگوں کے جینے کی وجہ صرف آپ ہیں اور ان کی زندگی میں رنگینی آپ کے دم سے ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ جیسے ہیرے کی قدروقیمت اور پہچان جوہری کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ایسے ہی آپ کی قدروقیمت صرف آپ کے گھر والے جانتے ہیں اس لئے آپ کا بھی فرض ہے کہ جب بھی آپ کوئی فیصلہ کریں تو یہ ضرور سوچیں کہ کہیں اس کے اثرات سے میرے گھر والے متاثر نہ ہوں ۔

    پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاست میں رواداری ختم ہو کر تشدد کا عنصر شامل ہو گیا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں آپ کو بروقت انصاف نہ ملے یا آپ کو واضح محسوس ہو کہ انصاف کرنے والا اپنے بجائے کسی اور کے احکامات پر فیصلے کر رہا ہے تو پھر فیصلے بھی سڑکوں پر ہی ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں احتجاج کرنے والوں کو مذاکرات کے بجائے طاقت سے روکا جاتا ہے جس کے ردعمل میں بھی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پرامن مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔

    مرحوم قاضی حسین احمد کی پہچان ” دھرنا ” اور ان کا مشہور نعرہ "ظالموں قاضی آ رہا ہے ” تھا موجودہ وقت میں سیاست دان چین سے متاثر ہیں اس وجہ سے اپنی سوچ کو وہ انقلاب سمجھتے ہیں اور انقلاب لانے کے لئے وہ ” ماؤزے تنگ ” کی طرح لانگ مارچ کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اس لانگ مارچ کا اختتام دھرنے پر ہی ہوتا ہے، ابھی بھی اپنے مطالبات منوانے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے لانگ مارچ شروع کیا ہوا ہے جس کے دوران ان پر حملہ بھی ہوا اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس شدید حملے میں ان کی جان محفوظ رہی اور وہ زخمی ہوئے امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے ۔

    اس لانگ مارچ کے دوران عمران خان کو بچانے کی کوشش میں ایک کارکن کی شہادت ہوئی ہے اس کے علاوہ لانگ مارچ میں شامل گاڑی کی ٹکر سے اور گاڑی پر سے گر کر بھی کارکن اور میڈیا ورکر فوت اور زخمی ہوئے ہیں حال ہی میں راولپنڈی میں احتجاج کے دوران ایک کارکن بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور کرنٹ لگنے سے وہ کھمبے پر سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔

    پاکستان میں یہ نہ پہلا لانگ مارچ ہے اور نہ ہی آخری اور اگر لانگ مارچ یا دھرنا کامیاب ہو بھی جائے تو اقتدار یا اختیار لیڈروں اور ان کے منظور نظروں کو ہی ملتا ہے جب کہ سیاسی ورکر اپنی حامی جماعت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد چھوٹے موٹے کاموں (بجلی گیس کے میٹر وغیرہ) کے لئے درخواستیں لے کر ان کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں اور اگر کبھی اس کا کام ہو بھی جائے تو اس کی وجہ سیاسی کارکن کی جماعتی وابستگی نہیں ہوتی بلکہ صاحب کے اچھے موڈ یا ان کے کسی منظور نظر کی سفارش کی وجہ سے اس کا کام ہوتا ہے ۔

    ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے دوران عام عوام کے ساتھ شرپسند لوگ بھی مجمع میں شامل ہوتے ہیں جن کا مقصد ایسے موقع پر فساد کر کے ملک میں افراتفری اور ابتری پیدا کرنا ہوتی ہے اور موقع ملتے ہی وہ اپنا کام سرانجام دے دیتے ہیں ایسے موقعوں پر کیوں کہ سیاسی لیڈروں کی سیکیورٹی سخت ہوتی ہے تو عموماً ٹارگٹ عام عوام بنتے ہیں اور زیادہ نقصان بھی عام عوام کا ہی ہوتا ہے ۔

    سیاست دان ان واقعات پر اپنے غم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں سیاسی کارکنوں کے لواحقین کے لئے امداد کا اعلان کرتے ہیں کچھ امداد انہیں دے دیتے ہیں اور باقی امداد کے وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈروں کو تو ایسے واقعات سے عوامی مقبولیت حاصل ہوتی ہے اور وہ اقتدار کا سنگھاسن حاصل کر لیتے ہیں مگر عام عوام کو کیا ملتا ہے صرف حکمران ان کی جماعت کے آ جاتے ہیں لیکن عوامی مسائل اسی طرح اپنی جگہ رہتے ہیں اور یہ سیاسی کارکن بھی اپنے مسائل کے حل کے لئے مختلف دفاتر میں دھکے کھا کر نظام کو برا کہتے رہتے ہیں ۔

    عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ بے شک آپ اپنی ایک سیاسی سوچ رکھیں اور جس سیاسی جماعت کے نظریات آپ کو پسند ہیں اس کی حمایت کریں لیکن جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں جا کر اپنی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں بلکہ ووٹ کی طاقت سے اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی حمایت کریں اور اسے اقتدار میں لائیں آپ کے پاس سب سے قیمتی چیز آپ کی جان ہے لیکن آپ بھی کئی لوگوں کی کل متاع ہیں جن کی زندگی آپ سے شروع اور آپ پر ختم ہوتی ہے اس لئے براہ کرم ان سیاسی جماعتوں کی خاطر اپنی جان خطرے میں اور اپنے پیاروں کو آزمائش میں نہ ڈالیں ۔

  • نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    گالم گلوچ‘ ہلڑ بازی‘ بلوہ بندوق کیا کم تھے کہ نازیبا اور فیک ویڈیو کے وار کرکے ملک کے نہ صرف معاشرتی و سماجی اقدار کو پامال کیا جارہاہے بلکہ سیاست اور سیاستدانوں کے زندہ جنازے نکالے جارہے ہیں اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں سیاست کے لئے نفرت بھری جارہی ہے۔ یاد رکھیں کسی بھی معاشرے میں سیاسی آزادیوں کے فروغ اور سیاسی پارٹیوں کا استحکام ہی درپیش چیلنجز سے قوموں کو نکالنے میں مدد کرتے ہیں۔ مضبوط سیاسی اقدار مضبوط سیاسی افکار ہی کسی قوم کو مضبوط مستحکم معاشرہ اور مضبوط معیشت دیتے ہیں۔ مضبوط معیشت ہی ناقابل تسخیر دفاع کی ضامن ہے

    صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست کو کھیل تماشا ناچ گانا گالم گلوچ احتجاج کے نام پر سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگانے سکول کالج بند کرانے تو بنا ہی دیا گیا تھا لیکن سیاستدانوں کی ویڈیو جنگ نے تو ہر باشعور اور سنجیدہ حلقے کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں اعظم سواتی کی ازدواجی زندگی پر فیک ویڈیو کا ڈرامہ رچایا گیا اور اسی عمر کے بزرگ سیاستدان پرویز رشید کی ایک ویڈیو منظر عام پر لائی گئی جس نے سنجیدہ سیاسی حلقوں میں سکتہ طاری کردیا ہے۔ پرویز رشید سیاست میں رواداری اور سنجیدگی کا آئی کان ہے اور ان کی سیاسی جدوجہد کو تمام سیاسی پارٹیوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ایسی شخصیات کے لباس پر غلاظت کے چھینٹوں سے کون سے مذموم عزائم کو پورا کرنے کی مشق کی جارہی ہے اور ان حرکات کو قوم کو سماجی انحطاط معاشرتی بے راوہ روی اور سیاسی بانجھ پن کی صورت میں قوم کو مستقبل قریب میں ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مقتدر حلقوں سیاسی جماعتوں اور معاشرتی قوتوں کو یکجا ہو کر ایسی سازشوں کو روکنا ہوگا.

  • کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    آج کے سیاستدان جب جمہوریت، آزادی، قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے جھوٹ اور منافقت سے گھن آتی ہے۔ مخلوق خدا کو برباد کر کے یہ کس منہ سے عوام کا نام لیتے ہیں۔ ملکی صورتحال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے ،قیادت کا فقدان ہے ۔جب تک اس گلے سڑے نظام کو دفن نہیں کیا جاتا کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ موجودہ نظام کو جب تک تبدیل نہیں کیا جاتا عوام کی زندگی کبھی سہل نہیں ہو سکتی۔ موجودہ سیاست بڑھکوں، دھمکیوں اور ہلڑ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ عوامی نمائندے ایسی بدزبانی اور غنڈہ گردی پر اتریں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

    موجودہ شور شرابے میں اقتصادی بحران گھمبیر ہوتا جا رہا ہے بنیادی اشیائے صرف کی ہولناک مہنگائی جاری ہے۔ ایک دوسرے کے بارے بیہودہ گفتگو پہلے سے پست ثقافت اور اخلاقیات مزید پست ہو رہی ہے ایک تعفن پھیل رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے ہر ذی شعور انسان کا دم گھٹ رہا ہے۔ جو کچھ اس ملک و قوم کے ساتھ ہو رہا ہے یہ سارا کھلواڑ اتنا بے سبب بھی نہیں ہے۔ ان کی آپس میں لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہ۔

    دوسری طرف پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو بین الاقوامی سطح پر مشکوک بنا دیا گیا ان کی آپس کی لڑائیوں میں ملکی وقار اور سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے ان کو اس قدر آندھا کر دیا ہے کہ ملک کے وقار اور سلامتی کو بھی بھول گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے ہیں۔ ملکی کی تمام سیاسی جماعتیں اصول۔ نظریے اور ضمیر سے عاری ہو چکی ہیں۔ سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ان کی منافقت۔ ایک دوسرے کو گالیاں دینا۔ بد سے بدترین ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی سیاست ہو رہی ہے بین الاقوامی سیاسی کھلاڑی تماش بین بن کر تماشا دیکھ رہے ہیں بھارت میں بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں خدارا ملک سے انتشار کی سیاست کا خاتمہ کیا جائے اس ریاست پر رحم کیا جائے اور اس ریاست کے ذمہ داران کو گلی کوچوں ، چوراہوں، جلسے جلوسوں میں برا بھلا نہ کہا جائے۔

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کاش ہمارے سکولوں میں کوئی ڈھنگ سے سائنس سکھاتا تو آج ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اُٹھا کر یہ نہ کہتا پھرتا کہ دیکھیں جی: "سینس” کی تھیوری اور فیکٹ میں فرق ہوتا ہے۔ تھیوری جب "پاروو” ہو جاتی ہے تو "سینس” کا فیکٹ یا لا بن جاتی ہے ورنہ صرف تھیوری جسکی کوئی اہمیت نہیں۔

    نجانے کس نے یہ بات اس قوم کے ذہن میں ڈال دی یے جو نکلتے نہیں نکلتی۔

    لیجیئے پھر سے پڑھ لیجئے کہ سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے۔ سمجھ نہ آئے تو کسی بچے کو پڑھائیں، وہ سمجھ جائے گا پھر وہ آپکو بھی سمجھا دے گا۔

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔

    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔

    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔

    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔

    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔

    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔