Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    اس وقت دیکھا جائے تو غریب عوام اس وقت مہنگائی کے دریا میں ڈوب رہی ہے اور وہ کسی مسیح کے انتظار میں ہیں کوئی تو آیا جو ان کو ڈوبنے سے بچائے روزمرہ کی چیزیں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہ پیٹرولیم منصوعات ، گیس ، بجلی میں اضافہ ہو۔
    اور ابھی تو سردیاں شروع بھی نہیں ہوئی گیس لوڈشینگ میں شروع ہو چکی ہیں کچھ جہگوں پر گیس کا پریشر کم ہے جس کی وجہ سے عوام سلنڈر کے استعمال کر رہے ہیں ایل این جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا

    ہمارے وزیراعظم عمران خان نے 120 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان تو کر دیا کیاغریب عوام یہ مہنگائی کا بوجھ اس ریلیف پیکج کوحاصل کر کے گئی؟ ایسے عوام کوریلیف تو نا ملا
    پاکستان میں تیل کی قیمت میں 33 فیصد اضافہ ہوا پاکستان میں مہنگائی کی شرح کے تعین کا ذمہ دار ادارہ شماریات پاکستان ہوتا ہےپاکستان میں کھلی منڈی کی قیمتیں اور سرکاری ادارے کی جانب سے اُنھیں اکٹھا کیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر مہنگائی کی شرح کا تعین کیا جاتا ہے

    کیا پاکستان میں مہنگائی کی اصل وجہ ’کارٹلائزیشن‘ ہے؟ کیا کارٹل زائد منافع حاصل کررہے ہیں اور قیمتوں کو ایک سطح سے نیچے آنے سے روک رہے ہیں کارٹلز اور مافیاز اتنے طاقتور ہیں کہ حکومت بھی ان کو کنٹرول نہیں کر پا رہی یا حکومت میں ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو جن کا تعلق ان سے ہیں؟ جو نہیں چاہتے پاکستان میں غریب عوام کو مہنگائی سے ریلیف ملے
    جنوری کے اعداد و شمار کے مطابق کھانی پینے کی اشیا کی قیمتوں میں بیس فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے اور اس سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے حکومت یہ غلطیاں کیسے سودارتی ہیں اور اس مہنگائی پر کنڑول کر سکے گی یا نہیں ؟ یا صرف یا کہا جائے گا گھبرانا نہیں ہے اور حکومت کے نمائندے بس ٹی وی سکرین پر آ کر یہی بولے گئے پاکستان میں مہنگائی باقی ملکوں سے کم ہیں۔
    ہمارے وزیرا عظم عمران خان صاحب فرمایا کرتے تھےکہ جب مہنگائی میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں عوام کہ وزیراعظم کرپٹ ہے، جس طرح سے اب مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے کیا اب ہم موجودہ وزیراعظم کو عوام بھی کرپٹ سمجھیں؟ قرضوں میں اضافہ بھی اسی طرح جاری ہے حکومت تو دعوے کرتی رہی کہ مہنگائی کم کریں گے اور آمدن میں اضافہ کیا جائے گا لیکن یہاں سب کچھ الٹا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے مہنگائی تو بڑھ گئی ہے لیکن آمدن میں اضافہ نہیں ہوا۔

  • عدل اور سیاست، تحریر:سیدہ زکیہ بتول

    عدل اور سیاست، تحریر:سیدہ زکیہ بتول

    مملکت پاکستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ اب معمول کی بات ہے الزام تراشیوں کے سلسلے بھی اب نئے نہیں اور تو اور اب مقدس اداروں کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔۔۔ایسا ہی ایک ادارہ عدلیہ ہے ایسا نظام جس سے ایک ریڑھی والے سے لیکر اسمبلی میں بیٹھے حکمران تک کی امید بندھی ہیں ریاستی نظام میں یہ واحد ستون ہے جس پر پور ی ریاست چل کر خوشحالی کا جانب گامزن ہوتی ہے مگر جہاں عدالتیں عام شہری کو انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہوں وہاں نہ صرف ریاستی نظام بلکہ اس سے جڑے تمام تر امور ناکام تصور کیے جاتے ہیں۔۔۔جبکہ آج کل تو عدالتوں اور انکے ججز سے جڑے سیاسی سے قصے زبان زد عام ہیں۔۔سیاسی جماعتوں کی الزام تراشیوں کا سلسلہ چلتے چلتے معزز عدالتوں میں بیٹھے جج صاحبان تک جا پہنچا ہے۔۔۔

    معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایک جج صاحب نے دوسرے معزز جج پہ مبینہ الزام لگایا کہ انہوں نے نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نواز کو سزا دلوانے میں اہم کردار نبھایا اور پھر اسکے بعد سوشل میڈیا ہو یا ٹی وی کے ٹاک شوز حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ چھڑتی دکھائی دے رہی ہے ایک جماعت ایک جج کے ساتھ دوسری مخالف کے ساتھ اور عوام کیا سوچ رہی اسکی نہ نظام عدل کو پروا نہ ہی انتظامیہ کو لینا دینا۔۔۔تو بھئی بات یہ ہے کہ معاملات جو بھی تھے اس سے ایک عام آدمی صرف اور صرف اتنا سوچنے پر مجبور ہے کہ جن عدالتوں پر آنکھیں بند کر کے وہ یقین رکھتا تھا کہ وہاں حلفاً فیصلے انصاف پر ہوتے ہیں تو کیا وہ محض اسکی خوش خیالی تھی یا چلیں مان لیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی لین دین ہوئی بھی ہے یا سیاسی رشتہ داریاں نبھائیں گئی ہیں تو کیا جج صاحبان کو کھلے عام بیانات دے کر عدالتوں پر سے اعتبار اٹھوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا؟۔۔سیاسی رسہ کشی میں ہم اپنے اداروں کی بے توقیری میں ملوث ہورہے ہیں اس بات کا احساس تک نہیں کیا بیان دینے والوں نے ۔۔ ایک انصاف دینے والا دوسرے انصاف دینے والے کے کردار کو پوری قوم کی نظر میں مشکوک بنا رہا ہے تو پھر خود بتائیے کیا عدالت وہ جگہ رہ جائے گی جہاں انصاف کی دہائی کے لیے لپکا جائے؟

    آپ کبھی کچہری میں ہزاروں لوگوں کو دھکے کھاتے دیکھیے جو اپنے کیس جوانی میں دائر کرتے اور بڑھاپے تک فیصلے مؤخر رہتے یا پھر کیس کی سنوائی ہی نہیں ہو پاتی۔۔کرمنل کورٹس میں کئی بے گناہ منتظر ہیں سول کورٹس میں ڈھیروں فائلیں کسی خاک سی امید تلے دب چکی ہیں کئی خواتین سے متعلق کیسز ہیں جو ڈرتے مرتے تشدد کے خلاف آواز اٹھا بیٹھیں مگر کوئی سننے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے والا نہیں۔۔۔ بد قسمتی سے انصاف کا دوہرا معیار بھی اس نظام کی ناکامی کی وجہ بنتا جارہا ہے غریب جسکے پاس پیسہ نہیں وہ روز عدالتوں کی خاک چھانتا ہے اسکو سننے والا کوئی نہیں ہوتا جبکہ روپے پیسے والا ایک دن میں اپنا کیس عدالت سے نمٹا لیتا ہے۔۔۔بڑے بڑے مجرم عدالتوں سے پلک جھپکتے بری ہوتے دیکھے کئی نامی گرامیوں کو قانون کی آنکھوں میں خاک جھونکتے بھی دیکھا انہی عدالتوں نے مجرموں کے کمروں سے برآمد شدہ شراب کی بوتلوں کو شیمپو کی بوتلیں بھی کہا سیاسی مجرموں کو محفوظ راستے بھی فراہم کیے سیاستدانوں کو سیاسی انتقام میں بھی جھونکا کئی سیاسی بدمعاش تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں کے زیر سایہ کئے گئے سنگین جرائم کا اعتراف تک کیا مگر با عزت بری ہوئے۔۔ غریب بھوک کے ماے ایک روٹی بھی چوری کر ے تو پولیس پکڑ کے لے جائے گی اس بے چارے کو حوالات سے جیل تک پہنچا دیا جائے گا جبکہ دن دیہاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے ایم این اے مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے رہا ہوجاتے ہیں اور کہا جاتا ہے ثبوت ناکافی ہیں جبکہ قتل کی فوٹیج تک عدالت میں دکھائی جاتی ہے۔ معاشرے کی بقا کے لیے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ اسوقت پاکسان کی مختلف عدالتوں میں بائیس لاکھ سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہے عدالتیں خود مختار اور آزاد ہونگی تو انصاف کی فراہمی جلد اور یقینی ہوگی عدالتی نظام میں اصلاحات اکثر سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کا منشور کا حصہ رہیں مگر عملی طور پر کچھ نہ کیا جاسکا مقننہ انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے سے جڑے ستون ہیں ایک میں بھی سقم ساری ریاست کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔۔ انصاف پر مبنی نظام عدالتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے جبکہ حکومت کو بھی عدالتوں میں پڑے تمام زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ فوری اور بروقت انصاف مہیا ہوسکے۔ اور ایک نظام ترتیب دیا جائے کہ جو جو وکلا یا ججز مقدمات کو التوا میں ڈالنے کا سبب بن رہے ان سے پوچھ گچھ یقینی بنائی جا سکے۔ سیاست دانوں کو سیاست اور ججز کو عدل قائم کرنے ہوگا اگر عدلیہ میں سیاست شامل ہونے لگی تو پھر انصاف کے نظام میں دراڑیں پڑنا شروع ہوجائیں گی جو عدالتی نظام پر سوالیہ نشان بن کر ابھرتی چلی جائیں گی۔

    سیدہ زکیہ بتول
    @NayyarZakia

  • خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،تحریر: م ۔م ۔مغلؔ

    خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،تحریر: م ۔م ۔مغلؔ

    خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،
    جناب عمران احمد خان نیازی

    اگر آپ قدیم دور کے بادشاہ ہوتے یا پھر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تو میں جان کی امان چاہ کر کچھ عرض کرتا… مگر مجھے امید ہے ساری زندگی تنقید کی تحریک چلانے والا اپنے ہی عوام کی بے لاگ باتیں ضرور سنے گا… اعلامیے اور بیانیے کے مطابق آپ ہمارے ووٹوں سے ہمارے لیے اقتدار میں آئے تھے… آپ اپنی شاہانہ و خانگی زندگی تج کر قریباً دو دہائیاں عوام الناس کے لیے متحرک رہے… ہر طرح کے مسائد و نامسائد حالات سے گزر کر آپ نے بمشکل تمام یہ منصبِ اعلیٰ پایا ہے… اس پچیس سالہ سفر میں آپ اکیلے نکلے ضرور تھے مگر اکیلے رہے نہیں… تب آپ کا حوالہ چراغ تھا… روشنی کی طلب میں لوگ جوق در جوق آپ کے ساتھ آتے گئے… خالص نظریات کی بنیاد پر لوگ آپ پر اعتبار کرنے لگے کہ سیاسی سماجی معاشی نا انصافی کے جوہڑ میں تیس تیس سال سے اقتدار سے چمٹی ہوئی جونکیں ملک و ملت کا خون چوس رہیں ہیں ان جونکوں سے نجات آپ دلا سکتے ہیں…

    پستی میں گھرے ہوئے عوام نے آپ کو ہر طرح سے طاقت بخشی وہ شوکت خانم ہسپتال کا معاملہ ہو یا سیاسی تحرک کا… آپ نے اسلامی شعائر اور معائیر کو اپنی گفتگو کی زینت بنانا شروع کیا تو سیاست سے غیر متعلق قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ کی گردان کرنے والے بھی آپ کی جانب لپکے آپ کو طاقت فراہم کی… پھر آپ کے بیانیے کو فروغ اور ابلاغی سطح پر رائج کرنے کے لیے ہزاروں کارکنوں اور لاکھوں رضاکاروں نے اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا وقت اور سکون خرچ کرکے محاذ مکمل گرم رکھا…

    جلسے ہوں یا دھرنے یہ سب آپ کے لیے لڑ بھڑ جاتے تھے… اس لیے کہ یہ سب عامۃ الناس گزشتہ ادوار کے رہبر و رہزن کے ستائے ہوئے تھے… عوام اس غلیظ مسلط شدہ سیاسی نظام اور مقتدر پارٹیوں سے نجات چاہتے تھے… آپ نے اسے سونامی کا نام دیا کہ سب خس و خاشاک کی طرح اڑا کر رکھ دیں گے… پھر تبدیلی کا خواب دکھایا کہ تعبیر امید کی سحر کی طرح روشن ہے… بعد ازاں آپ نے سات ملکوں کی معاشی و سماجی معیارات پر عوام کو ترغیب دلائی… بالآخر یہ تحریک ‘ ریاستِ مدینہ ‘ کے نعرے پر منتج ہوئی اور آپ اقتدار کے تخت پر براجمان ہوئے… عامۃ الناس نے دن گننے شروع کر دیے کہ اب ان کے حق میں فیصلے ہوں گے اب ان کی زندگیوں میں بہتری آنا شروع ہوگی… ہوا وہی کہ بیٹی بیاہنے کے بعد بسانی بھی پڑتی ہے… اب آپ کے اقتدار کا چوتھا سال جاری ہے…

    جناب وزیرِ اعظم…
    آپ کی محنتِ شاقہ ہو یا آپ کی طلسماتی شخصیت اس کا احاطہ کرنا محض ایک خط میں ناممکن ہے… کتاب ہی درکار ہوگی اس عرصہ کے خد و خال اور اتار چڑھاؤ بیان کرنے میں… قصہ مختصر یہ کہ اقتدار کے حصول کے بعد آپ انہی عوام سے الگ ایک محدود گنبدِ بے در میں مقید ہوگئے… جہاں آپ کے ساتھ کھڑے رہنے والے عوام کی آہیں سسکیاں آوازیں نہیں پہنچ سکتی ہیں… آپ کو منظر دکھانے والی آنکھیں اور پکار سنانے والے کان بھی عامۃ الناس سے نہیں بلکہ مخصوص اشرافیائی اور اشرافیائی سوچ کے پروردہ ہیں… ریاستِ مدینہ کی بنیاد جن خطوط پر استوار ہے ان میں لنگر خانے نہیں ہیں بلکہ مواخات مساوات عدل اور انصاف ہے… لنگر خانے خانقاہی سلسلہ ہے جو مقتدر حلقے نہیں تھے بلکہ عام لوگوں میں رہتے تھے… مدینہ کی ریاست کا کام ایسا مربوط مضبوط انتظامی ڈھانچہ ہے کہ جس میں لنگر خانے کی نوبت ہی نہ آئے…

    آپ نے کہا فرات کے کنارے کتا بھی مرجاتا تو حاکمِ وقت جواب دہ ہوتا تھا… سیدنا عمرؓ یعنی وقت کے خلیفہ سے کُرتے کی بابت سوال ہوتا تھا… آپ یہ سب باتیں عوام کے دماغوں میں راسخ کرنے کے بعد تخت پر تشریف فرما ہوئے تھے… مگر معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ آپ کے گرد افسر و نوکر شاہی ہو یا بہی خواہی کا مسلط طبقہ انہوں نے عام آدمی سے سوال کا حق بھی چھین لیا ہے… آپ عالمی مُحلوں کے جھگڑے نمٹانے میں اپنی شناخت تو بناتے چلے گئے مگر اپنے ہی ملک کے باسیوں کے مسائل کی طرف سے آپ کی توجہ معدوم ہوتی چلی گئی… اقتدار کے حصول کے بعد اپنی حکومت کی ہر کوتاہی کمزوری اور خرابی کو گزشتہ حکومتوں کے سر منڈھ کر چار سال آپ کی حکومت کو بھی ہونے کو ہیں… کبھی اٹھارہویں ترمیم کی یاجوج ماجوج کی فصیل کے پیچھے چھپنا تو کبھی دو تہائی اکثریت نہ ہونے کا رونا رونا… کبھی بیوروکریسی کی اکڑیں تو کبھی میڈیا کے جھوٹ کا واویلا… کبھی کچھ تو کبھی کچھ…

    کورونا کی تو خیر دوسری سالگرہ ہے اقتدار سوا سال مزید پہلے کا ہے… حالانکہ سارے دعوے دلیلیں پوری تحریک اور الیکشن کمپین میں مشروط نہیں تھے کہ اٹھارہویں ترمیم ہوئی تو یہ وعدے کارآمد نہ ہوں گے… دو تہائی اکثریت نہ ہوئی تو قانون سازی نہ کروں گا… فلاں قانون اور فلاں عالمی تناظر اور فلاں معائدے… عنانِ حکومت سنبھالنے کے بعد آپ کے تقرر کردہ تمام ترجمان آپ کے تئیس سالہ بیانیے کو غلط ثابت کرنے پر مصر ہیں… ہر بار نئے بے تکے دلائل اور اس اگلی بار مزید نئے… یوں اعتبار کے دھاگے کچے ہوتے جارہے ہیں… سارا ملبہ مافیا مافیا کہہ کر پچھلوں پر ڈال دینا آسان راستہ ہے… مہنگائی عالمی مسئلہ ہے مانتے ہیں ہم… مگر بد انتظامی نا اہلی تو داخلی معاملہ ہے اور اس میں آپ اور آپ کے متعین کردہ وزیر مشیر مکمل ناکام ہیں… عالمی تغیرات و تبدل سے مہنگائی اگر سات فیصد بڑھی ہے تو بد انتظامی بلکہ بے انتظامی کی وجہ سے ایک سو سات فیصد بڑھی ہے… آپ کے پونے دو کروڑ ووٹرز اب روبوٹ بننے سے تو رہے کہ مزید چارج کیا اور کام چل گیا۔۔۔ سوال کرنا سکھایا ہے تو جواب دینا آپ اور آپ کی حکومت پر فرض ہے… سوال کا گلا گھونٹنے سے وہی فکری نسلیں پروان چڑھیں گی جن کے خلاف آپ نے دو دہائیاں سدھار کی کوشش میں گزار دیں ہیں… آپ کا کہنا تھا کہ اوپر اگر کپتان ٹھیک ہو تو پوری ٹیم کو ٹھیک کر دیتا ہے… آپ کی تو ٹیم ہی ٹھیک نہیں ہوئی ملکی انتظامی انصرامی حالات تو کجا…

    جناب وزیرِ اعظم پاکستان
    آپ کے بقول دو لاکھ میں ماہانہ میں آپ کا گزارا نہیں ہوتا تو سوچیئے کہ ملک کی تین چوتھائی سے زائد آبادی کی تخواہ بجٹ میں کم از کم بیس ہزار رکھی گئی ہے (ہر چند وہ بھی ملتی نہیں ہے) جو آپ کے دو لاکھ سے بیس گنا کم ہے… ریاستِ مدینہ میں خلیفہ اول ابوبکر صدیقؓ کی تنخواہ طے ہونے کا واقعہ آپ نے سن ہی رکھا ہوگا… اس میں تو کوئی آئین اور قانون آڑے نہیں آتا… اپنی تنخواہ عام مزدور کی اجرت کے برابر کر لیجیے شاید آپ کو حقائق کا علم ہو کہ ملک کی اکثریت کس حال میں ہے… آقائے دوجہاں کی مثالیں دیتے ہوئے خندق کا ذکر بھی آپ نے ہی کیا تھا… عام اصحاب کے پیٹ پر اگر ایک پتھر تھا تو سرکار ﷺ کے شکمِ اطہر پر دو پتھر بندھے تھے… ریاستِ مدینہ کے اصول کے تحت آپ اور آپ کی کابینہ بھی اس سنتِ نبوی ﷺ سے ابتدا کیجیے… یاد رکھیں دلائل (فیکٹس اینڈ فیگرز) پیٹ نہیں بھرتے ہیں… کیا آپ نہیں جانتے کہ عسرت کفر کے قریب لے جاتی ہے… کیا آپ نے نہیں کہا تھا کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں… خان صاحب وجہ کچھ بھی ہو… لوٹا ہوا پیسہ آپ واپس نہیں لاسکے… انتظامی امور میں آپ ہاتھ کھڑے کردیتے ہیں کہ وفاق صرف اسلام آباد ہے اور باقی اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملات…

    ہم مہنگائی بد انتظامی پر بات کریں تو آپ کے گرد جال بننے والا اشرافیہ حصار اور اس جال پر بیٹھے بد دیانت فکری منافق شکاری مکڑے فرماتے ہیں کہ ایک کما کر گھر پورا نہیں ہوتا تو چار کماؤ… ٹماٹر نہ کھاؤ پیٹرول نہ خرچ کرو… بجلی نہ خرچ کرو… انہی انقلاباتی تحاریک کا ذکر پر جو آپ کیا کرتے تھے جب بل جلا دو اور ٹیکس نہ دو کے نعرے لگائے گئے تھے… وہ سب کچھ آپ اور آپ کے مصاحبین کیسے بھول جاتے ہیں… خیر قصہ کوتاہ مدعا بتصریفِ وقت… تحریکِ انصاف سے ہمارا پہلا انصاف کا مطالبہ ہے کہ ہم آپ کے ووٹرز ہیں اس سے بڑھ کر ہم پاکستان کے عوام ہیں ہم سے بلا تفریق جبراً نچوڑے ہوئے ٹیکس پر وزیروں مشیروں مصاحبوں کی مظفر موج کی عیاشیاں ختم کی جائیں ان کو ملنے والی تمام مراعات واپس لی جائیں ان کے فون پیٹرول گاڑی یوٹیلٹی بلز سکیورٹی سب واپس لی جائے… ان کو اس حال میں لایا جائے جس میں یہ الیکشن کی مہم میں تھے… ہم سے نچوڑے ہوئے ٹیکس پر ان کے کام کیا ہیں ماسوائے ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھنے پریس کانفرنسیں کرنے اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے نتھنوں میں پھونکیں مارنے کے…

    وزیرِ اعظم صاحب ہمارا غم و غصہ ان سطور میں سما نہیں سکتا… سلسلے بہت دراز ہیں لاکھوں دلیلیں اور جواز آپ کی حکومت کی نااہلی کے خلاف ہیں ہمارے گلے دبانے اور ہمیں آنکھیں دکھانے سے ہماری آوازیں کم نہیں ہوں گی… یہ خط بھی آپ کے دعووں کا امتحان کے کہ وقت کے خلیفہ سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے اور سائل کی طرف سے جواب طلبی کی راہ میں کوئی مصاحب یا وظیفہ خوار نہیں آئے گا… عمران خان صاحب جھوٹ اور چاپلوسی کے شہتیر دیوار اور چھت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں حکومت کے حق میں صرف وہی بول رہے جن کے کالے دھن کے سامنے یہ مہنگائی بد انتظامی بد سلوکی رائی کے برابر ہے یا پھر امید کے کشکول سنبھالے پھرتے ہیں… مرسڈیز میں سفر کرنے والا جب چنگچی میں سفر کرنے والے پر فیصلے دے گا اور اس کا تمسخر اڑائے گا تو معاشرہ اشتعال کی حدوں سے نکل کر انارکی کی طرف چلا جاتا ہے… موجودہ حکومت اسی اصول کے تحت گزشتہ حکومت کے بعد اقتدار میں آئی تھی…

    وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی

    ہمارے پاس لکھنے کو اتنے دلائل حکومت کی کمزوری نااہلی اور اشرفیائی عیاشی کی بنیاد پر ہیں کہ دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں ہماری اس تھوڑی سی ہی عرضی سے اندازہ کر لیجیے… عام عوام (اشرافیہ بالا دست طبقہ ہرگز ہرگز نہیں) کے مسائل کو سمجھیں… اونٹ کے منھ میں زیرہ دینے سے کچھ حاصل نہیں نہ ہی تھپکیاں دینے سے گرد بیٹھتی ہے… قربانیاں اب آپ دیں… حکمران قربانیاں دیں … عوام لاغر اور مردار ہونے کے قریب ہے اسے ذبح نہ کریں… حکومتی اللے تللے ختم کیے جائیں اور عام (ستاسی فیصد) غریب کی سطح پر آئیں… یہ کیا کہ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں… وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے جناب… تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے انصاف کی اینٹ رکھیں تاکہ عوام کو معلوم ہو اور یقین ہو کہ مہنگائی عالمی وجہ سے ہی ہے… ہم نے آپ کی حکومت کی طرح راستے میں پروٹوکول اور سکیورٹی کے نام پر دیوار نہیں حائل رکھی ہم معاشرے میں مثبت رویوں کے قائل ہیں سو مکالمہ کی سطح پر آپ کی حکومت کا کوئی بھی نمائندہ ہم سے بات کر سکتا ہے…

    والسلام
    از: ملکِ خدا داد پاکستان کا ایک باسی
    مملکتِ پاکستان کے عوام کا اور حکومت کا خیر خواہ

    م ۔م ۔مغلؔ
    Twitter @Mughazzal

  • غریب عوام،  عمران خان سے پریشان .تحریر : بسمہ ملک

    غریب عوام، عمران خان سے پریشان .تحریر : بسمہ ملک

    22 کروڑ عوام کا ملک کون چلا سکتا ہے

    جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو کنٹینر پر بل جلایا کرتے تھے اور اب ہر دل عزیز عمران خان عوام کے دل جلا رہے ہیں وزیراعظم کہتے ہیں 22 کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے ہر جگہ مصیبت ہے خان صاحب ویسے آپ پر انکشاف کون سا ہوا 22 کروڑ عوام کا، مصیبت کا، یا ملک چلانے کا 23 سال پہلے جب آپ نے جدوجہد کا آغاز کیا تھا تب آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آبادی کا تناسب بڑھ رہا ہے ہر جگہ مصیبت ہے جب آپ پچھلی حکومتوں پر تنقید کرتے تھے سابق وزیراعظم عمران خان سے استعفے مانگتے تھے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے مطالبے کرتے تھے اس وقت آپ نہیں جانتے تھے کہ 22 کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے

    عمران خان جب آپ نے کنٹینر پر چڑھ کر بل جلایا تھا سول نافرمانی کا نعرہ لگایا تھا بغیر قرضہ لیے ملک کو چلانے کی باتیں کرتے تھے IMF کے پاس جانے سے بہتر خودکشی سمجھتے تھے ڈولر نیچے روپیہ اوپر کرنے کے دعوے کرتے تھے مہنگے ڈیزل، پٹرول کو حکمرانوں کی اوپر کی کمائی کہتے تھے قیمتیں عالمی منڈی کے برابر رکھنے کی باتیں کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے سستی بجلی، مہنگائی میں کمی گھر دینے اور نوکریاں بانٹنے کی باتیں کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے جب آپ ریاست مدینہ اور خلائی ریاست کے خواب دیکھایا کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ 22 کروڑ ہی تو ہیں جو آپ کی باتوں پر لبیک کہہ رہے ہیں عمران خان صاحب اگر مسئلہ آبادی ہے تو یہ بھی بتا دے آبادی کم کیسے کرے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کر تو رہے ہیں کوئی بےروزگار وزیراعظم ہاؤس کے سامنے خودکشی کرلیتا ہے کوئی باپ 5 بچوں کو نہر میں پھینک دیتا ہے کہی باپ بیٹیاں قتل کررہا ہے سلیکٹڈ صاحب جس چین کی ترقی کی مثالیں آپ دیتے ہیں ویسا نظام لانے کی آپ باتیں کرتے ہیں وہاں کی آبادی تقریبا 1.5 ارب ہے امریکہ سپر پاور ، عالمی طاقت ترقی یافتہ ملک جس کی آپ مثالیں دیتے ہیں امریکہ کی آبادی 32 کروڑ سے زیادہ ہے یعنی مسئلہ آبادی کا نہیں لیڈر شپ کا ہے پالیسی بیکنگ کا ہے پالیسی میکرز کا ہے آبادی کو مسئلہ بنا کر بری کارکردگی پر پردہ نہ ڈالے جو 22 کروڑ مصیبتوں سے چھٹکارے کے لیے آپ کو لائے لیکن کیا بنا ڈبل قرضے لیے گئے ڈبل مہنگائی کر دی گئی یہ ملا ہے عوام کو تحریک انصاف والوں کو ووٹ ڈالنے کا نتیجہ اور اگر آج بھی ان سے پوچھا جائے تو ان کی نظروں میں حکومت بہت اچھی چل رہی ہے عوام خوش ہے ارے عمران خان صاحب کچھ تو خدا کا خوف کریں

    عمران خان صاحب اب تو آپ کے دیرینہ دوست، اراکین اسمبلی کو توڑنے والے، جہاز میں سب کو بھر بھر کر لانے والے جہانگیر ترین بھی بول پڑے ہیں، جہانگیر ترین کا کہناتھا کہ حکومت کو فوری طور پر مہنگائی ختم کر نی چاہیئے ورنہ حالات خراب ہو جائینگے۔ سرائیکی صوبے کی آواز اٹھانے سے ترقیاتی کام شروع ہوئے ہیں صوبہ بننے کے بعد یہاں مزید کام شروع ہونگے میرے خلاف حکومت بنتے ہی سازشیں شروع ہو گئی تھی اگر مجھے نااہل نہ کیا جاتا تو نہ صرف صوبہ بن جاتا بلکہ اپر پنجاب سے زیادہ ترقی ہو تی چینی کا کاروبار شروع سے ہی کرتا ہوں مجھ پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ، خان صاحب اب اپنے دوست کی ہی کم از کم مان لیں اور عوام کو ریلیف دے دیں، اور اگر عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو گھر جائیں، وعدے پورے کرنا آپ کے بس کی بات نہیں، لارے لگائے رکھیں اور یوٹرن لیتے رہیں، اب یوٹرن نہیں بلکہ ڈبلیو ٹرن لیں

    @BismaMalik890

  • "بچوں کی پرورش کیسے کرنی چاہئیے” .تحریر: فرزانہ شریف

    "بچوں کی پرورش کیسے کرنی چاہئیے” .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں بچے کی تربیت ماں کی گود سے ہی شروع ہوجاتی ہے کسی بچے کی تربیت دیکھنی ہوتو اس کی ماں کو دیکھ لیں بچہ ماں کا پرتو ہوتا ہے ۔بچہ ایسی موم کی گڑیا ہوتا ہے شروع دن سے آپ اس کو جس طرف موڑنا چاہئیں گےمڑ جائے گا اللہ جب یہ نعمت۔رحمت دیتا ہے ماں کا فرض ہوتا ہے وہ بچے کا دنیا میں آنے کا حق ادا کردے اچھی تربیت کرکے۔۔۔ماں کا اس لیے کہہ رہی ہوں بچے کے ساتھ ذیادہ وقت ماں کا گزرتا ہے باپ تو روزی روٹی کی تلاش میں باہر کی چھان ۔چھان رہا ہوتا ہے اس لیے بچوں کی تربیت کی ذیادہ ذمہ داری ماں پر آجاتی ہے اپنے بچوں کے ذہین کی صاف سلیٹ پر آپ جو کچھ لکھیں گے جو کچھ نقش کریں گے وہ ان مٹ چھاپ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جائے گی جو کچھ بچوں
    کو ہم آج دیں گے کل کو وہی ہم پائیں گے اپنے بچوں کی تربیت میں سب سے پہلے خوش اخلاقی جیسی خوبی شامل کریں اچھا بولنا سکھائیں بڑوں کا ادب چھوٹوں سے پیار کرنا سکھائیں ۔
    انھیں بچپن سے ہی تعزیت۔تیماداری۔برداشت انکساری ۔تواضع اور صبر کرنا سکھائیں ان کو بچپن سے ہی نماز کا عادی بنائیں ۔ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وآلہ علیہ وسلم کی محبت ڈالیں ان کے دلوں میں صلہ رحمی ڈالیں بچوں کے دلوں میں ان چیزوں کی محبت ڈالنے کا سب سے بہترین وقت ان کا بچپن ہی ہے۔ جب ان کے دلوں میں اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کی محبت ہو گئی تو وہ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی لازمی کوشش بھی کریں گے ان کے دل میں لگن پیدا ہوگی ۔حرام حلال کھانے میں فرق بتائیں ۔ہمارے مذہب میں کن چیزوں کی سختی سے ممانعت فرمائی گی ہے ان چیزوں کے لیے ان کے دلوں میں ناپسندیدگی پیدا کریں ۔غلط صیحح کی پہچان کروائیں یہی ایک اچھے انسان کی خوبی ہے ورنہ تو کھلا پلا کرجانور بھی بچے پال لیتے ہیں اور آپ کے بچے آج کا سیکھا کل آپ پر آزمائیں گے اس لیے ہر وہ چیز اپنے بچے کے دماغ میں ڈالنے کی کوشش کریں جو کل اسے ایک صحت مند شہری بننے میں مدد کرے ایک صحت مند معاشرہ اکائی سے ہی بنتا ہے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنا رول ادا کرنا والدین کا فرض ہے۔ایک اور ضروری چیز ‏کوشش کریں اپنے بچوں کےسامنے
    اپنے گھر والوں بھائیوں۔بہنوں کی باتیں ڈسکس مت کریں
    بھائیوں،بہنوں میں جتنی جلدی غلط فہمیاں پیداہوتی ہیں وہ اتنی جلدی ختم بھی ہوجاتی یقین جانئےآپ کا جذبات میں آ کرکہا جانےوالا ایک بھی غلط لفظ آپکے بچوں کو عرصہ تک یادرہتااورتعلق میں غلط فہمی کاباعث بنتا.پھر آپ کے لاکھ سر پٹخنے سمجھانے کے باوجود آپ کے بچے کے دل سے وہ باتیں نہیں نکلتی جو آپ نے جذبات میں آکر ڈال دی تھیں آس لیے یہ والدین کے لیے امتحان ہوتا ہے تکلیف دہ باتیں اپنے تک محدود رکھ کر خود تکلیف برداشت کرکے بچوں کے دلوں کو زہر آلود ہونے سے بچا لیا جائے ۔

    آپ آج اپنے رشتہ داروں کے خلاف ان کے دلوں میں زہر ڈالیں گے تو یہ زہر کل سب سے پہلے آپ پر ازمائیں گے ۔ اپنے بچوں کو اچھے استاد سے قران مجید کی تعلیم دلوائیں جب آپکا بچہ قرآن مجید ختم کرلیتا ہےتو والدین انہیں، سورہ یوسف، سورہ نور ۔سورہ احزاب کی تفسیر اچھی طرح سے سمجھا دیں تاکہ انہیں معاشرتی قوائد کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کی حفاظت کرنا، سمجھ میں آجائے گااپنے بچوں کی دن بھر کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں ۔جھوٹ بولنےچوری جیسی برائیوں کی ناپسندگی اور اللہ کی ناراضگی اور اس کے نقصانات شروع سے ہی بچے کے دل ودماغ میں ڈال دیں ۔یورپ میں رہنے والے والدین کو چاہئیے کھانے پینے کی چیزیں خود گھر لاکر رکھیں 18 سال سے پہلے بچے کو کبھی پیسے نہ دیں اسے بولیں جو کچھ کھانا ہے یا لینا ہے ہم لے کر دیں گے ۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا بچہ باہر کے ماحول کی برائیوں سے بچ جائے گا کسی سے کچھ بھی نہیں لیکر کھائے گا ۔۔ جب جب موقع ملے اپنے آس پاس یا پھر اپنے پڑوسی رشتہ داروں کے بچوں کو بھی اچھی تربیت دینے کی کوشش کریں اپنے بچوں جیسی جیسا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے سلجھے ہوئے ہوں ایک اچھے شہری بنیں اسی طرح باقی بچوں پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔ ہم نے روز قیامت صرف اپنے بچے کے بارے میں حساب نہیں دینا بلکہ ارد گرد کے بچوں کی تربیت کے بارے میں بھی پوچھا جائے گااس لیے دوسروں کے بچوں کو بھی اپنے بچے سمجھ کر ان کو صحیح غلط کی تمیز سکھائیں جو کچھ اپ اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں وہ ان بچوں کو بھی سکھائیں ۔بچوں کی بہترین پروش کرنے کے ساتھ اپنے آس پاس کا ماحول بھی خوبصورت بنائیں کہ سیانے کہتے ہیں جہاں رہو ایسے رہو کہ آپ پاس ہوں تو ہنسیں ۔آپ چلے جائیں تو روئیں کسی کو ذلیل کرنے کی کوشش بھی نہ کریں، جو بات آپ کو تکلیف دیتی ہےآپکو کو بےچین کرتی ہے وہ بات دوسروں سے بھی نہ کریں جس سے وہ انسان درد محسوس کرے اگر کسی کو اپنی زات سے خوشی نہیں دے سکتے تو درد بھی نہ دیں انسان اللہ کی سب سے پیاری مخلوق ہے۔ اگر کوئی انسان آپ کے مطلوبہ معیار کا نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کم معیاری یا غیر معیاری ہے بلکہ وہ صرف آپ کے معیار کا نہیں ہے، یہ بھی تو ممکن ہے کہ آپ بھی کسی کے مطلوبہ معیار سے نچلے درجے پر ہوں، اور وہ اپکی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتا ہو ۔اللہ کی مخلوق کو اپنی پسند کے معیار پر نہ پرکھیں اگر آپ کے پاس بےشمار دولت ہے تو وہ اپ کی اپنی ذات کے لیے ہے دوسروں کو اس کا رتی بھر فائدہ نہیں ان کو فائدہ اگر کچھ ہے تو اپ کا ان کے ساتھ اچھا رویہ ہے اگر آپ ان کو دھتکاریں گے تووہ کونسا آپکو پھولوں کے ہار پہنائیں گے پیار عزت دینا بھی اعلی ظرف لوگوں کے پاس ہوتا ہے کم ظرف لوگوں کو اللہ نے یہ خوبی دی ہی نہیں ہوتی۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اسوہ حسنہ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کوئی انسان اگر اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ معیار کا بھی نہیں ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے اسے بطور انسان اسے کبھی کم تر نہیں جانا اس کی سب سے بڑی مثال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورہ طائف سے ملتی ہے کہ جہاں آپ پر پتھر برسا کر آپ کو زخمی کیا گیا زبانی اور جسمانی ایذا دیا گیا وہاں بھی آپ نے بد کلامی، بد گمانی اور بد دعا کا سہارا نہیں لیا بلکہ اچھے گمان کے ساتھ دعا فرمائی، اس لئے اپنی پسند اپنی سوچ اور اپنی مرضی اپنی خواہش کو ٹھیک جان کر اللہ کے بندوں کے لئے فیصلے نہ کیجئے،بےشک آپ دن رات مصلحے پر بیٹھے ہوں پانچ وقت نماز ادا کرتے ہوں بے شک، آپ ایک سال میں چھ مہینے روزے رکھتے ہوں بے شک، آپ ہر ہفتے دو قرآن مجید مکمل کرتے ہوں بے شک،آپ جتنا کوئی نیک بندہ دنیا میں نہ ہو ، لیکن اللہ کے بندوں کو سخت سست سناتے ہوں، انہیں اپنے لیول کا نہیں مانتے ان سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہوں اپنی باتوں سے اپنے رویے سے ان کے دل چھلنی کرتے ہوں تو صرف ایک دفعہ وہ حدیث مبارک ضرور یاد کریں جس میں ایک نمازی، روزہ دار، زکوٰۃ ادا کرنے والے کے منہ پر اس کے اعمالوں کی گٹھڑی واپس مار دینے کا ذکر ہے،اور یہ واقعہ ایسا ڈرا دینے والا ہے کہ اگر انسان کو خود سے واقعی محبت ہے تو وہ ایسے کاموں سے بچ کر نکلنے کی کوشس کرے گا جس سے اللہ کی پکڑ کا ڈر ہوتا ہو اللہ تعالی ایسا وقت کسی دشمن پر بھی نہ لائے کہ اس کے اچھے کام اس کی عبادت ۔ایک ذرا سے تکبر کی وجہ سے اس کے منہ پر ماردی جائے اللہ سبحان تعالی ہمیں سیدھے راستے پر چلائے گمراہی اور تکبر سے محفوظ رکھے آمین ثمہ آمین

  • پولیس کے چھ شہیدوں کے حصول انصاف کی امیدیں‌دم توڑ رہی ہیں، خصوصی رپورٹ

    پولیس کے چھ شہیدوں کے حصول انصاف کی امیدیں‌دم توڑ رہی ہیں، خصوصی رپورٹ

    اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) حکومت پاکستان اورکالعدم تحریک لبیک پاکستان میں خفیہ معائدہ طے پانے کے بعد محکمہ پولیس پنجاب کے اندر شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے، پنجاب پولیس کے چھ شہیدوں کے حوالے سے حصول انصاف کی امیدیں دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں ، لاہور کے غلام رسول سمیت چھ پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ انصاف کے منتظر، ریاست کی رٹ قائم کرنے کی تگ و دو میں جان دینے والے پولیس اہلکاروں کی جانوں کا سوداکرنے سے پولیس کا مورال کم ہورہا ہے اور آئندہ کسی بھی احتجاجی مہم میں پولیس کو استعمال کرنے کے حوالے سے جوانوں کے حوصلے پست دکھائی دیتے ہیں۔

    پولیس کے ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک لبیک اور پولیس کے مابین لاہور اور سادھوکی میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 300پولیس اہلکار زخمی جبکہ6پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں، جنہیں ریاست نے رٹ قائم کرنے، مظاہرین کو منتشر کرنے اور امن و امان کے قیام کی ذمہ داری سونپی تھی ، اس کیلئے پولیس اہلکاروں نے دن رات ڈیوٹیاں بھی دی ہیں اور وزارت داخلہ کے ماتحت تمام تراحکامات پر عمل درآمد کرکے بھی دکھایا ہے۔

    تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان معائدے کے مندرجات مکمل تو سامنے نہ آئے لیکن مظاہرین کو تمام تر مقدمات سے بری کرنے اور کسی قسم کا نیا مقدمہ نہ بنانے کے حوالے سے پولیس میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے حصول انصاف سے ہی پولیس کے ادارے کا مورال بلند ہوگا، اگر ان کے خون کو رائیگاں کردیا گیا اور ملزمان کو قانون کی گرفت سے آزاد کردیا جاتا ہے تو پولیس کے محکمے کے اندر بے چینی بڑھ جائے گی ، جس کے نتیجے میں آئندہ ریاست کے احکامات پر قرار واقعی عمل ناممکن ہوجائے گا۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے آئی جی پنجاب راو سردار پر جوانوں کا بھرپور پریشر ہے ، عین ممکن ہے کہ وہ اپنے عہدے سے احتجاجاً مستعفی ہوجائیں، تاہم اگر یہ صورتحال بنتی ہے تو حکومت کیلئے انتہائی شرمندگی کاباعث ہوگی۔

  • بالا خانے کی ڈومنی ،از۔ م۔م۔مغلؔ

    بالا خانے کی ڈومنی ،از۔ م۔م۔مغلؔ

    بالا خانے کی ڈومنی ،از۔ م۔م۔مغلؔ

    تقسیم ابھی نہیں ہوئی تھی… ٹین کے کنستروں کی کھڑکھڑاہٹ اور موتیے کی خوشبو اولین حیض سے اٹھنے والی بُو سے یُدھ میں مصروف تھی… طبلے کی تھاپ اور سارنگی کی سنگت میں بستر کی سلٹوں میں گم ہوتا چرمُرایا ہوا گجرا اور تکیہ پر پھیلا کجلا ایک نئے کمہلائے ہوئے وجود کے ہمکنے کا منتظر تھا…

    تقسیم کے بعد کوٹھے اور بالاخانوں کی تقسیم سے طبلے اور سارنگی کے وارثوں میں بدلے کی آگ نے جنم لیا… بالاخانے کے شودر لمس سے کسبِ لذت جاری رہا اسی دوران جنمے اس منحنی وجود نے جوبن پایا تو عنفوانِ شباب کی دہلیز پر پہلے رقص میں قسم کھائی کہ اجڑے بالاخانوں کو گھنگھروں کی لڑیوں میں پرو کر یکجا کر دکھائے گی تاکہ کسی طور طوائف الملوکی کی نشاۃ الثانیہ ہو سکے…

    شودروں اور پانڈوؤں کی ریڑھ کی ہڈی کے تیسرے مہرے سے وجود پانے والی برہمن سپتری تاحال بدلے کی آگ میں جل رہی ہے… آوازے لگانے والوں دلالوں طبلچیوں سازندوں نے ماحول بنا رکھا ہے… برہمن سپتری نے کوٹھوں کے مکینوں اور کوٹھیوں کے پترکاروں میں اپنا اثر رسوخ ایسا بنا لیا ہے کہ وہ تاحال بوڑھی نائکہ کی بجائے ناکتخدا کہلاتی اور کسی نوخیز ہرن کی طرح قلانچیں بھرتی پھرتی ہے…

    کوٹھے اجڑ جانے کے بعد روزگارِ روز و شب کا مرحلہ درپیش آیا تو ننھی کلی کے باپ نے اجڑے بالاخانوں کے مضافات میں لوہا کوٹنے کا کام شروع کیا اور مردِ آہن کہلایا… یوں زندگی کا پہیہ چلتا رہا کسی فلم کے پردے پر چلنے والی متحرک تصاویر کی طرح کم سنی کب جوانی کی دہلیز پر گمراہ ہونے پہنچ گئی اس بات سے بے خبر لوہا کوٹنے والا شودر اب لوہے کو پگھلانے والوں کی مِل میں برہمن کے منصب کو پہنچ چکا تھا…

    مشقت کے ان لمحوں میں بے قاعدہ حیض سے مانگ بھری کی گود بھرائی بھی کسی ایسے ثانیے میں ہوئی جب ٹین کباڑ کی ہلکورے کھاتی سواری… بالا خانوں کی مسہریوں کو کوسنے دینے میں مصروف تھی… وقت کروٹیں لیتا رہا کوٹھوں کے مکین اب کوٹھیاں تج کر محلات میں سازشی نسلیں پیدا کرنے میں مصروف ہوگئے… ماضی کی طرف جھانکھیں تو قدیم بالاخانوں میں نوابوں اور سستے تماش بینوں کو دادِ عیش دیتے لمحوں میں بٹوے پوٹلیاں اور کرتے کی جیبیں محفوظ تصور کی جاتی تھیں…

    مگر اس برہمن سپتری کو وہ ملکہ حاصل ہے کہ جنبشِ انگشت سے بالاخانوں کی تہذیب ہی بدل ڈالی… اب یہ جب چاہتی ہے نوابین معالجین معاونین مداخلین مصاحبین فولادین معادلین اور تماش بین قماش بینوں کے پوشیدہ لمحات کو اپنے تلذذ کی خاطر محفوظ کرتی پھرتی ہے… شنید ہے کہ لذت کے مناظر کے ذخیرہ کے سامنے عمروعیار کی زنبیل بھی دست بستہ ایک جانب ہو رہتی ہے…

    لوہا پگھلانے والوں اور لوہا ڈھالنے والوں کی مخبریاں کرتے کرتے ایک دن بوڑھے لوہا کوٹنے والا اپنے ہی مالکوں کو غچہ دے کر فرار ہو چکا تھا… سنا ہے عادت سر کے ساتھ جاتی ہے… ادھر برہمن سپتری بدلے کی آگ میں تپ کر کندن ہوچلی تھی اور لوہا کوٹنے والے تازہ تازہ برہمن کو راستے سے ہٹا کر طاقت کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کو پر تولنے لگی… بوڑھا لوہا کوٹنے والا اپنی سپتری کے خوابوں کے سامنے ہار مان گیا اور خون تھوکنے کا بہانہ کر کے پرانے تماش بینوں اور نوابین کی سر زمین کو رخصت ہوگیا…

    بالاخانوں کے قدیم اساطیری حوالوں پر اعتبار کیا جائے تو یہ برہمن سپتری ڈومنی کہلانے میں حق بہ جانب ہے… بالاخانوں کی سسکیاں جمع کرتی ڈومنی کے منھ کو تو جیسے خون لگ چکا تھا… دلالوں کنیزوں کی فوجِ مظفر موج جمع کرنے میں کتنی ہی بیسوائیں اور نرتکیاں اس کے قریب آنے لگیں… کچھ جمع جوڑ رودالیاں بھی کورس میں بین کرنے کی مشقوں میں مبتلا ہوگئیں…

    جہاں کچھ پترکاروں نے اسے بے پناہ طاقت کے حصول میں اپنی خدمات پیش کیں وہیں کچھ پترکاراؤں نے اپنے تھرکتے جسم بھی طوائف الملوکی کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے پیش کیے… یوں ڈومنی کو طاقت کا نشہ مسرور کرنے لگا کہ جب چاہے ملکی راز افشا کرے یا ملک کے اعلیٰ اداروں پر بول و براز کرتی پھرے… اسے یقین تھا کہ سارے ہی پنڈت جوگی داشتائیں اور کنیزیں اس کے فکری بول و براز کو متبرک جان کر چومتے چاٹتے نوش کرتے پھریں گے…

    رقص و سرور سے عیش کشید کرتے کرتے وقت گزرتا چلا گیا دن ہفتوں مہینوں اور برسوں میں سمٹتے گئے… تلبیس کاروں نے تلذذ کے ذخیرہ کو حواس پر طاری کرتے ہوئے ہمیشہ اس شودر برہمن ڈومنی کے سر پر ہاتھ رکھا… یوں مزید شہ پا کر اب یہ ڈومنی ملک کی نظریاتی جغرافیائی سرحدیں اپنے گھنگھروں سے پامال کرتی پھرتی ہے…

    سنتے ہیں… کوئی گرج دار آواز گونجے گی… اس برہمن سپتری ڈومنی اور اس کے ہمنوا طبلچیوں دلالوں پھیری بازوں گجرا فروشوں عصمت خروشوں کے حلقوم… خود ان ہی کی مکروہ ترین آوازوں کے قبرستان بنادیے جائیں گے… گھنگھرو ٹوٹ جائیں گے…

    @Mughazzal

  • کراچی کیلئے صرف "Irregularization” تحریر: امبر دانش

    کراچی کیلئے صرف "Irregularization” تحریر: امبر دانش

    اس شہر کراچی کی , لفظ "Regularisation ” سے بالکل نہیں بنتی. مجال ہے جو کچھ بھی ریگولر ہوتا نظر آجائے.
    چاہے کوٹہ سسٹم کے نام پر میرٹ کا قتل ہو, یا جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں, تعلیم نہ ہونے ک برابر, صحت و صفائی کا کوئی پرسان حال نہیں, بجلی کی حصول کے لئے نجی ادارا مسلط, نہ پانی, نہ سڑکیں اور نہ ہی ٹرانسپورٹ. غرض ان بنیادی سہولیات کی "Irregularisation” نے شہریوں میں نفسا نفسی اور اپنے مسائل کا ازخود حل نکالنے کی جدوجہد نے شہریوں کی سوچ کو مفلوج کر کے بس اپنے ارد گرد محدود کر دیا ہے.
    نام نہاد لیڈران کے پاس بھی عوام کیلئے تسلیوں کے علاوہ کوئی خاص پھکی نہیں. لہذا عام آدمی جب سارا دن بعد بسوں کے دھکے کھا کر اپنے گھر آتا ہے تو چاہے نسلہ ٹاور ہو یا پھر گجر نالہ کے بے گھر افراد, یا پھر الہ دین پارک کی منہدم عمارت, اسے اگلے دن پھر سے بسوں کے دھکے کھا کر, اپنے چھوٹے سے گھر کے بڑے سے بجلی کے بل کی قسطیں بنوانے کی فکر زیادہ ستاتی ہے اور وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر کل کسی دوسرے کےگرتے ہوئے گھر کیلۓ آواز اٹھانے چلا گیا تو کہیں اپنے گھر کی بجلی نہ کٹ جاۓ. اور اسی شش و پنج میں وہ گراۓ جانےوالے گھروں کے متاثرین کیلئے افسوس کرتا ہوا نیند کی آغوش میں ہو لیتا ہے.
    .
    آج نسلہ ٹاور گرنے کو ہے, کل کسی اور کا گھر ہوگا. اور پرسوں شاید ہمارا اپنا, لیکن جب پرسوں ہمارے گھر کی باری آئے گی تو ظاہر ہے ریت وہی رہے گی, مدد کو پکارنے پر بھی وہی تھکے ہارے لوگ بجلی کے بلوں کو قسطوں کی فکر میں تکیے میں منھ چھپا کر سوجائیں گے….
    یا جو کوئی اپنا بجلی کا بل بھروا چکا ہوگا وہ کچھ اس طرح کے سوالوں پر غور کرتا نظر آئے گا, مثلاً

    نسلہ ٹاور کی رہائشی جنہوں نے اس ملک کے سسٹم پر یقین کرتے ہوئے این او سی شدہ کاغذات والے گھر پر اپنی ساری جمع پونجی لگا دی آخر ان کا کیا قصور ہے؟
    وہ عناصر جنہوں نے نسلہ ٹاور کی زمین پر عمارت تعمیر کرنے کی این او سی دی ان سے جواب طلبی کیوں نہیں ہوتی؟
    وہ بلڈر جسے یہ عمارت کھڑی کرنے کی این او سی دی گئی, کیا وہ رہائشیوں کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ان کی ڈوبی ہوئی رقم واپس کرسکے گا؟
    کیا کبھی کراچی کی عوام اپنے حق کیلئے آواز اٹھا سکے گی؟

    اور سوچتے سوچتے اچانک اسے یاد آئے گا کہ گھر میں پانی ختم ہونے کو ہے اور صبح تک پانی کا ٹینکر ہر حال میں منگوانا ہی پڑے گا. لہذا اپنی سابقہ تمام سوچوں کو جھڑک کر وہ اپنے موبائل میں ٹینکر والے کا فون نمبر ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگ جاۓ گا.

  • جعلی ڈاکٹر اور پاکستان

    جعلی ڈاکٹر اور پاکستان

    وہ میرے پاس چیک اپ کرانے آیا میں نے اسکے دانت دیکھ کر اسکو تمام علاج اور حل بتلائے مجھے لگا کہ وہ پہلے ھی کسی اور سے علاج کروا رہا ھے قطع نظر اسکے میں نے اسکو میں نے پوری ایمانداری سے جو حل ھوسکتا وہ بتلا دیا اس نے ساری تفصیل سننے کے بعد کہا ڈاکٹر صاحب میں کسی اور سے علاج کروا رھا تھا بس تسلی لئے آپکو چیک کروالیا آپکا علاج کافی مہنگا ھے اور لمبا ھے حل تلک پہنچتے پہنچتے دیر ھوجایئگی مجھے یقین ھے کہ آپ جو حل بتا رہے وہ بالکل ٹھیک ھوگا مگر میں جہاں سے علاج کروا رھا اس نے نہایت آسان حل بتلایا ھے وہ میرا دانت نکال کر نیا لگا دیگا اور قیمت بھی آپ سے آدھی سے بھی کم لیگا

    مجھے جستجو ھوئی کہ یہ کون ڈاکٹر ھے میں نے نا چاہتے ھوئے بھی نام پوچھ ھی لیا اس مریض نے ایک جعلی ڈگری والے عطائی ڈاکٹر کا نام بتلایا اور یہ کہتے ھوئے چلا گیا کہ خدانخواستہ اگر وہ ڈاکٹر صاحب ناکام ھوگئے تو پھر آپ سے مشورہ کرنے ضرور آونگا.ناظرین وہ مریض کوی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا یا کوی ان پڑھ شخص نہیں تھا بلکہ ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھنے والے اچھے متوسط طبقے کا چشم و چراغ تھا اور میں اسکی آنکھیں پڑھ چکا تھا وہ یقینا جانتا تھا کہ وہ ایک عطائی ڈاکٹر پاس جارا ھے علاج کرانے جو نا صرف علمی لحاظ سے بلکہ کلینک کی صفائی اوزاروں کی سٹیریلازیشن(sterilisation) کے اعتبار سے بھی ناقابل بھروسہ کم تر اور بیماریوں کی آماجگاہ ھوگا

    مجھے اس مریض کا مجھ پر ایک جعلی ڈاکٹر کو فوقیت دینے کا دکھ نہیں ھورا تھا بلکہ اس بات کی فکر تھی کہ کہیں یہ وہاں سے کوی نئ بیماری ھیپاٹائٹس وغیرہ نا لے آئے ،میں سوچنے پر مجبور ھوگیا کہ ایسی کیا مجبوری ھوی کہ اس نے اور اس جیسے کئ لوگ اپنی فیملیز کو اب ڈینٹل سرجنز کے بجائے جانتے بوجھتے جعلی ڈاکٹرز پاس لے جاتے یقینا اسکی ایک بڑی وجہ مہنگائ خرچوں کا آمدن سے زائد ھونا اور دانتوں کا علاج دوسری بیماریوں کی نسبتا زیادہ مہنگا ھونا ھے پھر میں نے یہ سوال سوشل میڈیا پر لوگوں کے سامنے رکھا میں اندر سے ھل سا گیا جب میں نے تقریبا تمام کمنٹس یہی پڑھے کے ڈاکٹرز مہنگے ھیں ڈاکٹرز لٹیرے ایک معروف سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نسیم کھیڑا عرف منہ کھول پلیز نے تو یہ تک کہ دیا کہ آپ کے چھرے بہت تیز ھوتے یعنی چند روپے بچت کی خاطر عوام اس بات کو بھی پیچھے چھوڑ رہی کہ وہ زندگی بھر کی بیماریاں لے سکتے یہ جعلی ڈاکٹرز انتہائی کم پڑھے لکھے سے مکمل طور پر ان پڑھ ھوتے انکی کل قابلیت کسی ڈاکٹر ساتھ بطور اسٹنٹ کام کرنا انکے تجربے سے اور prescription پر لکھی دوائیاں سیکھنا ھوتا یہ کسی ھسپتال میں بطور ڈسپنسر لگ جاتے ڈاکٹر سرجن کے ھنر سے فائدہ لیتے ان سے کام سیکھتے اور اپنا کلینک ڈال لیتے ایک کو تو میں الیکٹریشن کی دکان تھی نہیں چلی تو ڈینٹسٹ ساتھ کچھ عرصہ کام پر لگا پھر اپنا ذاتی کلینک بنالیا اب اپنے نام ساتھ ڈاکٹر لکھ کر گھوم پھر رھا ھوتا anaesthesia کو anatesia کہنے والا یہ گروہ عوام کی مجبوریاں کا فائدہ اٹھاتا ھیلتھ کمیشن کو ماہانہ بتھا دیتا اور بیماریاں بیچتادوسری طرف کئ ڈاکٹرز نے واقعتا ناجائز فیس لینے علاج کے نام پر کمپنی کی دوائیاں بیچنے کا unethical کاروبار شروع کیا ھوا اس سارے معاملے کو تفصیل سے آئندہ کالمز میں بتاونگا اور اس پلیٹ فارم سے ان شااللہ دونوں طرف سے اچھائی لئے آواز بلند کرینگے

  • 2007 ۔۔پاک بھارت ٹاکرا ۔۔میچ کی کہانی ،تحریر: راو فیصل

    2007 ۔۔پاک بھارت ٹاکرا ۔۔میچ کی کہانی ،تحریر: راو فیصل

    شعیب ملک کپتان تھے ۔۔ٹاس جیتا اور بھارت کو پہلے باری کروائی ۔۔محمد آصف کی پہلی چار وکٹیں ۔۔صفر پر ہی گوتم گمبھیر کو گھر بھیجا ۔۔خودہی کیچ کیا ۔۔36 پر چار کھلاڑی جب گھر جا چکے تھےتو دحونی کریز پر آئے اور پھر اتھاپا کے ساتھ اچھی باری بنائی پھر 82 پر اتھاپاففٹی بنانے کے بعد آوٹ ہوئے پھر عرفان پٹھان نے ایک ہی اوور میں شاہد آفریدی کو دو لگاتار چھکے لگائے جن میں ایک میں تو بال گراونڈ سے باہر چلی گئی ۔۔لیکن پھر اسی اوور کی تیسری بال پر پاکستانی پٹھان نے انڈین پٹھان کی وکٹ اڑا دی ۔۔بھارتی ٹیم نے یاسر عرفات کو ٹارگٹ کیا اور ان کی خوب دھلائی ہوئی لیکن آخری اوور میں یاسر عرفات نے کم بیک اور صرف تین رنز دئیے اس طرح نو وکٹوں کے نقصان پر بھارت نے 141 رنز بنائے ۔۔

    پاکستان نے اچھا آغاز نہیں کیا اور 47 کے اسکور پر 4 وکٹیں گرنے کے بعد پریشر بڑھنے لگا جس کے بعد کپتان شعیب ملک اور مصباح الحق نے پوزیشن سنبھالی لیکن صرف 40 رنز کی پارٹنر شپ کے بعد شعیب ملک ایک اونچی شارٹ مار کر کیچ آوٹ ہوگئے جس کے بعد شاہد آفریدی وکٹ پر آئے بوم بوم کے نعروں سے گراونڈ گونج اٹھا جب 30 بالز پر 55 رنز باقی تھے تو آفریدی نے کریز پر آتے ہی ایک اونچی شارٹ ماری لیکن اگارکر نے ان کا کیچ مس کردیا بھارتی شائقین نے اس موقع پر سوچ لیا کہ اب آفریدی یہ میچ انہیں نہیں جیتنے دے گا لیکن کچھ ہی دیر میں ایک بار پھر آفریدی نےاونچی ہٹ ماری جس پر وہ کیچ آوٹ ہوگئے ۔۔15 بلز پر جب 39 رنز بنانے تھے تو آفریدی پویلین واپس جاچکے تھے لیکن مصباح ابھی بھی کریز پر موجود تھے آخری دو اوورز میں 29 رنز مصباح کیلئے ایک بڑا ٹاسک تھا .

    سیکنڈ لاسٹ اوور میں اگارکر کو 17 رنز پڑے جس کے بعد پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوگئی لیکن ابھی بھی 6 بالز پر 12 رنز بنانے تھے مصباح نے پہلی 4 بالز پر 11 رنز بناکر اسکور برابر کردیا اب دو آخری بالز پر جیت کیلئے ایک اسکور ہی چاہئیے تھا اگلی دو بالز شری سانت نے انتہائی مہارت سے کروائیں اور مصباح کو ایک رن نہیں بنانے دیا وہ آخری بال پر رن آوٹ ہوگئے اس طرح دھونی کی کپتانی میں ایک ہاری ہوئی بازی پلٹ دی ۔۔اس کے بعد قانون کے مطابق بال آوٹ یعنی ہر ٹیم کے پانچ کھلاڑی بال کروائیں گے اور جس نے زیادہ بار وکٹ ارائی جیت اس کی ہوگی یہ بالکل پینلٹی شوٹ آوٹ کی طرح ہی تھا جس میں پاکستان کو شکست ہوئی اور یوں بھارت نے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پہلی بار پاک بھارت ٹاکرا جیت لیا.

    بھارت نے یوسف پٹھان کو اوپنر بھیجا محمد آصف نے پہلا اوور کروایا پٹھان نے زبردست انداز میں جارحانہ آغازکیا ایک چھکا اور چوکا مارنے کے بعد محمد آصف کی گیند پر وہ آوٹ ہو گئے۔۔اتھاپا 8 اسکور بنا کر شاہد آفریدی کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوگئے سہیل تنویر نے ان کی وکٹ لی اس طرح دو کھلاڑی 40 رنز پر پویلین جا چکے تھے ،گوتم گمبھیر نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے بھارت کو دس اوورز میں 69 رنز تک پہنچایا ان کے ساتھ کریس پر یووراج سنگھ کے ساتھ کھڑے تھے اور 103 رنز پر یووراج سنگھ نے عمر گل کی گیند پر انہی کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوکر 14 رنز پر اپنی وکٹ گنوا دی اس موقع پر گوتم گھمبیر کریز پر موجود تھے اور کپتان دھونی 111 رنز پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے انہیں عمر گل نے ایک زبردست یارکر پر بولڈ کردیا دحونی کیلئے اپنی وکٹ کھونا اس موقع پر انتہائی افسوسناک تھا لیکن گوتم کی اننگز نے بھارت کو ایک اچھے اسکور کی امید دلا دی تھی ۔۔وہ 130 رنز پر 75 رنز بنا کر عمر گل کی بال پر شعیب ملک کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے عمر گل ورلڈکپ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بالر بن چکے تھے آخری دو اوور کا کھیل باقی تھا اور روہت شرما اور عرفان پٹھان کریز پر موجود تھے اگلی بارہ بالوں پر ان دونوں نے 27 رنز بنائے جس کے بعد بھارت نے پاکستان کو 157 رنز کا ایک مشکل ٹارگٹ تھما دیا یاسر عرفات اور سہیل تنویر آخری دو اوورز میں روہت شرما کو روکنے میں ناکام رہے اور اس طرح روہت شرما نے 16 گیندوں پر ایک چھکا اور 2 چوکوں کی مدد سے 30 قیمتی اور اہم ترین اسکور بنائے جبکہ عرفان پٹھان 3 بالوں پر 3 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے سہیل تنویر کے انیسویں اوور میں دوسری گیند پر شرما نے ایک اونچی شارٹ ماری جو سیدھی محمد حفیظ کے ہاتھوں میں گئی لیکن انہوں نے ناصرف کیچ ڈراپ کردیا بلکہ وہ گیند باونڈری پار کرگئی اس طرح 145 رنز پر شرما کو ایک چانس مل گیااور چھ رنز کا اضافہ بھی ہوگیا یہ پاکستان کو کافی بھاری بھی پڑا۔۔پاکستان نے 157 رنز کے تعاقب میں محمد حفیظ اور عمران نذیر کو میدان میں اتارا لیکن پہلے اوور کی دوسری گیند پر ہی سلپ میں کیچ پکڑوانے کے بعد اوپنر محمد حفیظ نے آسانی سے اپنی وکٹ گنوا دی اس موقع پر دھونی کو داد دینی پڑے گی جنہوں نے دوسری سلپ میں اتھاپا کو کھڑا کیا تھا پہلی وکٹ گرنے کے بعد عمران نذیر نے دو چھکے اور دو چوکے مارے جس کے بعد پاکستان کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی لیکن کامران اکمل صفر رن پر آر پی سنگھ کے ہاتھوں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے اس کے بعد 14 بالوں پر 33 رنز بنانے کے بعد عمران نذیر رن آوٹ ہو گئے جب پاکستان کا اسکور 65 ہوا تو یونس خان ایک کمزور شارٹ کھیل کر یوسف پٹھان کے ہاتھوں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے اور پاکستان کے چار کھلاڑی پویلین میں واپس جا چکے تھے شعیب ملک نے بھی آتے ہی جانے کی کی اور عرفان پٹھان کی بال پر روہت شرما کے ہاتھون کیچ آوٹ ہوئے انہوں نے 17 بالز پر 8 رنز بنائے جس کے بعد پاکستان شدید دباو میں آچکا تھا میچ پر بھارت کی گرفت مضبوط ہوچکی تھی 52 بالوں پر 82 رنز بنانے تھے ہدف مشکل تھا لیکن ناممکن نہیں تھا ایسے میں مصباح الحق میدان میں آئے اور ایک بار پھر وہ کردکھایا جو کوئی بڑا کھلاڑی ایسے مشکل موقع پر کرتا ہے کیونکہ شاہد آفریدی بھی ایک ہی رن کے بعد 77 پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے وہ بغیر کوئی رن بنائے عرفا ن پٹحان کی گیند پر کیچ آوٹ ہوگئے اب تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف مصباح الحق پر تھی بھارتی کھلاڑیوں کے حوصلے بے حد بلند تھے وہ اب ورلڈکپ جیتنے کے خواب دیکھنے لگے تھے جب 25 بالوں پر 54 رنز بنانے تھے تو ساتویں کھلاڑی بھی آوٹ ہوگئے مصباح کے ساتھ کوئی بھی کریس پر ٹک نہیں رہا تھا آل راونڈریاسرعرفات کو عرفان پٹھان نے بولڈ کر دیا انہوں نے11 بالوں پر 15 رنز بنائے اب مصباح اور سہیل تنویر نے مورچہ سنبھالا اور دونوں نے بھارتی بالرز کی زبردست پٹائی کی چھکوں اور چوکوں سے ایک مشکل ہدف کو قابل تسخیر بنادیا ب 13 بالوں پر 20 رنز باقی تھے تو شری سانت کی بال پر سہیل تنویر بولڈ ہوگئے ایک بار پھر پاکستانی شائقین کے حوصلے پست ہونے لگے لیکن ابھی بھی امید باقی تھی کیونکہ مصباح میدان میں ڈٹے ہوئے تھے دحونی بار بار بالرز تبدیل کررہے تھے انہوں نے بڑی مہارت سے گیند بازوں کو تبدیل کیا اور مصباح کیلئے ٹارگٹ مشکل سے مشکل بنایاسہیل تنویر نے صرف 4 بالوں پر 12 رنز بنائے ان کے جاتے ہی عمر گل کریس پر آئے لیکن آر پی سنگھ نے انہیں ٹکنے نہ دیا اور عمر گل بغیر کوئی رن بنائے دو گیندیں کھیل کر پویلین لوٹ گئے اس طرح اب بھارت جیت سے صرف ایک وکٹ ہی دور تھا لیکن مصباح ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھے انہیں بڑی جیت کیلئےآخری اوور میں 13 رنز بنانے تھے دھونی نے بال جوگیندر شرما کو تھما دی جو بظاہر پریشان لگ رہے تھے اسی لئے انہوں نے آتے ہی پہلی بال وائڈ پھینک دی اور پاکستان کو ایک ایکسٹرا رن مل گیا دھونی بال پکڑتے ہی شرما کی طرف بڑھنے لگے وہ اپنے بالر کا حوصلہ بڑھانے کیلئے انہیں مشورے دے رہے تھے یہ سب سے بڑا ٹاکرا تھا اور اس آخری اوور پر ڈیڑھ ارب سے زائد برصغیر کی عوام کی نظرین جمی ہوئی تھی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی جوگیندر نے ایک بار پھر آف سٹمپ سے کافی باہر بال پھینکی جو مصباح کی دسترس سے کافی دور تھی ان کا بلاہوا میں ہی گھوم گیا ایمپائر نے وائڈ نہیں دی جس پر بلے باز کافی مایوس تھے ٹینشن عروج پر تھی 5 بالوں پر 12 رنز باقی تھے مصباح نے اگلی بال پر ایک قدم آگے بڑھایا اور بال کو سیدھا باونڈری کے باہر پھینک دیا اس چھکے نے تو جیسے بھارت کے چھکے چھروا دئیے ہر ایک کھلاڑی جوگیندر کی طرف لپک رہا تھا ہرطرف سے مشورے آرہے تھے پاکستانی جھنڈے اب میدان میں لہر ارہے تھے لیکن دلی دور است ابھی بہت کچھ کرنا تھا مصباح ایک بار پھر جوگیندر کا سامنا کررہے تھے پورا پاکستان شارجہ میں جاویدمیانداد کے چھکے کی طرح ایک بار پھر وہی لمحہ دیکھنا چاہتا تھا لیکن مصباح جو اکیلے ہی بازی پلٹ چکے تھے ایک ایسی غلط شارٹ کھیل بیٹھے کے ہر کوئی سر پکڑ کر بیٹھ گیا مصباح کیچ آوٹ ہوگئے وہ پچ پر انتہائی افسردہ بیٹھے تھے اور بھارتی کھلاڑی خوشی سے جھوم رہے تھے پہلا ٹی ٹونٹی بھارت جیت چکا تحا اور ورلڈکپ ٹی ٹونٹی کے پاک بھارت ٹاکرے میں ایک بار پھر پاکستان کو شکست کا سامنا تھا لیکن یہ ایک یادگار میچ تھا پاکستان نے بھرپور مقابلہ کیا