Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ اور سچ یہ عادتیں بچپن ہی سے سیکھائی جاتی ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت ماں جو کرتی ہے بچے پر اس کے اثرات  ہوتے ہیں۔ ماں باپ جھوٹ کے عادی ہوں تو یقینا بجے بھی جھوٹ ہی بولیں گے۔ دیکھا جائے تو سچ یا جھوٹ، دھوکہ فریب  ہر قول و فعل ایک دوسرے کے اردگرد ہی گھومتے ہیں
    حدیث شریف کا مفہوم ہے تمام گناہوں کی جڑ جھوٹ ہے
    جھوٹ بول کر انسان دوسرے انسان کو چپ کروا سکتا یے
    دوسرے انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے
    دوسرے انسان کو اپنی چیز بیچ سکتا ہے
    لیکن اللہ تعالٰی کے سامنے کیسے جھوٹ بولے گا
    قول و فعل میں تضاد بھی جھوٹ ہے
    اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور سچائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے۔ سچ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سچ کہا اور جھوٹ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جھوٹ کہا۔ سچ، نجات اور سکون کا باعث ہے اور جھوٹ، تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں۔جھوٹ بولنا انسان کو دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت سے بھی محروم کردیتا ہے اور لوگوں کی نظروں میں اس کا اعتبار اور رتبہ ختم کردیتا ہے۔ اور انسان کو نا اتفاقی کے مرض میں مبتلا کردیتا ہے یہ زبان کی آفت اور ایمان کو مسمار کرنے کا  سبب بنتا ہے۔جھوٹ ہی تمام گناہوں کی جڑ ہے۔

     قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے
    ” جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ اور یہی لوگ جھوٹے ہیں”
    ( سوره النحل: 105)

    جھوٹ کے متعلق کچھ احادیث:-

       سچ اور جھوٹ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: ’’تم پر سچ بولنا لازم ہے، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے، اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے، جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
    (صحیح مسلم: 6094)

       ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“
    [صحيح بخاري حديث 6095]

    جھوٹ بولنے سے انسان دوسرے انسانوں کی نظر میں تو گرتا ہی ہے ساتھ میں اللہ تعالٰی کے ہاں بھی سخت عذاب کا مستحق بھی ہو جاتا ہے

    دنیا والوں سے تو جھوٹ بول کرنی چھپا سکتا ہے اللہ تعالٰی سے کیسے چھپائے گا
    انسان جب ایک جھوٹ بولتا ہے تو اس کو چھپانے کے لیے اس کو دس جھوٹ اور بولنے کرتے ہیں

    جھوٹ سے انسان اللہ تعالٰی کے ہاں بھی اور دنیا والوں کے ہاں بھی منہ دیکھانے لے قابل نہیں رہتا

    مل کر معاشرے سے جھوٹ جیسی لعنت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے

  • ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    کسی دور میں پاکستان فلم انڈسٹری بھارت سے مقابلہ کرتی تھی وحید مراد سنتوش کمار محمد علی ندیم جیسے اداکار ناصر پاکستان بلکہ برصغیر میں شہرت رکھتے تھے فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد ناظرین کیلئے تفریح کا ذریعہ صرف ٹیلی ویژن رہ گیا ۔ ناظرین کی بڑی تعداد 8 بجے آنے والے ڈرامے شوق سے دیکھتی اور اکثر ڈرامہ سیریل مقبولیت کے ریکارڈ بھی قائم کرتے الفا براوو چارلی، بندھن، عینک والا جن، گیسٹ ہائوس اور آغوش غرض ھر عمر کے ڈرامے عوام میں پسند کئے جاتے سڑکیں ویران ھوجاتی۔ عمدہ اداکاری بہترین پروڈکشن اور بہت سبق آموز کہانیاں اداکار اتنے ڈوب کر اداکاری کرتے تھے کہ ان کا اصل نام ہی بھول جاتا تھا اور صرف کردار ذہنوں پر نقش ہو جاتے ۔ تاہم 2010ء کے بعد تو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری بدل کر رہ گئی۔

    معیاری کہانیوں کی جگہ ساس بہو کے جھگڑے طلاقوں گھریلو جھگڑوں نے لے لی اگرچہ کئی اچھے ڈرامے بھی پیش کے گئے تاہم زیادہ تر اوسط درجے کے ڈرامہ سیریل چھوٹی سکرین کا حصہ بنے۔ یہ زیادہ تر ڈرامہ سیریل نجی چینلز پر نشر ہوئے اور کچھ سرکاری ٹی وی کا بھی حصہ بنے۔ ماسوائے چند ڈرامے جیسے ڈرامہ ‘داستان‘ جوکہ 1947ء کی ہجرت کے تناظر میں عکسبند کیا گیا اور رضیہ بٹ کے ناول ‘بانو‘ سے ماخوذ تھا اس کے بعد ‘میری ذات ذرۂ بے نشان‘ نے شہرت کے ریکارڈ قائم کیے ‘درِ شہوار‘ بھی ایک بہترین ڈرامہ تھا اور اسکے علاوہ ‘ھم سفر ‘ ‘زندگی گلزار ہے‘ جیسے انگلی پر گنے جانے والے ڈرامے جن میں کوئی سبق ہویا وہ معاشرے کی حقیقت کے قریب ہوں وہ پیش ھوئے اور انھوں نے ریکارڈ مقبولیت حاصل کی۔ ایسے ڈرامے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے کوئی سبق مل سکے۔ ”سرخ چاندی‘‘ تیزاب گردی پر بنایا گیا ڈرامہ تھا جس نے ناظرین کو ہلا کر رکھ دیا۔

    ان چند سالوں میں پڑوسی ملک کے کلچر کو یہاں یوں فروغ دیا گیا جیسے ثواب کا کام ھو مگر افسسس لوطن کی محبت اور قومی ہیروز پر ڈرامے نا ھونے کے برابر بنائے گئے ڈرامہ نا صرف کردار سازی ذہن سازی میں کردار ادا کرتا بلکہ ملک کا کلچر بھی دنیا کو دکھانے کا ذریعہ بنتا یہ بات غور طلب ہے کہ سنہرے دن اور الفا براوو چارلی کے دو دہائیوں بعد عہدِ وفا بنایا گیا یہ بھی امر قابلِ غور ہے کہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ پر حالیہ سالوں میں کوئی ڈرامہ سیریل نہیں بنا۔ ۔ ہمارے نجی چینلز ساس بہو کے جھگڑوں سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ زیادہ تر ڈراموں میں دو شادیوں‘ متعدد افیئرز اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

    دوسری طرف بھارت ہمارے مسلمان ہیروز کے کرداروں کو مسخ کر رہا ‘ ایک فلم پدماوت میں علائو الدین خلجی کے کردار کو یکسر متضاد پیش کیا گیا ہے جبکہ ‘پانی پت‘ فلم میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کیا گیا۔ اس کے ساتھ آن لائن ویب سٹریم پر بھی بھارت کی اجاہ داری ہے‘ ہر دوسرا سیزن پاکستان کے خلاف بن رہا ہے جبکہ پاکستانی ہدایتکار کشمیر، بلوچستان، ایل او سی، سیاچن، سرحدی امور، ملکی حالات، فوجی اور سویلینز شہدا کی قربانیوں سے نظر چرا کر ٹی وی پر معاشقے کروانے میں مصروف ہیں، عورتیں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں، نندیں بھابھیوں کے گھر تباہ کر رہی ہیں اور گھروں میں ایک

    خدارا پاکستانیوں پر رحم کریں‘ تحریک پاکستان، 1965، 1971، کارگل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضربِ عضب، رد الفساد جیسے آپریشنز ان پر ڈرامے بنایئں وہ ہیں ہمارے اصل ہیرو‘ ان پر ڈرامے اور فلمز بنانی چاہئیں۔ اس کے علاوہ غازیوں، پولیس کے ہیروز اور سویلینز کی قربانیوں کو اجاگر کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ آج کی نسل کو پتا ہو کہ ان کے اصل ہیرو کون ہیں ورنہ تیاری پکڑیں کچھ عرصے بعد ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ویسا ہی حال ہو گا‘ جو فلم انڈسٹری کا ہو چکا۔

  • کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    ساوتھ افریقہ کے 79 سالہ سابق صدر جیکب زوما جنہوں نے ٢٠٠٩ سے ٢٠١٨ تک حکمرانی کی ان پر کرپشن کے الزامات تھے جن پر انہوں اکڑ دکھاتے ہوئے آئینی عدالت میں پیش نہ ہونے کو ترجیح دی اور عدالتی کاروائی میں شامل نہ ہوۓ جس پر عدالت نے انھیں چار جولائی تک کی مہلت دی کے یا تو گرفتاری دیں یا پھر پولیس سابق صدر کو گرفتار کرے سابق صدر جیکب زوما نے مہلت ختم ہونے سے چند لمحے پہلے خود کو حکام کے حوالے کردیا اور اب قانون کے مطابق وہ پندرہ ماہ کی جیل کی سزا کاٹیں گے

    عدل و انصاف کا نظام اسلامی ریاست کی اساس رہا ہے لیکن دیکھا جاۓ توعدل وانصاف کے اس نظام کا مملکت خدا داد پاکستان میں فقدان ہے ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں لیکن اسکے برعکس ہمارے سزا یافتہ حکمران بلندوبانگ دعووں کیساتھ عیش و آرام سے رہتے ہیں اور آزادی سے بیرون ملک سفر کرتےاور پھر عدالتی بلاوے کو روندڈالتے ہیں_

    ساوتھ افریقہ کے صدر کے حق میں کسی نے نعرہ نہیں لگایا اسکو چھوڑ دو اور ووٹ کو عزت دو . بلکہ وہاں پر عوامی تجسس یہ تھا کہ آیا سابق صدر اور پولیس آئینی عدالت کے حکم کا پاس کریں گے یا نہیں کیوں کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور قانون کے احترام میں معاشرے کی بقا ہے ہمارے سیاستدان عدالتی فیصلوں اور تصدیق شدہ جرائم کے باوجود ضمانتیں لیکر انتخابی تحریکیں چلاتے اور اپنا نظریہ عوام میں پھیلاتے ہیں اور یہ سوال پوچھتے ہیں ‘کیا آپ ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں کا وزیراعظم عدالتوں میں پیش ہو ؟_

    ہمارے ہاں قانون اور عدالتی بالادستی کیساتھ عوامی شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے کے قانون سے کوئی افضل نہیں اگر خلیفہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اپنی زائد چادر کا حساب دینے کے پابند تھے تو آج کےاور سابقہ حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوۓ جوابدہی میں اپنی ہتک نہیں سمجھ سکتے اس لیے کے قانون سب کیلئے برابر ہونا چائیے

  • لاہور کے مسائل۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    لاہور کے مسائل۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پطرس بخاری نے اپنے مضمون "لاہور کا جغرافیہ” میں لکھا کہ:
    ” کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدوداربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلبہ کی سہولت کے ليے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا۔ جس کادارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے، لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔ “

    بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتا ہوا رقبہ ایک ایسی کینسر نما بیماری ہے جو شہر لاہور کو لاحق ہو گئی ہے۔ جس سے نہ صرف لاہور کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے بلکہ بُہت سارے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اِسکی کچھ رونقیں کھو سی گئی ہیں۔

    اگرچہ بُہت سارے مسائل ہیں جو لاہور کو لاحق ہیں لیکن چند چیدہ چیدہ مسائل مسائل میں درختوں کی کٹائی، ماحولیاتی تغیر، زیرِ زمین پانی کی کمی، وینس کی جھلک، ٹرانسپورٹ کی کمی، زرعی زمینوں کا کم ہونا، صحت اور تعلیم کی نا کافی سہولیات، اور معدوم ہوتے تہوار وغیرہ شامل ہیں۔
    گزشتہ حکومتوں کے بر عکس اگرچہ موجودہ حکومت بہت سارے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے لیکن ان مسائل کو حل ہونے میں وقت لگے گا۔

    درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی تغیر

    گزشتہ کئی سالوں سے لاہور ماحولیاتی تغیر سے نبرد آزما ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، شدید گرمی اور فاگ سے بہت سارے مسائل نے جنم لیا ہے۔ ہر سال سینکڑوں افراد گرمی کی شدت سے بیمار ہو کر ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اسی طرح فضائی آلودگی اور فاگ کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں، گلے اور آنکھوں کا انفیکشن، سانس لینے میں دشواری،دمہ اور کھانسی وغیرہ بھی پریشان کن ہیں۔ بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے لوگوں کے پھیپھڑے خراب ہو رہے ہیں۔
    ان مسائل کی بڑی وجوہات میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں، اینٹوں کے بھٹے، فیکٹریوں میں ربڑ کا استعمال اور درختوں کی کٹائی شامل ہیں۔
    اگرچہ موجودہ حکومت نے تقریباً تمام بھٹے جدید ذگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیے ہیں اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت پاکستان نے گاڑیوں کے لیے اچھی کوالٹی کا ایندھن (euro 5) منگوانا شروع کیا ہے، لیکن دوسری وجوہات پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے۔
    بڑھتی ہوئی گرمی اور آلودگی کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2017 تک لاہور کے 75٪ درخت کاٹ دیے گئے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف بارشوں میں کمی ہوئی بلکہ گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا۔ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے فضائی آلودگی اور فاگ جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ افسوس صد افسوس، باغوں کے شہر لاہور سے درخت ہی کاٹ دیے گئے ہیں۔
    موجودہ حکومت نے اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے جاپانی تیکنیک پر شہر بھر میں 50 میاواکی جنگل لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے جو کہ اگرچہ نا کافی ہے لیکن حکومت کی سنجیدگی کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔
    لاہور لبرٹی مارکیٹ میں لگایا گیا مياواکی فوریسٹ 8 کنال رقبے پر مشتمل ہے اور اُس میں 10 ہزار سے زائد درخت/پودے لگائے گئے ہیں۔
    درختوں کی کٹائی اور بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے بارشوں میں بھی کمی آئی ہے۔ بارشوں میں کمی اور زیرِ زمین سے مسلسل پانی نکالنے کی وجہ سے مستقبل میں پانی کا بحران نظر آ رہا ہے۔ جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے وہیں زیرِ زمین پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے اس صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات کا اعلان کیا ہے، اس ضمن میں راوی ریور پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں، لیکن یہ منصوبے پورے ہونے میں وقت لگے گا۔
    لاہور کو پیرس بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، یہ پیرس تو نہ بن سکا لیکن ہر سال وینس کا نظارہ ضرور کرواتا ہے۔ سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے ہر سال مون سون کی بارشوں میں لاہور کو سیلابی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ایک طرف پانی کی کمی ہے وہیں ہر سال بارشوں کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے اور سیلابی صورتحال کا تدراک کرنے کے لیے موجودہ حکومت سیوریج کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین 10 سے زائد واٹر سٹوریج ٹینک بنا رہی ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ کتنے مددگار ثابت ہوں گے۔

    پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت

    ایک وقت تھا کہ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پورے شہر میں کہیں بھی جایا جا سکتا تھا۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب لاہور کا سب سے بڑا بس اسٹیشن تھا جہاں سے پورے لاہور کے لیے بسیں چلتی تھی۔ لیکن یہ شعبہ بھی اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ 2009 میں پنجاب حکومت نے جہاں دیگر کئی کمپنیاں بنائی وہیں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی بھی بنائی گئی۔
    لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے ابتدا میں 400 ائیر کنڈیشنڈ بسوں کے ساتھ تقریباً 19 بڑے روٹس اور کچھ چھوٹے روٹس پر کام کا آغاز کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بسوں کی تعداد میں کمی ہوتی گئی۔ افسران کی غفلت کی وجہ سے کمپنی 2017 میں سروس آپریٹرز کے ساتھ ختم ہونے والے معاہدوں کی تجدید نہ کر سکی جس کی وجہ سے یہ کمپنی بند ہو گئی اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب۔
    ریکارڈ کے مطابق 2014 سے مسلسل حکومت کو نئی بسوں کے لیے درخواست دی جاتی رہی لیکن کوئی کام نہ ہوا۔ اگرچہ لاہور میٹرو بس اور میٹرو ٹرین آپریشنل ہے لیکن ان کی سروس مخصوص روٹ پر ہے۔
    اس وقت لاہور کی ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو پورا کرنے کے لیے کم و بیش 1500 بسوں کی ضرورت ہے۔اگرچہ موجودہ حکومت سروس بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے لیکن ابتدائی طور پر صرف 300 بسیں فراہم کی جائیں گی۔
    اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بلیو لائن اور پرپل لائن کے منصوبے جو کہ 2007 میں تجویز کیے گئے تھے فلحال کاغذوں تک ہی محدود ہیں۔

    لاہور کے گرد پھپھوندی کی طرح پھیلتی ہاؤسنگ اسکیمز بذاتِ خود ایک مسئلہ ہیں۔ زرعی زمینوں پر بننے والی ان سوسائٹیوں میں نہ صرف سہولیات کا فقدان ہے بلکہ بے ہنگم بھی ہیں۔ اِن کی وجہ سے پیدا ہونے والا سب سے بڑا مسئلہ غذائی اجناس کی قلت ہے۔ ان زرخیز زمینوں پر پہلے سبزیاں، چاول، گندم اور دیگر غذائی اجناس کی کاشت کی جاتی تھی جو کہ شہر لاہور کی ضروریات کو کسی حد تک پورا کرتی تھیں لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ اب زرخیزی کی جگہ صرف بے ہنگم آبادی ہے۔

    لاہور میں جہاں دیگر بُہت سے مسائل ہیں وہیں پر صحت کی نا کافی سہولیات بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ کئی سالوں میں کوئی نیا ٹرشری کیئر ہسپتال نہیں بنایاگیا، اگرچہ موجودہ حکومت نے لاہور میں 2 نئے ہسپتال بنانے کا آغاز کیا ہے، لیکن شمالی اور مشرقی لاہور میں کوئی بھی بڑا سرکاری ہسپتال نہ ہی موجود ہے اور نہ ہی عنقریب کسی کی امید ہے۔ ہسپتالوں میں جدید مشینری یا تو موجود نہیں اور اگر موجود ہے تو وہ خراب ہے۔
    یہ اور ایسے بُہت سے دیگر مسائل ہیں جو کہ شہر لاہور کو لاحق ہیں، اگر ان مسائل کی تفصیل بیان کرنا شروع کی جائے تو ہر مسئلے کے لیے ایک علیحدہ آرٹیکل لکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ حکومتوں میں ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے صرف ایسے پروجیکٹ شروع کیے گئے جو کہ ذاتی مشہوری کے لیے ضروری تھے، اگرچہ موجودہ حکومت نے ایسے منصوبے شروع کیے ہیں جن سے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کی سنجیدگی نظر آتی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ منصوبے مکمل ہو کر کس حد تک ان مسائل کو حل کریں گے۔

  • غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی بہت مشکل سے گزار رہے ہیں
    اکثر تو ایسے ہیں جو 2 وقت کا کھانا بھی پورا نہیں کر سکتے اور ہم ایک وقت کا اتنا کھانا بنا رہے ہوتے ہیں جو غریب کو مل جائے تو وہ 4 دن اس سے آرام سے گزار سکے
    ہم اپنی ضرورت سے زیادہ کھانے کو کچرے میں پھینک دیتے ہیں لیکن پڑوس میں غریب کو اس کی بو تک نہیں لگنے دیتے
    اگر وہ ہی کھانا ہم خود سے بچا ہوا ہی کیوں نا ہو پڑوسی ی
    کو دے دیں اس کے بچے بھوکے نا سوئیں
    وہ کم از کم 2 ٹائم پیٹ بھر کر کھانا تو کھا سکے
    اس کے دل سے ہمارے دعائیں نکلیں
    اللہ پاک ہمارے گھروں، ہمارے رزق میں برکت ڈالیں لیکن ایسا ہم سوچتے بھی نہیں ہیں
    ہم صرف اپنا پیٹ بھرنے کی سوچ میں لگے رہتے ہیں
    ہم ہار سنگار تو کر لیتے ہیں غریب کے بچے کو پورے کپڑے بھی نہیں ملتے
    ہم پر ہفتے شاپنگ تو کر لیتے ہیں لیکن غریب کو 2 روپے دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے
    ہم بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانے کھا اور کھلا رہے ہوتے ہیں لیکن غریب کا نہیں سوچتے

    قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے،اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں
    (سورة البقرةآیت177)

    قرآن حکیم کی سورة البقرہ ہی میں ارشاد ہے” (لوگ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں۔ فرما دیجئے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے) مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتے دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو، بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔“ 

    اللہ تعالٰی نے بھی ہمیں غریب کا احساس کرنے کا حکم دیا ہے
    خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں غریبوں کا احساس، غریب کا ساتھ کر عملی نمونہ بتاتا

    محسن انسانیت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا بلکہ عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی ہمیشہ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد کرتے

    ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا

    آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے
    جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا
    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے

    اج ہم بھی اگر مل کر اپنے معاشرے میں غریبوں کا احساس شروع کر دیں تو غریبوں کے بچے بھی بھوکے نا سوئیں، ننگے نا گھومیں، اچھے نہیں تو کم از کم سرکاری سکولز میں پی پڑھ سکیں

    ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود اپنے آپ کو پہلے پیش کرنا ہو گا غریب کا ساتھ دینے کے لیے

  • شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    32سالوں میں ہر قسم کی حمایت کے باوجود آج تم لوگ گٹر کا پانی پینے پر مجبور ہو ایم کیو ایم کو گیارہ بار الیکشن جتوانے کی پہلی شرط کوٹہ سسٹم کا خاتمہ تھا مہاجر قومی فنڈ سے حاصل کئے گئے فنڈز سے مہاجروں کے لئے چھوٹے کارخانے لگنے تھے جس میں وہ عزت کے ساتھ نوکری کرنے والے تھے مہاجروں نے تو فنڈ دیا کیا کارخانے لگیں سوال چھوڑے جارہا ہوں مہاجر پورے پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی قوموں میں شمار ہوا کرتی تھی لوگ پورے پاکستان سے تہذیب سیکھنے کراچی آیا کرتے تھے پھر یہ ہوا کہ مہاجر پورے پاکستان میں ٹارگٹ کلرز کی نظروں سے دیکھا جانے لگا 3 مارچ کو واپس آکر مصطفیٰ کمال نے مجھے عزت اور احترام واپس دیا میں اپنے اللّٰہ کے سامنے سرخرو ہو گیا میں مہاجر منجن والوں کا اعلیٰ کار نہیں، مجھے مہاجر ہونے پر فخر ہے لیکن لسانی سیاست کرنے سے اگر فوائد ہوتے تو آج مہاجروں کا یہ حال نہیں ہوتا

    ہم پاکستانی شہری کی حیثیت سے اپنے حقوق کی جدوجہد لسانی سیاست کے بغیر مصطفیٰ کمال کی قیادت میں کریں گے پاکستان میں زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کی بھیک وہ مانگے جن کا پاکستان بنانے والوں کی اولادوں سے کوئی واسطہ نا ہو پاکستان بنانے والوں کی اولادیں پاکستان میں نئی کھینچی جانے والی کسی لسانی صوبے کی لکیروں پر نہیں پورے پاکستان پر حکومت کرنے کا اپنا آئینی حق استعمال کریں گی جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا اور اپنے حقوق آئین کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش میں آپ کو اپنی جدوجہد میں شامل ہونے کی آواز لگاتے رہیں گے میری آواز آپ کے دلوں میں اتارنا میرے رب کی مرضی ہے کیونکہ جب مسجد سے اذان کی آواز لگتی ہیں تو جسے رب العالمین توفیق دیتا ہے وہی نمازوں میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح آواز ہم دیتے رہیں گے آپ کا ہمارے ساتھ شامل ہونا میرے رب کی مرضی پر منحصر ہے

     قوم نے ایک پارٹی کو ہر لحاظ سے سپورٹ کر کے اس کے وفاقی وزیر، صوبائی وزیر اور وزیر داخلہ بنائے مگر وہ ان پولیس والوں کو کیفرِ کردار تک نا پہنچا سکے جن پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا گیا قوم نے ووٹ اور عزت دے کر 14 سال کے لئے گورنر بنایا مگر وہ بھی اس عمل کو بے نقاب کرنے سے قاصر رہا اور مہاجروں کی سپورٹ پر گورنر کا منصب سنبھال کر 14 سال پاکستان کی تاریخ کی سب لمبی گورنری سے ہٹنے کے اگلے ہی دن مہاجروں کو گٹر ملا پانی اور کچرے کے ڈھیر میں چھوڑ کر دبئی کی پر فضا ماحول میں قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اگلی فلائٹ سے روانہ ہوگیا اور آئے دن مہاجروں کو چڑانے کے لئے روز آنے اور ان پر حکومت کرنے کے شوشے چھوڑتا رہتا ہے اور اس گروپ میں موجود لوگ ایک نئی ایم کیو ایم کے قیام کی خبریں دیتے ہوئے خوشی کے ترانے بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں

    شکریہ مصطفیٰ کمال مجھے اپنی قوم سے منافقت کرنے کے دلدل سے نکالنے پر شکریہ میرے شہر میں روز مرنے والی میری قوم کے نوجوانوں کو شہداء قبرستان میں دفنانے سے بچانے پر شکریہ میری قوم کے بیروزگار کو پورے کراچی میں حصول رزق کے لئے نوگو ایریاز ختم کرانے اور حلال رزق کمانے کا راستہ ہموار کروانے کے لئے شکریہ منافقین کے چہروں پر چڑھے معصومیت کے نقاب نوچ ڈالنے کا۔شکریہ مہاجروں کے روز بند ہوتے روزگار کو مستقل جاری رہنے کے اسباب پیدا کرنے کا۔

    شکریہ سالوں سے بچھڑے جوانوں کو ان کے والدین سے ملانے کا۔شکریہ معصوم بچوں کی دروازے پر لگی اپنے والد کے چہرے کو دیکھنے کی آرزوں پوری کروانے کا۔ شکریہ دربدر بھٹکنے والے میری قوم کے نوجوانوں کو سہی راہ پر گامزن کرنے کا اور سب سے بڑھ کر شکریہ مسلمانوں سے لسانیت کے نام پر جاری دہائیوں کی دشمنی کو ختم کرکے بھائی کو بھائیوں کے گلے ملوانے کا۔شکریہ مصطفیٰ کمال .پاکستان ذندہ باد

  • “جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو چاہے کرو”  تحریر:اقصٰی  یونس

    “جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو چاہے کرو” تحریر:اقصٰی یونس

    ڈرامے اور فلیمیں اپنے معاشرے کی عکاسی اور اپنے کلچر کو فروغ دینے کیلئے بنائی جاتی ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ جو کچھ آج کل ہمارے ڈراموں اور فلموں میں دکھایا جا رہا ہے وہ کسی طور ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا ۔ چینلز ریٹنگ کی دوڑ میں مغربی معاشرے اندھا دھند تقلید کیے جارہے ہیں اور اس تقلید میں وہ شاید یہ بھی بھول چکے کہ وہ ایک اسلامی ریاست کا حصہ ہیں ۔

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ہے لاالہ الا اللہ پہ رکھی گئی مگر آج مغربی پراپیگندہ اپنی جڑیں اتنی مضبوطی سے پاکستان کے میڈیا میں گاڑ چکا ہے کہ اس کا کوئی حل شاید ہی ممکن ہو۔

    ایک وقت تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن پہ بہت اچھا اور معیاری مواد دکھایا جاتا تھا ۔ نیوز اینکرز سر پہ سلیقے سے دوپٹہ جمائے نظر آتی تھی اور ڈراموں کے ذریعے انتہائی اہم اور نازک موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا تھا ‎ٹیلی و یژن کبھی کسی زمانے  میں گھر بھر کی تفریح کیساتھ دنیا سے جوڑنے کا سبب تھا۔

    ‎اب مغرب کی اندھی تقلید  سے معاشرے کے بگاڑ وبربادی کا سبب بن گیا ہے۔ بے راہ روی  بے حیائی کے فروغ میں ٹی وی کا بہت بڑا کردار  ہے۔ جیسے جیسے چینلز کی تعداد میں اضافہ ہوا بے حیائی بڑھتی گئی۔ہمارے حکمران  چونکہ دین بیزار  ہیں اس لئے   میڈیا کا کوئی قبلہ کوئی  قانون نہیں۔ سو شتر بے مہار کی مانند  جس نے   جو چاہا دکھایا ۔ ننگ پن فحاشی کے وہ مناظر  دکھائے جانے لگے جنہیں  تنہائی  میں دیکھتے ہوئے  بھی شرم آجائے۔
    ‎ اینکرو کمپیئر کا دوپٹہ جو سر  سے نہ ہٹتا تھا گزرتے وقت کیساتھ   دوپٹہ ہی نہیں حیا بھی کہیں گم ہوگئی۔ اس وقت چند اسلامی چینلز  کے سوا  ہر ٹی وی  چینل  پر عریانی اور فحاشی کو ایسے فروغ دیا جارہا ہے "جیسے یہ کوئی لازمی زمینداری ہو”

    ہر ڈرامے میں بس طلاق اور افیئرز جیسے موضوعات زیر بحث لائے جاتے ہیں تو کہیں حاملہ عورت کا ڈی این اے ٹیسٹ ایک سنگین مسئلہ دکھایا جاتا ہے۔ جہاں کسی کو امیر دکھانا ہوں نیم برہنہ لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ اور غربت دکھانے کو سر پہ دوپٹہ آوڑھا دیا جاتا ہے۔پہلے دوپٹہ غائب ہوا اب آہستہ آہستہ کپڑے بھی سکڑ کر مزید چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں ۔ یہاں تک بھی بات قابل برداشت نہ تھا۔ مگر سونے پہ سہاگہ یہ ایوارڈ شو جو صرف بے حیائی کا بازار ہیں ۔ گزشتہ روز “ ہم سٹائل لکس ایوارڈ “ کی کچھ تصاویر دیکھنے کا اتفاق ہوا ان تصاویر کو دیکھ کر میں قلم اٹھائے بغیر نہ رہ سکی۔

    ان تصاویر میں دوپٹہ تو خیر نظر آنا کسی بنجر جگہ پر آم کے درخت دیکھنے کے مترادف تھا لیکن ان تصاویر سے صاف ظاہر تھا کہ ہم مغربی میڈیا سے کتنے متاثر اور اور اسکے کتنے دلدادہ ہیں ۔ خوبصورت نہیں بلکہ ماڈرن نظر آنے کی دوڑ میں ماڈلز اور اداکارہ خود کو نیم برہنہ کرنے پہ بھی راضی اور یہ مناظر کیمرے کی آنکھ میں قید ہو کر ساری دنیا تک پہنچے ہوں گے ۔

    رہی بات ریٹنگ کی دوڑ کی تو کون کہتا ہے کہ پاکستانی اچھے ڈراموں کی بجائے ساس بہو کی لڑائی اور بے حیائی کا تڑکا لگاتے ڈرامے دیکھنا چاہتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو ارطغرل جیسا ڈرامہ جو اسلامی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ نہ توڑتا۔

    لباس جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے ۔ مگر اب لباس کی تراش خراش جسمانی نشیب و فراز کو ظاہر کرنے کے لئے کی جاتی ہے اور اسے ترقی، ماڈرن ازم، جدید دور کی ضرورت اور روشن خیالی کا نام دیا گیا ہے۔ آج کے نوجوان فلم،ٹی وی ڈرامے، اشتہارات، اخبارات میں فلمی ستاروں کی تصاویر دیکھ کر ان کے جیسا بننے کا سوچتے ہیں۔ اب ہماری نئی نسل کی اکثریت کے رول ماڈل انڈین فلموں کے ہیرو‘ ہیروئن ہوتے ہیں اور ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ بیہودہ لباس نہ پہنیں تو وہ ترقی یافتہ‘ روشن خیال نہ کہلائیں گے بلکہ ان کا شمار اولڈ کلاس میں ہو گا۔

    سوال یہ ہے کہ پیمرا اور ریگولیشن اتھارٹیز کیا بھانگ پی کر سو رہے ہیں ۔ پیمرا فقط ایک نوٹس دے کر سمجھتا ہے کہ اپنی ساری زمینداری سے سبکدوش ہوگیا۔ صرف پیمرا ہی کیوں قومی اسمبلی میں بیٹھے ہر شخص کو صرف کرسی کی بھوک کا لالچ ہے ان کی بلا سے کلچر ، ثقافت اور اخلاقیات جائے بھاڑ میں ۔ یہ زمینداری تو ہر شہری کی بھی ہے کہ وہ اس پہ آواز آٹھائے ۔ مگر اس مسئلے سے شاید نہ تو پیمرا کو غرض ہے نہ ہی کسی ریاستی ادارے کو ۔ کیونکہ یہ مسئلہ ان کے مفادات اور حرس سے کہیں پیچھے رہ گیا اور وہ کرسی کی دوڑ میں ریاست مدینہ کے دعویدار اپنی ساری زمینداریاں بھول بیٹھے ہیں ۔

    پیمرا کو چاہیے ٹیلی ویژن پہ نشر ہونے والے مواد کو مکمل طور پہ مانیٹر کیا جائے ۔ اور ہر وہ مواد جو بے حیائی کو فروغ دے اسے مکمل طور پہ بین کرکے متعلقہ چینل کو بھاری جرمانہ کیا جائے ۔ تاکہ آئیندہ کوئی ایسا پروجیکٹ کرے ہی نہ جس سے ہماری ثقافت اور کلچر کو نقصان پہنچے۔اور ایسے ڈراموں کو فروغ دیا جائے جو حقیقی معنوں میں ہمارے معاشرے ،ہمارے کلچر اور ثقافت کی عکاسی کرے۔

    وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نُور
    لے اُڑی اُس نِکہتِ گُل کو یہ تہذیبِ فرنگ

    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    اللہ پاک نے دنیا کو خوبصورت بنایا ہے لیکن اس میں کچھ مخصوص علاقے اپنی خوبصورتی میں خاص مقام رکھتے ہیں
    کچھ تو پورے پورے ملک ہی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں شہرت حاصل کر چکے ہیں
    جن میں پاکستان بھی ایک خوبصورت ملک ہے
    پاکستان میں بھی کچھ شہر، علاقے تو اتنے خوبصورت ہیں کہ ان کو دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں اور کئی کئی دنوں تک وہ پاکستان کے ان خوبصورت علاقوں میں رہتے ہیں
    دنیا کے اکثر ممالک کی معیشت کا دارومدار ہی سیاحت پر ہے جن میں سوئٹزرلینڈ دنیا میں سیاحت کے لیے مشہور ہے پوری دنیا سے لوگ سوئٹزرلینڈ جاتے ہیں وہاں رہتے ہیں سیر تفریح کرتے ہیں جس سے ان کی معیشت کو بھی سپورٹ ملتی ہے
    جو دوسرے ممالک سے سفر کرتے ہیں وہ ویزا، ٹکٹ، ہوٹل، ٹریولنگ سب کے لیے سیاحت کے لیے جانے والے ملک سے استعمال کرتے ہیں جس سے ان کو فائدہ ہوتا ہے
    اسی طرح جب پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں تو وہ بھی پاکستان آنے کے لیے ویزا، ٹکٹ، ٹریولنگ وغیرہ یہاں سے ہی استعمال کرتے ہیں
    جس سے پاکستان کو فائدہ ہوتا ہے
    گزشتہ ادوار میں پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا جس سے پاکستان کی سیاحت بری طرح متاثر ہوئی
    بیرونی دنیا سے تو دور پاکستانی کے شہری بھی سفر کرنے اور سیاحتی مقامات کو دیکھنے کے لئے جانے سے ڈرنے لگے
    پھر اللہ پاک کی مدد سے پاکستان کی عوام اور اداروں کی مدد سے پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا اور واپس اپنے ٹریک پے آنا شروع ہوا جس سے بیرونی دنیا سے بھی لوگ اب پاکستان کا سفر کرنا شروع ہو چکے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت اور پاکستان کی خوبصورتی دونو کو دنیا میں مقام مل رہا ہے
    اس وقت پاکستان کی موجودہ حکومت بھی کوشش کر رہی ہے پاکستان کے سیاحتی مقامات کو مزید خوبصورت اور پر امن بنایا جائے تاکہ سیاحت میں مزید اضافہ ہو
    پاکستان کے گلگت بلتستان ہو یا گلیات کے اونچے چمکتے پہاڑ
    سوات ہو یا لاہور کے سیاحتی مقامات اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہیں
    میری حکومت وقت اور اداروں سے بھی اپیل ہے کہ ان مقامات کو مزید بہتر کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں تیز کی جائیں تاکہ پاکستان بھی باقی دنیا کی طرح سیاحت سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کما کر معیشت اور عوام کے لیے بہتر اقدامات کر سکے
    اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2018-19ء میں پاکستان میں بیرونی سیاحوں کی تعداد 19لاکھ سے زاید رہی اور انہوںنے پاکستان میں 31کروڑ 70لاکھ امریکی ڈالرز خرچ کیے۔ورلڈ ٹورازم اینڈ ٹریول کونسل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سیاحت کو فروغ دے کر دس سال کی قلیل مدت میں 39.8ارب ڈالرز کما سکتا ہے 
    دنیا کے کئی ممالک میں قدرتی خوبصورتی تو نہیں لیکن وہاں کے حکمرانوں نے محنت اور لگن سے ملک کو خوبصورت بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا اور آج وہ اربوں ڈالرز صرف سیاحت سے کما رہے ہیں
    جبکہ پاکستان میں تو قدرتی خوبصورتی ہے
    بلند و بالا پہاڑ
    ریگستان
    دریا
    سمندر
    ہر وہ چیز جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے وہ پاکستان میں قدرتی طور پر موجود ہے بس اداروں کی مزید توجی کی منتظر ہے

    گو کہ پاکستان کی حکومت اس وقت بہت اچھا کام کر رہی ہے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش ابھی بھی موجود ہے

  • کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر ملک کا ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

    کراچی شہر ملک کی ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک

    کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو

    جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان کی حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

  • اسکول نہیں نوٹوں کی مشین ہیں! تحریر: عقیل احمد راجپوت

    پاکستان کا سب سے بڑا المیہ تعلیم کا بوسیدہ نظام سرکاری اسکولوں میں تعلیم نام کی چڑیا اگر کسی پاکستانی نے دیکھی تو وہ 80 کی دھائی کا زمانہ تھا اس کے بعد سیاست دانوں سے لیکر ہر کاروباری شخصیت نے اپنے ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر اسکول کا انتخاب کیا جس میں کبھی نقصان ہو ہی نہیں سکتا اس بھیانک صنعت کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں معنوں تعلیم ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسے غائب ہورہی ہے جیسے کراچی سے صفائی کا نظام کراچی والوں کی مثالیں اب اسی طرح کی ہوگئی ہے خیر اسکول مافیا کا زور آج اتنا بڑھ چکا کے سپریم کورٹ کے فیصلوں اور واضح احکامات کے باوجود یہ مافیا اپنی مان مانی جاری رکھا ہوا ہے فیسوں سے لیکر کاپیوں اور یونیفارم سے لیکر مختلف پروجیکٹس کے نام پر والدین کی جیبوں سے پیسہ ایسے نکالا جاتا ہے جیسے کراچی میں مرغی کا ریٹ پھر کراچی والا!

    تو قدر دانوں بات یوں ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے نام پر اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہیں اسکولوں کے نام پر جاری ہونے والے فنڈ ایسے غائب ہورہے ہیں جیسے کچرے میں کراچی غائب ہو رہا ہے!
    اسکول پر اربوں کھربوں لگانے والے حکمرانوں میں سے کسی ایک اولاد ان سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہوئی دکھائی دیتی تو مجھے احساس ہوتا کے پاکستان دو نہیں ایک ہوگیا تبدیلی کے بعد مگر پاکستان تبدیلی کے بعد بھی دو ہیں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے یہ حکمران اپنے بچوں کو بیکن ہاؤس اور ماما پارسی جیسے اسکولوں سے نکال کر کالے پیلے اسکول میں جب داخلہ کروانا شروع ہوجائیں تو سمجھ لینا تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آگئی ہے مگر فلحال تبدیلی ایسی ہی ہے جیسے کراچی کی پینے کے پانی کی لائنوں سے آتا ہوا گٹر ملا پانی!

    اسکول مافیا کی من مانیاں اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب انہوں نے ان کاروباری سرگرمیوں کو رہائشی علاقوں میں بھی شروع کردیا عام سا بجلی پانی اور ٹیکس دینے کے بعد یہ کمرشل کاروبار کو رہائشی علاقوں میں چلا کر علاقے کی عوام کو روزانہ کی بنیاد پر مشکل اور پریشانیوں میں ڈال رہے ہیں اسکول کی چھٹیوں کے وقت اس پاس کے لوگ اپنے گھروں سے کسی ایمرجنسی کی صورت میں باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے بلکل کراچی کی سڑکوں پر چوتھے گیر میں لگاتار گاڑی چلانے کی طرح!

    تو حکمرانوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ مافیا ختم تو آپ نہیں کرسکتے کم سے کم اس پر قانون سازی کرکے ایک راہ ہموار کریں جس کے زریعے گزرنے والے والدین کو اپنی پریشانیوں کو کس حد تک بڑھانا ہے اور اپنا کتنا پیٹ کاٹنا ہے معلوم ہو بلکل اسی طرح جیسے کراچی والوں کو پانی آنے اور ٹینکرز کس دن ڈلوانا ہے معلوم ہوتا ہے
    کرونا وائرس کے ادوار میں فیسوں کا معاملات کو دیکھا جائے فیسوں کو والدین کی استقامت کے مطابق وصول کیا جائے بچوں کو فیسوں کے جمع نا کروانے پر اسکول سے نکالنے کے عمل کو رکوایا جائے بچوں کو فیس نا دینے کی پاداش میں سزائیں نا دی جائے ان کی دل آزاری اور تضحیک نا کی جائے بلکل اسی طرح جیسے کراچی کے نالے صاف نہیں کئے جاتے!

    آخری اور اہم نوٹ پر بات کا اختتام کرتا ہوں کہ رہائشی علاقوں سے اسکولوں کو فوری کمرشل جگہوں پر شفٹ کیا جائے کیونکہ خدا نا خواستہ کسی حادثے کی صورت میں وہاں ریسکیو آپریشن نہیں کیا جاسکتا اسکول میں ایمرجنسی اخراج کا کوئی موثر نظام نہیں اس پر فوری عملدرآمد کروایا جائے تاکہ حادثے کی صورت میں جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے میری یہ درخواست چارج شیٹ ہیں ان اداروں کے افسران کے خلاف جو اس کے کرتا دھرتا ہیں ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں وہ اسکے زمہ دار ہونگے