Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک ہمارے ابا لوگوں کا زمانہ تھا شادی کے بعد بیوی کو خط لکھتے تھے اور خط چونکہ دادی اماں نے پڑھ کر سنسر اپرو کرنے کے بعد آگے دینا ہوتا تھا تو زبان کافی مہذب رکھنا پڑتی تھی۔

    بعد از سلام امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگی۔ یہ ہفتہ بھی اچھا گزرا، تنخواہ کے چھ صد روپے اسی ہفتے منی ڈرافٹ کر دوں گا۔ اس میں سے چار صد روپے آپ اماں کو دے دیجیے گا، ایک صد آپ کا خرچ جبکہ ایک کو آپ غلے میں ڈال دیجیے گا کہ پلاٹ کی کمیٹی کے پیسے پورے ہو جائیں، انشاءاللہ ڈیڑھ سال بعد حاجی صاحب سے بیس مرلے کا پلاٹ جو کہ مبلغ بارہ ہزار نو سو چورانوے کا سکہ رائج الوقت کے مطابق بن رہا ہے وہ لے لیں گے۔

    سلام عرض ہے۔

    ایک ہماری جنریشن ہے۔

    رات ایک بجے فون پہ بات شروع ہوتی ہے کہ بےبی نے تھانے میں تیا تھایا؟ اب اگر بے بی کی اماں جو خط میں فقط منی ڈرافٹ ڈسکس کرنے کی عادی تھی وہ یہ سب پڑھ لیں تو بے ساختہ چھترول کریں کہ ٹٹ پینی دیا کس تھانے چوں کٹ کھا آیا ایں؟ اس سے بات چلتی چلتی سیریلیک کے فلیور تک آ جاتی ہے۔ کہ جانو آپ بلو والا سیریلیک اس بار دو کاٹن ایکسٹر لانا، اب جانو کو بھی پتا ہے کہ یہ سیریلیک بچے کی صحت پہ نہیں بچے والی کی صحت پہ ہی لگنا ہے مگر لانا مجبوری ہوتی ہے۔

    اور

    پھر تنخواہ یوں تقسیم ہوتی ہے۔ امی یہ پانچ ہزار آپ کا، بیس ہزار بل کا، اور یہ تیس ہزار ہم دونوں کے چپس اور پزے برگر کھانے کا۔

    افسوس کہ ہماری جنریشن ایک صد انچاس روپے بھی بچت کے لئے نہیں بچا پاتی۔

  • پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    1960 کے بعد سے خواتین میں خوش رہنے کی شرح خطرناک رفتار سے کم ہوئی ہے۔ نیشنل بیور آف اکنامک ریسرچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں اس بات کے باوجود کہ خواتین کو حقوق مل رہے ہیں، نوکریاں مل رہی ہیں، امن حاصل ہے ان میں پھر بھی خوش رہنے کی شرح حد سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔

    وجہ؟

    اگر ہم بائیولوجیکلی دیکھیں تو کیرئر کا سٹریس ارتقائی ہسٹری میں کبھی بھی کسی خاتون کا گول رہا ہی نہیں ہے۔ عورتیں اس بات کے لئے ہارڈ وائرڈ ہیں کہ وہ کم سے کم فزیکل یا مینٹل سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔

    اس میں قصور کس کا تھا؟

    اوورآل یہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ایک فیصلہ تھا جس میں اولاد کی بہترین پرورش کے لئے مرد نے روزی ڈھونڈنا چنا تو عورت نے گھر رہنا۔ انسان اگر ایسا کرنا نا چنتے تو آج ہم ایسے نا ہوتے۔ یہ لاکھوں سال کا ارتقاء اب ہماری رگ رگ میں چھپا ہمیں ڈستا رہتا ہے۔ اس کی وجہ عورتوں کی بائیولوجی نکل آتی ہے۔

    لیکن حالیہ 60 برسوں میں باوجود اس بات کے کہ خواتین آزاد زندگی گزار رہی ہیں ان کے لئے خوش رہنے کے مواقعے کم ہوتے جا رہے ہیں اسی طرح اگر ایک خاتون ہی صرف گھر کو پال رہی ہیں تو ان کے لئے زندگی ایک کھٹن سفر بنتی جا رہی ہے۔ اخلاقی طور پہ وہ عظیم کام کر رہی ہیں مگر بائیولوجیکلی خود پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔

    میں خود خواتین کے کیرئر بنانے کے حق میں ہوں لیکن یہ تحقیق آج مجھے بھی حیران کر چکی ہے کہ واقعی میں کیرئر کی ٹینشن، ورک پریشر اور خاندان سنبھالنے کی ذمہ داریاں ان کو خوشیوں سے دور لیجا چکی ہیں۔

    اسکے علاوہ ایک اور تحقیق یہ بھی ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد خواتین کی جاب پرفارمنس کا گراف تیزی سے نیچے گر جاتا ہے اور اس بات کی وجہ بھی مردانہ سماج نہیں بلکہ ان کا ہارمونل سسٹم ہے۔

    اب اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آن ایوریج خواتین کی سبجیکٹو خوش رہنے کی شرح مردوں سے حد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ جہاں نوکریوں میں آج جینڈر گیپ ختم ہو رہا ہے تو وہیں بائیولوجیکل جینڈر گیپ یہاں پہ بڑھ چکا ہے۔

  • سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف

    سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف

    ہمارے معزز وزیر اعظم بلوچستان کا دورہ کرتے ہیں اور آفت زدہ لوگوں کے دکھ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ فرط جذبات میں ان کے ہر فوت شدہ کے بدلے دس لاکھ دینے کا اعلان کردیتے ہیں ۔

    بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور دکھیاروں ، غم کے ماروں ، آفت زدہ اور مصیبت زدہ لوگوں کو کچھ نہ کچھ سہارا ہوگا ۔

    فائدے کی بات کریں تو راقم الحروف کو بھی فوائد کا انکار نہیں ۔

    لیکن بنظر دقیق دیکھیں تو یہ فیصلہ ایک صاحب عقل کے نزدیک ناقص اور ادھورا ہے ۔

    سیلاب زدگان جن علاقوں میں رہائش پذیر تھے وہ علاقے ریڈ زون کہلاتے ہیں ۔

    اور امراء کی جانب سے بارہا ان لوگوں کو سیلاب سے پہلے ہی وارننگ کے طور پر علاقے خالی کرنے کا کہا گیا ۔

    لیکن عمل در آمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال پیش آئی ۔

    یہاں پر یہ عرض کیے دیتا ہوں کہ سیلاب زدگان کو قصور وار بالکل نہیں ٹھہرایا جارہا کیونکہ غربت کے مارے لوگوں کا اتنی جلدی نقل مکانی کے اسباب پیدا کرنا بھی ممکن نہیں ہے ۔

    ہماری وفاقی حکومت اگر واقعی ان دکھیارے لوگوں کا سہارا بننا چاہتی ہے تو چاہیے کہ پہلے تو ڈیموں کی کمی پوری کی جائے تاکہ نہ صرف سیلاب زدگان کو آئندہ پھر سے ان مشکل حالات سے دوچار نہ ہونا پڑے بلکہ وطن عزیز کو بھی خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں ۔

    اور دوسرا یہ کہ دریائی علاقے جہاں ہر بارشی سلسلے پر تحفظات حاصل ہیں اس کے متبادل جگہ ان سیلاب زدگان کو دی جائے تاکہ ہر سال یہ تباہیوں کا سلسلہ ختم ہو ۔

    اب جو امداد دی جارہی ہے اس سے یہ ہوگا کہ پانی کا بہاو تھم جانے کے بعد یہ لوگ اسی جگہ پر تعمیرات شروع کردیں گے ۔ نہ ڈیم بنائے جائیں گے نہ ریڈ زون ایریاز خالی کروائے جائیں گے اگلے سال مون سون کی بارشیں ہونگی دریاوں کا پانی بڑھ جائے گا پھر سیلاب آئے گا تباہی ہوگی موتیں ہونگیں امداد کے اعلان ہونگے ۔

    گویا یہ ایسا برتن ہے جس کے نیچے سوراخ ہے جتنا مرضی اس میں اناج ڈالا جائے یہ پھر خالی ہی رہے گا ۔

  • چھٹی حس — عبداللہ سیال

    چھٹی حس — عبداللہ سیال

    اگلے وقتوں میں کہیں کوئی "چھٹی حس” رہتی تھی. وہ وہاں زمانے کے طور طریقوں سے قدم قدم پر ٹکر لیتی تھی. مثلا صنفِ نازک ہونے کے باوجود وہ ایک بات کو سترہ جملوں میں بولنے کے بجائے اشاروں کنایوں سے کام لیا کرتی تھی. عقل کا سہارا تھی. نوجوان عقل چونکہ بالغ نہیں تھی، اسی لیے "چھٹی حس” سے کتراتی تھی، البتہ بوڑھی عقل "چھٹی حس” سے وقتاً فوقتاً کام لیتی رہتی تھی.

    ایک بار ایک آدمی، جس کے دماغ میں عقل طفلی نے بسیرا کر رکھا تھا، کا ایک جنگل سے گزر ہوا. اچانک رات کے سناٹے میں کچھ عجیب آوازیں سنائی دینے لگیں. "چھٹی حس” جو اب تک بے ہوش تھی، فوراً ہوش میں آئی، اردگرد بھاگنے لگی اور واپس آکر عقل طفلی کو کسی اجنبی شہنشاہِ جنگل کی متوقع آمد سے آگاہ کیا مگر عقل طفلی تو ٹھہری عقل کی دشمن… اس نے کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹانگوں کو مذکورہ سمت چلنے کی ہدایت کر دی. اب شیر تو بیٹھا ہی اسی تاک میں تھا کہ یہ قدم بڑھائے اور میں اس کی بوٹی بوٹی کا مزہ لوں. چنانچہ چند قدم بڑھتے ہی شیر اور آدمی آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کی ماسیوں کا حال احوال بوچھنے کی ناکام کوشش کرنے لگے. ایک بار پھر "چھٹی حس” چلائی، "بھائی مانا کہ تیرے رشتے دار عجیب ہیں مگر یہ تیرا خالہ زاد نہیں ہے. یہ شیر ہے شیر. اس سے بچ…”
    عقل َطفلی مگر کہاں ماننے والی تھی… سو زبان کو حکم دیا کہ "یہ شیر ہے تو میں سوا شیر ہوں. یہ سوا شیر ہے تو میں ساڑھے شیر ہوں.” بولے. زبان نے حکم کی تعمیل کی ہی تھی کہ شیر پورا منہ کھول کر دھاڑا. آدمی کا آدھ پاؤ کے بقدر دل حلق میں آکر اچھلنے لگا. یوں عقل طفلی کو خطرے کا احساس ہوا اور وہ "چھٹی حس” کو مدد کیلئے پکارنے لگی مگر اب اس کا کام تو ختم ہوچکا تھا. خیر "چھٹی حس” کو عقل طفلی پر رحم آیا اور وہ راہ فرار سوچنے لگی. شیر نے بوریت بھری جمائی لی. اس کو یقین تھا کہ اب تو چاہے لڑکیاں پانچ منٹ میں میک اپ کرلیں یعنی سورج مغرب سے طلوع ہوجائے، وہ اس آدمی کی ہڈیوں سے یخنی بنا کر مردانہ کمزوری کا علاج کر ہی لے گا. (اس بات کا غالب امکان ہے کہ شیر کو یہ مشورہ شیروں کی بستی میں مقیم "چھٹی حس” نے دیا ہو.)

    انسانی "چھٹی حس” کیلئے اتنی مہلت کافی تھی. اس نے فٹافٹ آدمی کے کانوں میں سرگوشی کی، "ہوسکتا ہے یہ شیر غیرت مند ہو، اس کو غیرت دلا کر دیکھو، جان بچ سکتی ہے.”

    عقل طفلی نے فوراً قوت گویائی سے کام لیتے ہوا کہا…

    "جنگل کے بادشاہ ہوکر بھی ننگے پھرتے ہو. ایسی بادشاہت کا کیا فائدہ جو ستر کو بمع چند کمزوریاں ظاہر کرے.”

    بس بادشاہ صاحب "چھٹی حس” کی چالاکی کی تاب نہ لا سکے اور قبل اس کے کہ آدھ پاؤ دل کی دھڑکن رکتی، وہاں سے چل دیے.

    "چھٹی حس” اپنی چالاکیوں کے باعث بستی میں مشہور ہوگئی. اس کی سہیلیاں اس کی چیلیاں بن گئیں. یوں ہر شخص اپنے تھیلے میں” چھٹی حس” لیے پھرتا اور حسبِ ضرورت مدد لے لیتا.

    ایک بار ایک عاشق نے محبوبہ سے کہا، "پہلے کی نسبت اب تم میں وہ خوبصورت دوشیزہ نہیں رہی. جان من اب من سے دو من ہوگئی ہو. غالباً کمر سے کمرہ کہنا غلط نہ ہوگا.”

    بس پھر کیا تھا. محبوبہ کے بھاری بھرکم وجود میں آگ بھڑک اٹھی. قبل اس کے کہ وہ عاشق کا سر پھاڑ دیتی، "چھٹی حس” نے تھیلے سے باہر جھانکتے ہوئے عاشق کو اس کی چرب زبانی کا احساس دلایا اور سدباب کا مشورہ دیا. عاشق فوراً رومانوی انداز میں گویا ہوا،
    "جان من! ناراض کیوں ہوتی ہو؟ سنو، ماں اپنے بیٹے کو چاند کہتی اور بیٹی کو الف کے اضافے سے چندا کہتی ہے. اسی طرح بیٹے کو اگر قمر کہیں تو بیٹی کو قمرا کہیں گے.

    اس تناظر میں جب تمہیں کوئی کمرہ (قمرا) کہے تو یقین مانو اس سے مراد چاند ہوتا ہے. یہ تنقید نہیں ہے بلکہ تعریف ہے.”

    محبوبہ فوراً بولی، "مگر کمرہ میں ‘ک’ آتا ہے اور قمرا میں ‘ق’.”

    "چھٹی حس” کے لیے یہ سوال متوقع تھا. سو جواب یوں بنا…..

    "ق سے قینچی بنتی ہے، ک سے کتی بنتی ہے. دونوں کا کام کاٹنا ہوتا ہے. سو دونوں ایک ہی چیز ہیں.” محبوبہ مطمئن ہوگئی اور "چھٹی حس” نے ایک اور عاشق کو ناکام عاشق یعنی انجنئیر بننے سے بچا لیا.

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ "چھٹی حس” نہ صرف مشکلات میں بلکہ موزوں حالات میں بھی مدد کرنے لگی. سردیوں میں کسی غیر محرم کے ہاتھوں آم لینے سے گرمیوں میں اسی غیر محرم سے مالٹے پکڑنے تک، بہار میں اخلاق سے عاری پتوں سے لے کر خزاں میں کاغذی پھولوں کے حصول تک، ہر جگہ "چھٹی حس” مذکورہ شخص کو متنبہ کرتی رہی.

    ابتدائے آفرینش سے یہ بات دنیا کے ماتھے پر لکھ دی گئی تھی کہ اس دنیا میں دو چیزیں کبھی نہیں آئیں گی، ایک بھٹو کی موت اور دوسرا "چھٹی حس” کا بڑھاپا. چنانچہ آج بھی "چھٹی حس” جوں کی توں زندہ و جاوید ہے اور اپنے کام میں مصروف ہے.

    ابھی پچھلے دنوں میں اپنے پانچ سالہ بھتیجے کو "ڈاکٹر مار دھاڑ” کے پاس لے گیا. ہرچند کہ میں نے بھتیجے کی "چھٹی حس” کا تھیلا گھر رکھ کے جانا چاہا مگر وہ نہ مانا. خیر ڈاکٹر نے تفصیلی معائنہ کرکے مجھ سے اکیلے میں بات کرنا چاہی. میری "چھٹی حس” نے فوراً میرے بھتیجے میں کسی بچگانہ کمزوری کی موجودگی کا عندیہ دیا.

    خیر استفسار پر ڈاکتر مار دھاڑ نے بتایا کہ بھتیجے میں ‘وٹامن پٹائ’ کی کمی ہے. اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو ایک ‘ٹیکۂ چماٹ’ لگایا جائے. گفتگو کے دوران ہی بھتیجا وہیں آ دھمکا اور ہماری اشکال دیکھ کر اس کی "چھٹی حس” نے فوراً اس کو طریقۂ علاج سے آگاہ کیا. صورتحال بھانپتے ہی بچے نے رونے میں عافیت جانی اور اس قدر زور سے چلایا کہ ہسپتال سے ملحقہ قبرستان میں مردے اٹھ کھڑے ہوئے، گویا کہ قیامت آگئی ہو. اس کے علاوہ اس ایٹمی چیخ کا نتیجہ یہ نکلا کہ چاروں اطراف میں چار چار کلومیٹر تک بھینسوں کے تھن سوکھ گئے، مجبوراً گوالوں کو خود دودھ دینا پڑا. اگر ان گوالوں نے یہ دودھ چالیس پچاس برس قبل دیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس کو پینے والے آج سیاستدان ہیں…آج کل یہ پینے والے زنانہ مرد اور مردانہ عورتیں ہیں یعنی ٹک ٹاکرز ہیں.

    میری "چھٹی حس” کا چھپکلیوں سے چھتیس کا آکڑا رہا ہے اور چھپکلیوں کا مجھ سے. ہرچند کہ متعدد بار چھپکلیوں کی نسل میں کمی کے واسطے اقدام کرچکا ہوں مگر وہ سب نر تھے. عورت پر ہاتھ اٹھانا ہماری تہذیب کے خلاف ہے لیکن بیوہ چھپکلیاں ہمیشہ مجھ سے بدلہ لینے آجاتی ہیں. یہ تو بھلا ہو میری "چھٹی حس” کا جو اس شر سے محفوظ رہنے میں مدد دیتی ہے.

    ایک بار الماری میں ٹنگی شلوار نکال کر پہنی تو "چھٹی حس” نے کسی گڑبڑ کا اشارہ دیا. اچانک شلوار کی لمبائی پر سفر کرتے ہوئے پائنچے سے ایک آدھ پاؤ کی چھپکلی برآمد ہوئی. میرے ذہن میں خوف کے بجائے سوال پیدا ہوا کہ یہ باہر کیوں آگئی ہے؟ "چھٹی حس” نے فوراً جواب پیش کیا، "غالباً چھپکلی کو اس بات کا احساس ہوگیا ہوگا کہ جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی، اسی طرح ایک شلوار میں دو چھپکلیاں نہیں رہ سکتی…..”

    سنا ہے کہ ایک مخصوص شاعرہ نے اپنی نوزائیدہ صنفِ شاعری کے دفاع میں اپنی "چھٹی حس” سے کام لیتے ہوئے اس کو "غزم” قرار دیا ہے. دراصل مجھے نظم و غزل کے اس ملاپ پر کوئی اعتراض نہیں ہے. البتہ میرا مشورہ ہے کہ غزم کی بجائے نظم کے ‘ن’ اور غزل کے ‘زل’ کا ملاپ کروا کر نئی صنفِ شاعری کو "نزل” کا نام دیا جائے. اس کی وجہ یہ ہے کہ نزل، نزول، انزال ایک ہی شاخ کے الفاظ ہیں. اس لیے جب مخصوص شاعرہ کو "چھٹی حس” کے ذریعے آمد ہوگی اور دو منٹ میں "نزل” تیار ہوجائے گی تو وہ یہ کہہ سکیں گی کہ مجھے ‘سرعت انزال’ ہوتا ہے.

    کہتے ہیں ‘حس مزاح’ ہی "چھٹی حس” ہوتی ہے. میں نے بھی اپنی "چھٹی حس” کو اچھی طرح برتا ہے اور اب میری "چھٹی حس” کہہ رہی کہ کوئی بھی حریف میری "چھٹی حس”کو مات نہیں دے سکتا. واللہ اعلم…!

  • پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا

    پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا

    یہ دونوں واقعات سچے ہیں اور قریبی جاننے والوں کے گھروں میں ہوئے ہیں. یہ دونوں واقعات آج سے تقریباً پندرہ سے بیس سال پہلے پیش آئے تھے.

    پہلا واقعہ؛

    یہ ایک پاکستانی فیملی ہے جو امارات میں برسوں سے مقیم ہے. صاحب خانہ ایک کامیاب کاروباری ہیں. شدید مصروف رہتے ہیں اور اس لیے گھر اور بچے تقریباً بیگم کی ہی زمہ داری ہیں. بیگم اوسط درجے سے بھی کم پڑھی لکھی ہیں. یہ جس وقت کی بات ہے اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا لیکن کیبل زوروں پر تھا. والدہ کا زیادہ تر وقت کیبل دیکھنے اور فون پہ سہیلیوں اور بہنوں سے لمبی لمبی گفتگو میں صرف ہوتا تھا. بچے پڑھنے میں کافی نالائق تھے. جس کا سدباب ٹیوشن بھیج کر دیا گیا تھا. بچے صبح سات سے رات سات بجے تک گھر سے باہر ہی ہوتے تھے. کچھ عرصہ پہلے خاتون خانہ ایک درس والی باجی سے متاثر ہوگئی تھیں اور ہر منگل کی صبح باقاعدگی سے درس اٹینڈ کرتی تھیں. چونکہ امارات میں چوری چکاری کا مسئلہ نہیں اس لیے بیشتر خواتین کی طرح انہوں نے بھی اپنا زیور گھر پہ ہی رکھا تھا.

    ایک دن انہوں نے مجھے کال کی اور پوچھا کہ بھابھی آپ میرے گھر آئی ہوئی ہیں. کیا آپ کو میرے گھر کی دہلیز بھاری لگی ہے؟؟
    پہلی بات تو مجھے یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی. لیکن اپنی عقل کے مطابق میں نے کہہ دیا کہ مجھے تو آپ گھر میں کوئی بھاری یا طبیعت مکدر کرنے والی فیلنگز نہیں ہوئیں. میں نے پوچھا کہ خیریت ہے یہ بات آپ کیوں کر رہی ہیں. کہنے لگیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے مجھے لگ رہا تھا کہ میرے پیسے کم ہو رہے ہیں. لیکن رقم اتنی معمولی ہوتی تھی کہ میں ہمیشہ یہی سمجھی کہ مجھ سے گننے میں غلطی ہوئی ہے. لیکن اب معاملہ بڑھ چکا ہے. کبھی پچاس درہم کبھی سو درہم. لیکن چار دن سے میری ایک انگوٹھی نہیں مل رہی. پورا گھر چھان مارا. درس والی باجی سے ذکر کیا تو وہ کہتی ہیں کہ یہ شیطان جنوں کی کارستانی ہے. چونکہ میرا علم اس معاملہ میں صفر ہے تو میں چپکی ہو رہی.

    دوسرے ہفتے کہنے لگیں کہ بھابھی اب تو بالیاں اور چین بھی غائب ہیں. میں نے اب تک اپنے شوہر سے سب کچھ چھپایا ہوا ہے. کیا کروں انہیں بتا دوں. میں نے کہا آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا.

    صاحب خانہ کے علم میں جب بات آئی تو انہوں نے بچوں سے پوچھ گچھ کی جس پہ بچوں کی والدہ شدید ناراض ہوئیں. لیکن اتفاق سے کچھ دنوں بعد والد صاحب نے اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو پیزہ ہٹ میں دوستوں کے ساتھ دعوت اڑاتے دیکھ لیا. والد صاحب نے بچوں کے دوستوں پہ ذرا سی سختی کی اور کہا کہ ابھی تمہارے ابو کو فون کرتا ہوں تو پتا چلا کہ یہ سب عیاشی ان کے دو بڑے بیٹے کرواتے ہیں. اکثر ٹیوشن کی چھٹی کر کے وڈیو گیمز کی شاپس، کبھی سینیما اور مختلف ریسٹورنٹس میں دعوتیں اڑائی جاتی ہیں. بچوں کی تسلی بخش مرمت کرنے کے بعد ان کو پاکستان میں کسی کیڈٹ اسکول میں بھیج دیا گیا اور سارا زیور لاکر میں رکھوا دیا گیا.

    دوسری کہانی ایک انڈین فیملی کی ہے. یہ ایک جوائنٹ فیملی ہے. جس میں والدہ اپنے دو بیٹوں کی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں. بڑی بہو کی تین اور چھوٹی بہو کی چار بیٹیاں ہیں. ماں اور بیٹوں کو اولاد نرینہ کی شدید خواہش ہے جو پوری نہ ہونے پہ ساری فرسٹریشن بہو اور پوتیوں پہ نکلتی ہے. گھر کا سارا نظام ساس کے ہاتھ میں ہے. بہو اور پوتیوں کو نیچے سپر مارکیٹ جا کر ایک درہم خرچ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے. دونوں بہویں صبح سے رات تک کام کرتی رہتی ہیں.

    ایک تقریب میں مجھے ان کی ساس ملیں تو کہنے لگیں کہ ہم گھر شفٹ کر رہے ہیں. بہویں اور پوتیاں کہتے ہیں کہ ہمیں اس گھر میں سائے نظر آتے ہیں. دونوں بہویں باری باری بیمار پڑ جاتی ہیں. جب بھی پورے گھر کی صفائی کا پروگرام بنتا ہے تو دونوں کو چکر آنے لگتے ہیں. کبھی کبھی تو دونوں نیند میں سے ڈر کر اٹھ جاتی ہیں. تینوں بڑی پوتیاں بھی کہتی ہیں کہ ہمیں چھوٹے بچے نظر آتے ہیں جو ہمارے گھر کے نہیں. اب تو میرے دوپٹے کے پلو سے پیسے بھی کم ہونے لگے ہیں بلکہ گھر میں تین چار بار چاکلیٹس بھی ملے جن میں نیچے والی سپر مارکیٹ کے اسٹیکر لگے ہوئے تھے. اس لیے ہم دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں.

    پانچ چھ مہینے بعد ملیں تو سخت پریشان تھیں. کہنے لگیں نئے گھر میں جن ساتھ ہی آگئے ہیں. مجھے میری بہویں کہہ رہی ہیں کہ آپ انڈیا میں اپنے پیر صاحب کے پاس چند مہینے رہ کر دعا کر کے آئیں. اسی طرح ان سے نجات ملے گی. میں بھی یہی سوچ رہی ہوں. بیٹا تم بھی میرے لیے دعا کرنا.

    میں نے اثبات میں سر ہلایا اور جنوں کی معاملہ فہمی پر دل ہی دل میں داد دی.

  • ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف

    ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف

    انگلستان سے ہوم سیریز اور ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حارث اور فخر زمان کو متبادل کھلاڑیوں جبکہ شان مسعود کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کیا گیا ہے۔۔شاہین آفریدی کی بھی واپسی ہوئی ہے۔.۔۔باقی اسکوڈ ایشیا کپ والا ہے۔۔

    اندازہ ہے کہ فخر زمان زخمی نہیں ہیں۔۔۔دو ہی صورتیں ہیں۔۔۔شاید پی سی بی کی ہمت نہیں ہے انکو ڈراپ کرنے کی لہذا انجری کا بہانہ کر کے متبادل کھلاڑیوں میں رکھا گیا ہے۔۔۔ فخر زمان کو 15 رکنی اسکوڈ میں کسی کو دوبارہ زبردستی زخمی ظاہر کر کے بلا لیا جائے گا۔۔۔
    یا ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں غیر تسلسل کارکردگی پر فخر زمان کو جتنا سپورٹ کرنا تھا کر لیا اور ٹیم منیجمنٹ بابر اور رضوان کے پیئر کو نہیں چھیڑنا چاہتی ہے۔۔۔

    اگر ماضی میں دیکھیں تو ہم نے اسٹار کھلاڑیوں کو خراب پرفارمنس پر ٹیم سے باہر ہوتے دیکھا ہے۔۔بعض کھلاڑی خود بھی کچھ وقت بریک لے لیتے تھے۔۔۔حال ہی میں بیڈ فارم سے دوچار کوہلی نے ذہنی طور پر فریش ہونے کے لیے بریک لی تھی۔۔۔ایسی سپورٹ کم دیکھی گئی ہے کہ کسی فارمیٹ میں کھلاڑی غیر تسلسل کارکردگی پر ڈراپ ہونے کی بجائے نئی پوزیشن پر آئے۔۔پھر دوسری پوزیشن پر بھی غیر تسلسل کارکردگی کے باوجود ناصرف لگاتار کھیلتا رہے بلک فین کلب کی بھرپور سپورٹ دوبارہ پہلی پوزیشن پر بحالی کے لیے بھی میسر ہو۔۔۔

    باقی میرے خیال سے محمد حارث کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ورلڈکپ سے پہلے دو سیریز ہیں جس میں دو مختلف کمبینیشن ٹرائی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔پہلا کمبینیشن وہی ہے جو پچھلے لگ بھگ دو سال سے جاری ہے۔۔۔۔جبکہ دوسرے کمبینیشن میں محمد حارث اور بابراعظم بطور اوپنر ٹرائی کیے جا سکتے تھے۔۔۔رضوان اور شان مسعود مڈل آرڈر کا بوجھ اٹھاتے۔۔۔حیدر علی کو بھی انگلستان کے خلاف سیریز میں چانس دینا چاہیے۔۔۔

    سلیکٹرز نے آصف , خوشدل اور افتخار پر بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔خوشدل اور آصف کوالٹی اسپنرز کے آگے گلی محلے کے لڑکے لگتے ہیں لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی اور آسٹریلین پچز پر اچھا کھیلیں گے۔۔۔

    ورلڈکپ کے لیے توقع یہ ہی تھی کہ ایشیا کپ کھیلنے والے زیادہ تر کھلاڑی دوبارہ جگہ بنائیں گے۔۔۔ویسے ورلڈکپ سے عین پہلے زیادہ اکھاڑ پچھاڑ کا بھی فائدہ نہیں ہے۔۔۔

  • کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈاکٹر صاحب پانی کے موضوع پر ایک بہت عالم فاضل آدمی ہیں جنہیں میرے جیسا کم علم آدمی فیس بک پر پاکستان کے ڈیموں کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں ٹیگ ہونےسے پہلے نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حسن عباس صاحب کی باتیں سن کر شدید حیرت ہوئی اور میں نے سوشل میڈیا اور لنکڈ ان پر ان کو مزید کھوجا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ڈیم بیزار ایکسپرٹ ہیں اور پاکستان کے تمام دریاؤں پر ڈیم بنانے کے خلاف ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ طرز پر پاکستانی دریاؤں کی اپنی اصلی حالت میں بحالی چاہتے ہیں۔

    ان کی اس خواہش پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ 2007 میں انٹرنیشنل سنٹر فار ہائیڈروپاور کی دعوت پر ناروے کے پن بجلی سیکٹر کو دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اندرون ملک پہاڑی جنگلی علاقوں میں منصوبوں کے وزٹ کے دوران بہت سی جھونپڑیاں بنی نظر آئیں تو اپنے کوآرڈی نیٹر سے اس بارے استفسار کیا۔ معلوم ہوا کہ شہرکے شور شرابے سے تنگ ناروے کی ایک بڑی کھاتی پیتی شہری آبادی کا محبوب مشغلہ ویک اینڈز پر ان جھونپڑیوں میں قدرتی ماحول میں بغیر بجلی، موبائل یا ٹی وی سیٹ کے وقت گزارنا ہے۔ لکڑیاں جلا کر کھانا پکانا ہے۔ چشمے سے پانی پینا ہے۔ یہ ایک اعلی درجے کی تفریح گردانی جاتی ہے۔

    کوآرڈی نیٹر بتانے لگا کہ کچھ عرصہ پہلے عالمی ادارہ برائے پن بجلی کی دعوت پر انڈیا کے ایک بہت بڑے پروفیسر صاحب کو لیکچرز کے کئے مدعو کیا گیا جنہیں اوسلو کے ایک سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ ویک اینڈ پر ان کے لئے جنگل کاٹیج میں اعلی درجے کی تفریح کے لئے دودن کا انتظام کیا گیا ۔

    واپسی پر پروفیسر کا بوتھا سوجا ہوا تھا۔پروفیسر صاحب سخت ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ویک اینڈ پر اوسلو کے شاپنگ مال اور نائٹ لائف سے لطف اٹھانا چاہتے تھے لیکن انہیں ایک دیہاتی کی طرح بغیر بجلی والی جھونپڑی میں بھیج دیا گیا۔

    پروفیسر صاحب کا گلہ یہ تھا کہ کاٹیج والا ماحول تو ہم سارا سال اپنے ملک میں انجوائے کرتے ہیں چھ چھ گھنٹے روزانہ بجلی نہیں ہوتی۔ نہ گیس آتی ہے نہ نلکے سے پانی اور موبائل سگنل تو ہوتے ہی نہیں۔ ناروے میں تو میں آپ کی شہری زندگی کا مزہ لینا چاہتا تھا اور آپ نے مجھے جنگل میں پھینک دیا۔ میزبان شاکڈ

    میں بھی ڈاکٹر صاحب کا انٹرویو سن کر سکتے کی حالت میں ہوں۔ اے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب۔ ہماری زیادہ تر آبادی تو پہلے ہی قدرتی ماحول میں رہتی ہے۔ ہم نے تو بڑی مشکل سے ورلڈ بنک کے تعاون سے اب تک صرف دو بڑے ڈیم بنائے ہیں۔

    جن ممالک کی آپ مثالیں دے رہے ہیں وہ تو ہزاروں کی تعداد میں بڑے ڈیم بنا کر آدھی صدی سے زیادہ ان سے فائدہ اٹھا بیٹھے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف لارج ڈیمز ICOLD کا ڈیم رجسٹر تو انہی ملکوں کے ڈیموں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے اور اب یہ ملک ہمیں ڈیم نہ بنانے کے بھاشن دے رہے ہیں۔

    پاکستان جیسا ملک جس کاسب سے زیادہ پانی مون سون میں ہی میسر ہوتا ہے اس کے پاس سال کے باقی مہینوں کے لئے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ اور کیا حل ہوسکتا ہے۔ آپ ہم بھوکے لوگوں کو ملکہ فرانس کی طرح ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ تو نہ دیں۔

    پاکستانی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر ہے اور فصلوں کو تو پانی ہی تبھی چاہئے ہوتا ہے جب بارش نہیں ہوتی۔چند ماہ پہلے اپریل میں چھ دہائیوں کی شدید ترین خشک سالی کی وجہ سے ڈیم خشک ہوچکے تھے اور سندھ اور پنجاب میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری اس سال کی کاٹن کی فصل پانی نہ ملنے سے تباہ ہوچکی اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہوچکا۔

    لہذا ڈیم مخالف حضرات کی باتوں سے ہرگز گمراہ نہ ہوں۔ ہمیں مون سون کی چند ماہ کی بارشوں کو سارے سال کے لئے ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نیلی دولت ہے جسے واٹر بنک میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت سارا سال تھوڑا تھوڑا کرکے استعمال کرسکیں۔ٹیکنیکل اعتراضات کا جواب کچھ دنوں میں ایک تفصیلی آرٹیکل میں دوں گا۔انشااللہ۔

    چلتے چلتے بتادوں کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال صرف جولائی کے ایک مہینے میں ہی پچھلے سال2021 کے مون سون کے تین ماہ (جولائی تا ستمبر ) کی کل ملا کر بارشوں سے زیادہ بارش ہوچکی ہے۔

    محکمہ کی اگست کی موسمیاتی آوٹ لک کے مطابق اگست کے مہینے میں پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کے ساحل مکران میں مزیذ تیز بارشیں ہوں گی جب کہ شمالی علاقوں میں گرمی کی وجہ سے برف کے پگھلنے سے مڈ فلُو کا خطرہ ہے۔

    ادھر انڈیا نے طوفانی بارشوں کے بعد دریائے چناب اور راوی میں پانی چھوڑ دیا ہے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے ضلع جھنگ کے کافی علاقے زیر آب آچُکے۔

  • کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    ہم پانچوں دوست تقریباً دس سال بعد ملے. تین گھنٹے کی ملاقات میں آدھا گھنٹہ گپ شپ کی ہوگی. باقی وقت فیس بک چیک کرنے، واٹس ایپ کے پیغامات کی ترسیل اور چھان بین اور انٹ شنٹ کالوں کا جواب دینے اور اسی طرح کے ‘ارجنٹ’ مگر غیر ضروری کاموں میں صرف ہوگیا. اٹھنے لگے تو ایک دوست کی بات یاد آئی جس نے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد اصل امارت اور سٹیٹس کا سمبل یہ ہوگا کہ بندہ فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کے فون پر دستیاب ہے.

    نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اس حوالے سے شاندار مثال دی ہے. انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں جب عیسائی مشنری افریقہ میں آئے تو ان کے ہاتھ میں بائبل تھی اور ہمارے ہاتھوں میں افریقہ کی لاکھوں ایکڑ زمین تھی.

    پادریوں نے کہا ‘آؤ آنکھیں بند کریں اور خداوند کی عبادت کریں.’

    جب ہماری آنکھیں کھلیں تو پتہ چلا کہ بائبل ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہماری زمینیں پادریوں کے قبضے میں جاچکی ہیں.

    جب فیس بک اور واٹس ایپ کے جن کا نزول ہوا تو اس وقت ہمارے پاس وقت اور آزادی تھی جب کہ ان کے پاس انٹرنیٹ اور انفارمیشن تھی. ہمیں بتایا گیا کہ سب کچھ مفت ہے. ہم نے آنکھیں بند کیں اور جب کھلیں تو معلوم ہوا کہ ہمارا وقت اور آزادی دونوں چھن چکے ہیں.

    ہم میں سے اکثر چغد لوگوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے اور یہ کئی اعتبار سے ہم سے زیادہ سیانا ہے کہ اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہوا ہے. مثال کے طور پر اس نے ہاتھ کی گھڑی کھائی ، ٹارچ لائٹ کھا گیا ،یہ خط کتابت کھا گیا، یہ کتاب کھا گیا، یہ ریڈیو کھا گیا، ٹیپ ریکارڈ کھا گیا، کیمرے کو کھا گیا، کیلکولیٹر کو نگل گیا، یہ پڑوس کی دوستی، میل محبت، ہمارا سکون، تعلقات، یاد داشت، نیند، توجہ اور ارتکاز ڈکار گیا. کمبخت اتنا سب کچھ کھا کر "اسمارٹ فون” بنا ہے. بدلتی دنیا کا ایسا اثر ہونے لگا ہے کہ انسان پاگل اور فون اسمارٹ ہوگیا ہے. جب تک فون تار سے جڑا تھا، انسان آزاد تھا، جب فون آزاد ہو گیا، انسان فون سے بندھ گیا، دیکھا جائے تو انگلیاں ہی آج کل رشتے نبھا رہی ہیں، زبان سے نبھانے کا وقت کہاں ہے؟

    اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو سب ٹچ میں بزی ہیں، پر ٹچ میں کوئی نہیں ہے. یہاں مجھے ایک مشہور سوامی جی کا واقعہ یاد آتا ہے.

    سوامی جی نے جوگاجوگ (کا نٹیکٹ) اور سنجوگ (کنکشن) کے حوالے سے بات کی تھی اور ایک مشہور صحافی نے کڑے تیوروں کے ساتھ انہیں گھیر لیا تھا اور ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہا، باباجی، آپ کی بات کی سمجھ نہیں آئی.

    سوامی جی کے چہرے پر ایک دبی دبی مسکان سی ابھری. ‘کوئی بات نہیں، ابھی سمجھ لیتے ہیں. یہ بتاؤ کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟’

    صحافی کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوئے. تاہم اس نے ان پر قابو پاتے ہوئے اپنے علاقے کے بارے میں بتا دیا.
    ‘ہوں، کل کتنے لوگ ہو؟ والدین، بہن بھائی؟’ دوسرا سوال آیا.
    صحافی نے قدرے غور سے باباجی کو دیکھا. اسے ایسا لگا جیسے الٹا اس کا انٹرویو شروع ہوگیا ہے.
    ‘ہم، تین بہن بھائی ہیں. والدہ رخصت ہوچکی ہیں، والد حیات ہیں’. اس نے بوجھل لہجے میں جواب دیا.
    ‘ہوں، تو اپنے والد سے آخری دفعہ کب رابطہ ہوا؟
    ‘ایک ماہ پہلے ‘. صحافی نے روکھے لہجے میں جواب دیا. سوامی جی، بدستور ہشاش بشاش تھے.

    ‘ تم اپنے بھائیوں، بہنوں سے ملتے ہو؟ آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟.
    ‘ ملتا ہوں. آخری دفعہ تین مہینے پہلے ملے تھے.’ اس کے لہجے میں کھردرا پن نمایاں ہورہا تھا.
    ‘ اچھا تو تم بہن بھائی آپس میں رابطہ رکھتے ہو؟ آخری مرتبہ پورا خاندان کب اکٹھا ہوا تھا؟

    اس مرتبہ صحافی کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرے تھے.’ خاندان تو دوسال پہلے اکٹھا ہوا تھا’.
    ‘بہت خوب. تو کتنا وقت تم لوگوں نے ایک ساتھ بتایا؟ ‘
    ‘ تقریباً تین دن کے آس پاس’. اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا.
    ‘ہوں. تو تم سب بہن بھائیوں نے اپنے باپ کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟ سوامی جی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا.
    صحافی کا سانس پھول رہا تھا اور اس نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا.

    ‘کیا تم لوگوں نے ناشتہ اکٹھے کیا یا رات کا کھانا ایک ساتھ کھایا؟ کیا اپنے باپ کی صحت کی خبرلی؟ اس کے پاؤں دبائے؟ اس سے پوچھا کہ تمہاری ماں کے بغیر وہ کیسا محسوس کرتا ہے؟’

    صحافی کے چہرے پر عجیب و غریب سے تاثرات ابھرے. اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں اور سانس مزید بوجھل ہوگیا تھا.
    سوامی جی چہرے پر شفقت کے تاثرات لیے ہوئے اس کی طرف جھکے اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا.’ معاف کرنا اگر انجانے میں میری کسی بات نے دکھ پہنچایا ہو. میں تو بس تمہارے سوال کا جواب دے رہا تھا. اپنے باپ کے ساتھ، بہن بھائیوں کے ساتھ تمہارا کانٹیکٹ تو ہے مگر کنکشن نہیں ہے. تعلق دل کا دل سے ہوتا ہے. یہ ساتھ جڑ کر بیٹھنے سے، ایک ساتھ قہقہہ لگانے سے، ایک ہی لے میں رونے سے، ایک پلیٹ میں کھانے سے، وقت ایک ساتھ بتانے سے، ہاتھ ہر ہاتھ مارنے سے،گلے لگانے سے، کندھے سے کندھا جوڑنے سے بنتا ہے. اس میں روایتی حال چال نہیں بلکہ سب ٹھیک ہے کی تہ میں اترا جاتا ہے. آنکھوں میں دیکھا جاتا ہے، بدن بولی کو سمجھا جاتا ہے. رابطہ اور تعلق دو الگ چیزیں ہیں.’.

    صحافی نے نمناک آنکھوں سے باباجی کو دیکھا اور سر ہلایا. اس نے زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا تھا.

    ہمارے دور کی سب سے بڑی وبا کانٹیکٹ (رابطہ) بنانا ہے. اب دو چار سو کی بجائے ہمارے فون میں ہزاروں افراد کے نمبر ہوتے ہیں. تاہم اس بھاگم دوڑی میں کنکشن (تعلق) قربان ہوگیا ہے.

    دنیا کے زہین ترین اور نامور افراد میں سے ایک ٹونی بیوزان کے ساتھ میری پہلی ملاقات بہت دلچسپ رہی تھی. ٹونی تخلیقی معاملات اور انسانی دماغ کے استعمال پر دنیا بھر میں ماہر مانا جاتا ہے. اس کی ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں، پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں. اس کی ایجاد کردہ تکنیک مائنڈ میپنگ دنیا بھر میں کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں، جن میں درجنوں ملکوں کے سربراہان مملکت بھی شامل ہیں. میں ٹونی کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کے لیے پہنچا تھا، اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ آج میں اس سے بہت قیمتی سبق حاصل کرکے جاؤں گا.

    آدھے گھنٹے میں میرا فون چار دفعہ بجا اور مجھے ایکسکیوزمی کہ کر کال سننا پڑی. پانچویں دفعہ فون بجا تو ٹونی نے میز پر زور سے مکہ مارا اور غراتے ہوئے کہا ‘شٹ آپ، ناؤ یو آر انسلٹنگ می’. میں نے سکتے کے عالم میں اسے دیکھا اور اگلے دس منٹ میں ٹونی نے مجھے کمیونیکیشن کے آداب پر سیر حاصل لیکچر دے مارا.

    ‘میں دنیا میں بہت کچھ لے کر آیا ہوں مگر تمہارے لیے میرے پاس دو خاص تحفے ہیں. ایک میرا وقت اور دوسرا میری توجہ. جو وقت میرا تمہارے ساتھ بیتے گا، دنیا کی کوئی طاقت اور زروجواہر وہ وقت واپس نہیں لوٹا سکتے. تاہم اس وقت میں اگر میں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوں تو میں تمہاری توہین کررہا ہوں. اگر میں فون سنتا ہوں تو تمہیں بتارہا ہوں کہ فون پر موجود شخص تم سے زیادہ اہم ہے. اور یاد رکھو، کسی ملاقات میں فون میز پر سامنے رکھنا ایک طرح سے اپنے جنسی اعضاء نمائش کے لیے رکھنے کے مترادف ہے. اور ہاں اگر تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم زندگی میں کتنے کامیاب اور کامران ہو تو اسکا ایک دلچسپ ٹیسٹ یہ کہ تم کتنا عرصہ فون بند رکھ سکتے ہو یا اس کو سننے سے انکار کرسکتے ہو ‘.

    تو پیارے پڑھنے والے، آج اپنا فون بند کرکے یہ چھوٹا سا تجربہ کرلیتے ہیں کہ ہم کتنے کامیاب ہیں اور وقت اپنی مرضی سے استعمال کرنے پر قادر ہیں. آؤ، رابطہ نہیں، تعلق استوار کرتے ہیں، اپنے ارد گرد موجود جان لیوا شور سے جان چھڑا کر اپنے پیاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے ہیں، ان کے لمس کو محسوس کرتے ہیں، ان کی آنکھوں کے گرد پڑنے والی لکیروں کو غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باتوں کی تہہ تک پہنچتے ہیں کہ ہم توجہ سے زیادہ قیمتی تحفہ ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ہیں.

    (مصنف کی کتاب "گوروں کے دیس سے” اقتباس)

  • پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)صوبہ پنجاب میں چف سیکرٹری کی فرائض منصبی سرانجام دینے سے معذرت اور سرکاری محکموں بشمول پولیس و سول انتظامیہ کی لاغر کارکردگی نہ صرف وزیراعلٰی پنجاب بلکہ تحریک انصاف کے بلند وبانگ نعروں کا پول کھول رہے ہیں۔ انتظامیہ کی پرائس کنٹرول میں عدم دلچسپی پولیس کے اعلی افسران کی عوامی مسائل اور کرپشن روکنے اورکرائم کنٹرول میں ناکامی محکمہ مال ، محکمہ زرعت ، محکمہ ورکس اینڈ کنسٹرکشن ، اینٹی کرپشن اور دوسرے لا تعداد محکموں میں اپنے اپنے شعبوں میں مفلوج پن اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملات اوپر سے خراب ہیں ۔ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بروقت بھرتی میں عدم دلچسپی سے سرکاری سکولوں میں داخل طلباء اساتذہ کا راہ دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ صوبے کے چیف سیکرٹری کا یہ واویلا کہ انہیں صوبے سے تبدیل کیا جائے کیونکہ ان کے کاموں میں غیر ضروری مداخلت کی جا رہی ہے اور غیر مناسب سفارشیں کی جاتی ہیں اس بیان سے اور عملی طور پر فیلڈ میں گڈ گورننس کا فقدان ان مافیاز اور قبضہ گروپوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کہ اس وقت حکومت سے بھی طاقتور ہیں۔

    تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کی ملک میں جنگ لڑنے کا دعویٰ کررہی جبکہ پنجاب میں مکمل طورپر لینڈ مافیا ، قبضہ مافیا ، جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز ، ڈرگ مافیا کا راج ہے ۔ صوبہ پنجاب کی سرکاری مشینری کا غیر فعال ہونا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔ راولپنڈی ،اسلام آباد جیسے حساس ترین شہروں میں قبضہ مافیا کی طرف سے اسلحہ کی نمائش اور انسانوں کا قتل عام اعلیٰ پولیس افسران اور انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ پنجاب میں اعلیٰ پولیس افسران کے دفاتر تجارتی مراکز کا روپ دھار چکے ہیں۔ عوام کو قبضہ مافیا ، بڑے بڑے لینڈز مافیا ، ڈاکوؤں اورقانون شکن کرنے والے اعلیٰ پولیس افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔

    اگر مقتدر حلقوں نے اعلیٰ عدلیہ نے پنجاب کے اس خوفناک منظر نامے اور اسلام آباد جیسے شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر توجہ نہ دی تو ملک جو پہلے ہی دوبارہ دہشت گردی کی لہر اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے وطن عزیز میں بسنے والے شہریوں کا کیا ہو گا؟ پاک فوج کے جوانوں کا افغانستان کے بارڈر پر شہید ہونا ان سول انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس کے افسران کو کیوں نظر نہیں آتا ؟

  • ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    پاکستان کا نصف سے زائد حصہ ایک بار پھر زیرِ آب آ چکا ہے، حکومتیں نقصان کے تخمینے لگانے کے درپے ہیں لیکن تاحال مکمل طور پر تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا اور یہ فی الحال ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی تک پانی آ رہا ہے۔

    آج ہم اگلی چند سطور میں اس سیلاب کے اسباب پر بات کریں گے، راقم الحروف چونکہ خود سیلاب زندہ علاقوں کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہے اور الفلاح ویلفیئر فاؤنڈیشن تلہ گنگ (رجسٹرڈ) کے پلیٹ فارم سے فلاحی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور سیلاب کے حوالے سے کچھ پڑھ ،سن بھی چکا ہے لہذا کوشش کی جائے گی کہ آسان الفاظ میں ماحصل کو قارئین کے گوش گزار کیا جائے۔

    اس سیلاب کے حوالے سے دو بیانیے زبان زد عام ہیں جبکہ تیسرا بیانیہ جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اس کی طرف ابھی کم ہی لوگوں کا دھیان گیا ہے، لہذا پہلے دو پر بات کر کے ہم آگے کی طرف چلتے ہیں۔

    پہلا بیانیہ:

    سیلاب ہو یا کوئی بھی آسمانی آفت بحیثیت مسلمان سب سے پہلی چیز جو ہمارے اذہان کو کھٹکھٹاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کوئی اللہ کا عذاب ہے جو ہمارے برے اعمال کے سبب ہم پر آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھئی اللہ کا عذاب کیسے ہوا ۔۔؟ تو مولانا صاحب فرمانے لگے کہ دیکھیں بھئی آج تک کبھی اتنی بارشیں ہوئی ہیں جتنی اس دفعہ ہوئی ہیں۔؟ کیا بارشوں سے بھی کبھی اتنے سیلاب آئے ہیں جتنے اس دفعہ آ رہے۔۔؟ یہ عذابِ الٰہی نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟

    بات تو مولانا کی بھی پھینکنے والی نہیں تھی بہرحال میں اگر اپنا ذاتی مشاہدہ بتاؤں تو سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ اجتماعی گناہ مجھے بھی نظر آئے، ڈیرہ اسماعیل خان ہو راجن پور کے دیہات ہوں وہاں علی الاعلان بجلی چوری کی جاتی ہے، کنڈے لگا کر اپنا گھر روشن کرنا ان کےلئے اتنا نارمل ہے کہ جب ہم نے اپنی راشن ڈرائیو میں ساتھ جانے والے SHO سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو وہ صاحب فرمانے لگے کہ یہاں ایسے ہی چلتا ہے۔جنہوں نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں وہ ماہانہ پانچ سو دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر رہے ہیں اور ضمیر فروش افسر اپنے پیٹ کو۔۔!

    ایسے ہی کچھ علاقوں میں غیر فطری گناہ کی بہتات سننے کو ملی، اور جنوبی پنجاب کی مساجد کی حالتِ زار کو دیکھا تو ان پر ترس آیا۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ سیلاب کے بعد بھی کوئی فرق نظر نہیں آیا، نماز کے وقت ایک مسجد جانا ہوا تو وضو خانے کی حالت دیکھ کر ایسے لگتا جیسے کئی سالوں سے یہاں کسی نے وضو نہ کیا ہوا۔ جیسے اقبال نے کہا تھا کہ

    تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔۔!
    اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی..!

    اور جب مسجد کے اندر گئے تو ایک معذور شخص موجود تھا اور ایک کوئی ستر اسی سالہ بزرگ، جبکہ باقی سارے نوجوان سارا دن موٹر سائیکل پورے شہر میں بھگاتے پھرتے ہیں کہ کب کوئی راشن والی گاڑی آئے اور ہم کچھ حاصل کر لیں۔

    اب ایسے حالات میں سیلاب نہ آئیں تو کیا ہو۔۔؟

    اللہ کا اصول ہے ہے کہ جب کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اللہ پھر ان کو جھنجھوڑنے کےلئے کوئی آسمان سے آزمائش بھیجتے تاکہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔

    دوسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جسے ہمارا پڑھا لکھا طبقہ لے کر چل رہا ہے کہ بھئی یہ اللہ کا عذاب نہیں بلکہ سراسر ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کی Mismanagement ہے، پوری دنیا میں قدرتی آفات آتی ہیں لیکن وہاں ان کے نقصان سے بچنے کےلئے اقدامات کیے جاتے ہیں، جہاں پانی کی کثرت ہو وہاں ڈیم بنا کر پانی کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ پانی بجلی بنانے اور زمین کو سیراب کرنے کے کام آتا ہے لیکن ہماری بد قسمتی دیکھیے کہ یہ قیمتی پانی جو ہم نے سٹور کر کے اس سے فائدہ اٹھانا تھا وہ ہمیں ڈبوتا ہوا، ہمارے گھروں، مال، مویشی اور املاک کو تباہ و برباد کرتا سمندر برد ہو جاتا ہے اور ہم تماشائے اہلِ کرم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

    پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ یہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ اشرافیہ نے اپنی زرعی زمینوں کو بچانے کےلئے پانی کا رخ آبادیوں کی طرف موڑ دیا، خاص نہروں کو بچانے کےلئے ان کے اوپر سے بارشی پانی کی گزرگاہ بنائی جاتی ہے جس کا رخ انسانی نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں کی آبادیوں کی طرف کر دیا جاتا ہے، ہاں بھئی نہریں بچنی چاہئیں کیونکہ وہ تو ہماری مخصوص زمینوں کو سیراب جو کرتی ہیں، کیڑوں مکوڑوں کا کیا ہے وہ تو پھر اٹھ کھڑے ہونگے انہیں تو کوئی نہ کوئی گھر بنا دے گا۔اور مر بھی جائیں تو ہماری بلاء سے۔۔۔ سانوں کی۔۔۔؟

    پھر اسی طرح سوچنے ایک اور زاویہ یہ ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو عالمی اداروں اور دوست ممالک کی طرف سے اربوں ، کھربوں کی مالیت کا سامان اور امداد آتی ہے جس پر ہاتھ صاف کرنا ہماری اشرافیہ اپنا قانونی و اخلاقی حق سمجھتی ہے لہذا اشرافیہ کےلئے یہ ضروری ہے کہ ہر کچھ عرصہ کے بعد ایسی آفت ضرور آئے ہی آئے کہ چلو کچھ کیڑے مکوڑے مر جائیں گے تو اسی بہانے ہمارے خزانوں میں بھی کچھ آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مشینری 1988 سے آئی پڑی ہے اور پڑے پڑے گل سڑ چکی ہے لیکن تاحال اس کالاباغ ڈیم پر کام نہیں شروع ہو سکا اور جن لوگوں نے اس ڈیم کی مخالفت کی تھی اس سیلاب نے ان کو بھی اپنی روانی میں بہا دیا ہے۔ شاید کہ اب وہ کچھ سوچ سمجھ لیں اور کالاباغ ڈیم کےلئے عملی اقدامات کر لیں۔

    تیسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جو ہر پاکستانی کے علم میں ہونا چاہیے لیکن بد قسمتی سے ہماری قوم شاید اس پر سوچنا ہی نہیں چاہتی یا سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔

    آپ نے آج کل Global Warming, ، Ozone, Climate Change, Carbon وغیرہ جیسے دو تین اور الفاظ بھی سنے ہونگے۔ ابھی اس کی تفصیل میں جانا تو ممکن نہیں بہرحال ایک بات آپ ذہن نشین کر لیں کہ فضا میں کاربن کی بڑھتی مقدار نے پوری زمین کو متاثر کیا ہے، جس کے کئی ایک نقصان ہیں جیسے بارشوں کی بہتات، گلیشئر کا بڑی مقدار میں پگھلنا، فضائی آلودگی، نئی نئی بیماریوں کا وجود میں آنا، موسموں میں یکسر تبدیلی یعنی گرم علاقوں میں ٹھنڈ ہونا اور ٹھنڈے علاقوں میں گرمی کا ہونا اور قدرتی آفات مثلا زلزلہ، سیلاب وغیرہ آنا۔ ایسا ہی معاملہ کچھ اس دفعہ ہمارے ساتھ ہوا ایک تو بارشیں اپنی روٹین کے حساب سے ہزاروں گنا زیادہ ہوئیں اور دوسرا ہمارے ہاکستان کے پاس چھے ہزار کے لگ بھگ گلیشیئر ہیں جو انتہائی تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے اور وہ پہاڑی و میدانی علاقوں میں سیلاب کا باعث بنے۔

    اصل بات اس سے بھی آگے ہے کہ آخر کاربن کی مقدار فضا میں زیادہ کیوں ہو رہی ہے۔۔؟

    اس کی بڑی وجہ انڈسٹری ہے اور انڈسٹریز میں پاکستان تو بہت پیچھے کھڑا ہے جبکہ تمام ترقی یافتہ ملک بشمول ہمسایہ ملک چین اور بھارت کے انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے فضا میں کاربن کی مقدار تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان تو مکمل ایک فیصد سے بھی کم کاربن فضا میں چھوڑ رہا ہے جبکہ کئی ایسے ممالک ہیں جو پچیس فیصد سے زائد کاربن فضا میں بھیج رہے ہیں۔

    اور وہی کاربن جو بڑی طاقتوں کی ترقی کا نتیجہ ہے وہ ہمارے لیے سراسر تباہی ہے اور حالیہ دورے میں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان موجودہ حالات میں عالمی برادری سے امداد کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنا نقصان بھرنے کا مطالبہ کریں اور یہ کیس لے کر ایمنسٹی، اقوام متحدہ ، OIC وغیرہ میں جائیں کہ عالمی معاشی طاقتیں کمزور ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کریں۔

    اب اگر بات کی جائے کہ کیا یہ تینوں بیانیے درست ہیں تو جواب ہو گا جی ہاں، اپنی اپنی جگہ یہ تینوں بیانیے درست ہیں لیکن جس بیانیے کو زیادہ سمجھنے اور پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ تیسرا بیانیہ ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر اس مقصد کےلئے کوئی پختہ اقدامات ہو سکیں اور ہم آئندہ ایسے بڑے نقصان سے بچ سکیں۔