۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ (ﺳﻮﺭة النبأ 40#)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۲- يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ( ﺍﺧﺮﯼ ) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍللہ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﭨﮭﯿﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ جن کا ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺍسی لئے ﺯﻧﺪﮔﯽ میں ہی اپنے عقائد و عمل کا ﺍﺻﻼﺡ کرنا ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ہمیں ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎئے۔
Author: باغی بلاگز
-

” موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی
-

تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے
یار یہ لوگوں کو پاس بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر تھوکنے کی کیا بیماری ہے؟
چند روز قبل ایک سیفٹی سیشن کیلئے میٹنگ روم گئے.. پتہ چلا کہ ٹرینر ابھی آیا نہیں باہر بیٹھ کر ہی انتظار کرنا پڑے گا.. سب بندے درختوں کے نیچے دو دو تین تین ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ گئے.. مجھے معلوم تھا کہ یہ یہاں بیٹھ کر اور کچھ کریں نہ کریں.. ایک سگریٹ لازمی پئیں گے جس کا دھواں مجھے تنگ کرے گا، دوسرا تمباکو اور چونے کا مکسچر لازمی رگڑیں گے جسے پھونک سے اڑا کر چھانیں گے تو سانس کے ساتھ ناک کو چڑھے گا اور تیسرا تھوک لازمی پھینکیں گے..
یہ باتیں میری میموری میں پکی پکی فٹ ہیں.. لہٰذا میں بندوں سے زیادہ تر دور ہو کر بیٹھتا ہوں.. وجہ نفرت نہیں.. وجہ یہ ہے کہ میں ان تینوں چیزوں سے الرجک ہوں..
لہٰذا حسبِ عادت میں ان سے قدرے فاصلے پر درخت کے نیچے بلاک رکھ کر بیٹھ گیا..
کچھ دیر ہی گزری ہو گی.. ان دور بیٹھے ہوئے بندوں کو نادیدہ طاقت نے اکسایا اور وہ میرے پاس دائیں بائیں آ کر بیٹھ گئے.. ایک نے سگریٹ جلا لیا.. دوسرے نے تمباکو کی ڈبی نکالی، وہ تمباکو بنانے لگا تو دو دوسروں نے بھی مانگ لیا.. تینوں نے تمباکو بنا کر اس کی پھک اڑائی اور تمباکو منہ میں رکھ کر زمین کو تھوکو تھوک کرنا شروع کر دیا.. دل میں گالیاں دیتے ہوئے اٹھا اور پرے جا کر کھڑا ہو گیا..
اب اس وقت فون کال کرنے کیلئے روم سے باہر بینچ پر بیٹھا ہوں ایک میرا رومیٹ ہی نکلا اور یہاں کھڑے ہو کر برش کرنا شروع کردیا.. تھوک پر تھوک پھینکی جا رہا ہے..
مجبور ہو کر اسے کہا یار واش بیسن پر چلا جا.. تیری مہربانی کیوں مجھے آوا ذار کر رہا ہے…
ریفائنری میں جاب کی جگہ پر میٹل سٹرکچر کے بنے ہوئے گیارہ فلور ہیں.. پتہ اس وقت لگتا ہے جب اوپر والے فلور کی گریٹنگز سے تھوک نیچے آ کر گرتا ہے.. کچھ بندے تو یہ حد کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی فلور پر ہیں ریلنگ پر آئیں گے وہاں سے گراؤنڈ پر تھوک پھینکیں گے اپنی طرف سے وہ اچھا کر رہے ہوتے ہیں کہ نیچے والی گریٹنگ پر کام کرنے والوں پر تھوک نہ گرے لیکن گراؤنڈ فلور والوں کا کوئی خیال نہیں.. اب گیارہویں فلور سے زمین تک تھوک پہنچنے میں جو وقت لگے گا عین ممکن ہے اس دوران کوئی گزرتا ہوا بندہ اسی جگہ پہنچ جائے اس پر گر جائے.. یا پھر ہوا سے اس کے ذرات کہاں تک جائیں کچھ معلوم نہیں..
پاکستان میں ہم جیسا بندہ موٹر سائیکل کی سواری ہی عام طور پر کرتا ہے کاروں والے کار کا شیشہ کھول کر تھوک کی فائرنگ کر رہے ہوتے ہیں.. آگے والے موٹر سائیکل سوار پیچھے آنے والوں کا خیال کیے بغیر تھوک پھینک رہے ہوتے ہیں
کسی بندے کے ساتھ بات کرنے کیلئے کہیں رک جائیں تو وہ پانچ منٹ کی بات کرتے ہوئے دس مرتبہ تھوک پھینکتا ہے..
خاص طور پر کراچی والوں نے حد ہی کی ہوئی ہے.. کراچی میں کیا اردو سپیکنگ، کیا مہاجر، کیا پنجابی، کیا کشمیری، بلوچی، پٹھان، سندھی یا ہزارہ وال، کیا مرد اور کیا عورتیں .. کوئی بھی گٹکے سے محفوظ نہیں، بس میں بیٹھیں گے تو شیشے والی سائیڈ گٹکا مین کی ہی ہو گی.. اور اس نے وہیں سے باہر والوں کو منور کرتے رہنا ہے.. پھر اچھی اچھی صاف ستھری عمارتوں میں جگہ جگہ دیواروں پر لال رنگ کا گند ہی گند نظر آتا ہے..
پچھلے سال کراچی میں ایک مارکیٹ میں گیا.. نیا رنگ و روغن بتا رہا تھا کہ مالک نے اچھا خاصا خرچہ کیا ہے.. وہاں سیڑھیوں میں اوپر نیچے تک گٹکے اور پان کے انتخابی نشانات لگے ہوئے تھے..
پوچھنا یہ ہے کہ یہ بیماریاں عربوں، انڈونیشین، چائنیز، جرمنز، فلپینی، کورینز اور برطانوی باشندوں میں نہیں دیکھی، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے ان میں ایسی کوئی معیوب حرکت یا بیماری نہیں دیکھی ..پاکستانیوں اور انڈینز میں یہ حرکات اور بیماریاں کیوں ہیں؟
-

مقصدیت — عمر یوسف
لائبریری میں ادھار کتاب لیتے ہوئے ایک دوست کو دوسرے نے کہا کہ چھوڑو یار ہم یہ کتاب خرید ہی لیتے ہیں ۔
پہلے دوست نے جواب دیا کہ اگرچہ میں خریدنے کی قوت رکھتا ہوں لیکن پھر بھی نہیں خریدوں گا ۔
لائبریری سے ادھار لی ہوئی کتاب میرے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ کتاب میری ملکیت نہیں اور یہ میرے پاس محدود وقت کے لیے ہے ۔ یہ احساس مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں کتاب سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھا لوں ۔ جبکہ کتاب کی ملکیت کا احساس اس سے فائدہ اٹھانے کو ملتوی کرتا رہتا ہے یہ سوچ کر کہ چیز تو اپنی ہے بعد میں پڑھ لیں گے اور یوں انسان فائدہ اٹھانے سے محروم رہتا یے ۔
یہی صورت حال وسیع تناظر میں انسان کی زندگانی پر منطبق ہوتی ہے ۔
جب انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ زندگی میری نہیں ہے اور میرے پاس وقت بھی محدود ہے تو وہ اس سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھاتا یے ۔
لیکن لاشعوری طور پر لوگوں کی اکثریت اس احساس میں مبتلاء ہوتی ہے کہ زندگی میری ملکیت ہے بعد میں عمل کرلیں گے ۔
لیکن وہ اسی غفلت میں مبتلاء ہوتا ہے کہ اچانک موت کا پنجہ اس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس کے پاس خسارے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔
عقیدہ آخرت نہ صرف انسان کو مقصدیت عطا کرتا ہے بلکہ وہ اس کی آخرت کے ساتھ ساتھ اس کی دنیا کو بھی بہتر اور خوشحال کردیتا ہے ۔
-

غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی
غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی
ملک کی مخدوش معیشت کو سنبھالا دے کر ترقی کرتی ہوئی معیشت میں بدلنے کا بیڑہ اسحاق ڈار کے ذمے لگانا نہ صرف میاں محمد نواز شریف بلکہ ذمہ داران ریاست کا بہترین فیصلہ ہے۔ سینیٹر اسحا ق ڈار وزیر خزانہ نے بگڑی معاشی صورت کو درست سمت گامزن کرنے کی حامی بھر کے ملک اورعوام پر احسان کیا ہے جس کو سنجیدہ کاروباری اور عوامی حلقے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام کا رحجان اور سٹاک ایکسچینج میں بلندی کی روش کسی معجزے سے کم نہیں پاکستان کو سری لنکا کی معیشت سے تشبیہہ دینے والے نابلد و ن اکام سیاسی اور معاشی پنڈتوں کو منہ کی کھانی پڑی اسحاق ڈار نے وطن عزیز کو معاشی گرداب سے نکالنے کی اٰمید کو زندہ کردیا۔
ان کے سامنے آئی ایم ایف سمیت تمام بین الاقوامی مالیاتی فورمز کے ساتھ پاکستان کا کیس لڑنا ہے جبکہ ملکی سطح پر مائکرو اکنامکس کو نئے سرے سے منظم کرنے سے لے کر میگا اکنامکس، سمال انڈسٹری سے لے کر بڑی صنعتوں کی ترقی پٹرولیم کی قیمتوں میںکمی جیسے چیلنجز ہیں۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ لوگ جو ملک کی ماضی قریب کی ابھرتی معیشت سے کھلواڑ کھیل گئے ان کو ہوش کے ناخن لے کر معاشی ترقی کے لئے ساز گارسیاسی وسماجی ماحول فراہم کرنے میں مدد دینی چاہئیے اور وسیع تر قومی مفاد میں معاشی استحکام کی مخلصانہ کوششوں کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہیئے ایک ساز گار سیاسی وسماجی ماحول ہی معاشی ترقی کو پنپنے دے گا۔
دفاعی اور کاروباری ترقی کے شعبوں ملک ایک بار پھر اقوام عالم میں دوبارہ ابھرتی ہوئی معاشی قوت کا مقام حاصل کرے گا۔ معاشی ترقی کا سنبھالا بلاشبہ دفاع پاکستان کا ضامن ہوگا ۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران جوغیر سنجیدہ وغیر دانشمندانہ تجربات کئے گئے اٰن کو دہرانے سے گریز کیا جائے ۔ادھر حکمران جماعت کے وزراء اور مشیران کو بھی چاہیے کہ وہ نہ صرف بے بنیاد پروپیگنڈوں کا منہ توڑ جواب دیں بلکہ ا پنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں عوام رابطہ مہم کے ذریعے عوامی مسائل کو حل کریں اور اپنے آپ کو اسلام آباد کےایوانوں کی زینت ہی نہ بنائے رکھیں ۔ غرور اور تکبر کی حدوں کو کراس کرنے سے گریز کریں۔
-

پاکستان میں حق اور باطل کون ہے؟ — بلال شوکت آزاد
یوں تو پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا سرخیل بننے کی چاہت ہر سیاستدان کو ہی رہتی ہے لیکن ملک کی حالیہ سیاسی نورا کشتی پر نظر دورائیں تو فلحال ایک ہی سیاستدان ایک ہی مقبول چہرہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جبکہ مدمقابل جس مشن کے تحت حکومت کے آخری سال اقتدار میں آئے تھے وہ اس مشن کی تکمیل میں ایک ساتھ مصروف ہیں ۔ ۔۔
اس ساری صورتحال میں دونوں جانب سے ملک و ریاست کے ذمہ دار ادارے چکی کے دو پاٹوں میں سیاستدانوں کی سیاسی ضرورت کے تحت پس رہے ہیں۔۔۔
ادارے آیئنی حدود میں رہ کر کام کریں یا ملک کے سیاستدانوں کو آیئنی حدودکا تعین کریں، دونوں صورتوں میں ادارے سیاستدانوں اور انکے چاہنے والوں کے درشت لہجے اور شاکی رویے کا شکار ہوتے ہیں۔۔۔
عدالتوں سے جس سیاستدان کے حق میں فیصلے آجائیں وہ حق کی فتح کا جھنڈا تھامےاور دو انگلیاں دکھاتا ہوا باہر آتا ہے اور مخالفیں کو بری طرح تنقید کا نشانہ بناتا ہے جبکہ جس سیاستدان کے خلاف فیصلے آجائیں وہ عدالتوں اور اداروں کو نشانے پر رکھ لیتا ہے اور اسکی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
عام آدمی کو جب سیاستدانوں کی یہ چالاکیاں سمجھ میں نہیں آتی تو وہ بھی نظام کو کوس کر اپنے سیاسی لیڈر کی جے جے کار کرتے ہوئے انقلاب اور حقیقی آزادی کے نعرے بلند کرتا ٹرک کی بتی کے پیچھے چل پڑتا ہے۔
اس ہفتے میں دو خبریں آئیں جن کے بعد ملکی سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتے ہوئے نظر آیا، ایک طرف باوجود گرفتاری کی تیاری اور شدید خواہش کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اسلام آباد آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے اور دوسری جانب اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورکے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بری ہوگئے ہیں۔۔۔
دونوں طرف حق کی جزوی اور مکمل فتح کے شادیانے بج رہے ہیں اور نعرے لگ رہے ہیں، لیکن عوام کا سنجیدہ حلقہ ہونق بنے سراپا سوال ہے کہ اگر سبھی سیاستدان اور سیاسی جماعتیں حق کی علمبردار اور سچی ہیں تو پھر پاکستان کی عوام ہی باطل اور جھوٹی ہے؟؟؟؟
-

ملکی سیاست کا درجہ حرارت، گمشدہ سمت اور غداری؟ — زوہیب علی چوہدری
ملکی سیاست کا درجہ حرارت ایک بار پھر بلند سطح پر، گزشتہ چند دن سے ملکی سیاست کی صورتِحال بدلی تو تحریکِ انصاف کے قائدین اور رہنماؤں کی بھی ٹون جو کہ دس اپریل 2022 سے ہی بدلی ہوئی تھی، اس میں شدت آگئی۔۔۔
اعظم سواتی جو کہ ٹوئٹر پر اداروں اور مختلف ریاستی شخصیات کو اپنی شست پر لیے بیٹھے تھے خود قانون کی شست پر آگئے۔۔۔ تفصیلات کے مطابق اعظم سواتی کےخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ سیکشن 20 کے تحت درج کیا گیا ہے ،جس میں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 131/500/ 501، 505 اور 109 کی شقیں بھی شامل ہیں، اور ایف آئی آر کے مطابق اعظم سواتی کے خلاف مقدمے کا مدعی ایف آئی اے کا ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان ہے، ان کے خلاف مقدمے کا اندراج انکوائری کی تکمیل پر عمل میں لایا گیا ہے۔۔۔
اعظم سواتی کوایف آئی اے سائبر کرائمز کی جانب سے رات گئے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ان کے متنازعہ ٹوئٹس پر گرفتار کیا گیا ہے، اعظم سواتی پر اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کواشتعال دلانےجیسےالزامات ہیں۔۔۔
ایسے ہی بیانات دینے پر پہلے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل ٹھیک ٹھاک قانونی کاروائی بھگت چکے ہیں اور اسی کیس میں کورٹ کی تاریخیں بھگت رہے ہیں۔۔۔
اسلام آباد کی عدالت میں پیشی کے موقع عمران خان سے اعظم سواتی کی گرفتاری سے متعلق بھی سوال کیا گیا جس کے جواب میں عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ”ملک کو بنانا ری پبلک بنادیا ہے، شرم آنی چاہیے۔”
ادھر ایک جلسے میں عمران خان صاحب ذومعنی لب و لہجے میں اداروں کی تضحیک اور ان پر تنقید کرتے ہیں اور دوسرے جلسے میں کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ادارے بھی میرے ہیں اور پاکستان بھی میرا۔۔۔۔ یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟
اور مردان جلسہ میں خان صاحب کا پارہ بھی بلند نظر آیا، خان صاحب نے جلسے میں کہا کہ
” جو بھی ان چوروں کو این آر او دے رہا ہے وہ اس ملک کا غدار ہے، اگر مجھ پر مقدمات بنانے اور جیلوں میں ڈالا تو میں زیادہ زور سے مقابلہ کروں گا۔۔۔ میں کرپٹ ہوتا تو آج دم دبا کرنواز شریف کی طرح ملک سے بھاگ ہوا ہوتا۔۔۔۔سوات اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی گڑبڑ کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔۔۔اعظم سواتی کو بھی برہنہ کرکے تشدد کیا گیا، تمام اداروں سے کہتا ہوں کہ غلط فہمی میں نہ رہیں کہ تشدد کرکے عزت کروالیں گے۔۔۔”
خان صاحب کبھی جیل بھرو تحریک کی بات کرتے ہیں تو کبھی جیلوں میں ڈالنے والوں کو دھمکا رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں ہم آئین اور ریاست کا احترام کرتے ہیں اور کبھی آئین اور ریاست کے زمہ داران کو غدار کہہ رہے ہیں۔۔۔ عمران خان کے بیانات اور بیانیے میں اتنا تضاد اور کنفیوژن کیوں ہے؟
دوسری جانب سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف کی نااہلی کیلئے درخواست دائر کردی گئی ہے، تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے درخواست دائر کی ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی 62(1) ایف کی تحت نااہلی کی استدعا کی گئی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے، وہ اپنے سرکاری دوروں کے دوران اشتہاری اور سزا یافتہ ملزمان سے ملاقاتیں کر تےرہے ہیں، مزیدکہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو احتساب عدالت نے دس سال قید اور 80 لاکھ جرمانہ کی سز ا سنا رکھی ہے جبکہ بیرون ملک دوروں میں شہباز شریف بطور وزیراعظم حسین نواز ، سلمان شہباز اور اسحاق ڈار سے بھی ملاقاتیں کرتے رہے، جس سے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ملک کے آئین کی خلاف ورزی کی، لہذا انہیں نااہل کیا جائے۔
یہ سب ملک اور قوم کو کہاں لیکر جائے گا اور کب یہ سیاسی مقدمہ بازی، غداری کے فتوے لگانا اور الزامی سیاست اختتام پذیر ہوگی؟؟؟
-

انسانیت کی ایک اور جیت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن
کئی کروڑ سال پہلے جب انسان تھے ہی نہیں اور زمین پر جراسک ایرا یعنی ڈائنوسارز کا دور تھا تو میکسکو کے قریب ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی بڑا شہابیہ ٹکرایا۔ اس شہابیے کے گرنے سے کئی برس زمین پر تک گرد و غبار، راکھ کے بادل چھائے رہے۔ زمین ایک طویل سرد دور میں چلی گئی۔ زمین پر جانوروں کے لیے خوراک کی قلت ہو گئی اور ایسے جانور جو زیادہ خوراک استعمال کرتے جیسے کہ ڈائناسورز ، اُنکے لیے زندگی مشکل ہو گئی۔ اگلے کچھ عرصے میں نہ صرف ڈایناسورز بلکہ زمین پر موجود انواع کے تین چوتھائی معدوم ہو گئی۔
اس تباہی کو جاننے اور خلا کی تسخیر اور وسائل کی دستیابی کے بعد انسان کا اگلا قدم یقیناً زمین کو کسی ممکنہ سیارچے کے ٹکراؤ سے بچانا تھا؟ مگر کیسے؟ ہم کس طرح ایک سیارچے کو زمین کی طرف آنے سے روک سکتے ہیں؟
اس کے لئے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سیارچے ہوتے کیا ہیں؟ اور یہ کس طرح کے مدار میں چکر کاٹتے ہیں اور انکا مدار کسیے تبدیل ہوتا ہے؟
سیارچے دراصل ماضی کے کسی سیارے کی باقیات ، کوئی ایسا سیارہ جو بننے میں ناکام ہو گیا ہو یا نظامِ شمسی کے وجود میں آنے کے بعد کئی چھوٹی بڑی خلائی چٹانیں جو گریویٹی کے باعث ایک جگہ اکٹھی ہو گئی ہوں وغیرہ وغیرہ سے بنتا ہے۔نظامِ شمسی میں کئی سیارچے موجود ہیں۔مگر یہ زیادہ تر مشتری اور مریخ کے درمیان ایک علاقے میں ہیں جسے ایسٹرآیڈ بلٹ کہا جاتا ہے۔
ان میں سے کئی سیارچے یا چھوٹے شہابیے ہر روز زمین کیطرف آتے ہیں۔ مگر تیزی سے آتے ہوئے جب یہ زمین کی اوپری فضا میں داخل ہوتے ہیں تو رگڑ کھانے سے چھوٹے چھوٹے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور یوں زمین کسی تباہی سے محفوظ رہتی ہے۔مگر کبھی کبھی یہ شہابیے بے حد بڑے ہوتے ہیں جیسے کہ کوئی سیارچہ جو زمین کیطرف آئے اور بہت بڑا ہو تو زمین کی فضا میں رگڑ کھا کر بھی اسکا بڑا حصہ زمین پر تباہی مچا سکتا ہے اور ایسا ہی کروڑوں سال پہلے ڈائناسورز کے دور میں ہوا۔
لہذا اب ناسا کے سائنسدانوں نے ایسے ہی کسی ممکنا سیارچے کو زمین پر تباہی سے بچانے کے لیے پچھلے سال نومبر میں ڈارٹ نامی خلائی مشن بھیجا جسکا مقصد مشتری اور مریخ کے بیچ ایک سیارچے دیدموس کے گرد گھومتے اسکے چھوٹے سے چاند کا محور تبدیل کرنا تھا تاکہ مستقبل میں ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہو جو کسی سیارچے کو یہ پر گرنے کی بجائے اس سے دور کر دے۔
اس سلسلے میں 26 ستمبر کو اس سیارچے کیطرف بھیجے گیا سپیس کرافٹ 6.6 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سیارچے دیدیموس کے چاند ڈیمورفوس سے ٹکرایا۔
اس سپیس کرافٹ کے ٹکراؤ کے بعد خلا اور زمین پر موجود ٹیلی سکوپس کی مدد سے دیکھا گیا کہ سیارچے کے گرد گھومتے چاند کے مدار میں کس رفتار سے کمی واقع ہوئی ہے۔پہلے یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور
55 منٹ میں ایک چکر مکمل کرتا تھا۔ٹکراؤ سے پہلے ناسا کا خیال تھا کہ سیارچے کے مدار کی رفتار میں 73 سیکنڈ کا فرق ائے گا مگر بعد کے مشاہدات سے معلوم ہوا کہ اسکی رفتار میں 32 منٹ کی کمی آئی ہے جو یقیناً ممکنہ نتائج سے بڑھ کر ہے۔ گویا اب یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور 23 منٹ میں ایک چکر لگاتا ہے۔اس پیمائش میں 2 منٹ کی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔
اس مشن سے یہ ثابت ہوا کہ مستقبل میں اس طرح کی ٹیکنالوجی سے سیارچوں سے سپیس کرافٹ ٹکرا کر انکے مدار کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جو ممکنا طور پر آنے والے وقتوں میں کسی بڑے سیارچے سے ٹکرا کر اسکا مدار اس حد تک تبدیل کر دے کہ وہ زمین سے ٹکرانے کی بجائے اسکے پاس سے گزر جائے اور زمین محفوظ رہے۔
یقیناً یہ مشن انسانیت کی اور سائنس کی جیت ہے قدرتی آفات سے لڑنے کی۔اور اس مشن پر کام کرنے والے سائنسدن اور انجنیئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
نوٹ: مشن سے پہلے یا مشن کے بعد دیدیموس اور ڈیمورفوس دونوں کا دور دور تک زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں تھا یا ہے۔ یہ مشن محض ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔
-

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی — نعمان سلطان
کالج کے دنوں کی بات ہے ایک دن کالج میں کوئی پروگرام تھا ہم ازلی سست تو تھے ہی سونے پر سہاگہ ہم کوئی اہم شخصیت بھی نہ تھے اس وجہ سے پروگرام کے منتظمین نے ہمارا انتظار کرنا مناسب نہ سمجھا اور ہمارے بغیر ہی پروگرام شروع کر دیا ۔
جب ہم کالج پہنچے تو کوئی لڑکا نعت شریف پڑھ رہا تھا اور اس کی آواز ہمیں دور سے سنائی دے رہی تھی اس لڑکے کی آواز اس قدر خوبصورت تھی کہ سیدھی دل میں اتر رہی تھی، بےساختہ دل کیا کہ اس کی صورت بھی دیکھی جائے ۔
چنانچہ دل کی آواز پر لبیک کہا اور فوراً پروگرام میں پہنچ گئے، نعت پڑھنے والے لڑکے کا رنگ انتہائی سفید تھا جس کی وجہ سے نورانیت کا تاثر پیدا ہو رہا تھا اور مزید تعارف دوستوں نے کرا دیا کہ یہ لڑکا پیرزادہ اور مستقبل کا گدی نشین بھی ہے جس کی وجہ سے عقیدت بھی محسوس ہونے لگ گئی ۔
تھوڑا عرصہ گزرا تو معلوم ہوا کہ صاحب موصوف چرس کو فقیری نشہ کہتے ہیں اس وجہ سے اکثر اپنے روحانی مدارج کی ترقی کے لئے چرس پیتے ہیں اور روحانی مدارج کا تو معلوم نہیں لیکن کالج کی تعلیم مکمل کرنے تک ہر قسم کے نشے سے ضرور آشنا ہو گئے تھے ۔
نشے کے استعمال کی وجہ سے وہ دیگر خبائث میں بھی مبتلا ہو گئے اور اگر پیری فقیری کی وراثت ان کا انتظار نہ کر رہی ہوتی تو موصوف یقیناً تعلیم سے فراغت کے بعد ایک سکہ بند بدمعاش ہوتے ۔
ہر شخص میں شخصی برائیاں اور خامیاں موجود ہوتیں ہیں اس لئے اس کے طرزِ عمل یا طرزِ زندگی پر ہمارا اعتراض نہیں بنتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر شیطان جنت میں آدم و ہوا علیہ السلام کو بہکانے سے باز نہیں آیا تو کیا یہ موصوف سجادہ نشینی کے بعد سابقہ زندگی سے تائب ہو کر مومن بن گئے ہوں گے اور لوگوں کی عزتیں ان سے محفوظ رہے گی۔
جو پیر اپنے بیٹے کو گمراہ ہونے سے نہیں بچا سکا وہ کیسے لوگوں کی بگڑی بنا سکتا ہے، ان جعلی پیروں کے پاس ایک ہی ہنر ہے لوگوں کی آنکھوں پر عقیدت کی پٹی باندھ کر ان کو نسل در نسل غلام بنا کر اپنی آنے والی نسلوں کی روزی روٹی کا بندوبست کرنا ۔
جو لوگ حالات کی تنگدستی سے گھبرا کر رزق کی کشادگی کے لئے ان کے پاس جاتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے جنہوں نے خود چندے کے گلے رکھے ہوئے ہیں اور اپنی جھوٹی شان و شوکت کے لئے ہمارے نذرانوں کے محتاج ہیں وہ کیسے ہمارا رزق کشادہ کر سکتے ہیں ۔
جو عورتیں ان کو فرشتوں کی طرح معصوم سمجھ عملیات کروانے کے لئے ان کو تنہائی میں ملتی ہیں آخر میں سب کچھ گنوا کر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرشتے نہیں بلکہ دنیاوی ابلیس ہیں ۔
دنیا میں کامیابی کا ایک ہی راز ہے جتنا بڑا خواب اتنی زیادہ محنت، ہاں ایک بات ضرور ہے کہ اپنی سو فیصد پرفارمنس دے کر پھر نتیجہ قدرت یا قسمت پر (اپنے عقیدے کے مطابق) چھوڑ دو۔
ان پیروں کی حقیقت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کرونا کہ دنوں میں کسی مائی کے لعل نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کرونا کے مریضوں کو میرے پاس لاؤ میں ان کا علاج کروں گا یا میں بغیر کسی قسم کے حفاظتی انتظامات کے کرونا کے مریضوں کے ساتھ وقت گزار کر اپنی روحانی طاقت یا مقام ثابت کروں گا کیونکہ ان دنوں لوگوں کے ذہنوں میں یہ راسخ تھا کہ کرونا لاعلاج ہے۔
ہمارے ساتھ ایک مستقبل کا گدی نشین پڑھتا تھا اس کی حرکتیں دیکھ کر ہماری آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتر گئی اور ہمیں سمجھ آ گئی کہ یہ رانگ نمبر ہیں تو براہ کرم آپ بھی اپنی آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتار دیں اور سمجھ لیں کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ۔
-

بدنصیب — عمریوسف
آج صبح اٹھتے ہی اسے فکروں نے آ گھیرا ۔ سوچوں کا وہی سلسلہ جو رات سوتے وقت ٹوٹا تھا صبح اٹھتے ہی دوبارہ بحال ہوگیا ۔ فکر معاش کے خیالات کا طوفان اس کے دماغ میں پھر چلنا شروع ہوگیا ۔ بہتر مستقبل کی توقعات اسے پھر ستانے لگیں ۔ دوستوں کی محفل میں بھی اس نے گفتگو کا موضوع بہتر نوکری ہی بنائے رکھا ۔ پھر اسے ضروری کام کے سلسلے میں کہیں جانا تھا کام کے دوران بھی وہ یہی سوچتا رہا کہ روٹی کیسے کماوں اور آنے والے وقت کو کیسے بہتر بناوں ؟
واپسی پر وہ پررونق بازاروں سے گزر رہا تھا لیکن روٹی کی فکر نے اس رونق سے بے خبر کیے رکھا ۔
چلتے چلتے اسے پارک نظر آئی جہاں اس کا پسندیدہ گوشہ تھا جہاں تنہائی تھی ، سکون تھا ، خاموشی تھی جہاں وہ گھنٹوں بیٹھا اپنے ساتھ وقت گزارتا تھا ۔ لیکن روٹی کے فکر نے اس پارک سے بھی بے خبر کیے رکھا ۔
اس کے بچپن کا دوست اسے ملا جس کے ساتھ وہ لوگوں کے گھروں میں پٹاخے پھینک کر چھپ جاتا اور گھر والوں کی ہربراہٹ کو انجوائے کرتا ، لیکن وہ روٹی کی فکر میں اپنے دوست کو بھی نظر انداز کرگیا ۔
سورج غروب ہوا اور شام کے سائے بڑھ گئے ، اندھیرا چھانے لگا اور وہ گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے جانے لگا ۔ گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی اس کے انتظار میں تھی اس نے جلدی سے روٹی تیار کی اور اس کے سامنے لا کر رکھ دی وہ روٹی کمانے کی فکر میں اتنا گھر چکا تھا کہ اس نے روٹی کو یہ کہتے ہوئے سائیڈ پر کردیا کہ میرا کھانے کو دل نہیں کررہا ۔۔۔۔
چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ انسان کتنا بدنصیب ہوتا ہے جو چند لمحوں کے جینے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا جو روٹی کی فکر میں روٹی ہی چھوڑ دیتا ہے ۔
-

اسلامی شرعی فلم — شہنیلہ بیلگم والا
حمزہ عباسی کے اس بیان کے بعد میرے ذہن میں فلم کا جو خاکہ بنا ہے وہ کچھ یوں ہے؛
صبح صبح نور ویلے ہیرو کے کمرے کا سین دکھایا جاتا ہے جہاں ہیرو فجر کی نماز کی تیاری میں مشغول ہے. ہیرو کی گھنی داڑھی سے وضو کے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں. ہیرو نے چٹا سفید جوڑا پایا ہے. مسجد جانے سے پہلے ہیرو سر پہ عمامہ باندھنا ہرگز نہیں بھولا.
مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد مولوی صاحب کا بیان سنا جس میں ملک کے بدترین حالات کا زمہ دار فحاشی کو ٹھہرایا گیا تھا. خاص طور پر ان خواتین کو جہنمی قرار دیا گیا تھا جو جینز پہن کر ملک میں سیلاب لانے کی زمہ دار ہیں.
بیان سننے کے بعد ہیرو وہیں اذکار اور تلاوت میں مشغول ہوگیا اور پھر اشراق کی نماز ادا کر کے گھر کی طرف روانہ ہوا.
گھر پہنچ کر والدہ کے ہاتھ کا ناشتہ تناول فرمایا. چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے والدہ نے سارا ناشتہ ٹوپی برقع پہن کر سرو کیا. چونکہ آواز کا بھی پردہ ہوتا ہے اس لیے والدہ نے دعا دینے کے بجائے سر پہ ہاتھ پھیرنے پر اکتفا کیا.
ناشتہ کرنے کے بعد ہیرو اپنے مدرسے روانہ ہوگیا جہاں وہ بچوں کو انتہائی شفقت اور محبت سے قرآن حفظ کرواتا تھا. عصر کی نماز سے فارغ ہو کر ہیرو گھر پہنچا، جہاں اس کے والد اور بڑے بھائی دو بزرگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے. ہیرو جب سلام کر کے ان کے پاس بیٹھا تو پتا چلا کہ قاری عبدالقدوس کی دختر کا رشتہ ہیرو کے ساتھ کرنے کا ارادہ ہے. دونوں گھرانوں کے بزرگوں نے استخارا ادا کر لیا ہے. ہیرو کے گھر کی خواتین بنت عبدالقدوس کو دیکھ آئی ہیں. لیکن چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے ہیروئین کی جھلک بھی نہیں دکھائی جا سکتی. فلم بین قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کو دیکھ کر امیجن کرلیں کہ ان کی بیٹی اور بہن کیسی لگتی ہوگی ( داڑھی ہٹا کر).
فلم اسلامی ہی سہی لیکن ہیرو کے تو جذبات ہیں. رات عشاء کی نماز کے بعد بیان سننے میں بھی ہیرو کا دل نہیں لگ رہا تھا. بار بار قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کے چہرے نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے. ہیرو نے ذہن کو بٹانے کے لیے سائیڈ ٹیبل پہ پڑی کتب سے ” رفع الیدین حنفی علماء کرام کی نظر میں” پڑھنے کے لیے اٹھا لی. اس کے بعد نیند نہ آنے کی صورت میں ” ٹخنے کھلے رکھنے کی تحدید” بھی پڑھنے کا ارادہ کرلیا کہ نیت کا بھی ثواب ہے.