Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مجھے فخر ہے، میرا تعلق اس قوم سے ہے. — ثمینہ کوثر

    مجھے فخر ہے، میرا تعلق اس قوم سے ہے. — ثمینہ کوثر

    آج ایک تصویر پر نظر پڑی تو میں ایک دم سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میرا تعلق کس قدر خوش نصیب ، بہادر ، نڈر اور مضبوط حوصلوں والی قوم سے ہے ، جس کے جذبوں کو کبھی بھی شکست نہیں دی جاسکتی ، میری قوم کے جذبوں کو کوئی شکست دے بھی نہیں سکتا ۔ یہ وہ قوم ہے کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے زلزلے یا سیلاب کی صورت میں آزمائش آئے تو یہ قوم پھر بھی ثابت قدم رہتی ہے ۔ اگر اس قوم پر اندرونی اور بیرونی طور پر جنگ شروع ہو جائے تو بھی یہ قوم ثابت قدم رہتی ہے ۔ مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایسی قوم سے ہے جہاں مصیبت بعد میں آتی ہے اور لوگ پہلے متحد ہو جاتے ہیں ، لوگ اپنے ذاتی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کا دست و بازو بننے کی کوشش کرتے ہیں ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جسے میں نے 2008 ء کے زلزلے میں بھی متحد ہوتے دیکھا تھا ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جسے میں نے ملک بھر میں سیلاب کی وجہ سے ایک بار پھر متحد ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔

    ایمان والوں کی یہ پہچان ہے کہ وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج ایسی ہی ایک تصویر پر نظر پڑی جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ کاغذ اٹھانے والا ایک بچہ ، محنت مزدوری کرنے والا ایک بچہ ، دن رات محنت کرکے اپنے خاندان کی پرورش کرنے والا بچہ ، اپنی دن بھر کی مزدوری سیلاب زدگان کی امداد میں دے رہا تھا ، یہ تصویر دیکھ کر میرا سر فخر سے بلند ہوگیا اور مجھے اپنی قوم کے ایمان پر رشک آنے لگا کہ جس قوم کے مزدور بچے ایسا مضبوط ایمان لئے پھر رہے ہوں کہ وہ اپنے اوپر دوسرے بہن بھائیوں ، مجبور اور بے بس بہن بھائیوں کو ترجیح دے رہے ہوں یقینا ان لوگوں کا ایمان قابل رشک ہی ہے کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ایمان کامل ہیں ، قدرتی آفات جب آتی ہیں تو اپنے ساتھ کچھ اچھے اثرات بھی لے کر آتی ہیں ، جب میری قوم کا شیرازہ بکھر رہا ہو ، جب لوگ ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوں ، جب سیاست دان ایک دوسرے کو نوچ کھانے کو تیار ہوں ، جب پوری قوم ایک دوسرے کے ساتھ حسد ، لالچ اور خود غرضی میں مبتلا ہو ، جب بہن بھائی اور بھائی بھائی ایک دوسرے کے جانی دشمن بن رہے ہوں ، جب لوگ ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو تیار ہوں ، تو اس وقت وقت اللہ تعالی ایسی آزمائش میری قوم پر بھیج دیتا ہے اور پھر یہی ایک دوسرے کے جانی دشمن ، ایک دوسرے کی مدد کرتے نظر آتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے جانی دشمن اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں ۔ پھر اسی طرح میری قوم کا ہر مزدور ، چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا اپنی دن بھر کی محنت اپنے مجبور ، بے بس اور لاچار مسلمان بھائی کو دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ہاں مجھے فخر ہے میری قوم پر کہ ان کے ایمان اس طرح مضبوط ہیں کہ یہ مدینہ کے انصار کی طرح مہاجرین کو اپنا بھائی بنا لیتے ہیں ، ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات سمجھتے ہیں ، خود کچھ کھائیں یا نہ کھائیں اپنے بھائی ، اپنے بے بس مسلمان بھائی کو ضرور دیتے ہیں ، ہاں میں نے ایسی ہی مشکلات اور حادثات میں اپنی قوم کو یکجا ہوتے دیکھا ہے ، ان بکھرے ہوئے ذروں کو مضبوط چٹان بنتے دیکھا ہے ،

    ہاں میں نے مصیبت کی ہر گھڑی میں اپنی قوم کو رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر سوچتے ہوئے دیکھا ہے ، ہاں میں نے مشکل کی ہر گھڑی میں اپنی قوم کو ذات برادری سے باہر ہر ہر انسان کو اپنا سمجھتے ہوئے دیکھا ہے ، ہاں مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جس کے حوصلوں کو دنیا کی کوئی طاقت کم نہیں کر سکتی ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایسی قوم سے ہے جیسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہرا سکتی ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جس کا بچہ بچہ دوسروں کے دکھ درد کا سہارا بننا جانتا ہے ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جو مصیبت کی ہر گھڑی میں یکجا ہونا جانتی ہے ۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا تھا کہ 2008ء کے زلزلے میں میرے مجبور ، بے بس اور لاچار بہن بھائی جن کے خاندان زلزلے کی نظر ہو گئے ، جن کے گھر بار ختم ہوگئے ، ان آنکھوں نے خود دیکھا کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری ، وہ آگے بڑھے ، اپنے گھر بنائے ، اپنے خاندان بنائے ، یہ لوگ جو سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ، جن کے مویشی تک ختم ہوگئے ، جن کے پیارے سیلاب نے چھین لیے ، سیلاب جن کے گھر بہا کر لے گیا ، جنہوں نے نے اپنی عمر بھر کی کمائی کو ، اپنے پیاروں کو سیلاب کی نظر ہوتے دیکھا ہے ، یہ لوگ بھی ہمت نہیں ہاریں گے ۔ سیلاب چلا جائے گا لیکن ان لوگوں کی ہمتوں کو اور بھی بلند کر جائے گا ، یہ لوگ ہمت ہارنے کی بجائے ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے ، زندگی کو نئے سرے سے شروع کریں گے ، آگے بڑھیں گے اور پھر ساری دنیا کو بتا دیں گے کہ ہاں ہم پاکستانی ہیں ۔ ہمارے جذبوں ، ہماری ہمتوں اور ہمارے حوصلوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا کیوں کہ ہم میں وہ لوگ موجود ہیں جو مضبوط ایمان والے ہیں ، جو خود پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔

  • جی ہمیں رشتہ چاہیے!! — عبدالواسع برکات

    جی ہمیں رشتہ چاہیے!! — عبدالواسع برکات

    پچھلے دنوں بھائی کے لیے ایک گھر رشتہ دیکھنے گئے اچھی اور دینی فیملی تھی بھائی ان کو پسند تھا تو ہمیں انہوں نے لڑکی دکھانے کے لیے گھر بلایا تھا اللہ کی قدرت لڑکی بھی والدہ کو پسند آگئی جب کچھ دن بعد ہم نے مشورہ کرکے ان سے کہا کہ جی بیٹی پسند ہے تو آگے سے ان کا جواب تھا کہ جی ہم کو بھی آپ کی فیملی، لڑکا پسند ہے مگر گھر آپ کا رینٹ پہ ہے ۔ میں نے اپنی طرف سے تھوڑی سی کوشش کی کہ قائل ہو جائیں اور یہ والی بات نکال دیں میں نے ان سے عرض کیا کہ جی میرا بھائی اچھا کماتا ہے لاکھ سے اوپر ماہانہ انکم ہے سوسائٹی میں اچھا گھر ہے آپ کی بیٹی کو خوش رکھے گا عزت و احترام سے زندگی بسر ہو گی ۔

    پھر ایک اور دلیل دے ڈالی کہ دیکھیں آپ کوشش کرکے وہ فیملی ڈھونڈ ہی لیتے ہیں جہاں آپ کی دیگر بے شمار شرائط کے ساتھ یہ اپنے گھر والی شرط بھی پوری ہوتی ہو تو خدانخواستہ کل کو ان کے کاروباری حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ ان کو گھر سیل کرنا پڑتا ہے تو کیا آپ اپنی بیٹی واپس لے آئیں گے کہ جی آپ کا گھر بک گیا ہے اس لیے ہم اپنی بیٹي واپس لے کر جا رہے ہیں ۔

    ان باتوں سے وہ اپنے اس فیصلے سے تھوڑا سا پیچھے ہٹے تو ساتھ ہی نئی شرط آگئی کہ لڑکے کو لڑکی خود اوکے کرے گی یعنی لڑکا لڑکی کے گھر جائے اور لڑکی اس سے بات چیت کرکے پھر فائنل کرے گی کہ اس نے شادی کرنی ہے یا نہیں ۔ یہ سٹوری میں کوئی من گھڑت نہیں سنا رہا بلکہ انتہائی دینی گھرانے کی کہانی سنا رہا ہوں ۔

    یہ آب بیتی سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کس سمت چل پڑا ہے اور اس بے راہ روی کی آخر منزل کیا ہو گی ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ رشتے اتنے مشکل ہوتے جا رہے ہیں اعتبار اٹھتے جا رہے ہیں بھروسے ماند پڑتے جا رہے ہیں آخر کیوں جگہ جگہ میرج بیورو سینٹر کھل رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کون سے اعمال کر رہے ہیں ؟

    کیا کبھی ہم میں سے کسی نے غور کیا ؟ یا ایسے اعمال کی روک تھام کے لیے کوئی فورم قائم کیا گیا ؟ یا کسی اصلاحی تنظیم یا ادارے کی طرف سے ایسی ورکشاپس منعقد کی گئیں جس میں اس سارے عمل کی شرعی طور پہ ٹریننگ کروائی جائے کہ ہمارا دین اسلام اس حساس معاملے میں ہماری کیا تربیت کرتا ہے ؟ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپنے عزیز و اقارب میں رشتہ کرنے سے لوگ کترا رہے ہیں ؟

    میں بہت دور کی کوئی مثال نہیں سناتا گزشتہ چند سالوں کی ایک سنہری مثال سناتا ہوں کہ ہمارے جاننے والوں میں ایک بہت ہی نیک بزرگ تھے جو اب وفات پا چکے ہیں وہ اپنی ہمشیرہ کے گھر گئے اور ان کی بیٹی کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ میری ہے ان کی ہمشیرہ نے کہا جی ٹھیک ہے بھائی صاحب یہ آپ کی ہو گئی اس گفتگو کے کچھ عرصہ بعد ہی وہ دوبارہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ  ہمشیرہ کے گھر پہنچے اور کہا کہ ’’ میری امانت آپ کے پاس تھي میں وہ لینے آگیا ہوں میری امانت دے دو بہن ‘‘! ان کی ہمشیرہ نے کہا جی آپ کی ہی ہے لے جائیں ، وہاں فوری نکاح ہوا اور بیٹی کی رخصتی کردی گئی سبحان اللہ کیا سادگی اور کیا پیار محبت تھی کہ بھائی نے مانگی بہن نے دے دی ۔ نہ کوئی لمبی چوڑی بحث و تکرار اور نہ ہی کوئی لمبی چوڑی ڈیمانڈیں ۔

    آج تو سارا معاملہ ہی الٹ ہو چکا ہے سب سے پہلے تو ہم اپنے قریبی عزیز و اقارب کے گھروں میں دیکھتے ہی نہیں ہیں کہ کوئی ہمارے بیٹے یا ہماری بیٹی کا ہم عمر موجود ہے تو اس کی طرف رشتہ بھیج دیا جائے اور اگر کہیں رشتہ بھیج بھی دیا جائے تو آگے سے ایسے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں کہ بھیجنے والا پچھتاتا ہی ہے کہ میں نے کس وقت یہ رشتہ بھیج دیا نہ ہی بھیجتا ۔

    خاندان میں بیٹیوں کے سروں میں چاندی اتر رہی ہے اور یہ بیٹے والا خاندان سے باہر کوئی امیر کبیر باپ کی لڑکی تلاش کر رہا ہے تاکہ جہیز کے ٹرک اور لمبی چوڑی ڈیمانڈ کی لسٹیں منگوائی جا سکیں خاندان والے تو یہ کام کرنے سے رہے ۔ لالچ اور ہوس نے دنیا کو اندھا کر دیا ہے یہ رشتہ نہیں کرتے بلکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا سودا کرتے ہیں یہ رشتہ لینے نہیں جاتے بلکہ بیٹي فار سیل یا بیٹا فار سیل کا اعلان کرتے ہیں اور درمیان میں بیٹھے میرج بیورو والے دلال پوری بروکری کا حق ادا کرتے ہیں ایک دوسرے کے سامنے ایسے بڑھا چڑھا کر جھوٹ بیان کریں گے کہ شادی کے بعد جب سچ کھل کر سامنے آتا ہے تو پھر پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور گھر والے سر پکڑے بیٹھے ہوتے ہیں کہ اب تو کچھ ہو نہیں سکتا جب دولت تو ہمیں مل جاتی ہے مگر بیٹی کو شوہر ڈرگز لینے والا مل جاتا ، دولت تو مل جاتی ہے مگر بیٹی کو شوہر مار کٹائی کرنے والا ظلم و تشدد کرنے والا ملتا ہے مگر تب باپ دولت کو دیکھ کر کہتا ہے کہ اے کاش کہ میں نے لالچ نہ کیا ہوتا دولت کی ہوس نے اندھا کردیا تھا مگر نکاح کے بعد جب بہت سے راز افشا ہوتے ہیں تو ماں باپ کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں ۔

    کیا اس سے ہزار درجے بہتر یہ بات نہیں تھی کہ اپنے ہی کسی بھانجے یا بھتیجے سے یا کسی قریبی یا دور کے رشتہ دار سے جو کہ دیندار ہو سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے ہنر مند ہو حق حلال کا روزگار ہو عزت و احترام کرنے والا ہو سلجھا ہوا اس سے بغیر کسی لالچ کے بغیر کسی ڈیمانڈ کے رشتہ کردیا جاتا تو آج ہماری بیٹی خوش ہوتی اپنے گھر میں مسکراتی ہوتی خوشیوں سے کھيلتی ہوتی ۔

    مگر کیا کریں ماں باپ کی ڈیمانڈوں کا جنہوں نے بیٹوں بیٹیوں کے سروں پہ چاندی تو اتار دی ان کو حرام کی طرف مائل تو کردیا ان کو حرام کی دوستیوں کے راستے تو دکھا دئیے مگر اپنی شرائط کو کم نہ کیا اپنی ڈیمانڈوں کو کم نہ کیا یقین جانیں رشتہ کرتے وقت لڑکا لڑکی کی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہوتی ان کی یہی ایک ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ ان کا نکاح کردیا جائے اور وہ بھی کسی طرح سے بھي جلد از جلد کیوں کہ وہ بے راہ روی کا شکار نہیں ہونا چاہتے وہ حرام کی طرف نہیں جانا چاہتے وہ موبائل کے راتوں کے پیکجز میں الجھ کر راتوں کا سکون برباد نہیں کرنا چاہتے ، رشتہ کرتے وقت جو کچھ بھی ہوتا ہے ہر قسم کی شرط ہر قسم کی ڈیمانڈ یا تو لڑکا / لڑکی کے والد کی طرف سے ہوتی ہے یا والدہ کی طرف اور اگر کبھي لڑکا لڑکی یہ کہہ بھي ڈالیں کہ آپ یہ شرط کیوں رکھ رہے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے روشن مستقبل کے لیے ہی کر رہے ہیں جبکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی اونچے امیر کبیر گھرانے میں رشتہ کریں تاکہ خاندان والوں میں دھاک بیٹھ جائے کہ عبداللہ نے رشتہ بہت ہی کمال کی جگہ پہ کیا ہے ۔

    حالانکہ انہی امیر کبیر گھروں میں دولت تو ہوتی ہے عیش و عشرت تو ہوتا ہے مگر پیار محبت ، سکون و راحت اخلاص یہ کچھ نہیں ہوتا سب کچھ دکھلاوے کا ہوتا ہے ۔ الا ماشاءاللہ

    تو محترم قارئین میں اپنے قلم کے ذریعے  آپ کا زیادہ وقت نہیں لینا چاہتا اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی کو روک سکیں آنکھوں میں حیا اور دلوں میں نور ایمان چاہتے ہیں تو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے سودے کرنا چھوڑ دیں ، میرج بیورو کی دلالیوں سے نکلیے ، جہیز کی لمبی لمبی لسٹوں کو پھاڑ ڈالیے ، مہنگی اور نہ پوری ہونے والی ڈیمانڈوں کو دیوار پہ دے ماریے ، اور سب سے پہلے دین داری کی بنیاد پر اور اپنے قریبی عزیز و اقارب میں رشتہ تلاش کیجیے اگر ان میں نہ ملے تو پھر خاندان سے باہر بغیر کسی ذات پات کے جھنجٹ میں الجھنے کے دین کی بنیاد پر رشتہ کیجیے مسنون طریقوں کو اپنائیے کم خرچ سادہ بیاہ یہ طریقہ عام کیجیے ! ہم سادہ نکاح کے نام پہ مسجد میں سادہ نکاح کر لیتے ہیں مگر اگلے دن رخصتی مہندی اور بارات رخصتی کے چکروں میں لاکھوں اڑا دیتے ہیں اور پھر کہتے پھرتے ہیں کہ نکاح مسنونہ کیا ہے سادہ نکاح کیا ہے وہ بھی مسجد میں ، ہم اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے اللہ ہمارے ایک ایک قدم اور ہر ایک عمل کو دیکھنے والا ہے ہمارے دلوں کے رازوں کو جانتا ہے سادہ نکاح میں مہندی ، بارات اور ان کے ساتھ جڑی درجن بھر ہندوؤانہ رسمیں شامل نہیں ہوتیں ۔

    یقین کیجیے!  ہمارے بچوں کی جوانیاں ڈھلتی جا رہی ہیں مگر ہم اپنی شرائط منوانے کے چکروں میں پھنسے ہیں، اپنے بچوں پہ ظلم نہ کیجیے ان کو ڈپریشن کا شکار نہ کیجیے صبر کرکرکے ان کے اعصاب شل ہو چکے ہیں وہ تو شرم و حیا کے ہاتھوں مجبور آپ کو ڈائریکٹ کہہ بھي نہیں سکتے کہ امی جان ابو جان میری شادی کردیجیے ! وہ تو صرف صبر کر سکتے ھیں آپ کی شرائط کے آگے آپ کی ضد کے آگے آپ کے اونچے اونچے کھوکھلے خوابوں کے آگے !

  • جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے اسے بچا لو اسے ضائع مت کرو — طلحہ ملک

    جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے اسے بچا لو اسے ضائع مت کرو — طلحہ ملک

    گذشتہ دو تین برس سے پاکستان کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے کبھی عالمی وباء کی مشکلات تو کبھی قحط سالی کی کیفیت نے پاکستان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے ملک بھر میں مڈل کلاس کا معاشی مشکلات نے گھیرا تنگ کر رکھا ہے جبکہ آپ اور میں اس بات سے واقف ہیں کہ پاکستان کے بہت بڑے علاقے اس وقت شدید پانی کی لپیٹ میں ہیں سیلاب سے ملک کے بڑے اہم ترین علاقوں میں تباہی کی ایسی تاریخ رقم ہو رہی ہے کہ کوئی نیک دِل اس تاریخ کا مطالعہ شروع کر دے تو اس کا دِل پھٹ جائے۔۔

    اس تاریخ میں وہ پڑھے گا کہ ایک طبی کیمپ جو قحط زدہ علاقے میں لگایا گیا تھا سے ایک بھوکے شخص نے آ کر ادویات کو کھانا سمجھ کر پیٹ بھرنے کی خاطر کھایا تھا۔ اگر اس قاری میں آگے پڑھنے کی ہمت ہوئی تو وہ یہ بھی جانے گا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندان بھوک کے لیے بِلک رہا تھا کسی امیر زادے کے وہاں پہنچنے پر یہاں ایک روتی ہوئی بچی سے سوال کیا گیا کیا چاہیے بیٹا! بتاؤ جو مانگو گی ملے گا۔۔

    سسکیوں اور آہوں میں دس سیکنڈ بعد دو جھٹکوں میں آواز نکلی رو-ٹی

    آہ۔۔ یہ وہ قوم تھی جس کے قومی شاعر نے کہا تھا
    اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
    تو ہندوستاں کا ہر پیر و جواں بیتاب ہو جائے

    مؤرخ سیاسی لیڈروں کا کردار لکھے گا تو وہ اپنی قوم کو بتائے گا کہ کرسی کی جنگ معمول کے مطابق جاری تھی اقتدار کے لئے الیکشنز کی کمپین اور جلسے جلوس کی بھرمار تھی۔۔

    وہ ملاں جن کی دوڑ مسیت تک تھی پھر وہی اپنے چند نیک دل ساتھیوں کے ساتھ حکومت کے علاوہ وہاں بے سہاروں کے لیے کار ہائے نمایاں سر انجام دے رہے تھے۔۔

    مصنف حالِ دل بیان کرے گا کہ بھوکے کے پیٹ تک کھانا بعد میں پہنچتا تھا مگر اس کی تصویر انٹرنیٹ پر پہلے وائرل کر دی جاتی تھی۔۔

    جس دین نے ایثار کا جذبہ سکھایا تھا اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اگر بھوکے مہمان کو کھانا کھلایا تھا تو اسے یہ بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ خود ابو طلحہ بھوکے رہ گئے ہیں۔۔ وہاں کوئی نہ تھا جسے انہوں نے خوش کرنا تھا مگر اللہ تو عرش پر بیٹھا ہی راضی ہو گیا تھا اس نے رہتی دُنیا تک کے لوگوں کو بتا دیا کہ “یہ لوگ اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود بھوکے رہ جائیں”

    میں اگر اچھے بستر پر آرام سے سونے لگوں تو میرے سامنے وہ کھلے آسمان تلے بیٹھے لوگوں کے چہرے کیوں نہیں آتے! میں کیوں ان کی اس بے چینی کو محسوس نہیں کر پاتا جو رات کو وہ سوتے وقت محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس رہنے کے لیے جو ایک چھت تھی وہ تباہ ہو چکی۔ میرے حلق سے عمدہ کھانے کیسے اتر رہے ہیں کہ میرے بھائی وہاں بے یار و مددگار بھوکے ایک وقت کی روٹی کی آس لگائے بیٹھے ہیں
    مجھے اس بچی کی سسکیوں بھری آواز میں روٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے الفاط بھی کیسے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔۔ مجھے اور آپ کو کائنات کی جس ہستئ مقدس نے تربیت دی ہے وہ تو خود بھوکے رہ کر اوروں کو کھلاتے تھے اور فرماتے تھے جو دے دیا ہے وہی بچا لیا ہے۔۔
    تو میرے پیارے عزیزو! وقت ہے جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے اسے بچا لو اسے ضائع مت کرو.

  • پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ایسے عالم میں انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ محترمہ شوکت خانم( جن کی کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت ہوئی تھی) کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ کی نیت سے ان کے نام پر کینسر کے علاج کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، ظاہری بات ہے کہ ان کے پاس صرف نیک نیتی، جذبہ اور محدود وسائل تھے چنانچہ انہوں نے اس نیک کام کے لئے حکومت وقت اور عوام سے چندے کی درخواست کی اور حکومت اور عوام نے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جسکی وجہ سے وہ عوام کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ "شوکت خانم کینسر ہسپتال ” بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کاوش پر عوام آج تک انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہے ۔

    اپنے فلاحی منصوبے میں کامیابی کے بعد عمران خان کو یہ محسوس ہوا کہ اگر وہ فرد واحد ہو کر اتنا بڑا اور مہنگا ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو اگر انہیں اقتدار مل جائے تو وہ زیادہ آسانی اور سہولت سے عوام کی خدمت کر سکتے ہیں چنانچہ عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے انہیں اپنے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کرنے کی پیشکش کی لیکن اپنی خود اعتمادی اور عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر انہوں نے کسی جماعت کے پلیٹ فارم کے بجائے اپنی ذاتی سیاسی جماعت بنا کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    لیکن جیسے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ایسے ہی سیاست میں آ کر عمران خان کو معلوم ہوا کہ ذاتی مقبولیت کی بنا پر وہ انتخابات میں اپنی نشست تو جیت سکتے ہیں لیکن اپنی شخصیت کی بنیاد پر وہ اپنے ٹکٹ ہولڈر کو الیکشن میں کامیاب نہیں کرا سکتے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے مشیروں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے وہ 2013 کے الیکشن میں معقول تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اس کے علاوہ ایک صوبے(خیبر پختون خواہ) میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر انہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ (پرویز خٹک) کی صورت میں وہ مشیر مل گیا جس نے انہیں اقتدار کی راہداریوں میں جانے کا اصل راستہ اور کن لوگوں کی خوشنودی حاصل کر کے اس راستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں بتا دیا، اور ان کے مشوروں پر عمل پیرا ہو کر آخر کار عمران خان 2018 کے الیکشن میں مرکز، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اپنی حکومت بنانے میں اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔

    حکومت میں آتے ساتھ ہی عمران خان کو وہ عزت اور توجہ دوبارہ ملنا شروع ہو گئی جو انہیں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ملی تھی اس کے علاوہ خوشامدی لوگ بھی، جن کی کل قابلیت برسرِ اقتدار ہر راہنما کی خوشامد کر کے فوائد حاصل کرنا تھا چنانچہ خوشامدی لوگ جوں جوں ان کے قریب آتے گئے مخلص دوستوں سے عمران خان کا فاصلہ بڑھتا چلا گیا اور اگر کسی نے ان کے کسی غلط فیصلے کی نشاندہی کر بھی دی تو عمران خان نے اس ساتھی سے مشورہ لینا چھوڑ دیا اور رفتہ رفتہ اپنی خوشامد سن کر وہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ اپنی ذات کی نرگسیت کا شکار ہو گئے اور خود کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان سے کئی سیاسی طور پر غلط فیصلے ہوئے اور ان کے اعلیٰ حلقوں کے درمیان غلط فہمیاں اور پھر فاصلے پیدا ہونے لگے۔

    ترکی (ترکیہ) میں جناب طیب اردگان کے خلاف بغاوت، عوام اور محب وطن فوجی افسران کی مدد سے اس بغاوت کے خاتمے کی وجہ سے عمران خان کے ذہن میں یہ راسخ تھا کہ اگر حکمران عوام میں مقبول ہو تو کوئی دنیاوی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور ان کے اردگرد موجود خوشامدی لوگوں نے انہیں یہ باور کرا دیا کہ اس وقت آپ اپنی عوامی مقبولیت کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں چنانچہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر عمران خان نے دیگر طاقتوں سے الجھنا شروع کر دیا، ان کے مخلص ساتھیوں نے انکو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور دیگر طاقتوں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن معاملات جیسے ہی بہتری کی طرف جاتے خوشامدی لوگ کوئی ایسی حرکت کر دیتے کہ معاملات دوبارہ خراب ہو جاتے اور آخرکار مقتدر طاقتوں اور عمران خان کے درمیان خلیج بڑھنے کا فائدہ پرانی سیاسی جماعتوں نے اٹھایا اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔

    عمران خان نے ہار ماننے کے بجائے میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا اور رجیم چینج کے نام پر عوام میں اپنا بیانیہ پیش کیا جس کو بھرپور عوامی پذیرائی ملی اور اس کے نتیجے میں ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو کامیابی حاصل ہوئی اور اکثریت حاصل کرنے کے باوجود وہ وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہار گئے اور پھر عدالتی حکم سے پی ٹی آئی کا امیدوار وزیر اعلیٰ بنا، بھرپور عوامی مقبولیت اور اپوزیشن کے بارے میں عوامی غم و غصے کے باوجود ابھی تک عمران خان اپنے مطالبات (دوبارہ الیکشن) نہیں منوا سکے۔

    اس کی وجوہات کا تعین کرنے کے لئے جب انہوں نے اپنے مخلص ساتھیوں(پرویز خٹک، ذلفی بخاری اور دیگر ) کے ساتھ مشورہ کیا تو انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ پاکستان میں فرد واحد صرف "اکائی ” ہے جو کہ اپنا یا کسی کا انفرادی طور پر تو فائدہ کر سکتا ہے لیکن مجموعی ملکی فائدے کے لئے تمام طاقت کے مراکز کو مل کے چلنا چاہیے تا کہ ہم اکائی سے” وحدت” بن سکیں، پانی کی منہ زور لہروں کے مخالف تیرنے سے آپ منزل پر نہیں پہنچتے بلکہ تھک کر راستے میں ہی ڈوب جاتے ہیں اس لئے عقلمندی کا تقاضہ پانی کی منہ زور لہروں کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنانا ہے ۔

    اور سننے میں یہی آ رہا ہے کہ یہ بات عمران خان کی سمجھ میں آ گئی ہے اور انہوں نے پرویز خٹک اور ذلفی بخاری کو پی ٹی آئی اور دیگر طاقت کے مراکز کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی ذمہ داری دی ہے تاکہ تمام اداروں کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے عوامی لحاظ سے مقبول جماعت کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور دوبارہ سے عوامی خدمت کا سفر وہیں سے شروع کیا جا سکے جہاں پر ختم ہوا تھا، امید ہے عمران خان بھی غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد دوبارہ سے اپنی سیاسی غلطیوں کا اعادہ اور طیب اردگان بننے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ طیب اردگان بننے کے لئے معیشت کو مضبوط کر کے اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ حکمران کے اخلاص کے قائل ہو کر ملکی ترقی کے لئے خطرہ بننے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے ہیں.

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    پاکستان اس سال 75 سال کا ہو گیا ہے۔سمجھیں بچپن سے نکل کر لڑکپن میں داخل ہو رہا ہے۔بچپن کسی کا بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔بہت سی غلطیاں، کوتاہیاں اور بہت سی ٹھوکریں کھا کر ہی بچپن سے کچھ سیکھا جاتا ہے۔پاکستان میں بسنے والے پاکستان پر تنقید کے ایسے نشتر برساتے ہیں کہ منٹوں میں اسے لہو لہان کر دیتے ہیں لیکن وہ یہ کرتے ہوئے ایک بار بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ہم نے اس بچے کے ساتھ جو اتنی مشکلوں سے گزر کر سانسوں کو بحال رکھنے کی جد وجہد میں ہے، ہم نے اسے کب کب اور کہاں کہاں آکسیجن مہیا کی یا ہمیشہ اس کی آکسیجن چھیننے کا سبب ہی بنے۔ یہ بحث لمبی ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے پاکستان کو کیا دیا۔آج اگر ہم 1947 کو پیدا ہونے والے اس بچے کاآج 2022 تک موازنہ کریں تو ہماری آنکھیں کبھی اس کی تکالیف دیکھ کر بھر آئیں گی، کبھی اس کی کامیابیاں دیکھ کر لب مسکرا اٹھیں گے۔کبھی ہمیں اس کی بیبسی پہ غصہ آئے گا تو کبھی اس کی ہمت پہ رشک۔

    آخر،

    ٖؔ اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
    ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا

    1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بر صغیر پاک و ہند کا بٹوارہ ہونا تھا۔ بٹوارہ ہوا لیکن پاکستان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو ایک سوتیلے بیٹے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔سارا حصہ اپنے پاس رکھ کر بچا کھچا دے کر جان چھڑوانے کی کوشش اور یہ ہی پاکستان کے ساتھ بھی ہوا۔تقسیم چاہے بینک میں پڑے پیسوں کی ہو یاں پھر فوجی دستوں کی، ہر جگہ سے اس نا مولود کو محروم رکھا گیا۔مگر عزم جواں تھا، ہمت تازہ تھی۔ سو راہ جنوں کے مسافر چلتے رہے اور بالآخر یہ کہنے میں کامیاب ٹہرے۔
    کہ
    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں

    آج پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بھی۔ایشیا کی دوسری اور مسلم ممالک کی واحد ایٹمی قوت یہ ارض وطن ہی ہے۔اس وقت اگر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں 174 یونیورسٹیز قائم ہو چکی ہیں۔پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 464 کارخانے کام کر رہے ہیں۔ 1201بڑے ہسپتال موجود ہیں۔یہ تعداد اس سے کء گنا زیادہ ہو سکتی تھی اگر اس ارض پاک کو دوسروں کی جنگ میں نہ جھونکا جاتا۔

    2011 کے بعد جب پاکستان میں دہشت گردی کی لہر اٹھی تو زندگی جیسے مفلوج ہو گئی تھی۔ہر شخص ہر لمحے موت کو ہاتھ پر رکھ کر چلتا تھا کہ نا جانے کب کوئی جنت کا طلبگار آئے اور اس زندگی کا چراغ بجھا جائے۔پچھلے دس 11 سالوں میں پاکستان نے اس دہشت گردی کے ناسور کو مٹانے کے لئے 67.93 بلین ڈالرز یعنی کے 5037 بلین روپے خرچ کر چکا ہے۔۔ان پیسوں سے کئی کارخانے، ہسپتال، اور یونیورسٹیز بن سکتی تھیں۔

    مگر افسوس یہ فراموش کر دیا گیا کہ،

    موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    مزید برآں اس جوان ہوتے بچے کو روانی کے ساتھ قدم نہ اٹھانے دینے کی دوسری بڑی وجہ کرپشن ہے۔کرپشن نے اس ملک کی جڑوں کو ایسے کھوکھلا کیا ہے جیسے دیمک خشک لکڑی کو کرتی ہے۔

    مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرپشن صرف وہی ہے جو یہ بڑے بڑے سیاست دان کرتے ہیں؟؟

    نہیں کرپشن وہ بھی ہے جو ہم سب روز کرتے ہیں۔ریڑھی والے سے لے کر بڑی ملز والوں تک۔ ہم سب نے ملکر اس ملک کو کمزور کیا ہے۔جب ہم ایک معمولی سا کام نکلوانے کے لئے کسی دفتر میں کسی آفس میں پانچ سو سے ہزار تک کا نوٹ چپکے سے کسی کلرک یا منشی کے ہاتھ پر رکھتے ہیں، تو وہ بھی کرپشن ہے۔ کیونکہ ہم کسی اور کا حق اور وقت اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔جب ایک چھوٹی سی دکان چلانے والا دس روپے کے لئے ترازو کا پلڑا ہلکا کرتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہے۔جب ایک ریڑھی والا نیچے خراب پھل ڈال کر اوپر اوپر اچھے پھل ڈال دیتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہی کر رہا ہوتا ہے۔

    حالانکہ

    ”اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

    مگر ہم قول و فعل کے تضاد کے مارے اپنا مذہبی اصول ہی بھول چکے ہیں۔

    19مگر غور کیا جائے تو 1947 سے 2022 تک کا پاکستان بہترین نا سہی لیکن بہتر ضرور ہے۔اسے بہترین ہم نے بنانا تھا لیکن ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں نے جو کبھی ہم نے دوسروں کی جنگ میں کود کر کیں۔کبھی اپنی منتخب حکومتوں کو ان کی مدت پوری نا کرنے دے کر اور کبھی کرپشن کو صرف سیاست دانوں تک محدود کر کے ہم نے اس ملک کو بہترین بننے سے روکے رکھا لیکن الزام ہمیشہ ہم نے ”پاکستان ” کو دیا۔

    حالانکہ ان حالات کے ذمہ دار ہم تھے۔ وہ ہے نا کہ

    دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    اس مملکت خداداد کے قیام میں ہزاروں قربانیاں دی گئیں۔ کتنے سہاگ اجڑے، کتنی عزتیں پامال ہوئیں اور بیحساب لہو شہادت کے جام میں پیش کیا گیا۔ اپنی الگ حیثیت کے لیے آزاد وطن پانے کا ایمان کامل ان سب وجودوں میں وجود تھا۔ تبھی وہ سب لا الہ الا اللہ کا علم تھامے اپنا سب کچھ فدا کرنے پہ راضی تھے۔

    آج پھر سے یہ قوم اس ایمان سے خالی ہے جس نے اسے پاکستان کی صورت اک وجود بخشا تھا۔

    مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم اک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے اک دوسرے کو آگے بڑھنے کی طاقت اور حوصلہ دیں تاکہ جب یہ پاکستان پروان چڑھے تو ہمیں موردالزام نا ٹہرایا جا سکے۔ہم اس کے سامنے سر جھکا کے نہیں بلکہ سر اٹھا کر کھڑے ہوں۔

    کیونکہ،

    جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
    جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا
    وطن کی مٹی مجھے ایڑھیاں رگڑنے دے
    مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    آج سے پچھتر سال پہلے مسلمانانِ ہند نے ہندو اور برطانوی سامراج سے جو جنگ لڑی تھی ، وہ صرف اک خطے کے لیے نہیں تھی بلکہ اپنے جداگانہ تشخص کے بقا کے لیے تھی ۔

    اور اس جنگ کا آغاز اسی دن ہو گیا تھا جب مسلمان کو ”مسلا” کہا گیا تھا۔ اپنے الگ وجود الگ نظریے کا ادراک کرنے کے بعد ہی اک منزل اک نشاں کی جانب چلتے وہ راہ ِجنوں کے مسافر اپنا مقصد پانے کے لیے پریقیں تھے۔

    اور 75 سال پہلے یہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ مگر آج 75 سال بعد کے حالات دیکھ کر بے ساختہ فیضؔ کا کہا یاد آتا ہے کہ،

    یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
    یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
    چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

    کیونکہ آج 75 سالہ مملکت خداداد پھر سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مگر کیا یہ جنگ پہلے دن سے ہی ہمارا مقدر تھی؟

    یہ جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق کھنگالنا ہوں گے۔ گذشتہ سالوں میں اس ارض پاک کے ساتھ برتا جانے والا احوال دیکھنا ہو گا تبھی ہم کوئی فیصلہ کر پائیں گے۔ میری دانست میں یہ 75 سال مختلف ادوار جیسے تربیتی ،تخریبی، تعمیری ،تعبیری کے تناظر میں دیکھے جائیں تو صورت حال واضح ہو سکتی ہے کہ ہم آج کس مقام پہ موجود ہیں۔

    ﴿ تعبیری دور ﴾
    1947 ء سے 1967 ء

    یہ بیس سالہ دور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے تعبیری اہداف قائم کرنے کا دور تھا۔

    آزادی کے ابتدائی بیس سال وہ سال تھے جب عزم جواں تھا۔ ہمت تازہ تھی اور جنوں لہو کے ہر قطرے میں موجزن تھا۔کیونکہ نوزائیدہ ریاست کو کئی محاذوں کا سامنا کرنا تھا۔ سو انہی مقاصد کے حصول کے لیے 1949 میں ”قرارداد مقاصد ” منظور کی گئی جس کے مطابق پاکستان کا آئینی ڈھانچہ یورپی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت اور نظریات پہ مبنی ہونا طے تھا۔

    چونکہ ابھی تربیتی دور کا آغاز تھا سو ہر سال اک نیا سنگ میل عبور ہوتا گیا۔

    آنکھوں کی چمک ہر گام بڑھتی گئی۔ اور تب تب جنون نظر آتا گیا جب جب نعرہِ پاکستان بلند کیا گیا۔

    پھر چاہے وہ اردو کو قومی زبان کا درجہ دینا ہو یا قومی ترانے کی منظوری، معاشی ترقی کے ضامن اسٹیٹ بینک کا قیام (1948) ہو یا ملک مقدم کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنا مقصود ہو۔یا پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اوول کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف پہلی فتح ہو یا دہائیوں تک فضاؤں پہ راج کرتی پاکستان ائیر لائنز کا قیام (1955)۔

    یا ہاکی ٹیم کا اولمپکس میں جیتا پہلا گولڈ میڈل، (1960)،یا سوئی کے مقام پہ گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت(1952)۔

    سبھی سنگ میل اسی پیام کا عملی ثبوت تھے کہ ،
    تجھ سے ہے میری تمناوئں کی دنیا پُرنور
    عزم میرا ہے قوی ، میرے ارادے ہیں غیور
    میری ہستی میں انا ہے، مری مستی میں شعور
    جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
    اے میرے پیارے وطن

    اگرچہ اس بیس سالہ عرصے میں سیاسی ایوانوں میں مارشل لاء (1958) اور اسمبلیوں کی تحلیل (1953) کی گونج بھی گونجتی رہی۔ مگر حالات بہتر سے بہتری کی طرف ہی گامزن تھے۔

    اور سب سے بڑی کامیابی 1965 کی وہ جنگ تھی، جو بزدل دشمن نے اس سوچ کے تحت چھیڑی تھی کہ یہ گرتا لڑکھڑاتا ملک کیونکر اپنا دفاع کر سکے گا۔ مگر عظیم قوم نے غیور افواج کے ساتھ مل کر دشمن کو شکست فاش دی۔ تب ہر پاکستانی کے لب پہ اک ہی نغمہ تھا کہ

    ؂ میری زمیں میرا آخری حوالہ ہے
    سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے

    ﴿تربیتی دور ﴾
    1967 سے 1987

    یہ دور جہاں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم رہا۔ وہیں یہ ماہ و سال سازشی عناصر کی رچائی چالوں کے زد میں بھی رہے۔
    گویا تعمیری و تخریبی دونوں حالات مل کے اعصابی تربیت کرتے رہے۔

    کھیل کے میدان میں اس بیس سالہ عرصے میں سبز پرچم کبھی جہانگیر خان اور کبھی جان شیر خان کے دم سے لہلہاتا رہا۔مگر اصل مزہ اس جیت کا تھا جو ہاکی ٹیم نے ازلی دشمن کو ایشین گیم (1970) میں دی تھی۔

    مگر افسوس پاکستان اس دشمن کو سیاسی محاذ پہ نہ ہرا سکا۔ اور اس دشمن نے پاکستان کی اندرونی کمزوریوں کو مزید ہوا دیتے 1971 میں مشرقی پاکستان پہ حملہ کر دیا۔ آہ! اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہو کے پاکستان کو اپنے اک حصے سے محروم ہونا پڑا۔

    تب پھر سے سہاگ اجڑے، عزتیں پامال ہوئیں، لہو بہا۔ مگر اک الگ نظریے کے لیے نہیں۔ بلکہ ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے۔
    اس روز شہداء پاکستان فریاد کرتے رہ گئے کہ

    ؂ رشتہ دیوار و در تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
    مت گرا اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

    پاکستان قائم رہنے کے لیے ہی بنا ہے ۔ سو اک سانحے سے گزر کے بھی زخمی دل زخمی روح لیے سفر پھر سے شروع ہوا۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے (1974) ملکی ترقی پہ توجہ مرکوز کی گئی۔ معاشی ترقی کی ضامن پاکستان سٹیل ملز نے کام کرنا شروع کیا(1981)۔

    اور اگلے ہی برس ہاکی ورلڈ کپ میں شاندار فتح نے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا (1982)۔ اور سب سے بڑھ کے دفاعی استحکام کے لیے عبدالقدیر قدیر خان سائنس لیبارٹریز قائم کی گئی (1976)۔اور ڈاکٹر عبدالسلام (1979) پہلا نوبل پرائز جیتنے میں کامیاب ٹہرے۔
    گویا پاکستانی عوام سمجھ گئے ہوں،

    ؂ موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    ﴿تعمیری دور ﴾
    1987 سے 2007

    یہ ماہ و سال بھلے ہی معاشی و دفاعی شعبے میں کئی انقلاب برپا کر گئے۔مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔

    کبھی سمبلیوں کی تحلیل (1988) نے تعمیری اہداف سے دور کیا تو کبھی ایمرجنسی (2007) کے شکنجے نے ملکی حالات پہ خاصا اثر ڈالا۔
    مگر اس سارے دورانیے میں بھی عزم بلند رہا اور اسی عزم سے تعمیری اہداف طے ہوتے رہے پھر چاہے وہ پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت (1992) ہو، یا میانداد کے چھکے سے دشمن کے چھکے چھڑوانے والی شارجہ کی فتح (1999)، یا جہانگیر خان کا مسلسل دسیوں بار سکواش اوپن چیمپئین شپ جیتنا ہو (1991)۔

    مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایٹمی طاقت (1998) کا مالک بننا تھا۔ گویا

    ع چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں نہیں آئی

    ﴿ تخریب سے تعمیر تک ﴾
    2007 سے 2022

    2012 کے بعد جی ڈی پی گروتھ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے ۔

    اگرچہ ان پندرہ سالوں میں پاکستان کو سیاسی استحکام بھی نصیب ہوا ہے مگر ملک و قوم نے تخریبی اور تعمیری دونوں حالات سہے ہیں۔
    کیونکہ گذشتہ سالوں میں دہشت گردی کی نذر ہزاروں جانیں ہوئیں ہیں ۔ مسجد، مزار، چرچ، پارک، تھانہ، بازار، سکول۔۔۔ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں خون کے چھیننے نہ پڑے ہوں۔ اس دہشت گردی سے ملکی سکون تو متاثر ہوا ہی مگر ،

    اس دورانیے کا سب سے تکلیف دو پہلو پاکستان کو عالمی سطح پہ تنہا کرنا تھا۔ 2009 میں سری لنکن ٹیم پہ ہوئے حملے نے پاکستان پہ نہ صرف کرکٹ کے دروازے اک دہائی تک بند رکھے۔ بلکہ سیاحتی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔

    مگر سلام ہو ہماری افواج پاکستان کو۔

    جنہوں نے آپریشن راہِ راست (2009)، راہِ نجات، اور حالیہ(2021) رد الفساد سے تخریبی قوتوں کا خاتمہ کیا ہے۔

    پاک وطن سے شرپسندوں کا نشان مٹاتے شہادت کی منزل پاتے غیور کیپٹن بلال ظفر (2009) سے لے کر عزم تعمیر لیے جامِ شہادت نوش

    کرنے والے لیفٹینینٹٹ جنرل(2022) سرفراز علی تک، سبھی شہداء ہمارا فخر ہیں۔ کیونکہ یہ امن انہی کی دی قربانیوں کا ثمر ہے۔ ورنہ کہاں وہ دور جب عالمی تنہائی کے مارے ملک میں زمباوے جیسی ٹیم بھی آنے سے انکاری تھی اور کہاں یہ دور کہ زمباوے سے لے کر آسٹریلین ٹیم (2022) بھی پاکستان آ کے پاکستانی زمیں پہ کھیل چکی ہے۔

    اور تو اور پاکستان سپر لیگ کے 7 سیزن بھی ہو چکے۔

    مگر حالیہ او آئی سی کانفرنس(2022) کا پاکستان میں انعقاد سب سے اہم سنگ میل ہے۔

    بلاشبہ پاک فوج اور عوام دونوں ہی قابل تحسین ہیں جنہوں نے تخریب سے تعمیر کا سفر طے کر کے اک مثال قائم کی ہے۔ مگر یاد رہے،

    ؂ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    آج 75 سالہ پاکستان صرف اور صرف اپنی قوم کے ساتھ کا ممتنی ہے۔ اسے اپنی بقا کے لیے کسی بیرونی ہاتھ کی ضرورت نہیں بلکہ عزم و ہمت سے سرشار اک دل اک جاں لیے اک قوم درکار ہے۔ سو ہمیں وطن عزیز کی پچھترویں سالگرہ پہ بحیثیت پاکستانی اپنا احتساب کرنے اور قبلہ درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ

    جو اس زمیں سے کیا تھا ہم نے وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں
    وطن کی راہوں میں ہم وفا کے گلاب کتنے کھلارہے ہیں
    یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کر ہمارے گھر کو جلارہے ہیں
    چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے

  • آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اس وقت وطن عزیز کی بدنصیب عوام ایک طرف سیلابی ریلوں میں بہہ رہی ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کے سیلاب میں عوام چلا اٹھے ہیں۔ مہنگائی کے تابڑ توڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگا رہے ہیں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی۔ موجودہ پی ڈی ایم کی حکوت نے اس کو اذیت ناک بنا دیا ہے ۔اگر پچھلی حکومت کا جائزہ لیا جائے تو اس کا سارا وقت کرپشن ڈھونڈنے میں لگا رہا اب پی ڈی ایم کی حکومت عمران خان کو ناک آئوٹ کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔ معیشت کس طرح بحال کی جائے عوام کے دکھوں کا مداوا کس طرح ہوگا اس پر توجہ اور غور و فکر کرنا سیاستدانوں نے چھوڑ ہی دیا ہے ۔

    سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے ،پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے بالخصوص ملک کے وزرائے اعظموں کو عبرت کا نشان بنانا شروع کر دیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیشہ ہی ملک کے وزرائے اعظم عبرت کا نشان بنتے رہے۔ بھٹو اور اس کے خاندان کا صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دیا گیا نوازشریف کو خاندان سمیت جلاوطن اور بھارت کا یار قرار دیا گیا اور اب اس ملک کے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسرائیل کا ایجنٹ اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ عمران خان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا کیا۔ یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں ایک دوسرے کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دینے والے سیاستدانوں نے اب ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے کہ ایک جماعت کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

    دوسری طرف میڈیا دو گروپوں میں تقسیم ہو کر خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ رہا ہے جو سیاستدان ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشتگرد قرار دیتے ہیں وہ آزاد میڈیا کے دوست ہو نہیں سکتے۔ میڈیا قومی فریضہ ادا کرے تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا نے ہمیشہ قومی سلامتی، جمہوری اداروں کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لئے پارلیمنٹ سے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید ہیں ۔ سوال یہ ے کہ اگر یہ امید بھی ختم ہو گئی تو اس بدنصیب عوام کا کیا ہوگا۔ جس کو دال، روٹی، بجلی گیس جیسے بنیادی مسائل میں الجھا دیا گیا ہے ۔ سیاستدانوں کو اور سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کے ساتھ اور جمہور کے ساتھ مذاق کرنے کے بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جمہوری اداروں کو بچانے ، ملک کی بقا و سالمیت کی فکر کرنے عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

  • جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    حکومت اور مقبولیت کا نشہ ہمارے سیاستدانوں کا اس قدر تیز اور تند ہوتا ہے کہ وہ تمام حدوں کو عبورکر جاتے ہیں اور پھر بعد میں اس کو جوش خطابات کا نام دیا جاتا ہے ۔ جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنا سیاستدانوں کے مرہون منت ہوتا ہے ۔ جلسوں ،چوراہوں ، گلی ، محلوں اور سوشل میڈیا پر قومی سلامتی ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے بارے میں ا پنے جوش و جذبات کو کنٹرول رکھنا ہی دانشمندی ہے ۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور حکومت تک وطن عزیز پر دہشت گردوں اورا نتہا پسندوں کی لپیٹ میں تھا ہر طرف خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں خوف و ہراس کے سائے منڈلا رہے تھے بازاروں کی رونقیں ختم ہو گئی تھیں بھارت سمیت کئی عالمی طاقتیں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ ایسے میں پاک فوج نے ضرب عضب اور ردالفساد آپریشن شروع کیا اور ملک سے دہشت گردی ا ور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا ۔

    پاک فوج ،پولیس اور دیگر قومی سلامتی کے اداروں نے اپنی جانیں قربان کرکے وطن عزیز اور قوم کو خونخوار پنجوں سے آزاد کروایا بلاشبہ سول سوسائٹی نے بھی قربانیاں دیں۔ فوج میں غازیوں کی کمی نہیں شہیدوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ پولیس کے افسران اور نچلے درجے کے شہداء کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے شہید ہو گئے۔ سابق سی پی او راولپنڈی احسن یونس نے اپنے دور تعیناتی راولپنڈی میں ان شہداء کی یاد میں تقریبات منعقد کی اور ان کی بڑی بڑی تصاویر پولیس لائن میں لگائیں۔ اسی طرح کراچی ، لاہور اور دیگر صوبوں میں بھی ۔ اس ملک کی سلامتی اور اس قوم کو زندہ رکھنے میں ان شہیدوں کا بڑا کردار ہے ۔ وطن کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کا کوئی شمار اور بدلہ نہیں دیا جا سکتا ۔ حکمرانوں سمیت اپوزیشن ہوش کے ناخن لیں جمہوریت چل رہی ہے تو اسے چلنے دیں۔ اس وقت قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں۔ سیاستدانوں کی ہی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا رہا اور پھر اس کا انجام کیا ہوتا رہا ۔ ملک کے جو حالات ہیں جس لائن کو سب کراس کررہے ہیں ان حالات میں ملک کا کوئی ادارہ لاتعلق ہو کر گوشہ تنہائی میں نہیں رہ سکتا۔

  • نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    ہم دوست آپس میں ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے دوران گفتگو نئی سیاسی جماعت کے قیام اور اس کی انتخابات میں کامیابی کا ذکر چھڑ گیا بظاہر دیکھا جائے تو پاکستان میں مخصوص سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری ہے، پاکستان تحریک انصاف نے بھی تقریباً پینتیس سال کی جدوجہد کے بعد اپنا سیاسی مقام حاصل کیا، (کس طرح حاصل کیا یہ تحریر کا موضوع نہیں لیکن میرے خیال میں سیاست میں تمام سیاسی جماعتوں کو کشادہ دل اور حالات کے مطابق دفاعی یا جارحانہ حکمت عملی سے آگاہ ہونا چاہئے تاکہ وہ جمہوریت کے زیادہ سے زیادہ ثمرات حاصل کر سکیں) ۔

    پھر انہیں میں نے پڑوسی ملک( بھارت) کی مثال دی وہاں بھی سیاست میں پاکستان کی طرح ہر قسم کی خرافات رائج تھیں اور دردِ دل رکھنے والے لوگ وہاں بھی پریشان تھے ایسے میں وہاں سماجی خدمات کے حوالے سے انتہائی مشہور شخصیت "انا ہزارے” نے اصلاحات کے لئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھوک ہڑتال کر دی اور ان کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے سیاست دان کافی حد تک ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو گئے ۔

    بھوک ہڑتال میں ان کے ساتھ شریک ان کے شاگرد یا بھگت "ارویند کیجری وال” نے یہ محسوس کیا کہ ہمارے مطالبات جائز اور لوگوں کے دل کی آواز ہیں اسی وجہ سے ہمیں بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے لیکن ان مطالبات کی منظوری کے لئے ہم سیاست دانوں کے محتاج ہیں یعنی ایک اچھے کام کے لئے بھی ہمیں برے لوگوں سے منظوری لینی پڑے گی چنانچہ اس کا حل یہ ہے کہ ہم خود سیاسی طاقت حاصل کریں اور لوگوں کو ڈائریکٹ فائدہ دیں۔

    انا ہزارے نے ان کے خیالات کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم سماجی کارکن ہیں اگر سیاست میں آ گئے تو ہمارے اخلاص پر سوالیہ نشان آ جائے گا لیکن ارویند کیجری وال اپنی دھن کے پکے تھے انہوں نے "عام آدمی پارٹی ” کے نام سے سیاسی جماعت بنائی جھاڑو کا انتخابی نشان حاصل کیا کہ ہم ملکی سیاست کا گند صاف کریں گے، پہلی مرتبہ دہلی میں مخلوط حکومت بنائی اتحادیوں کے بلیک میل کرنے پر اسمبلی توڑ دی عوام کی عدالت میں گئے اور اکثریت حاصل کر کے دوبارہ حکومت بنائی ۔

    انہوں نے اپنے دور حکومت میں بے شمار عوامی خدمات کے منصوبے شروع اور مکمل کئے، سرکاری ملازمین کو صحیح معنوں میں عوام کا خدمت گزار بنایا، عوامی شکایات کے ازالے کی فوری کوشش کی جس کی وجہ سے وہ پنجاب میں ہونے والے حالیہ الیکشن میں بھی واضح برتری حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے اور اب پنجاب کے عوام کو بھی امید ہے کہ دہلی کی طرح پنجاب میں بھی اصلاحات ہوں گی۔

    ارویند کیجری وال نے نظریاتی اختلافات پر احترام کے ساتھ انا ہزارے سے اپنے راستے جدا کر لئے، انا ہزارے نے انہیں کہا کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہیں بھی انا ہزارے کا نام اور تصویر استعمال نہیں کرنی انہوں نے ایسا ہی کیا، چند ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر سیاسی جدوجہد شروع کی جو کہ ان کے اخلاص اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے پورے کرنے کی وجہ سے دن بدن کامیاب ہو رہی ہے، اور امید ہے اگر وہ اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو ایک دن پورے بھارت میں عام آدمی پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے اپنی حکومت بھی بنا لے گی۔

    تو دوستوں نظریات کی بنیاد پر اخلاص کے ساتھ سفر شروع کرنا شرط ہے، اگر آپ الیکٹیبلز کو ناگزیر سمجھتے رہے تو جو پاکستان میں عمران خان کے ساتھ ہوا وہی آپ کے ساتھ ہو گا، ہم لوگ اصل میں زینے کے بجائے لفٹ سے اوپر جانے کے قائل ہیں جبکہ سال کا سفر مہینے میں نہیں البتہ کچھ مہینوں میں طے ہو سکتا ہے ابتدا ہمیشہ تھوڑے سے ہی کی جاتی ہے پھر اپنی محنت، کام سے لگن اور اخلاص کی وجہ سے اس تھوڑے کو زیادہ میں تبدیل کیا جاتا ہے، جیتنے کے لئے سب سے پہلے دل سے ہار کا خوف ختم کرنا چاہیے کیونکہ مقابلہ ہمیشہ بہادر کرتے ہیں ۔

    تو اگر آپ میں بھی اخلاص ہے اور خدمت خلق کی وجہ سے آپ کی اپنے علاقے میں اچھی ساکھ ہے تو آپ اپنی سیاسی جماعت نہیں بنا سکتے تو انفرادی طور پر اپنے علاقے سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں لوگوں کو اپنی انتخابی مہم میں قائل کریں کہ "آزمائے ہوئے کو آزمانہ بے وقوفی ہے "اس طرح اگر چند اچھے لوگ بھی الیکشن جیت کر قومی یا صوبائی اسمبلی میں چلے گئے تو وہ وہاں مل کر اپنا نظریاتی گروپ بنا لیں۔

    اور جہاں تک ممکن ہو اپنے حلقے کی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن کوشش کریں یہ ان کا اخلاص ہی ہو گا جو اگلے الیکشن میں ان کی کامیابی کے لئے مددگار ہو گا منزل پر پہنچنے کے لئے ابتدا پہلا قدم اٹھانے سے ہوتی ہے تو آنے والے انتخابات میں یا انفرادی حیثیت میں انتخاب میں حصہ لیں یا کسی مخلص امیدوار کی کامیابی کے لئے جان توڑ کوشش کریں تا کہ وہ کامیاب ہو کر کسی مخصوص طبقے کو نہ نوازے بلکہ تمام اہل علاقہ کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے۔

  • ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ملک میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے اکثر علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے، درد دل رکھنے والے احباب محکمہ موسمیات کی بروقت پیش گوئی کے باوجود نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ کرنے یا جن علاقوں میں حکومت کو حالات قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہو وہاں سے لوگوں کے بروقت انخلاء نہ کرانے کی وجہ سے تنقید کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے بروقت مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کا بہت زیادہ جانی یا مالی نقصان ہوا ہے ۔

    آپ نے اکثر بازار میں بھکاری دیکھے ہیں جو ہٹے کٹے بھکاری ہوں انہیں لوگ امداد دینے سے زیادہ غیرت دلاتے ہیں کہ اللہ پاک نے تمھیں صحت کی نعمت سے نوازا ہے تو محنت مزدوری کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کیوں نہیں کرتے اس کے برعکس جو بھکاری جسمانی طور پر معذور ہو یا اس کی بظاہر حالت قابل رحم ہو وہ اگر دست سوال دراز نہ بھی کرے تو لوگ اسے روک کر خود امداد دیتے ہیں، اسی لئے اگر کوئی جسمانی طور پر صحت مند بھکاری ہو تو وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی معذور بچے یا فرد کو اپنے ساتھ نتھی کر کے اس کی قابل رحم حالت کی بنیاد پر بھیک مانگے اور لوگ بھی بغیر کوئی سوال جواب کرے ایسے شخص کو امداد دے دیتے ہیں ۔

    ہم ملک پاکستان کے شہری اللہ کے فضل سے ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہمارا پاس اسلامی بم ہے ہم امت مسلمہ کے خودساختہ ٹھیکیدار اور محافظ ہیں لیکن حالات یہ ہیں کہ اگر ہمیں امداد نہ ملے تو ہمارے پاس ایک یا دو مہینے کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جن کے ہم خودساختہ محافظ اور ٹھیکیدار ہیں وہ بھی ہمیں آنکھیں دکھانے لگ گئے ہیں اور ہمیں امداد یا بھیک انتہائی ذلیل کر کے اپنی من پسند شرائط پر دیتے ہیں اور ساتھ طعنہ دیتے ہیں کہ ایٹمی طاقت تو بن گئے ہو اور معاملات میں کیوں نہیں خود کفیل ہوتے ہو۔

    ہٹے کٹے بھکاری کی طرح ہمیں بھی ہماری ظاہری حالت کی وجہ سے امداد نہیں ملتی جبکہ ہڈحرامی کی وجہ سے ہم خود محنت مزدوری کر نہیں سکتے اس لئے ہم بھی صحت مند بھکاری کی طرح کوئی معذور، جسمانی طور پر لاغر اور قابل رحم جسمانی حالت والا بچہ دھونڈتے ہیں اور ہمارا وہ بچہ یا ساتھی قدرتی آفات ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی قدرتی آفت آنے کا ہمیں بروقت معلوم ہو بھی جائے تو ہم وہ وقت اس آفت کا سدباب کرنے کے بجائے اس آفت کی بنیاد پر اقوام عالم سے زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرنے اور اس امداد سے اپنے اکاؤنٹ بھرنے میں صرف کرتے ہیں ۔

    اسی لئے سیلاب آنے کی بروقت اطلاعات کے باوجود ہم نے اس کے تدارک کے لئے رسمی انتظامات کئے اور ملک میں سیلاب آیا ہوا تھا جبکہ ہم اپنی سیاست بچا رہے تھے سیلاب میں گھرے متاثرین سے زیادہ اہمیت ایک اکیلے شہباز گل کو دی جا رہی تھی کیوں کہ اس نے رہا ہو کر ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانا اور معاشی طور پر خودمختار کرنا تھا اس سارے عمل کے دوران لوگوں کی توجہ متاثرین سیلاب سے ہٹا کر متاثرین سیاست کی طرف لگا دی گئی ۔

    اپنی ذمہ داریوں کا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں جبکہ اس دوران بین الاقوامی برادری کو سیلاب متاثرین کی حالت زار سے بھی آگاہ کیا جاتا رہا اور امریکہ نے ایک لاکھ ڈالر کی امداد سیلاب متاثرین کے لئے دے دی اور شاید بعد میں دس لاکھ ڈالر کی مزید امداد دی یا دس لاکھ ڈالر کی امداد قدرتی آفات سے نبٹنے کے لئے پہلے سے مختص تھی اور اس کے علاوہ ایک لاکھ ڈالر مزید امداد دی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب ہمیں امداد مل گئی ہے اور سیلاب کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے۔

    تو اس امداد کے ذریعے حکومت اب پورے دل سے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوشش کرے گی اور ان کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے گی اور بچنے والے پیسوں سے اپنے اردگرد موجود مستحق لوگوں کی امداد کرے گی جو ہر اچھے وقت میں ان کے ساتھی ہیں اس اب کے باوجود ہم ایٹمی قوت ہیں بھکاری نہیں لیکن اگر قدرت کسی کے دل میں رحم ڈال اور وہ ہمیں ہدیہ دے تو ہم ہدیہ قبول کر لیتے ہیں کیونکہ ہدیہ قبول نہ کرنا کفران نعمت ہے ۔