Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • عمران خان کی حکومت کا خاتمہ

    عمران خان کی حکومت کا خاتمہ

    عمران خان کی حکومت کا خاتمہ
    عمران خان 2018 میں کرپشن کے خلاف جنگ، پولیس، عدلیہ اور تمام ریاستی اداروں میں اصلاحات لانے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ الیکشن کے بعد 26 جولائی 2018 کو اپنی پہلی تقریر میں عمران خان نے کہا کہ احتساب مجھ سے شروع ہوگا، میں سادگی اختیار کروں گا، پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بناؤں گا، کمزور طبقوں کو اوپر لاؤں گا، گورننس بہتر کروں گا اور کرپشن ختم کروں گا، وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہوں گا۔ کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ لیکن ان کے اقتدار کے ساڑھے تین سالوں میں معیشت کی بحالی، مہنگائی پر قابو پانے اور اصلاحات لانے کے وعدے عملی طور پر نظر نہیں آئے۔ ان کے تین سالہ دور حکومت میں اپوزیشن نے انہیں مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ان کی خراب حکمرانی کی وجہ سے بے دخل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ اپنے اختلافات کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے۔ 3 مارچ 2021 کو عمران خان نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیا جس میں وہ کامیاب ہوئے۔ ایک سال بعد مارچ 2022 میں اپوزیشن نے انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپوزیشن نے عمران خان کو ہٹانے کی کوششیں شروع کر دیں، جب ان کی حکومت کے اتحادی پارٹی چھوڑ کر حکومت کے خلاف اپوزیشن میں شامل ہو گئے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں ہٹانے کی غیر ملکی سازش ہے، ان کے پاس ثبوت کا خط موجود ہے۔اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران عمران خان نے عوام کے سامنے خط دکھایا، اسے غیر ملکی سازش کا ثبوت قرار دیا، خط کا مکمل مواد تاحال منظر عام پر نہیں آیا۔ لیکن عمران خان کے مطابق خط میں ایک پیغام ہے جو مبینہ طور پر اسد مجید کو ڈونلڈ لو کی طرف سے موصول ہوا ہے جو کہ جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے امریکی معاون وزیر خارجہ ہیں۔ اپوزیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خط کو اگلے دن سیکیورٹی کمیٹی یا پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر کرکے عوام کے سامنے کیوں نہیں دکھایا؟ پاکستان میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مطابق انہیں بیرونی سازش، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دھمکی کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی عمران خان بات کر رہے ہیں۔ عمران خان کو غیر ملکی سازش کا خیال کافی دیر سے آیا جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ عدم اعتماد کے ووٹ میں زندہ نہیں رہ سکتے اور وہ اقتدار سے باہر ہو جائیں گے تو انہوں نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ان کی پارٹی کے ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ روک دی اور اپوزیشن کے قانون ساز کو غدار قرار دے دیا کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے امریکہ کے ساتھ سازش کی۔ صدر مملکت نے وزیراعظم کے مشورے سے پارلیمنٹ تحلیل کر کے ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کیا.لیکن متحدہ اپوزیشن کے مطابق عمران خان کی حکومت گرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں ان کے اتحادی اور فرنٹ مین کی طرف سے مسلسل بلیک میل کیا جا رہا تھا۔

    ان کی پارٹی کے زیادہ تر ایم این اے ان کی حکمرانی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے ان کے خلاف اپوزیشن سے ہاتھ ملا لیا۔ اپوزیشن نے اس کا فائدہ اٹھایا اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ بہت سے دوسرے عوامل ہیں جو واقعی خان کی پارٹی کی حکومت کے زوال کا باعث بنے جن میں آرمی چیف کی توسیع اور بعد میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے دوران حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر پاکستان میں فوج کے ادارے کو متنازعہ بنانا شامل ہے۔ دوسرا عنصر خارجہ پالیسی بھی ہے اور صوبہ پنجاب کی گورننس اور اس صوبے میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تقرری جو پاکستان کا آدھا حصہ سمجھتا تھا۔ عمران خان تمام غیر آئینی اقدامات کرنے کو تیار تھے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو غیر آئینی اقدام اٹھانے سے انکار پر برطرف کر دیا گیا۔ عمران خان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے اور غیر ملکی سازش کا بیانیہ بنا رہے تھے اور ان کا سارا بیانیہ اسی پر مبنی تھا۔ وہ سیاسی شہید بننے کے لیے ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، قومی اسمبلی کو تحلیل کرتے ہوئے اس نے پاکستان کو ایک بڑے آئینی بحران میں دھکیل دیا۔ انہوں نے اسے سرپرائز قرار دیا لیکن یہ کوئی سرپرائز نہیں تھا، یہ ایک آئینی بحران تھا جس نے پاکستان کو سیاسی بحران میں بدل دیا۔ خان نے تمام اقدامات صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے کیے، اور کچھ نہیں۔ جب عمران خان نے قومی اسمبلی کو تحلیل کیا تو پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ’’سو موٹو نوٹس‘‘ لیا، 4 دن کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے پایا کہ وزیراعظم عمران خان کا 3 اپریل کو ہونے والے عدم اعتماد کے ووٹ کو روکنے کا اقدام تھا۔ آئین اور قانون کے خلاف ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ غلط تھا اور 9 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی کو دوبارہ بلانے اور عدم اعتماد کا ووٹ کرانے کا حکم دیا۔

    9 اپریل کو اسمبلی کا اجلاس سپریم کورٹ کی رہنمائی میں شروع ہوا لیکن خان حکومت نے عدم اعتماد کے ووٹ کو سبوتاژ کرنے کے لیے تمام تاخیری حربے استعمال کیے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹ نہ ہو سکے۔ اس چیز نے ایک اور سیاسی ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی عمران خان کی جانب سے ووٹنگ کے حوالے سے دباؤ کا شکار تھے۔ سپیکر سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند تھے، دوسری طرف ان پر توہین عدالت لگ رہی تھی، اگر وہ ایسا نہ کریں تو۔ پورا دن اسی افراتفری کی زد میں رہا، ووٹنگ نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10:30 پر کھول دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا گیا کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان بحران سے نمٹنے کے لیے رات گئے کھولے۔ دوسری جانب کسی بھی قسم کی بدامنی سے نمٹنے کے لیے تمام ریاستی ادارے ہائی الرٹ تھے۔ آخر کار قومی اسمبلی کے سپیکر اسدقیصر نے سپیکر شپ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، انہوں نے 11 بجکر 45 منٹ پر اجلاس کی صدارت کی اور اپنا استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنی کرسی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پینل کے رکن ایاز صادق کو دی۔ ایاز صادق نے اگلے اجلاس کی صدارت کی اور تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کا عمل مکمل کیا جس میں 174 ارکان نے عمران خان کے خلاف ووٹ دیا۔ عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹایا گیا تھا۔تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد سے خان کی تقاریر میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ان تقاریر میں قومی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ذاتی اور سیاسی ہٹ دھرمی سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی تقاریر سماجی سطح پر بھی زیادہ تنقید کا نشانہ بنیں۔ لگتا ہے عمران خان وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہو کر واپس کنٹینر پر چڑھ گئے ہیں۔ عمران خان نے خود اپوزیشن کو متحد ہونے اور اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی راہ ہموار کی۔پاکستانی عوام عمران خان سے بہت پر امید تھے کہ وہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کی امید ٹوٹ گئی، آخرکار انہوں نے پاکستان کو آئینی بحران میں ڈال دیا۔ نئی حکومت شہباز شریف کی قیادت میں بن گئی ہے ،دیکھیں اب آنے والے دنون میں کیا ہوتا ہے؟

  • پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات اہم موڑ پر! ،تحریر: شاہد خان

    پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات اہم موڑ پر! ،تحریر: شاہد خان

    حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں گے ؟

    ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیاں مذاکرات کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے پروگراموں میں تبصرہ نگار اور تجزیہ نگاروں سے یہ سوال اس لیے بار بار کیا جارہا ہے کیوں کہ اس سے قبل بھی مذاکرات کی کوششیں ہوچکی ہے تاہم ماضی کے مذاکرات کبھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئے ہیں۔

    میں سمجھتا ہوں کہ اس بار مذاکرات جس انداز اور اعلی سطح پر جاری ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

    کابل میں طالبان حکومت کے بعد ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے مسلسل کوششیں ہوتی رہی جس میں افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے تاہم تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ گزشتہ چار ماہ میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے حملوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا وزیرستان اور باجوڑ میں افغانستان سے متصل بارڈر ایریاز میں سیکیورٹی فورسز کو خصوصی نشانہ بنایا گیا۔

    سیکیورٹی اور حکومتی حکام نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے حوالے سے بار بار افغان حکام سے شکایت کی تاہم حملوں میں کمی نہ آسکی۔

    چودہ اپریل کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد مبینہ طور پر پاکستان کے فضائیہ نے خوست اور کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ پاکستان نے براہ راست افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہو۔

    ان فضائی حملوں کے بعد افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا اور حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کے لیے کوششیں تیز ہوگئی۔ کیوں کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دھانی طالبان حکومت دنیا بشمول پاکستان کو کراچکی ہے جس کے بعد اب افغان طالبان کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اس مشکل کا کوئی حل نکالیں کیوں کہ اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل اس سلسلے میں بار بار اپنی رپورٹوں میں افغان سرزمین ٹی ٹی پی کے جنگجووں کی موجودگی کا ذکر کرچکی ہے۔

    پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے مختلف عمائدین نے اس سلسلے میں کابل کے کئی دورے کیے جس کے نتیجے میں مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہوا۔

    اس بار مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہوگئی ہے کہ دونوں جانبین سے اعلی حکام مذاکرات کا حصہ ہے دونوں جانبین سے اعلی حکام براہ راست مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ ثالث کا کردار کرنے والے بھی بڑے اہم رہنما ہے جس میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی قابل ذکر ہے۔

    میرے اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکراتی عمل کو بڑھانے کے لیے افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے علاؤہ افغان وزیر اعظم ملا حسن اخند اور وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں اور مذاکراتی نشستوں کا باقاعدہ حصہ بنے ہیں۔

    مذاکرات کے کامیابی اور پیش رفت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس بار سابقہ فاٹا اور پختونخوا کے مختلف علاقوں کے عمائدین پر مشتمل 133 سے زائد افراد کا جرگہ بھی اس سلسلے میں کردار ادا کررہے ہیں تاکہ قبائلی عمائدین کو نا صرف اعتماد میں لیا جائے بلکہ ان علاقوں میں امن کا پیغام ان کے ذریعے دیا جائے کہ امن و امان کا قیام اور مذاکرات سب کی مشترکہ ضرورت ہے۔

    حکومت پاکستان کے ملٹری اور سیاسی حکام اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات میں دو کامیاب راؤنڈ کے بعد سیز فائر میں توسیع اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 53 افراد پر مشتمل قبائلی جرگہ یکم جون کو کابل بھیجا گیا جس میں تمام قبائلی علاقوں کے نمائندوں کے علاؤہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے وزرا بھی شامل ہے۔
    یکم جون کو ابتدائی نشست ہوئی جب کہ دوسری نشست 2 جون کی صبح 10 بجے رکھ دی گئی ہے جس کا سب سے اہم موضوع دائمی یا طویل سیز فائر کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

    فاٹا سے پاک فوج کی انخلاء، مالاکنڈ ڈویژن میں نظام العدل کا نفاذ، تمام قیدیوں کی رہائی سیمت، دیگر اہم ایجنڈا پوانٹس ہے جو ٹی ٹی پی کی جانب سے رکھے گئے ہیں جب کہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی سے ہتھیار ڈالنے، آئین کو تسلیم کرنے سمیت دیگر اہم موضوعات مذاکرات کا حصہ ہے جس پر بات چیت ہورہی ہے اب تک کسی بھی ایجنڈا پوائنٹ پر اتفاق نہیں ہوا ہے تاہم امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ بڑے پوائنٹس کا حل نکالا جائے گا کیوں کہ ٹی ٹی پی کے بعض مطالبات ایسے ہے جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے افغان طالبان کوشاں ہے کہ درمیانی راستہ نکالا جائے۔

  • تمباکو، ماحولیات، معیشت اور صحت عامہ کو لاحق خطرات،ڈاکٹر ضیا الدین اسلام

    تمباکو کی وبا صحت عامہ کے سب سے اہم خطرات میں سے ایک ہے جس کا سامنا انسانی نسل کو کرنا پڑا ہے، ایک سال میں عالمی سطح پر 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے ٧ ملین سے زیادہ اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریبا 12 لاکھ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کا سامنا کرنے کا نتیجہ ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کی شرکاء ریاستوں نے تمباکو کی وبا اور اس سے ہونے والی قابل روک تھام موت اور بیماری کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے 1987 میں تمباکو کا عالمی دن منایا۔ 1987 میں عالمی صحت اسمبلی نے قرارداد ڈبلیو ایچ اے 40.38 منظور کی جس میں 7 اپریل 1988 کو "تمباکو نوشی نہ کرنے کا عالمی دن” بننے کا مطالبہ کیا گیا۔ 1988 میں قرارداد ڈبلیو ایچ اے 42.19 منظور کی گئی جس میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا گیا۔
    اس سال عالمی یوم تمباکو 2022 کا موضوع "ماحولیات کا تحفظ” ہے جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ تمباکو اپنے پورے زندگی کے چکر میں کرہ ارض کو آلودہ کرتا ہے اور تمام لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
    محققین نے انکشاف کیا کہ سیگریٹ فلٹرز سیلولوز ایسیٹیٹ سے تیار ہوتے ہیں۔ یہ پلاسٹک صرف شدید حیاتیاتی حالات میں تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جیسے کہ جب فلٹر سیوریج میں جمع ہوتے ہیں۔ عملی طور پر سگریٹ کے بٹ سڑکوں، دفاتر میں پھینکے جاتے ہیں ،اور پارکوں میں ان کی حیاتیاتی تنزلی نہیں ہوتی۔ زیادہ تر سازگار حالات میں، سگریٹ کے بٹ کو ختم ہونے میں کم از کم نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ سورج سگریٹ کے بٹوں کو توڑ سکتا ہے ، لیکن صرف فضلے کے چھوٹے ٹکڑوں میں جو پانی/ مٹی میں پتلا ہو جاتا ہے۔

    یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ مٹی، ساحلوں اور آبی گزرگاہوں کو آلودہ کر سکتا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ جنگلی حیات کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ سگریٹ کے بٹ آلودگی کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ زیادہ پھیلاؤ، نالیوں اور وہاں سے دریاؤں، ساحلوں اور سمندروں تک لے جایا جاتا ہے۔ پائلٹ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نامیاتی مرکبات (جیسے نکوٹین، کیڑے مار ادویات کی باقیات، اور دھات) سگریٹ کے بٹوں سے سمندری ماحولیاتی نظام میں داخل ہوتے ہیں، جو مچھلی اور خرد حیاتیات کے لئے شدید زہریلے ہو جاتے ہیں۔
    تمباکو کا ابھرتا ہوا، کاروبار، گندا پانی، مٹی، ساحل، پارک، اور کیمیکل، زہریلا فضلہ، سگریٹ کے بٹ، اور مائیکرو پلاسٹک فضلہ کے ساتھ گلیاں. یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تمباکو انسانوں کی صحت کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ ماحولیات کی صحت کو بھی خطرہ ہے۔ یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے کہ سگریٹ کے بٹوں کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ پانی، ہوا اور زہریلے کیمیکلز، بھاری دھاتوں اور باقی ماندہ نکوٹین کے ساتھ زمین کو آلودہ کرکے ماحول کی قیمت خرچ کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 766,571 میٹرک ٹن سگریٹ کے بٹ ماحول پر برا اثر انداز ہوتے ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو کی ترقی جنگلات کی کٹائی کو فروغ دیتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسی ترقی پذیر دنیا میں۔ تمباکو کے باغات کے لئے جنگلات کی کٹائی مٹی کی تنزلی اور "ناکام پیداوار” کو فروغ دیتی ہے ، یا زمین کے لئے کسی بھی دوسری فصلوں یا نباتات کی نشوونما میں مدد کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ تمباکو کی صنعت ہر سال تقریبا ٦٠٠ ملین درختوں کو کاٹ تی ہے۔ اوسطا، ہر درخت سگریٹ کے 15 پیکٹوں کے لئے کافی کاغذ تیار کرتا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کے سب سے منفی اثرات سیلاب، موسمیاتی تبدیلیاں، زمین کی سلائیڈنگ، زمین کی تنزلی، مٹی کا کٹاؤ اور صحرا سازی ہیں۔ تمباکو کی صنعت کے منفی اثرات او رجنگلات کی کٹائی بھی موسمیاتی تبدیلیوں، صحرا سازی، کم فصلوں، سیلاب، ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے اور مقامی لوگوں کے لئے بہت سے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
    ہر سال پاکستان اپنے جنگلات کا 42 ہزار ہیکٹر یا 2.1 فیصد کھو دیتا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کا واحد طریقہ جنگلات ہے۔ ان کی رائے میں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ پانی زندگی کے لئے ضروری عنصر ہے اور جنگلات کی کٹائی ہمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس ضرورت سے محروم کرتی ہے۔ تمباکو کی کاشت میں مسلسل اضافہ زمین پر اس کی مشقت لیتا ہے۔ چونکہ تمباکو نے اپنے غذائی اجزاء کی مٹی کو ختم کر دیا تھا، اس لئے زمین کے ایک پلاٹ پر صرف تین کامیاب بڑھتے ہوئے موسم ہو سکتے تھے۔ پھر زمین کو دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے تین سال تک پرتی پڑی رہنا پڑی۔ اس سے نئے کھیت کے لئے کافی حد تک ڈرائیو پیدا ہوئی۔ تمباکو کی یہ کاشت مٹی کی زرخیزی اور زیر زمین پانی کے وسائل کو تباہ کرنے کے لئے پائی گئی ہے۔ یہ ملکی معیشت اور ماحولیات پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
    تمباکو کی صنعت، موت کے تاجر، ماحول کو نقصان پہنچا کر آمدنی پیدا کر رہے ہیں اور ماحولیاتی تباہی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے اور ان فضلوں کو جمع کرنے کی لاگت کی وصولی سمیت فضلے اور نقصانات کی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے۔

    2018 میں دنیا کے چھ بڑے سگریٹ سازوں نے 55 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا منافع (انکم ٹیکس سے پہلے) کمایا۔ اس طرح کے بڑے پیمانے پر منافع ممکن ہے کیونکہ تمباکو کمپنیوں کی فروخت پر بہت زیادہ منافع مارجن ہے. ۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے 2019ء میں اعلان کردہ خالص آمدنی 80.09 ملین امریکی ڈالر تھی جو بڑھ کر 223.06 ملین امریکی ڈالر کے مجموعی منافع کے ساتھ 117.2 امریکی ڈالر ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں ٹیکس وں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن ٹی آئی کو اپنے منافع میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ 1 (جبکہ فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ (پی ایم پی کے ایل) نے 31 دسمبر 2021 کو ختم ہونے والے سال کے لئے پی کے آر 2,307 ملین ٹیکس کے بعد منافع حاصل کیا جبکہ گزشتہ سالوں کی اسی مدت کے لئے پی کے آر 1,765 ملین کے بعد منافع ہوا تھا۔

    تمباکو کی صنعتوں کو ان کی مصنوعات سے پیدا ہونے والے فضلے کے زبردست حجم اور ان کی مصنوعات کو ماحولیاتی طور پر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے جوابدہ ہونا چاہئے۔ ملک کی صورتحال کو سنجیدگی سے سنبھالنے میں ابھی زیادہ دیر نہیں ہوگی اور ان کی مصنوعات کے منفی ماحولیاتی نتائج کو کم کرنے کے لئے فضلے کی مقدار کو کم کرنے کے لئے مالی جرمانے کے ساتھ مناسب مضبوط ضوابط کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، ماحولیاتی زہریلے پن اور سگریٹ کے فضلے کو لینڈ فل میں پھینکنے کے خطرات کے بارے میں وکالت اور آگاہی کی شدید ضرورت ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کو ان مصنوعات کا استعمال مکمل طور پر چھوڑنے کی ترغیب دینا تمباکو مصنوعات کے فضلے سے ماحول کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org
    ٹوئٹر: ضیا الدین اسلام

    مصنف این ایچ ایس آر سی کی وزارت کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • ناقابل ضمانت مقدمے میں ضمانت کیسے؟ تحریر: کنول زہرا

    ناقابل ضمانت مقدمے میں ضمانت کیسے؟ تحریر: کنول زہرا

    ہائبرڈ وار ریاست کے امور کو کمزور کرنے کے لیے سرگرم کی جاتی ہے, دشمن براہ راست پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بہترین مہمان نواز ہیں نہ صرف زبردست ناشتہ کرواتے ہیں بلکہ ان کی چائے کے بھی کیا کہنے, دشمن نے بزدلوں کی طرح چھپ کا وار کرنے کا ایک اور حربہ آزمایا ہے جو ففتھ جنریشن وار کے نام سے جاننا جاتا ہے, جس کا مقصد ہے کہ ریاست کے اداروں خلاف اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے, دشمن ایک عرصے سے مختلف  ہتھکنڈوں کے ذریعے سے پاکستان کے دفاعی اداروں پر حملہ آور رہا ہے,  کبھی لسانیات کی سوچ کے تحت وطن عزیز کو نقصان پہنچایا تو کبھی چھوٹے اور بڑے صوبے کی بات کی,  کبھی مسنگ پرسن کا چورن فروخت کیا تو کبھی فرقہ وارانیت کا زہر گھول کر قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی

    ظاہر ہے دشمن یہ کام بذات خود نہیں بلکہ ہمارے ہی لوگوں کو استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے, سب جانتے ہیں کہ دفاعی لحاظ سے افواج پاکستان دنیا کی آٹھویں بڑی فوج ہے اس تناظر میں دشمن سمجھتا ہے کہ پاک فوج ایک منظم اور مضبوط ادارہ ہے, جسے کمزور کرکے ناپاک عزائم میں کامیاب حاصل کی جاسکتی ہے, اس لئے وہ کچھ ناپختہ زہنوں کو اپنی جانب راغب کرکے اپنے بنائے تماشے میں استعمال کر رہا ہے. سابق وفاقی وزیر شریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی ٹوئٹر ایکٹویٹی سے کون واقف نہیں ہے, وکالت سے وابستہ ہونے کے باوجود وہ ایسی غیر اخلاقی حرکات اور الفاظ کا استعمال کرتی ہیں جو پاکستانی معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے, محترمہ کو نا * نہ* جانے کس بات پر افواج پاکستان سے شدید بغض ہے, ان کی غیر مہذب پوسٹس پر ان کی والدہ انہیں متنبے بھی کر چکی ہیں مگر انہوں نے اپنی والدہ کی ایک نہ سنی اور پاک فضائیہ کے سربراہ کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی اور ان کے گھر کی لوکیشن تک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردی, اتنی غیر ذمہ داری کا ثبوت تو عام آدمی نہیں دیتا  ہے جبکہ وہ وکیل ہیں اور با اثر قابل خاتون کی دختر ہیں مگر افسوس ان کی شخصیت میں کوئی مثبت اثر نظر نہیں آتا ہے.

    ایمان مزاری اپنی تربیت کی دھجیاں بکھرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں, کبھی ٹوئٹر پر اپنا خاندانی پس منظر بتا رہی ہوتی ہیں تو کبھی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے سستی شہرت کی خاطر مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی نظر آتی ہیں, جس کا مقدمہ کوہسار تھانے اسلام آباد میں مختلف الزامات کے تحت درج ہوا تھا, جس میں مجرمانہ سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع، ہتک عزت، امن کی خلاف ورزی اور حملہ کو اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین شامل تھیں تاہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مطابق ایمان مزاری معزز وکیل ہے, نوجوان ہیں اس لئے کچھ جذباتی ہیں,  انہوں نے اس مقدمے کو مزید آگے نہ چلنے دیا اور پولیس کو ہتک عزت کے الزام میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا, سوال یہ ہے کہ کیا اس قدر جذباتی وکیل کوئی کیس عقل کے دائرے میں رہ کر لڑ سکتا ہے? اس لحاظ سے تو ان کی ذہنی کیفیت خاصی مشکوک ثابت ہوتی ہے, کیا ان کی ڈگری نظام عدل کے لئے موزوں ہیں؟

    ایمان مزاری کی جانب سے پاک فوج کے خلاف پے در پے بے بیناد الزام تراشی کے تحت وار کرنے پر 27 مئی  2022 کو پاک فوج نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے, ایمان مزاری کے خلاف جج ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے, ایف ائی آر کے متن کے تحت بارہ مئی کی شام پانچ سے چھ بجے شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے پاک فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف سرعام من گھڑت، بے بنیاد الزامات لگائے, 
    آرمی قیادت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
    جان بوجھ کر دیے گئے ریمارکس کا مقصد فوج کے رینکس اینڈ فائل میں اشتعال دلانا تھا۔
    یہ اقدام پاک فوج کے اندر نفرت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا تھا جو ایک سنگین جرم ہے۔
    یہ بیان دینا پاک فوج کے افسروں، جوانوں کو حکم عدولی پر اکسانے کے مترادف ہے۔
    پاک فوج اور سربراہ کی کردار کشی سے عوام میں خوف پیدا کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔
    متعلقہ قوانین کے تحت ایمان مزاری کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پاک فوج کی جانب سے پہلی بار ایف آئی آر کا اندراج کر کے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے, یہ اس بات کا واضح ثبوت ہےکہ فوج عدلیہ کا احترام کرتی ہے, اس کے ساتھ ہی انہیں پاکستان کے نظام عدل پر پورا بھروسہ ہے,

    سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا اور سول سوسائٹی پاک فوج کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کریں گے جیسے وہ  دیگر معاملات میں کرتے ہیں امید کی جا رہی تھی کہ عدالت حسب سابق ایمان مزاری کو معصوم, جذباتی, نوجوان, خاتون, یا وکیل ہونے کریڈٹ دیکر کلین چیٹ نہیں دئیگی بلکہ اب کی دفعہ انہیں باقاعدہ قانون کے دائرہ میں لاکر ان سے بازپرس کی جائے گی اور آئین و قانون کے مطابق ایسی مثال قائم کی جائے گی, جس کے اثرات مثبت اور باوقار ہونگے, مگر فی الحال ایسا نہیں ہوا بلکہ ایمان مزاری کو محض ایک ہزار کے مچلکے کے عوض نو جون تک عبوری ضمانت مل گئی

    جیسے ہی ایمان مزاری پر ایف آئی آر  درج ہونے کی خبر آئی, ان کی جانب سے ایڈووکیٹ زینب جنجوعہ نے عبوری ضمانت کی درخواست عدالت میں پیش کی, جو فوری  منظور ہوگئی, جس کے تحت عدالت نے 9 جون تک ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روک دیا,بعض صحافتی حلقوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی پر اسلام آباد ہائیکورٹ کیطرف سے دی گئی ضمانت قانون کی خلاف ورزی ہے, ایف آئی آر ناقابل ضمانت، ناقابل مصالحت ہے۔ عام آدمی کی طرح افواج پاکستان بھی وطن عزیز کے نظام عدل سے انصاف کے حصول کی منتظر ہے

  • شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:کنول زہرا

    شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:کنول زہرا

    رواں ماہ کی اکیس تاریخ کواسلام آباد پولیس کی جانب سے نے پی ٹی آئی کی رہنما شریں مزاری کو تحویل میں لینے کی اطلاعات نیوز چینلز پر بریک کی شکل میں گردش کرتی رہیں, سابق خاتون وزیر کی گرفتاری زمین کی ملکیت اور منتقلی کی معاملے کے تحت پیش آئی, شریں مزاری کو دن کی روشنی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تاہم ان کی بیٹی کی جانب سے گرفتاری کے لمحات کو یکسر غلط طریقے سے پیش کیا گیا, ایمان مزاری کے مطابق ان کی والدہ کو مرد پولیس اہلکار مارتے پیٹٹے لیکر گئے جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہوا, جس کی تین بہت ٹھوس وجوہات ہیں, ایک تو شریں مزاری خاتون ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس قسم کی حرکات کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اس قسم کی جرات کر بھی نہیں سکتے ہیں, دوسرے وہ سینئر شہری ہیں, تیسری اور سب سے اہم وجہ وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں, ان تین اہم وجوہات کیں بنا پر پاکستان کا ہر فرد ان کی اور جیسی ہر خاتون کی بہت عزت کرتا ہے جبکہ اسلام خاتون کو مقدم کہتا ہے تو بطور مسلماں ایسا عمل کرنے ہر گز زیب نہیں دیتا ہے اور نہ ہی یہ عمل وقوع پذیر ہوا ہے جس کا واضح ثبوت وہ وائرل ویڈیو  ہے, جس میں شریں مزاری اسلام آباد پولیس کی خاتون اہلکار کی زیر حراست دیکھی جا سکتی ہیں, جس میں کوئی پرتشدد واقعہ ہوتا کہیں نہیں دیکھائی دے رہا ہے البتہ مزاری صاحبہ بہت غصے میں نظر آرہی ہیں, اس ویڈیو کے ذریعے ایمان مزاری کا جھوٹ بے نقاب ہوکر سامنے آیا ہے, پاکستان کے دفاعی ادارے پر بے جا تنقید کرنا ایمان مزاری کی ان عادات کا حصہ ہے جس سے ان کی والدہ بھی نالاں رہی ہیں,  ایمان مزاری نے اپنی والدہ کی گرفتاری پر حسب سابق ریاستی اداروں اور فوج کی قیادت کے خلاف بے بنیاد الزامات اور مفروضوں کی بارش شروع کردی اور کہنا شروع کردیا کہ نہ جانے کون میرے ماں کو لے گیا, پتہ نہیں وہ کہاں ہیں,  ایمان مزاری جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں انہوں نے ایکبار پھر پاک فوج کی قیادت پر بنا ثبوت کے الزام عائد کیا کہ ان کی والدہ کو اغوا کیا گیا ہے جس کے پیچھے عسکری قیادت کی اعلی شخصیت کا ہاتھ ہے جبکہ اس دوران مذکورہ ویڈیو بھی وائرل ہوچکی تھی اور اینٹی کرپشن کی جانب سے شریں مزاری کی گرفتاری کی تصدیق بھی ہوچکی تھی

    سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی گرفتاری ضلع راجن پور میں تجاوزات سے متعلق کیس کی وجہ سے عمل میں آئی, ان کے خاندان پر صوبائی دارالحکومت لاہور سے 400 کلومیٹر دور ڈی جی خان ڈسٹرکٹ میں 800 کنال (100 ایکڑ) اراضی ہتھیانے کا الزام ہے۔معتدد دہائیوں کی عدالتی تاخیر کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران مارچ 2022 میں اس معاملے میں پولیس کیس درج کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف 11 مارچ 2022 کو شکایت درج کر کے اسسٹنٹ کمشنر راجن پور کو معاملے کو دیکھنے کے لیے کہا گیا,  اے سی نے 8 اپریل 2022 کو کیس کی رپورٹ مرتب کی جس کی بنیاد پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اپنے رولز 2014 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا۔مقدمہ ڈپٹی کمشنر راجن پور کی درخواست پر درج کیا گیا۔ جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے ایف آئی آر درج کی۔

    عوام سے سچ چھپانے کی خواہش کی خاطر ایمان مزاری نے اپنی والدہ کی گرفتاری پر بے بنیاد جھوٹ پر جھوٹ بولے
    ماضی میں شریں مزاری نے ایمان مزاری کی جانب سے فوج پر بے ایمانی اور جھوٹے الزامات لگانے کو اپنے لئے ہتک آمیز  رویے کو قرار دیا تھا, انہؤں نے ایمان مزاری کے پاکستان آرمی کے خلاف ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ آپ ایسے گھٹیا، ذاتی نوعیت کے، غیر مصدقہ حملے کرتی ہیں,بطور وکیل آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کے الزامات لگانا مناسب نہیں ہے ۔

    23   مئی 2018 کو شیریں مزاری نے ایمان مزاری سے فوج کے خلاف اپنے بیانات پر کہا، "آپ کو پاک فوج کے خلاف اپنی جنونی نفرت کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے تمام عقلیت کھو دی ہے,  میں اپنی اولاد کے گستا خانہ روئیے کو  درست نہیں کہونگی مگر بعد میں انہوں نے اپنی بیٹی کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کی ایمان مزاری نے مارچ 2022 میں پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مسلح افواج کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔جس کا مقدمہ جکوہسار تھانے اسلام آباد میں مختلف الزامات کے تحت درج کیا گیا تھا،جس میں مجرمانہ سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع، ہتک عزت، امن کی خلاف ورزی اور حملہ کو اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین شامل تھیں تاہم لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کیس کی مزید پیروی نہ کرنے کا حکم دیا اور پولیس کو ہتک عزت کے الزام میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    مذکورہ کیس نے مزاری ماں اور بیٹی کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے, ان کا جھوٹ اور زمینوں پر قبضے کا معاملہ ان کے کمزور کردار اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ پاکستان کے عوام سوال کرتے ہیں کہ
    کیا ایمان مزاری کی طرف سے پاکستان کے معزز ادارے اور اس کی قیادت کو بدنام کرنے پر قانون حرکت میں آئے گا ؟
    پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ایمان مزاری کے ہتک آمیز ریمارکس کے خلاف مناسب تحقیقات ہونی چاہئیں

  • جمہوری احتجاج میں جمہور کا مفاد کہاں ؟تحریر: کنول زہرا

    جمہوری احتجاج میں جمہور کا مفاد کہاں ؟تحریر: کنول زہرا

    اس بات میں تو دو رائے ہیں ہی نہیں کہ  احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے تاہم احتجاج کی نوعیت کو  دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا یہ اجتجاج عوامی حقوق کی فراہمی کی خاطر ہے یا اقتدار کی رسائی کے لئے عوام کو استعمال کیا جارہا ہے, بد قسمتی سے کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی بھی احتجاج آج تک عوامی مسائل کے حل کے لئے نہیں کیا گیا بلکہ اقتدار کے ایوان میں براجمان ہونے کے لئے عوام کا وقت اور پیسہ ضائع کرایا گیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کا کبھی یہ موقف ہوتا تھا کہ حزب اختلاف کی جانب سے احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے مگر فیصلے سٹرکوں پر نہیں ہوتے ہیں,  شاہراہیں بلاک کرنے سے عوام کو تکلیف ہوگی, یہ عمران خان ہی تھے جو ملک کے اچھے امیج کی باتیں کیا کرتے تھے, کہا کرتے تھے, ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں تو صرف وزیراعظم آفس سے گھر اور گھر سے آفس آنے جانے کے لئے باہر نکلتا ہوں تاکہ عوام پریشان نہ ہو مگر جب سے ان کی حکومت گئی ہے, انہوں نے ملک کی سٹرکوں کو مسلسل بلاک کرنے کو اپنا جمہوری حق سمجھ لیا ہے جبکہ اس سے جمہور یعنی عوام کو شدید دقت کا سامنا ہو سکتا ہے, خان صاحب کو سوچنا چاہیں عوام کے اپنے بھی تو ذاتی کام ہوسکتے ہیں, آپ نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو ایسا کیا دیا کہ لوگ آپ کے خاطر تکالیف کو برداشت کریں, آپ کےساتھی شیخ رشید انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ہماری کارگردگی کی وجہ سے ہماری سیاست تو ختم ہوگی تھی, رجیم چینج نے عمران خان کو مقبول کیا, عمران خان بطور وزیراعظم نہ غربت کم کرسکے نہ ہی عوام کو روزگار دینے میں کامیاب ہوپائے,

    مہنگائی کم ہونے کی تاریخ بتا کر ہر بات نئی ڈیٹ دیکر عوام کا صبر آزماتے رہے تو پھر کیوں عوام سے یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے پھر سے اقتدار میں لاؤ, یہ ہی عمران خان تھے جو کہتے تھے کہ اگر میں کامیاب نہ ہوسکا تو سیاست چھوڑ دونگا تو جناب بتائیں اور ناکامی کسے کہتے ہیں آپ نے چار سال تک عوام کو صرف میٹھی گولی دی, ان کی امیدوں پر پانی پھیرا, پھر آپ کا ہی کہنا ہے کہ ہم کسی کے غلام نہیں ہیں تو جناب پھر کیوں عوام سے اپنی غلامی کروا رہے ہیں, کیا عوام آپ کے غلام ہیں کہ آپ ان کے لئے ان ہی سے سٹرکیں بند کروا کر اپنے اقتدار کا راستہ صاف کریں, کیا اس ملک کے نوجوان آپ کے نوکر ہیں کہ وہ آپ کے لئے موسم کی تمازت برداشت کرکے اپنا وقت برباد کریں,  آخر کیوں پاکستان کے عوام آپ کے لئے خوار ہو, صرف اس لئے کہ آپ دوبارہ اقتدار میں آکر اپنی بیگم کی سہیلی کو صوبہ پنجاب تحفے میں دیدیں, آپ کہتے ہیں کہ عوام قربانی کے لئے تیار ہوجائیں, کیوں کیا اس ملک کے عوام کا خون اتنا سستا ہے کہ آپ کے لئے بہایا جائے, خان صاحب آپ احتجاج کریں, بصد شوق کریں مگر ملک کی جڑوں کو کمزور مت کریں,  پاکستان کی سلامتی اور اس کا وقار آپ کے اقتدار سے بہت اہم ہے, آپ نے اس ملک کے چار سال اپنی ناتجربہ کاری کے تحت برباد کردئیے, آپ پہلے وزیراعظم بننے کے آداب سیکھیں, یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ واقعی معتبر ہیں, الله نے آپ کو بہت صلاحتیوں سے نوازا ہے, ان میں نکھار لائیں اپنے دماغ سے سوچ کر سب سے  ان لوگوں کو اپنے قریب کریں جو واقعی تحریک انصاف کے ہیں, امپورٹڈ حکومت نامنظور کہہ کر امپورٹڈ لوگوں کو اپنے سے دور کیجئے

    پاکستان ایک طویل عرصے سے مختلف مشکلات کا شکار ہے, عمران خان کے آنے سے عوام کو بہتری کی امید ہوئی تھی مگر وہ پورے نہ اترے شاید اسی لئے بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ان کے حق میں ثابت نہ ہوسکا چیئرمین تحریک انصاف نے حقیقی آزادی کے نعرے کے ساتھ25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے,ان کا دعوی ہے کہ وہ  25 لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع کریں گے اور جب تک حکومت انتخابات کا اعلان نہیں کر دیتی جب تک ان کا قیام اسلام آباد کی سٹرکوں پر ہی ہوگا
    بعض سیاسی حلقے عمران خان کی جانب سے مقررہ کردہ احتجاجی تاریخ پر حیران ہیں کہ آخر کیوں  25  مئی کی ہی تاریخ منتخب کی گئی جبکہ اس تاریخ کو بھارت کی حکومت مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک کو سزا سنانا چاہتی ہے, اس حوالے سے گذشتہ روز یاسین ملک کی کمسن بیٹی عمران خان سے گذارش بھی کرچکی ہے کہ عمران انکل اپنے لانگ مارچ کی ڈیٹ آگے کرلیں اور  25  مئی کو میرے بابا کے حق میں آواز بلند کریں,25  مئی کو ہی پاکستان کے معاشی بحالی کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہونگے اور عمران خان مجھے اقتدار میں واپس لاو کا اسٹیج سجا رہے ہونگے

    پاکستان جس کے بہت سے ایشوز ہیں, جیسے کہ ممکنہ معاشی, اور  غذائی بحران کا خدشہ, غربت اور بے روزگاری کے مسائل, موسمی تبدیلی کے معاملات, قلت آب, بچوں اور خواتین پر تیزی سے بڑھتے پرتشدد واقعات سمیت دیگر بنیادی اور معاشرتی مسائل جن کا فوری حل ضروری ہے مگر ہمارے یہاں ان خالصتا عوامی مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا, بلکہ اقتدار میں رہنے دو, اقتدار میں لیکر آؤ کے مفادات پرست موضوعات پر عوام کی بنیادی ضروریات کا مذاق اڑایا جاتا ہے.

  • عمران خان کی معاشی ٹیم کی ناتجربہ کاری، رل گئی عوام بیچاری

    عمران خان کی معاشی ٹیم کی ناتجربہ کاری، رل گئی عوام بیچاری

    سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں اکثر کہا کرتے تھے میں سیاسی مخالفین کو رلاؤں گا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کی معاشی ٹیم نے اعداد وشمار کے ایسے گورکھ دھندے میں عوام کو الجھائے رکھا کہ آج غریب آدمی ناکوں چبانے پر مجبور ہوچکا ہے ،عمران خان ملک کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم کا اعزاز حاصل ہے کہ جن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی، کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج معاشی محاذ ہوا کرتا ہے مگر عمران خان کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا کہ وہ ملک کی معیشت کی کایا پلٹ دیں گے، مرجائیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، قرضے کم کریں گے، مہنگائی کا خاتمہ کریں گے مگر وقت نے ثابت کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان کے تمام دعوے بس نعروں کی حدتک محدود تھے۔ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے عمران خان کے دعوے
    پاکستانی روپے کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ، مہنگائی سے لے کر قرضوں کے حجم میں اضافے تک کئی معاشی چیلنجز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور عمران خان نے اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے ساڑھے تین سال کے عرصہ میں وزیر خزانہ اسد عمر, حفیظ شیخ اور شوکت ترین کی صورت میں تین وزرائے خزانہ بدل ڈالے۔

    عمران خان حکومت کی معاشی پالیسیوں اور گورننس کا بہت بُرا حال اور ہر گزرتے دن کے ساتھ معاملات خراب سے خراب رہے خان صاحب کہا کرتے تھے کہ میں انہیں رُلائوں گا۔ اُن کا مقصد اپنے سیاسی مخالفین کو رلانا تھا لیکن ساتھ ساتھ عوام کو بھی بری طرح رلایا خان صاحب نے جو وعدے کیے تھے، برسر اقتدار آنے کے بعد حقیقت میں سب اُس کے برعکس کیا اور عام آدمی کے لئے معاشی صورتحال ایک ڈراؤنے خواب کی سی رہی، ملکی معیشت پر بات کریں تو سوچ کے دماغ کی شریانیں پھٹنے لگتی ہیں کہ پاکستان کا کیا بنے گا اور اگر اس اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی پاور کا معاشی طور پر گراوٹ کا یہ سفر اسی تیزی سے جاری رہا تو ہماری کیا حالت ہو گی؟ تبدیلی والوں کی حکومت آنے کے بعد تو مہنگائی کم ہونی چاہئے تھی، گیس بجلی، پٹرول سستا ہونا چاہے تھا لیکن ایسا کیا ہوا کہ چور ڈاکو چلے بھی گئے لیکن تبدیلی والے ’’ایمانداروں‘‘ نے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ غریب غریب تر ہو گیا، غربت پہلے سے بڑھ گئی، نوکریاں ملنے کی بجائے ہاتھ سے جانے لگیں۔ جب ملکی معیشت کی بات کریں تو قرضے پاکستان کی تاریخ میں اتنے نہیں بڑھے جتنے پی ٹی آئی کی حکومت کے ساڑھے تین برسوں میں بڑھ چکے تھےسابق وزیر اعظم عمران خان کے مطابق معاشی حالات بہتر ہو چکے تھے لیکن پھر کورونا کی وبا آئی اور عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا۔وزیر اعظم نے یکم اپریل کو ایک ٹی وی انٹرویو میں حکومت کی معاشی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے شہباز شریف آ کر کیا کرے گا؟ سارے خطے میں سب سے سستا پٹرول ہم بیچ رہے ہیں، ہم نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا۔ سب سے زیادہ بر آمدات اور ترسیلات زر ہمارے دور میں ہوئیں۔اور حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کے دور میں ریکارڈ نوکریاں پیدا ہوئیں۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کے لیبر فورس سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران55 لاکھ نوکریاں پیدا ہوئیں یعنی ہر سال 18 لاکھ نوکریاں پیدا ہوئیں۔لیکن پاکستان کے سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کا خاتمہ قریب ہو تو اس وقت ایسا دعویٰ سیاسی طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے کیا جاتا ہے تاہم اس وقت حقائق سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت اقتصادی شرح نمو کو جیسے زیادہ پیش کر رہی ہے اور افراطِ زر کو کم سطح پر دکھا رہی ہے اسی طرح حکومت زیادہ ملازمتوں کے پیدا ہونے کو بھی اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہےتحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیاں مجموعی طور پر انتظامی ناکامی اور نا اہلی کا شکار رہیں۔ ‘بنیادی معاشی اعشاریے وہی ہیں جو چالیس سال سے چلے آ رہے ہیں، ان میں کوئی بہتری نہیں ہوئی۔انتظامی ناکامی کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘جب مانگ میں اضافہ ہونا تھا تو کہا گیا کہ جو باہر سے کارگو آنا تھا وہ نہیں آ رہا جس سے بحران شدید ہو گیا تحریک انصاف نے کسی بھی گذشتہ حکومت کے مقابلے میں سب سے زیادہ قرضے لیے۔ ‘یہ ان کی مجبوری بھی تھی، کیوں کہ پہلے سے لیے جانے والے قرضوں کی واپسی کے لیے اور پیسہ چاہیے اور اب آنے والی کو ان سے بھی زیادہ قرضہ لینا پڑے گا کیوں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ قرضوں سے ہی ملک چلے گا

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2007-08 کے اختتام سے مالی سال 2017-18 کے اختتام تک پاکستان کے کُل قرض میں 49 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور وہ 46.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 95.2 ارب ڈالر ہو گیا۔ بظاہر تو یہ سو فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔

    اس 49 ارب ڈالر میں سے پیپلزپارٹی کے دور میں یعنی 2008 سے 2013 کے درمیان 14.7 ارب ڈالر جبکہ سال مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں 34.3 ارب ڈالر قرض لیا گیا جبکہ وزارت اقتصادی امور کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کا حجم گزشتہ ساڑھے 3 سالوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے جو مالی سال 2019 میں 10 ارب 59 کروڑ ڈالر سے مالی سال 2020 میں 10 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچا اور پھر مالی سال 2021 میں 14 ارب 28 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا اور اس کے بعد رواں مالی سال کے پہلے 7 مہینوں میں 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا وفاقی بجٹ 22-2021 میں غیر ملکی قرضوں کے لیے سالانہ بجٹ کا ہدف 14.088 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا اور حکومت نے پہلے 7 ماہ میں 12.022 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔

    عمران خان کی حکومت نے مالی سال 2021 میں کُل 14 ارب 30 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ کے 43 ماہ کے دوران بیرونی ذرائع (پاکستانیوں کے علاوہ) سے مجموعی غیر ملکی قرضہ 47 ارب 55 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا
    پی ٹی آئی حکومت نے اپنے اس دور حکومت میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیے اور سب سے زیادہ کرپشن کی گئی پنجاب میں عثمان بزدار کی کرپشن سے کون واقف نہیں ہے اب پتہ چلتا ہے کہ عمران خان جو ہمیشہ کہتے تھے کہ "سب سے پہلے گھبرانا نہیں ہے "وہ سیاستدانوں کےلیے تھا کہ کرپشن کرو موج کرو گھبراو نہیں” اور دوسرا مشہور جملہ بولتے تھے کہ "میں انکو رلاونگا اصل میں وہ سیاستدانوں کو نہیں بلکہ عوام کو رلانے کی بات کیا کرتے تھے، دیر آید درست آید کے مصداق اب عام آدمی بھی سمجھ چکا ہے کہ عمران خان کے پاس محض نعروں، دعووں اور وعدوں کے سوا عوام کو دینے اور ڈیلیور کرنے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں۔

  • یوٹرن کا بے تاج بادشاہ

    یوٹرن کا بے تاج بادشاہ

    یوٹرن کابے تاج بادشاہ

    قیام پاکستان کے بعد سے ملک کی سیاست میں کافی نشیب و فراز آئے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں ملک کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے اور عام آدمی کے شب وروز بدلنے کے لئے بیشتر سیاسی جماعتوں نے سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے محض بلندوبانگ نعروں اور وعدے وعیدوں پر ہی اکتفا کرنا مناسب سمجھا جس کے نتیجے میں عام پاکستانی کے لئے ترقی و خوشحالی محض ایک سہانا خواب ہی رہا۔
    2018ء کے انتخابات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کامیابی حاصل کرکے ملک کا اقتدار سنبھالا، یہ اقتدار عمران خان کی 23 سالہ سیاسی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔عمران خان نے 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھتے ہوئے سیاست کا آغاز کیا تو انہوں نے ملک میں نوجوان اور متوسط طبقے کی قیادت کو سامنے لانے اور ملک میں تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا تھا، اس کے علاوہ عمران خان سیاست کے آغاز سے ہی ملک کی نام نہاد اشرافیہ کے اقتدار میں آنے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں ‘باریاں’ لگانے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
    سابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی کچھ ایسے اقدامات کئے جو ان کے برسوں کے سیاسی کیریئر کے دوران کئے گئے اعلانات اور بیانات سے متصادم تھے، ابتدا میں ناقدین نے ان اقدامات کو عمران خان کا واضح یو ٹرن قرار دیا اور بعد ازاں عمران خان نے خود تسلیم کیا کہ ان کی جانب سے مذکورہ معاملات میں یو ٹرن لینا ملک و قوم کے مفاد میں تھا اور ایسا انہوں نے جان بوجھ کر کیا۔وہ ہمیشہ اپنے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے اور متعدد بار کہا کہ یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا، تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی، عمران خان کے مذکورہ بیان کے بعد ان پر مخالفین کی تنقید میں اضافہ ہوا۔
    عمران خان نے اپنے یوٹرن بیانات سے نئی سیاست کا آغاز کیا اور یہ ثابت کردیا کہ لیڈر اپنی بات سے "پھر” بھی سکتا ہے اور سیاسی لیڈر کے قول وفعل میں تضاد معمول کا حصہ ہے۔

    ماضی کا ذکر کیا جائے توعمران خان کے بہت سے ایسے یوٹرن ہیں، جواخبارات کی شہہ شرخیوں کا حصہ بنے، ذیل میں اسی سے پیوستہ کچھ ایسے ہی شاہکار یوٹرن کا مختصر احوال آپ کی یاد دہانی کیلئے پیش کیا جا رہا ہے، بس پڑھتے جائیں اور سر پیٹتے جائیں۔جی ہاں عمران خان کے منظور نظر اور ق لیگ کے سینئر رہنما پرویز الہی کے بارے میں عمران خان نے ایک زمانے میں یہ فرمایا تھا کہ پرویز الہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے،عمران خان نے یوٹرن لیتے ہوئے نہ صرف اس ڈاکو کوپنجاب اسمبلی کا اسپیکر بنادیا بلکہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد بھی کردیا۔ عمران خان کا کہتا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخارچوہدری اس ملک کی امید ہیں، تاہم اختلافات سامنے آنے پر وہ اپنے بیان سے ہی دستبردار ہوگئے اور اس پریوٹرن لیتے ہوئے کہاکہ افتخار چوہدری بھی دھاندلی زدہ اور کرپشن میں ملوث ہیں۔ایک وقت تھا جب عمران خان کہتا تھا کہ میں شیخ رشید جیسے شخص کو اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں ،اس پر خان صاحب نے یوٹرن لیاپھراسی شیخ رشید کو پہلے وفاقی وزیرریلوے اور اس کے بعدوزیرداخلہ بنادیا۔سال 2013 کے انتخابات کے تناظر میں عمران خان نے نجم سیٹھی پر پینتیس پنکچر کا الزام لگایاتھالیکن بعد میں یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی بیان تھا۔عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ میں وزیر اعظم بن گیا تو کسی سے بھیک نہیں مانگوں گا اور اگر ایسا کیا تو خودکشی کرلوں گا، تاہم اس پرعمران خان نے یوٹرن لیا اورپاکستان کوعالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے شکنجے میں کس دیا۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہاتھاکہ پیٹرول، گیس، بجلی سستی کروں گا ،جبکہ یوٹرن کی بدولت پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کیا گیا،انہوں نے میٹروبس کوجنگلہ بس کہاتھااورکہاتھاکہ میٹرو بس نہیں بنائوں گا ،عمران خان نے اپنے اعلان کے برعکس یوٹرن لیکر پشاور میں ایسی ہی ایک بس سروس بناڈالی،انہوں ارشادفرمایاتھاکہ ڈالر مہنگا نہیں کروں گا پی ٹی آئی کی حکومت میں روپے کی بے قدری ہوئی اور ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہواجواس وقت دوسوروپے سے بھی تجاوزکرچکاہے۔ خیر عمران خان صاحب کی معاشی تباہ کاریوں پر لکھنے کو تو الگ کالم درکار ہے یہاں بات کرلیتے ہیں یوٹرن کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے یو ٹرن کی توصیف میں آسمان کے تارے توڑ لانے سے قطع نظر یو ٹرن لغوی اور سماجی لحاظ سے احمقانہ عمل ہوتا ہے اور کمزور ذہن کے جذباتی فیصلوں کے بعد کسی بڑی مصیبت سے ڈر کر اپنے کہے سے پھر جانے اور قول وفعل کے تضاد کو کہتے ہیں۔ اس کو کسی بھی صورت ایک اچھی صفت قرار نہیں دیا جا سکتا مگر کیا کیجئے کہ نیا دور ہے،ہماری سیاست میں نئی اخلاقیات مرتب ہو چکی ہیں، بات کے جواب میں گالی دینا سیاست کا بنیادی اصول بن چکا ہے۔ دلیل سے بات کرنے والے کو احمق کہا جاتا ہے اور مہذب شخص کو بزدل کہا جانے لگا ہے۔ سیاست کے میدان میں فوٹو شاپ کے ذریعے کئے گئے کمالات ترقی اور یو ٹرن، نظریۂ ضرورت کے بعد اگلا نظریہ ٹھہرا۔ مان لیا، اس کے علاوہ چارہ ہی کیا ہے؟ پچھلے کئی سالو ں سے مانتے ہی آرہے ہیں۔

  • تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سری لنکا کی طرح پاکستان انتہائی چارجڈ سیاسی ماحول اور معاشی بحران کے درمیان دیوالیہ ہونے کی راہ پر گامزن ہے جس کا ملک کو کبھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پاکستان کے لئے مجموعی بیرونی قرضہ 32.74536 امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت نے قدم اٹھانے پر مالی اعانت میں مشکلات کو کم کرنے میں مدد کے لئے اپنے 6 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کی فنڈنگ کے حجم اور مدت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے چین، برادر اسلامی ملک سعودی عرب ا ور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 9.2 ارب ڈالر کا قرض بھی لیا ہے ۔

    اس سے قبل مملکت سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کی درآمدات کے لئے موخر ادائیگیوں کے لئے 3 ارب ڈالر کی سہولت کے ساتھ 3 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کی معاونت بھی دی تھی۔ سرکلر ڈیٹ کا موجودہ اسٹاک 5 ٹریلین روپے (14 ارب ڈالر) کے آس پاس ہے۔ پاکستان کو دسمبر 2018 میں متحدہ عرب امارات سے 3 ارب ڈالر کی اقتصادی امداد بھی ملی تھی جبکہ مارچ 2019 میں آل ویدر دوست ملک چین نے 2.2 ارب ڈالر کا قرض دیا تھا۔ چین بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے تحت پاکستان میں 60 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔

    تمباکو عالمی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابقق پنے آدھے صارفین کو ہلاک کرتا ہے۔ تمباکو کا استعمال دنیا میں موت کی واحد سب سے بڑی قابل روک تھام وجہ ہے جس میں ہر سال ٨٠ لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ 70 لاکھ سے زائد اموات تمباکو کے استعمال کے براہ راست نتائج کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ 12 لاکھ اموات سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں تمباکو ہر سال تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار 100 افراد کی موت کا سبب ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو تمباکو کی صنعت نشانہ بنائے جا رہی ہے تاکہ "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کو بھرتی کیا جا سکے۔ 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریبا 1200 پاکستانی بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔
    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے کے مطابق 2014 میں تقریبا 24 ملین (19.1 فیصد) بالغ اس وقت کسی بھی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اس میں 15.6 ملین (12.4 فیصد) بالغ افراد ہیں جو اس وقت تمباکو پیتے ہیں جن میں 3.7 ملین بالغ افراد پانی کے پائپ، ہکا یا شیشا استعمال کرتے ہیں اور مزید 9.6 ملین (7.7 فیصد) بالغ ہیں جو بغیر دھوئیں کے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں میں غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماری پیدا ہونے کا امکان دو سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود تمباکو کی نمائش کی کم سطح، غیر معمولی تمباکو نوشی یا سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کے ساتھ، ناکافی دل کی صحت کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ مرد تمباکو نوشی کرنے والوں میں پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا امکان 23 گنا زیادہ ہوتا ہے اور تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کے امکانات غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر سے 80-90 فیصد اموات کا سبب بنتی ہے۔
    آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 207.77 ملین اور آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء تھی۔ جس سے ملک میں نوجوانوں کی کافی زیادہ تعداد ظاہر ہوئی ہے۔

    پاکستان میں ہر سال 14 لاکھ افراد صرف سگریٹ، شہری ہکہ / شیشہ / الیکٹرک ویپس، گٹکا، پین، میوا، نسوار وغیرہ کی وجہ سے منہ کے کینسر سے متاثر ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق کینسر کے 100 کیسز میں سے کم از کم 4 کیسز پاکستان میں منہ کے کینسر کے ہیں۔ جب ہم زبانی سرطان کے بارے میں بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے جو بات ذہن میں آتی ہے وہ تمباکو نوشی ہے۔ پاکستان میں جہاںایگلر فوڈ اور دیگر استعمال کی اشیاء گزشتہ پانچ سالوں میں اوسطا 60 سے 80 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، بدقسمتی سے سگریٹ کے ایک پیکٹ کی کم از کم قیمت یکساں رہی۔

    انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ اینڈ پالیسی یو آئی سی کی جانب سے شائع کردہ تمباکو اکنامکس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی اور کمی نہیں کی جا سکی ، پاکستان ٹوبیکونومیکس سگریٹ ٹیکس اسکور کارڈ میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممالک میں شامل ہے جو ٹیکس نظام کی طاقت کا جائزہ لیتا ہے، مجموعی طور پر ٹیکس نظام کا اسکور پانچ نکاتی پیمانے پر ایک سے بھی کم ہے۔

    بدقسمتی سے پاکستان میں سگریٹ زیادہ سستے ہوگئے ہیں کیونکہ تمباکو کے ٹیکس کم ہیں اور جولائی ٢٠١٩ کے بعد سے اس میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں ایکسائز ٹیکس کی اوسط شرح اس وقت خوردہ قیمت کا تقریبا 45 فیصد ہے جو کہ 70 فیصد کے وسیع پیمانے پر قبول شدہ بینچ مارک کے مقابلے میں ہے۔ عالمی بینک کی سفارش کے مطابق سگریٹ پر وفاقی ایکسائز ٹیکس وں کو 30 فیصد تک ختم کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے کم ہوں گے اور ایکسائز ٹیکس کی آمدنی میں کم از کم 25 فیصد اضافہ ہوگا۔

    لہذا عالمی بینک کی سفارش کی تعمیل میں پاکستان میں موجودہ ٹیکس کے تناسب کا 30 فیصد بڑھانے کا مطلب ہےکہ ؛ سگریٹ پر تمباکو ایکسائز 43 روپے اور زیادہ قیمت والے سگریٹ پر 135 روپے تک فروخت کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے، تمباکو نوشی کے پھیلاؤ میں 1.2 فیصد کمی، بالغ تمباکو نوشی کرنے والوں میں تمباکو نوشی کی شدت میں 1.23 فیصد کمی، 71 ہزار 900 جانیں بچگئیں، پاک کو اضافی کل فیڈ آمدنی میں 27.4 ارب روپے کا اضافہ ہوگا یعنی کم از کم 25.1 فیصد اضافہ

    حال ہی میں پی آئی ڈی ای کی جانب سے جاری کردہ "پاکستان میں تمباکو سے متاثرہ بیماریوں کی اقتصادی لاگت” چونکا دینے والے اور آنکھیں کھولنے والے اعداد و شمار سے پردہ اٹھاتی ہے۔ پاکستان میں 2019 ء کے لئے تمباکو نوشی سے متعلق تمام بیماریوں اور اموات کی وجہ سے مجموعی اخراجات 615.07 ارب روپے (3.85 ارب ڈالر) ہیں۔ یہ تعداد تمباکو کی صنعت سے پاکستان میں موصول ہونے والے تمباکو ٹیکس سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے اخراجات کا ایک بڑا حصہ (71 فیصد) کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں سے آتا ہے۔ تمباکو نوشی سے منسوب کل اخراجات جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہیں جبکہ کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں کے تمباکو نوشی سے منسوب اخراجات جی ڈی پی کا 1.15 فیصد ہیں”۔

    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ٹیکس تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہیں۔ تمباکو کا استعمال بڑے پیمانے پر آبادی پر کافی معاشی بوجھ پیدا کرتا ہے۔ تمباکو سے متعلق بیماری سے منسلک صحت کے زیادہ براہ راست اخراجات اور قبل از وقت جانی نقصان، تمباکو سے متعلق بیماری کی وجہ سے معذوری اور پیداواری نقصانات سے متعلق زیادہ بالواسطہ اخراجات تمباکو کے استعمال کی نمایاں منفی خارجیت پیدا کرتے ہیں۔

    لہٰذا یہ ایک قائم شدہ حقیقت ہے کہ "تمباکو کے ٹیکسوں میں اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کمی آتی ہے۔” درحقیقت تمباکو پر ٹیکس بڑھانا تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ جیسا کہ ایف سی ٹی سی نے تقویت دی ہے کہ "مؤثر تمباکو ٹیکس نہ صرف کم کرتے ہیں ،کھپت اور پھیلاؤ میں کمی کے ذریعے خارجیت لیکن تمباکو کے استعمال سے وابستہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کے لئے حکومتوں کے اخراجات میں کمی لانے میں بھی معاون ہے۔ ”

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔
    یہ سفارشات تکنیکی گواہی، بہترین طریقوں اور ان ممالک کی تفہیم پر مبنی ہیں جنہوں نے تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کو ان طریقوں سے موثر طریقے سے نافذ کیا ہے جن سے ان کے عوام کی صحت بہتر ہوئی ہے۔ ایف سی ٹی سی کا آرٹیکل ٦ رکن ممالک کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لئے ٹیکس اور قیمتوں کی پالیسیاں اپنانے کا پابند کرتا ہے۔ قیمتیں سگریٹ کے استعمال کے اقدامات سمیت عملا تمام اجناس کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سے فی کس کھپت، تمباکو نوشی کی شرح اور روزانہ سگریٹ پینے والوں کی تعداد بھی متاثر ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹیجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org

    مصنف وزارت قومی صحت پاکستان کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • دبئی میں ناقابل یقین حد تک مہنگی اشیاء

    دبئی میں ناقابل یقین حد تک مہنگی اشیاء

    دبئی میں ناقابل یقین حد تک مہنگی اشیاء

    گزشتہ چند دہائیوں کے دوران، دبئی شہر دنیا کے سب سے زیادہ تعمیراتی اور تکنیکی لحاظ سے ترقی یافتہ شہروں میں سے ایک بن گیا ہے۔دبئی مشہور ویکیشنرز جیسے رابرٹ ڈی نیرو، کارداشیئنز، اور وہاں موجود ہر انسٹاگرام پر اثر انداز کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ شہر، جس کی جی ڈی پی $108 بلین ہے، ریزورٹس، میرین لائف پارکس، فلک بوس عمارتوں اور مصنوعی جزیروں جیسے پرکشش مقامات کی وجہ سے انتہائی مشہور ہو چکا ہے۔

    دبئی میں ایسی بہت سی چیزیں ہیں جنکو کئی لوگ نہیں خرید پا رہے، دبئی میں زندگی کی چھپی تمام خوشیاں مل سکتی ہیں، دبئی میں ناقابل یقین حد تک مہنگی چیزیں سامنے آئی ہیں

    1. پانی کی کاریں
    تخمینہ قیمت: $135,000*
    تیار کردہ: واٹر کار

    اگرچہ واٹر کار ایک امریکی کمپنی کی ہے لیکن یہ دبئی میں مقبول ہے۔ واٹر کار لگژری ایمفیبیئس کاریں بنانے اور تیار کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔ کمپنی کی بنیاد 1999 میں ڈیو مارچ نے رکھی تھی، جو 1960 کی دہائی کی ایمفی کار سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اس نے واٹر کار تیار کی۔پہلی کمرشل واٹر کار عوام کے لیے 2013 میں دستیاب ہوئی ، دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد المکتوم کے پاس چھ ماڈل کاریں ہیں۔ یہ کاریں پانی میں صرف 10 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے، پہیے ہائیڈرولک آف روڈ سسپنشن کے ذریعے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

    زیر سمندر ہوٹل
    تخمینہ قیمت: $6,295 فی رات*
    تیار کردہ: اٹلانٹس، دی پام، دبئی

    دبئی زیادہ تر اپنی اونچی عمارتوں کے لیے جانا جاتا ہے، دبئی میں کئی ہوٹل بھی ہیں جو اپنے مہمانوں کو زیر سمندر ہوٹل کے کمروں میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ عام طور پر ایمبیسیڈر لیگون میں واقع ہے، زیر آب سویٹس میں سے سب سے مشہور اٹلانٹس، دی پام میں واقع ہیں۔

    "Neptune” اور "Poseidon”، دو مناسب طور پر پانی کے اندر سوئٹ ہیں جو اٹلانٹس، دی پام، دبئی میں واقع ہیں اگر آپ پانی کے اندر ہوٹل میں رہنا چاہتے ہیں، تو کچھ رقم خرچ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ پانی کے اندر دبئی ہوٹل میں قیام کے لیے کم از کم $314 فی رات خرچ ہوتے ہیں، جو کہ ریاستوں کے کچھ بہترین ہوٹلوں سے بھی زیادہ مہنگے ہیں۔ پانی کے اندر کے کچھ انتہائی پرتعیش ہوٹلوں میں قیام کی قیمت صرف ایک رات کے لیے $25,000 تک بھی ہو سکتی ہے۔

    3. روبوٹک اونٹ ریسرز
    تخمینہ قیمت: $500/روبوٹ جاکی*
    تیار کردہ: مختلف مقامی دکانیں۔

    2004 سے پہلے، متحدہ عرب امارات میں اونٹوں کی دوڑ میں انسانی حقوق کے مسائل کی بہتات تھی جس میں مذکورہ ریس کے لیے چھوٹے بچوں کو استعمال کرنا شامل تھا۔ ایمریٹس کا جواب یہ تھا کہ 2004 میں تمام انسانی جاکیوں کے استعمال پر پابندی لگا دی جائے اور ان کی جگہ روبوٹس لے جائیں۔یہ روبوٹ ایلومینیم سے بنے ہوئے ہیں اور یہ اونٹ کے دل کی دھڑکن اور دوڑنے کی رفتار کو ریس ٹیم تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں روبوٹک اونٹوں میں بہت زیادہ تبدیلیاں کی گئی ہیں اگرچہ ترقی کا آغاز 2001 میں ہوا، لیکن پہلی ریس ہونے میں چار سال لگے۔ سخت صحرائی خطوں اور گرم موسم سے بچنے کے لیے روبوٹ کو تبدیل کرنا پڑا۔

    4. کاروں کے لیے ہیلی کاپٹر ٹیکسی۔
    تخمینہ قدر: نامعلوم
    تیار کردہ: نامعلوم

    اگر دنیا بھر کے آٹوموبائل ڈرائیوروں میں ایک چیز مشترک ہے تو وہ بمپر ٹو بمپر ٹریفک میں پھنسنے پر وہ مایوسی محسوس کرتے ہیں۔ کچھ چیزیں ڈرائیور کے گیئرز کو اپنے سامنے گاڑی کے پچھلے بمپر کو گھنٹوں تک گھورنے سے زیادہ پیس دیتی ہیں۔ دبئی میں، انہیں ٹریفک کے تمام مسائل کا جواب مل گیا ہے۔

    ہیلی کاپٹر ٹیکسیاں دبئی کے آسمانوں پر اڑتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں، جو امیروں اور مشہور لوگوں کی گاڑیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔ جو لوگ برج خلیفہ میں رہتے ہیں وہ ان ہیلی کار ٹیکسیوں کو شہر بھر میں مستقل طور پر اڑتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔یہ منصوبہ 2017 میں شروع ہوا، ایک جرمن سٹارٹ اپ کی بدولت، جس نے دنیا کی پہلی ہوائی ٹیکسی سروس بننے پر دستخط کیے تھے۔

    . لیمبوروگھینی پولیس کاریں۔
    تخمینہ قیمت: $545,000*
    تیار کردہ: لیمبورگینی

    دبئی میں اشرافیہ کی گاڑیوں کی بڑی تعداد کی وجہ ضرورت سے زیادہ خوشی ہے ، پولیس افسران کو بھی اسٹائل میں گھومتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ دبئی میں پولیس کو فیراریس، بگاٹیس اور لیمبوروگھینی میں سڑکوں پر گشت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔Lamborghini Aventador ایک پولیس گاڑی ہے 3 سیکنڈ میں 0-60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے جانے اور تقریباً 220 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے نکلنے کی صلاحیت کے ساتھ، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ دبئی میں ڈرائیوروں کی جانب سے قانون سے بالاتر ہونے کی کوششیں کیوں بہت کم ہیں۔ ایک ویب سائٹ کے مطابق، ٹکٹ کی قیمت معمولی رفتار کے لیے $273 سے لے کر کسی بڑی چیز کے لیے $800 سے زیادہ ہے۔