Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    عناب: جادوئی دوا

    عناب ایک مشہور پھل ہےجو بیر کی مانند گول ہوتا ہے اس لئے اسے عناب کا بیر کہا جاتا ہے، یہ پھل جب کچا ہوتا ہے تو ہرے رنگ کا ہوتا ہے اور پکنے کے بعد اس کا رنگ سرخ اور جامنی ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک لو کیلوری فروٹ ہے جس کا ذائقہ میٹھا اور سیب سے ملتا جلتا ہوتا ہے،

    اچھا عناب سرخ ، گودےوالا ، میٹھا اور اندر سے کیڑے کے بغیر ہوتا ہے۔

    عناب کو چینی کھجور بھی کہا جاتا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے
    لیکن پکانےاورسکھانے سے اس کی
    افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    اس کو بطور میوہ کھایاجاتا ہے۔ عناب کو بطور دوابھی مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
    اس پھل کا استعمال نیا نہیں بلکہ یہ پھل 4000 سال سے ہربل دوائیں بنانے کے لئے چین میں کثرت سے استعمال ہو رہا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے لیکن پکانے اور سکھانے سے اس کی افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اس سے شربت عناب بنایا جاتا ہے۔
    عناب ایک ایسی قدرتی خزانوں سے مالا مال جڑی بوٹی ہے جس کے بہت زیادہ فائدے ہیں،
    جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

    خون کی بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے:
    ایسے افراد جو آئرن کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور آئرن کے سپلیمنٹ کھاتے ہیں یا خون کی کمی کے باعث تھکان ،ذہنی اور جسمانی کمزوری اور اعصابی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں انھیں اسکا استعمال کرنا چاہئے کیوں کہ اس میں فاسفورس اور آئرن وافر مقدار میں ہوتا ہے۔

    جسم سےزہریلےمادوں کو خارج کرتا ہے:
    غیر ضروری مادوں سے پاک کرتا ہے۔

    خون کی حدّت کو کم کرتا ہے:
    جن لوگوں کا خون گرم ہوتا ہے ان کی جلد پر دانے نمودار ہو جاتے ہیں،

    ایسے میں طرح طرح کی کریمیں استعمال کرنے سے دانے نکلنا بند نہیں ہوتے بلکہ جلد مزید خراب ہو جاتی ہے ایسی صورتحال میں عناب کے دس سے بارہ دانے پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ پیا جائے تو خون کی گرمی کم ہوتی ہے اور چہرے پر تازگی آتی ہے۔

    چونکہ یہ وٹامن سی ،اے اور پوٹاشیم سے بھر پور ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف قوت مدافعت بڑھاتا ہے بلکہ موسمی بخار ،سردی، اور خشک اور بلغمی کھانسی سے بھی بچاتا ہے۔

    یہ گلے کی سوزش کو دور کرتا ہے،زکام کے باعث بیٹھی آواز کو جلد بہتر کرتا ہے۔

    عناب کا قہوہ وزن کم کرنے میں معاون:
    عناب کا جوشاندہ نزلہ اور کھانسی میں بہت مفید ہوتا ہے۔
    دو گلاس عناب میں دو چمچ عناب،ایک دار چینی کا ٹکڑا، پانچ لونگ ڈال کر جوش دیا جائے اور اوپر سے شہد ڈال کر پیا جائے تواس قہوہ کے استعمال سے موسمی فلو سے بھی حفاظت ہو جاتی ہے اس کو وزن کم کرنے کے لئےروز رات کے کھانے کے بعد استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    پیٹ کے امراض میں مفید:
    قبض اور پیٹ کے دیگر امراض میں یہ پھل انتہائی مفید ہے ۔خشک عناب کا پاؤڈر ہاضمہ بہتر بناتا ہے اور بھوک کھولتا ہے۔

    اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے:
    یہ پھل اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے ایسے افراد جو کسی مستقل پریشانی ،صدمہ یا غم کا شکار ہوں اور ان کے اعصاب کمزور ہو گئے ہوں عناب کے مستقل استعمال سے ان کو فرحت ملے گی۔اس لئے اسے اینٹی ڈیپریسنٹ بھی کہا جاتا ہے۔

  • نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    کل یکم محرم الحرام 1444 ھ کا دن تھا۔ ہجری/ قمری اعتبار سے نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے۔ تمام عالم اسلام کو نیا سال بہت مبارک ہو۔ اللہ ہم سب کے لئے اس سال کو رحمتوں برکتوں اور کامیابیوں والا بنائے اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھے آمین

    اس سال کو ہجری سال اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنھم کے مکے سے مدینہ ہجرت کے واقعے سے فرمائ۔واقعہ ہجرت ہی کو اسلامی سال کا سن آغاز منتخب کرنے میں بڑی حکمتیں ہیں۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے دینی، تاریخی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے، یہ اہلِ اسلام کو اس دور کی یاد دلاتا ہے، جب ان کو مکّی دور کے ابتلاء وآزمائش کی تنگ زندگی سے نجات ملی اور مستحکم وپائیدار اور مضبوط مستقر ملا، اسلام اور اہل اسلام کو پھولنے پھلنے کا موقع ہاتھ آیا اور یہیں سے مسلمانوں نے پوری دنیا کو رشد وہدایت اور توحید کا عالم گیر پیغام دیا اور دنیا کے ایک بڑے حصے تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔

    اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ جو بڑی فضیلت والا اور حرمت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بڑے المناک واقعات بھی پیش آئے جن میں یکم محرم الحرام 24ھ کو شہادت عمر رضی اللہ عنہ اور 10 محرم الحرام 61 ھ کو واقعہ کربلا میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک سانحہ سرفہرست ہے۔

    سال کے اس پہلے مہینے میں ہی اتنے عظیم دردناک واقعات میں بھی بڑی حکمت ہے۔ ہر مسلمان ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں کو یاد کرے۔ کہ راہ حق میں انہوں نے ہر تکلیف اور پریشانی کا مقابلہ کیا۔ یہانتک کہ اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔ یہ واقعات ہمیں یہ دعوت فکر دیتے ہیں کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان سچا راستہ ، صحیح مقصد، اعلی فکر اپنائے، اور پھر اس مقصد کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردے۔

    اور وہ سچا راستہ صحیح مقصد اعلی فکر ایک مسلمان کی نظر میں یہی ہے کہ وہ اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ جل شانہ کی بندگی میں گزارے۔ اور اس رستے میں اس کی جان بھی جائے تو دریغ نہ کرے۔

    میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی

    اور بقول مرزا غالب

    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    اس سال کے پہلے دن یہ چند کام مفید ثابت ہونگے:

    محاسبہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا۔ یعنی اپنے نفس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے ۔

    یوں تو صبح شام ہر ایک کو اپنا محاسبہ کر نا چاہیئے، مگر اس دن بطور خاص ہم یہ دیکھیں کہ کہیں ہم بے مقصد،فضول زندگی تو نہیں گزار رہے۔ کیا اللہ کے اور اسکے تمام بندوں کے حقوق ہم ادا کررہے ہیں۔ کیا ہم کسی ایسے کام میں تو مبتلا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں، یا جس سے اللہ کے کسی بھی بندے کو ہم سے تکلیف پہنچ رہی ہو؟

    نیت: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ یعنی نیک اعمال کا اجر ہمیں تب ہی ملے گا ،جب ہماری نیتیں درست ہوں۔ لہذا ہر نیک کام کرنے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ میں محض اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کررہا ہوں۔

    نظام الاوقات: سال کے ہرمہینے، ہر ہفتے اور ہر دن کے لئے شیڈول بنائیں۔ اعتدال کے ساتھ اپنے تمام اہم کاموں کو ترتیب دیں۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ مختلف اوقات میں اتنا ہی کام کریں جو آپ بآسانی کرسکیں۔ نیز تفریح، صحت، اہل و عیال کے لئے بھی مناسب وقت ضرور رکھیں۔

    وقت کی قدر بڑی عظیم نعمت ہے۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسکا ہر لمحہ سونے چاندی سے زیادہ قیمتی ہے۔۔ کسی ایک پل میں درست فیصلہ انسان کو فرش سے عرش پر پہنچا سکتا ہے۔۔ اور کبھی اس کے کسی ایک لمحے کی خطا صدیوں لاکھوں انسان بھگتتے ہیں۔۔ ٹیپو سلطان کے مرقد پر رقم رزمی کا یہ شعر اسی بات کو بیان کرتا ہے

    یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
    لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

    افسوس یہ ہے کہ وقت جس قدر قیمتی سرمایہ ہے اتنا ہی اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے اور انتہائ بے دردی سے اس عظیم سرماۓ کو فضول کاموں میں ضائع کر دیا جاتا۔ اسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحة والفراغ”۔۔ صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں کہ بہت سارے لوگ ان کے بارے میں دھوکے میں پڑجاتے ہیں۔

    اور فرمایا: "من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ” آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ لایعنی اور فضول کاموں کو چھوڑدے۔۔

    الغرض اس دن اللہ تعالی کی عنایت کردہ بے شمار نعمتوں پر شکر کے ساتھ ساتھ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس زندگی کے ایک ایک لمحے کی صحیح قدر کرنے کی توفیق دے، کہ

    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے

  • کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    ہم سب اپنی روز مزہ کی مصروفیات میں اس قدر گم تھے کہ ہم اپنے گھر والوں کو، دوست احباب کو، رشتہ داروں کو حتیٰ کہ اپنے آپ کو بھی وقت نہیں دے پا رہے تھے. ہم نے اپنی زندگی کو اتنا شدید مصروف کر لیا تھا کہ زندگی خود ہم پر ہنستی تھی اور قہقہے لگا کر ہمارا مذاق اڑاتی تھی. ہمیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں تھا. ہم اتنے مادہ پرست ہو چکے تھے کہ ہم نے ہر وہ چیز، ہر وہ رشتہ، ہر وہ احساس اور ہر وہ بندھن جو ہمیں تقویت دیتا، ہمیں سکون فراہم کرتا اور ہمیں روحانی طور پر مضبوط بناتا، بھلا دیا.ہم صبح سے شام تک بس اسی تگ و دو میں لگے رہتے کہ کسی طرح ہم اتنی دولت اکٹھی کر لیں جو ہمیں دوسروں کے معاملے میں ممتاز بنا دے اور معاشرے میں ہمارا رتبہ دوسروں سے بلند ہو جائے پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہمارا کردار کیسا ہے اور ہم اخلاقی طور پر کیسے ہیں.

    ہم نے اپنا نام بنانے کے لیے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا. ہم نے ہر وہ راہ اپنائی جس سے ہمیں احتراز برتنا چاہیے تھا. ہم نے ایسا کوئی بھی فعل نہیں چھوڑا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو اور ہم نے ہر وہ حد پار کی جس سے ہمیں روکا گیا تھا. ہم نے ہمیشہ اپنے آپ کو دیکھا، ہمیشہ دوسروں پر خود کو فوقیت دی. ہم نے اپنی جھوٹی، ادا اور کھوکھلی میں سے ہمیشہ دوسروں کو تکلیف پہنچائی. زندگی گزر رہی تھی. اس نے گزر ہی جانا تھا.

    ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا فرق پڑنا تھا لیکن ہم نے اس بات کی بھی پروا نہیں کی کہ ہم اس فانی دنیا میں ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے. ہمیں اس چیز کو سمجھنا تھا، ہمیں اپنے آپ کو سمجھانا تھا، ہمیں دل اور دماغ کے مابین چھڑی ان دیکھی جنگ کو افہام و تفہیم سے ختم کرنا تھا. ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا کہ زندگی کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا. ہمیں مشکل میں اوروں کی مدد کرنی تھی کہ جینے کا حسن اسی میں تھا. ہمیں دوسروں کو خود پر فوقیت دینی تھی کہ اسی کا نام زندگی تھا.

    ہمیں حلال کھانا تھا اور اپنی نسلوں کو پاکیزہ بنانا تھا، ہمیں حرام سے بچنا تھا اور اپنی نسلوں کو پاگل ہونے سے بچانا تھا، ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا، ہمیں ہمیشہ نیکی کی تلقین کرنی تھی اور برائی سے روکنا تھا کہ یہی ہمارا شیوہ تھا. ہمیں علم حاصل کرنے کے بعد اسے جتانا نہیں تھا، لوگوں کو بتانا نہیں تھا، علم پر اترانا نہیں تھا بلکہ کچھ کر کے دکھانا تھا اور علم کی عملی تصویر بن کر اندھیری دنیا میں روشنی کی شمعیں روشن کرنی تھی.

    ہمیں پیشوا بننا تھا، ہمیں رہبر و راہنما بننا تھا. ہمیں مفلسوں اور ناداروں کا ہمنوا بننا تھا ہمیں اشرف المخلوق ہونے کا حق ادا کرنا تھا ہائے ہائے مگر افسوس……. ہم کن کاموں میں پڑ گئے، ہم کن چکروں میں چکرا گئے، ہم کس جالے میں پھس گئے، ہم کس سحر میں جکڑے گئے. ہم سب کچھ ہی بھول چکے تھے، اخلاقیات بھی تباہ، معاملات بھی تباہ، عبادات بھی تباہ، رسومات بھی تباہ، زیارات بھی تباہ، احکامات بھی تباہ، سب کچھ ہی تو ہم نے تباہ کر دیا وہ بھی اس فانی دنیا کے لئے. اور پھر کورونا آیا… اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ، ہم نے پھر بھی تمسخر اڑایا، اپنے آپ کو سدھارنے کی کوشش تک نہیں کی، اپنے گریبان میں نہیں جھانکا، پھر بھی قصور وار دوسروں کو ہی ٹھہرایا.

    ہماری دھرتی پر اس کا راج ہونے لگا مگر ہمیں پھر بھی سمجھ نہیں آیا. پھر کورونا کی ہولناکیاں آہستہ آہستہ ہمارے گھروں تک پہنچ گئیں ہم پھر بھی نہیں سدھرے. کورونا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ ہم اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ اس ان دیکھے جییو نے سب کچھ بدل ڈالا. ہمارے معاملات ہماری عبادات ہمارا رہن سہن ہمارے طور طریقے اور کسی حد تک ہماری جھوٹی نکمی دو ٹکے کی انا کو بھی.

    ہم پھر سے اپنوں کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اپنے آپ کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اندر ہی اندر ہی ڈرنے بھی لگے اور اپنی گزشتہ زندگی میں کئے گئے بلنڈروں کو یاد کر کے پیدا کرنے والے سے معافی بھی طلب کرنے لگے. ہمارے میناروں سے راتوں کو اذانیں بھی بلند ہونے لگیں اور مندروں، گرجاگھروں سے حق حق کی صدائیں بھی بلند ہونے لگیں.

    قصہ مختصر ہم لوگ کسی حد تک سدھرنے لگے. یہ وبا زیادہ دیر نہیں چلے گی کیونکہ اس سے بیشتر بھی بیسیوں وبائیں آ کر جا چکی ہیں مگر ہمیں اس وبا سے حاصل کرنا ان تمام اسباق کو تامرگ دم یاد رکھنا ہے جنھوں نے ہم میں سے کسی ایک کی زندگی کو بھی بدل ڈالا ہے.

    ہمیں کورونا کے بعد کورونا سے پہلی والی زندگی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دینا ہے اور جیون کی ابتدا ماں کے پیٹ سے کرنی ہے کہ ہم انسان ہیں، اور انسان انسانیت میں ہی اچھے لگتے ہیں.

  • گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنے اتار چڑھاو ہیں کے سیاست کے طالبعلم سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی اس سوچ میں ہوتے ہیں کے کونسا سسٹم ملک عزیز میں چل رہا ہے، برصغیر میں ایک وقت میں جہاں گاندھی جیسا زیرک سیاست دان تھا تو دوسری جانب قائد اعظم سواسیر کی شکل میں سامنے تھے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہا انکے پیشرو اس قابل ہی نا تھے کے وہ گاندھی یا قائد کی وراثت کو آگے لے جاتے جسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    خیر بات کرتے ہیں پاکستان کی تو حالیہ لاٹ میں موجود سیاست دانوں کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دیکھانے کے برابر ہے مطلب ” اللہ دے اور بندہ لے”

    پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑا کردار ہمیشہ سے ہے عدلیہ کا رہا ہے، بطور سیاست کے طالبعلم کے احقر ہمیشہ عدلیہ کو ایک ایسے مقام پر دیکھتا رہا جس کے باے میں بات کرنا یا غلط سوچنا بقول لکھاری

    ” اس مقام پر فرشتوں کے پر جلتے ہیں”

    لیکن 1947 سے لے کر تا دم تحریر الحمداللہ عدلیہ نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کو ہی پاکستان کی سیاست میں رائج کیا، اور ہمیشہ وقت کے بادشاہ کا ساتھ دیا جیسے ایک وقت میں یورپ چرچ کے طابع تھا ویسے ہی مقننہ ہمیشہ سے ہی عدلیہ کے طابع رہی بلکہ حالیہ دنوں میں تو کسی بھی قسم کی قانون سازی کی سہولت بھی مقننہ سے لے کر عدلیہ نے اپنے پاس رکھ لی اور دے پر دے فیصلوں کے بعد یہ کہتے نظر آئے کے اگر ہمارا کوئی فیصلہ غلط تھا تو اسکو درست کرنے کا ہمیں پورا اختیار حاصل ہے، خیر” دروخ با گردن راوی” سانوں کی تے تینوں کی۔۔۔

    ویسے آجکل جو حالات ہم دیکھ رہے ہیں وہ بطور صحافی یا ٹی وی پروگرام پروڈیوسر گزشتہ 9 سال سے دیکھ رہے ہیں، اگر سہوا کچھ قلم سے الفاظ تحریر بھی ہو جائیں تو ڈر لگ جاتا ہے کے کہیں تو ہین عدالت کے مرتکب نا ہو جائیں، کہیں کسی ادارے کا فون نا آ جائے کہیں ہتک سیاسی کے ذمرے میں نا آ جائیں اور اگر ان تما م سے بچ جائیں تو توہین مذہب اور توہین ریاست کی انتہائی گہری اور لمبی چوڑی کھائی سامنے نظر آ رہی ہوتی ہے۔۔

    میرا یار بوٹی اکثر مجھے کہا کرتا ہے کے اگر تم چاہتے ہو کے لوگ تمہاری بات سنیں تو کچھ نا بولو، چاہتے ہو کے لوگ تمہارے کہے پر عمل کریں تو کچھ نا لکھو، پہلے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ بات کی سمجھ آ تی جا رہی ہے، لیکن میرا یار خاص ایجنٹ ایکس ہمیشہ ایک ہی بات کرتا ہے کے انسان جب تک زندہ ہے اسکو کھرک رہتی ہے ۔۔۔۔ آگے آپ سب سمجھ دار ہیں
    بات تو کہیں کی کہیں نکل گئی ، قصہ مختصر یہ کے ” گھسن نیڑے یا رب نیڑے” ویسے تو اس وقت ملک میں عدلیہ ہی سب سے ہاٹ فیورٹ ہے یار لوگ اسکی کے فیصلوں پر لڈیاں ڈالتے ہیں اور ساجا، ماجا گاما اپنا ساڑ نکالتے ہیں، لیکن جو بھی ہے ہر دو فریق جو کبھی فاعل، یا مفعول کی حالت میں رہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد اپنا بابا اوپر رکھنے کے لئے تکڑی والے بابا کے پاس پہنچ جاتے ہیں اب تکڑی والے بابا کی مرضی وہ جسکی روٹی میں سے حصہ نکال کر خود کھا لے یا دوسرے پلڑے میں رکھ دے، اس معاملے میں کبھی میرا یار بوٹی خوش ہوتا ہے یا پھر میرا یار ایجنٹ ایکس نہال، لیکن ہر دوصورت میں ہمارے پاس بیچنے کے لئے منجن وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

    لیکن اگر بات حق و سچ کی ہو تو میرا ہیرو تمہارا ولن ، مطلب جو چیز میرے حق میں ہو وہ ہی سچ ہے اور باقی سب جھوٹ، اب اگر حالیہ حالات کو دیکھا جائے تو تمامتر ملکی سیاسی جماعتیں ، تمامتر ہائیکورٹس و سپریم کورٹس کی بار کونسلز ، اور 12 ججز ایک جانب لیکن ہم خیال تکڑی والے بابے سمیت ایک سیاسی پارٹی ایک جانب۔

    2018 کے اوائل میں بھی حالات ایسے ہی تھے جب اس وقت کے بابے نے چن چن کر تمامتر ممکنہ رکاوٹوں کو یا تو جیل کی ہوا کھلائی یا انکو اس قابل ہی نا چھوڑا کے وہ کسی ایک مطلب ایک کے مقابلے میں نا آ سکیں ، وہ سابقہ بابا جی اپنے ہر فیصلہ کے بعد کسی کوفیض یاب کرنے کے بعد کہا کرتے تھے کے انکے فیصلے تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اور جب کوئی ناہنجار انکے سامنے انکے ہی کسی پرانے فیصلہ کا حوالہ دیا کرتا تھا تو اسکی کھنچائی کر دی جاتی تھی کے تم ہوتے کون ہو میرے سابقہ فیصلے کو میرے سانے دہرانے والے اس وقت اس فیصلہ کی ضرورت تھی اب نہیں

    ایک وہ وقت تھا اور اب ایک یہ وقت ہے جب قاضی القضاء اس بات کو خود ہی دہرانے پر مجبور ہو گئے ہیں کے وہ نہایت پرہیزگار، عبادت گزار و متقی ہیں وہ جو بھی فیصلہ کریں وہ وقت کی ضرورت ہے ابھی حالیہ دنوں میں جب انکو کہا گیا کے جناب اپکا سابقہ فیصلہ یہ تھا تو انہوں نے فرمایا بے شک وہ فیصلہ غلط تھا لیکن وہ اس وقت ضروری تھا اور اب جو فیصلہ دے رہا ہوں وہ اس وقت کی ضروت ہے۔۔۔
    بقول میرے منشی کے ” بگے نک آلے کتورے دی جوٹھ حلال اے”

    اور تکڑی والے بابا جی کے حالیہ معرکتہ آلارا فیصلہ کے بعد سامنے آئی۔۔۔

    اب بابا جی نے بنواس لے لیا ہے اور سوہنا ہر سو یہ گاتا پھر رہا ہے ۔۔

    گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے

  • جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    پچھلی چند دہائیوں سے جنسی جرائم کے ارتکاب میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنسی جرائم جیسے خطرناک فعل میں ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے ۔جن کے براہ راست اثرات خواتین اور بچوں پر ہیں ۔معاشرے کے ہر فرد بالخصوص خواتین اور بچوں میں غیر یقینی کی سی صورتحال ہے کہ کسی بھی وقت اُنھیں جنسی حملے کا شکار بنا یا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر فرد کے ذہن میں ایک خوف طاری رہتا ہے ۔اور اُسے معمول کا جرم ماننے لگے ہیں حلانکہ یہ ایک خطرناک عمل ہے ۔جسکی زندہ مثال رواں ماہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں چار سالہ مریم کا قتل ہے ۔پولیس کو معصو م بچی کی گردن کٹی لاش ملی اور وقوعہ کے بعد ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ کسی جنسی درندے نے یہ حرکت کی ہوگی مگر بعدمیں پولیس کے تفتیش کی بدولت معلوم ہوا کہ قتل کا محرک کچھ اور تھا اور چار سالہ معصوم مریم کا قاتل بچی کا باپ ہی نکلا ۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ایسے واقعات کو عوام فوراً کسی جنسی حملہ یا جنسی تشدد کے فعل کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں کیوں کہ عوام کے ذہن میں یہ ایک تصور رچ بس چکی ہے کہ ایسے واقعات کو جنسی تشدد ،جنسی حملہ کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں ۔

    جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو "جانور ” وحشی درندہ "جیسے مقبول عرف سے پکارا جاتا ہے حالانکہ معاملہ کی نوعیت اِس کہیں بڑھ کر ہے لیکن اِس قسم کے واقعات کے تناسب میں بڑھتی ہوئی تعداد اور آئے روز میڈیا میں چلنے والی خبروں کی وجہ سے ہمارے جیسے قدامت پسند معاشرے میں یہ تا ثر دیا جاتا ہے کہ دیگر جرائم کی طرح یہ بھی ایک عام جرم ہے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستا ن میں سال 2018ء میں 4326سال 2019ء میں 4377سال 2020ء میں 3887اور سال 2021ء میں 1866زنا بالجبر کے مقدمات رجسٹرد ہوئے ۔یہ اعدادو شمار نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے مرتب کئے گئے اور وزارت انسانی حقوق نے پارلیمنٹ آف پاکستان میں پیش کیے۔ یعنی گزشتہ چار سالوں میں کل ملا کر 14456ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں یہ اُن تمام واقعات کا کل ملا کر نصف حصہ بھی نہیں کیونکہ پاکستان میں اِس قسم کے واقعات بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں جن کی بنیادی وجوہات میں ایک خاتون کی مستقبل ، عزت ،غیرت وغیرہ وغیرہ جیسے سوچ ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کام کی جگہوں پر ہراسگی کے رجسٹر  شدہ واقعات کی تعداد 16153ہے حلانکہ یہ تعداد اُ ن تمام واقعات کا ایک چوتھا ئی حصہ بھی نہیں جو گزشتہ چار سال کے دوران رونما ہو چکے ہیں ۔ بیشتر خواتین اِس قسم کے واقعات معاشرے  میں خاندان کی عزت کی پامالی، معاشی مسائل ، پولیس کا منفی رویہ کی وجہ سے بیان کرنے یا رجسٹر کرنے سے کتراتے ہیں ۔
    کام کی جگہ پر ہراسگی کے روک تھام کے لیے سال 2010ء میں قانون متعارف کرایا گیا اور سال 2020ء میں اسے مزید فعال بنانے کی خاطر ترامیم کی گئی ۔مگر تا حال اس سے کسی قسم کی کامیابی نہ مل سکی جس کی سب سے بڑی وجہ ایسے قوانین کو عام لوگوں سے دور رکھنا ہے۔ قانونی اصطلاحات اتنی پیچیدہ رکھی گئی ہے۔کہ عام خواتین کی سمجھ سے بالاتر ہیں ۔دوسری بڑی وجہ اوپر بیان کی گئی ہے کہ معاشرے میں بدنامی کاڈر ،پولیس کا خواتین کے ساتھ منفی برتاؤ وغیرہ جیسی وجوہات کی وجہ سے اپنے مسائل کو بیان کرنے سےکتراتی ہیں۔

    ایک جاننے والی خاتون جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بیان کیا کہ انہیں اپنے دفتر میں آئے روز ہراسانی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو زبانی فقرہ بازی ،اشارہ بازی سے لےکر بسا اوقات جسمانی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔مذکورہ خاتون کا مؤقف تھا کہ اگر یہ واقعہ خاندان کے کسی فرد کو بتاؤں گی تو یا تو وہ کام کرنے سے منع کریں گے یا دفتر کے مرد اہلکاروں سے لڑائی  جھگڑے کی نوبت آسکتی تھی۔ بدیں وجہ اپنے آپ کو یہ مسئلہ بیان کرنے سے روکی مگر جب معاملہ حد سے تجاوز کر گیا تو پولیس میں شکایت درج کرائی جو بعد میں علاقہ عمائدین کی کوششوں سے صلح کے ذریعے مسئلہ وقتی طور پر ختم ہوا مگر اس کے بعد لوگوں کی طرف سے اپنی طرف اٹھنے والی تمام نظروں کو مشکوک سمجھتی ہوں۔

    یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔خیرپختونخوا ہی کا ایک اور واقعہ ہے۔ضلع دیر لوئر میں چند ماہ قبل ایک خاتون نے سول جج کے خلاف جنسی ہراسانی کی درخواست مقامی پولیس کو دیکر جس پر باقاعدہ سول جج کے خلاف مقدمہ درج ہوا مگر بعد میں مدعیہ اپنی ابتدائی بیان سے مکر کر بیان کیا کہ یہ تو مقامی پولیس نے مجھے ورغلا پھسلا کر جج صاحب کے خؒاف شکایت درج کرانے کا کہا۔یہاں غلطی جس کی بھی ہومگر جھوٹ پر مبنی ایسے الزامات کسی کی بھی پیشہ ورانہ زندگی ،معاشی و معاشرتی زندگی برباد کرسکتی ہے۔

    زنا بالجبر ،جنسی ہراسانی کے علاوہ ایک اور اخلاقی برائی جو ہمارے معاشرے میں بری طرح سرائیت کر چکی ہے وہ Paedophilia ہے۔یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے کے کئی وجوہات ہے،جن میں سرفہرست وجہ یہ ہے کہ اس میں مبتلا افراد بچپن میں کسی قسم کے استحصال (خواہ والدین کی توجہ ،اساتذہ کی طرف سے جسمانی تشدد،معاشی احساسی کمتری وغیرہ)کا شکار ہوا ہوتاہے۔دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد کئی مہینوں سے جنسی Fantasy میں رہتے ہیں ۔مثال کے طور پر  ایسا شخص سراب خیالی میں کسی اداکارہ ،جاننے والی عورت کے ساتھ جنسی عمل کر رہا ہوتا ہے مگر بعد میں وہ پورا نہ ہونے کی صورت میں کسی کمزور فرد بالخصوص بچہ/بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔

    اس ہیجان میں مبتلا شخص کے لیے کام کرنے کی جگہوں پر کام کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بسا اوقات ڈپریشن میں مبتلا رہتا ہے اور تمام مشکلات کا سامنا کرنے کی بناء پر وہ تصور کر لیتا ہے کہ تمام مسائل کا جڑ یہی ایک عمل ہے اور آسانی سے نشانہ بننے والے بچے /بچیوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔عام طور پر قریبی رشتہ دار ، ہمسائے  ایسے شخص کی درندگی کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔اور بعض اوقات بچے ڈر کی وجہ سے خاموش رہ جاتے ہیں جو بعد میں معمول بن جاتا ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر بچہ/ بچی اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار جنسی ہراسانی ، تشدد کا شکار ہوا ہوتا ہے مگر بچوں کا اپنے والدین کے ساتھ کم کمیونیکیشن  اور خوف کی وجہ سے ایسے واقعات وہ بیان نہیں کر سکتے ۔خواتین اور بچوں کے علاوہ مرد بھی ایسے ہراسگی ،جنسی حملوں کا نشانہ بنتے ہیں جن کی عمر 18 سے 30 سال کے درمیان ہو مگر اُسکی تعداد کافی کم ہے۔ یہ عمل عمر، رنگت ،مذہب اور معاشرتی رُتبے کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس کے موافق حالات  دیکھے جاتے ہیں۔چلتی شاہراہوں پر اس قسم کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ حال ہی میں رونما ہونے اولے موٹروے کیس اس نوعیت کا پہلا وقوعہ تھا مگر اس کے بعد ابھی ابھی ایک خاتون کی چلتی ریل گاڑی میں اجتماعی زیادتی  کا نشانہ بنایا گیا ۔ایسے واقعات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے۔

    جنسی درندگی کے مجرمان کو عام طور پر "اکیلے پن سے شکار ، دماغی امراض میں مبتلا ،پاگل ،دیوانہ”وغیرہ جیسے ناموں سے منسوب کیا جاتاہے۔حالانکہ یہ بات کسی  حد تک درست ہے مگر رجسٹرشدہ شکایات میں نامزد ملزمان کی ہسٹری اُٹھا کر دیکھی جائے تو تقریباً  تمام افراد ذہنی  طور پر درست ہوتے ہیں اور قبل ازیں  بھی کسی بڑے جرم میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں  ۔ایسے واقعات میں آئے روز اضافے کی وجوہات  میں سب سے بڑی وجہ جسٹس سسٹم کی ناکامی ، قوانین پر من وعن عمل درآمد نہ کرنا ۔سزاؤں کی کمی ،جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی علاج کی عدم فراہمی جیسے اسباب ہیں۔تقریباً 2 سال قبل خیبر پختونخوا میں بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے ملزم کو ایک ماہ کے اندر عدالت سے ضمانت مل گئی۔جو ہمارے  تفتیش کے معیار اور جسٹس سسٹم پر سوالیہ نشان ہے۔ایسے واقعات کے روک تھام کے لیے عوام با لخصوص خواتین اور بچوں میں سرکاری  سطح پر منظم آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ سکول ،کالجز ،یونیورسٹیز میں سیمینار منعقد کراکر  خواتین ،بچوں کو یہ باور کرایا جائے  اگر کسی کے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو بلا جھجک پولیس ،خاندان کے کسی بڑے کو شکایات بیان کر کے کیوں کہ ایسے واقعات کو چھپانا مستقبل میں اُن کی ناکامی کی موجب بن سکتی ہے۔

    پولیس کو تفتیش بہتر بنانے ،عوام  با لحصوص خواتین کے ساتھ مناسب رویہ اپنانے کے لیے جدید خطوط پر استوار  ورکشاپس سرکاری سر پرستی میں منعقد کرائے جائیں ۔حال ہی میں پاس ہونے والے اینٹی ریپ(انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ) ایکٹ 2021 کو پوری طرح نافذ العمل کرنے اور خواتین کے خفاظت کے لیے عملی اقدامات اٹھانا  ناگزیرہے ۔خواتین کو با اختیار بنانے کے لئےفرسودہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔قوانین کو عام عوام تک پہنچانے ، عام فہم زبان میں شائع کرنے کے عملی اقدامات اُٹھانا  ضروری ہے ۔والدین اور بچوں کے درمیان دوستا نہ تعلقات ہو جو بلا جھجک والدین کو اپنے مسائل بیان کر سکے ۔بچوں پر نگرانی ، غیر افراد پر اعتماد کو کسی حد تک کم کرکے والدین اپنے بچوں کو محفوظ کر سکتے ہیں ۔ایسے مقدمات میں بہتر تفتیش کو یقینی بنانا ۔عدالتوں کی طرف سے سخت سے سخت سزائیں اور جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی تربیت کرکے ہی ایسے افعال ، جرائم کا خا تمہ ممکن ہے ۔

  • مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی
    ایک طرف ملک بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے اور دوسری طرف ہماری سیاسی جماعتیں ہائے اقتدار ہائے اقتدار کا کھیل کھیلنے میں تمام حدوں کو عبور کر گئی ہیں۔ ذرا سوچئے وہ ریاست جس کے قومی خزانے سے اقتدار کے مزے لوٹے ، قومی خزانے سے قرضے لئے پھر اربوں معاف کروائے۔ کرپشن اور کمیشن سے اپنے محل نما گھر تعمیر کئے۔ آج ایک ایٹمی طاقت کی ریاست معاشی بحران انتہائی نازک دور سے گزر رہی تو قرض لینے معاف کرانے ، اقتدار کے مزے لوٹنے والے، وی وی آئی پی پروٹوکول لینے والے۔ ان سیاستدانوں نے ریاست کو معاشی بحران سے نکالنے کے بجائے نجی ٹی وی چینلز پر ٹویٹ کے ذریعے پریس کانفرنسوں کے ذریعے عوام کو تسلی دینے کے بجائے سری لنکا کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔

    اس بیان بازی کو دیکھ کر اگر ملک کے سرحدوں کے محافظ ملکی سلامتی کے محافظ چیف آف آرمی اسٹاف نے قرض کی قسط جلدی جاری کرانے کے لئے امریکی انتظامیہ سے اپیل کی ہے تو اس پر تنقید کرنے والے نوشتہ دیوار پڑھیں۔ کروڑوں ڈالر پارٹی فنڈوں کے سکینڈل اربوں ڈالر کے اثاثے، چھپانے والے سیاسی خود ساختہ لیڈر، کھربوں ڈالر رکھنے والے صنعتکار اور بڑے بڑے تاجر اپنی آنکھیں کھولیں قرض اتارو ملک سنوارو کے حقیقی جذبے کے ساتھ برسرپیکار ہوں اور سٹیٹ بنک کے خزانے کو بھر دیں۔

    وطن بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ایک ایٹمی طاقت ہے وقت آن پہنچا ہے کہ ہر پاکستانی خواہ وہ بیرون ملک مقیم ہے یا وطن عزیز میں صاحب استطاعت ہے قومی خزانے میں بے دریغ عطیات جمع کروائے۔ فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ خواہ کسی بھی جماعت نے لی ہو منجمد کر کے قومی خزانے میں شامل کر لی جائے ۔ کرپشن میں ملوث پائی جانیوالی شخصیات سے رقوم وصول کی جائیں اور ان اقدامات کی نگرانی تمام سیاسی جماعتوں کے قابل اعتماد اور ایماندار نمائندوں کی مشترکہ حکومت کے ذریعے کرائی جائے اور کرپشن سے پاک حکومت اور حکومتی مشینری کو بروئے کار لاکر ملکی تعمیر و ترقی کے لئے نئے جذبے کا آغاز کیا جائے آج پاکستان کو بطور ریاست ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن لوگوں کو 1947ء میں ایک الگ اسلامی و فلاحی ریاست کی ضرورت تھی اور انہوں نے بابائے قوم کی آواز پر لبیک کہا قربانیاں دیں آج وطن عزیز کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔

  • حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اور ریاست مدینہ — حافظ شاہد محمود

    حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اور ریاست مدینہ — حافظ شاہد محمود

    رسول اللہ ﷺ کےصحابی خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم حضرت عمربن الخطاب کاتعلق قبیلۂ قریش کے خاندان بنوعدی سے تھا جوکہ مکہ کے محلہ شُبیکہ میں آباد تھا۔

    بچپن میں تعلیم حاصل کی جس کی بنا پر شجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی نیز فنِ تقریر وخطابت کوٹ کوٹ کر بھری تھی…اسی لیے قریشِ مکہ نے اپنا سفیر اور امور خارجہ کا مستقل نگران مقرر کیا تھا.

    جب آپ جوان ہووے تو قبیلۂ قریش کے دیگر افراد کی مانند تجارت کو اپنا مشغلہ بنایا فنونِ سپہ گری ، شمشیرزنی ، نیزہ بازی ، تیراندازی ، گھڑسواری ، پہلوانی اورکشتی کے فن میں کمال مہارت حاصل تھی ۔مکہ کے قریب ہرسال عُکاظ کا تاریخی میلے میں قوت بازو کاخوب مظاہرہ کیاکرتے تھے۔

    حضرت عمربن خطاب نے ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں.

    آپ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے،ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاآپ ہی کی صاحبزادی تھیں.

    قبول اسلام پر بہت سی باتیں مشہور ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں جو چیز سب سے زیادہ قبولیت اسلام کا سبب بنی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نام لے کر خصوصی دعا ہی تھی.

    (اَللّھُمَّ أَعِزَّ الاِسلَامَ بِعُمَر بن الخَطَّاب أو بِعَمرو بن ھِشَام) یعنی’’اے اللہ!تودینِ اسلام کوقوت عطاء فرما عمربن خطاب ٗیاعمروبن ہشام کے ذریعے)
    تاریخ گواہ ہے کہ اُس ابتدائی دور میں مکہ میں مٹھی بھر مسلمانوں کو مشرکین مکہ کے ہاتھوں جن پریشانیوں کا سامنا تھا جناب عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کی وجہ کافی حد کم ہوئیں تھی اور مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی جس سے نہتے مسلمانوں نہال نظر آرہے تھے کیونکہ وہ بیت اللہ میں سرعام عبادت بھی کرنے لگے تھے.

    مکہ میں اسی طرح وقت گذرتا رہ حتیٰ کہ جب ہجرت کا حکم نازل ہوا توکیفیت یہ تھی کہ تمام مسلمانوں نے خفیہ طور پر مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی،جبکہ حضرت عمر نے جب ہجرت کا ارادہ فرمایا تو واحد شخص تھے جنہوں نے علی الاعلان بیت اللہ کا طواف کیا اور کہا جنہوں نے بچے یتم ، بیویوں کو بیوہ اور والدین کو رولانا ہے تو میرا راستہ روکے کیونکہ میں مدینہ جارہا ہوں سبحان اللہ.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت رکھتے تھے آپ نے ہر موقع پر جناب عمر بن خطاب کو یاد رکھتے کتب احادیث اس بات کی بخوبی گواہ ہیں چنانچہ چند احادیث مناقب حضرت عمر کو دیکھتے ہیں تاکہ ایمان تازہ ہوجائے.

    ٭…اِنَّ اللّہَ تَعَالَیٰ جَعَلَ الحَقَّ عَلَیٰ لِسَانِ عُمَرَ وَقَلبِہٖ
    ترجمہ:(بے شک اللہ تعالیٰ نے ’’حق ‘‘ کوعمرکی زبان پراوران کے دل میں رکھ دیاہے)

    ٭…لَو کَانَ نَبِيٌّ بَعدِي لَکَانَ عُمَرَ بن الخَطّاب
    ترجمہ:(میرے بعداگرکوئی نبی ہوتا تویقیناوہ عمربن خطاب ہی ہوتے)

    ٭…لَقَد کَانَ فِیمَا قَبلَکُم مِنَ الأُمَمِ ٌ مُحَدَّثُونَ مِن غَیرِ أن یَکُونُوا أنبِیَائَ فَاِن یَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَاِنَّہٗ عُمَرُ
    ترجمہ:(تم سے پہلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہواکرتے تھے جواگرچہ نبی تونہیں تھے البتہ ان کے قلب میں [من جانب اللہ] القاء کیاجاتاتھا ، میری امت میں بھی اگرکوئی ایساانسان ہو تو یقینا وہ عمر ہی ہوسکتے ہیں )

    ٭…یَا ابنَ الخَطّابِ! وَالَّذِي نَفسِي بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیطَانُ سَالِکاً فَجّاً اِلَّاسَلَکَ فَجّاً غَیرَکَ
    ترجمہ:(اے ابنِ خطاب! قسم اس اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے پرچلتاہوا دیکھتا ہے تووہ فوراً [وہ راستہ چھوڑکر]دوسرے راستے پرچلنے لگتاہے)

    رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عمربن الخطاب کیلئے جومقام ومرتبہ تھا اس کا اندازہ مذکورہ بالا احادیث سے بخوبی کیاجاسکتا ہے۔

    حضرت عمربن خطاب ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اورصحبت ومعیت جو مقام حاصل ہوا وہ اپنی مثال آپ تھا.

    آپ ﷺ کے بعدخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق کے دورِخلافت میں حضرت عمربن خطاب کو انتہائی قریبی اورقابلِ اعتمادساتھی اورخصوصی مشیرکی حیثیت حاصل رہی،حضرت ابوبکرصدیق کوحضرت عمربن خطاب کے مشورے فہم وفراست اور دوراندیشی پرہمیشہ مکمل بھروسہ اوراطمینان رہا۔

    چنانچہ حضرت ابوبکرصدیق نے اپنے انتقال سے چند روز قبل مہاجرین وانصار میں سے ایک مجلس میں عمر بن خطاب کو خلیفہ نامزد کر دیا ۔ اس پر بعض افراد نے ان کی سختی پر بات کی تو حضرت ابوبکرصدیق نے جواب دیا کہ خلافت کی سختی کی وجہ وہ نرم ہو جائیں گے اس کے بعدمزید فرمایا: اگراللہ نے پوچھا تو یہ جواب دوں گاکہ اپنے بعد ایسے شخص کومسلمانوں کا فرمانروا بنا کر آیا ہوں جو تیرے بندوں میں سب سے بہتر ہے‘‘ ۔

    جس روز حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا انتقال ہوا،اسی روزیعنی ۲۲/جمادیٰ الثانیہ سن ۱۳ہجری بروز پیر مدینہ میں تمام مسلمانوں نے حضرت عمر بن خطاب کے ہاتھ پربیعت کی۔

    خلافت سنبھالتے ہی حضرت عمربن خطاب نے لوگوں کے سامنے اپنے مختصرخطاب میں کہا:

    ’’لوگو!تمہارے معاملات میرے سپرد ہیں،اس لئے میری تمام سختی اب نرمی میں بدل چکی ہے،جو کوئی امن وامان اور سلامتی کے ساتھ رہنا چاہے،میں اس کیلئے انتہائی نرم ہوں ،البتہ جو لوگ دوسروں پر ظلم وزیادتی کرتے ہیں ، میری سختی ان کیلئے بدستور قائم رہے گی،اگر کوئی کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی کرے گا تومیں اسے اُس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک اُس کا ایک رخسار زمین پر ٹکا کر اور دوسرے رخسار پر پاؤں رکھ کر اُس سے مظلوم کاحق وصول نہ کرلوں …اللہ کے بندو!اللہ سے ڈرو، مجھ سے درگذر کر کے میرا ہاتھ بٹاؤ،نیکی کو پھیلانے اور برائی کاراستہ روکنے میں میری مدد کرو، تمہاری جو خدمات اللہ نے میرے سپرد کی ہیں ان کے متعلق مجھے نصیحت کرو،میں تم سے یہ بات کہہ رہا ہوں ، اور تمہارے لئے اللہ سے مغفرت طلب کر رہا ہوں.‘‘

    یہ ہے اصلی ریاست مدینہ کے حکمران کا قوم سے پہلا خطاب سبحان اللہ.

    حضرت عمر بن الخطاب کا دورِ خلافت دس سال چھ مہینے اور پانچ دن رہا، اس مختصر عرصے میں اسلامی حکومت اقوام عالم تک پھیل چکی تھی…’’قادسیہ ‘‘اور’’یرموک‘‘جیسی تاریخی جنگوں اور قیصر و کسریٰ کی شکست نے تو دنیا کا جغرافیہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔ حضرت عمربن خطاب نے جو علاقے فتح کئے ان کارقبہ ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل سے کچھ زیادہ تھا…ایک لاکھ چھتیس ہزار شہر فتح ہوئے ،جن میں چار ہزار مساجد تعمیر کی گئیں ۔ یوں اہلِ ایمان کوایسی بے مثال اوریادگارعظمت ورِفعت نصیب ہوئی…جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔

    آج کسی حکمران کو اس کے نام نہیں بلکہ کام کی وجہ سے ہی دوام حاصل ہوتا ہے ہم یہاں ان کاموں کا ذکر کریں گے جو ریاست مدینہ کا وصف تھے جن کی وجہ ریاست مدینہ قائم ہوئی تھی ہمیں بھی ایسی ہی ریاست چاہیے جو امیرالمؤمنین حضرت عمربن الخطاب نے قائم کی تھی ریاست مدینہ جن چیزوں پر قائم تھی جو تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھنے کو ملے مثلاً:

    1… ہجری اسلامی کیلنڈر کا آغاز۔
    2…سرکاری عہدے داروں کاہمیشہ سختی کے ساتھ کڑا محاسبہ۔
    3…بہت سے نئے شہروں کی تعمیر۔
    4…متعدد نئی فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی گئیں۔
    5… دفاع کومضبوط ومؤثربنانے کی غرض سے متعدد نئے قلعے تعمیرکروائے۔
    6…پہلی بار باقاعدہ فوج اور پولیس کا محکمہ قائم کیا گیا۔
    7…سرحدی علاقوں میں گشت کی غرض سے مستقل سرحدی حفاظتی فوج تشکیل دی گئی۔
    8…مستقل فوج تشکیل دی گئی جس میں تیس ہزارگھوڑے تھے۔
    9…فوجیوں کیلئے باقاعدہ وظیفہ اورتنخواہیں مقررکی گئیں ۔
    10…ہرفوجی کیلئے ہرچھ ماہ بعدباقاعدہ چھٹی کی سہولت۔
    11…باقاعدہ بہترین عدالتی نظام۔
    12…بیت المال کا قیام۔
    13…رقبوں اور سڑکوں کی پیمائش۔
    14…مردم شماری کا نظام۔
    15…کاشتکاری کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا۔
    16…چار ہزار نئی مساجد کی تعمیر ۔
    17…مساجدمیں روشنی کا انتظام کیا گیا۔
    18…اماموں ، مؤذنوں اورخطیبوں کیلئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے۔
    19…معلمین اورمدرسین کیلئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے۔
    20…نظامِ وقف قائم کیا گیا۔
    21…غلہ واناج ودیگرغذائی اجناس کی حفاظت کی غرض سے بڑے بڑے گودام تیار کئے گئے۔
    22…اسلامی ریاست کا باقاعدہ سکہ جاری کیاگیا۔
    23…انصاف و قانون کا ایسا بول بالا جس کی مثالیں دنیا آج بھی دیتی ہے۔

    یہ تھی مسلمانوں کی ریاست مدینہ.

    اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نقش قدم چلنا چاہیے اسی میں عزت و وقار اور دوام حاصل ہوتا ہے.

    اللہ تعالیٰ توفیق سے نوازے کہ ہم وطن عزیز پاکستان جو مدینہ ثانی ہے کو ریاست مدینہ بنتا دیکھ سکیں آمین یارب العالمین

  • ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    سرمایہ دار ہمیشہ کم آمدنی والے غریب افراد کو سہانے خواب دیکھا کر لوٹتے ہیں. ایک غریب شخص جس کی زندگی کی خواہش اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے اپنی ملکیتی جگہ پر رہائش اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے یا مزید بہتر کرنے کے لئے ذرائع آمدن میں اضافہ ہے. ان کو سرمایہ دار لالچ میں مبتلا کر کے، ان کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ان کی کم کاروباری سمجھ بوجھ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں.

    کئی اللہ کے نیک بندے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے پاس موجود سرمایہ، گھر کے زیورات بیچ کر اور لوگوں سے ادھار لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور دھوکے کی صورت میں اپنے سرمائے سے محروم ہونے کے علاوہ لوگوں کے مقروض بھی ہو جاتے ہیں. اور قرض خواہوں کے روز روز کے تقاضوں سے گھبرا کر وہ بعض اوقات انتہائی قدم بھی اٹھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں خراب کر لیتے ہیں.

    سرمایہ داروں کے فراڈ کے کئی طریقوں میں سے ایک طریقہ جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر غریب عوام کو لوٹنا ہے. یہ یاد رہے کہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی جعلی نہیں ہوتی لیکن ان کی اکثریت جعل ساز ہی ہوتی ہے.یہ شروع میں ہزار یا دو ہزار کنال سستی زمین خرید کر وہاں تعمیراتی مشینری منتقل کر دیتے ہیں.ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایک یا دو خوبصورت سی مین انٹری بنا دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ سوسائٹی کے شروع میں ہی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مرکزی آفس بنا دیا جاتا ہے.

    پھر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیری مہم شروع کر دی جاتی ہے. کاغذات میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں مسجد، پارک، سکول، کشادہ مرکزی سڑکیں اور لنک روڈ، کمرشل ایریا، بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونا، ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپنی ذاتی سیکیورٹی، پانی کی وافر مقدار میں فراہمی الغرض دنیا کی ہر سہولت فراہم کی جاتی ہے.

    تعمیراتی مشینری کو دیکھا کر بتایا جاتا ہے کہ ڈیویلپمنٹ زور و شور سے جاری ہے. ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کے ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں. اس کے بعد شروع میں پراپرٹی ڈیلرز کو زیادہ منافع پر رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی فائلیں مناسب تعداد میں فراہم کی جاتی ہیں. وہ اپنے منافع کے لالچ میں اپنے انوسٹر کو بتاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں فائلیں خرید لیں.

    ساری فائلیں جب انوسٹر اٹھا لیتا ہے تو مارکیٹ میں فائلیں شارٹ ہونے کی وجہ سے بلیک میں بکتی ہیں اور یہاں سے چھوٹے انوسٹر، تنخواہ دار یا چھوٹے کاروباری شخص کی بدنصیبی شروع ہوتی ہے. وہ منافع کمانے، اپنی ذاتی رہائش بنانے یا اپنی بچت محفوظ رکھنے کے لئے پلاٹ کی فائلیں خرید لیتا ہے اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تھوڑی تھوڑی کر کے فائلیں مارکیٹ میں فروخت کرتے رہتے ہیں.

    چھوٹے انوسٹر کو اس وقت دھچکہ لگتا ہے جب اس کی فائلیں فروخت نہیں ہوتی اور اسے پلاٹ کی پہلی یا، دوسری قسط دینی پڑ جاتی ہے اور وہ اپنا سرمایہ ڈوبنے سے بچانے کے لئے فائلیں نقصان پر فروخت کر دیتا ہے جبکہ جو لوگ اپنے رہنے کے لئے وہاں پلاٹ لیتے ہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر پلاٹ کی قسطیں بھرتے رہتے ہیں.

    اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے لوگوں کے جمع شدہ پیسوں سے تھوڑا بہت سوسائٹی میں ترقیاتی کام بھی کراتے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو آس امید لگی رہتی ہے کہ سست روی سے سہی لیکن کام ہو رہا ہے اور سوسائٹی لوکل ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اپنی خرید سے کئی گنا زیادہ جگہ (مثلاً اگر دو ہزار کنال جگہ خریدی تو دس ہزار کنال بیچ دی) فروخت کر دیتی ہے.

    کیونکہ سوسائٹی گورنمنٹ سے منظور شدہ نہیں ہوتی تو اس کا کوئی نقشہ بھی نہیں ہوتا اس وجہ سے لوگوں کو اپنے پلاٹس کی نشاندہی بھی نہیں ہوتی. سوسائٹی والے لوگوں کو یہی تسلی دیتے رہتے ہیں کہ جس ترتیب سے فائلیں فروخت ہوئی اسی ترتیب سے سیکٹر بنا کر آپ کو پلاٹ الاٹ کر دئیے جائیں گے.

    اس دوران وہ حکومتی محکموں کا منہ ہر ممکن طریقے سے بند رکھتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ اب ہم اس علاقے سے عوام کو مزید نہیں لوٹ سکتے تو وہ محکموں کا خرچہ بند کر دیتے ہیں کچھ دن بعد اخبارات میں آ جاتا ہے کہ مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی بغیر این او سی کے بنی ہے اور اس میں لین دین کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا اور جب یہ خبر پڑھ کر لوگ سوسائٹی کے دفتر جاتے ہیں تو وہاں ان کی رام کہانی سننے والا کوئی نہیں ہوتا اور لوگوں کی عمر بھر کی کمائی لٹ جاتی ہے.

    اس فراڈ سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کوشش کریں مکمل قیمت ادا کر کے پلاٹ خریدیں اور اپنے نام رجسٹری کرائیں اگر سوسائٹی میں پلاٹ لینا ہے تو گورنمنٹ کی منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہی پلاٹ لیں.

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    فضائل اور مناقب بیان کرنا بہت اچھی بات ہے. مگر کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کے بیان پر ہی اکتفا کر جانا ہرگز کافی نہیں.
    کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کا بیان کار ثواب بھی ہو سکتا ہے. مگر آپ اس ہستی کی سیرت سے کچھ سیکھنے سے عاری ہیں تو یقیناً آپ اچھے کردار کے حامل نہیں ہو سکتے.

    ہمارے ہاں سیرت النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا بیان تو ہوتا ہے مگر عمومی رویوں سے اس کا اظہار کرنے سے ہم بطور معاشرہ قاصر ہیں.
    وہ تمام شخصیات جن کو اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی نہ کوئی مقام عطا کیا، جن کے فضائل ومناقب آج ہم بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام و مرتبہ کیسے عطا کیا؟
    .
    یکم محرم الحرام قریب ہے اور ہر طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ ہے. بلاشبہ ان کا ذکر کرنا اور اچھی نیت کے ساتھ اچھے انداز کے ساتھ ان کا ذکر کرنا باعث اجر و تسکین ہے.

    مگر سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عمر کیسے بنتے ہیں؟

    آج ہم اخلاق و کردار یا اوصاف کے اندر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر ان کی تقلید ضرور کر سکتے.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف و کردار میں جو سب سے بنیادی چیز ہے وہ ڈٹ جانا ہے. آپ کے کردار کے اندر جھول یا نرمی کا کوئی عنصر نہیں. اسلام سے قبل اپنے قبیلے اور علاقے کے تمام تر مفادات کا تحفظ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے علم، حکمت کے ساتھ ساتھ اپنی تلوار کے ذریعے کیا.
    .
    دین اسلام کی حقانیت آشکار ہونے کے بعد سیدنا عمر فاروق نے اسی جاہ و جلال، بہادری و استقلال کے ساتھ اسلام اور اہل اسلام کے تمام تر حقوق کا تحفظ کیا.

    اسلام تو دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے مگر کردار عمر سے یہ بات عیاں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کو غالب کرنے کے لیے آئے تھے.
    .
    آپ اسلام کے آنے سے پہلے بھی اپنے قول و اقرار پر پہرہ دیتے تھے. اور اسلام لانے کے بعد بھی آپ کبھی اپنی بات سے منحرف نہیں ہوئے. دنیا کا مفاد لالچ اور خوف آپ کو کبھی زیر نہیں کر سکا.
    .
    آپ نے اللہ کی عطا کردہ فطرت سلیم کی حفاظت اس قدر عمدہ انداز سے کی کہ آپ کے دماغ کے اندر پیدا ہونے والے خیالات اللہ تعالی نے قرآن بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے.
    .
    جدید فلسفہ میں اقبال جس خودی کی بات کرتے ہیں سیدناعمرفاروق میں وہ خودی بدرجہ اتم موجود تھی.
    .
    تاریخ کا مطالعہ کرنے والے احباب یہ بات جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار میں آنے کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے طرز زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ کی برکت ہے کہ آج عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو انصاف کا معیار مقرر کیا گیا ہے.
    .
    تاریخ انسانی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قبل کوئی ایسا حکمران نہیں تھا جس کی سلطنت کے اندر تعلیم، صحت تعمیرات، افوج اور انصاف کے باقاعدہ فعال شعبے موجود ہوں.
    .
    یہ آپ کے کردار کا ہی خاصہ تھا کہ نئے آنے والے مذہب اور تہذیب کو 22 سے 25 سال کے اندر 22 لاکھ مربع میل سے بھی زائد رقبے پر متعارف کروایا.
    .
    سچائی، دیانت، جرات، انصاف، تقویٰ، دردانسانیت اور محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم و دین محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت جیسے اوصاف کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا.

    ہمیں مناقب بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں پر غور کرنا چاہیے جو عمر ابن خطاب کو عظیم مصلح و حکمران عمر فاروق اعظم بناتی ہیں.

    محض قصے بیان کرنے سے بات نہیں بنے گی. وہ تمام اوصاف جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں موجود تھے ان کی تقلید سے ہی بات بنے گی.

    محض غلبے کی باتیں اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کریں گی. اسے غالب کرنے کے لیے عمر فاروق کے نقش قدم پر چلنا ہوگا.

    اگر سیرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو عملی شکل دینے کے بجائے محض ثواب کی نیت سے بیان کرتے رہیں گے تو یقین کیجئے حالات نہیں بدلیں گے.