Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    بعض اوقات زندگی اتنی تلخ ہو جاتی ہے کہ شیریں چیزیں بھی کڑوی لگنے لگتی ہیں اور دھیرے دھیرے حیات اپنی معنویت کھو دیتی ہے. ہم دن رات انھیں دکھوں اور تکلیفوں میں گزار کر ذہنی و جسمانی طور پر ڈھیٹ ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں ان کی عادت پڑھ جاتی ہے. ہم درد سہتے ہوئے ہس بھی لیتے ہیں اور رو بھی لیتے ہیں. کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا کسی کو سنا لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات اپنی بپتا اپنی یادوں میں دفن کرتے جاتے ہیں. خوشی اور غمی، شاید اسی کا نام حیاتی ہے.

    اگرچہ زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں مگر ان کو ساتھ لے کر جینا بھی ناممکن ہے. قدم قدم پر غم بکھرے پڑے ہیں تو کونوں کُھدروں میں کرب رینگ رہے ہیں. خوشیاں کہیں اوٹ میں چھپی کن اکھیوں سے دیکھ رہی ہیں کہ کب درد موقع دیں اور ہم اگرچہ کچھ لمحوں کے لیے ہی مگر بشر کو راحت و سکون مہیا کر سکیں.

    ماضی ہمیں جینے نہیں دیتا، حال ہمیں ہنسنے نہیں دیتا اور مستقبل کی لامحدود خواہشات ہمیں مرنے نہیں دیتیں. ہم اسی کشمکش میں زندگی کی گاڑی کو آس و یاس کے دھکے لگا کر آگے کو دھکیلتے رہتے ہیں اور ہر دن اسی امید کے ساتھ دل کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح کھوکھلی تسلیاں دیتے رہتے ہیں کہ

    "کوئی بات نہیں، پریشان نہیں ہونا، دل چھوٹا نہیں کرنا، اداس نہیں ہونا، مایوس نہیں ہونا، اچھا وقت بس قریب ہے”.

    اور پھر ہم انہی ٹمٹماتی امیدوں پر اپنی پوری حیاتی گزار کر گزر جاتے ہیں. ہمارے بعد ہمارے بچے اور پھر ان کے بعد ان کے بچے یہی سب کچھ دہراتے ہیں، اسی کیفیات سے گزرتے ہیں.

    ہم زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے، ہم خوش رہنا چاہتے ہیں مگر نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم دوسروں سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں.

    ہمارے پاس ہماری زندگی میں اگر کوئی اثاثہ ہے تو وہ ہماری گزری ہوئی یادیں ہیں، پھر چاہے وہ اچھی ہوں یا بری. ہم ایک ایک یاد کو بیسیوں بار یاد کرتے ہیں اور ہمارے سپنے بھی ہماری یادوں سے بھرے پڑے ہیں. ہم اپنی پوری زندگی تعلق بناتے اور نبھاتے مر جاتے ہیں. پھر ان تعلقات کو اپنی یادوں کی لڑی میں پرو کر یا تو کھل کر ہنس لیتے ہیں یا پھر بلک بلک کر رو دیتے ہیں. یادیں ایک ہی وقت میں ہمیں نئے زخم دیتی ہیں، پرانے زخموں کو تازہ کرتی ہیں اور پھر ان زخموں پر لگانے کے لیے مرہم بھی فراہم کرتی ہیں.

    سچ تو یہ ہے کہ یادیں بعض اوقات ہمیں ماضی کے ان جھروکوں میں لے جاتے ہیں جہاں کچھ پل کے لیے ہی سہی مگر ہمیں سکون میسر آ جاتا ہے. یہ یادیں ہی ہوتی ہیں جو ہمہ وقت ماضی اور حال کو جوڑے رکھتی ہیں. جوانی میں بچپن کے قصے کہانیاں، شرارتیں اور پھر بزرگوں کی جھڑکیاں، بڑھاپے میں جوانی کی پرجوش زندگی اور بعض الٹی حرکتیں اور قباحتیں،اپنی مرضی کے فیصلے لینا اور خود کو سب سے بڑا توپ مار سمجھنا، ہماری یادوں کے وہ سنہری ابواب ہیں جو ہماری حیاتی کو آگے دھکیلنے میں مد و معاون ثابت ہوتے ہیں.

    جو بھی ہے ہم زندگی کو امید اور آس سے زیادہ یادوں کے سہارے جیتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ یادیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں بلکہ اپاہج بنا کر رکھ دیتی ہیں جبکہ آس اور امید ہمیں ہر ہر موڑ پر ایک اندرونی تقویت مہیا کرتی ہیں جو ہمارے لیے بہت ضروری ہے. زندگی کو حقیقت سمجھ کر گزاریں. سپنوں اور یادوں کو اتنی ہی جگہ دیں جتنی کے وہ قابل ہیں تبھی عمر کٹ پائے گی.

  • اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں. رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لئے ماہ مقدس میں پکے مسلمان بن جاتے ہیں اور رب کو عبادات کے ذریعے منانے کی اور اپنے گناہ بخشوانے کی کوشش کرتے ہیں. ربیع الاول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ در و دیوار، گلی محلوں بازاروں کو سجا کر اور ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں سجا اور لوگوں میں نیاز تقسیم کر کے اپنی عقیدت و محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں.

    محرم میں غم حسین رضی اللہ عنہ میں اتنے سوگوار ہوتے ہیں کہ ان دنوں میں خوشیوں کی تقریبات کو ملتوی کر دیتے ہیں لوگ محبت حسین رضی اللہ عنہ میں اور قاتلین کربلا سے نفرت میں مجالس منعقد کرتے ہیں نوحے و مرثیے پڑھے جاتے ہیں.ماتمی جلوس نکال کر اور سینہ کوبی کر کے یزیدی لشکر کی مذمت کی جاتی ہے مظلوم کربلا کے سوگ میں کالے کپڑے پہن کر اپنے غم کا اظہار کیا جاتا ہے.

    محرم میں پانی کی سبیلیں لگا کر اور لنگر حسینی رضی اللہ عنہ تقسیم کر کے قاتلین کربلا کے اس عمل سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے جب انہوں نے کربلا کے مسافروں پر کھانا اور پانی بند کیا.

    اسی طرح اگست کے مہینے میں قومی یکجہتی کے اظہار کے لئے اور ایک الگ وطن حاصل کرنے کی خوشی میں گھروں پر اور عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں. گلی محلوں میں ملی نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں گھروں کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے عمارتوں پر لائٹنگ کی جاتی ہیں اور ریلیاں نکال کر اپنی خوشی کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے.

    لیکن ہوتا کیا ہے ہماری عبادات صرف رمضان المبارک، عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح اظہار صرف ربیع الاول میں، مظلوم کربلا سے اظہار یکجہتی صرف محرم میں اور حب الوطنی کے جذبات صرف اگست میں بیدار ہوتے ہیں. کیا ان مہینوں کے علاوہ ہم مسلمان، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عاشق حسین رضی اللہ عنہ اور محب وطن نہیں ہیں.

    آئیں ہم آج کے بعد مخصوص مہینے کے لئے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لئے مسلمان اور محب وطن بن جائیں اگست کا مہینہ ہے تو ہم اپنی ابتدا اسی مہینے سے کرتے ہیں ہم اپنی خود احتسابی کرتے ہیں کیا یہ ملک کسی مخصوص فرقے کے لئے حاصل کیا گیا یا مسلمانوں کے لئے، اگر مسلمانوں کے لئے حاصل کیا گیا تو ہم نے دیگر فرقوں کے مسلمانوں کے لئے اس ملک کو جہنم کیوں بنا دیا.

    قائد اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم مسلمانوں کے لئے اس علیحدہ خطے کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادی سےزندگی گزار سکیں لیکن افسوس آج ہم اپنے قائد کے فرمان کو بھول کر سیاسی، نسلی، لسانی تعصبات کا شکار ہو گئے فرقہ بندیوں میں پڑ گئے جس قوم نے مضبوط ہو کر دیگر مظلوم مسلمان اقوام کی مدد کرنی تھی وہ آج خود مدد کے لئے غیر مسلم حکومتوں کی طرف دیکھ رہی ہے.

    اس سب کی وجہ صرف فرقہ واریت اور عدم برداشت ہے ہم جب تک فرقہ واریت سے پاک رہے ہماری ترقی کی رفتار قابل رشک تھی دنیا کی دیگر اقوام ہمیں رشک سے دیکھتی تھیں لیکن پھر ہم نے آپس کی محبت ختم کر دی اور اپنا اتحاد ختم کر کے ٹکڑوں میں بٹ گئے آج یہ حالت ہے کہ ہم نے جن سے آزادی حاصل کی اب انہی کے ملک میں جانا اور وہاں اپنے خاندان سمیت مستقل رہائش اختیار کرنا ہماری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے.

    ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ایک ہیں لیکن ہم عملی طور پر اس پرچم کے سائے تلے ایک نہیں ہیں. ہمیں ایک ہونے کے لئے اپنے دلوں میں سے ہر قسم کے تعصبات کو ختم کرنا ہوگا. ہمیں ایک دوسرے کی نیک نیتی پر یقین کرنا ہو گا ہمیں اس طرح آپس میں متحد ہونا پڑے گا جیسے 1947 میں تمام مسلمان قائد اعظم کی قیادت میں فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد تھے.

    بڑے بڑے علماء کرام نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے کہ حقیقی آزادی قائد اعظم کی قیادت میں ملے گی آپ کو اپنا راہنما تسلیم کیا اور مساجد اور ممبر رسول سے لوگوں کو آپ کی قیادت پر متفق کیا. اسی جذبے کی ہمیں آج ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں کہ "اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں”

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے ۔

    شائد اسی لیے قرآن مجید میں اسے عنب کے نام سے گیارہ مختلف آیات میں ذکر کیا گیا ہے ۔

    انگور کی درجنوں جنگلی قسمیں دنیا کے مختلف خطوں میں پائی جاتی ہیں ۔

    اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا کہ انگور کا اصلی وطن کون سا ہے ممکن نہیں ۔

    اس کے باوجود سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انگور کا اصلی وطن آرمینیا اور آذربائجان کا پہاڑی علاقہ ہو سکتا ہے ۔

    اس علاقہ کی آب وہوا بہت اچھی ہے اور غالباً یہیں سے انگور کی کاشت کا فن عام ہو کر ایران مصر اور عرب تک پھیل گیا ۔

    یہ قیاس آرائیاں تین ہزار سال قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں کاشت کیا گیا انگور دریافت ہو چکا تھا ۔

    اس طرح کھجور کے بعد انگور کی تاریخ ہی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جاتی ہے ۔

    آج انگور کی آٹھ ہزار قسمیں تیار کی جا چکی ہیں
    ۔
    ان میں سے چند عمدہ اور اچھی قسموں کی کاشت اٹلی فراس روس اسپین ترکی ایران افغانستان جاپان شام الجیریا مراکش اور امریکہ میں کی جا رہی ہیں ۔

    انگور کی عالمی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ پورپی ممالک پیدا کر رہے ہیں ۔

    انگور کا شمار اہم پھلوں میں ہوتا ہے ۔

    انسانی صحت کی بحالی کے لیے انگور قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔

    انگور کے دانے مٹر سے لے کر آلو بخارے تک جسامت رکھتے ہیں ۔

    انگور زرد کالے سرخ سبز اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں ۔

    انگور اپنے قیمتی غذائی اجزاء کی بدولت زبردست غذائی اہمیت رکھتا ہے ۔

    اس میں پائی جانے والی وفر مقدار میں شکر زیادہ تر گلوکوز پر مشتمل ہوتی ہے ۔

    انگور میں پایا جانے والا گلوکوز مختلف اقسام میں شرح یعنی 15 سے 25 فیصد تک موجود ہوتا ہے ۔

    انگور فوری طور پر جسم کو حرارت اور توانائی مہیا کرتا ہے ۔

    گلوکوز پہلے سے ہضم شدہ غذا ہے جو معدے میں پہنچنے کے فوراً بعد خون میں جذب ہو جاتی ہے ۔

    غذائی صلاحیت:
    انگور کے 100 گرام میں 92 فیصد رطوبت 0.7 فیصد پروٹین 0.1 فیصد چکنائی 0.2 فیصد معدنی اجزاء اور 7 فیصد کاربوہائیڈریٹ پائے جاتے ہیں ۔

    جبکہ انگور میں پائے جانے والے معدنی اور حیاتین اجزاء کا تناسب اس طرح ہوتا ہے ۔

    کیلشیم 20 ملی گرام فاسفورس 20 ملی گرام آئرن 0.25 ملی گرام وٹامن سی 31 ملی گرام اور وٹامن بی کمپلیکس وٹامن اے اور وٹامن بی کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے ۔

    100 گرام انگور میں 32 کیلوریز ہوتی ہیں ۔

    شفاء بخش قوت اور طبی خواص:
    انگور کی شفاء بخش طبی افادیت کا تعلق اس میں پائی جانے والی گلوکوز کی فراوانی ہے ۔

    انگور بحالی صحت کو بڑی تیزی سے ممکن بناتا ہے ۔

    عام کمزوری بخار اور ضعف ہضم کے مریضوں کے لیے انگور بہت اچھی غذا ہے ۔

    قبض سے چھٹکارا پانے کے لیے روازنہ 350 گرام گرام انگور کھانا ضروری ہے ۔

    اگر تازہ انگور دستیاب نہ ہوں تو کشمش کو کچھ دیر پانی میں بھگو رکھنے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

    انگور بد ہضمی کا خاتمہ کرتے ہیں اور بہت کم وقت میں معدے کی خراش اور گرمی دور کرتے ہیں ۔

    دل کی بیماری میں انگور کامیاب علاج ہے ۔

    انگور دل کو تقویت دیتے ہیں دل کے درد اور تیز دھڑکن کا خاتمہ کرتے ہیں ۔

    اگر انگور کو مریض کچھ دن اکلوتی غذا بنائے رکھے تو مرض پر بہت تیزی سے قابو پایا جاسکتا ہے ۔

    دل کے دورے کے بعد مریض کو انگور کا رس پلانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔

    یہ مریض کو دل کی تیز دھڑکن اور سنگین نتائج سے محفوظ رکھتا ہے ۔

    خوب پکے ہوئے انگوروں کا رس درد شقیقہ آدھے سر کا درد میں تسکین بخش ہے ۔

    انگور میں پانی اور پوٹاشیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے ۔

    اسی وجہ سے یہ منفرد قسم کی پیشاب آور صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    مثانے اور گردوں کی پتھری کا خاتمہ کرتے ہیں اور گردوں کی سوزش دور کرتے ہیں۔

  • سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    کیا آپ کو معلوم ہے؟

    وہ کون شخصیت ہیں جو انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔ جن کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ جنھیں سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے مانگا تھا۔ جو اپنی رائے دیتے اور اللہ اسی رائے کے موافق قرآن کی آیات نازل فرماتے۔ جو محبوب رب العالمین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سسر ہیں ، جو ہجری تقویم کے بانی ہیں۔جن کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ جن کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ جنھوں نےاپنی مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کمال خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، جو خلیفہ وقت ہونے کے باوجود روکھی سوکھی کھایا کرتے، کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے، زمین پر استراحت فرماتے مگر رعب و دبدبہ اتنا کہ قیصر و کسری پر آپ کا نام سن کر ہی کپکپی طاری ہوجاتی، جو جس راستے سے جاتے شیطان اس رستے کے قریب بھی نہ پھٹکتا ۔ جن کے بارے میں خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرے بعد اگر کوئ نبی ہوتا تو یہ ہوہوتے۔ یہ ہیں سیدنا ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی رضی اللہ عنہ۔

    آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، آپ کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ آپ کا عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

    آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپکی ہر صفت بے مثال تھی۔ اسلام لانے سے قبل پڑھے لکھے عظیم سرداروں میں اور بہادر ترین افراد میں آپکا شمار ہوتا تھا۔ اور اسلام لانے کے بعد اپنی ساری سرداری، بہادری، عدالت، ذکاوت ، سخاوت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قدموں پر قرباں کردی۔

    نام و نسب
    سلسلہ نسب یہ ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے

    پیدائش
    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ آپ کی ولادت شریف عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص43)
    مشہور روایت کے مطابق آپ ہجرت سے چالیس برس قبل پیدا ہوئے۔ آپ کے بچپن کے حالات نا معلوم ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ آج کا یہ بچہ کل بائیس لاکھ مربع میل پر حاکم ہوگا، اور شرق و غرب میں اسکے نام کا ڈنکا بجے گا۔

    تعلیم
    عرب میں نسب دانی،سپہ گری،پہلوانی اور مقرری کا نہ صرف رواج تھا بلکہ یہ امور باعث شرافت سمجھےجاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے باپ دادا نامور نساب تھے، آپ نے اپنے والد سے نسب دانی سیکھی۔ پہلوانی اور کشتی میں بھی کمال حاصل کیا، یہانتک کہ عکاظ کے دنگل میں آپ اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔ عکاظ جبل عرفات کے قریب ایک مقام تھا جہاں ہر سال اہل فن اپنے کمالات کا اظہار کرتے تھے۔ آپ بہترین مقرر اور اعلی شاعر بھی تھے۔ اور آپ کا شمار ان سترہ افراد میں ہوتا ہے جو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

    قبول اسلام
    ابتداء اسلام میں آپ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین مخالفین میں سے تھے۔ یہانتک کہ اپنی کنیز لبینہ کے اسلام لانے پر انکو سخت ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ مگر

    اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
    اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤگے

    مشرکین مکہ نے اسلام کو روکنے کی جتنی تدبیریں اختیار کیں، اسلام اتنا ہی پھیلنے لگا ۔ یہ صورتحال دیکھ کر مکہ کے مشرک سرداروں نے فیصلہ کیا کہ کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا جائے،جسکے لئے کوئ تیار نہ ہوا۔ مگر عمر رضی اللہ عنہ اس پر آمادہ ہوئے، اور تلوار لے کر نکل پڑے۔ رستے میں آپ کے بدلے تیور دیکھ کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہاں جارہے ہیں، آپ نے کہا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قتل کرنے( معاذاللہ)،یہ سن کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لیجئے آپکی بہن فاطمہ اور بہنوئ سعید بن زید رضی اللہ عنھما بھی اسلام قبول کرچکے ہیں۔ یہ سن کر آپ کے غصے کی انتہا نہ رہی، شدید غصے کی حالت میں گھر گئے، دیکھا کہ آپکی بہن قرآن کریم کے اجزاء لیکر تلاوت کرہی ہیں۔ انہوں نے آپکو دیکھتے ہی وہ اجزاء چھپائے،مگر آپ نے آواز سن لی تھی، آپ نے کہا مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم دونوں مرتد ہوگئے ہو، یہ کہہ کر اپنے بہنوئ سعید سے دست وگریباں ہوئے،بہن فاطمہ رضی اللہ عنھا بچانے آئ تو انہیں بھی اتنا مارا کہ لہولہان کردیا۔ بہن نے کہا جو کرسکتے ہو کرلو،ہم دین اسلام نہیں چھوڑ سکتے۔ ان الفاظ نے آپ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ اور بہن کا خون آلود بدن دیکھ کر مزید دل نرم ہوا۔ فرمایا: لاؤ، مجھے دکھاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے۔ فاطمہ رضی اللہ عنھا نے قرآن کریم کے اجزاء سامنے رکھے، جن پر یہ آیات تھیں:

    سبح لله ما فی السموت والأرض وھو العزیز الحکیم
    ( جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے)
    ایک ایک لفظ پر ان کا دل اسلام کی طرف مائل ہوتا گیا۔ اور جب اس آیت پر پہنچے:
    آمنوا باللہ ورسولہ
    ( اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ)
    تو بے اختیار زبان پر کلمہ جاری ہوا:
    اشھد أن لا الہ الا اللہ وأشھد أن محمداً رسول اللہ
    آپ کے اسلام کا سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نعرۂ تکبیر بلند کیا، آپ کے ساتھ سب صحابہ نے بھی خوشی سے اللہ اکبر کہا۔
    آپ کے اسلام لانے سے تاریخ اسلام کا نیا دور شروع ہوا،مسلمانوں کو حوصلہ ملا، اسلام کو قوت ملی۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں
    "فلما أسلم عمر قاتل قریشا حتی صلی عند الکعبۃ وصلینا معہ”
    ” جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لاۓ تو قریش کا مقابلہ کیا یہانتک کہ ببانگ دہل کعبۃ اللہ میں نماز پڑھی، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔

    سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام لا نے کے بعد6 نبوی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا ،اس وقت آپ کی عمر مبارک ستائیس 27 سال تھی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص:43۔ الاکمال فی اسماء الرجال)

    فضائل
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر آپکے وہ فضائل بیان فرماۓ،جو آپ ہی کا خاصہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

    1-میرے بعد جو دو(خلفاء )ہیں، ان کی اقتداء کرو یعنی ابوبکر اورعمر رضی اللہ عنہما ۔ (جامع الترمذی)
    2-بے شک اللہ تعالی نے عمررضی اللہ عنہ کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرمادیا ہے ۔ (جامع الترمذی)
    3-عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح المسلم)
    4-میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔( جامع الترمذی )
    5-حضرت علی رضی الللہ عنہ سے روایت ہے ، فرمایا:” بے شک عمر فاروق جب کوئی بات کہتے یں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے ۔”
    6-حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’ یا رب ! اسلام کو خاص عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے غلبہ وقوت عطا فرما۔‘‘ (المستدرک حاکم)

    شہادت
    مدینہ منورہ میں ایک پارسی غلام تھا،جس کا نام ابو لؤلؤ فیروز تھا۔ اس نے آپ سے شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہ بن شعبہ نے مجھ پر بڑا بھاری محصول مقرر کیا ہے۔ آپ نے پوچھا کتنا؟ اس نے کہا روزانہ دو درہم۔ آپ نے کہا کیا کام کرتے ہو؟ اس نے کہا بڑھئ، رنگسازی اور لوہار کا کام۔ آپ نے کہا تین پیشوں کے حساب سے یہ محصول تو مناسب ہے۔ وہ غلام آپکے اس فیصلے پر سخت ناراض ہوا۔

    ایک دن فجر کی نماز کی امامت کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑھے، جونہی نماز شروع کی۔ فیروزنے اچانک گھات سے نکل کر آپ پر چھ وار کئے، ایک وار آپکےناف کے نیچے لگا۔ حضرت عمر نے فورا حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے پکڑ کر آگے کیا، انہوں نے نماز مکمل کی۔ اور آپ اس دوران لہولہان حالت میں تڑپتے رہے۔

    فیروز کو اس دوران پکڑنے کی کوشش کی، مگر اس نےاس خنجر سے اور افراد کو بھی زخمی کیا، اور جب پکڑا گیا تو اس نے خودکشی کی اور جہنم واصل ہوا۔
    سب سے پہلے آپنے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟ آپکو بتایا گیا کہ فیروز نظامی پارسی غلام۔ آپ نے الحمدللہ کہا، کہ شکر ہے کوئ اسلام کا دعویدار میرا قاتل نہیں۔

    ایک طبیب بلایا گیا جس نے آپکو نبیذ اور دودھ دیا، دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل آئیں۔ آپ کو یقین ہوگیا کہ اب آپ جانبر نہیں ہوسکتے، لہذاحضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے اجازت چاہی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جگہ عنایت کردیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے روتے ہوۓ کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی۔ مگر میں آج آپکو خود پر ترجیح دیتی ہوں۔

    آپ نے فرمایا: "یہی میری سب سے بڑی آرزو تھی”

    تین دن بعد آپکا انتقال ہوا۔
    انا لله وانا الیہ راجعون

    مشہور تاریخی روایات سے یہی بات ثابت ہے کہ 23 ہجری 26 یا27 ذوالحجہ کو نماز فجر میں سیدنا فاروق اعظمؓ پر ابولؤلؤ فیرزو مجوسی ملعون نے حملہ کیا اور تین دن کے بعد یکم محرم الحرام کو امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔صحیح قول کے مطابق بوقت شھادت انکی عمر مبارک 63 سال تھی ۔ آپؓ کی مدتِ خلافت دس سال،چھ ماہ تین دن پر محیط ہےیکم محرم الحرام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کئے گئے۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ آپکے جنازے پر آئے اور فرمایا: دنیا میں مجھے سب سے محبوب وہ شخص تھا جو اس کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔

    حضرت ام ایمن رضی اللہ عنھا نے کہا: اب اسلام کمزور ہوگیا۔

    سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں اسلام پرروتا ہوں۔ آپکی موت سے اسلام میں وہ دراڑ آئ جو کبھی بھری نہیں جاسکتی۔
    اللہ ہمیں آپکے نقش قدم پر چلائے۔ آمین

    آپ کی مرقد پر بے شمار رحمتیں ہوں ۔ آمین

  • چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    ہر خاص و عام کی شدید ترین خواہش ہوتی ہے کہ کبھی وہ بھی شمع محفل بنے اور حاضرین محفل اس کے گرد پروانوں کی طرح پھریں. لیکن

    ہزاروں خواہشیں ایسی ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے ارمان میرے مگر پھر بھی کم نکلے

    مشہور ہے کہ اگر آپ نے دنیا میں جنت دیکھنی ہے تو پاک فوج میں آفیسر بھرتی ہو جائیں لیکن یہ بھی کسی کسی کے نصیب میں ہوتا ہے.قربان جاؤں میں اس رب پر جس نے دنیا میں ہی بندے کے شمع محفل بننے اور جنت کی خواہش پوری کر دی اور اس کے لئے مملکت خداداد سسرائیل تخلیق کی.

    اس مملکت میں تمام اختیارات آئینی طور پر صدر (سسر) کے پاس ہوتے ہیں. لیکن اختیارات کا منبع وزیراعظم (ساس) ہوتی ہے.. وزارت خزانہ (صرف کمانے کی حد تک) اور دفاع (خاندانی لڑائیاں) بیٹوں کے سپرد ہوتی ہے.

    وزرات اطلاعات و نشریات (غیبت) بیٹیوں کے سپرد ہوتی ہے. وزارت محنت وافرادی قوت (گھر کے کام کاج اور خاندان میں اضافہ) بہوؤں کے سپرد ہوتی ہے.اس کے علاوہ تمام وزارتوں کا ایڈیشنل چارج بھی وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے. جن کو چلانے میں بیٹیاں، بہنیں،سہیلیاں اور دیگر لامحدود عورتیں ان کی معاونت کرتیں ہیں.

    اس مملکت میں دوہرا معیار ہوتا ہے.. دامادوں کی زن مریدی پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور بیٹوں کو زن مریدی کرنے پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا اور شریعت میں والدین کے حقوق سے آگاہ کیا جاتا ہے.

    اس مملکت کی دشمن مملکت کا نام بھی سسرائیل (بیٹوں کا سسرال اور داماد کے علاوہ بیٹی کا تمام سسرال) ہوتا ہے. اور وقتاً فوقتاً ان کے درمیان شدید لفظی گولہ باری اور کبھی کبھی ہاتھا پائی بھی ہو جاتی ہے.

    اس مملکت کی نیشنیلٹی آپ کو کڑی جانچ پڑتال (سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک)،لامحدود سوالوں، کام (نوکری یا بزنس) اور خفیہ کیریکٹر رپورٹوں کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے. اور نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لئے آپ کو وہ لڈو کھانا پڑتا ہے جو کھائیں تب بھی پچھتائیں اور نہ کھائیں تب بھی پچھتائیں.

    کیونکہ یہ ارضی جنت عارضی ہوتی ہے تو اس میں سہولیات بھی محدود ہوتی ہیں اس میں مثل حور صرف بیگم اور انواع اقسام کے کھانوں کی جگہ دستیاب بجٹ میں بہترین کھانا ہوتا ہے اور مشروب کے طور پر مشروب مشرق دستیاب ہوتا ہے.

    اور کام کاج کے لئے وزیر اعظم (ساس) افراد خانہ میں سے منتخب افراد کی ڈیوٹی لگا دیتی ہے..الغرض مملکت خداداد سسرائیل کے مقیم اپنے مہمان (داماد) کو اس ارضی جنت میں ہر ممکن راحت اور سکون فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

    اس جنت سے بے دخلی بھی کسی شیطان کے بہکاوے میں آ کر شجر ممنوعہ (اپنی بیگم کے علاوہ تمام عورتیں) کے حصول کی کوششوں یا حصول کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے.

    جب آپ اس ارضی جنت میں داخل ہوتے ہیں تو واپس آنے کے بعد بھی کئی دن اس جنت کے خمار میں مبتلا رہتے ہیں..ویسے سالیاں ہونے کی صورت میں اس جنت میں آپ کے کئی شریک(دوسرے داماد) بھی ہو سکتے ہیں. ایسے میں جنت میں سے اپنے حصے کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے لئے اس وقت جائیں جب کوئی شریک وہاں نہ ہو.

    اس جنت میں آپ کو ایکسٹرا پروٹوکول بھی مل سکتا ہے. پر اس کے لئے آپ کو اپنی بیگم کی ساس اور نندوں کی وہ برائیاں انتہائی دلجوئی سے سننا پڑیں گی جن سے آپ اپنی پوری زندگی ناواقف رہے. البتہ یہ خیال رہے کہ کوئی آپ کی ماں بہنوں کو برا نہ کہے. بیوی کے رشتہ داروں (ساس، نندوں ) سے آپ کو کیا لگے.

    اس جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس میں عارضی (کم سے کم دن کا ) قیام کریں. مستقل قیام کی صورت میں معاملہ الٹ بھی ہو سکتا ہے اور وہ محاورہ سچ ثابت ہو سکتا ہے کہ

    بہن کے گھر میں بھائی. اور ساس کے گھر میں جوائی…..

  • بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے میں نے اُن بچوں کو کھڑا کیا جو آج بھی یونیفارم پہن کر نہیں آئے تھے. مختلف لائنوں سے سات بچے کھڑے ہوگئے اور ان بچوں میں آج پھر بالی(اقبال) بھی شامل تھا. میں سب بچوں کے پاس باری باری جا کر ان سے یونیفارم اور جوتوں کے متعلق پوچھ رہا تھا. سب بچے کوئی نہ کوئی جواب دے کر اپنے طور مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میں انھیں بیٹھنے کا کہہ کر آگے بڑھ رہا تھا. مجھے غصہ نہیں آ رہا تھا بلکہ دکھ ہو رہا تھا کہ بچے روزانہ ہی کوئی نیا بہانہ بنا کر سکول آ جاتے ہیں، کسی کے پاس ٹائی نہیں تو کوئی بیلٹ کے بغیر ہے. کسی کی یونیفارم پریس نہیں ہوئی تو کوئی رنگ برنگی پینٹ اور شوخ جوتوں کے ساتھ آیا ہے. کسی کا منہ نہیں دھلا تو کوئی بالوں کو سلجھائے بغیر ہی سکول آ گیا ہے.

    یہ کام ان کے والدین کا تھا جو سکول میں اساتذہ کو کرنا پڑتا تھا اور اسی میں کلاس کا بہت سارا وقت ضائع ہو جاتا تھا.

    اگر والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی تربیت کا بیڑہ اُٹھا لیں تو پاکستان کا مستقبل سنور سکتا ہے.

    میں یہ باتیں سوچتا ہوا بالی کے پاس جا پہنچا.بالی حسب معمول سر جھکائے کھڑا گہری سوچوں میں گُم تھا. میں نے بالی سے یونیفارم کے متعلق پوچھا تو بالکل خاموش رہا. اس کا سر اُٹھا کر میری طرف نہ دیکھنا مجھے اور پریشان کر گیا. خیر میں نے تین دن کی وارننگ دی کہ سب بچے اپنی یونیفارم مکمل کریں تاکہ کلاس کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے.

    سکول کا وقت ختم ہوا تو میں گھر آ گیا. کچھ دنوں تک میرے چچازاد کی شادی تھی جس میں سب گھر والے ہی شامل ہو رہے تھے. بیگم نے مجھے بھی کہہ دیا کہ جمعہ والے دن شاپنگ کرنی ہے اور میں جانتا تھا کہ ہم تینوں کی شاپنگ پر ایک پوری تنخواہ لگ جانی ہے. شاید ہماری پوری قوم کو ہی فضول خرچی کی عادت پڑ گئی ہے. ایک ہزار کی جگہ دس ہزار کا خرچہ کرنا معمول بن گیا ہے.

    میں اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ کے متعلق باتیں کر رہا تھا جب میرا بیٹا کمرے میں داخل ہوا، اندر آتے ہی اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا! "بابا اس دفعہ شادی پر میں نے تھری پیس لینا ہے اور ساتھ وہ والے جوتے جو اس دن بازار میں دیکھے تھے…….. اور…….. اور ساتھ گھڑی بھی، عینک بھی اور پیسے بھی لینے ہیں”.

    میں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر مسکرا دیا اور اس سے وعدہ کیا کہ جو وہ بولے گا لے دوں گا.

    رات کو سوتے سے پہلے میں نے اندازہ لگایا کہ تو پتا چلا کہ شادی کی شاپنگ پر چالیس ہزار لگ رہا ہے. یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی.

    اگلے دن معمول کے مطابق سکول پہنچا. مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوا تو پوری کلاس کھڑی ہو گئی، حالانکہ میں نے سب کو اپنے لئے کھڑا ہونے سے منع کیا تھا. میں نے بیٹھنے کا کہا اور پھر یونیفارم کے لیے چیکنگ شروع کی اور یہ بات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پوری کلاس یونیفارم میں تھی مگر اس بات کا دکھ ہوا کہ بالی آج بھی یونیفارم کے بغیر تھا. میں اس پاس گیا اور خوب باتیں سنائیں. سخت سردی تھی مگر بالی کے پاس نا تو جرسی تھی اور نا ہی بند جوتا تھا.

    بالی میری باتیں سن کر بلک بلک کر رو دیا. میں نے اسے کلاس میں پہلی دفعہ یوں روتے دیکھا تھا. میرا دل پسیج گیا اور آنکھیں بھر آئیں. بوجھل دل سے لیکچر دیا اور پھر اگلی کلاس میں چل دیا.

    میں سارا دن بالی کے متعلق ہی سوچتا رہا. وہ میرے بیٹے کی عمر کا ہی تھا. چھٹی کے فوراً بعد میں چپکے سے بالی کے پیچھے ہو لیا کہ دیکھوں وہ کہاں جاتا ہے.

    سکول کے سامنے والی سڑک کو پار کر کے بالی سر جھکائے کچے رستے پر چل رہا تھا. اس کے قدم بوجھل لگ رہے تھے. اسے پیدل چلتے بیس منٹس ہو چکے تھے جب وہ رکا اور ایک حویلی کے اندر داخل ہو گیا. میں باہر انتظار کرتا رہا مگر طویل انتظار کے بعد بھی وہ باہر نہ نکلا تو مجھے تشویش ہوئی. کیونکہ یہ گھر نہیں لگ رہا تھا. میں گاڑی کھڑی کر کے گیٹ کے اندر داخل ہوا.

    تبھی مجھے اندر سے ایک بابا جی ملے اور آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں بالی کے متعلق پوچھا.

    بزرگ نے مجھے دائیں طرف جا کر بالکل سیدھا جانے کا کہا.

    میں جلدی جلدی اس سمت ہو لیا. تبھی میرا دھیان اس طرف گیا جہاں پر کچھ بچے بھوسہ پیک کر رہے تھے، ان میں ایک بالی بھی تھا. جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے بھوسے کے بنڈل بنا رہا تھا. اسے دیکھتے ہی مجھے اپنا بیٹا یاد آ گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئی.

    پوچھنے پر پتا چلا کہ بالی اکلوتا بھائی ہے، باپ کی وفات ہو چکی ہے اور ماں کچھ عرصہ سے بیمار ہے. بالی چوہدری کے ڈیرے پر کام کرتا ہے اور بدلے میں چوہدری ان کے چولہے کا خیال رکھتا ہے.

    یہ سن کر مجھ سے مزید وہاں رکا نہ گیا اور جلدی سے گاڑی میں آ بیٹھا. میرا اونچی اونچی رونے کو جی چاہ رہا تھا. ہمارے ارد گرد ایسے کتنے بچے موجود تھے مگر ہم بے حس ہو چکے تھے.

    گھر پہنچ کر میں نے بیگم سے پوچھا کہ اگر شادی پر نئے کپڑے نہ لیے جائیں تو گزارا ہو جائے گا؟؟

    بیگم نے معمولی سے استفسار کے بعد ہاں میں سر ہلا دیا اور کہا کہ ہمارے پاس بہت اچھی حالت میں کپڑے اور جوتے موجود ہیں. بیٹے کو بھی میں نے جیسے تیسے منا لیا اور پھر بینک چلا گیا. وہاں سے بازار جا کر کچھ نئے گرم کپڑے، جوتے یونیفارمز اور کھانے کے لیے ایک ماہ کا راشن خریدا اور بیگم بیٹے کو لے کر بالی کے گھر جا پہنچا. بالی مجھے اپنے گھر دیکھ کر ششدر رہ گیا. میری بیگم نے سارا سامان بالی کی اماں کے حوالے کیا اور ہر ماہ راشن پہنچانے کا وعدہ کر کے ہم لوگ واپس آ گئے.

    اگلے دن میں سکول پہنچا اور کلاس میں داخل ہوتے ہی میری نظر پہلی لائن میں بیٹھے بالی پر پڑی. جو نئی یونیفارم اور چمکدار جوتا پہنے ہوئے بیٹھا مسکرا رہا تھا، اور آج پہلے دن مجھے معلوم ہوا کہ استاد کا کام صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو پڑھنا بھی ہے

  • ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت دو ایسے متضاد پہلو ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. جیت میں انسان اپنے آپ کو خوش قسمت انسان محسوس کرتا ہے اور بڑے جذبات اور جوش وخروش میں ہوتا ہے اور جب انسان ہارتا ہے تو اس کے سبب اعصاب ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور ہار انسان کو بالکل کمزور کردیتی ہے. ہار اور جیت کھیل کا لازمی جز ہیں.

    لیکن اس مشکل مرحلے میں انسان کو ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو گرنے نہیں دیتی ہے. البتہ اس موقع پر لوگوں کا رویہ بالکل متضاد ہوتا ہے.

    وہ جیتنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہارنے والے کی دل شکنی کرتے ہیں. حالانکہ کسی ایک کی ہار تو لازمی ہے.

    اگر ضمنی الیکشن کی بات کریں تو دونوں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے جیت جیت ہی کی صدائیں بلند تھیں. اس دوران سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کررہا تھا.

    ہر ایک اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے پرجوش دکھائی دے رہا تھا.

    لیکن اب ہم ٹھہر کر یہاں اس چیز کا جائزہ لیں کہ ہمیں ہمیشہ جیت کی خوشیاں ہی مناتے رہنا چاہئے یا ہار کو کھلے دل سے قبول کرنے کے ساتھ ہارنے والے لوگوں کا ساتھ دینا بھی چاہیے. اس پہلو پر ہم یہ سوچیں کہ جب ہمیں الیکشن ہارنے پر خود اتنا افسوس ہے تو ہارنے والے کو کتنا غم ہوگا؟

    کرکٹ، فٹبال یا کبڈی جس کھیل کی بھی بات کرلیں اس میں کھلاڑی کے لئیے میدان میں اتر کر کھیلنا موت اور زندگی کے مترادف ہے اور کھیلتے ہوئے وہ کس قدر ذہنی اور جسمانی اذیت اور مشقت میں ہوتے ہیں ایسے میں ان کو اپنے لوگوں کی اپنائیت اور حوصلے کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور اپنے لوگوں کا رویہ اور حوصلہ ہی ہوتا ہے جس سے انسان مضبوط ہوتا ہے.

    اس موقع پر ہمیں ایک ماں جیسا کردار ادا کرنا چاہیے کہ جب اس کا بیٹا یا بیٹی ہار کر اپنی ماں کی آغوش میں آتے ہیں تو وہ اپنے بچے کو سمیٹ لیتی ہے اسے حوصلہ اور دلاسہ دیتی ہے، جس سے اسے تقویت ملتی ہے اور وہ دوبارہ سے مضبوط ہوتا ہے. اسی طرح کھیلنے والے کے لیے اپنے لوگوں کا رویہ ایک ماں کے رویے کی طرح ہوتا ہے.

    اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم جس طرح کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اسی طرح ہار پر ان کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی کریں تاکہ وہ دوبارہ مضبوط ہو کر اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں نہ کہ حوصلہ شکنی سے بالکل مایوس ہو جائیں یاد رہے حوصلہ شکنی انسان کو کمزور کر تی ہے اور حوصلہ افزائی انسان کو بہت مضبوط کرتی ہے.

  • لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    "ایک شخص راستے سے اوپر پڑی ہوئی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ ان کو ایذا نہ دے تو اس شخص کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔”

    ہمارے گلی محلہ شہر کی سڑکوں پر گہرے کھڈے ہوتے ہیں جس کے باعث ہم یا اور کوئی کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، گندگی پھیلانے میں ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے، گندگی کو اس کے مقام تک پہنچانے کی بجائے ہم کہیں بھی اس کو گرا دیتے ہیں جس سے ماحول خراب اور فضاء میں بیماریوں کے انبار وجود میں آتے ہیں اور اس کا نقصان جانوروں اور انسانوں کو ہوتا ہے،

    ہم اکثر یا روزانہ کی بنیاد پر ایسے حالات کا سامنے کرتے ہیں اور پھر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں لیکن خود ہم یہ کام اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے کتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پریشانیاں خود بخود اور ہمارے کچھ بھی کئے بنا ختم ہوجائے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ جب ہم خود کچھ کرنا نہیں چاہتے تو اس پریشانی سے کسی کو کیا بچانا ہے ہم خود بھی نہیں بچ پاتے اور پھر اکثر اوقات ہمیں ایسی سستی کرنے عوض بھاری نقصان کا سامنا کر پڑجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ کم از کم اپنے گھر، تعلیمی و شعبہ سے متعلقہ جگہ کے سامنے پڑے کھڈوں کو مرمت، صفائی کا اہتمام، اور رات کے وقت کیلئے روشنی کا انتظام کر دیں ہمارے صرف اک اس عمل سے ہماری گلیاں، محلے، شہر، اور ملک صاف ستھرا، روشن اور حادثات سے کافی محفوظ ہوجائے اور کئی انسانی جانیں محفوظ ہوجائیں گی حادثات و بیماریوں سے۔

  • ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے. خراب معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کی اونچی پرواز ہے روزانہ کی بنیاد پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی طرح اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے.

    ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال اسی طرح چلتی رہی تو خدانخواستہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے. آسان ترین الفاظ میں ملک کی امپورٹ ایکسپورٹ میں عدم توازن کی وجہ سے ڈیفالٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے.

    یعنی فرض کریں آپ کے ذرائع آمدنی (ایکسپورٹ) سے آپ پچاس(50)روپے کماتے ہیں اور آپ کے خرچے(امپورٹ) ستر(70) روپے ہیں تو آمدنی اور خرچ میں بیس(20) روپے کا فرق ہے.اب اس فرق کو دور کرنے کے لئے یا تو آپ کو اپنی آمدنی بڑھانی پڑے گی یا اپنے خرچے کم کرنے ہوں گے اگر آپ یہ دونوں کام نہیں کرتے تو پھر آپ کو مجبوراً قرضے لے کر یہ فرق پورا کرنا پڑے گا.

    اب مسئلہ یہ ہے کہ قرض کوئی اللہ واسطے تو دیتا نہیں ہے تو وہ آپ کو بیس(20) روپے قرض سود پر دے گا اور سود بھی آپ کی طلب اور مجبوری کے مطابق زیادہ سے زیادہ لے گا. تو آپ اپنے خرچے کم نہ کرنے اور ذرائع آمدنی نہ بڑھانے کا خمیازہ ہر مہینے کا خسارہ بیس(20) کے بجائے پچیس (25) روپے ہر مہینے بھگتیں گے.

    یہ اضافی پیسے آپ اپنی آمدن میں سے ہی دیں گے اس لئے آپ کی آمدن اور خرچ میں فرق بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ آپ اتنے مقروض ہو جاؤ گے کہ قرض کی قسط بھی مزید قرض لے کر ادا کرو گے اور یہاں سے قرض دینے والا اپنی مرضی کی شرائط پر آپ کو قرض دے گا اور لازمی بات ہے کہ وہ شرائط قرض دینے والے کے مفاد میں ہوں گی

    اور جب ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ کے پاس قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ بھی موجود نہ رہے تو آپ ہاتھ کھڑے کر دیں گے یعنی یہ تسلیم کر لیں گے کہ میں کنگال ہو گیا ہوں یا ڈیفالٹ کر گیا ہوں اور قرض دینے والا آپ کی گروی رکھی تمام اشیاء اور اثاثے ضبط کر لے گا اس وقت یہی صورت حال وطن عزیز کی بن رہی ہے ہم بھی تیزی سے اس طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہمارا ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ موجود ہے.

    اس خطرے کی بڑی وجہ ملک میں جاری سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجے میں روزانہ بڑھنے والی ڈالر کی قیمت اور اس قیمت کے بڑھنے کی وجہ سے خودبخود قرضے اور اس کے سود میں ہونے والا اضافہ ہے. اس وقت ہماری معیشت آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے کی محتاج ہے آئی ایم ایف نے قرضے کی شرائط طے کرنے کے لئے ایک مضبوط سیاسی حکومت سے مذاکرات کی شرط اور عرب ممالک سے ملنے والے قرض سے مشروط کر دی ہے.

    یعنی اس وقت ہم ایک چکر میں پھنس گئے ہیں اور اس چکر سے نکلنے کا راستہ سب سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کر کے ملنے والا ہے. ایک مستحکم سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں پھیلی غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو جائے گی جسکی وجہ سے ڈالر کی مصنوعی طور پر بڑھی قیمت کم ہو کر مستحکم ہو جائے گی جس کا اثر ہمارے قرضے اس کے سود اور مہنگائی پر بھی پڑے گا اس کے علاوہ ہمیں مزید قرضہ بھی ملے گا جس سے وقتی طور پر معیشت کا پہیہ چلانے میں مدد ملے گی.

    اس کے بعد ہماری پہلی ترجیح آمدن اور خرچے میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے توازن پیدا کرنا ہے ہمیں اپنے ایکسپورٹ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے کیونکہ اس کے بغیر ہماری آمدن نہیں بڑھ سکتی ہمیں تھوڑا عرصہ امپورٹڈ اشیاء کا استعمال کم سے کم کر کے اور حکومتی سطح پر ہر ممکن سادگی اپنا کر اور تمام سرکاری یا سیاسی افراد کی تنخواہوں کے علاوہ مفت سہولیات ختم کر کے عوام کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے اپنی نیک نیتی کا عملی ثبوت فراہم کرنا ہے اور یقین کریں کہ اگر ہم آج ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر خلوص نیت سے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کریں تو عنقریب دنیا میں ہماری کوششوں کی دوسرے ملکوں کو مثالیں دی جائیں گی.