Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری اس کائنات میں کھربوں ستارے ہیں جن میں سے سورج بھی ایک عام سا ستارا ہے۔ جس طرح سورج کے گرد آٹھ سیارے (جن میں زمین بھی شامل ہے)، جو گردش میں ہیں اور ملکر نظامِ شمسی بناتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی کئی اور اربوں ستاروں کے گرد سیارے گھوم رہے ہیں۔ان سیاروں کو Exoplanets کہا جاتا ہے۔ تو ان میں سے کوئی ایسے سیارے بھی ہیں جن پر کسی صورت میں انسان یا انسانوں جیسی مخلوق ہو؟

    نوے کی دہائی تک ہمارے پاس ٹیکناکوجی نہیں تھی کہ ان دور افتادہ Exoplanets کی تصاویر لے سکیں۔

    وجہ یہ کہ ستاروں کے مقابلے میں سیارے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور یہ خود روشنی پیدا نہیں کرتے بلکہ اسے منعکس کرتے ہیں۔

    انہیں ڈھونڈنے کا ایک طریقہ جو سائنسدانوں نے نکالا وہ یہ تھا کہ آپ مسلسل کسی ستارے کی تصاویر لیں اور جب انکے سامنے سے کوئی سیارہ گردش کرتے ہوئے گزرے تو ستارے سے آنے والی روشنی میں ہلکی سی کمی ہو۔ اس معمولی سی کمی کی پیمائش کے لیے مگر بہت ہی حساس دوردبینں اور آلات چاہئیں۔

    تو سائنسدانوں نے آخر کار ایسی دوربینیں اور ایسے طریقے ڈھونڈ نکالے جن سے ہم Exoplanets کو تلاش کر سکیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا ان Exoplanets میں سے کوئی ہماری زمین جیسا ہے جہاں زندگی پنپتی ہو۔انسان یا انسانوں سے زیادہ تہذیب یافتہ مخلوق بستی ہو؟

    اسے معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

    جس طرح ہر انسان کی اّنگلیوں کے نشان دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی ہر عنصر، گیس، یا مالیکیول کا ایک فنگر پرنٹ ہوتا ہے۔

    کیسے؟ یوں کہ جب سفید روشنی(مثال کے طور پر سورج کی) کسی بھی ایٹم یا مالیکیول پر پڑتی ہے تو اسکا کچھ حصہ وہ جذب کر لیتا ہے اور کچھ حصہ منعکس۔ یہ اس کا سپیکٹرم کہلاتا ہے۔جس رنگ کی روشنی کو وہ جذب کرتا ہے اور جس رنگ کی روشنی کو منعکس، یہ اُسکا جداگانہ فنگر پرنٹ ہے جس سے اسکی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    اب اگر ہم دور افتادہ کسی Exoplanets کی کسی حساس ٹیلی سکوپ سے تصویریں لیں تو اُسکی فضا سے گزر کر ہم تک پہنچتی روشنی ہمیں اُسکی فضا میں موجود گیسیس، عناصر اور مالیکیولز کا پتہ دے سکتی ہیں۔

    مثال کے طور پر اگر کوئی دور خلاؤں میں سے ہماری زمین کی تصاویر لے تو وہ ہماری فضا سے گزرتی روشنی کو اس طریقے سے جانچ کر یہ بتا سکتا ہے کہ یہاں آکیسجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، نائٹروجن اور میتھین وغیرہ وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔

    علاوہ ازیں وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ہم کیا کوئی تہذیب یافتہ مخلوق ہیں کیونکہ کچھ گیسیس قدرتی طور پر نہیں بلکہ صرف اور صرف مصنوعی طور پر ہی تیار ہوسکتی ہیں۔ کچھ انسانی ترقی یا کھیتی باڑی کے باعث۔

    مثال کے طور پر ایمونیا۔ یا اگر ہم کھیتی باڑی کے لئے مصنوعی کھاد بناتے ہیں تو نائٹرس آکسائڈ۔

    2021 کے آخر میں سائنسدانوں نے James Webb Telescope لانچ کی جو اس وقت سورج کے گرد مدار میں ہے۔

    اس ٹیلیسکوپ سے ہم کئی نوری سال دور مختلف Exoplanets کی فضاؤں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

    اور شاید یہ جان پائیں کہ کس سیارے پر کھیتی باڑی یا صنعتی ترقی ہو رہی ہے یا ماضی میں وہاں کوئی مخلوق بستی تھی۔

  • موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    دنیا کی سب سے خوبصورت موٹیویشن ماں اور باپ ہیں ۔ آپ اگر بچے ہیں تو موٹیویشن باہر کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ؟

    ماں آپ کو بے لوث ان تھک محبت کرنا یہ محبت کر کے سکھاتی ہے۔ یہ آپ کو رشتہ نبھا کر رشتہ بنانا سکھاتی ہے۔ باپ اپنی زندگی آپ کیلئے گزار کر آپ کو زندگی گزارنا سکھاتا ہے۔ ان کی صبح شام آپ کیلئے ہوتی ہے آپ لیکن ان کی زندگی میں کہاں ہیں ؟

    آپ بڑے ہیں تو اولاد آپ کی موٹیویشن ہے۔ کیونکہ موٹیویشن کی ضرورت ہمیشہ کسی مقصد کیلئے ہوتی ہے ۔ اولاد کی پرورش سے بڑا اور اہم مقصد کیا ہوگا ؟ جینے کا مقصد اگر زندگی میں ہے تو آپ کہاں ہیں ؟ ہم اکثر جینے کی موٹیویشن باہر ڈھونڈتے ہیں ۔ باہر سے ایک دوسرے کو تسلی ترتیب و ترکیب تو مل سکتی ہے ۔ موٹیویشن نہیں ملتی۔

    اپنی موٹیویشن گم نہ کردیں اس کیلئے اپنی موٹیویشن کی دنیا میں خود کو دستیاب رکھیں ۔

  • ایپرٹ سنڈروم (Apert Syndrome) اور سنڈیکٹلی (syndactyly) — خطیب احمد

    ایپرٹ سنڈروم (Apert Syndrome) اور سنڈیکٹلی (syndactyly) — خطیب احمد

    ایپرٹ سنڈروم رئیر ڈی زیزز (Rare Disease) کی کیٹگری میں شامل ہے۔ کہ دنیا بھر میں یہ سپیشل کنڈیشن بہت کم ہوتی ہے۔ اسے ایک اور نام ایکرو سیفیلو سنڈیکٹلی ٹائپ 1

    acrocephalo syndactyly type 1

    بھی کہا جاتا یے۔ یہ craniosynostosis سنڈروم سے مشابہت بھی رکھتا ہے۔ اس سے متاثرہ بچے کی شکل اور ہاتھ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

    اسے دانشورانہ پسماندگی (Intellectual disabilities) کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔

    یہ کنڈیشن وراثت میں autosomal dominant ہے۔ یعنی والدین کو نہیں بھی ہوگا فیملی ہسٹری میں نہیں ہے تو بھی ہو سکتا ہے۔ ان بچوں کی مشترکہ خصوصیات میں

    آنکھیں بڑی بڑی باہر کو نکلی ہوئی ہوتی ہیں،

    اوپری جبڑا ٹھیک سے نہ بنا ہونے کی وجہ سے دانت ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوتے ہیں۔

    کئی کیسز میں ایسے ہی نیچے والا جبڑا بھی ہوتا ہے۔

    ناک طوطے کی چونچ کی طرح اوپر اٹھی ہوئی گول مٹول سی ہوتی اسے Beaked Nose کہا جاتا ہے۔ رنگ عموماً سفید و سرخ ہوتا ہے۔

    اوور آل چہرہ درمیان سے نیچے بیٹھا ہوا چپٹا سا ہوتا ہے۔

    کھوپڑی نارمل شیپ سے مختلف ہوسکتی عموماً کون کی شکل ہوتی ہے۔ ڈاکٹری زبان میں turribrachycephaly
    کہا جاتا ہے۔ کھوپڑی بہت بڑی یا بہت چھوٹی یا ٹیڑھی میڑھی سی کہیں سے اونچی کہیں سے نیچی ہو سکتی ہے۔

    سنڈیکٹلی (syndactyly) کیا ہے؟

    ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہی جڑی ہوئی ایک کنڈیشن اور ہے جو ایپرٹ سنڈروم کے بغیر بھی ہوسکتی ہے۔ اسے سنڈیکٹلی کہا جاتا ہے۔ ایپرٹ سنڈروم اور سنڈیکٹلی 99 فیصد کیسز میں ایک ساتھ ہوتے ہیں۔

    اس میں پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی دو دو یا تین تین انگلیاں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ نوے فیصد رنگ فنگر اور ساتھ والی انگلی جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ شہادت انگلی اور چھنگلیا جسے پنجابی میں چیچی کہتے الگ ہوتی ہیں۔ اور انگوٹھا بھی آزاد ہوتا ہے۔ مگر 5 فیصد کیسز میں چھنگلیا کو چھوڑ کر تینوں انگلیاں جڑی ہوتی ہیں۔ اور پاقی 5 فیصد میں چاروں انگلیاں ہی جڑیں ہوتی ایک بڑی سی انگلی بنی ہوتی ہیں۔ اور انگوٹھا الگ ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ آگے چل کر دیکھتے ہیں۔

    آبادی میں کتنے فیصد ایپرٹ سنڈروم ہیں؟

    مختلف سٹڈیز بتاتی ہیں کہ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ بچوں کی پیدائش کی ریشو ہر 65 ہزار میں سے ایک بچہ ہے یعنی 2 لاکھ میں سے 3 بچے ایپرٹ سنڈروم کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اسی ریشو کا حساب کیا جائے تو 22 کروڑ میں سے 3 ہزار سے 32 سو کے آس پاس لوگ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں National Organization for Rare Disorders (NORD) کے مطابق ہر 165،000 سے 200،000 بچوں میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ وہاں کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق 65 ہزار سے 88 ہزار بچوں میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    فیملی ہسٹری کے بغیر بھی یہ سنڈروم بچے میں آ سکتا ہے۔ اگر والدین میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم ہو تو 50 فیصد چانسز ہوتے ہیں بچے میں ایپرٹ سنڈروم منتقل ہوگا۔ اسی لیے انکی شادیوں کو سپورٹ نہیں کیا جاتا۔

    یہ ایک جینیٹک کنڈیشن ہے۔ جیسے کسی سافٹ ویئر یا موبائل ایپ کی کوڈنگ ہوتی ہے ناں؟ بالکل اسی طرح ہمارا وجود جب پانی کا ایک گندہ قطرہ ہوتا ہے۔ جو ماں کے رحم میں بیضے سے ملاپ کرتا ہے۔ تو خدا کی ذات اس سپرم اور بیضے کے ملنے بننے والے زائیگوٹ میں ایک سسٹیمیٹک کوڈنگ کرتی ہے۔ جسے ہم DNA کے نام سے جانتے ہیں۔

    ڈی این اے میں آدھی جنیٹک انفارمیشن ماں کی طرف سے اور آدھی باپ کے جینز سے آتی ہے۔ ڈی این اے ایک کوڈنگ سسٹم ہے جو ہماری ازل سے ابد تک کی ساری انفارمیشن ہمارے مرنے کے ہزاروں لاکھوں سال بعد تک بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اور جینز اسکے مزید پارٹ ہیں۔ جینز پانی کے اس قطرے سے ہماری شکل عقل رنگ روپ قد کاٹھ جسامت بنانے میں ڈی این اے میں محفوظ کوڈنگ پر عمل کرتے ہیں۔

    پانی سے خون اور پھر گوشت کا لوتھڑا بننے کے دوران جینز میں کئی تبدیلیاں اور تغیرات آتے ہیں۔ ڈی این اے نہیں بدلتا وہ وہی رہتا ہے۔ اب کونسے جین میں میوٹیشن mutation ہوئی ہے؟ وہ طے کرتی ہے کہ مسئلہ کہاں ہوگا؟ اگر سب جینز بالکل ٹھیک رہیں تو ہم بغیر کسی جسمانی عارضہ کے پیدا ہوتے ہیں۔

    ایپرٹ سنڈروم میں
    fibroblast growth factor receptors 2 (FGFR2)

    نامی جین میں کوئی تبدیلی یا خرابی واقع ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ جینز پروٹین بناتے ہیں اور وہ پروٹین آگے ہڈیوں اور اسکن کے سیلز بناتی ہے۔ یہ والا FGFR2 جین ہڈیوں کی مجموعی ڈیویلپمنٹ کے سگنل دینے کا کام کرتا ہے۔ یعنی یہ جین ہی ہماری ہڈیاں بنانے کا ذمہ دار ہے۔ اب اس میں خرابی کے باعث پروٹین سے اگلے مرحلے میں ہڈیاں بننے کے عمل میں ہمارے ڈھانچے کو ملنے والے سگنل اپنے نارمل دورانیے سے لمبے عرصے تک ملتے رہتے ہیں۔ تو کھوپڑی کی ہڈیوں کو یہ جین وقت سے پہلے ہی بند کر دیتا ہے۔

    اور اوپر ریشے چڑھا دیتا ہے۔ یہ عمل نارمل گروتھ پیٹرن میں چند سال کی عمر میں ہونا تھا۔ جو ماں کے پیٹ میں ہی ہو گیا۔ اب کھوپڑی بڑی ہونے لگتی ہے۔ تو مسلز کے گچھے اسے بڑھنے نہیں دیتے روکتے ہیں۔ ان مسلز کی انفارمیشن کے مطابق برین مکمل ہوچکا ہے جبکہ ہوا نہیں ہوتا۔ اور کھوپڑی ابنارمل طریقے سے بڑی ہونا شروع ہوتی ہے۔ جہاں سے اسے موقع ملتا ہے بڑھ جاتی ہے۔ بلکہ کئی بچوں کی کھوپڑی ڈیمج ہوجاتی ہے۔ ہاتھوں پاؤں کی انگلیوں میں موجود ہڈیاں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ اور جسم کی باقی ہڈیوں میں بھی کسی حد تک کوئی بگاڑ آ سکتا ہے۔

    اسی جین FGFR2 میں خرابی کی وجہ سے چند اور منسلکہ ڈس آرڈر بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ

    Pfeiffer syndrome
    Crouzon syndrome
    Jackson-Weiss syndrome

    ایپرٹ سنڈروم مردوں اور عورتوں میں برابر پایا جاتا ہے۔

    تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

    ایک بات یاد رکھیں بیسویں ہفتے میں حاملہ ماں کا الٹرا ساؤنڈ کسی میل ریڈیالوجسٹ سے کلر ڈاپلر ٹو ڈی یا تھری ڈی کے ساتھ ضرور کروائیں۔ گائنا کالوجسٹ کو الٹرا ساؤنڈ کا اتنا علم نہیں ہوتا۔ جتنا ایک ریڈیالوجسٹ کو۔ اور میل کی معاملہ فہمی و ایسے سکینز کی تشخیص فی میل سے ہر معاملے میں کچھ بہتر ہی ہوتی ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے آپ اس سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔ حمل کے چھٹے ماہ میں ڈھانچے کا سکین کرنے سے پتا چل جاتا ہے کہ بچہ ایپرٹ سنڈروم ہے یا نہیں۔ کوئی اور بھی سپیشلٹی ہو تو ڈاکٹر بتا دیتے ہیں۔ کھوپڑی ٹھیک نہ بنی ہو تو نظر آ رہی ہوتی۔ یا پیدا ہونے پر ہی معلوم ہوجاتا کہ بچہ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہے۔ پیدائش کے بعد سی ٹی سکین سے ہڈیوں میں خرابی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ایورج عمر کتنی ہو سکتی؟

    عموماً ایپرٹ سنڈروم کا شکار بچے باقی مقامی لائف سپین کے مطابق عمر گزارتے ہیں۔ ایورج عمر اتنی ہی ہوگی جتنی انکے باقی بہن بھائیوں کی۔ البتہ دل کا کوئی مسئلہ ہو تو وہ الگ بات ہے۔

    ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ بچے کو مسائل کیا ہوتے ہیں؟

    مسائل بہت زیادہ ہیں جو ساری عمر در پیش رہ سکتے ہیں۔ والدین یا سرپرست کو اس بات کو دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہ بچہ ساری عمر سپیشل اٹینشن اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے زیر سایہ ہی رہے گا۔

    سماعت کا جزوی یا کلی طور پر نہ ہونا
    بولنے میں دشواری ہونا
    شدید ایکنی Acne ہونا جس سے پورے جسم چہرے گردن پر دانے اور پمپل بن جانا
    بہت زیادہ پسینہ آنا
    گردن میں سپائنل بون کا جڑا ہوا ہونا جو قد کو بڑھنے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے
    آئلی سکن ہونا
    پلکیں اور بھنویں بہت اکثر کم یا نہ ہونا
    گروتھ اور ڈیویلپمنٹ میں شدید تاخیر ہونا
    تالو کا کٹا ہوا ہونا یعنی Cleft palate
    آئے روز کانوں کا انفیکشن ہونا۔
    معمولی سے لے کر درمیانے لیول کی دانشورانہ پسماندگی intellectual disabilities ہونا۔

    علاج کیا ہے؟

    ہر بچے کا علاج مختلف ہوتا ہے۔ عمر کے ابتدائی دو سالوں میں سرجری کرکے برین کو بڑھنے سے روکنے والے مسلز کو کافی حد تک ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ چہرے کی سرجری کرکے جبڑوں اور چہرے کی دوسری ہڈیوں میں موجود خلا یا بگاڑ کو بھی درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن چیک اپ ساری عمر جاری رہیں گے یہ کنڈیشن بلکل ٹھیک کبھی نہیں ہوگی۔ جن چیزوں میں بہتری لائی جا سکتی ان میں

    بصارت کے مسائل کا بہتر ہونا
    گروتھ اور ڈیویلپمنٹ میں تاخیر کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے
    دانتوں کے ابنارمل پیٹرن کو درست کیا جا سکتا ہے

    تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

    دانشورانہ پسماندگی نہ ہو یا ذہانت کم ہو تو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق یہ بچے نارمل یا سپیشل ایجوکیشن سیٹ اپ میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

    شادی کر سکتے ہیں؟

    بلکل کر سکتے ہیں۔ مگر انکی شادیاں دنیا بھر میں کم ہی ہو پاتی ہیں۔ اگر شادی کریں تو کوشش کریں بچے نہ پیدا کریں۔۔

    مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں” سے اقتباس

  • موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں  — اشرف حماد

    موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں — اشرف حماد

    ’’پیش گوئی ‘‘ یا پشین گوئی فارسی ترکیب ہے یعنی دو فارسی لفظوں کا "معجون” مرکب۔ پیش کے معنی ہیں آگے یا سامنے اور گوئی کے معنی ہیں بات یا باتیں کہنا۔ اسی لیے جب کسی کے آگے یا سامنے کوئی چیز رکھتے ہیں تو اسے پیش کرنا کہتے ہیں۔ یا ماڈرن انداز میں Present کرنا کہتے ہیں۔ جیسے پیشِ خدمت ، پیش رو (یعنی آگے جانے والا)، پیشِ نظر(یعنی نظر کے سامنے)، پیش قدمی (یعنی قدم آگے بڑھانے کا عمل)اور پیش کار وغیرہ۔

    پیش امام میں بھی یہی "پیش” نتھی کیا گیا ہے یعنی ’’آگے‘‘ ہے کیونکہ وہ نماز میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔ یا اسے آگے کھڑا کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اسے پیش امام کہتے ہیں۔ پیش امام تو اہل تشیع کا با اختیار ہوتا ہے۔ جب کہ سنیوں کا پیش امام "ڈیجیٹل” ہوا کرتا ہے۔ سلو یا فاسٹ ڈیجیٹ کے حساب سے وہ امامت کراتا ہے۔ ان ڈیجیٹس کا استعمال مسجد کمیٹی کے ریٹائرڈ ممبران بخوبی استعمال کر سکتے ہیں۔

    اسی طرح "پیش بینی” کے معنی ہیں پہلے سے دیکھ لینا اور اس سے مطلب ہے دُور اندیشی یا آنے والے حالات کا پہلے سے اندازہ کرلینا۔ دور اندیش اصل میں گھر کے بڑے بوڑھے ہوتے ہیں۔ حالانکہ نزدیکی نظر ان کی کمزور ہوتی ہے، لہٰذا انہیں عینک کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور بہت زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ مگر دور کی نظر ان کی بہت تیز اور تیر بہدف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول سعدی شیرازیؒ جو کچھ جوان آئینہ میں دیکھتا ہے وہ یہ بزرگ حضرات خشتِ خام تو کیا کنکریٹ دیوار میں بھی دیکھ سکتے ہیں، جیسے یو ٹیوب کے ایچ ڈی ویڈیوز۔

    فارسی میں اسم کے آگے ’’ین ‘‘ لگانے سے صفت بنائی جاتی ہے، جیسے نمک سے نمکین، رنگ سے رنگین،زر سے زرّین یا زرّیں، عنبر سے عنبرین، مطلب عنبر سیب سے سیب عنبرین وغیرہ۔ پتہ نہیں سیب عنبر کے متعلق کس نے بد گوئی کی تھی کہ یہ سرے سے ناپید ہوا بلکہ ناپید کیا گیا۔ اب تو یہ کسی دلہن کے خواب میں بھی نہیں آتا تاکہ اس کے بیٹا پیدا ہو جاتا۔

    اسی اصول پر لفظ پیش (پ ے ش)سے فارسی میں صفت بنی ’’پیشیِن‘‘ (پ ے ش ی ن ) ،جس کے معنی ہیں اگلا یا آگے کا، سامنے کا، پہلا۔ اسے اردو میں ’’پیشین ‘‘یعنی اعلان ِ نون کے ساتھ بھی لکھتے ہیں اور’’ پیشیں ‘‘یعنی نون غنے کے ساتھ بھی۔ لفظ پیشین سے ترکیب بنی ہے پیشین گوئی ،لفظی معنی ہیں پہلے سے کہنا ۔ جب آگے آنے والے واقعا ت و حالات کے بارے میں ان کے رونما ہونے سے پہلے بتادیا جائے تو اسے پیشین گوئی کہتے ہیں ۔جو شخص آنے والے حالات کے بارے میں پہلے سے کچھ بتا دے اسے پیشین گو کہتے ہیں، چاہے وہ سیاسی واردات ہوں یا موسم کا حالِ بد ہو۔

    لیکن ’’مستقبل کے حالات کی پہلے سے خبر دینا ‘‘کے معنوں میں پیشین گوئی بہتر ہے۔ البتہ آج کل ٹی وی پر خبریں پڑھنے والے بعض حضرات اسے ’’پیشن ‘‘ گوئی بولتے ہیں، مثلاً محکمۂ موسمیات نے بارش کی ’’ پیشن گوئی ‘‘ کی ہے ، یعنی نہ پیش اور نہ پیشین بلکہ ایک نیا خود ساختہ لفظ پیشن بولا جارہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کشمیریوں نے ظہر کو پیشن میں بدل دیا ہے۔

    لفظ پیش گوئی کی تاریخ پرانی ہے۔ اگلے وقتوں میں تنجیم داں ہوا کرتے تھے جو مستقبل کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے تھے۔ پھر جمشید کے پیالے میں گلوبل ولیج دیکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں شاہ نعمت اللہ علیہ رحمہ نے پیشین گوئیاں کیں جو ایک ایک کرکے پوری ہو رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کشمیریوں اور کشمیر کے متعلق ان کی پیشین گوئیوں میں Delay Tactics سے کام لیا جارہا ہے۔
    پیشین گوئیاں موسمی، سیاسی، سماجی، نوکر شاہی اور کنبے کے "پنڈت” کرتے آئے ہیں، مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ اور گھبرائے گا نہیں وہ یہ فریضہ بلا معاوضہ انجام دیتے رہیں گے۔
    بہرحال پیشین گوئیاں تب بھی تھیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ مگر اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں ان کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کو سب زیادہ ہائپ دی جارہی ہے جس سے زندگی کا کارواں رکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پیش گوئی ایک اندازہ ہے، امکان ہے۔ اسے ایسا ہی رہنے دیں۔ اس پر افواہیں پھیلا کر سیاست نہ کی جائے۔ یہ آپ کا اس مظلوم قوم پر بڑا احسان ہوگا۔

  • مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ایسے شہابیے گرتے رہتے ہیں جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ فضا میں رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ وہ شہابیے جنکا وزن 10 گرام وزن سے بھی کم ہو اُنکی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یہ شہابیے زیادہ تر نظامِ شمسی کے مریخ اور مشتری کے بیچ موجود ایسٹرائیڈ بیلٹ سے آتے ہیں۔ایسٹرائیڈ بیلٹ مریخ اور مشتری کے درمیان وہ علاقہ ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں بڑے چھوٹے شہابیے موجود ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نظامِ شمسی کے مختلف سیاروں پر یا اُنکے چاندوں پر جب کوئی بڑا شہابِ ثاقب گرتا ہے تو انکی سطح سے کچھ ٹکڑے خلا میں بکھر جاتے ہیں۔ اور پھر یہ کروڑوں میلوں کی مسافت طے کر کے زمین پر آ گرتے ہیں۔

    ایسا ہی کچھ مریخ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب مریخ پر بڑے شہابِ ثاقب گرتے ہیں تو یہ مریخ کی سطح کا معمولی سا حصہ ، پتھر، یا چٹان کا ٹکڑا تیزی سے مریخ کی گریوٹی سے نکل کر خلا میں نکل جاتا ہے اور سفر کرتے کرتے زمین پر آ گرتا ہے۔ مریخ سے نکلے یہ چٹانوں کے ٹکڑے جو شہابیوں کی شکل میں ہوتے ہیں زمین پر کئی جگہوں پر گرتے ہیں جن میں خاص طور پر انٹارکٹیکا اہم ہے۔ کیونکہ وہاں پر انہیں ڈھونڈنا قدرے آسان ہے مگر بالعموم یہ زمین پر ہر جگہ گرتے ہیں۔

    اب تک تقریباً 277 ایسے شہابیوں کی شناخت کی جا چکی ہے کہ یہ مریخ سے زمین پر آئے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا شہابیہ افریقہ کے ملک مالی میں 2021 میں گرا۔ اس شہابیے کا وزن تقریباً 14.5 کلو گرام یے۔

    مگر ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہ شہابیے مریخ سے آئے ہیں؟ اسکا جواب ہے انکی اندر موجود عناصر اور انکے آئسوٹوپس کی مدد سے۔

    مریخ تک اپ تک کئی روبوٹک مشنز بھیجے جا چکے ہیں اور مریخ کے گرد مدار میں ناسا کے سپیس کرافٹ بھی موجود ہیں۔ یہ سب مریخ کی سطح اور اِسکی چٹانوں کی ساخت اور ان میں موجود عناصر اور اُنکے آئسوٹوپس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ مریخ کی فضا کا بھی جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ سو اگر ہم زمین پر گرنے والے شہابیوں کا تجزیہ کریں اور ان میں وہی عناصر اور اُسی طرح کی کمپوزیشن ہو جو مریخ کی چٹانوں کی ہے تو ہم بہتر انکان کے ساتھ بتو سکتے ہیں کہ یہ مریخ سے آئے ہیں۔

    مریخ سے آئے یہ مہمان سائنسدانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ کیونکہ انکے تجزے سے وہ جان سکتے ہیں کہ کیا مریخ پر ماضی میں زندگی موجود تھی اور کیا اب بھی کسی شکل میں مریخ پر کوئی زندگی کسی شکل میں موجود ہے یا نہیں؟

    گو کچھ شہابیوں میں مریخ پر ماضی میں زندگی کے حوالے سے آثار ملے ہیں مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہابیے کئی ہزار سال پرانے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ زمین پر گرنے جے بعد یا زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے ان می کوئی زمینی مائیکروب یا کوئی چھوٹے کیڑے وغیرے داخل ہو چکے ہوں اور پھر یہ کئی ہزار سال گزرنے کے بعد فوسل کی شکل اختیار کر گئے ہوں۔ لہذا حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان شہابیوں میں موجود ماضی میں زندگی کے آثار مریخ کی زندگی کے ہیں یا زمین کی زندگی کے۔ یہی وجہ ہے کہ 2021 میں ناسا نے مریخ پر پروزیرورینس روور بھیجی ہے جو وہاں کی چٹانوں اور سطح کے تجزیے کے ساتھ ساتھ وہاں کی سطح کے کئی سیمپل بھی اکٹھے کر رہی ہے۔ جنہیں مستقبل کے کسی ممکنہ مشن میں زمین پر واپس لایا جائے گا اور اِنکا بہتر طور پر تجزیہ کیا جا سکے گا۔

  • میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    پاک آرمی اور مسلح افواج کے سربراہان کی میرٹ اور سنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ہے جس کے دور رس نتائج اور ثمرات ملک و قوم کو ملیں گے۔ مسلح افواج کی موجودہ اور آئندہ قیادت ایک عرصے سے یقین دہانیاں کرا رہی ہے کہ افواج پاکستان غیر سیاسی اور نیوٹرل رہنا چاہتی ہیں اور سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں اور مسلح افواج کو سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔ قربان جاؤں میں اپنے میڈیا ہاؤسز اور اینکر پرسنز ، سوشل میڈیا پر جنہوں نے عسکری تقرریوں کے فوراً بعد اپنی اپنی سکرینوں پر سرشام اپنی اپنی بزم سجا کر ایک نئے جذبے سے مباحثے چھیڑ کر بلاضرورت تبصرے اور تجزیئے شروع کردیئے ۔ کیا ملک و قوم کے یہی ایشوزرہ گئے ہیں؟

    اس وقت اسلام آباد اور پنجاب میں سیاسی رہنمائوں نے اپنی من پسند انتظامی افسران اور پولیس افسران کو تعینات کر کے نہ صرف پنجاب بلکہ اسلام آباد کی معصوم عوام کو چوروں، ڈاکوئوں، لینڈ مافیا اور دیگر معاشرتی جرائم پیشہ کے حوالے کر دیا ہے۔ پنجاب کے سلطان وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور پی ٹی آئی کو نوجوان نسل جو پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں کے کالجز میں پڑھ رہی ہے پروفیسروں کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ کم عمر مزدوروں کی کھیپ آبادی میں اکثریت حاصل کر رہی ہے ۔ بیماریوں میں مبتلا بوڑھے ،بچے ،خواتین سندھ، بلوچستان، پنجاب ، کے پی کے اور گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں میں صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ غربت، بیروزگاری ، جہالت، جرائم میں بے پناہ اضافہ یہ وہ ایشوز ہیں جو عام آدمی کے ایشوز ہیں۔ عام آدمی کے مسائل کو پس پشت ڈال کر سیاسی پنڈت اور میڈیا عسکری تقرریوں کو موضوع بحث لاکر کون سی عوامی خدمت سرانجام دینے جا رہی ہے

    آدھی سے زیادہ آبادی کو اور بچوں کو ملاوٹ شدہ دودھ پلایا جا رہا ہے۔ جعلی ادویات، ملاوٹ شدہ خوراک، ذخیرہ اندوزی، زمینوں پر قبضے، سول بیورو کریسی کے ناز نخرے، نام نہاد سیاسی رہنمائوں کا غرور اور تکبر۔ خدا راہ اس ملک اور اس کی عوام پر رحم کریں کسی بھی ملک کی طاقت اور رونق عوام ہوتی ہے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • کزن میرج اور معذوری — خطیب احمد

    کزن میرج اور معذوری — خطیب احمد

    ہم میں سے اکثر کے پاس شادی کے لیے maximum پانچ آپشن ہوتے ہیں۔ اماں کی طرف سے خالہ یا ماموں کی بیٹی یا بیٹا۔ کہ بیٹا ان میں سے ایک چن لو یا بچپن میں ہی سوچ لیا جاتا۔

    اگر ابا کی سائیڈ پر بات کریں تو باقی تین آپشن چچا تایا اور پھوپھی کی بیٹی یا بیٹا کی آپشن آتی ہے۔

    ہم اور ہمارے والدین بچپن سے ان پانچ آپشنز میں اپنا ذہن سیٹ کرتے ہیں کبھی ہمارا بھی ہوجاتا اور نا بھی ہو تو بچوں کی رائے کی کم ہی پرواہ کی جاتی بنا معیار دیکھے۔ اور مرضی پوچھے رشتہ کر دیا جاتا ہے۔ کہ اپنا ہے مار کے بھی پھینکے گا تو چھاؤں میں پھینکے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا اکثر اپنے ہی مار کر الٹا لٹکا دیتے ہیں وہ بھی دھوپ میں۔ چھاؤں میں مار کر پھینکنے والی بات پرانی ہوئی اب۔

    اکثریت میں آج کل قریبی رشتے داروں میں بغض انا نفرت حسد پایا جاتا۔ کئی والدین جانتے ہوتے رشتہ داروں کو اور رشتہ نہیں کرنا چاہ رہے ہوتے مگر بچے ضد کر لیتے۔ میرے پائیو تے پینو باز آجاؤ ہجے وی ٹیم جے۔ یقین کرو بڑیاں کڑیاں تے بڑے منڈے۔ اک توں اک ودھ کے سوہنا جوڑ اللہ بنائے گا ان شاءاللہ۔ خود کو کسی شخص کا غلام نہ کرو۔ اور کزن کا تو بلکل بھی نہیں۔ پیار وی دوجی واری ہو جائے دا چھڈ دیو کزن دی جان۔

    مگر شادی کے بعد وہی پچھلی نسل کی چپقلش کے طعنے نیو بیاہتا بچے سنتے ہیں۔ انکے لیے شادی خوشی نہیں والدین کی ماضی کی لڑائیوں و رنجشوں کی تلافی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لڑکی کو عموما یہ طعنہ دیا جاتا ہم جانتے ہیں تمہاری ماں کیسی تھی تمہارا باپ کیسا تھا۔ وہ اپنے آپ میں ہی مر جاتی ہے کہ انہی والدین نے اسکی مرضی کے خلاف رشتہ کیا اور یہ لوگ کیا صلہ دے رہے۔ وہ والدین کو بھی کچھ نہیں بتاتی۔ بتا دے تو کہیں طلاق واقع ہوجاتی اور سارا خاندان ہی بکھر جاتا پرانے رشتے بھی تا مرگ ختم کر دیے جاتے۔ نہ بتائے تو والدین کی عزت کی خاطر نمانی اپنا آپ مار کے خود گھٹ گھٹ کر مرتی رہتی۔ اور سب اچھا ہے اپنے گھر بتاتی۔

    دوسری بڑی اہم بات کہ شادی کے بعد میاں بیوی میں وہ مٹھاس والا رشتہ کم ہی جڑ پاتا ہے۔ جو ایک مکمل اجنبی فرد سے نکاح ہونے پر بنتا ہے۔ کہ چند سال تو دونوں کا چاء (خوشی) ہی نہیں ختم ہوتی۔ جھجھک رکھ رکھاؤ اور ایک دوسرے کو سمجھنے تک دونوں ایڈجسٹ ہو چکے ہوتے۔

    ہم پاکستانی اور خصوصا پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے بچوں کی شادیوں میں پہلی ترجیح کزن کو دیتے ہیں۔ لندن میں مستقل مقیم پاکستانی بھی یہی غلطی دہرا رہے ہیں۔ اور وہاں مستقل مقیم پاکستانی کمیونٹی میں سپیشل بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر کزن میں کوئی جوڑ بس عمر کی وجہ سے نہ ہو تو پھر اپنی ذات برادری میں یہاں کر لیتے ہیں۔

    میری تعلیم اور شعبہ خصوصی بچوں و افراد سے متعلق ہے۔ معذوری کی جہاں اور بہت سی وجوہات ہیں وہاں ایک بڑی وجہ فرسٹ کزن بھی میرج ہے۔ میں یہ بات کسی مفروضے کے طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ ریسرچ اس بات کو ثابت کر چکی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق معذوری کی وجہ میں کزن میرج کا رول 25 سے 50 فیصد تک ہے۔ آپ اپنی فیملی یا آس پاس سپیشل بچوں کے والدین کا شادی سے پہلے رشتہ دیکھ لیں اکثریت میں کزن ہونگے۔ پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ سپیشل ہیں۔ جو ہماری آبادی کا 8 فیصد ہیں۔

    کزن میرج کے نتیجے میں معذوری واضح نہ بھی ہو کزن میرج سے ہونے والی اولاد جسمانی و ذہنی لحاظ سے ان بچوں سے بہت ذیادہ کمزور و کند ذہن ہوگی جنکے والدین کزن نہیں ہیں۔

    یہ بات ریسرچ سے ثابت شدہ ہے آپ اسکا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے پاکستان میں سے کتنے سائنسدان بنے؟ آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی کتنے ہیں؟ اولمپکس چیمپیئن کتنے ہیں؟ ایتھلیٹ کتنے ہیں؟ فٹ بالرز کتنے ہیں؟ کس فیلڈ میں پاکستان کے افراد دنیا کو Compete کر رہے ہیں؟

    گنے جائیں تو چند ایک ہی ہونگے باقی سب ایورج ہیں۔ عقل کے پورے ہیں۔ کزن سے شادی ہوئی بچے بیوی اور والدین پالے اور ایورج سی زندگی گزار کر مر گئے۔

    کہ ذہنی اسطاعت ہی اتنی ہے اس سے آگے کوئی سوچ نہیں نہ ذہانت اس بات کی اجازت دیتی کہ کوئی تخلیقی تعمیری یا منفرد کام کیا جا سکے۔ نہ ہم خود سے کچھ بہتر لوگوں میں رشتہ کرتے کہ ہماری اگلی نسل ہی بدل سکے۔ جیہو جئے اسی آپ اوہو جئے ساڈے ساک۔

    میں نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کزن میرج پر حالیہ لٹریچر پڑھا تو معلوم ہوا یورپی ممالک میں سے 29 میں فرسٹ کزن میرج غیر قانونی ہے۔ آپ شادی فرسٹ کزن سے کر ہی نہیں سکتے۔ وہ لوگ اس پر قانون بنا چکے ہیں۔ امریکہ کی بیشتر states میں کزن میرج prohibited ہے۔ سٹیٹ 24 میں میرے ایک دوست رہتے ہیں وہ کہتے یہاں بھی کزن میرج پر پابندی ہے۔

    یہودی جو پوری دنیا کی معیشت کو قابو کرتے جا رہے کزن میرج ہر گز نہیں کرتے۔ شادی سے پہلے بیسوں قسم کے ٹیسٹ کرواتے ہیں کہ آنے والی نسل نا صرف جسمانی بلکہ ذہنی اعتبار سے بھی صحت مند ہو۔ اور یہاں خیر سے ذہنی صحت و ذہانت کا کوئی شعور ہی نہیں۔

    آپ پاکستان میں مقیم مسیحی کمیونٹی کے شادی سسٹم کو ہی دیکھ لیں وہ سب سے پہلے اپنی ذات برادری میں کبھی بھی شادی نہیں کرتے وہ اس بات کو اوروں سے بھی پوچھتے ہیں کہ اسکی ذات کیا ہے اپنی ذات نکل آئے تو شادی نہیں کرنی۔ مثلا مٹو کی شادی مٹو اور غوری مسیح غوری برادری میں کبھی شادی نہیں کرتا۔

    وہ اپنی چچا اور تایا ذاد سے بھی کبھی شادی نہیں کرتے۔ ماموں خالہ اور پھوپھی ذاد بہن سے تب کرتے ہیں جب اور کہیں کوئی آپشن مناسب نہ مل رہی ہو۔ وہ جس بھی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ بہت اچھا کرتے ہیں۔

    کزن میرج حرام نہیں ہے آپ کریں مگر سب کچھ دیکھ سمجھ کر۔ بنیادی ٹیسٹ کروا کر جو ان شاءاللہ کل لکھوں گا۔ مگر خود کو صرف کزن تک ہی محدود نہ رکھیں۔

    کوئی حکم یا تاکید قرآن کی کسی ایک آیت میں بھی نہیں کہ آپ صرف کزن سے ہی نکاح کریں۔ کوئی ایک بھی سند کے اعتبار سے صحیح حدیث کزن میرج کو سپورٹ نہیں کرتی کہ جیسے کچھ مذہبی پیشوائی والے خاندان ہر صورت کزن سے ہی شادی کرتے ہیں کہ ہم باہر کرتے ہی نہیں۔ ایک اور بڑی بونگی سی بات ہوتی کہ ہم غیر ذات سے لڑکی لے لیتے ہیں اپنی دیتے نہیں۔

    کیوں پائی تواڈی کڑی بوہتے لعلاں آلی اے تے دوجیاں دی ایڈی وادھو اے؟ لڑکیو ایسے دوہرے معیار والے لوگوں میں کبھی بھی شادی نہ کرنا۔ ایسا کہنے والو کس اصول کے ساتھ یہ بات کرتے ہو ویسے؟ ایسا کہنا یا کرنا صرف جہالت ہے اور کچھ نہیں۔ جہاں کسی کی بہن بیٹی باہر سے لے سکتے ہو تو اپنی بہن بیٹی بھی باہر دو۔ پلیز اس جہالت سے نکالو خود کو۔ اسلام سے پہلے مذاہب میں کزن سے شادی حرام قرار دی جاتی تھی جو اللہ نے قرآن میں حکم دے کر حلال کر دی کہ کر سکتے ہیں شادی کزن سے حرام نہیں ہے۔ مگر باقی آپشنز کو حرام نہ کریں پلیز فیملی ہسٹری پہلے دیکھیں۔

    میں یہاں واضح کرتا چلوں کہ فرسٹ کزن میرج سے پیدا ہونے والے بچے کو معذوری کا خطرہ اس صورت میں اور ذیادہ ہوجاتا ہے جب دونوں یا والدین میں سے کسی ایک کی فیملی میں پہلے بھی کوئی پیدائشی معذوری موجود ہو۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں سائنس سے ثابت شدہ بات ہے۔ بچے معذور پیدا نہ بھی ہوں وہ کسی قسم کی جسمانی و ذہنی کمزوری کا شکار ضرور ہونگے۔ انکی اگلی نسل مزید کمزور ہوگی۔ اور تیسری سے چوتھی پیڑھی میں بچے معذور ہوجائیں گے۔ عین ممکن ہے سب بچوں میں ایک ہی معذوری ہو۔ کوئی سپیشل ایجوکیشن سکول وزٹ تو کریں آپ کو پتا چلے میں کیا کہہ رہا ہوں۔

    ہمارے سپیشل بچوں کے سکولوں میں ہم سپیشل بچوں کے اساتذہ و دیگر معاون عملہ تقریبا ہر سکول میں ہر معذوری کے دو تین اور کبھی 4 ایک ہی معذوری کا شکار بہن بھائی دیکھتے ہیں۔ انکے والدین کا سوچ کر ان سے مل کر دل دکھ سے پسیج جاتا ہے۔ کل ایک داخلہ آیا چار بہن بھائی سماعت و گویائی سے مکمل محروم ہیں۔ ان کے والدین مامے پھپھی کے بچے تھے۔ سائیکالوجسٹ آپی یا انکے والدین سے پوچھنے پر پتا چلتا ہے انکے والدین ذیادہ تر کزن ہی ہوتے ہیں انہیں یہ بتانے والا ہی کوئی نہیں ہوتا کہ آپ کزن ہیں فیملی ہسٹری میں معذوری ہے ایک بچہ سپیشل پیدا بھی ہوگیا اب آگے بچہ پیدا کرنے کا رسک نہ لیں یا کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔

    خون گروپ جسے RH فیکٹر کہا جاتا کہ ماں اور ماں کے پیٹ میں بچے کا خون گروپ مختلف ہوجانا جیسے ماں کا رو مثبت ہے اور بچے کا منفی تو یہ بھی معذوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    معذوری کی ایک اور بڑی وجہ پیدائش کے وقت دائی یا کسی ناتجربہ کار ڈاکٹر کی miss handling ہوتی ہے۔ آکسیجن کی کمی پیدائش کا دورانیہ لمبا ہوجانا بچہ ہاتھ سے چھوٹ کر گر جانا سر پر ذیادہ دباو آجانا وغیرہ تمام عمر کی معذوری کی وجہ بن سکتا ہے۔

    شادی کے بعد حاملہ دلہن کو خاوند کی عدم توجہ یا بن نا آنا، ساس، نند، جٹھانی یا سسرال میں جائنٹ فیملی کے اندر کسی کی طرف سے بھی مسلسل پریشان کرنا اس معصوم کو ذہنی اذیت سے دوچار رکھنا اسے اچھی غذا نہ فراہم کرنا بھی پیدا ہونے والے بچے کی معذوری کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔

    ایک حاملہ لڑکی کو اگر خوش رکھا جائے اسے مکمل غذا مہیا کی جائے تو نیا مہمان صحت مند و انشاء اللہ بنا کسی کمی و معذوری کے اس دنیا میں آئے گا۔

    فیملی میں پہلے ہی پیدائشی معذوری ہونے پر لوگوں کو کزن میرج سے منع کریں انہیں کہیں وہ کسی اچھے ڈاکٹر یا قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول میں جا کر خاتون ماہر نفسیات سے مشورہ کر لیں ان سے پوچھیں کہ آپ کے پاس کتنے بچے کزن میرج کی پیدائش ہیں۔ شاید وہ اس طرح ہی اس سے باز آجائیں۔ کزن میرج ایک دو جنریشن میں ہوگئی اب اسکی جان چھوڑ دیں آگے نسل در نسل نہ اسے چلاتے جائیں۔

  • عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں!!! — ضیغم قدیر

    عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں!!! — ضیغم قدیر

    سوال پوچھا گیا تھا کہ پہلے خواتین گھر میں بچہ جنم دے لیا کرتی تھیں جبکہ آج ایسا نہیں ہے۔ کیا عورتیں کمزور ہو گئی ہیں؟

    لیکن درحقیقت ہماری ماضی کا علم کافی دھندلا ہے۔ آج ہسپتال میں ہونے والی ڈلیوریز کی وجہ سے ہم کڑوڑوں ماؤں کو زندہ بچا رہے ہیں۔

    سی سیکشن کے کامن استعمال سے پہلے 1.5% خواتین بچے کو جنم دیتے فوت ہو جایا کرتی تھیں۔ اگر اب کے حساب سے دیکھیں تو یہ تعداد کڑوڑوں میں نکل آتی ہے۔ مزید جواب یوں تھا کہ

    چند سال پہلے عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں تو انکی موت کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے تھے۔ آج ہر ایک لاکھ عورتوں میں سے صرف 15 عورتیں بچے کو جنم دیتے اون ایوریج فوت ہو رہی ہیں ۔

    جبکہ 18 ویں صدی میں یہی تعداد ایک لاکھ میں 600+ اموات تھی۔ اس سے پیچھے چلے جائیں تو یہی تعداد اس کے دوگنا سے بھی زیادہ تھی۔ یاد رہے ابھی یہ اعداد و شمار صرف ماؤں کی موت کے ہیں۔ بچوں کی موت کے اعداد و شمار اس سے الگ ہیں اور بھیانک ہیں۔

    آج کم عورتیں بچہ جنم دیتے فوت ہوتی ہیں اور کم بچے پیدائش کے وقت فوت ہوتے ہیں کیونکہ جو کیس پیچیدہ ہوتے ہیں ان کو ہم آپریشن کی مدد سے ہینڈل کر لیتے ہیں۔ سی سیکشن ڈلیوری کی وجہ سے آج لاکھوں مائیں اور بچے زندگی پا رہے ہیں اور یہ ایک نعمت سے کم نہیں۔

    ہاں ملک عزیز میں اسکا کچھ جگہوں پہ غلط استعمال ہو تو اس کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

  • ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    اپنے یہاں اگر کسی کو زُکام ہوجائے تو وہ ایک ہی سانس میں "انکشاف” کرتا ہے کہ یہ ایک "بین الاقوامی سازش” ہے۔ اِسی طرح اگر اپنی ہی لاپرواہی سے کسی کی گائے گُم ہوجائے تو وہ اس کو فوری طور "خطرناک سازش” قرار دیتا ہے۔ سازشی مسئلہ(Conspiracy Theory) گھڑ لینے میں ہم بڑے ماہر واقع ہوئے ہیں۔ کوئی عام سا پرابلم بھی ہو جب تک نہ ہم اسے "گہری سازش” قرار دیں تب تک ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا ہے۔

    ہمارے سماجی پیرہن کو اتنے داغ لگ چُکے ہیں کہ اس کی ہیئت(Shape) مسخ ہونے کا خدشہ نظر آتا ہے۔ جی ہاں مُنشیات کے داغ، ڈرگ ٹریفک کے داغ، چرس، گانجا، افیون، ہیروین اور مےخواری کے داغ، خودکُشی، خود سوزی اور بہوؤں کو زندہ نذر آتش کرنے کے داغ، شادیوں پر بے پناہ اسراف کے داغ، چوری و سرقہ بازی کے داغ، بےحسی، بددیانتی اور رشوت خوری کے داغ وغیرہ، وغیرہ۔ یہ داغ ہمارے سوشل فِیبرِک پر اتنے سخت گہرے ہوچکے ہیں کہ اس پیرہن میں اب ان کی وجہ سے بڑے بڑے چھید ہونے لگے ہیں۔ اگر معاشرتی برائیوں کا یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا تو ہمارا سماجی پیرہن ایک چیتتھڑا بن کر رہ جائے گا۔

    ایک دل خراش خبر کے مطابق جُمعہ کو حکام نے بتایا کہ بڈگام ضلع میں پولیس نے دو خواتین سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے بُردہ فروشی گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا 14 مظلوم خواتین کو بچا لیا گیا جبکہ اور مزید گرفتاریاں ہوسکتی ہیں۔

    ضلع میں خواتین اغوا کاری کے مذموم فعل کی اطلاع پر بروقت اور قابلِ تحسین کارروائی کرتے ہوئے، بڈگام پولیس کی فعال ٹیم نے موضع ڈلی پورہ میں ایک مخصوص جگہ پر چھاپہ مار کر شمیم ​​احمد بٹ کے گھر سے 14 بے بس خواتین (جن میں کئی نابالغ بچیاں بھی تھیں) کو محفوظ بنا لیا۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ گرفتار ملزمان بشری اغوا کاری میں ملوث تھے اور اس کے ذریعے خواتین کو مختلف جگہوں سے اغوا کرکے ضلع بڈگام اور وادی کی دوسری جگہوں میں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔

    سماجی اعتبار سے یہ ایک باعث شرم اور سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن اس انسانی سمگلنگ میں جو ملوث افراد ہیں وہ بڈگام ضلع کے مقامی باشندے ہیں۔ نہ وہ غیر ریاستی ہیں اور نہ ہی غیر ملکی ہیں۔ لہٰذا اس قبیح فعل کو ہم کیسے کوئی "خطرناک سازش” قرار دے سکتے ہیں(جو کہ ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے)۔

    اصل معاملہ یہ ہے کہ کشمیر میں اب زیادہ تر لوگوں کو راتوں رات امیر بننے کا آسیب سوار ہو گیا ہے۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے دولت سمیٹے۔ اس میں اگر کسی کا حق مارا جائے، کسی کا گلا کاٹنا پڑے، کسی کو لوٹنا پڑے اور کسی کے یہاں ڈاکہ ڈالنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سماجی بدعات، معاشرتی برائیوں، جہیز، اسراف، حق ماری، استحصال، بلیک میلنگ، منشیات سمگلنگ، ڈرگ ایڈکٹنگ اور اس نوعیت کی قبیح برائیوں سے باز آجائیں۔ اس کے لیے ہمیں دوسروں کے نقائص نکالنے کے بجائے خود احتسابی کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ ورنہ سازشی تھیوریاں تخلیق کرنے سے ہمارا معاشرہ صحیح ڈگر پر کبھی نہیں آسکتا ہے۔

  • ستارے اور سیارے میں فرق!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ستارے اور سیارے میں فرق!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ستارہ دراصل ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیس کے بنے ہوتے ہیں۔ ایک عمومی ستارے میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم ملکر ہیلیئم کا ایک ایٹم بناتے ہیں اور اس عمل کو فیوژن کہتے ہیں۔ اس عمل کے تحت کچھ مادہ توانائی میں تبدیل ہوتا ہے۔ یہ توانائی روشنی اور تابکاری کی صورت ستاروں سے نکلتی ہے۔ سو ستارے دراصل روشن ہوتے ہیں۔ اُنکی اپنی روشنی ہوتی ہے جو یہ فیوژن کے عمل سے پیدا کرتے ہیں۔

    سورج ایک ستارہ ہے۔ کائنات میں اور ہماری کہکشاں ملکی وے میں سورج سے لاکھوں گنا بڑے ستارے بھی موجود ہیں۔

    سیارہ کیا ہوتا ہے؟ سیارے دراصل وہ فلکی اجسام ہیں جو کروی ہوتے ہیں اور عموماً یہ کسی ستارے کے گرد گھومتے ہیں۔مثال کے طور پر ہماری زمین جو سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سیاروں کی اپنی روشنی نہیں ہوتی کیونکہ ان میں ستاروں کی طرح فیوژن کا عمل نہیں ہوتا۔ سیارے اپنے ستارے جنکے گرد وہ گھومتے ہیں، کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔ سیارے چٹانی یا گیس کے بنے ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمین یا مریخ جو چٹانی سیارے ہیں یا مشتری اور زحل جو گیس جائنٹس ہیں۔

    نظامِ شمسی ایک سٹار سسٹم ہے جسکے مرکز میں سورج جیسا ستارہ موجود ہے اور اسکے گرد سیارے گھومتے ہیں۔ کائنات میں کئی ایسے سٹار سسٹم ہیں جنکے مرکز میں ایک ستارہ ہے اور انکے گرد سیارے گھومتے ہیں۔