Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اندھا اعتقاد — نعمان سلطان

    اندھا اعتقاد — نعمان سلطان

    دنیا میں بےشمار افراد توہم پرستی کے شکار ہیں لیکن پاکستان میں تو آخیر ہی ہے گزشتہ دنوں فیصل آباد میں ایک پیر صاحب کی خوشنودی کے لئے ایک محفل کا انعقاد کیا گیا اس میں پیر صاحب کو لاثانی کہا گیا جس پر فیصل آباد بار کے وائس پریذیڈنٹ صاحب نے محفل میں سرعام پیر صاحب کے مریدوں کو اس عمل سے روکا جس کے ردعمل میں پیر صاحب کے مریدوں نے ان پر شدید تشدد کیا۔

    کون حق پر ہے یہ آنے والے دنوں میں معلوم ہو جائے گا بظاہر رائے عامہ پیر صاحب کے خلاف ہے، پیر صاحب کا واقعہ سن کر ایک پرانے وقتوں میں سنا واقعہ یاد آگیا جس میں مرید نے ہر حال میں اپنے پیر کا ہی شملہ اونچا رکھنا تھا اور اتنے عرصے بعد بھی مریدوں کا وہی حال ہے بہرحال پرانا واقعہ بیان کرتا ہوں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہماری نفسیات بالکل نہیں بدلی ۔

    ایک پیر کے مرید صاحب سعودی عرب بسلسلہ روز گار جانا چاہتے تھے لیکن وہاں جانے کے اسباب نہیں بن رہے تھے، ایک دن اپنے مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ حضرت میں سعودی عرب جانا چاہتا ہوں لیکن کوئی نہ کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے براہ مہربانی مجھ پر نظر کرم کریں مرشد نے حسب عادت ایک تعویز مرید کو دیا اور کہا کہ یہ تعویز پاک چمڑے میں سلائی کرا کے گلے میں پہن لو انشاءاللہ عنقریب تمھارا سعودی عرب جانے کا خواب پورا ہو جائے گا ۔

    مرید نے حسب ہدایت تعویز پاک چمڑے میں سلائی کرا کے پہن لیا اللہ کی کرنی ایسے ہوئی کہ تھوڑے عرصے میں اس کا سعودی عرب جانے کا سبب بھی بن گیا اور وہ سعودی عرب پہنچ کر کام پر بھی لگ گیا کچھ عرصہ گزرا تو اس نے سوچا کہ سعودی عرب میں ہوں اور ابھی تک عمرہ نہیں کیا لوگ اتنے پیسے لگا کر حج. عمرہ کے لئے آتے ہیں مجھے تو اللہ نے موقع دیا ہے میں موقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھاؤں ۔

    اپنی خواہش کا ذکر اس نے جب اپنے دوستوں سے کیا تو انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے ساتھ عمرے پر جانے کے لئے تیار ہو گئے وہ تمام لوگ حالت احرام میں خانہ کعبہ میں آئے، سعودی لوگ توحید کے معاملے میں انتہائی سخت ہوتے ہیں اور حرم کی حدود میں حکومتی اہلکار مقرر ہیں جو لوگوں کو غیر شرعی افعال سے روکتے ہیں ان میں سے جو نرم دل ہوں وہ زبان سے منع کرتے ہیں اور جو طبیعت کے سخت ہوں وہ ایک آدھا طمانچہ بھی رسید کر دیتے ہیں ۔

    حرم میں ایک اہلکار کی نظر اس مرید پر پڑ گئی کہ حالت احرام میں اس نے تعویز پہنا ہوا ہے اس نے فوراً اسے عربی میں کہا کہ” یہ شرک ہے” اور ایک ہاتھ سے اس کے گلے سے تعویز کھینچ کے اتارا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، عمرے کی ادائیگی سے فراغت کے بعد ج وہ دوست اکٹھے ہوئے تو انہوں نے اس مرید سے حرم میں ہونے والے واقعے پر اظہار افسوس کیا اور شرمندگی کا اظہار کیا کہ ہم آپ کو بتانا بھول گئے کہ تعویز پہننے کی ممانعت ہے ۔

    مرید نے بےفکری سے جواب دیا آپ ساری باتیں چھوڑو میرے پیر کی کرامت دیکھو یہ تعویز میں نے سعودیہ آنے کے لئے ان سے لیا تھا اصولاً کام ہونے کے بعد مجھے اسے صاف(پاک) پانی میں بہا دینا چاہیے تھا لیکن میں بھول گیا مگر میرے پیروں کی مجھ پر نظر تھی انہوں نے اس وجہ سے کہ کہیں تعویز اب مجھے پر الٹا اثر نہ کر دے پاکستان میں بیٹھے بیٹھے میرا تعویز بھی اتروا دیا اور طمانچے کی صورت میں میری لاپروائی کی مجھے سزا بھی دے دی۔

    تو دوستوں ہم کل بھی اندھی تقلید کر رہے تھے ہم آج بھی اندھی تقلید کر رہے ہیں خدارا کچھ تو اپنے ذہن سے کام لو اس پیر کے کارنامے سنو تو اس وقت روئے زمین پر اس سے زیادہ خدا کا برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ کوئی نہیں، اس کی نظر سے کوئی بات پوشیدہ نہیں جبکہ اس کی حالت یہ ہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ آج کی محفل میں جو وکیل صاحب مدعو ہیں وہ اس کی جھوٹی عظمت کا پول بھری محفل میں کھولیں گے۔

  • ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    آج کل کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے جو اپ کوہر وقت دلاسے دیتا رہےاور اپ کو نصیحتیں کرتا رہے۔اپ کے لئے ہر وقت پریشان ہوتا رہے ۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو یا ان میں آپ کےدوست وغیرہ کو شامل کر لیں. ان کے اپنے کئی مسائل ہیں۔

    اور سب سے بڑھ کر دِلوں کے خالق نے فرما دیا ہے:

    أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

    ترجمہ : ’’ جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ‘‘

    ﴿٢٨ -سورة الرعد﴾

    بہت ہی خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے ایسے ساتھی ہوں جو اپنا قیمتی وقت دیتے ہوں بات سنتے ہوں اور اپنے ساتھ باہر لے کے جاتے ہوں ایسے لوگوں کا احترام کریں۔

    اگر آپ لمبے عرصے تک اس طرح ہی ڈپریشن میں مبتلا رہے توکچھ عرصہ بعد گھر والے اور دوست آپ کی ڈپریشن کو اپ کی ایک عادت سمجھ کر آپ کو اکیلے آپ کے حال پر چھوڑ دیں گے اور یہ صورتحال پھر آپ کے لئے گھمبیر ہو جائے گی۔۔۔

    ڈیپریشن انسان کو مختلف طریقوں سے تباہ کرتا ہے ضروری نہیں کہ ڈپریشن آپ کی جان ہی لے، یہ آپ کو اور کئی طرح سے بھی مار سکتا ہے جیسا کہ یہ آپ کی زندگی کے کئی خوشیوں اور کئی مختلف ایکٹیویٹز سے آپ کو محروم رکھ سکتا ہے۔

    جس میں آپ کے جوانی کے حسین صبح و شام اور لمحات شامل ہوتے ہیں دوستوں کی ہنسی مذاق اور گیدرینگ، مختلف ایونٹس،آپ کی تعلیم اور جاب اور آپ کی شادی وغیرہ شامل ہیں۔

    لہٰذا کسی کا انتظار نہ کریں کہ کوئی آئے گا اور آپ کو آپ کی پریشانی سے نکال دے گا.

    خاص طور پر نوجوان اپنے گھر والوں کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ ان کو اس حالت میں دیکھ کر ضرور کچھ کریں گے یا وہ شخص جس کی وجہ سے آپ ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے ہوں اور وہ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر واپس آجائے گا تو یقین جانیں ایسا کھبی نہیں ہوگا

    خود کو اذیت نہ دیں۔ ہر بندہ اپنی اپنی زندگی جینے اور خوشی منانے میں مصروف ہے۔

    آپ کو خود ہی اس بلا سے نمٹنا ہوگا۔

    زندگی کورے کاغذ کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر ہم وقت کی سیاہی سے اپنے غم اور خوشیاں لکھتے ہیں ۔ اس لمحہ بہ لمحہ احوال میں ہمیں زندگی کے خوشگوار لمحات کو سنہرے حروف سے لکھنا چاہیے، تاکہ اس کی خوبصورتی کا احساس اس سے جڑی بے شمار کجیوں اور کمیوں کے باوجود سلامت رہے۔ یہی وہ احساس ہے جو آخری لمحات تک ساتھ رہنا اور ساتھ رکھنا لازمی ہے تاکہ ہم مثبت طور سے زندگی زندہ دلی کے ساتھ گزار سکیں.

    ڈپریشن سے نکلنے کے لئے مختلف طریقے آزمائیں اور دیکھیں کونسا طریقہ ہے جس سے آپ اچھا پرسکون اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    مثال کے طور پر، عبادت کرنا ،لوگوں کی مدد کرنا، کھیلوں میں حصہ لینا یا بچوں کے ساتھ بیٹھنا اور کھیلنا، دوستوں کے ساتھ گھومنا اور اوٹینگ پر جانا، مزید تعلیم حاصل کرنا، کتابوں کا مطالعہ کرنا یا تحریر لکھنا وغیرہ وغیرہ۔

    اس کا حل آپ نے خود ہی ڈھونڈ نکالنا ہوگا کہ کونسی چیزیں اور عوامل آپ میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔۔

    پھراس پر عمل کریں۔۔۔

    خوش رہیں، زندگی کو بھرپور طریقہ سے جیئیں۔

  • آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    قوموں کے عروج و زوال، ترقی و تنزلی میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے.

    دنیا کے بے شمار انقلابات میں ہمیشہ نوجوانوں نے نمایا کردار ادا کیا. اس وقت دنیا کی شرح میں نوجوانوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے. جہاں بہت سارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرکے آگے بڑھ رہے ہیں، وہیں نوجوانوں کی اکثریت اپنے آپ کو مختلف قسم کی چیزوں میں مشغول کرکے ضائع کررہی ہے. نوجوان ہمیشہ بڑے بزرگوں کی امیدوں کا مرکز رہا ہے.

    دنیا کی ترقی میں جس قدر زیادہ حصہ نوجوانوں کا ہونا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آتا بلکہ آج کا نوجوان مایوس مایوس سا دکھتا ہے. اگر نوجوانوں کو مثبت و حوصلہ افزا مواقع مہیا کیے جائیں تو آج کا نوجوان وہ کارہائے نمایا انجام دے سکتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جائے.

    پاکستانی قانون کے مطابق 15 سے 30 سال کے افراد جوانی کی فہرست میں آتے ہیں. پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے، جہاں نوجوانوں کی شرح بہت زیادہ ہے. جس قدر ہمارے جوانوں کی شرح زیادہ ہے اسی قدر ہمارے جوان دنیا کے مختلف شعبوں میں پیچھے دکھائی دیتے ہیں. ملکی و معاشرتی دونوں قسم کے اسباب ملکر ہمارے جوانوں کی صلاحیتوں کے ظاہر نہ ہونے کا سبب بنتے ہیں. اور کہیں خود نوجوان اپنے آپ کو ضائع کررہے ہوتے ہیں.

    اولاد کے آگے بڑھنے میں سب سے پہلے کردار والدین کا ہوتا ہے، جیسی تربیت والدین اپنی اولاد کو دیں گے، ویسے ہی نتائج ہمیں اپنی اولاد سے ملنے ہیں. اگر بچے کا رنگ کچھ کالا ہے اور والدین کالا یا کالو کہہ کر بلانا شروع کردیں تو باقی تمام افراد بھی اسی نام سے اسے پکارنا شروع کردیں گے. اگر اسے بہادروں، باہمت لوگوں کے واقعات سنائے جائیں تو اس کی فطرت بھی وہی رنگ اختیار کرتی جائے گی. اور پھر والدین کو صرف تعلیم پر ہی توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ ان کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ہمارا بیٹا کیسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، اس کی عادات تبدیل کیوں اور کیسے ہورہی ہیں، کیسے پروگرامات میں شامل ہورہا ہے. بچوں کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے، بڑوں کے سامنے کس طرح پیش ہوتا ہے. گھر کے افراد کے ساتھ رویہ اور باہر کے لوگوں کے ساتھ کردار کیسا ہے؟ ہماری بیٹی یا بیٹا کس طرح کے فیشن اختیار کررہا ہے، حیا کا عنصر بڑھ رہا ہے یا پھر مغرب سے مرعوب ہے؟ یہ اور ان جیسی تمام عادات پر نظر رکھنا والدین ہی اہم ذمے داری ہے اور یہی چیز ہمارے بچے کو آگے بڑھنے میں تعاون کرتی ہیں.

    ہمارا نوجوان کچھ کرنا چاہتا ہے، آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن معاشرہ اسے آگے بڑھنے نہیں دیتا، معاشرے کے افراد جگہ جگہ روک ٹوک کرتے ہیں، حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ارادوں کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں. بلکہ ہمارا پورا معاشرہ ملکر مایوسی پیدا کرتا ہے،
    اگر یہی معاشرہ حوصلہ افزائی کرے، تھوڑی سی محنت پہ ہمت بندھائے تو ہمارا نوجوان پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے قدموں کو مزید مضبوط کرکے نئے حوصلے و عزم کے ساتھ اپنے کام کو سرانجام دے سکے گا. اگر مثبت حوصلہ افزائی نہیں ہوگی تو یہی نوجوان خودکشی کرے گا.
    ہمارے نوجوان کے پیچھے رہنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ملکی سطح پر مواقع کا نہ ہونا بھی ہے. جیسے ہمارے نوجوانوں کی شرح بڑھ رہی ہے ویسے ہی ہمیں ملکی سطح پر نوجوانوں کی تعلیمی و ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے. ایسے ذہین طالب علموں کے لیے مختلف شعبہ جات میں اسکالر شپس مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی مزید تعلیم کے لیے اگر ہمارے پاس موجود نہیں تو باہر ممالک کی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراک کرکے اپنے ملک یا پھر دوسرے ممالک میں تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیے. تاکہ ہمارے نوجوان مختلف شعبوں میں جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں. ہماری نوجوان نسل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان صلاحیتوں کا مثبت استعمال نہیں کیا جاتا. یہ لوگ اپنے بچوں کو تو اعلی تعلیم کے لیے پرائیویٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں، باہر ممالک بھیجتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا نوجوان بہتر تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے محروم ہو کر ضائع ہوجاتا ہے.

    اور پھر سب سے بڑھ کر نوجوان خود اپنے آپ کو پیچھے رکھنے کا سبب بنتا ہے. بہت کم نوجوان دین سے جڑے ہوتے ہیں، دینی صحبت اختیار کرتے ہیں، دین اور دیندار لوگوں سے تو گویا انہیں الرجی ہوتی ہے. انہیں دیکھ راستہ بدل لیتے ہیں، منہ بسورتے ہیں اور کچھ تو حقارت آمیز گفتگو کرتے ہیں اور اس امید میں زندگی کے بہترین اوقات ضائع کردیتے ہیں کہ ابھی تو بڑی زندگی ہے.

    اس کے مقابلے میں بے دین انہیں بڑے پسند ہوتے ہیں، فلموں کے ہیرو ان کے آئیڈیل اور ان کا اٹھنا بیٹھنا، بالوں کی کٹنگ، کپڑوں کا اسٹائل نمونہ ہوتا ہے. فحش قسم کا لٹریچر پڑھتے ہیں، فحش ویب سائٹس دیکھتے ہیں اور فحش قسم کے پروگراموں میں اپنی انرجی کو صرف کرتے ہیں.

    ہمارا نوجوان ایسی صحبت اختیار کرتا ہے جو اس کا وقت ضائع کرتی ہے، ایسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے جو تعلیم سے بھاگتے ہیں. ایسے ساتھی بناتا ہے جو مشکوک قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں. ہمارا نوجوان ناکامی کو برداشت نہیں کرتا. اس میں یہ حوصلہ ہی نہیں ہوتا کہ میں اگر ناکام ہوگیا تو کیا ہوا، دوبارہ پھر نئے سرے سے محنت کرکے آگے بڑھوں گا. سستی کاہلی میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے. والدین کی دولت کے آسرے پڑا رہتا ہے. بے مقصد کاموں کے پیچھے دوڑتا ہے. غلط جگہ پہ اپنا قیمتی وقت لگاتا ہے. خود سے محبت نہیں کرتا بلکہ غیروں سے محبت میں اپنا پیسہ، وقت اور قوت ضائع کرتا ہے. کاش کہ یہ خود سے اتنی چاہت رکھتا جتنی اسے جنسِ مخالف محبت ہے.

    ہمارے اسلاف میں نوجوان بڑے بڑے ملکوں کو فتح کرتے تھے، لشکروں کی سیادت و قیادت کیا کرتے تھے. تلوار بازی، گھڑ سواری کے ماہر ہوا کرتے تھے لیکن ہمارا نوجوان کو پب جی اور سوشل میڈیا سائٹس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کرنے سے فرصت نہیں.
    شاعر نے کیا خوب کہا تھا:

    اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

  • سیاسی ڈائری — نعمان سلطان

    سیاسی ڈائری — نعمان سلطان

    عمران خان نے شہباز گل پر جنسی تشدد کا الزام لگا دیا، جنسی تشدد کا لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے ہمارے ملک میں اسے مخصوص تناظر میں دیکھا جاتا ہے جبکہ نازک اعضاء کو اذیت پہنچانا بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اور ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کے راہنما کی طرف سے ایسا الزام یہ بتاتا ہے کہ اب مفاہمتی سیاست ختم کر کے جارحانہ سیاست شروع کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے اور پاکستانی سیاست آنے والے دنوں میں مزید غلیظ ہو گی_

    یہ ایسا الزام ہے جو مسلم لیگ کی جلدی جلدی جان نہیں چھوڑے گا شہباز گل کی گرفتاری اور ان پر تشدد کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں فتح کے بعد انہوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں پنجاب کا صوبائی وزیر داخلہ بنا دیا جائے تاکہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ کے دوران جو لوگ بھی پی ٹی آئی کے کارکنان پر تشدد میں ملوث رہے ان کے خلاف کارروائی کر سکیں _

    لیکن ان پر ہی تشدد کر کے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا عمران خان نے رجیم چینج کے بیانیے پر جس طرح عوام میں جوش اور ولولہ پیدا کیا تھا شہباز گل والے واقعے سے اس میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنان مزید متحرک ہو گئے ہیں اور اس سارے معاملے میں حکومتی وزراء کے بوکھلاہٹ والے بیانات سن کر لگتا ہے کہ شہباز گل والے معاملے میں ان کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا_

    وہ میڈیا پر بیٹھ کر خود تسلیم کر رہے ہیں کہ "شہباز گل وہ طوطا ہے جس میں عمران خان کی جان ہے”، ان بیانات کو لے کر عوام میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت عمران خان کو جھکانے یا بلیک میل کرنے کے لئے اب انتقامی کاروائیاں کر رہی ہے اور حکومت اپنے اقدامات سے خود پی ٹی آئی کو مظلوم اور خود کو ظالم ثابت کر رہی ہے _

    انتظامی معاملات میں پرویز الٰہی ملنے والے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد گجرات کے پہلے دورے پر انہوں نے کنجاہ اور جلال پور جٹاں کو تحصیل بنانے کا اعلان کر کے وہاں کے لوگوں کو اپنے حق میں کر لیا اس کے علاوہ متعدد سکول، کالج اور ہسپتال اپ گریڈ کرنے کا حکم دیا جبکہ تمام ڈویژن میں سیف سٹی نظام لانے کا اعلان کیاان اقدامات کی وجہ سے ان کی اپنے علاقے میں سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی جبکہ ایجوکیٹرز کی 16000 خالی سیٹوں پر بھرتی کے اعلان کی وجہ سے انہیں سرکاری ملازمین کی مزید حمایت حاصل ہو گئی_

    مسلم لیگ کی موجودہ معاملات میں نالائقی کھل کر سامنے آ رہی ہے سیاسی معاملات میں وہ عمران خان کے بیانیے کا مقابلہ نہیں کر پا رہے جبکہ انتظامی معاملات میں پرویز الٰہی کے انقلابی اقدامات ان کے لئے سردرد بنے ہوئے ہیں مسلم لیگ میں موجود ایک گروپ نے بڑی محنت سے عوام کو یہ باور کرایا تھا کہ شہباز شریف اپنے بھائی سے زیادہ قابل ہیں بس انہیں موقع نہیں مل رہا اور اب موقع ملنے پر وہ اپنی قابلیت کے ایسے جوہر دکھا رہے ہیں کہ مسلم لیگ میں موجود ان کے حمایتی ملک اور جماعت کی بہتری کے لئے اب نواز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔

    اصل میں شہباز شریف صاحب ون مین آرمی مشہور ہیں وہ دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں جبکہ نواز شریف صاحب اپنے اردگرد موجود لوگوں سے ان کی قابلیت کے مطابق کام لیتے تھے اس وجہ سے ان کے اردگرد موجود لوگ سمجھتے تھے کہ ہم نواز شریف کے لئے اہم ہیں جبکہ شہباز شریف صاحب سے انہیں شکایت ہے کہ وہ انہیں ان کی قابلیت کے مطابق مقام نہیں دے رہے_

    وہ سوچتے ہیں جب سب اچھے کاموں کا کریڈٹ شہباز شریف کو ملنا ہے اور بعد میں انکوائریاں ہم نے بھگتنی ہیں تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم اپنی جان کو عذاب دیں سیاسی جب تک اقتدار میں ہیں عیاشی کرتے ہیں اپوزیشن میں ہوں تو انکوائری ہونے کی صورت میں بیرون ملک چلے جاتے ہیں جبکہ دوبارہ حکومت میں آ کر اپنے خلاف بنے کیس ختم کر لیتے ہیں جبکہ ہمیں حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا الٹا باقی نوکری بھی کھڈے لائن اور انکوائریاں بھگتنے میں گزرتی ہے_

    اگر شہباز شریف صاحب محکموں سے کام لینا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ سرکاری ملازمین کو اعتماد اور تحفظ دیں کہ ان کے احکامات اور منظوری پر سرکاری جو بھی کام کریں گے ان کی ذمہ داری وزیراعظم اٹھائیں گے اور وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو ان کی قابلیت کے مطابق اہمیت دیں نہیں تو وہ ساری عمر پچھتائیں گے کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں وزیر اعظم بن کے انہوں نے ایک گناہ بےلذت کیا _

  • عمران خان صاحب کیا آپکو معلوم ہے کہ آپ خود ہی مسئلے کی وجہ ہیں؟

    عمران خان صاحب کیا آپکو معلوم ہے کہ آپ خود ہی مسئلے کی وجہ ہیں؟

    عمران خان صاحب کیا آپکو معلوم ہے کہ آپ خود ہی مسئلے کی وجہ ہیں؟

    آج کل تقریبا ہر تقریر میں عمران خان کا یہ کہنا ہے کی کہ ملک کا معاشی استحکام تبھی ممکن ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہو گا۔ اور اس کے لیئے وہ فوری انتخابات کا حل تجویز کرتے ہیں۔ مگر پھر اگلی سانس میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی چور ڈاکو کی حکومت ماننے سے بہتر مرنا پسند کریں گے۔ اور یہ بات تو سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان اور انکی پارٹی کے علاوہ سب چور اور ڈاکو ہیں ۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ عمران خان صاحب کو صرف وہی جمہوریت اور الیکشن پسند ہیں جس میں وہ جیتیں اور حکومت بھی کرتے رہیں اگلے کئی سالوں تک۔ اب میں عمران صاحب کی پہلی بات کی طرف آتا ہوں کہ ملک کے معاشی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی استحکام بھی ہو۔

    تو میرا سوال یہ ہے کہ عمران خان صاحب کبھی آپ نے سوچا کہ اس کا ایک سادہ حل بھی ہے اور وہ یہ آپ پارلیمنٹ میں واپس جائیں اور ایک ذمہ دار اپوزیشن کا رول ادا کریں اگلے الیکشن تک۔ اس عمل سے یقینی طور پر ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور معیشت بھی بہتر ہو گی بقول آپکے ۔ تو کیا آپ اپنے ملک کے لیے یہ بھی نہیں کر سکتے؟آج قوم آپ سے یہ سوال کرتی ہے کہ کیا آپکی اتنی سی قربانی اس ملک کے لیے نہیں دے سکتی جس سے آپ اتنے عشق کا اظہار کرتے ہیں ۔ مسئلے کا حل آپکے پاس ہے آئین اور قانون کی روشنی اور جمہوری روایات کے مطابق، اگر آپ کسی کو مانتے ہیں۔

    قوم آپکے جواب کی منتظر رہے گی

  • ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    راقم کے ایک دوست نے راقم کی تحریر "چلتے ہو تو سسرائیل چلئے ” پڑھی، اپنے اعمال بد کی وجہ سے روز آخرت حصول جنت کے بارے میں پر امید نہ تھا اس لئے اس نے دنیا میں ہی جنت کے حصول کی کوشش کرنے کے بارے میں ٹھان لی، اور خدا کی رحمت سے ناامیدی گناہ کبیرہ ہے کہ طعنوں کا یہ جواب دیا کہ ہو سکتا ہے میں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جنہیں دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کی رحمت سے مستفید ہونے کا موقع ملے، تو میں دنیاوی جنت کو ٹھکرا کے کفران نعمت کیوں کروں؟

    جب حاسدین نے انہیں طعنے دئیے کہ "یہ منہ اور مسور کی دال” ہم بھی یہیں ہیں دیکھتے ہیں کہ آپ کیسے دنیا میں جنت حاصل کرتے ہو، تو عزیزی نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا، مناسب تعلیم، ذہانت، شخصیت، فٹنس اور مضبوط فوجی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے فوج میں کمیشن ملنے کا قوی امکان تھا لیکن عزیزی کو ملک میں جاری شرپسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے قوی امید تھی کہ ٹریننگ مکمل کرتے ساتھ ہی انہیں آپریشن ایریا میں بھیج دیا جائے گا جہاں سے ان کی واپسی تابوت میں ہو گی، اس وجہ سے وہ فوج میں نہیں گئے اور انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا،تحریر میں لکھی گئی بات ان کے پیش نظر تھی کہ جنت کی نعمتوں سے اگر زیادہ لطف اندوز ہوناہے تو سسرائیل میں قیام کم سے کم وقت کے لئے کرنا ہے ۔

    یہاں بھی انہوں نے اپنی طرف سے ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جنت کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کے لئے عزیزی نے اپنے رہائشی شہر میں ہی شادی کا فیصلہ کیا، تاکہ گھڑے کی مچھلی کی طرح نعمتیں ہر وقت دسترس میں رہیں اور جب دل کرے ان سے لطف اندوز ہو سکے، قصہ مختصر عزیزی نے ملازمت کر لی اور اس کی خواہش کے مطابق اسی شہر میں اس کی شادی بھی ہو گئی اور عزیزی ہمیں شہر کے شہر میں شادی کے فوائد بتا کر للچاتا رہا پھر ہم بھی غم روزگار میں مبتلا ہو کر کافی عرصہ عزیزی سے ملاقات نہ کر سکے ۔

    کافی عرصے بعد جب عزیزی سے ملاقات ہوئی تو اس کا بجھا ہو چہرہ دیکھ کر ہم سمجھ گئے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے، بعد از تشفی عزیزی نے ہمیں بتایا کہ جو عقلمندی میں نے شہر میں شادی کر کے کی تھی وہ اب میرے گلے پڑ گئی ہے، بیگم کا جب دل کرتا ہے وہ اپنے میکے چلی جاتی ہے اور گھر والے ان حالات میں ہم دونوں سے سخت خفا ہیں اس وجہ سے جب میں کام سے تھکا ہارا گھر آتا ہوں تو اگر بیگم اپنے میکے گئی ہو تو وہ مجھے روٹی پانی کا بھی نہیں پوچھتے کہتے ہیں کہ شادی کے بعد تمھارے کام تمھاری بیوی کی ذمہ داری ہے، میں نے شہر کے شہر جنت کے مزے لینے کے لئے اپنے گھر کو ہی جہنم بنا لیا خدارا میری پریشانی کا کچھ مداوا کرو۔

    ہم نے سابقہ تعلقات دیکھتے ہوئے عزیزی کی مدد کا فیصلہ کیا اور اسے ایسا مشورہ دیا کہ اس کا گھر بھی خراب نہ ہو اور بیگم کا بار بار میکے جانا بھی کم ہو جائے عزیزی نے ہمارا مشورہ سن کر صدق دل سے اس پر عمل کرنے کا وعدہ کیا اور اپنی بیگم سے کہا کہ آپ کا میکہ میرے لئے مثل جنت ہے جس کی آپ حور ہو اور حور سے دور رہنا کفران نعمت ہے اس وجہ سے جب آپ کا دل کرے آپ اپنے میکے جاؤ، بس مجھے بتا دیا کرو تاکہ میں بھی اپنی نوکری سے فارغ ہو کر آپ کے پاس وہیں آ جاؤں اور سسرائیل میں عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔

    عزیزی کی بیگم نے خوشی خوشی کہا کہ کل میں میکے جاؤں گی آپ بھی نوکری سے چھٹی کر کے وہیں آ جانا، چھٹی کے بعد عزیزی جب اپنے سسرائیل گیا تو وہاں فرمائشی کھانوں سے لطف اندوز ہوا، نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وقتاً فوقتاً اپنی حور کے ساتھ بےتکلف ہوتے ہوئے افراد خانہ کے ہاتھوں پکڑا بھی گیا اور دیگر افراد خانہ کی خلوت کو متاثر بھی کرتا رہا، جب اہل خانہ نے شکایات کا انبار سسرائیل کی وزیر اعظم (ساس صاحبہ) کے سامنے رکھا تو انہوں نے فوراً اس مسئلے کا سدباب کرنے کے لئے مشاورتی اجلاس (بیٹیوں اور بہنوں) کا طلب کیا۔

    جس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ عزیزی کے سسرائیل میں قیام کی وجہ سے سسرائیل کا بجٹ انتہائی متاثر ہو رہا ہے اور عزیزی کی خواہش نفسانی سے مجبور ہو کر حرکات کی وجہ سے مملکت خداداد سسرائیل کی مکین دیگر خواتین پر نامناسب اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس وجہ سے عزیزی کی سسرائیل میں قیام کرنے کی وجہ (عزیزی کی بیگم) کے ہمراہ اسے سسرائیل سے بے دخل کیا جائے اور عزیزی کی بیگم کو پابند کیا جائے کہ آئندہ وہ ایک مخصوص عرصے کے بعد میکے آئے تا کہ عزیزی ان کے لئے بلائے جان نہ بنے یوں عزیزی کی” نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی آیا چوکھا”، لیکن اس واقعے کے بعد عزیزی تمام احباب کو مشورہ دیتا رہا کہ شادی ہمیشہ دوسرے شہر میں کرو کیونکہ "دور کے ڈھول سہانے ” ۔

  • ” تَلْبِيْنَةُ ” بیمار کی دلجوئی و صحت کا ذریعہ — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” تَلْبِيْنَةُ ” بیمار کی دلجوئی و صحت کا ذریعہ — عبدالحفیظ چنیوٹی

    تلبینہ ایک عربی ڈش ہے جو دلیہ کی شکل میں جو،دودھ اور شہد کے ساتھ تیار کی جاتی ہے جو کہ ” جو ” کے خشک پاؤڈر میں دودھ اور شہد ملا کر بنائی جاتی ہے۔

    یہ لفظ عربی لظف لابن سے آیا ہے جس کے معنی ہیں دیی (خمیر شدہ چھلکا ہوا دودھ)

    اس کی مشابہت دہی جیسی ہوتی ہے کیونکہ یہ سفید اور نرم ہوتا ہے

    تلبیںہ کیسے پکائیں؟

    تلبینہ بنانے کی آسان ترکیب نوٹ فرما لیں۔

    اجزاء:

    جو : 125 گرام (رات کو بھگو دیں)

    دودھ: 500 ملی لیٹر ( ابلا ہوا)

    شہد: حسب ضرورت مٹھاس کے لئے۔

    ترکیب:

    رات بھر بھیگی ہوئی ” جو” کو پانی کے ساتھ بلینڈر میں ڈال کر پیس لیں اور ایک گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں۔ اب ایک پین لیں اس میں "جو” کا پیسٹ اور تھوڑا سا پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں اور ساتھ چمچ چلاتے جائیں۔ اب آہستہ آہستہ دودھ ڈالتے جائیں اور چمچ چلاتے جائیں مزید 5 منٹ پکائیں یہ اب دلیہ جیسا دکھنے لگے گا اب اس میں حسب ضرورت شہد شامل کریں۔

    اب تلبینہ تیار ہے اس میں آپ اپنے من پسند خشک میوہ جات شامل کر سکتے ہیں۔

    تلبینہ ایک انتہائی صحت بخش خوراک ہے جو خصوصی طور پر بوڑھوں اور بیمار افراد کے لئے بے حد مفید ہے۔

    سنت نبوی صلی اللہ علہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ کے پاس جب بھی کوئی بیمار اتا آپؐ اسے تلبینہ کھانے کی تلقین فرماتے۔ یہ نہ صرٖف صحت و طاقت پہنچاتا ہے بلکہ ڈپریشن بھی دور کرتا ہے۔

    ڈپریشن کو کم کرتی ہے:

    تلبینہ ایک اعلی کاربوہائیڈریٹ خوراک ہے اور ڈپریشن اور استعمال شدہ کاربوہا.

    ئیڈریٹس مزاج کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس کی وجہ سیروٹونن سینتھیسس پر کاربوہائڈریٹس کے اثرات ہیں۔
    اس کے علاوہ جسم میں زنک کی کمی بھی ڈپریشن کی وجہ ثابت ہوئی ہے۔

    تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تلبینہ مزاج پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اس کی وجہ اس میں موجود کاربوہایئڈریٹس اور اس کا میٹھا ذائقہ ہے۔ اس کے استعمال کرنے والے 6 میں سے 5 افراد پر مزاج کے حوالے سے مثبت نتائج مرتب ہوئے ہیں۔

    حضرت محمد صلی اللہ علہ وسلم کا فرمان ہے۔

    یہ غمگین کے دل کو سکون دیتا ہے اور بیمار دل کو صاف کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی پانی سے اپنے چہرے کی گندگی صاف کرتا ہے۔” سنن ابن ماجہ (3445)

    بیماریوں کے خلاف تلبینہ:

    بالآخر جدید تحقیق نے بھی اس بات کی تائید کر دی جو ہمارے پیارے نبیؐ نے چودہ سو سال قبل فرمائی تھی کہ تلبینہ بیماریوں کے خلاف قوت فراہم کرتا ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو اناج میں سب سے زیادہ افادیت رکھتا ہے اور مختلف تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ مختلف بیماریوں جیسے ذیابیطس،بڑی آنت کا کینسر، دل کے امراض،قبض کے خلاف کام کرتا ہے۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ آپؐ کے خاندان کا کوئی بھی شخص بیمار ہوتا تو آپؐ اسے تلبینہ کھانے کی تلقین فرماتے۔

    قبض سے نجات:

    جو درحقیقت فائبر حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    فائبر کا استعمال آنتوں کی نقل و حرکت کو بہتر بناتا ہے اور قبض کو روکتا ہے اور جسم کو بہت سی اندرونی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے اور چونکہ تلبینہ جو سے بنتا ہے اس لئے یہ قبض دور کرنے میں کافی اکسیر مانا جاتا ہے۔

    کولیسٹرول کم کریں:

    جو میں موجود بیٹا گلوکنز کو بائل ایسڈ سے منسلک کر کے خراب ایل ڈی ایل کو کم کرنے کے لئے اہم دکھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ھائی کولیسٹرول والے مریض کو ڈاکٹر گندم کے بجائے جو سے بنی اشیاء کے استعمال کی ہدایت دیتے ہیں۔

    دل کی بیماریوں کے خلاف تحفظ:

    جو بھی نیاسین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔یہ وٹامن دل کی بیماری پیدا کرنے والے ایتھروسکلروسیس کو روکتا ہے۔اس میں متعدد حفاظتی ایجنٹ ہوتے ہیں جو دل کے امراض سے بچاؤ کرتے ہیں۔نیاسین کے استعمال سے خراب کولیسٹرول کی سطح کو کم کیا جا سکتا ہے جو دل کی شریانوں کی بندش، ہارٹ اٹیک، اور بلڈ کلاٹنگ کو روکتا ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔

    ” تلبینہ مریض کے دل کو آرام دیتی ہے اور اسے فعال بناتی ہے اور اس کے کچھ دکھ اور غم دور کر دیتی ہے۔

    ” صحیح بخاری (5325)

    اپنی جلد کی جوانی کو برقرار رکھیں:

    تلبینہ میں بہت سے غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو جلد کی نرمی اور لچک کو برقرار رکھتے ہیں ۔اس میں موجود سیلینیم جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے ، اس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس فری ریڈیکلز کے خلاف کام کرکے خلیوں کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں اور جلد پر جھریاں پڑنے سے روکتے ہیں

    تلبینہ کے بے شمار فائدے:

    اپنی زرخیزی میں کمی کا مقابلہ کریں۔

    زرخیزی میں کمی بہت سی وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتی ہے .

    جیسے کہ شوگر لیول، ٹینشن، پھر کھانے کی بے قاعدگی وغیرہ۔

    اس کے لئے متوازن غذا کا استعمال کریں اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں شامل کریں باقاعدگی سے ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ ٹینشن سے دور رہیں اور ان سب باتوں میں تلبینہ بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں ٹینشن کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کی خصوصیت بھی موجود ہے۔

  • پاکستان آپ سے مخاطب ہے — حافظ گلزارعالم

    پاکستان آپ سے مخاطب ہے — حافظ گلزارعالم

    چند روز قبل اس ارادے سے لکھنے بیٹھا کہ اس آزادی کے موقع پر ایسا کچھ لکھوں کہ دل میں ملک عزیز پاکستان کی محبت میں اضافہ ہو، اور یہ محبت اس قدر ہو کہ وطن عزیز کے لئے کچھ کر گزرنے کا جزبہ دل میں پیدا ہو۔ یا کم از کم اتنا ہی احساس ہمارے دل میں پیدا ہو کہ ہمارے کسی قول و فعل سے وطن عزیز کی عزت پر کوئ آنچ نہ آئے۔

    پھر خیال آیا بڑے بڑے محب وطن لکھاری، شعراء اور مفکرین اس باب میں لکھ چکے ہیں۔ ہم انہی کو سنجیدگی سے پڑھ کر یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں، میرے لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر پھر خیال ہوا کہ گو میری یہ بساط نہیں مگر انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام آجائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔ کہ کل بروز قیامت ملک عزیز پاکستان کے لئے اور کچھ نہیں تو یہی تحریر پیش کرسکوں۔ کہ یارب تیرے نام پر بنے اس پیارے ملک پاکستان سے محبت میں یہ ایک تحریر لایا ہوں۔

    مگر کچھ نہ سمجھ آیا۔ ابتدا کہاں سے ہو انتہا کہاں ہو۔ اسی اثناء میں آنکھ لگ گئ، کیا دیکھتا ہوں کہ اک خلق خدا جمع ہے۔ اور یوں لگ رہا ہے جیسے بعد الفجر نماز پڑھ کر سارے پاکستانی اک میدان میں جمع ہوں، جس میں بچے بوڑھے مرد خواتین جمع ہیں۔ البتہ سب خواتین باپردہ ہیں۔ اور مردوں سے الگ ہیں۔ سب کی زبانوں پر اک ہی نعرہ ہے: پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاااللہ

    اسٹیج سے اعلان ہوا کہ آج ہمارا پیارا ملک پاکستان اپنی 75 ویں سالگرہ پر ہم سے خود مخاطب ہونا چاہتے ہیں۔ سب کا جوش و خروش عروج پر ہے، خوشی سے چہرے کھل رہے، آنکھیں پر نم ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے تو سر ندامت سے جھکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس پیارے ملک سے کسی بھی سطح کی بے وفائ، اسے لوٹا یا اس کے مقاصد سے روگردانی کی۔

    انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اور ملک پاکستان بارعب وجیہ صورت میں متشکل ہو کر اسٹیج پر تشریف لائے۔ اور گویا ہوئے
    ” تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے جسکے نام پر میں آزاد ہو۔ درود سلام ہو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی آل پر اور آپکے تمام اصحاب پر

    میرے بیٹو !
    امید ہے تم سب ٹھیک ہوگے۔ تمھاری بقا سلامتی اور خوشحالی کی ہر دم دعا کرتا ہوں۔ اللہ تمھیں ہمیشہ سلامت رکھے اور ہر اندرونی بیرونی شرور سے تمھاری حفاظت کرے۔ آمین

    میں پاکستان ہوں۔ سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختونخواہ میرے حصے ہیں۔ مجھے اپنا ہر حصہ اور ان میں رہنے والا ہر پاکستانی عزیز ہے۔ تم سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور ہو۔ مگر تمھاری اصل پہچان پاکستانی ہونا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم مسلمان ہو۔ خدارا قومیتیں تعارف کیلئے ہیں،نہ کہ فخر کیلئے۔ گو کہ فطری طور پر اپنی قوم سے محبت ہر ایک کو ہوتی ہے۔ مگر اس بنیاد پر خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا، دوسروں کو کمتر سمجھنا میرے اللہ کو پسند نہیں۔ میرے اللہ کو پسند نہیں، تو مجھے بھی پسند نہیں۔ کیونکہ میری بنیاد ہی اللہ کے نام پر رکھی گئ۔ میرے بننے کے وقت ہر شخص کی زبان پر یہ نعرہ تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔

    میں پاکستان ہوں۔ میرے نام میں ہی پاکیزگی ہے۔ مجھے ہر طرح کی گندگی سے پاک رکھو۔ مجھے تم پر فخر ہے۔ مجھے تم سے امیدیں ہیں۔ میری امیدوں کا پاس رکھنا۔

    میں پاکستان ہوں۔ میری نسبت مدینہ منورہ سے ہے۔ میری اس نسبت کا بھی پاس رکھنا۔ مجھے مدینہ کے والی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں عزیر رکھنا۔ میرا ہر پاکستانی مکمل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا آئینہ ہو۔
    کہیں میں آپ کے سامنے رسوا نہ ہو جاؤں۔

    مجھے لاکھوں مسلمانوں کی تن من تن دھن کی قربانی سے حاصل کیا گیا ہے۔ ان قربانیوں کی لاج رکھنا۔ ان سے بے وفائی نہ کرنا۔ ۔

    یہاں بسنے والے غیر مسلم بھی تمھارے بھائ ہیں۔ کسی کو بے جا۔ تکلیف نہ دینا میرے نبی کا حجۃ الوداع کا خطبہ یاد ہے نا؟ آپ نے فرمایا تھا ہر شخص کی جان مال عزت آبرو تم پر حرام ہے۔ کسی کالے کو کسےگورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئ فضیلت حاصل نہیں۔ لہذا خدا کے بندو بھائ بھائ بن کر رہو۔

    میرے قائد محمد علی جناح اور میرے مفکر علامہ محمد اقبال کے فرامین پڑھا کرو، انہیں یاد رکھو، اور ان پر عمل کرو۔
    میں انہی حضرات کی انتھک محنتوں سے آزاد ہوا۔ اور میری بقا بھی انہی کے اصولوں پر عمل کرنے میں ہے۔ لہذا قائد کا یہ اصول ہمیشہ پلے باندھے رکھو: ایمان،اتحاد اور تنظیم۔ یعنی اللہ کی ذات پر کامل ایمان، آپس میں پیار و محبت سے متحد ہو کر رہنا اور ہر کام میں نظم و ضبط اپنائے رکھنا۔ اور مفکر پاکستان کا یہ پیغام یاد رکھنا

    عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
    مرے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری
    ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
    تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
    کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

  • وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    آج میں نے ارادہ کیا تھا کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کے بارے میں کالم تحریر کرونگا۔لکھنے بیٹھا تو لکھنے کا موڈ ہی نہیں بن رہا تھا۔بہتیرا سوچا کہ جشن آزادی کے حوالے سے کوئی ایسا گوشہ ذہن میں آجاۓ جس پہ سیر حاصل بحث کی جا سکے لیکن الفاظ تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ایک جمود ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پہ قبضہ جما چکا ہے۔اسی اڈھیر بن میں تھا کہ معا” میرے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور "ماما بلو”اندر داخل ہوا۔”ماما بلو”میرے شہر کی ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں اپنا راہنماء اور مربی سمجھتا ہوں حالانکہ وہ چٹا ان پڑھ ہے۔کسی اسکول مدرسے یا کسی بھی تعلیمی ادارے کی اس نے آج تک شکل ہی نہیں دیکھی لیکن میں جب بھی لکھنے لکھانے میں کسی الجھن کا شکار ہوتا ہوں تو وہ آکر میری اس مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔آج بھی ایسا ہی ہوا۔مجھے پریشان دیکھ کر کہنے لگا کہ صاحب آج آپ کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔میں نے اسے بتایا کہ ماما بلو -! طبیعت تو ٹھیک ہے بس آج پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کی بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن الفاظ ہیں کہ باوجود کوشش کے انکی آمد ہی نہیں ہو رہی۔میری بات سن کر کہنے لگا واہ صاحب یہ بھی کوئی بات ہے-! آپ نے لکھنا ہی ہے تو آجکل کی "یوتھ” کے بارے میں لکھیں اور یہ لکھیں کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے اس نوجوان نسل سے کیا توقعات وابستہ کی تھیں اور ساتھ ہی یہ کہ آیا اس نوجوان نسل سے ہماری وہ توقعات پوری ہوئی ہیں یا نہیں جن کی ہم ان سے توقع کر رہے تھے ۔میں نے اسے کہا کہ "ماما بلو”تو ہی بتا -! تیری اس بارے میں کیا راۓ ہے۔؟ کہنے لگا صاحب میں تو ایک پڑھ آدمی ہوں لیکن آجکل کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے تو یہی لگتا ہے کہ ہم اپنے اس خواب کی تعبیر سے ابھی کوسوں دور ہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب-! سب سمجھتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھتی ہیں کیونکہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے کام سے اپنی کوشش سے اور اپنے جذبہ جنوں سے اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے بھی انہی نوجوانوں کو ہی اپنا شاہین قرار دیا تھا اور وہ ان کیلئے دعائیں کرتے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ :-

    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا -! آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کو انکے اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر یہ کہا تھا کہ تو ایک ایسی قوم کا نوجوان ہے جس نے ماضی میں تمام دنیا پہ حکومت کی تھی اور ہر سو اپنا سکہ جمایا ہوا تھا۔اقبال نے انہیں ان کے اسلاف یاد دلاتے ہوۓ کہا تھا کہ:-

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا۔

    علامہ اقبال کے بعد بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے بھی نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قرار دیا تھا۔انہوں نے نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوں فرمایا:

    ’’نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلباء نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔‘‘ 1937 کے کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم ؒنے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’نئی نسل کے نوجوانوں آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔‘

    ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔یہی تھی وہ امید اور توقع جو قیام پاکستان کے موقع پر ہمارے اسلاف نے ان سے لگائی تھی مگر بدقسمتی سے ہم اس وقت کے نوجوانوں سے اب محروم ہو چکے ہیں۔اب ہمارا واسطہ جن نوجوانوں سے ہے ان میں تو سابقہ نوجوانوں کی خصوصیات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔شائد ایسے ہی نوجوانوں کیلئے اقبال نے کہا تھا:-

    تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
    کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا

    آج کا نوجوان تن آسان ہے۔وہ اپنی مردانگی کے جوہر میدان کارزار میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک۔ وٹس ایپ۔ ٹویٹر۔ میسنجر ۔یو ٹیوب۔ ٹک ٹاک اور اسی طرح کی دوسری سائٹس کے میدان میں دکھلانا زیادہ پسند کرتا ہے۔جہاں وہ اپنی سوچ اپنی فکر اور اپنے خیالات سے مطابقت نہ رکھنے والوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے۔ان کی تضحیک کرتا ہے۔ان کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے۔ان کو دقیانوس اور نہ جانے کیا کیا خیال کرتا ہے۔آج کا نوجوان تحقیق سے مہنہ موڑ کر تقلید کے پیچھے بھاگتا ہے۔

    اس طرح جو کچھ اسے پڑھایا جاتا ہے وہ اسی پہ کاربند ہو کے رہ جاتا ہے۔لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انہیں استعمال کرتے ہیں اور یہ نوجوان بلا کچھ سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے ان لوگوں کے پیچھے چل دیتے ہیں۔پھر یہ انہی کی زبان بولتے ہیں اور انہی کے افکار کو اپنا لیتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے گروہ اور سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں جو ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اور اپنے ایجنڈے کی ترویج کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

    ایسے لوگوں کے مقاصد کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے اس لئے وہ نوجونوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ان لوگوں کے ارادوں میں اگر کوئی شخص یا تنظیم مزاحم ہونے کی کوشش کرتی ہے تو یہ لوگ ٹرولنگ شروع کر دیتے ہیں اور اس کی عزت کو تار تار کر دیتے ہیں۔

    فی زمانہ حالات اب اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ سارے کا ہمارا سارا معاشرہ پراگندہ خیالی اور ذہنی پستی کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔معاشرے کی اس  حالت کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے ایک مشرقی ثقافت۔ رہن سہن اور بود و باش کو گہنا کے رکھ دیا ہے۔کہاں وہ وقت کہ کہ ننگے سر بیٹی اپنے باپ کے سامنے آتے ہوۓ گھبراتی تھی اور ایک بھائی اسے اپنی عزت و وقار کے منافی خیال کرتا تھا کہ اس کی بہن اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے اور اس کے سامنے آپنے آپ کو تھوڑا سا بنا سنوار لے۔

    یہی بہنیں جب اپنے بھائی کو ذرا غصے میں دیکھتی تھیں تو ڈر کے مارے ان کا خون خشک ہو جایا کرتا تھا۔اس لئے نہیں کہ اس کا  بھائی کوئی خونخوار قسم کی مخلوق ہوتا تھا یا یہ کہ وہ کسی جلاد  فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔بھائی اپنی بہنوں سے پیار بھی رج کے کرتے تھے اور اس کی بات ماننا اور اس کی ضرویات کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر اپنا تن من دھن بھی اس کے اوپر وار دیا کرتے تھے۔جب یہ حالات تھے تو معاشرہ بھی بڑا آئیڈیل تصور کیا جاتا تھا۔مان بہن بیٹی کو سب کی سانجھی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ جب کسی بچی کی شادی ہوتی تو پورا گاؤں بارات کا استقبال کیا کرتا تھا اور سب گاؤں والے مل کر اس بچی کو اس کے پیا گھر پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے۔مگر آج اس سوشل میڈیا نے ان ساری اقدار و روایات کو ملیا میٹ اور تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر سمجھدار لوگ وہی ہوتے ہیں جو ایسے لوگوں کی ہرزہ سرائیوں پہ توجہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی دل جلے کو اس کی تضحیک آمیز ہرزہ سرائیوں کا جواب دینا ضروری نہیں۔ یہ تن آسان مخلوق کا مقصد اور نصب العین صرف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی نبض رواں رکھنا چاہتی ہے اسلئے وہ اسی کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہیں ۔

    ہمارا ایمان ہے، "وتعز من تشاء و تذل من تشاء” اگر کوئی مغلظ اور متنفر لہجے میں اپنی خباثت کا اظہار کرے تو اسے نظر انداز فرمائیں ، اپنے شہر اور علاقہ کے حوالے سے دستیاب سرکاری مشینری اور وسائل سے عوام کی خدمت کریں۔ آپس کی تلخیوں اور شکر رنجیوں کو پس پشت ڈال کر بھائی چارے کو مضبوط بنائیں اور اپنے نوجوانوں کی اچھی تربیت کریں۔

  • مولانا اسعد محمود، مشرف دور اور ایم ایم اے — نعمان سلطان

    مولانا اسعد محمود، مشرف دور اور ایم ایم اے — نعمان سلطان

    14 اگست کی مناسبت سے منعقد کی گئی ایک تقریب جس میں رنگا رنگ موسیقی کے پروگرام پیش کئے گئے، اس تقریب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کی شمولیت اور ناچ گانے کے دوران تقریب کا بائیکاٹ نہ کرنے کی وجہ سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، پاکستان میں "مفتی قوی” جیسے بھی افراد موجود ہیں لیکن ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں وہ جیسے اندر سے ہیں ویسا ہی خود کو بیان کرتے ہیں، لیکن ایسی جماعت جو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا دعویٰ کر رہی ہو اور تحریک انصاف کے جلسے جلوسوں کے دوران موسیقی کے استعمال اور عورتوں کی بے پردگی پر شدید تنقید کرتی ہو، اس کے مولانا فضل الرحمن کے بعد متوقع سربراہ کی طرف ایسی حرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے پیش نظر اسلام نہیں اسلام آباد ہے اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے وہ ہر حد سے گزر سکتے ہیں۔

    ویسے مذہبی جماعتوں کے اکابرین کی طرف سے ہونے والی یہ پہلی منافقت نہیں ہے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ان کے قول و فعل کا تضاد سامنے آیا لیکن افسوس ہماری کمزور یاداشت یا اندھی عقیدت کہ ہم پھر دوبارہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ان نام نہاد مذہبی اکابرین سے دھوکہ کھاتے ہیں، حالانکہ پرویز مشرف کے دور میں تمام مذہبی سیاسی جماعتیں لوگوں کے سامنے بے نقاب ہو چکی تھی، لگے ہاتھوں آپ کو تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے اکابرین کا وہ واقعہ بھی بتا دیتے ہیں تا کہ نوجوان نسل کو معلوم ہو کہ کیسے یہ لوگ ہمیں اسلام کے نام پر لوٹ رہے ہیں ۔

    پاکستان میں مسلکی بنیاد پر تنازعات اپنے عروج پر تھے، ہر شخص کی نظر میں اس کا مسلک ٹھیک اور ان کے مسلکی عالم حق تھے، اہلحدیث، سنی(بریلوی) اور دیگر چھوٹے مسالک کے علماء ایک حدسے زیادہ اختلافات کو بڑھاوا نہیں دیتے تھے، جبکہ شیعہ اور دیوبندی مسالک میں نظریاتی اختلاف عروج پر پہنچا ہوا تھا اور بات منبر و محراب سے بڑھ کر لڑائی جھگڑوں اور مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے تک پہنچ گئی تھی، البتہ ایک شرعی مسئلے میں تمام مسالک کا اتفاق تھا کہ "مخالف فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی ” ۔

    علماء کی بات لوگوں کی نظروں میں حرف آخر تھی اور علماء کی منبر پر کئی گئی تقریروں کی بنیاد پر لوگوں کے ایمان کے فیصلے ہوتے تھے، ان حالات میں اہل دانش کا خیال تھا کہ لوگوں کو اس اندھی تقلید سے نجات دلانا ناممکن ہے، ایسے عالم میں مسند اقتدار پرویز مشرف صاحب نے سنبھالی اور ملک میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا، انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں دینی جماعتوں نے مل کر متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے نام سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    علماء کرام نے خطبات میں عوام سے درخواست کرنا شروع کر دی کہ ووٹ ایک امانت ہے اور امانت کو اس کے اہل (حق دار) کے حوالے کرنا آپ کا شرعی فرض ہے چنانچہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کو ووٹ دے کر کامیاب کریں تا کہ وہ کامیاب ہو کر ملک میں اسلامی نظام نافذ کریں، اس سارے عمل کے دوران تمام علماء کرام نے متفقہ طور پر منبر و محراب کو سیاسی جماعتوں کی ترویج کے لئے استعمال کیا اور انتخابات کو حق اور باطل کا معرکہ بنا دیا۔

    جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا تو متحدہ مجلس عمل کو بھی معقول تعداد میں قومی اسمبلی میں نمائندگی ملی جبکہ صوبہ سرحد (خیبر پختون خواہ) میں ان کی حکومت بنی، حکومت میں آنے کے بعد متحدہ مجلس عمل کے بارے میں اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہونے لگی کہ "متحدہ مجلس عمل کے اجلاس کے دوران نماز کا وقت ہونے پر تمام اکابرین نے فلاں(ہر نماز میں امام بدلتا تھا) کی امامت نماز ادا کی "، میں نے جب اپنے مقامی عالم دین (مفتی صاحب) سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کچھ عرصہ پہلے تک کہتے تھے کہ دوسرے فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی تو اب یہ جو تمام فرقوں کے اکابرین ایک دوسرے کی امامت میں نمازیں پڑھ رہے ہیں اور اخبارات میں خود کہہ کر یہ خبریں لگوا رہے ہیں کیا یہ منافقت نہیں۔

    تو انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا یہ مفاد پرست ہوتے ہیں، تو میں نے انہیں کہا کہ جب آپ کو معلوم تھا کہ یہ سیاسی لوگ مفاد پرست ہوتے ہیں تو آپ نے انتخابات سے پہلے نماز جمعہ کے اجتماعات میں دین بیان کرنے کے بجائے ان لوگوں کی حمایت میں تقریریں کیوں کیں اور لوگوں کو کیوں کہا کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے انہیں ووٹ دو، وہ دن اور آج کا دن مفتی صاحب مجھ سے ناراض ہو گئے اور دوبارہ کلام ہی نہیں کیا ۔

    حاصل کلام یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں احکامات دین پر عمل کرنا چاہیے لیکن ان نام نہاد علماء کے بہکاوے میں آ کر لوگوں کے ایمان کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے ہم دنیا میں اللہ کی بندگی کے لئے آئے ہیں اللہ کی مخلوق کا ایمان چیک کرنے کے لئے نہیں، اس لئے آج کے دور میں بہترین شخص وہ ہے جس نے اس دور فتن میں اپنے ایمان کو سلامت رکھا، باقی یہ نام نہاد علماء اس یقین پر گناہ کرتے رہتے ہیں کہ اللہ سے توبہ کرو تو اللہ معاف کر دیتا ہے پر وہ یہ نہیں سوچتے کہ کیا انہیں آخری وقت میں توبہ کرنے کی مہلت ملے گی بھی یا نہیں ۔