Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    ناگہانی آفات اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا، جس کا سربراہ کوئی بھی سول یا فوجی افسر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا بنیادی مقصد ناگہانی آفات کی صورت میں اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح کو کم کرنا، ختم کرنا اور تمام اداروں کا انفرادی کے بجائے اجتماعی کام کرنا تاکہ اداروں کے وسائل تقسیم یا ضائع ہونے کے بجائے مرکزیت کی وجہ سے تمام متاثرین میں برابر تقسیم ہوں۔

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے اور ان کی وجہ سے سیلاب آنے کی پیش گوئی پہلے سے ہی محکمہ موسمیات نے کر دی تھی، ظاہری بات ہے ملک میں مناسب مقامات پر ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان سیلابی ریلوں کو مینج نہیں کر سکتے تھے ۔

    اس صورت حال میں این ڈی ایم کی پہلی ترجیح تمام متعلقہ محکموں کی میٹنگ بلا کر انہیں ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں پیشگی آگاہ کرنا اور انہیں ان ذمہ داریوں کے لئے ضروری وسائل پیشگی اکٹھے کرنے کی ہدایات دینا تھی۔

    اس کے بعد این ڈی ایم اے کو متعلقہ محکموں کو ہدایت کرنا تھی کہ وہ سروے کریں کہ سیلاب آنے کی صورت میں کن علاقوں میں کٹ لگا کر سیلابی علاقوں کا رخ وہاں موڑا جائے تا کہ مالی نقصان یا انفراسٹرکچر کا نقصان کم سے کم ہو۔

    پھر این ڈی ایم اے کا کام سیلاب سے متوقع متاثرہ علاقوں کے رہائشی تمام لوگوں (جن کے شناختی کارڈ پر اس علاقے کا پتا "ایڈریس ” ہو) کو قریب ترین محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، متاثرین کو رہائش ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری اور نجی اسکولز میں، اس کے بعد سرکاری عمارتوں میں اور سب سے آخر میں کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں لگا کر فراہم کرنا ہے ۔

    اس کے بعد متاثرین کو جن علاقوں میں منتقل کیا گیا ہو وہاں موجود بنکوں کو پابند کیا جائے کہ متاثرین کے اکاؤنٹ بائیو میٹرک کھولے جائیں اور انہیں بنک لاکر فراہم کئے جائیں اور اے ٹی ایم کارڈ فراہم کئے جائیں تا کہ امدادی کیمپوں سے جو نقدی اور قیمتی سامان چوری ہونے کا خدشہ یا شکایات ہوتی ہیں، وہ نہ ہوں اور متاثرین حسب ضرورت اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکلوا سکیں ۔

    اس کے بعد متاثرین کو ان کے کوائف کے مطابق روزانہ راشن فراہم کیا جائے جبکہ نجی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرین کو راشن حکومت کے تعاون سے فراہم کرے تا کہ راشن ضائع نہ ہو، امدادی کیمپوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

    متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان کی خوراک و ادویات کا انتظام کرنے کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی کہ وہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کوائف کے مطابق اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق (بین الاقوامی اور حکومتی امداد) لوگوں کے ملکیتی مکانات کم از کم اسٹرکچر بنا کر دے اور لوگوں کی فصلوں کا جو نقصان ہوا اس کے انہیں نقد پیسے دے تاکہ وہ بحالی کے بعد دوبارہ حالات سازگار ہونے پر اپنی فصلیں دوبارہ کاشت کر سکیں ۔

    مکانات کی ملکیت اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ذریعے پہلے سے ہی لگوا سکتا تھا، متاثرین کی بحالی کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری حکومت کو تمام متاثرین کا ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب امداد دے۔

    این ڈی ایم اے کے ان قبل از وقت اقدامات کی وجہ سے سیلاب آنے کی وجہ سے جانی نقصان بالکل بھی نہیں ہونا تھا جبکہ مالی نقصان کم سے کم ہونا تھا، اکثر لوگ نقدی اور قیمتی اشیاء گھروں میں رکھتے ہیں امدادی کیمپوں میں ان کی چوری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ بنک میں رکھنے کی وجہ سے محفوظ ہو جاتیں ہیں ۔

    سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو امداد پہنچانا مشکل ہوتی ہے جبکہ تمام لوگوں کی امدادی کیمپوں میں منتقلی کی وجہ سے تمام متاثرین کو ان کے خاندان کی تعداد کے مطابق امدادی راشن بغیر کسی دشواری کے باعزت طریقے سے ملتا ہے ۔

    انفرادی حیثیت میں امداد جمع کرنے سے اس میں خردبرد کا امکان ہوتا ہے جبکہ حکومتی تعاون کی وجہ سے اس امداد کا بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور امدادی کیمپوں میں کوائف کی بنیاد پر متاثرین کی منتقلی کی وجہ سے پیشہ ور اور جعلی متاثرین کا معلوم ہو جاتا ہے۔

    امدادی کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی تک تمام کام این ڈی ایم اے اپنے وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے بآسانی کر سکتی تھی جبکہ متاثرین کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے وسائل بین الاقوامی برادری سے ملنے والی امداد اور حکومتی اور مخیر حضرات کے تعاون سے فراہم کر سکتی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا مقصد اور تمام متعلقہ اداروں کو اس کے ماتحت کرنے کا مقصد اور وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر کیا اقدامات کر سکتی تھی اور ان کے فوائد کیا تھے وہ سب آپ کو بتا دئیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے پوری کیں یا وہ بھی ہماری قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہے؟

    اس سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔

  • "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    کل عید ہوگی یا پرسوں؟۔ یہ بات گاؤں کے ہر دوسرے شخص کی زبان پر تھی۔ اس گفتگو کو مدتیں نہیں ہوئیں، بس ہمارے گاؤں میں بجلی، ٹی وی کا دور زرا دیر سے آیا۔ روزہ افطار کرتے ہی ، تمام مرد مغرب کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد کی طرف جارہے تھے کہ اتنے میں آواز آئی وہ دیکھو چاند ۔۔۔۔۔

    نماز کے بعد سارا گاؤں مسجد کے صحن میں کھڑا چاند کو ڈھونڈنے میں مشغول ہے۔ اور میں گھر میں بیٹھا ریڈیو پر ہلال کمیٹی کے اعلان کے انتظار میں۔۔ بہر حال ہلال کمیٹی کے ڈھونڈنے سے پہلے ہی ہمارے گاؤں میں چاند ڈھونڈ لیا گیا تھا ۔

    مسجد کے سپیکر میں عید کے اعلان کی آواز کے ساتھ بچوں کی سرگوشیاں اور قہقہے بھی گونج رہے تھے۔ مگر تب بچوں کی خوشیوں سے اللہ ناراض نہیں ہوتا تھا ۔ اب تو مسجد میں کم سن پھولوں کی شرارتوں سے بھی مولوی صاحب کو اللہ کی ناراضی کا گمان ہوتا ہے ۔

    اور پھر مولوی صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ سے وہ بچہ تاعمر مسجد جانے سے کتراتا ہے ۔ خیر موضوع تو عید ہے یہ رونا دھونا کسی اور تحریر کےلیے رکھ چھوڑتے ہیں ۔

    بچے گھروں کو دوڑ پڑتے ہیں ۔ اور اب وقت ہوا چاہتا ہے خواتین کی بے تحاشا مشقت کا۔ سب سے پہلے استری میں کوئلے ڈالنا۔۔۔ پھر مٹی کے تیل اور کوئلوں کی مدد سے گرم کی گئی استری سے کپڑے استری کرنا اور پھر آدھی رات حلوے کے ساتھ کھپ ڈالے رکھنا( بعض گھروں میں رسم حلوہ پکائی عید کے روز شام کو بھی ہوتی)۔۔۔۔کیونکہ میں ایک تلہ گنگیا ہوں تو ہماری سائیڈ پر مکھڈی حلوے کے بغیر عید اور دوسرے تہوار نامکمل سمجھے جاتے ہیں۔کڑاہی اور شپیتا لیے مائیں ، دادیاں حلوہ پکانے میں مشغول ہوجاتیں ہیں۔لڑکے کھیلنے میں۔۔ اور لڑکیاں مہندی لگانے میں۔۔

    کچھ گھروں میں عید کی صبح جبکہ بعض گھروں میں شام کے وقت پتلی سی روٹی میں مکھڈی حلوہ ڈال کر بیٹیوں ، بہنوں اور گاؤں کے سیپیوں (پرانے وقتوں میں کچھ لوگ جیسا کہ نائی، موچی ، میراثی کام کے بدلے دانے لیتے تھے ،اسے سیپی کہا جاتا) کو دیا جاتا جسے عرف عام میں ڈھاراڑی کہا جاتا۔ یہ کام عموماً بچوں کے حصے میں آتا اور یہیں سے عیدی جمع کرنے کے سلسلے کا آغاز بھی ہوتا۔

    اور پھر یوں ہوا کہ شہروں کی ہوا نےعید کے ان سب مناظر کو ہوا کر دیا۔ مگر کالج کے دور میں تقریبا دو سال پھر مکھڈی حلوہ کھانے کو ملتا رہا۔ سین کچھ یوں ہوا کہ ہم میٹرک کے بعد اعلی تعلیم کے لیے کلرکہار کے معروف تعلیمی ادارے ” سائنس کالج” چلے گئے ۔

    جس روز بھی بارش ہوتی،کالج میں موجود بابے طلباء کی کینٹین پر مکھڈی حلوہ کھانے کو ضرور ملتا۔کالج میں میرا دوست رفاص ، میرا گرائیں تھا اور بابا طالبان بھی، سو خوب حلوہ کھایا۔جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو سرگودھا میں ہوں، چار سالوں میں ادھر مکھڈی حلوہ تو نہیں دیکھا۔ مگر سموسہ چاٹ کے اوپر کیلے ضرور دیکھے ہیں۔

  • غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ اضافے کا اعلان کیا ہوا کہ میرے لئے تو کمبختی آ گئی۔وہ یوں کہ رات گئے جونہی حکومت نے پندرہ دنوں بعد پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کیا تو "ماما بلو” جسے مجھ سے ملے ہوۓ کافی عرصہ ہو گیا تھا وہ آن دھمکا اور لگا ہاتھ اٹھا اٹھا کر صلواتیں سنانے-! یہ ہے تمہاری حکومت جس نے اب پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے۔کیسی ہے یہ حکومت ؟ جو دن کے اوقات میں قیمتیں بڑھانے کی سمری کو مسترد کرتی ہے اور جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔اور لوگ سونے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ایسے میں تم قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیتے ہو تاکہ سوۓ ہوۓ لوگ صبح بیدار ہوں تو ان کو یہ روح فرسا خبر ملے اور ان کے آنے والے پورے دن کا ستیاناس کر دے۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں-؟

    یہی کہ لوگ اب مر جائیں کیونکہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہو چکی ہے کہ اب یہی راستہ ان کے پاس رہ گیا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں۔نہ صرف خود مر جائیں بلکہ اپنی "جیا جنت "کو بھی ساتھ لیکر ملک عدم کو سدھار جائیں۔

    آپ نے حکومت میں آتے وقت دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے تھے۔اب وہ سب دعوے کیا ہوۓ۔؟عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ۔لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ۔عوام کو سہولیات دینے کا دعویٰ۔مہنگائی کو ختم کرنے کا دعویٰ- عوام میں ہائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کا دعویٰ۔ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کا دعویٰ۔صحت اور تعلیم کی سہولیات کو عام کرنے کا دعویٰ۔

    معاشرے میں موجود نا انصافی اور استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ۔یہ سب دعوے اب کیا ہوۓ۔لوگ تو اب مایوس ہونے لگے ہیں آپ سے بھی اور وہ بھی اتنی جلدی-! ۔لیکن جب کوئی آپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اس بحران کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیتے ہو۔او بھائی-! یہ سابقہ حکومت کا گند تھا تو آپ نے کیوں اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔؟ کیوں ان کی برائیوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔؟ چلنے دیتے ان کو اور کچھ عرصہ اپنے ان کرتوتوں کیساتھ۔اگر ملک کی بھلائی اور عوام کی اشک سوئی ہی آپ کا مقصد تھا تو اب وہ مقصد کہاں گیا۔؟

    معلوم ہوا تمہارے پاس کوئی پالیسی کوئی پلان اور کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تم بھی بغیر کسی تیاری کے آۓ ہو ان سابقہ حکمرانوں کی طرح جنہیں حکومت کرنے کا تو کوئی تجربہ ہی نہ تھا سواۓ ملک کو لوٹنے کے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم صرف نے سابقہ حکمرانوں کے بغض میں اس بھاری پتھر کو چوما ہے۔

    "ماما بلو” اپنی لمبی چوڑی اس تقریر کے بعد جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں نے اسے کہا کہ تمہاری یہ باتیں بلکل سچ ہیں۔ نئی آنے والی موجودہ اتحادی حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ  دعویٰ کیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح  یہ ہو گی کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جاۓ اور  اس کیساتھ   ساتھ افراط زر میں بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاۓ گا مگرحالیہ دو مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں جو  ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس کیساتھ ساتھ  بجلی اور گیس کے نرخوں میں جو  اضافہ ہوا ہے اس نے  تو عوام کی کمر ہی توڑ کر رکھ  دی ہے بلکہ اس کی چیخیں ہی نکال دیں ہیں-

    اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت بظاہر صرف دعووں پر جی رہی ہے  اور وعدوں پر انحصارکر رہی ہے اور عوام کو سہولت پہنچانے اور مہنگائی ختم کرنے کے یہ دعوے اب دھوکہ سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ اب اس طرف کسی کی بھی کوئی نظر یا توجہ نہیں ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جنہیں حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے وہ بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ حکومت اتحادیوں کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور انہیں خوش کر کے اور ان کے مفادات پورے کر کے ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

    اس اتحادی حکومت نے آتے ہی قرضہ لینے کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبے پر صرف پندرہ دنوں کے اندر اندر تیل کی قیمتوں میں چوراسی روپے کا خطیر اور ہوشربا اضافہ کیا تھا جس سے ہر وہ شخص بلبلاء کے رہ گیا جو کما کے کھاتا ہے۔جو مزدور ہے جو دیہاڑی دار ہے۔ جو ٹھیلے والا اور سبزی فروش ہے اور جو پینشنر ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں بلکہ اب وہ وقت آ چکا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پھٹنے کو ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئے روز بجلی گیس پٹرول سمیت اشیائے خوردونوش میں اضافہ کرکے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری یوٹیلیٹی سٹورز  پر  کئی اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آبادی کے تناسب سے انہتائی کم تعداد پر موجود ان سٹوروں پر ساری اشیائے خردو نوش دستیاب نہیں ہیں اور شومئی قسمت ان یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی لوگ مطمن نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان کی انتظامیہ کے بارے میں یہ  شکائیت کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ بعض اشیاء جیسے چینی اور گھی باہر ہی باہر اپنے تعلق داروں یا دوکانداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور عوام اس سے محروم ہی رہتی ہے۔

    اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے آٹے گھی اور چینی کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔وہ سارا سارا دن ذلیل و خوار ہو کر شام کو بے نیل و مرام اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

    اس بد نظمی ہی کی وجہ سے آج ہمارا ہر شعبہ زندگی انحطاط کا شکار ہے۔ہر جگہ کوئی نہ کوئی مافیا قبضہ جماۓ بیٹھا ہے۔بلکل اسی طرح سیاست کا شعبہ بھی بد ترین فرعونیت کا شکار ہے۔ ہر ایک خود کو ہی جمہوریت کا ٹھیکیدار اور چیمپین سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔موجودہ سیاسی بحران اس کی بہترین مثال ہے۔ آئین کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔

    بڑے بڑے آئینی عہدیدار ہی آئینی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔اسی لئے ہماری عدلیہ پہ بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔عام لوگوں کے سالہا سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور وہ انصاف کیلئے ترستے اور جیلوں میں بند رہتے ہیں دوسری طرف پوری دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جاتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بلکل برعکس ہے۔یہاں غریبوں سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔غریبوں سے بجلی کے بل اس پہ انواع و اقسام کے اضافی ٹیکس لگا کر لئے جاتے ہیں اور امیروں اور واپڈا اہلکاروں کو بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے۔موجودہ ماہ کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ہزاروں روپے ڈال دئے گئے ہیں ۔

    طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پہ کسی قسم کا کوئی تاسف یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو واپڈا نے غریب عوام پہ ڈھا رکھا ہے ۔ غریبوں کیلئے تیل مہنگا کیا جاتا ہے اور اہل ثروت اور اہل اقتدار کیلئے اس کے مفت کوٹے مقرر ہیں۔حکومت اگر کسی چیز پہ سبسڈی دیتی ہے تو اس سبسڈی کا بہت بڑا حصہ یہ بڑی بڑی توندوں اور پیٹوں والے کھا جاتے ہیں اور غریب بیچارا بھوکا رہ جاتا ہے۔

    ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس نے ملک کو استحکام نصیب نہیں ہونے دیا۔جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ فرعون بن بیٹھتا ہے اور دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے پروگرام بناۓ جاتے ہیں اور انہیں برسر اقتدار آنے کی صورت میں سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں جب نوے کی دہائی میں دو سیاسی پارٹیوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے وہ وہ جتن کئے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں اور یہی کچھ بعد میں آنے والوں نے بھی کیا اور کسی کو کام نہ کرنے دیا بلکہ احتجاج دھرنے اور لانگ مارچ کر کے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر حکومتیں بر طرف ہوئیں اور ہر برطرفی کے پیچھے جمہوریت کے کسی نہ کسی دعویدار اور ٹھیکیدار کا ہاتھ ہی محسوس کیا گیا۔

    سوال یہ ہے اب شکائیت کس سے کریں کہ کب تک ایسا ہوتا رہیگا اور کب تک عوام مہنگائی نا انصافی اور ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور کب تک امیر اور غریب کے درمیان موجود یہ تقسیم باقی رہے گی۔؟ دنیا داروں نے تو جینے کا حق ہی چھین لیا۔لہذا اب شکائیت صرف اللہ سے ہے جو قادر مطلق ہے اور پالنے والا ہے سب جہانوں کا۔ اسلئے خدارا سوچو۔سوچو -! اس ملک کی بہتری کیلئے اس کی بقاء اور ترقی کیلئے اس کے استحکام اور حفاظت کیلئے کیونکہ یہ ملک ہی ہے جس کی بناء پر دنیا میں ہماری پہچان ہے۔

  • سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خدا نہ کرے ہم پر قہر نازل ہو قرآن پاک کا مطالعہ کریں جن قوموں پر قہر نازل ہوا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ دنیا بھر میں بارشیں ہوتی ہیں حکومتیں اور متعلقہ ادارے منصوبہ بندی کرتے ہیں حکومتیں، انتظامیہ فلڈ وارننگ پر نظر رکھتی ہیں۔ ایک ایک انسان کی حفاظت کی جاتی ہے انسانوں کو انسان سمجھا جاتا ہے۔ دعائیں دینے والے اور بددعائیں دینے والے حضرات سے معذرت کے ساتھ پاکستان میں یہ آفت کا قہر کیا غریب اور بے بس لاچار عوام پر ہی آتا ہے۔ کیا یہ قہر مخصوص طبقے کے لئے رہ گیا ہے ہر گز نہیں ۔ یہ خدا پاک کا قہر نہیں بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے خدا پاک اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ ان سیلابی ریلوں کو روکا جا سکتا ہے ملک میں ڈیم بنا کر روکا جا سکتا ہے۔

    بھارت نے پانچ ہزار ڈیم بنا دیئے۔ بنگلہ دیش نے سینکڑوں ڈیم بنا دیئے اور اس طرح کے طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ جنگلات اور پانی دو ایسی قدرتی طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں دنیا بھر میں جنگلات کے تحفظ کے لئے ادارے موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ہم نے پورا ملک بڑے بڑے لینڈ مافیا کے حوالے کر دیا وہ جنگلات کاٹ کاٹ کر ہائوسنگ سوسائٹیز بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں پر بحث کی جا رہی ہے جبکہ برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ گرین ہائوس کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے لیکن پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں کا بدترین سامنا کرنیوالے سرفہرست دس ممالک میں ہوتا ہے ۔ کلاڈیا ویب نے لکھا ہے کہ قطب شمالی کے بعد سب سے زیادہ گلیشیرز پاکستان میں پگھل رہے ہیں۔ کلاڈیا ویب نے کہا اس کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں ملک کی سیاسی قیادت، جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں کے ہاتھوں میں ہے کیا کہا جائے جنہوں نے اپنے محل تو محفوظ کر لئے مگر پاکستان جو بائیس کروڑ عوام پر مشتمل ہے اس گھر کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا نہ ڈیم بنانے کی طرف توجہ دی نہ جنگلات کے تحفظ کے لئے کچھ کیا۔

    سیاسی قیادت نے یارانے لینڈ مافیا اور ٹمبر مافیا کے ساتھ ہیں بیورو کریسی اور سول انتظامیہ خاموش تماشائی ہے قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اس وقت ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف غداری اور سازشی اور اب دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر ملک و قوم کی کون سی خدمات سرانجام دے رہی ہیں؟ ایک دوسرے کو سیاست سے آئوٹ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اس ملک کو سنوارنے اور عوام کو ایسی آفات سے بچانے کی منصوبہ بندی کون کرے گا؟ ڈیم کون بنائے گا؟ جنگلات کا تحفظ کون کرے گا ؟ اگر آج بھی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جائیں گے۔

  • اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے قریب کیوں ہوتا ہے ؟ — ثمینہ کوثر

    اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے قریب کیوں ہوتا ہے ؟ — ثمینہ کوثر

    ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے میرے رب عزوجل میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ : مجھے ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس تلاش کرو ۔

    اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت داود علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے اللہ عزوجل! اگر میں تجھے تلاش کروں، تو تو مجھے کہاں ملے گا ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (میں) ان لوگوں کے پاس ملوں گا، جن کے دل میرے خوف سے شکستہ (ٹوٹے ہوئے ) ہوں۔

    یہ تھیں وہ روایات جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہے یا پھر اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں بستا ہے ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا مسکن ٹوٹے ہوئے دلوں کو ہی کیوں بنایا ہے ۔ آخر ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں کیا خوبی ہے کہ اگر ہم اللہ کو تلاش کریں گے تو وہ ہمیں ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں ہی ملے گا ۔ تو آج ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالی ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں بستا ہے ۔

    دراصل اللہ تعالی ہر پاکیزہ اور صاف ستھرے دل میں رہتا ہے ، جو دل ایمان کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ، اللہ تعالی انہی دلوں میں اپنا بسیرا بنا لیتا ہے لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں کوئی ایسا شخص ، کوئی ایسی چیز ، کوئی ایسی خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ ہم اسی میں کھو جاتے ہیں ، ہم اس چیز میں ، اس انسان ان میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ اس چیز ، اس انسان اور اس خواہش کی تمنا اور محبت ہمارے دلوں میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ، جس سے آہستہ آہستہ ہمارے دلوں سے اللہ تعالی کی محبت کم ہونے لگتی ہے اور ہمارے دل آہستہ آہستہ نفاق ، خود غرضی ، ہٹ دھرمی اور منافقت سے بھر جاتے ہیں ۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہم ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ہم اپنی خواہش ، اپنی محبت اور اپنی تمنا کو پانے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جانے کو تیار ہوتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ہم اس خواہش ، اس تمنا اور اس محبت کی وجہ سے ریزہ ریزہ کر دیے جاتے ہیں ۔ ہم جن چیزوں کے لئے اللہ تعالی کی نافرمانی شروع کر چکے ہوتے ہیں ، جن کاموں کی وجہ سے گناہوں کی دلدل میں گرتے چلے جارہے ہوتے ہیں ، جس دل میں ہم نے اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو بسا لیا ہوتا ہے ، پھر اسی چیز ، اسی محبت ، اسی انسان کے ذریعے ہمارا دل ریزہ ریزہ کیا جاتا ہے ۔ ریزہ ریزہ بھی ایسا کہ اگر ساری کائنات بھی اس ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیاں جمع کرنے کی کوشش کرے کرے تو یہ کسی کے بس کی بات نہیں رہتی اور جب یہ دل ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے تو تب ایک دفعہ پھر سے اس تمناء ، اس خواہش ، اس محبت کے ساتھ ساتھ ہمارے دل سے نفرتیں ، نفاق ، خود غرضی ، جھوٹ ، فریب اور ہوس سب نکل جاتا ہے ۔ جب دل ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں تو یہ تمام برائیوں اور گناہوں سے پاک کر دیے جاتے ہیں ۔ پھر اس کو جوڑنے والا اگر کوئی ہوتا ہے تو صرف ایک اللہ ۔ جب یہ ریزہ ریزہ دل نفرت ، حسد اور لالچ سے پاک ہوتا ہے تو اللہ تعالی کو یہ دل پھر سے محبوب ہو جاتا ہے ۔

    وہ دل جس میں ہم نے ایسے شخص کو بسایا تھا جس کی محبت کو ہم نے اللہ تعالی کی محبت سے زیادہ اہمیت دی تھی پھر وہی دل دوبارہ سے ہر غیر کی محبت سے پاک ہو چکا ہوتا ہے اور جب ٹوٹا ہوا دل ہر قسم کے شرک سے پاک ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی دوبارہ سے اسی دل کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے ۔ اللہ تعالی اس پاکیزہ ٹوٹے ہوئے دل کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے ۔ اسی دل میں اپنا ڈیرہ جما لیتا ہے اور پھر وہ ٹوٹا ہوا دل بے حد مطمئن اور پرسکون ہو جاتا ہے اور پھر نہ صرف یہ کہ وہ خود سکون میں ہوتا ہے بلکہ اس دنیا جہان میں جتنے بھی بے سکون اللہ سے ملنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اللہ تعالی ان سب کو اس ٹوٹے ہوئے دل کا پتہ بتا دیتا ہے اور پھر یہی کہتا ہے کہ مجھے شکستہ دلوں کے پاس ، ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس تلاش کرو میں وہی ملوں گا ۔ بس اتنا یاد رکھیں کہ اگر دل ٹوٹ گیا ہو اور اس کو جوڑنے والا کوئی نظر نہ آ رہا ہو تو سمجھ لیں کہ یہ اللہ تعالی کی امانت تھی اور اللہ تعالی نے ہی اسے بنایا تھا ، اب پھر سے وہی ایسا کاریگر ہے کہ اس ٹوٹے ہوئے دل کو صرف وہی جوڑ سکتا ہے ۔ یقین جانیں کہ اللہ تعالی اس ٹوٹے ہوئے دل کو اس طرح سے دوبارہ جوڑے گا کہ کہیں کوئی پیوند نظر نہیں آئے گا کہیں کوئی جوڑ نظر نہیں آئے گا ۔ یہاں تک کہ یہ ٹوٹے ہوئے دل جڑ جانے کے بعد بھی کبھی بھی نفرت حسد اور گناہ کی آماجگاہ نہیں بنیں گے لہذا جب بھی دل ٹوٹے تو اسے اس کے اصل مالک کے پاس لے جایا کریں اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ کا دل نہیں بھی ٹوٹا تو بھی اپنے دل کو حسد ، جھوٹ اور منافقت جیسی بری صفات سے پاک کر لیجئے ۔ اللہ تعالی پھر بھی آپ کے دل کو اپنا مسکن بنا لے گا ۔ یاد رکھیے کہ اپنے دل کو کبھی بھی ایسی تمنا ، خواہش اور محبت میں مبتلا مت کیجئے جس سے اللہ کی ساتھ محبت میں کمی آجائے ۔

  • صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    ہر انسان کو اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، ہر شے کو فنا ہونے والی ہے لیکن جب انسان اس دنیا سے کوچ کرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے اس کے اپنے کئے ہوئے اعمال ہی اس کا سہارا بنتے ہیں. اچھے اور برے اعمال کا دارومدار بھی اس انسان پر ہی ہے کہ اگر نیک اعمال ہونگے تو اس بندے کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائیں گے اگر برے ہونگے تو اس کے لیے بربادی ہے.

    مرنے کے بعد صرف تین چیزیں ہیں جو اس کے لیے نجات کا ذریعہ بنتی ہیں.

    1: دعا
    2: اس کی اولاد جو بھی نیک اعمال کرتی ہے اس کا اجر اس مرنے والے کو ملتا ہے.
    3: صدقہ

    جب تک انسان زندہ ہوتا ہے وہ اچھے اور برے اعمال کرتا ہے. اس کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے. جب تک اس کے اہل وعیال رشتہ دار زندہ رہتے ہیں وہ دعا کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے مرنے کے بعد یہ سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے. لیکن جو تیسری چیز انسان کر جاتا ہے وہ صدقہ جاریہ ہے. جو ہمیشہ باقی رہتا ہے اور جو انسان کے لیے نجات کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے. اس کی کئی صورتیں ہیں.

    1: علم: جو انسان علم حاصل کرکے دوسروں تک پہنچاتا ہے وہ علم آگے بڑھتا رہتا ہے تو مرنے کے بعد اس عالم کو اس کا اجر ملتا رہتا ہے.

    2: وہ کام جو انسان کسی تعمیر کی صورت میں کرے. جس میں سرفہرست مسجد بنوا دینا، جب تک نمازی نماز پڑھیں گے اس انسان کو مرنے کے بعد بھی اس کا اجر ملتا رہے گا. کوئی فاونڈیشن یا اسپتال بنوادینا جس سے اس بندے کے اجر میں اضافہ ہوتا رہے گا.

    معزز قارئین. لوگ صدقے کو ایک ادنیٰ سی چیز تصور کرتے ہیں. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صدقے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے. حدیث شریف میں ہے کہ جب بندہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اس کی ایسی پرورش کرتا ہے جیسے ایک انسان اپنے گھوڑ یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے.

    بہت سارے لوگ صرف ڈونیشن کرنے کو ہی صدقہ سمجھتے ہیں. حالانکہ انسانیت کی خدمت بھی ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے اگر آپ کی وجہ سے کسی انسان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو یہ سب سے بڑا صدقہ ہے.

    بہت سارے رہنما اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کے لئے وقف کردیں ہیں. ان میں سے آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں. ان کی انتھک محنت اور کوشش کے بعد ملک پاکستان وجود میں آیا. انہوں نے ہی نہیں ان کے ساتھ مل کر کئی لوگوں نے کام کیا کتنے ہی لوگوں نے اپنی زندگیاں گنوائیں اور ہمیں آزاد ملک دے دیا.

    رہتی دنیا تک لوگ ان سب کو دعائیں دیتے رہیں گے لیکن آج بھی ہمارے ملک کو ایسے ہی جانثار لوگوں کی ضرورت ہے. آج ہمارے ملک پاکستان میں جو حالات چل رہے ہیں اس میں کتنے انسان خطرے میں ہیں.

    حالیہ بارشوں کی وجہ سے لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے، کتنے لوگ ہیں جو بےآسرا کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے. اگر ایک فرد بھی کسی انسان کی مدد کرتا ہے تو کتنے ہی افراد مل کر لوگوں کی نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں.

    خدمت انسانیت ہی ہے جو ایک انسان کو تمام لوگوں میں مقبول بنادیتی ہے. بعض اوقات انسان کے پاس ایسا کوئی موقعہ نہیں ہوتا ہے یا انسان کے پاس کوئی ذرائع نہیں ہوتے ہیں کہ انسان کوئی خدمت کا کام سرانجام دے سکے. اسلام میں بھی سب سے زیادہ حقوق العباد کا ذکر ہے. اس لئے اگر وہ کچھ نہیں کرسکتے تو اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرسکتے ہیں. اچھا سلوک بھی خدمت انسانیت کے زمرے میں آتا ہے. کسی انسان کے برے وقت میں اس کے ساتھ مسکراہٹ کے ساتھ ملنا بھی صدقہ ہے.

    خدمت انسانیت ہی ایسا جذبہ ہے جس سے ایک انسان کی اچھائی اور برائی کا پتہ چلتا ہے اسی جذبے کے تحت اگر انسان اگر کوئی عمل کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آخرت اور دنیا دونوں سنوار دیتا ہے. اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سب اکٹھے ہوں اور بارشوں اور سیلاب سے متاثر اور تباہ حال لوگوں کے لیے سہارا بنیں. ہم اپنے راشن رقم بستر وغیرہ دے کر ان کی مدد کرسکتے ہیں.

    ذرا ٹھہر کر سوچیں کہ یہ وقت ہم پر بھی آسکتا ہے. یہ صرف ایک نشانی ہے جو اللہ نے ہمیں دکھائی ہے اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے کتنی ہی بڑی عمارتیں اور شہر ہیں جو ایک لمحے میں نیست و نابود ہوسکتے ہیں. لیکن اللہ بہت رحیم ہے ہمیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ ہم سدھر سکیں.

    اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور ڈوبتے لوگوں کا سہارا بنیں. کیا پتہ اس کارخیر سے اللہ تعالیٰ ہمیں بخش دے اور ان آفتوں کو ٹال دے.

  • آزمائش — عاشق علی بخاری

    آزمائش — عاشق علی بخاری

    رسولِ کریم امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پہ آتی ہے اور پھر ان لوگوں کو زیادہ آزمایا جاتا ہے جو انبیاء کے نزدیک ہوتے ہیں. (مفہوم حدیث)
    اس سے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مشکلات و پریشانیوں سے کوئی محفوظ نہیں بلکہ یہ ہر عام و خاص کو پہنچتی ہیں. اور یہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں.

    اور یہ ان لوگوں کو بھی پہنچیں جنہیں انسانوں میں سے ایک خاص مقصد کے لیے منتخب کیا گیا تھا. اور پھر یہ نہیں کہ انہیں تھوڑی آزمائشیں آئی ہوں بلکہ تمام انسانیت سے زیادہ انہیں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے یا آپ کو جو مشکل پہنچ رہی ہے اگرچہ مجھے اس کا علم نہیں لیکن وہ مجھ سے پہلے لوگوں کو بھی پہنچتی رہی ہے. اور پھر ہوسکتا ہے جو مجھے تکلیف پہنچی ہے وہ کم ہو. میرے مقابلے میں وہی آزمائش کسی اور کو بہت زیادہ پہنچی ہوگی.

    دوسری بات یہ ہے کہ ان مشکلات کے دوران ہمیں وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو انبیاء کرام علیہم السلام نے اختیار کیا. اور وہ لوگ ان آزمائشوں پر ہمیشہ ثابت قدم رہے. صبر و استقامت ساتھ سے ان مشکلات کا سامنا ہی نہیں کیا بلکہ رب کی رضا پہ راضی رہے.

    جزع و فزع نہیں کی، اپنی مشکلات کا رونا نہیں رویا.کسی حیلے بہانے کا سہارا نہیں لیا. اس لیے ہمیں بھی چونکہ چنانچہ اگرچہ مگرچہ سے نکل کر خالص اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے.

    ہم مشکلات کی گتھیاں سلجھانے میں لگ جاتے ہیں، چونکہ بحیرہ عرب میں بننے والا سسٹم بہت زور دار اس لیے بارش ہوئی. اور دوبارہ بارشوں کا سلسلہ اس لیے شروع ہوا کیونکہ بنگال کے سمندر میں سسٹم بن رہا تھا. ہمیں نقصان اس لیے زیادہ ہوا کہ ہمارے شہر ترقی یافتہ نہیں. ایسے ہوتا تو یہ ہوجاتا، ہوائیں مشرق سے چلتی تو یہ ہوجاتا ہے.

    نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ ہمارے ساتھ کشتی میں آجاؤ لیکن وہ نہیں مانا بلکہ کہنے لگا میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا یہ سیلاب میرا کیا بگاڑ لے گا. عاد و ثمود پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، اس قدر زیادہ قوت و طاقت کے مالک تھے. اپنے رب کا انکار کیا تو انہیں کوئی نہیں بچا پایا اور ایسے پڑے تھے جیسے کھجور کے تنے گرے ہوتے ہیں.

    کیونکہ ایسی حیلے سازیاں ہمارے ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے. اس سے ہمیں بچنا چاہیے، سوچ سمجھ کر اپنی زبان کو استعمال کریں، ایسےکلمات نہ کہہ بیٹھیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن جائیں یا پھر جس وجہ سے ہمارے اعمال ضائع ہوجائیں.

    اسباب و وسائل کو ضرور اختیار کیا جائے لیکن بھروسہ وسائل دینے والی ذات پر رکھنا چاہیے. یہی ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے اور اسی سبب ہم مشکلات سے بھی چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں.

  • میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    پیارے ملک پاکستان کے بیشتر علاقوں میں قیامت صغری کا منظر ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ ایسے اندوہناک مناظر ہیں کہ کلیجہ منہ کو آئے۔ بیٹا باپ کو ڈوبتا ہوا دیکھے اور کچھ کر نہ پائے، باپ بیٹے کو ڈوبتا ہوا دیکھ رہا ہے اور اس کے بس میں کچھ نہیں، ماں بیٹی سے کہے: بیٹی سوتے ہوئے چادر پاس رکھنا، خطرہ ہے سیلابی ریلا آئے اور بہا لے جائے، چادر اپنے سر پر رکھنا۔ اللہ۔ یہ کیسے مناظر ہیں۔ جسے دیکھ کر آسمان بھی رو پڑے۔

    میرا لفظ لفظ پریشاں میں درد لکھوں تو کہاں لکھوں
    میرا قلم ہى نہ رو پڑے میں صبر صبر جہاں لکھوں

    ایک ہی گھرانے کے پانچ افراد چاروں طرف سے پانی میں گھرے مدد کے منتظر ہیں، مگر کوئ پرسان حال نہیں، جو قریب ہیں وہ لاچار ہیں، مدد نہیں کرسکتے، انکی چیخ و پکار سوشل میڈیا کے ذریعے سارے پاکستان میں دیکھی گئ۔ مگر غفلت کی انتہا دیکھئے،مقتدر اداروں کی طرف سے انکی مدد نہ کی گئ، اور ان میں سے چار افراد اس جانکاہ سیلاب کی نذر ہوگئے اور ایک کو بفضل اللہ علاقے کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچایا۔ ایسے بیسوں واقعات ہوئے۔ وہاں مدد کرنے والے افراد نے بتایا کہ ایک ساتھ چھ چھ لاشیں ہمیں سیلاب کے پانی سے ملیں ۔ساٹھ فیصد پاکستان اس سیلابی پانی سے شدید متاثر ہے۔

    میرے محب وطن پاکستانیو! ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم رنگ زبان نسل کی تفریق بھلا کر کھل کر ایسے حالات میں دکھی انسانیت کا سہارا بنے۔ یہ وقت پھر ہم سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ ہم ہر ممکن اپنے بھائ بہنوں کی مدد کریں۔ جس صورت میں ممکن ہو پیچھے نہ رہیں ۔

    یہ ہمارے بھائ بہنوں پر ایک بڑا امتحان ہے۔ اسی میں ہمارا بھی امتحان ہے۔ سب سے پہلے تو ہم اپنی پچھلی غفلت والی زندگی سے تائب ہوں۔ یہ سیلاب اللہ کی طرف سے وارننگ ہے۔ جو بھی مصیبت آتی ہے ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق ہمارے ہی کرتوتوں کے باعث آتی ہے۔ لہذا ہم گڑگڑا کر اللہ سے تمام گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ اپنے بے سہارا بھائیوں کے لئے ہر آن دعا کریں۔ اس تکلیف اور مصیبت کو ٹالنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ ہم اللہ سے دعا کریں۔ وہ دعائیں رد نہیں کرتا۔

    اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ‌ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ‌ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 62)

    ترجمہ: بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

    اور ظاہر ہے یہ دنیا دارالاسباب ہے۔ دعا کے ساتھ ہمت کریں اور اپنے بے یار و مددگار بہن بھائیوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہوں۔
    اٹھ باندھ کمر کیا دیکھتا ہے
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

    ہم اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں۔

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔

    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے یقینا صدقہ اللہ ربّ العزت کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اوربری موت کو دور کرتا ہے۔خود آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ معمول تھا کہ جو كچھ بھی اپنے پاس ہوتا فقرا ومساكین پر نچھاور كردیتے اور كچھ بھی اپنے پاس نہیں ركھتے۔

    اگر كسی موقع پر آپ كے پاس دینے كے لئے كچھ نہ ہوتا تو آپ مناسب رائے ،اچھے مشورے یا كسی نہ كسی ذریعہ سے سائل كی اس طرح مدد كردیتے كہ اس كے لئے رزق كے دروازے كھل جاتے۔ نبوت سے سرفرازی كے بعد آپ ﷺ كی دلجوئی كے لئےآپ كی شریك زندگی حضرت خدیجہؓ كی زبان مبارك سے نكلے ہوئے الفاظ اسكا بین ثبوت اور شہادت ہیں۔

    آپ نے فرمایا تھا: اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ یقیناً آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں کما دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور (اللہ کی راہ میں) مدد کرتے ہیں۔

    اتنا ہی کر لیں کہ جتنا اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے معتبر رفاہی اداروں کے حوالے کریں۔ یہ آپکا دینا آپکے لئے آخرت میں تو ذخیرہ ہے ہی، اس دنیا میں بھی دگنا بلکہ کئ گنا اضافہ کرکے اللہ آپ کو واپس لوٹا دینگے۔ اس کے خزانوں میں کوئ کمی نہیں۔ وہ بس امتحان لینا چاہتا ہے۔

    مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا کَثِيۡرَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ۖ وَ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 245)

    ترجمہ: کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدرجہا زیادہ ہوجائے ؟ اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

  • مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفات آتی ہیں ترقی یافتہ اقوام کی پہلی ترجیح آفت سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کرنا اور متاثرین کی آفت ختم ہونے کے بعد بحالی ہوتی ہے اور دوسری ترجیح آئندہ کے لئے اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی آفت کا سدباب کرنا یا اس کا زور توڑنا ہوتی ہے ۔

    لیکن پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفت آنے کی صورت میں حکومت اس آفت کی بنیاد پر بین الاقوامی برادری سے فنڈز اکٹھے کرتی ہے اور مقامی تنظیمیں یا افراد انفرادی طور پر مقامی لوگوں سے فنڈز اکٹھے کر کے اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں جو رفاہی اور مذہبی تنظیمیں یا افراد خوف خدا کے تحت دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں ان پر الزام تراشی میں قطعاً نہیں کر رہا اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

    چین کے بارے میں بچپن میں ایک واقعہ سنا تھا (اگر یہ واقعہ چین یا دنیا میں کہیں پیش نہیں آیا تو اسے میری تجویز سمجھ لینا) کہ وہاں پر سیلاب یا ناگہانی آفت آ گئی تو حکومت نے ملک میں اعلان کرا دیا کہ مخیر حضرات ہمیں بتائیں کہ وہ ایک یا دو مہینے کے لئے کتنے افراد پر مشتمل کنبے کی مہمان نوازی کر سکتے ہیں۔

    مخیر حضرات نے حکومت کے پاس اپنی رجسٹریشن کروا لی اس کے بعد حکومت نے متاثرین کو عارضی ریلیف کیمپ میں ریل کے ٹکٹ اور جس جگہ انہوں نے عارضی طور پر رہنا تھا وہاں کا ایڈریس دیا اور انہیں کہا کہ جب تک ہم یہاں آپ کی بحالی کے انتظامات نہیں کر لیتے آپ اس ایڈریس پر مہمان کے طور پر رہیں ۔

    اس عمل کے حکومت اور متاثرین کو مندرجہ ذیل فائدے ہوئے ۔

    1۔متاثرین کو ان کی عارضی قیام گاہوں پر بھیج کر حکومت نے سیلاب (ناگہانی آفت) کے بعد اس علاقے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور جو پیسہ حکومت نے متاثرین پر لگانا تھا اس سے انفراسٹرکچر کی بحالی کر کے لوگوں کو دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کر دیا۔

    2۔ اس کے علاوہ عارضی ریلیف کیمپوں میں ہر شخص کو تمام سہولیات زندگی میسر نہیں ہوتی لیکن ایک کنبے کی ذمہ داری ایک مخیر شخص کے اٹھانے کی وجہ سے ان کو مطلوبہ سہولیات بغیر کسی پریشانی کے حاصل ہونے لگیں۔

    3۔کسی جماعت یا فرد کے انفرادی طور پر فنڈ جمع کرنے پر اس فنڈ کے استعمال میں شفافیت پر سوال اٹھ سکتا تھا جو کہ ہر شخص نے اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق خود خرچ کیا اس وجہ سے فنڈز کے غلط استعمال کی شکایات پیدا نہیں ہوئیں۔

    4۔ متاثرین کے آفت زدہ علاقوں میں رہنے کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ تھا انہیں آفت زدہ علاقوں سے محفوظ علاقوں میں منتقل کر کے اس خدشے کا سدباب ہو گیا۔

    5۔ لوگوں کی ہمدردی متاثرین کے ساتھ عموماً آفت کے وقت تک ہوتی ہے اور آفت کا زور ٹوٹنے کے بعد وہ متاثرین کو بھول جاتے ہیں جبکہ متاثرین کو اصل توجہ کی ضرورت آفت کے بعد ہوتی ہے تو اس طریقہ کار کو استعمال کر کے حکومت نے لوگوں کو خدمت خلق کا موقع بھی دیا جبکہ اصل ضرورت کے وقت متاثرین کی مدد کر کے ان کی دعائیں بھی لیں۔

    6۔ کئی لوگ متاثرہ علاقوں سے اس لئے نقل مکانی نہیں کرتے کہ ان کے پاس متبادل رہائش نہیں ہوتی اور اسی وجہ سے ان کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس طریقہ کار میں لوگوں کو بروقت متبادل رہائش اور کھانے کا بندوبست کر کے انکے جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے ۔

    7۔ ناگہانی آفت کے دوران لوگوں کی جمع پونجی گم، چوری یا ضائع ہو جاتی ہے اور بحالی کے بعد ان کے پاس دوبارہ نظام زندگی چلانے کے لئے کوئی ذریعہ یا رقم نہیں ہوتی جب کہ اس طریقہ کار میں ان کی جمع پونجی محفوظ رہتی ہے جسے وہ بحالی کے بعد استعمال میں لا کر دوبارہ سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی جدوجہد کر سکتے ہیں۔

    8۔متاثرین کی امداد ان کی عزت نفس متاثر کئے بغیر ہوتی ہے جبکہ حکومت اور رفاہی تنظیمیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے متاثرین کی امداد کرتے ہوئے تصاویر میڈیا کو فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔

    ملک کا ایک بڑا حصہ سیلاب سے متاثر ہے اور شاید حکومت چین والی پالیسی نہ اپنا سکے لیکن حکومت پھر بھی مندرجہ ذیل اقدامات کر سکتی تھی۔

    1۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت حکومت کو یہ معلوم تھا کہ کن کن علاقوں کا سیلاب سے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اگر حکومت بروقت اقدامات اٹھاتی اور متاثرہ علاقوں کے قریب ترین علاقوں میں موجود سرکاری سکولوں، ہوٹلوں اور جو کھلے میدان ہیں ان میں خیمہ بستیاں لگا کر متاثرین کی رہائش کا انتظام کر دیتی۔

    2۔متاثرین کی محفوظ علاقوں میں منتقلی کا یہ فائدہ ہوتا کہ ابھی امدادی سامان صرف وہاں تک متاثرین کو پہنچ رہا ہے جہاں تک گاڑیاں جا سکتی ہیں جبکہ جو لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ان تک امدادی سامان نہیں پہنچ پا رہا جبکہ اس صورت میں تمام لوگوں تک امدادی سامان پہنچ سکتا ہے ۔

    3۔ ریلوے کی سفری سہولیات مفت فراہم کر کے یا پبلک ٹرانسپورٹ کو سیلاب ڈیوٹی کے لئے پابند کر کے متاثرین کو ان جگہوں پر بروقت منتقل کرتی۔

    4۔علاقے کے مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کو پابند کرتی کہ وہ صرف اپنے اپنے علاقوں میں حکومت کے مقرر کردہ نمائندے کے ساتھ مل کر ان متاثرین کے کھانے پینے اور ادویات کے انتظامات کریں۔

    5۔ یہاں سے مطمئین ہو کر حکومت اپنے پاس موجود امدادی رقم اور بین الاقوامی برادری کی امداد سے سیلاب کے بعد انفراسٹرکچر تعمیر کرے۔

    6۔ اگر کوئی تنظیم یا افراد انفرادی طور پر اس کام میں حکومت کی معاونت کرنا چاہیں تو انہیں ان کی استطاعت کے مطابق مخصوص علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیرات کی اجازت دے دی جائے تو یقیناً متاثرین موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔

    ہر بات یا تجویز میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے، لازمی بات ہے کہ میں عقل کل نہیں لیکن عرض صرف یہ کرنی تھی کہ اگر ایک عام آدمی ان مسائل کے حل کے لئے تجاویز دے سکتا ہے تو حکومت کیوں نہیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی اور آفت آنے کے بعد آئندہ وہ آفت دوبارہ نہ آئے یا اس شدت سے نہ آئے ایسے اقدامات کیوں نہیں کرتی۔

  • سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    ملک پاکستان سیلاب جیسی آفت سے دو چار ہے۔ چاروں جانب پانی ہی پانی ہے۔ مگر یہ پانی پینے کے لئے نہیں بلکہ زندگیاں چھیننے کے لیے ہے۔بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی، کوئٹہ ،لسبیلہ،نصیر آباد، نوشکی، سندھ میں جامشورو، ، ٹنڈوآدم ،مٹیاری، پنوعاقل،لاڑکانہ ،سانگھڑ سکھر ، ٹھٹھہ،میرپور خاص،سکھر،حیدرآباد اور پنجاب کے علاقے راجن پور، تونسہ شریف، لیاقت پور اور فاضل پور کے دیہات سمیت دیگر کئی علاقے اس وقت سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔لوگوں کے گھر ٹوٹ چکے ہیں۔ جانور بپھرا ہوا پانی بہا کر لے گیا ہے۔ کئی مائیں اپنے لاڈلوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔

    نا جانے اس پانی نے ان کے پیاروں کے ساتھ کیا کیا ہو گیا ؟۔ انکی نعشوں کو خشک زمیں تک نہ مل پائی۔ ہائے ! کیسا دکھ ہے یہ کہ جنھوں نے اپنی ساری جمع پونجی سے گھر بنایا تھا۔ مگر ابھی اس گھر میں ایک رات تک نہیں گزاری تھی۔اور اسی گھر کو اپنی آنکھوں کے سامنا سیلاب میں بہتا دیکھنا پڑا۔لوگ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ بے گھر لوگ سڑک کنارے بھوکے بیھٹے ہیں۔ بچے بیمار پڑے ہیں ۔

    اور ایسے میں ان بچوں کی مائیں تو پریشان ہیں ۔مگر ایک اور ماں جسے ریاست کہتے ہیں۔ چپ سادھے بیٹھی ہے۔نا جانے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ کرنا نہیں چاہتیں یا بے بس ہیں۔ نہ کوئی عمران نظر آرہا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران ۔

    ‏کِتھے نیں عمران وغیرہ
    ڈُب گئے جے انسان وغیرہ

    زرداراں دے شہر وی آئے
    پانی دے طوفان وغیرہ

    شہبازاں نُوں کون جگاوے
    کون کرے اعلان وغیرہ

    نہ لبھیا پرویز الہی
    نہ کوئی عثمان وغیرہ

    مولانا نُوں لبھو آ کے
    چَھڈن کوئی فرمان وغیرہ

    ملک ریاض نُوں میسج بھیجو
    لے کے آوے دان وغیرہ

    ‏شاہ محمود تے پیر گیلانی
    ٹُر گئے نیں گیلان وغیرہ

    این ڈی ایم اے سُتی رہ گئی
    کون بچاندا جان وغیرہ

    موت کلہنی کھو لیندی اے
    ہونٹاں توں مسکان وغیرہ

    کون سنبھالے مجبوراں نوں
    کون کرے احسان وغیرہ

    ہور نہ اُنگل چُک حکیما!
    مارن گے دربان وغیرہ

    مگرایک ایسا ادارہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیلاب متاثرین کی دادرسی کو سب سے پہلے پہنچا ۔ لوگوں کو دلدل سے نکالا۔بیشتر بے گھر متاثرین کو خیمے دیے تاکہ وہ عارضی طور پر اپنے سر چھپا سکیں۔یہ وہ ادارہ ہے۔ جس کا دستور اور منشور دونوں خدمت ہیں۔ آپ متاثرہ علاقوں میں خود جاکر دیکھیں ، مین سٹریم میڈیا دیکھیں یا پھر سوشل میڈیا آپکو ہر جگہ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نظر آئیں گے ۔اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر یہ رضاکار متاثرین کو بچانے میں مصروف عمل ہیں ۔جن علاقوں میں حکومت وقت پہنچ ہی نہیں پائی ۔ان متاثرہ علاقوں کی گلی گلی میں الخدمت کے رضاکار پہنچے ہیں۔

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان 1990 سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے۔ اور آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ ، تعلیم ، صحت ، یتیموں کی کفالت جیسی دیگر کئی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ اور اب الخدمت فاؤنڈیشن لوگوں کا ٹرسٹ اور امید بن چکی ہے۔

    2022 کی اس آفت میں سوشل میڈیا دیکھیں تو کئی لوگ جنہیں ریاست کو مدد کے لیے پکارنے چاہیے۔وہ الخدمت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں ۔ اس سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آپ سے گزارش ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دیجیے ۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو جلد از جلد اس آفت سے نجات دلائے۔ اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے والوں کو اجر عظیم دے۔