Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • We are traped badly — عمر یوسف

    We are traped badly — عمر یوسف

    انسان کو خوشی ملتی یے تو دماغ سے ڈوپامائن نامی ہارمون ریلیز ہوتا ہے ۔ لذت کا یہ احساس انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ یہ کام دوبارہ کیا جائے تاکہ مزید لذت محسوس ہو ۔ یا اس جیسا کام بار بار کیا جائے ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھ لینا چاہیے ۔ پارک میں جانے کے لیے بچے جوشیلے ہوتے ہیں ۔ واپسی پر وہی بچے انتہائی سست دکھائی دیتے ہیں ۔ ڈوپامائن اپنے پیک پر جانے کے بعد جب واپس ہوتا ہے تو انسان جتنا جوشیلا ہوتا ہے پھر اتنا ہی شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے ۔ اس کا نفس تقاضا کرتا یے کہ یہ کام دوبارہ کیا جائے لیکن کام گراں و ثقیل ہونے کی وجہ سے نئی ہوپاتا ۔

    اب جب یہی خصوصیات رکھنے والا انسان موبائل پکڑتا ہے تو رنگا رنگ دنیا دیکھتا ہے ۔ کہیں ایڈوانچر کہیں کامیڈی کہیں ٹریجڈی کہیں ایموشنل ڈرامہ کہیں میسٹری کہیں رومانس کہیں تھرلر کانٹینٹ اور کہیں سیاحت پر مبنی مواد ہوتا ہے ۔

    ایک کے بعد ایک انسان من کی خواہش پورا کرنے کے لیے لگا رہتا ہے ۔ ڈوپامائن ریلیز ہوتا جارہا ہے ۔

    آہستہ آہستہ نفس بڑے سے بڑے عمدہ و تھرلر کی ڈیمانڈ کررہا ہے ۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب سب کچھ بورنگ محسوس ہونے لگتا ہے ۔

    ڈوپامائن پیک پر ہونے کے بعد واپس ہورہا ہے اور انسان کو جوشیلے پن سے دگنی سستی و اکتاہٹ مل رہی ہے ۔

    یہ اکتاہٹ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی انسان کو اپنی ذمہ داریاں زہر محسوس ہونے لگتی ہیں ۔ پڑھنا ، کام کرنا اور ذمہ داری پوری کرنا اسے پہاڑ محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اور پھر وہ کوئی بھی بامعنی کام کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔

    موبائل میں اگرچہ مفید و با معنی ایکٹیویٹیز بھی ہوتی ہیں لیکن نفس کو اس مفاد سے کوئی غرض نہیں اسے وحشیانہ پن اور لہو و لعب درکار ہے ۔ انسان اپنے آپ سے وعدہ کرتا ہے اب ان فضول سرگرمیوں سے جان چھڑا کر بامعنی کام کرنا ہے لیکن اگلے دن گدھا وہیں پر کھڑا ہوتا ہے جہاں کل تھا ۔

    سوشل میڈیا و موبائل کا ناسور انسان کے لیے اس قدر مصیبت بن چکا ہے کہ اس سے جان چھڑانا لگ بھگ ناممکن ہوگیا ہے ۔ اس ساری سائیکلنگ کو سمجھنے کے بعد نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آج کا انسان بری طرح پھنس چکا ہے ۔

  • دیت کے قانون کی مخالفت، آخر کیوں؟ — نعمان سلطان

    دیت کے قانون کی مخالفت، آخر کیوں؟ — نعمان سلطان

    شاہ رُخ جتوئی مقتول شاہ زیب کے لواحقین کے ساتھ راضی نامہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ سے بری ہو گیا ہے افواہیں ہیں کہ لواحقین نے معقول پیسے لے کر راضی نامہ کیا جب کہ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مقتول کہ لواحقین کو ڈرا دھمکا کے راضی نامے پر مجبور کیا گیا ۔

    اب دو صورتیں ہیں اگر ڈرا دھمکا کر راضی نامے یا خون بہا لینے پر مجبور کیا گیا تو یہ ہمارے نظام انصاف کی خامی ہے جس کا میں نے اپنی ایک سابقہ پوسٹ میں ذکر بھی کیا جس میں چیف جسٹس نے حاضرین سے سوال کیا جن کو پاکستان کے نظام انصاف پر یقین ہے وہ ہاتھ کھڑا کریں تو حاضرین میں سے کسی ایک شخص نے بھی اپنا ہاتھ کھڑا نہیں کیا ۔

    اگر مقتول کے لواحقین نے دیت (خون بہا) لیا تو یہ ان کا شرعی حق ہے اس کے لئے بھی شرط ہے کہ مرحوم کے تمام شرعی وارث اگر دیت (خون بہا) لینے پر راضی ہوں تب راضی نامہ ہو گا اب اگر آپ یا میں مرحوم کے شرعی وارث ہیں تو ہمارا دیت لینے پر اعتراض کرنا بنتا ہے اگر ہم شرعی وارث نہیں تو ہم اخلاقی یا قانونی طور پر مرحوم کے لواحقین کے دیت (خون بہا) لینے پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کر سکتے ہیں ۔

    البتہ اس قتل کے کیس میں ریاست مدعی بن سکتی تھی اور وہ بنی بھی، شاہ رخ جتوئی پر اس قتل کے کیس میں 7ATA لگی جو کہ دہشت گردی کی دفعہ ہے یہ ناقابل ضمانت ہے اور مقتول کے لواحقین کی طرف سے راضی نامہ ہونے کے باوجود شاہ رخ جتوئی کی رہائی نہ ہونے کی وجہ یہی دہشت گردی کی دفعہ تھی بہرحال شاہ رُخ جتوئی کے وکیلوں نے عدالت میں دلائل دے کر دہشت گردی کی دفعہ اس پرچے سے خارج کرا دی اس کے بعد مقتول کے لواحقین کا راضی نامہ عدالت میں پیش کرنے پر عدالت نے شاہ رخ جتوئی کو رہا کر دیا ۔

    اب اس سارے معاملے کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے منقسم ہو گئی ہے چند دوست احباب مقتول کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں اور شاہ رخ جتوئی کی بریت کی وجہ اس کی بے تحاشہ دولت اور اختیارات کا ناجائز استعمال بتا رہے ہیں جب کہ چند دوست حقائق سے ناواقفیت کی بنیاد پر دیت (خون بہا) لینے کو مقتول کے لواحقین کی لالچ سے تعبیر کر رہے ہیں یا کہہ رہے ہیں کہ جب انہوں نے پیسے لے کر راضی نامہ کر لیا تو اب ان سے ہمدردی کس بات کی جب کہ اسی بات کی آڑ لے کر چند احباب اسلامی دیت (خون بہا) لینے کے قانون پر تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں ۔

    ہم اسلامی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قاتل کے بارے میں قرآن پاک میں کیا حکم دیتے ہیں اور قصاص لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں یا دیت (خون بہا) لینے کی
    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

    وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً (النساء ۴:۹۳)

    ’’اور وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ‘‘

    مقتول کے لواحقین کی دلجوئی کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں الگ سے آیات نازل کیں اور اس میں ان پر مقتول کا قصاص لینے کا حکم دیا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب لوگوں کو علم ہو گا کہ قصاص میں لازمی ہم بھی قتل کئے جائیں گے تو وہ اشتعال میں آنے سے گریز کریں اور فساد فی الارض کے مرتکب نہیں ہوں گے ۔

    ۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۔۔۔۔﴿البقرة: ١٧٨﴾

    ’’اے ایمان والو تم پرمقتولین کا قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔”

    لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ ہر کوئی قتل منصوبہ بندی کر کے یا فوری اشتعال میں آ کر نہیں کرتا اتفاق سے بھی قتل ہو جاتا ہے جیسے ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت وغیرہ تو اسے شریعت کی اصطلاح میں قتل خطا کہتے ہیں اور اس میں مقتول کے لواحقین کو کہا گیا ہے کہ وہ دیت (خون بہا) لے کر یا اللہ واسطے قاتل کو معاف کر دیں ۔

    وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۔۔۔۔﴿النساء: ٩٢﴾

    ’’کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، الا یہ کہ اُس سے خطا ہو جائے، اور جو شخص کسی مومن کو خطا سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو دیت دے۔‘‘

    یعنی قرآن پاک میں جان بوجھ کر کر قتل کرنے کے لئے قصاص کا حکم ہے اور غیر ارادی قتل کی صورت میں دیت (خون بہا) لینے کا حکم ہے لیکن ہم لوگ ان واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی سہولت کے مطابق ان کا استعمال کرتے ہیں اور قتل عمد میں بھی دیت (خون بہا) لے لیتے ہیں یا ایسے ہی راضی نامہ کر لیتے ہیں ۔
    ۔
    ایک سچا واقعہ آپ کو سناتا ہوں تاکہ بات مزید واضح ہو جائے، والدین کے صرف دو ہی بیٹے تھے بڑا بیٹا شادی شدہ جب کہ چھوٹے بیٹے کی منگنی ہوئی تھی لیکن بڑے بھائی کی بیوی چاہتی تھی کہ دیور کی شادی میری بہن سے ہو اور منگنی ٹوٹ جائے اس بات پر دونوں بھائیوں میں اختلافات پیدا ہوئے جو لڑائی جھگڑے تک جا پہنچے اور ایک دن لڑائی کے دوران بڑے بھائی نے مشتعل ہو کر چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا اب والدین مجبور ہو گئے ان کے صرف دو ہی بیٹے تھے ایک قتل ہو گیا اگر دوسرے کو معاف نہ کرتے تو اسے پھانسی ہو جاتی اس لئے مجبوراً انہوں نے بڑے بیٹے کو معاف کر دیا ۔

    اب اس واقعے میں مقتول کے وارث قاتل کے ماں باپ تھے انہوں نے دیت (خون بہا) کے قانون کا غلط استعمال کیا اور جانتے بوجھتے سب نے نظر انداز کر دیا لیکن ہر واقعے میں ایسے نہیں ہوتا مقتول کے شرعی وارثوں کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم قاتل کے ناپاک وجود کو اس دھرتی پر مزید برداشت نہیں کر سکتے اس لئے ہمیں ہر صورت میں قصاص چاہیے ۔

    لیکن بعض مرتبہ قاتل کی سماجی حیثیت اتنی مضبوط ہوتی ہے یا وہ اتنا بڑا بدمعاش ہوتا ہے کہ اس سے اپنے باقی اہل خانہ کی جان بچانے کے لئے مقتول کے وارثوں کو مجبوراً راضی نامہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے دیت (خون بہا) کے قانون کا ہی سہارا لیا جاتا ہے اب اگر ریاست مضبوط ہو اور مقتول کے وارثین کو یقین ہو کہ قصاص لینے کی صورت میں ہمیں قاتل یا اس کے خاندان کی طرف سے کسی قسم کی انتقامی کاروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا تو وہ کبھی بھی دیت (خون بہا) نہ لیں ۔

    قتل فساد فی الارض ہے اور اس کو روکنے کا سب سے بہترین طریقہ قصاص ہی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ قصاص کے خوف سے کوئی قتل کا ارتکاب ہی نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو قصاص لینے کی صورت میں زمین سے ایسے شخص کا بوجھ کم ہو جائے گا لیکن دیت ہم پر بوجھ نہیں بلکہ رب کی رحمت ہے کہ اگر نادانستگی میں کسی سے ناحق قتل ہو جائے تو قاتل سے دیت (خون بہا) لے کر اسے ایک موقع دیا جائے۔

    اگر دیت نہ ہوتی تو قصاص پر روشن خیالوں کا ہی اعتراض ہوتا کہ اسلام کی نظر میں قتل عمد اور قتل خطا ایک برابر ہیں جو کہ نا انصافی ہے لیکن دیت کی وجہ سے وہ قصاص پر اعتراض نہیں کر سکتے تو اپنا بغض نکالنے کے لئے اب وہ دیت پر اعتراض کر رہے ہیں اس لئے اسلامی قانون پر اعتراضات کے بجائے اگر ان کو ان کی روح کے مطابق نافذ کرنے پر توجہ دی جائے تو یقیناً اس کے اثرات دیکھ کر معترضین بے ساختہ کہہ اٹھیں گے کہ واقعی اسلام دین فطرت ہے ۔

  • آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    جی ہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ایک بار پھر عمران خان اور تحریک انصاف کے نشانے پرہیں ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقدہ دو دو ضمنی انتخابات میں تاریخی فتح سمیٹنے والے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کیخلاف ہی ریفرنس دائر کر دیا، ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ جانبدار ہیں، مبینہ جانبداری کے باعث وہ اس عہدے کے اہل نہیں، چیف الیکشن کمشنر کو اس کے عہدے سے ہٹایا جائے۔۔۔ اب فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے۔

    لیکن عمران خان اور تحریک ِ انصاف کے دوست قوم کو یہ بھی تو بتائیں اور سمجھائیں کہ جس چیف الیکشن کمشنر کو آپ نے خود تعینات کیا تھا اپنے دورِ حکومت میں وہ جانبدار کیسے؟ اور وہ کس کا جانبدار ہے؟

    کیا اس عہدے پر تعیناتی کے وقت آپ کو معلوم نہیں تھا کہ "بھئی یہ تو جانبدار بندہ ہے”؟

    یہ تو وہی بات ہوئی کہ” میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو۔۔۔۔”

    جن نشستوں پر تحریکِ انصاف جیتی وہاں جمہوریت کی جیت اور حق کی فتح جبکہ جن جگہوں پر بہت کم مارجن سے شکست ہوئی وہاں دھاندلی کا الزام اور چیف الیکشن کمشنر جانبدار۔۔۔؟

    ایسے کیسے گلشن کا کاروبار چلے گا کہ آپ میدان میں اکیلے دوڑکے خواہش مند ہیں اور ریفری بھی اپنی مرضی کا چاہتے ہیں۔۔۔

    حقیقی آزادی کی تحریک میں گیم فکسنگ کی اس کوشش کو کیا سمجھا جائے؟

    کیونکہ آج آپ اپنے دور میں تعینات کیے گئے بیشتر عہدیداروں جن میں آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف، چیف جسٹس اور اب چیف الیکشن کمشنر تک پر شکوہ کناں ہیں کہ کسی نے آپ کو عدم اعتماد کی تحریک میں ریسکیو نہیں کیا، کسی نے آئین کی مبینہ غلط تشریح کرکے پی ڈی ایم کو فائدہ دیا، کوئی مبینہ مسٹر ایکس وائے زیڈ بن گیا اور اب چیف الیکشن کمشنر بھی آپ کو جانبدار لگ رہا ہے۔۔۔

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ والا یہ رویہ زیب نہیں دیتا لیکن اس کی پرواہ تحریکِ انصاف یا عمران خان کی جانب سے کب کی گئی ہے؟

    اگر اسی چیف الیکشن کمشنر پر آمادگی ظاہر بھی کی تو ساتھ ہی کہہ دیا کہ اور چوائس ہی کہاں ہے؟ مطلب کوا سفید ہی ہے۔۔۔۔

    دوسری طرف خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کے مصداق جماعت اسلامی کراچی بھی چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کرکے برہم ہے۔۔۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کیا اور ساتھ ہی مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ الیکشن ملتوی کرانا پی ڈی ایم کامشترکہ ایجنڈا ہے، الیکشن کرانے والے بھی زرداری ڈاکٹرائن پرچل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اہلکاروں کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی، الیکشن کمیشن کا یہ کام نہیں کہ الیکشن کیلئے سیاسی جماعتوں سے پوچھے، الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے، بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا مقصد صرف وسائل پرقبضہ برقراررکھناہے۔

    حافظ نعیم کا کہنا تھاکہ جواز بیان کیا گیا سندھ میں سیلاب کی وجہ سے نفری کم ہے، ہم نے پوچھا کہ بتایا جائے نفری کہاں کہاں لگی ہے؟ چیف الیکشن کمشنر آپ کی پوزیشن نہیں کہ آپ پوچھتے رہیں، آپ سندھ حکومت کے سہولت کار بن رہے ہیں، بہتر ہے چیف الیکشن کمشنر استغفی دے دیں۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے۔

    آئینی اداروں کے پاس کیا اختیارات ہیں اور کس طرح وہ اپنی غیر جانبداری پر عوام اور سیاستدانوں کو مطمئن کرسکتے ہیں اس پر اداروں کو اب مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اداروں پر سیاستدانوں اور عوام کے عدم اعتماد اورغم و غصے کا یہی مومینٹم رہا تو نظام اور ریاست مزید خرابی کے شکار ہو سکتے ہیں۔

  • عوام کی عدالت کسے بری کرے گی!!! — عبدالواسع برکات

    عوام کی عدالت کسے بری کرے گی!!! — عبدالواسع برکات

    اگر سیاسی اور جماعتی وابستگی سے ھٹ کر ذرا دیکھیں تو ارض پاکستان بہت گھمبیر حالات سے گزر رھا ھے جو آج حالات چل رھے ھیں وہ کچھ ماہ قبل بڑی حد تک کنٹرول کر لیئے گئے تھے.

    میں اس دن ھی بہت خوش تھا جب او ائی سی کا اجلاس پاکستان میں منعقد ھوا تھا امت مسلمہ کے تمام نمائندگان اپنے بڑے بھائی پاکستان میں جمع تھے اور دنیا میں ایک نیا اتحاد طلوع ھونے والا تھا امت کی زبوں حالی اور مظلومیت کا دور چھٹنے والا تھا عالمی سطح پہ پاکستان کا ایک زبردست سوفٹ امیج پروان چڑھ رھا تھا پاکستان کورونا وار سے بچ کر اپنے پاؤں پہ کھڑا ھو رھا تھا.

    امریکہ کے غلامانہ تعلقات کی بجائے روس کے دوستانہ ماحول کو پروان چڑھایا جا رھا تھا انٹرنیشنل لیول پہ مہنگائی کا وار تھا پاکستان اس سے بھی نبرد آزما تھا کہ یک لخت میرے ملک کو کسی کی نظر کھا گئی ایک رات میں ھی کایا پلٹ دی گئی جو تخت پہ تھے ان کو فرش پہ بٹھا دیا گیا اور جو مجرم تھے جو اشتہاری تھے ان کو مسندوں پہ بٹھا دیا گیا جن پہ کرپشن کے بلنڈر تھے ان کو دودھ سے نہلا دیا گیا ان کے ھر جرم سے ھر گناہ سے اعراض کر لیا گیا ملک کی پرواہ کیئے بغیر دنیائے عالم کے تعلقات کی پرواہ کیئے بغیر بس ایک نامعلوم سازش کے تحت میرا ملک کئی دھائیوں پیچھے زبردستی دھکیل دیا گیا ۔

    اس گھپ اندھیری رات میں مسائل اور وسائل سے الجھی عوام میں جو امید کی کرن بن کر نکلا وھی عوام کے دلوں کا بادشاہ بنا ۔ جب گذشتہ جنرل الیکشن میں پی ٹی ائی نے الیکشن جیتا تو ھارنے والوں نے سیدھا اسٹیبلشمنٹ پہ الزام دھر دیا لندن سے ویڈیو خطاب تک کیئے گئے جگہ جگہ یہی الفاظ دھرائے گئے کہ مجھے کیوں نکالا اور یہ بیانیہ بری طرح فلاپ ہو گیا ۔

    اب جب کہ یہی ستم عمران خان کے ساتھ دھرایا گیا تو وہ بجائے رونے دھونے اور مظلوم شہید بننے کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے عوام کو کسی حد تک شعور دلانے میں کامیاب ھوتے نظر آ رھے ھیں عوام میں بیداری کی ایک لہر دوڑ پڑی ھے وہ تیس سالہ تجربہ کار ٹیم کے ھاتھوں دوبارہ لٹنا نہیں چاھتے وہ نہیں چاھتے کہ ھم پہ وہ کبھی دوبارہ مسلط نہ ھوں جنہوں نے ھمارے خون پسینے سے کمائے مال سے اپنی کئی کئی نسلوں کے مستقبل کو سنوار دیا جنہوں نے کرپشن زدہ مال کو بچانے کیلئے کئی کئی کہانیاں گھڑیں مگر ھر کہانی کو عوام ںے بری طرح مسترد کر دیا.

    ان سب باتوں کا ثبوت آپ دیکھ سکتے ھیں دو دن قبل ھونے والے ضمنی الیکشن میں جہاں پہ پی ڈی ایم نامی کثیر الجماعتی اتحاد ایک طرف اور عوام میں شعور اور بیداری پیدا کرنے والا لیڈر ایک طرف اکیلا تھا اور عوام نے بڑے سیاسی اتحاد کو مسترد کر دیا اب تو اسٹیبلشمنٹ کا بھی کوئی رولا نہیں اب تو لاڈلے بھی کوئی اور ھیں اب تو وفاق بھی پی دی ایم کا سندھ بلوچستان بھی پی ڈی ایم کا مگر رزلٹ PDM کیلئے انتہائی افسوناک ھے پی ڈی ایم والے سر پکڑے بیٹھے کہ مرضی کے اور پسندیدہ حلقے تھے مقتدر اور بیرونی طاقتوں کی آشیرباد بھی ھمارے ساتھ پھر ھم ریجکٹ کیسے ھو گئے؟

    تو میں بتلائے دیتا ھوں کہ پہلے عوام میں اندھی تقلید تھی عوام تیس سال اپنا مستقبل تمہارے ھاتھوں تباہ ھوتے دیکھتی رھی مگر شاید اب ایسا نہ ھو جو عوام میں ازادی کے نعرے کے ساتھ اتر جائے پھر عوام کے دکھوں کا مداوا کر لے عوام کے دلوں کا ترجمان بن جائے پھر اس کے خلاف کوئی آڈیو ویڈیو بھی کام نہیں کرتی یہ نوشتہ دیوار ھے ان تیس سالہ تجربہ کاروں کیلئے کہ اب شاید عوام فنکاریاں ہسند نہیں کرے گی نا کہانیاں اور نا دل بہلا دینے والے جھوٹے بیانیے قبول کرے گی.

    اگر عوام کی حمایت لینی ھے تو قربانیاں دینی پڑیں گیں عوام آپ کی قربانی نہیں مانگتی عوام تو وہ مانگتی جو آپ نے عوام کا لوٹ کر کھا چکے عوام تو چاھتی جو لوٹ چکے ھو وہ میرے ملک کو واپس کر دو میرے ملک پہ رحم کر دو عوام تو اپنی اور ملک کی دولت واپس مانگتی ۔۔۔ بے شک عدالتوں نے آپکو ایون فیلڈ کیس سے بری کر دیا پی ڈی ایم کے سرکردہ رہنما اس وقت ھر کیس سے بری کر دیئے گئے مگر عوام کی عدالت میں آپ مجرم ھیں آپ چور ھیں.

    اس وقت تک آپ الیکشن نہیں جیت سکتے جب تک آپ عوام کی عدالت میں بری نہیں ھو جاتے عمران خان کو دنیا کی ھر عدالت مجرم قرار دیدے مگر وہ عوام کی عدالت میں بری ھے عوام کی نظر میں ھیرو ھے عوام کے اذھان و قلوب میں آزادی کا نشان ھے اسی لیئے وہ ھر میدان میں کامیاب ھو رھا ۔۔۔

    میں دعوت دیتا ھوں ان شکست زدہ لوگوں کو کہ خود کو عوام کی عدالت میں پیش کریں عوام میں سرخرو ھو جاؤ گے تو پھر تمہاری جیت مبارک ھو جائے گی۔

  • ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دَسْتَک کے اردو معنی، دروازہ بجانا، دروازہ اور پھاٹک کھٹکھٹانے اور تھپتھپانے کے عمل کو کہتے ہیں.

    دستک یا ڈور بیل ہماری روٹین اور معمول کا لازمی جز ہے۔

    ہمارا رویہ کسی دوست، عزیز یا پڑوسی کے گھر گئے یا بعض دفعہ اپنے گھر کی دستک یا بیل بجانی ہو تو بیل پر انگلی رکھ کر چسکے لینے لگتے ہیں جو کہ نہایت بےہودہ حرکت ہے۔ اگر مطلوبہ دروازے پر بیل کی بجائے دستک دینی پڑ جائے تو اردگرد کے لوگوں کو بھی مشقت میں ڈال دیتے ہیں۔

    عزیز بھائیو ! ذرا سوچیں کہ ممکن ہے اندر گھر میں کوئی مریض ہو یا کسی کو گھنٹوں کی مشقت سے گذر کر نیند کی گھڑی میسر آئی ہو یا پھر ممکن ہے کوئی کسی اہم امر میں مشغول ہو بعض دفع پردے والے گھر میں کسی مرد کے گھر میں نا ہونے کے سبب بھی تاخیر ہو جاتی ہے لہٰذا حوصلہ تحمل اور بردباری ایک ضروری وصف ہے جس کو ہم سب میں ہونا چاہئیے۔

    اسلامی ہدایات

    کسی کے گھر میں داخل ہونے سے
    قبل اجازت لینے کے آداب کیا ہیں؟

    کسی کے گھر جانے سے قبل اجازت لینا ایک اچھے اور مہذب انسان کی پہچان اور اس کی شرافت کى دليل ہے. ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس اس کی اجازت کے بغیر پہنچ جاتا ہے تو اس کو ایسی حالت میں دیکھے گا جس میں شاید اسے دیکھنا پسند نہ ہو. شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بات کی بالکل گنجائش نہیں کہ کوئی آدمی کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہو. اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا

    “اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ کسی اور کے گھر میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو.” سورۃ نور 27

    اسی لئے اسلام نے اجازت کے کچھ آداب بیان کئے تاکہ اس کے ماننے والے اس کى روشنى میں اپنى عملی زندگی گزار سکیں.

    1 گھر کے اندر نہ جھانکا جائے۔

    کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے گھر میں اور اوپر نیچے جھانکنے کی، ایسے لوگ اچھے مزاج کے ہرگز نہیں ہو سکتے. بخاری، مسلم كى روايت ہےحضرت ابو هريره رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کسی شخص نے تمہارے گھر میں بغیر تمہاری اجازت کے جھانکا اور تم نے اسے كنكری پھینک کر ماری اور اس کی آنکھ پھوٹ گئی تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں۔

    2 اجازت لینے والے کو چاہئیے کہ وہ دروازے کے بالکل سامنے نا کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ براہ راست گھر میں نظر نہ پڑسکے۔ ( نہایت اہم بات )

    پھر دروازے پر کھڑے ہوکر "السلام علیکم” کہتے ہوئے كہے: کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ دروازے پر دستک دیتے وقت زور زور سے دروازہ پیٹنا اچھی بات نہیں بلکہ اتنی زور سے دروازہ مارا جائے کہ آواز اندر چلی جائے. دروازے پر تین بار ٹھہر ٹھہر کر دستک دے۔

    3 اجازت لینے والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے۔

    جب آپ کسی کے دروازے پر دستک دیں گے اور وہ آپ کے لئے دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو واضح ہے کہ وہ دروازہ کھولنے سے پہلے آپ کا نام جاننا چاہے گا، اس لئے اپنا نام بتانے میں کسی قسم کے جھجھک کا تجربہ نہیں کرنا چاہئیے۔

    بخاری، مسلم كى روايت هے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
    "میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرض میں مدد مانگنے کے لئے گیا جو ہمارے باپ پر تھا. میں نے دروازہ پر دستک دی تو آپ نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں ہوں. تو آپ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا "میں” "میں” گویا آپ نے اسے ناپسند كيا۔

    4 اجازت نہ ملنے پر لوٹ جائیں۔

    اگر اجازت نہ مل سکے تو گھر والوں کے بارے میں کوئی برا خیال نہ رکھیں اور وہاں سے لوٹ جائیں کہ ظاهر ہے کہ کسی صحیح وجہ کی بنیاد پر ہی آپ کو اجازت نہیں ملی ہے: اللہ کریم نے فرمایا:-

    سورة النور 28

    ترجمہ: اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہی تمہارے لئے زیادہ اچھی بات ہے. اللہ اچھی طرح جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ سور النور آیت 28..

  • ضمنی الیکشن کے نتائج اور ان کے اثرات — نعمان سلطان

    ضمنی الیکشن کے نتائج اور ان کے اثرات — نعمان سلطان

    کچھ عرصہ پہلے ایک تحریر لکھی تھی کہ انگلش فلموں میں ولن ہمیشہ انتہائی طاقتور اور ہیرو ایک عام آدمی ہوتا ہے لیکن وہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرتا ہے، وہ سمجھتا ہے آپ اس وقت ہارتے ہیں جب آپ خود ہار تسلیم کرتے ہیں اس لئے وہ آخری وقت تک پرامید رہتا ہے لگاتار ناکامیوں کے باوجود حوصلہ نہیں ہارتا اور جیتنے کے لئے مناسب موقع کی تلاش میں رہتا ہے جب اسے قسمت سے موقع ملتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی ناکامیوں کو کامیابی میں تبدیل کر لیتا ہے ۔

    یاد رکھیں یاد صرف فلم کا اختتام ہی رہتا ہے اور فلم کے اختتام میں حاصل کی گئی ایک کامیابی کی بنیاد پر لوگ اس کی ساری ناکامیوں کو بھول کر اسے ہیرو کا درجہ دیتے ہیں لیکن یہ ایک کامیابی حاصل کرنے کے پیچھے اس کا جوش، جذبہ اور انتھک محنت ہوتی ہے اس لئے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہر شخص میں ایک ہیرو بننے کی صلاحیت ہے صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کسی کام کو ناممکن نہ سمجھیں راستے کی مشکلات سے بددل نہ ہوں ۔

    پاکستان کی سیاست میں ناممکن کو ممکن بنانے والی شخصیت کا نام ہے عمران خان، جنہوں نے سیاست شروع کی تو اپنی الگ سیاسی جماعت بنائی لوگ ان پر ہنسے کہ ایک نوآموز سیاست دان پرانی سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں میں کیسے اپنا مقام بنائے گا یہ عنقریب اپنی جمع پونجی لٹا کر سیاست سے تائب ہو جائے گا یا پرانی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ پر بیعت کر لے گا لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ اس نوآموز سیاست دان نے تمام پرانے سیاست دانوں کی پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا اور اپنی انتھک سیاسی جدوجہد میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کے بلند ترین سیاسی مقام وزیراعظم پاکستان کے منصب پر فائز ہوا ۔

    جس وقت پی ڈی ایم کی جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اپنا وزیراعظم منتخب کرایا تو لوگوں کا خیال تھا کہ اب عمران خان پاکستان کی سیاست سے آؤٹ ہو گئے ہیں لیکن وہ رجیم چینج کا بیانیہ لے کر دوبارہ عوام کی عدالت میں گئے اور عوام کو قائل کیا کہ ان کی حکومت کی تبدیلی کی وجہ خراب طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر برابری کی سطح پر بات چیت کرنا ہے اور ملکی مفاد کے خلاف کسی بھی بات پر انہیں واضح انکار کرنا ہے ۔

    پی ڈی ایم کو قوی امید تھی کہ وہ مہنگائی کو قابو کر کے رائے عامہ کو اپنے حق میں کر لیں گے لیکن ان کی بدقسمتی کہ وہ ایسا نہ کر سکے اسی دوران پنجاب کے ضمنی انتخابات آ گئے جس میں کامیابی کی صورت میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ان کے پاس رہنی تھی اپنا نگران وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود پی ڈی ایم ضمنی انتخابات ہار گئی اور تخت پنجاب ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔

    شکست کا بدلہ لینے کے لئے پی ڈی ایم نے قومی اسمبلی کی ان نشستوں سے پی ٹی آئی اراکین کے استعفیٰ قبول کئے جہاں وہ کم ووٹوں سے انتخابات جیتے تھے تاکہ ان نشستوں کے ضمنی انتخابات میں وہ تمام جماعتوں کا مشترکہ امیدوار کھڑا کر کے تحریک انصاف کا مقابلہ کریں اور انہیں شکست دے کر بتائیں کہ اب تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت میں کمی آ گئی ہے اس وجہ سے عوام نے انتخابات میں انہیں مسترد کر دیا ۔

    عمران خان نے کمال چالاکی سے پی ڈی ایم کی سیاسی چال انہی پر الٹ دی اور تمام حلقوں سے ضمنی انتخاب خود لڑنے کا اعلان کر دیا یہ ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ تھا جس میں ناکامی کی صورت میں تحریک انصاف کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچ سکتا تھا لیکن عمران خان نے رسک لیا اور ضمنی انتخابات میں سات میں سے چھ حلقوں میں فتح حاصل کر کے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کیا جبکہ ساتویں حلقے میں انتخابی بےضابطگیوں کے واضح ثبوت ہونے کی وجہ سے اس حلقے کے انتخابی نتائج کو کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ۔

    ضمنی انتخابات کے نتائج نے عمران خان کی رجیم چینج کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی ہے جبکہ پی ڈی ایم کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچایا ہے جس کا انہیں آنے والے انتخابات میں معلوم ہو گا ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد امید ہے کہ اب عمران خان کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور شاید مقتدر حلقوں نے ابھی تک گلے شکوے دور کرنے کے لئے ان سے رابطے بھی کر لئے ہوں ۔

    اس سارے عمل میں صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی صاحب کا سیاسی کردار بھی ناقابل فراموش ہے آپ نے سیاسی فہم کا ثبوت دیتے ہوئے اس وقت مقتدرہ سے تعلقات قائم رکھے جب آپس میں شدید بداعتمادی کی فضا قائم تھی اور آپ نے تحریک انصاف اور مقتدرہ کے درمیان بداعتمادی کو دور کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان خلیج دور ہوئی اور آپ نے تحریک انصاف کی قیادت کو بھی یہ باور کرایا کہ ملکی مفاد میں فیصلے فرد واحد یا ایک سیاسی جماعت تنہا نہیں کر سکتی بلکہ تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں اور آپس کے تعلقات دیرپا ثابت ہوں امید ہے کہ ان ضمنی انتخابات میں فتح کے ثمرات تحریک انصاف کو عنقریب حاصل ہوں گے ۔

    عمران خان نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ ہیرو بننے کے لئے مضبوط بیک گراؤنڈ نہیں چاہیئے ہوتا اگر آپ میں جذبہ اور لگن ہو، آپ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، ہارنے پر بددل ہونے کے بجائے جیتنے کے لئے اگلی مرتبہ زیادہ جذبے سے میدان عمل میں آنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو آپ ٹیم پاکستان کے بھی کپتان بن سکتے ہیں اور پاکستان کے بھی کپتان بن سکتے ہیں ۔

    بقولِ شاعر

    تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

  • بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی سیاست میں تبدیلی کے نقارے بج اٹھے ہیں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کو لے کر کشیدہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر اوپیکس ممالک نے امریکی صدر کے انتباہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور شاہی خاندان کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ خدشہ ہے کہ عالمی دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان، بھارت سمیت اس خطے پر بھی پڑیں گے۔ تاہم عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کی خبر رکھنے کے باوجود ہمارے حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدان حلال ہے یا حرام ہے کی بحث میں پڑے ہیں،

    حکمران عمران کا مارچ کدھر سے آئے گا کدھر جائے گا کی بحث کر رہے ہیں جبکہ عمران خان خفیہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے کیا ہونے جا رہا ہے اس سے بے خبر ہمارے سیاستدانوں نے وطن عزیز کو کن بین الاقوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے راہزنوں اورر قزاقوں نے اپنی تجوریاں اپنے ذاتی خزانے بھرنے کے لئے ملک اور عوام کے مسائل سے آنکھیں بندکر لی ہیں۔حیرانگی کی بات ملک بحرانوں کا شکار ہے ہمارے سیاستدان اس بحث میں پڑے ہیں نیا آرمی چیف کون ہوگا کون ہونا چاہئے کیسا ہونا چاہئے ؟ ایسے کاموں میں ہاتھ ڈال رہے ہیں جو ان کا کام ہی نہیں ۔

    ملک کا آئین کیا کہتا ہے آئین کے مطابق اور سنیارٹی کے مطابق کون نیا آرمی چیف ہوگا اور پھر یہ معاملہ خالصتاً خود آرمی کا ہے کسی سیاسی جماعت کا نہیں اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں وسیع تر ملکی اور قومی مفاد میں مل کر ماضی میں اپنے تئیں غلطیوں کا اعتراف کریں مکمل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی راہ ہموار کریں۔ کرپشن، بدعنوانی ،ذاتی مفادات ،اقربا پروری کو بالائے طاق رکھ کر قومی خدمت کا تہیہ کریں تمام آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر قائداعظم کے تصور کردہ اصولوں کے مطابق ملکی نظام کو چلائیں ۔ ملک آج بھی بحرانوں کے گرداب سے نکل سکتا ہے۔ پرانی پنجابی فلموں کی طرح مرکزی حکومت اور اپوزیشن بڑھکیں مارنا چھوڑ دیں۔ ملک اور قوم کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ریاست بھی تھک چکی ہے ریاست اب اس طرز سیاست کرنے والوں کی بڑھک بازی کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔

  • پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد کیوں پیش کی؟ — نعمان سلطان

    پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد کیوں پیش کی؟ — نعمان سلطان

    ایک مرتبہ میں رات گئے راولپنڈی (فیض آباد) سے گوجرخان آ رہا تھا موسم سرد تھا اور سونے پر سہاگہ بارش بھی ہو رہی تھی میں جس بس میں سوار تھا اس میں دیگر مسافروں کے علاوہ ایک نائیکہ اور اس کے ہمراہی ایک لڑکی بھی سوار تھی جسے وہ اپنے کسی کرم فرما کے پاس چھوڑنے جا رہی تھی دوران سفر وہ عورت مسلسل دو اشخاص سے فون پر رابطے میں رہی اور بے دھڑک اونچی آواز میں ان سےفون پر باتیں کرتی رہی جس کی وجہ سے اس عورت کے پیشے اور سفر کا مقصد معلوم ہوا ۔

    پہلا شخص جس سے وہ رابطے میں تھی اس نے ایئرپورٹ چوک (کرال چوک) میں اسے ملنا تھا عورت فون پر بضد تھی کہ بارش کی وجہ سے وہ ان کا انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ بے بی کا میک اپ خراب ہو جائے گا اس لئے اگر وہ وقت سے وہاں پہنچ گئے تو ٹھیک ہے نہیں تو وہ گوجرخان دوسرے شخص کے پاس بے بی کو لے کر چلی جائے گی قصہ مختصر وہ شخص وقت پر نہ پہنچ سکا اور عورت گوجرخان چلی گئی بعد میں فون پر شکوے شکایتیں بھی ہوئے لیکن جیت نائیکہ کے موقف کی ہی ہوئی، بس کے مجھ سمیت تمام مسافروں نے اس تمام صورتحال پر کوئی ردعمل نہ دیا بس ان کی ٹیلیفونک گفتگو سن کر قیاس کے گھوڑے دوڑاتے رہے البتہ میں اس بات پر بہت عرصہ حیران رہا کہ وہ عورت کیسے اتنے لوگوں کے بیچ میں بیٹھ کر بے خوف ہو کر دیدہ دلیری سے ایسی باتیں کرتی رہی۔

    پی ڈی ایم نے جب تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ کیا تو اس بات پر میں بہت حیران تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں کمی آئی ہے جبکہ اس وقت ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے مشکل معاشی فیصلے کرنے ہیں جن کی وجہ سے حکمران جماعت کی عوامی مقبولیت میں مزید کمی آنی ہے تو پی ڈی ایم کیوں تحریک انصاف کی حکومت کو تبدیل کر کے ان کی بلا (مشکلات) اپنے سر لینے لگی ہے تو اس کی تین وجوہات تھیں جس کی وجہ سے پی ڈی ایم کو مجبوراً جلد بازی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنی پڑی تھی جبکہ دو دیگر ضمنی وجوہات اور تھیں اگر وہ بھی پوری ہو جاتیں تو لوگوں کی توجہ ان کے اصل مقصد سے ہٹ جاتی اور عام انتخابات میں پی ڈی ایم کو اس کا فائدہ ہوتا ۔

    پی ڈی ایم کی حکومت تبدیلی کی پہلی اور اصل وجہ یہ تھی کہ ان کہ خلاف جتنے بھی عدالت میں کیس تھے ان کے فیصلے آنے والے تھے، پی پی پی اور مسلم لیگ کی قیادت کو یقین تھا کہ یہ فیصلے ان کے خلاف آئیں گے اور شاید وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل ہو جائیں یا انتخابات کے دوران جیل میں قید ہوں، دوسری وجہ الیکشن کمیشن میں ہونے والی اصلاحات اور بائیو میٹرک مشینوں کے بارے میں پی ڈی ایم کا خیال تھا کہ ان کی وجہ سے وہ الیکشن ہار جائیں گے چنانچہ انہوں نے حکومت میں آ کر الیکشن اصلاحات ختم کر دیں اور دوبارہ پرانے طریقے کے مطابق الیکشن کے انعقاد کا حکم دیا جبکہ تیسری وجہ انہوں نے نیب قوانین میں تبدیلی کر کے انہیں اپنے حق میں کیا جس کی وجہ سے انہیں عدالتوں سے ریلیف ملا۔

    اس کے علاوہ پہلی ضمنی وجہ معیشت کی بحالی تھی پی ڈی ایم کی قیادت کی مجبوری تھی کہ حکومت تبدیلی کی اصل وجہ سے توجہ ہٹانے کے لئے وہ کوئی اور مقصد بتائیں تو انہوں نے تحریک عدم اعتماد کی وجہ خراب معاشی صورتحال بتائی اور مشکل معاشی فیصلے کر کے ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کو اپنا ہدف قرار دیا، اس وقت ان کے مدنظر یہ تھا کہ پہلے مفتاح اسماعیل سے مشکل معاشی فیصلے کرا کے الیکشن کے نزدیک اسحاق ڈار کو لا کر عوام کو کچھ معاشی ریلیف دے کر رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر کے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھایا جائے تو اسحاق ڈار نے وطن واپس آ کر وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھال لیا ہے شروع میں ڈالر کی قیمت کم بھی ہوئی تھی لیکن اس کمی کا فائدہ ابھی عوام تک نہیں پہنچا اور اشیائے خورد و نوش اسی طرح مہنگی ہیں شاید آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا اثر مہنگائی پر بھی پڑے اور اشیائے خورد و نوش سستی ہو جائیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کی دوسری ضمنی وجہ نومبر میں ہونے والی اہم تعیناتی کو قرار دیا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت اپنی مرضی کے بندے کی تعیناتی کرنا چاہتی ہے تاکہ بہترین ورکنگ ریلشن شپ قائم ہو اور اس کا فائدہ عام انتخابات میں بھی ہو لیکن مسلم لیگی قیادت کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں مسئلہ ہمیشہ اپنی مرضی کے بندے سے ہی ہوا ہے اس کے علاوہ بظاہر لگتا نہیں کہ وہ تعیناتی کرنے میں خودمختار ہوں گے بلکہ امید ہے کہ وہ صرف ہدایات پر عمل کریں گے اور سب سے آخری بات کہ ادارے کا سربراہ کبھی بھی شخصیات کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ ملکی مفاد میں ادارے میں مشاورت کر کے پالیسی بناتا اور اس پر عمل درآمد کرتا ہے اس وجہ سے تعیناتی چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت کرے لیکن یہ یقین رکھیں کہ ادارے صرف ملک و قوم کے وفادار ہیں ۔

    اب تحریر کے شروع میں بیان کردہ واقعے اور تحریک عدم اعتماد میں مماثلت بیان کرتا ہوں جیسے گاڑی میں سفر کرتی نائیکہ کو معلوم تھا کہ کام میں شرم کس بات کی اس لئے اس نے شرم کو بالائے طاق رکھ کر ڈھٹائی سے اتنے لوگوں کے درمیان اپنا پیشہ، اپنے ساتھ موجود لڑکی سے اپنا رشتہ اور سفر کا مقصد ٹیلیفونک گفتگو میں بیان کر دیا یعنی عزت پر پیسے کو ترجیح دی ایسے ہی پی ڈی ایم کی قیادت نے بھی عزت کے بجائے پیسہ بچانے کا فیصلہ کیا اور اپنے خلاف چلنے والے کیس ختم کرنے کے لئے عوامی ردعمل کی پرواہ کئے بغیر ہر حد تک گئے اور ثابت کر دیا کہ نائیکہ اور ان کی نظر میں اہم عزت نہیں بلکہ پیسہ ہے، یعنی گندہ ہے پر کیا کریں دھندہ ہے.

  • بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    کہا جاتا ہے کسی بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو بھی میری قبر میں ایک دن لیٹے گا اسی آدھی بادشاہت انعام میں دی جائے گی. ہر ایک کی نگاہیں راہ پہ لگی تھیں کہ اب کون اس اعلان کو قبول کرتا ہے. کہیں سے ایک بزرگ نے سنا کہ بادشاہ آدھی بادشاہی دینے لیے تیار ہے اور امتحان ایک رات کا ہے اور پھر میری کل ملکیت یہ ایک گدھا ہی تو ہے. سو اس نے بھی ڈبل شاہ کی طرح سوچا اور پھر یہاں تو انویسٹمنٹ بھی کچھ نہ تھی.

    دربار شاہی میں پہنچا اور آداب بجا لانے کے بعد عرض کی عالیجاہ بندہ ناچیز حاضر ہے.

    اسے خصوصی امتحان کے لیے لیجایا جائے، بادشاہ کی طرف سے جواب آیا.

    رات کا اندھیرا چھا چکا ہے ہر طرف بلا کی خاموشی ہے. کتوں کا غوغا اور الوؤں کی آوازیں ہیں. تھوڑی سی سرسراہٹ بھی صور فیل کی مانند تھی.

    اچانک سے دیوقامت منکر نکیر(مصنوعی) کمرے میں حاضر ہوجاتے ہیں.

    منکر نکیر: تم نے یہ گدھا کس طرح حاصل کیا؟

    پیسے کہاں سے لائے، کس ذریعے سے کمائے تھے؟

    تم نے فلاں وقت بوجھ زیادہ ڈالا اور چارہ کم کیوں دیا؟

    فلاں رات تم نے گدھے پر ظلم کیوں کیا؟ ساری رات سوال و جواب میں گزری اور کیفیت یہ تھی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن. گویا یہ قیامت کا دن تھا.

    الغرض ڈھیروں سوال اور بے چارہ سادہ بزرگ…

    صبح ہوئی تو وہ میدان سے یوں غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ. سوچا ایک گدھا ہے اور اتنے سوال آدھی بادشاہی ملی تو کیا حال ہونا ہے. الأمان والحفیظ

    اگر ایک نظر ملکی سیاست پر ڈالیں تو حیران و پریشان ہوجائیں گے. سال کی طرح 365 سیاسی جماعتیں ہیں اور ہر ایک ملک کو اوج ثریا پہ پہنچانے کے دعوے رکھتی ہے.؛ ور جو اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں وہ صرف باریاں تبدیل کررہے ہیں.

    ملکی معیشت کہاں پہنچی ہے؟

    تعلیم کا معیار کس قدر بلند ہے؟

    انصاف کی فراہمی کتنی بہترین ہے؟

    ملکی وقار و دفاع کتنا مضبوط ہے؟

    لیکن اس بارے میں کسی کو ذرہ برابر پرواہ نہیں ہے. البتہ ہر ایک سیاسی جماعت اقتدار میں ضرور رہنا چاہتی ہے. اور جواب دہی کا خوف اس گدھے والے سے بھی کم ہے. جو اتنی کم ذمے داری کو بھی بہت بڑا سمجھتا ہے اور حکمرانی کو ہلاکت جان سمجھتا ہے.

    اور یہی احساس ذمے داری سے عاری رویہ ہے کہ ہر چیز تباہی کا شکار ہے. اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک ہم سے زیادہ مضبوط معیشت کے مالک ہیں. بدقسمتی سے حکومتوں کی آنیاں جہانیاں لگی ہوئی ہیں اور اس زاویے پہ سوچنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے.

    ہر الیکشن میں بلند بانگ دعوے اور وہ دعوے ہی رہتے ہیں. منصبوں کا افتتاح ہی اپنی سیاسی جدوجہد کا حاصل سمجھا جاتا ہے. ہر ایک حکومت آئی ایم ایف سے مضبوط مذاکرات کی خواہاں رہتی ہے. کبھی عرب ممالک تو کبھی چین اور آئی ایم ایف تو ان کا کامل پیر ہے.

    اپنے اثاثے گروی رکھو، قومی مفادات پہ کمپرو مائز کرو اور ہر بار ڈو مور پر عمل کرتے رہو. اور وہ جب چاہیں جیسے چاہیں تو تمہاری عزت خاک میں ملادیں. نہ بھی کانوں پہ جوں رینگتی ہے اور نہ ہی رگ حمیت بھڑکتی ہے. بس لفظی توپ خانے سے فائر ہوتے ہیں اور ہر طرف خاموشی ہی خاموشی رہتی ہے.

  • ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ‘بس نام رہے گا اللہ کا’، قومی اسمبلی کے 6 حلقوں میں کامیابی کے بعد عمران خان کی انسٹا گرام پر پوسٹ۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی کے 8حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سے 6 میں کامیابی حاصل کرکے 2018 کے عام انتخابات میں 5 نشستیں جیتنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا۔۔۔ اتوار کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے8 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں سے 7 حلقوں میں عمران خان امیدوار تھے اور انہوں نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ایک میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔

    اتوار کے روز ہوئے ضمنی انتخابات میں عمران خان نے این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب اور این اے 239 کراچی سے کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ انہیں این اے 237 ملیر پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پیپلزپارٹی کے بانی و سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بیک وقت 5 حلقوں سے الیکشن لڑ چکے ہیں، انہیں 4 میں فتح اور ایک پر شکست ہوئی تھی۔۔۔

    اس بڑی فتح کے بعد تحریک انصاف کے ووٹر اور سپورٹر کل سے جشن ِفتح کے سرور میں ہیں اور پی ٹی آئی قائدین بشمول عمران خان کی چال ڈھال میں مزید اعتماد اور مستقبل کی فتح کا پختہ یقین جھلک رہا ہے۔۔۔

    جبکہ تیرہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم میں کہیں صفِ ماتم بچھ گئی ہے اور کہیں رویوں میں درشتی کی جھلک نظر آرہی ہے، ایک تذبذب کی کیفیت میں ہیں کہ 6 نشستوں پر ہار کا غم کریں یا 2 نشستوں پر جیت کا جشن منائیں؟

    مریم اورنگزیب، رانا ثناء اللہ اور حنا پرویز بٹ کی سنیں تو جیت کے شادیانے اور عمران خان کو دیتے طعنے سنائی دے رہے ہیں لیکن دوسری جانب تمام جماعتوں کے اتحاد کو ضمنی الیکشن میں شکست پر نواز شریف بہت رنجیدہ ہیں اور ان کا شدید اظہار برہمی نظر آتا ہے۔۔۔ شکست کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی جبکہ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم پارٹی قیادت کی کارکردگی سے شدید نالاں ہیں اور بدترین شکست پر فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔۔۔

    اوردوسری جانب عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ "لانگ مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا۔۔۔ چاہتا ہوں نواز شریف واپس آئیں اور میرے ساتھ مقابلہ کریں،یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں،نواز شریف اور زرداری 90 کی سیاست کر رہے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں ملک بدل چکا ہے، نواز شریف اور زردای کا وقت ختم ہو چکا ،جو مرضی کر لیں شکست ان کے حصے میں آئے گی.”

    لانگ مارچ کے اعلان کے حوالے سے عمران خان کا مزیدکہنا تھاکہ

    "ملک کے مسائل کا ایک ہی حل ہے ، صاف اور شفاف الیکشن، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا معیشت ٹھیک نہیں ہونے لگی، یہ ملک کو نہیں سنبھال سکتے، یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، اب بھی کہتا ہوں کہ یہ وقت ہے الیکشن کا اعلان کرنے کا، اگرالیکشن کا اعلان نہیں کریں گے تو میں مارچ کا اعلان کروں گا۔۔۔میں وقت دے رہا ہوں، ہم نے جلسے کیے ہیں اور دکھادیا ہے کہ عوام کہاں کھڑی ہے، سری لنکا میں کیا ہوا ؟ سری لنکا ڈھائی کروڑ کا ملک ہے اور یہ 22 کروڑ کا ہے، جب عوام سڑکوں پر آجائے گی تو اس کی گارنٹی نہیں کیا نتیجہ آئے گا۔”

    اس موقع پر ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ لانگ مارچ سے اگر مارشل لگ گیا تو؟ اس پر سابق وزیراعظم نے کہاکہ

    "فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے وقت تومارشل لاء نہیں لگا۔”

    اس پر رہنما مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ

    ” آپ کے ضمنی الیکشن میں جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو غیر آئینی کام کا لائسنس مل گیا ہے، اگر آپ نے غیر آئینی کام کیا اور جتھہ کلچر یا اسلام آباد پر چڑھائی کی تو آپ کو پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دیا جائےگا، اگر آپ یہ راستہ کھولیں گے تو پھر آپ یہ بھول جائیں کہ صرف آپ کو اس راستے پر چلنا آتا ہے، الیکشن حاصل کرنے ہیں تو ٹیبل پر آئیں پارلیمنٹ آئیں۔۔۔ آپ کو نہیں پتا کہ آپ نےکیا کرنا ہے، ہمیں پتا ہے کہ آپ کے ساتھ کیا کرنا ہے، ہم جمہوریت اور رول آف لا کا تحفظ کریں گے، آپ ملک میں افرا تفری چاہتے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس رویے کو روکیں گی، یہ رویہ قابل مذمت ہے، یہ فتنہ فساد ہے۔۔۔”

    اور کل پاکستان کی عدالتوں میں تین اہم کیسز کی کاروائی بہت دلچسپ رہی، اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ملا ریلیف، ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا دلائل سننے کے بعد مسترد کردی گئی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور بغیر ثبوت کے انہیں اشتہاری قرار دینے پر اینٹی کرپشن پنجاب پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔۔۔اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان عدالت میں پیش ہوئے جہاں عمران خان کے وکلا کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکا جائے،جس پر عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی، عدالت نے 31 اکتوبر تک عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی ہے، یاد رہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی کل تک حفاظتی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

    یہ سب ملک و قوم کو کس جانب لیکر جائے گا اور نتیجہ کیا نکلے گا اس کا فلحال کوئی اندازہ لگانا بہت مشکل اور قبل از وقت ہے لیکن ملک پر جس طرح ڈیفالٹ کے کالے سائے منڈلا رہے ہیں انکے رہتے ہمارے سیاستدانوں اور انکی حامی عوام کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے تاکہ ملک کسی درست سمت پر گامزن ہوسکے۔

    دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ، کیا عمران خان اور پی ڈی ایم کی نوک جھوک کوئی نیا رنگ اختیار کرتی ہے ؟ کیا ملک کے ادارے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ملک کو ممکنہ بحران سے بچا سکیں گے؟