Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان
    کتنے بے خبر ہیں ہم لوگ خود اس راستے پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں جو زندگی کا اختتام ہے ساتھ ہی اپنے سے جڑےرشتوں کو بھی اس اذیت میں مبتلا کر جاتے ہیں کہ بالآخر ان کا انجام بھی یہی ہوتا ہے۔ کمرے میں ناگوار بو ہر بات کا آغاز کھانسی سے اور بات مکمل بھی نہیںکہ پھر کھانسی کا دورہ اور تمباکونوشی ایسی بلا ہے جو آپ اور آپ کے ساتھ اردگردر رہنے والوں کو جان لیوا مرض میں مبتلاکر جاتی ہے۔مگر ہم کب سوچتے ہیں؟

    سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سگریٹ نوشی یا تمباکونوشی ایک تشویش ناک عادت ہے جو عصر حاضر میں خواتین و حضرات کیلئے ہےشمار صحت اور معاشی مسائل کا پیش خیمہ ہے اور یہ عادت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اس کے خلاف پوری دنیا میں صرف چھ ملکوں میں پابندی لگائی گئی ہے۔ لیکن باقاعدہ طور پر اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ،سگریٹ نوش عام طور پر تیس یا چالیس سال کی عمر میں تمباکو کے زہریلے اثرات کا شکار ہوکر دل کے امراض میں مستقل طور پر مبتلا ہو جاتے ہیں اور سگریٹ نوشی میں 20 فیصد امراض دل کے ہوتے ہیں اور سالانہ120,000 افراد تمباکونشی کیوجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ تمباکو میں نیکوٹین ( Nicotine ) جیسا زہریلا مادہ ہوتا ہے۔ جو کہ دل کی نالیوں اور بلڈ ویسلر ( Blood vessels ) کو بری طرح متاثرکرتا ہے ،نیکوٹین سے کئی دیگر اعصابی امراض بھی جنم لیتے ہیں کیوند نیکوٹین اور دھوئیں سے (Internal Nervous system ) بری طرح متاثر ہوتا ہے اور مسلز کمزور ہوکررہ جاتے ہیں جس سے وہ اپنا بہتر طریقے سے کام سرانجام نہیں دے سکتے اور مجموعی طورصحت خراب ہوجاتی ہے۔ تمبا کوکا دھواں ک(Cardiovascular Diseases ) کا باعث بنتا ہے اور ہارمونز کے نظام کو بھی متاثر کر کے (Oestrogen ) کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ کینسر ایک مہلک ترین مرض ہے اور ہر سال تقریبا 48 فیصد لوگ سگریٹ کے دھوئیں سے اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کینسر میں گئے، منہ ، زبان اور خوراک کی نالی کے کینسرسرفہرست ہیں۔ علاوہ ازیں سانس کی نالی اور پھیپھڑے بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جس سے سانس کے امراض جنم لیتے ہیں۔ یہ امراض بڑھتے بڑھتے بالآخر پھیپھڑوں کا کینسر بن جاتے ہیں۔

    پھیپھڑوں اور سانس کے امراض کے باعث دیگر کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جن میں فلو نزلہ، زکام، کھانسی اور ( Pneumonia ) وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم ان سب امراض کی بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ خواتین میں بڑھتی ہوئی اس عادت سے بانجھ پن اور دیگر زنانہ امراض پیدا ہوتے ہیں ۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ عورتوں میں 30 فیصد جنسی امراض دھوئیں اور نیکوٹین کے مضر اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں ہی مضر اثرات زیادہ شدید صورت اختیار کر جاتے ہیں مثلا نومولود بچے اور زچہ دونوں کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جنسی امراض میں سگریٹ نوشی مردوں کو بھی متاثر کرتی ہے جس سے جنسی خواہش میں کمی اور بانجھ پن یعنی جرثومے متاثر ہوتے ہیں ۔ اعصابی تناؤ ،ڈیپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل بھی سگریٹ نوشی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ان امراض سے نوجوان طبقہ خاص طور پر متاثر ہورہا ہے۔ عام طور پر اس کا سبب بے روزگاری اور غربت بھی ہے جس سے لوگ پریشان ہو کر مزید تین عادات میں مبتلا ہورہے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے پیٹ کے امراض بھی پیدا ہوتے ہیں جن میں سینے کی جلن، تیزابیت اور بھی قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں عام طور پر سگریٹ نوش حضرات سگریٹ نہ پینے والوں کی نسبت کم عمر پاتے ہیں اور مجموعی صحت کے مسائل میں ہمیشہ مبتلا رہتے ہیں ۔سماجی اور معاشی مسائل بھی جنم لیتے ہیں اور سگریٹ نوشی سے ایک کثیر دولت دھوئیں کی نظر ہو جاتی ہے۔

    یہ بات حقیقت ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے اس لئے بہت سے افراد نے اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش تو کی ہوگی لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہوں گے۔ کیونکہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتی ہے اور اسکا عادی بمشکل ہی اس سے جان چھڑاسکتا ہے بہر حال درج ذیل میں اس لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے چند ہدایات درج ذیل ہیں۔ اہم ترین اور سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ مضبوط ارادہ کریں کہ سگریٹ نوشی ترک کرنا ہے۔ پھر جب بھی سگریٹ کی طلب ہو اٹھ کر صاف اور تروتازہ ماحول میں لمبے لمبے سانس لینا شروع کر دیں۔ زیادہ نہ ہو سکے تو دن میں تین بارتو ضرور یہ کام سرانجام دیا جائے اس سے بہت حد تک آ پکو سکون محسوں ہوگا اور دوبارہ یہی طریقہ دوہرانے کو بھی جی چاہے گا۔ ابتدائی دنوں میں ایسا کرنے سے آپکو قدرے مشکل پیش آئے گی لیکن آہستہ آہستہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے لہذا شروع میں پانی کا استعمال زیادہ کر دیں ۔ اس سے ایک تو سگریٹ کی طلب سے دھیان بٹ جائے گا اور دوسرا جسم سے نیکوٹین کے زہریلے مادے بھی خارج ہونے میں آسانی ہوگی۔ بعض لوگ سگریٹ سے پیچھا چھڑوانے کیلئے پان ،نسوار یا کافی وغیرہ کی عادت ڈالتے ہیں لیکن یہی نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں اس لئے مثبت عادات اور قدرتی طریقوں سے اس عادت کو ترک کرنے کی کوشش کی جائے۔ کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کے عادی حضرات سگریٹ ضرور پیتے ہیں ان کو چاہیے کہ بجائے سگریٹ کے وہ ایک کپ پودینہ چائے کا پئیں جس سے ہاضمہ بھی متاثر نہیں ہوگا اور سگریٹ سے بھی چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ سگریٹ پینے والے دوستوں کی محفل سے دور ہیں۔ اپنے گھر سے تمام سگریٹ، ایش ٹرے اور حتی کہ اپنے سب کپڑے وغیرہ دھوڈالیں تا کہ سگریٹ کے دھوئیں وغیرہ سے دوبارہ سگریٹ پینے کو بھی جی نہ چاہے۔ صبح سویرے اٹھنے کا معمول بنالیں اور تازہ ہوا میں لمبے لمبے سانس لیں۔ اور ہلکی پھلکی ورزش کریں تا کہ مجموعی طور پرصحت بحال رہے اس کے علاوہ دن کے کسی بھی حصے میں تفریح کیلئے کوئی انڈور گیم یادلچسپ مووی دیکھیں اس طرح بتدریج آپکی نفسیاتی خواہش سگریٹ سے دور ہوتی جائے گی۔ اپنے دوستوں، گھر والوں اور آفس میں سب کو بتادیں کہ میں سگریٹ چھوڑ چکا ہوں البتہ وہ بھی مزید حوصلہ افزائی سے مددکریں گے۔ بعض ہسپتالوں میں سگریٹ نوش حضرات کا علاج بذریہ ادویات بھی کیا جاتا ہے جہاں وہ نیکوٹین کے متبادل ادویات استعمال کرواتے ہیں لیکن وہ بھی مضر صحت ثابت ہوتی ہیں ۔ اس لئے کوشش کریں کہ خود قدرتی اور سادہ طریقے سے اس لعنت سے چھٹکارا پائیں

  • کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    پاکستانی عوام چھٹیوں سے بڑی خوش ہوتی ہے اور پاکستان کے طالب علم بھی چھٹیوں سے بہت خوش ہوتے ہیں
    بلکہ حکومت نے ہر مسئلے کا ہل چھٹیاں ہی بنا لیا ہے پچھلے دو سال سے وبائی مرض کرونا نے اتنی تباہی نہ مچائی ہو گی جتنی ہماری حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کو بند کرکے مچائی گئی ہے
    کرونا نے محض چند ہزار لوگوں کو پاکستان میں متاثر کیا ہو گا لیکن کرونا کی وجہ سے بند ہونے والے پاکستان کے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بہت سارے طالب علم جو کہ کرونا کی وجہ سے تعلیم اور تربیت سے محروم ہو گئے ہیں
    گیارہ سو نمبر والے بہت سے بچے این ٹی ایس میں فیل ہو گئے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے گیارہ سو نمبر حاصل کرنے والے بہت سے خوش نصیب طالب علم آگے کی بہت سی قابلیت سے محروم رہ گئے ہیں اصل میں جن بچوں نے گیارہ سو نمبر حاصل تو کر لئے لیکن سائنس پریکٹیکل ورک اور تعلیمی قابلیت سے محروم ہوگئے ہیں

    اب یہ بچے نہ تو دوبارہ پیپر دے سکتے ہیں اور نہ کچھ کر سکتے ہیں ان بچوں نے جو سیکھنا تھا وہ نہیں سیکھ سکے اب یہ آگے ان چیزوں کو کیسے سیکھیں گے جن کی بنیاد ان بچوں نے پچھلی کلاسز میں چھوڑ دی ہے؟
    ابھی لوگ کرونا کے خیالات سے نمٹے نہیں ہیں کہ اب ایک اور مصیبت آن پڑی ہے جسے سموگ کہتے ہیں
    سموگ کا علاج ڈھونڈنے کی بجائے اس کا علاج صرف چھٹیوں میں ڈھونڈ لیا ہے اور اب سموگ کا علاج ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے دریافت کر لیا گیا ہے

    لاہور جو اس وقت آلودگی میں ایشیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اس میں سموگ اور آلودگی سے بچنے کے لیے ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے اس کا حل سمجھ لیا گیا ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے

    یہ چھٹیاں پچھلے پندرہ دن سے جاری ہیں لاہور کے اسکولوں اور کالجز و یونیورسٹیز میں استعمال ہونے والی گاڑیاں ایک منٹ کے لئے بھی نہیں روکی گئیں
    اصل میں سموگ ٹرانسپورٹ اور بھٹہ خشت کی وجہ سے بنتی ہے اور بھٹہ خشت کے سسٹم سے اتنی زیادہ آلودگی پیدا ہوتی ہے جس کا آپ اندازہ لگا ہی نہیں سکتے
    حکومت نے بھٹہ خشت کے لیے زگ زیگ کا سسٹم متعارف کروایا جو کہ عام آدمی کے لیے لگانا بہت مشکل ہے اسی سسٹم کو پاکستانیوں نے نئے انداز میں لگاتے ہوئے ایک ایسا سسٹم بنایا ہے جسے ہر بندے نے اپنے بھٹہ خشت پر لگا لیا ہے جس سے دھواں تو سفید بظاہر بے ضرر نکل رہا ہے لیکن صرف نام کا بے ضرر نکل رہا ہے
    سموگ اور آلودگی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھی بس فرق صرف اتنا ہے پہلے رنگ کالا تھا اب رنگ سفید ہو گیا ہے اور اسی طرح ہماری پاکستان کی ٹرانسپورٹ کا حال ہے ہر گاڑی پر ناکارہ انجن استعمال کر رہے ہیں اور ناکارہ انجن والی گاڑیاں اتنا دھواں چھوڑ رہی ہیں کہ جس کا کوئی حساب نہیں
    بجائے اس کے ٹرانسپورٹ اور بھٹ خشت کے سسٹم کو دیکھا جائے ہماری حکومت نے اس کا علاج صرف چھٹیوں کو ہی بنا لیا ہے
    حکومت پنجاب نے سموگ پر قابو پانے کے لیے کون سے عوامل اور کون سی مہم چلائی؟
    دھواں دینے والی کتنی گاڑیاں بند کی گئی ہے ؟
    نیز دو نمبری سے چلنے والے کتنے بھٹے بند کیے ہیں؟
    ہمارا مستقبل خطرے میں ہے جوش کی بجائے ہوش سے کام لیجئے ہر مسئلے کا حل چھٹیاں نہیں ہیں خدارا ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ چھٹیاں نہ کریں بلکہ اس کا کوئی اور حل سوچیں اور پاکستان کے طالب علموں کا اور بیڑا غرق نہ کریں بلکہ پاکستان کو ایک اچھا ملک بنانے میں مدد کریں نہ کہ ایک بغیر تعلیم کے ملک، کیوں کہ جو حالات ہیں اس میں پاکستان واحد ملک ہوگا جس میں آنے والے وقت میں سب آفیسر اور انجینئر بغیر تعلیم کے ہوں گے اگر یہی حال پاکستانی حکومت کا رہا تو
    خدارا کچھ سوچئے چھٹیاں نہیں تدابیر کیجئے

  • غریب عوام کا الاؤنس کب بڑھے گا ؟ تحریر:عبدالوحید

    غریب عوام کا الاؤنس کب بڑھے گا ؟ تحریر:عبدالوحید

    غریب عوام کا الاؤنس کب بڑھے گا ؟ تحریر:عبدالوحید
    السلام علیکم ناظرین آپ بخوبی آگاہ ہوں گئے پاکستان میں مہنگائی اس وقت عروج پر ہے ۔اس مہنگائی نے سب کی برکس نکال دی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب بچارا غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے ۔ مہنگائی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ۔ حکومتی کی مشینری ناکام ہوچکی ہے ۔ ہر کسی نے اپنے ریٹس لگائے رکھے ہیں ۔ انتظامیہ غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کا نام نہیں لے پا رہی ہے۔ بے حس ، چپ چاپ تماشائیوں کی طرح بیٹھے حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں۔ کسی کو کوئی احساس نہیں کہ غریب عوام کا بھی کچھ سوچا جائے ۔ عوام بری طرح سے مہنگائی کا شکار ہیں ۔ مہنگائی اگرچہ پوری دنیا میں آئی ہوئی ہے۔ ہر ملک اس مہنگائی کا شکار ہے۔ اس مہنگائی نے سب ممالک کے معاشی ترقی کی رفتار میں ایک سخت بریک کی حیثیت اختیار کر رکھی ہے۔ بڑے بڑے امیر ممالک جن میں کئی یورپین ممالک بھی شامل ہیں اس مہنگائی سے دو چار ہیں ۔ لیکن ان ممالک میں ایک چیک اینڈ بیلنس سسٹم ضرور موجود ہے ۔ ایک حد تک مہنگائی کی سمجھ ضروری آتی ہے ۔ لیکن پاکستان میں ایک مختلف قسم کی مہنگائی ہے ۔ ایسی مہنگائی جس کا آج تک کوئی تصور نہیں تھا۔

    جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے پاکستان میں مہنگائی کا گراف اوپر کی جانب گیا ہے ۔ یہ گراف کھبی نیچے آنے کا نام نہیں لیتی ہے ۔ اس مہنگائی کی وجہ سے اب غریب عوام کو دو وقت کی روٹی کھانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ وزیرِ اعظم روزانا ٹی وی آکر کہتے ہیں ہمیں اس چیز کا اندازہ ہے پاکستان میں مہنگائی ضرور ہے ہم جلد اس مہنگائی کے دلدل سے نکل آئیں گے۔ لیکن ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ اب ہر ایک وزیرِ اعظم کے ان باتوں سے ناامید ہوگیا ہے ۔ مہنگائی کی شرح آسمان کو چو رہی ہے ۔ ایک دھاڑی دار روزانا چھ سے سات سو روپے کماتا ہے ۔ صبحِ سات بجے سے لےکر شام چھ بجے تک سخت محنت کرنے کے بعد اس کو چھ سے سات سو روپے ملتے ہیں ۔ اتنے کم پیسوں سے اس دھاڑی دار کا گزر بسر کیسے ہوگا ۔ وہ اتنے کم پیسوں سے اپنا گزر بسر نہیں کرسکتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اس چیز سے کسی کو انکار نہیں۔ وہ دھاڑی دار چھ سے سات سو روپے میں کیا کیا خرید سکتا ہے ۔ اگر کوئی بندہ حکومتی وزراء سے اس مہنگائی کے حوالے سے بات کرتا ہے تو ایسے ایسے لاجک پیش کرتے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ۔ پچھلے دنوں میں وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا تھا آپ چائے میں چینی کے دانے گنتی کرکے ڈالیں۔ دو وقت کی روٹی میں دو کی بجائے ایک روٹی کھائیں۔ اور خود عیش پرست زندگی گزارنے میں لگے ہیں ۔ اور مختلف الاؤنس لے رہے ہیں ۔ روزانہ اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی جاتی ہے کہ اسمبلی ارکان کے الاؤنس میں اضافہ کیا جائے۔ خود مختلف الاؤنس لے کر اپنے جیب بھر رہے ہیں روزانا ایک نئی قرارداد پیش کی جاتی ہے کہ ہمارے الاؤنس بڑھائے جائیں۔ ان حکمران طبقے کے نیچے بے کس لاچار غریب عوام ہے جس کے ووٹوں سے آپ ارکان اسمبلی منتخب ہوتے ہیں آپ کو اس غریب عوام کی کوئی فکر نہیں ۔ ان کے حال پر کوئی رحم و کرم نہیں آتا ہے۔ ان کا کوئی الاؤنس نہیں ۔ اور ناہی کوئی ان کے الاؤنس بڑھانے کو تیار ہے۔

    مہنگائی اب سر سے اوپر ہو چکی ہے ۔ غریب اب فاکے اور خودکشی پر آگئے ہیں ۔ لیکن حکمران طبقے کے سر سے جوں تک نہیں رینگتی ۔ اپنے الاؤنس بڑھاتے جارہے ہیں ۔ نا جانے غریب عوام ایسی مہنگائی کب تک برداشت کرنی پڑے گی۔ کب غریب عوام کے الاؤنس بڑھانے کی بات ہو گی ۔ نا جانے کب حکمران طبقے کو حوش آئے گا ۔ اب لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ کوئی ایسا مسیحا آ جائے جو اس مہنگائی کی دلدل سے نکلے۔ ہر ایک اس بات کا منتظر ہے کہ غریب کی آواز سنی جائے۔
    @Wah33d_B

  • قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    تحریک انصاف کے دور میں قومی اسمبلی کچھ اہم بلوں کی منظوری آخر ہو ہی گئی جس میں ایک بل سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق تھا. اپوزیشن آخری وقت تک اس کا ساتھ دیتی نظر نہیں آئی مگر یہ بھی حقیقت ہے کے کچھ لوگوں نے خاموشی اور نام نہ ظاہرکرنےکے عیوض ووٹ دیا. موجودہ حکومت پہلے دن سے یہی کہتی آئی ہے کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین صرف ہمارا فائدہ ہی نہیں بلکہ پاکستان ممکی تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے اس سے الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہوگا وقت بھی بچے گا اور سب سے اہم دھاندلی کی بات اور بحث کرنے والے لوگ بھی اطمینان کا اظہار کریں گے اعتماد ہوگا انھیں یہی نہیں بلکہ قیمتی وقت بھی بچے گا اقر چند ہی گھنٹوں میں نتائج سب کے سامنے ہوں گے.

    مگر اپوزیشن کا رویہ اتنا اچھا نہیں دیکھا گیا اپوزیشن اس کے سخت خلاف ہے ساری چیزوں پر غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کے اپوزیشن اس بل پر حامی اس لئے نہیں بھرتی کہ پھر ان کے ووٹ جو یہ خریدتے ہیں وہ نہیں پڑ سکیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ سمندرپار پاکستانی وزیراعظم عمران خان پر ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے سے مکمل بھروسہ کرتے ہیں.
    دیکھا جائے تو ایک دون دن پہلے ن لیگ کے رہنما این اے ١٣٣ کے لئے ووٹرز کو قرآن پر حلف اور پیسے دیتے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے مگر اب واضح تو ہو ہی گیا کے ن لیگ یا اپوزیشن کیوں اتنا خلاف ہے ای وی ایم کے.

    ن لیگ نے ہر چیز جو پیسے اے خریدنے کی کوشش کی ہے اور یہی طرز سیاست بھی رہا ہے اس سیاسی جماعت کا. یہ لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں ای وی ایم سے جبکہ وفاقی وزیر ٹیکنالاجی شبلی فراز نے تو چیلنج بھی کیا کہ اس مشین کو ہیک کر کے دکھائیے دس لاکھ کا انعام حکومت خود دے گی چلیے تھوڑی سی دیر کے لئے مان لیا کے اس مشین میں نقائص ہیں تو دیگر سیاسی جماعتیں اس کے لئے اچھی تجاویز کیوں نہیں دیتی کیوں نہیں اس پر بات کرتے؟
    کچھ مہینوں پہلے ن لیگ کے احسن اقبال نے مخالفت میں آکر سمندر پار پاکستانیوں کی تضحیک بھی کی چلیں یہ بھی مان لیا کہ وہ درست مگر یہ بتائیے کے ن لیگ کی سوشل میڈیا سیل سے سمندر پار پاکستانیوں کی جو تضحیک کی گئی کیا اس کا اندازہ ہے انھیں.

    ساری اپوزیشن خاص کر ن لیگ نفرت میں بہت آگے نکل چکی ہے یہ بھی سنا گیا کہ کچھ ن لیگی اراکین نے قومی اسمبلی میں یہ گارنٹی دی کہ ہم ان بلز اور اس بل کے ساتھ ہیں بس ہمارا نام سامنے نہ آئے اب زرا بتائیے کہ نوااز شریف یا مریم نواز وہ بیانیہ لے کے چلتے ہیں جو کسی کو بھی منظور نہیں ویسے بھی ریاست مخالف بیانیہ رو کسی کو بھی منظور نہیں ہو سکتا سوائے ملک دشمن عناصر کے.
    شہبازشریف کامی باڈی لینگویج قدرے نرم نظر آئی اور یہ سب جانتے ہیں کے شہبازشریف نوازشریف والا بیانیہ نہیں لے کر چلتے.
    الیکٹرانک ووٹنگ سے مشین ست جو فوائد حاصل ہوں گے ہمیں اس کا اندازہ نہیں اگر اپوزیشن کو مسئلہ ہے تو وہ قومی اسمبلی میں ڈسکس کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو نقائص کے ساتھ اسکا دیر پا حل بھی تو بتائے نا لیکن اس پر آکر خاموش ہوجاتی ہے آخر کیوں؟
    اگر آج آپ پاکستان کے لئے ایک نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے سیاست صرف اقتدار یا دولت کی خاطر کیوں کیوں اتنا بے چین ہے اپوزیشن اور اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ہم ٹیکل کر لیں گے جھوٹ یا بہانے بنا کر یہ درست نہیں اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو پھر نئے قوانین بنوانے میں مدد کریں تاکہ اس کے فوائد حاصل کئے جا سکیں
    دعا ہے کے ﷲ پاکستان کی حفاظت کرے آمین.

    @M1Pak

  • پیٹرول کا بحران کیسے ہوا؟ تحریر:علی مجاہد

    پیٹرول کا بحران کیسے ہوا؟ تحریر:علی مجاہد

    پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھی لیکن اب پیٹرول نایاب ہو گیا ہے پیٹرول کیوں نہیں مل رہا اس کے پیچھے ایک وجہ ہے، اس سے پہلے میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ لوگ کہے رہے ہیں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ ہر جگہ ہوا ہے تو میں ان سے یہ بھی کہوں گا آپ کی بات درست ہے پر ان غریبوں کا کیا ہوگا جو کوئی بھی اشیاء لینے جاتا ہے تو اسے وہ چیز مہنگی ملتی ہے اسکو پہلے بھی 1000 روپے مزدوری ملتی تھی اور اب بھی اسکی آمدن تو وہی ہے پر اخراجات زیادہ ہو گئے جو کہتے ہیں پیٹرول عالمی منڈی میں مہنگا ہے ہر جگہ مہنگا ہے تو انکی آمدن بھی بڑھی ہے صرف اخراجات نہیں بڑھے۔ اب بات کرتے ہیں پاکستان میں نومبر میں ہرتال کی گئی پیٹرول ڈیلرز ایسوسیشن کی جانب سے انکے کیا مقاصد تھے اور کیا ہوا، آل پاکستان پیٹرول ڈیلرز ایسوسیشن کی جانب سے سوائے کچھ پیٹرول پمپ کے سارے پیٹرول پمپ بند رکھے گئے اور انکا مطالبہ یہ تھا کہ ہمیں منافع میں 6 فیصد کا اضافہ کر دیں جس کے باعث عوام سخت زلت کی شکار ہوئی ہڑتال 25/نومبر/2021 کو تھی پر میں 24 تاریخ کو تقریباً رات 10 بجے نکلا تو پیٹرول پمپ پہلے ہی بند ہو چکے تھے جو کھلے تھے وہاں عوام کی ہجوم،

    اب بات یہ ہے کہ حکومت نے انکا مطالبہ نہیں ماننا کیوں کہ حکومت یہ کہے رہی اگر ہم ایسا کریں گے تو پیٹرول کی قیمتوں میں مزید 9 روپے کا اضافہ ہو جائے گا عوام کو اس وقت پیٹرول ویسے ہی 146 کا مل رہا ہے اور اس میں اور مزید 9 روپے کا اضافہ ہوا تو پھر عام آدمی کےلئے پیٹرول خریدنا مشکل ہو جائے گا، اب میں آپ کو بتاتا پیٹرول ڈیلرز یہ کہے رہے ہیں کہ ہمارا منافع بڑھایا جائے پیٹرول پمپ چلانے والا کوئی انفرادی شخص ہو یا کوئی کمپنی کا پٹرول پمپ ہو اسکا فی لیٹر پر ایک منافع ہوتا ہے اس وقت پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر حکومتی ٹیکسوں کے علاوہ مختلف دوسرے ٹیکس عائد ہیں جن میں ڈیلرز کا مارجن حصہ بھی ہے آئل کمپنیوں کا مارجن بھی اس وقت پیٹرول جو پمپ کو ملتا ہے وہ (125.27) روپے میں پڑتا ہے اگر حکومت اسی قیمت میں دے نا کسی کو بھی منافع نا ملے تو پھر بھی (125.27) پیٹرول ابھی بھی ہے یہ اتنے روپے کا لیٹر ہے جس کے بعد اس میں (9.62) روپے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں (4.5) روپے انگلینڈ فریٹ مارجن کی مد میں اور ایم سیس کا (2.97) مارجن اور ڈیلرز کا (3.91) جو ہے اس کے اندر مارجن شامل ہوتا ہے ان سب کو ملا کر جو عام عوام کو پیٹرول ملتا ہے وہ (146) روپے کا ملتا ہے تیل کے شعبے کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت پیٹرول پر فی لیٹر (3.91) روپے یعنی تقریباً 4 روپے ڈیلر مارجن ہے تو فی لیٹر پر جو پمپس جا منافع ہے وہ (2.75) روپے کا ہے اور اگر انکے مطالبات کے مطابق 6 فیصد بڑھا دیا جاتا ہے تو 9 روپے لیٹر پر قیمت مزید بڑھ جائیگی اور 6 فیصد سے ڈیلرز کا جو منافع ہے وہ سارے آٹھ روپے تک پہنچ جائے گا تو یہ عام آدمی کے اوپر بڑا بوجھ بنے گا حکومت نہیں مان رہی اسکو، اس وقت بھی عام پیٹرول پمپ بھی روز کے لاکھوں روپے کما رہا ہے پھر اگر پاکستان میں پیٹرول پمپس چیک کریں تو ان میں زیادہ تر ایسے ہیں جو پیٹرول بھی پورا نہیں ڈالتے ان پمپس پر بوتل لیکر جائیں تو وہ کہیں گے ہم بوتل میں نہیں ڈالتے، حکومت کو چاھیے کہ اس مافیا کو قابو میں کیا جائے کیوں کہ میرا خیال ہے یہ بھی ایک بہت بڑا مافیا ہے اور وہ حکومت سے قابو بھی نہیں ہو رہا۔

  • ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید  ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ایک طرف ہجوم خود کو عاشق رسول اور پراینتھا کمارا کو گستاخ رسول قرار دیکر لبیک یارسول اللّٰہ کے نعروں کے ساتھ ملزم پر ڈنڈے لاٹھیاں مکے اور گھونسے برساتا پوری دنیا کو پیغام دے رہا تھا کہ قانون اور اداروں کی موجودگی میں وہ ہجوم اس قدر طاقتور ہے کہ مذہب کے نام پر سزا جزا کا حقدار تک ٹھہر چکا جبکہ دوسری جانب اسی ہجوم میں واحد شخص جو تشدد روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا مار سہتا رہا مگر انسانیت کو مقدم جانتے ہوئے بہادری سے ایک انسان کو ظلم سے بچانے کی اپنے تہی کوشش کرتا رہا۔۔ مارنے والوں پہ اس قدر جنون طاری تھا کوئی بات کوئی وعدہ کوئی قانون ماننے کو تیار نہ تھے ایک ہی ضد تھی کی ریاست کے قانون کو پاؤں تلے روندو اداروں کو ٹھینگا دکھاؤ اور جسے وہ” گستاخ ” کہہ بیٹھے اسے مار مار کے مار ڈالو۔

    ملک عدنان کہتا رہا کہ پراینتھا کو پولس کے حوالے کریں گے مقدمہ چلائیں گے یقین کر لیجیے مگر اسی بحث وتکرار میں سری لنکن مہمان جتھے کے ہاتھ چڑھا پھر ظلم وستم اور درندگی کی جو داستاں رقم ہوئی وہ” ظالموں "میں سے کئی کے کیمروں کی گیلری میں بھی محفوظ ہوئی۔۔

    ملک عدنان اسی فیکٹری میں پروڈکشن مینیجر ہے ایک مذہبی اسٹیکر ہٹانے پر جب پراینتھا کو سزا دینے کا فیصلہ ہوا تو عدنان نے سمجھانے کی کوشش کی ” نام کے عاشقان "سے کہا کہ وہ غیر مسلم ہے نہیں پڑھ سکا کیا تحریر تھا اسلیے اسٹیکر ہٹاتے وقت خیال نہ رکھا ہم جلد اسے فیکٹری سے نکال دیں گے اور ایف آئی آر بھی درج ہوگی ایسے میں ایک نے نعرہ لگایا لبیک یا رسول اللہ اور ٹھنڈا پڑتا جوش دوبارہ جاگ اُٹھا عدنان نے پریانتھا کو بچا کر فیکٹری کی چھت پر موجود ایک کمرے میں بند کر دیا جب غصےاور جہالت سے بھری عوام چھت پر پہنچی تو انہوں نے پرینتھا کو زبردستی کمرے سے نکالا نیچے چوراہے پر گھسیٹتے لے گئے ہزاروں کا مجمع تھا اور عدنان پرینتھا کو بچانے والا واحد شخص جو اسوقت بنا جان کی پرواہ کیے چالیس منٹ تک ڈھال بن کر خود تشدد سہتا رہا کہتا رہا مت کریں ایسا اس سے فیکٹری میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے فیکٹری بند ہو جائے گی پاکستان کا نام بدنام ہوگا مگر وہ” نام نہاد عاشقان” نہ اس وقت مسلمان تھے نہ اسلامی ریاست کے باسی۔۔ایک جنونی جتھہ تھا جسکو سوائے” گستاخ” کے اسوقت نہ کچھ دکھائی دے رہا نہ سنائی دے رہا تھا۔

    ملک عدنان تن تنہا اس جتھے سے کیا مقابلہ کر پاتا ایک وقت آیا کہ پرینتھا کو مارنے والوں نے اس "دینی فریضے” میں اپنا اپنا حصہ ڈالا جتنا مار سکتے تھے مارا انسانیت کو جس قدر شرمندہ کیا جاسکتا تھا کیا لاش تک جلا ڈالی کپڑے تک اتار دئیے حد یہ کہ جن کا ہاتھ مارنے کے فرض سے رہ گیا وہ موبائل نکال کر”ایمان افروز”مناظر کو فلمند کرتا سیلفیاں لیتا لبیک یارسول اللہ کہتا خود کو "ڈیڑھ مسلمان” سمجھتا رہا پرینتھا مر گیا ایک غیر ملکی مہمان چند ایک فسادیوں کی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا مگر ملک عدنان ایک ایسی مثال قائم کر گیا جو اس سے پہلے نہ دیکھی نہ سنی کیونکہ مذہب کے نام پر یہاں غلط کو غلط اور صیح کو صیح کہنے والے کا انجام بھی وہی ہوتا ہے جو اس سے پہلے کئی پرینتھا بھگت چکے۔ ہزاروں لوگوں کے سامنے عدنان کی بہادری اور انسانیت نے ایک امید روشن کی کہ جو مذہب کے نام پر فتنہ فساد برپا کرے اسکے سامنے ڈٹ جاؤ کم از کم ظلم کو ہر ممکن حد تک روکنے کی کوشش تو کرو۔

    اور دیکھا جائے تو اسلام کی تعلیمات بھی تو یہی ہیں کہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظلم میں شریک مانا جاتا ہے۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے باہمت عدنان کو تمغہ شجاعت دیا جارہا ہے سراہا جارہا ہے عدنان پاکستان کا وہ مثبت چہرہ ہے جو اس مملکت کی اصل پہچان ہے اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں سوائے چند کے ہر ایک عدنان ہے جو نہ ظلم سہتا ہے نہ کسی پر ہونے دیتا ہے مگر توہین مذہب کی دھمکی دے کر ایسے جتھے سبکو دیوار سے لگا دیتے ہی۔ بدقسمتی یہی ہے کہ آٹے میں نمک کے برابر اُن چند جنونیوں کی وجہ سے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ہم مذہب کے نام پر گندہ کھیل کھیلنے والوں سے چھٹکارا نہ پا سکے۔۔آج پرینتھا کی جان گئی کل کو اسی طرح کا ہجوم کسی اور کو بنا ثبوت کے توہینِ مذہب کی آڑ میں اپنے مفادات کی آگ میں جھونک سکتا ہے کسی بھی انسانی جان پر ظلم وستم کر کے اپنی خار نکالی جا سکتی ہے ماضی میں بھی کئی نامی گرامیوں نے اسلام کے نام پر ریاست اور شہریوں کو نقصان پہنچایا۔سوال یہ ہے کہ ایک خودمختار ریاست میں مذہب کارڈ کا استعمال اتنی آسانی سے کیوں کر کیا جاتا رہا قوانین کی موجودگی میں کوئی کیسے قانون کو دین کے نام پر بلیک میل کر کے بے توقیر کرتا رہا ریاست چند ایک لوگوں کے ہاتھوں کیوں یرغمال بنی رہی؟

    اس واقعے نے ہر باشعور ذہن کو جھنجھوڑ ڈالا ہمارا پیارا وطن جسکی بنیاد ہی اسلامی قدروں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور تمام بسنے والوں کے ساتھ برابری کے سلوک پہ رکھی گئی آج یہ ملک دشمن عناصر اسے خدانخواستہ تباہ کرنے پہ تُلے ہیں۔انہی کیوجہ سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے جبکہ ایسے واقعات معاشرے میں عدم برداشت کو بھی ہوا دیتے ہیں ہمیں معاشرے میں سکون اور امن کے لیے عدنان جیسے کردار کی سخت ضرورت ہے جبکہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عدنان کو سراہنے کے ساتھ ساتھ پرینتھا کے قاتلوں کو بھی قرار واقعی سزا دے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما ہو کر روشن پاکستان کے چہرے پہ سیاہ دھبہ نہ ثابت ہوں۔

  • "چودھری صاحب وفات پا گئے” تحریر : چودھری احسن رضا جٹ

    "چودھری صاحب وفات پا گئے” تحریر : چودھری احسن رضا جٹ

    چودھری صاحب 1931ء میں انڈیا کے گاؤں "گگرولی” میں پیدا ہوئے۔ چودھری صاحب ایسے خاندان میں پیدا ہوئے تھے جہاں سونا مراد گولڈ اور دولت بے شمار تھی۔1947ء میں آزادی کے اعلان پر 16 برس کی عمر میں پاکستان ہجرت کر آئے اور عارضی رہائش لاہور میں اختیار کی۔مستقل رہائش کے لیے "كهیوہ” گاؤں کا انتخاب کیا۔جہاں چودھری صاحب نے کافی عرصہ بسر کیا،بڑے بھائی کے انتقال کے بعد وہ چنیوٹ کی ایک تحصیل میں رہائش پزیر ہو گئے:اسی زمین پر ان کے چار بیٹوں اور تین بیٹیوں نے جنم لیا۔

    چودھری صاحب نے چنیوٹ کی تحصیل میں مستقل رہائش اپنائی اور اپنا سب کچھ وہی بنایا۔چند ہی سالوں میں چودھری صاحب نے اس علاقہ میں خوب نام کمایا اور معروف شخصیات میں سے ہو گئے۔(البتہ اگر وہ کہا کرتے تھے جو دولت انڈیا میں چھوڑ آئے اب وہ کہا ميسر)علاقہ کے خاص مقامات پر چودھری صاحب کی جائیداد موجود تھی۔اس علاقہ کے حکمران مراد ایم این اے اور ایم پی اے بھی اُن سے مشاورت کرتے،اور تقریباً ہر دعوت میں چودھری صاحب اُن کے ساتھ ہوتے تھے۔شان و شوکت اتنی تھی کہ شہر میں ہر کوئی ان کے نام سے واقف تھا۔

    جیسے ہی ان کی اولاد بڑی ہوئی،وقت بدلہ،سماج نے دیکھا۔اُن کے بیٹوں نے شادی کے بعد جائیداد میں حصہ لینے کا مطالبہ کر دیا۔چونکہ چودھری صاحب کے دو بڑے بیٹوں کی شادی پہلے ہوئی اس واسطے وہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں کا حق ہڑپ کرنا چاہتے تھے۔وہ چودھری جس نے اپنی زندگی مزے میں گزاری،اب اس کی زندگی میں مشکلات بڑھنے لگیں۔بیس سال گزر گئے اور بیٹوں میں جائیداد کا تنازع چلتا رہا۔یہاں تک کہ چودھری صاحب کے آنگن میں پوتے اور پوتیوں کی آمد بھی ہو چکی تھی(چودھری صاحب کے لیے سب سے غمگین لمحہ وہ تھا جب ان کی حویلی چار حصوں میں بٹ گئی)۔

    یہ 2006ء کے بعد کا وقت تھا ابھی بھی ان کا نام شہر میں مشہور تھا۔مگر اولاد کی بداخلاقی کی وجہ سے وہ سکت نہ رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔اولاد میں جائیداد کا مطالبہ اس قدر بڑھ گیا کہ بیسیوں مرتبہ وہ اپنے والد سے بداخلاقی سے پیش آچکے تھے۔در اصل ان کا پہلا بیٹا دیگر کی نسبت زیادہ حصہ کا مطالبہ کرتا۔دوسرا تیسرے اور تیسرا دوسرے کی نسبت زیادہ اور،چوتھا اور چھوٹا سب کی نسبت زیادہ حصہ کا طلب گار تھا۔_”ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہو گا”۔

    چودھری صاحب کے آخری ایام آئے تو دربدر ہو گئے۔چند روز ایک بیٹے کے گھر بسر کرتے تو اس کے تانوں سے تنگ آ کر دوسرے کے گھر چلے جاتے؛ایسے ہی یہ سلسلہ چلتا رہا۔2016ء میں چوتھے بیٹے کے گھر رہنے کے بعد تیسرے کے گھر چلے گئے:کیوں کہ چوتھے بیٹے نے ان کی بہت بے عزتی کی تھی۔تیسرے بیٹے نے چودھری صاحب کو خوشی سے خوش آمدید کیا۔سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔چودھری صاحب سے جب ملاقات ہوئی تو دوبارہ خوش دیکھ کر میں نے پوچھا تو انہو نے کہا:”میرا تیسرا بیٹا بہت اچھا ہے،اب میں وہی رہ رہا ہوں،وہ میرا بہت خیال رکھتا ہے۔”

    چودھری صاحب تقریباً 27 یا 28 نومبر 2016ء کو اپنے تیسرے بیٹے کے ہاں رہائش پزیر ہوئے تھے۔ میری ان سے ملاقات عین 5 دسمبر کو ہوئی تھی۔چودھری صاحب قدرِ خوش اور صحت کے لحاظ سے بھلے محسوس ہو رہے تھے۔

    یہ 6 دسمبر 2016ء کا دن تھا کہ اچانک مسجد سے آواز آئی: اِنّا لِلّهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن ،حضرات ایک ضروری اعلان غور فرمائیں،
    "چودھری صاحب وفات پا گئے”
    چودھری صاحب کی جب 5 اور 6 دسمبر کی درمیان والی رات کو طبیت بگڑی تھی اور یہ ضروری تھا کہ چاروں بیٹے مل کر انھيں اسپتال لے جائیں۔خیر ایسا ہی ہوا،پوری رات چودھری صاحب نے کرب میں گزاری اور صبح وفات پا گئے۔ ڈاکٹر نے غصہ میں کہا: ‘چودھری صاحب کو جان ليوا گولیاں دی گئی تھی۔’

  • ” مجھے ڈر لگتا ہے ” .تحریر : زیاد علی شاہ

    ” مجھے ڈر لگتا ہے ” .تحریر : زیاد علی شاہ

    تمباکو کی پیداوار میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے کسان اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح یہ پیداوار بڑھائے اور منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کریں کسان بیچارہ کیا کریں ان کی دو وقت کی روٹی اسی سے ہی پیدا ہوتی ہے لیکن ان کی کمائی کیلئے متبادل طریقے بھی موجود ہیں ایک دن میں ایک ریسرچ کے مطابق بارہ سو بچے سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں اور خاطر حواہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ایک سروے کے مطابق پختونخوا میں پچاس فیصد تمباکو پیدا ہوتی ہے یعنی سب سے زیادہ وہاں ہوتی ہے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے مطابق روزانہ چار سو پچاس لوگ سگریٹ کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اتنی تمہید باندھنے کی ضرورت اسلئے پڑ گئی کہ "مجھے ڈر لگ گیا” کہ پاکستان کی آدھی آبادی تو سگریٹ کی وجہ سے متاثر ہو جائیگی پھر میں اسی کوشش میں تھا کہ سگریٹ کو ختم کرنے کیلئے کوئی عملی اقدام کئے جائے صحافت کے طالب علم ہونے کی وجہ سے گھومتا پھرتا ہوں ادھر ادھر دیکھتا ہوں مشاہدہ کرتا ہوں کہ اس کی اصل جڑ کیا ہے ؟ پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل تو ہم ہی ہے میں ایک نوجوان ہو کر اس میں اپنا کردار کیسے ادا کرسکتا ہوں ؟

    آج اللہ نے موقع دیا کرومیٹک کے زیر انتظام تمباکو کو روکنے کیلئے کانفرنس میں مدعو کیا گیا وہ لوگ اس پر بہت کام کر رہے ہیں مختلف ریسرچ کرتے ہیں یوتھ کو اپنے ساتھ اینگیج رکھتے ہیں اب یوتھ کیا کر سکتی ہے ؟ مختلف یونیورسٹیوں میں طلباء سگریٹ کو سٹائل کے طور پر پیتے ہیں بلکہ فخر کرتے ہیں پھر یہی طلباء پاکستانی ڈراموں کو دیکھتے ہیں تو ڈراموں میں بھی سگریٹ نوشی سٹائل کیلئے پیتے ہیں جو کہ طلباء پر برا اثر پڑتا ہے آج کل ” ہم نیوز ” پر ایک ڈرامہ نشر ہو رہا ہے اس کا نام ہے ” پری زاد ” اس میں مرکزی کردار سگریٹ نوشی محض ٹینشن کو دور کرنے کیلئے کرتا ہے تو نوجوان اس چیز کو کافی کرتی ہے اس پر حکومت بھی غیر سنجیدہ بلکہ خوش تماشائی بن کے بیٹھے ہیں اب اس یوتھ کو سگریٹ روکنے کیلئے بھی ہم استعمال کر سکتے ہیں نوجوان پاکستان کی طاقت ہے اور سوشل میڈیا کا پاکستانیوں پر بہت اثر ہوتا ہے اگر پاکستانی یوتھ نشے کے خلاف نکلے اور اس کا نام جہاد ہوگا کیونکہ سگریٹ (تمباکو) سے انسانوں کا قتل عام ہو رہا ہے ہم اس سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں ایک آواز بننا بہت ضروری ہے

    کانفرنس میں مختلف بلاگرز نے اس کو روکنے کیلئے مختلف تجاویز دئے کہ کیسے اس کو روکا جا سکتا ہے لیکن میں اپنی بات کرونگا میں نے کچھ تجاویز پیش کی کہ طلباء کو اٹھا لینگے کہ سگریٹ روکنے کیلئے کردار ادا کریں قیامت کے دن ہم سے یہی پوچھا جائیگا کہ دنیا میں جو کر سکتے تھے وہ کیوں نہیں کیا دوسری تجویز یہی تھی کہ پختونخوا میں تمباکو کثیر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں تو میں بذات خود گھر گھر گلی گلی جاؤنگا اس کو روکنے کیلئے بلکہ اپنے گھر سے شروع کرونگا تیسری تجویز یہی تھی کہ ہماری یوتھ کی آواز بہت توانا ہے اور اتنی طاقتور ہے کہ وہ چاہے کچھ بھی کرسکتے ہیں کیوں نہ ہم اس پر کمپینز کریں اور لوگوں کو اس بات پر یقین دلائے کہ یہ ایک خاص پلان کے تحت ہو رہا ہے اور اس میں ہمارے دشمن بڑھ چھڑ کر حصہ لے رہے ہیں اور ہم پاکستانی اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں ہم اپنا آواز خود ہی بلند کرینگے

    سگریٹ کا مسلہ صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں بلکہ فیکٹریوں میں بھی بہت کثیر تعداد میں مزدور سگریٹ نوشی کرتے ہیں یوتھ جا کر اگر ان شہریوں کو ان کی نقصانات گننا شروع کرینگے اور ان کو اس بات کی یقین دلائنگے کہ یہ ہمارے ملک و صحت دونوں کیلئے نقصان دہ ہے شاید وہ ہمارے بات کا یقین کر لیں بد قسمتی سے یہاں حکومت کچھ مافیاز کے سامنے جھک جاتی ہے گھٹنے ٹیک دیتی ہے محض کچھ مفادات کی خاطر اور انہی سگریٹ انڈسٹریز کے جانب سے ان کو ڈونیشن کی شکل میں رشوت ملتی ہے تاکہ ان کے کاروبار پر کوئی اثر نہ پڑ جائے ہر چیز پر اس حکومت نے ٹیکس بڑھائی لیکن سگریٹ پر نہیں

    نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہے اگر چاہے تو سگریٹ کا صفایا بھی اس ملک سے کر سکتی ہے ایک شاعر بہت خوب فرماتے ہیں

    بخت کے تخت سے یکلخت اتارا ہوا شخص
    آپ نے دیکھا ہے کھبی جیت کے ہارا ہوا شخص

    نوجوان اس ملک میں ان مافیاز کی جیت کو ہار میں بدل سکتی ہے اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو

  • آیل آر بی ٹی ،اندھیرے میں امید کی ایک کرن

    آیل آر بی ٹی ،اندھیرے میں امید کی ایک کرن

    آیل آر بی ٹی ،اندھیرے میں امید کی ایک کرن
    آنکھیں انسانی وجود کا بہترین، انمول حصہ اور بینائی رب العالمین کی بہت بڑی نعمت ہے، آنکھوں کی قدر بینائی سے محروم افراد ہی جان سکتے ہیں، آنکھ کی حفاظت کریں گے تو ہماری بینائی بھی محفوظ رہے گی اور اگر حفاظت نہیں کریں گے تو پھر آنکھ میں خرابی کے بعد بینائی جانے کا بھی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، پاکستان میں اندھا پن کی زیادہ بیماریاں سفید موتیا، کالا موتیا، شوگر کے پردے پر اثرات، نور والے پردے کی عمر کے ساتھ ساتھ متاثر ہونا زیادہ چیلنجز ہیں۔ بروقت آنکھ کا معائنہ مستند آئی ڈاکٹر سے اس بیماری کی سٹیج کے حساب سے معائنہ اور علاج انتہائی ضروری ہے آنکھ میں ذرا سی بھی تکلیف پر فوری معالج سے رجوع کرنا چاہئے، تا ہم پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو غریب عوام کا بھلا کر کے نیکیاں سمیٹ رہے ہیں، انہی میں سے ایک ایل آر بی ٹی کا نام بھی سامنے آیا ہے،

    ایل آر بی ٹی ،لیٹن رحمت اللہ بینوویلنٹ ٹرسٹ کے زیر انتظام لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں آنکھوں کے امراض کے لئے ہسپتال قائم کیا گیا ہے ، یہ اسپتال ایل آر بی ٹی کے نام سے معروف ہے اور امراض چشم کے حوالے سے پاکستان کا سب سے جدید ترین اسپتال کہلایا جاتا ہے۔یہ فلاحی اسپتال ہے مریضوں سے کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ ایل آر بی ٹی کے چیئرمین نجم الثاقب حمید کا کہنا تھا کہ ایل آر بی ٹی تیس سال قبل قائم کیا گیا تھا ،غریب لوگوں کے لئے یہ ادارہ بنایا گیا ہے، یہ اس زمانے کے اندر آنکھوں کا مرض بہت ایشو تھا، جسٹس ر عامر رضا خان نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں جس کو ڈیل نہ کر سکیں، لوگ اس کے لئے ڈونیٹ کرتے ہیں، کروڑوں کی امداد ملتی ہے، یہ سب اللہ کی طرف سے اور لوگوں کی دعائیں ہیں، لوگوں کو فائدہ ہو تو پھر بات کرتے ہیں

    https://www.youtube.com/watch?v=RFecOiNUBL0

    لیفٹیننٹ کرنل ر معین رؤف کا کہنا تھا کہ سنگل سٹوری سے چلتا ہوا اسوقت 135 بیڈز کا ہسپتال ہے اور اس میں صرف آنکھ کا علاج کیا جاتا ہے، یہ ٹوٹلی رفاہی ادارہ ہے ،ایل آر بی ٹی اندھے پن اور آنکھوں کی دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی مشکلات اور تکالیف کو ختم کرنے کے لئے قائم کیا گیا جو پاکستان میں ایک بہتر طریقے سے کام کر رہا ہے،

    پاکستان بینائی سے محروم اور نابینا افراد کی سب سے زیادہ تعداد کے ساتھ دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ غریب افراد جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور انکی دہاڑی کم ہوتی ہے وہ آنکھوں کا علاج نہیں کروا سکتے ، اس ضمن میں ایل آر بی ٹی میں انہیں سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ،بینائی سے محروم ہزاروں افراد کے آپریشن کئے جا چکے ہیں، سرکاری ہسپتال جہاں مریضوں کو وقت دیا جاتا ہے اور انکا وقت پر آپریشن یا علاج نہیں ہوتا وہ ایل آر بی ٹی میں آتے ہیں

    ایل آر بی ٹی میں خواتین و مرد حضرات کے لئے جو علاج کے لئے آتے ہیں ،الگ الگ وارڈز بنائے گئے ہیں، ہسپتال کا بہترین نظام ہے، بہترین مشینری اور قابل ڈاکٹر ہسپتال میں موجود ہیں،دور دراز علاقوں سے لوگ چیک اپ کے لئے آتے ہیں اور انکا علاج کیا جاتا ہے،

    انسان جو مر چکا ہے اگر اس نے اپنی زندگی میں آنکھ عطیہ کرنے کا کہا ہے تو وہ دوسرے مریض کو لگا دی جاتی ہے، کسی مریض سے کوئی پیسے نہیں لئے جاتے ، مکمل علاج فری ہوتا ہے ،ہسپتال میں آنیوالوں کو بھی کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا،صفائی ستھرائی کے انتظامات دیکھ کر آنیوالے مریض بھی دنگ رہ جاتے ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے نیک کام کرنے والوں کا ہاتھ بٹایا جائے اور مخلوق خدا کی نیک کام میں مدد کی جائے،

  • یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید
    ایک کھیل تب تک ہی کھیل رھتا ہے جب تک اسے شوق پورا کرنے یا صرف وقت گذاری کےلئےکیھلا جائے اور جب وہی کھیل شوق سے بڑھ کر جنون بن جائے اور ہزار ہا لوگوں کے جذبات بھی اس سے جڑے ہوتو وہ کھلاڑی کی زندگی کا ایسا مقصد بن جاتا ہے جو اسے ہر ممکن صورت میں اپنے ملک کے عزت و وقار اور لوگوں کی خوشی کیلئے حاصل کرنا ہوتاھے۔
    یورپ میں جو مقام فٹبال کو حاصل ہے وہی مقام کرکٹ کو ایشیائی ممالک میں حاصل ہےیعنی لوگ جنون کی حد تک کرکٹ کے دلدادہ ہیں۔ پاکستان کا سب سے مشہور و مقبول اور زیادہ کھیلے جانے والا کھیل "کرکٹ”ہے

    پاکستان وقت کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں اسے اندرونی طور پر بہت سے چیلنجر کا سامنا ہے وہی دوسری طرف بیرونی طاقتیں بھی اسے ٹف ٹائم دے رہی پاکستان کے عوام لمبے عرصے سے مختلف مصائب میں گھرے ہوئے ہیں اس پریشانی کے ماحول میں ہوا کا خوشگوار جھونکا” پاکستان نیوزی لینڈ سیریز” کے طورپر آ یا نیوزی لینڈ ٹیم چونکہ لمبے عرصے بعد کرکٹ کھیلنے پاکستان آ رہی تھی یہ خبر پاکستانیوں کے لیے کسی تہوار کے آ نے سے کم نہ تھی شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی پھر سےایک امید پیدا ہوگئی کہ انشاء اللہ نیوزی لینڈ کے اس دورے کے بعد تواتر سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے پاکستان کے لیے کھل جائیں گے اس خوشگوار خبر کے آ تے ہی زوروشورسے تیاریاں شروع کردیں گئیں ٹیم نیوزی لینڈ کے پاکستان آ نے سے قبل روزانہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے اداروں کی جانب سے اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل اور پھر ہوٹل سے اسٹیڈیم تک گشت کیا جانے لگا ہر ممکن کوشش کی گئی کہ مہمان ٹیم ہر حوالے سے پاکستان کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات سے مطمئن ہو بلآخر وہ دن بھی آ گیا جب ٹیم نیوزی لینڈ پاکستان پہنچ گئی انہیں فل پروف سیکیورٹی کے حصار میں اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل پہنچا یا گیا سب معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم نے دورے کے تین چار روز بعد ایک میل تھریٹ کی بناء پر اچانک دورہ پاکستان ملتوی کر دیا اس میل تھریٹ سے فائیو آئی نامی انٹیلیجنس ایجنسی جو کے (آسٹریلیا انگلینڈ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور امریکہ) کی انٹیلیجنس ایجنسیز پر مشتمل ہے، نےنیوزی لینڈ آفیشلز کو اس سے آگاہ کیا اور وہ مزید تفصیلات بتائے بغیر پاکستان سے روانہ ہوگئے ۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی پاکستان سے یوں اچانک واپسی پر جہاں ایک طرف ملک کو مالی طور پربھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں دوسری طرف شائقین کرکٹ میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اسی کے چلتے ہوئے انگلینڈ نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا

    چند ہی دنوں میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 کا میلا سجنے والا تھا شائقینِ کرکٹ نے قومی ٹیم سے امیدیں باندھ لیں کہ بھارت جو پاکستان کا روایتی اور تگڑا حریف ہے اسے تو ہرانا ہی ہے مگر اس بار نیوزی لینڈ کو بھی چاروں شانے چت کرنا ہے قومی کھلاڑیوں کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ وہ جارحانہ کھیل پیش کر کے ہی مقابل ٹیموں اور ممالک کو یہ باور کروا سکتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑی اپنے ہوم گراؤنڈز پر کھیل کر کے ہی متحدہ عرب امارات میں عمدہ کرکٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور پاکستان ہر لحاظ سے محفوظ اور پر امن ملک ہے۔اب کرکٹ میچ میں جیت ہی ملک کے عزتوقار کو بحال کرنے کا سنہری موقع تھا۔

    پھر وہ دن بھی آ گیا جس دن پاک بھارت میچ ہونا تھا کرکٹ دیوانوں نے میچ دیکھنے کے لیے خاص اہتمام کیا،مالز اور گراؤنڈز میں بڑی اسکرینیں لگائی گئیں پاکستان قوم کی دعائیں اور قومی ٹیم کی محنت بلآخر رنگ لے آئی۔ پاک بھارت میچ میں شروع سے آخر تک پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط رہی اور اس طرح بھارت کو دس وکٹوں سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی جیت کے ساتھ پورا ملک روشنیوں میں نہا گیا لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آ نسو اور زبان پر رب تعالیٰ کی تعریف تھی۔ وطن سے محبت ایک بہت ہی انوکھا اور خوبصورت احساس ہے اور یہ وہ جزبہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا خواہ آ پس میں لوگ ایک دوسرے سے کتنے ہی اختلاف رکھتے ہو مخالفین ایک دوسرے پر طنز و طعنہ کے نشتر کستے ہولیکن جب بات وطن پر آ تی ہے تو سب یک زبان ہوکر پاکستان کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ایک بار پھر کرکٹ کے کھیل نے پوری قوم کو اکٹھا کر دیا تھا۔

    ورلڈ کپ کا دوسرا میچ پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ تھا یہ میچ بھی پاک بھارت میچ سے کم نہ تھا پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین مطابق کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد قومی کھلاڑیوں نے یہ اہم جیت اپنے نام کی اور اسی کے ساتھ نیوزی لینڈ سے دورہ پاکستان ادھورا چھوڑنے کا بدلہ بھی پورا ہوا

    اس کے بعدپاکستان ٹیم نے لگاتار اپنے گروپ کے تمام میچز جیتے اور اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ جما لیا نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن نے کرکٹ مداحوں سے یوں دورہ پاکستان ادھورا چھوڑ کر جانے پر معافی مانگی۔انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز نے بھی آئندہ برس پاکستان آ کر میچز کھیلنے کا اعلان کیا ہے
    گویا یہ اک کھیل نہ صرف ملک کے وقار کو بحال کر گیا بلکہ پاکستانی عوام کو پھر سے متحد کر گیا ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے یہ جیت بہت ضروری تھی اور اس موقع پربلا شبہ پاکستان کرکٹ ٹیم تعریف کے لائق ہے جن کی بدولت دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثرگیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے معیار کو گرنے نہیں دیا بلکہ کرکٹ کے حق میں بہترین فیصلے کیے اور قومی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
    شکریہ پی سی بی
    شکریہ ٹیم پاکستان

    @SuBKeHDo4