Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہفتہ کی رات تھی اور ایک بہت بہترین پروگرام کا انعقاد کیا گیا (کراچی میڈیا کلب) کی جانب سے انہوں نے اس پروگرام کو نام دیا (Digital Media Summit 2022)
    اب دیکھا جائے تو یہ ایک بہت اہم ٹاپک ہے اس وقت ڈسکس کرنے کےلئے کیوں کہ اس وقت ہر کسی کہ ہاتھ میں سمارٹ موبائل فون آگئے ہیں پر ہمیں اس کا استعمال ٹھیک سے نہیں آیا اسی پروگرام میں ایک پینل اسپیکر نے موبائل کو Gun کا نام دیا پر میں کہتا ہوں یہ Gun سے زیادہ خطرناک ہے آپ اپنے فون کا کیمرہ آن کریں کسی کی بھی ویڈیو یا تصویر بنائے اور پوسٹ کر دیں کہ اس نے گستاخی کی آپ دیکھیں کتنے لوگ قتل ہو جائیں گی اس کو کہا جاتا ہے Fifth war Generation اب آپ کو پستول نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی بس آپکی ایک پوسٹ جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ میں نے جس پروگرام کا زکر کیا اس کا مقصد ہی یہی تھا کہ ہمارے پاس موبائل فونز تو آگئے پر ہم انکا صحیح استعمال کیسے کریں؟

    یہاں پر پروگرام کے مینجمنٹ نے ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے مختلف اسپیکر بلائے جن میں صحافی، پروگرامر، مشہور یوٹیوبر اور اسلام 360 کے Founder بھی موجود تھے تو وہاں ایک بات جو سب سے زیادہ ہوئی وہ یہ تھی کہ ہماری نوجوان نسل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کسی مشہور اچھے یوٹیوبر کو دیکھ لیا وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کی ویڈیوز بناتا ہے اور اپلوڈ کرتا ہے تو اچھے کما بھی لیتا ہے چلو اب ہم کہتے ہیں کہ میں اس کی طرح کی ویڈیوز بنائوں پھر آپ کوئی اور یوٹیوب چینل دیکھتے ہیں یا پھر کسی Web Developer کو دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی کورس کریں اور پیسہ کمائیں ہمارے اسٹوڈنٹس پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں کامرس میں ڈپلومہ کر رہے ہوتے ہیں (Graphic Design) کا مطلب پڑھائی وہ کرتا اکائونٹن کی اور پھر مارکیٹ میں بیٹھ کر ڈیزائننگ کر رہے ہوتے ہیں ہم اپنا ٹارگٹ کلیئر نہیں کرتے ڈگری ہماری کچھ اور کام کچھ اور، زائد چھیپا بانی Islam360 انہوں نے وہاں موجود اسٹوڈنٹس سے کہا کہ پروگرامنگ کریں بہت بڑا اسکوپ ہے آپ کو کسی کہ پاس جانے کی ضرورت نہیں لوگ آئیں گے آپکے پاس آپکی (CV) لینے۔

    اگر آپ آج عام زندگی میں دیکھیں تو ہماری نوجوان نسل بربادی کی جانب بڑھ رہی ہے، کوئی نشے کی لت میں کوئی لڑکیوں کے چکر میں اپنی زندگی میں آگے جاکر کیا کرنا ہے کیا نہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں بس ایک بات آپ انکے منہ سے زیادہ سنیں گے اور وہ ہوگی یار کوئی اچھی نوکری مل جائے اچھی تنخواہ ہو یہ ہو وہ ہو۔ اب جب وقت ہے کچھ بننے کا کچھ کرنے کا تو ہماری آدھی سے زیادہ نوجوان نسل پیار میں ہیں کچھ محبت میں ہارے ہوئے نشے کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور جو کچھ بچے کچے ہیں وہ پب جی، ٹک ٹاک وغیرہ وغیرہ میں اپنا وقت اور اپنی صلاحیت دونوں برباد کر رہے ہیں، اب اگر ہم بات کریں کہ ہماری نسلیں اس طرف اتنی تیزی سے کیوں جا رہی ہے تو اس میں سب سے بڑی وجہ میں کہتا ہوں وہ ہمارے اسکول سسٹم کی ہے، ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ میٹرک پاس لڑکے آج آپکو مختلف سکولوں کے پرنسپل نظر آئیں گے، پھر ان سکولوں میں تعلیم کے نام پر ایک بہت بڑا بزنس چل رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی یونیورسٹی میں چلے جائیں وہاں آپکو ایسا ماحول ملے گا آپ تصور نہیں کر سکتے کہ آپ کسی اسلامی جمہوریہ یا ایسے ملک کی یونیورسٹی میں جو بنا ہی لا اللّٰہ اللہ محمد رسول کی بنیاد پر ہے۔

  • کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ قبضے کی جنگ ہے !تحریر : صیاب بیگ

    کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ قبضے کی جنگ ہے !تحریر : صیاب بیگ

    5 جنوری ایوان صدر اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس کی جانب سے 29 سال سے انڈیا میں قید حریت رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی تقریب رونمائی کی گئی ۔جس میں صدر پاکستان ، کشمیر کمیٹی کے چئیرمین شہریار خان آفریدی، علی محمد خان ، دیگر ایم این ایز، ایم پی ایز، صحافی حضرات اور مجھ سمیت سینکڑوں کشمیری و پاکستانی نوجوانوں نے شرکت کی ۔ تقریب میں ڈاکٹر قاسم فکتو کے صاحبزادہ احمد بن قاسم نے مسلئہ کشمیر کو آسان الفاظ میں بیان کیا جس کو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے اور پورا ایوان تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا اور احمد بن قاسم کا پورے ایوان نے کھڑے ہوکراستقبال کیا۔ احمد بن قاسم کا کہنا تھا کہ ” ہمارا مسلئہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مہم نہیں بھارتی جارحانہ قبضہ ہے ۔اگربھارت جارحانہ قبضہ ختم کر دے تو نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی اور نہ ہی کشمیریوں کی جانیں خطرے میں ہوں گی ۔ ”

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں سے وعدہ کیا کہ ” میں وعدہ کرتا ہوں کہ کشمیر پر کسی قسم کی ڈیل نہیں ہو گی اور نہ کسی کو کرنے دیں گے اور وہ دن دور نہیں جب انڈیا میں پاکستان اور کشمیر کا پرچم لہرائے گا ۔” چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے بھی ایوان سے پر جوش خطاب کیا ۔ شہریار خان آفریدی کا ایک جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ ” قانونی حربہ استعمال کر کے دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کی آواز بلند کریں گے اگر قانون واقعی اندھا ہے اور مظلوم کی آواز کوئی نہیں سنے گا تو پھر غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے باہر نکلنا ہوگا، آزادی کیلئے معصوم ہاتھوں میں پتھر اٹھانے ہوں گے ، آزادی لینے کیلئے بندوق اٹھانی پڑےگی ، آزادی کے حصول کیلئے برہان وانی بننا پڑےگا اور آزادی لینے کیلئے کلمہ حق پڑھ کر جہاد کی راہ اختیار کرنی پڑےگی ۔” سینئر صحافی عمران ریاض خان نے بھی کشمیری ہونے کے ناطے اپنے آبائی وطن بانڈی پورہ جانے کا اظہار کیا اور ایوان میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگوائے اور پورا ایوان کشمیر کے نعروں سے گونج اٹھا ۔

    ڈاکٹر قاسم فکتو جو کہ گزشتہ 29 سال سے انڈیا کی جیل میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے حوصلے پست نہ کر سکے ، ان کی امید کو توڑ نہ سکے اور آزادی کی آواز کو بند نہ کر سکے ۔ بھارت نے اس آواز کو بند کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا لیکن آواز بند کرنے کی بجائے ڈاکٹر قاسم فکتو کی کئی آوازیں اب کشمیر کی آزادی کیلئے بلند ہو رہی ہیں جس کا ثبوت کشمیر یوتھ الائنس ہے ۔کشمیر یوتھ الائنس کا ہر نوجوان کشمیر کی آزادی کی آواز ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو کی طرح کئی حریت رہنما انڈین جیلو ں میں قید ہیں جو گمنامی کی زندگی بسر کر ہے ہیں ۔

    ڈاکٹر قاسم فکتو نے جیل میں متعدد کتابیں لکھیں جن میں سے ایک کتاب ” بانگ” ہے ۔ جس میں سادہ اور آسان لفظوں میں مسلئہ کشمیر کو بیان کیاگیا ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو نے کشمیر سے متعلق بھارتی خفیہ منصوبوں کی نشاندہی کچھ اس طرح سے کی کہ : کشمیر کی ملت اسلامیہ کے خلاف سامراجی سازش کے تین بنیادی کردار ہیں۔موہن داس گاندھی اور پنڈت نہروجنہوں نے کشمیر پرقبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ماﺅنٹ بیٹن اور ریڈکلف جس نے جغرافیائی راستہ فراہم کیا اور ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ نے اس کے لئے سیاسی ماحول فراہم کیا۔ لکھتے ہیں کہ "بھارتی سرکار کے پاس مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کا ایک ہی آپشن ہے کہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جاسکے ،اب اسی آپشن کے تحت بھارتی سرکار سرعت کے ساتھ کام کررہی ہے۔” بھارت سرکار کروڑوں بھارتی ہندوﺅں کے مذہبی جذبات کا سیاسی استحصال کرکے ان کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ کشمیرہندﺅں کی اہم مذہبی جگہ ہے، اسطرح بھارتی سرکار کشمیر کو ہندﺅں کا مذہبی مسئلہ بنانا چاہتی ہے۔ ایک طرف کشمیر شہہ رگ ہے اور دوسری طرف اٹوٹ انگ لیکن کشمیریوں کی کسی کو پراہ نہیں ۔

  • "میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کا سکون”تحریر فرزانہ شریف

    "میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کا سکون”تحریر فرزانہ شریف

    ‏باغی ٹی وی کی آج دسویں سالگرہ ہے جو کہ آج ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پہ ہے الحمدللہ تو سوچا اس خوشی میں کوئی ارٹیکل ہی لکھ دوں تو معاشرتی موضوع پر ہی لکھنے کو دل کیا ۔۔۔!!!

    شادی ایک مقدس بندھن ہے جس کو دونوں طرف سے پورے دل اور خوشی سے نبھایا جانا چاہئیے جس میں وفا ۔ایمانداری صاف نیت اس کی بنیاد ہو لیکن کچھ لوگ شارٹ کٹ سے اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے بھی یہ راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگ کسی معافی کے قابل نہیں ہوتے ان کو اگر متاثرہ شخص سزا نہ بھی دے لیکن میں نے ایسے لوگوں پر اللہ کی بےآواز لاٹھی ضرور برستی دیکھی ہے۔۔۔!!
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے اگر داماد اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے تو اس کی سرے عام تعریفیں کی جاتی ہیں اور اگر بیٹا بہو کے آگے پیچھے پھرے تو اسے زن مریدی کا طعنہ دیا جاتا ہے

    بیٹی اور داماد کا رومانس تو بہت اچھا لگتا ہے لیکن بہو اور بیٹے کا رومانس بےشرمی لگتا ہےاگر بیٹے کو بہو کے ساتھ بیٹھے ہوئے ساس دیکھ لے تو اپنی 40 سال پرانی مثالیں دینی شروع کردیتی ہیں کہ ہم تو جب تک ہمارے ساس سسر ذندہ رہے کبھی ان کے سامنے بات بھی نہیں کرتے تھے ایک دوسرے کے سامنے ایک ساتھ بیٹھ کر یوں بےشرمی سے لاڈ کرنا تو بڑے دور کی بات ہے اور نئی نویلی دلہن دل ہی دل میں اس بات پر شرم سے پانی پانی ہوجاتی ہے وہ دلہن جس کو شادی سے پہلے ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے اپنے اصلی گھر مطلب سسرال میں جاکر اپنے سارے شوق پورے کرنا اپنی مرضی کے فیشن کرنا جیسے دل کیا رہنا ۔(70 فیصد لڑکیوں کی بات بتارہی ہوں 30 فیصد وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جو اچھی قسمت لیکر دنیا میں آتی ہیں بنا کسی امتحان کے سب کچھ پلیٹ میں سجا اسے ملتا ہے سسرال میں والدین کے گھر جیسا ماحول پیار ملتا ہے عزت ملتی ہے اور بنا محنت کے دنیا کی ہر آسائش ملتی ہے اور ان 30 فیصد لڑکیوں جیسی قسمت پانے کے لیے کچھ لڑکیوں کو اپنی آدھی ذندگی مشکل ترین حالت کا سامنا کرنے کے ساتھ انگاروں پر ایک طویل سفر کرنے کے بعد ملتی ہے) وہ دن جو میاں بیوی کے ایک دوسرے کے سمجھنے کے ہوتے ہیں لاڈ اٹھانے اٹھوانے کے ہوتے ہیں وہ دن سسرال والوں کے دل جیتنے میں صرف ہوجاتے ہیں سالوں سال لگ جاتے ہیں اس کوشش میں کوئی خوش قسمت لڑکی ہی ہوتی ہے جو اس امتحان میں سرخرو ہوتی ہے۔عمومآ لڑکی کی شادی 19سال سے بیس بائیس سال تک ہوجاتی ہے شادی شدہ ذندگی اس کے لیے خوبصورت خوابوں کے جیسی ہوتی ہے جہاں اس نے اپنے سارے ارمان خواب پورے کرنے کا سوچا ہوتا ہے وہ خوبصورت خواب اپنے ہم سفر کے ساتھ مل کر پورے کرنے ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ دو الگ الگ انسان ایک دوسرے سے جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی کوشش کریں ہوتا کیا ہے لڑکی کے سسرال میں موجود کچھ لوگ لڑکی کو ذہنی طور پر اتنا ٹارچر کرتے ہیں کہ آخر انیس بیس سال کی لڑکی کے سب خواب مرجاتے ہیں لڑکی میں پچاس سالہ روح سرائیت کر جاتی ہے۔جو خواب اس نے اس خوبصورت بندھن میں بندھ جانے کے بعد کے سوچے ہوتے ہیں وہ خواب ٹوٹ جاتے ہیں یوں ایک کالج گرل دنوں میں 19 سالہ سے 50 سالہ عورت کی روح اپنے اندر محسوس کرنے لگتی ہے اور اپنا درد تکلیف اپنے والدین کو بھی نہیں بتاسکتی۔یوں درد سہتے سہتے اچھے وقت کے انتظار میں اپنی جوانی کے قیمتی سال ضائع کردیتی ہے پھر جب اچھا وقت آتا ہے تو اپنا مشکل وقت ایک فلم کی طرح اس کے دماغ کے ایک کونے میں ہمیشہ کے لیے سیو ہوجاتا ہے اب یہ اس لڑکی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ماضی میں خود پر جھیلی ہوئی تکلیفیں اپنی نئی نسل کو ان تکلیفوں سے بچانے کی کوشش کرتی ہے یا وہ یہ روائت جاری رکھتی ہے۔۔ یہ تو کہانی بیان کی مظلوم عورت کی ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ۔

    ہر پہلو کے دو رخ ہوتے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ اگر عورت ایک جگہ مظلوم ہے تو دوسری طرف ایسی عورتیں بھی دیکھی جو ہر نعمت ہر سہولت میسر ہونے کے باوجود "ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں "مارتی بھی دیکھیں لوگوں کی باتوں میں آکر اپنے مرد کا جینا حرام کردیتی ہیں ان کا سکون ختم کردیتی ہیں لایعنی باتوں سے ۔ہر بات میں جھوٹ بولتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ اسی مرد نے انھیں زمین سے اٹھا کر تخت پر بٹھایا ہوتا ہے دنیا کی ہر سہولت دی ہوتی ہے بقول شاعر کے
    "جن پتھروں کو ہم نے زباں بخشی تھی

    جو ملی انھیں زباں تو وہ ہمیں پہ برس پڑے”

    احسان فراموشی کی حد ختم کردیتی ہیں جب دیکھتی ہیں سب کچھ ہتھیا لیا ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر لڑجھگڑ کر نئی منزل کی تلاش میں نکل پڑتی ہیں ۔جب تک شوہر کے ساتھ رہتی ہیں گھر کو میدان جنگ بنائے رکھتی ہیں اچھے خاصے خوش مزاج شوہر کو نفسیاتی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ایسے شوہر کو جس میں اقدار ہیں، ناموس ہے، ایمان ہے۔ باوقار، با حیا، اور خوبرو ہے۔لیکن خودغرض اور کانوں کی کچی عورت ایسے نیک فطرت شوہر کو دکھ دینے سے پہلے ایک دفعہ بھی نہیں سوچتی کہ اس مرد کی وجہ سے مجھے معاشرے میں اتنی عزت ملی ہے لیکن اس کی آنکھوں میں خودغرضی کی ایسی پٹی بندھی جاچکی ہوتی ہے کہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوکر رہ جاتی ہے ۔۔!! لیکن اللہ نے شائد مرد میں برداشت کرنے کی قوت کچھ ذیادہ ہی رکھی ہوئی ہے شائد اسی لیے قرآن مجید میں بھی عورت سے مرد کا ایک درجہ اوپر رکھا گیا ہے اس کا حوصلہ آئرن کی طرح سخت ہوتا ہے کہ ہر درد تکلیف برداشت کرنے کے باوجود جب آپ اس سے ملیں گے، تو آپ اس انسان کے لیے دل میں بےحد عزت محسوس کریں گے اس کی اعلی ظرفی آپکو متاثر کرے گی آپکو وہ انسان اپنی سچائی اور فیاضی کی وجہ سے پسند آئے گا اگرچہ اسے دھوکے ملے ہیں،درد ملا ہے تکلیف پہنچی ہے لیکن آپ اسے اللہ کا شکر ادا کرتے پائیں گے اور شکر ایک ایسا عمل ہے جس نے کیا اللہ نے اسے پھر اپنے خزانوں سے بےحد بےشمار نوازا ہے ہر مومن جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہمارا بگاڑ سکتا ہے، اور کب تک بگاڑ سکتا ہے.جب تک اللہ نہ چاہے کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا نہ ہمیں نقصان دے سکتا نہ نفع دے سکتا ہے ہم تو بس اس کے’کن” کے محتاج ہیں وہ ‘کن”کہہ دے . پلک جھپکتے ہی سب کچھ سنور جاتا ہے وہ کچھ اللہ عطا فرما دیتا ہے جو ایک بندے کے گمان میں بھی نہیں ہوتا بس اس پر یقین کامل رکھنا چاہئیے بےشک وہ اپنے بندے سے بےانصافی نہیں کرتا اس کو صبر کا بہترین انعام ایک اچھے باوفا ہمسفر کی شکل میں ضرور عطا فرماتاہے

  • حکومت کو گھربھیجنے کیلئے کوئی بھی طریقہ آزمانا پڑا تو آزمانا چاہیے،مریم

    حکومت کو گھربھیجنے کیلئے کوئی بھی طریقہ آزمانا پڑا تو آزمانا چاہیے،مریم

    حکومت کو گھربھیجنے کیلئے کوئی بھی طریقہ آزمانا پڑا تو آزمانا چاہیے،مریم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی بلال یاسین کی رہائش گاہ آمد ہوئی ہے

    مریم نوازشریف نے بلال یسین کی جلد صحتیابی کیلیے دعا کی ،مریم نوازنے نوازشریف کی طرف سے بلال یٰسین کی صحت یابی کیلیے نیک خواہشات کا اظہارکیا بلال یسین نے عیادت کیلیے مریم نوازشریف کی آمد پر اُنکا شکریہ ادا کیا، ن لیگ کے رہنما پرویز رشید بھی مریم نواز کے ہمراہ تھے

    اس موقع پر مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ نئے الیکشنز سیاسی جماعتوں کا نہیں عوام کا بیانیہ بن گیا ہے،مری میں اموات برفباری نہیں حکومتی بے حسی سے ہوئیں،حکمران بنی گالہ، پی ایم اور سی ایم ہاؤس میں ہیٹر لگا کر سوتے رہے اور عوام مرتے رہے، سیاسی جماعتوں کو بھی اب عوام کے کہنے پر چلنا پڑے گا،موجودہ حکومت کی نالائقی اور نااہلی دنیا بھر کو نظر آرہی ہے،اس حکومت کی نااہلی نالائقی ساری دنیا کے سامنے ہے،عوام کو پتہ ہے سچ کیاہےاور جھوٹ کیا ہے، سیاسی جماعتوں کو اب عوام کے کہنے پر چلنا پڑے گا اس حکومت کو گھر بھجوانے کے لیے کوئی طریقہ اپنانا چاہیے، پہلے مجھے لگتا تھا کہ اس حکومت کو مدت پوری کرنی چاہیے،اس حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے کوئی بھی طریقہ آزمانا پڑا تو آزمانا چاہیے

    قبل ازیں ن لیگی رہنما بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ،سی آئی اے پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے مرکزی ملزم گرفتار کرلیے،فائرنگ کرنے والے دونوں ملزمان گرفتار کر لئے گئے ہیں سی آئی اے پولیس نے بلال یاسین پر حملہ کرنے والے شوٹرز گرفتار کرلیے ۔ گرفتار شوٹرز کے نام ماجد اور کاشف ہیں ۔ گرفتار شوٹرز عرصہ دراز سے بلال گنج کے رہائشی ہیں ۔ گرفتار شوٹرز کا آبائی تعلق مورکھنڈا ننکانہ صاحب سے ہے ۔گرفتار شوٹر نے حملے کے وقت آئس کا نشہ کر رکھا تھا ۔ گرفتار شوٹرز سے نامعلوم مقام پر مزید تفتیش جاری ہے

    پولیس نے تین اسلحہ ڈیلروں کو بھی گرفتار کیا جن سے تفتیش جاری ہے،  ن لیگی رہنما رانا تنویر کا کہنا ہے کہ بلال یاسین پر حملے کی مذمت کرتے ہیں گورننس کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ایم پی اے تک محفوظ نہیں،بغیر وجہ کے بلال یاسین کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، حکومت کو صرف مخالفین کے خلاف انتقام کی فکر ہے،

    ن لیگی رہنما بلال یاسین پر فائرنگ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تھانہ داتا دربار میں 2 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ،درخواست میں کہا گیا کہ میاں اکرم سے ملنے ان کے گھر گیا تھا، دوست کے ساتھ باہر کھڑا تھا نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کر دی،فائرنگ سے میں شدید مضروب ہوگیا، میاں وحید مجھے اسپتال لے کر پہنچے ملزمان کے حلیے کے حوالے سے بلال یاسین نے بتایا کہ حملہ آوروں نے جینز کی پینٹ اور جیکٹس پہن رکھی تھیں

    واضح رہے کہ لاہور سے ن لیگ کے پنجاب سے منتخب رکن اسمبلی بلال یاسین فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو ‏گئے ہیں خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلال یاسین پر بلال گنج کے علاقے میں نقاب پوش افراد نے فائرنگ ‏کی ہے، دوگولیاں ان کے پیٹ اور ایک پاؤں پر لگی ہے۔

    بلال یاسین مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خوراک ہیں۔ وہ بلال گنج کے رہائشی ہیں ‏اور ان کا پارٹی دفتر بھی اسی علاقے میں ہے جہاں انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،عدالت نے لڑکے اور لڑکی کو کیا طلب

    خواتین کو ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کا کیس، درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    بزدار کا لاہور، ایک برس میں خواتین کے اغوا کے 680 مقدمے، 432 قتل

  • موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں اہم کردار ٹکنالوجی کا ہے خاص کر موبائل فون،
    جتنی اس موبائل فون کے آنے سے سہولیات مہیا ہوئی اتنا ہی اس کے آنے سے معاشرہ میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا،
    جب موبائل فون ایجاد کیا گیا تھا تو اس وقت اٹھارہ گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد صرف دو گھنٹے استعمال کر سکتے تھے، اور آج دو گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد اٹھارہ
    گھنٹے استعمال کرتے ہیں، اس وقت لوگ ضرورت کے وقت ہی استعمال کیا کرتے تھے،

    اب جبکہ موبائل فون ہماری مجبوری بن چکا ہے دن ہو یا رات صبح ہو یا شام جیسے انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اب اس میں اس موبائل کو بھی ساتھ ملا لیں اس کے بغیر زندگی گزارنا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے، اگر چوبیس گھنٹے میں موبائل فون استعمال نہ کریں تو جیسے ویٹامن کی کمی محسوس ہونے لگتی ہے، اس موبائل فون کی وجہ سے کتنے اہم رشتے اپنائیت دینے والے بزرگوں اور نایاب دوستوں کو بچھڑتے دیکھا، یہ سوشل میڈیا یہ دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنے والے اصل رشتے بھول بیٹھے ہیں، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ ہمارے پاس بیٹھ کر باتیں کر رہا ہے تو ہماری نوجوان نسل کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ دو گھڑی توجہ دیں اور انکے ساتھ باتیں کر لیں یہ سوشل میڈیا کا پیار سب فراڈ ہے اصل محبت اور خلوص اس شخص کا ہے جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا ہے،

    پہلے جب کوئی خوشی کا موقع اتا تھا شادی بیاہ یا عیدین کے موقع پر ہم اپنے اپنے پیاروں کو ملنے انکے گھر جایا کرتے تھے صرف وہ ہی ایک موقع ہوتا تھا جب سب خاندان والے ایک ساتھ ایک جگہ موجود ہوتے تھے لیکن اس ایک موقع کو بھی اس موبائل فون نے چھین لیا کیونکہ آج کل لوگ صرف ایک میسج کر دیتے ہیں،

    موبائل فون استعمال کرنے کی ہر کسی کی اپنی وجہ ہے کوئی ٹائم پاس کرتا ہے تو کوئی سوشل میڈیا،اور ان سب میں سے ایک نشہ اور بھی ہے اور وہ گیمز کھیلنے کا ہے حال ہی میں ایک گیم متعارف کروائی گئی ہے جس گیم کا نام پب جی ہے جو اس نشے میں آگیا ہے اسے دنیا جہان کی کوئی خبر نہیں سیکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کی زندگیاں نگل گئی یہ یم،المختصر اس موبائل فون نے ہماری نسلوں کو تباہی کے راستے پر لگا دیا،لیکن اس کی ایک خاص بات ہے کہ اس موبائل فون نے جتنی بھی ترقی کر لی لیکن اپنا بنیادی مقصد نہیں بھولا،پہلے ون جی یعنی صرف کال کرنے کی سہولت،پھر ٹو جی یعنی میسج کرنے کی سہولت،

    پھر تھری جی یعنی فوٹو بھیجنے اور دیکھنے کی سہولت، پھر فور جی یعنی ویڈیو کال کرنے کی سہولت اور پوری دنیا کو آپ گھر بیٹھے انٹرنیٹ سے دیکھنے کی سہولت، اب ماہرین ٹکنالوجی فائیو جی کے تجربات کر رہے ہیں، چاہے جتنی بھی ترقی کر لی اس موبائل نے لیکن اپنا اصل کام نہیں بھولا آپ نے دیکھا ہوگا کہ چاہے جتنا بھی ضروری کام کر رہےہیں موبائل پر لیکن جب کال آتی ہے تو موبائل فوراً سب ہٹا کر پہلے کہتا ہے کہ کال سنو، افسوس کہ موبائل اپنے کام نہیں بھولا لیکن انسان بھول بیٹھے ہیں کیونکہ انسان کو بھی دن میں پانچ بار کال آتی ہے اللہ کی طرف سے لیکن ہم لوگ جاننے کے باوجود بھی انجان بن جاتے ہیں،
    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور راہِ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،
    اللہ ہو آپ سب کا حامی و ناصر پاکستان ذندہ باد

  • حقیقی خادم اعلیٰ .تحریر: عبدالوحید

    حقیقی خادم اعلیٰ .تحریر: عبدالوحید

    کیا آپ جانتے ہیں میں عثمان بزدار کو حقیقی خادم اعلیٰ پنجاب کیوں کہ رہا ہوں ۔ نہیں جانتے تو چلیں اس آرٹیکل کو پورا پڑھ لیتے ہیں ۔ آخر وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر میں عثمان بزدار کو حقیقی خادم اعلیٰ کہنے پر مجبور ہوں ۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار مئ انیس سو انہتر کو اپنے آبائی علاقے بارتھی میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بارتھی سے حاصل کی ۔ اور اس بعد عثمان بزدار نے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اس کے علاؤہ عثمان بزدار نے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے ۔ آپ کے والد پہلے ہی سیاست میں تھے ۔ والد صاحب کے بعد آپ نے سیاست میں حصہ لیا ۔ اور دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں آپ صوبہ محاذ کے گروپ میں شمولیت اختیار کی جوکہ بعد پاکستان تحریک انصاف کی جماعت میں شامل ہوگئ۔

    عثمان بزدار نے دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں اپنے مخالف امیدوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک سرپرائز کے طور پر عثمان بزدار کو پنجاب کا سب بڑا عہدہ وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے منتخب کیا ۔ عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ان کے خلاف ایک بھرپور انداز سے مہم چلائی گئی ۔ لیکن وزیرِ اعظم نے انکا بھرپور طریقے سے ساتھ دیا اور انہیں اپنا وسیم اکرم پلس کہ دیا ۔اور وزیر اعلی عثمان بزدار نے پنجاب کو ایک نئے انداز سے چلایا ۔ ایک پرانا انداز انڈر ورلڈ شوباز کو چھوڑ کر ایک نیا بلکل سادہ سا طریقہ اپنایا۔ صرف اپنے کام پر توجہ دی ۔ حالاں کہ ان پر جتنی تنقید ہوئی شائد کیسی پر ہوئی ہوگی۔ لیکن آپ کی جرات ہمت اور بلند حوصلے کو سلام ۔ آپ نے ان سب باتوں کو پرے پشت رکھ کر صرف اور صرف اپنے کام پر توجہ دی ۔ وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار کی قیادت میں محض تین سالوں میں پنجاب ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوئے۔ جتنے کام محض ان تین سالوں میں ہوئے اتنے کام پچھلے ستر سال میں نہیں ہوئے ۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اپنے تین سالوں میں اکیس نئے یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جن میں چند یونیورسٹیوں کے نام درج ذیل ہیں گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب ، نارتھ پنجاب یونیورسٹی چکوال ، کوہسار یونیورسٹی مری ، یونیورسٹی آف میانوالی ، یونیورسٹی آف تونسہ ، تھل یونیورسٹی بھکر ، ویمن یونیورسٹی راولپنڈی ، چاکرے اعظم یونیورسٹی ڈی جی خان ، راجن پور یونیورسٹی ، پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ۔ ساتھ سو کالجز میں بی ایس پروگرام کا آغاز۔ اس کے علاؤہ یونیورسل ہیلتھ کیئر پروگرام ، چھیاسی نئے ایسوسی ایٹ کالجز کا قیام ، آٹھ ہزار تین سو ساٹھ سکولوں کی اپ گریڈیشن ، نو مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کا قیام ، نشتر فیز ٹو ہسپتال کا قیام ، چلڈرن ہسپتال بہاولپور ، برن سنٹر بہاولپور ،میانوالی ، لیہ ، اٹک ، بہاولنگر اور راجن پور میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال ، ڈی جی خان کارڈیالوجی ہسپتال کا قیام شامل ہیں۔ محروم اور پسماندہ لوگوں کا احساس پناہ گاہیں ، لنگر خانوں کا قیام ، اور صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکج ، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام ، بہتر لاکھ خاندانوں کے لیے صحت کارڈ کا اجراء ، دس اسپیشل اکنامکس زون کی منظوری ، قبضہ مافیا سے دس لاکھ کینال رقبہ واگزار ،کسانوں کے 26 ارب روپے کے بقایاجات واپس ، سمارٹ پولیس اسٹیشن کا قیام ، 24 اضلاع میں سپورٹ کمپلیکس شروع کی گئی ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا قیام ،بہاولپور اور ملتان میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور آئی جی کی تقرری ،جنوبی پنجاب فنڈز کی ری فینسنگ اور اس کے علاؤہ دیگر کئی فلاحی منصوبے شامل ہیں جنکا ذکر ایک آرٹیکل میں شامل کرنا ناممکن ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی نگرانی میں پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ اب شوبازیاں نہیں صرف کام۔

  • گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    کراچی سائٹ ایریا شیر شاہ کی یہ کہانی ہے۔ دوپہر کوئی 2 بج رہے تھے تقریباً کمپنیوں میں کھانے کا وقت تھا کوئی کھانا کھا رہے تھے اور کوئی ہوٹل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک زور دار آواز آتی ہے اور گیس لائن کا دھماکہ ہوتا ہے میں اور میرے دوست بھی ہوٹل پہ بیٹھے چائے پی رہے تھے تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ہلچل مچ گئی ہے ہم اپنی کمپنی کی طرف جا رہے تھے تو ایمبولینس دکھی ہمیں لگا کہ کوئی ایکسیڈنٹ ہوگیا پر پھر معلوم ہوتا ہے نالہ پر ایک بینک بنی ہوئی تھی وہاں گیس لائنیں پھٹنے کی وجہ سے دھماکہ ہوا ہے بلڈنگ زمین تلے بوس گئی اس میں لوگ بھی پھنس گئے کتنی عورتیں بچے بھی شامل تھے، کئی لوگ اس زندگی سے رخصت ہو گئے کئی ہسپتالوں میں منتقل ہو گئے لوگوں نے سنا بینک میں دھماکہ ہوا بلڈنگ گر گئی لوگ اس طرف بھاگنے لگے اس لیے نہیں کہ وہاں جا کر کسی کی مدد کی جائے ریسکیو ٹیموں کی مدد کی جائے بلکہ وہ وہاں سب پیسے بٹورنے میں لگے رہے انسان کی جان کی کوئی پرواہ نہیں پیسہ کو اہمیت دی جارہی تھی ہم نے وہاں دیکھا کچھ لوگوں کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے کسی کا سر بدن سے الگ تھا کسی کا ہاتھ تو کسی کا پائوں، اب سوال یہ ہے کہ گیس دھماکے کیسے ہوتے ہیں

    عموماً اور دوسرا یہ کہ نالہ کہ اوپر بینک کیسے بنی؟ سردیوں میں گیس کے مسائل نہاں ہوتے ہیں تو پھر عوام بھی اپنی مدد آپ کرتی ہے جیسا کہ ابھی کچھ مشینیں آئی ہیں جس سے اگر آپ کا گیس پریشر کم ہوگا تو وہ گیس کھینچتی ہے جو بہت زیادہ خطرناک ہے اور یہ کام غیر قانونی بھی ہے پر عوام مجبور ہے، کچھ لوگ سلینڈر استعمال کرتے ہیں تھوری سی لا پروائی گھر برباد ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں غیرمعیاری اور خراب گیس سلنڈروں کی وجہ سے آئے دن ہلاکت آفریں دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔یہ غیرمعیاری سلنڈرگھروں میں کھانا پکانے کے علاوہ گاڑیوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ساحلی شہرکراچی کا پاکستان کی اقتصادی پیداوار میں حصہ 60 فی صد ہے۔یہ شہر طویل عرصے سے بنیادی ڈھانچے، غیر قانونی تعمیرات، ادارہ جاتی اور حکام کی کرپشن اور ناکام میونسپل خدمات کی وجہ سے گوناگوں مسائل سے دوچار ہے۔ ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیر شاہ دھماکے کی جائے وقوعہ پر موجود سوئی سدرن گیس کی ٹیموں نے تصدیق کی ہے کہ واقعہ کی جگہ پر ادارے کی کوئی گیس پائپ لائن نہیں، علاقے میں موجود تمام گیس پائپ لائنز بالکل محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔سوئی گیس کا مزید کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔

  • بکاؤ میڈیا. تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    بکاؤ میڈیا. تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم یہ الزامات ہم ہر روز کسی نہ کسی طرح سننے میں آتے ہیں.اس سال ٹویٹر پہ. الیکٹرانک میڈیا گروپس اور پرسنز کے خلاف بیسوں ٹرینڈز چلے.
    میڈیا کا کردار اور میڈیا کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں.میڈیا کی تقسیم مہذب ممالک میں الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز کی صورت میں کی جاتی ہے جبکہ بدقسمتی سے ہمارے یہاں یہ میڈیا حکومتی ، اپوزیشن، اور پیڈ سوشل میڈیا ٹیمز.
    میڈیا کا حقیقی کردار تو آگہی پیدا کرنا اور حکومتی کارکردگی پہ کڑی نگاہ رکھنا ہے اور ساتھ ہی حکومتی کارکردگی کو عوام کے سامنے لانا بھی ہے.تمام منصوبوں اور شعبہ جات کے متعلق ماہرین کو چینلز پہ بلانا اور حکومتی نمائندوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے.اور اپوزیشن کی توجہ دلانا کہ کس طرح ایوان میں ان معاملات پہ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے جواب طلبی کریں.

    مگر افسوس کہ میڈیا ہاؤسز یا تو حکومتی اشتہارات کے سامنے بے بس ہیں یا اپوزیشن کے زرخرید غلام.
    آپ کوئی بھی چینل لگا کر دیکھ لیں یا تو حادثات کی خبریں ہیں یا ایک محسوس طریقے سے حکومت یا اپوزیشن کے حق میں راۓ سازی بلکہ کھلم کھلا جانبدار سوالات پہ مبنی پروگرامز کیے جاتے ہیں جن میں منصوبے اور ملکی ترقی تو نظر نہیں آتی دونوں طرف کے راہنما ذاتیات پہ واہیات گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں. لڑائی جھگڑے میں اصل موضوع کھو جاتا ہے اور اسی لڑائی سے کوئی اگلے پروگرام کے لیے سکینڈل اخذ کر لیا جاتا ہے.
    حکومتی نمائندے چند چینلز سے نالاں ہیں تو اسکے پیچھے واضح دلائل ہیں.عمران خان پہ گلالئ الزام لگائے تو ایک میڈیا گروپ گھنٹوں پرائم ٹائم شو کرتا اس موضوع پہ وہیں زبیر عمر کی ویڈیو پہ وہی میڈیا گروپ کہتا ہے یہ زبیر صاحب کی ذاتی زندگی ہے ہم دخل نہیں دے سکتے حالانکہ عمران خان اس وقت اقتدار میں نہ تھے جبکہ زبیر صاحب کا سکینڈل انکی گورنری کے عہد کا تھا.

    اسی طرح اپوزیشن ایک دو میڈیا ہاوسز پہ جانبداری کا الزام لگاتی ہے تو وہ بھی درست ہے کیونکہ وہ چینلز اپوزیشن کے دورِحکومت میں اشتہارات نہ ملنے پہ اپوزیشن کے خلاف کوئی وار ضائع جانے نہیں دیتا.بلکہ ایک چینل تو حکومتی کارکن کی ملکیت ہے.
    اب آتے ہیں پیڈ سوشل میڈیا ٹیمز کی طرف جن کو سیاسی جماعتیں تنخواہ دیتی ہیں کہ وہ ان کے حق میں کیمپئن کریں.یہاں خطرناک بات یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافی اور اینکر پرسنز ان سیاسی میڈیا ہاوسز کے پیڈ ملازمین بن جاتے ہیں.

    وہی اینکرز اپنی ایک سیاسی جماعت کے ورکرز بن کر یکطرفہ کیمپئنز چلاتے ہیں.یہی یکطرفہ کیمپئننگ انکی صحافت کا جنازہ بن جاتی ہے.سوشل میڈیا ٹیمز کے یہ ممبرز جب الیکٹرانک میڈیا پہ بیٹھتے اور یکطرفہ اور جانبدار پروگرام کرتے ہیں تب دل. بے ساختہ پکارتا ہے بکاؤ میڈیا.ابھی بھی چند صحافی ان پروپیگنڈہ چینلز میں رہ کر عوام کی نمائندگی کو کوشش میں ہیں.اللہ ان کا حامی و ناصر ہو.اور دعا ہے پاکستان میں حقیقی صحافت ابھرے اور ملکی ترقی میں متحرک قوت بنے.آمین

  • انہوں نے ہمت نہ ہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! تحریر: محمد زمان

    انہوں نے ہمت نہ ہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! تحریر: محمد زمان

    درحقیقت لکھنا کچھ اور چاہتا تھا پر دسمبر نے کچھ اور نہ لکھنے دیا ضمیر نے ملال کیا کہ دسمبر آئے اور آپ ان لمحات کو یاد نہ کرو تو ان لوگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی وہ جنہوں نے ہمت ناہاری تھی جنھوں نے پاکستانی قوم میں جرات کا ایک نیا باب کھولا تھا۔تو آج کچھ تذکرہ ان لوگوں کا جنھوں نے تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔جنھوں نے دنیا کو بتایا کامیابی کیا کچھ چاہتی ہے آپ سے۔۔۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے ! ” حوصلہ اور ہمت ہارنے والے کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ” ۔
    اس کائنات میں کامیابی کوئی حتمی منزل و مقام نہیں اور نہ ہی ناکامی کوئی حتمی ہوتی ہے ہاں ناکامی کو مستقل بنانے میں مایو سی اور خوف انتہائی اہم کردارادا کرتے ہیں۔درحقیقت یہ صرف زندگی کا ایک لمحہ ہوا کرتا ہے جس نے گزر جانا ہوتا ہے۔ناکامی کے لیے مایوسی کو سر پر بٹھانا پڑتا ہے اور کامیابی کے لیے ذہنی اور فکری صلاحتوں کو بروے کار لانا لازم ہوا کرتا ہے ۔دنیا کا ہر انسان اپنا مقام بنانا چاہتا ہے کچھ ایسا کرنے کا خواہ ہے کہ جس سے اس کی پہچان میں اضافہ ہو اور اس کے لیے اسے کچھ ایسے لوگوں کے ایسے واقعات کے مطالعہ کی ضرورت پڑتی ہے کہ جس سے وہ ہمت و استقلال کا سبق لے سکھیں۔جیسے کے تاریخ میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں۔آپ دنیا کے کامیاب لوگوں کا ذرا مطالعہ کریں تو تمام کامیاب لوگوں میں آپ کو ایک چیز قدرے مشترک ملے گی کہ انہوں نے کامیابی کسی سے متاثر ہو کر یا کسی سخت گیر واقعہ کے تھپیڑے کھا کرحاصل کی ہوگی۔ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے کہ ہم لوگ مایوسی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ اس میں محنت درکار نہیں ہوتی ۔اپنے مشکل اور مایوس کن حالات کو بدلنے کا صرف سوچتے ہیں پر ان عوامل پر عملی اقدام نہیں کرتے جن سے ہماری کامیابی کی راہیں کھل سکیں۔
    ہم میں سے اکثر لوگوں سے حالات کا پوچھا جائے تو وہ آپ کو سخت حالات کا شکوہ کرتے ملیں گے اپنی مشکلات کا رونا روئیں گے پر جب ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو انہوں نے درحقیقت ان حالات کو دعوت خود دی ہوئی ہوتی ہے ان سے نمٹنے کا ہنر نہیں سیکھا ہوتا ۔اپنی تمام تر قوت کو منفی باتوں میں ضائع کرتے رہتے ہیں۔چلیں ایک لمحہ کے لیے مان لیا جائے کہ آپ کے حالات بہت ہی زیادہ خراب ہیں آپ کے کنٹرول سے باہر ہیں ،آپ کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ،آپ نے اپنی تمام تر قوت لگادی پر بھر بھی ناکام رہے ۔۔۔۔
    پر ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا آپ کے گردنواح میں ایسے لوگ نہیں ہیں کہ جو اسطرح کے حالات سے بھی زیادہ مشکل حالات کا سامنا کر چکے ہوں اور ان کو اپنی قوت ،حکمت عملی اور جرات سے ان حالات کو شکست دی ہو؟؟؟؟؟؟؟ آپ کے ہر قسم کے عذر قبول کر لیے جائیں ۔
    کیا آپ کے حالات ان سے بھی زیادہ مایوس کن ہیں جیسے کہ 16 دسمبر 2014 کے واقعے میںآرمی پبلک سکول پشاور میں موجود اساتذہ اور طلباء کے تھے ذرا آنکھیں بند کریں اور خود سے پوچھیں …. جس کا یقینی جواب نہیں میں ملے گا تو اتنی مایوسی اور بیزاری کیوں زندگی سے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے حالات ان سے بھی زیادہ مایوسی کن ہیں۔کیا کبھی آپ کے سامنے آپ کے دوستوں اور اساتذہ کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا ؟ کیا آپ کے سامنے آپ کے دوستوں کے خون کی ندیاں بہا دی گئی ۔۔۔؟ کیا آپ نے کبھی کرسیوں کے نیچے چھپ کر موت کا انتظار کیا؟کیا کبھی آپ کرسیوں کے پیچھے چھپ کہ درندہ صفت انسان کو دیکھتے رہے؟کیا کبھی آپ کے دماغ میں مسلسل خوف نے جنم لیا کہ اگلی گولی آپ کے جسم سے آر پار ہو جائے گی؟ کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ کے آس پاس بیٹھے دوستوں کے جسموں سے دشمنوں کی گولیاں آرپار ہوئی ہوں؟کیا کھبی آپ کو بازوں پرگولی لگی اورآپ گر پڑے دشمن نے آپ یہ سوچ کر چھوڑ دیا ہو کہ یہ مر چکا ہے؟؟کیا آپ کی ماںنے کسی درندہ صفت انسان کے آگے دامن پھیلا کر یہ کہا کہ خدارا بچوں کو کچھ نہ کہیں پر ظالم نے سب سے پہلے آپ کی ماں کو نشانہ بنایا ہو اور آپ یہ منظر کرسیوں کے نیچے چھپ کے دیکھتے رہے؟کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ کی کلاس کے سامنے والی کلاس آپ کے بھائی کی ہو اور ہاں سے گولیوں کے چلنے کی آوازیں آرہی ہوں آپ اسے بھاگ کے بچانا چاہتے ہوں پر آپ کی جان کے تحفظ کے لیے آپ کو ایسا نہ کرنے دیا گیا ہو؟ نہیں ہوا نا آپ کے ساتھ ایسا، دعا ہے کبھی ہو بھی نہ ایسا ۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس حملہ میں زخمی ہونے والے اورخوش نصیبی سے بچ جانے والے اساتذہ اور طلباء نے امید چھوڑ دی ہوگی ،اٰن خوف ذدہ مناظر کو اپنے دماغ میں بیٹھا لیا ہو گا ، اساتذہ نے وہاں پڑھانا چھوڑ دیا ہو گا ،زخمی طلباء نے دوبارہ اس سکول کا رخ نا کیا ہو گا،زخمی طلباء کے والدین نے اپنوں بچوں کو اس سکول جانے سے روک دیا ہو گا…….. جی نہیں حضور ایسا کچھ نہیں ہوا آگے کے لمحات نے میری تو رگ رگ میں جذبہ پیدا کر دیا ۔دیکھتے ہیں آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے آگے آنے والے واقعات کو پڑھ کے……

    مجھ میں حیرت کی انتہا تھی جب میں نے یہ دیکھا کہ زخمی طلباء زخموں سے نجات ملتے ہی اپنا پہلا قدم اپنی کامیابی کی راہ پہ پھر سے ڈال دیتے ہیں انہیں اگلے دن سکول میں دیکھا جاتا ہے ۔ان میںسے ایک شہید کے والد نے کہا تھا کہ انہیں فخرہے اپنے شہید بیٹے پر کہ جس نے پوری کلاس کو بچا لیا، اگر یہ لوگ مایوس نہیں ہوئے ،اگر یہ لوگ اپنی منزل سے نہیں ہٹے ،اگر ان کے حوصلہ پست نہیں تو آپ کس لئے اپنے حوصلے پست کیے ہوئے ہیں آپ کس لیے ہمت ہار بیٹھے ہیں،آپ کیو نکر مایوس بیٹھے ہیں، آپ کیونکر زندگی کی ڈور سے تنگ آ چکے ہیں۔۔۔۔؟
    یاد رکھیے گا۔۔۔! ” بڑے سے بڑا واقعہ ،بڑی سی بڑی بات آپ میں ذرا بھی تبدیلی نہیں لا سکتی جب تک کہ آپ خود تبدیل نہیں ہونا چاہتے "۔
    یہ واقعات آپ میں ذرا بھی تبدیلی نہیں لا سکتے اگر آپ خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

    اپنے آپ کو مایوسی کی دلدل سے نکا ل لیجیے ۔اگر آپ اس دلدل سے پہلے سے نکلے ہوئے ہیں تو اپنے اطوار بدلیے اپنا طریقہ بدلیے اپنی سوچ کا پیمانہ بدلیے ، ہمت و جرات کامعیار بدلیے۔اگر آپ ایک معلم یا معلمہ ہیں تواپنی ذمہ داری ویسے داد کیجیے جیسے اس معلمہ نے ادا کی تھی جو پریپ کلاس میں موجود تھی ظالموں نے آگ لگا دی پر پھر اپنے بچوں کو یہ کہیے جاری تھی بیٹا پچھلے دروازے سے نکل جائو سب ۔اگر آپ کسی ادارے کے یا گھر کے سربراہ تو اپنی ذمہ داریاں ویسے ادا کریں جیسے اس سکول کی پرنسپل نے ادا کی تھیں۔اگر آپ کو اپنے سکول کو بچوں سے پیار ہے تو اپنا پیار ایسا بنائے جیسا اس معلمہ نے اپنا یا ہوا تھا جو خود زخمی تھی شدید پر سکول کے زخمی بچوں کو ریسکیو کرنے میں بھاگ رہی تھیں جب آرمی کے جوانوں نے ان سے کہا کہ آپ بھی ریسکیو ہونا چاہیے قربان جاوں اس محبت کے کہتی ہیں میرے سکول کے تمام زخمی بچے ریسکیو ہو جائیں میرے لیے ہی ریسکیوہے۔اگر آپ خود کو بہادر سمجھتے ہیں تو آپ ویسے بہادر بنیں جیسے اس سکول کا زخمی بچا بنا جو خود زخمی ہونے کے باوجود دوسروں کو بچانے میں لگا رہا۔اگر آپ کو تعلیم سے محبت ہے تو ویسے محبت کیجیے جیسے اس معلمہ اور اس ماں نے کی تھی جو سکول کے کھولنے کے پہلے ہی دن کہتے ہیں کہ اگر سکول میں کوئی بھی پڑھانے کو نہ آتا تو میں اکیلے ہی پڑھاتی اور اسی ماں کا اپنا جوان بیٹا بھی اس درندگی کا نشانہ بن چکا تھا۔اگر آپ ایک طالبعلم ہیں تو آپ کو اپنے تعلیمی ادارے اور تعلیم سے لگائو ایسا ہونا چاہیے جیسا ان زخمی طلباء کا تھا جو ٹھیک ہوتے ہی سکول کا رخ کرتے ہیں۔

  • ریاست کے عوام خود پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    یہ دعویٰ اپنی موجودہ شکل میں غلط نہیں قرار دیا جاسکتا یا اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔کیوں کہ ریاست میں واقع ہی ایسے بہت سے افراد ہے جو چاہتے ہیں کے کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہو جائے ۔لیکن اس دعوے کے جواب میں کچھ سوال ضرور ذہن میں ابھرتے ہیں جن میں سے سب سے پہلا سوال یہ کہ جو عوام پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ان کا تناسب کیا ہے ؟؟؟یعنی کتنے فیصد عوام ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ؟؟؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ریاست کے عوام کے سامنے آزادی کا راستہ بھی ہو تو اکثریت کس طرف جائے گی ؟؟؟
    دراصل جب تک ریاست کے باشندوں کے سامنے صرف دو ہی راستے موجود تھے ایک ہندوستان سے الحاق اور دوسرا پاکستان سے تو ایسے افراد کی کمی نہیں تھی جو ہندوستان کی نسبت پاکستان سے الحاق چاہتے تھے لیکن یہ وہ عہد تھا جب ریاست میں "قومی آزادی ” کی جدوجہد موجود نہیں تھی بلکہ ریاست کے عوام کے حقوق کے لیے برسر پیکار لیڈر اور جماعتیں ایک طرف ہندوستان اور دوسری طرف پاکستان کے حکمرانوں سے بہتری کی امید لگائے بیٹھی تھیں مگر آج ریاست کے اندر بنیادی حقیقت بدل چکی ہے اور یہ حقیقت الحاق کی قوتوں کی جدوجہد سے نہیں بلکہ کشمیر کی مکمل آزادی کے علمبردار قوتوں کی جدوجہد سے بدلی ہے جس کا آغاز ساٹھ کے عشرے میں ایک طرف جموں کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ اور دوسری طرف قومی محاذ آزادی کے قیام سے ہوا تھا اور باد ازاں اس حقیقت کو نوشتہء دیوار بنانے میں مقبول بٹ شہید سے لے کر آج کے کشمیر کے لاکھوں افراد کی بے پناہ قربانیوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے لہذا مذکورہ بالا دعوے کے جواب میں اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب چونکہ اصل مقابلہ الحاق کے ہندوستان اور الحاق پاکستان میں نہیں اس لئے آج کی حقیقت کی روشنی میں جوابی دعوی یہ ہیں "ریاست کے عوام کے اکثریت الحاق کے مقابلے میں آزادی کو ترجحیی دیتی ہے "۔

    لیکن ان دونوں دعووں کی اس وقت تک کوئی حثیت نہیں جب تک کہ کشمیر کے عوام سے براہ راست یہ پوچھ نہ لیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں یہ ہیں یعنی جب تک عوام کو غیر مشروط حق خود احتیاری نہ دیا جائے یہ دعوے بے معنی ہے ۔
    فی الحال اپنے اس دعوے کے حق میں الحاق والوں کے پاس یہ دلیل ہے کہ جی اگر کشمیر پاکستان سے الحاق کے حق میں نہیں ہیں تو آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس یا الحاق کی حامی دیگر جماعتوں کی حکومت کیوں بنتی ہے ؟اس کے جواب میں ایک تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ کسوٹی ہے تو پھر کشمیری بھارت کے حق میں ہیں کیونکہ 1987 تک کشمیر کی اکثریتی آبادی والے حصہ میں بھارت نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کی حکومت چلی آ رہی ہے ۔
    دوسری بات یہ کہ آزاد کشمیر میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے لازمی ہے کہ آپ "الحاق پاکستان” کے حلف نامے پر دستخط کریں لہذا خودمختار کشمیر والے اس کو مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیتے یوں وہ یہاں کے انتخابی دھارے سے ہیں ہی باہر۔
    موجودہ تحریک حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کشمیری بھارت مقبوضہ علاقے میں پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہیں اور گاڑیوں میں پاکستانی وقت ملا رکھا ہے اس کے علاوہ پاکستان کا دن مناتے ہیں ۔عمران خان کے پرستار ہیں ۔اور پاکستان کے حکمرانوں پر بن آئے جیسے بھٹو کی پھانسی اور ضیاء کی موت تو کشمیری سوگ مناتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

    اس سلسلہ میں کہا جاسکتا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عوام کا مقصد بھارت کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرنا ہوتا ہے اس کے لئے وہ سینکڑوں طریقے اختیار کرتے ہیں اپنی پہاڑیاں یا پوٹھوہاڑی میں اسے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ غاصب کے خلاف اظہار نفرت کے لئے "جیڑیاں تواڑیاں چیڑاں او ماڑیاں کھیڑاں "والا رویہ اپنایا جاتا ہے ۔اگر کشمیری وہاں پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہیں تو وہ آزاد کشمیر اور جے کے ایف کے علم بھی بلند کرتے ہیں۔

    اس کے علاوہ اگر اس دلیل کو آزاد کشمیر کے حوالے سے دیکھا جائے تو بارہا یہاں پاکستانی حکمرانوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارت کے حق میں نعرے لگائے اور ڈڈیال میں جب بارات ڈوبنے کا واقعہ ہوا تھا تو باز شہادتوں کے مطابق لوگوں نے تھانے پر قبضہ کر کہ بھارت کے جھنڈے لہرا دیے تھے اور پھر جب 1953 میں پونچھ کے عوام پر پاکستان کے حکمرانوں نے ستم ڈھائے تھے تو وہاں بھی لوگوں نے اس ہی طرح کے ردعمل کا اظہار کیا تھا جب کے آپ نے آزاد کشمیر کے گمشاتہ حکمران بھی کئی بار جب اپنے بے اختیار و اقتدار کو جاتا ہوا دیتے ہیں تو بھارت کے ساتھ مل جانے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں تو کیا وہ بھارت سے الحاق کرنا چاہتے ہوتے ہیں ؟؟؟
    اور پھر اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ پورے کشمیر میں اکثریت الحاق پاکستان کے حق میں ہے تو پھر پاکستانی حکمران طبقے اور ان کے ماتحت کشمیری حکمران خودمختاری کے آپشن سے بدکتے کیوں ہے ؟؟؟ وہ یہ تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ کشمیری قوم کے سامنے تینوں راستے رکھے جائیں اور جس طرف اکثریت رائے دے اس کے مطابق کشمیر کے مسئلے کو حل کر لیا جائے ؟؟؟

    یہ طبقے غیر مشروط حق خوداختیاری کی بجائے صرف دو راستوں پر ہی کیوں بضد ہیں ؟؟؟
    کہا جاتا ہے کہ چونکہ اقوام متحدہ میں صرف دو ہی متبادل ہیں "الحاق پاکستان ” اور "الحاق ہندوستان ” لہذا تیسرے آپشن یعنی خودمختاری کی بات کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اس مسئلہ کو اقوام متحدہ سے باہر نکال رہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو بھارت اقوام متحدہ کی جھکڑ سے نکل جائے گا (زیڈ اے سلہری ” ایک خطرناک چال” اور کشمیر کو آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا ” روزنامہ جنگ لنڈن)
    اس دلیل کی بنیاد کشمیریوں کو جاہل اور اپنا ابدی غلام سمجھنے کی بنیاد پر ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل بھی اقوام متحدہ میں اس حوالے سے کم از کم دو بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرائی جا چکی ہے ۔پہلی تبدیلی کا تعلق اقوام متحدہ کے اس کمیشن کے نام کے بارے میں ہے جو 1948 میں ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس کا ابتدائی یا اصلی نام "کمیشن برائے جموں و کشمیر” رکھا گیا تھا لیکن پاکستانی حکام کی سفارش پر (باحوالہ امان اللہ خان جنگ انٹرویو ) اس کا نام تبدیل کر کے کمیشن برائے انڈیا اور پاکستان رکھ دیا گیا تھا ۔اس کے بعد جب اس کمیشن نے جب اپنی پہلی قرارداد آگست 1948 میں پیش کی تو اس میں کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے
    کشمیر کے لوگوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ رائے شماری کے ذریعے مستقبل کا فیصلہ کرے یہ قرارداد قوموں کی حقیقی حق خود ارادیت کے ہم معنی تھی اور اس میں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے سلسلہ میں کشمیریوں کو تینوں راستوں کی ضمانت دی گئی تھی اس میں تینوں آپشن تھے یعنی اس میں کشمیر کی آزادی کی برابر گنجائش تھی ۔لیکن بات اگر ایک بار پھر پاکستانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے مطالبے پر اس قرار داد میں تبدیلی لا کر اس میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کر کے کشمیریوں کی آزادی کے راستے کو بند کر دیا گیا اور اس میں کشمیر کے مستقبل کی بجائے کشمیر کے الحاق کے الفاظ لکھ دئیے گئے ۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کے امکانات کو ختم کردیا گیا۔
    ان تاریخی اور آن دی ریکارڈ حقائق کی بنیاد پر آج بجا طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سے نکال بغیر کشمیریوں کی آزادی کا دروازہ بند کیا جا سکتا ہے تو پھر یہ کھلولا کیوں نہیں جا سکتا؟؟

    آزادی کا دروازہ بند کرانے اور کھولنے کے عمل میں بنیادی فرق کیا ہے ؟؟؟
    یہی ناکہ اقوام متحدہ کے موجودہ قراردادوں کی بنیاد پر پاکستانی حکمرانوں کو پورا یقین ہے کہ کشمیری بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے لیکن اگر آزادی کا راستہ کھل گیا تو دنیا کی دیگر اقوام باشمول بھارت و پاکستان کی عوام کی طرح کشمیری بھی آزاد رہنے کو ترجیح دیں گے ۔اس کے علاوہ کوئی اور فرق مجھے تو نظر نہیں آتا اور اگر بنیادی فرق یہ ہے تو پھر یہ دعوی کس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ کشمیری پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ؟؟؟

    کشمیریوں کی قومی امنگوں کا پتہ لگانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ کشمیریوں کو غیر مشروط اور غیر محدود حق خود اختیاری دیا جائے یہ خود ان سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں پاکستان یا بھارت سے الحاق یا آزادی ۔اس کے علاوہ جس طریقے سے کشمیر کے لوگوں کی رائے کے بارے میں دعوی کیا جائے گا وہ جھوٹ یا آدھا سچ ہو گا ۔اور آدھے سچ کی بنیاد پر کیے گئے قومی فیصلے کبھی دیرپا نہیں ہوتے اور اکثر آگے چل کر ملک کی ٹوٹ پھوٹ اور بے تحاشہ خون خرابے کا باعث بنتے ہیں ۔
    نوٹ:
    اگست١٩۴٨ء کی قرارداد کے حوالے سے قاضی حسین احمد صاحب نے جو مضمون 13 اگست 1992 کہ جنگ لندن میں لکھا ہے اس میں شاید سہوا انہوں نے 13 اگست کی قرارداد کے الفاظ بدل کر لکھے ہیں اور مستقبل کے فیصلے کے حق کی بجائے الحاق کا حق لکھا ہے پاکستانی سفارتخانے نے جو کتابچہ KASHMIR IN SECURITY COUNCIL چھاپہ ہے اس میں قرارداد کے الفاظ وہی لکھے ہیں ۔جن کا حوالا میں نے اوپر دیا ہے۔

    @zeeshanwaheed43